الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209916 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

نے حضرت علیعليه‌السلام کو حکم دیا کہ وہ ابوطالب کو غسل و کفن دیں اور دفن کریں_(۱) ہاں ان کو نماز جنازہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا کیونکہ نماز جنازہ اس وقت تک فرض نہیں ہوئی تھی_ اسلئے کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ(س) کی وفات ہوئی تو حضرت نے ان پر نماز جنازہ نہیں پڑھی حالانکہ آپ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں_

پانچویں دلیل: جب حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی وفات ہوئی تو ان کے فرزند حضرت علیعليه‌السلام نے یہ مرثیہ کہا:

اباطالب عصمة المستجیر

وغیث المحول ونور الظلم

لقد هد فقدک اهل الحفاظ

فصلی علیک ولی النعم

ولقاک ربک رضوانه

فقدکنت للطهر من خیرعم(۲)

اے ابوطالب اے پناہ ڈھونڈنے والوں کی جائے پناہ اے خشک زمینوں کیلئے باران رحمت اور تاریکیوں کو روشن کرنے والے نور تیری جدائی نے (اسلام کی) حمایت کرنے والوں کو نڈھال کر کے رکھ دیا_ نعمتوں کے مالک (خدا) کی رحمتیں آپعليه‌السلام پر نازل ہوں خدانے آپ کو اپنی خوشنودی سے ہمکنار کردیا_ آپعليه‌السلام نبی پاکصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہترین چچا تھے_

چھٹی دلیل: امیرالمومنین علیعليه‌السلام نے معاویہ کوایک طویل خط لکھا جس میں مذکور ہے کہ نہ امیہ، ہاشم کی مانند ہے، نہ حرب عبدالمطلب کے مساوی اور نہ ابوسفیان ابوطالب کے برابر، نہ آزاد شدہ غلام ہجرت کرنے

___________________

۱_ رجوع کریں (ان تمام باتوں کے بارے میں) تذکرة الخواص ص ۸، شرح نہح البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۸۱، سیرت حلبی ج ۱ ص ۱۴۷، المصنف ج ۶ ص ۳۸ السیرة النبویة ( دحلان) ج۱ ص ۸۷، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۵و طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۷۸، تاریخ بغداد ( خطیب) ج۳ ص ۱۲۶ اور ج ۱۳ ص ۱۹۶، تاریخ ابن کثیر ج ۳ ص ۱۲۵ و الطرائف (ابن طاؤس) ص ۳۰۵ از حنبلی در نہایة الطلب نیز البحار ج ۳۵ ص ۱۵۱ و التعظیم و المنة ص ۷ و لسان المیزان ج ۱ ص ۴۱، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، الغدیر ج ۷ ص ۳۷۲ و ۳۷۴ و ۳۷۵از مذکورہ کتب اور شرح شواہد مغنی (سیوطی) ص ۱۳۶اعلام النبوة (ماوردی) ص ۷۷ و بدائع الصنائع ج۱ ص ۲۸۳ و عمدة القاری ج ۳ ص ۴۳۵ و اسنی الطالب ص ۱۵ و ۲۱ و ۳۵ و طلبة الطالب ص ۴۳، دلائل النبوة ( بیہقی) ا ور برزنجی، ابن خزیمہ، ابوداؤد اور ابن عساکر_ ۲_ تذکرة الخواص ص ۹_

۱۸۱

والے کا ہم پلہ ہے اور نہ ہی خودساختہ نسب والا صحیح النسب انسان کے برابر_(۱)

اگر حضرت ابوطالب کافر ہوتے اور ابوسفیان مسلمان تو حضرت علیعليه‌السلام کسی کافر کو ایک مسلمان پر کیسے ترجیح دے سکتے تھے؟ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ابوسفیان وہ ہے جس نے کہا تھا کہ اسے معلوم نہیں جنت کیا ہے اور جہنم کیا ہے (اس کا ذکر جنگ احد کے حالات کے آخر میں ہوگا)_ یہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنینعليه‌السلام معاویہ کے مجہول النسب ہونے کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں_ بہرحال اس بحث کا مقام الگ ہے_

ساتویں دلیل: پیغمبر خدا سے منقول ہے کہ آپ نےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمایا:''اذا کان یوم القیامة شفعت لابی وامی وعمی ابیطالب واخ لی کان فی الجاهلیة'' (۲) یعنی قیامت کے دن میں اپنے والدین، اپنے چچا ابوطالب اور اپنے اس بھائی کی شفاعت کروں گا جو ایام جاہلیت میں زندہ تھا_

آٹھویں دلیل: نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جبرئیل کی زبانی بتایا''حرمت النار علی صلب انزلک و بطن حملک وحجر کفلک اما الصلب فعبد الله و اما البطن فآمنه و اما الحجر فعمه یعنی اباطالب و فاطمه بنت اسد'' یعنی خدانے آتش کو حرام کیا ہے اس صلب پر جس نے تجھے اتارا اور اس بطن پر جس میں تو رہا اور اس دامن پر جس میں تونے پرورش پائی،(۳) یہاں صلب سے مراد حضرت عبداللہ ہیں بطن سے مراد حضرت آمنہ ہیں اور دامن یا گود سے مراد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرت ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد ہیں_ یہی مضمون مختصر فرق کے ساتھ دیگر روایات میں بھی موجود ہے_

___________________

۱_ وقعة صفین نصر بن مزاحم ص ۴۷۱ ، الفتوح ابن اعثم ج ۳ ص ۲۶۰ ، نہج البلاغہ شرح محمد عبدہ ج ۳ ص ۱۸، خط ۱۷ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۵ ص ۱۱۷ ، الامامة و السیاسة ج ۱ ص ۱۱۸، الغدیر ج ۳ ص ۲۵۴ ، مذکورہ کتب سے و از ربیع الابرار زمخشری باب ۶۶ و مروج الذہب ج ۲ ص ۶۲ اور ملاحظہ ہو الفتوح ابن اعثم ج ۳ ص ۲۶۰ و مناقب خوارزمی حنفی ص ۱۸۰_

۲_ ذخائر العقبی ص ۷ مکمل طور پر الفوائد رازی سے ، الدرج المنیفہ سیوطی ص ۸ ، مسالک الحنفاء ص ۱۴ از ابن النعیم و غیرہ اور مذکور ہے کہ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ، تفسیر قمی ج ۱ ص ۳۸۰ ، تفسیر برہان ج ۲ ص ۳۵۸ ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۳۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۳۲_

۳_ اصول کافی ج ۱ ص ۳۷۱ ، بحار ج ۳۵ ص ۱۰۹ ، التعظیم و المنة سیوطی ص ۲۷ اور ملاحظہ ہو ، روضة الواعظین ص ۱۳۹ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ ص ۶۷، الغدیر ج ۷ ص ۳۷۸ مذکورہ کتب سے و از کتاب الحجة (ابن معد) ص ۸و تفسیر ابوالفتوح ج ۴ ص ۲۱۰

۱۸۲

نویں دلیل: حضرت امام سجاد علیہ السلام سے ایمان ابوطالبعليه‌السلام کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:'' تعجب کی بات ہے خدا نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کیا کہ کوئی مسلمان عورت کسی کافر کے حبالہ عقد میں باقی نہ رہے اور فاطمہ بنت اسد اسلام کی اولین عورتوں میں سے ہیں وہ حضرت ابوطالب کی موت تک ان کے عقد میں رہیں؟''_(۱)

البتہ کافر عورتوں کے ساتھ ازدواجی رابطہ باقی رکھنے سے منع کرنے والی آیت کے مدینہ میں نزول سے مذکورہ روایت کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچتی اور نہ وہ اس روایت کے بطلان کا باعث ہے کیونکہ ممکن ہے کہ قرآنی آیت کے نزول سے قبل ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی مذکورہ امر سے ممانعت ہوئی ہو_ رہا بعض مسلمانوں کا اس حکم پر (اس زمانے میں) عمل نہ کرنا تو ممکن ہے کہ بعض مخصوص حالات کے تحت وہ اس امر پر مجبور ہوئے ہوں_

دسویں دلیل: بعض لوگوں نے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خط کے ذریعے امام علی ابن موسی الرضاعليه‌السلام سے سوال کیا تو انہوں نے جواب میں لکھا( و من یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدی ویتبع غیر سبل المومنین ) (سورہ نساء آیت ۱۱۵) یعنی جو شخص راہ ہدایت کے واضح ہونے کے بعد بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت کرے اور مومنین کے راستے سے ہٹ کر کسی اور راہ پر چلے ..._ اس کے بعد فرمایا: ''اگر تم حضرت ابوطالب کے ایمان کا اعتراف نہ کرو تو تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا''_(۲)

گیارہویںدلیل: جنگ جمل کے موقع پر جب جناب محمد بن حنیفہ نے اہل بصرہ کے ایک آدمی پر قابو پایا تو اسی کا کہناہے کہ جب میں نے اس پر قابو پالیا تو اس نے کہا : '' میں ابوطالب کے دین پر ہوں '' پس جب میں نے اس کی مراد سمجھ لی تو اسے چھوڑ دیا(۳)

بارہویںدلیل: غزوہ بدر کے ذکر میں عنقریب آئے گا کہ حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شہید بدر عبیدہ بن حارث سے اپنے چچا ابوطالب کے متعلق چھوٹے سے طعنے کو بھی برداشت نہیں کیا _ حتی کہ اس کا یہ کہنا بھی برداشت نہیں ہوا کہ ابوطالب نے جو یہ کہا ہے:

___________________

۱،۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۸، الغدیر ج ۷ ص ۳۸۱ اور ۳۹۴ نے کراجکی ص ۸۵ سے اور کتاب الحجة (ابن معد) ص ۲۴،۱۶ سے و الدرجات الرفیعہ و البحار اور ضیاء العالمین سے نقل کیا ہے اور امام سجادعليه‌السلام کی حدیث کے تواتر کا دعوی بھی کیا گیا ہے_ ۳_ طبقات ابن سعد ج۵ ص ۶۸ مطبوعہ لیدن_

۱۸۳

کذبتم و بیت الله بیدی محمد---- و لما نطاعن دونه ونناضل

و نسلمه حتی نصرع دونه ---- و نذهل عن ابنائنا و الحلائل

خدا کی قسم کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں ( بلکہ ہم تو ان کی حمایت میں ) تم سے نیزوں اور تلواروں کے ذریعہ سے مقابلہ کریں گے _

تو ہم لوگ ا س سے کہیں بہتر ہیں _ پس جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس جیسے طعنے پر بھی غضبناک ہوسکتے ہیں تو کیا آپ کے خیال میں اپنے چچا کے متعلق مشرک کا حکم لگاکر خوش ہوں گے ؟ اور انہیں دوزخ کے ایک کنارے پر ٹھہرائیں گے جس کی آگ سے ان کا بھیجہ ابل رہا ہوگا؟ یہ بے انصافی کہاں تک رہے گی؟

یہاں ہم انہی مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں جو حضرت ابوطالب کے ایمان کو ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں مزید تحقیق کے متلاشی متعلقہ کتب کی طرف رجوع کریں_

بے بنیاد دلائل

حضرت ابوطالب علیہ السلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھنے والوں نے بے بنیاد دلائل اور روایات کا سہارا لیا ہے_ یہاں ہم ان میں سے چند ایک کی طرف جو زیادہ اہمیت کی حامل ہیں اشارہ کرتے ہیں_

۱_ حدیث ضحضاح

ابوسعید خدری سے منقول ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا ابوطالبعليه‌السلام کا ذکر ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: شاید ان کو میری شفاعت روز قیامت فائدہ دے اور آگ کے ایک ضحضاح ( کنارے) میں رکھا جائے جہاں ان کے ٹخنوں تک آگ پہنچے جس سے ان کا دماغ کھولنے لگے_ ایک اور روایت کے مطابق حضرت عباس نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچا سے بے نیاز نہ تھے واللہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کرتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خاطر غضبناک ہوتے تھے فرمایا:'' وہ آگ کے ایک حوض میں ہیں اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے

۱۸۴

سب سے نچلے حصے میں ہوتے''_(۱)

اس حوالے سے ہم درج ذیل عرائض پیش کرتے ہیں_

(الف) علامہ امینی نے الغدیر (ج ۸ ص ۲۳_۲۴) میں اور خنیزی نے ''ابوطالب مومن قریش'' نامی کتاب میں اس روایت کی اسناد سے بحث کی ہے_ ان دونوں حضرات نے اس روایت کے کمزور اور بے بنیاد ہونے، نیز اس کے الفاظ وعبارات کے درمیان تضاد کو واضح طور پر ثابت کیا ہے_

(ب) جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوطالبعليه‌السلام کو فائدہ پہنچاتے ہوئے جہنم کے آخری حصے سے انہیں نکال کر گوشہ آتش تک لے آسکتے ہیں تو پھر تھوڑی سی مہربانی اور کرتے ہوئے ان کو اس کنارے سے ہی باہر کیوں نہیں نکال لاتے؟ اس کے علاوہ چونکہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ زندہ تھے اور قیامت برپانہیں ہوئی تھی اس لئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں شفاعت ہوسکتی ہے؟

(ج) یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ابوطالبعليه‌السلام کو موت کے وقت کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، جاری کرنے کیلئے کہا تاکہ اس طرح بروز قیامت انہیں آپ کی شفاعت نصیب ہو لیکن ابوطالب نے ایسا نہیں کیا _یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کلمہ کے بغیر کسی قسم کی شفاعت نہیں ہوسکتی،(۲) پھر کیونکر ابوطالبعليه‌السلام کی شفاعت ممکن ہوئی (اگرچہ ایک حد تک ہی سہی) حالانکہ ان لوگوں کے بقول انہوں نے کلمہ شہادت زبان پر جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے شفاعت ممکن ہوسکتی_

نیز کیایہی لوگ روایت نہیں کرتے کہ مشرک کی شفاعت نہیں ہوسکتی؟ پھر کیونکر اس مشرک کی شفاعت

___________________

۱_ صحیح بخاری مطبوعہ سن ۱۳۰۹ ج ۲ ص ۲۰۹ اور ج ۴ ص ۵۴، المصنف ج ۶ ص ۴۱، النسب الاشرف (بہ تحقیق محمودی) ج ۲ ص ۲۹_۳۰، صحیح مسلم کتاب الایمان، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹مسند احمد ج ۱ ص ۲۰۶ و ۲۰۷ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۵، الغدیر ج ۸ص ۲۳ کہ بعض مذکورہ کتب اور عیون الاثر ج ۱ص ۱۳۲ سے نقل کیا ہے اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۶_

۲_ الترغیب و الترھیب ج ۴ ص ۴۳۳ از احمد (دو صحیح سندوں کے ساتھ) از بزاز اور طبری (مختلف اسانید کے ساتھ جن میں سے ایک اچھی ہے) اور ابن حبان (اپنی صحیح میں) نیز رجوع ہو الغدیر ج ۲ ص ۲۵ _

۱۸۵

ہوئی اور وہ اس کے سبب جہنم کے آخری طبقے سے نکال کر آتش کے کنارے میں منتقل کئے گئے_(۱)

(د) ابن ابی الحدید معتزلی نے مذہب امامیہ اور مذہب زیدیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا کہنا ہے حدیث ضحضاح ( کنارہ آتش والی حدیث) کو تمام لوگ صرف ایک ہی فرد سے نقل کرتے ہیں اور وہ ہے مغیرہ بن شعبہ حالانکہ بنی ہاشم خصوصاً حضرت علیعليه‌السلام سے اس کا بغض و عناد ہر خاص و عام کو معلوم ہے_ نیز اس کی داستان اور اس کا فاسق ہونا کسی سے مخفی نہیں_(۲)

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ (غیرشیعہ حضرات) اس روایت کو مغیرہ کے علاوہ دیگر افراد سے بھی نقل کرتے ہیں جیساکہ بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے_ پس ممکن ہے کہ مغیرہ کے علاوہ دیگر افراد سے نقل کرنے کا عمل بعد کی پیداوار ہو کیونکہ یہ معقول نہیں کہ شیعہ حضرات ان پر بے جا طور پر مذکورہ اعتراض کریں جبکہ معتزلی نے شیعوں کے اعتراض کے آگے خاموشی اختیار کرلی ہے گویا اس نے بھی یہی احتمال دیا تھا جو ہم نے دیا ہے ، وگرنہ وہ اس اعتراض کا جواب دے سکتے تو ضرور دیتے_

(ہ) امام باقرعلیہ السلام سے لوگوں کے اس قول (کہ ابوطالبعليه‌السلام آگ کے گوشے میں ہیں) کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا:'' اگر ابوطالبعليه‌السلام کا ایمان ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالاجائے اور لوگوں کاایمان دوسرے پلڑے میں تو بے شک ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان کا پلڑا بھاری ہوگا''_ پھر فرمایا:'' کیا تمہیں نہیں معلوم کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام اپنی زندگی میں حضرت عبداللہ ، ان کے بیٹے اور حضرت ابوطالب کی نیابت میں حج بجالانے کا حکم دیا کرتے تھے اور انہوں نے ان کی طرف سے حج بجالانے کی وصیت کی''_(۳)

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۳۳۶اور تلخیص مستدرک (ذہبی) (ان دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے) المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، الغدیر ج ۸ ص ۲۴ از مستدرک مواھب لدنیہ اور از کنز العمال ج ۷ ص ۱۲۸ سے نقل کیا ہے شرح المواہب (زرقانی) ج ۱ ص ۲۹۱ کشف الغمة (شعرانی) ج ۲ ص ۱۲۴ اور تاریخ ابوالفداء ج ۱ ص ۱۲۰_

۲_شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۷۰و بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۱۲ _

۳_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، الدرجات الرفیعة ص ۴۹، بحار ج ۳۵ص ۱۱۲، الغدیر ج ۸ص ۳۸۰_۳۹۰ (ان دونوں اور السید کی کتاب الحجة کے ص ۱۸سے) از طریق شیخ الطائفة ازصدوق اور ضیاء العالمین (مصنف فتونی) _

۱۸۶

(و) کوفہ کے مضافات (رحبہ) میں جب علیعليه‌السلام سے پوچھا گیا کہ کیا آپعليه‌السلام کے والد عذاب جہنم میں مبتلا ہوں گے یا نہیں ؟ تو آپعليه‌السلام نے اس آدمی سے فرمایا:'' خاموش تیری زبان جلے_ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بر حق نبی بناکر بھیجنے والی ذات کی قسم اگر میرے والد روئے زمین کے تمام گناہگاروں کی بھی شفاعت کریں تو خدا ان سب کو معاف کردے_ واہ باپ تو جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو اور بیٹا ہوقسیم النار والجنة'' ؟ (جنت و دوزخ تقسیم کرنے والے بیٹے کی موجودگی میں باپ دوزخ میں جلے؟ معاذ اللہ )(۱)

(ز) روایات ضحضاح میں اختلاف و تناقض ملاحظہ فرمایئے ایک روایت تو یہ کہتی ہے کہ شاید میری شفاعت کام کرجائے اور قیامت کے دن دوزخ کے کنارے پر ٹھہرائے جائیں _ جبکہ دوسری روایت یقین کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ ابھی دوزخ کے کنارے پر موجود ہیں _ ملاحظہ فرمائیں_

۲_ عقیل اور ارث ابوطالبعليه‌السلام

کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب کی وراثت عقیل نے پائی نہ کہ علیعليه‌السلام اور جعفرعليه‌السلام نے اور اسکی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ابوطالبعليه‌السلام مشرک تھے اور یہ دونوں مسلمان تھے پس ان دونوں فریقوں کے دین مختلف ٹھہرے اور دو مختلف ادیان کے پیروکار ایک دوسرے سے وراثت نہیں پاتے_(۲) ان کی یہ دلیل بھی صحیح نہیں ہے اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں_

(الف) یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ جعفرعليه‌السلام اور علیعليه‌السلام نے وراثت نہیں پائی_

(ب) ان کا یہ کہنا کہ دو مختلف ادیان کو ماننے والے ایک دوسرے سے وراثت نہیں پاسکتے درست ہے اور ہم بھی اس کی تائید کرتے ہیں کیونکہ لفظ توارث باب تفاعل سے ہے _باب تفاعل کام کیلئے دو طرف کے ہونے پر دلالت کرتا ہے اور ہم بھی مسلمانوں اور کافروں کے درمیان توارث (دونوں طرف سے ایک دوسرے سے وراثت پانے) کے قائل نہیں_

___________________

۱_ بحار الانوار ج ۵ ۳ ص ۱۱۰ اور کنز الفوائد ص۸۰ مطبوعہ حجریہ_

۲_ المصنف ج ۶ص ۱۵اور ج ۱۰ ص ۳۴۴ اور اس کی جلد ششم کے حاشیے میں بخاری (ج ۴ ص ۲۹۳) سے مروی ہے نیز طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹ _

۱۸۷

لفظ توارث کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عمل دو طرفہ ہو جس طرح تضارب (ایک دوسرے سے کو مارنا) جو بغیر طرفین کے نہیں ہوسکتا_ بنابریں مکتب اہلبیت کا نظریہ ہی درست ہے یعنی یہ کہ مسلمان کافر سے وراثت پاسکتا ہے لیکن کافر مسلمان سے نہیں_(۱)

(ج) حضرت عمر سے منقول ہے کہ ہم مشرکین سے وراثت پاتے ہیں لیکن وہ ہم سے نہیں_(۲) نیز بہت سے فقہاء نے فتوی دیا ہے کہ مرتد کی میراث مسلمانوں کو ملتی ہے اور ہم ان سے وراثت پاتے ہیں لیکن وہ ہم سے نہیں_(۳)

(د) وہ لوگ خود ہی کہتے ہیں کہ حضرت ابوطالب کے وقت و فات تک میراث ابھی فرض ہی نہیں ہوئی تھی اور معاملہ وصیت کے ساتھ چلتا تھا_ تو اس بناپر ہوسکتاہے کہ جناب ابوطالبعليه‌السلام نے عقیل کے ساتھ محبت کی وجہ سے اس کے نام وصیت کی ہو(۴) _

۳_ وھم ینہون عنہ، ویناون عنہ

ابوطالب پر اعتراض کرنے والوں نے ذکر کیا ہے کہ آیت( وهم ینهون عنه و یناون عنه ) ابوطالبعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے حضرت ابوطالب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستانے سے لوگوں کو منع کرتے تھے لیکن خود دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے_(۵) جبکہ ہم کہتے ہیں کہ :

۱_ خنیزی نے اس روایت کی سند پر جو اعتراضات کئے ہیں وہ کافی ہیں لہذا اس کی سند پر ہم بحث نہیں کرنا چاہتے(۶)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۶۹ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ المصنف (حافظ عبدالرزاق) ج ۱۰ ص ۳۳۹ اور ج ۶ ص ۱۰۶ _

۳_ المصنف ج ۶ ص ۱۰۴_۱۰۷ اور ۱۰۵ اور ج ۱۰ ص ۳۳۸_۳۴۱_ ۴_ مراجعہ ہو: اسنی المطالب ص ۶۲_

۵_ الاصابة ج ۴ ص ۱۱۵، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۲۷، طبقات ابن سعد ج ۱ ص ۷۸ حصہ اول بھجة المحافل ج ۱ ص ۱۱۶ انساب الاشراف بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۶، الغدیر ج۸ ص۳ میں مذکورہ افراد اور تفسیر خازن ج۲ ص۱۱ سے نیز تفسیر ابن جزی ج۲ ص۶، نیز طبری اور کشاف سے نقل کیا گیا ہے اور دلائل النبویة (بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۴۰ و ۳۴۱_

۶_ کتاب ابوطالب مومن قریش ص ۳۰۵_۳۰۶_

۱۸۸

۲_ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیت کسی لحاظ سے ابوطالبعليه‌السلام پر منطبق نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالی نے اس سے قبل ارشاد فرمایا ہے:( و ان یروا کل آیة لا یومنوا بها حتی اذا جائوک یجادلونک یقول الذین کفروا ان هذا الا اساطیر الاولین و هم ینهون عنه ) (۱) یعنی اور اگر وہ تمام تر معجزے دیکھ لیں تو بھی وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے یہاںتک کہ جب وہ تمہارے پاس آئیں گے تو تم سے بھی جھگڑا کریں گے اور وہ لوگ جو کافر ہوگئے کہیں گے، یہ نہیں مگر پہلوں کی کہانیاں اور وہ اس سے روکتے ہیں

اس آیت میں جمع کی ضمائر مثلاً'' هم'' اور''ینهون و ینأون '' کے فاعل کی ضمیر جمع انکی طرف لوٹ رہی ہے جن کا ذکر اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے اور وہ ایسے مشرک ہیں جو ہر آیت اور معجزے کو دیکھنے کے باوجود اس پر ایمان نہیں لاتے اور ان معجزات کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جھگڑا کرتے ہیں اور اپنے عناد کی وجہ سے اس معجزے کو گذشتہ لوگوں کا افسانہ قرار دیتے ہیں_ ان کی ہٹ دہرمی کی حد اتنی ہی نہیں بلکہ وہ اس سے بھی آگے قدم بڑھاتے ہوئے لوگوں کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتیں سننے سے روکتے ہیں جس طرح کہ وہ خود بھی ان سے دور رہتے ہیں

ان میں سے کوئی بات بھی حضرت ابوطالبعليه‌السلام پر پوری نہیں اترتی، وہ ابوطالبعليه‌السلام جوہمیشہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت پر حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اپنے ہاتھ اور زبان کے ساتھ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تائید کرتے بلکہ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس دین کے دائرے میں آنے کی دعوت دیتے اور خود بھی اس دین پر ڈٹے رہے اور اس سلسلے میں ہر مشکل کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا ،جس طرح کہ ان کی بیوی، حمزہعليه‌السلام ، جعفرعليه‌السلام ، حضرت علیعليه‌السلام اور بادشاہ حبشہ کی بھی یہی صورت حال تھی_

مفسرین نے بھی اس آیت سے عموم ہی سمجھا ہے اور اس سے سب کفار مراد لئے ہیں اور اس کا یہ معنی کیا ہے کہ وہ لوگ کفار کو روکتے تھے اور اتباع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منع کرتے تھے اور خود بھی اس سے دور رہتے تھے ...ابن عباس، حسن، قتادہ، ابی معاذ، ضحاک، ابن الحنفیہ، السدی، مجاہد الجبائی اور ابن جبیر سے بھی

___________________

۱_ سورہ انعام، آیت ۲۵_۲۶_

۱۸۹

یہی تفسیرتفسیر مروی ہے_(۱)

۳_علامہ امینی فرماتے ہیں مذکورہ روایت کہتی ہے کہ سورہ انعام کی آیت( وهم ینهون عنه و یناون عنه ) حضرت ابوطالب کی وفات کے وقت نازل ہوئی_ دوسری روایت کہتی ہے کہ آیت( انک لا تهدی من اجبت ) بھی ان کی وفات کے وقت نازل ہوئی جبکہ قرآن کی یہ آیت سورہ قصص کی ہے، جس کی تمام آیات ایک ساتھ نازل ہوئیں اور سورہ قصص پانچ سورتوں کے فاصلے کے ساتھ سورہ انعام سے قبل نازل ہوئی_(۲) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیت حضرت ابوطالب کی وفات کے کافی عرصے بعد نازل ہوئی_

بنابر ایں ان لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ آیت وفات ابوطالبعليه‌السلام کے وقت نازل ہوئی کیونکر معقول ہو سکتا ہے؟

۴_ مشرک کیلئے طلب مغفرت سے منع کرنے والی آیت

بخاری، مسلم اور دیگر محدثین نے ابن مسیب سے اور اس نے اپنے باپ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے وفات ابوطالبعليه‌السلام کے وقت ان سے لا الہ الا اللہ کہنے کی خواہش کی تاکہ اس کے ذریعے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے نزدیک ان کی مغفرت کیلئے دلیل قائم کرسکیں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے ابوطالبعليه‌السلام سے کہا:'' کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑنا چاہتے ہیں؟ ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوطالبعليه‌السلام کو کلمہ توحید کی دعوت دیتے رہے اور وہ دونوں مذکورہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالبعليه‌السلام نے آخری جملہ یہ کہا (عبدالمطلب کے دین پر ہوں) اور لا الہ الا اللہ کہنے سے احتراز کیا_

یہ دیکھ کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا : ''خدا کی قسم جب تک خدا کی طرف سے ممانعت نہ ہو آپ کیلئے طلب

___________________

۱_ رجوع کریں: مجمع البیان ج ۷ ص ۳۵، ۳۶، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۲۷، الغدیر ج ۸ ص ۳ درالمنثور ج ۳ ص ۸_۹، ان سب نے تمام یا بعض مطالب کو قرطبی، طبری، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید اور ابن مردویہ سے نقل کیا ہے_ قرطبی ج ۶ ص ۴۰۶ _

۲_ الدر المنثور ج ۲ص ۳ ،تفسیر شوکانی ج ۳، ص ۹۱_۹۲، تفسیر ابن کثیر ج ۲ص ۱۲۲اور الغدیر ج۸ ص ۵ نے نقل کیا ہے از افراد مذکور و از تفسیر قرطبی ج ۶ص ۳۸۶ و۳۸۳ ،ان سب نے نقل کیا ہے از ابی عبید و ابن منذر و طبرانی و ابن مردویہ و نحاس

۱۹۰

مغفرت کرتا رہوں گا''_ اس مناسبت سے یہ آیت اتری( ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ما تبین لهم انهم اصحاب الجحیم ) (۱) یعنی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مومنین کیلئے روا نہیں کہ وہ مشرکین کیلئے مغفرت طلب کریں اگرچہ وہ ان کے قرابت دارہوں بعد اس کے کہ ان کا جہنمی ہونا واضح ہوجائے، نیز خدا نے ابوطالبعليه‌السلام کے بارے میں یہ آیت اتاری( انک لاتهدی من احببت ولکن الله یهدی من یشائ ) (۲) یعنی اے رسول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر اس شخص کی ہدایت نہیں کرسکتے جسے آپ چاہیں بلکہ خدا جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے_

ہم نہ تو اس مقطوعہ روایت کی سندوں پر بحث کرنا چاہتے ہیں(۳) اور نہ ابن مسیب جیسے لوگوں پر جن کی حضرت علیعليه‌السلام سے دشمنی واضح ہے اور بعض لوگوں نے تواس کی تصریح کی ہے_(۴) البتہ درج ذیل امور کی طرف اشارہ کریں گے_

۱) وہ آیت جو (مشرکین کیلئے) طلب استغفار سے منع کرتی ہے سورہ توبہ کی ہے اور اس بات میں شک کی گنجائشے نہیں کہ یہ سورت مدینہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اترنے والی آخری سورتوں میں سے ایک ہے بلکہ بعض حضرات نے یہ دعوی کیا ہے کہ آخری سورہ یہی ہے_(۵) یہ بات غیرمعقول ہے کہ یہ آیت دس سال سے زیادہ عرصے تک تنہا پڑی رہی ہو پھر جب سورت توبہ نازل ہوئی تو اس میں شامل کر دی گئی ہو کیونکہ قرآنی آیات کسی سورہ کے ساتھ اس صورت میں ملحق ہوتی ہیں جبکہ وہ سورت اس سے قبل نازل ہوچکی ہو_اور یہ بات قرآن کی لمبی سورتوں سے متعلق ہے نہ کہ دیگر سورتوں سے جس کی تمام آیات ایک ساتھ اترتی تھیں_

___________________

۱_ سورہ توبہ، آیت ۱۱۳_

۲_ سورہ قصص آیت ۵۶روایت بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹کی ج ۳ص ۱۱۱وغیرہ میں

۳_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۳۱۳_۳۴۰اور انساب الاشراف بہ تحقیق محمودی ج ۲ص ۲۵اور ۲۶ نیز دلائل النبوة (بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۴۲ و ۳۴۳_

۴_ الغارات (ثقفی) ج ۲ص ۵۶۹

۵_ الغدیر ج ۸ص ۱۰، ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۱از بخاری، کشاف، بیضاوی، تفسیر ابن کثیر، الاتقان، ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن الضریس، ابن منذر، نحاس، ابوالشیخ اور ابن مردویہ_

۱۹۱

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اس قدر طویل عرصے تک ابوطالبعليه‌السلام کیلئے طلب مغفرت و رحمت کرتے رہے حالانکہ یہ عمل کافر سے محبت کا واضح ترین نمونہ ہے اور خدا نے سورہ توبہ کے نزول سے قبل ہی متعدد آیات میں کفار کی محبت سے منع کیا تھا جیساکہ اس آیت میں فرماتا ہے:( لا تجد قوماً یومنون بالله والیوم الآخر یوادون من حاد الله ورسوله ولو کانوا آبائهم اَو ابنا هم اواخوانهم اوعشیرتهم ) (۱) یعنی اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والوں کو اللہ اور اس کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں_

نیز فرمایا ہے:( یایها الذین آمنوا لا تتخذوا الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ) (۲) یعنی اے مومنوا مومنین کے بجائے کافروں کو اپنا دوست اور حامی نہ سمجھو_

یا یہ فرمایا ہے:( الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ایبتغون عندهم العزة ) (۳) یعنی جو لوگ مومنین کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں کیا وہ عزت ان کے ہاں ڈھونڈتے ہیں؟

نیز فرمایا:( لایتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین ) (۴) یعنی مومنین کو چاہیئے کہ وہ مومنوں کے بجائے کافروں کو اپنا دوست اور ہمدرد نہ بنائیں_

انکے علاوہ اور بھی آیات موجود ہیں جن کے بارے میں تحقیق کی یہاں گنجائشے نہیں_

۲)خدانے سورہ منافقین میں جو بنابر مشہور ہجرت کے چھٹے سال میں سورہ توبہ سے پہلے، نیز غزوہ بنی مصطلق سے قبل نازل ہوئی فرمایا ہے:( سواء علیهم استغفرت لهم ام لم تستغفرلهم لن یغفر الله لهم ) یعنی کہ آپ ان کیلئے خواہ طلب مغفرت کریں یا نہ کریں(ایک ہی بات ہے) خدا ان کو کبھی نہیں

___________________

۱_ سورہ مجادلہ ۲۲نیز یہ سورہ توبہ سے سات سورتوں کے فاصلے پر پہلے نازل ہوئی (جیساکہ الاتقان ج ۱ص ۱۱تفسیر ابن کثیر ج۴ص ۳۲۹فتح القدیر ج ۵ص ۱۸۶اور الغدیر ج ۸ص ۱۰میں ان سے اور تفسیر آلوسی ج ۲۸و ۳۷سے منقول ہے) ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، بیہقی، ابونعیم وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ سورہ بدر یا احد میں نازل ہوئی_

۲_ سورہ نساء آیت ۱۴۴ _ ۳_ سورہ نساء آیت ۱۳۹_ ۴_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_

۱۹۲

بخشے گا_

پس جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ علم تھا کہ خدا کافروں کو ہرگز نہ بخشے گا خواہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کیلئے استغفارکریں یا نہ کریں ، تو پھرآپ خواہ مخواہ کی زحمت کیوں کرتے؟ حالانکہ واضح سی بات ہے کہ یہ امر عقلاء کے نزدیک معقول نہیں_

۳)ہم دیکھتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے صاف صاف فرمایا:''اللهم لاتجعل لفاجر او لفاسق عندی نعمة'' (۱) یعنی اے خدا کسی فاسق یا فاجر کیلئے میرے پاس کوئی نعمت اور احسان قرار نہ دے_

نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکیم بن حزام کا تحفہ اس کے کافر ہونے کی بنا پر واپس کردیا تھا_ عبیداللہ کہتا ہے میرا خیال ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تھا: ''ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے لیکن اگر تم چاہو توقیمت کی ادائیگی کے ساتھ قبول کریں گے''_(۲)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عامر بن طفیل کا تحفہ بھی قبول نہیں فرمایا تھا کیونکہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوا تھا_اس کے علاوہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ملاعب الاسنہ ( بوڑھوں کا مذاق اڑانے والوں )کا ہدیہ بھی رد کردیا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا_(۳)

عیاض مجاشعی سے منقول ہے کہ اس نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس کوئی تحفہ بھیجا لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے لینے سے

___________________

۱_ رجوع کریں ابوطالب مومن قریش (خنیزی)

۲_ مستدرک الحاکم ج ۳ص ۴۸۴اور تلخیص مستدرک (ذہبی) اس صفحے کے حاشیہ پر_ ان دونوں نے اس روایت کو صحیح گردانا ہے_ نیز کنز العمال ج۶ص ۵۷و ۵۹از احمد، طبرانی الحاکم اور سعید بن منصور ، حیات صحابہ ج۲ ص ۲۵۸ و ۲۵۹ ، ۲۶۰ از کنزالعمال و از مجمع الزوائد ج۸ ص ۲۷۸ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۶_ یہاں پر ملاحظہ ہو کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وقت ہجرت جناب ابوبکر سے بھی صرف قیمت دے کر اونٹ لئے تھے_

۳_ کنز العمال ج ۳ص ۱۷۰طبع اول از ابن عساکر طبع ثانی ج ۶ص ۵۷از طبرانی، المصنف (عبدالرزاق) ج ۱ص ۴۴۶و ۴۴۷ اورحاشیہ میں مغازی اور ابن عقبہ سے منقول ہے اور مجمع البیان ج۱ ص ۳۵۳_

۱۹۳

انکار کیا اور فرمایا مجھے کافروں کے عطیات سے منع کیا گیا ہے_(۱)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عمل کی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کفار کے تحائف کا قبول کرنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل میں ان کیلئے محبت واحترام کا گوشہ پیدا کرنے کا باعث نہ ہو_

۴)صحیح سند کے ساتھ حضرت علیعليه‌السلام سے مروی ہے (جیساکہ علامہ امینی نے ذکر کیا ہے )کہ انہو ں نے سنا ایک شخص اپنے والدین کیلئے طلب مغفرت کررہا ہے جبکہ وہ دونوں مشرک تھے، حضرت علیعليه‌السلام نے یہ بات پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو سنائی تو مذکورہ آیت اتری_(۲)

ایک روایت کی رو سے مسلمانوں نے کہا کیا ہم اپنے آباء کیلئے طلب مغفرت نہ کریں؟ اس کے جواب میں مذکورہ آیت نازل ہوئی_(۳)

ایک اور روایت کے مطابق جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اللہ سے اپنی والدہ کیلئے طلب مغفرت کی اجازت چاہی تو خدانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اجازت نہ دی اور یہ آیت اتری پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی قبر پر جانے کی اجازت مانگی تو اس کی اجازت مل گئی_(۴)

___________________

۱_ کنز العمال ج ۶ص ۵۷و ۵۹ابوداؤد اور ترمذی سے، احمد او ر طیالسی اور بیہقی نے اسے صحیح قرار دیا ہے_ نیز رجوع کریں کنزالعمال ج ۶ص ۵۷ و ۵۹میں عمران بن حصین سے مروی روایت کی طرف نیز المنصف (عبد الرزاق) ج ۱۰ص ۴۴۷اور اس کے حاشیے میں ج ۲ص ۳۸۹اس نے ابوداؤد احمد اور ترمذی سے روایت کی ہے او ر ملاحظہ ہو الوسائل ج۱۲ ص ۲۱۶ از کافی اور المعجم الصغیر ج۱ ص ۹_

۲_ الغدیر ج ۸ص ۱۲نیز دیگر مآخذ از طیالسی، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوشیخ، ابن مردویہ، حاکم (جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے)، بیہقی (در شعب الایمان)، ضیاء (المختارة میں)، الاتقان، اسباب النزول، تفسیر ابن کثیر، کشاف، اعیان الشیعة، اسنی المطالب ص ۱۸ (دحلان)، ابوطالب مومن قریش، شیخ الابطح اور مسند احمد ج ۱ص ۱۳۰_۱۳۱_

۳_ مجمع البیان ج ۵ ص ۷۶ از حسن، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹۳، ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۸ از مجمع البیان اور تفسیرابن کثیر سے اور الاعیان ج ۳۹ ص ۱۵۸ و ۱۵۹میں ابن عباس اور حسن سے، کشاف، ج ۲ ص ۲۴۶_

۴_ تفسیر طبری ج ۱۱ص ۳۱و الدر المنثور ج ۳ ص ۲۸۳ و ارشاد الساری ج ۷ ص ۲۸۲ اور ۱۵۸ از صحیح مسلم، تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۹۴، مسند احمد، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، حاکم، بیہقی، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، کشاف ج ۲ ص ۴۹ اور ابوطالب مومن قریش ص ۳۴۹ _

۱۹۴

یہاں اگرچہ ہمارا عقیدہ تو یہ ہے کہ اس آخری روایت کا صحیح ہونا بہت بعید ہے کیونکہ ہمارے عقیدے کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی والدہ مومنہ تھیں جیساکہ ہم حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آباء کے ایمان کے بارے میں ذکر کرچکے ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہ روایت گزشتہ روایات کے منافی ہے_ شاید راویوں نے اپنی صوابدید کے مطابق عمداً یا سہواً اس آیت کو حضرت آمنہ پر منطبق کیا ہے لیکن صحیح روایت امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام سے مروی مذکورہ بالا روایت ہی ہے وگرنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اپنی والدہ کیلئے استغفار کرنا بھول جاتے؟ یہ ان باتوں کے علاوہ ہے جن کا ذکر گزرچکا ہے_

۵)(انک لا تہدی من اجبت) والی آیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ احد کے دن اتری جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا دندان مبارک شہید ہوا اور چہرہ مبارک پر زخم آیا_ اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تھا خدایا میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نادان ہیں پس خدانے یہ آیت نازل کی (انک لا تہدی من احببت ...)(۱)

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خواہش تھی کہ وہ مسلمان ہوجائے کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ اجماعی ہے_(۲)

۶)جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ چاہتے تھے کہ حضرت ابوطالب ایمان لے آئیں تو یقیناً یہی بات خدا بھی چاہتا تھا کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی ایسے امر کو پسند نہیں فرماتے جو خدا کو ناپسند ہو_ رہا ان لوگوں کا یہ کہنا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک وحشی کا قبول اسلام پسند نہ تھا لیکن وہ ایمان لے آیا تو یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ امر خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے درمیان اختلاف اور تضاد کی علامت ہے یعنی یہ کہ ان دونوں میں توافق نہ ہو_ لیکن اگر توافق موجود ہو تو پھر یہ کیسے

___________________

۱_ ابوطالب مومن قریش ۳۶۸ از اعیان الشیعة ج ۳۹ ص ۲۵۹، الحجة ص ۳۹ اس روایت کے بعض مآخذ کا ذکر جنگ احد کے بیان میں ہوگا نیز ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۱۹۸ از استیعاب_

۲_ ابوطالب مؤمن قریش ص ۳۶۹از شیخ الابطح ص ۶۹_

۱۹۵

ممکن ہے کہ اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ایک شخص کے ایمان کو ناپسند کریں؟(۱)

۷) '' انک لا تھدی من احبیت ...'' والی آیت جناب ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان سے مانع نہیں ہے کیونکہ جس طرح روایات دلالت کرتی ہیں خدا نے جناب ابوطالبعليه‌السلام کا مؤمن ہوناپسند کیا ہے اور یہ آیت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کویہ بتانا چاہتی ہے کہ صرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت ہی کسی شخص کے ہدایت یافتہ ہونے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ خدا کی مرضی بھی ساتھ ہونی چاہیئے_

آخر میں یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ گذشتہ معروضات کی رو سے جناب عبدالمطلب نہ کافر تھے نہ مشرک بلکہ وہ مؤمن اور دین حنیف کے پیروکار تھے بلکہ مسعودی نے تو اپنی ایک کتاب میں صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اسلام پر مرے_(۲) پس حضرت ابوطالب کا یہ کہنا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ان کے کفر پر دلالت نہیں کرتا_ اگر بالفرض انہوں نے ایسا کہا بھی ہو تو پھر اس کی وجہ لازماً یہی ہوسکتی ہے کہ وہ قریش کو اس وقت کی بعض مصلحتوں کی بناپر بے خبر رکھنا چاہتے تھے_

باقیماندہ دلائل

یہ تھے ابوطالبعليه‌السلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھنے والوں کے اہم دلائل لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ دلائل صحیح اور عالمانہ تحقیق کے آگے نہیں ٹھہرسکتے _ان دلائل کے علاوہ بعض روایات باقی ہیں جن سے ممکن ہے کہ مذکورہ مطلب (کفر ابوطالب) پر استدلال کیا جائے حالانکہ ان روایات میں کوئی ایسا نکتہ نہیں جو اس بات کو ثابت کرسکے_ ہم نہایت اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق:

___________________

۱_ رجوع کریں حاشیہ کتاب انساب الاشراف جلد ۲ کے صفحہ ۲۸پر_

۲_ الروض الانف ج ۲ص ۱۷۰_۱۷۱_

۱۹۶

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے وسوسے سے رہائی کے بارے میں ابوبکر سے فرمایا ہے کہ تمہیں چاہ یے کہ وسوسے سے نجات کیلئے وہ جملہ پڑھو جس کے پڑھنے کا میں نے اپنے چچا کو حکم دیا تو انہوں نے نہیں پڑھا یعنی: لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ کی شہادت(۱) _ عمر سے مروی ہے کہ وہ کلمہ تقوی جس کی تاکید رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب کو ان کی موت کے وقت کی کلمہ شہادت ہے(۲)

لیکن واضح رہے کہ بعض لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اس بارے میں سوال کرتے تھے ا ور اسے اپنی زبان پر جاری بھی کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وسوسے کا شکار تھے_ مگر یہ کہ اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد شہادتین کا تکرار اور کثرت تلفظ لیا جائے_ جیساکہ یہ روایت ایک معتبر سندکے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں آیا ہے کہ سعد اور عثمان کے درمیان اختلاف ہوا_ حضرت عمرنے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا اور کہا کہ حضرت یونسعليه‌السلام کی دعا یہ تھی (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین) لیکن اس نے ابوطالبعليه‌السلام کا ذکر نہیں کیا_(۳)

۲)جب ابوقحافہ نے مسلمان ہونے کیلئے بیعت کا ہاتھ بڑھایا تو حضرت ابوبکر روئے، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے پوچھا :''کیوں روتے ہو؟'' بولے:'' اس خیال سے روتا ہوں کہ کاش اس کے بدلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا کا ہاتھ ہوتا جو بیعت کر کے مسلمان ہوتا اور یوں اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی''_(۴) لیکن یہی روایت قبل ازیں مختلف مآخذ سے ایک اور انداز سے بیان ہوچکی ہے جس سے ابوطالبعليه‌السلام کے

___________________

۱_ حیاة الصحابة ج ۲ ص ۵۴۰ و ۵۴۱ و کنز العمال ج ۱ ص ۲۵۹_۲۶۱ از ابی یعلی و البوصیری (زواید میں) اور طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۳۱۲ سے _

۲_ مجمع الزواید ج ۱ ص ۱۵ و کنز العمال ج ۱ ص ۲۶۲ و ۶۳ از ابی یعلی و ابن خزیمہ و ابن حبان و بیہقی وغیرہ جن کی تعداد زیادہ ہے_

۳_ مجمع الزوائد ج ۷ ص ۶۸ از احمد (اس سند کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں سوائے ابراہیم بن محمد بن سعد کے جو ثقہ ہے) اور حیاة الصحابة میں احمد، ترمذی اور الکنز ج ۱ ص ۲۹۸ میں ابی یعلی اور طبرانی سے_ طبرانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے_

۴_ الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور الحاکم (جس نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، بخاری و مسلم کے معیار کے مطابق) از عمر بن شبہ، ابویعلی، ابوبشر سمویہ (در فوائد) و نصب الرایة ج ۶ ص ۲۸۱ و ۲۸۲ (بعض مآخذ سے جن کا ذکر حاشیہ میں ہوا ہے) المصنف ج ۶ ص ۳۹ اور اس کے حاشیہ میں نقل ہوا ہے از ابن ابی شیبہ ج ۴ ص ۱۴۲ اور ۹۵، ابوداؤد ص ۴۵۸ اور مسند احمد ج ۱ ص ۱۳۱ _

۱۹۷

ایمان کی تائید ہوتی ہے_ لہذا اس کا اعادہ نہیں کرتے_ بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ جب ابوقحافہ مسلمان ہوا تو حضرت ابوبکر کو اس کے قبول اسلام کا پتہ ہی نہ چلا یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو خوشخبری دی_(۱)

بنابر این حضرت ابوبکر نے مذکورہ بات اس وقت جب ان کے باپ نے بیعت کیلئے ہاتھ بڑھایاکیسے کہی؟

۳)ایک روایت میں مذکور ہے جب حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی وفات ہوئی تو حضرت علیعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بوڑھا اور گمراہ چچا چل بسا_

ایک اور روایت کے مطابق حضرت علیعليه‌السلام نے ابوطالبعليه‌السلام کے غسل و کفن کے بارے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آپ کو حکم دیا یہ کام کسی اور کے ذمے ڈال دیں_(۲)

جبکہ امام احمد نے بھی اپنی مسند میں اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن اس میں لکھا ہے آپ کا بوڑھا چچا وفات پاچکا ہے اس میں گمراہ کا لفظ نہیں آیا_(۳) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے (نعوذ باللہ) ایک مشرک کو غسل دینے کا حکم کیسے دیا ؟ اوریہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عقیل اور طالب کو جو مشرک تھے غسل دینے کا حکم دینے کی بجائے علیعليه‌السلام کو کیوں حکم دیا؟ پھر یہ بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غمگین ہونے، ابوطالبعليه‌السلام کیلئے طلب مغفرت و رحمت کرنے، ان کے جنازے کو کندھا دینے اور جنازے کے ساتھ چلنے سے کیسے ہماہنگ ہوسکتی ہے؟ جبکہ یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مشرک کے جنازے کے ساتھ چلنے کو جائز نہیں سمجھتے؟(۴)

___________________

۱_ المحاسن والمساوی جلد ۱ صفحہ ۵۷_

۲_ المصنف ج ۶ص ۳۹ نیز ملاحظہ ہو: کنز العمال ج۱۷ ص ۳۲ و ۳۳ ، نصب الرایہ ج۲ ص ۲۸۱ و ۲۸۲ اور اسی کے حاشیہ میں مختلف منابع سے مذکور احادیث_

۳_ مسند الامام احمد ج۱ ص ۱۲۹ اور ۳۵ ۱و انساب الاشراف بہ تحقیق المحمودی ج ۲ ص ۲۴ اس میں مذکور ہے کہ آپ نے انکو بذات خود حکم دیا تو انہوں نے انہیں دفن کردیا_

۴_ اس بحث کی ابتدا میں بعض مآخذ کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ مشرک کے جنازے میں شرکت جائز نہیں ہے_ رجوع کریں سنن بیہقی وغیرہ جیسی کتب احادیث کی طرف_

۱۹۸

اس کے علاوہ کیا یہ درست ہوسکتاہے کہ حضرت علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حکم ماننے سے انکار کیا ہو یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان سے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ کام کسی اور کے ذمے لگادو؟ کیا حضرت علیعليه‌السلام اس قسم کی باغیانہ ذہنیت رکھتے تھے؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا_

اس کے علاوہ یہ لوگ متعدد مآخذ سے منقول اس حقیقت کے بارے میں کیا جواب دیں گے جن کے مطابق حضرت علیعليه‌السلام نے خود بہ نفس نفیس ابوطالبعليه‌السلام کو غسل دیا، دفن کیا اور ان کو غسل دینے کے بعد غسل مس میت کیا جو کسی بھی مسلمان میت کو چھونے پر واجب ہوتا ہے؟(۱)

پس جب یہ واضح ہوگیا کہ ابوطالب سچے مسلمان تھے تو پھر مدینی جیسے افراد کی یا وہ گوئی پرجو نہ عقل کے مطابق ہے نہ شرع کے، کان دھرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ لوگ چاپلوسی اور نیکی کے دکھا وے کے ذریعے کوئی نتیجہ حاصل نہیں کرسکتے جیسا کہ مدینی کہتا ہے کہ میری آرزو تھی کہ ابوطالبعليه‌السلام مسلمان ہوتے یوں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو خوشی حاصل ہوتی اگرچہ اس کے بدلے مجھے کافر ہونا پڑتا_(۲)

ابوطالبعليه‌السلام نے اپنا ایمان کیوں چھپایا؟

اگر ہم دعوت اسلامی کے تدریجی سفر اورابوطالبعليه‌السلام کے طرز عمل کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ پہلے پہل ہوبہو مومن آل فرعون کی طرح اپنا ایمان چھپاتے تھے_ ان کی روش یہ رہی کہ کبھی اس کو ظاہر کرتے اور کبھی مخفی رکھتے یہاں تک کہ بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور ہوئے اس کے بعد انہوں نے اسے زیادہ ظاہر کرنا شروع کیا_

امام صادقعليه‌السلام سے منقول ہے کہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے جنہوں نے اپنا ایمان چھپایا اور شرک کا دکھاوا کیا پس خدانے ان کو دگنا اجر عنایت کیا_(۳)

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ۳۰ ۲_ عیون الاخبار ج ۱ص ۲۶۳ (ابن قتیبہ) _

۳_ امالی صدوق ص ۵۵۱، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۰، اصول کافی ج ۱ ص ۳۷۳، روضة الواعظین ص ۱۳۹، بحار الانوار ج ۳۵ ص ۱۱۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۸۵_۳۹۰ از مآخذ مذکور، الحجة (ابن معد) ص ۱۷اور ۱۱۵، تفسیر ابی الفتوح ج ۴ ص ۲۱۲، الدرجات الرفیعة اور ضیاء العالمین_

۱۹۹

شعبی نے ذکر سندکے بغیر امیرالمؤمنین حضرت علیعليه‌السلام سے نقل کیا ہے کہ واللہ ابوطالب بن عبدالمطلب بن عبد مناف مسلمان اور مومن تھے اور اس خوف سے اپنا ایمان چھپاتے تھے کہ قریش بنی ہاشم کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں_ ابن عباس سے بھی اسی طرح کی بات مروی ہے_(۱) اسکی تائید میں اور بھی متعدد احادیث موجود ہیںجنکے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں_(۲)

لیکن ایک اور روایت کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو شاید حقیقت سے قریب تر ہو_ اسے شریف نسابہ علوی (معروف بہ موضح) نے اپنی اسناد کے ساتھ یوں بیان کیا ہے جب ابوطالبعليه‌السلام کی وفات ہوئی تو اس وقت مردوں پر نماز نہیں پڑھی جاتی تھی پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی اور حضرت خدیجہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی _بس اتنا ہوا کہ حضرت ابوطالب کا جنازہ گزرا جبکہ حضرت علیعليه‌السلام ، جعفرعليه‌السلام اور حمزہعليه‌السلام بیٹھے ہوئے تھے_(۳) تب وہ کھڑے ہوگئے اور جنازے کی مشایعت کی پھر ان کیلئے مغفرت کی دعا کی_

پس بعض لوگوں نے کہا ہم اپنے مشرک مردوں اور رشتہ داروں کیلئے دعا کرتے ہیں_ (لوگوں نے یہ خیال کیا کہ حضرت ابوطالب کی حالت شرک میں وفات ہوئی اسلئے کہ وہ ایمان کو چھپاتے تھے) چنانچہ خدا نے اس آیت میں حضرت ابوطالب کو شرک سے منزہ ،نیز اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مذکورہ تین ہستیوں کو خطاسے بری قرار دیا ہے( ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین و لوکانوا اولی قربی ) یعنی نبی اور مومنین کیلئے روانہیں کہ وہ مشرکین کیلئے طلب مغفرت کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہوں_

پس جو بھی حضرت ابوطالب کو نعوذ باللہ کافر سمجھے تو گویا اس نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خطا کار ٹھہرایا حالانکہ خدانے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اقوال و افعال کو خطاسے منزہ قرار دیا ہے_(۴)

___________________

۱_ امالی صدوق ص ۵۵۰، الغدیر ج ۸ ص ۳۸۸ از کتاب الحجة ص ۲۴، ۹۴، ۱۱۵ _

۲_ رجوع کریں الغدیر ج ۷ ص ۳۸۸_۳۹۰ از الفصول و المختارة ص ۸۰، اکمال الدین ص ۱۰۳ اور کتاب الحجة (ابن معد) از ابوالفرج اصفہانی_

۳_ حضرت جعفر حبشہ گئے ہوئے تھے پس یا تو وہ مختصر مدت کیلئے وہاں سے لوٹنے کے بعد پھر واپس ہوئے تھے یا راوی نے اپنی طرف سے عمداً یا سہواً ایسی بات لکھ دی ہے_

۴_ الغدیر ج ۷ص ۳۹۹ از کتاب الحجة (ابن معد) ص ۱۶۸_

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

ایک اور روایت میں ہے کہ یہ آیت مقداد اور زبیر کے بارے میں اتری تھی_ جب وہ خبیب کی لاش سولی سے اتارنے مکہ گئے تھے_(۳)

۵) آیت میں اس شخص کی تعریف ہوئی ہے جو اپنی جان کو راہ خدا میں فدا کرے نہ اس شخص کی جو اپنا مال قربان کرے جبکہ صہیب والی روایت مؤخر الذکر سے متعلق ہے نہ کہ اول الذکر کے متعلق_

۶)جیساکہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں فقط صہیب نے ہی راہ خدا میں اپنا مال نہیں دیا تھا لہذا یہ اعزاز فقط ان کے ساتھ کیسے مختص ہوسکتا ہے_

۷) یہی لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ہجرت کے بعد حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ کوئی مہاجر مکے میں نہ رہا مگر وہ جو کسی کی قید میں یا کسی مشکل میں مبتلا تھے_(۴)

۸) وہ روایت جو کہتی ہے کہ صہیب بوڑھے تھے اور مشرکین کیلئے بے ضرر تھے خواہ ان کے ساتھ ہوں یا دوسروں کے ساتھ، وہ صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ صہیب کی وفات سنہ ۳۸ یا ۳۹ ہجری میں ستر سال کی عمر میں ہوئی_(۱) بنابریں ہجرت کے وقت ان کی عمر ۳۱ یا ۳۲ سال بنتی ہے_ اس لحاظ سے وہ اپنی جوانی کے عروج پر تھے اورانکی عمر وہ نہ تھی جو مذکورہ جعلی روایت بتاتی ہے_

یہ ساری باتیں ان تضادات کے علاوہ ہیں جو صہیب سے مربوط روایات کے درمیان موجود ہیں_علاوہ ازیں ان روایات میں سے بعض میں صہیب کے حق میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہوا _نیز یہ روایات یا تو خود صہیب سے ہی مروی ہیں یا ایسے تابعی سے جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا زمانہ نہیں دیکھا مثال کے طور پر عکرمہ، ابن مسیب اور ابن جریح_ ہاں فقط ایک روایت ابن عباس سے مروی ہے جو ہجرت سے صرف تین سال پہلے پیدا ہوئے تھے_

___________________

۱_ سیرہ حلبی ج ۳ ص ۱۶۸ _

۲_ سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۱۲۳ اور سیرہ مغلطای ج ۳۱ _

۳_ الاصابة ج ۲ ص ۱۹۶ _

۳۲۱

یاد رہے کہ صہیب کا تعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد حکمراں طبقے کے حامیوں اور امیرالمؤمنینعليه‌السلام علیہ السلام کی بیعت سے انکار کرنے والوں میں سے تھا_ وہ اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (علیھم السلام) سے عداوت رکھتا تھا_(۱) شاید صہیب کی ہجرت کے ذکر سے ان کا مقصد یہ ہو کہ جو فضیلت صرف حضرت علیعليه‌السلام کے ساتھ خاص ہے اور ان کے لئے ہی ثابت ہے اسے صہیب کے لئے بھی ثابت کریں یوں وہ ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے شیطانوں نے انہیں یہ مکھن لگا یا کہ علیعليه‌السلام تو خسارے میں رہے جبکہ آپعليه‌السلام کے دشمن فائدے میں رہے_

ہ:رہا ابن تیمیہ کا یہ کہنا کہ سورہ بقرہ مدنی ہے_ اگر وہ آیت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہوتی تو اس سورہ کو مکی ہونا چاہیئے تھا_ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مذکورہ آیت شب ہجرت ہی اتری تھی (جب حضرت علیعليه‌السلام بستر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سوئے تھے) تو ظاہر ہے کہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غار میں تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی نہ تھا_ بنابر ایں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مدینہ پہنچ کر وہاں ساکن ہونے سے پہلے نزول آیت کے اعلان کا موقع ہی نہ مل سکا_ اس کے بعد مناسب موقعے پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے چچازاد بھائی اور وصی کی اس عظیم فضیلت کے اظہار کی فرصت ملی_ اس لحاظ سے اگر اس آیت کو مدنی اور سورہ بقرہ کا جز سمجھ لیا جائے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ جبکہ سورہ بقرہ ،جیساکہ سب جانتے ہیں ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوا تھا_اس کے علاوہ اگر کسی مکی آیت کو کسی مدنی سورہ کا حصہ بنا دیا جائے تو اس میں کوئی حرج ہے کیا؟

ادھر حلبی کا یہ بیان کہ یہ آیت دوبار نازل ہوئی، ایک بے دلیل بات ہے بلکہ مذکورہ دلائل اس بات کی نفی کرتے ہیں_

ابوبکر کو صدیق کا لقب کیسے ملا؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خدائے تعالی نے واقعہ غار میں حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دیا جیساکہ

___________________

۱_ رجوع کریں قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۳۵_۱۳۷ (حالات صہیب) _

۳۲۲

''شواھد النبوة'' نامی کتاب میں یوں منقول ہے: ''جب اللہ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہجرت کی اجازت دی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیلعليه‌السلام سے پوچھا میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ حضرت جبرئیلعليه‌السلام نے کہا ابوبکر صدیق''_(۱)

لیکن ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ:

الف: حضرت ابوبکر کو صدیق کا لقب دینے کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے_ اس کے سبب اور وقت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں_

کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ واقعہ غار ثور میں ہوا (جیساکہ یہاں ذکر ہوا) اور کوئی کہتا ہے کہ جب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے معراج کے سفر سے واپس آکر لوگوں کو بیت المقدس کے بارے میں بتایا اور حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب ملا_(۲)

تیسرے قول کے مطابق بعثت نبوی کے دوران جب حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تو یہ لقب حاصل ہوا_(۳)

چو تھا قول یہ ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آسمانوں کی سیر فرمائی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہاں بعض جگہوں پر حضرت ابوبکر کا لقب ''صدیق'' لکھا ہوا دیکھا(۴) پھر نہیں معلوم کون سی بات صحیح ہے_

ب: ہمارے ہاں متعدد روایات موجود ہیں جو سند کے لحاظ سے صحیح ''یا حسن'' ہیں_ ان کا ذکر دسیوں مآخذ میں موجود ہے_ یہ روایات صریحاً کہتی ہیں کہ ''صدیق'' سے مراد امیر المؤمنین علیعليه‌السلام ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر_ ان میں سے چند ایک کاہم یہاں ذکر کرتے ہیں_

۱) امام علیعليه‌السلام سے سند صحیح (امام بخاری ومسلم کے معیار کے مطابق) کے ساتھ مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ''میں خدا کا بندہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھائی ہوں، میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میرے بعد اس بات کا دعوی کوئی

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۳، شواہد النبوة سے اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ _

۲،۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۹ اور ج ۱ ص ۲۷۳ وغیرہ واقعہ معراج میں اس کا ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے بعض مآخذ کا بھی_

۴ _ کشف الاستار ج۳ ص ۱۶۳، مسند احمد ج ۴ ص ۳۴۳، مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۱ ، تہذیب التہذیب ج۵ ص ۳۸ اور الغدیر ج۵ ص ۳۲۶ ، ۳۰۳ از تاریخ الخطیب_

۳۲۳

نہ کرے گا مگر وہ جو سخت جھوٹا اور افترا پرداز ہوگا میں نے دیگر لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھی ہے''_(۱)

بظاہر حضرت علیعليه‌السلام کی مراد یہ ہے کہ آپعليه‌السلام سن رشد کو پہنچنے کے بعد اور بعثت سے قبل کے زمانے سے اسلام کے عام ہونے اور'' فاصدع بما تؤمر '' والی آیت کے نزول تک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ دین حنیف کے مطابق عبادت کرتے تھے_ یوں ابن کثیر کایہ کہنا کہ'' یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام لوگوں سے سات سال قبل نماز پڑھتے؟ لہذا یہ بات بالکل نامعقول ہے''(۲) باطل ہوجاتا ہے_

۲) قرشی نے شمس الاخبار میں ایک لمبی روایت نقل کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے شب معراج حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق اکبر کا لقب دیا_(۳)

۳) ابن عباس سے منقول ہے کہ صدیق تین ہیں حزقیل مومن آل فرعون، حبیب نجار صاحب آل یاسین، اور علی ابن ابیطالب علیہ السلام_ ان میں سے تیسرا سب سے افضل ہے_

اسی مضمون سے قریب قریب وہ روایت ہے جو سند حسن کے ساتھ ابولیلی غفاری سے منقول ہے جیساکہ

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۱۱۲ و تلخیص مستدرک (ذہبی) اسی صفحے کے حاشیے میں نیز الاوائل ج ۱ ص ۱۹۵، فرائد السمطین ج ۱ ص ۲۴۸ و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور ج ۱ ص ۳۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶، الخصائص (نسائی) ص ۴۶ (ثقہ راویوں سے) سنن ابن ماجہ ج ۱ ص ۴۴ (صحیح سند کے ساتھ) تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۶، الکامل (ابن اثیر) ج ۲ ص ۵۷، ذخائر العقبی ص ۶۰ از خلفی و الارحاد و المثانی (خطی نسخہ نمبر ۲۳۵ کوپرلی لائبریری) و معرفة الصحابة (مصنفہ ابونعیم خطی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای) ج ۱ تذکرة الخواص ص ۱۰۸ (ازاحمد در مسندالفضائل) حاشیہ زندگی نامہ امام علیعليه‌السلام (تاریخ ابن عساکر بہ تحقیق محمودی) ج ۱ص ۴۴_۴۵ نقل از کتاب المصنف ابن ابی شیبہ ج ۶ ورق نمبر ۱۵۵الف کنزالعمال ج ۱۵ ص ۱۰۷ (طبع دوم) از ابن ابی شیبہ و نسائی و ابن ابی عاصم (السنة میں) و عقیلی و حاکم و ابونعیم نیز عقیلی کی کتاب الضعفاء ج ۶ صفحہ نمبر ۱۳۹ سے علاوہ ازیں معرفة الصحابة (ابونعیم) ج ۱ ورق نمبر ۲۲ الف و تہذیب الکمال (مزی) ج ۱۴ ورق نمبر ۱۹۳ ب اور از تفسیر طبری، مسند احمد (الفضائل میں حدیث نمبر ۱۱۷ ) سے وہ احقاق الحق ج ۴ ص ۳۶۹ اسی طرح میزان الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۷ ج ۲ ص ۱۱ اور ۲۱۲ سے، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ میں مذکورہ مآخذ میں سے کئی ایک نیز ریاض النضرة ص ۱۵۵_۱۵۸ اور ۱۲۷ سے منقول ہے نیز مراجعہ ہو اللآلی المصنوعة ج۱ ص ۳۲۱_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۲۶ _

۳_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳_۳۱۴_

۳۲۴

سیوطی نے بھی اس کی تصریح کی ہے_(۱) اسی طرح حسن بن عبد الرحمان بن ابولیلی سے بھی منقول ہے_(۲)

بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا صدیقین کو فقط تین افراد میں منحصر کرنا اس بات کے منافی ہے کہ حضرت ابوبکر کو بھی صدیق کانام دیا جائے_ اس طرح سے تو تین کی بجائے چار ہوجائیں گے یوں حصر غلط ٹھہرے گا_

۴) معاذہ کہتی ہیں ''میں نے علیعليه‌السلام سے (بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے )سنا کہ انہوں نے فرمایا:''میں ہی صدیق اکبر ہوں_ میں ابوبکر کے مسلمان ہونے سے پہلے مومن تھا اور ابوبکر کے قبول اسلام سے پہلے اسلام لا چکا تھا''(۳) بظاہر لگتا یہی ہے کہ آپعليه‌السلام حضرت ابوبکر کے لوگوں کے درمیان معروف ہونے والے

___________________

۱_ جامع الصغیر ج ۲ ص ۵۰ از کتاب معرفة الصحابة (ابونعیم) ابن نجار، ابن عساکر و صواعق محرقہ (مطبوعہ محمدیہ) ص ۱۲۳ اور تاریخ بغداد ج ۱۴ ص ۱۵۵، شواہدالتنزیل ج ۲ ص ۲۲۴ و ذخائرالعقبی ص ۵۶ و فیض القدیر ج ۴ ص ۱۳۷، تاریخ ابن عساکر حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۲۸۲ اور ج ۱ ص ۸۰، کفایہ الطالب ص ۱۲۳_۱۸۷ اور ۱۲۴، الدرالمنثور ج ۵ ص ۲۶۲ از تاریخ بخاری، ابوداؤد، ابونعیم، دیلمی، ابن عساکر اور رازی (سورہ مومن کی تفسیر میں)، منافب خوارزمی ص ۲۱۹ و مناقب امام علی (ابن مغازلی) ص ۲۴۶_۲۴۷ و معرفة الصحابة (ابونعیم) قلمی نسخہ نمبر ۴۹۷ کتابخانہ طوپ قپوسرای، نیز کفایة الطالب کے حاشیہ میں کنز العمال (ج۶ ص ۱۵۲) سے بواسطہ طبرانی، ابن مردویہ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۲ و گذشتہ مآخذ میں سے چند ایک کا محمودی نے تاریخ ابن عساکر میں امام علیعليه‌السلام کے حالات زندگی کے حاشیے میں ذکر کیا ہے، رجوع کریں ج ۱ ص ۷۹_۸۰، مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے منقول ہے نیز از سیف الیمانی المسلول ص ۴۹ و الفتح الکبیرج ص ۲۰۲ و غایة المرام ص ۴۱۷ _۶۴۷و مناقب علی امام احمد کی کتاب الفضائل میں حدیث نمبر ۱۹۴_۲۳۹ نیز مشیخ-ة البغدادیة (سلفی) ورق نمبر ۹ ب اور ۱۰ ب و الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ مذکورہ مآخذ سے نیز حاشیہ شواہد التنزیل از الروض النضیر ج ۵ ص ۳۶۸ سے منقول ہے_

۲_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۲۱۹ _

۳_ ذخائر العقبی ص ۵۶ از ابن قتیبہ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، انساب الاشراف (محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) ج ۲ ص ۱۴۶ و الآحاد المثانی (قلمی نسخہ نمبر ۲۳۵ کتابخانہ کوپرلی) البدایة و النہایة ج ۷ ص ۳۳۴، المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۳_۷۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۴ جو گزشتہ مآخذ میں سے بعض نیز ابن ایوب اور عقیلی سے بواسطہ کنز العمال ج ۶ ص ۴۰۵ چاپ اوّل مروی ہے_ نیز رجوع کریں الغدیر ج ۳ ص ۱۲۲ از استیعاب ج ۲ ص ۴۶۰ و از مطالب السئول _ ص ۱۹ (جس میں کہا گیا ہے کہ آپ اکثر اوقات اس بات کا تکرار فرماتے تھے)، نیز الطبری ج ۲ ص ۳۱۲ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ اور ۱۵۷ اور عقد الفرید ج ۲ ص ۲۷۵ سے_ ابن عباس اور ابویعلی غفاری والی بات کے بارے میں رجوع کریں_ الاصابة ج ۴ ص ۱۷۱ اور اس کے حاشیے الاستیعاب ج ۴ ص ۷۰ ۱ اور میزان الاعتدال ج ۲ ص ۳ اور ۴۱۷ کی طرف_

۳۲۵

لقب کی نفی کرنا چاہتے ہیں_

۵) حضرت ابوذر اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ان دونوں نے کہا :''ہم نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو علیعليه‌السلام سے یہ فرماتے سنا کہ انت الصدیق الاکبر وانت الفاروق الذی یفرق بین الحق والباطل یعنی تمہی صدیق اکبر ہو اور تمہی حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرنے والے فاروق ہو''_(۱) اسی روایت سے تقریبا مشابہ روایت ابولیلی غفاری سے مروی ہے_

۶) حضرت ابوذراور حضرت سلمان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کا ہاتھ پکڑکرفرمایا:'' یہ سب سے پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لے آیا_ یہی شخص سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا_ صدیق اکبر یہی ہے اوریہی اس امت کا فاروق ہے جو حق وباطل کے درمیان فرق کو واضح کرے گا''_(۲)

۷) ام الخیر بنت حریش نے صفین میں ایک طویل خطبے میں امیرالمومنینعليه‌السلام کو ''صدیق اکبر'' کے نام سے یاد کیا ہے_(۳)

۸) محب الدین طبری کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت علیعليه‌السلام کو صدیق کانام دیا_(۴)

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۳ ص ۲۲۸، فرائد السمطین ج ۱ ص ۱۴۰ نیز تاریخ ابن عساکر (حالات زندگی امام علیعليه‌السلام باتحقیق محمودی) ج ۱ ص ۷۶_۷۸ (کئی ایک سندوں کے ذریعہ سے) اس کے حاشیے جاحظ کی کتاب عثمانیہ کے جواب میں (جو اس کے ساتھ مصر میں چھپی ہے) اسکافی سے ص ۳۹۰ پر منقول ہے_ نیز رجوع کریں اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۳۲۴ وملحقات احقاق الحق ج ۴ ص ۲۹_۳۱ اور ۳۴، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ از ریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ از حاکمی و از شمس الاخیار (قرشی) ص ۳۰ و از المواقف ج ۳ ص ۲۷۶ و از نزھة المجالس ج ۲ ص ۲۰۵ و از حموینی

۲_ مجمع الزوائد ج ۹ ص ۱۰۲ از طبرانی اور بزار، الغدیر ج ۲ ص ۳۱۳ و ج۱۰ ص۴۹ از بزار اور کفایة الطالب ص ۱۸۷ بواسطہ ابن عساکر، شرح نہج البلاغة( معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۲۸ اور اکمال کنز العمال ج ۶ ص ۱۵۶ بیہقی، ابن عدی، حذیفہ، ابوذر اور سلمان سے منقول نیز الاستیعاب ج۲ ص ۶۵۷ والاصابہ ج۴ ص ۱۷۱ سے بھی منقول ہے _

۳_ العقد الفرید مطبوعہ دار الکتاب ج ۲ ص ۱۱۷، بلاغات النساء ص ۳۸، الغدیر ج۲ ص۳۱۳ میں ان دونوں سے نیز صبح الاعشی ج ۱ ص ۲۵۰ اور نہایة الارب ج ۷ ص ۲۴۱ سے نقل کیا گیا ہے_

۴_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۳۲۶

۹) خجندی کا کہنا ہے کہ وہ (حضرت علیعليه‌السلام ) یعسوب الامہ اور صدیق اکبر کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے_(۱)

۱۰) ایک اور روایت میں مذکور ہے ''پس عرش کے اندر سے ایک فرشتہ انہیں جواب دیتا ہے اے انسانو یہ کوئی مقرب فرشتہ نہیں نہ کوئی پیغمبراور نہ عرش کو اٹھانے والا ہے_ یہ تو صدیق اکبر علیعليه‌السلام ابن ابیطالب ہیں ...''(۲)

۱۱) قرآن کی آیت (اولئک ہم الصدیقون) حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں نازل ہوئی_ اسی طرح (الذی جاء بالصدق وصدق بہ) والی آیت نیز( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین ) والی آیت بھی حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں اتری ہیں_(۳)

۱۲) انس کی ایک روایت میں مذکور ہے ''واما علیعليه‌السلام فہو الصدیق الاکبر''(۴)

یعنی حضرت علیعليه‌السلام ہی صدیق اکبر ہیں_

گذشتہ باتوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ''صدیق'' کا لقب امام علیعليه‌السلام ہی کے ساتھ مختص ہے کسی اور کیلئے اس کا اثبات ممکن نہیں_

علاوہ ان باتوں کے علامہ امینی نے ''الغدیر'' کی پانچویں جلد کے صفحہ نمبر ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۲۱، ۳۳۴اور ۳۵ نیز ساتویں جلد کے صفحہ نمبر ۲۴۴، ۲۴۵ اور ۲۴۶ پر ایسی روایات کا تذکرہ کیا ہے جن کی رو سے حضرت ابوبکر صدیق کہلائے گئے ہیں_ اس کے بعد جواباً حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے میں

___________________

۱_ الغدیر ج ۲ ص ۳۱۲ از الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۵۵ وغیرہ _

۲_ کنز العمال ج ۱۵ ص ۱۳۴ چاپ دوم_

۳_ بطور مثال رجوع کریں : شواھد تنزیل ج ۱ ص ۱۵۳_۱۵۴_۱۵۵ ، اور ج ۲ ص ۱۲۰ اس کے حاشیوں میں متعدد مآخذ مذکور ہیں_ نیز حالات امام علیعليه‌السلام در تاریخ دمشق بہ تحقیق محمودی ج ۲ ص ۴۱۸ اور اس کے حاشیے ملاحظہ ہوں_ نیز مناقب ابن مغازلی ص ۲۶۹، غایة المرام ص ۴۱۴، کفایة الطالب ص ۳۳۳، منہاج الکرامة (حلی)، دلائل الصدق (شیخ مظفر) ج ۲ ص ۱۱۷، درالمنثور ج ۵ ص ۳۲۸ اور دسیوں دیگر مآخذ_

۴_ مناقب خوارزمی حنفی ص ۳۲ _

۳۲۷

کسی قسم کاشک باقی نہیں رہتا کیونکہ بڑے بڑے ناقدین اور محدثین مثال کے طور پر ذہبی، خطیب، ابن حبان، سیوطی، فیروز آبادی اور عجلونی وغیرہ نے ان کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کی تصدیق کی ہے_ جو حضرات اس مسئلے سے آگاہی کے خواہشمند ہوں وہ الغدیر کی طرف رجوع کریں جس میں تحقیق کی پیاس بجھانے اورشبہات کا ازالہ کرنے کیلئے کافی مواد موجود ہے_

یہ القاب کب وضع ہوئے؟

بظاہر یہ اور دیگر القاب اسلام کے ابتدائی دور میں ہی چوری ہوئے یہاں تک کہ امیرالمومنین امام علیعليه‌السلام منبر بصرہ سے یہ اعلان کرنے اور بار بار دہرانے پر مجبورہوئے کہ آپ ہی صدیق اکبر ہیں نہ کہ ابوبکر اور جوبھی اس لقب کا دعویدار ہو وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے لیکن طویل عرصے تک امت کے اوپر حکم فرما اور ان کے افکار واہداف پر مسلط رہنے والی سیاست کے باعث یہ القاب انہی افراد کیلئے استعمال ہوتے رہے اور کوئی طاقت ایسی نہ تھی جو اس عمل سے روکتی یا کم از کم مثبت اور پرامن طریقے سے اس پر اعتراض کرتی_

دو سواریاں

کہتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے مدینہ کو ہجرت کرنا شروع کی اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر کو بتایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی خدا کی طرف سے اجازت کی امید رکھتے ہیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی جان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیلئے وقف کردی اور آٹھ سو درہم میں دو سواریاں خریدیں_ (وہ ایک مالدار شخص تھے) اور انہیں چار ماہ(۱) یا چھ ماہ(۲) تک (اختلاف اقوال کی بنا پر) پھول کے پتے یا درختوں کے جھاڑے ہوئے پتے کھلاتے رہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الوفاء الوفاء ج۱ ص ۲۳۷ ، الثقات (ابن حبان) ج۱ ص ۱۱۷ ، المصنف (عبدالرزاق) ج۵ ص ۳۸۷ اور بہت سے دیگر مآخذ _ حضرت ابوبکر کے صاحب مال ہونے کے متعلق مراجعہ ہو سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۱۲۸_

۲_ نور الابصار ص ۱۶ از الجمل ( علی الھزیمہ) و کنز العمال ج۸ ص ۳۳۴ از بغوی( سند حسن کے ساتھ عائشہ سے)_

۳۲۸

پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو یہ دونوں سواریاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پیش کیں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قیمت اداکئے بغیر ان کو لینے سے انکار کیا_ لیکن ہماری نظر میں چار ماہ یا چھ ماہ تک سواریوں کو چارہ کھلاتے رہنے والی بات صحیح نہیں ہوسکتی کیونکہ:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنی ہجرت سے فقط تین ماہ قبل اصحاب کو ہجرت کا حکم دیا تھا_ بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ تحقیق کی رو سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےہجرت سے اڑھائی مہینے قبل ایسا کیا(۱) ، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیعت عقبہ ہجرت سے دوماہ اور چند دن پہلے ہوئی تھی(۲) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو اس کے بعد ہجرت کا حکم دیا جیساکہ معلوم ہے_ بنابریں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی طرف سے اصحاب کو ہجرت کا حکم ملنے کے بعد چھ یا چار ماہ تک حضرت ابوبکر کیونکر ان سواریوں کو پالتے رہے؟

۲) ایک روایت صریحاً کہتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے تین اونٹ خریدے اور اریقط بن عبداللہ کو مزدوری دیکر ان اونٹوں کو غار سے نکلنے کی رات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں بھیجا_(۳) البتہ ممکن ہے انہوں نے یہ اونٹ حضرت ابوبکر سے خریدے ہوں اور ان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد اریقط کے ہمراہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم کے پاس بھیجے ہوں_

حقیقت حال

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے قیمت ادا کئے بغیر حضرت ابوبکر سے وہ سواریاں نہیں لیں تو انہیں اس میں خلیفہ اول کی سبکی نظر آئی_ اس کے مقابلے میں انہوں نے دیکھا کہ حضرت علیعليه‌السلام نے اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے اس کے بدلے حضرت ابوبکر کیلئے یہ فضیلت تراشی کہ وہ اس قدر طویل عرصے تک ان سواریوں کو چارہ کھلاتے رہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ ص ۱۸۳اور ۱۷۷ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۵_ ۵۵_

۲_ سیرة مغلطای ص ۳۲ وفتح الباری ج ۷ ص ۱۷۷ نیز ملاحظہ ہوالثقات لابن حبان ج ۱ ص ۱۱۳ و غیرہ _

۳_ تاریخ ابن عساکر ج ۱ ص ۱۳۸ (امام علیعليه‌السلام کے حالات میں محمودی کی تحقیقات کے ساتھ) اور در منثور نیز تیسیر المطالب ص۷۵ البتہ اس میں آیاہے کہ آپعليه‌السلام نے تین سواریاں کرایہ پر لیں_

۳۲۹

ان معروضات کی روشنی میںیہ معلوم ہوا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ان دو سواریوں کو خریدنا یا امیرالمؤمنین کا تین سواریاں خریدنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے خرچے پر سفر کیا نہ کہ اپنے خرچے پر_

خانہ ابوبکر کے دروازے سے خروج

کہتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ابوبکر کے گھرکے عقبی دروازے سے نکل کر غار کی طرف روانہ ہوگئے جیساکہ سیرت ابن ہشام وغیرہ میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے(۱) _ بخاری میں مذکور ہے کہ (آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت ابوبکر کے پاس گئے اور وہاں سے غار ثور کی طرف روانہ ہوئے)(۲) _

یہاں ہم یہ عرض کریں گے کہ:

۱_ حلبی نے اس بات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے: ''زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے گھرسے ہی (غار کی طرف) روانہ ہوئے'' _(۳)

۲_ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت ابوبکر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر آئے تو حضرت علیعليه‌السلام کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے ہوئے پایااور حضرت علیعليه‌السلام نے ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی روانگی سے مطلع کیا اور فرمایا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بئر میمون (ایک کنویں کا نام) کی طرف چلے گئے ہیں_ پس وہ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے_ بنابریں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ دونوں ابوبکر کے گھر کے عقبی دروازے سے غار کی طرف روانہ ہوئے ہوں؟ اور وہ بھی ظہر کے وقت؟

۳_ان تمام باتوں سے قطع نظر ساری روایات کہتی ہیں کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کے دروازے پر صبح تک بیٹھے رہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رات کے ابتدائی حصّے کی تاریکی میں ان کے درمیان سے نکل گئے جبکہ حضرت علیعليه‌السلام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ سوتے رہے_ یہ اس بات کے منافی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ظہر کے وقت خارج ہوئے_

۴_ یہ بات کیسے معقول ہوسکتی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوبکر کے گھر سے خارج ہوئے ہوں جبکہ یہی لوگ کہتے ہیں

___________________

۱_تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۴ ، تاریخ الامم والملوک ج۲ ۱۰۳ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۴ و البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸_

۲_ ملاحظہ ہو: تاریخ الامم والملوک ج ۲ ص ۱۵۳ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۷۸ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۰ نیز بخاری، ارشاد الساری ج۶ ص ۱۷ کے مطابق_ ۳_ سیرة حلبیة ج ۲ ص ۳۴ عن سبط ابن الجوازی_

۳۳۰

کہ کھوجی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے قدموں کے نشانات دیکھتا جارہا تھا یہاں تک کہ جب وہ ایک مقام پر پہنچا تو کہنے لگا یہاں سے ایک اور شخص بھی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مل چکا ہے بلکہ بعض حضرات نے تو صریحاً یہ کہا ہے کہ مشرکین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ابوبکر ابن قحافہ کے نشان قدم تھے_(۱) وہ یونہی چلتے گئے یہاں تک کہ غار کے دھانے پر پہنچ گئے_

ان عرائض سے معلوم ہوتا ہے کہ در منثور اور السیرة الحلبیة میں منقول یہ بات درست نہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس رات انگلیوں کے بل چلتے رہے تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدموں کے نشان ظاہر نہ ہوں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاؤں گھس گئے_ (گویا مسافت اس قدر زیادہ تھی) اور حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے کندھے پر اٹھالیا یہاں تک کہ غار کے دھانے تک پہنچ کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اتارا_ ایک اور روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اونٹ جدعاء پر سوار ہوکر حضرت ابوبکر کے گھر سے غار تک گئے_(۲)

قریش اور حضرت ابوبکر کی تلاش

کہتے ہیں کہ قریش نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (کی گرفتاری) کیلئے سو اونٹوں اور حضرت ابوبکر کیلئے بھی اس قدر اونٹوں کی شرط رکھی(۳) _ جاحظ وغیرہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے_

اسکافی معتزلی نے اس کا جواب یوں دیا ہے ''قریش حضرت ابوبکر کی گرفتاری کے واسطے مزید سو اونٹوں کا نذرانہ کیوں پیش کرتے حالانکہ انہوں نے اس کی التجائے امان کو ٹھکرایا تھا_اور وہ قریش کے درمیان بے یار ومددگار تھے_ وہ ان کے ساتھ جو چا ہتے کرسکتے تھے_ بنابریں یا تو قریش دنیاکے احمق ترین افراد تھے یا عثمانی ٹولہ روئے زمین کی تمام نسلوں سے زیادہ جھوٹا اور سب سے زیادہ سیہ رو تھا_ اس واقعے کا ذکر نہ سیرت کی کسی کتاب میں ہے نہ کسی روایت میں نہ کسی نے اسے سنا تھا اور نہ ہی جاحظ سے قبل کسی کو اس کی خبر تھی''_(۴)

___________________

۱_ بحارالانوار ۱۹ ص ۷۴ از الخرائج نیز رجوع کریں ص ۷۷ اور ۵۱ ، اعلام الوری ص ۶۳ و مناقب آل ابیطالب ج ۱ ص ۱۲۸ اور تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۷۶ کی طرف رجوع کریں _ ۲_ سیرت حلبی ج ۲ص ۳۴ _۳۸ اور تارخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۸ والدر المنثور_

۳_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۱۸۲ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۹_

۴_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج۱۳ ص ۲۶۹_

۳۳۱

یہاں ہم اس بات کا بھی اضافہ کرتے چلیں کہ جب (ان لوگوں کے بقول) حضرت ابوبکر کے قبیلے نے پہلے ان کی حمایت کی تھی تو اب ان کو بے یار و مددگار کیوں چھوڑ دیا؟ نیز جب وہ قریش کے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے (اس بات کا ذکر حبشہ کی طرف ابوبکر کی ہجرت کے حوالے سے گزر چکا ہے) تو پھر قریش والے ان کیلئے سو اونٹوں کی شرط کیوں رکھنے لگے جس طرح خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے سو اونٹوں کی شرط رکھی تھی؟ قریش نے حضرت ابوبکر کی کڑی نگرانی کیوں نہیں کی اورانکے پیچھے جاسوس کیوں نہیں چھوڑے یا جس طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر شبخون مارنے کی کوشش کی تھی ان پر بھی شبخون مارنے کیلئے افراد روانہ کیوں نہ کئے؟ اسی طرح قریش حضرت ابوبکر کے پیچھے اس قدر دولت کیونکر داؤ پر لگا رہے تھے جبکہ وہ شخص جس کے باعث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے چنگل سے نکل گئے تھے، علیعليه‌السلام تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے درمیان بے خطر رہ رہے تھے اور کسی شخص نے انہیں چھیڑا اور نہ ہی کسی قسم کی نا خوشگوار گفتگو کی_ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کا اصل مقصد حضرت ابوبکر کی منزلت کو بلند کر کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہمدوش قرار دینا ہے اور ساتھ ساتھ بستر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حضرت علیعليه‌السلام کے سونے کے سارے اثرات کو مٹانا ہے تاکہ حضرت ابوبکر کی عظمت اور منزلت کے سامنے حضرت علیعليه‌السلام کی طرف کسی کی توجہ ہی مبذول نہ ہو_

تا صبح انتظار کیوں

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ مشرکین نے شب ہجرت صبح تک انتظار کیوں کیا؟ اس کے جواب میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کا ارادہ دیوار پھلانگنے کا تھا_ لیکن گھر سے ایک عورت چیخی_ یہ سن کر ان میں سے کسی نے کہا''اگر لوگ کہیں کہ ہم نے اپنی چچا زاد بہنوں کے گھر کی دیوار پھاند لی ہے تو یہ عربوں کے درمیان شرمناک بات ہوگی_(۱)

یا شاید اس کی وجہ یہ ہو (جیساکہ کہا گیا ہے) کہ ابولہب رات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل پر راضی نہ تھا کیونکہ اس میں

___________________

۱_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۲۸، الروض الانف ج۲ ص ۲۲۹ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۱۲۷ مع حاشیہ اور ملاحظہ ہو: تاریخ الہجرة النبویہ (ببلاوی) ص ۱۱۶_

۳۳۲

عورتوں اور بچوں کو خطرہ تھا(۱) _ ممکن ہے کہ ان دونوں باتوں کے پیش نظر انہوں نے صبح تک انتظار کیا ہو_ یا اس لئے بھی کہ لوگ (دن کی روشنی میں) دیکھ لیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سارے قبائل نے ملکر قتل کیا ہے یوں یہ بات بنی ہاشم کے خلاف ایک بہانہ ہوتی اور بنی ہاشم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خون کا انتقام نہ لے سکتے(۲) _

حضرت ابوبکر کا غلاموں کو خریدنا اور ان کے عطیات

کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر روانہ ہوئے تو اپناسارا مال جو پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم پر مشتمل تھا ساتھ لے کر چلے_ ان کے والد ابوقحافہ (جن کی بینائی چلی گئی تھی) اپنے بیٹے کے اہل خانہ کے پاس آئے اور کہا خدا کی قسم میں تو یہ مشاہدہ کررہا ہوں کہ اس نے اپنے مال اور اپنی جان کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ان کی بیٹی اسماء بولی :'' نہیں بابا وہ ہمارے لئے بہت کچھ چھوڑ کرگئے ہیں'' _ (اسماء کہتی ہے) پس میں نے کچھ پتھر اٹھائے اور ان کو گھرکے ایک روشن دان میں رکھا جہاں میرا بابا اپنا مال رکھتا تھا _پھر میں نے اس پر ایک کپڑا ڈال دیا اور اس کا ہاتھ پکڑکر کہا اے بابا اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ_ وہ کہتی ہے کہ اس نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور کہا:'' کوئی بات نہیں اگر اس نے تمہارے لئے یہ چھوڑا ہے تو اچھا کیا ہے_ یہ تمہارے لئے کافی ہوگا حالانکہ واللہ اس نے ہمارے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا تھا لیکن میں چاہتی تھی کہ بوڑھے کو تسلی دوں''_(۳)

یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر بن فہیرہ کو خدا پرستی کے جرم میں ایذائیں دی جاتی تھیں_ پس حضرت ابوبکر نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر غار میں تھے تو عامر ابوبکر کی دودھ دینے والی بکریاں لیکر ان کے پاس آیا تھا وہ ان کو چراتا تھا_ اور شام کو ان کے پاس آتا تاکہ ان کیلئے دودھ دوہ لے_

___________________

۱_ بحار الانوار ج۱۹ ص ۵۰_

۲_ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۸ _ ۲۶_

۳_ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۳، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۷۹ و الاذکیاء از ابن جوزی ص ۲۱۹، حیات الصحابة ج۲ ص ۱۷۳_۱۷۴، مجمع الزوائد ج ۶ ص ۵۹ طبری اور احمد سے نقل کیا ہے_ ابن اسحاق کے علاوہ اس کے سارے راوی صحیح بخاری والے راوی ہیں اور ابن اسحاق نے بھی خود اپنے کانوں سے سننے پر تاکید کی ہے_

۳۳۳

ادھر اسماء بنت ابوبکر شام کے وقت ان کیلئے مناسب کھانا لیکر آتی تھی(۱) _

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر چالیس ہزار درہم خرچ کئے_ ایک جگہ دینار کا لفظ آیا ہے(۲) _ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے اپنی ہم نشینی اور مدد کے ذریعے میرے اوپر اتنا احسان نہیں کیا جس قدر ابوبکر نے کیا اور اتنا مجھے کسی کے مال نے فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے_یہ سن کر حضرت ابوبکر رو پڑے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں اور میرا مال کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سوا کسی اور کیلئے ہیں؟(۳)

یا یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص نے ابوبکر سے زیادہ اپنے مال یا اہل کے ذریعے مجھ پر احسان نہیں کیا اور ایک اور روایت میں مذکور ہے مجھ پر کسی نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے ابوبکر سے زیادہ احسان نہیں کیا_ اگر اللہ کے علاوہ کسی اورکو اپنا دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو دوست منتخب کرتا_ لیکن اسلام والی برادری اور محبت موجود ہے_ تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیئے گئے سوائے حضرت ابوبکر کے دروازے کے(۴) _

حدیث غار میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ہم نے ان دونوں کیلئے جلدی میں زاد راہ تیار کیا اور چمڑے کی ایک تھیلی میں ان کیلئے کھانے کا سامان رکھا_ واقدی کہتے ہیں اس دستر خوان میں ایک پکی ہوئی بکری تھی_ اسماء بنت ابوبکر نے اپنا کمربند پھاڑکر اس کے دو حصے کئے_ ایک حصے سے تھیلی کا منہ بند کیااور دوسرے حصے سے پانی کی مشک کا منہ بند کیا_ اسی وجہ سے اسے ذات النطاقین کا لقب ملا(۵) _

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۰ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ و التراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷ ، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۲_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۲۶ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۳۲ و ۴۰ والتراتیب الاداریہ ج ۲ ص ۸۷، اس کے دیگر مآخذ بعد میں ذکر ہوں گے_

۳_ ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲ و لسان المیزان ج۲ ص ۲۳ ، اس کے دیگر مآخذ کا ذکر بعد میں ہوگا_

۴_ مراجعہ ہو صحیح بخاری ( مطابق ارشاد الساری) ج۶ ص ۲۱۴، ۲۱۵ تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ، الجامع الصحیح (ترمذی )ج۵ ص ۶۰۸ ، ۶۰۹ ، نیز عامر بن فہیرہ والی حدیث سے قبل کی حدیث میں مذکور منابع_

۵_سیرت حلبیہ ج۲ ص ۳۳ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۳ و ۳۳۰_

۳۳۴

ترمذی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منقول ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی بیٹی دی، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دار ہجرت (مدینہ) پہنچایا اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہے_ ایک اور روایت میں مذکور ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ جس کسی کا ہم پر کوئی حق تھا اسے ہم نے ادا کردیا سوائے ابوبکر کے جس کا ہمارے اوپر حق ہے اور قیامت کے دن اللہ اسے اس کی جزا دے گا_(۱)

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ یہ ساری باتیں مشکوک ہیں بلکہ کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہوسکتیں جس کی درج ذیل وجوہات ہیں_

۱_ عامر بن فہیرہ

ابن اسحاق واقدی اور اسکافی وغیرہ کا کلام اس بارے میں ذکر ہوچکا کہ عامر بن فہیرہ ابوبکر کا آزاد کردہ غلام نہ تھا_ چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اس کو خرید کر آزاد کیا تھانہ کہ حضرت ابوبکر نے_

۲_ نابینا ابوقحافہ

جو روایت یہ کہتی ہے کہ اسماء نے اس جگہ پتھر رکھے تھے جہاں اس کا باپ اپنا مال رکھتا تھا تاکہ ابوقحافہ اس کو چھو کر مطمئن ہوجائے، اس روایت کی نفی درج ذیل امور سے ہوتی ہے_

الف: فاکہی ابن ابوعمر کہتا ہے کہ سفیان نے ابوحمزہ ثمالی سے ہمارے لئے نقل کیا کہ عبداللہ نے کہا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار کی طرف روانہ ہوئے تو میں جستجو کی غرض سے نکلا کہ شاید کوئی مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بتائے_ پس میں حضرت ابوبکر کے گھر آیا_ وہاں میں نے ابوقحافہ کو پایا وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا لئے میری طرف بڑھا جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ یہ کہتے ہوئے میری طرف دوڑا'' یہ ان گمراہوں میں سے ہے جس

___________________

۱_ ان تمام باتوں کے سلسلے میں تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۲۳ _ ۳۳۰ سیرت حلبی ج۲ ص ۳۲،۳۳،۴۰اور ۳۹، الجامع الصحیح (ترمذی) ج۵ ص ۶۰۹، السیرة النبویة ( ابن ہشام) ج۲، صحیح بخاری باب ہجرت ، فتح الباری ج۷ صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، الدرالمنثور والفصول المہمة ( ابن صباغ) ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ، لسان المیزان ج/۲ ص ۲۳ اور البدایة والنہایة ج۵ ص ۲۲۹ و مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۲ از طبرانی اور الغدیر _ان کے علاوہ بہت سارے دیگر مآخذ موجود ہیں جن کے ذکر کی گنجائشے نہیں ، ان کی طرف رجوع کریں_

۳۳۵

نے میرے بیٹے کو میرا مخالف بنا دیا ہے''_(۱)

یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابوقحافہ اس وقت تک نابینا نہ ہوا تھا_ اس حدیث کی سندبھی ان لوگوں کے نزدیک معتبر ہے_

ب: ہم یہ نہ سمجھ سکے کہ حضرت ابوبکر نے کس وجہ سے اپنے گھر والوں کیلئے کچھ بھی نہ چھوڑا_ ان پر حضرت ابوبکر کی طرف سے یہ کیسا ظلم تھا؟ نیز ابوقحافہ (جو ان کے بقول نابینا تھا) کو کہاں سے علم ہوا کہ وہ سارا مال ساتھ لے کر چلے گئے تھے جو وہ یہ کہتا: ''اس نے اپنی جان اور اپنے مال کے سبب تم پر مصیبت ڈھادی ہے''؟

ج: یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسماء نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟ کیا وہ اس وقت زبیر کی بیوی نہ تھی؟ اور کیا اس نے زبیر کے ساتھ پہلے ہی مدینہ کی طرف ہجرت اختیار نہ کی تھی؟ کیونکہ اس وقت مکہ میں حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے علاوہ اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کسی مشکل یا مصیبت میں مبتلا تھے_اس وقت حضرت ابوبکر کی بیویاں کہاں گئی تھیں؟

۳_ اسماء وغیرہ کے کارنامے

رہایہ دعوی کہ اسماء شام کے وقت کھانا لیکر غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور حضرت ابوبکر کے پاس جاتی تھی نیز اس نے ان دونوں کیلئے زاد سفر تیار کیا تھا اور اسی نے ان کیلئے دو سواریاں بھیج دی تھیں، اس طرح اس کو ذات النطاقین کا لقب ملا تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں_

اولًا: یہ کہ اس کے مقابلے میں وہ کہتے ہیں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر کے چلے جانے کے تین دن بعد تک بھی کسی کو پتہ ہی نہ تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کہاں گئے ہیں یہاں تک کہ ایک جن نے اپنے اشعار میں اس کا اعلان کیا تو لوگوں کو علم ہوا _ اگر کوئی یہ کہے کہ تین دن سے مراد غار سے خارج ہونے کے بعد والے تین دن ہیں_ تو یہ بھی

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ ص ۲۶۰ _۲۶۱ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قحافہ کی نظر میں اس کا بیٹا دین سے نکلا ہوا انسان تھا اور یہ کہ حضرت ابوبکر عبداللہ و غیرہ کے بعد مسلمان ہوئے_ یہ روایت اس بات کی بھی نفی کرتی ہے کہ حضرت ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہوئے تھے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے _

۳۳۶

درست نہیں، کیونکہ ان لوگوں نے صریحاً بیان کیا ہے کہ غار سے خارج ہونے کے دو دن بعد ان کو علم ہوا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ چلے گئے ہیں_(۱) حلبی شافعی نے اسی طرح ذکر کیا ہے_ اور اس کی صحت وسقم کی ذمہ داری خود اسی کی گردن پر ہوگی_

مغلطای کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکے سے خارج ہونے کا علم حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت ابوبکر کے سوا کسی کو نہ تھا چنانچہ وہ دونوں غار ثور میں داخل ہوئے_(۲)

ثانیاً: منقول ہے کہ امیرالمومنین علیعليه‌السلام ہی نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے سامان خورد و نوش غار تک پہنچاتے تھے(۳)

بلکہ یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو پیغام بھیجا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے زاد راہ اور سواری کا بندوبست کریں_ چنانچہ حضرت علیعليه‌السلام نے اس کی تعمیل میں سواری اور زاد راہ کا بندوبست کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں ارسال کی_ ادھر حضرت ابوبکر نے اپنی بیٹی کو پیغام بھیجا تو اس نے زاد سفر اور دو سواریاں بھیجیں یعنی اس کے اور عامر بن فہیرہ کیلئے جیساکہ روایت میں مذکور ہے اور شاید حضرت علیعليه‌السلام نے ان سے یہ سواری بھی خرید لی ہو_(۴) جیساکہ حضرت علیعليه‌السلام نے شوری والے دن اسی بات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں خدا کا واسطہ دیتا ہوں کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے غار میں کھانا بھیجتا تھا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبروں سے مطلع کرتا تھا؟ وہ بولے:'' نہیں''_(۵)

یہاں سے یہ قول بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ بن ابوبکر غار میں ان دونوں کے پاس مکہ کی خبریں پہنچایا کرتا تھا_(۶)

___________________

۱_ السیرة الحلبی ج ۲ ص ۵۱_

۲_ سیرت مغلطای ص ۳۲ _

۳_ تاریخ دمشق (حالات امام علیعليه‌السلام بہ تحقیق محمودی) ج ۱ ص ۱۳۸ نیز اعلام الوری ص ۱۹۰ اور بحار الانوار ج ۱۹ ص ۸۴ از اعلام الوری نیز تیسیر المطالب فی امالی الامام علی بن ابی طالب ص ۷۵__

۴_ اعلام الوری ص ۶۳ و بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۰ اور ص ۷۵ از اعلام الوری و از خرائج و از قصص الانبیاء _

۵_ احتجاج طبرسی ج ۱ ص ۲۰۴ _

۶_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۹، سیرت ابن ہشام اور کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۱۰ از بغوی اور ابن کثیر _

۳۳۷

ثالثاً: نطاق اور نطاقین والی حدیث بھی ایک طرف سے تو اختلاف روایات کا شکار ہے(۱) اور دوسری طرف سے مقدسی نے پہلے قول کو ذکر کرنے کے بعد یوں کہا ہے'' کہا جاتا ہے کہ جب چادر والی آیت اتری تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے کمربند پر ڈالا اور اس کے دو برابر حصے کر دیئے_ ایک حصے سے اپنا سر چھپا لیا''_(۲)

یہ بھی کہتے ہیں کہ اسماء نے حجاج سے کہا میرے پاس ایک کمربند تھی جس کے ذریعے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کھانے کو بھڑوں سے محفوظ رکھتی تھی اور عورتوں کیلئے ایک کمربند کی بھی تو بہرحال ضرورت ہوتی ہی ہے_(۳)

حدیث سد ابواب اور حضرت ابوبکر سے دوستی والی حدیث

حدیث باب اور ابوبکر سے دوستی والی حدیث''لوکنت متخذا خلیلا لاتخذت ابابکر خلیلا '' (اگر مجھے کسی سے دوستی کرنی ہوتی تو ابوبکر کو دوست بنالیتا) کے سلسلے میں ہم تفصیلی گفتگو کرنا نہیں چاہتے بلکہ (ابن ابی الحدید) معتزلی کے بیان کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں_ اس نے کہا '' ان احادیث کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے مریدوں نے اپنے پیر کی شان میں احادیث گھڑی ہیں مثال کے طور پر'' لوکنت متخذا خلیلا '' والی حدیث _انہوں نے یہ حدیث، بھائی چارے والی حدیث کے مقابلے میں گھڑی ہے_ نیز سد ابواب والی حدیث جو درحقیقت حضرت علیعليه‌السلام کے بارے میں تھی لیکن حضرت ابوبکر کے پرستاروں نے اس کو ابوبکر کے حق میں منتقل کردیا''_(۴)

علاوہ ازیں یہ حدیث ان کی نقل کردہ اس حدیث کے منافی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے

___________________

۱_ اس تضاد کے بعض پہلوؤں سے آگاہی کیلئے الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب (الاصابہ کے حاشیے پر) ج ۴ ص ۲۳۳ کی طرف رجوع کریں _

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ ص ۷۸ _

۳_ الاصابة ج ۴ ص ۲۳۰ اور الاستیعاب حاشیة الاصابة ج ۴ ص ۲۳۳ _

۴_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۱ ص ۴۹ و الغدیر ج ۵ ص ۳۱۱ _

۳۳۸

ابوبکر کو اپنا دوست چن لیا تھا جیساکہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے_(۱) اب آپ ہی بتائیں کہ ہم کس کو ما نیں اور کس کو نہ مانیں؟

سد ابواب والی حدیث کے بارے میں شاید ہم کسی مناسب جگہ پر بحث کریں_ اسی طرح دوستی والی حدیث کے بارے میں حدیث مواخاة پر بحث کے دوران گفتگو ہوگی انشاء اللہ تعالی_

۵_ حضرت ابوبکر کی دولت

حضرت ابوبکر کی دولت اور ان کی چالیس ہزار درہم یا دینار نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر خرچ کرنے وغیرہ کے بارے میں عرض ہے کہ اسماء اور ابوقحافہ کے درمیان ہجرت کے دوران ہونے والی مذکورہ گفتگو اور دیگر باتوں کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں گزشتہ پانچ صفحوں میں ذکر شدہ عرائض کے علاوہ ہم درج ذیل نکات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:

الف: وہ حدیث جس میں مذکور تھا کہ ''اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے جتنا احسان ابوبکر نے مجھ پر کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا اوریہ کہ ہمارے ساتھ احسان کرنے والے ہرفرد کا حق ہم نے ادا کردیا ہے سوائے ابوبکر کے جس کے احسان کا بدلہ خدادے گا'' یہ حدیث درج ذیل وجوہات کی بنا پر صحیح نہیں ہے:

۱_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہما کی فدا کاریوں، مالی قربانیوں اور راہ اسلام میں ان کی امداد نیز جان مال اور اولاد کے ذریعے آپ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا بدلہ کب دیا ؟ اسلام کی راہ میں ان دونوں نے جس قدر مال خرچ کیا اور قربانی دی کیاوہ تمام دوسرے انسانوں کی طرف سے اسلام کی راہ میں دی گئی قربانیوں اور دولت سے زیادہ نہ تھی؟ اس کے علاوہ اس دین کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کی واضح خدمات تھیں جن سے سوائے کسی سرکش اور ضدی دشمن کے کوئی انکار نہیں کرسکتا_

___________________

۱_ ریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۶ ،ارشاد الساری ج۶ ص ۸۶ از حافظ السکری ، الغدیر ج۸ ص ۳۴ مذکورہ دونوں مآخذ سے و از کنز العمال ج۶ ص۱۳۸_۱۴۰ طبرانی اور ابونعیم سے_

۳۳۹

۲_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر منت والی حدیث بھی عجیب ہے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکہ میں کسی کی ضرورت نہ تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت خدیجہعليه‌السلام بلکہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے اموال موجود تھے_(۱) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہجرت کے وقت تک ان کو مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے اور شروع شروع میں حضرت ابوطالب کا بوجھ کم کرنے کیلئے حضرت علیعليه‌السلام کا بھی خرچہ برداشت کرتے تھے_ منقول ہے کہ حضرت عمر نے اسماء بنت عمیس کی سرزنش کی اور کہا کہ مجھے تو ہجرت نصیب ہوئی لیکن تجھے نصیب نہیں ہوئی_ اسماء نے جواب دیا ''تم لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مال کے ساتھ اپنے بھوکوں کو کھلانے اور اپنے جاہلوں کی ہدایت میں مشغول تھے''_ اس کے بعد اسماء نے اس کی شکایت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس کی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ حبشہ کو ہجرت کرنے والے دو ہجرتوں سے سر افراز ہوئے جبکہ ان لوگوں نے فقط ایک ہجرت کی ہے_(۲)

۳_ یہاں یہ بتانا کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ ایک یا دو اونٹ ہجرت کے وقت قیمت کے بغیر قبول نہ فرمائے اور قیمت کی ادائیگی بھی فوراً کی، جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخت ترین حالات سے دوچار تھے_ پس جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اس مقام پر حضرت ابوبکر کاہدیہ قبول نہ فرمایا تو یہی حال حضرت ابوبکر کی طرف سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مال خرچ کرنے کے بارے میں مروی دیگر روایات کا بھی ہے_

۴_ ان باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے مکہ میں کوئی لشکر ترتیب نہیں دیا اور نہ کوئی جنگ کی جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لشکر کی تیاری نیز سواریوں اور سامان حرب پر وسیع پیمانے پر خرچ کرنے کی ضرورت پڑتی_ نیز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عیش وعشرت پر بھی مال خرچ نہ فرماتے تھے_

___________________

۱_ ابتدائے بحث میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت ابوطالب شعب ابوطالب میں بنی ہاشم پر اپنا مال خرچ کرتے تھے_ رہی بات حضرت خدیجہعليه‌السلام کی دولت تو وہ اپنی شہرت کی بنا پر محتاج بیاں نہیں حضرت خدیجہ کے اموال کے بارے میں ابن ابی رافع کا کلام پہلے گزر چکا ہے_

۲_ رجوع کریں : الاوائل ج ۱ ص ۳۱۴ و البدایة و النہایة ج ۴ ص ۲۰۵ از بخاری و صحیح بخاری ج ۳ ص ۳۵ مطبوعہ ۱۳۰۹ ھ، صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۷۲، کنز العمال ج ۲۲ ص ۲۰۶ از ابونعیم اور طیالسی نیز رجوع کریں فتح الباری ج ۷ ص ۳۷۲ اور مسند احمد ج ۴ ص ۳۹۵ اور ۴۱۲ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۶۱_

۳۴۰

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417