الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)14%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209877 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

مجبور ہوئے اور یوں انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا_ اس کے بعد وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ جب تک میں نے مجبور ہوکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے عمار تیری قلبی کیفیت کیسی ہے؟'' عرض کیا ''یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ میرا دل تو ایمان سے لبریز ہے''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''پس کوئی حرج نہیں بلکہ اگر وہ دوبارہ تمہیں مجبور کریں توتم پھر وہی کہو جو وہ چاہیں_ بے شک خدانے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے( الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان ) مگرجس پر جبر کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو_(۱)

تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں

۱_حضرت عمار کا قصہ اور اس کے بارے میں آیات کا نزول، جان ومال کا خوف در پیش ہونے کی صورت میں تقیہ کے جواز کی دلیل ہے_

۲_علاوہ ازیں خدا کا یہ ارشاد بھی جواز تقیہ کی دلیل ہے( ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شی الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) یعنی جو بھی ایسا کرے (یعنی کفار کو اپنا ولی بنائے) اس کاخدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں_(۳)

۳_نیز یہ آیت بھی تقیہ کو ثابت کرتی ہے( قال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله ) (۴) یعنی آل فرعون کے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا کہا: ''کیا تم ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ خدائے واحد کا اقرار کرتا ہے''_ اس آیت کو منسوخ قرار دینا غلط اور بے دلیل ہے بلکہ اس کا منسوخ نہ ہونا ثابت ہے، جیساکہ جناب

___________________

۱_ سورہ نحل، آیت ۱۰۶ ، رجوع کریں: حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۰، تفسیر طبری ج ۴ ص ۱۱۲ اور حاشیہ پر تفسیر نیشاپوری اور بہت سی دیگر کتب_

۲_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_ ۳_ تقیہ کے متعلق مزید مطالعہ کے لئے: احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۹ ، تقویة الایمان ص ۳۸ ، صحیح بخاری مطبوعہ میمنہ ج ۴ ص ۱۲۸ اور دیگر متعلقہ کتب ۴_ سورہ غافر، آیت ۲۸_

۶۱

یعقوب کلینی نے عبداللہ بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ سلیمان نے کہا:'' میں نے ابوجعفر (امام باقرعليه‌السلام ) سے سنا جبکہ آپ کے پاس عثمان اعمی نامی ایک بصری بیٹھا تھا ، جب اس نے کہا کہ حسن بصری کا قول ہے ''جو لوگ علم کو چھپاتے ہیں ان کے شکم کی ہوا سے اہل جہنم کواذیت ہوگی''_ تو آپ نے فرمایا:''اس صورت میں تو مومن آل فرعون تباہ ہوجائے گا، جب سے خدانے حضرت نوحعليه‌السلام کو مبعوث کیا علم مستور چلا آرہا ہے _حسن دائیں بائیں جس قدر چاہے پھرے خدا کی قسم علم سوائے یہاں کے کہیں اور پایا نہ جائے گا''_(۱) مذکورہ آیت سے امامعليه‌السلام کا استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے منسوخ نہ ہونے پرعلماء کا اتفاق تھا_رہی سنت نبوی تو اس سے ہم درج ذیل دلائل کا ذکر کریں گے_

سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تقیہ

۱_ جناب ابوذرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' عنقریب تمہارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو نماز کا حلیہ بگاڑدیں گے_ اگر تم ان کے زمانے میں رہے تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھتے رہو لیکن ان کے ساتھ بھی بطور نافلہ نماز پڑھ لیا کرو ...''(۲) اور اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث(۳)

۲) مسیلمہ کذاب کے پاس دو آدمی لائے گئے اس نے ایک سے کہا :''کیاتم جانتے ہو کہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہوں''_ اس نے جواب دیا: '' اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ''_مسیلمہ نے اسے قتل کردیا پھر دوسرے سے کہا تو اس نے جواب دیا:'' تم اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں اللہ کے نبی ہو ''_یہ سن کر مسلیمہ نے اسے چھوڑ دیا_ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' پہلا شخص اپنے عزم ویقین پر قائم رہا لیکن دوسرے نے اس راہ کو اختیار کیا جس کی خدا نے اجازت دی ہے پس اس پر کوئی عقاب نہیں''_(۴)

___________________

۱_ اصول کافی ص ۴۰،۴۱ (منشورات المکتبة الاسلامیة )نیز وسائل جلد ۱۸ص ۸_

۲_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۵۹_

۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۶۰، ۱۶۸_

۴_ محاضرات الادباء ، راغب اصفہانی ج ۴ص ۴۰۸اور ۴۰۹ ، احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۱۰ اور سعد السعود ص ۱۳۷_

۶۲

۳) سہمی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے روایت کی ہے''لا دین لمن لا ثقة له'' (۱) بظاہر یہاں لفظ ثقہ کی بجائے لفظ تقیہ مناسب اور درست ہے یعنی جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین نہیں رکھتا جیساکہ شیعوں کی اہل بیتعليه‌السلام سے مروی روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں(۲) _

۴) حضرت عمار یاسر کا معروف واقعہ اور حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمار سے فرمانا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی گذشتہ عمل کا تکرار کرو یہ بات احادیث وتفسیر کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور اسی مناسبت سے آیت( من کفر بالله بعد ایمانه ، الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۳) نازل ہوئی تھی_

۵) نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بذات خود تقیہ فرمانا کیونکہ آپ تین یا پانچ سالوں تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے جو سب کے نزدیک مسلمہ اور اجماعی ہے اور کسی کیلئے شک کی گنجائشے نہیں اگر چہ کہ ہم نے وہاں بتایا تھا کہ حقیقت امر صرف یہی نہیں تھا_

۶) اسلام کفار کو بعض حالات میں اجازت دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا قتل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں_ واضح ہے کہ یہ بھی تقیہ کی ترغیب ہے کیونکہ اس قسم کے حالات میں قبول اسلام جان کی حفاظت کیلئے ہی ہوسکتا ہے پختہ عقیدہ کی بناپر نہیں_اسلامی معاشرے میں اس امید کے ساتھ منافقین کو رہنے کی اجازت دینا اور ان کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے مطابق سلوک کرنا کہ وہ اسلام کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان مستحکم ہوجائے گا بھی اسی طرح ہے _

۷) فتح خیبر کے موقع پر حجاج بن علاط نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا :'' مکہ میں میرا کچھ مال اور رشتہ دار ہیں اور میں انہیں وہاں سے لے آنا چاہتا ہوں _ پس اگر مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہنا بھی پڑا تو کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت ہوگی؟'' تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اجازت دے دی کہ جو کچھ کہے کہہ سکتا ہے(۴)

___________________

۱_ تاریخ جرجان ص ۲۰۱ _

۲_ ملاحظہ ہو : کافی (اصول) ج۲ ص ۲۱۷ مطبوعہ آخندی، وسائل الشیعہ ج۱۱ ص ۴۶۵اور میزان الحکمت ج۱۰ ص ۶۶۶ و ۶۶۷_

۳_ سورہ نمل آیت ۱۰۶اور ملاحظہ ہو فتح الباری ج۱۲ ص ۲۷۷ و ۲۷۸_

۴_ دراسات فی الکافی و الصحیح ص ۳۳۸ از سیرہ حلبیہ_

۶۳

تاریخ سے مثالیں

۱) ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا: ''کیا میں حکام کو زکوة دوں''؟ ابن عمر نے کہا : ''اسے فقراء اورمساکین کے حوالے کرو'' راوی کہتا ہے کہ پس حسن نے مجھ سے کہا : ''کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ جب ابن عمر خوف محسوس نہیں کرتا، تو کہتا ہے زکوة فقیروں اور مسکینوں کو دو''_(۱)

۲) علماء نے دعوی کیا ہے کہ انس بن مالک نے رکوع سے قبل قنوت والی حدیث کو اپنے زمانے کے بعض حکام سے تقیہ کی بناپر روایت کیا ہے(۲)

۳) عباس بن حسن نے اپنے محرروں اور خاص ندیموں سے مکتفی کے مرنے کے بعد خلافت کے اہل آدمی کے متعلق مشورہ لیا تو ابن فرات نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ہر کسی سے علیحدگی میں مشورہ کرے تا کہ اس کی صحیح رائے معلوم ہوسکے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں ہوسکتا ہے تقیہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے پیش نہ کرسکا ہو اور دوسروں کا ساتھ دیا ہو اس بات پر اس نے کہا : ''سچ کہتے ہو'' _ پھر اس نے ویسا ہی کیا جیسا ابن فرات نے کہا تھا(۳)

۴) بیعت عقبہ میں جناب رسول خدا اور جناب حمزہ نے تقیہ فرمایا تھا جس کے متعلق روایتیں علیحدہ فصل میں بیان ہوں گی_

۵) ایوب سے مروی ہے کہ میں جب بھی حسن سے زکوة کے بارے میں سوال کرتاتو کبھی وہ یہ کہتا حکام کو دے دو اور کبھی کہتا ان کو نہ دو_ مگر یہ کہا جائے کہ حسن کی جانب سے یہ تردید اس بارے میں شرعی مسئلہ کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے تھی(۴)

۶) محمد بن حنفیہ کے ایک خطبے میں یوں بیان ہوا ہے، امت سے جدا نہ ہونا ان لوگوں (بنی امیہ) سے تقیہ کے ذریعے سے بچتے رہو ، اور ان سے جنگ نہ کرو،راوی نے کہا :''ان سے تقیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟'' کہا :''جب وہ بلائیں تو ان کے پاس حاضری دینا_یوں خدا تجھ سے نیز تیرے خون اور تیرے دین سے ان

___________________

۱_ المصنف عبدالرزاق ج ۴ص ۴۸ _

۲_ ملاحظہ ہو : المحلی ج۴ ص ۱۴۱_ ۳_ الوزراء صابی ص ۱۳۰_

۴_ مصدر سابق_

۶۴

کے شر کو دور رکھے گا اور تجھے خدا کے مال سے حصہ بھی ملے گا جس کے تم زیادہ حقدار ہو ''_(۱)

۷) مالک سے محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ خروج کرنے کے بارے میں سوال ہوا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ابوجعفر المنصور کی بیعت بھی کررکھی ہے مالک نے کہا :'' تم نے مجبوراً بیعت کی تھی اور جسے مجبور کیا جائے اسکی قسم (بیعت) کی کوئی حیثیت نہیں''(۲)

۸) قرطبی نے شافعی اور کوفیوں سے نقل کیا ہے کہ قتل کا خطرہ ہونے کی صورت میں تقیہ جائزہے_ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے_(۳)

۹) حذیفہ کی روایت ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں تھے_ انہوں نے فرمایا: '' مجھے گن کربتاؤ اسلام کے کتنے ارکان ہیں؟'' حذیفہ کا کہنا ہے کہ ہم نے عرض کیا :'' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہماری طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہے؟ جبکہ ہم ابھی بھی چھ سوسے سات سو کے درمیان ہیں'' تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' تمہیں کیا خبر کل کلاں تم آزمائشے میں مبتلا ہوجاؤ'' حذیفہ کہتا ہے کہ بعد میں ہم ایسی سخت آزمائشے میں مبتلا ہوئے کہ حتی کہ ہم میں سے ہر کوئی چھپ کر نماز پڑھتا تھا_(۴) یہی حذیفہ حضرت علیعليه‌السلام کی بیعت کے صرف چالیس دن بعد فوت ہوا اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس بیعت سے قبل پچھلے دور میں مؤمنین سخت دباؤ کا شکار تھے_ جو لوگ شرعی حکومت پر قابض تھے وہ دین اور دینداروں کے خلاف اپنے دل میں پرانا کینہ رکھتے تھے اور جس چیز کا تھوڑا سا تعلق بھی دین کے ساتھ ہوتا تھا اس کا مذاق اڑایا کرتے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرتے تھے_

۱۰) تمام اہل حدیث اور ان کے بڑے بڑے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے قرآن کے مخلوق ہونے کی تصدیق کی حالانکہ وہ اس کے قدیم ہونے کے قائل تھے فقط امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے انکار کیا(۵) بلکہ امام احمد نے بھی تقیہ کیا چنانچہ جب وہ پھندے کے پاس پہنچا تو کہا : ''میں کوئی بات زبان پر نہ

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۵ص ۷۰ _ ۲_ مقاتل الطالبین ص ۲۸۳نیز طبری ج ۳ص ۲۰۰ مطبوعہ یورپ_

۳_ تفسیر قرطبی ج ۱۰ص ۱۸۱ _ ۴_ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۱ _ صحیح بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ج ۲ ص ۱۱۶و مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۴_

۵_ تجارب الامم مطبوعہ ہمراہ العیون و الحدائق ص ۴۶۵ _

۶۵

لاؤںگا'' نیز جب حاکم وقت نے اس سے کہا:'' قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہو'' تو جواب دیا: '' قرآن کلام الہی ہے'' پوچھا گیا ''کیا قرآن مخلوق ہے''؟ جواب دیا: ''میں بس اتنا کہتا ہوں کہ اللہ کا کلام ہے''_(۱) بلکہ یعقوبی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب امام احمد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بولے : '' میں ایک انسان ہوں جس نے کچھ علم حاصل تو کیا ہے لیکن اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے '' _اس مناظرے اور چند کوڑے کھانے کے بعد اسحق بن ابراہیم مناظرے کے لئے دوبارہ آیا اور اس سے کہا : '' اب کچھ باقی رہ گیا ہے جسے تو نہ جانتاہو؟''کہا : '' ہاں باقی ہے'' _ کہا : ' ' پس یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں تو نہیں جانتا_ حالانکہ امیر المؤمنین (حاکم وقت) نے تجھے اچھی طرح سکھا دیا ہے '' _ کہا : '' پھر میں بھی امیرالمؤمنین کے فرمان کا قائل ہوگیا ہوں '' پوچھا: '' قرآ ن کے مخلوق ہونے کے متعلق ؟'' کہا : '' جی ہاں خلق قرآن کے متعلق '' کہا : ''پھر یا د رکھنا'' پھر اسے آزاد کرکے گھر کو جانے دیا(۲) _

حالانکہ امام احمد خودکہتے ہیں کہ جو فقط یہ کہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور مزید کچھ نہ کہے تو وہ واقفی اور ملعون ہے_(۳)

خوارج کے مقابلے میں ابن زبیر نے بھی تقیہ سے کام لیا(۴) اسی طرح شعبی اور مطرف بن عبداللہ نے حجاج سے تقیہ کیا اور عرباض بن ساریہ اور مؤمن الطاق نے بھی خوارج سے اور صعصعہ بن صوحان نے معاویہ سے تقیہ کیا(۵)

خلق قرآن کے مسئلے میں اسماعیل بن حماد اور ابن مدینی نے بھی تقیہ کیا، ابن مدینی قاضی ابو داؤد معتزلی کی مجلس میں حاضر رہتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھتا تھا_ نیز احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب کی حمایت کرتا تھا_(۶)

۱۱_ مدینہ پر بسربن ابی ارطاة کے غارتگرانہ حملہ کے موقع پر جابربن عبداللہ انصاری نے ام المومنین

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۷ص ۲۰۱نیز آثار جاحظ ص ۲۷۴و مذکرات الرمانی ص ۴۷_

۲_ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۴۷۲_ ۳_ بحوث مع اھل السنة و السلفیہ ص ۱۲۲،۱۲۳ از الرد علی الجھمیة (ابن حنبل) در کتاب الدومی ص۲۸ _

۴_ ملاحظہ ہو العقد الفرید ابن عبدربہ ج۲ ص ۳۹۳_ ۵_ العقد الفرید ج ۲ ص ۴۶۴ و ص ۴۶۵ اور ملاحظہ ہو : بہج الصباغہ ج ۷ ص ۱۲۱_

۶_ رجوع کریں لسان المیزان ج ۱ص ۳۳۹اور ۴۰۰متن اور حاشیہ ملاحظہ ہو_

۶۶

حضرت ام سلمہ کی خدمت میں شکایت کی :'' مجھے قتل ہونے کا خوف ہے اور یہ بیعت ایک گمراہ شخص کی بیعت ہے اس موقع پر میں کیا کروں''؟ تو انہوں نے فرمایا : '' اس صورت میں تم اس کی بیعت کرلو کیونکہ اصحاب کہف کو بھی اسی تقیہ نے صلیب پہننے اور دوسرے شہریوں کے ساتھ عید کی محفلوں میں شریک ہونے پر مجبور کردیا تھا''(۱)

۱۲_ حضرت امام حسنعليه‌السلام کے مسموم ہونے کے بعد جب اہل کوفہ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام سے معاویہ کے خلاف قیام کرنے کا مطالبہ کیا تو آپعليه‌السلام نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا_ البتہ اس معاملے میں آپ کے اور بھی اہداف تھے جو معاویہ کے خلاف پوری زندگی قیام نہ کرنے کے اپنے شہید بھائی کے موقف کے ہماہنگ تھے_ اس بارے میں ملاحظہ فرمائیں اخبار الطوال ص ۲۲۰تا۲۲۲_

۱۳_ حسن بصری کا قول ہے کہ تقیہ روز قیامت تک ہے_(۲)

۱۴_ بخاری کا کہنا ہے:'' جب کسی آدی کو اپنے ساتھی کے قتل و غیرہ کا ڈر ہو اور اس کے متعلق یہ قسم کھائے کہ یہ میرا بھائی ہے _ تو اس پر کوئی بھی حد یا قصاص و غیرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ظالم کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہا ہو تا ہے_ ظالم شخص اسے چھوڑکر قسم کھانے والے کے ساتھ جھگڑتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں کہتا_ اسی طرح اگر اس سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم شراب پیو ، مردار کھاؤ ، اپنا غلام بیچو، قرض کا اقرار کرو یا کوئی چیز تحفہ دویا کوئی معاملہ ختم کردو و گر نہ تمہارے باپ یا تمہارے مسلمان بھائی کو قتل کردیں گے تو اسے ان چیزوں کے ارتکاب کی اجازت ہے ...'' یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :'' نخعی کا قول ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہے تو قسم اٹھانے والے کی نیت پر منحصر ہے اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہے تو پھر اس کی نیت پر منحصر ہوگا ''(۳)

۱۵_ یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ کا حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق عیب جوئی کے بارے میں یہ دعوی ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرتا تھا کیونکہ صعصعہ سے کہتا ہے:'' یہ بادشاہ ہمارے سروں پر مسلط ہوچکا ہے اور ہمیں لوگوں کے سامنے آپعليه‌السلام کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں بھی اکثر اوقات اس کی پیروی کرتے ہوئے ان لوگوں

___________________

۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹۸_ ۲) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ مطبوعہ المیمنیہ_

۳) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ ، صحیح بخاری کی '' کتاب الاکراہ'' کا مطالعہ بہت مفید ہوگا کیونکہ اس میں تقیہ کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں_

۶۷

کے شر سے دور رہنے کے لئے بطور تقیہ ایسی بات کہنی پڑتی ہے _ اگر تم حضرتعليه‌السلام کی فضیلت بیان کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے ساتھیوں کے درمیان اور اپنے گھروں میں چھپ کر کرو ...''(۱)

۱۶_ ابن سلام کہتا ہے :'' رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے نماز کو وقت پر پڑھنے کا اور پھر بطور نافلہ ان حکام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا جو نماز کو تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں''(۲)

۱۷_ خدری نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق اپنے موقف میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا_ تا کہ بنی امیہ سے اس کی جان بچی رہے اور اس نے آیت( ادفع بالتی هی احسن السیئة ) سے استدلال کیا ہے(۳) اسی طرح بیاضی کی '' الصراط المستقیم'' ج ۳ ص ۲۷ تا ۷۳ میں ایسے کوئی واقعات ذکر ہوئے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں_

بہرحال اس مسئلے کی تحقیق کیلئے کافی وقت کی ضرورت ہے یہاں جتنا عرض کیا گیا ہے شاید کافی ہو_

تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت

تقیہ کا جواز اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع اور لچک دار دین ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برا ہوسکتا ہے_ اگر اسلام خشک اور غیرلچک دار ہوتا یااس میں نئے حالات وواقعات سے ہم آہنگ ہونے کی گنجائشے نہ ہوتی تو لازمی طورپر نت نئے واقعات سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا _بنابریں خدانے تقیہ کو جائز قرار دیکر مشکل اور سنگین حالات میں اپنے مشن کی حفاظت اس مشن کے پاسبان (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی حفاظت کے ذریعے کی_ اس کی بہترین مثال خفیہ تبلیغ کا وہ دور ہے جس میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب، بعثت کے ابتدائی دور سے گزرے_

جب دین کے لئے قربانی دینے کا نہ صرف کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ دین کے ایک وفادار سپاہی کو ضائع کرنے

___________________

۱_ تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۱۲_

۲_ تہذیب تاریخ دمش ج ۶ ص ۲۰۵_

۳_ سلیم بن قیس ص ۵۳ مطبوعہ مؤسسہ البعثة قم ایران_

۶۸

کی وجہ سے الٹا دین کا نقصان بھی ہو تو تب دین اسلام کے پاسبانوں کی حفاظت کے لئے دین میں لچک کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے _ یوں بہت سے موقعوں پر اسلام کی حفاظت اس کے ان وفادار اور نیک سپاہیوں کی حفاظت کے زیر سایہ ہوتی ہے جوبوقت ضرورت اس کی راہ میں قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیں پس تقیہ کا اصول انہی لوگوں کی حفاظت کیلئے وضع ہوا ہے_

رہے دوسرے لوگ جنہیں اپنے سواکسی چیزکی فکر ہی نہیں ہوتی تو، تقیہ کے قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی ان کیلئے مساوی ہے تقیہ اسلام کے محافظین کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ اس طریقے سے خود اسلام کی حفاظت ہوسکے تقیہ نفاق یا شکست کا نام نہیں کیونکہ اسلام کے یہ محافظین تو ہمیشہ قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیںاور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ کے دورمیں خاموش رہنے والے حسینعليه‌السلام وہی حسینعليه‌السلام تھے جنہوں نے یزید کے خلاف اس نعرے کے ساتھ قیام کیا:

ان کان دین محمد لم یستقم

الا بقتلی فیا سیوف خذینی

یعنی اگر دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلاح میرے خون کے بغیر نہیں ہوسکتی ، تو اے تلوارو آؤ اور مجھے چھلنی کر دو_

پس جس طرح یہاں ان کا قیام دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھا بالکل اسی طرح وہاں ان کی خاموشی بھی فقط دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھی_ اس نکتے کے بارے میں ہم نے حلف الفضول کے واقعے میں گفتگو کی ہے_

یوں واضح ہوا کہ جب حق کی حفاظت کیلئے قربانی کی ضرورت ہوتو اسلام اس کو لازم قراردیتا ہے اوراس سے پہلوتہی کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتتا_

علاوہ برایں اگر اسلام کے قوانین خشک اورغیر لچک دار ہوں توبہت سے لوگ اس کو خیر باد کہہ دیں گے بلکہ اس کی طرف بالکل رخ ہی نہیں کریں گے_ وحشی وغیرہ کے قبول اسلام کے بارے میں ہم بیان کریں گے کہ بعض لوگ اسلئے مسلمان ہوتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل نہیں کرتے _

بنابریں واضح ہے کہ اسلام کے اندر موجود اس نرمی اور لچک کی یہتوجیہ صحیح نہیں ہے کہ یہ قانون دین میں

۶۹

دی گئی ایک سہولت ہے تاکہ بعض لوگوں کیلئے قبول اسلام کوآسان بنایاجاسکے بلکہ اسے تو اسلام ومسلمین کی حفاظت کا باعث سمجھنا چاہئے بشرطیکہ اس سے اسلام کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو بلکہ ترک تقیہ کی صورت میں قوت اور وسائل کابے جا ضیاع ہوتا ہو اور یہی امر تقیہ اور نفاق کے درمیان فرق کا معیار ہے لیکن بعض لوگ تقیہ کو جائز سمجھنے والوں پر نفاق جیسے ناجائزاور ظالمانہ الزام لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں_

ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس قبیلہ ثقیف کے افراد آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ کچھ مدت کیلئے ان کو بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے نیز ان پر نماز فرض نہ کی جائے (کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گراں سمجھتے تھے) اس کے علاوہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے کا حکم نہ دیاجائے تو اسی معیار کی بناپریہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضورنے آخری بات تو مان لی لیکن پہلی دو باتوں کو رد کردیا_(۱) اسی طرح انہوں نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ انہیں زنا، شراب سود اور ترک نماز کی اجازت دی جائے(۲) انہیں بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے رد کردیااور اس بات کا لحاظ نہ کیا کہ یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اسلام کو تقویت ملے گی اور دشمن کمزور ہوں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے سال ہا سال بتوں کی پوجا کی تھی مزید ایک سال تک بت پرستی کی مہلت کیوں نہ دی؟ جس کے نتیجے میں وہ اسلام سے آشنا اور قریب ترہوجاتے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کا مطالبہ ٹھکرادیا حتی کہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ نے ان کو اس بات کی اجازت نہ دی، کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر جائز وناجائز وسیلے سے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قائل نہ تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وسیلے کو بھی ہدف کاایک حصہ سمجھتے تھے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں_

___________________

۱_ یہاں سے پتہ چلا کہ ''جبلہ ابن ایھم'' سے قصاص لینے پر اصرار میں عمر کی پالیسی کامیاب نہ تھی_ کیونکہ وہ تازہ مسلمان ہوا تھا اور اپنی قوم کا حاکم تھا_ اس نے ابھی اسلام کی عظمت اور ممتاز خوبیوں کو نہیں سمجھا تھا_ حضرت عمر کو چاہئے تھا کہ وہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلے کو کسی آسان تر طریقے سے حل کرتے_

۲_ سیرہ نبویہ دحلان ( حاشیہ سیرہ حلبیہ پر مطبوع) ج۳ ص ۱۱ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۲۳۶ ، تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵ تا ۱۳۷ اور ترک نماز کے متعلق ملاحظہ ہو : الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۲۸۴ ، اسی طرح سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۴ ص ۱۸۵ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۴ ص ۵۶ اور البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۳۰_

۷۰

لیکن اس کے مقابل اگر کوئی بالفرض آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے حرمتی کرتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معاف کردیتے تھے بشرطیکہ اسے یہ احساس ہوجاتا کہ اس نے گناہ کیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس سے درگذر کیاہے_ لیکن اگر وہ شخص اپنے غلط عمل کو صحیح سمجھتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی صورت میں بھی اسے معاف نہیں فرماتے_

خلاصہ(۱) یہ کہ جب مسلمان کمزور ہوں تو پھر انہیں دشمنوں کے ساتھ سخت لڑائی لڑنے کاحق نہیں جس میں وہ خود ہلاک ہوجائیں یاان کے ختم ہونے سے عقیدہحق بھی ختم ہوجائے کیونکہ دین اور نظریات وعقائد کو اس قسم کے مقابلے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ کبھی کبھی الٹا نقصان پہنچتا ہے _ نیز اگرحق کا دفاع ایسی قربانی دینے سے پرہیز پر موقوف ہو جو حق کے مٹنے کا باعث ہو، عقل وفکر سے بیگانہ ہو یا وحشیانہ طرز عمل کے ساتھ ہو، نیز ایک نظریاتی جنگ کیلئے مطلوبہ شرائط سے خالی ہو تو پھر اس قربانی سے احتراز کرنا چاہیئے_

یہ بات اسلام کی عظمت، جامعیت اور حقائق زندگی کے ساتھ اس کی ہماہنگی کی ایک اور دلیل ہے_

___________________

۱_ یہ خلاصہ علامہ سید محمد حسین فضل اللہ کے فرمودات سے ماخوذ ہے _ مراجعہ ہو: مفاہیم الاسلامیہ عامہ حصہ ۸ ص ۱۲۷_

۷۱

دوسری فصل

ہجرت حبشہ اور اس سے متعلقہ بحث

۷۲

راہ حل کی تلاش:

قریش نے ان مسلمانوں کو ستانے کا سلسلہ جاری رکھا جن کی حمایت کرنے والا کوئی قبیلہ نہ تھا_ مسلمانوں کیلئے یونہی بیٹھے رہنا ممکن نہ تھا_ان ستم زدہ لوگوں کیلئے ایک ایسی سرزمین کی ضرورت تھی جو ان کی امیدوں کا مرکزہوتی، ان کو مشکلات کامقابلہ کرنے میں مدد دیتی اور جہاں وہ مشرکین کی طرف سے قسم قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے زیادہ قابل بن سکتے_ یوں وہ ان مشرکین کا مقابلہ کرسکتے تھے جنہوں نے اپنے خداؤں سے ما فوق خدا اور اپنی حاکمیت سے برتر حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا_ نیز اطاعت وتسلیم کے بجائے ہٹ دھرمی اور عناد کی روش اپنائی تھی_

دوسری طرف سے اس پر مشقت و پرآلام صورتحال پر باقی رہنے کی صورت میں قبول اسلام کی جانب لوگوں کی رغبت میں کمی آجاتی کیونکہ اسلام قبول کرنے کا نتیجہ خوف، دہشت اور تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا_

تیسرا پہلو یہ کہ قریش کے تکبر اور ان کی خود پسندانہ طاقت پر کم از کم نفسیاتی طور پر ایسی کاری ضرب لگانے کی ضرورت تھی ، کہ وہ سمجھ جا ئیں کہ دین کا مسئلہ ان کے تصورات اور ان کی طاقت کی حدود سے مافوق چیز ہے اور ان کو زیادہ سنجیدہ ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے_

ان حقائق کے پیش نظر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا_ ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال ہوئی لیکن حاکم نیشابوری کے مطابق ہجرت حبشہ جناب ابوطالب کی وفات کے بعد ہوئی(۱)

___________________

۱_ مستدرک حاکم ج۲ص ۶۲۲_

۷۳

حالانکہ جناب ابوطالب کی وفات بعثت کے دسویں سال ہوئی _ شاید وہ ایک اور ہجرت کے متعلق بتانا چاہتے ہوں جسے کچھ مسلمانوں نے اس موقع پر انجام دیا یا شاید کچھ لوگ صلح کے متعلق سن کر واپس پلٹے ہوں اور اچانک برعکس صورت حال دیکھ کر دوبارہ ہجرت کرگئے ہوں _ لیکن ہمارے پاس ایسے کوئی قرائن بھی نہیں ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہوں کہ یہ واقعہ وفات جناب ابوطالب کے بعد پیش آیا_

حبشہ کے انتخاب کی وجہ

ہجرت کیلئے حبشہ کا انتخاب کیوں ہوا؟ اس رازکی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یوں اشارہ فرمایا ''یقینا وہاں ایک ایسا بادشاہ موجود ہے جس کی حکومت کے زیر سایہ کسی پر ظلم نہیں ہوتا''_ حبشہ سچائی کی سرزمین ہے اور وہ (بادشاہ) مانگنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے_ اس انتخاب کی علت بالفاظ دیگر یہ تھی کہ:

۱) اس صورت میں قریش پر ضروری ہوجاتا کہ وہ اپنے اقتدار، بت پرستی اور انحرافی افکار کے لئے خطرہ سمجھنے والے دین پر اول و آخر اپنے مکمل تسلط اور اختیار کو باقی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں_

۲) قریش کو تجارتی اور اقتصادی روابط کے سبب روم اور شام میں اثر و رسوخ حاصل تھا ،بنابریں ان سرزمینوں کی طرف ہجرت کرنے کی صورت میں قریش کیلئے مسلمانوں کو لوٹانا یاکم از کم آزار پہنچانا آسان ہوجاتا_ خصوصا اس حالت میں جب ان ملکوں کے حکمران کسی قسم کے اخلاقی یا انسانی اصولوں کے پابند نہ تھے اور ان کو ظلم وستم سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہ تھی خاص کر ان مسلمانوں کے اوپر جن کا دین ان کے ذاتی مفادات اور اقتدار کیلئے خطرہ اور چیلنج تھا_

رہا یمن یا دوسرے عرب قبائل کا مسئلہ تو وہ ظالم اور جابر ایرانی بادشاہوں کے زیر تسلط تھے_ کہتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بعض قبائل کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حمایت چاہی تو انہوں نے قبول کیا لیکن کسری نے قبول نہ کیا_واضح رہے کہ کسری کے ہاں پناہ تلاش کرناملک روم میں پناہ ڈھونڈنے سے کم خطر ناک نہ تھا_ بالخصوص اس حالت میں جب کہ کسری دیکھ رہا تھا کہ یہ عرب شخص جلدہی اس کے ملک سے قریب علاقے میں خروج کرے گا اور اس کی دعوت اس کے ملک میں بھی سرایت کرجائے گی_

۷۴

نیز یہ دعوت اپنے لئے تراشے گئے ناجائز امتیازی حقوق پر اثر انداز ہوگی( جیساکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن اوراہداف سے ظاہر تھا) _اس کے علاوہ وہ طبیعة عربوں کو حقیر سمجھتا تھا اور ان کیلئے کسی عزت واحترام کا قائل نہ تھا_

۳) قریش کو مختلف عرب قبائل کے اندر کافی اثر و نفوذ حاصل تھا حتی ان قبائل کے درمیان بھی جو ایران وروم کے زیر اثر تھے جیساکہ اس کتاب کے اوائل میں مذکوربعض معروضات سے واضح ہے_

۴)مذکورہ باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حبشہ میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا_ ان حقائق کے پیش نظر ہم ہجرت کیلئے حبشہ کے انتخاب کی وجہ سمجھ سکتے ہیں_ حبشہ کا علاقہ ایران، روم اور قریش کے اثر و رسوخ سے خارج تھا _قریش وہاں گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار ہوکر نہیں پہنچ سکتے تھے قریش بحری جنگ سے بھی نا آشنا تھے_ بنابریں مسلمانوں نے (جو قریش کی طاقت و جبروت کے سامنے کمزور تھے ) ہجرت کیلئے حبشہ کی راہ لی

آخر میں ہم ارض حبشہ کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ارشاد (حبشہ صدق وصفا کی سرزمین ہے) سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حبشہ میں بعض قبیلے فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اور صدق وخلوص سے میل جول رکھتے تھے_ پس اس مسلمان مہاجر گروہ کا وہاں ان لوگوں کے ساتھ آسودگی کے ساتھ رہنا اور میل جول رکھنا ممکن تھا، خاص طور پر جب یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ اس مملکت میں وہ انحرافات اور غلط افکار وعقائدنہیں پائے جاتے تھے جو روم اور ایران میں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ممالک غیر انسانی نظریات وافکار اور منحرف عقائد وادیان سے کافی حد تک آلودہ ہوچکے تھے لیکن حبشہ کی سرزمین ان آلودگیوں سے دور تھی _

اس لئے کہ وہاں نت نئے دین نہیں ابھرتے تھے اور نہ ہی وہاں روم اور ایران کی مقدار میں دانشمند اور فلاسفر تھے اس لئے وہ دوسرے ممالک کی بہ نسبت فطرت اور حق سے زیادہ قریب تھی لیکن فطرت کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک کسی بھی انحراف سے خالی ہیں _ کیونکہ وہاں انحرافات کا وجود بھی طبیعی امر ہے جبکہ یہ کہنا کہ وہاں فطرت کا راج ہے بالکل اس طرح ہے جیسے یہ کہا جائے کہ فلاں شہر کے لوگ مؤمن ہیں ،

۷۵

بہادر ہیں یا سخی ہیں _ کیونکہ یہ بات اس شہر میں کافروں، منافقوں ، بزدلوں یابخیلوں کے وجود سے مانع نہیں ہے _ اور واضح سی بات ہے کہ اگر مسلمان کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کرتے جہاں فطرت کی بالادستی نہ ہوتی اور وہاں کا فرمانروا ظلم سے پرہیز نہ کرتا تو وہاں بھی ان کے لئے زندگی مشکل ہوجاتی اور ان کی ہجرت کا کوئی زیادہ فائدہ اور بہتر اثر نہ ہوتا_

حبشہ کا سفر

مسلمانوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی، حضرت ام سلمہ سے منقول ایک روایت کے مطابق وہ مختلف گروہوں کی شکل میں وہاں گئے(۱) کہتے ہیں کہ پہلے دس مردوں اور چارعورتوں نے عثمان بن مظعون کی سرکردگی میں ہجرت کی(۲) اس کے بعد دیگر مسلمان بھی چلے گئے یہاں تک کہ بچوں کے علاوہ کل بیاسی مرداور اگر حضرت عمار یاسر بھی ان میں شامل ہوں تو تراسی مرد اور انیس عورتیں حبشہ پہنچ گئے_

لیکن ہم صرف ایک ہی مرتبہ کی ہجرت کے قائل ہیں جس میںسب نے حضرت جعفر بن ابوطالب کی سرکردگی میں حبشہ کی طرف ایک ساتھ ہجرت کی تھی _اس قافلے میں حضرت جعفر طیارعليه‌السلام کے علاوہ بنی ہاشم میں سے کوئی نہ تھا _البتہ ممکن ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت احتیاط کے پیش نظر افراد مختلف گروہوں کی شکل میں خارج ہوئے ہوں لیکن ہجرت ایک ہی مرتبہ ہوئی تھی کیونکہ شاہ حبشہ کے نام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کاخط بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے جسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمروبن امیہ الضمری کے ساتھ روانہ کیا تھا ، اس خط میں مکتوب ہے:

'' البتہ میں نے آپ کی طرف اپنے چچا زاد بھائی جعفر بن ابوطالب کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے

___________________

۱_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۲ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۰ ازالصفوة و المنتہی_

۲_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۵، سیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۵، البدایہ و النہایة ج ۳ص ۶۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۱ص ۳۲۴ (جس میں کہا گیا ہے کہ ابن محدث نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کی تصریح کی ہے) نیز تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۸۸_

۷۶

ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہنچ جائیں تو ان کو وہاں ٹھہرانا ...''(۱)

یہی بات ابوموسی سے مروی روایت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جعفربن ابوطالب کے ہمراہ نجاشی کے ملک کی طرف چلے جائیں_(۲) اگرچہ خود ابو موسی کی ہجرت مشکوک ہے جس کا تذکرہ آئندہ ہوگا_

جعفر سردار مہاجرین :

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت جعفر طیار کی حبشہ کی طرف ہجرت قریش کی جانب سے سختیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے نہیں تھی_ کیونکہ قریش حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی شان و شوکت سے ڈرتے تھے اور بنی ہاشم اور خاص کر ان کا لحاظ کرتے تھے_ حضرت جعفر کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے صرف مہاجرین کا سردار اور ان کا سرپرست بنا کر بھیجاتھا تا کہ وہ انہیں اس نئے معاشرے میں جذب ہوجانے سے بچاسکے، جس طرح کہ ابن جحش کی صورتحال تھی کہ وہ حبشہ میں نصرانی ہوگیا تھا_

حبشہ کا پہلا مہاجر

کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بارے میں فرمایاکہ وہ حضرت لوطعليه‌السلام کے بعد پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کی_(۳) یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سب سے پہلے خارج ہوئے_(۴)

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۳، بحارالانوار ج ۱۸ص ۴۱۸، اعلام الوری ص ۴۵_۴۶از قصص الانبیاء_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۰ نے ابو نعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے اور سیرت نبویہ (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۱ _

۳_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از ابن اسحاق، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص۲۸۹ _

۴_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۴، نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از بیہقی نیر السیرة الحلبیة ج ۱ ص۲۲۳ _

۷۷

لیکن ہمیں اس بارے میں شک ہے کیونکہ اگر مراد یہ ہو کہ وہ گھروالوں کے ساتھ ہجرت کرنے والے پہلے آدمی تھے تویہ بات واضح رہے کہ سب سے پہلے اپنے گھروالوں کے ساتھ ابوسلمہ نے ہجرت کی تھی جیساکہ نقل ہوا ہے_(۱) اور اگر مراد یہ ہو کہ وہ بذات خود سب سے پہلے خارج ہوئے تو عرض ہے کہ خود انہی نقل کرنے والوںکے بقول سب سے پہلے خارج ہونے والے شخص حاطب بن عمر تھے(۲) یا سلیط بن عمرو(۳) نیز ابوسلمہ کے بارے میں بھی اسی قسم کا قول موجود ہے_

ابوموسی نے حبشہ کی جانب ہجرت نہیں کی

امام احمد نے (حسن و غیرہ کی سند کے ساتھ) اوردوسروں نے بھی روایت کی ہے کہ ابوموسی اشعری حبشہ کی طرف پہلی بار ہجرت کرنے والوں میں شامل ہے_(۴) لیکن بظاہر یہ بات یا تو غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا راوی نے عمداً غلط بیانی کی ہے کیونکہ ابوموسی ہجرت کے ساتویں سال مدینے میں مسلمان ہوا تھا_ کہتے ہیں کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے پاس جانے کیلئے نکلے لیکن ان کی کشتی نے انہیں حبشہ پہنچادیا اور وہ حبشہ کے مہاجرین کے ساتھ ساتویں ہجری میں مدینہ آئے(۵) اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ہجرت مدینہ کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مکہ آنے کیلئے چلتے اور پندرہ سال حبشہ میں ٹھہرتے بظاہر ابوموسی اشعری مہاجرین حبشہ کے ساتھ واپسی کے راستے میںآن ملے تھے کیونکہ عسقلانی نے کہا ہے : '' اس کی کشتی جناب

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ص ۳۳۵نیز رجوع کریں ج ۴ص ۴۵۹اور ۴۵۸نیز الاستیعاب (حاشیہ الاصابہ پر) ج ۲ص ۳۳۸از مصعب الزبیری و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲واسد الغابة ج ۳ص ۱۹۶از ابی عمر و ابن منزہ اور السیرة الحلبیہ ج ۱ص ۳۲۳ _

۲_ الاصابة ج ۱ ص ۳۰۱ اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲۳_

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳ _

۴_ رجوع کریں: سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۷، ۶۹، ۷۰ نے ابن اسحاق، احمد اور ابونعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے_ السیرة النبویة( ابن کثیر) ج ۲ص ۷اور ص ۹، فتح الباری ج۷ص ۱۴۳، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴ از طبرانی اور نیز حلیة الاولیاء ج ۱ ص۱۱۴ _

۵_ رجوع کریں السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۴اور البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۱_

۷۸

جعفر بن ابوطالب کی کشتی سے ملی اور وہ سب اکٹھے آئے''(۱)

مہاجرین کے ساتھ عمر کا رویہ

کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہجرت حبشہ کی تیاری میں مصروف تھے تو حضرت عمر نے ان کو دیکھا یوں ان کا دل پسیجا اور وہ محزون ہوئے(۲) لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ وہ لوگ تو خاموشی سے چھپ کر نکلے تھے_ ان میں سے بعض پیدل تھے اور بعض سواریہاں تک کہ ساحل سمندر تک پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایک کشتی دیکھی اور جلدی سے اس میں سوار ہوگئے_ ادھر قریش ان کے تعاقب میں ساحل تک پہنچے لیکن وہاں کسی کو نہیں پایا_(۳) اس کے علاوہ حضرت عمرکی وہ سخت گیری اور قساوت بھی ملحوظ رہے جس کی نسبت (ہجرت حبشہ سے قبل اور ہجرت حبشہ کے بعد) ان کی طرف دی جاتی ہے اور یہ بات مذکورہ بالاقول کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے_

حضرت ابوبکر نے ہجرت نہیں کی

کہتے ہیں کہ جب مکے میں بچے ہوئے مسلمانوں پر سختیوں میں اضافہ ہوا اور حضرت ابوبکر کیلئے مکے میں زیادہ تکالیف کے سبب جینا دوبھر ہوگیا، تو وہ وہاں سے نکل گئے اور حبشہ کی راہ لی اس وقت بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور تھے_ جب وہ ''برک الغماد'' کے مقام پر پہنچے (جو مکہ سے پانچ دن کے فاصلے پر یمن کی جانب واقع ہے) تو قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی ،یہ لوگ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ

___________________

۱_ الاصابہ ج۲ ص ۳۵۹_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹از ابن اسحاق، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴، مستدرک الحاکم ج ۳ص ۵۸، الطبرانی اور السیرة الحلبیہج ۱ص ۳۲۳اور ۳۲۴ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۸۸اور ۲۸۹از المنتقی، الطبری ج ۲ص ۶۹البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۴۹و اعلام الوری ص ۴۳ ویعقوبی ج ۲ص ۲۹اور ابن قیم کی زاد المعاد ج ۲ص ۴۴_

۷۹

کے حلیف تھے_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟'' وہ بولے :''میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے چنانچہ میرا ارادہ ہے کہ میں دنیا میں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کروں''_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر تم جیسوں کو نکالانہیں کرتے، تم محروموں کی مدد کرتے ہو''_ یہاں تک کہ کہا:'' اب لوٹ جاؤ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں'' یوں حضرت ابوبکر ابن دغنہ کے ساتھ واپس ہوئے، ابن دغنہ نے رات کو قریش کے بزرگوں کے ہاں جاکر بتایا کہ اس نے حضرت ابوبکر کو پناہ دی ہے قریش نے اس شرط کے ساتھ اسے قبول کیا کہ وہ اپنے رب کی اعلانیہ عبادت نہ کریں بلکہ اپنے گھر میں عبادت کیا کریں_

لیکن حضرت ابوبکر نے کچھ عرصے بعد بنی جمح کے ہاں اپنے پڑوس میں ایک مسجد تعمیر کی وہاں وہ نمازیں پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کی تلاوت سننے کیلئے جمع ہوتے تھے حتی کہ ازدحام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے اوپر گر پڑتے تھے_ حضرت ابوبکر کی آواز سریلی اور ان کا چہرہ خوبصورت تھا_مشرکین نے ابن دغنہ سے اس مسئلے میں استفسار کیا چنانچہ ابن دغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور امان کی شرائط کو نبھانے کا مطالبہ کیا لیکن حضرت ابوبکر نے اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا_(۱)

ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ اس سے قطع نظر کہ :

ا_ جناب ابوبکر کو قوم سے نکال دیئے جانے کا مطلب ان کی ہجرت نہیں ہے لیکن ان کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتاہے_

۲_ یہ روایت فقط حضرت عائشہ سے مروی ہے اور خود یہ ایک عجیب بات ہے اسلئے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھیں لہذا ان امور کی تمام جزئیات کو درک نہیں کرسکتی تھیں لیکن اگر ہم فرض

___________________

۱_ رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۷،۱۲۸، و سیرت ابن ہشام ج۲ص ۱۲،۱۳، شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ص ۲۶۷، المصنف ج ۵ص ۳۸۵،۳۸۶، البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۴،۹۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۱۹و ۳۲۰میں مذکور ہے کہ یہ بعثت کے تیرہویں سال کا واقعہ ہے_ نیز رجوع کریں حیات الصحابہ جلد ۱ص ۲۷۶،۲۷۷نے بخاری ص ۵۵۲سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

ہجرت مدینہ کے بعد تو حضرت ابوبکر اپنے مال کے معاملے میں سخت بخیل ہوگئے تھے_ ان کے پاس اس وقت پانچ ہزار یا چھ ہزار درہم تھے جیساکہ بعض لوگ نقل کرتے ہیں_ حضرت ابوبکرہرکسی کے ساتھ بخل کرتے تھے یہاں تک کہ اپنی بیٹی اسماء کے ساتھ بھی جو مدینہ آنے کے بعد فقر اور مشکلات کا سخت شکار تھی_ یہاں تک کہ وہ ایک گھرمیں خدمت کرتی تھی، وہاں کے گھوڑے کی دیکھ بھا ل کرتی اور اونٹ کیلئے گٹھلیاں کوٹتی ،اس کو دانہ پانی کھلاتی اوردوتہائی فرسخ(۱) کے فاصلے سے گٹھلیوں کو اپنے سر پر اٹھا کر لاتی تھی_ آخر کار حضرت ابوبکر نے اس کیلئے ایک نوکر بھیج دیا جس نے گھوڑے کی دیکھ بال کا کام سنبھال لیا جیساکہ وہ خود کہتی ہے_(۲)

اس کے علاوہ خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام بھی کئی سال تک مشکلات اور تنگی کا شکار رہے بالخصوص جنگ خیبر سے پہلے_ یہاں تک کہ بسا اوقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دو یا تین دن تک فاقے کرتے تھے اور نوبت یہاں تک پہنچتی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے شکم اطہر پر پتھربھی باندھتے تھے_(۳) انصار باہمی مشورے سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے کھانے کا بند وبست کرتے تھے_ اس وقت حضرت ابوبکر کے وہ ہزاروں درہم اور اموال کہاں گئے تھے جوغزوہ تبوک تک باقی تھے_کیونکہ ان لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ اس وقت وہ اپنی تمام دولت ( چار ہزار درہم) کے ساتھ حاضر ہوئے_(۴)

ب: مذکورہ باتیں اس صورت میں تھیں کہ ان لوگوں کے نزدیک ''منّت'' سے مراد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر مال خرچ کرنا ہو_ لیکن اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر منت سے مراد اللہ کی راہ میں انفاق ہو تو یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ ہمیں تاریخ میں اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی بلکہ تاریخی شواہد تو اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں کیونکہ حضرت ابوبکر نے

___________________

۱_ یعنی تقریبا چار کلومیٹر کے فاصلے سے (از مترجم)

۲_ حدیث الافک ص ۱۵۲ _

۳_ حضرت عائشہ نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر والوں کی جو حالت بیان کی ہے اس سے انسان کا دل چھلنی ہو جاتا ہے _ رجوع کریں طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ دوم ص ۱۲۰و ص ۱۱۲ سے ص ۱۲۰ تک_

۴_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۴۲۹ از ابن عساکر ج ۱ ص ۱۱۰ _

۳۴۱

اپنے مال کے معاملے میں اس قدر کنجوسی برتی کہ واقعہ ''نجوی'' میں دو درھم بھی صدقہ دینے پر آمادہ نہ ہوئے اور سوائے امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے کسی نے یہ اقدام نہ کیا یہاں تک کہ قرآن کی آیت اتری جس میں اللہ تعالی نے اصحاب کے رونے کی مذمت و ملامت کی، ارشاد ہوا( ا اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا وتاب الله علیکم ) (۱) یعنی کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ) سر گوشی کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے_ اب اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا تو ..._ اگر حضرت ابوبکر دو درہموں کا صدقہ دیتے تو ان لوگوں کی صف میں شامل نہ ہوتے جن کی اللہ نے ملامت کی(بلکہ اور جعلی فضائل کوچھوڑ کر اسی پر مباہات کرتے اور حضرت علیعليه‌السلام سے برتری کا یہ نادر موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے _ از مترجم)_

ج: مذکورہ باتوں سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کی خوشنودی کیلئے مال خرچ کرنے کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا پر احسان جتلانے کا کوئی معنی نہیں بنتا (جیساکہ مذکورہ روایت سے اس کا شائبہ ملتا ہے) چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھی اس بات کی خبردی ہے_ بلکہ منت تو در اصل اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ان پر ہے_

خدا نے احسان جتلانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے( لا تبطلوا صدقاتکم بالمن والاذی ) (۲) یعنی احسان جتلاکر یا آزار دے کر اپنے صدقات کو رائیگاں نہ کرو، نیز فرمایا( ولاتمنن تستکثر ) (۳) یعنی اور احسان نہ جتلاؤ زیادہ حاصل کرنے کیلئے، اس لئے یہ بات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس منّت پر، منت کرنے والے کی تعریف کریں خاص کر یہ کہیں کہ اس نے اپنی مصاحبت اور مال کے ذریعے، سارے لوگوں سے زیادہ مجھ پر احسان کیا ہے_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ آیت ۱۳ نیز رجوع کریں دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۲۰، الاوائل ج ۱ ص ۲۹۷ و حاشیة تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۵ اور ۳۷ (جو بہت سے مآخذ سے منقول ہے) کی طرف _

۲_ سورہ بقرہ آیت ۲۶۴ _

۳_ سورہ مدثر آیت ۶ _

۳۴۲

ایک اہم اشارہ

انہی وجوہات کی بنا پر بظاہر جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، حضرت ابوبکر کو راہ خدا میں اپنا گھر بار مکہ چھوڑ آنے ،غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہنے ،خطرات جھیلنے اور خوف اعداء سے محزون و پریشان ہونے اور اس قسم کے دیگر طعنے دینے سے نہ روک سکے تو لوگوں کو حضرت ابوبکر کی اس حالت سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوئے ،شاید وہ اس طرح اپنے بعض کاموں سے دستبردار ہوجاتے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجبور ہوکر آخری اقدام کے طور پر یہ طریقہ کار اختیار کیا جو تعلیم و تربیت کے اسالیب میں سے ایک اسلوب ہے_ خصوصاً پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام پر اس قسم کااحسان فقط حضرت ابوبکر نے نہیں کیا تھا کیونکہ سارے مہاجرین اپنے اموال اپنا وطن، اپنی سرزمین چھوڑ کر مدینہ چلے آئے تھے_ سب نے مشکلات وخطرات کا مقابلہ کیا تھا_ ان میں سے بہت سوں نے سخت ترین قسم کی ایذا رسانیوں اور سزاؤں کا سامنا کیا تھا_ غار میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کے بارے میں واضح رہے کہ امیرالمومنین کو در پیش خطرہ ان کو در پیش خطرے سے کہیں زیادہ تھا_ بنابریں یہ احسان حضرت ابوبکر کا حصہ کیوں بن جائے؟ یہاں تک کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کو اپنا سب سے بڑا محسن قرار دیں؟

د: طوسی اور مفیدکے بقول ابتدا میں حضرت ابوبکربچوں کے معلم تھے_ پھر درزی کا کام کرنے لگے_ بیت المال سے ان کا حصہ دوسرے مسلمانوں کے برابر تھا اسی لئے وہ انصار کی مدد کے محتاج ہوئے ان کے والد شکاری تھے پھر اپنا پیٹ بھرنے اور بدن چھپانے کیلئے ابن جدعان(۱) کے دسترخوان پر مکھیاں اڑانے اور لوگوں کو بلانے کا کام کرنے لگے_(۲) ان حالات میں فطری بات ہے کہ حضرت ابوبکر پانچ ہزار درہم کے کیسے

___________________

۱_ ابن جد عان کے متعلق بظاہر کہا یہی جاتا ہے کہ وہ ایک مالدار یہودی آدمی تھا_ (از مترجم)

۲_ تلخیص الشافی ج ۳ ص ۲۳۸ دلائل الصدق ج ۲ ص ۱۳۰ و الافصاح ص ۱۳۵ اور الغدیر ج ۸ ص ۵۱_ محقق سید مہدی روحانی نے ابوبکر کے معلم ہونے کو درست نہیں سمجھا کیونکہ بچوں کو مکتب میں جمع کر کے پڑھانے کی رسم بعد میں نکلی ہے اور ایام جاہلیت میں مکہ کے اندر یہ رسم نہ تھی نیز وہ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ معلم تھے تو ان کے شاگرد کون تھے؟ اس مکہ کے اندر چند معدود افراد کے علاوہ پڑھے لکھے افراد کیوں نہیں پائے جاتے تھے_ جیساکہ کتاب کی ابتدا میں اس کا ذکر ہوچکا ہے_بلکہ جرجی زیدان نے اپنی کتاب تاریخ تمدن میں لکھا ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت کے وقت پورے مکہ میں صرف سات پڑھے لکھے آدمی تھے_

۳۴۳

مالک ہوسکتے تھے، چالیس ہزار درہم یا دینار تو دور کی بات ہے کیونکہ اس قسم کی دولت یا تجارت سے حاصل ہوتی ہے یا زراعت سے، حضرت ابوبکر اس طرح کے پیشوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے، بنابریں بعض لوگ کیسے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان کا شمار قریش کے رؤسا، مالداروں اور صاحبان جاہ ومقام میں سے ہوتا تھا؟ اگر ان کی یہ حالت تھی تو پھر اپنی بیٹی (اسمائ) کی خبر کیوں نہ لی اور خاص کر اپنے باپ کو ابن جدعان کے پاس کیوں رہنے دیا؟_

ھ: جب امیرالمومنینعليه‌السلام نے تھوڑا سا مال بطور صدقہ دیا (جیساکہ آپ نے یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا کھلا کر اس کا ثبوت دیا) تو اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت اتری:

( ویطعمون الطعام علی حبه مسکینا ویتیما واسیرا انما نطعمکم ) (۱) اور جب انہوں نے اپنی انگوٹھی بطور صدقہ دی تو یہ آیت نازل ہوئی( انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة ویوتون الزکاة وهم راکعون ) (۲) نیز جب انہوں نے ایک درہم چھپاکر

___________________

۱_ سورہ انسان (دھر) آیت ۸ اور روایات کے منابع یہ ہیں : المناقب (خوارزمی) ص ۱۸۹ ، ۱۹۵ ، ریاض النضرةج۳ ص ۲۰۸ و ۲۰۹ ، التفسیر الکبیر ج۳۰ ص ۲۳۴ _۲۴۴ از واحدی و الزمخشری ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر مطبوع،) ج۲۹ ص ۱۱۲، ۱۱۳، کشاف ج۴ ص ۶۷۰،نوادرالاصول ص ۶۴ ، ۶۵ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۹ ص ۱۳۱ از نقاش ، ثعلبی، قشیری و دیگر مفسرین، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۹ ، تفسیر نورالثقلین ج۵ ص۴۶۹_۴۷۷ از امالی شیخ صدوق، قمی ، طبرسی و ابن شہر آشوب ، ذخائر العقبی ص ۸۹ وسائل الشیعہ ج۱۶ ص ۱۹۰ ، فرائد السمطین ج۲ ص ۵۴ تا ۵۶ ، مجمع البیان ج۱۰ ص۴۰۴ ، ۴۰۵ ، المناقب ( ابن مغازلی) ص ۲۷۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۷۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱، اور اسدالغابہ ج۵ ص ۵۳۰ ، ۵۳۱ اور دیگر کثیر منابع_

۲_ سورہ مائدہ آیت ۵۵ اور حدیث کے مآخذ یہ ہیں : الکشاف ج۱ ص ۶۴۹ ، اسباب النزول ص ۱۱۳ ، تفسیر المنار ج۶ ص ۴۴۲ نیز کہا ہے کہ کئی طریقوں سے روایت کی گئی ہے ، تفسیر نورالثقلین ج ۱ ص ۵۳۳ و ۳۳۷ از الکافی ، احتجاج ، خصال، تفسیر قمی اور امالی شیخ صدوق، تفسیر الکبیر ج۱۲ ص ۲۶، الدرالمنثور ج۲ ص ۲۹۳ ، ۲۹۴ از ابوشیخ، ابن مردویہ ، طبرانی، ابن ابی حاتم، ابن عساکر ، ابن جریر و ابونعیم و غیرہ ، فتح القدیر ج۲ ص۵۳خطیب کی کتاب المتفق و المفترق سے ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۲۲۱ ، شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۷۳ _ ۱۸۴ کنز العمال ج۱۵ ص ۱۴۶ ، الفصول المہمہ ( ابن صباغ) ص ۱۰۸ ، تذکرة الخواص ص ۱۵ ، المناقب خوارزمی ص ۱۸۶ ، ۱۸۷ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۲۰۸ ، ذخائر العقبی ص ۱۰۲ از واقدی و ابو الفرج ابن جوزی اور وسائل الشیعہ ج۶ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵ و دیگر منابع _

۳۴۴

اور ایک درہم اعلانیہ نیز ایک درہم رات کو اور ایک درہم دن کو صدقہ دیا تو اللہ تعالی نے یوں توصیف فرمائی( الذین ینفقون اموالهم باللیل و النهار سرا وعلانیة فلهم اجرهم عند ربهم ) (۱) اسی طرح آیہ نجوی پر بھی سوائے حضرت علیعليه‌السلام کے کسی اور نے عمل پیراہو کر نہیں دکھایا(۲) _

ان ساری باتوں کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت ابوبکر نے چالیس ہزار درہم یا دینار راہ خدا میں خرچ کئے ہوتے اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ان کا اتنا بڑا احسان ہوتا کہ جس کا بدلہ خدا ہی دیتا یہاں تک کہ کسی کے مال نے حضرت ابوبکر کے مال کی مانند آپ کو فائدہ نہ پہنچایا ہوتا تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا قرآن میں اس کا ذکر ہی نہ کرے اور تاریخ یا حدیث کی کتابوں میں کم از کم اس کا ایک نمونہ بھی ایسا دکھائی نہ دے جو قابل اثبات ہو؟ کیا مورخین اور محدثین نے حضرت ابوبکر کے فضائل سے عمداً چشم پوشی کی؟ اگر ہاں تو پھر اس

___________________

۱_ سورہ بقرہ آیت ۲۷۴ روایات ان کتابوں میں موجود ہیں : الکشاف ج۱ ص ۳۱۹ ، تفسیر المنار ج۳ ص ۹۲ از عبدالرزاق و ابن جریر وغیرہ ، التفسیر الکبیر ج۷ ص ۸۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج ۳ ص ۳۴۷ ، تفسیر قرآن العظیم ج۱ ص ۳۲۶ از ابن جریر ، ابن مردویہ و ابن ابی حاتم، فتح القدیر ج ۱ ص ۲۹۴ از عبد الرزاق ، عبد بن حمید و ابن منذر، طبرانی اور ابن عساکر و غیرہ ، الدرالمنثور ج۱ ص ۳۶۳ ، لباب النقول ص ۵۰ مطبوعہ دار احیاء العلوم، اسباب النزول ص ۵۰ ، تفسیر نورالثقلین ج۱ ص ۳۴۱ از عیاشی والفصول المہمہ (ابن صباغ) ص ۱۰۷ ، نظم درر السمطین ص ۹۰ ، ذخائر العقبی ص ۸۸ ، تفسیر البرہان ج۴ ص ۴۱۲ ، المناقب ابن مغازلی ص ۲۸۰ ، ینابیع المودة ص ۹۲ ، روضة الواعظین ص ۳۸۳ و ۱۰۵ او ر شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱ ص ۲۱_

۲_ ملاحظہ ہو: المناقب خوارزمی ص ۱۹۶ ، ریاض النضرة ج ۳ ص ۱۸۰ ، الصواع المحرقہ ص ۱۲۹ ا زواقدی ، نظم در ر السمطین ص ۹۰، ۹۱ ، تفسیر القرآن العظیم ج۴ ص ۳۲۷، ۳۲۶، جامع البیان ج۲۸ ص ۱۴ ، ۱۵ ، غرائب القرآن (حاشیہ جامع البیان پر) ج۲۸ ص ۲۴ ، ۲۵ ، کفایة الطالب ص ۱۳۶ ، ۱۳۷ ، احکام القرآن جصاص ج ۳ ص ۴۲۸ ، مستدرک حاکم ج۲ ص ۴۸۲ ، تلخیص مستدرک ( ذہبی ، مطبوعہ حاشیہ مستدرک) ج۲ ص ۶۷۳، ۶۷۵، لباب التاویل ج۴ ص ۲۲۴، مدارک التنزیل( مطبوعہ حاشیہ لباب التاویل) ج۴ ص ۲۲۴، اسباب النزول ص ۲۳۵، شواہد التنزیل ج۲ ص ۲۳۱ _۲۴۰، الدر المنثور ج۶ ص ۱۸۵ ، از ابن ابی شیبہ ، عبد بن حمید، ابن منذر ، ابن مردویہ ، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، حاکم( جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ) ، سعید بن منصور و ابن راہویہ، فتح القدیر ج۵ ص ۱۹۱ ، التفسیر الکبیر ج۲۹ ص ۲۷۱ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۷ ص ۳۰۲ ، الکشاف ج۴ ص ۴۹۴ ، کشف الغمہ ج۱ ص ۱۶۸ ، احقاق الحق ( حصہ ملحقات) ج۳ ص ۱۲۹ تا ۴۰ ۱ و ج۱۴ ص ۲۰۰ ، ۲۱۷ و ج۲۰ ص ۱۸۱ ، ۱۹۲ مذکورہ بعض مآخذ سے نیز دیگر کثیر منابع سے اور اعلام الوری ص ۱۸۸ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جگہ کی کمی کے پیش نظر اس حدیث اور گذشتہ تین روایات کے اکثر منابع و مآخذ ذکر نہیں کئے گئے وگرنہ مذکورہ منابع سے کہیں زیادہ کتب میں یہ روایات ملتی ہیں_

۳۴۵

سلسلے میں حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل سے چشم پوشی کیوں نہیں کی؟

کیا حکمرانوں، بادشاہوں، ان کے ما تحتوں اور بڑے علماء نے حضرت ابوبکر پر ظلم کرتے ہوئے لوگوں کو ان کے فضائل بیان کرنے یا نقل کرنے سے روکا؟ (جس طرح حضرت علیعليه‌السلام پر ظلم کیا تھا؟) البتہ انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرنے مکہ میں مجبور اور ستم دیدہ غلاموں کو آزاد کیا تھا لیکن ہم عرض کرچکے کہ اس کا اثبات ناممکن ہے_ چنانچہ اسکافی معتزلی نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی قیمت اس زمانے میں سو درہم بھی نہ تھی (بشرطیکہ روایت کی صحت کو تسلیم کرلیاجائے) _

کیا خدا کی عدالت کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت علیعليه‌السلام کے صدقات کا (کم ہونے کے باوجود) قرآن اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی ذکر ہو لیکن حضرت ابوبکر کے عطیات کا کئی ہزار کی حد تک پہنچنے کے باوجود، تذکرہ نہ ہو؟ کیا یہ عدل ہے؟ منزہ ہے وہ اللہ جو بادشاہ بھی ہے، حق بھی اور عدل مبین بھی، جس کے ہاں کسی پر ذرہ بھر بلکہ اس سے بھی کم ظلم نہیں ہوتا_

اب کیا یہ کہنا صحیح نہیںہوگا کہ حضرت ابوبکر کے عطیات خالص خدا کی رضا کیلئے نہ تھے؟ اور اگر یہ سب ان کے فطری جود وسخاوت کا نتیجہ تھا ا ور اسی لئے اللہ نے ان کو نظر انداز فرمایا تھا تو پھر کم از کم خدا اسی خصلت کی ہی تعریف فرماتا اور اگر ان کے عطیات کی کوئی قدر وقیمت ہی نہ تھی تو پھر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کیونکر فرمایا کہ اللہ بہت جلد اس کی جزا عنایت کرے گا؟ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے سوالات ابھرتے ہیں جن کا کوئی مفید، قانع کنندہ اور قابل قبول جواب آپ کو نہیں ملے گا_

ان ساری باتوں سے قطع نظر حضرت ابوبکر کی مالداری کا ذکر فقط ان کی بیٹی حضرت عائشہ سے منقول ہے( جیساکہ شیخ مفید علیہ الرحمةنے کہا ہے )اوراس کے راویوں میں شعبی جیسے افراد بھی موجود ہیں جو رضائے بنی امیہ کے حصول کی خاطر تعصب اور اپنی دروغ گوئی اور افترا پردازی کے باعث معروف اور مشہور ہیں_(۱)

___________________

۱_ الافصاح فی امامة امیرالمومنینعليه‌السلام ص ۱۳۱_۱۳۳ _

۳۴۶

ماہر چوروں کا تذکرہ

یہاں روتوں کو ہنسانے والی سب سے عجیب بات یہ ہے کہ بعض کے بقول چور جب حضرت ابوبکر کے چار سوا ونٹ اور چالیس غلاموں کو چوری کر کے لے گئے اور نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ا نہیں غمگین دیکھا تو ان سے اس کا سبب پوچھا _ جب انہوں نے چوری کا واقعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بتایا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا:''(اچھا یہ بات ہے) میں سمجھا تھا کہ تم سے کوئی نماز قضا ہوگئی ہے ...''(۱) لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان ماہر چوروں نے غلاموں اوراونٹوں کی اتنی بڑی مقدار کو کہاں چھپایا تھا؟ پھر ان میں سے ایک غلام نے بھی وہاں سے بھاگ کر جناب ابوبکر کو خبر دار نہیں کیا ؟ پھر کیسے ہوا کہ اس دور کی تاریخ کے سب سے بڑے قافلے کے چلنے کی آواز نے مکہ اور مدینہ کے کسی فرد کو بھی نہیں جگایا؟ پھر یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت ابوبکر کے پاس اتنی زیادہ ثروت کہاں سے آگئی؟ پھر وہ جزیرة العرب کے سب سے زیادہ متمول آدمی کے طور پر چاردانگ عالم میں مشہور کیوں نہیں ہوئے؟ آخر کار ہمیں یہ پتا بھی نہیں چل سکا کہ جناب ابوبکر مسروقہ چیزوں کو دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوسکے یا نہیں؟

حضرت ابوبکر کی دولت سے مربوط اقوال پر آخری تبصرہ

ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی دولت مندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسے خرچ کرنے کے بارے میں جو اقوال موجود ہیں وہ خلیفہ اول کے حامیوں کے شدید رد عمل کا نتیجہ ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک طرف سے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قیمت اداکئے بغیر ان کی پیش کردہ سواری کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں(۲) اور دوسری طرف سے حضرت علی،عليه‌السلام آپعليه‌السلام کے عطیات اور شب ہجرت اور دیگر مقامات پر آپعليه‌السلام کی

___________________

۱_ نزہة المجالس ج ۱ ص ۱۱۶_

۲_ صحیح بخاری مطبوعہ مشکولی ج ۵ ص ۷۵ تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۴ سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۱۳۱ طبقات ابن سعد ج ۱ حصہ اول ص ۱۵۳ البدایة والنہایة ج ۳ ص ۱۸۴_۱۸۸ مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۵ الکامل ابن اثیر اور دیگر بہت سارے مآخذ کے علاوہ سیرت حلبی ج ۲ ص ۳۲ کی طرف رجوع کریں _

۳۴۷

قربانیوں کے بارے میں قرآن کی آیتیں اتر رہی ہیں_

بنابریں ضروری تھا کہ وہ حضرت ابوبکر کیلئے عظیم فضائل اور قربانیاں ثابت کرنے کی جد وجہد کرتے_

اس کے بعد یہ لوگ سواری والے واقعے کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی جان اوراپنے مال کے ساتھ راہ خدا میں ہجرت کرنا چاہتے تھے_(۱)

لیکن جب وہ ہجرت کے واقعات میں زاد راہ والی چمڑے کی تھیلی، پکی ہوئی بکری اور گوسفند کے دودھ کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس تاویل کو بھول جاتے ہیں اور اپنی گفتار کے اندر موجود واضح تضاد سے غافل ہوجاتے ہیں کہ ایک طرف تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنی جان اور فقط اپنے مال کے ساتھ ہجرت کا ارادہ فرمائیں اور دوسری طرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوبکر کی طرف سے دیئے گئے مال، زاد راہ اور دودھ وغیرہ سے استفادہ کریں_

جی ہاں اگر (نعوذ باللہ )رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے افعال واقوال میں تضاد نظر آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا بشرطیکہ حضرت ابوبکر کی فضیلت میں کمی یا فضائل سے ان کی محرومی کا باعث نہ بنے_

دروغ پردازی اور جعل سازی

حقیقت یہ ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے اموال کے بارے میں فرمایا تھا ''ما نفعنی مال قط مثل ما نفعنی مال خدیجة '' (مجھے کسی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا خدیجہ کے مال نے) جیساکہ ذکر ہوچکا ہے_ لیکن اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں تبدیل کردیا گیا ہے_ اس کو مختلف شکلوں اور عبارتوں میں ڈھالاگیا ہے جو ایک ہی مقصد کی حامل اور ایک ہی واضح ہدف کی غماز ہیں اور وہ ہے حضرت ابوبکر کیلئے فضیلت تراشی اور بس_ دیگر بہت ساری ان روایات کی مانند جن کا ذکر ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ میں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام کے فضائل کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کے معتقدین کی وضع کردہ ہیں جیساکہ تحقیق اور موازنہ کرنے کی صورت میں ہر کسی کیلئے واضح ہے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۷ باب الہجرة ص ۱۸۳ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲ _

۳۴۸

ابوبکر اور دیدار الہی

حضرت انس سے مروی ہے کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار سے خارج ہوئے تو حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رکاب تھام لی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے ان کی طرف نظر کی اور فرمایا :''اے ابوبکر تجھے خوشخبری نہ دوں؟'' بولے :''کیوں نہیں میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قربان جائیں''_ فرمایا: ''بیشک خدا روز قیامت تمام لوگوں کے سامنے اپنا دیدار عام کرائے گا لیکن تمہارے لئے بطور خاص اپنی تجلی دکھائے گا''_(۱) یہاں پہلے تو ہم نہیں سمجھے کہ اس تجلی سے کیا مراد ہے_ مگر یہ کہ مذہب مجسّمہ (جو ایک گمراہ مذہب ہے) کی رو سے اس کا معنی کیا جائے_ اس کے علاوہ فیروز آبادی نے اس حدیث کو حضرت ابوبکر کے حق میں گھڑی گئی مشہور و معروف جعلی احادیث میں شمار کیا ہے جن کا باطل ہونا عقل سلیم کے نزدیک بدیہی اور واضح امر ہے_ خطیب نے نقلی علوم کے ماہرین کے نزدیک اس کے جعلی ہونے کی تصدیق کی ہے_ اس کے علاوہ ذہبی، عجلونی، ابن عدی، سیوطی، عسقلانی اور قاری وغیرہ نے بھی اس کے جعلی اور بے بنیاد ہونے کا فیصلہ دیا ہے_(۲)

فضائل کے بارے میں ایک اہم یاددہانی

مدائنی کہتے ہیں معاویہ نے ہر جگہ اپنے عاملوں کو لکھا کہ کسی شیعہ کی شہادت قبول نہ کی جائے_ نیز یہ بھی لکھا :''اپنے درمیان عثمان کے طرفداروں، دوستوں اور چاہنے والوں کو تلاش کرو، جو اس کے فضائل ومناقب بیان کریں ان کی مجالس میں حاضری دو، انہیں اپنے قریب لاؤ، ان کا احترام ملحوظ رکھو اور ان میں سے ہر کسی کی روایتوں کے ساتھ اس کا نام نیز اس کے باپ اور خاندان کے نام لکھ کر میرے پاس بھیج دو'' چنانچہ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی یہاں تک کہ حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی حد کردی کیونکہ معاویہ

___________________

۱_ الغدیر ج۵ ص ۳۰۱ _ ۳۰۲ اور دیگر مآخذ اگلے حاشیہ میں ذکر ہوں گے نیز ملاحظہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۱_

۲_ تاریخ خطیب بغدادی ج ۲ ص ۲۸۸ اور ج ۱۲ ص ۱۹ و کشف الخفاء ج ۲ ص ۴۱۹ اللئالی المصنوعة ج ۱ ص ۱۴۸، لسان المیزان ج ۲ ص ۶۴ میزان الاعتدال ج ۲ ص ۲۱، ۲۳۲ اور ۲۶۹ اور جلد سوم ص ۳۳۶ اور الغدیر ج ۵ ص ۳۰۲ جو مذکورہ مآخذ کے علاوہ اسنی المطالب ص ۶۳ سے ماخوذ ہے_

۳۴۹

ان کو انعام و اکرام عطیات، وظائف اور خلعتوں سے نوازتا تھا خواہ وہ عرب ہوں یا غیر غرب_ یوں ہر شہر میں یہ کام عام ہوگیا اور لوگ دنیوی مال و مقام حاصل کرنے کیلئے اس کام میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگ گئے_ معاویہ کا کوئی عامل ایسا نہ تھا جس کے پاس کوئی شخص آکر حضرت عثمان کی شان میں کوئی فضیلت یا منقبت بیان کرتا مگر یہ کہ وہ اس کا، اس کے رشتہ داروں، اور اس کی بیوی کا نام فہرست میں شامل کرلیتا_ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتارہا_

پھر معاویہ نے اپنے عمال کو لکھا کہ اب حضرت عثمان کی شان میں احادیث کی شہرت ہر شہر اور ہر جگہ پہنچ چکی ہے_ لہذا جب میرا یہ خط تمہیں ملے تو لوگوں کو صحابہ اور خلیفہ اول وخلیفہ دوم کے فضائل بیان کرنے کی دعوت دو_ ابوتراب علیعليه‌السلام کے بارے میں مسلمانوں کے پاس موجود ایک ایک روایت کے مقابلے میں صحابہ کے دس فضائل میرے پاس لے آؤ کیونکہ یہ بات مجھے بہت زیادہ پسند ہے اور میری آنکھوں کیلئے زیادہ ٹھنڈک کا باعث ہے، نیز یہ عمل حضرت عثمان کے فضائل و مناقب کی بہ نسبت ابوتراب اور اس کے شیعوں کی دلیلوں کے مقابلہ میں بہتراور سخت تر ثابت ہوگا _

معاویہ کے خطوط لوگوں کو پڑھ کر سنائے گئے_ یوں صحابہ کی شان میں جعلی احادیث کا تانتا بندھ گیا جن کی کوئی حقیقت نہ تھی_ لوگ اس قسم کی روایتیں نقل کرنے میں کوشاں ہوگئے_ یہاں تک کہ منبروں پر ان کا ذکر ہونے لگا_ قرآن پڑھانے والوں تک بھی یہ احادیث پہنچائی گئیں_انہوں نے بچوں اور نوجوانوں کو وسیع پیمانے پر یہ احادیث سکھائیں_ چنانچہ انہوں نے قرآن کی طرح ان کو سیکھ لیا اور دوسروں کیلئے نقل کیا_

یہاں تک کہ انہوں نے عورتوں، لڑکیوں، اور نوکروں تک کو بھی یہ احادیث سکھا دیں اور اس کام میں عرصہ دراز تک مشغول رہے_

پھر اس نے تمام شہروں میں اپنے عاملوں کے نام ایک ہی مضمون پر مشتمل فرمان لکھا_ ''جس شخص کے خلاف یہ شہادت ملے کہ وہ حضرت علیعليه‌السلام اور اس کے اہلبیت سے محبت کرتا ہے تو اس کا نام رجسٹر سے کاٹ لو_ اس کا وظیفہ اور روزی بند کردو''_ اس کے بعد ایک اور خط اس کے ساتھ یوں لکھا ''جن لوگوں پر تم ان (علیعليه‌السلام

۳۵۰

اور ان کی اہلبیت) کے ساتھ محبت کا الزام لگاچکے ہو_ان کو عبرت ناک سزائیں دو اور ان کے گھروں کو منہدم کرادو'' اس کے نتیجے میں عراق والوں پر سب سے زیادہ مصیبت ٹوٹ پڑی خصوصاً کوفہ میں_ یہاں تک کہ جب کسی شیعہ کے پاس اس کا قابل وثوق آدمی آتا اور اس کے گھر میں داخل ہوتا تاکہ اسے راز کی کوئی بات بتائے تو وہ اس کے غلاموں اور نوکروں سے بھی خوف محسوس کرتا تھا اور اس وقت تک اس کے ساتھ بات نہ کرتا جب تک اسے راز محفوظ رکھنے کی قسمیں نہ دے لیتا_ یوں کثیر تعداد میں جھوٹی احادیث اور بہتانوں کا سلسلہ پھیل گیا_ علمائ، قاضی اور والی ان پر عمل کرتے تھے _ اس کام میں سب سے زیادہ ضعیف الایمان اور ریا کار قاری مبتلا ہوئے جو خضوع اور خشوع کا دکھلاوا کرتے تھے اور جھوٹی احادیث گھڑتے تاکہ حکمرانوں سے فائدہ لے سکیں اور ان کی مجالس کی قربت نصیب ہوسکے_ نیز مال و جائیداد اور مرتبہ و مقام حاصل کرسکیں_ نوبت یہاں تک پہنچی کہ یہ جھوٹی احادیث دیندار لوگوں تک بھی پہنچیں جو جھوٹ اور بہتان کو جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن انہوں نے صحیح سمجھ کر ان کو قبول کیا اور نقل بھی کیا، اگر ان کو علم ہوتا کہ یہ جھوٹی ہیں تو وہ ان کو نقل نہ کرتے اور نہ مانتے_ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ امام حسن بن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی اور فتنہ وبلا میں مزیداضافہ ہوگیا ..._(۱)

انگشت خونین

ایک روایت میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر غار کے اندر سوراخوں کو بند کرنے لگے_ اس اثنا میں ان کی انگلی زخمی ہوئی اوراس سے خون نکلنے لگا_ وہ اپنی انگلی صاف کرنے کے ساتھ ساتھ انگلی سے مخاطب ہوکر یہ کہہ رہے تھے_

ما انت الا اصبع دمیت

وفی سبیل الله مالقیت(۲)

___________________

۱_النصایح الکافیہ ص ۷۲_۷۳ از مدائنی و شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۱ ص ۴۴_

۲_ حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۲۲ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۸۰ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۵_۳۶_

۳۵۱

تو سوائے ایک خونین انگلی کے کچھ بھی نہیں _ یہ تکلیف تجھے خدا کی راہ میں جھیلنی پڑی ہے_

یہ روایت بھی غلط ہے کیونکہ یہ عبداللہ بن رواحہ کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو انہوں نے اپنی انگلی زخمی ہونے پر جنگ موتہ میں کہے تھے_(۱) البتہ صحیحین میں جندب ابن سفیان سے منقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ شعر کسی مجلس میں یا غار میں اپنی انگلی کے زخمی ہونے پر پڑھا_(۲)

بعض دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہوئے تو اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ شعر کہا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ سمجھا کہ وہ مشرکین میں سے کوئی ہے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رفتار بڑھالی نتیجتاً ایک پتھر سے ٹکرا کر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا انگوٹھا زخمی ہوگیا_(۳) ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دمیت اور لقیتکے الفاظ، ان دونوں کی یاء کو زبر دیکراورتاء کو ساکن کر کے ادا کئے ہوں تاکہ شعر نہ رہے کیونکہ آپ شعر نہیں کہتے تھے اور شعر کہنا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے مناسب بھی نہیں تھا_ بعض مآخذ میں مذکور ہے کہ یہ شعر ولید بن ولید بن مغیرہ نے اس وقت کہا جب مشرکین سے جان چھڑانے کیلئے ہجرت کی تھی یا اس وقت جب وہ ہشام بن عاص اور عباس بن ربیعہ کو چھڑانے کیلئے گیا تھا_(۴) ایک قول کی رو سے یہ شعر ابودجانہ نے جنگ احد میں کہا_(۵)

یوں واضح ہوا کہ حقیقت سے قریب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ مذکورہ الفاظ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ادا کئے تھے لیکن اس کی جھوٹی نسبت حضرت ابوبکر کی طرف دی گئی تاکہ (حکمران طبقہ کا) قرب حاصل کیا جاسکے اور بس ظاہر ہے یہ بات نہ کسی کمزور کو موٹا بنا سکتی ہے اور نہ کسی بھوکے کو سیر کرسکتی ہے (یعنی کسی کام کی نہیں)_

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۹ اور ۳۶ _

۲_ صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۸۱ اور ۱۸۲ صحیح بخاری ج ۲ ص ۸۹ مطبوعہ المیمنیة و حیات الصحابة ج ۱ ص ۵۱۸ _

۳_ ملاحظہ ہو بحار ج ۱۹ ص ۹۳ از مسند احمد و تاریخ طبری ج ۲ ص ۱۰۰ و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۶ از ابن جوزی_

۴_ نسب قریش (مصعب زبیری) ص ۳۲۴ والمصنف (عبدالزراق) ج ۲ ص ۴۴۷ و سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۲۲۰ _

۵_ البدء و التاریخ ج ۴ ص ۲۰۲ _

۳۵۲

حضرت ابوبکر کے اہم فضائل

قابل توجہ اور عجیب نکتہ یہ ہے کہ صرف غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مصاحبت اور عمرکے لحاظ سے بزرگی کو سقیفہ کے دن حضرت ابوبکر کے استحقاق خلافت کو ثابت کرنے کیلئے بنیادی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا نہ کہ کسی اور چیز کو_ چنانچہ حضرت عمرنے سقیفہ کے دن کہا''کون ہے جو ان تین صفات کا حامل ہو_ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا واحد ساتھی ہو ،جب وہ محزون ہوئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے کہا غم مت کھا، اللہ ہمارے ساتھ ہے''_

حضرت عمرنے مزید کہا کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کا سب سے زیادہ حقدار وہ ہے جو غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا واحد ساتھی تھا، ابوبکر سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں اور عمر رسیدہ بھی_عام بیعت کے دن حضرت عمرنے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ساتھی ہے اور غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ان کے سوا کوئی نہ تھا_ تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کا وہ سب سے زیادہ حقدار ہے_ پس اٹھو اور انکی بیعت کرو''_(۱)

حضرت سلمان سے منقول ہے''اصبتم ذا السن فیکم ولکنکم اخطاتم اهلبیت نبیکم ...'' یعنی تم لوگوں نے عمر رسیدہ شخص کو تو پالیا لیکن اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آل سے منحرف ہوگئے_

جب یہودیوں نے حضرت ابوبکر سے اپنے ساتھی (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ) کا تعارف کرانے کی خواہش کا اظہار کیا تو بولے :''اے قوم یہودمیں اپنی ان دو انگلیوں کی طرح غار میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ رہا تھا''_ حضرت عثمان سے مروی ہے ''ابوبکر صدیق (ہمارے خیال میں اس لفظ کا اضافہ بھی راویوں نے مذکورہ وجوہات کی بنا پر کیا ہے) لوگوں میں اس امر کا سب سے زیادہ حقدار ہے، وہ صدیق ہے ، رسول کا یار غار اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ساتھی ہے ''_ابوعبیدہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے_

حضرت علیعليه‌السلام اور زبیر سے منقول ہے ''الغار وشرفہ وکبرہ وصلاتہ بالناس'' یعنی غار، ان کا شرف،

___________________

۱_ ان نصوص کیلئے رجوع ہو مجمع الزوائد ج ۵ ص ۱۸۲ از طبرانی (اس کے راوی ثقہ ہیں) بعض ابن ماجہ سے ہیں سیرت ابن ہشام ج ۴ ص ۳۱۱، البدایة و النہایة ج ۵ ص ۲۴۸ از بخاری نیز السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۵۹، شرح نہج البلاغة معتزلی ۶ ص ۸، المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۳۸ و الغدیر ج ۷ ص ۹۲ مذکورہ مآخذ میں سے بعض سے اور الریاض النضرة ج ۱ ص ۱۶۲_۱۶۶ سے_

۳۵۳

ان کا عمر رسیدہ ہونا اور لوگوں کیلئے ان کا نماز پڑھانا_(۱)

آخر میں عسقلانی یہ کہتا ہے کہ یہ تھے ابوبکر کے وہ چیدہ چیدہ فضائل جن کی بدولت وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے مستحق ٹھہرے اسی لئے عمر بن خطاب نے کہا ''ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھی اور یار غار ہیں وہ سارے مسلمانوں میں تمہارے امور کی باگ ڈور سنبھالنے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں''_

جب حضرت ابوبکر کے سب سے بڑے فضائل یہی تھے جن کی بناپر وہ مستحق خلافت ٹھہرے اور یہ لوگ ان کے علاوہ کوئی اور فضیلت نہ پاسکے (جبکہ وہ انصارکے مقابلے میں مشکل ترین بحران سے دوچار تھے اور انہیں ایک ایک تنکے کے سہارے کی بھی ضرورت تھی) تو پھر حضرت علیعليه‌السلام اور ان کے عظیم فضائل (جو روز روشن کی طرح واضح تھے) کے مقابلے میں ان کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا ان کے مقابلے میں وہ کوئی قابل قبول دلیل قائم کرسکتے ہیں؟ اور کیا ان کے پاس رعب و دبدبے، دہشت اور طاقت کی زبان استعمال کرنے کے علاوہ کوئی جواب موجود ہے؟

پس جب فضیلت تراشی میں مدعی اس فضیلت کو بھی ثابت کرنے سے عاجز رہا اورخالی ہاتھ رہ گیا، یہاں تک کہ بلال کو ان پر ترجیح دی جانے لگی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ حضرت بلال اس کی تردید پر مجبور ہوئے (شاید تاریخ اس کی وجہ بیان نہ کرسکی) اور کہا تم مجھے ان پر ترجیح کیسے دیتے ہو جبکہ میں ان کی نیکیوں میں سے ایک نیکی ہوں_(۲) تو اب حضرت ابوبکر کی آبرو اور حیثیت کی حفاظت کیلئے کیا رہ جاتا ہے؟

ہم اس سوال کا جواب نکتہ دان اور منصف قاری پر چھوڑتے ہیں_

___________________

۱_ مذکورہ تمام باتوں یا اس کے بعض حصوں کیلئے رجوع کریں شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۶ ص ۸ و مستدرک الحاکم ج ۳ ص ۶۶ و سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۵۳ یہ مسئلہ الغدیر ج ۵ ص ۳۶۹ ج۷ ص ۹۲ اور ج ۱۰ ص ۷ میں مکمل یا جزوی طور پر درج ذیل مآخذ سے منقول ہے: مسند احمد ج ۱ ص ۳۵ ،طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۲۸ و نہایہ ابن اثیر ج ۳ ص ۲۴۷ و صفہ الصفوة ج ۱ ص ۹۷ و السیرة الحلبیة ج ۳ ص ۳۸۶ الصواعق المحرقہ ص۷ سے، شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱ ص ۱۳۱ اور ج ۲ ص ۱۷، الریاض النضرة ج ۲ ص ۱۹۵ و کنز العمال ج ۳ ص ۱۴۰ ازطرابلسی (فضائل صحابہ میں) نیز منقول ہے الکنز ج ۳ ص ۱۳۹، ۱۳۶ اور ۱۴۰ سے از ابن ابی شیبہ، ابن عساکر ، ابن شاہین، ابن جریر، ابن سعد اور احمد ،اس کے تمام راوی صحاح والے راوی ہیں_

۲_ الغدیر ج ۱۰ ص ۱۳ از تاریخ ابن عساکر ج ۲ ص ۳۱۴ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۳ ص ۳۱۷_

۳۵۴

حضرت عثمان اور واقعہ غار

ابن مندہ نے ایک بے بنیاد سند کے ساتھ اسماء بنت ابوبکر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا''جب میرا باپ غار میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھا تو میں اس کیلئے کھانا لے گئی تھی اس وقت حضرت عثمان نے آنحضرتعليه‌السلام سے اذن ہجرت مانگا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو حبشہ ہجرت کرنے کی اجازت دی''_(۱) لیکن یہ بات واضح ہے کہ حضرت عثمان نے واقعہ غار سے آٹھ سال پہلے حبشہ کو ہجرت کی تھی_ اگر کوئی یہ کہے کہ یہاں غار سے مراد غار ثور نہیں بلکہ کوئی اور غار ہے تو اس کاجواب یہ ہے کہ یہ بات دلیل کی محتاج ہے اور ہم تاریخ میں کوئی ایسی دلیل نہیں پاتے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی اور غار میں داخل ہوئے ہوں اور اس میں حضرت ابوبکر کے ساتھ ایک مدت تک رہے ہوں_ ان باتوں سے قطع نظر پہلے گزر چکا ہے کہ اسماء کا ان دونوں کیلئے غار میں کھانا پہنچانے والی بات ہی بے بنیاد ہے کیونکہ حضرت علیعليه‌السلام ہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے غار میں کھانا لے کر جاتے تھے_

یوم غار اور یوم غدیر

ابن عماد وغیرہ نے کہا ہے کہ شیعہ حضرات کئی صدیوں سے عاشورا کے دن اپنے آپ کو پیٹنے اور رونے دھونے نیز عید غدیر کے دن قبے بنانے، زیب و زینت کرنے اور دیگر مراسم کے ذریعے اپنی گمراہی کا ثبوت دیتے آئے ہیں_ اس کے نتیجے میں متعصب سنی طیش میں آئے اور انہوں نے یوم غدیر کے مقابلے میں ٹھیک آٹھ دن بعد یعنی ۲۶ ذی الحجہ کو یوم غار منانے کی بنیاد رکھی اوریہ فرض کرلیا کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوبکر اس تاریخ کو غار میں پنہاں ہوئے تھے_ حالانکہ یہ بات جہالت اور غلطی پر مبنی ہے کیونکہ غار والے ایام کا تعلق قطعی طور پر ماہ صفر اور ربیع الاول کی ابتدا سے ہے''_(۲)

___________________

۱_ کنز العمال ج۲۲ ص ۲۰۸ از ابن عساکر اور الاصابة ج ۴ ص ۳۰۴ _

۲_ شذرات الذہب ج ۳ ص ۱۳۰ و الامام الصادق و المذاھب الاربعة ج ۱ ص ۹۴ و بحوث مع اہل السنة و السلیفة ص ۱۴۵ و المنتظم (ابن جوزی) ج ۷ ص ۲۰۶ ، البدایہ والنہایہ ج۱۱ ص ۳۲۵ ، الخطط المقریزیہ ج۱ ص ۳۸۹ ، الکامل فی التاریخ ج۹ص ۱۵۵ ، نہایة الارب (نویری) ج۱ ص ۱۸۵ ، ذیل تجارب الامم (ابوشجاع) ج۳ ص ۳۳۹ ، ۳۴۰ و تاریخ الاسلام ذہبی (واقعات سال ۳۸۱_ ۴۰۰ ) ص ۲۵_

۳۵۵

یہاں یہ کہنا چاہ یے کہ مذکورہ بات عداوت و جہالت سے عبارت تھی جس نے ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تھا اور بصیرت زائل کردی تھی کیا یوم غار (جس میں حضرت ابوبکر نے اپنی کمزوری اور بے یقینی کو ظاہر کردیا اور ہر ایک کو معلوم ہوگیا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بغیر قیمت کی ادائیگی کے ان کا اونٹ قبول نہیں کیا تھا) یوم غدیر کی مانند ہوسکتا ہے (جس دن خدانے اہلبیت کو ثقلین میں سے ایک قرار دیا جن سے تمسک کرنے والا ہرگزگمراہ نہیں ہوسکتا اور علیعليه‌السلام کو مومنین کا مولا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کا امام قرار دیا) ان کے علاوہ دیگر نکات کو محققین اور بڑے بڑے محدثین نے نقل کیا ہے_

حدیث غار کے بارے میں آخری تبصرہ

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

من کان یخلق ما یقول

فحیلتی فیه قلیلة

جو اپنی طرف سے بنا بناکر باتیں کرتا ہے بس اس کے مقابلے میں کوئی چارہ کار نہیں _

واقعہ غار کے بارے میں بعض لوگوں کی ساختہ وپرداختہ اور پسندیدہ جعلی روایات پر ہم نے جو تبصرہ کیا ہے ،یہاں ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں_ محترم قارئین نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ ہم نے مذکورہ نصوص کے مآخذ کا زیادہ ذکر نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کی، کیونکہ ہم نے دیکھا کہ یہ نصوص تاریخ اور حدیث کی مختلف کتابوں میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور محترم قارئین کو ان کی تلاش و تحقیق کی صورت میں زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی، جس قدر ہم نے عرض کیا شاید قارئین کرام اسی کو کافی سمجھیںگے_

امید ہے کہ مذکورہ عرائض قارئین کو ان بہت ساری باتوں کے بے بنیاد ہونے سے باخبر کریں گے جن کا ہم نے یہاں تذکرہ نہیں کیا، کیونکہ ان کا کذب وبطلان واضح ہے_ اب باری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطر آگین سیرت کے ذکر کی طرف دوبارہ پلٹنے کی_ تو آیئےل کے سیرت طیبہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں_

۳۵۶

تیسری فصل

قباکی جانب

۳۵۷

مدینہ کی راہ میں

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ''جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ غار سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو چونکہ قریش نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گرفتاری پر سواونٹوں کا انعام رکھا تھا اس لئے سراقہ بن جشعم بھی حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلاش میں نکلا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچ گیا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا فرمائی ''اے خدا جس طریقے سے تو چا ہے، مجھے سراقہ کے شر سے بچا ''_نتیجتاًسراقہ کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے جس سے اس کی ٹانگ دوھری ہوگئی اور وہ مشکل میں پڑگیا اس نے کہا اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ''اگر تمہیں یقین ہوکہ میرے گھوڑے کی ٹانگوں پر جو مصیبت آئی ہے وہ تیری طرف سے ہے تو خدا سے دعا کرو کہ وہ میرے گھوڑے کو چھوڑ دے_ مجھے جان کی قسم (اس صورت میں) اگر تم لوگوں کو میری طرف سے کوئی نیکی نہ پہنچی تو کم از کم کوئی بدی بھی نہیں پہنچے گی''_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے دعاکی اور اللہ نے اس کے گھوڑے کو آزاد کردیا لیکن وہ دوبارہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا تعاقب کرنے لگا_ یہاں تک کہ تین بار اس واقعے کا تکرار ہوا جب تیسری بار اس کے گھوڑے کی ٹانگیں رہا ہوئیں تو اس نے کہا:'' اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ رہا میرا اونٹ جس پر میرا غلام سوار ہے اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سواری یا دودھ کی ضرورت پڑے تو اس سے استفادہ کر لینا اور یہ رہا بطور نشانی اورعلامت میرے ترکش کا ایک تیر_ اب میں لوٹتا ہوں اور آپ کے تعاقب سے دوسروں کو روکتا ہوں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' مجھے تمہاری کسی چیز کی ضرورت نہیں''_

نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے سراقہ کی پیشکش کو ٹھکرانے کی وجہ شاید یہ دلیل ہوکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں چاہتے تھے کہ کسی مشرک کا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر کوئی حق ہواور اس بات کی تائید کرنے والی بعض روایات کا ذکر گزرچکا ہے_اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ام معبد کے خیمے تک پہنچ گئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں

۳۵۸

اتر گئے اور اس عورت کے پاس مہمان بننے کی خواہش کی وہ بولی میرے پاس کچھ بھی موجود نہیں ہے_ اتنے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی نظر ایک بکری پر پڑی جوکسی تکلیف کے باعث باقی چوپایوں کے ساتھ نہ جاسکی تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کیا اس کو دوہنے کی اجازت ہے؟ وہ بولی ہاں، لیکن اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کی پشت پر پھیرا تو وہ تمام بھیڑ بکریوں سے زیادہ موٹی تازی ہوگئی پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے تھن پر پھیرا تو اس کے تھن حیرت انگیز طریقے سے بڑھ گئے اور دودھ سے لبریز ہوگئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک برتن مانگ کر دودھ دوہا_ یوں سب نے اتنا دودھ پیا کہ سیر ہوگئے_

پھر ام معبد نے اپنا بیٹا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضور پیش کیا جو گوشت کے ایک لوتھڑے کے مانند تھا_ وہ نہ تو بات کرسکتا تھا اور نہ اٹھ سکتا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک کجھور اٹھا کر چبایا اور اس کے منہ میں ڈال دیا_ وہ فوراً اٹھ کر چلنے اور باتیں کرنے لگا_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کجھور کی گٹھلی زمین میں دبادی تو اسی وقت ایک درخت بن گئی اور تازہ کجھور اس سے لٹکنے لگیں_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے آس پاس کی طرف اشارہ کیا تو وہ زمین چرا گاہ بن گئی_

اس کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اس درخت نے پھل نہیں دیا_ جب حضرت علیعليه‌السلام شہید ہوئے تو وہ سوکھ گیااور پھر جب امام حسینعليه‌السلام شہید کئے گئے تو اس سے خون بہنے لگا_(۱)

جب ابومعبد واپس آیا اور وہاں کا منظر دیکھا تو اس کی علت پوچھی_ ام معبد بولی قریش کا ایک مرد میرے ہاں سے گزرا ہے اس کے حالات اور واقعات اس قسم کے تھے (ام معبد نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جو توصیف کی وہ مشہور و معروف ہے)_ یہ سن کر ابومعبد نے جان لیا کہ وہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_ چنانچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس گیا اور اپنے گھرانے کے ساتھ مسلمان ہوگیا_(۲)

___________________

۱_ تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۳۵ از ربیع الابرار _

۲_ ام معبد کا واقعہ مورخین کے درمیان مشہور و معروف ہے_ مذکورہ عبارت ابتدا سے لے کر یہاں تک بحار الانوار ج ۱۹ ص ۷۵_۷۶ سے نقل ہوئی ہے_ جو الخرائج و الجرائح سے لی گئی ہے نیز ملاحظہ ہو: تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۳۴، دلائل النبوة بیہقی مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۱ ص ۲۷۹ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۴۹ _ ۵۰ و دیگر منابع و مآخذ_

۳۵۹

مشکلات کے بعد معجزات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی واضح کرامات اور روشن معجزات کے سامنے مذکورہ معجزات کی اتنی زیادہ اہمیت نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اشرف المخلوقات تھے اور خدا کے نزدیک تا روز قیامت اولین وآخرین کے مقابلے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقام سب سے زیادہ معزز و مکرم تھا_

دوسری طرف سے ہجرت کی دشواریوں کے فوراً بعد ان کرامات کا ظہور اس حقیقت کی تائید کرتا ہے (جس کا ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں اور وہ یہ) کہ ہجرت کا عمل معجزانہ طریقے سے بھی انجام پاسکتا تھا لیکن اللہ کی منشا بس یہی ہے کہ سارے امور عام اسباب کے تحت انجام پذیر ہوں تاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکلات زندگی سے نبرد آزما ہونے اور دعوت الی اللہ کی سنگین ذمہ داریوں کو( تمام تر سختیوں، مصائب اور کٹھن مراحل میں)بطور احسن نبھانے کے حوالے سے ہر شخص کیلئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ قرار پائیں_ علاوہ ازیں یہ امر انسان کی تربیت اور اس کو تدریجاً معاشرے کا ایک فعال، تعمیری اور مفید عنصر بنانے کے عمل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے تاکہ وہ انسان فقط طفیلی یا دوسرے کے رحم وکرم پرہی اکتفا کرنے والا نہ بنا رہے _ان کے علاوہ دیگر فوائد ونتائج بھی ہیں جنہیں گزشتہ عرائض کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے_

امیرالمؤمنینعليه‌السلام کی ہجرت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سفر ہجرت جاری رکھا یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ کے قریب پہنچے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سب سے پہلے قبا میں عمرو بن عوف کے گھر تشریف لے گئے_ حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدینہ میں داخل ہونے کی درخواست کی اور اس پر اصرار کیا_ لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انکار کرتے ہوئے فرمایا:'' میں داخل مدینہ نہیں ہوں گا جب تک میری ماں کا بیٹا اور میرا بھائی نیز میری بیٹی( یعنی حضرت علیعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام ) پہنچ نہ جائیں''_(۱)

___________________

۱_ الفصول المہمة (ابن صباغ مالکی) ص ۳۵ (یہاں نام لئے بغیر ذکر ہوا ہے) امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳ نیز اعلام الوری ص ۶۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴، ۱۰۶، ۱۱۵، ۱۱۶ و ۷۵ اور ۷۶ و ج۲۲ ص ۳۶۶ از الخرائج و الجرائح_

۳۶۰

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417