الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 210020 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

ہجرت مدینہ کے بعد تو حضرت ابوبکر اپنے مال کے معاملے میں سخت بخیل ہوگئے تھے_ ان کے پاس اس وقت پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم تھے جیساکہ بعض لوگ نقل کرتے ہیں_ حضرت ابوبکرہرکسی کے ساتھ بخل کرتے تھے یہاں تک کہ اپنی بیٹی اسماء کے ساتھ بھی جو مدینہ آنے کے بعد فقر اور مشکلات کا سخت شکار تھی_ یہاں تک کہ وہ ایک گھرمیں خدمت کرتی تھی، وہاں کے گھوڑے کی دیکھ بھا ل کرتی اور اونٹ کیلئے گٹھلیاں کوٹتی ،اس کو دانہ پانی کھلاتی اوردوتہائی فرسخ(۱) کے فاصلے سے گٹھلیوں کو اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھی_ آخر کار حضرت ابوبکر نے اس کیلئے ایک نوکر بھیج دیا جس نے گھوڑے کی دیکھ بال کا کام سنبھال لیا جیساکہ وہ خود کہتی ہے_(۲)

اس کے علاوہ خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام بھی کئی سال تک مشکلات اور تنگی کا شکار رہے بالخصوص جنگ خیبر سے پہلے_ یہاں تک کہ بسا اوقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دو یا تین دن تک فاقے کرتے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے شکم اطہر پر پتھربھی باندھتے تھے_(۳) انصار باہمی مشورے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے کھانے کا بند وبست کرتے تھے_ اس وقت حضرت ابوبکر کے وہ ہزاروں درہم اور اموال کہاں گئے تھے جوغزوہ تبوک تک باقی تھے_کیونکہ ان لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ اس وقت وہ اپنی تمام دولت ( چار ہزار درہم) کے ساتھ حاضر ہوئے_(۴)

ب: مذکورہ باتیں اس صورت میں تھیں کہ ان لوگوں کے نزدیک ''منّت'' سے مراد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر مال خرچ کرنا ہو_ لیکن اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر منت سے مراد اللہ کی راہ میں انفاق ہو تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہمیں تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ تاریخی شواہد تو اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر نے

___________________

۱_ یعنی تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے سے (از مترجم)

۲_ حدیث الافک ص ۱۵۲ _

۳_ حضرت عائشہ نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر والوں کی جو حالت بیان کی ہے اس سے انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے _ رجوع کریں طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ دوم ص ۱۲۰و ص ۱۱۲ سے ص ۱۲۰ تک_

۴_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۴۲۹ از ابن عساکر ج ۱ ص ۱۱۰ _

۳۴۱

اپنے مال کے معاملے میں اس قدر کنجوسی برتی کہ واقعہ ''نجوی'' میں دو درھم بھی صدقہ دینے پر آمادہ نہ ہوئے اور سوائے امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے کسی نے یہ اقدام نہ کیا یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری جس میں اللہ تعالی نے اصحاب کے رونے کی مذمت و ملامت کی، ارشاد ہوا( ا اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا وتاب الله علیکم ) (۱) یعنی کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ) سر گوشی کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے_ اب اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا تو ..._ اگر حضرت ابوبکر دو درہموں کا صدقہ دیتے تو ان لوگوں کی صف میں شامل نہ ہوتے جن کی اللہ نے ملامت کی(بلکہ اور جعلی فضائل کوچھوڑ کر اسی پر مباہات کرتے اور حضرت علیعليه‌السلام سے برتری کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے _ از مترجم)_

ج: مذکورہ باتوں سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی کیلئے مال خرچ کرنے کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر احسان جتلانے کا کوئی معنی نہیں بنتا (جیساکہ مذکورہ روایت سے اس کا شائبہ ملتا ہے) چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھی اس بات کی خبردی ہے_ بلکہ منت تو در اصل اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ان پر ہے_

خدا نے احسان جتلانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے( لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ) (۲) یعنی احسان جتلاکر یا آزار دے کر اپنے صدقات کو رائیگاں نہ کرو، نیز فرمایا( ولاتمنن تستکثر ) (۳) یعنی اور احسان نہ جتلاؤ زیادہ حاصل کرنے کیلئے، اس لئے یہ بات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس منّت پر، منت کرنے والے کی تعریف کریں خاص کر یہ کہیں کہ اس نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے، سارے لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کیا ہے_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ آیت ۱۳ نیز رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۲۰، الاوائل ج ۱ ص ۲۹۷ و حاشیة تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۵ اور ۳۷ (جو بہت سے مآخذ سے منقول ہے) کی طرف _

۲_ سورہ بقرہ آیت ۲۶۴ _

۳_ سورہ مدثر آیت ۶ _

۳۴۲

ایک اہم اشارہ

انہی وجوہات کی بنا پر بظاہر جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت ابوبکر کو راہ خدا میں اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آنے ،غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہنے ،خطرات جھیلنے اور خوف اعداء سے محزون و پریشان ہونے اور اس قسم کے دیگر طعنے دینے سے نہ روک سکے تو لوگوں کو حضرت ابوبکر کی اس حالت سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوئے ،شاید وہ اس طرح اپنے بعض کاموں سے دستبردار ہوجاتے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجبور ہوکر آخری اقدام کے طور پر یہ طریقہ کار اختیار کیا جو تعلیم و تربیت کے اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے_ خصوصاً پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام پر اس قسم کااحسان فقط حضرت ابوبکر نے نہیں کیا تھا کیونکہ سارے مہاجرین اپنے اموال اپنا وطن، اپنی سرزمین چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے_ سب نے مشکلات وخطرات کا مقابلہ کیا تھا_ ان میں سے بہت سوں نے سخت ترین قسم کی ایذا رسانیوں اور سزاؤں کا سامنا کیا تھا_ غار میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کے بارے میں واضح رہے کہ امیرالمومنین کو در پیش خطرہ ان کو در پیش خطرے سے کہیں زیادہ تھا_ بنابریں یہ احسان حضرت ابوبکر کا حصہ کیوں بن جائے؟ یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کو اپنا سب سے بڑا محسن قرار دیں؟

د: طوسی اور مفیدکے بقول ابتدا میں حضرت ابوبکربچوں کے معلم تھے_ پھر درزی کا کام کرنے لگے_ بیت المال سے ان کا حصہ دوسرے مسلمانوں کے برابر تھا اسی لئے وہ انصار کی مدد کے محتاج ہوئے ان کے والد شکاری تھے پھر اپنا پیٹ بھرنے اور بدن چھپانے کیلئے ابن جدعان(۱) کے دسترخوان پر مکھیاں اڑانے اور لوگوں کو بلانے کا کام کرنے لگے_(۲) ان حالات میں فطری بات ہے کہ حضرت ابوبکر پانچ ہزار درہم کے کیسے

___________________

۱_ ابن جد عان کے متعلق بظاہر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ ایک مالدار یہودی آدمی تھا_ (از مترجم)

۲_ تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۸ دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۳۰ و الافصاح ص ۱۳۵ اور الغدیر ج ۸ ص ۵۱_ محقق سید مہدی روحانی نے ابوبکر کے معلم ہونے کو درست نہیں سمجھا کیونکہ بچوں کو مکتب میں جمع کر کے پڑھانے کی رسم بعد میں نکلی ہے اور ایام جاہلیت میں مکہ کے اندر یہ رسم نہ تھی نیز وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ معلم تھے تو ان کے شاگرد کون تھے؟ اس مکہ کے اندر چند معدود افراد کے علاوہ پڑھے لکھے افراد کیوں نہیں پائے جاتے تھے_ جیساکہ کتاب کی ابتدا میں اس کا ذکر ہوچکا ہے_بلکہ جرجی زیدان نے اپنی کتاب تاریخ تمدن میں لکھا ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے وقت پورے مکہ میں صرف سات پڑھے لکھے آدمی تھے_

۳۴۳

مالک ہوسکتے تھے، چالیس ہزار درہم یا دینار تو دور کی بات ہے کیونکہ اس قسم کی دولت یا تجارت سے حاصل ہوتی ہے یا زراعت سے، حضرت ابوبکر اس طرح کے پیشوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے، بنابریں بعض لوگ کیسے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا شمار قریش کے رؤسا، مالداروں اور صاحبان جاہ ومقام میں سے ہوتا تھا؟ اگر ان کی یہ حالت تھی تو پھر اپنی بیٹی (اسمائ) کی خبر کیوں نہ لی اور خاص کر اپنے باپ کو ابن جدعان کے پاس کیوں رہنے دیا؟_

ھ: جب امیرالمومنینعليه‌السلام نے تھوڑا سا مال بطور صدقہ دیا (جیساکہ آپ نے یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا کھلا کر اس کا ثبوت دیا) تو اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری:

( ویطعمون الطعام علی حبه مسکینا ویتیما واسیرا انما نطعمکم ) (۱) اور جب انہوں نے اپنی انگوٹھی بطور صدقہ دی تو یہ آیت نازل ہوئی( انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة ویوتون الزکاة وهم راکعون ) (۲) نیز جب انہوں نے ایک درہم چھپاکر

___________________

۱_ سورہ انسان (دھر) آیت ۸ اور روایات کے منابع یہ ہیں : المناقب (خوارزمی) ص ۱۸۹ ، ۱۹۵ ، ریاض النضرةج۳ ص ۲۰۸ و ۲۰۹ ، التفسیر الکبیر ج۳۰ ص ۲۳۴ _۲۴۴ از واحدی و الزمخشری ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر مطبوع،) ج۲۹ ص ۱۱۲، ۱۱۳، کشاف ج۴ ص ۶۷۰،نوادرالاصول ص ۶۴ ، ۶۵ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۹ ص ۱۳۱ از نقاش ، ثعلبی، قشیری و دیگر مفسرین، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۹ ، تفسیر نورالثقلین ج۵ ص۴۶۹_۴۷۷ از امالی شیخ صدوق، قمی ، طبرسی و ابن شہر آشوب ، ذخائر العقبی ص ۸۹ وسائل الشیعہ ج۱۶ ص ۱۹۰ ، فرائد السمطین ج۲ ص ۵۴ تا ۵۶ ، مجمع البیان ج۱۰ ص۴۰۴ ، ۴۰۵ ، المناقب ( ابن مغازلی) ص ۲۷۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۷۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱، اور اسدالغابہ ج۵ ص ۵۳۰ ، ۵۳۱ اور دیگر کثیر منابع_

۲_ سورہ مائدہ آیت ۵۵ اور حدیث کے مآخذ یہ ہیں : الکشاف ج۱ ص ۶۴۹ ، اسباب النزول ص ۱۱۳ ، تفسیر المنار ج۶ ص ۴۴۲ نیز کہا ہے کہ کئی طریقوں سے روایت کی گئی ہے ، تفسیر نورالثقلین ج ۱ ص ۵۳۳ و ۳۳۷ از الکافی ، احتجاج ، خصال، تفسیر قمی اور امالی شیخ صدوق، تفسیر الکبیر ج۱۲ ص ۲۶، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۳ ، ۲۹۴ از ابوشیخ، ابن مردویہ ، طبرانی، ابن ابی حاتم، ابن عساکر ، ابن جریر و ابونعیم و غیرہ ، فتح القدیر ج۲ ص۵۳خطیب کی کتاب المتفق و المفترق سے ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۲۲۱ ، شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۷۳ _ ۱۸۴ کنز العمال ج۱۵ ص ۱۴۶ ، الفصول المہمہ ( ابن صباغ) ص ۱۰۸ ، تذکرة الخواص ص ۱۵ ، المناقب خوارزمی ص ۱۸۶ ، ۱۸۷ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۲۰۸ ، ذخائر العقبی ص ۱۰۲ از واقدی و ابو الفرج ابن جوزی اور وسائل الشیعہ ج۶ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵ و دیگر منابع _

۳۴۴

اور ایک درہم اعلانیہ نیز ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو صدقہ دیا تو اللہ تعالی نے یوں توصیف فرمائی( الذین ینفقون اموالهم باللیل و النهار سرا وعلانیة فلهم اجرهم عند ربهم ) (۱) اسی طرح آیہ نجوی پر بھی سوائے حضرت علیعليه‌السلام کے کسی اور نے عمل پیراہو کر نہیں دکھایا(۲) _

ان ساری باتوں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت ابوبکر نے چالیس ہزار درہم یا دینار راہ خدا میں خرچ کئے ہوتے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ان کا اتنا بڑا احسان ہوتا کہ جس کا بدلہ خدا ہی دیتا یہاں تک کہ کسی کے مال نے حضرت ابوبکر کے مال کی مانند آپ کو فائدہ نہ پہنچایا ہوتا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا قرآن میں اس کا ذکر ہی نہ کرے اور تاریخ یا حدیث کی کتابوں میں کم از کم اس کا ایک نمونہ بھی ایسا دکھائی نہ دے جو قابل اثبات ہو؟ کیا مورخین اور محدثین نے حضرت ابوبکر کے فضائل سے عمداً چشم پوشی کی؟ اگر ہاں تو پھر اس

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۷۴ روایات ان کتابوں میں موجود ہیں : الکشاف ج۱ ص ۳۱۹ ، تفسیر المنار ج۳ ص ۹۲ از عبدالرزاق و ابن جریر وغیرہ ، التفسیر الکبیر ج۷ ص ۸۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۳۴۷ ، تفسیر قرآن العظیم ج۱ ص ۳۲۶ از ابن جریر ، ابن مردویہ و ابن ابی حاتم، فتح القدیر ج ۱ ص ۲۹۴ از عبد الرزاق ، عبد بن حمید و ابن منذر، طبرانی اور ابن عساکر و غیرہ ، الدرالمنثور ج۱ ص ۳۶۳ ، لباب النقول ص ۵۰ مطبوعہ دار احیاء العلوم، اسباب النزول ص ۵۰ ، تفسیر نورالثقلین ج۱ ص ۳۴۱ از عیاشی والفصول المہمہ (ابن صباغ) ص ۱۰۷ ، نظم درر السمطین ص ۹۰ ، ذخائر العقبی ص ۸۸ ، تفسیر البرہان ج۴ ص ۴۱۲ ، المناقب ابن مغازلی ص ۲۸۰ ، ینابیع المودة ص ۹۲ ، روضة الواعظین ص ۳۸۳ و ۱۰۵ او ر شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱_

۲_ ملاحظہ ہو: المناقب خوارزمی ص ۱۹۶ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۱۸۰ ، الصواع المحرقہ ص ۱۲۹ ا زواقدی ، نظم در ر السمطین ص ۹۰، ۹۱ ، تفسیر القرآن العظیم ج۴ ص ۳۲۷، ۳۲۶، جامع البیان ج۲۸ ص ۱۴ ، ۱۵ ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر) ج۲۸ ص ۲۴ ، ۲۵ ، کفایة الطالب ص ۱۳۶ ، ۱۳۷ ، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۴۲۸ ، مستدرک حاکم ج۲ ص ۴۸۲ ، تلخیص مستدرک ( ذہبی ، مطبوعہ حاشیہ مستدرک) ج۲ ص ۶۷۳، ۶۷۵، لباب التاویل ج۴ ص ۲۲۴، مدارک التنزیل( مطبوعہ حاشیہ لباب التاویل) ج۴ ص ۲۲۴، اسباب النزول ص ۲۳۵، شواہد التنزیل ج۲ ص ۲۳۱ _۲۴۰، الدر المنثور ج۶ ص ۱۸۵ ، از ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، حاکم( جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ) ، سعید بن منصور و ابن راہویہ، فتح القدیر ج۵ ص ۱۹۱ ، التفسیر الکبیر ج۲۹ ص ۲۷۱ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۷ ص ۳۰۲ ، الکشاف ج۴ ص ۴۹۴ ، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۸ ، احقاق الحق ( حصہ ملحقات) ج۳ ص ۱۲۹ تا ۴۰ ۱ و ج۱۴ ص ۲۰۰ ، ۲۱۷ و ج۲۰ ص ۱۸۱ ، ۱۹۲ مذکورہ بعض مآخذ سے نیز دیگر کثیر منابع سے اور اعلام الوری ص ۱۸۸ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جگہ کی کمی کے پیش نظر اس حدیث اور گذشتہ تین روایات کے اکثر منابع و مآخذ ذکر نہیں کئے گئے وگرنہ مذکورہ منابع سے کہیں زیادہ کتب میں یہ روایات ملتی ہیں_

۳۴۵

سلسلے میں حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل سے چشم پوشی کیوں نہیں کی؟

کیا حکمرانوں، بادشاہوں، ان کے ما تحتوں اور بڑے علماء نے حضرت ابوبکر پر ظلم کرتے ہوئے لوگوں کو ان کے فضائل بیان کرنے یا نقل کرنے سے روکا؟ (جس طرح حضرت علیعليه‌السلام پر ظلم کیا تھا؟) البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرنے مکہ میں مجبور اور ستم دیدہ غلاموں کو آزاد کیا تھا لیکن ہم عرض کرچکے کہ اس کا اثبات ناممکن ہے_ چنانچہ اسکافی معتزلی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیمت اس زمانے میں سو درہم بھی نہ تھی (بشرطیکہ روایت کی صحت کو تسلیم کرلیاجائے) _

کیا خدا کی عدالت کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت علیعليه‌السلام کے صدقات کا (کم ہونے کے باوجود) قرآن اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی ذکر ہو لیکن حضرت ابوبکر کے عطیات کا کئی ہزار کی حد تک پہنچنے کے باوجود، تذکرہ نہ ہو؟ کیا یہ عدل ہے؟ منزہ ہے وہ اللہ جو بادشاہ بھی ہے، حق بھی اور عدل مبین بھی، جس کے ہاں کسی پر ذرہ بھر بلکہ اس سے بھی کم ظلم نہیں ہوتا_

اب کیا یہ کہنا صحیح نہیںہوگا کہ حضرت ابوبکر کے عطیات خالص خدا کی رضا کیلئے نہ تھے؟ اور اگر یہ سب ان کے فطری جود وسخاوت کا نتیجہ تھا ا ور اسی لئے اللہ نے ان کو نظر انداز فرمایا تھا تو پھر کم از کم خدا اسی خصلت کی ہی تعریف فرماتا اور اگر ان کے عطیات کی کوئی قدر وقیمت ہی نہ تھی تو پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کیونکر فرمایا کہ اللہ بہت جلد اس کی جزا عنایت کرے گا؟ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی مفید، قانع کنندہ اور قابل قبول جواب آپ کو نہیں ملے گا_

ان ساری باتوں سے قطع نظر حضرت ابوبکر کی مالداری کا ذکر فقط ان کی بیٹی حضرت عائشہ سے منقول ہے( جیساکہ شیخ مفید علیہ الرحمةنے کہا ہے )اوراس کے راویوں میں شعبی جیسے افراد بھی موجود ہیں جو رضائے بنی امیہ کے حصول کی خاطر تعصب اور اپنی دروغ گوئی اور افترا پردازی کے باعث معروف اور مشہور ہیں_(۱)

___________________

۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنینعليه‌السلام ص ۱۳۱_۱۳۳ _

۳۴۶

ماہر چوروں کا تذکرہ

یہاں روتوں کو ہنسانے والی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض کے بقول چور جب حضرت ابوبکر کے چار سوا ونٹ اور چالیس غلاموں کو چوری کر کے لے گئے اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا نہیں غمگین دیکھا تو ان سے اس کا سبب پوچھا _ جب انہوں نے چوری کا واقعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بتایا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:''(اچھا یہ بات ہے) میں سمجھا تھا کہ تم سے کوئی نماز قضا ہوگئی ہے ...''(۱) لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان ماہر چوروں نے غلاموں اوراونٹوں کی اتنی بڑی مقدار کو کہاں چھپایا تھا؟ پھر ان میں سے ایک غلام نے بھی وہاں سے بھاگ کر جناب ابوبکر کو خبر دار نہیں کیا ؟ پھر کیسے ہوا کہ اس دور کی تاریخ کے سب سے بڑے قافلے کے چلنے کی آواز نے مکہ اور مدینہ کے کسی فرد کو بھی نہیں جگایا؟ پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابوبکر کے پاس اتنی زیادہ ثروت کہاں سے آگئی؟ پھر وہ جزیرة العرب کے سب سے زیادہ متمول آدمی کے طور پر چاردانگ عالم میں مشہور کیوں نہیں ہوئے؟ آخر کار ہمیں یہ پتا بھی نہیں چل سکا کہ جناب ابوبکر مسروقہ چیزوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوسکے یا نہیں؟

حضرت ابوبکر کی دولت سے مربوط اقوال پر آخری تبصرہ

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی دولت مندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسے خرچ کرنے کے بارے میں جو اقوال موجود ہیں وہ خلیفہ اول کے حامیوں کے شدید رد عمل کا نتیجہ ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف سے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قیمت اداکئے بغیر ان کی پیش کردہ سواری کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں(۲) اور دوسری طرف سے حضرت علی،عليه‌السلام آپعليه‌السلام کے عطیات اور شب ہجرت اور دیگر مقامات پر آپعليه‌السلام کی

___________________

۱_ نزہة المجالس ج ۱ ص ۱۱۶_

۲_ صحیح بخاری مطبوعہ مشکولی ج ۵ ص ۷۵ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۴ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۱ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اول ص ۱۵۳ البدایة والنہایة ج ۳ ص ۱۸۴_۱۸۸ مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۵ الکامل ابن اثیر اور دیگر بہت سارے مآخذ کے علاوہ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۲ کی طرف رجوع کریں _

۳۴۷

قربانیوں کے بارے میں قرآن کی آیتیں اتر رہی ہیں_

بنابریں ضروری تھا کہ وہ حضرت ابوبکر کیلئے عظیم فضائل اور قربانیاں ثابت کرنے کی جد وجہد کرتے_

اس کے بعد یہ لوگ سواری والے واقعے کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی جان اوراپنے مال کے ساتھ راہ خدا میں ہجرت کرنا چاہتے تھے_(۱)

لیکن جب وہ ہجرت کے واقعات میں زاد راہ والی چمڑے کی تھیلی، پکی ہوئی بکری اور گوسفند کے دودھ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس تاویل کو بھول جاتے ہیں اور اپنی گفتار کے اندر موجود واضح تضاد سے غافل ہوجاتے ہیں کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنی جان اور فقط اپنے مال کے ساتھ ہجرت کا ارادہ فرمائیں اور دوسری طرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کی طرف سے دیئے گئے مال، زاد راہ اور دودھ وغیرہ سے استفادہ کریں_

جی ہاں اگر (نعوذ باللہ )رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے افعال واقوال میں تضاد نظر آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ حضرت ابوبکر کی فضیلت میں کمی یا فضائل سے ان کی محرومی کا باعث نہ بنے_

دروغ پردازی اور جعل سازی

حقیقت یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے اموال کے بارے میں فرمایا تھا ''ما نفعنی مال قط مثل ما نفعنی مال خدیجة '' (مجھے کسی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا خدیجہ کے مال نے) جیساکہ ذکر ہوچکا ہے_ لیکن اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں تبدیل کردیا گیا ہے_ اس کو مختلف شکلوں اور عبارتوں میں ڈھالاگیا ہے جو ایک ہی مقصد کی حامل اور ایک ہی واضح ہدف کی غماز ہیں اور وہ ہے حضرت ابوبکر کیلئے فضیلت تراشی اور بس_ دیگر بہت ساری ان روایات کی مانند جن کا ذکر ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے معتقدین کی وضع کردہ ہیں جیساکہ تحقیق اور موازنہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کیلئے واضح ہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ باب الہجرة ص ۱۸۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲ _

۳۴۸

ابوبکر اور دیدار الہی

حضرت انس سے مروی ہے کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار سے خارج ہوئے تو حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رکاب تھام لی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان کی طرف نظر کی اور فرمایا :''اے ابوبکر تجھے خوشخبری نہ دوں؟'' بولے :''کیوں نہیں میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان جائیں''_ فرمایا: ''بیشک خدا روز قیامت تمام لوگوں کے سامنے اپنا دیدار عام کرائے گا لیکن تمہارے لئے بطور خاص اپنی تجلی دکھائے گا''_(۱) یہاں پہلے تو ہم نہیں سمجھے کہ اس تجلی سے کیا مراد ہے_ مگر یہ کہ مذہب مجسّمہ (جو ایک گمراہ مذہب ہے) کی رو سے اس کا معنی کیا جائے_ اس کے علاوہ فیروز آبادی نے اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں گھڑی گئی مشہور و معروف جعلی احادیث میں شمار کیا ہے جن کا باطل ہونا عقل سلیم کے نزدیک بدیہی اور واضح امر ہے_ خطیب نے نقلی علوم کے ماہرین کے نزدیک اس کے جعلی ہونے کی تصدیق کی ہے_ اس کے علاوہ ذہبی، عجلونی، ابن عدی، سیوطی، عسقلانی اور قاری وغیرہ نے بھی اس کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کا فیصلہ دیا ہے_(۲)

فضائل کے بارے میں ایک اہم یاددہانی

مدائنی کہتے ہیں معاویہ نے ہر جگہ اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ کی شہادت قبول نہ کی جائے_ نیز یہ بھی لکھا :''اپنے درمیان عثمان کے طرفداروں، دوستوں اور چاہنے والوں کو تلاش کرو، جو اس کے فضائل ومناقب بیان کریں ان کی مجالس میں حاضری دو، انہیں اپنے قریب لاؤ، ان کا احترام ملحوظ رکھو اور ان میں سے ہر کسی کی روایتوں کے ساتھ اس کا نام نیز اس کے باپ اور خاندان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دو'' چنانچہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی حد کردی کیونکہ معاویہ

___________________

۱_ الغدیر ج۵ ص ۳۰۱ _ ۳۰۲ اور دیگر مآخذ اگلے حاشیہ میں ذکر ہوں گے نیز ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۱_

۲_ تاریخ خطیب بغدادی ج ۲ ص ۲۸۸ اور ج ۱۲ ص ۱۹ و کشف الخفاء ج ۲ ص ۴۱۹ اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۱۴۸، لسان المیزان ج ۲ ص ۶۴ میزان الاعتدال ج ۲ ص ۲۱، ۲۳۲ اور ۲۶۹ اور جلد سوم ص ۳۳۶ اور الغدیر ج ۵ ص ۳۰۲ جو مذکورہ مآخذ کے علاوہ اسنی المطالب ص ۶۳ سے ماخوذ ہے_

۳۴۹

ان کو انعام و اکرام عطیات، وظائف اور خلعتوں سے نوازتا تھا خواہ وہ عرب ہوں یا غیر غرب_ یوں ہر شہر میں یہ کام عام ہوگیا اور لوگ دنیوی مال و مقام حاصل کرنے کیلئے اس کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگ گئے_ معاویہ کا کوئی عامل ایسا نہ تھا جس کے پاس کوئی شخص آکر حضرت عثمان کی شان میں کوئی فضیلت یا منقبت بیان کرتا مگر یہ کہ وہ اس کا، اس کے رشتہ داروں، اور اس کی بیوی کا نام فہرست میں شامل کرلیتا_ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتارہا_

پھر معاویہ نے اپنے عمال کو لکھا کہ اب حضرت عثمان کی شان میں احادیث کی شہرت ہر شہر اور ہر جگہ پہنچ چکی ہے_ لہذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو صحابہ اور خلیفہ اول وخلیفہ دوم کے فضائل بیان کرنے کی دعوت دو_ ابوتراب علیعليه‌السلام کے بارے میں مسلمانوں کے پاس موجود ایک ایک روایت کے مقابلے میں صحابہ کے دس فضائل میرے پاس لے آؤ کیونکہ یہ بات مجھے بہت زیادہ پسند ہے اور میری آنکھوں کیلئے زیادہ ٹھنڈک کا باعث ہے، نیز یہ عمل حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی بہ نسبت ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیلوں کے مقابلہ میں بہتراور سخت تر ثابت ہوگا _

معاویہ کے خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے_ یوں صحابہ کی شان میں جعلی احادیث کا تانتا بندھ گیا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی_ لوگ اس قسم کی روایتیں نقل کرنے میں کوشاں ہوگئے_ یہاں تک کہ منبروں پر ان کا ذکر ہونے لگا_ قرآن پڑھانے والوں تک بھی یہ احادیث پہنچائی گئیں_انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو وسیع پیمانے پر یہ احادیث سکھائیں_ چنانچہ انہوں نے قرآن کی طرح ان کو سیکھ لیا اور دوسروں کیلئے نقل کیا_

یہاں تک کہ انہوں نے عورتوں، لڑکیوں، اور نوکروں تک کو بھی یہ احادیث سکھا دیں اور اس کام میں عرصہ دراز تک مشغول رہے_

پھر اس نے تمام شہروں میں اپنے عاملوں کے نام ایک ہی مضمون پر مشتمل فرمان لکھا_ ''جس شخص کے خلاف یہ شہادت ملے کہ وہ حضرت علیعليه‌السلام اور اس کے اہلبیت سے محبت کرتا ہے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ لو_ اس کا وظیفہ اور روزی بند کردو''_ اس کے بعد ایک اور خط اس کے ساتھ یوں لکھا ''جن لوگوں پر تم ان (علیعليه‌السلام

۳۵۰

اور ان کی اہلبیت) کے ساتھ محبت کا الزام لگاچکے ہو_ان کو عبرت ناک سزائیں دو اور ان کے گھروں کو منہدم کرادو'' اس کے نتیجے میں عراق والوں پر سب سے زیادہ مصیبت ٹوٹ پڑی خصوصاً کوفہ میں_ یہاں تک کہ جب کسی شیعہ کے پاس اس کا قابل وثوق آدمی آتا اور اس کے گھر میں داخل ہوتا تاکہ اسے راز کی کوئی بات بتائے تو وہ اس کے غلاموں اور نوکروں سے بھی خوف محسوس کرتا تھا اور اس وقت تک اس کے ساتھ بات نہ کرتا جب تک اسے راز محفوظ رکھنے کی قسمیں نہ دے لیتا_ یوں کثیر تعداد میں جھوٹی احادیث اور بہتانوں کا سلسلہ پھیل گیا_ علمائ، قاضی اور والی ان پر عمل کرتے تھے _ اس کام میں سب سے زیادہ ضعیف الایمان اور ریا کار قاری مبتلا ہوئے جو خضوع اور خشوع کا دکھلاوا کرتے تھے اور جھوٹی احادیث گھڑتے تاکہ حکمرانوں سے فائدہ لے سکیں اور ان کی مجالس کی قربت نصیب ہوسکے_ نیز مال و جائیداد اور مرتبہ و مقام حاصل کرسکیں_ نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ جھوٹی احادیث دیندار لوگوں تک بھی پہنچیں جو جھوٹ اور بہتان کو جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن انہوں نے صحیح سمجھ کر ان کو قبول کیا اور نقل بھی کیا، اگر ان کو علم ہوتا کہ یہ جھوٹی ہیں تو وہ ان کو نقل نہ کرتے اور نہ مانتے_ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی اور فتنہ وبلا میں مزیداضافہ ہوگیا ..._(۱)

انگشت خونین

ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر غار کے اندر سوراخوں کو بند کرنے لگے_ اس اثنا میں ان کی انگلی زخمی ہوئی اوراس سے خون نکلنے لگا_ وہ اپنی انگلی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ انگلی سے مخاطب ہوکر یہ کہہ رہے تھے_

ما انت الا اصبع دمیت

وفی سبیل الله مالقیت(۲)

___________________

۱_النصایح الکافیہ ص ۷۲_۷۳ از مدائنی و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۱ ص ۴۴_

۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۲۲ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۸۰ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵_۳۶_

۳۵۱

تو سوائے ایک خونین انگلی کے کچھ بھی نہیں _ یہ تکلیف تجھے خدا کی راہ میں جھیلنی پڑی ہے_

یہ روایت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن رواحہ کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو انہوں نے اپنی انگلی زخمی ہونے پر جنگ موتہ میں کہے تھے_(۱) البتہ صحیحین میں جندب ابن سفیان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ شعر کسی مجلس میں یا غار میں اپنی انگلی کے زخمی ہونے پر پڑھا_(۲)

بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تو اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ شعر کہا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ سمجھا کہ وہ مشرکین میں سے کوئی ہے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رفتار بڑھالی نتیجتاً ایک پتھر سے ٹکرا کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انگوٹھا زخمی ہوگیا_(۳) ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دمیت اور لقیتکے الفاظ، ان دونوں کی یاء کو زبر دیکراورتاء کو ساکن کر کے ادا کئے ہوں تاکہ شعر نہ رہے کیونکہ آپ شعر نہیں کہتے تھے اور شعر کہنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے مناسب بھی نہیں تھا_ بعض مآخذ میں مذکور ہے کہ یہ شعر ولید بن ولید بن مغیرہ نے اس وقت کہا جب مشرکین سے جان چھڑانے کیلئے ہجرت کی تھی یا اس وقت جب وہ ہشام بن عاص اور عباس بن ربیعہ کو چھڑانے کیلئے گیا تھا_(۴) ایک قول کی رو سے یہ شعر ابودجانہ نے جنگ احد میں کہا_(۵)

یوں واضح ہوا کہ حقیقت سے قریب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ الفاظ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ادا کئے تھے لیکن اس کی جھوٹی نسبت حضرت ابوبکر کی طرف دی گئی تاکہ (حکمران طبقہ کا) قرب حاصل کیا جاسکے اور بس ظاہر ہے یہ بات نہ کسی کمزور کو موٹا بنا سکتی ہے اور نہ کسی بھوکے کو سیر کرسکتی ہے (یعنی کسی کام کی نہیں)_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۹ اور ۳۶ _

۲_ صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۸۱ اور ۱۸۲ صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۹ مطبوعہ المیمنیة و حیات الصحابة ج ۱ ص ۵۱۸ _

۳_ ملاحظہ ہو بحار ج ۱۹ ص ۹۳ از مسند احمد و تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۶ از ابن جوزی_

۴_ نسب قریش (مصعب زبیری) ص ۳۲۴ والمصنف (عبدالزراق) ج ۲ ص ۴۴۷ و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۲۰ _

۵_ البدء و التاریخ ج ۴ ص ۲۰۲ _

۳۵۲

حضرت ابوبکر کے اہم فضائل

قابل توجہ اور عجیب نکتہ یہ ہے کہ صرف غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مصاحبت اور عمرکے لحاظ سے بزرگی کو سقیفہ کے دن حضرت ابوبکر کے استحقاق خلافت کو ثابت کرنے کیلئے بنیادی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا نہ کہ کسی اور چیز کو_ چنانچہ حضرت عمرنے سقیفہ کے دن کہا''کون ہے جو ان تین صفات کا حامل ہو_ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا واحد ساتھی ہو ،جب وہ محزون ہوئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کہا غم مت کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے''_

حضرت عمرنے مزید کہا کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واحد ساتھی تھا، ابوبکر سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور عمر رسیدہ بھی_عام بیعت کے دن حضرت عمرنے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ساتھی ہے اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ان کے سوا کوئی نہ تھا_ تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کا وہ سب سے زیادہ حقدار ہے_ پس اٹھو اور انکی بیعت کرو''_(۱)

حضرت سلمان سے منقول ہے''اصبتم ذا السن فیکم ولکنکم اخطاتم اهلبیت نبیکم ...'' یعنی تم لوگوں نے عمر رسیدہ شخص کو تو پالیا لیکن اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل سے منحرف ہوگئے_

جب یہودیوں نے حضرت ابوبکر سے اپنے ساتھی (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کا تعارف کرانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بولے :''اے قوم یہودمیں اپنی ان دو انگلیوں کی طرح غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہا تھا''_ حضرت عثمان سے مروی ہے ''ابوبکر صدیق (ہمارے خیال میں اس لفظ کا اضافہ بھی راویوں نے مذکورہ وجوہات کی بنا پر کیا ہے) لوگوں میں اس امر کا سب سے زیادہ حقدار ہے، وہ صدیق ہے ، رسول کا یار غار اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی ہے ''_ابوعبیدہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے_

حضرت علیعليه‌السلام اور زبیر سے منقول ہے ''الغار وشرفہ وکبرہ وصلاتہ بالناس'' یعنی غار، ان کا شرف،

___________________

۱_ ان نصوص کیلئے رجوع ہو مجمع الزوائد ج ۵ ص ۱۸۲ از طبرانی (اس کے راوی ثقہ ہیں) بعض ابن ماجہ سے ہیں سیرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۱۱، البدایة و النہایة ج ۵ ص ۲۴۸ از بخاری نیز السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۵۹، شرح نہج البلاغة معتزلی ۶ ص ۸، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۳۸ و الغدیر ج ۷ ص ۹۲ مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے اور الریاض النضرة ج ۱ ص ۱۶۲_۱۶۶ سے_

۳۵۳

ان کا عمر رسیدہ ہونا اور لوگوں کیلئے ان کا نماز پڑھانا_(۱)

آخر میں عسقلانی یہ کہتا ہے کہ یہ تھے ابوبکر کے وہ چیدہ چیدہ فضائل جن کی بدولت وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے مستحق ٹھہرے اسی لئے عمر بن خطاب نے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھی اور یار غار ہیں وہ سارے مسلمانوں میں تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں''_

جب حضرت ابوبکر کے سب سے بڑے فضائل یہی تھے جن کی بناپر وہ مستحق خلافت ٹھہرے اور یہ لوگ ان کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ پاسکے (جبکہ وہ انصارکے مقابلے میں مشکل ترین بحران سے دوچار تھے اور انہیں ایک ایک تنکے کے سہارے کی بھی ضرورت تھی) تو پھر حضرت علیعليه‌السلام اور ان کے عظیم فضائل (جو روز روشن کی طرح واضح تھے) کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا ان کے مقابلے میں وہ کوئی قابل قبول دلیل قائم کرسکتے ہیں؟ اور کیا ان کے پاس رعب و دبدبے، دہشت اور طاقت کی زبان استعمال کرنے کے علاوہ کوئی جواب موجود ہے؟

پس جب فضیلت تراشی میں مدعی اس فضیلت کو بھی ثابت کرنے سے عاجز رہا اورخالی ہاتھ رہ گیا، یہاں تک کہ بلال کو ان پر ترجیح دی جانے لگی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ حضرت بلال اس کی تردید پر مجبور ہوئے (شاید تاریخ اس کی وجہ بیان نہ کرسکی) اور کہا تم مجھے ان پر ترجیح کیسے دیتے ہو جبکہ میں ان کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں_(۲) تو اب حضرت ابوبکر کی آبرو اور حیثیت کی حفاظت کیلئے کیا رہ جاتا ہے؟

ہم اس سوال کا جواب نکتہ دان اور منصف قاری پر چھوڑتے ہیں_

___________________

۱_ مذکورہ تمام باتوں یا اس کے بعض حصوں کیلئے رجوع کریں شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۶ ص ۸ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۶۶ و سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۵۳ یہ مسئلہ الغدیر ج ۵ ص ۳۶۹ ج۷ ص ۹۲ اور ج ۱۰ ص ۷ میں مکمل یا جزوی طور پر درج ذیل مآخذ سے منقول ہے: مسند احمد ج ۱ ص ۳۵ ،طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۲۸ و نہایہ ابن اثیر ج ۳ ص ۲۴۷ و صفہ الصفوة ج ۱ ص ۹۷ و السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۸۶ الصواعق المحرقہ ص۷ سے، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱ ص ۱۳۱ اور ج ۲ ص ۱۷، الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۹۵ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۴۰ ازطرابلسی (فضائل صحابہ میں) نیز منقول ہے الکنز ج ۳ ص ۱۳۹، ۱۳۶ اور ۱۴۰ سے از ابن ابی شیبہ، ابن عساکر ، ابن شاہین، ابن جریر، ابن سعد اور احمد ،اس کے تمام راوی صحاح والے راوی ہیں_

۲_ الغدیر ج ۱۰ ص ۱۳ از تاریخ ابن عساکر ج ۲ ص ۳۱۴ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۳ ص ۳۱۷_

۳۵۴

حضرت عثمان اور واقعہ غار

ابن مندہ نے ایک بے بنیاد سند کے ساتھ اسماء بنت ابوبکر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا''جب میرا باپ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھا تو میں اس کیلئے کھانا لے گئی تھی اس وقت حضرت عثمان نے آنحضرتعليه‌السلام سے اذن ہجرت مانگا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی''_(۱) لیکن یہ بات واضح ہے کہ حضرت عثمان نے واقعہ غار سے آٹھ سال پہلے حبشہ کو ہجرت کی تھی_ اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں غار سے مراد غار ثور نہیں بلکہ کوئی اور غار ہے تو اس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات دلیل کی محتاج ہے اور ہم تاریخ میں کوئی ایسی دلیل نہیں پاتے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی اور غار میں داخل ہوئے ہوں اور اس میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ایک مدت تک رہے ہوں_ ان باتوں سے قطع نظر پہلے گزر چکا ہے کہ اسماء کا ان دونوں کیلئے غار میں کھانا پہنچانے والی بات ہی بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت علیعليه‌السلام ہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے غار میں کھانا لے کر جاتے تھے_

یوم غار اور یوم غدیر

ابن عماد وغیرہ نے کہا ہے کہ شیعہ حضرات کئی صدیوں سے عاشورا کے دن اپنے آپ کو پیٹنے اور رونے دھونے نیز عید غدیر کے دن قبے بنانے، زیب و زینت کرنے اور دیگر مراسم کے ذریعے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتے آئے ہیں_ اس کے نتیجے میں متعصب سنی طیش میں آئے اور انہوں نے یوم غدیر کے مقابلے میں ٹھیک آٹھ دن بعد یعنی ۲۶ ذی الحجہ کو یوم غار منانے کی بنیاد رکھی اوریہ فرض کرلیا کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر اس تاریخ کو غار میں پنہاں ہوئے تھے_ حالانکہ یہ بات جہالت اور غلطی پر مبنی ہے کیونکہ غار والے ایام کا تعلق قطعی طور پر ماہ صفر اور ربیع الاول کی ابتدا سے ہے''_(۲)

___________________

۱_ کنز العمال ج۲۲ ص ۲۰۸ از ابن عساکر اور الاصابة ج ۴ ص ۳۰۴ _

۲_ شذرات الذہب ج ۳ ص ۱۳۰ و الامام الصادق و المذاھب الاربعة ج ۱ ص ۹۴ و بحوث مع اہل السنة و السلیفة ص ۱۴۵ و المنتظم (ابن جوزی) ج ۷ ص ۲۰۶ ، البدایہ والنہایہ ج۱۱ ص ۳۲۵ ، الخطط المقریزیہ ج۱ ص ۳۸۹ ، الکامل فی التاریخ ج۹ص ۱۵۵ ، نہایة الارب (نویری) ج۱ ص ۱۸۵ ، ذیل تجارب الامم (ابوشجاع) ج۳ ص ۳۳۹ ، ۳۴۰ و تاریخ الاسلام ذہبی (واقعات سال ۳۸۱_ ۴۰۰ ) ص ۲۵_

۳۵۵

یہاں یہ کہنا چاہ یے کہ مذکورہ بات عداوت و جہالت سے عبارت تھی جس نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تھا اور بصیرت زائل کردی تھی کیا یوم غار (جس میں حضرت ابوبکر نے اپنی کمزوری اور بے یقینی کو ظاہر کردیا اور ہر ایک کو معلوم ہوگیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بغیر قیمت کی ادائیگی کے ان کا اونٹ قبول نہیں کیا تھا) یوم غدیر کی مانند ہوسکتا ہے (جس دن خدانے اہلبیت کو ثقلین میں سے ایک قرار دیا جن سے تمسک کرنے والا ہرگزگمراہ نہیں ہوسکتا اور علیعليه‌السلام کو مومنین کا مولا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کا امام قرار دیا) ان کے علاوہ دیگر نکات کو محققین اور بڑے بڑے محدثین نے نقل کیا ہے_

حدیث غار کے بارے میں آخری تبصرہ

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

من کان یخلق ما یقول

فحیلتی فیه قلیلة

جو اپنی طرف سے بنا بناکر باتیں کرتا ہے بس اس کے مقابلے میں کوئی چارہ کار نہیں _

واقعہ غار کے بارے میں بعض لوگوں کی ساختہ وپرداختہ اور پسندیدہ جعلی روایات پر ہم نے جو تبصرہ کیا ہے ،یہاں ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں_ محترم قارئین نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہم نے مذکورہ نصوص کے مآخذ کا زیادہ ذکر نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ ہم نے دیکھا کہ یہ نصوص تاریخ اور حدیث کی مختلف کتابوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور محترم قارئین کو ان کی تلاش و تحقیق کی صورت میں زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی، جس قدر ہم نے عرض کیا شاید قارئین کرام اسی کو کافی سمجھیںگے_

امید ہے کہ مذکورہ عرائض قارئین کو ان بہت ساری باتوں کے بے بنیاد ہونے سے باخبر کریں گے جن کا ہم نے یہاں تذکرہ نہیں کیا، کیونکہ ان کا کذب وبطلان واضح ہے_ اب باری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر آگین سیرت کے ذکر کی طرف دوبارہ پلٹنے کی_ تو آیئےل کے سیرت طیبہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں_

۳۵۶

تیسری فصل

قباکی جانب

۳۵۷

مدینہ کی راہ میں

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ''جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو چونکہ قریش نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گرفتاری پر سواونٹوں کا انعام رکھا تھا اس لئے سراقہ بن جشعم بھی حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچ گیا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا فرمائی ''اے خدا جس طریقے سے تو چا ہے، مجھے سراقہ کے شر سے بچا ''_نتیجتاًسراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے جس سے اس کی ٹانگ دوھری ہوگئی اور وہ مشکل میں پڑگیا اس نے کہا اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''اگر تمہیں یقین ہوکہ میرے گھوڑے کی ٹانگوں پر جو مصیبت آئی ہے وہ تیری طرف سے ہے تو خدا سے دعا کرو کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑ دے_ مجھے جان کی قسم (اس صورت میں) اگر تم لوگوں کو میری طرف سے کوئی نیکی نہ پہنچی تو کم از کم کوئی بدی بھی نہیں پہنچے گی''_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے دعاکی اور اللہ نے اس کے گھوڑے کو آزاد کردیا لیکن وہ دوبارہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا تعاقب کرنے لگا_ یہاں تک کہ تین بار اس واقعے کا تکرار ہوا جب تیسری بار اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رہا ہوئیں تو اس نے کہا:'' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ رہا میرا اونٹ جس پر میرا غلام سوار ہے اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سواری یا دودھ کی ضرورت پڑے تو اس سے استفادہ کر لینا اور یہ رہا بطور نشانی اورعلامت میرے ترکش کا ایک تیر_ اب میں لوٹتا ہوں اور آپ کے تعاقب سے دوسروں کو روکتا ہوں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' مجھے تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں''_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے سراقہ کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ شاید یہ دلیل ہوکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں چاہتے تھے کہ کسی مشرک کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کوئی حق ہواور اس بات کی تائید کرنے والی بعض روایات کا ذکر گزرچکا ہے_اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ام معبد کے خیمے تک پہنچ گئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں

۳۵۸

اتر گئے اور اس عورت کے پاس مہمان بننے کی خواہش کی وہ بولی میرے پاس کچھ بھی موجود نہیں ہے_ اتنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی نظر ایک بکری پر پڑی جوکسی تکلیف کے باعث باقی چوپایوں کے ساتھ نہ جاسکی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کیا اس کو دوہنے کی اجازت ہے؟ وہ بولی ہاں، لیکن اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا تو وہ تمام بھیڑ بکریوں سے زیادہ موٹی تازی ہوگئی پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے تھن پر پھیرا تو اس کے تھن حیرت انگیز طریقے سے بڑھ گئے اور دودھ سے لبریز ہوگئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک برتن مانگ کر دودھ دوہا_ یوں سب نے اتنا دودھ پیا کہ سیر ہوگئے_

پھر ام معبد نے اپنا بیٹا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور پیش کیا جو گوشت کے ایک لوتھڑے کے مانند تھا_ وہ نہ تو بات کرسکتا تھا اور نہ اٹھ سکتا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک کجھور اٹھا کر چبایا اور اس کے منہ میں ڈال دیا_ وہ فوراً اٹھ کر چلنے اور باتیں کرنے لگا_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کجھور کی گٹھلی زمین میں دبادی تو اسی وقت ایک درخت بن گئی اور تازہ کجھور اس سے لٹکنے لگیں_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے آس پاس کی طرف اشارہ کیا تو وہ زمین چرا گاہ بن گئی_

اس کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اس درخت نے پھل نہیں دیا_ جب حضرت علیعليه‌السلام شہید ہوئے تو وہ سوکھ گیااور پھر جب امام حسینعليه‌السلام شہید کئے گئے تو اس سے خون بہنے لگا_(۱)

جب ابومعبد واپس آیا اور وہاں کا منظر دیکھا تو اس کی علت پوچھی_ ام معبد بولی قریش کا ایک مرد میرے ہاں سے گزرا ہے اس کے حالات اور واقعات اس قسم کے تھے (ام معبد نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جو توصیف کی وہ مشہور و معروف ہے)_ یہ سن کر ابومعبد نے جان لیا کہ وہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_ چنانچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس گیا اور اپنے گھرانے کے ساتھ مسلمان ہوگیا_(۲)

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۳۵ از ربیع الابرار _

۲_ ام معبد کا واقعہ مورخین کے درمیان مشہور و معروف ہے_ مذکورہ عبارت ابتدا سے لے کر یہاں تک بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۵_۷۶ سے نقل ہوئی ہے_ جو الخرائج و الجرائح سے لی گئی ہے نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۴، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۱ ص ۲۷۹ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۹ _ ۵۰ و دیگر منابع و مآخذ_

۳۵۹

مشکلات کے بعد معجزات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح کرامات اور روشن معجزات کے سامنے مذکورہ معجزات کی اتنی زیادہ اہمیت نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اشرف المخلوقات تھے اور خدا کے نزدیک تا روز قیامت اولین وآخرین کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقام سب سے زیادہ معزز و مکرم تھا_

دوسری طرف سے ہجرت کی دشواریوں کے فوراً بعد ان کرامات کا ظہور اس حقیقت کی تائید کرتا ہے (جس کا ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں اور وہ یہ) کہ ہجرت کا عمل معجزانہ طریقے سے بھی انجام پاسکتا تھا لیکن اللہ کی منشا بس یہی ہے کہ سارے امور عام اسباب کے تحت انجام پذیر ہوں تاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکلات زندگی سے نبرد آزما ہونے اور دعوت الی اللہ کی سنگین ذمہ داریوں کو( تمام تر سختیوں، مصائب اور کٹھن مراحل میں)بطور احسن نبھانے کے حوالے سے ہر شخص کیلئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ قرار پائیں_ علاوہ ازیں یہ امر انسان کی تربیت اور اس کو تدریجاً معاشرے کا ایک فعال، تعمیری اور مفید عنصر بنانے کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے تاکہ وہ انسان فقط طفیلی یا دوسرے کے رحم وکرم پرہی اکتفا کرنے والا نہ بنا رہے _ان کے علاوہ دیگر فوائد ونتائج بھی ہیں جنہیں گزشتہ عرائض کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے_

امیرالمؤمنینعليه‌السلام کی ہجرت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر ہجرت جاری رکھا یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ کے قریب پہنچے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سب سے پہلے قبا میں عمرو بن عوف کے گھر تشریف لے گئے_ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدینہ میں داخل ہونے کی درخواست کی اور اس پر اصرار کیا_ لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا:'' میں داخل مدینہ نہیں ہوں گا جب تک میری ماں کا بیٹا اور میرا بھائی نیز میری بیٹی( یعنی حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام ) پہنچ نہ جائیں''_(۱)

___________________

۱_ الفصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۵ (یہاں نام لئے بغیر ذکر ہوا ہے) امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ نیز اعلام الوری ص ۶۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴، ۱۰۶، ۱۱۵، ۱۱۶ و ۷۵ اور ۷۶ و ج۲۲ ص ۳۶۶ از الخرائج و الجرائح_

۳۶۰

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

میں بھی یہی کہا گیا ہے_ علاوہ برایں ان اشعار کو پڑھنے والیوں میں کسی ایسے فرد کے موجود ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں جس کی آواز کا سننا حرام تھا_

اگر ہم ان کی ساری باتیں تسلیم کرلیں پھر بھی اس بات کا احتمال ہے کہ ان حالات میں ان لوگوں کو منع کرنا یا ان کو حکم شرعی سے آگاہ کرنا ممکن نہ تھا_ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا سکوت کسی مصلحت کے پیش نظر تھا بنابریں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سکوت سے ان کے عمل کی تائید پر استدلال نہیں کیا جاسکتا_

(ج): رہا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا (نعوذ باللہ ) اپنی آستینوں کو نچانا تو یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان کے منافی ہے جیساکہ فضل بن روزبہان نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے_(۱)

شیخ مظفر کہتے ہیں ''یہ عمل واضح بے وقوفی اور بے حیائی ہے اور ایک رہبر کیلئے بہت بڑا عیب ہے_ نیز ان حالات میں حیا و مروت کے تقاضوں کی زبردست خلاف ورزی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے سخت منافی ہے (کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد لوگوں کی ہدایت، ان کو نقائص اور احمقانہ اعمال سے نجات دلانا اور آخرت کی یاد دلانا تھا)''_(۲)

ان سب باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے واضح طور پر ہر قسم کے لہو ولعب، گانے بجانے اور رقص سے منع فرمایا ہے جیساکہ ہم اس کا جلد تذکرہ کریں گے_

مذکورہ باتوں کی روشنی میں ایک اور روایت (جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے استقبال کے وقت بنی ساعدہ کی عورتوں کے گانے اور دف بجانے سے متعلق ہے) کے ذریعے ان کے استدلال کی کمزوری بھی معلوم ہوجاتی ہے_

یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ غنا اور رقص کے جواز پر ان کے سارے دلائل کو پیش کرنے کے بعد ان پر بحث کی جائے اور پھر اس مسئلے میں قول حق کو بعض دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے_

___________________

۱_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _

۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _

۳۸۱

حلّیت غنا کے دلائل

گانے بجانے اور رقص کرنے کی حلیت پر مذکورہ باتوں کے علاوہ درج ذیل امور سے استدلال کیا گیا ہے:

۱_حلبی نے ابوبشیر سے نقل کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور حضرت ابوبکر حبشیوں کے پاس سے گزرے جبکہ کھیل اور رقص میں مصروف تھے اور کہہ رہے تھے: ''یا ایہا الضیف المعرج طارقاً'' (اے رات کے وقت آنے والے مہمان)_

(حلبی) کہتا ہے: ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں منع نہیں کیا اور ہمارے فقہاء نے رقص کے جواز پر اسی سے استدلال کیا ہے جو اشکال سے خالی ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے سامنے دف کے ساتھ یا اس کے بغیر خوبصورت آوازوں کے ساتھ اشعار گائے جانے کے بارے میں صحیح اور متواتر اخبار موجود ہیں_ انہی روایات کی رو سے ہمارے فقیہوں نے دف بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے اگرچہ گھونگھرؤوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوں''_(۱)

۲_ برید ہ سے مروی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کسی جنگ کیلئے شہر سے خارج ہوئے_ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واپس تشریف لائے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آئی اور بولی:'' میں نے نذرکی ہے کہ اگر اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو صحیح وسالم واپس لوٹائے تو میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی اور گاؤں گی'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اگر تونے نذر کی تھی تو پھر دف بجاؤ وگرنہ نہیں''_ چنانچہ وہ دف بجانے لگی اس دوران حضرت ابوبکر آئے اس کے بعد حضرت علیعليه‌السلام آئے جبکہ وہ دف بجا رہی تھی پھر حضرت عثمان آئے جبکہ ابھی وہ کنیز دف بجانے میں مشغول تھی اس کے بعد حضرت عمر داخل ہوئے پس اس کنیز نے دف کو اپنے سرین کے نیچے رکھا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے وہ گارہی تھی حالانکہ میں بیٹھا ہوا تھا پھر ابوبکر آیا

___________________

۱_ سیرت حلبی ج۲ ص۶۲_

۳۸۲

جبکہ وہ بدستور گاتی رہی تھی ...''_(۱)

۳_حضرت جابر سے منقول ہے حضرت ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں پہنچے اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دف بجایا جارہا تھا وہ بیٹھ گئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا عمل دیکھ کر کچھ نہ کہا_ پھر حضرت عمر آئے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عمر کی آواز سنی تو اس کام سے روکا جب وہ دونوں چلے گئے تو حضرت عائشہ بولیں :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا عمر کے آنے سے حلال چیز حرام بن گئی؟ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اے عائشہ ہر کسی کے ساتھ آزادانہ روش نہیں اپنائی جاسکتی''_(۲)

۴_بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا میرے پاس تشریف لائے اس وقت میرے پاس دو کنیزیں ایک طرب انگیز گیت گارہی تھیں_ (مسلم کے بقول وہ دونوں گا بھی رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا رخ پھیر لیا_ اتنے میں حضرت ابوبکر آئے اور مجھے ڈانٹ کر کہا:'' شیطان کی بانسری اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہاں؟''

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' ان دونوں کو چھوڑ دو''_ مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے ابوبکر ان کو کچھ نہ کہو کیونکہ یہ عید کے ایام ہیں''_(۳)

بعض روایات میں مزید (جیساکہ بخاری میں ہے) مذکور ہے کہ وہ دونوں صرف گانے والیاں نہیں تھیں_

___________________

۱_ اسدالغابة ج۴ ص ۶۴ ، نوادرالاصول ( از حکیم ترمذی) ص ۵۸ و مسند احمد ج۵ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ ( کچھ اختلاف کے ساتھ) نیز دلائل الصدق ج۱ ص ۲۹۱ _ ۳۹۰ از ترمذی ج۲ ص ۲۹۳ جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے _ نیز بغوی نے بھی المصابیح میں اسے صحیح گرداناہے _ نیز رجوع کریں الغدیر ج۸ ص ۶۴ _۶۵ سیرت حلبی ج ۲ ص ۶۲ سنن بیہقی ج۱۰ ص ۷۷ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱_

۲_ نیل الاوطار ج ۸ ص۲۷۱ و نوادر الاصول ( حکیم الترمذی) ص ۱۳۸ ، و الغدیر ج ۸ ص ۶۴ _۶۵ از مشکاة المصابیح ص ۵۵ اور گذشتہ بعض منابع سے_

۳_ صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۱۱ ط المیمنیہ،و صحیح مسلم ج ۳ ص ۲۲ ط مشکول، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۱_۶۲ وحاشیہ ارشاد الساری ج ۴ ص ۱۹۵_۱۹۷ و لائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹ و سنن البیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴، و اللمع لابی نصرص ۲۷۴_ و البدایة و النہایة ج ۱ ص۲۷۶ و المدخل لابن الحاج ج ۳ ص ۱۰۹ و المصنف ج ۱۱ ص ۴ نیز تہذیب تاریخ دمشق ج۲ ص ۴۱۲_

۳۸۳

۵_ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حضرت عائشہ کو ایک حبشی عورت کا ناچ دیکھنے کی دعوت دی_ چنانچہ حضرت عائشہ آئیں اور اپنی ٹھوڑی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کندھے پر رکھ کر دیکھنے لگیں_ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم نے اسے فرمایا:'' کیا ابھی جی نہیں بھرا؟ ابھی سیر نہیں ہوئی؟ اب بھی جی نہیں بھرا ؟''وہ کہتی تھیں:'' نہیں ''تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک اپنے مقام کا اندازہ لگالے_ اتنے میں حضرت عمر آنکلے پس لوگ وہاں سے متفرق ہوگئے اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا: ''میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں''_(۱)

۶_ ابن عباس سے مروی ہےکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کےاصحاب خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور ایک کنیز سارنگی کے ساتھ یہ گارہی تھی_هل علی ویحکم

ان لهوت من حرج

وائے ہو تم پر اگر میں دل بہلانے والا کام کروں تو کیااس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مسکرائے اور بولے:'' انشاء اللہ کوئی حرج نہیں''_(۲)

۷_ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ جب اسے دلہن بناکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بھیجا گیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس آئے اور بیٹھ گئے_ اس وقت چھوٹی لڑکیاں دف بجاتی ہوئی بدر میں قتل ہونے والے اپنے آباء پربین کر رہی تھیں_ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا ''ہمارے درمیان وہ نبی بیٹھا ہوا ہے جو آئندہ کے حالات سے با خبر ہے'' آپ نے فرمایا:'' یوں نہ کہو بلکہ پہلے جو کچھ کہہ رہی تھیں وہی کہو''_(۳)

۸_ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس چند کنیزیں گانے اور کھیلنے میں مشغول تھیں اتنے میں عمر آئے اور اذن چاہا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان عورتوں کو خاموش کرایا اور عمر کی حاجت پوری کردی، پس وہ چلے گئے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جس کی آمد پر

___________________

۱_ دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۰، التاج الجامع (للاصول) ج ۳ ص ۳۱۴ و الغدیر ج ۸ ص ۶۵ از صحیح ترمذی ج ۲ ص ۲۹۴ (ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے) واز مصابیح السنة ج ۲ ص ۲۷۱ از مشکاة المصابیح ص ۵۵۰ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۸ سے حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۷۶۰_۷۶۱ اور منتخب کنز العمال ج ۴ ص ۳۹۳ از ابن عساکر و ابن عدی اور مشکات ص ۲۷۲ از شیخین_ ۲_ السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۶۱ ، التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱ _۱۳۲ از عقد الفرید و غیرہ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۴ ص ۱۳۶_ ۳_البخاری فتح الباری کے حاشیہ کے ساتھ ج۷ ص ۲۴۴_

۳۸۴

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان (کنیزوں) کو خاموش رہنے کا حکم دیاتھا اور اس کے چلے جانے کے بعد دوبارہ گانا شروع کرنے کیلئے کہا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواباً فرمایا:'' یہ وہ شخص ہے جو فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''_(۱)

۹_ ایک روایت یہ کہتی ہے کہ ایک عورت عائشہ کے پاس آئی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عائشہ اسے پہچانتی ہو؟'' وہ بولیں :''نہیں اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا''_ فرمایا :''یہ فلان قبیلے کی گلو کارہ ہے_ کیا تم اس سے گانا سننا چاہتی ہو؟''وہ بولیں:'' ہاں''_ پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو ایک گول طشتری تھمادی، چنانچہ اس نے عائشہ کیلئے ایک گیت گایا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' شیطان نے اس کی ناک کی دونوں سوراخوں میں پھونک ماری ہے''_(۲) ابن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت ابوبکر آئے تب بھی ایک لڑکی دف بجاتی رہی پھر حضرت عمر آئے تب بھی وہ بجاتی رہی لیکن جب حضرت عثمان آئے تو تب وہ چپ ہورہی(۳) شاعر نیل (محمد حافظ ابراہیم) اپنے دیوان میں خلیفہ ثانی کے فضائل گنتے ہوئے کہتا ہے:

ا خاف حتی الذراری فی ملاعبها ---- وراع حتی الغوانی فی ملاهیها

اریت تلک التی لله قد نذرت ---- انشوده لرسول الله تهدیها

ققالت : نذرت لئن عاد النبی لنا ---- من غزوة لعلی دفی اغنیها

ویممت حضره الهادی و قد ملات ---- نوار طلعته ارجاء و ادیها

و استاذنت ومشت بالدف واندفعت ---- تشجی بالحانها ماشاء مشجیها

و المصطفی و ابوبکر بجانبه ---- لا ینکران علیها ما اغانیها

حتی اذا لاح عن بعد لها عمر ---- خارت قواها وکاد الخوف یردیها

و خبات دفها فی ثوبها فرقا ---- منه ووّدت لون الارض تطوّیها

قد کان علم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله یؤنسها---- فجاء بطش ابی حفص یخشیها

فقال مهبط وحی الله مبتسما ---- و فی ابتسامته معنی یواسیها

قد فر شیطانها لما رای عمرا ---- ان الشیاطین تخشی باس مخزیها

___________________

۱_ نہج الحق (دلائل الصدق کے ضمن میں) ج۱ ص ۴۰۲ از غزالی_

۲_ مسند احمد ج۳ ص ۴۴۹_

۳_ مسند احمد ج۴ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ اس سے حضرت عمر کی ہیبت کی نفی لیکن حضرت عثمان کا رعب ثابت ہوتاہے _ مترجم

۳۸۵

اس نے اپنے بچوں تک کو کھیلوں کے مقامات پر ڈرایا_ اور گانے والیوں پر اور لہو و لعب کی جگہوں پر دہشت طاری کرادی_

کیا تونے اس عورت کا ذکر سنا ہے جس نے خدا کی خوشنودی کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک گیت سنانے کی نذر کی تھی_

اس عورت نے کہا میں نے نذر کی تھی کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگ سے واپس آئے تو میں دف بجا کر گاؤں گی_

وہ کنیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس گئی جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور نے پوری وادی کو منور کر رکھا تھا_

اس نے اجازت لی اور دف لےکرچلی پھر اپنی طربناک آواز کا جادو جگانا شروع کیا_

مصطفی اور ابوبکر اسکے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اس کو گانے سے منع نہ کیا_

یہاں تک کہ جب اسے دور سے عمر نظر آیا تو اس کی قوت ماند پڑنے لگی اور قریب تھا کہ خوف سے ہلاک ہوجاتی_

اس نے ڈر کے مارے اپنی ڈفلی کپڑے کے اندر چھپالی اور یہ تمنا کی کہ کاش زمین اس کو اپنے اندر چھپا لیتی_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدااپنی دانش کی بنا پر اس کے مونس تھے لیکن ابوحفضہ (عمر) کی سخت گیری نے اسے وحشت زدہ کردیا_

وحی کے جائے نزول (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا) نے مسکرا کر فرمایا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسکراہٹ میں اس کیلئے تسلی کا سامان تھا_

اس کنیز پر مسلط شیطان نے جب عمر کو دیکھا تو بھاگ گیا_ شیاطین اپنے کو ذلیل کرنے والی طاقت سے ڈرتے ہیں_

یہ وہ قابل ذکر دلائل تھے جن کے ذریعے ان لوگوں نے گانے بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے

۳۸۶

ہمارے خیال میں یہ ساری باتیں ان کے مدعا کو ثابت کرنے کیلئے کسی کام بھی نہیں آسکتیں_

حلیت غنا کے دلائل کا جواب

اگر ہم مذکورہ احادیث کے ضعف کو بیان کرنا چاہیں تو ضروری ہے کہ ان کے اسناد سے چشم پوشی کریں وگرنہ بات لمبی ہوجائیگی اور ممکن ہے کچھ لوگ یہ سوچتے ہوں کہ صحاح ستہ میں موجود اسناد پر تنقید کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں، خاص کر بخاری اور مسلم میں جبکہ گذشتہ احادیث میں سے بعض ان کتب میں موجود ہیں_

ہمارے نزدیک اگرچہ یہ خیال باطل ہے_ اس موضوع پر علماء خاص کر شیخ محمود ابوریہ نے اپنی کتاب ''اضواء علی السنة المحمدیہ'' میں اور اسی طرح دیگر افراد نے بھی گفتگو کی ہے(۱) لیکن اس کے باوجود ہم ان احادیث کی اسناد سے بحث نہیں کرتے (تا کہ ان لوگوں کی دلجوئی ہو اور ان کے جذبات کا احترام عمل میں آئے) بلکہ ان احادیث کے متن سے بحث کرتے ہوئے درج ذیل عرائض پیش کرتے ہیں:

(الف): مذکورہ روایات میں سے بعض کے متون میں زبردست اختلاف ہے خاص کر روایت نمبر۲ اور روایت نمبر۴ جو صحیح بخاری وصحیح مسلم اور دیگر کتب سے مروی ہیں_

(ب): یہ روایات غنا کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ اس کی حلیت پر، بطور مثال: _

۱_روایت نمبر۲ میں حضور کا فرمان ''ان الشیطان لیخاف او لیفرق منک یا عمر'' (اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے) گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتا ہے_ کیونکہ اگر غنا (گانا بجانا) حلال ہوتا (خاص کر نذر کی صورت میں) تو یہ بات درست نہ ہوتی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس عمل کی مذمت کرتے اور اسے شیطانی عمل قرار دیتے_

۲_ روایت نمبر ۳ بھی عائشہ کی طرف سے اعتراض اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جانب سے جواب کے پیش نظر حرمت پر دلالت کر رہی ہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: اضواء علی السنتہ المحمدیہ ، العتب الجمیل اور الغدیر و غیرہ_

۳۸۷

۳_چوتھی روایت میں اسے شیطانی بانسری قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل حرام اور ناپسندیدہ تھا بنابریں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیونکر ایسے امر کے مرتکب ہوئے؟

روزبہان نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم خدا سمجھانے کیلئے ایسا کیا_

لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زبانی طور پر حکم خدا بتادیتے تو کافی بھی ہوتا اور آسان بھی_ علاوہ اس کے اگر مذکورہ بات درست ہوتی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عام لوگوں کے سامنے یہ کام انجام دیتے نہ کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اکیلے ہی سنتے_ پھر جو عمل عقلاء کے نزدیک شیطانی بانسری قرار پائے وہ کیسے حلال ہوسکتا ہے؟

۴_ پانچویں روایت کی رو سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے دیکھ رہا ہوں''_ پس جب یہ کام شیطانوں کے جمع ہونے کا باعث ہو تو پھر اسے حرام ہونا چاہی ے نہ کہ حلال_

۵_ آٹھویں روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا: ''یہ شخص فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''یاد رہے کہ جو کام حلال یا مکروہ ہو وہ باطل و فضول نہیں کہلایا جاسکتا_

۶_ آخری روایت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مغنیہ کے بارے میں فرمایا:''شیطان نے اس کی ناک کے دونوں سوراخوں میں پھونکا ہے''_ یہ بات بھی حرمت پر دلالت کرتی ہے_

(ج): ہم یہ سوال کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کیسا شیطان تھا جو عمر سے خوف کھاتا تھا لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے نہیں؟ نیز جس کام کے بارے میں شیطان عمر سے ڈرے اس عمل کی نذر کیسے درست ہوسکتی ہے؟ جبکہ نذر میں یہ شرط ہے کہ جس چیز کی نذر کی جارہی ہے وہ خدا کی اطاعت اور پسندیدہ عمل محسوب ہو یا کم از کم نا پسندیدہ چیز نہ ہو جیساکہ بیہقی اور ترمذی جیسی حدیث کی کتابوں میں نذرسے متعلقہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے_

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداتو فضول اور باطل باتیں سننے کو ترجیح دیں لیکن حضرت عمر فضولیات سے پرہیز کریں؟ یہاں پر حضرت عمر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے بھی زیادہ با اصول کیسے بن گئے_؟

نیز یہ کیونکر ممکن ہے کہ شیطان تو اس مغنیہ کی ناک میں پھونکے لیکن دوسری طرف سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ عائشہ کو

۳۸۸

اس کے گیت سننے کی دعوت دیں؟ کیا کوئی بھی صاحب عقل شخص اس قسم کے متضاد اعمال بجالا سکتا ہے؟ چہ جائیکہ معصوم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف اس کی نسبت دی جائے_ علاوہ برآن یہ کیسے معقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنے بعض اعمال کو بعض لوگوں (عمر) سے چھپائیں اور اس عمل سے اس شخص کے باخبر ہونے کو اپنے لئے باعث ہتک حرمت سمجھیں لیکن کچھ لوگوں سے اس کو نہ چھپائیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عمل، قبیح یا کم از کم غیر پسندیدہ اور نا مناسب تھا؟

ایک روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر گانے بجانے سے منع کرتے ہیں لیکن دوسری روایت میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ عمر اس امر سے منع کرتے ہیں_

(د): آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عائشہ کو حبشیوں کا رقص دیکھنے کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چہرہ ان کے چہرے سے ملاہواہو؟ اور ساتھ ہی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے یہ بھی کہہ رہے ہوں:'' اے بنی ارفدہ اپنا خیال رکھنا ''_(۱) کیا یہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیا (جو معروف ہے )کے منافی نہیں ؟ یہاں تک کہ روایات کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردہ نشین دوشیزاؤں سے بھی زیادہ باحیا تھے_ کیا مذکورہ عمل اس شخص کو زیب دیتا ہے جو حیا کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہو اور جس کی مسکراہٹ ہی اس کا خندہ تھی؟ کیا یہ عمل اس بات کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی زوجات کو اندھے کی طرف دیکھنے سے منع فرماتے تھے؟ چنانچہ آپ نے اپنی دو بیویوں سے فرمایاتھا:'' کیا تم دونوں بھی اندھی ہو اور اس کو نہیں دیکھ رہی ہو؟''(۲)

(ھ): دف بجانے اور بدر کے مقتولین پر رونے کے درمیان کونسی مناسبت ہے؟ نیز کیا نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سکوت (اگر فی الواقع آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساکت رہے ہوں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا مندی پر دلالت کرتا ہے؟ خاص کر ان حالات میں کہ ان کاموں سے منع کرنے کیلئے تدریجی طریقہ کار کی ضرورت ہو_

اگر کوئی یہ کہے کہ مذکورہ افعال کے مرتکب افراد آپ کے احکام کی اطاعت کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا تو مسلمان ہونا بھی ثابت نہیں ہے_

___________________

۱_ بخاری مطبوعہ میمنیہ ج ۱ ص ۱۱۱ _

۲_ رجوع ہو بطرف مسند احمد ج ۶ ص ۲۹۶ و طبقات ابن سعد و مصابیح بغوی مطبوعہ دار المعرفہ ج۲ ص ۴۰۸ ، الجامع الصحیح ج۵ ص ۱۰۲ اور سنن ابوداؤد ج۴ ص ۶۳ ، ۶۴_

۳۸۹

(و): چھٹی اور آخری عرض یہ کہ گانے بجانے کی حرمت پر بہت ساری روایات صریح انداز میں دلالت کرتی ہیں_ یہ روایات یقینی طور پر متواتر ہیں_یہاں ہم ان روایات میں سے درج ذیل روایتوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں_

۱_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے ''میری امت میں ضرور ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب، ریشم اور معازف (بینڈباجوں) کو حلال سمجھیں گے''_(۱)

۲_ حضرت انس سے مروی مرفوع حدیث (وہ حدیث جس کے راویوں کا ذکرنہ ہو) میں مذکور ہے ''دو آوازیں لعنت اور گناہ کا باعث ہیں ان دونوں سے منع کرتا ہوں ایک بانسری کی آواز اور دوسری طرب انگیز نغمے یا مصیبت کے وقت شیطانی آواز''_

عبدالرحمان بن عوف سے مروی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' میں نے دو احمقانہ اور گناہ آلود آوازوں سے منع کیا ہے ایک لہو ولعب والے نغمے اور شیطانی بانسریوں کی آواز سے اوردوسری مصیبت کے وقت نکالی جانے والی آواز سے'' حسن سے بھی اسی قسم کے الفاظ نقل ہوئے ہیں_(۲)

۳_عمر بن خطاب سے مروی ہے'' گانے والی کنیز کی مزدوری حرام ہے اس کا گانا حرام ہے اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے اس کی قیمت کتے کی قیمت جیسی ہے اورکتے کی قیمت حرام ہے''_(۳)

۴_ ابن عباس سے منقول ہے'' دف بجانا حرام ہے، باجے حرام ہیں، ڈگڈگی (یا ڈھولکی) حرام ہے اور بانسری بھی حرام ہے''_(۴)

___________________

۱_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۱ اور صحیح بخاری و الغدیر ج ۱۸ ص ۷۰ از بخاری از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ مولف کا کہنا ہے کہ اسے احمد، ابن ماجہ و ابونعیم اور ابوداؤد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے کسی نے اس پر اشکال نہیں کیا بعض لوگوں نے تو اس کو صحیح قرار دیا ہے_

۲_ المصنف ج ۱۱ ص ۶ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۸ و تفسیر شوکانی ج ۴ ص ۲۳۶ و الدر المنثور ج ۵ ص ۱۶۰ والغدیر ج ۸ ص ۶۹ جس نے مذکورہ مآخذ سے سوائے پہلے ماخذ کے نقل کیا_ نیز از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۳ نقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۸ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳۰ _

۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ اور الغدیر ج ۸ ص ۶۹_۷۰ از طبرانی و ارشاد الساری_

۴_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ _

۳۹۰

۵_ ابن عباس، انس اور ابوامامہ سے ایک حدیث مرفوع نقل ہوئی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اس امت کے اوپر زمین میں دھنسنے ،پتھر برسنے اور مسخ ہونے کی بلائیں نازل ہوں گی_ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیوں سے استفادہ کریں گے اور باجے بجائیں گے''_(۱)

۶_ انس اور ابوامامہ سے مروی حدیث مرفوع کہتی ہے ''اللہ نے مجھے کائنات کیلئے باعث رحمت بناکر، نیز باجوں بانسریوں اور ایام جاہلیت کے آثار کو مٹانے کیلئے بھیجا ہے''_(۲)

۷_ابوہریرہ سے مروی حدیث مرفوع میں مذکور ہے ''آخری زمانے میں کچھ لوگ بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ ہوجائیں گے''_ لوگوں نے اس کی علت پوچھی تو فرمایا:'' وہ باجوں، ڈھولکیوں اور گانے والیوں سے سروکار رکھیں گے''_

اس قسم کی بات عبدالرحمان بن سابط، غازی بن ربیعہ، صالح بن خالد، انس بن ابی امامہ اور عمران بن حصین سے بھی مروی ہے_(۳)

۸_ ترمذی نے حضرت علیعليه‌السلام سے (بطریق مرفوع)حدیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نقل کیا ہے کہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہوگی تو اس پر بلائیں نازل ہوں گی (ان کے ذکر میں فرمایا) جب وہ گانے والیوں اور باجوں سے بھی سروکار رکھیں گے_

یہی بات ابوہریرہ سے بھی مروی ہے_(۴)

۹_ صفوان بن امیہ سے منقول ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس تھے اتنے میں عمر بن قرہ آیا اور عرض کیا:

___________________

۱_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ وا لغدیر ج ۸ ص ۷۰ از در منثور و از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ اسے طبرانی، احمد اورابن ابی الدنیانے نقل کیا ہے_

۲_ جامع بیان العلم ج ۱ ص ۱۵۳ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۲ و در منثور ج ۲ ص ۳۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۰_۷۱ مذکورہ مآخذ سے _

۳_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ اسے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن عدی، حاکم، بیہقی، داود اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے نیز رجوع ہو المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ _

۴_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ از المدخل ونقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۹ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳ _

۳۹۱

''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے میری قسمت میں شقاوت لکھ دی ہے اسی لئے میں روزی کما نہیں سکتا مگر اپنے ہاتھوں سے ڈھولکی بجاکر_ بنابریں مجھے اجازت دیجئے کہ میں بے حیائی والے کا موں سے ہٹ کر گانے بجانے کا کام کروں''_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تجھے اجازت نہیں دیتا_ اس کام میں نہ عزت ہے نہ شرافت_ اے دشمن خدا تم جھوٹ بولتے ہو_ اللہ نے تجھے پاکیزہ روزی عطا کی ہے لیکن تونے رزق حلال کاراستہ چھوڑ کرحرام روزی کی راہ اپنائی ہے_ خبر دار جو دوبارہ یہ بات کہی تو میں تجھے المناک سزا دوںگا''_(۱)

حلبی نے اس روایت پر یوں تبصرہ کیا ہے:'' مگر یہ کہاجائے کہ یہ نہی (بشرطیکہ صحیح ہو) اس شخص کیلئے ہے جو ڈھولکی بجانے کو پیشہ بنالے_ اس صورت میں یہ عمل مکروہ ہے_ رہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ فرمانا کہ''تم نے راہ حرام کو اختیار کیا'' تو یہ جملہ اس کام کی قباحت کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی کیلئے ہے''_(۲)

لیکن حلبی یہ بھول گئے کہ اگر اس کام کو پیشہ بنانا فقط مکروہ ہوتا تو پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کو المناک سزا دینے کی دھمکی کیوں دیتے؟ اور اسے دشمن خدا کیوں قرار دیتے؟

اس کے علاوہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حرام کو ''طیب'' (پاکیزہ وحلال) کے مقابلے میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حرام سے مراد وہی ''خبیث'' ہے جو قرآن کی اس صریح آیت کے مطابق حرام قرار دی گئی ہے( ویحل لهم الطیبات ویحرم علیهم الخبائث ) (۳) یعنی وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کیلئے حلال اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے_

۱۰_ابوامامہ سے مروی ہے گانے والیوں کو نہ بیچو اور نہ ہی خریدو، اور نہ ان کو تعلیم دو، ان کی تجارت میں کوئی خوبی نہیں_ ان کی قیمت حرام ہے اس قسم کے امور کے بارے میںیہ آیت نازل کی گئی ہے( ومن الناس من یشتری ) (۴)

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۳ از ابن ابی شیبہ_

۲_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۲ _

۳_ سورہ اعراف آیت ۱۵۷_

۴_سورہ لقمان، آیت ۶_

۳۹۲

ایک اور عبارت میںآیا ہے ''گانے والیوں کو تعلیم دینا جائز نہیں اور نہ ہی ان کو بیچنا_ ان کی قیمتیں حرام ہیں_ قرآن کی یہ(مذکورہ) آیت اسی قسم کی چیزوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ...''_(۱)

۱۱_ عائشہ سے مروی ایک حدیث مرفوع کہتی ہے'' خدائے تعالی نے گانے والی کنیزوں، ان کی خریدوفروخت اور قیمت کو حرام قرار دیا ہے _نیز ان کو تعلیم دینا اور ان کو سننا بھی حرام ہے''_ پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ آیت پڑھی (ومن الناس من یشتری لھوالحدیث)(۲)

۱۲_ابن مسعود سے خدا کے اس قول (ومن الناس من یشتری لہوالحدیث) کے بارے میں سوال ہوا تو جواب دیا:'' اللہ کی قسم، اس سے مراد غنا (گانا بجانا) ہے''_ ایک اور عبارت یوں کہتی ہے ''واللہ اس سے مراد غنا ہے قسم ہے اس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں'' _ اور اس کو تین بار دہرایا_

جابر سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد غنا اور اس کا سننا ہے_

علاوہ ان کے ابن عباس ابن عمر، عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد، مکحول، عمرو بن شعیب، میمون بن مہران، قتادہ، نخعی، عطائ، علی ابن بذیمہ، اور حسن نے بھی اس آیت کا مقصود غنا ہی کو قرار دیا ہے_(۳)

___________________

۱_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و تفسیر شوکانی ج ص ۲۳۴ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۲ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ (مذکورہ مآخذ) اور تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۱ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۳۶ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ و ترمذی کتاب ۱۲ باب ۵۱ سے ماخوذ _انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ درج ذیل محدثین نے بھی اس کو نقل کیا ہے_ سعید بن منصور، احمد، ابن ماجة، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبة ، ابن مردویہ ،طبرانی و ابن ابی دنیا_

۲_ الدرالمنثور ج ۴ ص ۲۲۸ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ از در منثور از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ _

۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۱۲۲ و ۲۲۳ و ۲۲۵ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۱۱ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹_۴۰ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۱ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹_۱۶۰ و فتح القدیر ج ۴ ص ۳۴ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۱۶۳ و الغدیر ج ۸ ص ۶۸ مذکورہ مآخذ سے نیز تفسیر قرطبی ج۱۴ ص ۵۱_۵۳ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۴۶ نیز اس کے حاشیے پر تفسیر نسفی ج ۳ ص ۴۶۰ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۷ وغیرہ سے نیز اسے نقل کیا ہے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، بیہقی (شعب ایمان میں) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ و فاریابی اور ابن عساکر نے _

۳۹۳

۱۳_ابلیس سے خدا کے خطاب (واستفززمن استطعت منہم بصوتک)(۱) (یعنی تو جس جس کو اپنی آواز سے پھسلاسکتا ہے پھسلا لے) کے متعلق_ ابن عباس اورمجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد غنا، بانسری اور لہو ہے_(۲)

۱۴_حسن بصری نے یزید کی برائیاں گنتے ہوئے کہا ہے ''وہ اکثر اوقات نشے اور شراب نوشی میں مبتلا رہتا تھا، ریشم پہنتا تھا اور طنبورے (ستار) بجاتا تھا''_(۳)

اہل مدینہ یزید کی جن باتوں کی مذمت کرتے تھے ان میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ وہ شراب پیتا ہے، طنبور بجاتا ہے، گانے والے اس کے پاس سازبجاتے رہتے ہیں_(۴)

۱۵_ابن عباس نے قول خدا ''و انتم سامدون'' کے بارے میں کہا ہے کہ سامدون سے مراد حمیریوں کے لہجے میں گانا ہے_(۵)

۱۶_ جابر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ ابلیس ہی سب سے پہلے رویا دھویا اور سب سے پہلے غنا کا مرتکب ہوا_(۶)

۱۷_حضرت علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ گانے بجانے والے مرد اور عورت کی کمائی حرام ہے_ زنا کرنے والی عورت کی آمدنی حرام ہے اور خدا کا حق ہے کہ وہ حرام سے اگنے والے گوشت کو جنت میں داخل نہ کرے_(۷)

___________________

۱_ سورہ اسراء آیت ۶۴ _

۲_ فتح القدیر ج ۳ ص ۲۴۱ و تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۸۱ تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۹، الغدیر ج ۸ ص ۸۹ ان سے اور تفسیر قرطبی ج ۱۰ ص ۲۸۸ سے و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیرالخازن ج ۳ ص ۱۷۸ اور اس کے حاشیے میں تفسیر نسفی ج ۳ ص ۱۷۸ و تفسیر ابن جزی کلبی ج ۲ ص ۱۷۵ و تفسیر آلوسی ج ۱۵ ص ۱۱۱ _

۳_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۲۵ از تاریخ ابن عساکر ج ۵ ص ۴۱۲ و تاریخ طبری ج ۶ ص ۱۵۷ و تاریخ ابن اثیر ج ۴ ص ۲۰۹ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۱۳۰ و محاضرات الراغب ج ۲ ص ۲۱۴ و النجوم الزہرة ج ۱ ص ۱۴۱ _

۴_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۵۵ از تاریخ طبری ج ۷ ص ۴ و الکامل ابن اثیر ج ۴ ص ۴۵ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۲۱۶ و فتح الباری ج ۱۳ ص ۵۹ _

۵،۶،۷_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷ _

۳۹۴

۱۸_حضرت علیعليه‌السلام نے روایت کی ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دف بجانے، طبل بجانے اور بانسری بجانے سے منع فرمایا ہے_(۱)

یہاں ہم نے جتنا عرض کیا کافی معلوم ہوتا ہے جو حضرات مزید تحقیق کے خواہشمند ہوں وہ ان مآخذ کی طرف رجوع کریں جن کا ہم نے حاشیے میں ذکر کیا ہے_(۲)

غنا کے بارے میں علماء کے نظریات

الغدیر میں مذکور ہے کہ حنفیوں کے امام نے غنا کو حرام قرار دیا ہے_ یہی حکم کوفہ کے علماء (یعنی سفیان، حماد، ابراہیم، شعبی اور عکرمہ) کا بھی ہے_

مالک نے بھی غنا سے منع کیا ہے اور اسے ان عیوب میں شمار کیا ہے جس سے عیب کی حامل کنیز کا سودا فسخ ہوسکتا ہے_ یہی نظریہ سارے اہل مدینہ کا ہے سوائے ابراہیم بن سعد کے_

حنبلیوں کی ایک جماعت سے بھی حرمت کا قول نقل ہوا ہے_ عبداللہ بن احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ اس نے اپنے باپ سے غنا کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا''غنا دلوں میں نفاق پیدا کرتا ہے مجھے یہ

___________________

۱_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷

۲_ ابن الحاج کی کتاب المدخل ج ۳ ص ۹۶ سے ۱۱۵ تک و تفسیر طبری ج ۲۸ ص ۴۸ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ۲۶۳ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۲۸ و ج ۵ ص ۱۱۵ و تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۹۶ و ج ۶ ص ۲۶۰ و الفائق زمخشری ج ۱ ص ۳۰۵ و الدر المنثور ج ۲ ص ۳۱۷_۳۲۴ و ج ۵ ص ۱۵۹ و الغدیر ۸ ص ۶۴ اور اس سے آگے (مذکورہ مآخذ سے) نیز قرطبی ج ۷ ص ۱۲۲ و ج ۱۴ ص ۵۳_۵۴ و الکشاف ج ۲ ص ۲۱۱ و تفسیر آلوسی ج ۷ ص ۷۲ و ج ۲۱ ص ۶۸ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۴ و بہجة النفوس (ابن ابی حجرہ) ج ۲ ص ۷۴ و تاریخ البخاری ج ۴ حصہ اول ص ۲۳۴ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و ۲۴۸ و نہایة ابن اثیر ج ۲ ص ۹۵ و تفسیر خازن ج ۳ ص ۴۶۰ و ج ۴ ص ۲۱۲ و نسفی (اس کتاب کے حاشیے پر) ج ۳ ص ۴۶۰ سے نیز اسے نقل کیا ہے سعید بن منصور، عبد بن حمید، عبدالرزاق، فریابی، ابوعبید، ابن ابی الدنیا، ابن مردویہ، ابوالشیخ، بزار، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے_ رہا ابن زبیر کا یہ قول کہ میں نے مہاجرینتمام کو ترنم کے ساتھ گاتے سنا ہے اس کے متعلق ملاحظہ ہو: المصنف ج۱ ص ۵ ، ۶ نیز سنن بیہقی ج۱۰ ص ۲۲۵_ تو اس سے مراد غنا نہیں بلکہ ترنم کے ساتھ شعر پڑھنا ہے جیساکہ ابن الحاج نے ج ۳ ص ۹۸ و ۱۰۸ میں ذکر کیا ہے_

۳۹۵

ناپسندہے'' پھر مالک کا یہ قول نقل کیا کہ اسے فقط فاسق لوگ انجام دیتے ہیں_

مزنی جیسے مذہب شافعی سے آگاہ شافعیوں کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ حرمت کے قائل تھے_ ان لوگوں نے حلیت کے قائل افراد پر اعتراض کیا ہے مثلاً قاضی ابوطیب نے غنا کی مذمت اور ممانعت کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کی ہے_ ابوبکر طرطوشی نے بھی غناپر ایک کتاب لکھی ہے_ طبری کے علاوہ شیخ ابواسحاق نے'' التنبیہ'' نامی کتاب میں اسے حرام قرار دیا ہے_ محاسبی، نحاس اور قفال نے اسے صریحاً حرام قرار دیا ہے_ نیز قاسم بن محمد، ضحاک، ولید بن یزید، عمر بن عبدالعزیز اور دیگر بے شمار علماء نے اس سے منع کیا ہے_

ابن صلاح نے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں کے اہل حل وعقد کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے_

طبری نے کہا ہے کہ مختلف شہروں کے رہنے والے اس کی کراہت اور ممنوعیت پر متفق الخیال ہیں سوائے ابراہیم ابن سعد اور عبداللہ عنبری کے، مذکورہ باتوں کیلئے رجوع ہو الغدیر ج ۸ ص ۷۲_۷۴ اور المدخل (از ابن الحاج) ج ۳ صفحہ ۹۶ تا ۱۱۵ کے طرف_ اس میں مزید باتیں بھی درج ہیں جن کا ہم نے اختصار کی وجہ سے ذکر نہیں کیا_ جو مزید جستجو کا طالب ہو وہ اس کی طرف رجوع کرے_

غنا اہل کتاب کے نزدیک

چونکہ غنا کا اسلامی تعلیمات سے کوئی رابطہ نہیں اس لئے یہ سوال ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کہاں سے بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ اس کی حلیت اور اس پر مداومت کی تاکید کرنے لگ گئے؟ بلکہ بات یہاں تک پہنچی کہ یہ مسئلہ صوفیوں کی امتیازی علامت بن گیا جیساکہ سب کو معلوم ہے_ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو اہل کتاب سے اخذکیا ہے_

چنانچہ ابن کثیرعمران کی بہن مریم ( حضرت موسیعليه‌السلام کے دور میں زندگی بسر کرتی تھی) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:''مریم کا اس دن جو کہ ان کے نزدیک سب سے بڑی عید کا دن تھا دف بجانا اس

۳۹۶

بات کی دلیل ہے کہ عید کے دن دف بجانا ہمارے دین سے پہلے جائز تھا''_(۱)

اس کے بعد ابن کثیر نے مریم والی اس روایت سے استنباط کرتے ہوئے عیدوں اور مسافروں کی واپسی کے مواقع پر جواز کا فتوی دیا ہے_

جعل سازی کا راز

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام اور اسلام کی طرف مذکورہ باتوں کی نسبت دینے کی وجہ درج ذیل امور ہوسکتے ہیں_

۱_ حضرت عائشہ اور حضرت عمر غنا اور موسیقی کو پسند کرتے اور سنتے تھے_

حضرت عائشہ کے بارے میں تو بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ وہ اس کام کی حوصلہ افزائی کرتی اور کہتی تھیں''فاقدروا قدر الجاریة الحدیثة السن، الحریصة علی اللهو'' (۲) یعنی اس نوجوان لونڈی کی قدر کرو جو گانے کی شوقین ہو_

نیز انہوں نے ایک گویے (مرد) کو اجازت دی کہ وہ بعض کمسن لونڈیوں کیلئے گائے البتہ بعد میں انہوں نے اس کو نکال دینے کا حکم دیا تھا_(۳) ادھر خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے بارے میں ابن منظور نے کہا ہے ''بتحقیق عمرنے بادیہ نشینوں کے غنا کی اجازت دی تھی''_(۴) خواّت بن جبیر نے حضرت عمرسے گانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دی_ چنانچہ خواّت نے گانا شروع کیا اور حضرت عمر نے کہا:'' آفرین اے خوات، آفرین اے خوات''_(۵)

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_

۲_ عبد الرزاق کی کتاب المصنف ج ۱۰ ص ۴۶۵ صحیح بخاری مطبوعہ مشکول ج ۹ ص ۲۲۳ و ۲۷۰ و حیات الصحابة ج ۲ ص ۷۶۱ از مشکاہ ص ۳۷۲ از شیخین (بخاری و مسلم) و دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳ _

۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ _

۴_ لسان العرب ج ۱۵ ص ۱۳۷ لفظ غنا کی بحث میں _

۵_ الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _

۳۹۷

نیز انہوں نے یہ بات سنی کہ رباح بن مغترف گاتا ہے چنانچہ انہوں نے اس کی تحقیق کی تو لوگوں نے اس کے بارے میں اطلاع دی، حضرت عمر بولے :''اگر تم یہ کام کرنا چاہتے ہو تو تمہیں چاہیئے کہ ضرار بن خطاب کے اشعار پر توجہ دو''_ قریب قریب یہی بات خوات کے ساتھ بھی کہی_(۱)

علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ عمر اپنے راستے پر جا رہے تھے اس دوران انہوں نے کچھ گایا پھر کہا کہ''جب میں نے گایا تو تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں ٹوکا؟''_(۲)

شوکانی اور عینی نے عمر اور عثمان کو ان لوگوں میں سے قرار دیا ہے جنہوں نے غنا کو جائز قرار دیا ہے_(۳)

نیز حضرت عمرنے زید بن سلم اور عاصم عمر سے دوبارہ گانے کیلئے کہا اور اظہار نظر بھی فرمایا جیساکہ ابن قتیبہ نے ذکر کیا ہے_(۴)

بنابریں گذشتہ روایات میں سے اکثر میں حضرت عمر کے ساتھ اس بات کی جعلی نسبت (کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے گھر میں گانے والیوں کو منع کرتا تھا) دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان (عمر) کے بارے میں معروف بات کو مشکوک بنا دیا جائے یا یہ کہ غنا سے ان کو جو واسطہ رہا تھا اس کی قباحت میں کمی کی جاسکے کیونکہ جب لوگ یہ دیکھ لیں کہ رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم توخود غنا سنتے تھے، اپنے گھر میں شیطانی آلات (بانسری وغیرہ) رکھتے اور لہویات سننے سے شغف رکھتے تھے تو اس کے بعد کوئی اور شخص ان اعمال کا مرتکب ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت محسوس نہ ہو_

۲_ مذکورہ روایات (جو غنا کی حلیت کو ثابت کرنا چاہتی ہیں) کی اکثریت کا مقصد حضرت عائشہ کے کردار کو بیان کرنا ہے یہاں تک کہ ان روایات کی رو سے جب وہ حبشیوں کا رقص دیکھ رہی تھیں تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ

___________________

۱_ نسب قریش (مصعب) ص ۴۴۸ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از سنن بیہقی واز استیعاب ج ۱ ص ۸۶ و ۱۷۰ و از الاصابة ج ۱ ص ۵۰۲ و ۴۵۷ و ج ۸ ص ۲۰۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ و تاریخ ابن عساکر ج ۷ ص ۳۵ نیز الاصابہ ج۲ ص ۲۰۹_

۲_ الغدیر ج ۸ ص ۸۰ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _

۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۶ و الغدیر ج ۷ ص ۷۸ از نیل الاوطار و از عمدة القاری در شرح صحیح بخاری ج ۵ ص ۱۶۰ _

۴_ عیون الاخبار ج ۱ ص ۳۲۲ _

۳۹۸

ان سے فرما رہے تھے کہ کیاابھی تم سیر نہیں ہوئی؟ اور وہ کہتی تھیں ''نہیں''_ تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے نزدیک اپنا مقام دیکھ لیں_ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک (خفیہ) ہاتھ اس کوشش میں مصروف تھاکہ حضرت عائشہ کیلئے فضائل تراشے اور یہ ثابت کرے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کی پسند کا خیال رکھتے اور ان سے محبت کرتے تھے_ علاوہ بر این ان روایات میں اس بات کے واضح اشارے ملتے ہیں کہ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کیلئے فضائل ثابت کرنے نیز اسلام سے ان کے تمسک اور ان کی جانب سے اسلام کی حمایت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگرچہ اس مقصد کے حصول کیلئے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عزت وشرف اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عفت وپاکیزگی کو داغدار بنانے کی ضرورت کیوں نہ پڑے_

۳_ ہم امویوں اور عباسیوں کو بھی نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹی احادیث وضع کرنے کے عمل سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے_ کیونکہ ان کے درمیان ایسے لوگ موجود تھے جو ان کے ہر فعل کو شریعت اور قداست کا لباس پہنانے کی کوشش میں رہتے تھے_چنانچہ غیاث ابن ابراہیم اور ابوالبختری کے ساتھ مہدی عباسی کا قصہ ہمارے سامنے ہے جب وہ مہدی کے پاس پہنچا تو اسے کبوتربازی میں مشغول پایا_ اس نے یہ حدیث بیان کی ''لاسبق الا فی خف او نصل او حافر'' یعنی شرط لگانا جائز نہیں مگر ٹاپوں والے حیوانات (مثلا اونٹ) کی دوڑ یا تیر اندازی یا کھروں والے حیوانات (مثلا گھوڑے وغیرہ) کی دوڑ میں پھر اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے کہا ''اوجناح'' (یعنی اڑنے والے پرندوں میں بھی جائز ہے) تاکہ یوں مہدی کے شوق کی تسکین ہو_ چنانچہ مہدی نے اسے پیسوں کی ایک تھیلی دیئے جانے کا حکم دیا_ جب وہ نکل گیا تو مہدی نے کہا :''میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری پشت ایک کذاب کی پشت ہے''_(۱)

ہم تاریخ وادب کی کتابوں میں گانے بجانے اور لہو ولعب پر اموی اور عباسی خلفاء کی توجہ کے بارے میں عجیب وغریب باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں_وہ گانے والوں کو دسیوں سینکڑوںبلکہ ہزاروں گنابڑے انعامات

___________________

۱_ الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة (مصنفہ قاری) ص ۴۶۹ و اللئالی المصنوعة ج۲ ص۴۷۰ و الموضوعات (ابن جوزی) ج ۱ ص ۴۲ و لسان المیزان ج ۴ ص ۴۲۲ و میزان الاعتدال ج ۳ ص ۳۳۸ والمجروحون ج۱ ص ۶۶ ، تاریخ الخلفاء ص ۲۷۵ نیز المنار المنیف ص ۱۰۷_

۳۹۹

دیتے تھے_(۱) یہاں تک کہ اسحاق موصلی (جو موسیقی دانوں کا استاد تھا) نے کہا:'' اگرہادی زندہ رہتا تو ہم اپنےگھروں کی دیواریں سونے اور چاندی سے بناتے''_(۲)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبا میں نزول

کہتے ہیں کہ اس پرشکوہ استقبال کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، قبا کی جانب چلے اور قبیلہ عمرو بن طوف میں کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_

اس دن حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر میں داخل ہونے پر بہت اصرار کیا لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انکار فرمایا اور بتایا کہ جب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا کا بیٹا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا برادر دینی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھرانے میں آپ کے نزدیک، سب سے عزیز ہستی (جس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بقول اپنی جان کے بدلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچائی تھی) نہ پہنچے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں سے کوچ نہیں کریں گے_ یہ سن کر حضرت ابوبکر کی طبیعت ہی مکدر ہوگئی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہو کراس رات شہر مدینہ میں داخل ہوئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا وہیں امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے منتظر رہے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فواطم (فاطمہ کی جمع _ یعنی فاطمہ زہراعليه‌السلام ، فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب )اور ام ایمن(۳) کے ساتھ نیمہ ربیع الاول کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں پہنچ گئے(۴) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_(۵)

___________________

۱_ ربیع الابرار ج ۱ ص ۶۷۵ جس میں مذکور ہے کہ اس نے ابراہیم موصل کو بہترین موسیقی کے انعام میں ایک لاکھ،درہم دیئے اس سلسلے میں ابوالفرج نے اپنی کتاب الاغانی میں جن موارد کا ذکر کیا ہے اس کا مطالعہ کافی ثابت ہوگا_

۲_ حیاة الامام الرضا السیاسیة (از مولف کتاب ہذا) ص ۱۱۸ از الاغانی مطبوعہ دار الکتب قاھرہ ج ۵ ص ۱۶۳_

۳_ البحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ و ۱۱۵،۱۱۶ و ۷۵،۷۶ و ۶۴ از روضة الکافی ص ۳۴۰ و اعلام الوری ص ۶۶ و الخرائج و الجرائح نیز رجوع ہو الفصول المھمة (ابن صباغ مالکی )ص ۳۵ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_

۴_ امتاع الاسماع ص ۴۸ _

۵_ البحار ج ۱۹ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۹۷ _

۴۰۰

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417