الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209866 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

سے مکمل طور پر مبرا ہوکر اغیار کے مقابلے میں متحد ہونا بھی ضروری ہے_ اور یہ کہ ان کے باہمی تعاون والفت اور آپس کی رحمدلی و ہمدردی کی بنیاد دین اور عقیدہ ہو نہ کہ نسلی و خاندانی تعلقات یا مفادات پر مبنی روابط وغیرہ_

علاوہ ازیں واقعہ ہجرت ہمیں حسن تدبیر، باریک بینی اور صحیح منصوبہ بندی کا بھی درس دیتا ہے جسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پیش نظر رکھاکیونکہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں کو کسی نے آکر یہ خبر دی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھرسے نکل گئے ہیں تو اس وقت جس چیزنے ان کو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بستر پر موجودگی کے بارے میں مطمئن رکھا وہ علیعليه‌السلام کا بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رات گزارنا تھا_(۱)

ابوطالبعليه‌السلام اور حدیث غار

بعض روایات میں مذکور ہے کہ جب قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خلاف سازش کی تو ابوطالب علیہ السلام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا:'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو علم ہے کہ انہوں نے کیا سازش کی ہے؟'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا:'' وہ چاہتے ہیں کہ مجھے قید کریں یا قتل کریں یا وطن سے نکال باہر کریں''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے عرض کیا ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کس نے خبردی؟ ''فرمایا: ''میرے رب نے''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام بولے: ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا رب سب سے بہترین رب ہے''_(۲)

لیکن واضح ہے کہ یہ روایت درست نہیں ہوسکتی کیونکہ قریش کی سازش ہجرت سے کچھ ہی مدت پہلے عقبہ کی دوسری بیعت کے بعد ہوئی تھی یعنی بعثت کے تیر ہویں سال_ حالانکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام بعثت کے دسویں سال وفات پاچکے تھے یعنی شعب ابیطالب سے مسلمانوں کے خارج ہونے کے بعد_

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ _

۲_ درمنثور ج ۳ ص ۲۷۹ نے سنید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ سے نقل کیا ہے _

۳۰۱

آیت غار

خداوند عالم نے فرمایا( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه الذین کفروا ثانی اثنین اذهما فی الغار اذ یقول لصاحبه لاتحزن ان الله معنا فانزل الله سکینته علیه وایده بجنود لم تروها وجعل کلمة الذین کفروا السفلی وکلمة الله هی العلیا والله عزیز حکیم ) (۱)

یعنی تم نے اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کی تو کوئی پروا نہیں_ اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے، جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ جب وہ دومیں سے دوسرا تھا، دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا'' غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے''_ پس اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جوتم کو نظر نہ آتے تھے اوراس نے کا فروں کا بول نیچا کردیا اور اللہ کا تو بول بالاہی ہے اور اللہ زبردست دانا و بینا ہے_

کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت درج ذیل وجوہات کی بنا پر حضرت ابوبکر کی فضیلت کو ثابت کرتی ہے_

(الف) آیت نے حضرت ابوبکر کو ''ثانی اثنین'' (دو میں سے دوسرا) کے الفاظ سے یاد کیا ہے بنابریں حضرت ابوبکر فضیلت کے لحاظ سے دو افراد میں سے ایک ٹھہرے اور اس سے بڑی فضیلت اور کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت ابوبکر حضرت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے قرین قرار پائیں_

(ب) آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھی قرار پائے_ اس عظیم موقعے پر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی بن جانا بہت بڑا اعزاز ہے_

(ج) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا، خدا ہمارے ساتھ ہے_ یعنی اللہ کی نصرت اور اس کا نظر کرم ان دونوں پر ہے_ بنابریں جو شخص اللہ کی طرف سے ہونے والی مدد میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شریک ٹھہرے اس کا شمار عظیم ترین لوگوں میں ہوگا_

___________________

۱_ سورہ توبہ آیت ۴۰ _

۳۰۲

(د) اللہ تعالی نے فرمایا ''اور اللہ نے اس پر سکون قلب نازل کیا''_ پس یہ سکون قلب جس پر نازل ہوا وہ حضرت ابوبکر تھے اس لئے کہ اس کی ضرورت ابوبکر کو تھی( کیونکہ ان کا دل گھبرا گیا تھا) نہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تو علم تھا ہی کہ اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو محفوظ رکھے گا_(۱)

لیکن یہ ساری باتیں نادرست ہیں کیونکہ:

الف: حضرت عائشہ کہتی ہیں_ خدانے ہمارے بارے میں قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس کے کہ اس نے میرے عذر کا ذکر کیا_(۲)

ہماری تحقیق کی رو سے ثابت ہوا ہے کہ حضرت عائشہ کے عذر کے بارے میں بھی کسی آیت کا اترنا صحیح نہیں ہوسکتا جیساکہ ہم نے اپنی کتاب ''حدیث الافک'' میں ذکر کیا ہے_

ب: حضرت ابوبکر کے بارے میں ثانی اثنین ''کہنے سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ ان الفاظ میں عدد بیان کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں دوسرا فرد کوئی بچہ یا جاہل یا مؤمن یا فاسق وغیرہ بھی ہوسکتا ہے_ نیز واضح ہے کہ قرآن کی رو سے فضیلت کا معیار فقط تقوی ہے نہ کہ عدد میں دوسرے نمبر پر قرار پانا_ جیساکہ فرمایا ہے( ان اکرمکم عند الله اتقاکم ) یعنی تم میں سب سے زیادہ صاحب عزت، اللہ کے ہاں وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو_

شیخ مظفر (رحمة اللہ علیہ) اضافہ کرتے ہیں کہ اگر دو کا بیان فضیلت و شرف کے نقطہ نظر سے ہو تو پھر حضرت ابوبکر کا مقام پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے بھی زیادہ ہوگا_ کیونکہ آیت کی رو سے حضرت ابوبکر پہلے اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دوسرے (ثانی) ہیں_(۳)

___________________

۱_ رجوع ہو ، دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴ و ۴۰۵ _

۲_ بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ ج ۳ ص ۱۲۱ و تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۵۹ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۱ و الدر المنثور ج ۶ ص ۴۱ نیز ملاحظہ ہو الغدیر ج۸ ص ۲۴۷_

۳_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۴_

۳۰۳

ج:علاوہ بریں یہ بات بھی واضح ہے کہ یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کس قدر سخت حالات سے دوچار تھے اور یہ کہ اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت یا حمایت کرنے والا کوئی نہ تھا_ رہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی تو وہ نہ صرف یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت نہیں کر رہا تھا بلکہ پریشانی اور خوف و ہراس کے باعث آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے ایک سنگین بوجھ بن چکا تھا_ بنابریں وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بوجھ ہلکا کرنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اعانت کرنے کی بجائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے دلجوئی کا محتاج تھا_ کم ازکم یہ بات تو مسلم ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و حفاظت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درپیش مشقتوں میں تخفیف کے سلسلے میں حضرت ابوبکر نے کچھ بھی نہ کیا، ہاں اس نے تعداد میں اضافہ کیا یوں ایک کی بجائے دو افراد ہوگئے_

د: رہا حضرت ابوبکر کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مصاحب قرار دینا تو اس میں بھی فضیلت کا کوئی پہلو نظر نہیں آتاکیونکہ مصاحبت سے تو فقط اتنا ثابت ہوتا ہے کہ وہ دونوں باہم اور ایک مقام پر جمع تھے اور یہ امر عالم وجاہل، صغیر وکبیر، مومن وغیر مومن وغیرہ کے درمیان بھی واقع ہوسکتا ہے_ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے:( وما صاحبکم بمجنون ) (۱) یعنی اے اہل مکہ، تمہارا ساتھی مجنون نہیں ہے_ نیز فرمایا ہے( قال له صاحبه وهو یحاوره اکفرت بالذی خلقک ) (۲) یعنی اس کے ساتھی نے اس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کیا تو انکار کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے پیدا کیا_

بنابریں مصاحبت برائے مصاحبت کوئی فضیلت نہیں رکھتی_

ھ: ادھر خدا کا قول (ان اللہ معنا) حضرت ابوبکر کو تسلی دینے کیلئے آیا تھا تاکہ ان کاحزن جاتا رہے_ یوں حضرت ابوبکر کو بتایا جارہا ہے کہ خداوند عالم انہیں مشرکین کی نظروں سے محفوظ رکھے گا_ اس میں فضیلت کا کوئی پہلو موجود نہیں_ بلکہ اس میں یہ خبردی جارہی ہے کہ اللہ ان کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ یعنی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر حضرت ابوبکر کی بھی حفاظت کرے گا_یہ بالکل اس آیت کی طرح ہے'' و ما کان اللہ لیعذبہم و انت فیہم '' یعنی جب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں خدا انہیں

___________________

۱_ سورہ تکویر آیت ۲۲ _

۲_ سورہ کہف آیت ۳۷ _

۳۰۴

عذاب میں مبتلاء نہیں کرے گا _ پس رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی وجہ سے یا کسی مومن کی موجودگی سے عذاب الہی سے مشرکین کی نجات ان کی فضیلت کا باعث نہیں بنتی _

و: مورخین کے بقول حضرت ابوبکر محزون ہوئے تھے جبکہ وہ خدا کی واضح نشانیاں اور ایسے صریح معجزات دیکھ چکے تھے جن سے انسان کو یقین ہوجاتاہے کہ اللہ اپنے نبی کی حفاظت کرے گا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دشمنوں کے شرسے نجات دے گا_ حضرت ابوبکر کو معلوم تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قریش کے (شمشیر زنوں کے) درمیان سے گزرکر نکلے تھے لیکن وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھ سکے تھے_ نیز غار کے دہانے پر مکڑی کا جالا بنانا اور کبوتر کا انڈے دے کر بیٹھ جانا بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا_ اس کے علاوہ اور چیزوں کا بھی مشاہدہ کیا تھا مثال کے طور پر یہ کہ حضورعليه‌السلام فرمایا کرتے تھے ''کہ اللہ جلد ہی ان کے ہاتھوں قیصر وکسری کے خزانوں کے دروازے کھول دے گا_ اپنے دین کو غالب کرے گا_ اور اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کرے گا'' بنابریں ان حالات میں ان کا محزون ہونا اور اللہ کی مدد پر بھروسہ نہ کرنا جبکہ وہ خداکی جانب سے اس قدر معجزات کا مشاہدہ کرچکے تھے، ایک غیر پسندیدہ اور ممنوع عمل ہونا چاہیئے اور ممنوعیت بھی مولی ہونے کے اعتبار سے(۱) ہونی چاہیئے یعنی جناب کا رونا ناجائز تھا_ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک اللہ کی جلالت وعظمت کا احساس ان کے دل میں راسخ نہیں ہوا تھا_

کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے کہا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرا حزن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھائی علی ابن ابیطالب کے بارے میں ہے کہ کہیں ان کو کچھ ہوانہ ہو''_ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' خدا ہمارے ساتھ ہے''_(۲)

ز: رہا یہ دعوی کہ خدا کی نصرت ان دونوں کے شامل حال ہوئی تھی لہذا وہ اس مدد میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حصہ دار تھے اور یہ بہت بڑی فضیلت ہے تو یہ بھی غلط ہے اور قرآن کی آیت صریحاً اس بات کی نفی کرتی ہے کیونکہ آیت نے تو اللہ کی مدد کو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مختص قرار دیا ہے (شاید اس لئے کہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار کے شر سے نجات دی)_

___________________

۱_ نہی مولوی وہ ہے جس کی مخالفت باعث عقاب ہو (مترجم) _

۲_ کراجکی کی کتاب کنز الفوائد ص ۲۰۵ _

۳۰۵

چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے( الا تنصروه فقد نصره الله اذ اخرجه ) یعنی اگر تم لوگوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد نہ کی تو کوئی بات نہیں، اللہ اس کی مدد کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا_ یہاں ضمیر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹتی ہے_ بنابریں اللہ کی مدد فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ مختص ہوئی ہے_ ابوبکر تو بس طفیلی کی حیثیت رکھتے تھے_اللہ کی مدد کا حضرت ابوبکر کے شامل حال ہونا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک مقام پر موجود ہونے کی وجہ سے تھا_ اور یہ بات حضرت ابوبکر کی کسی فضیلت کو ثابت نہیں کرتی_(۱) بالفاظ دیگر اللہ کا حضرت ابوبکر کی حفاظت کرنا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حفاظت کے پیش نظر تھا، جیساکہ ہم عرض کرچکے ہیں_

ح: نزول سکینہ (اطمینان قلبی) کے بارے میں بھی ان کا یہ دعوی باطل ہے کہ سکون حضرت ابوبکر پر نازل ہوا تھا_ حقیقت یہ ہے کہ سکینہ (سکون قلب) کا نزول فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ہوا کیونکہ اس سے قبل اور اس کے بعد کی ساری ضمیریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی طرف پلٹتی ہیں اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے_( تنصروہ، نصرہ، یقول، اخرجہ، لصاحبہ، ایدہ کے الفاظ میں)_ بنابریں ایک ضمیر کا کسی اور کی طرف پلٹنا خلاف ظاہر ہے اور قرینہ قطعیہ کا طالب ہے_

جاحظ کا بیان اور اس پر تبصرہ

جاحظ اور دوسروں نے مذکورہ باتوں پر تنقیدکی ہے_(۲) اور کہا ہے: ''کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو اطمینان قلبی کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ اس کا نزول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ہوتا''_ گویا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اس بات کے بہانے، لفظ کو اس کے ظاہری مفہوم سے جدا کریں_

لیکن ان کا دعوی غلط ہے کیونکہ:

الف: خدانے سورہ توبہ کی آیت ۲۶ میں جنگ حنین کے بارے میں فرمایا ہے:( ثم انزل الله سکینته

___________________

۱_ دلائل الصدق ج ۲ ص ۴۰۵ _

۲_ العثمانیة ص ۱۰۷ _

۳۰۶

علی رسوله وعلی المؤمنین ) یعنی اللہ نے اپنا سکینہ (اطمینان قلبی) اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنین پر نازل کیا_ نیز سورہ فتح کی آیت ۲۶ میں ارشاد فرمایا ہے_( فانزل الله سکینته علی رسوله و علی المؤمنین ) یعنی پس اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنین پر سکینہ نازل کیا_

اسی طرح اللہ نے مومنین پرنزول سکینہ کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے:( هوالذی انزل السکینة فی قلوب المومنین لیزدادوا ایماناً ) (۱) یعنی اللہ ہی ہے کہ جس نے مومنین کے دلوں میں اطمینان نازل کیا تاکہ ان کے ایمان میں اضافہ ہو_

نیز یہ بھی فرمایا:( فعلم ما فی قلوبهم فانزل السکینة علیهم واثابهم فتحا قریبا ) (۲) یعنی اللہ نے ان کے دل کی بات جان لی پس ان پر اطمینان قلبی نازل کیا اور ان کو بطور انعام قریبی فتح عنایت کی_

بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر کو سکون کی نعمت سے محروم کرنے کا راز کیا تھا؟ حالانکہ خدانے یہاں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اور دیگر مقامات پر نبی کریم اور مومنین پر اسے نازل فرمایا ہے؟ میری عرض یہ ہے کہ شاید اس کاجواب یوں دیا جائے کہ یہاں فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اس کا نزول کافی تھا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نجات میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم سفر کی بھی نجات تھی لیکن یہ ایک کمزور جواب ہے کیونکہ ''سکینہ'' اطمینان قلب کا موجب ہے اور پریشانی کے زائل ہونے کا باعث ہے_ نجات پانے اور بچ جانے سے اس کا کوئی سروکار نہیں_ یوں مذکورہ سوال تشنہ جواب ہی رہ جاتا ہے_

ب: سکینہ (اطمینان قلب) اللہ کی ایک نعمت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ نزول نعمت کے وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی ضد (نعمت کے فقدان) سے متصف ہوں_ اسی لئے ایک نعمت کے بعد دوسری نعمت نازل ہوتی ہے_

ج: انہیں کہاں سے علم حاصل ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو نزول سکینہ کی ضرورت نہ تھی؟ جبکہ آیت اس بات پر دلالت نہیں کرتی_بنابریں یہ آیت بھی جنگ حنین کے بارے میں اترنے والی آیت کی طرح ''سکینہ'' کیلئے یہ اعلان کر رہی ہے کہ شدید خطرہ اب ٹل چکا ہے_

___________________

۱_ سورہ فتح آیت ۴ _

۲_ سورہ فتح آیت ۱۸ _

۳۰۷

نیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ حضرت ابوبکر کے حزن، خوف و ہراس اور رونے کی وجہ کچھ اور ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اگرچہ یہ جانتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو آخر کار اس خطرے سے نجات مل جائے گی لیکن حضرت ابوبکر کی روش مشکلات اور مسائل پیدا کرے گی اور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے ان مقاصد اور اہداف تک پہنچنے میں تاخیر کا باعث بنیں گے جن کا مرحلہ ابھی دور تھا_

د: علامہ طباطبائی کا نظریہ یہ ہے کہ اس آیت سے قبل اللہ کی طرف سے ان حالات میں اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کا ذکر ہوا ہے جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کوئی فرد ایسا نہ تھا جو آپ کی مدد کرسکتا_ اس مدد کی ایک صورت نزول سکینہ اور خدائی لشکروں کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تقویت تھی_لفظ (اذ) کا تین بار تکرار اس بات کی دلیل ہے_ ان میں سے ہرایک پہلے والے کی کسی نہ کسی صورت میں توضیح کرتا ہے_ یہ لفظ اس مقام پر کبھی نصرت الہی کا وقت بیان کرنے کیلئے، کبھی آپ کی حالت بیان کرنے کیلئے اورکبھی اس حالت کا وقت بیان کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے_ بنابریں خدائی لشکروں کے ذریعے اس شخص کی تائید کی گئی جس پر سکون کا نزول ہوا تھا_(۱)

محقق محترم سید مہدی روحانی کہتے ہیں: ''چونکہ حضرت ابوبکر نے غم نہ کھانے اور خوف نہ کرنے کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حکم کی تعمیل نہ کی، اس لئے سکینہ کا نزول فقط رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ہوا_ اور ابوبکر (اطمینان قلبی سے) محروم ہی رہے_ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر اللہ کے اس فضل وکرم کے اہل ہی نہ تھے''_

شیخ مفید کا بیان اور اس کا جواب

شیخ مفید اور دیگر افراد کہتے ہیں کہ اگر حضرت ابوبکر کا حزن اطاعت خدا کیلئے تھا تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اطاعت الہی سے منع کریں_ بنابریں ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ مذکورہ عمل حرام تھا، اسی لئے

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۹ ص ۲۸۰ مطبوعہ بیروت_

۳۰۸

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس سے منع کیا_(۱)

حلبی وغیرہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ خدانے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا ہے (ولایحزنک قولہم) ان لوگوں کی باتوں سے محزون نہ ہو، یہاں خدا کے نبی کو حزن و پریشانی سے منع کرنا بس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوشخبری دینے کیلئے تھا_ بالکل یہی حال نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ابوبکر کو منع کرنے کا تھا_(۲)

ہمارے خیال میں حلبی کا جواب غیر مناسب ہے_ اسکی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کا حزن اور اللہ کی مدد پر ان کاشک کوئی مستحسن اور قابل تعریف امر نہ تھا جسکی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا(ان اللہ معنا) کہنا اشارہ کر رہا ہے_ ان کو تو اللہ کی طرف سے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کا یقین حاصل ہوناچاہیئے تھا کیونکہ وہ ان واضح معجزات اور صریح نشانیوں کو دیکھ چکے تھے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ اللہ اپنے نبی کو جلد ہی مشرکین کے شر سے نجات دے گا_

بنابریں یہ کہنا درست نہیں کہ یہ آیت ان کی تعریف و تمجید میں نازل ہوئی_ پس اس سے اس کا ظاہری مفہوم ہی مراد لینا چاہیئے کیونکہ ظاہری معنی سے ہٹ کر کسی اور معنی میں استعمال کیلئے قرینے کی ضرورت ہوتی ہے_ بلکہ ہم نے جو کچھ عرض کیا وہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہی ظاہری معنی ہی مراد ہے_

حضرت ابوبکر کے حزن کو نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حزن کے مشابہ قرار نہیں دیا جاسکتا_ جس کی طرف اللہ نے یوں اشارہ کیا ہے_( ولایحزنک قولهم ) یعنی ان کی باتیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دلگیر و محزون نہ کریں_ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تو بس اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ آپ اپنی قوم کی ہٹ دھرمی اور کفر وطغیان کے باعث اپنی دعوت اور دین اسلام کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹوں کا مشاہدہ کرتے تھے لہذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت موسیعليه‌السلام کو خدا کی جانب سے جو ممانعت ہوئی ہے وہ نہی تحریمی نہیں ہے بلکہ اس نہی کا مقصد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی بشارت دینا ہے کہ دین اسلام کو جلد فتح نصیب ہوگی نیز یہ بتاناہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمنوں کی

___________________

۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنین علیعليه‌السلام ص ۱۱۹ و کنز الفوائد کراجکی ص ۲۰۳_

۲_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۸_

۳۰۹

بات پر توجہ نہ دیں اور ان کا غم نہ کھائیں کیونکہ وہ اس کے لائق نہیں ہیں_ لہذا یہاں نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حزن وغم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایمان کی گہرائی اور فنا فی اللہ ہونے کی علامت ہے_ اس حزن کا قیاس اس شخص کے حزن پر نہیں کیا جاسکتا جو فقط اپنی ذات کیلئے محزون ہوتا ہو_

قرآن کی آیات ہمارے عرائض پر صریحاً دلالت کرتی ہیں چنانچہ ایک آیت کہتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی قوم کو کفر کی طرف لپکتے دیکھ کر محزون ہوتے تھے_ ارشادہوتا ہے( ولا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر ) (۱) یعنی کفر کی طرف سبقت کرنے والوں کو دیکھ کر آپ غمگین نہ ہوں_

اور دوسری آیت کہتی ہے کہ آپ کا حزن ان کی طرف سے اپنی تکذیب کے باعث تھا فرمایا ہے( قدنعلم انه لیحزنک الذی یقولون فانهم لایکذبونک ) (۲) یعنی ہم جانتے ہیں کہ آپ ان کی باتوں سے محزون ہوتے ہیں_

نیز ارشاد ہے:( ومن کفر فلا یحزنک کفره ) (۳) یعنی جو کافر ہوجائے اس کے کفر سے محزون نہ ہوں_ایک اور آیت یہ کہتی ہے کہ آپ اس لئے محزون ہوتے تھے کیونکہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو پوجتے تھے_ چنانچہ ارشاد ہوا( فلا یحزنک قولهم انا نعلم ما یسرون وما یعلنون ) (۴) اس کے علاوہ دیگر آیات بھی موجود ہیں جو صاحب نظر افراد سے پوشیدہ نہیں_

خلاصہ یہ کہ ان آیات کی مثال اس آیت کی طرح ہے_( فلا تذهب نفسک علیهم حسرات ) (۵) یعنی ان لوگوں پر افسوس کرتے کرتے خواہ مخواہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان نہ گھلے_

ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ اگر ہم حضرت ابوبکر کے حزن کی علت کو نہ بھی جان سکیں تب بھی ان کے حزن کو معصوم نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حزن کی طرح قرار نہیں دے سکتے بلکہ ہمیں تو نہی الہی کے

___________________

۱_ سورہ آل عمران ۱۷۶ و سورہ مائدہ ۴۱ _

۲_ سورہ انعام آیت ۳۳ _ ۳_ سورہ لقمان آیت ۲۳ _

۴_ سورہ ی س آیت ۷۶ _ ۵_ سورہ فاطر آیت ۸ _

۳۱۰

ظاہری معنی کوہی لینا چاہیئے یعنی ''حرمت حزن'' کیونکہ ظاہری معنی سے صرف نظر کرنے کیلئے قرینے اور دلیل کی ضرورت ہوتی ہے_

ایک جواب طلب سوال

آیات ومعجزات کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جب حضرت ابوبکر محزون ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور صاحب یقین صابروں کا اجر حاصل کرنے کیلئے صبر نہ کرسکے تو پھر اگر انہیں اس رات امیرالمومنینعليه‌السلام کی جگہ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونا پڑتا تو پتہ نہیں ان کا کیا حال ہوتا؟ کیا وہ ان مشکل لمحات میں قریش کے مکر کے سامنے گھٹنے نہ ٹیک دیتے اور ان کی طاقت وجبروت کے آگے ہتھیار نہ ڈال دیتے، یوں حالات بالکل پیچھے کی طرف پلٹ جاتے_

یہ سوال خود بخود سامنے آیا ہے اور شاید اس کا کم از کم مستقبل قریب میں شافی جواب ہرگز نہ مل سکے_

سوال دیگر: کیا اس کے بعد ہم اس دعوے کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اصحاب میں سب سے زیادہ شجاع تھے؟

غزوہ بدر کی بحث کے دوران اس (دو سرے) سوال سے مربوط بعض پہلوؤں کا ذکر آئے گا انشاء اللہ تعالی_ لہذا اس بحث کو وہاں پر موقوف کرتے ہیں_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محافظت کی سخت مہم

لیکن یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا یہ قول کس حد تک صحیح ہے کہ غار کی طرف جاتے ہوئے حضرت ابوبکر کبھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آگے چلنے لگ جاتے تھے کبھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے، نیز کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے عرض کیا:'' اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب مجھے دشمن کے گھات کا خطرہ یاد آتا ہے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آگے ہوجاتا ہوں اور جب ان کے تعاقب کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو پیچھے چلا جاتا ہوں پھر کبھی دائیں اور کبھی بائیں چلنے لگتا ہوں مجھے آپ کے بارے میں (دشمن کا) خطرہ محسوس

۳۱۱

ہوتا ہے''_(۱)

یہ کلام نادرست ہے کیونکہ (ان معجزات الہیہ کا مشاہدہ کرنے کے باوجود جنہیں اس روایت کے راویوں نے ہی نقل کیا ہے) حضرت ابوبکر کا محزون ہونا اور خوف کھانا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کی کدورت خاطر کا باعث بنا یہاں تک کہ آپ خدا کی طرف سے نزول سکینہ کے محتاج ہوئے_

اس بات سے قطع نظر، دشمن کی طرف سے گھات کا خوف معقول نہیں کیونکہ قریش مطمئن تھے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے محاصرے میں ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے مکر وفریب سے بچ کرہرگز نہیں نکل سکتے پھر حضرت ابوبکر کے پاس کونسا اسلحہ تھا جس کے ذریعے وہ اپنی یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی کسی طرح حفاظت کرتے؟

ان باتوں کے ساتھ اس بات کا بھی اضافہ کرتا چلوں کہ حضرت ابوبکر احد، حنین اور خیبر میں بھاگ گئے تھے_ جس کا ہم آگے چل کر انشاء اللہ مشاہدہ کریں گے_ ان کے علاوہ حضرت ابوبکر کی جانب سے کسی شجاعانہ اقدام کا کوئی نام ونشان دکھائی نہیں دیتا_البتہ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ در اصل جناب ابوبکر دائیں بائیں اور آگے پیچھے اس لئے پھرتے تھے کہ انہیں دلی اطمینان اور مقام امن کی تلاش تھی جو انہیں تو نہیں مل سکی لیکن واقعہ کو تحریف کرکے دوسرے رخ کے ساتھ پیش کیا گیا_

حضرت ابوبکر کی پرزور حمایت کا راز

ہمیں تو تقریباً یقین حاصل ہے کہ ان کوششوں کا مقصد حضرت ابوبکر کی شان میں اس فضیلت کی کمی کو پوری کرنا ہے جو بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سونے کی وجہ سے حضرت علیعليه‌السلام کو حاصل ہوئی اور جس پر اللہ تعالی نے فرشتوں سے اظہارمباہات کیا تھا_ جیساکہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالی_

من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله :

روایت ہے کہ اللہ تعالی نے جبرئیلعليه‌السلام اور میکائیلعليه‌السلام سے کہا میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ اور سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۴ _

۳۱۲

دیا_ اور ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ قرار دی اب تم دونوں میں سے کون ہے جو اپنے ساتھی کو اپنے اوپر ترجیح دے تاکہ وہ زیادہ زندہ رہے؟ جواباً ان دونوں نے زندہ رہنے، کی خواہش کی_ اس وقت پروردگارعالم نے ان سے فرمایا کیا تم دونوں علی ابن ابیطالبعليه‌السلام جیسے نہیں بن سکتے؟ میں نے اس کے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا_ پس وہ اس پر اپنی جان قربان کرنے کیلئے اس کے بستر پر سوگیا اور اس کی زندگی کو اپنی زندگی پر ترجیح دی ہے اب تم دونوں زمین پر اترجاؤ اور دشمنوں سے اس کی حفاظت کرو_ چنانچہ وہ دونوں زمین پر اترآئے_ جبرئیلعليه‌السلام ان کے سرکی جانب اور میکائیل ان کے پیروں کی طرف، جبرئیلعليه‌السلام یہ پکار رہے تھے ''شاباش ہو آپ جیسے افراد پر یا علیعليه‌السلام ابن ابیطالب _اللہ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر ومباہات کرتا ہے_ اس وقت اللہ کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی:

( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ، والله رؤوف بالعباد ) (۱)

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۰۷ اور روایت کیلئے رجوع کریں اسد الغابة ج ۴ ص ۲۵ و المستجاد (تنوخی) ص ۱۰ و ثمرات الاوراق ص ۳۰۳ و تفسیر البرہان ج ۱ ص ۲۰۷ و احیاء العلوم ج ۳ ص ۲۵۸ و تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۹ و کفایة الطالب ص ۲۳۹ و شواہد التنزیل ج ۱ _ص ۹۷ و نور الابصار ص ۸۶ و فصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۱ و تذکرة الخواص ص ۳۵ از ثعلبی و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ اور ۳۲۶، بحار ج ۱۹ ص ۳۹ و ۶۴ اور ۸۰ ثعلبی سے کنز الفوائد سے نیز از فضائل احمد ص ۱۲۴_۱۲۵، از الروضة ص ۱۱۹، المناقب خوارزمی ص ۷۴، ینابیع المودّة ص ۹۲ از ابن عقبہ ، نیز حبیب السیر ج۲ ص ۱۱ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ تاریخ اور سیرت کی اکثر کتابوں میں مذکور ہے _ التفسیر الکبیر ج۵ ص ۲۰۴ ، الجامع لاحکام القرآن ج۳ ص ۲۱ ، سیرت حلبی ج۳ ص ۱۶۸ ، سیرہ نبویہ دحلان ج۱ ص ۱۵۹ ، فرائد السمطین ج۱ ص ۳۳۰ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص۴ نیز اسی کے حاشیہ پر تلخیص مستدرک ذہبی بالکل اسی صفحہ پر ، مسند احمد ج۱ ص ۳۳۱ ، دلائل الصدق ج۲ ص ۸۱ _ ۸۲ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۶۰ ، اللوامع ج۲ ص ۳۷۶ ، ۳۷۵ ، ۳۷۷ از مجمع البیان ، المبانی، ابونعیم ،ثعلبی و غیرہ و از البحر المحیط ج۲ ص ۱۱۸ نیز معارج النبوة ج۱ ص ۴ و مدارج النبوة ص ۷۹ ، روح المعانی ج۲ ص ۷۳ از امامیہ و دیگر افراد، نیز از مرآة المؤمنین ص ۴۵ ، امتاع الاسماع ص ۳۸ ، مقاصد الطالب ص ۷ و سیلة النجاة ص ۷۸ ، المنتقی کا زرونی ص ۷۹ مخطوط و دیگر معروف و غیر معروف کتب_ اور امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۴ سے نقل کیا ہے_ ابن شہر آشوب کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو ثعلبی نے نیز ابن عاقب نے ملحمہ میں، ابوالسعادات نے فضائل عشرہ میں اور غزالی نے احیاء العلوم اور کیمیاء السعادة میں (عمار سے) روایت کیا ہے علاوہ ازیں ابن بابویہ، ابن شاذان، کلینی، طوسی، ابن عقدہ، برقی، ابن فیاض، عبدلی، صفوانی اور ثقفی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس، ابورافع اور ھند ابن ابوھالہ سے روایت کیا ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۲ ص ۴۸ ( گذشتہ بعض منابع سے )نیز نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۹ (از سلفی) محمودی نے شواہد تنزیل کے حاشیہ میں، مذکورہ مآخذ میں سے نیز ابوالفتوح رازی (ج ۲ ص ۱۵۲) و غایة المرام باب ۴۵ ص ۳۴۶ سے نقل کیا ہے اسی طرح سیرت مغلطای ص ۳۱، المستطرف اور کنوز الحقائق ص ۳۱ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے_

۳۱۳

لوگوں میں و ہ بھی ہے جو رضائے الہی کی طلب میں اپنی جان کا سودا کرتا ہے_ ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے_

اسکافی کہتے ہیں کہ: تمام مفسرین نے روایت کی ہے کہ( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) والی آیت شب ہجرت حضرت علیعليه‌السلام کے بستر (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) پر سونے کے بارے میں اتری ہے_(۱)

جھوٹے کامنہ کالا

یہیں سے فضل ابن روزبہان کے اس جھوٹ کا بھی پول کھل جاتا ہے کہ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت زبیر اور مقداد کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو اس لئے مکہ بھیجا تھا کہ وہ خبیب بن عدی کو پھانسی کے تختے سے اتاریں_ اس تختے کے اردگرد چالیس مشرکین موجود تھے لیکن ان دونوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر اسے اتارا چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی_

اس بات کی تکذیب اسکافی کے مذکورہ بالا بیان کے علاوہ ان مآخذ سے بھی ہوتی ہے جن کا ذکر اس آیت کے حضرت علیعليه‌السلام کی شان میں اترنے کے بیان میں ہوا ہے_

شیخ مظفر فرماتے ہیں کہ مفسرین نے اس بات (فضل کی بات ) کا ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ سیوطی رازی اور کشاف نے بھی اس کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ رازی نے اپنی تفسیر میں ان کے تمام اقوال کو جمع کیا ہے اور سیوطی نے ان کی تمام روایات کو_

الاستیعاب میں ''خبیب'' کے حالات زندگی میں مذکور ہے کہ جس شخص کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے (خبیب) کی لاش اتارنے کیلئے بھیجا وہ عمر بن امیہ ضمری تھے_(۲) اس پرمزید تحقیق آئندہ بیان ہوگی_

___________________

۱_ رجوع کریں شرح نہج البلاغة ج ۱۳ ص ۲۶۲ _

۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۸۲ _

۳۱۴

ابن تیمیہ کیا کہتا ہے:

ابن تیمیہ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان میں اس آیت کے نزول سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدثین اور سیرت نگاروں کا اس کے جھوٹ ہونے پر اتفاق ہے اس کے علاوہ حضرت علیعليه‌السلام کو صادق (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کے اس قول سے ''کہ ان کی طرف سے تجھے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی'' اطمینان قلبی حاصل ہوگیا تھا_ بنابریں جان کی قربانی یا فداکاری کا مسئلہ ہی در پیش نہ تھا_ یہ آیت سورہ بقرہ میں مذکور ہے جس کے مدنی ہونے پر سب کا اتفاق ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ یہ آیت صہیب کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب انہوں نے ہجرت کی_(۱)

ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ:

الف: اگر حضرت علیعليه‌السلام کی بہ نسبت یہ آیت مدنی ہے تو صہیب کے متعلق بھی تو یہ آیت مدنی ہے_ بات تو ایک ہی ہے_

ب: اسکافی معتزلی نے جاحظ کے دعوے ''کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے علیعليه‌السلام سے فرمایا (تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی'' کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے یہ واضح طورپر جھوٹ اور جعلی حدیث ہے جوبات معروف ہے اور منقول بھی_ وہ یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام سے فرمایا :''میرے بسترپر سوجاؤاور میری حضرمی چادر اوڑھ لو_ آئندہ یہ لوگ (مشرکین) مجھے نہ پاسکیں گے_ اور میرا بستر نہ دیکھ سکیں گے شاید یہ لوگ تمہیں دیکھ کر صبح تک مطمئن ہوجائیں_ پس جب صبح ہوجائے تو میری امانت کی ادائیگی کے پیچھے چلے جانا''_

جاحظ نے جوبات کی ہے اسے کسی نے نقل نہیں کیا فقط ابوبکر اصم (بہرے) نے اسے گھڑا ہے اور جاحظ نے اس سے اخذ کیا ہے جبکہ اس کی کوئی بنیادہے ہی نہیں_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _

۳۱۵

اگر (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے منسوب) یہ بات صحیح ہوتی تو حضرت علیعليه‌السلام کو مشرکین کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچتی_ حالانکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ انہیں مارا گیا اور انہیں پہچاننے سے قبل ان کی طرف پتھر پھینکے گئے، یہاں تک کہ وہ درد سے پیچ وتاب کھاتے رہے اور انہوں نے ان سے کہا ہم نے تمہارا پیچ وتاب کھانا دیکھا_(۱)

اسکے علاوہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر رات گزارنے کے بعد غار میں ملاقات کے دوران امانتوں کو واپس کرنے اور مکہ میں اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا تو اس وقت فرمایا تھا کہ ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور یہ اطمینان دلایا تھا کہ تمہارا یوں اعلان کرنا مشکلات اور مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنے گا_

ج: ہماری بات کی دلیل یہ ہے کہ:

۱) اگر ابن تیمیہ کی بات درست ہوتی تو پھر ان کا اپنے اس اقدام پر فخر کرنے کا کیامطلب رہ جاتا ہے؟ چنانچہ روایت ہے کہ جب حضرت عائشہ نے اپنے باپ اور غارمیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ ان کی مصاحبت پر فخرکیا تو عبداللہ بن شداد بن الہاد نے کہا:'' تیرا علی بن ابیطالبعليه‌السلام سے کیا مقابلہ جو تلواروں کے سائے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ پر سوگئے''_ یہ سن کر حضرت عائشہ خاموش ہوگئی اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا_(۲)

۲) حضرت انس سے منقول ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اپنے نفس کو قتل ہونے کیلئے آمادہ کرلیا تھا_(۳)

۳) بلکہ علیعليه‌السلام نے خود اس بات کی تصریح فرمائی اور ان اشعار کے ذریعے ہرقسم کے شبہات دور کردیئے جن کا تذکرہ ہوچکا ہے انہوں نے فرمایا تھا:

وقیت بنفسی خیر من وطئی الثری

میں نے اپنی جان پیش کر کے اس شخص کو بچایا جو اس زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر تھا_

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۶۳ _

۲_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۶۲ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۵۶ (از امالی)

۳_ امالی شیخ طوسی اور بحارالانوار

۳۱۶

نیز یہ بھی فرمایا_

وبت اراعیهم متی یثبتوننی

وقد وطنت نفسی علی القتل والاسر

وبات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله فی الغار آمنا

هناک وفی حفظ الاله وفی ستر(۱)

میں نے رات اس انتظار میں گزاری کہ وہ کب مجھے گرفتار کرتے ہیں_ میں نے اپنے نفس کو قتل یا اسیر ہونے کیلئے آمادہ کر رکھا تھا ادھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار میں امن وسکون سے اور اللہ کی پناہ میں چھپ کر رات گزاری_

د:امام علیعليه‌السلام ہی سے نقل ہوا ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے اپنے بستر پر سونے اور اپنی جان کے بدلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کا حکم دیا_ پس میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت میں اس کام کی طرف شتاب کیا_ میں اندر سے خوش تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بدلے میں قتل ہو جاؤں گا_ یوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے سفر پر نکل پڑے اور میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پرسوگیا_ قریش کے مرد اس یقین کے ساتھ کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو قتل کریں گے_ جب گھر میں داخل ہوئے جہاں میں موجود تھا _میرا اور ان کا آمنا سامنا ہواتو میں نے اپنی تلوار سے ان کی خبرلی اور جس طرح میں نے ان سے اپنا دفاع کیا اسے اللہ اور لوگ بخوبی جانتے ہیں''_ پھر انہوں اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' کیا میرا بیان درست نہیں؟'' وہ بولے ''کیوں نہیں اے امیرالمومنینعليه‌السلام ''_(۲)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے علیعليه‌السلام کو مارا اور کچھ دیر قید رکھا اور پھر چھوڑ دیا_(۳)

ابن تیمیہ کا یہ دعوی کہ جبرئیل کی طرف سے ان کی حفاظت اور اس بارے میں نزول آیت والی روایت تمام محدثین اور سیرت نگاروں کے نزدیک جھوٹی ہے،یہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ ابن تیمیہ کے

___________________

۱_ نور الابصار ص ۸۶، شواہد التنزیل ج ۱ ص ۱۰۲، مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۴، تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے پر، نیز امالی شیخ ج ۲ ص ۸۳ تذکرة الخواص ص ۳۵ و فرائد السمطین ج ۱ ص ۳۳۰ و مناقب خوارزمی ص ۷۴_۷۵ و فصول المہمة (ابن صباغ) ص ۳۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۶۳ اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ نیز اس شعر کے منابع بھی بہت زیادہ ہیں جن کی جستجو کی گنجائشے نہیں ہے_

۲_ بحارالانوار ج ۱۹ ص ۴۵ میں، خصال ج ۲ ص ۱۴_۱۵ سے نقل ہوا ہے _

۳_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۵ _

۳۱۷

علاوہ کسی نے بھی اس روایت کو نہیں جھٹلایا ہے _بنابریں اس نے ان لوگوں کی طرف ایسی بات کی نسبت دی ہے جن کا خود ان کو علم نہیں اور وہ اس سے بری ہیں بلکہ حاکم اور ذہبی کی طرف سے اس روایت کو صحیح قرار دینے کی بات آپ پہلے پڑھ چکے ہیں_ اس کے علاوہ ایسے بہت سے لوگوں کا بھی ذکر ہوچکا ہے جنہوں نے بڑے بڑے علماء اور حفاظ سے اس روایت کو بغیر کسی ردوکد کے نقل کیا ہے لیکن ممکن ہے کہ ابن تیمیہ کے شیطان نے اس پر وحی کی ہو کہ وہ ان لوگوں کی طرف ایسی چیز منسوب کرے جس سے وہ بری ہیں_

ھ: حلبی نے ابن تیمیہ کے اعتراض کا یوں جواب دیا ہے_''اس نے امتاع میں یہ نہیں بتایا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام سے مذکورہ بات کہی تھی_ بنابریں ان کا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کیلئے اپنی جان کی قربانی پیش کرنا تو واضح ہے اور دوسری طرف سے یہ ممکن ہے کہ مذکورہ آیت ایک دفعہ حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اور ایک دفعہ حضرت صہیب کے بارے میں اتری ہواس صورت میں حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں لفظ شراء سے مراد بیچنا ہوگا یعنی انہوں نے اپنی جان نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان کے بدلے بیچ دی اور حضرت صہیب کے بارے میں اس لفظ سے مراد ''خریدنا'' ہوگا_ صہیب نے مال دے کر اپنی جان خرید لی_ رہا اس آیت کا مکی ہونا تو یہ بات سورہ بقرہ کے مدنی ہونے کے منافی نہیں کیونکہ سورتوں کا مکی یا مدنی ہونا آیات کی اکثریت کے پیش نظر ہوتا ہے_(۱)

لیکن حلبی کے اس جواب کی بعض باتیں قابل تنقید ہیں کیونکہ لفظ شراء ''کو ایک دفعہ بیچنے'' کے معنی میں اور ایک دفعہ خریدنے کے معنی میں استعمال کرناقابل قبول نہیں کیونکہ لفظ مشترک کے ایک سے زیادہ معانی میں استعمال کا موجب بنتا ہے جبکہ علماء کی ایک جماعت نے اس سے منع کیا ہے_ علاوہ ازیں صہیب کو اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے دوسروں پر کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوتی_ کیونکہ بہت سے مہاجرین ہجرت کے باعث اپنے اموال سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے_ وہ ان کو مشرکین کے پاس چھوڑ کر راہ خدا میں مکہ سے نکل گئے تھے_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۷ _

۳۱۸

صہیب کا واقعہ اور ہمارا نقطہ نظر

نقل کرتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے غار کی طرف حرکت کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابوبکر کو دو یا تین بار صہیب کے پاس بھیجا_ انہوں نے صہیب کو نماز پڑھتے پایا چنانچہ انہیں اچھا نہ لگا کہ وہ نماز توڑ دیں_ جب واقعہ ہوچکا تو صہیب حضرت ابوبکر کے گھر آئے اور اپنے دونوں بھائیوں (ابوبکر اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کے بارے میں پوچھا_ چنانچہ انہیں واقعے کے بارے میں بتایا گیا_ نتیجتاً وہ اکیلے ہی ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے لیکن مشرکین نے انہیں نہ چھوڑا یہاں تک کہ انہوں نے اپنا مال ومتاع ان کے حوالے کردیا_ جب قباء کے مقام پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ مل گئے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا صہیب فائدے میں رہا صہیب فائدے میں رہا_ یا فرمایا اس کی تجارت سود مند رہی چنانچہ خداوند عالم نے یہ آیت اتاری( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله ) (۱)

اس روایت کے الفاظ مختلف ہیں جیساکہ تفسیر درمنثور اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے _یہاں اتنا کہناہی کافی ہے کہ ان میں سے ایک روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت اتری جب مشرکین نے صہیب کو سزا دینے کیلئے پکڑ لیا_ اور صہیب نے کہا میں ایک بے ضرربوڑھا آدمی ہوں خواہ میرا تعلق تم سے ہو یا تمہارے غیر سے_ کیا تم میرا مال لیکر مجھے اپنے دین کے معاملے میں آزاد نہیں چھوڑ سکتے؟ نتیجتاً انہوں نے ایسا ہی کیا_(۲)

ایک اور روایت نے اس کا تذکرہ اس واقعے کی طرح کیا ہے جو حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ ہجرت کے وقت پیش آیا یعنی جب مشرکین انکی دھمکی سے ڈر کر واپس چلے گئے تھے_(۳)

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ (صہیب کے ذکر میں)، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۳ و ۲۴، الدر المنثور ج ۱ ص ۲۰۴ از ابن سعد، ابن ابی اسامہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم و ابونعیم '' الحلیة '' میں اسی طرح ابن عساکر، ابن جریر، طبرانی، حاکم، بیہقی در الدلائل اور ابن ابی خیثمہ سے (عبارات میںکچھ اختلاف ہے) _

۲_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۱۶۸ _

۳۱۹

لیکن یہ قصہ صحیح نہیں کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان حالات میں صہیب کے پاس تین بار حضرت ابوبکر کو بھیجنا معقول بات نہیں خصوصاً ان حالات میں جبکہ انہی کے بقول مشرکین رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ حضرت ابوبکرکو بھی تلاش کررہے تھے اور انہیں تلاش کرنے والے کیلئے سو اونٹوں کاانعام مقرر کیا تھا(۱) _( اگرچہ ہماری نظر میں یہ بھی درست نہیں جیساکہ آپ آئندہ صفحات میں مشاہدہ کریں گے) لیکن بہرحال اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ قریش کی کوشش اس لئے تھی کہ حضرت ابوبکر کے ذریعے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا سراغ لگایا جائے_

۲) حالت نماز میں صہیب کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا پیغام پہنچانے سے ان کی نماز کیوں ٹوٹتی کیونکہ حضرت ابوبکر کیلئے یہ ممکن تھا کہ اپنی بات صہیب سے کہتے اور ان کی نماز توڑے بغیر لوٹتے یا ایک دو منٹ ٹھہر کر اس کا نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کر لیتے_ پھر اس قسم کا اتفاق نہایت ہی کم ہوتا ہے_لہذا کیسے ہوسکتاہے کہ وہ دو یا تین بار آئیں اور صہیب پھر بھی مشغول نماز ہوں_

۳) کیا وجہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے صہیب کو تو اہمیت دی لیکن دوسرے بے چارے مسلمانوں کو نظر انداز کردیا؟ (جن کے اوپر قریش ہرقسم کا تشدد روا رکھتے تھے) اور ان کے پاس تین بار تو کیا ایک بار بھی کسی کو نہ بھیجا؟ کیا یہ بات امت کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عادلانہ رویہ اور عطوفت ومہربانی سے ہم آہنگ ہے؟ ہاں مگر یہ کہا جائے کہ شاید صہیب کے علاوہ دوسرے مسلمانوں پر مشرکین کی کڑی نظر تھی یا یہ کہ صہیب دوسروں سے زیادہ گرفتار بلا تھے یا اسی طرح کے دیگر احتمالات جن کی طرف بعض لوگوں نے اشارہ کیا ہے_

۴) ہم بعض ایسی روایات بھی پاتے ہیں جن کے مطابق حضرت ابوبکر نے (نہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے) صہیب سے کہا تھا اے صہیب تیری تجارت سود مند رہی(۱) جیساکہ ابن ہشام نے بھی اس واقعے کو ذکر کیا ہے لیکن اس نے نزول آیت کا تذکرہ نہیں کیا_(۲)

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۹ البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ اور ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۸_

۲_ مجمع البیان ج ۶ ص ۳۶۱، بحار الانوار ج ۱۹ ص ۳۵، السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۴ نیز ملاحظہ ہو صفین (منقری) ص ۳۲۵__

۳_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۱ _

۳۲۰

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)

۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_

۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_

۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)

۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_

یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_

___________________

۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _

۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _

۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _

۳۲۱

یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليه‌السلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليه‌السلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليه‌السلام کے دشمن فائدے میں رہے_

ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليه‌السلام بستر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غار میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟

ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_

ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ

___________________

۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _

۳۲۲

''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیلعليه‌السلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليه‌السلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)

لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:

الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_

کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)

تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)

چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_

ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليه‌السلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_

۱) امام علیعليه‌السلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _

۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_

۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_

۳۲۳

نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)

بظاہر حضرت علیعليه‌السلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليه‌السلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_

۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)

۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_

اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليه‌السلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _

۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_

۳۲۴

سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_

۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليه‌السلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليه‌السلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے

___________________

۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليه‌السلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_

۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _

۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_

۳۲۵

لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_

۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو علیعليه‌السلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_

۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)

۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليه‌السلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)

۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق کانام دیا_(۴)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليه‌السلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی

۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _

۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_

۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۳۲۶

۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)

۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليه‌السلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)

۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)

۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليه‌السلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)

یعنی حضرت علیعليه‌السلام ہی صدیق اکبر ہیں_

گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليه‌السلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_

علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں

___________________

۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_

۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليه‌السلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_

۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _

۳۲۷

کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_

یہ القاب کب وضع ہوئے؟

بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليه‌السلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_

دو سواریاں

کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_

۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_

۳۲۸

پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کیں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟

۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_

حقیقت حال

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_

۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _

۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليه‌السلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليه‌السلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_

۳۲۹

ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_

خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:

۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)

۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟

۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_

۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_

۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_

۳۳۰

کہ کھوجی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_

ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)

قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش

کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_

اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)

___________________

۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_

۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_

۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_

۳۳۱

یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليه‌السلام تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حضرت علیعليه‌السلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليه‌السلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_

تا صبح انتظار کیوں

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)

یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_

۳۳۲

عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _

حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات

کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)

یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_

___________________

۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_

۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_

۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_

۳۳۳

ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اور میرا مال کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)

یا یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _

حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_

۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_

۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_

۳۳۴

ترمذی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_

۱_ عامر بن فہیرہ

ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_

۲_ نابینا ابوقحافہ

جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_

الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_

۳۳۵

نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_

ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟

ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟

۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے

رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_

اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _

۳۳۶

درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_

مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)

ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام ہی نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)

بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليه‌السلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)

یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)

___________________

۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_

۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _

۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__

۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _

۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _

۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _

۳۳۷

ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)

یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)

حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث

حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)

علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے

___________________

۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _

۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _

۳۳۸

ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟

سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_

۵_ حضرت ابوبکر کی دولت

حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_

___________________

۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_

۳۳۹

۲_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت خدیجہعليه‌السلام بلکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)

۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_

۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_

___________________

۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليه‌السلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_

۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417