الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209965 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

بارے میں اور اقوال بھی ہیں_ اس وفد کی قیادت حضرت جعفر بن ابوطالبعليه‌السلام کر رہے تھے_(۱)

ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد الحرام میں پایا_ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کی اور سوالات کئے _اس وقت قریش کے کچھ حضرات کعبہ کے گرد محفل جمائے بیٹھے تھے_ پھر جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ ایمان لے آئے_ اس کے بعد جب یہ لوگ کھڑے ہوگئے تو ابوجہل نے انہیں روکا اور اپنا دین چھوڑنے پر انہیں خوب برا بھلا کہا لیکن انہوں نے جواباً کہا سلام علیکم ،ہم تمہاری نادانی کا جواب نادانی سے نہیں دیں گے_ ہمارے لئے ہمارا راستہ مبارک ہو اور تمہارے لئے تمہارا، ہم کسی امر کو اپنے لئے سودمند پائیں تو اس میں کوتاہی نہیں کرتے ،اس وقت آیت نازل ہوئی_( الذین آتیناهم الکتاب من قبله هم به یؤمنون واذا سمعو اللغو اعرضوا عنه وقالوا لنا اعمالنا ولکم اعمالکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) (۲) یعنی جن لوگوں کو ہم نے اس سے قبل کتاب دی وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جب وہ فضول گوئی سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے اپنے اعمال_ پس تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوں کی صحبت پسند نہیں کرتے_

یہ واقعہ واضح طور پر قریش کی ہٹ دھرمی، ان کے اہداف اور منصوبوں پر ایک کاری ضرب تھا خاص کر اس وجہ سے کہ وہ وفد حبشہ سے آیا تھا اور وہ بھی حضرت جعفرعليه‌السلام کی قیادت میں _اس کا مطلب یہ تھا کہ قریش کی دسترس سے خارج سرزمینوں میں بھی اسلام نے لوگوں کے دلوں پر قبضہ کرنا شروع کردیا تھا_

نیز یہ واقعہ قریش کیلئے خطرے کی گھنٹی تھا تاکہ وہ پانی کے سر سے گزر جانے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں لیکن کیسے اور کیونکر؟ جبکہ حضرت ابوطالب کی سرکردگی میں بنی ہاشم اور بنی مطلب حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت پر کمربستہ تھے _بنابریں ان کے پاس ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مناسب وقت کا انتظار_

___________________

۱_ فقہ السیرة ص ۱۲۶میں بوطی نے یہی کہا ہے نیز مجمع البیان ج ۷ ص ۲۸۵ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت جعفرعليه‌السلام فتح خیبر کے سال آخری بار وہاں سے لوٹے تو یہ لوگ بھی انکے ساتھ آئے_

۲_ سورہ قصص، آیت ۵۲ تا ۵۵، حدیث کیلئے سیرہ ابن ہشام ج ۲ص ۳۲اور ان آیات کی تفسیر میں ابن کثیر، قرطبی اور نیشاپوری کی تفاسیر کی طرف رجوع کریں_ نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۲_

۱۶۱

جناب ابوطالبعليه‌السلام کی پالیسیاں

شیخ الابطح ابوطالب کی ذات وہ ذات تھی جس نے اپنی زبان اور ہاتھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی حمایت و نصرت اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بچپن سے لیکر اب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگرانی کی تھی_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت و نصرت اور تبلیغ دین کے دائرے کو وسعت دینے کیلئے زبردست مصائب اور عظیم مشکلات کا مقابلہ کیا_

یہی حضرت ابوطالب تھے جو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تمام اولاد پر ترجیح دیتے تھے_ جب بُصری (شام) میں ایک یہودی بحیرا نے انہیں خبر دی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہودیوں سے خطرہ ہے تو وہ انہیں بنفس نفیس مکہ واپس لے آئے _یہ حضرت ابوطالب ہی تھے جو قریش کی عداوت مول لینے، بھوک اور فقر کو جھیلنے ،نیز معاشرتی بائیکاٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہوئے_ انہوں نے شعب ابوطالب میں بچوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ،بلکہ درختوں کے پتے کھانے پر بھی مجبورہوئے _انہوں نے صاف صاف بتادیا تھا کہ وہ(ہر خشک و تر کو برباد کردینے والی) ایک تباہ کن جنگ کیلئے تو تیار ہیں لیکن حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار کے حوالے کرنے یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تبلیغ دین سے روکنے یا کم ازکم تبلیغ چھوڑنے کا مطالبہ تک کرنے کیلئے آمادہ نہیں _یہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام ہی تھے جنہوں نے قریش کے فرعون اور ظالم سرداروں سے ٹکرلی_

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے سر پرقریش نے اونٹ کی اوجھڑی ڈالی تھی تو انہوں نے تلوار سونت لی اور حضرت حمزہ کو حکم دیا کہ اسے ہٹائیں پھر قریش کی طرف بڑھے انہوں نے جناب ابوطالبعليه‌السلام کے چہرے پرخطرے کی علامات دیکھیں_ پھر انہوں نے حمزہ کو حکم دیا کہ وہ اس گندگی کو ان کے چہروں اور داڑھیوں پر ایک ایک کر کے مل دیں چنانچہ حضرت حمزہ نے ایسا ہی کیا_(۱)

ایک اور روایت کے مطابق حضرت ابوطالب نے اپنے افراد کو بلایا اور ان کو مسلح ہونے کا حکم دیا جب مشرکین نے انہیں دیکھا تو وہاں سے کھسکنے کا ارادہ کیا_ انہوں نے ان سے کہا کعبہ کی قسم تم میں سے جو بھی اٹھے گا تلوار سے اس کی خبر لوں گا _اس کے بعد نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے ادبی کرنے والے کی ناک پر مار کر اسے

___________________

۱_ الکافی مطبوعہ مکتبة الصدوق ج۱ ص ۴۴۹ ، منیة الراغب ص ۷۵ ، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۲۹۱ و ۲۹۲ والسیرة النبویہ (دحلان، مطبوع حاشیہ سیرہ حلبیہ ) ج۱ ص ۲۰۲ و ۲۰۸ و ۲۳۱ اور بحار الانوار ج ۱۸ ص ۲۰۹_

۱۶۲

خون آلود کردیا _(یہ شخص ابن زبعری تھا )_نیز اوجھڑی کی گندگی اور خون کو ان سب کی داڑھیوں پر مل دیا_(۱)

ادھر شعب ابوطالب میں بھی وہی تھے جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی بنفس نفیس حفاظت کرتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے تھے اور اپنے نور چشم علیعليه‌السلام کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ سلاتے تھے تاکہ اگر کوئی حادثہ پیش آجائے تو حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محفوظ رہیں،چاہے علیعليه‌السلام کو گزند پہنچے(۲) _وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا دفاع کرنے کیلئے قریش کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی برتتے تھے نیز جذبات کو زندہ کرنے مصائب کو دور کرنے خداکے نام کو سربلند کرنے اس کے دین کو پھیلانے اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کیلئے سیاسی اشعار بھی کہتے تھے_

ایک دفعہ انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو کہیں نہ پایا تو بنی ہاشم کو جمع کر کے مسلح کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو قریش کے ایک ایک سرغنہ کے پاس بھیجیں تاکہ اگر یہ ثابت ہو کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کچھ ہوا ہے تو یہ افراد ان کا کام تمام کردیں_(۳) انہوں نے یہ سب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت، اسلام کی حمایت اور دین کی سربلندی کیلئے کیا_

واضح ہے کہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے جملہ کارناموں اور آپ کی عظیم قربانیوں کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت اور مستقل کام کی ضرورت ہے _یہاں تو ہم اجمالی اشارے پرہی اکتفا کرتے ہیں لیکن یہ اعتراف کرتے ہیں، کہ ہم ان کا حق ادا نہیں کرسکے_ اس اختصار کی غرض یہ ہے کہ سیرت نبویہ کے دیگر پہلوؤں پر بھی بحث کا موقع مل سکے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: الغدیر ج۷ ص ۳۸۸ و ۳۵۹ و ج ۸ ص ۳ تا ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۷۳ (دونوں کتابوں میں کئی منابع سے ماخوذ ہے) ثمرات الاوراق ص ۲۸۵ و ۲۸۶ ، نزھة المجالس ج ۲ ص ۱۲۲ ، الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص ۴۰۵ و ۴۰۶ اور تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۴ و ۲۵_

۲ _ المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۶۴و ۶۵ ،ا سنی المطالب ص ۲۱ ( اس نے علیعليه‌السلام کا نام ذکر نہیں کیا ) اسی طرح سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۴۲ اور ملاحظہ ہو: البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۸۴، السیرة النبویہ ( ابن کثیر ) ج ۲ ص ۴۴ ، دلائل النبوة ( بیہقی) مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۲ ص ۳۱۲ ، تاریخ الاسلام ج ۲ ص ۱۴۰ و ۱۴۱ ، الغدیر ج۷ ص ۳۶۳ و ۳۵۷ و ج۸ ص ۳ و ۴ اور ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۹۴_

۳ _ تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۲۶ ، ابوطالب مؤمن قریش ص ۱۷۱ ، منیة الراغب ص ۷۵ و ۷۶ اور الغدیر ج ۲ ص ۴۹ و ۳۵۰ و ۳۵۱_

۱۶۳

ابوطالبعليه‌السلام کی قربانیاں

مذکورہ بالا معروضات سے معلوم ہوا کہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليه‌السلام آمادہ تھے کہ:

۱) اپنی قوم کے درمیان حاصل مقام و مرتبے کو خیرباد کہہ کر اہل مکہ بلکہ پوری دنیا کی دشمنی مول لیں، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ معاشرتی بائیکاٹ کو برداشت کیا لیکن کسی قسم کے دباؤ میں نہ آئے_

۲) نہ صرف فقر وفاقے اور معاشی بائیکاٹ برداشت کرنے پر راضی ہوں بلکہ اپنے پاس موجود دولت اور ہر چیز راہ خدا میں پیش کردیں_

۳)بوقت ضرورت ایک تباہ کن جنگ میں کود پڑیں جو بنی ہاشم اور ان کے دشمنوں کی بربادی پر منتج ہوسکتی تھی

۴) انہوں نے سب سے چھوٹے نور چشم حضرت علیعليه‌السلام کو راہ خدا میں قربانی کیلئے پیش کیا، اور دوسرے بیٹے حضرت جعفرعليه‌السلام جنہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تھی کی جدائی کا صدمہ برداشت کرلیا_

۵) حضرت ابوطالبعليه‌السلام اپنی زبان اور ہاتھ دونوں سے مصروف جہاد رہے اور ہر قسم کے مادی ومعنوی وسائل کو استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا _ہر قسم کی تکالیف و مشکلات سے بے پروا ہوکر حتی المقدور دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت و حمایت میں مصروف رہے_ یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوطالب نے جو کچھ کیا وہ ممکن ہے جذبات یا نسلی و خاندانی تعصب کا نتیجہ ہو یا بالفاظ دیگر آپ کی فطری محبت کا تقاضا ہو؟_(۱)

لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک طرف حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ایمان پر قطعی دلائل خاص کر ان کے اشعار و غیرہ اور حضرت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم اور دیگر ائمہ کی ان کے متعلق احادیث موجود ہیں اور دوسری طرف جس طرح حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے بھتیجے تھے اس طرح حضرت علیعليه‌السلام ان کے بیٹے تھے اگر رشتہ داری کا جذبہ کارفرما ہوتا تو وہ کیونکر بیٹے کو بھتیجے پر قربان کرتے؟ وہ بھی اپنی مرضی سے نیز اس کے انجام کے بارے میں غوروفکر اور تا مل و تدبر کے بعد؟ انہیں بھتیجے کی بجائے بیٹے کا قتل ہوجانا کیونکر منظور ہوا؟ کیا یہ معقول ہے

___________________

۱_ تفسیر ابن کثیر ج ۳ص ۳۹۴ _

۱۶۴

کہ اپنے بیٹے اور جگر گوشے کے مقابلے میں بھتیجے کی محبت فطری طور پر بیشتر ہو؟

اسی طرح اگر قومی یا خاندانی تعصب کارفرما ہوتا تو پھر ابولہب لعنة اللہ علیہ نے اس جذبے کے تحت وہ موقف کیوں اختیارنہیں کیا جو حضرت ابوطالب نے اختیار کیا اور حضرت ابوطالب کی طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت کیوں نہیں کی؟ نیز اپنے بیٹے، اپنی حیثیت اور دیگر چیزوں کی قربانی کیوں نہیں پیش کی؟ بلکہ ہم نے تو اس کے برعکس دیکھا کہ ابولہب نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سخت ترین دشمن، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالفت میں پیش پیش اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اذیت دینے میں سب سے آگے تھا_

رہے بنی ہاشم کے دیگر افراد تو اگرچہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ شعب ابوطالب میں داخل ہوئے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیلئے انکی قربانیاں ابوطالب کی قربانیوں کا دسواں حصہ بھی نہ تھیں_ نیز ان کا یہ اقدام بھی حضرت ابوطالب کے اثر و نفوذ اور اصرار کا مرہون منت تھا_

یوں واضح ہوا کہ مرد مسلمان کا دینی جذبہ قومی یا خاندانی جذبات کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے_ اسی لئے ہم تاریخ میں بعض مسلمانوں کو واضح طور پر یہ کہتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ راہ خدا میں اپنے آباء اور اولاد کو قتل کرنے کیلئے بھی تیار ہیں_ چنانچہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے اپنے باپ (عبداللہ بن ابی) کو قتل کرنے کی اجازت مانگی(۱) _ نیز جنگ صفین میں بھائی نے بھائی کو نہ چھوڑا جب تک کہ امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے چھوڑنے کی اجازت نہ دی(۲) _ان کے علاوہ بھی تاریخ اسلام میں متعدد مثالیں ملتی ہیں_

ان باتوں سے قطع نظر اس بات کی طرف اشارہ بھی ضروری ہے کہ اگر حضرت ابوطالب کا موقف دنیوی اغراض پر مبنی ہوتا تو اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی بجائے بھتیجے کو قربان کرتے _نیز بھتیجے کو اپنے خاندان پر قربان کرتے _نہ کہ خاندان کو ایک بھتیجے پر _کیونکہ دنیا کا معقول طریقہ یہی ہوتاہے جیساکہ خلیفہ مامون نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا اور ام ہادی نے اپنے بیٹے کو زہر دیا _لیکن حضرت ابوطالب نے تو ہر چیز کو بھتیجے پر قربان کردیا اور یہ دنیوی مفادات کے حصول کا منطقی اور معقول طریقہ ہرگز نہیں ہوسکتا_

___________________

۱_ تفسیر صافی ج۵ ص ۱۸۰ ، السیرة الحلبیہ ج۲ ص ۶۴ ، الدرالمنثور ج۶ ،ص ۲۴ از عبد بن حمید و ابن منذر اور الاصابہ ج۲ ص ۳۳۶_

۲_ صفین (المنقری) ص ۲۷۱ و ۲۷۲_

۱۶۵

اسی طرح اگر بات قبائلی تعصب کی ہوتی تو اس تعصب کا اثر قبیلے کے مفادات کے دائرے میں ہوتا_ لیکن اگر یہی تعصب اس قبیلے کی بربادی نیز اس کے مفادات یا مستقبل کو خطرات میں جھونکنے اور تباہ کرنے کا باعث بنتا تو پھر اس تعصب کی کوئی گنجائشے نہ ہوتی اور نہ عقلاء کے نزدیک اس کا کوئی نتیجہ ہوتا_

مختصر یہ کہ ہم حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی مذکورہ پالیسیوں اور حکمت عملی کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ پالیسیاں عقیدے اور ایمان راسخ کی بنیادوں پر استوار تھیں جن کے باعث انسان کے اندر قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے_

خدا کا سلام ہو آپپر اے ابوطالبعليه‌السلام اے عظیم انسانوں کے باپ اے حق اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے والے کاروان کے سالار خدا کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں_

عام الحزن

بعثت کے دسویں سال بطل جلیل حضرت ابوطالب علیہ الصلاة والسلام کی رحلت ہوئی_ آپ کی وفات سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے اس مضبوط، وفادار اور باعظمت حامی سے محروم ہوگئے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین کا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن کا ناصر و محافظ تھا (جیساکہ پہلے عرض کرچکے ہیں)_

اس حادثے کے مختصر عرصے بعد بقولے تین دن بعد اور ایک قول کے مطابق ایک ماہ(۱) بعدام المؤمنین حضرت خدیجہ (صلوات اللہ وسلامہ علیہا) نے بھی جنت کی راہ لی_ وہ مرتبے کے لحاظ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی ازواج میں سب سے افضل ہیں_

نیز آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اخلاقی برتاؤ اور سیرت کے حوالے سے سب سے زیادہ باکمال تھیں_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی ایک بیوی( حضرت عائشےہ) ان سے بہت حسد کرتی تھیں حالانکہ اس نے حضرت خدیجہعليه‌السلام کے ساتھ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر میں زندگی نہیں گزاری تھی کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت خدیجہ کی رحلت کے بہت عرصہ بعد

___________________

۱_ السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۳۴۶ ، السیرة النبویہ ( ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۲ ، البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۱۲۷ اورا لتنبیہ و الاشراف ص ۲۰۰_

۱۶۶

اس سے شادی کی تھی_(۱)

دین اسلام کی راہ میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عظیم خدمات کا اندازہ اس حقیقت سے ہوسکتا ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی وفات کے سال کو عام الحزن کا نام دیا(۲) یعنی غم واندوہ کا سال_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں سے جدائی کو پوری امت کیلئے مصیبت اور سانحہ قرار دیا_

چنانچہ فرمایا:'' اس امت پر دو مصیبتیں باہم ٹوٹ پڑیں اور میں فیصلہ نہیں کرسکتا ان میں سے کونسی مصیبت میرے لئے دوسری مصیبت کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی''(۳) _ یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں کی جدائی کے غم سے متا ثر ہوکر فرمائی_

محبت وعداوت، دونوں خداکی رضاکیلئے

واضح ہے کہ ان دونوں ہستیوں سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت اور ان دونوں کی جدائی میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حزن وغم نہ ذاتی مفادات ومصالح کے پیش نظر تھا اور نہ ہی خاندانی محبت وجذبے کی بنا پر بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی محبت فقط اور فقط رضائے الہی کیلئے تھی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی بھی شخص کو اتنی ہی اہمیت دیتے ،اس کی جدائی میں اتنے ہی غمگین ہوتے اور اس سے اسی قدر روحانی و جذباتی لگاؤ رکھتے جس قدر اس شخص کا رابطہ خدا سے ہوتا ،جس قدر وہ اللہ سے نزدیک اور اس کی راہ میں فداکاری کے جذبے کا حامل ہوتا_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالبعليه‌السلام اور حضرت خدیجہعليه‌السلام کیلئے اس وجہ سے غمگین نہ ہوئے تھے کہ خدیجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ تھیں یا ابوطالب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے وگرنہ ابولہب بھی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا تھا _بلکہ وجہ یہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان

___________________

۱_ البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) ج ۳ ص ۱۲۷ و ۱۲۸ ، السیرة النبویہ(ابن کثیر) ج ۲ ص ۱۳۳ تا ۱۳۵ ، صحیح بخاری ج ۲ ص ۲۰۲ ، عائشہ (عسکری) ص ۴۶ اور اس کے بعد اور اس کے بعض منابع ہم نے آنے والی فصل '' بیعت عقبہ تک '' میں عائشہ کے حسن و جمال کے ذکر میں بیان کیا ہے_

۲_ سیرت مغلطای ص ۲۶، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۰۱ ، المواہب اللدنیہ ج ۱ ص ۵۶ ، السیرة النبویہ (دحلان ) ج ۱ ص ۱۳۹ ص ۲۱ مطبوعہ دار المعرفہ اور اسنی المطالب ص ۲۱_

۳_تاریخ یعقوبی ج ۲ص ۳۵ _

۱۶۷

دونوں کی قوت ایمانی، دین میں پائیداری اور اسلام کی راہ میں فداکاری کو محسوس کرلیا تھا_ اور یہی تو اسلام کا بنیادی اصول ہے جس کی خدانے یوں نشاندہی کی ہے( لاتجد قوماً یومنون بالله و الیوم الآخر یوادون من حاد الله و رسوله و لو کانوا آبائهم او ابنائهم او اخوانهم او عشیرتهم ) (۱) یعنی جولوگ اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو خدا اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مخالفین سے محبت کرتے ہوئے نہیں پائیں گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا رشتے دار ہی کیوں نہ ہوں_ کیا شرک سے زیادہ کوئی دشمنی اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہوسکتی ہے؟ وہی شرک جس کے بارے میں خدانے فرمایا ہے:( ان الشرک لظلم عظیم ) یعنی شرک سب سے بڑا ظلم ہے_

نیز فرمایا ہے:( ان الله لایغفر ان یشرک به و یغفر ما دون ذلک ) یعنی یہ کہ خدا شرک کے علاوہ دیگر گناہوں کو معاف کردیتا ہے_

خداکی رضا کیلئے محبت کرنے اور اس کی رضا کیلئے بغض رکھنے کے بارے میں آیات و احادیث حد سے زیادہ ہیں اور ان کے ذکر کی گنجائشے نہیں_ اسی معیار کے پیش نظر خداوند تعالی نے حضرت نوحعليه‌السلام سے انکے بیٹے کے متعلق فرمایا:( انه لیس من اهلک انه عمل غیرصالح ) (۲) یعنی اس کا تیرے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے اسکا تو غیرصالح عمل ہے_ اسی طرح حضرت ابراہیمعليه‌السلام کا قول قرآن مجید میں ہے کہ( من تبعنی فانه منی ) (۳) جو میری پیروی کرے گا وہ میرے خاندان سے ہوگا_

نیز اسی بنا پر سلمان فارسی کا شمار اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ہوا_

ابوفراس کہتا ہے:

کانت مودة سلمان لهم رحما

ولم تکن بین نوح و ابنه رحم

یعنی اہلبیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کے باعث سلمان ان کے گھرانے کا ایک فرد بن گیا جبکہ اس کے برعکس نوحعليه‌السلام اور ان کے بیٹے کے درمیان قرابت نہیں رہی_

___________________

۱_ سورہ مجادلہ، آیت ۲۲ _ ۲_ سورہ ہود آیت ۴۶_ ۳_ سورہ ابراہیم آیت ۳۶_

۱۶۸

پانچویں فصل

ابوطالبعليه‌السلام مؤمن قریش

۱۶۹

ایمان ابوطالبعليه‌السلام

آخر میں ایک ایسے موضوع پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جس پر مسلمانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف رہا ہے_

اہلبیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے شیعہ حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_(۱) یہ بھی مروی ہے کہ وہ اوصیاء میں سے تھے(۲) اور ان کا نور قیامت کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آئمہعليه‌السلام اور حضرت فاطمہعليه‌السلام زہرا کے نورکے سوا ہر نور پر غالب ہوگا(۳) _

اگرچہ ہمیں ان احادیث کی صحت پر اطمینان حاصل نہیں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی رسالت پر حضرت ابوطالبعليه‌السلام کا ایمان نیز خدا کے اوامر ونواہی کے آگے ان کا سر تسلیم خم رہنا روز روشن کی طرح واضح ہے_

اہلبیت معصومینعليه‌السلام سے منقول بہت ساری احادیث آپ کے ایمان پر دلالت کرتی ہیں_ علماء نے ان احادیث کو الگ کتابوں کی شکل میں جمع کیا ہے_ تازہ ترین کتابوں میں سے ایک جناب شیخ طبسی کی کتاب ''منیة الراغب فی ایمان ابیطالب'' ہے_ واضح ہے گھر والے دوسروں کے مقابلے میں گھر کے اسرار کو زیادہ جانتے ہیںاورابن اثیر کہتے ہیں کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچاؤں میں حضرت حمزہ، حضرت عباس اور (اہل بیتعليه‌السلام کے بقول)حضر ت ابوطالبعليه‌السلام کے سوا کسی نے اسلام قبول نہ کیا تھا_(۴)

___________________

۱_ روضة الواعظین ص ۱۳۸، اوائل المقالات ص ۱۳، الطرائف از ابن طاؤس ص ۲۹۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۱۶۵، بحارالانوار ج ۳۵ص ۱۳۸، الغدیر ج ۷ص ۳۸۴کتب مذکورہ سے، التبیان ج ۲ص ۳۹۸، الحجة از ابن معد ص ۱۳اور مجمع البیان ج ۲ص ۲۸۷ _

۲_ الغدیر ج ۷ ص ۳۸۹_

۳_ الغدیر ج۷ ص ۳۸۷ کئی ایک منابع سے_

۴_ بحارالانوار ج ۳ص ۱۳۹اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۹_

۱۷۰

ان باتوں کے علاوہ بھی ان کے مومن ہونے پر بہت سارے دلائل موجود ہیں _ان کے ایمان کے اثبات میں شیعوں اور سنیوں دونوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں _کچھ حضرات نے ان کتابوں کی تعداد تیس تک بتائی ہے_ان کتابوں میں سے ایک استاد عبداللہ الخنیزی کی کتاب (ابوطالب مومن قریش) ہے_ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں قریب تھا کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے _کیونکہ سعودی عرب کے وہابی، اس کتاب کی تالیف کے جرم میں ان کے پروانہ قتل کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری میں تھے لیکن خدانے اپنی رحمت سے انہیں نوازا _یوں وہ ان کے شرسے نجات پاگئے_

یہ ان متعددابحاث کے علاوہ ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی کتابوں میں بکھری ہوئی ہیں_ یہاں ہم علامہ امینی کی کتاب الغدیر کی جلد ۷ اور ۸میں مذکور بیان کے تذکرے پر اکتفا کریں گے_

علامہ امینی رحمة اللہ علیہ نے اہل سنت کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں اور ان میں سے کئی حضرات نے اس بات کے اثبات میں کتابیں لکھی اور بحثیں کی ہیں_ مثال کے طور پر برزنجی نے اسنی المطالب (ص ۶_ ۱۰) میں، الاجھوری، اسکافی، ابوالقاسم بلخی اور ابن وحشی نے شہاب الاخبار کی شرح میں، تلمسانی نے حاشیہ شفاء میں، شعرانی، سبط ابن جوزی، قرطبی، سبکی، ابوطاہر اور سیوطی وغیرہ نے اس مسئلے پر بحث کی ہے_ بلکہ ابن وحشی، الاجہوری اور تلمسانی وغیرہ نے تو یہ فیصلہ دیا ہے کہ جو حضرت ابوطالب سے کینہ رکھے وہ کافر ہے اور جو ان کا ذکر برائی کے ساتھ کرے وہ بھی کافر ہے_(۱)

ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلائل

حضرت ابوطالب کو مومن ماننے والوں نے کئی ایک امور سے استدلال کیا ہے مثلا:

۱) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور آئمہ معصومینعليه‌السلام سے منقول وہ احادیث جو ایمان ابوطالبعليه‌السلام پر دلالت کرتی ہیں اور واضح ہے کہ اس قسم کے امور میں یہی ہستیاں تمام دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ باخبر ہیں _

___________________

۱_ رجوع کریں: الغدیر ج ۷ص ۳۸۲اور ۳۸۳اور دوسری کتب_

۱۷۱

۲)جیساکہ گذر چکا ہے کہ ان کی جانب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و نصرت اور عظیم مشکلات و مصائب میں ان کی استقامت، اپنی معاشرتی حیثیت و مقام کی قربانی یہاں تک کہ اپنے بیٹے کو بھی قربانی کیلئے پیش کرنا اور ایک ایسی جنگ کیلئے ان کی آمادگی جو ہر خشک و تر کو نابود کردے_ یہ سب باتیں دلالت کرتی ہیں کہ اگر وہ نعوذ باللہ کافر ہوتے تو کیونکر ان سب باتوں کو برداشت کرتے؟ کیا وجہ ہے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں حضرت ابوطالبعليه‌السلام کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ان کے بارے میں ہم حضرت ابوطالب سے ملامت و توبیخ کا ایک لفظ بھی نہیں سن پاتے_

رہا یہ احتمال کہ حضرت ابوطالب مزید جاہ ومقام کی لالچ میں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے تھے تو یہ احتمال ہی غلط ہے کیونکہ وہ نہایت عمر رسیدہ ہوچکے تھے چنانچہ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کی عمر اسی سال سے کہیں زیادہ تھی_ ادھر حضرت ابوطالبعليه‌السلام قوم کے نزدیک اپنی اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیثیت سے بھی باخبر تھے انہیں یہ امید نہیں تھی کہ اس مقام کے حصول تک وہ زندہ رہیں گے جیساکہ گردوپیش کے حالات و قرائن سے وہ اس امر کا بخوبی اندازہ لگا سکتے تھے_

۳) سبط ابن جوزی نے حضرت ابوطالب کے ایمان پر یوں استدلال کیا ہے، (جیساکہ نقل ہوا ہے) اگر حضرت علیعليه‌السلام کے باپ کافر ہوتے تو معاویہ اور اس کے حامی نیز زبیری خاندان اور ان کے طرفدار اور علیعليه‌السلام کے باقی دشمن اس بات پر ان کی شماتت کرتے، حالانکہ علیعليه‌السلام ان لوگوں کو ان کے آباء اور ماؤں کے کافر ہونے نیز نسب کی پستی کا طعنہ دیتے تھے_(۱)

۴) خود حضرت ابوطالب کے بہت سارے صریح کلمات اور بیانات ان کے ایمان کو ثابت کرتے ہیں_ یہاں ہم بطور نمونہ ان کے چند اشعار نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں جن کے بارے میں ابن ابی الحدید معتزلی نے یوں کہا ہے کہ مجموعی طور پریہ سارے اشعار تو اترکے ساتھ ثابت ہیں_(۲)

___________________

۱_ رجوع کریں: ابوطالب مومن قریش ص ۲۷۲_۲۷۳ مطبوعہ سنہ ۱۳۹۸ ھ از تذکرة الخواص_

۲_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۴ص ۷۸اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۶۵_

۱۷۲

یہاں ہم ان کی صلب سے پیدا ہونے والے بارہ اماموں کی تعداد کے عین مطابق ان کے بارہ اشعار تبرکاً پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں:

۱_ألم تعلموا انا وجدنا محمداً ---- نبیاً کموسی خط فی اول الکتب

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ ہم نے موسیعليه‌السلام کی طرح محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی خدا کا نبی پایا ہے؟ یہ امر تمام کتابوں کی ابتداء میں مذکورہے_

۲_نبی اتاه الوحی من عند ربه---- ومن قال لا یقرع بها سن نادم

وہ ایسے نبی ہیں جن کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آئی ہے جو اس کا منکر ہو وہ ندامت کے دانت پیستارہ جائے گا_

۳_یا شاهد الله عل فاشهد

إنی علی دین النب احمد

من ضل فی الحق فانی مهتد

اے شاہد خدا میرے بارے میں گواہ رہ کہ میں احمد مرسل کے دین پر ہوں،

اگر کوئی حق کے بارے میں گمراہی کا شکار ہوا تو مجھے کیا میں تو ہدایت یافتہ ہوں_

۴_انت الرسول رسول الله نعلمه---- علیک نزل من ذی العزة الکتب

ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اللہ کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھتے ہیں صاحب عزت ہستی کی طرف سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر کتابیں نازل ہوئی ہیں_

۵_انت النبی محمد---- قرم اغر مسود

آپ اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو نورانی سید اور سردار ہیں_

۶_او تومنوا بکتاب منزل عجب---- علی نبی کموسی او کذی النون

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہونے والی اس عجیب کتاب پر ایمان لے آؤ ،کہ یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موسیعليه‌السلام اور یونسعليه‌السلام کی مانند ہیں_

۷_وظْلم نبی جاء یدعوا الی الهدی---- وا مر ا تی من عند ذی العرش قیم

۱۷۳

جو نبی ہدایت کی طرف بلانے آیا تھا اس پر ظلم ہوا ، وہ صاحب عرش کی طرف سے آنے والی گراں بہا چیز کی طرف لوگوں کو بلانے آیا تھا_

۸_

لقد اکرم الله النبی محمدا---- فاکرم خلق الله فی الناس احمد

اللہ نے اپنے نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تعظیم سے نوازا لہذا سب سے زیادہ با عزت ہستی احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۹_

وخیر بنی هاشم احمد---- رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الاله علی فترة

بنی ہاشم میں سب سے افضل، احمد ہیں وہ زمانہ فترت (جاہلیت)(۱) میں اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں_

۱۰_

والله لااخذل النبی ولا---- یخذله من بنی ذوحسب

اللہ کی قسم نہ میں نبی کو بے یار ومدد گار چھوڑوں گا اور نہ ہی میرے شریف ونجیب بیٹے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں_

۱۱_

أتعلم ملک الحبش ان محمدا---- نبیا کموسی والمسیح ابن مریم

اتی بالهدی مثل الذی اتیا به---- فکل بامر الله یهدی ویعصم

وانکم تتلونه فی کتابکم---- بصدق حدیث لاحدیث الترجم

فلا تجعلوا الله نداً فا سلموا---- فان طریق الحق لیس بمظلم

(نجاشی کو دعوت اسلام دیتے ہوئے :)اے بادشاہ حبشہ کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مثال حضرت موسیعليه‌السلام ور حضرت عیسیعليه‌السلام کی طرح ہے_ ان دونوں کی طرح وہ بھی ہدایت کا پیغام لیکر آئے _ وہ سب بحکم خدا ہدایت کرتے ہیں اور (ہمیں شر سے) بچاتے ہیں_ تم لوگ اپنی کتاب میں اس کے بارے میں پڑھتے ہو شک وابہام کے ساتھ نہیں بلکہ صدق دل کے ساتھ_ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دو اور مسلمان ہوجاؤ کیونکہ حق کا راستہ تاریک نہیں_

___________________

۱_ دو نبیوں کی بعثت کے درمیانی زمانے کو فترت کہتے ہیں یہاں مراد عیسیعليه‌السلام کے بعد کا زمانہ ہے جسے زمانہ جاہلیت بھی کہا جاتا ہے_

۱۷۴

۱۲_

فصبراً ابایعلی علی دین احمد---- وکن مظهراً للدین وفقت صابرا

وحط من اتی بالحق من عند ربه----- بصدق وعزم ولا تکن حمز کافرا

فقد سرنی ان قلت انک مومن---- فکن لرسول الله فی الله ناصرا

وباد قریشا فی الذی قد اتیته---- جهارا وقل ما کان احمد ساحرا

(اپنے بیٹے حمزہ سے مخاطب ہوکر :)اے ابویعلی (حمزہ) دین احمد پر ثابت قدم رہ اور اس کا اظہار کر خدا تجھے توفیق صبر عطا کرے گا_

اے حمزہ جو شخص اپنے رب کی جانب سے حق کے ساتھ آیا ہے اسکی حفاظت صدق دل اور عزم راسخ کے ساتھ کرو، کہیں کافر نہ ہوجانا_

اگر تم اپنے ایمان کا اقرار کرو تو یہ میرے لئے باعث مسرت ہوگا پس رضائے الہی کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی مدد کر _

قریش کے سامنے اپنے عقیدے کا کھل کر اظہار کرو اور کہو کہ احمد جادو گر نہیں_

حضرت ابوطالب کے وہ اشعار جو ان کے ایمان پر دلالت کرتے ہیں زیادہ ہیں لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ ان کے علاوہ دیگر باتوں کے تذکرے کا بھی موقع فراہم ہو جو اس موضوع کے حوالے سے کہی گئی ہیں یا کہی جاسکتی ہیں_

۵)ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھی علی ابن یحیی بطریق رحمة اللہ علیہ کہا کرتے تھے اگر نبوت کی طاقت اور پوشیدہ حقیقت کارفرما نہ ہوتی تو حضرت ابوطالب جیسے قریش کے صاحب عزت بزرگ اور سردار شخصیت اپنے اس بھتیجے کی تعریف وتمجید نہ کرتے جو نوجوان تھا، ان کی گودمیں پلا تھا ،ایک یتیم تھا جس کی انہوں نے پرورش کی تھی اوران کے بیٹے کی حیثیت رکھتا تھا اورا ن کی تعریف میں یوں رطب اللسان نہ ہوتے_

وتلقوا ربیع الابطحین محمدا

علی ربوة فی را س عنقاء عیطل

وتا وی الیه هاشم ان هاشما

عرانین کعب آخر بعد ا ول

۱۷۵

اور تم لوگ دیکھو گے کہ سرزمین حجاز کی بہار (حضرت) محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بلند و بالا اونچی گردن والے اونٹ پر نہایت نمایاں طور سے بیٹھے ہوں گے اور ان کے ارد گردہر طرف ہاشمی جوان ہوں گے کیونکہ اول سے آخر تک بنی ہاشمعليه‌السلام کے تمام افراد نہایت عالی وقار سید و سردار ہیں_

اور یہ اشعار نہ کہتے:

وابیض یستسقی الغمام بوجهه---- ثمال الیتامی عصمة للارامل

یطیف به الهلاک من آل هاشم---- فهم عنده فی نعمة و فواضل

درخشندہ چہرے والا جس کے رخ زیبا کا واسطہ دے کر بارش کی دعا کی جاتی ہے جو یتیموں کی پناہگاہ اور بیواؤں کا والی و وارث ہے_ بنی ہاشم کے ستم رسیدہ افراد اسی کی پناہ چاہتے ہیں کیونکہ وہ ان کے لئے (درحقیقت اللہ کی ) ایک بڑی نعمت اور بہت بڑا احسان ہے_

کسی ما تحت اور تابع شخص کی تعریف میں اس قسم کے اشعار نہیں کہے جاسکتے _اس طرح کی مدح سرائی تو بادشاہوں اور عظیم شخصیات کی ہوتی ہے _جب آپ اس حقیقت کا تصور کریں کہ یہ اشعار حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں ایک صاحب عزت اور عظیم شخصیت یعنی ابوطالبعليه‌السلام نے کہے ہیں جبکہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جوان تھے اور قریش کے شرسے بچنے کیلئے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی پناہ میں تھے، حضرت ابوطالب نے ہی بچپن سے آپ کی پرورش کی تھی لڑکپن کا دور آیا تو اپنے کاندھوں پراٹھاتے تھے اور جب جوان ہوئے تو اپنے ہمراہ رکھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت ابوطالب کے مال سے کھاتے پیتے تھے اوران کے گھر میں رہتے تھے ، تب آپ کو نبوت کی حیثیت اورعظیم مقام ومرتبے کا ضروراندازہ ہوگا_(۱)

اس طرح کا مذکورہ بالا قصیدہ لامیہ(۲) جس میں انہوںنے یہ کہا تھاوابیض یستسقی الغمام بوجهه (جو بہت طویل ہے) بنی ہاشم اپنے بچوں کو یہ قصیدہ یاد کراتے تھے(۳) اس میں بہت سے ایسے

___________________

۱_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۳و ماذا فی التاریخ ج ۳ ص ۱۹۶_۱۹۷ (از اول الذکر) _

۲_ یعنی وہ قصیدہ جس کے آخر میں لام کا تکرار ہوتا ہے_ (مترجم) _

۳_ مقاتل الطالبیین ص ۳۹۶ _

۱۷۶

نکات نہاں ہیں جن سے ان کے ایمان کی صداقت کا اندازہ ہوتا ہے_ابن ہشام ،ابن کثیر اور دیگر حضرات نے اس کا تذکرہ کیا ہے_

۶)ہم نے مشاہدہ کیا کہ جوحضرت ابوطالبعليه‌السلام بادشاہ حبشہ کو دعوت اسلام دے رہے ہیں_ وہی اپنے بیٹے حضرت جعفر کو بلاکر حکم دیتے ہیں کہ اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ نماز کی صف میں شامل ہوجائے_(۱) انہوں نے اپنی زوجہ فاطمہ بنت اسد کو اسلام کی دعوت دی(۲) اور حضرت حمزہ کو دین اسلام پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی اور ان کے مسلمان ہونے پر خوشی کا اظہار کیا_ یہی حال اپنے نور چشم امیرالمؤمنین علیعليه‌السلام کے بارے میں بھی تھا اور مختلف موقعوں پر ان کے کلام اور ان کے طرزعمل کی تحقیق سے مزید نکات ہاتھ آتے ہیں_

۷) حضرت ابوطابعليه‌السلام نے اپنی وصیت میں یہ تصریح کردی تھی کہ '' میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے معاملہ میں دشمنیوں کے ڈ رسے تقیہ اختیار کئے ہوئے تھا اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعلیمات کو میرا دل تو قبول کرتا تھا لیکن زبان سے انکار جاری ہوتا ''(۳) _ اور انہوں نے قریش کو رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت اسلام پر لبیک کہنے اور فرمانبرداری کرنے کی بھی وصیت کی تھی کہ اسی میں ہی ان کی کامیابی اور سعادت ہے(۴)

۸)نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بار بار خدا سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کیلئے طلب رحمت ومغفرت فرماتے تھے اوران کی وفات سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بے تاب ہوئے_(۵)

واضح ہے کہ کسی غیرمسلم کیلئے طلب رحمت نہیں ہوسکتی_ اسی لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سفانہ بنت حاتم طائی سے فرمایا: ''اگر تمہارا باپ مسلمان ہوتا تو ہم اس کیلئے خدا سے طلب مغفرت کرتے''_(۶)

___________________

۱_ رجوع کریں: الاوائل از ابی ہلال عسکری ج ۱ ص ۱۵۴، روضة الواعظین ص ۱۴۰اور شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ص ۲۶۹ ، السیرة الحلبیہ ج۱ ص ۲۶۹ ، اسنی المطالب ص ۱۷ ، الاصابہ ج۴ ص ۱۱۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۲۸۷ اور الغدیر ج۷ ص ۳۵۷_ ۲_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج۱۳ص ۲۷۲_

۳_ قابل تعجب بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت عمر کے کرتو توں پر پردہ ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ ان کا دل برا نہیں تھا صرف زبان کے برے تھے اور اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے جبکہ حضرت ابوطالب کے معاملے میں ان کے تقیہ کے پیش نظر کئے ہوئے زبانی انکار کو بہانہ بناتے ہوئے انہیں کافر سمجھتے ہیں (از مترجم) ۴_ الروض الانف ج ۲ ص ۱۷۱ ، ثمرات الاوراق ص ۹۴ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۰۰تا ۳۰۱، سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۳۵۲، بحار ج ۳۵ص ۱۰۷ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۶۶ مختلف منابع سے_ ۵_ تذکرة الخواص ص ۸_ ۶_ السیرة الحلبیة ج ۳ص ۲۰۵ _

۱۷۷

یہ لوگ زید بن عمرو ابن نفیل (عمر بن خطاب کے چچازاد بھائی) اس کے بیٹے سعید ابن زید، ورقہ بن نوفل، قس بن ساعدہ نیز ابوسفیان (جو ہمیشہ منافقین کیلئے جائے پناہ تھا، اور جنگ احد کے حالات میں ہم اس کے کچھ صریح بیانات اور اقدامات کا تذکرہ کریں گے) وغیرہ کے بارے میں کیونکرمسلمان ہونے کا فتوی دیتے ہیں؟ یہاں تک کہ یہ لوگ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امیہ ابن صلت کے بارے میں فرمایا: ''قریب تھا کہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے مسلمان ہوجاتا''_(۱)

شافعی ،صفوان بن امیہ کے بارے میں کہتے ہیںکہ اس کے مسلمان ہونے میں گویا شک کی گنجائشے نہیں ہے کیونکہ جب اس نے جنگ حنین کے دن کسی کوکہتے سنا کہ قبیلہ ھوازن کو فتح حاصل ہوئی اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قتل ہوگئے تو اس نے کہا تھا :''تیری زبان جل جائے واللہ قریش کا خدا میرے نزدیک ھوازن کے خدا سے زیادہ محبوب ہے''_

ملاحظہ کریں یہ لوگ ان سارے افراد کو کیونکر مسلمان مانتے ہیں جبکہ انہوں نے اسلام کو سمجھا ہی نہیں اور اگر سمجھابھی تو قبول نہیں کیا یا یہ کہ ظاہراً مسلمان ہوئے لیکن دل کے اندر کفر کو چھپائے رکھا؟ اس کے بر عکس وہ اس ابوطالب کو کافر قرار دیتے ہیں جو کئی بار اپنے اقوال واعمال کے ذریعے خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوت و رسالت کا صریحاً اعلان کرتے رہے امویوں اور ان کے چیلوں کا کہناہے کہ اس شخص کے متعلق دلیلیں جتنی بھی زیادہ ہوجائیں پھر بھی اس شخص کو ہم مؤمن نہیں مانیں گے چاہے خود رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کیوں نہ کہیں _ پس زمانہ جاہلیت کے طاغوتوں اور سرکشوں کے نقش قدم پر چلنے والے اموی اور ان کے چیلے کتنے برے لوگ ہیں_

واضح ہے کہ کسی شخص کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا علم چار چیزوں سے ہوتا ہے_

(الف) اس کی عملی پالیسیوں سے اور یہ بھی واضح ہے کہ حضرت ابوطالب کی عملی پالیسیاں دین اسلام کے بارے میں ان کے اخلاص اور جذبہ فداکاری کی اس قدر واضح دلیل ہے کہ اس سے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں_

(ب) شہادتین کے زبانی اقرار سے، اس حوالے سے حضرت ابوطالبعليه‌السلام کے ان متعدد اشعار کی طرف اشارہ کافی ہے جو انہوں نے متعدد موقعوں پر کہے_

___________________

۱_ صحیح مسلم ج ۷ص ۴۸_۴۹ نیز الاغانی مطبوعہ ساسی ج ۳ص ۱۹۰ اور التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۲۱۳ _

۱۷۸

(ج) اس شخص کے بارے میں نمونہ اسلام اور کارواں سالار حق یعنی نبی اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے موقف سے، چنانچہ حضرت ابوطالب کے بارے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا محبت آمیز اور پسندیدہ موقف بھی مکمل طور پر ثابت ہے_

(د) اس کے قریبی ذرائع سے ، مثال کے طور پر اس کے گھر والوں اور اس کے ساتھ رہنے والوں کے توسط سے، اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے کہ وہ (اہلبیت) حضرت ابوطالب کے مومن ہونے پر متفق الخیال ہیں_

بلکہ وہ لوگ جو حضرت ابوطالب علیہ السلام کو کافر قرار دیتے ہیں جب وہ ان کی عملی پالیسیوں کا انکار نہ کرسکے، اور نہ ان کے صریح بیانات کو رد کرسکے تو انہوں نے ایک مبہم جملے کے ذریعے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ دل سے مطیع اور فرمانبردار نہ تھے_(۱)

یہ سب اوٹ پٹانگ اور خیالی باتیں ہیں جو حق وحقیقت پر بہتان باندھنے کہ سوا کچھ نہیں تاکہ یوں ان روایات کو صحیح قرار دے سکیں جو انہوں نے مغیرة بن شعبہ اور اس جیسے دوسرے دشمنان آل ابوطالب سے نقل کی ہیں_ آئندہ صفحات میں ان کی بے بنیاد دلیلوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کریں گے انشاء اللہ تعالی_

حضرت ابوطالب علیہ السلام کے احسانات کا معمولی سا حق ادا کرنے کی غرض سے یہاں ہم ان کے ایمان کی بعض دلیلیں جو زیادہ تر غیر شیعہ مآخذ سے لی گئی ہیں بیان کرتے ہیں اور دیگر متعدد دلائل کا تذکرہ نہیں کرتے کیونکہ چند مثالوں سے زیادہ بیان کرنے کی گنجائشے نہیں_

پہلی دلیل: عباس نے کہا:'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابوطالب کیلئے کس چیز کی آرزو کرتے ہیں؟'' فرمایا:'' میں ان کیلئے خدا سے تمام اچھی چیزوں کی آرزو کرتا ہوں''_(۲)

___________________

۱_ سیرت دحلان ج ۱ص ۴۴_۴۷ اور الاصابة ج ۴ص ۱۱۶_۱۹۹ کی طرف رجوع کریں _

۲_ الاذکیاء ص ۱۲۸، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۴ص ۶۸، طبقات ابن سعد ج ۱حصہ اول ص ۷۹اور بحار الانوار ج ۳۵ص ۱۵۱اور ۱۵۹_

۱۷۹

دوسری دلیل: حضرت ابوبکر اپنے باپ ابوقحافہ (جو بوڑھا اور نابینا تھا) کو لے کر فتح مکہ کے دن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں آئے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اس بوڑھے کو اپنے گھر چھوڑ آتے تاکہ ہم اس کے پاس جاتے'' _حضرت ابوبکر نے کہا:'' میں نے چاہا کہ اللہ اسے اجر دے مجھے اپنے باپ کے مسلمان ہونے کی بہ نسبت ابوطالب کے مسلمان ہونے پر زیادہ خوشی ہوئی تھی ،خدا کرے کہ اس سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملے''_(۱)

اگرچہ علامہ امینی نے الغدیر میں اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے حضرت ابوبکر سے مذکورہ جملے کہے ہوں_ انہوں نے اس موضوع پر نہایت عمدہ بحث کی ہے اور ہم بھی اس مسئلے میں ان کے ہم خیال ہیں_

تیسری دلیل: ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ متعدد سندوں کے ساتھ( جن میں سے بعض عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے اور بعض حضرت ابوبکر ابن ابوقحافہ سے منقول ہیں) مروی ہے کہ حضرت ابوطالب نے اپنی موت سے پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا اقرار کیا_(۲)

چوتھی دلیل: نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوطالب علیہ السلام کیلئے طلب رحمت واستغفار اور دعا کی یہاں تک کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ والوں کیلئے بارش کی دعا کی اور بارش ہوئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوطالب کو یاد کیا اور منبر پر بیٹھ کر ان کیلئے مغفرت طلب کی(۳) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے جنازے میں شرکت کی حالانکہ ان لوگوں کی روایت کے مطابق مشرکین کے جنازے میں شرکت حرام ہے_ نیز یہی لوگ روایت کرتے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ

___________________

۱_ مجمع الزوائد ج ۶ص ۱۷۴الطبرانی اور بزار سے نقل کیا ہے حیاة الصحابہ ج ۲ص ۳۴۴المجمع سے، الاصابة ج ۴ص ۱۱۶اور شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ص ۶۹_

۲_ شرح نہج البلاغة معتزلی ج ۱۴ ص ۷۱، الغدیر ج ۷ ص ۳۲۹ البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۲۳ سے نقل کیا ہے، سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۸۷، الاصابة ج ۴ ص ۱۱۶، عیون الاثر ج ۱ ص ۱۳۱، المواہب اللدنیة ج ۱ ص ۷۱، السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۳۷۲ و السیرة النبویة (از دحلان حاشیہ کے ساتھ) ج ۱ ص ۸۹، اسنی المطالب ص ۲۰، دلائل النبوة (بیہقی)، تاریخ ابوالفداء ج ۱ص ۱۲۰ اور کشف الغمة ( شعرانی) ج ۲ ص ۱۴۴_

۳_ مراجعہ ہو : عیون الانباء ص ۷۰۵_

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

جب شام ہوئی تو حضرت ابوبکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہوئے اور مدینہ میں داخل ہوکر کسی انصاری کے ہاں چلے گئے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ قبا کے مقام پر ہی کلثوم بن ہدم کے ہاں تشریف فرما رہے_(۱)

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بھائی حضرت علیعليه‌السلام کو ایک خط لکھا اور انہیں جلدسے جلد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف آنے کا حکم دیا_ یہ خط آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوواقد لیثی کے ہاتھ ارسال فرمایا_

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا خط حضرت علیعليه‌السلام کو ملا تو آپعليه‌السلام سفر ہجرت کیلئے آمادہ ہوگئے اور اپنے ساتھ (مکہ میں) موجود بے چارے اور ضعیف مسلمانوں کو اس کی اطلاع دی اور حکم دیا کہ وہ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ جلدی سے ذی طوی کی طرف حرکت کریں_ امیرالمومنین حضرت علیعليه‌السلام حضرت فاطمہ بنت الرسول، اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کو ساتھ لیکر نکلے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے آزاد کر دہ غلام ایمن بن ام ایمن اور ابوواقد بھی ان کے ساتھ ہولئے_ ابوواقد جانوروں کو ہانک رہے تھے_ اس نے جب ان سواریوں کے ساتھ تندی برتی تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کو نرمی کا حکم دیا_ اس نے تعاقب کے خوف کا عذر پیش کیا امیرالمؤمنینعليه‌السلام نے فرمایا اطمینان رکھو، بتحقیق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مجھ سے فرمایا ہے (یعنی غار سے روانگی کے وقت ، جیساکہ پہلے بیان ہوچکا ہے) ''اے علیعليه‌السلام اس کے بعد یہ لوگ تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچا سکیں گے''_

ضجنان کے قریب تعاقب کرنے والے ان تک پہنچ گئے جن کی تعداد سات تھی اور وہ نقاب پہنے ہوئے تھے_ آٹھواں آدمی حارث بن امیہ کا آزاد کردہ غلام جناح تھا_

حضرت علیعليه‌السلام نے عورتوں کو اتارا اورتلوار سونت کر ان لوگوں کے پاس آئے ان لوگوں نے انہیں واپس چلنے کیلئے کہا انہوں نے فرمایا: ''اگر میں ایسا نہ کروں تو؟'' وہ بولے :''تمہیں مجبوراً چلنا پڑے گا وگرنہ تمہیں سرکے بالوں سے پکڑ کرلے جائیں گے اور یہ تمہارے لئے موت سے بھی بدتر ہوگا''_

پھر وہ سوار حملہ کرنے کیلئے سواریوں کی طرف بڑھے لیکن حضرت علیعليه‌السلام ان کے اور سواریوں کے درمیان

___________________

۱_ اعلام الوری ص ۶۶ اور بحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ از اعلام الوری_

۳۶۱

حائل ہوگئے اتنے میں جناح نے اپنی تلوار سے وار کیا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے پہلو بچا کر اس کا وار ضائع کردیا پھرآپعليه‌السلام نے اس کے کندھے پروار کیا، تلوار تیزی سے اترتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی پشت تک جاپہنچی اس کے بعد حضرت علیعليه‌السلام درج ذیل رجز پڑھتے ہوئے اپنی تلوار کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑے_

خلوا سبیل الجاهد المجاهد

آلیت لا اعبد غیر الواحد

اس زحمت کش مجاہد کا راستہ نہ روکو میں نے خدائے واحد کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے_

یہ دیکھ کر وہ لوگ وہاں سے ہٹ گئے اور کہنے لگے :''اے فرزند ابوطالب ہماری طرف سے بے فکر ہوجاؤ''_ انہوں نے فرمایا:'' میں اپنے چچا زاد بھائی کے پاس یثرب جارہاہوں_ جس کی یہ خواہش ہو کہ میں اس کے گوشت کے ٹکڑے کروں یا اس کا خون بہادوں تو وہ میرے پیچھے آئے یا میرے نزدیک آنے کی کوشش کرے''_پھر حضرت علیعليه‌السلام اپنے دونوں ساتھیوں (ایمن اور ابوواقد) کے پاس آئے اور فرمایا:'' اپنی سواریوں کو آزاد چھوڑ دو''_ اس کے بعد وہ بے فکر ہو کر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ ضجنان پہنچ گئے_ وہاں انہوں نے تقریباً ایک دن اور ایک رات استراحت فرمائی بعض کمزور اور بے چارے مومنین وہاں پہنچ کر حضرت علیعليه‌السلام سے مل گئے ان میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی آزاد کردہ کنیز ام ایمن بھی تھیں_ اس رات انہوں نے کھڑے ہو کر بیٹھ کراور پہلوؤں کے بل لیٹ کر اللہ کی عبادت کی یہاں تک کہ جب صبح ہوگئی تو حضرت علیعليه‌السلام نے ان کے ساتھ نماز فجر پڑھی _اس کے بعد ان کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کیا اور ہرمنزل پر اس عمل کا اعادہ کرتے گئے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے_ ان کی آمد سے قبل ہی ان کی شان میں یوں وحی نازل ہوئی_( الذین یذکرون الله قیاما وقعودا وعلی جنوبهم ویتفکرون فی خلق السموات والارض ربنا ما خلقت هذا باطلا فاستجاب لهم ربهم انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر او انثی ) (۱) یعنی جولوگ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر اور پہلوؤں کے بل خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت میں غور کرتے

___________________

۱_ سورہ آل عمران آیت ۱۹۱_۱۹۵ _

۳۶۲

اور کہتے ہیں خدایا تونے ان کو بے مقصد خلق نہیں کیا پس خدا نے ان کے جواب میں فرمایا: تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت_

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علیعليه‌السلام کی آمد کی خبر ملی تو فرمایا :''علیعليه‌السلام کو میرے پاس بلاؤ''عرض کیا گیا :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ چلنے پر قادر نہیں ہیں ''_یہ سن کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود ان کے پاس آئے اور انہیں اپنے سینے سے لگایا_ جب ان کے سوجے ہوئے پیروں پر حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر پڑی تو شفقت کی بنا پر گریہ فرمایاکیونکہ ان کے قدموں سے خون ٹپک رہا تھا_ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علیعليه‌السلام سے فرمایا:'' اے علیعليه‌السلام تم ایمان کے لحاظ سے اس امت کے سب سے پہلے مومن ہو اور اللہ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف ہجرت کرنے والے سب سے پہلے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے ملحق ہونے والے سب سے آخری فرد ہو_ مجھے قسم ہے اس کی جس کے اختیار میں میری جان ہے تجھ سے محبت نہیں کرے گا مگروہ جو مومن ہوگا اور اس کا ایمان آزمایا جاچکا ہوگا اور تجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگروہ جو منافق یا کافر ہوگا''_(۱)

بنابریں یہ واضح ہوا کہ کھلم کھلا ہجرت کرنے اور ہجرت سے روکنے والوں کو قتل کی دھمکی دینے والے شخص علی ابن ابیطالب تھے نہ کہ عمرابن خطاب_ حضرت عمر کی طرف اس بات کی نسبت کے غلط ہونے سے متعلق تھوڑی سی بحث پہلے گزر چکی ہے_ یہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ امیرالمومنینعليه‌السلام کے دیگر بہت سے فضائل کی طرح ان کی اس فضیلت کو بھی دوسروں سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی ہے_

تبع اول کا خط

بعض لوگ کہتے ہیں کہ تبع اول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ولادت سے سینکڑوں سال قبل آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لاچکا تھا_یہ واقعہ طویل ہے اور ہم اس کے ذکر سے اجتناب کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کی صحت کے بارے میں اطمینان حاصل نہیں ہے البتہ قرطبی اور ابن حجت حموی نے (قرطبی سے) ثمرات الاوراق (ص ۲۹۰_ ۲۹۱) میں

___________________

۱_ امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_۸۶ بحار ج ۱۹ ص ۶۴ _ ۶۷، ۸۳ اور ۸۵ تفسیر برہان ج ۱ ص ۳۳۲_۳۳۳ از الشیبانی (در نہج البیان) الاختصاص (شیخ مفید) المناقب (ابن شہر آشوب) ج ۱ ص ۱۸۳_۱۸۴، اعلام الوری ۱۹۰ اور امتاع الاسماع (مقریزی) ج ۱ ص ۴۸ _

۳۶۳

اس کا تذکرہ کیا ہے جو حضرات تحقیق کے طالب ہوں وہ ادھر رجوع کریں_

حضرت ابوبکر معروف بزرگ؟

بعض جگہوں میں ذکر ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک ہی سواری پر سوار تھے اور یہ کہ حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ایک غیر معروف نوجوان تھے_ لوگ حضرت ابوبکر سے ملاقات کرتے اور پھر ان سے پوچھتے تھے کہ اے ابوبکر یہ تیرے آگے کون ہے؟ احمد کے الفاظ ہیں'' یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟'' وہ جواباً کہتے تھے :''یہ مجھے راستہ دکھاتا ہے''_ لوگ یہی سمجھتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کو سفر کے راستے سے آگاہ کرتے ہیں حالانکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راہ حق دکھانے والے ہیں_

تمہید میں مذکور ہے کہ ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سواری پر حضرت ابوبکر کے پیچھے بیٹھے تھے اور جب لوگ حضرت ابوبکر سے پوچھتے تھے کہ یہ تمہارے پیچھے کون ہے؟ ''

قسطلانی نے صاف الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں سے روانگی یعنی قباسے مدینے کو روانگی کے وقت کا ہے_

ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ ''جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ تشریف لائے اور مسلمانوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیاتو اس وقت حضرت ابوبکر لوگوں کے سامنے کھڑے ہوگئے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیٹھ گئے_ اس وقت حضرت ابوبکر بوڑھے تھے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جوان_ جن لوگوں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہیں دیکھا تھا ہ حضرت ابوبکر کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سمجھ کر ان کے پاس آتے تو وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا تعارف کراتے تھے یہاں تک کہ جب سورج کی شعاعیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر پڑنے لگیں تو حضرت ابوبکر نے اپنی چادر سے آپ پر سایہ کردیا تب جاکر لوگوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچانا_(۱)

___________________

۱_ ان ساری باتوں یا بعض باتوں کیلئے رجوع کریں ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴ ، سیرت حلبی ج۲ ص ۴۱ ، صحیح بخاری مطبوعہ مشکول باب ہجرت ج۶ ص ۵۳ و سیرت ابن ہشام ج۲ ص ۱۳۷ ، مسند احمد ج۳ ص ۲۸۷ ، المواہب اللدنیة ج۱ ص ۸۶ ، عیون الاخبار (ابن قتیبہ) ج۲ ص ۲۰۲ والمعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ (مذکورہ مآخذ میں سے متعدد کتب نیز الریاض النضرة ج۱ ص ۷۸ _ ۸۰ اور طبقات ابن سعد ج۲ ص۲۲۲ سے منقول)_

۳۶۴

لیکن یہ باتیں درست نہیں ہوسکتیں کیونکہ:

الف: یہ امر قابل قبول نہیں کہ حضرت ابوبکر معروف تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غیر معروف_ کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکے آنے والے مختلف قبائل سے سالہا سال تک ملاقاتیں کرتے رہے تھے_ یوں آپ کا ذکر ہر جگہ پھیل چکا تھا اور اہل مدینہ کے اسّی سے زیادہ افراد صرف تین ماہ قبل آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیعت کرچکے تھے پھر کیونکر ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر تو جانی پہچانی شخصیت ٹھہریں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا غیر معروف؟(۱) اس کے علاوہ حضرت ابوبکر تو قبا پہنچتے ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے جدا ہوکر مدینہ چلے گئے تھے اور مدینہ پہنچنے تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نہیں رہے تھے_

ب: اہل مدینہ نہایت بے صبری سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد کے منتظر تھے اور جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تشریف لائے تو تقریباً پانچ سو سواروں(۲) نے حرّہ کے اس طرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیا تھا_ اس وقت عورتیں بچے اور جوان اس طرح کا ترانہ الاپ رہے تھے_

طلع البدر علینا

من ثنیات الوداع

ثنیات وداع سے آج ہمارے لئے چودہویں کا چاند نکل آیا ہے_

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبا میں چند روز لوگوں سے ملتے رہے تھے پھر کیا یہ ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم (بقول قسطلانی) ، قبا سے مدینہ تشریف لاتے وقت غیر معروف ہوجائیں(۳) ؟ _

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ میں داخل تو ہوئے ہوں لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ قبا یا مدینہ کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر اس وقت حضرت علیعليه‌السلام کہاں چلے گئے تھے؟ کیا اہل مدینہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دیدار کے لئے جتھوں کی صوت میں یا اکیلے قبا نہیں آئے تھے؟ پھر انجان لوگوں کو جاننے والوں نے کیوں نہیں بتا یا اور چپ کیوں سادھ گئے؟

___________________

۱_ الغدیر ج۷ ص ۲۵۸ کی طرف رجوع کریں_

۲_ الثقات ( ابن حیان) ج۱ ص ۱۳۱ و دلائل النبوة ج۲ ص ۲۳۳ وفاء الوفاء ج۱ ص ۲۵۵ از تاریخ صغیر (بخاری) و سیرت حلبی ج۲ ص ۵۲ و سیرت نبویہ (دحلان) حاشیہ حلبیہ ج۱ ص ۳۲۵ اور تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۲۶_

۳_ ارشاد الساری ج۶ ص ۲۱۴_

۳۶۵

ج: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ابوبکر سے دوسال اور چند ماہ بڑے تھے کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عام الفیل میں پیدا ہوئے اور حضرت ابوبکر بھی اپنی خلافت کے آخر میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی عمر کو پہنچ چکے تھے (جیساکہ ان کا دعوی ہے) کیونکہ ان کی عمر وفات کے وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی عمر کے برابر یعنی ترسٹھ سال ہوچکی تھی_(۱)

بنابریں یہ کیسے معقول ہوسکتا ہے کہ وہ تو عمر رسیدہ بزرگ ہوں لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا جوان؟ ہماری ان معروضات کی روشنی میں یزید بن اصم (جو دوسری صدی ہجری میں تہتر سال کی عمر میں مرے) سے مروی اس قول کا بطلان بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حضرت ابوبکر سے فرمایا'' میری عمر زیادہ ہوگی یا تمہاری؟'' انہوں نے جواب دیا ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بزرگی اور عزت وشرف مجھ سے زیادہ ہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے بہتر ہیں لیکن میں عمر میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بڑاہوں''_(۲)

یہ بہانہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بر خلاف حضرت ابوبکر کے چہرے اور داڑھی میں بڑھاپے کے آثار زیادہ نمایاں تھے_(۳) یا یہ کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اس لئے لوگ ان کو ملک شام جانے آنے کی وجہ سے پہچان چکے تھے_ درست نہیں کیونکہ بالوں کا سفید ہونا یا نہ ہونا بڑھاپے اور جوانی کو نہیں چھپا سکتا _حتی کہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ''ما ھذا الغلام بین یدیک؟'' (یہ لڑکا کون ہے جو تیرے آگے ہے؟) غور کیجئے ایک ایسے مرد کو جس کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہوچکی ہو ''لڑکا'' کہنا کس قدر ستم ظریفی ہے؟

___________________

۱_ المعارف (ابن قتیبہ) ص ۷۵ جس میں اس بات کے متفق علیہ ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ، اسدالغابة ج ۳ ص ۲۲۳، مرآة الجنان ج ۱ ص ۶۵ و ص ۶۹ ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۶۰، الاصابہ ج ۲ ص ۳۴۱ تا ۳۴۴ الغدیر ج۷ ص ۲۷۱ جس میں مذکورہ مآخذ کے علاوہ درج ذیل مآخذ سے بھی نقل ہوا ہے _ الکامل ابن اثیر ج۱ ص ۱۸۵ اور ج ۲ ص ۱۷۶ عیون الاثر ج ۱ ص ۴۳ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۳۹۶ الطبری ج ۲ ص ۱۲۵ اور ج ۴ ص ۴۷ الاستیعاب ج ۱ ص ۳۳۵ جس میں کہا گیا ہے کہ اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ وفات کے وقت ان کی عمر ۶۳ سال تھی و سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۰۵_

۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۷۰ از الاستیعاب ج ۲ ص ۲۲۶ الریاض النضرة ج۱ ص ۱۲۷ تاریخ الخلفاء ص ۷۲ خلیفة بن خیاط، احمد بن حنبل اور ابن عساکر سے_

۳_ فتح الباری ج۷ ص ۱۹۵ ، الغدیر ج۷ ص ۲۶۰ ،۲۶۱ _

۳۶۶

اسکے علاوہ ابن عباس نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، آپ تو بوڑھے ہوگئے، فرمایا مجھے سورہ ہود اور سورہ واقعہ نے بوڑھا کردیا محدثین نے ابن مسعود اور ابن ابی جحیفہ سے بھی اس قسم کی روایت نقل کی ہے کہ لوگوں نے کہا ''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو بوڑھے ہوگئے ہیں''_ فرمایا:'' مجھے ہود اور اس کے ساتھ والی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے''_(۱) واضح ہے کہ مذکورہ سورتیں مکی ہیں_ مذکورہ روایات کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے نے وقت سے پہلے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو آلیا_ اسی لئے لوگ اس کے بارے میں سوال کر رہے تھے_(۲)

رہا یہ کہنا کہ حضرت ابوبکر تاجر تھے اور شام آیا جایا کرتے تھے تو اس سلسلے میں ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ایام جاہلیت میں وہ بچوں کو پڑھاتے تھے اور اس کے بعد درزی کا کام کرنے لگے_ علاوہ ازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ بھی تو شام کا سفر کیا کرتے تھے اور خصوصاً آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش اور عربوں کے درمیان حاصل بزرگی و سیادت اور اہل مدینہ کے ساتھ رشتہ داری کی بناپرلوگوں کے درمیان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پہچان بدرجہ اولی اور زیادہ ہونی چاہئے_

ان ساری باتوں کے علاوہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سالہا سال تک مکہ آنے والے قبائل کے ساتھ بنفس نفیس ملاقاتیں بھی کرتے رہے تھے_

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت کا تعارف کراتی تھیں _ چنانچہ ام معبد نے اپنے شوہر سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صفات کا تذکرہ کیا تو اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوپہچان لیا_ رہے حضرت ابوبکر تو ان کی صفات کا تذکرہ حضرت عائشہ وغیرہ کی زبانی اس کتاب میں پہلے گزر چکا ہے_آخر کار ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور حضرت ابوبکر ایک ہی ناقہ کے سوار کیسے ہوگئے؟ حالانکہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دو اونٹ تھے یعنی ہر کسی کے پاس اپنی سواری تھی_

___________________

۱_ مستدرک الحاکم ج۲ ص ۳۴۳ و تلخیص مستدرک ذہبی ( اسی صفحے کے حاشیہ میں) نیز اللمع (ابو نصر) ص ۲۸۰ و تفسیر ابن کثیر ج۲ ص ۴۳۵ و الغدیر ج۷ ص ۳۶۱ مذکورہ مآخذ اور تفسیر قرطبی ج۷ ص ۱ و تفسیر الخازن ج۲ ص ۳۳۵ نیز جامع الحافظ ترمذی و نواد ر الاصول(حکیم ترمذی) ابویعلی، طبرانی اور ابن ابی شیبہ سے _

۲_ الغدیر ج۷ ص ۲۶۱_

۳۶۷

علامہ امینی رحمة اللہ علیہ کا نقطہ نظر

علامہ امینی (قدس سرہ) کا نظریہ یہ ہے کہ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے بزرگ ہیں لیکن میں آپ سے زیادہ عمر رسیدہ ہوں'' والی بات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور سعید بن یربوع المخزومی کے درمیان پیش آئی ہے سعید ۵۴ ہجری میں ایک سوبیس سال کی عمر میں چل بسے تھے_

ان کا یہ بھی خیال ہے کہ سقیفہ کے دن اپنے مخالفین کے مقابلے میں حضرت ابوبکر کی دلیل ان کی بزرگسالی تھی_ بنابریں ان کے چاہنے والوں نے اس دعوے کی تائید ان کے مذکورہ جعلی قول سے کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مقابلے میں عمر رسیدہ لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ ہیں اور یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ایک غیر معروف جوان بلکہ ایک لڑکے تھے اور حضرت ابوبکر ایک جانے پہچانے بزرگ تھے_(۱)

مکہ میں منافقت کا کھیل

ہجرت کے بعد کے حالات کا ذکر چھیڑنے سے پہلے مکی زندگی سے مربوط ایک مسئلے کی طرف اشارہ اور اس کے بعض ظاہری پہلوؤں پر اظہار نظر مناسب معلوم ہوتا ہے اگرچہ اس مسئلے کا ہجرت کے بعد مدنی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے_ وہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہجرت سے قبل مسلمان ہونے والے مکیوں میں منافقین بھی تھے جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور تھا یا نہیں ؟

اور کیا مکے کی فضا اس قسم کے افراد کو جو بظاہر اسلام قبول کریں اور اندر سے کافر ہی رہیں، وجود میں لانے کیلئے سازگار تھی یا نہیں؟

اس سلسلے میں علامہ طباطبائی کا حاصل کلام یہ ہے_

ممکن ہے کوئی کہے کہ نہیں مکے میں منافقین کا کوئی وجود نہ تھا کیونکہ وہاں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور مسلمانوں کو طاقت اور اثرونفوذ حاصل ہی نہ تھاکہ جس کے باعث لوگ ان سے مرعوب اور خائف ہوتے یا ان سے کسی

___________________

۱_ الغدیر ج ۷ ص ۲۷۱_

۳۶۸

قسم کے مادی یا روحانی فائدے کی امید رکھتے _پس وہ کیونکر ان کے قرب کے متلاشی ہوتے اور اپنی باطنی کیفیت کے برعکس ایمان کا اظہار کرتے؟

بلکہ مسلمان تو مکے میں کمزور مظلوم اور ستمدیدہ تھے_ بنابریں ہونا تو یہ چاہ ے تھا کہ قریش کے رؤسا اور بزرگان کے مقابلے میں (خواہ خوف کی بنا پر ہو یا امید ورغبت کی بنا پر) مسلمانوںکی جانب سے اندرونی کیفیت کو چھپانے کی کوشش کی جاتی نہ اس کے برعکس _

اس کے برعکس مدنی زندگی میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی پوزیشن مستحکم ہوچکی تھی مسلمانوں کا اثر ونفوذ واضح ہوچکا تھا اور وہ اپنی حفاظت یا اپنا دفاع کرنے کی طاقت حاصل کرچکے تھے_ مدینہ کے ہر گھر میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اعوان و انصار اور پیروکار موجود تھے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوامر کی متابعت اور اپنی ہر قیمتی اور نفیس چیز کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم پر قربان کرتے تھے_ رہے باقی ماندہ مٹھی بھر لوگ تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اعلانیہ مخالفت کا دم خم نہ رکھتے تھے_ چنانچہ انہوں نے اپنی خیریت اسی میں جانی کہ بظاہر مسلمان ہوجائیں اور باطناً کافر ہی رہیں تاکہ جب بھی موقع ملے مسلمانوں کے ساتھ مکر وفریب اور سازش وحیلہ گری سے کام لے سکیں_

خلاصہ یہ کہ اس انداز میں بعض لوگوں نے ابتدائی مسلمانوں کے درمیان منافقوں کی عدم موجودگی پر استدلال کیا ہے_ لیکن یہ استدلال جیساکہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں بے بنیاد ہے_

کیونکہ مکے میں بھی منافقت کی وجوہات موجود تھیں _اور اس کام کیلئے وہاں کے ماحول میں بھی گنجائشے موجود تھی_ ان میں سے بعض اسباب کا ہم یہاں تذکرہ کرتے ہیں:

(الف): منافقت کے اسباب فقط وہی نہیں جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے یعنی صاحب اقتدار کا خوف یا اس سے وابستہ امید اور لالچ کیونکہ ہم مختلف معاشروں میں مختلف قسم کے لوگوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو خوبصورت نعروں پر، ہر قسم کی دعوت پر لبیک کہنے کیلئے آمادہ ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ ان کی امیدوں اور آرزوؤں کے ساتھ سازگار ہو، ان کی خواہشات کی برآوری کی امید دلاتی ہو اور اس میں ان کی رغبتوں کا سامان ہو_ پس وہ اس کی حمایت کرتے ہیں اگرچہ وہ ظالم ترین طاقتوں کے زیرسایہ ہی کیوں نہ ہوں اور

۳۶۹

خود، ان کی حالت انتہائی کمزور اور ضعیف کیوں نہ ہو_ یوں وہ اس کی خاطر اپنے وجود کو بہت سے خطرات میں جھونک دیتے ہیں نیز مشکلات اور سختیوں کو جھیلتے ہیں فقط اس امید میں کہ شاید کسی دن ان کی امیدوں کی کلی کھل جائے اور ان کے اہداف حاصل ہوجائیں جن کے خواب وہ دیکھا کرتے ہیں ،مثال کے طور پر حصول اقتدار اور حصول ثروت وجاہ ومقام وغیرہ_

جی ہاں وہ یہ سب کر گزرتے ہیں اگرچہ وہ اکثر وبیشتر اس دعوت پر فقط اتنا ہی ایمان رکھتے ہیں جتنا ان کے مذکورہ بالا اہداف واغراض کے حصول کیلئے ضروری ہو اور واضح ہے کہ اس قسم کا لالچی منافق دعوت کی کامیابی کی صورت میں اس دعوت کیلئے بدترین دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اگر اسے یہ احساس ہو کہ دعوت اس کی تمام آرزؤوں کو پورا نہیں کرسکتی (اگرچہ کسی مصلحت کے تحت ہی سہی) تو وہ منحرف اور خائن ہوجاتا ہے(۱) اس کے علاوہ وہ اس دعوت کو انحراف کی طرف لے جانے نیز اسے سابقہ روش اور راہ مستقیم سے ہٹاکر ان غلط راہوں کی طرف لے جانے پر زیادہ قادر ہوتا ہے جن راہوں کی تاریکی اور ظلمت سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی خواہشات تک آسانی سے رسائی حاصل کرسکے_ پھر ان کاموں کی توجیہہ کے سارے بہانے بھی اسی کے پاس ہی ہوتے ہیں خواہ اس کی توجیہات کتنی ہی کمزور اور بے بنیاد کیوں نہ ہوں_

لیکن اگر دعوت کو ناکامی کا سامنا ہو تو وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرچکنے کی صورت میں اپنے ہم خیال لوگوں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ان لوگوں کے ساتھ تو بس مذاق کر رہے تھے_ بقول قرآن (اناکنامعکم انمانحن مستھزؤون) ان باتوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مدینے میں اگر منافقت عام طور پر حفاظتی مقاصد یا مخصوص مفادات وروابط کے بچاؤ کے پیش نظر تھی تو مکہ والی منافقت اسلام ومسلمین کیلئے یقیناً زیادہ خطرناک، زیادہ نقصان دہ اور زیادہ پریشان کن ہوگی جیساکہ ہم پہلے وضاحت کرچکے ہیں_

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۳۷۰

خلاصہ یہ کہ اس بات کا قوی احتمال ہے کہ مکہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بعض پیروکار اسلام کے مخلص نہیں تھے بلکہ ان کو فقط اپنی ذات سے غرض تھی_اس بات کی تائید اس حقیقت کو خاص کرملاحظہ کرنے سے ہوتی ہے کہ اسلام نے اپنی دعوت کے روز اول سے ہی قطعی وعدوں کا اعلان کیا تھا کہ اس کے علمبردار بہت جلد زمین کے حکمراں اور قیصر وکسری کے خزانوں کے مالک بن جائیں گے_(۱)

چنانچہ جب عفیف کندی نے عباس بن عبدالمطلب سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علیعليه‌السلام اور خدیجہعليه‌السلام کی نماز کے بارے میں پوچھا تو عباس نے جواب دیا:'' یہ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں_ اس کا دعوی ہے کہ خدانے اسے بھیجا ہے اور قیصر و کسری کے خزانے بہت جلد اس کے ہاتھ لگ جائیں گے''_ عفیف افسوس کرتا تھا کہ وہ اس دن مسلمان کیوں نہ ہوا تاکہ وہ علیعليه‌السلام کے بعد مسلمانوں میں دوسرے نمبر پر ہوتا_(۲)

نیز جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قوم کی شکایت کا سبب پوچھا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں ان کو ایک کلمے (یعنی مقصد) پر متحد کرناچاہتا ہوں جس کے نتیجے میں عرب ان کے مطیع اور عجم ان کے خراج گزار بن جائیں_(۳)

اسی طرح یہ بھی منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بکر بن وائل سے قبائل کو دعوت اسلام دینے کے سلسلے میں فرمایا: ''اور تم خدا سے یہ عہد کروگے کہ اگر تم زندہ رہو تو ان (عجم)کے گھروں میں داخل ہوگے ان کی عورتوں سے نکاح کروگے اور ان کے بیٹوں کو غلام بنالوگے''_

شیبان بن ثعلبہ سے بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقریباً اسی قسم کی بات اس وقت کی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے قریبی رشتہ

___________________

۱_ المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۲_ ذخائر العقبی ص ۵۹، دلائل النبوة ج ۱ ص ۴۱۶، لسان المیزان ج ۱ ص ۳۹۵ ابویعلی اورخصائص نسائی سے، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۵۷ مطبوعہ صادر اور تاریخ طبری ج ۲ ص ۵۷ نیز حیاة الصحابہ ج۱ ص ۳۳ _

۳_ سنن بیہقی ج ۹ ص ۸۸ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۳۲ حاکم اور ذہبی نے تلخیص میں اسے صحیح قرار دیا ہے نیز تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۲۸ و حیات الصحابہ ج ۱ ص ۳۳ کہ ترمذی نیز تفسیر طبری، احمد، نسائی اور ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے_

۳۷۱

داروں کو عذاب الہی سے ڈرایا_(۱)

اس نکتے کی خوب وضاحت اس بات سے ہوتی ہے جو قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ کے ایک فرد نے اس وقت کہی جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کو دعوت اسلام دینے آئے تھے_ اس نے کہا ''اللہ کی قسم اگر یہ قریشی جوان میرے ہاتھ آتا تو میں اس کے ذریعے عرب کو ہڑپ کرجاتا'' اس کے بعض مآخذ کا پہلے تذکرہ ہوچکا ہے_

مختصر یہ کہ جب مذکورہ منافقت کا مقصد ذاتی اغراض کیلئے اس دعوت کے قبول کرنے کو آلہ کار قرار دینا ہو تو (اس منافق کیلئے) سوائے اس کے چارہ نہیں کہ وہ اس دعوت کی وہاں تک حفاظت کرے جہاں تک وہ اپنے مفادات ومقاصد کی حفاطت پر مجبور ہو، یعنی جب تک وہ اس دعوت کے ذریعے اپنی آرزؤوں کی تکمیل اور اپنے مقاصد تک رسائی کی امید رکھتا ہوگا تب تک وہ اس دعوت اورتحریک کی حفاظت کرے گا_

یہیں سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ضروری نہیں منافق اس دعوت (جس پر وہ ایمان نہیں رکھتا) کے خلاف مکروسازش کرنے اور اس کو خراب وبرباد کرنے کی کوشش کرے بلکہ بسا اوقات اس کا پورا لگاؤ اس کے ساتھ ہوتا ہے، اس کیلئے مال و متاع اور جاہ و حشمت کی قربانی دیتا ہے ہاں اس صورت میں کہ بعد میں اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی اسے توقع ہو_ لیکن جان کی قربانی نہیں دیتا اس حقیقت کا مشاہدہ مکے کے بعض مسلمانوں کی حالت سے بخوبی ہوتا ہے جو دعوت اسلامی کی حمایت اس وقت تک کرتے رہے جب تک موت سے روبرو نہ ہونا پڑا لیکن جب موت کا مرحلہ پیش آیا تو وہ جنگوں سے بھاگ جاتے، پیٹھ پھیرتے اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے تھے_ اس نکتے کا مشاہدہ بہت سے موقعوں پر ہوتا ہے البتہ بعض اوقات اس قسم کے لوگوں میں سے بعض کے اوپر بتدریج جذبہ دینی غالب آتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ منزل اطمینان کو پہنچ جاتے ہیں بعد میں ہم غزوہ احد پر بحث کے دوران اس جانب انشاء اللہ اشارہ کریں گے_ بحث کا نتیجہ یہ نکلاکہ :

(الف):بعض لوگوں کا بنیادی ہدف اور ان کا معیار ذاتی مفاد ہوتا ہے_ بنابریں جب تک دین کے ذریعے

___________________

۱_ رجوع کریں : الثقات ج ۱ ص ۸۸، البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۱۴۰، ۱۴۲ اور ۱۴۵ کہ دلائل النبوة (ابن نعیم) حاکم اور بیہقی سے نقل کیا ہے_ حیات الصحابة ج ۱ ص ۷۲ و ۸۰ از البدایة و النہایة اور کنز العمال ج ۱ ص ۲۷۷ سے منقول ہے_

۳۷۲

ان کے مفادات حاصل ہوتے رہیں وہ بھی اس دین کا ساتھ دیتے ہیں لیکن جونہی وہ دین کو اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ اور ان کیلئے باعث خطر سمجھتے ہیں تو پھر وہ اس کے خلاف مکر وسازش اور اسے تباہ وبرباد کرنے کیلئے کسی قسم کی سعی وکوشش سے دریغ نہیں کرتے اور ہر قسم کا وسیلہ اپناتے ہیں_

(ب): دوسرے سبب کی طرف علامہ طباطبائی نے یوں اشارہ کیا ہے کہ یہ بات ممکن ہے کہ کوئی شخص ابتدائے بعثت میں ایمان لے آئے پھر وہ کسی ایسے امر سے روبرو ہو جس کے باعث اس کاایمان متزلزل ہو، وہ دین میں شک کرے اور مرتد ہوجائے لیکن اس کی نظر میں اہمیت کے حامل بعض مفادات مثال کے طور پر دشمنوں کی شماتت سے بچاؤ یا خاندانی، قبائلی اور تجارتی روابط کی حفاظت یا نسلی تعصب اور غیرت وغیرہ جن کے باعث سارے یا کچھ مسلمانوں سے رابطہ ضروری ہو یا کسی خاص قسم کے جاہ ومقام یا اس سے مربوط کسی اور مسئلے کی بنا پر اس کی پردہ پوشی کرتا ہو_(۱)

بسا اوقات ہم تاریخ میں ایسے افراد کا مشاہدہ کرتے ہیں جو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس امر میں اکثر شک کیا کرتے تھے اور یوں وہ مذکورہ حقیقت کی تائید کرتے ہیں_ یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر وہ ایسے شک کا شکار ہوئے جس کا شکار مسلمان ہونے کے بعد کبھی بھی نہ ہوئے تھے_(۲)

ادھر غزوہ احد میں جب انہوں نے سنا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہید ہوگئے تو وہ معرکہ جنگ سے فرار اختیار کرگئے اور ان میں سے بعض تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان کی طرف (دوستی کا) ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ وہ ہماری قوم کے ہی افراد اور ہمار ے چچازاد بھائی ہیں_(۳)

(ج): مسلمانوں کی مکی زندگی کے دوران منافقوں کی موجودگی پر دلالت کرنے والی بعض آیات کی طرف علامہ طباطبائی نے بھی اشارہ کیا ہے مثال کے طور پر خداوند متعال کا یہ ارشاد:( لیقول الذین فی

___________________

۱_ تفسیر المیزان ج ۱۹ ص ۲۸۹ _

۲_ مغازی واقدی ج ۲ ص ۶۰۷ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۲۲۷ جنگ احد کے واقعے میں اس سلسلے میں مزید گفتگو مآخذ کے ذکر کے ساتھ ہوگی_

۳۷۳

قلوبهم مرض والکافرون ما ذا اراد الله بهذا مثلاً ) (۱) یعنی تاکہ دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اس عجیب مثال سے کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ یہ آیت ایک مکی سورہ کی ہے_

نیز اللہ تعالی کا یہ ارشاد( ومن الناس من یقول آمنا بالله فاذا اوذی فی الله جعل فتنة الناس کعذاب الله ولئن جاء نصر من ربک لیقولن انا کنا معکم اولیس الله باعلم بما فی صدور العالمین ولیعلمن الله الذین آمنوا ولیعلمن المنافقین ) (۲)

یعنی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے لیکن جب راہ خدا میں اسے تکلیف دی گئی تو اس نے لوگوں کی طرف سے ڈالی ہوئی آزمائشے کو عذاب الہی کے برابر قرار دیا_ اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا ہم تو تمہارے ساتھ تھے کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں_ اللہ تو ضروریہ جانتا ہے کہ ایمان والے کون ہیں اور منافق کون؟_

یاد رہے کہ سورہ عنکبوت بھی مکی ہے_ یہ آیت راہ خدا میں ایذاء رسانی اور آزمائشے کے بارے میں گفتگو کرتی ہے یہ باتیں مکہ کی ہیں نہ کہ مدینہ کی_ اس آیت میں اللہ کا یہ فرمان (ولئن جاء نصر من ربک) یعنی اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آگئی اس آیت کے مدنی ہونے پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ فتح ونصرت کی مختلف شکلیں ہوسکتی ہیں_

یہاں اس نکتے کا اضافہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس آیت میں بطور عام مستقبل کے منافقین کی بھی تصویر کشی فرما رہا ہے_

اس کے بعدعلامہ طباطبائی کہتے ہیں: ''اس بات کا احتمال کہ شاید فتنہ (آزمائشے) سے مراد ہجرت کے بعدمکہ میں مسلمانوں کو پیش آنے والی مشکلات ہوں تو اس کی گنجائشے ہے کیونکہ ہجرت کے بعد مکہ میں ستائے جانے والے لوگ ہجرت سے قبل رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ پر ایمان لاچکے تھے اگرچہ انہیں بعد میں اذیت دی گئی''_(۳)

___________________

۱_ سورہ مدثر آیت ۳۱ _

۲_ سورہ عنکبوت، آیت ۱۱_

۳_ تفسیر المیزان ج ۲۰ ص ۹۰_۹۱_

۳۷۴

مذکورہ باتوں پر ایک اہم تبصرہ

علامہ طباطبائی آخر میں یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ ''ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات کے وقت تک منافقین کا کوئی نہ کوئی تذکرہ سنتے رہتے ہیں_ ان میں سے تقریباً اسّی افراد تبوک میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو چھوڑ گئے_ ادھر عبداللہ بن ابی، جنگ احد میں تین سو افراد کے ساتھ جدا ہوگیا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ان منافقین کا بلا واسطہ ذکر ختم ہوگیا اور اسلام و مسلمین کے خلاف ان کی سازشوں، مکاریوں اور حیلوں کے بارے میں کوئی بات سننے میں نہیں آئی_ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے ساتھ ہی یہ سارے منافقین عادل، متقی، پرہیزگار اور انسان کامل بن گئے؟

اگر یہی بات ہو تو کیا ان کے درمیان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی موجودگی ان کے مومن ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھی؟ جبکہ اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو رحمة للعالمین بناکر بھیجا تھا؟ (ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ان غلط باتوں سے جو نزول بلا اور غضب کا باعث ہوں) یا یہ کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی رحلت کے ساتھ ہی یہ منافقین بھی (جن کی تعداد سینکڑوں بتائی جاتی ہے) مرگئے؟ کیا بات ہے کہ تاریخ اس سلسلے میں ہمیں کچھ نہیں بتاتی؟

یا نہیں بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ان منافقین کو حکومت کے اندر وہ چیز ملی جو ان کی نفسانی خواہشات سے ہم آہنگ نیز ان کے ہوا و ہوس اور مفادات کے ساتھ سازگار تھی؟ یا اس کی کوئی اور وجہ اور حقیقت تھی؟'' یہ فلسفہ میری سمجھ میں تو نہیں آتا_ شاید ہوشیار اور زیرک لوگ اس کو سمجھتے ہوں_

۳۷۵

چوتھی فصل

مدینہ تک

۳۷۶

آغاز:

مدینہ پہنچنے کے بعد اسلامی معاشرہ کی تشکیل، حکومت کی بنیادیں مضبوط کرنے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تبلیغ اسلام کی منصوبہ بندی کرنے کا کام شروع ہوا_ یوں اسلامی دعوت انفردای اصلاح کے مرحلے سے نکل کر معاشرتی اصلاح، اسلامی عقائد واحکام کے عملی نفاذ اور پوری دنیا سے جاہلیت کے تمام آثار کو مٹانے کے مرحلے میں داخل ہوئی_

اگر ہم اس سلسلے میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اقدامات کا تذکرہ کریں تو اس مختصر کتاب میں ان کا تفصیلی ذکر ممکن نہ ہوگا_ نیز ہم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عطرآگین سیرت کے بنیادی واقعات پر بحث کرنے سے رہ جائیں گے_ اس بناپر ہم یہ کام دوسروں کیلئے چھوڑتے ہیں اور ان چیزوں کے اجمالی بیان پر اکتفا کرتے ہیں جو کسی محقق کیلئے ضروری ہوتی ہیں_ ہم جزئیات اور تفصیلات فقط اسی حد تک بیان کریں گے جو ہماری نظر میں ضروری اور معقول ہوں_

اہل مدینہ کے گیت اور(معاذ اللہ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا رقص؟

کہتے ہیں کہ اہل مدینہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی آمد سے اتنے خوش ہوئے کہ اس قدر کسی اور سے خوش نہیں ہوئے تھے_ حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ پہنچے تو عورتیں اور لڑکیاں یہ گیت گارہی تھیں:

طلع البدر علینا

من ثنیات الوداع

وجب الشکر علینا

ما دعا لله داع

ایها المبعوث فینا

جئت بالامر المطاع

۳۷۷

آج ثنیات وداع نامی جگہ سے چودہویں کا چاند طلوع ہوا_

جب تک کوئی دعا کرنے والا دعا گو موجود ہے ہم پر خدا کا شکر لازم ہے_

اے وہ جو ہماری طرف بھیجا گیا ہے تیرا پیغام واجب الاطاعت ہے_

تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دائیں طرف مڑے اور قبا میں پہنچ کر اتر گئے_(۱)

ایک روایت کی رو سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنی آستینوں کے ساتھ ناچنے لگے ( معاذ اللہ)_(۲)

قبا میں چند دن ٹھہرنے کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے_ اس وقت بنی نجار کی

عورتیں دف بجا بجاکر گارہی تھیں_

نحن نساء من بنی النجار

یا حبذا محمد من جار

ہم بنی نجارکی عورتیں ہیں، خوش نصیب ہیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے پڑوسی بن گئے_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان سے فرمایا: ''کیا آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں؟ ''وہ بولیں:'' ہاں اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اللہ کی قسم میں بھی تم سے محبت رکھتا ہوں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا_(۳) حلبی کہتا ''ہے یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ شادی کے علاوہ دیگر موقعوں پر بھی دف (ڈھولکی) کے ساتھ گانا سننا جائز ہے''_(۴) ابن کثیر نے صحیحین کی آئندہ آنے والے روایتوں سے استدلال کیا ہے کہ شادیوں اور مسافروں کی آمد کے موقع پر گانا بجانا جائز ہے_(۵)

___________________

۱_ تاریخ خمیس ج۱ ص ۳۴۱_۳۴۲ از الریاض النضرة ، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۵۴، و دلائل النبوةبیہقی ج ۲ ص ۲۳۳، و وفاء الوفاء سمہودی ج ۱ ص ۲۴۴ و ج ۴ ص۱۱۷۲ و ۲۶۲ و فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴_

۲_ نہج الحق الموجود فی دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹، (یعنی حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم اپنی آستینوں کو نعوذ باللہ تھرکانے لگے _ از مترجم) فضل بن روز بہان نے بھی اس پراعتراض نہیں کیا بلکہ وہ اس کی توجیہ اور تاویل پیش کرنے لگے( گویا وہ اسے بالکل قبول کرتے ہیں)_

۳_ وفاء الوفاء ج ۱ ص ۲۶۳ ، فتح الباری ج ۷ ص ۲۰۴ و دلائل النبوة بیہقی ج ۲ ص ۲۳۴ و ۲۳۵ و تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۴۱ و سیرت حلبی ج ۳ ص ۶۱ اور البدایة و النہایةج ۳ ص ۲۰۰ _ ۴_ سیرت حلبی ج ۲ ص ۴۱ _ ۵_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_

۳۷۸

لیکن یہ باتیں غلط ہیں:

جسکی وجوہات کچھ یوں ہیں:

(الف): ثنیات الوداع کا محل وقوع مدینے کی جانب نہیں بلکہ شام کی جانب ہے اور مکہ سے مدینہ کی طرف آنے والے کو نظر نہیں آتا اور نہ ہی وہاں سے اس کا گزر ہوتا ہے مگر یہ کہ کوئی شام کا رخ کرے(۱) بلکہ سمہودی کے بقول ''میں نے مکہ کی جانب کسی سفر میں ثنیات الوداع کا تذکرہ نہیں دیکھا_(۲)

''جن لوگوں نے اسے مکے کی جانب قرار دیا ہے بظاہر ان کی دلیل ان عورتوں کا مذکورہ جملہ ہے جو ہجرت کے موقع پر کہا گیا''_(۳) ثنیة الوداع کے شام اور خیبر کی جانب واقع ہونے کی تائید تبوک کی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے تشریف لے جانے اور وہاں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لوٹنے سے ہوتی ہے_ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خیبر اور شام سے لوٹے موتہ، غزوہ عالیہ اور غزوہ غابہ کی طرف گئے، نیز اسب مضمر (وہ گھوڑا جسے گھڑ دوڑ میں شرکت سے پہلے دبلا اور بدن کا چھریرا بنانے کیلئے ایک مدت تک باندھ کر رکھتے ہیں) کی مدت کے بارے میں گھڑ دوڑ والی حدیث میں مذکورہ بات سے بھی اس امرکی تائید ہوتی ہے_(۴)

سمہودی نے مذکورہ بات کو صحیح قرار دینے کی کوشش اس طرح کی ہے کہ ان لوگوں کے بقول قبا سے مدینہ آتے وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انصار کے گھروں سے گزرے یہاں تک کہ بنی ساعدہ کے گھروں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گزر ہوا جو شام کی جانب واقع ہے پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شہر مدینہ میں داخل نہیں ہوئے مگر اسی طرف سے_(۵)

___________________

۱_ زاد المعاد ج ۳ ص ۱۰ اور رجوع کریں وفاء الوفاء سمہوری ج ۴ ص ۱۱۷۰ نیز التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۰_

۲_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_

۳_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۲_

۴_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۶۸و ۱۱۷۲ و ۱۱۶۹ اور ج۳ ص ۸۵۷ و۸۵۸ از بخاری ، ابن ابی شیبہ ، طبرانی اوسط میں ، ابویعلی ، ابن حبان ، ابن اسحاق ،ابن سعد اور بیہقی و غیرہ نیز ملاحظہ ہو حیاة الصحابہ ج۱ ص ۶۰۳ و ۲۰۷ اور السنن الکبری ج۹ ص ۱۷۵ و ۸۵_

۵_ وفاء الوفاء ج ۴ ص ۱۱۷۰_

۳۷۹

یہ بات قابل تعجب ہے کیونکہ بنی ساعدہ کے گھروں سے گزرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینے سے ان کی جانب سے داخل ہوئے کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبا کی جانب سے داخل ہوئے ہوں اور پھر اونٹنی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو انصار کے گھروں کے درمیان پھرایا ہو_ (جیساکہ اس نے صریحاً بیان کیا ہے) یہاں تک کہ وہ بنی ساعدہ کے گھروں تک پہنچی ہو_

سمہودی کے اس احتمال کی نفی''طلع البدر علینا'' والی روایت میں ان کے اس صریحی بیان سے ہوتی ہے کہ اہل مدینہ نے اس شعر کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال کیا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ساتھ دائیں طرف قبا کی جانب مڑے جیساکہ بیان ہوچکا ہے، بنابریں یہ شعر مکہ سے مدینہ تشریف آوری کے موقع پر کہا گیا نہ کہ قبا سے مدینہ آمد پر_

ان ساری باتوں کی روشنی میں حقیقت یہ ہے کہ مدینہ والوں نے اس شعر کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا استقبال مکہ سے تشریف آوری کے موقعے پر نہیں بلکہ تبوک سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد کے موقع پر کیا_

(ب): حلبی کا اس روایت کی بنیاد پر گانے بجانے کو جائز قرار دینا قابل تعجب امر ہے کیونکہ روایت فقط اتنا کہتی ہے کہ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آمد پر شعر پڑھا _ اس میں کوئی حرام چیز تو داخل نہیں تھی اور شعر پڑھنا کوئی کار حرام نہیں ہے بلکہ روایت میں ان اشعار کو لے میںپڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے_ اسی لئے ان کے کسی عالم کا بیان ہے کہ ''حرام اور غلط موسیقی کے حامیوں کا اس (طلع البدر والی روایت) کو دلیل بناکر ہر قسم کی موسیقی کو جائز قرار دینا بالکل اسی طرح ہے جس طرح انگور اور (نشے سے خالی )انگور کے پانی کے حلال ہونے کو دلیل بناکر (اس سے تیار شدہ) نشہ آور شراب کو بھی حلال قرار دیا جائے_ اس قسم کا قیاس ان لوگوں کے قیاس کی مانند ہے جو کہتے تھے کہ تجارت اور ربا ایک جیسے ہیں''_(۱)

اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ نامحرم عورت کی آواز کو سننا حرام ہے تو اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ حرمت کا یہ حکم اس وقت نازل ہوچکا تھا کیونکہ اسلام کے اکثر احکام تدریجاً نازل ہوئے جیساکہ شراب کے بارے

___________________

۱_ زاد المعاد (ابن قیم) ج ۳ ص ۱۷_۱۸_

۳۸۰

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417