الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 210029 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

وہ راضی نہ بھی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ڈاکٹر کو مریض کی بیماری کی تفصیلات بتائی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے چاہے مریض راضی نہ بھی ہو۔

3۔ جس شخص کی غیبت ہورہی ہے اُسے معین کریں لیکن اگر یوں کہیں کہ بعض لوگ یوں ہیں اور سننے والے اُن بعض لوگوں کو نہ پہچان سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔

4۔ کبھی غیبت تو نہیں ہوتی ہے لیکن بات تحقیر اور بدکاری کی اشاعت تک پہنچ جاتی ہے تو یہ بھی حرام ہے۔

سوالات

1۔غیبت کے کوئی بھی پانچ آثار بیان کیجئے ؟

2۔غیبت کرنے کی پانچ وجوہات بیان کیجئے ؟

3۔غیبت سننے والے کی کیا ذمہ داری ہے ؟

4۔غیبت ترک کرنے کے طریقے بیان کریں؟

۱۸۱

درس نمبر29 ( گناہ اور اس کے آثار )

ہر انسان ذاتی طور پر اور باطنی لحاظ سے پاک و سالم اس دنیا میں آتا ہے۔

حرص، حسد، بخل، ریاکاری، فسق و فجور او ردیگر گناہ انسان کی ذات میںنہیںہوتے ۔ حضرت رسول اکرم (ص) سے روایت ہے :

(کُلُّ مَولودٍ یولد عَلَی فِطْرَةِ السْلَامِ، حَتّی یَکُونَ ابواه یهودانه وینصِّرانه) (1)

'' ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے،مگر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی بنادیتے ہیں .''

منحرف استاد، منحرف معاشرہ اور منحرف سماج، انسان کی گمراہی میں بہت زیادہ موثر ہوتے ہیں۔

چنانچہ انسان انھیں اسباب کی بنا پر فکری و عملی اور اخلاقی لحاظ سے گمراہ ہوجاتا ہے ، اور گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہے،

کیا کیاچیزیں گناہ ہیں ؟

حضرت امام صادق علیہ السلام ' کے کلام میں درج ذیل چیزوں کو گناہوں کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوارج2813؛باب 11،حدیث 22.

۱۸۲

'' واجبات الٰہی کا ترک کرنا، حقوق الٰہی جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، جہاد، حج، عمرہ، وضوء ،

غسل، عبادت ِشب، کثرت ذکر، کفارہ قسم، مصیبت میں کلمہ استرجاع(انا ﷲ و انا الیه راجعون) وغیرہ کہنے سے غفلت کرنا، اور اپنے واجب و مستحب اعمال میں کوتاہی

ہونے کے بعد ان سے روگردانی کرنا۔، معصیت الٰہی کی طرف رغبت رکھنا، بری چیزوں کو اپنانا، شہوات میں غرق ہونا،، غرض یہ کہ عمدی یا غلطی کی بنا پر ظاہری اور مخفی طور پر معصیت خدا کرنا۔کسی کا ناحق خون بہانا، والدین کا عاق ہونا، قطع رحم کرنا، میدان جنگ سے فرار کرنا، باعفت شخص پر تہمت لگانا، ناجائز طریقہ سے یتیم کا مال کھانا، جھوٹی گواہی دینا، حق کی گواہی سے کترانا، دین فروشی، ربا خوری، خیانت، مال حرام ،جادو، غیب کی باتیں گڑھنا، نظر بد ڈالنا، شرک، ریا، چوری، شراب خوری، کم تولنا اور کم ناپنا، ، کینہ و دشمنی، منافقت ، عہد و پیمان توڑدینا، خوامخواہ الزام لگانا،فریب اور دھوکہ دینا، اہل ذمہ سے کیا ہوا عہدو پیمان توڑنا، قسم، غیبت کرنایا سننا، چغلی کرنا، تہمت لگانا، دوسروں کی عیب تلاش کرنا، دوسروں کو بُرا بھلا کہنا، دوسروں کو بُرے ناموںسے پکارنا، پڑوسی کو اذیت پہچانا، دوسروں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، اپنے اوپر بلا وجہ فخر و مباہات کرنا، گناہوں پر اصرار کرنا، ظالموں کا ہمنوا بننا، تکبر کرنا غرور سے چلنا، حکم دینے میں ستم کرنا، غصہ کے عالم میں ظلم کرنا، کینہ و حسد رکھنا، ظالموںکی مدد کرنا، دشمنی اور گناہ میں مدد کرنا، اہل و عیال اور مال کی تعداد میں کمی کرنا، لوگوں سے بدگمانی کرنا، ہوائے نفس کی اطاعت کرنا، شہوت پرستی ،برائیوں کا حکم دینا، نیکیوں سے روکنا، زمین پر فتنہ و فساد پھیلانا، حق کا انکار کرنا، ناحق کاموں میں ستمگروں سے مدد لینا، دھوکا دینا، کنجوسی کرنا، نہ جاننے والی چیز کے بارے میں گفتگو کرنا، خون پینا، سور کا گوشت کھانا، مردار یا

۱۸۳

غیر ذبیحہ جانور کا گوشت کھانا،حسد کرنا، کسی پر تجاوز کرنا، بری چیزوں کی دعوت دینا، خدا

کی نعمتوں پر مغرور ہونا، خودغرضی دکھانا، احسان جتانا، قرآن کا انکار کرنا، یتیم کو ذلیل کرنا، سائل کو دھتکارنا، قسم توڑنا، جھوٹی قسم کھانا، دوسروں کی ناموس اور مال پر ہاتھ

ڈالنا، برا دیکھنا ،برا سننا اور برا کہنا، کسی کو بری نظر سے چھونا، دل میں بُری بُری باتیں سوچنااور جھوٹی قسم کھانا۔۔۔''۔(1)

گناہوں کے برے آثار :

قرآن مجید کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں گناہوںکے برُے آثارنمایاں ہوتے ہیں کہ اگر گناہگار اپنے گناہوں سے توبہ نہ کرے تو بے شک ان کے برے آثار میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

1۔دائمی جھنم :

( بَلَی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَةً وَأحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ فَاُوْلَئِکَ أصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ).(2)

'' یقینا جس نے کوئی برائی کی اور اس کی غلطی نے اسے گھیر لیا ، تو ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ''۔

2۔ اعمال کی بربادی :

( قُلْ هَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْأخْسَرِینَ أعْمَالًا٭ الَّذِینَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَهُمْ یَحْسَبُونَ أنَّهُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا ٭ اُولَئِکَ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) بحار الانوار ج 94، ص 328 باب 2

(2)سورۂ بقرہ آیت81.

۱۸۴

فَحَبِطَتْ أعْمَالُهُمْ فَلاَنُقِیمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَزْنًا). ( 1 )

'' اے پیغمبر کیا ہم تمہیں ان لوگوں کے بارے میں اطلا ع دیں جو اپنے اعمال میں

بدترین خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی ٔ دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ

خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجا م دیں رہے رہیں،یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے

آیات پروردگار اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، ان کے اعمال برباد ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے ''۔

3۔ درد ناک عذاب :

( فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَهُمْ اﷲُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَاب ألِیم...) .(2)

'' ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے نفاق کی بنا پر اسے اور بھی بڑھا دیا ہے ،اب اس جھوٹ کے نتیجہ میں دردناک عذاب ملے گا...''۔

4۔ کفر کی موت :

( وَأمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَض فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إلَی رِجْسِهِمْ...) .(3)

'' اور جن کے دلوں میں مرض ہے ان کے مرض میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں''۔

5۔شکم میں آگ :

(إنَّ الَّذِینَ یَاْکُلُونَ أمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إنَّمَا یَاْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا) .(4)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ کہف آیت ،103۔105. (2)سورۂ بقرہ آیت10. (3)سورۂ توبہ آیت125. (4)سورۂ نساء آیت ،10.

۱۸۵

'' جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے

ہیں اور وہ عنقریب واصل جہنم ہوں گے ''۔

6۔گمراہی :

(مَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ أعْمَالُهُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیحُ فِی یَوْمٍ عَاصِفٍ لاَیَقْدِرُونَ مِمَّا کَسَبُوا عَلَی شَیْئٍ ذَلِکَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِیدُ) .(1)

'' جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی مانند ہے جسے آندھی کے دن کی تند ہوا اڑا لے جائے کہ وہ اپنے حاصل کئے ہوئے پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے اور یہی بہت دور تک پھیلی ہوئی گمراہی ہے''۔

اس طرح کی آیات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ گناہوں کے بُرے آثار اس سے کہیں زیادہ ہیں، مثلاً:آتش جہنم میں جلنا، عذاب کا ابدی ہونا، دنیا و آخرت میںنقصان اور خسارہ میں رہنا، انسان کی ساری زحمتوں پر پانی پھرجانا، روز قیامت ]نیک[ اعمال کا حبط ]یعنی ختم[ ہوجانا، روز قیامت اعمال کی میزان قائم نہ ہونا، توبہ نہ کرنے کی وجہ سے گناہوں میں اضافہ ہونا، دشمنان خدا کی طرف دوڑنا، انسان سے خدا کا تعلق ختم ہوجانا، قیامت میں تزکیہ نہ ہونا، ہدایت کا گمراہی سے بدل جانا،مغفرت الٰہی کے بدلہ عذاب الٰہی کا مقرر ہونا۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک تفصیلی روایت میں گناہوں کے برے آثار کے بارے میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ ابراہیم آیت ،18.

۱۸۶

1۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں تبدیل ہوجاتی ہیں :

عوام الناس پرظلم و ستم کرنا، کار خیر کی عادت چھوڑ دینا، نیک کام کرنے سے دوری کرنا، کفران نعمت کرنا اور شکر الٰہی چھوڑ دینا۔

2۔جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیں :

قتل نفس، قطع رحم ،وقت ختم ہونے تک نماز میں تاخیر کرنا ،وصیت نہ کرنا، لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنا، زکوٰة ادانہ کرنا، یہاں تک کہ اس کی موت کا پیغام آجائے اور اس کی زبان بند ہوجائے۔

3۔جن گناہوں کے ذریعہ نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں :

جان بوجھ کر ستم کرنا، لوگوں پر ظلم و تجاوز کرنا، لوگوں کا مذاق اڑانا، دوسرے لوگوں کو ذلیل کرنا۔

4۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان تک نعمتیں نہیں پہنچتیں :

اپنی محتاجگی کا اظہار کرنا،نماز پڑھے بغیر رات کے ایک تہائی حصہ میں سونا یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے، صبح میں نماز قضا ہونے تک سونا، خدا کی نعمتوں کو حقیر سمجھنا، خداوندعالم سے شکایت کرنا۔

5۔جن گناہوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے :

شراب پینا، جوا کھیلنا یا سٹہ لگانا، مسخرہ کرنا، بیہودہ کام کرنا، مذاق اڑانا ، لوگوں کے عیوب بیان کرنا، شراب پینے والوں کی صحبت میں بیٹھنا۔

۱۸۷

6جو گناہ نزول بلاء کا سبب بنتے ہیں :

غم زدہ لوگوں کی فریاد رسی نہ کرنا، مظلوموں کی مدد نہ کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے الٰہی فریضہ کا ترک کرنا۔

7۔جن گناہوں کے ذریعہ دشمن غالب آجاتے ہیں :

کھلے عام ظلم کرنا، اپنے گناہوں کو بیان کرنا، حرام چیزوں کو مباح سمجھنا، نیک و صالح لوگوں کی نافرمانی کرنا، بدکاروں کی اطاعت کرنا۔

8۔جن گناہوں کے ذریعہ عمر گھٹ جاتی ہے :

قطع تعلق کرنا، جھوٹی قسم کھانا، جھوٹی باتیں بنانا، زناکرنا، مسلمانوں کا راستہ بند کرنا، ناحق امامت کا دعویٰ کرنا۔

9۔جن گناہوں کے ذریعہ امیدٹوٹ جاتی ہے :

رحمت خدا سے ناامیدہونا، لطف خدا سے زیادہ مایوس ہونا، غیر حق پر بھروسہ کرنا اور خداوندعالم کے وعدوں کو جھٹلانا۔

10۔جن گناہوں کے ذریعہ انسان کا ضمیر تاریک ہوجاتا ہے :

سحر و جادو اور غیب کی باتیں کرنا، ستاروں کو موثر ماننا، قضا و قدر کو جھٹلانا، عقوق والدین ہونا۔

11۔جن گناہوں کے ذریعہ ]احترام کا[ پردہ اٹھ جاتا ہے :

واپس نہ دینے کی نیت سے قرض لینا، فضول خرچی کرنا، اہل و عیال اور رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں بخل کرنا، بُرے اخلاق سے پیش آنا، بے صبری کرنا، بے حوصلہ ہونا،

۱۸۸

اپنے کو کاہل جیسا بنانااوراہل دین کو حقیر سمجھنا۔

12۔جن گناہوں کے ذریعہ دعا قبول نہیں ہوتی :

بری نیت رکھنا، باطن میں برا ہونا، دینی بھائیوں سے منافقت کرنا، دعا قبول ہونے کا یقین نہ رکھنا، نماز میں تاخیر کرنا یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہوجائے، کار خیر اور صدقہ کو ترک کرکے تقرب الٰہی کو ترک کرنا اور گفتگو کے دوران نازیبا الفاظ استعمال کرنا اور گالی گلوچ دینا۔

13۔جو گناہ باران رحمت سے محرومی سبب بنتے ہیں :

قاضی کاناحق فیصلہ کرنا، ناحق گواہی دینا، گواہی چھپانا، زکوٰة اور قرض نہ دینا، فقیروں اور نیازمندوں کی نسبت سنگدل ہونا، یتیم اورضرورت مندوں پر ستم کرنا، سائل کو دھتکارنا، رات کی تاریکی میں کسی تہی دست اور نادار کو خالی ہاتھ لوٹانا۔(1)

حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں فرماتے ہیں :

(لَوْ لَمْ یَتَوَعَّدِ اللّٰهُ عَلٰی مَعْصِیَتِهِ لَکانَ یَجِبُ أن لا یُعْصیٰ شُکْراً لِنِعَمِهِ:) (2)

'' اگر خداوندعالم نے اپنے بندوں کو اپنی مخالفت پر عذاب کا وعدہ نہ دیا ہوتا، تو بھی اس کی نعمت کے شکرانے کے لئے واجب تھا کہ اس کی معصیت نہ کی جائے''۔

قارئین کرام! خداوندعالم کی بے شمار نعمتوں کے شکرکی بنا پر ہمیں چاہئے کہ ہر طرح کی

معصیت اور گناہ سے پرہیز کریں اور اپنے بُرے ماضی کو بدلنے کے لئے خداوندعالم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)معا نی الاخبار 270،باب معنی الذنوب التی تغیر النعم ،حدیث 2؛وسائل الشیعہ ،ج16،ص281،باب 41،حدیث 21556؛ بحار الانوار،ج70،ص375،باب 138،حدیث 12.

(2)نہج البلاغہ ،حکمت 842،حکمت 290؛بحار الانوار ج70،ص364،باب 137،حدیث 96.

۱۸۹

کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کریں کیونکہ توبہ استغفار کی بنا پر خداوندعالم کی رحمت و

مغفرت اور اس کا لطف و کرم انسان کے شامل حال ہوتا ہے۔

سوالات :

1۔ہر انسان دنیا میں پاک و پاکیزہ آتا ہے اس سلسلے میں پیغمبر اسلام(ص) نے کیا فرمایا ہے ؟

2۔حضرت امام جعفر صادق (ع) کی حدیث کی روشنی میں دس گناہوں کے نام بتایئے ؟

3۔قرآنی آیات کی روشنی میں گناہ کے پانچ آثار کی طرف اشارہ کیجئے ؟

4۔امام زین العابدین کی روایت کی روشنی میں جو گناہ ندامت اور پشیمانی کے باعث ہوتے ہیںبیان کیجئے َ

5۔وہ گناہ بیان کیجئے جن سے عمر گھٹ جاتی ہے؟

6۔حضرت امیر المومنین علیہ السلام گناہوں کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟

۱۹۰

درس نمبر30 ( توبہ )

توبہ یعنی خداوندعالم کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کی طرف پلٹنا ،جنت میں پہونچنے کی صلاحیت کا پیدا کرنا، عذاب جہنم سے امان ملنا، گمراہی کے راستہ سے نکل آنا، راہ ہدایت پر آجانا اور انسان کے نامہ اعمال کا ظلمت و سیاہی سے پاک و صاف ہوجانا ہے؛اس کے اہم آثار کے پیش نظریہ کہا جاسکتا ہے کہ توبہ ایک عظیم مرحلہ ہے ، اور ایک روحانی اور آسمانی واقعیت ہے ۔

لہٰذا فقط ''استغفر اﷲ'' کہنے، یا باطنی طور پر شرمندہ ہونے اور خلوت و بزم میں آنسو بہانے سے توبہ حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ جولوگ اس طرح توبہ کرتے ہیں وہ کچھ ہی مدت کے بعد دوبارہ گناہوں کی طرف پلٹ جاتے ہیں !

گناہوں کی طرف دوبارہ پلٹ جانا اس چیز کی بہترین دلیل ہے کہ حقیقی طور پر توبہ نہیں

ہوئی اور انسان حقیقی طور پر خدا کی طرف نہیں پلٹا ہے۔

حقیقی توبہ اس قدر اہم اور باعظمت ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور الٰہی تعلیمات اس سے مخصوص ہیں۔

امام علی کی نظر میںحقیقی توبہ :

امام علی علیہ السلام نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس نے زبان پر ''استغفر اﷲ''

۱۹۱

جاری کیا تھا :

اے شخص ! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، کیا تو جانتا ہے کہ توبہ کیا ہے؟ یاد رکھ توبہ علّیین کا درجہ ہے، جو ان چھ چیزوں سے مل کر متحقق ہوتا ہے :

1۔اپنے ماضی پر شرمندہ اور پشیمان ہونا۔ 2۔ دوبارہ گناہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا۔

3۔ لوگوں کے حقوق کاادا کرنا۔ 4۔ ترک شدہ واجبات کو بجالانا۔

5۔ گناہوں کے ذریعہ پیدا ہونے والے گوشت کواس قدر پگھلادینا کہ ہڈیوں پر گوشت باقی نہ رہ جائے،اور حالت عبادت میں ہڈیوں پر گوشت پیدا ہو۔

6۔ بدن کو اطاعت کی تکلیف میں مبتلا کرنا جس طرح گناہ کا مزہ چکھا ہے۔

لہٰذا ان چھ مرحلوں سے گزرنے کے بعد ''استغفر اﷲ'' کہنا۔(1)

جی ہاں، توبہ کرنے والے کو اس طرح توبہ کرنا چاہئے ، گناہوں کو ترک کرنے کا مصمم ارادہ کرلے، گناہوں کی طرف پلٹ جانے کا ارادہ ہمیشہ کے لئے اپنے دل سے نکال دے، دوسری ، تیسری بار توبہ کی امید میں گناہوں کو انجام نہ دے، کیونکہ یہ امید ایک

شیطانی امید اور مسخرہ کرنے والی حالت ہے، حضرت امام رضا علیہ السلام ایک روایت کے ضمن میں فرماتے ہیں :

''مَنِ اسْتَغْفَرَ بِلِسانِهِ وَلَمْ یَنْدَمْ بِقَلْبِهِ فَقَدِ اسْتَهْزَأ بِنَفْسِهِ...'' (2)

'' جو شخص زبان سے توبہ و استغفار کرے لیکن دل میں پشیمانی اور شرمندگی نہ ہو تو گویا اس

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)نہج البلاغہ ،878حکمت 417؛وسائل الشیعہ ج16،ص77،باب 87،حدیث 21028؛بحار الانوارج6،ص36،باب 20،حدیث59.

(2)کنزالفوائد ج1،ص330،فصل حدیث عن الامام الرضا(ع)؛بحارالانوارج75،ص356

۱۹۲

نے خود کا مذاق اڑایاہے !''

توبہ؛ انسانی حالت میں انقلاب اور دل و جان کے تغیر کا نام ہے، اس انقلاب کے ذریعہ انسان گناہوں کی طرف کم مائل ہوتا ہے اور خداوندعالم سے ایک مستحکم رابطہ پیدا کرلیتا ہے۔

توبہ؛ ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے،معنوی اور ملکوتی زندگی جس میں قلب انسان تسلیم خدا، نفس انسان تسلیم حسنات ہوجاتا ہے اور ظاہر و باطن تمام گناہوں کی گندگی اور کثافتوں سے پاک ہوجاتا ہے۔

توبہ؛ یعنی ہوائے نفس کے چراغ کو گُل کرنا اور خدا کی مرضی کے مطابق اپنے قدم اٹھانا۔

توبہ؛ یعنی اپنے اندر کے شیطان کی حکومت کو ختم کرنا اور اپنے نفس پر خداوندعالم کی حکومت کا راستہ ہموار کرنا۔

ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ :

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خدا کی بارگاہ میں اپنے مختلف گناہوں کے سلسلہ میں استغفارکرلیا جائے اور ''استغفراﷲ ربی و اتوب الیہ'' زبان پر جاری کرلیاجائے، یا مسجد اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں میں ایک زیارت پڑھ لی جائے یا چند آنسو بہالئے جائیں تو اس کے ذریعہ توبہ ہوجائے گی، جبکہ آیات وروایات کی نظر میں اس طرح کی توبہ مقبول نہیں ہے، اس طرح کے افراد کو توجہ کرنا چاہئے کہ ہر گناہ کے اعتبار سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے، ہر گناہ کے لئے ایک خاص توبہ مقرر ہے کہ اگر انسان اس طرح توبہ نہ کرے تو اس کا نامہ اعمال گناہ سے پاک نہیں ہوگا، اور اس

۱۹۳

کے بُرے آثار قیامت تک اس کی گردن پر باقی رہیں گے، اور روز قیامت اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔

تمام گناہوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

1۔ عبادت اور واجبات کو ترک کرنے کی صورت میں ہونے والے گناہ، جیسے نماز، روزہ، زکوٰة، خمس اور جہاد وغیرہ کو ترک کرنا۔

2۔ خداوندعالم کے احکام کی مخالفت کرتے ہوئے گناہ کرناجن میں حقوق الناس کا کوئی دخل نہ ہو، جیسے شراب پینا، نامحرم عورتوں کو دیکھنا، زنا، لواط، استمنائ، جُوا، حرام میوزیک سننا وغیرہ ۔

3۔ وہ گناہ جن میں فرمان خدا کی نافرمانی کے علاوہ لوگوں کے حقوق کو بھی ضایع کیا گیا ہو، جیسے قتل ، چوری، سود، غصب، مالِ یتیم ناحق طور پر کھانا، رشوت لینا، دوسروں کے بدن پر زخم لگانا یا لوگوں کو مالی نقصان پہچانا وغیرہ وغیرہ۔

پہلی قسم کے گناہوںکی توبہ یہ ہے کہ انسان تمام ترک شدہ اعمال کو بجالائے،قضا نماز پڑھے،قضا روزے رکھے، ترک شدہ حج کرے، اور اگر خمس و زکوٰة ادانہیں کیا ہے تو ان کو ادا کرے۔

دوسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان شرمندگی کے ساتھ استغفار کرے اور گناہوں کے ترک کرنے پر مستحکم ارادہ کرلے، اس طرح کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والا انقلاب اعضاء وجوارح کو دوبارہ گناہ کرنے سے روکے رکھے۔

تیسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کرے ،مثلاً قاتل ،خود کو مقتول کے ورثہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ قصاص یا

۱۹۴

مقتول کا دیہ لے سکیں، یا اس کو معاف کردیں، سود خورتمام لوگوں سے لئے ہوئے سودکو ان کے حوالے کردے، غصب شدہ چیزوں کو ان کے مالک تک پہونچادے، مال یتیم اور رشوت ان کے مالکوں تک پہنچائے، کسی کو زخم لگایا ہے تو اس کا دیہ ادا کرے، مالی نقصان کی تلافی کرے، پس حقیقی طور پر توبہ قبول ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مذکورہ چیزوں پر عمل کرے۔

حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ :

معصوم علیہ السلام کا ارشادہے: خداوندعالم توبہ کرنے والوں کو تین خصلتیں عنایت فرماتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی تمام اہل زمین و آسمان کو مرحمت ہوجائے تو اسی خصلت کی بنا پر ان کو نجات مل جائے :

(..إِنَّ اﷲَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِینَ) .(1)

'' بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے''۔

لہٰذا جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اس پر عذاب نہیں کرے گا۔

توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ :

قرآن کریم میں لفظ ''توبہ'' اور اس کے دیگر مشتقات تقریباً 87 مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، جس سے اس مسئلہ کی اہمیت اور عظمت واضح جاتی ہے۔

قرآن کریم میں توبہ کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کو پانچ حصوں میں تقسیم

کیا جاسکتا ہے: 1۔توبہ کا حکم۔ 2۔حقیقی توبہ کا راستہ۔ 3۔توبہ کی قبولیت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ بقرہ آیت222.

۱۹۵

4۔توبہ سے روگردانی۔ 5۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب۔

1۔توبہ کا حکم :

(...َتُوبُوا إلَی اﷲِ جَمِیعًا أیُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) .(1)

'' توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جائے''۔

(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(2)

'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔

۔ 2۔حقیقی توبہ کا راستہ :

حقیقت تو یہ ہے کہ ''توبہ'' ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے،بلکہ معنوی اور عملی شرائط

کے ساتھ ہی توبہ محقق ہوسکتی ہے۔

شرمندگی، آئندہ میں پاک و پاکیزہ رہنے کا مصمم ارادہ، برے اخلاق کو اچھے اخلاق و عادات میں بدلنا، اعمال کی اصلاح کرنا، گزشتہ اعمال کا جبران اور تلافی کرنااور خدا پر ایمان رکھنا اور اسی پر بھروسہ کرنا یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن کے ذریعہ سے توبہ کی عمارت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے، اور انھیں کے ذریعہ استغفار ہوسکتا ہے۔

(یا اَیُّهاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً...) .(3)

'' اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و...''۔

اور سورہ مائدہ (آیت 39)میں ارشاد ہوا:(فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأصْلَحَ فَإنَّ اﷲَ یَتُوبُ عَلَیْهِ إنَّ اﷲَ غَفُور رَحِیم).

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ نور آیت31 .(2،3)سورۂ تحریم آیت8.

۱۹۶

پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے ،تو خدا]بھی[ اس کی توبہ کو قبول کر لے گا اور اللہ بڑابخشنے والا اور مہربان ہے''۔

3۔توبہ قبول ہونا :

جس وقت کوئی گناہگار توبہ کے سلسلہ کے خداوندعالم کی اطاعت کرتا ہے اور توبہ کے شرائط پر عمل کرتا ہے، اور توبہ کے سلسلہ میں قرآن کا تعلیم کردہ راستہ اپناتا ہے، توبے شک خدائے مہربان؛جس نے گناہگار کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہ ضرور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں توبہ قبول ہونے کی نشانی قرار دے دیتا ہے اور اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے، نیز اس کے باطن سے ظلمت و تاریکی کو

سفیدی اور نور میں تبدیل کردیتا ہے۔

(َلَمْ یَعْلَمُوا أنَّ اﷲَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ...) .(1)

'' کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے...''۔

( وَهُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَیَعْفُو عَنْ السَّیِّئَاتِ...).(2)

'' اور وہی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے...''(غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ...). (3)

'' وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے...''۔

4۔توبہ سے منھ موڑنا :

اگر گناہگار خدا کی رحمت سے مایوس ہوکر توبہ نہ کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ رحمت خدا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ توبہ آیت104.(2)سورۂ شوری آیت25.(3) سورۂ غافر]مومن[آیت3.

۱۹۷

سے مایوسی صرف اور صرف کفار سے مخصوص ہے(1)

اگر گناہگار انسان اس وجہ سے توبہ نہیں کرتا کہ خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخشنے پر قدرت نہیں رکھتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تصور بھی یہودیوں کا ہے۔(2)

اگر گناہگار انسان کا تکبر ، خدائے مہربان کے سامنے جرائت اور ربّ کریم کے سامنے بے ادبی کی بنا پر ہو تو اس کو جاننا چاہئے کہ خداوندعالم اس طرح کے مغرور ،گھمنڈی اور بے ادب لوگوں کو دوست نہیں رکھتا، اور جس شخص سے خدا محبت نہ کرتا ہوتو دنیا و آخرت میں ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔

گناہگار کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ سے منھ موڑنا، جبکہ باب توبہ کھلا ہوا ہے اور لازمی

شرائط کے ساتھ توبہ کرنا ممکن ہے نیز یہ کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر توبہ نہ کرنا اپنے اوپر اور آسمانی حقائق پر ظلم وستم ہے۔

(...ِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَاُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ) .(3)

'' اگر کوئی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ درحقیقت یہی لوگ ظالم ہیں ''.

5۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب :

اگر گناہگار انسان کو توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے اور تمام تر لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرلے تو بے شک اس کی توبہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، لیکن اگر توبہ

کرنے کا موقع ہاتھ سے کھوبیٹھے اور اس کی موت آپہنچے اور پھر وہ اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرے یا ضروری شرائط کے ساتھ توبہ نہ کرے یا ایمان لانے کے بعد کافر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ یوسف آیت87. (2) سورہ مائدہ آیت 64 (3) سورہ حجرات آیت 11

۱۹۸

ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔

( وَلَیْسَتْ التَّوْبَةُ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّی إذَا حَضَرَ أحَدَهُمْ الْمَوْتُ قَالَ إنِّی تُبْتُ الْآنَ وَلاَالَّذِینَ یَمُوتُونَ وَهُمْ کُفَّار اُوْلَئِکَ أعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا ألِیمًا) .(1)

'' اور توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو پہلے برائیاں کرتے ہیں اور پھر جب موت سامنے آجاتی ہے توکہتے ہیں کہ اب ہم نے توبہ کرلی اور نہ ان کے لئے ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں کہ ان کے لئے ہم نے بڑا دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ''.

توبہ ، احادیث کی روشنی میں :

حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جناب آدم ]علیہ السلام[ نے خداوندعالم کی

بارگاہ میں عرض کی: پالنے والے مجھ پر ]اور میری اولادپر[شیطان کو مسلط ہے اور وہ خون کی طرح گردش کرتا ہے، پالنے والے اس کے مقابلہ میں میرے لئے کیا چیز مقرر فرمائی ہے؟

خطاب ہوا: اے آدم یہ حقیقت آدم کے لئے مقرر کی ہے کہ تمہاری اولاد میں کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، تو اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ کے مطابق گناہ بھی انجام دے لیا تو اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی گناہ لکھا جائے گا، لیکن اگر تمہاری اولاد میں سے کسی نے نیکی کا ارادہ کرلیا تو فوراً ہی اس کے نامہ

اعمال میں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ پر عمل بھی کیا تو اس نے نامہ اعمال

میں دس برابر نیکی لکھی جائیں گی؛ اس وقت جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا :

پالنے والے! اس میں اضافہ فرمادے؛ آواز قدرت آئی: اگر تمہاری اولاد میں کسی شخص

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ نساء آیت18.

۱۹۹

نے گناہ کیا لیکن اس کے بعد مجھ سے استغفار کر لیا تو میں اس کو بخش دوں گا؛ ایک بار پھر جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: پالنے والے! مزید اضافہ فرما؛ خطاب ہوا: میںنے تمہاری اولادکے لئے توبہ کورکھا اور اس کے د روازہ کو وسیع کردیا کہ تمہاری اولاد موت کا پیغام آنے سے قبل توبہ کرسکتی ہے، اس وقت جناب آدم

] علیہ السلام[ نے عرض کیا: خداوندا! یہ میرے لئے کافی ہے۔(1)

حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت ، رسول اکرم (ص)سے روایت کی ہے: جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک ایک سال زیادہ ہے، جو شخص اپنی موت سے ایک ماہ

قبل توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک مہینہ بھی زیادہ ہے، جو شخص ایک ہفتہ پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ قابل قبول ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک ہفتہ بھی زیاد ہے، اگر کسی شخص نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک دن بھی زیادہ ہے اگر اس نے موت کے آثار دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے۔(2)

حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہیں :

'' اِنَّ اللّٰهَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ ما لَمْ یُغَرْغِرْ، تُوبُوا اِلٰی رَبِّکُمْ قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا،وَبادِرُوا

بِالاَعْمالِ الزّاکِیَةِ قَبْلَ اَنْ تُشْتَغِلُوا،وَ صِلُوا الَّذی بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُ بِکَثْرَةِ ذِکْرِ کُمْ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)کافی ج2،ص440،باب فیما اعطی اللہ عز وجل آدم(ع) ،حدیث1؛بحار الانوار ج6،ص18،باب 20،حدیث2. (2)بحار الانوارج6،ص19،باب 20،حدیث4

۲۰۰

اِیّاهُ:'' (1)

'' خداوندعالم ، اپنے بندے کی توبہ دم نکلنے سے پہلے پہلے تک قبول کرلیتا ہے، لہٰذا اس سے پہلے پہلے توبہ کرلو، نیک اعمال انجام دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ کسی چیز میں مبتلا ہوجائو، اپنے اور خدا کے درمیان توجہ کے ذریعہ رابطہ کرلو''۔

پیغمبر اسلام (ص) ایک اہم روایت میں فرماتے ہیں:کیا تم جانتے ہوں ہو کہ تائب ]یعنی توبہ کرنے والا[ کون ہے؟ اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ بہتر جانتے ہیں، تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: جب کوئی بندہ توبہ کرے اور دوسروں کے مالی حقوق کو ادا

کرکے ان کو راضی نہ کرلے تو وہ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن خدا کی عبادتوں میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے ]مال حرام سے بنے ہوئے [ لباس کو نہ بدلے وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی صحبت کو نہ بدلے تو وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے اخلاق اور اپنی نیت کو نہ بدلے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے اور اپنے دل سے حقائق کو نہ دیکھے ،اور صدقہ و انفاق میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی آرزؤں کو کم نہ کرے اور اپنی زبان کو محفوظ نہ

رکھے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے بدن سے اضافی

کھانے کو خالی نہ کرے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے. بلکہ وہ شخص تائب ہے جو ان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)بحار الانوار،ج6،ص19،باب20،حدیث5.

۲۰۱

تمام خصلتوں کی پابندی کرے ۔(1) اس روایت میں جن چیزوں کے بدلنے کا حکم ہوا

ہے ان سے وہ چیزیں مراد ہیں جو حرام طریقہ سے حاصل کی گئی ہوںیا حرام چیزوں سے متعلق ہوں۔

توبہ کے منافع اور فوائد :

گناہوں سے توبہ کے متعلق قرآن کریم کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام سے مروی احادیث و روایات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں توبہ کے بہت سے منافع و فوائد ذکر ہوئے ہیں، جن کو ذیل میں بیان کیا جارہا ہے ۔

1 (... اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْإ نَّهُ کَانَ غَفَّارًا٭ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ٭ وَیُمْدِدْکُمْ بِأمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ أَنْهَارًا).(2)

''... اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا۔اور اموال واولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا ''.

٢ (... تُوبُوا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَصوحاً عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِهَا الاَنْهارُ...)(2)

'' توبہ کرو، عنقریب تمہارا پرودگار تمہاری برائیوں کو مٹادے گا اور تمہیں ان جنتوں میں

داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ''.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)جامع الاخبار ص88،الفصل الخامس والاربعون فی التوبة ؛بحار الانوار ج6،ص35،باب20،حدیث52؛مستدرک الوسائل ج12،ص131،باب 87،حدیث 13709

(2)سورۂ نوح آیت10۔12. (3)سورۂ تحریم آیت8.

۲۰۲

٣ (وَلَوْ أنَّ أهْلَ الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَائِ وَالْأرْضِ...) .(1)

'' اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ہیں اور تقویٰ اختیا رکر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ''.

'' مجمع البیان'' جو ایک گرانقدر تفسیر ہے اس میں ایک بہترین روایت نقل کی گئی ہے :

'' ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ہے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناہوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی ، اس سے ]بھی [

امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یہی فرمایا: اپنے گناہوں سے استعفار کرو۔

اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: ]فرزند رسول(ص)![ آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے نہیں کہی ہے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے جہاں خداوندعالم نے فرمایا ہے: (استغفروا ربّکم...) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو) ، لہٰذا میں نے سبھی کو ا.ستغفار کے لئے کہا،

ا.ستغفار کے لئے کہا، تاکہ ان کی مشکلات ، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ہوجائیں۔(2)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورۂ اعراف آیت96ا (2)مجمع البیان ج10،ص361؛وسائل الشیعہ ج7،حدیث 9055.

۲۰۳

بہر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ہیں: گناہوں سے پاک ہوجانا، رحمت الٰہی کا نزول ، بخشش خداوندی،عذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق، روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی، اعضاء و جوارح کی طہارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغات او رنہروں میں برکت، قحطی ،مہنگائی اور غربت کا خاتمہ۔

وآخردعونا ان الحمد للہ ربّ العالمین

سوالات :

1۔توبہ کی تعریف کیجئے ؟

2۔حضرت علی(ع) نے حقیقی توبہ کے بارے میں کیا فرمایا ؟

3۔کیا ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ ہے ؟ وضاحت کیجئے ؟

4۔حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ کیا ہے ؟

5۔آنحضرت (ص) نے تائب کسے کہا ہے ؟

6۔توبہ کے فوائد بیان کیجئے ؟

۲۰۴

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

ہجرت مدینہ کے بعد تو حضرت ابوبکر اپنے مال کے معاملے میں سخت بخیل ہوگئے تھے_ ان کے پاس اس وقت پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم تھے جیساکہ بعض لوگ نقل کرتے ہیں_ حضرت ابوبکرہرکسی کے ساتھ بخل کرتے تھے یہاں تک کہ اپنی بیٹی اسماء کے ساتھ بھی جو مدینہ آنے کے بعد فقر اور مشکلات کا سخت شکار تھی_ یہاں تک کہ وہ ایک گھرمیں خدمت کرتی تھی، وہاں کے گھوڑے کی دیکھ بھا ل کرتی اور اونٹ کیلئے گٹھلیاں کوٹتی ،اس کو دانہ پانی کھلاتی اوردوتہائی فرسخ(۱) کے فاصلے سے گٹھلیوں کو اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھی_ آخر کار حضرت ابوبکر نے اس کیلئے ایک نوکر بھیج دیا جس نے گھوڑے کی دیکھ بال کا کام سنبھال لیا جیساکہ وہ خود کہتی ہے_(۲)

اس کے علاوہ خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام بھی کئی سال تک مشکلات اور تنگی کا شکار رہے بالخصوص جنگ خیبر سے پہلے_ یہاں تک کہ بسا اوقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دو یا تین دن تک فاقے کرتے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے شکم اطہر پر پتھربھی باندھتے تھے_(۳) انصار باہمی مشورے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے کھانے کا بند وبست کرتے تھے_ اس وقت حضرت ابوبکر کے وہ ہزاروں درہم اور اموال کہاں گئے تھے جوغزوہ تبوک تک باقی تھے_کیونکہ ان لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ اس وقت وہ اپنی تمام دولت ( چار ہزار درہم) کے ساتھ حاضر ہوئے_(۴)

ب: مذکورہ باتیں اس صورت میں تھیں کہ ان لوگوں کے نزدیک ''منّت'' سے مراد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر مال خرچ کرنا ہو_ لیکن اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر منت سے مراد اللہ کی راہ میں انفاق ہو تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہمیں تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ تاریخی شواہد تو اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر نے

___________________

۱_ یعنی تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے سے (از مترجم)

۲_ حدیث الافک ص ۱۵۲ _

۳_ حضرت عائشہ نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر والوں کی جو حالت بیان کی ہے اس سے انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے _ رجوع کریں طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ دوم ص ۱۲۰و ص ۱۱۲ سے ص ۱۲۰ تک_

۴_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۴۲۹ از ابن عساکر ج ۱ ص ۱۱۰ _

۳۴۱

اپنے مال کے معاملے میں اس قدر کنجوسی برتی کہ واقعہ ''نجوی'' میں دو درھم بھی صدقہ دینے پر آمادہ نہ ہوئے اور سوائے امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے کسی نے یہ اقدام نہ کیا یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری جس میں اللہ تعالی نے اصحاب کے رونے کی مذمت و ملامت کی، ارشاد ہوا( ا اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا وتاب الله علیکم ) (۱) یعنی کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ) سر گوشی کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے_ اب اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا تو ..._ اگر حضرت ابوبکر دو درہموں کا صدقہ دیتے تو ان لوگوں کی صف میں شامل نہ ہوتے جن کی اللہ نے ملامت کی(بلکہ اور جعلی فضائل کوچھوڑ کر اسی پر مباہات کرتے اور حضرت علیعليه‌السلام سے برتری کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے _ از مترجم)_

ج: مذکورہ باتوں سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی کیلئے مال خرچ کرنے کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر احسان جتلانے کا کوئی معنی نہیں بنتا (جیساکہ مذکورہ روایت سے اس کا شائبہ ملتا ہے) چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھی اس بات کی خبردی ہے_ بلکہ منت تو در اصل اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ان پر ہے_

خدا نے احسان جتلانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے( لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ) (۲) یعنی احسان جتلاکر یا آزار دے کر اپنے صدقات کو رائیگاں نہ کرو، نیز فرمایا( ولاتمنن تستکثر ) (۳) یعنی اور احسان نہ جتلاؤ زیادہ حاصل کرنے کیلئے، اس لئے یہ بات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس منّت پر، منت کرنے والے کی تعریف کریں خاص کر یہ کہیں کہ اس نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے، سارے لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کیا ہے_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ آیت ۱۳ نیز رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۲۰، الاوائل ج ۱ ص ۲۹۷ و حاشیة تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۵ اور ۳۷ (جو بہت سے مآخذ سے منقول ہے) کی طرف _

۲_ سورہ بقرہ آیت ۲۶۴ _

۳_ سورہ مدثر آیت ۶ _

۳۴۲

ایک اہم اشارہ

انہی وجوہات کی بنا پر بظاہر جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت ابوبکر کو راہ خدا میں اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آنے ،غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہنے ،خطرات جھیلنے اور خوف اعداء سے محزون و پریشان ہونے اور اس قسم کے دیگر طعنے دینے سے نہ روک سکے تو لوگوں کو حضرت ابوبکر کی اس حالت سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوئے ،شاید وہ اس طرح اپنے بعض کاموں سے دستبردار ہوجاتے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجبور ہوکر آخری اقدام کے طور پر یہ طریقہ کار اختیار کیا جو تعلیم و تربیت کے اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے_ خصوصاً پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام پر اس قسم کااحسان فقط حضرت ابوبکر نے نہیں کیا تھا کیونکہ سارے مہاجرین اپنے اموال اپنا وطن، اپنی سرزمین چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے_ سب نے مشکلات وخطرات کا مقابلہ کیا تھا_ ان میں سے بہت سوں نے سخت ترین قسم کی ایذا رسانیوں اور سزاؤں کا سامنا کیا تھا_ غار میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کے بارے میں واضح رہے کہ امیرالمومنین کو در پیش خطرہ ان کو در پیش خطرے سے کہیں زیادہ تھا_ بنابریں یہ احسان حضرت ابوبکر کا حصہ کیوں بن جائے؟ یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کو اپنا سب سے بڑا محسن قرار دیں؟

د: طوسی اور مفیدکے بقول ابتدا میں حضرت ابوبکربچوں کے معلم تھے_ پھر درزی کا کام کرنے لگے_ بیت المال سے ان کا حصہ دوسرے مسلمانوں کے برابر تھا اسی لئے وہ انصار کی مدد کے محتاج ہوئے ان کے والد شکاری تھے پھر اپنا پیٹ بھرنے اور بدن چھپانے کیلئے ابن جدعان(۱) کے دسترخوان پر مکھیاں اڑانے اور لوگوں کو بلانے کا کام کرنے لگے_(۲) ان حالات میں فطری بات ہے کہ حضرت ابوبکر پانچ ہزار درہم کے کیسے

___________________

۱_ ابن جد عان کے متعلق بظاہر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ ایک مالدار یہودی آدمی تھا_ (از مترجم)

۲_ تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۸ دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۳۰ و الافصاح ص ۱۳۵ اور الغدیر ج ۸ ص ۵۱_ محقق سید مہدی روحانی نے ابوبکر کے معلم ہونے کو درست نہیں سمجھا کیونکہ بچوں کو مکتب میں جمع کر کے پڑھانے کی رسم بعد میں نکلی ہے اور ایام جاہلیت میں مکہ کے اندر یہ رسم نہ تھی نیز وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ معلم تھے تو ان کے شاگرد کون تھے؟ اس مکہ کے اندر چند معدود افراد کے علاوہ پڑھے لکھے افراد کیوں نہیں پائے جاتے تھے_ جیساکہ کتاب کی ابتدا میں اس کا ذکر ہوچکا ہے_بلکہ جرجی زیدان نے اپنی کتاب تاریخ تمدن میں لکھا ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے وقت پورے مکہ میں صرف سات پڑھے لکھے آدمی تھے_

۳۴۳

مالک ہوسکتے تھے، چالیس ہزار درہم یا دینار تو دور کی بات ہے کیونکہ اس قسم کی دولت یا تجارت سے حاصل ہوتی ہے یا زراعت سے، حضرت ابوبکر اس طرح کے پیشوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے، بنابریں بعض لوگ کیسے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا شمار قریش کے رؤسا، مالداروں اور صاحبان جاہ ومقام میں سے ہوتا تھا؟ اگر ان کی یہ حالت تھی تو پھر اپنی بیٹی (اسمائ) کی خبر کیوں نہ لی اور خاص کر اپنے باپ کو ابن جدعان کے پاس کیوں رہنے دیا؟_

ھ: جب امیرالمومنینعليه‌السلام نے تھوڑا سا مال بطور صدقہ دیا (جیساکہ آپ نے یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا کھلا کر اس کا ثبوت دیا) تو اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری:

( ویطعمون الطعام علی حبه مسکینا ویتیما واسیرا انما نطعمکم ) (۱) اور جب انہوں نے اپنی انگوٹھی بطور صدقہ دی تو یہ آیت نازل ہوئی( انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة ویوتون الزکاة وهم راکعون ) (۲) نیز جب انہوں نے ایک درہم چھپاکر

___________________

۱_ سورہ انسان (دھر) آیت ۸ اور روایات کے منابع یہ ہیں : المناقب (خوارزمی) ص ۱۸۹ ، ۱۹۵ ، ریاض النضرةج۳ ص ۲۰۸ و ۲۰۹ ، التفسیر الکبیر ج۳۰ ص ۲۳۴ _۲۴۴ از واحدی و الزمخشری ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر مطبوع،) ج۲۹ ص ۱۱۲، ۱۱۳، کشاف ج۴ ص ۶۷۰،نوادرالاصول ص ۶۴ ، ۶۵ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۹ ص ۱۳۱ از نقاش ، ثعلبی، قشیری و دیگر مفسرین، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۹ ، تفسیر نورالثقلین ج۵ ص۴۶۹_۴۷۷ از امالی شیخ صدوق، قمی ، طبرسی و ابن شہر آشوب ، ذخائر العقبی ص ۸۹ وسائل الشیعہ ج۱۶ ص ۱۹۰ ، فرائد السمطین ج۲ ص ۵۴ تا ۵۶ ، مجمع البیان ج۱۰ ص۴۰۴ ، ۴۰۵ ، المناقب ( ابن مغازلی) ص ۲۷۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۷۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱، اور اسدالغابہ ج۵ ص ۵۳۰ ، ۵۳۱ اور دیگر کثیر منابع_

۲_ سورہ مائدہ آیت ۵۵ اور حدیث کے مآخذ یہ ہیں : الکشاف ج۱ ص ۶۴۹ ، اسباب النزول ص ۱۱۳ ، تفسیر المنار ج۶ ص ۴۴۲ نیز کہا ہے کہ کئی طریقوں سے روایت کی گئی ہے ، تفسیر نورالثقلین ج ۱ ص ۵۳۳ و ۳۳۷ از الکافی ، احتجاج ، خصال، تفسیر قمی اور امالی شیخ صدوق، تفسیر الکبیر ج۱۲ ص ۲۶، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۳ ، ۲۹۴ از ابوشیخ، ابن مردویہ ، طبرانی، ابن ابی حاتم، ابن عساکر ، ابن جریر و ابونعیم و غیرہ ، فتح القدیر ج۲ ص۵۳خطیب کی کتاب المتفق و المفترق سے ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۲۲۱ ، شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۷۳ _ ۱۸۴ کنز العمال ج۱۵ ص ۱۴۶ ، الفصول المہمہ ( ابن صباغ) ص ۱۰۸ ، تذکرة الخواص ص ۱۵ ، المناقب خوارزمی ص ۱۸۶ ، ۱۸۷ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۲۰۸ ، ذخائر العقبی ص ۱۰۲ از واقدی و ابو الفرج ابن جوزی اور وسائل الشیعہ ج۶ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵ و دیگر منابع _

۳۴۴

اور ایک درہم اعلانیہ نیز ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو صدقہ دیا تو اللہ تعالی نے یوں توصیف فرمائی( الذین ینفقون اموالهم باللیل و النهار سرا وعلانیة فلهم اجرهم عند ربهم ) (۱) اسی طرح آیہ نجوی پر بھی سوائے حضرت علیعليه‌السلام کے کسی اور نے عمل پیراہو کر نہیں دکھایا(۲) _

ان ساری باتوں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت ابوبکر نے چالیس ہزار درہم یا دینار راہ خدا میں خرچ کئے ہوتے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ان کا اتنا بڑا احسان ہوتا کہ جس کا بدلہ خدا ہی دیتا یہاں تک کہ کسی کے مال نے حضرت ابوبکر کے مال کی مانند آپ کو فائدہ نہ پہنچایا ہوتا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا قرآن میں اس کا ذکر ہی نہ کرے اور تاریخ یا حدیث کی کتابوں میں کم از کم اس کا ایک نمونہ بھی ایسا دکھائی نہ دے جو قابل اثبات ہو؟ کیا مورخین اور محدثین نے حضرت ابوبکر کے فضائل سے عمداً چشم پوشی کی؟ اگر ہاں تو پھر اس

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۷۴ روایات ان کتابوں میں موجود ہیں : الکشاف ج۱ ص ۳۱۹ ، تفسیر المنار ج۳ ص ۹۲ از عبدالرزاق و ابن جریر وغیرہ ، التفسیر الکبیر ج۷ ص ۸۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۳۴۷ ، تفسیر قرآن العظیم ج۱ ص ۳۲۶ از ابن جریر ، ابن مردویہ و ابن ابی حاتم، فتح القدیر ج ۱ ص ۲۹۴ از عبد الرزاق ، عبد بن حمید و ابن منذر، طبرانی اور ابن عساکر و غیرہ ، الدرالمنثور ج۱ ص ۳۶۳ ، لباب النقول ص ۵۰ مطبوعہ دار احیاء العلوم، اسباب النزول ص ۵۰ ، تفسیر نورالثقلین ج۱ ص ۳۴۱ از عیاشی والفصول المہمہ (ابن صباغ) ص ۱۰۷ ، نظم درر السمطین ص ۹۰ ، ذخائر العقبی ص ۸۸ ، تفسیر البرہان ج۴ ص ۴۱۲ ، المناقب ابن مغازلی ص ۲۸۰ ، ینابیع المودة ص ۹۲ ، روضة الواعظین ص ۳۸۳ و ۱۰۵ او ر شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱_

۲_ ملاحظہ ہو: المناقب خوارزمی ص ۱۹۶ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۱۸۰ ، الصواع المحرقہ ص ۱۲۹ ا زواقدی ، نظم در ر السمطین ص ۹۰، ۹۱ ، تفسیر القرآن العظیم ج۴ ص ۳۲۷، ۳۲۶، جامع البیان ج۲۸ ص ۱۴ ، ۱۵ ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر) ج۲۸ ص ۲۴ ، ۲۵ ، کفایة الطالب ص ۱۳۶ ، ۱۳۷ ، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۴۲۸ ، مستدرک حاکم ج۲ ص ۴۸۲ ، تلخیص مستدرک ( ذہبی ، مطبوعہ حاشیہ مستدرک) ج۲ ص ۶۷۳، ۶۷۵، لباب التاویل ج۴ ص ۲۲۴، مدارک التنزیل( مطبوعہ حاشیہ لباب التاویل) ج۴ ص ۲۲۴، اسباب النزول ص ۲۳۵، شواہد التنزیل ج۲ ص ۲۳۱ _۲۴۰، الدر المنثور ج۶ ص ۱۸۵ ، از ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، حاکم( جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ) ، سعید بن منصور و ابن راہویہ، فتح القدیر ج۵ ص ۱۹۱ ، التفسیر الکبیر ج۲۹ ص ۲۷۱ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۷ ص ۳۰۲ ، الکشاف ج۴ ص ۴۹۴ ، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۸ ، احقاق الحق ( حصہ ملحقات) ج۳ ص ۱۲۹ تا ۴۰ ۱ و ج۱۴ ص ۲۰۰ ، ۲۱۷ و ج۲۰ ص ۱۸۱ ، ۱۹۲ مذکورہ بعض مآخذ سے نیز دیگر کثیر منابع سے اور اعلام الوری ص ۱۸۸ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جگہ کی کمی کے پیش نظر اس حدیث اور گذشتہ تین روایات کے اکثر منابع و مآخذ ذکر نہیں کئے گئے وگرنہ مذکورہ منابع سے کہیں زیادہ کتب میں یہ روایات ملتی ہیں_

۳۴۵

سلسلے میں حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل سے چشم پوشی کیوں نہیں کی؟

کیا حکمرانوں، بادشاہوں، ان کے ما تحتوں اور بڑے علماء نے حضرت ابوبکر پر ظلم کرتے ہوئے لوگوں کو ان کے فضائل بیان کرنے یا نقل کرنے سے روکا؟ (جس طرح حضرت علیعليه‌السلام پر ظلم کیا تھا؟) البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرنے مکہ میں مجبور اور ستم دیدہ غلاموں کو آزاد کیا تھا لیکن ہم عرض کرچکے کہ اس کا اثبات ناممکن ہے_ چنانچہ اسکافی معتزلی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیمت اس زمانے میں سو درہم بھی نہ تھی (بشرطیکہ روایت کی صحت کو تسلیم کرلیاجائے) _

کیا خدا کی عدالت کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت علیعليه‌السلام کے صدقات کا (کم ہونے کے باوجود) قرآن اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی ذکر ہو لیکن حضرت ابوبکر کے عطیات کا کئی ہزار کی حد تک پہنچنے کے باوجود، تذکرہ نہ ہو؟ کیا یہ عدل ہے؟ منزہ ہے وہ اللہ جو بادشاہ بھی ہے، حق بھی اور عدل مبین بھی، جس کے ہاں کسی پر ذرہ بھر بلکہ اس سے بھی کم ظلم نہیں ہوتا_

اب کیا یہ کہنا صحیح نہیںہوگا کہ حضرت ابوبکر کے عطیات خالص خدا کی رضا کیلئے نہ تھے؟ اور اگر یہ سب ان کے فطری جود وسخاوت کا نتیجہ تھا ا ور اسی لئے اللہ نے ان کو نظر انداز فرمایا تھا تو پھر کم از کم خدا اسی خصلت کی ہی تعریف فرماتا اور اگر ان کے عطیات کی کوئی قدر وقیمت ہی نہ تھی تو پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کیونکر فرمایا کہ اللہ بہت جلد اس کی جزا عنایت کرے گا؟ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی مفید، قانع کنندہ اور قابل قبول جواب آپ کو نہیں ملے گا_

ان ساری باتوں سے قطع نظر حضرت ابوبکر کی مالداری کا ذکر فقط ان کی بیٹی حضرت عائشہ سے منقول ہے( جیساکہ شیخ مفید علیہ الرحمةنے کہا ہے )اوراس کے راویوں میں شعبی جیسے افراد بھی موجود ہیں جو رضائے بنی امیہ کے حصول کی خاطر تعصب اور اپنی دروغ گوئی اور افترا پردازی کے باعث معروف اور مشہور ہیں_(۱)

___________________

۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنینعليه‌السلام ص ۱۳۱_۱۳۳ _

۳۴۶

ماہر چوروں کا تذکرہ

یہاں روتوں کو ہنسانے والی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض کے بقول چور جب حضرت ابوبکر کے چار سوا ونٹ اور چالیس غلاموں کو چوری کر کے لے گئے اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا نہیں غمگین دیکھا تو ان سے اس کا سبب پوچھا _ جب انہوں نے چوری کا واقعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بتایا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:''(اچھا یہ بات ہے) میں سمجھا تھا کہ تم سے کوئی نماز قضا ہوگئی ہے ...''(۱) لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان ماہر چوروں نے غلاموں اوراونٹوں کی اتنی بڑی مقدار کو کہاں چھپایا تھا؟ پھر ان میں سے ایک غلام نے بھی وہاں سے بھاگ کر جناب ابوبکر کو خبر دار نہیں کیا ؟ پھر کیسے ہوا کہ اس دور کی تاریخ کے سب سے بڑے قافلے کے چلنے کی آواز نے مکہ اور مدینہ کے کسی فرد کو بھی نہیں جگایا؟ پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابوبکر کے پاس اتنی زیادہ ثروت کہاں سے آگئی؟ پھر وہ جزیرة العرب کے سب سے زیادہ متمول آدمی کے طور پر چاردانگ عالم میں مشہور کیوں نہیں ہوئے؟ آخر کار ہمیں یہ پتا بھی نہیں چل سکا کہ جناب ابوبکر مسروقہ چیزوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوسکے یا نہیں؟

حضرت ابوبکر کی دولت سے مربوط اقوال پر آخری تبصرہ

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی دولت مندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسے خرچ کرنے کے بارے میں جو اقوال موجود ہیں وہ خلیفہ اول کے حامیوں کے شدید رد عمل کا نتیجہ ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف سے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قیمت اداکئے بغیر ان کی پیش کردہ سواری کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں(۲) اور دوسری طرف سے حضرت علی،عليه‌السلام آپعليه‌السلام کے عطیات اور شب ہجرت اور دیگر مقامات پر آپعليه‌السلام کی

___________________

۱_ نزہة المجالس ج ۱ ص ۱۱۶_

۲_ صحیح بخاری مطبوعہ مشکولی ج ۵ ص ۷۵ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۴ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۱ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اول ص ۱۵۳ البدایة والنہایة ج ۳ ص ۱۸۴_۱۸۸ مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۵ الکامل ابن اثیر اور دیگر بہت سارے مآخذ کے علاوہ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۲ کی طرف رجوع کریں _

۳۴۷

قربانیوں کے بارے میں قرآن کی آیتیں اتر رہی ہیں_

بنابریں ضروری تھا کہ وہ حضرت ابوبکر کیلئے عظیم فضائل اور قربانیاں ثابت کرنے کی جد وجہد کرتے_

اس کے بعد یہ لوگ سواری والے واقعے کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی جان اوراپنے مال کے ساتھ راہ خدا میں ہجرت کرنا چاہتے تھے_(۱)

لیکن جب وہ ہجرت کے واقعات میں زاد راہ والی چمڑے کی تھیلی، پکی ہوئی بکری اور گوسفند کے دودھ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس تاویل کو بھول جاتے ہیں اور اپنی گفتار کے اندر موجود واضح تضاد سے غافل ہوجاتے ہیں کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنی جان اور فقط اپنے مال کے ساتھ ہجرت کا ارادہ فرمائیں اور دوسری طرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کی طرف سے دیئے گئے مال، زاد راہ اور دودھ وغیرہ سے استفادہ کریں_

جی ہاں اگر (نعوذ باللہ )رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے افعال واقوال میں تضاد نظر آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ حضرت ابوبکر کی فضیلت میں کمی یا فضائل سے ان کی محرومی کا باعث نہ بنے_

دروغ پردازی اور جعل سازی

حقیقت یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے اموال کے بارے میں فرمایا تھا ''ما نفعنی مال قط مثل ما نفعنی مال خدیجة '' (مجھے کسی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا خدیجہ کے مال نے) جیساکہ ذکر ہوچکا ہے_ لیکن اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں تبدیل کردیا گیا ہے_ اس کو مختلف شکلوں اور عبارتوں میں ڈھالاگیا ہے جو ایک ہی مقصد کی حامل اور ایک ہی واضح ہدف کی غماز ہیں اور وہ ہے حضرت ابوبکر کیلئے فضیلت تراشی اور بس_ دیگر بہت ساری ان روایات کی مانند جن کا ذکر ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے معتقدین کی وضع کردہ ہیں جیساکہ تحقیق اور موازنہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کیلئے واضح ہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ باب الہجرة ص ۱۸۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲ _

۳۴۸

ابوبکر اور دیدار الہی

حضرت انس سے مروی ہے کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار سے خارج ہوئے تو حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رکاب تھام لی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان کی طرف نظر کی اور فرمایا :''اے ابوبکر تجھے خوشخبری نہ دوں؟'' بولے :''کیوں نہیں میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان جائیں''_ فرمایا: ''بیشک خدا روز قیامت تمام لوگوں کے سامنے اپنا دیدار عام کرائے گا لیکن تمہارے لئے بطور خاص اپنی تجلی دکھائے گا''_(۱) یہاں پہلے تو ہم نہیں سمجھے کہ اس تجلی سے کیا مراد ہے_ مگر یہ کہ مذہب مجسّمہ (جو ایک گمراہ مذہب ہے) کی رو سے اس کا معنی کیا جائے_ اس کے علاوہ فیروز آبادی نے اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں گھڑی گئی مشہور و معروف جعلی احادیث میں شمار کیا ہے جن کا باطل ہونا عقل سلیم کے نزدیک بدیہی اور واضح امر ہے_ خطیب نے نقلی علوم کے ماہرین کے نزدیک اس کے جعلی ہونے کی تصدیق کی ہے_ اس کے علاوہ ذہبی، عجلونی، ابن عدی، سیوطی، عسقلانی اور قاری وغیرہ نے بھی اس کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کا فیصلہ دیا ہے_(۲)

فضائل کے بارے میں ایک اہم یاددہانی

مدائنی کہتے ہیں معاویہ نے ہر جگہ اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ کی شہادت قبول نہ کی جائے_ نیز یہ بھی لکھا :''اپنے درمیان عثمان کے طرفداروں، دوستوں اور چاہنے والوں کو تلاش کرو، جو اس کے فضائل ومناقب بیان کریں ان کی مجالس میں حاضری دو، انہیں اپنے قریب لاؤ، ان کا احترام ملحوظ رکھو اور ان میں سے ہر کسی کی روایتوں کے ساتھ اس کا نام نیز اس کے باپ اور خاندان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دو'' چنانچہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی حد کردی کیونکہ معاویہ

___________________

۱_ الغدیر ج۵ ص ۳۰۱ _ ۳۰۲ اور دیگر مآخذ اگلے حاشیہ میں ذکر ہوں گے نیز ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۱_

۲_ تاریخ خطیب بغدادی ج ۲ ص ۲۸۸ اور ج ۱۲ ص ۱۹ و کشف الخفاء ج ۲ ص ۴۱۹ اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۱۴۸، لسان المیزان ج ۲ ص ۶۴ میزان الاعتدال ج ۲ ص ۲۱، ۲۳۲ اور ۲۶۹ اور جلد سوم ص ۳۳۶ اور الغدیر ج ۵ ص ۳۰۲ جو مذکورہ مآخذ کے علاوہ اسنی المطالب ص ۶۳ سے ماخوذ ہے_

۳۴۹

ان کو انعام و اکرام عطیات، وظائف اور خلعتوں سے نوازتا تھا خواہ وہ عرب ہوں یا غیر غرب_ یوں ہر شہر میں یہ کام عام ہوگیا اور لوگ دنیوی مال و مقام حاصل کرنے کیلئے اس کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگ گئے_ معاویہ کا کوئی عامل ایسا نہ تھا جس کے پاس کوئی شخص آکر حضرت عثمان کی شان میں کوئی فضیلت یا منقبت بیان کرتا مگر یہ کہ وہ اس کا، اس کے رشتہ داروں، اور اس کی بیوی کا نام فہرست میں شامل کرلیتا_ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتارہا_

پھر معاویہ نے اپنے عمال کو لکھا کہ اب حضرت عثمان کی شان میں احادیث کی شہرت ہر شہر اور ہر جگہ پہنچ چکی ہے_ لہذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو صحابہ اور خلیفہ اول وخلیفہ دوم کے فضائل بیان کرنے کی دعوت دو_ ابوتراب علیعليه‌السلام کے بارے میں مسلمانوں کے پاس موجود ایک ایک روایت کے مقابلے میں صحابہ کے دس فضائل میرے پاس لے آؤ کیونکہ یہ بات مجھے بہت زیادہ پسند ہے اور میری آنکھوں کیلئے زیادہ ٹھنڈک کا باعث ہے، نیز یہ عمل حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی بہ نسبت ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیلوں کے مقابلہ میں بہتراور سخت تر ثابت ہوگا _

معاویہ کے خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے_ یوں صحابہ کی شان میں جعلی احادیث کا تانتا بندھ گیا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی_ لوگ اس قسم کی روایتیں نقل کرنے میں کوشاں ہوگئے_ یہاں تک کہ منبروں پر ان کا ذکر ہونے لگا_ قرآن پڑھانے والوں تک بھی یہ احادیث پہنچائی گئیں_انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو وسیع پیمانے پر یہ احادیث سکھائیں_ چنانچہ انہوں نے قرآن کی طرح ان کو سیکھ لیا اور دوسروں کیلئے نقل کیا_

یہاں تک کہ انہوں نے عورتوں، لڑکیوں، اور نوکروں تک کو بھی یہ احادیث سکھا دیں اور اس کام میں عرصہ دراز تک مشغول رہے_

پھر اس نے تمام شہروں میں اپنے عاملوں کے نام ایک ہی مضمون پر مشتمل فرمان لکھا_ ''جس شخص کے خلاف یہ شہادت ملے کہ وہ حضرت علیعليه‌السلام اور اس کے اہلبیت سے محبت کرتا ہے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ لو_ اس کا وظیفہ اور روزی بند کردو''_ اس کے بعد ایک اور خط اس کے ساتھ یوں لکھا ''جن لوگوں پر تم ان (علیعليه‌السلام

۳۵۰

اور ان کی اہلبیت) کے ساتھ محبت کا الزام لگاچکے ہو_ان کو عبرت ناک سزائیں دو اور ان کے گھروں کو منہدم کرادو'' اس کے نتیجے میں عراق والوں پر سب سے زیادہ مصیبت ٹوٹ پڑی خصوصاً کوفہ میں_ یہاں تک کہ جب کسی شیعہ کے پاس اس کا قابل وثوق آدمی آتا اور اس کے گھر میں داخل ہوتا تاکہ اسے راز کی کوئی بات بتائے تو وہ اس کے غلاموں اور نوکروں سے بھی خوف محسوس کرتا تھا اور اس وقت تک اس کے ساتھ بات نہ کرتا جب تک اسے راز محفوظ رکھنے کی قسمیں نہ دے لیتا_ یوں کثیر تعداد میں جھوٹی احادیث اور بہتانوں کا سلسلہ پھیل گیا_ علمائ، قاضی اور والی ان پر عمل کرتے تھے _ اس کام میں سب سے زیادہ ضعیف الایمان اور ریا کار قاری مبتلا ہوئے جو خضوع اور خشوع کا دکھلاوا کرتے تھے اور جھوٹی احادیث گھڑتے تاکہ حکمرانوں سے فائدہ لے سکیں اور ان کی مجالس کی قربت نصیب ہوسکے_ نیز مال و جائیداد اور مرتبہ و مقام حاصل کرسکیں_ نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ جھوٹی احادیث دیندار لوگوں تک بھی پہنچیں جو جھوٹ اور بہتان کو جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن انہوں نے صحیح سمجھ کر ان کو قبول کیا اور نقل بھی کیا، اگر ان کو علم ہوتا کہ یہ جھوٹی ہیں تو وہ ان کو نقل نہ کرتے اور نہ مانتے_ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی اور فتنہ وبلا میں مزیداضافہ ہوگیا ..._(۱)

انگشت خونین

ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر غار کے اندر سوراخوں کو بند کرنے لگے_ اس اثنا میں ان کی انگلی زخمی ہوئی اوراس سے خون نکلنے لگا_ وہ اپنی انگلی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ انگلی سے مخاطب ہوکر یہ کہہ رہے تھے_

ما انت الا اصبع دمیت

وفی سبیل الله مالقیت(۲)

___________________

۱_النصایح الکافیہ ص ۷۲_۷۳ از مدائنی و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۱ ص ۴۴_

۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۲۲ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۸۰ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵_۳۶_

۳۵۱

تو سوائے ایک خونین انگلی کے کچھ بھی نہیں _ یہ تکلیف تجھے خدا کی راہ میں جھیلنی پڑی ہے_

یہ روایت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن رواحہ کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو انہوں نے اپنی انگلی زخمی ہونے پر جنگ موتہ میں کہے تھے_(۱) البتہ صحیحین میں جندب ابن سفیان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ شعر کسی مجلس میں یا غار میں اپنی انگلی کے زخمی ہونے پر پڑھا_(۲)

بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تو اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ شعر کہا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ سمجھا کہ وہ مشرکین میں سے کوئی ہے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رفتار بڑھالی نتیجتاً ایک پتھر سے ٹکرا کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انگوٹھا زخمی ہوگیا_(۳) ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دمیت اور لقیتکے الفاظ، ان دونوں کی یاء کو زبر دیکراورتاء کو ساکن کر کے ادا کئے ہوں تاکہ شعر نہ رہے کیونکہ آپ شعر نہیں کہتے تھے اور شعر کہنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے مناسب بھی نہیں تھا_ بعض مآخذ میں مذکور ہے کہ یہ شعر ولید بن ولید بن مغیرہ نے اس وقت کہا جب مشرکین سے جان چھڑانے کیلئے ہجرت کی تھی یا اس وقت جب وہ ہشام بن عاص اور عباس بن ربیعہ کو چھڑانے کیلئے گیا تھا_(۴) ایک قول کی رو سے یہ شعر ابودجانہ نے جنگ احد میں کہا_(۵)

یوں واضح ہوا کہ حقیقت سے قریب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ الفاظ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ادا کئے تھے لیکن اس کی جھوٹی نسبت حضرت ابوبکر کی طرف دی گئی تاکہ (حکمران طبقہ کا) قرب حاصل کیا جاسکے اور بس ظاہر ہے یہ بات نہ کسی کمزور کو موٹا بنا سکتی ہے اور نہ کسی بھوکے کو سیر کرسکتی ہے (یعنی کسی کام کی نہیں)_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۹ اور ۳۶ _

۲_ صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۸۱ اور ۱۸۲ صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۹ مطبوعہ المیمنیة و حیات الصحابة ج ۱ ص ۵۱۸ _

۳_ ملاحظہ ہو بحار ج ۱۹ ص ۹۳ از مسند احمد و تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۶ از ابن جوزی_

۴_ نسب قریش (مصعب زبیری) ص ۳۲۴ والمصنف (عبدالزراق) ج ۲ ص ۴۴۷ و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۲۰ _

۵_ البدء و التاریخ ج ۴ ص ۲۰۲ _

۳۵۲

حضرت ابوبکر کے اہم فضائل

قابل توجہ اور عجیب نکتہ یہ ہے کہ صرف غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مصاحبت اور عمرکے لحاظ سے بزرگی کو سقیفہ کے دن حضرت ابوبکر کے استحقاق خلافت کو ثابت کرنے کیلئے بنیادی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا نہ کہ کسی اور چیز کو_ چنانچہ حضرت عمرنے سقیفہ کے دن کہا''کون ہے جو ان تین صفات کا حامل ہو_ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا واحد ساتھی ہو ،جب وہ محزون ہوئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کہا غم مت کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے''_

حضرت عمرنے مزید کہا کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واحد ساتھی تھا، ابوبکر سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور عمر رسیدہ بھی_عام بیعت کے دن حضرت عمرنے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ساتھی ہے اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ان کے سوا کوئی نہ تھا_ تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کا وہ سب سے زیادہ حقدار ہے_ پس اٹھو اور انکی بیعت کرو''_(۱)

حضرت سلمان سے منقول ہے''اصبتم ذا السن فیکم ولکنکم اخطاتم اهلبیت نبیکم ...'' یعنی تم لوگوں نے عمر رسیدہ شخص کو تو پالیا لیکن اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل سے منحرف ہوگئے_

جب یہودیوں نے حضرت ابوبکر سے اپنے ساتھی (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کا تعارف کرانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بولے :''اے قوم یہودمیں اپنی ان دو انگلیوں کی طرح غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہا تھا''_ حضرت عثمان سے مروی ہے ''ابوبکر صدیق (ہمارے خیال میں اس لفظ کا اضافہ بھی راویوں نے مذکورہ وجوہات کی بنا پر کیا ہے) لوگوں میں اس امر کا سب سے زیادہ حقدار ہے، وہ صدیق ہے ، رسول کا یار غار اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی ہے ''_ابوعبیدہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے_

حضرت علیعليه‌السلام اور زبیر سے منقول ہے ''الغار وشرفہ وکبرہ وصلاتہ بالناس'' یعنی غار، ان کا شرف،

___________________

۱_ ان نصوص کیلئے رجوع ہو مجمع الزوائد ج ۵ ص ۱۸۲ از طبرانی (اس کے راوی ثقہ ہیں) بعض ابن ماجہ سے ہیں سیرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۱۱، البدایة و النہایة ج ۵ ص ۲۴۸ از بخاری نیز السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۵۹، شرح نہج البلاغة معتزلی ۶ ص ۸، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۳۸ و الغدیر ج ۷ ص ۹۲ مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے اور الریاض النضرة ج ۱ ص ۱۶۲_۱۶۶ سے_

۳۵۳

ان کا عمر رسیدہ ہونا اور لوگوں کیلئے ان کا نماز پڑھانا_(۱)

آخر میں عسقلانی یہ کہتا ہے کہ یہ تھے ابوبکر کے وہ چیدہ چیدہ فضائل جن کی بدولت وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے مستحق ٹھہرے اسی لئے عمر بن خطاب نے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھی اور یار غار ہیں وہ سارے مسلمانوں میں تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں''_

جب حضرت ابوبکر کے سب سے بڑے فضائل یہی تھے جن کی بناپر وہ مستحق خلافت ٹھہرے اور یہ لوگ ان کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ پاسکے (جبکہ وہ انصارکے مقابلے میں مشکل ترین بحران سے دوچار تھے اور انہیں ایک ایک تنکے کے سہارے کی بھی ضرورت تھی) تو پھر حضرت علیعليه‌السلام اور ان کے عظیم فضائل (جو روز روشن کی طرح واضح تھے) کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا ان کے مقابلے میں وہ کوئی قابل قبول دلیل قائم کرسکتے ہیں؟ اور کیا ان کے پاس رعب و دبدبے، دہشت اور طاقت کی زبان استعمال کرنے کے علاوہ کوئی جواب موجود ہے؟

پس جب فضیلت تراشی میں مدعی اس فضیلت کو بھی ثابت کرنے سے عاجز رہا اورخالی ہاتھ رہ گیا، یہاں تک کہ بلال کو ان پر ترجیح دی جانے لگی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ حضرت بلال اس کی تردید پر مجبور ہوئے (شاید تاریخ اس کی وجہ بیان نہ کرسکی) اور کہا تم مجھے ان پر ترجیح کیسے دیتے ہو جبکہ میں ان کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں_(۲) تو اب حضرت ابوبکر کی آبرو اور حیثیت کی حفاظت کیلئے کیا رہ جاتا ہے؟

ہم اس سوال کا جواب نکتہ دان اور منصف قاری پر چھوڑتے ہیں_

___________________

۱_ مذکورہ تمام باتوں یا اس کے بعض حصوں کیلئے رجوع کریں شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۶ ص ۸ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۶۶ و سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۵۳ یہ مسئلہ الغدیر ج ۵ ص ۳۶۹ ج۷ ص ۹۲ اور ج ۱۰ ص ۷ میں مکمل یا جزوی طور پر درج ذیل مآخذ سے منقول ہے: مسند احمد ج ۱ ص ۳۵ ،طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۲۸ و نہایہ ابن اثیر ج ۳ ص ۲۴۷ و صفہ الصفوة ج ۱ ص ۹۷ و السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۸۶ الصواعق المحرقہ ص۷ سے، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱ ص ۱۳۱ اور ج ۲ ص ۱۷، الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۹۵ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۴۰ ازطرابلسی (فضائل صحابہ میں) نیز منقول ہے الکنز ج ۳ ص ۱۳۹، ۱۳۶ اور ۱۴۰ سے از ابن ابی شیبہ، ابن عساکر ، ابن شاہین، ابن جریر، ابن سعد اور احمد ،اس کے تمام راوی صحاح والے راوی ہیں_

۲_ الغدیر ج ۱۰ ص ۱۳ از تاریخ ابن عساکر ج ۲ ص ۳۱۴ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۳ ص ۳۱۷_

۳۵۴

حضرت عثمان اور واقعہ غار

ابن مندہ نے ایک بے بنیاد سند کے ساتھ اسماء بنت ابوبکر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا''جب میرا باپ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھا تو میں اس کیلئے کھانا لے گئی تھی اس وقت حضرت عثمان نے آنحضرتعليه‌السلام سے اذن ہجرت مانگا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی''_(۱) لیکن یہ بات واضح ہے کہ حضرت عثمان نے واقعہ غار سے آٹھ سال پہلے حبشہ کو ہجرت کی تھی_ اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں غار سے مراد غار ثور نہیں بلکہ کوئی اور غار ہے تو اس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات دلیل کی محتاج ہے اور ہم تاریخ میں کوئی ایسی دلیل نہیں پاتے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی اور غار میں داخل ہوئے ہوں اور اس میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ایک مدت تک رہے ہوں_ ان باتوں سے قطع نظر پہلے گزر چکا ہے کہ اسماء کا ان دونوں کیلئے غار میں کھانا پہنچانے والی بات ہی بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت علیعليه‌السلام ہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے غار میں کھانا لے کر جاتے تھے_

یوم غار اور یوم غدیر

ابن عماد وغیرہ نے کہا ہے کہ شیعہ حضرات کئی صدیوں سے عاشورا کے دن اپنے آپ کو پیٹنے اور رونے دھونے نیز عید غدیر کے دن قبے بنانے، زیب و زینت کرنے اور دیگر مراسم کے ذریعے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتے آئے ہیں_ اس کے نتیجے میں متعصب سنی طیش میں آئے اور انہوں نے یوم غدیر کے مقابلے میں ٹھیک آٹھ دن بعد یعنی ۲۶ ذی الحجہ کو یوم غار منانے کی بنیاد رکھی اوریہ فرض کرلیا کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر اس تاریخ کو غار میں پنہاں ہوئے تھے_ حالانکہ یہ بات جہالت اور غلطی پر مبنی ہے کیونکہ غار والے ایام کا تعلق قطعی طور پر ماہ صفر اور ربیع الاول کی ابتدا سے ہے''_(۲)

___________________

۱_ کنز العمال ج۲۲ ص ۲۰۸ از ابن عساکر اور الاصابة ج ۴ ص ۳۰۴ _

۲_ شذرات الذہب ج ۳ ص ۱۳۰ و الامام الصادق و المذاھب الاربعة ج ۱ ص ۹۴ و بحوث مع اہل السنة و السلیفة ص ۱۴۵ و المنتظم (ابن جوزی) ج ۷ ص ۲۰۶ ، البدایہ والنہایہ ج۱۱ ص ۳۲۵ ، الخطط المقریزیہ ج۱ ص ۳۸۹ ، الکامل فی التاریخ ج۹ص ۱۵۵ ، نہایة الارب (نویری) ج۱ ص ۱۸۵ ، ذیل تجارب الامم (ابوشجاع) ج۳ ص ۳۳۹ ، ۳۴۰ و تاریخ الاسلام ذہبی (واقعات سال ۳۸۱_ ۴۰۰ ) ص ۲۵_

۳۵۵

یہاں یہ کہنا چاہ یے کہ مذکورہ بات عداوت و جہالت سے عبارت تھی جس نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تھا اور بصیرت زائل کردی تھی کیا یوم غار (جس میں حضرت ابوبکر نے اپنی کمزوری اور بے یقینی کو ظاہر کردیا اور ہر ایک کو معلوم ہوگیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بغیر قیمت کی ادائیگی کے ان کا اونٹ قبول نہیں کیا تھا) یوم غدیر کی مانند ہوسکتا ہے (جس دن خدانے اہلبیت کو ثقلین میں سے ایک قرار دیا جن سے تمسک کرنے والا ہرگزگمراہ نہیں ہوسکتا اور علیعليه‌السلام کو مومنین کا مولا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کا امام قرار دیا) ان کے علاوہ دیگر نکات کو محققین اور بڑے بڑے محدثین نے نقل کیا ہے_

حدیث غار کے بارے میں آخری تبصرہ

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

من کان یخلق ما یقول

فحیلتی فیه قلیلة

جو اپنی طرف سے بنا بناکر باتیں کرتا ہے بس اس کے مقابلے میں کوئی چارہ کار نہیں _

واقعہ غار کے بارے میں بعض لوگوں کی ساختہ وپرداختہ اور پسندیدہ جعلی روایات پر ہم نے جو تبصرہ کیا ہے ،یہاں ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں_ محترم قارئین نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہم نے مذکورہ نصوص کے مآخذ کا زیادہ ذکر نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ ہم نے دیکھا کہ یہ نصوص تاریخ اور حدیث کی مختلف کتابوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور محترم قارئین کو ان کی تلاش و تحقیق کی صورت میں زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی، جس قدر ہم نے عرض کیا شاید قارئین کرام اسی کو کافی سمجھیںگے_

امید ہے کہ مذکورہ عرائض قارئین کو ان بہت ساری باتوں کے بے بنیاد ہونے سے باخبر کریں گے جن کا ہم نے یہاں تذکرہ نہیں کیا، کیونکہ ان کا کذب وبطلان واضح ہے_ اب باری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر آگین سیرت کے ذکر کی طرف دوبارہ پلٹنے کی_ تو آیئےل کے سیرت طیبہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں_

۳۵۶

تیسری فصل

قباکی جانب

۳۵۷

مدینہ کی راہ میں

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ''جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو چونکہ قریش نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گرفتاری پر سواونٹوں کا انعام رکھا تھا اس لئے سراقہ بن جشعم بھی حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچ گیا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا فرمائی ''اے خدا جس طریقے سے تو چا ہے، مجھے سراقہ کے شر سے بچا ''_نتیجتاًسراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے جس سے اس کی ٹانگ دوھری ہوگئی اور وہ مشکل میں پڑگیا اس نے کہا اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''اگر تمہیں یقین ہوکہ میرے گھوڑے کی ٹانگوں پر جو مصیبت آئی ہے وہ تیری طرف سے ہے تو خدا سے دعا کرو کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑ دے_ مجھے جان کی قسم (اس صورت میں) اگر تم لوگوں کو میری طرف سے کوئی نیکی نہ پہنچی تو کم از کم کوئی بدی بھی نہیں پہنچے گی''_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے دعاکی اور اللہ نے اس کے گھوڑے کو آزاد کردیا لیکن وہ دوبارہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا تعاقب کرنے لگا_ یہاں تک کہ تین بار اس واقعے کا تکرار ہوا جب تیسری بار اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رہا ہوئیں تو اس نے کہا:'' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ رہا میرا اونٹ جس پر میرا غلام سوار ہے اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سواری یا دودھ کی ضرورت پڑے تو اس سے استفادہ کر لینا اور یہ رہا بطور نشانی اورعلامت میرے ترکش کا ایک تیر_ اب میں لوٹتا ہوں اور آپ کے تعاقب سے دوسروں کو روکتا ہوں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' مجھے تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں''_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے سراقہ کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ شاید یہ دلیل ہوکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں چاہتے تھے کہ کسی مشرک کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کوئی حق ہواور اس بات کی تائید کرنے والی بعض روایات کا ذکر گزرچکا ہے_اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ام معبد کے خیمے تک پہنچ گئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں

۳۵۸

اتر گئے اور اس عورت کے پاس مہمان بننے کی خواہش کی وہ بولی میرے پاس کچھ بھی موجود نہیں ہے_ اتنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی نظر ایک بکری پر پڑی جوکسی تکلیف کے باعث باقی چوپایوں کے ساتھ نہ جاسکی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کیا اس کو دوہنے کی اجازت ہے؟ وہ بولی ہاں، لیکن اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا تو وہ تمام بھیڑ بکریوں سے زیادہ موٹی تازی ہوگئی پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے تھن پر پھیرا تو اس کے تھن حیرت انگیز طریقے سے بڑھ گئے اور دودھ سے لبریز ہوگئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک برتن مانگ کر دودھ دوہا_ یوں سب نے اتنا دودھ پیا کہ سیر ہوگئے_

پھر ام معبد نے اپنا بیٹا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور پیش کیا جو گوشت کے ایک لوتھڑے کے مانند تھا_ وہ نہ تو بات کرسکتا تھا اور نہ اٹھ سکتا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک کجھور اٹھا کر چبایا اور اس کے منہ میں ڈال دیا_ وہ فوراً اٹھ کر چلنے اور باتیں کرنے لگا_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کجھور کی گٹھلی زمین میں دبادی تو اسی وقت ایک درخت بن گئی اور تازہ کجھور اس سے لٹکنے لگیں_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے آس پاس کی طرف اشارہ کیا تو وہ زمین چرا گاہ بن گئی_

اس کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اس درخت نے پھل نہیں دیا_ جب حضرت علیعليه‌السلام شہید ہوئے تو وہ سوکھ گیااور پھر جب امام حسینعليه‌السلام شہید کئے گئے تو اس سے خون بہنے لگا_(۱)

جب ابومعبد واپس آیا اور وہاں کا منظر دیکھا تو اس کی علت پوچھی_ ام معبد بولی قریش کا ایک مرد میرے ہاں سے گزرا ہے اس کے حالات اور واقعات اس قسم کے تھے (ام معبد نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جو توصیف کی وہ مشہور و معروف ہے)_ یہ سن کر ابومعبد نے جان لیا کہ وہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_ چنانچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس گیا اور اپنے گھرانے کے ساتھ مسلمان ہوگیا_(۲)

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۳۵ از ربیع الابرار _

۲_ ام معبد کا واقعہ مورخین کے درمیان مشہور و معروف ہے_ مذکورہ عبارت ابتدا سے لے کر یہاں تک بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۵_۷۶ سے نقل ہوئی ہے_ جو الخرائج و الجرائح سے لی گئی ہے نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۴، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۱ ص ۲۷۹ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۹ _ ۵۰ و دیگر منابع و مآخذ_

۳۵۹

مشکلات کے بعد معجزات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح کرامات اور روشن معجزات کے سامنے مذکورہ معجزات کی اتنی زیادہ اہمیت نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اشرف المخلوقات تھے اور خدا کے نزدیک تا روز قیامت اولین وآخرین کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقام سب سے زیادہ معزز و مکرم تھا_

دوسری طرف سے ہجرت کی دشواریوں کے فوراً بعد ان کرامات کا ظہور اس حقیقت کی تائید کرتا ہے (جس کا ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں اور وہ یہ) کہ ہجرت کا عمل معجزانہ طریقے سے بھی انجام پاسکتا تھا لیکن اللہ کی منشا بس یہی ہے کہ سارے امور عام اسباب کے تحت انجام پذیر ہوں تاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکلات زندگی سے نبرد آزما ہونے اور دعوت الی اللہ کی سنگین ذمہ داریوں کو( تمام تر سختیوں، مصائب اور کٹھن مراحل میں)بطور احسن نبھانے کے حوالے سے ہر شخص کیلئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ قرار پائیں_ علاوہ ازیں یہ امر انسان کی تربیت اور اس کو تدریجاً معاشرے کا ایک فعال، تعمیری اور مفید عنصر بنانے کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے تاکہ وہ انسان فقط طفیلی یا دوسرے کے رحم وکرم پرہی اکتفا کرنے والا نہ بنا رہے _ان کے علاوہ دیگر فوائد ونتائج بھی ہیں جنہیں گزشتہ عرائض کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے_

امیرالمؤمنینعليه‌السلام کی ہجرت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر ہجرت جاری رکھا یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ کے قریب پہنچے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سب سے پہلے قبا میں عمرو بن عوف کے گھر تشریف لے گئے_ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدینہ میں داخل ہونے کی درخواست کی اور اس پر اصرار کیا_ لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا:'' میں داخل مدینہ نہیں ہوں گا جب تک میری ماں کا بیٹا اور میرا بھائی نیز میری بیٹی( یعنی حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام ) پہنچ نہ جائیں''_(۱)

___________________

۱_ الفصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۵ (یہاں نام لئے بغیر ذکر ہوا ہے) امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ نیز اعلام الوری ص ۶۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴، ۱۰۶، ۱۱۵، ۱۱۶ و ۷۵ اور ۷۶ و ج۲۲ ص ۳۶۶ از الخرائج و الجرائح_

۳۶۰

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417