الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209924 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

بھی کرلیں کہ ان کی عمر ان کی بیان کردہ مقدار سے کافی زیادہ تھی (جیساکہ ہم آگے چل کر اشارہ کریں گے) لیکن یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے کس سے حدیث نقل کی ہے _ اور یہ دعوی کہ کسی صحابی کی مرسل روایت اس کے کمزور ہونے کا سبب نہیں ہے کیونکہ ایک صحابی دوسرے صحابی سے نقل کرتاہے اور تمام صحابہ عادل ہیں بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ ان سب کی عدالت کے متعلق ہم نے اپنی کتاب '' دراسات و بحوث فی التاریخ والاسلام '' کی دوسری جلد میں '' صحابہ کتاب و سنت کی نظر میں'' کے تحت عنوان ثابت کیا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے اور یہ دعوی بھی صحیح نہیں ہے کہ ایک صحابی دوسرے صحابی سے ہی نقل کرتاہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ ایک صحابی کسی غیر صحابی سے بھی روایت نقل کرے ، جس طرح کہ ابوہریرہ نے کعب الاحبار سے نقل کیا ہے(۱)

بہر حال اگر ان تمام چیزوں سے چشم پوشی کر بھی لیں تو پھر بھی درج ذیل نکات قابل غور ہیں:

پہلانکتہ: روایت صریحاً کہتی ہے کہ ابن دغنہ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ کا حلیف تھا اس صورت میں اس نے حضرت ابوبکر کو قریش کی مخالفت میں پناہ دی جبکہ کوئی حلیف اس قسم کی پناہ نہیں دیتا جیساکہ ان لوگوںکے بقول اخنس بن شریق نے ایسا کرنے سے انکار کیا تھا جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مکہ میں داخل ہونے کیلئے اس سے پناہ مانگی تھی_(۲)

دوسرانکتہ: ابن دغنہ کی امان کو رد کرنے کے بعد قریش نے حضرت ابوبکر کو اذیت کیوں نہیں دی یا مکہ سے کیوں نہیں نکالا _اگر کوئی یہ کہے کہ اس کے قبیلے والوں کی حمایت کے سبب ایسا نہیں ہوسکا تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ حمایت پہلے کیوں نہیں ہوئی اور اگر حضرت ابوبکر سے تعرض نہ کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ ابن دغنہ نے قریش کو ہجرت ابوبکر کی تعریف کر کے رام کرلیا تھا ، تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قبل ہی تعریف

___________________

۱_ ملاحظہ ہو : شیخ محمود ابوریہ کی کتاب شیخ المضیرہ، سید شرف الدین کی کتاب ابوہریرہ اور ملاحظہ ہو کعب الاحبار کا تعارف سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۴۹۰ و غیرہ میں_

۲_ اعلام الوری ص ۵۵، البحار ج ۱۹ص ۷از قمی، سیرة ابن ہشام ج ۲ص ۲۰، البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۳۷، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۶۰، السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۴۲اور بہجة المحافل ج ۱ ص۱۲۶ _

۸۱

کے ذریعہ ایسا کیوں نہ ہوا؟ تاکہ حضرت ابوبکر کو پناہ ڈھونڈنے کی ضرورت بھی پیش نہ آتی_

تیسرانکتہ: اسکافی نے اس واقعے کے دعویدار جاحظ کے دعوی کو یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ بنی جمح عثمان بن مظعون کو کیسے ستا سکتے تھے؟ حالانکہ وہ ان کے ہاں صاحب سطوت وجلالت تھے_ اور ابوبکر کو کیسے آزاد چھوڑ سکتے تھے تاکہ وہ مسجد بنائے اور اس میں وہ امور انجام دے جن کاتم لوگوں نے ذکر کیا ہے، جبکہ خود تم ہی لوگوں نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہم نے اس وقت تک اعلانیہ نماز نہیں پڑھی جب تک حضرت عمرنے اسلام قبول نہ کیا اور یہ جو تعمیر مسجد کی بات کرتے ہو وہ حضرت عمر کے مسلمان ہونے سے پہلے کی ہے_

رہا حضرت ابوبکر کی خوش الحانی اور خوبروئی کے بارے میں تمہارا بیان تو یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ واقدی اور دوسروں نے روایت کی ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک عرب کو دیکھا جس کی داڑھی کم تھی اس کا چہرہ پچکا ہوا تھا آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں پشت کا کبڑا تھااور اپنی تہبند سنبھال نہیں سکتا تھا اسے دیکھ کر حضرت عائشہ نے کہا میں نے اس شخص سے زیادہ حضرت ابوبکر کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا _میرے خیال میں یہاں حضرت عائشہ نے حضرت ابوبکر کی کوئی اچھی صفت بیان نہیں کی_(۱)

اسکافی کے بیان کی تصدیق مقدسی کی اس بات سے ہوتی ہے، وہ کہتا ہے کہ انہیں چہرے کی وجاہت کے باعث عتیق کہتے تھے_ اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ اس کی رنگت سفید تھی، لب سرخ تھے بدن کمزور تھاداڑھی ہلکی تھی چہرے کی ہڈیاں ابھری ہوئی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی پیشانی اور ہاتھ کی رگیں ابھری ہوئی اور کمر جھکی ہوئی تھی اپنا تہبند نہیں سنبھال سکتے تھے اور اسے ڈھیلا چھوڑتے تھے جبکہ وہ مالدار لوگوں میں سے تھے حضرت ابوبکر کے بارے میں اسی قسم کی باتیں اور لوگوں نے بھی نقل کی ہیں_(۲) اور یہ بات تو ان کے اس قول کے علاوہ ہے کہ ابوبکر کو عتیق کا لقب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس فرمان '' ہذا عتیق من النار'' ( یہ جہنم سے

___________________

۱_ شرح نہج البلاغہ (معتزلی) ج ۱۳ص ۲۶۸از اسکافی_

۲_ البدء و التاریخ ج ۵ص ۷۶،۷۷، تاریخ الخمیس ج ۲ص ۱۹۹اور تاریخ طبری ج ۲ص ۶۱۵

۸۲

آزاد شدہ ہے) کی وجہ سے ملا _ جبکہ اس سے پہلے ان کا نام عبداللہ بن عثمان تھا(۱) اور یہ بات خوبصورتی کی وجہ سے عتیق کہلانے والی بات کی منافی ہے_

چوتھانکتہ: روایت نے صریحا کہا ہے کہ حضرت ابوبکر نے بنی جمح میں ایک مسجد تیار کی لیکن انہی روایت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ اسلام کی سب سے پہلی مسجد، مسجد قبا ہے_(۲) وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عمار نے اسلام کی سب سے پہلی مسجد بنائی_(۳)

بعض لوگوں نے اس کا جواب یوں دینے کی کوشش کی ہے کہ قبا مدینے میں بننے والی پہلی مسجدہے اور عمار نے سب سے پہلے ایک عام مسجد بنائی(۴) لیکن جواب دینے والا یہ بھول گیا کہ مذکورہ قول ( مسجد قبا کے اسلام کی پہلی مسجد ہونے) سے پہلی بات (حضرت ابوبکر کے نبی جمع میں مسجد بنانے )کی نفی ہوتی ہے اور اس قول سے کہ سب سے پہلی مسجد عمار نے بنائی دوسری بات (مسجد قبا کے اسلام کی پہلی مسجد ہونے) کی نفی ہوتی ہے جیساکہ وہاں صریحا کہا گیا ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنے گھر میں ایک مسجد بنائی جس میں وہ عبادت کیا کرتے تھے_(۵)

پانچواں نکتہ: حضرت ابوبکر کو بنی جمح میں مسجد بنانے کی کھلی چھٹی کیسے ملی؟ بنی جمح والوں نے اس خطرے پر اعتراض کیوں نہیں کیا؟ تیمیوںنے حضرت ابوبکر کی ان عظیم خصوصیات کا کیونکر ادراک نہ کیا اور انہیں (ان کے بقول) ابن دغنہ نے سمجھ لیا تھا؟ کیا صرف ابن دغنہ نے ان صفات کا ادراک کیا؟ نیز قریش نے حضرت ابوبکر کی ان صفات کا لحاظ کیوں نہیں کیا جن کا انہوں نے بعد میں اعتراف کیا اور کیوں حضرت ابوبکر کو نکل جانے دیا؟ بلکہ ان کو اذیتیں ہی کیوں دیں_

___________________

۱_ کشف الاستار عن مسند البزار ج ۳ ص ۱۶۳ در مجمع الزوائد ج ۹ ص ۴۰_

۲_ وفاء الوفاء ج ۱ص ۲۵۰اورالسیرة الحلبیة ج ۲ص ۵۵ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۲ص ۵۵، طبقات ابن سعد ج ۳ص ۱۷۸،۱۷۹، تاریخ ابن کثیر ج ۷ص ۳۱۱اور الغدیر ج ۹ص ۲۰ _

۴_ سیرة الحلبیہ ج ۲ص ۵۵، وفاء الوفاء ج ۱ص ۲۵۰ _

۵_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۷۸اور البدایة و النہایة ج ۷ص ۳۱۱ اور ملاحظہ ہو سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۵۵ کیونکہ اس میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ یہ مسجد، بنانے والے کے ساتھ مخصوص تھی_

۸۳

عثمان بن مظعون کی فضیلت کی چوری

ہمیں ظن قوی حاصل ہے کہ بعض لوگوں نے عثمان بن مظعون کی فضیلت کو حضرت ابوبکر کیلئے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ مورخین کے بقول جب عثمان بن مظعون ہجرت حبشہ کے دوماہ بعد وہاں سے لوٹنے والوں کے ساتھ لوٹے تو خلاف توقع یہ مشاہدہ کیا کہ مشرکین اوررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا مسئلہ جوں کاتوں ہے تو وہ ولیدبن مغیرہ کی امان میں داخل مکہ ہوئے_

لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کو مصائب وتکالیف میں مبتلا دیکھاجبکہ خود انہیں امان حاصل تھی تو یہ بات ان پر شاق گزری _بنابریں وہ ولید کے پاس گئے اور اس کی امان میں رہنے سے انکار کردیا_ ولید نے کہا:''اے بھتیجے کیا تجھے میری قوم کے کسی فردنے ستایا ہے؟ ''بولے:'' نہیں بلکہ میں ترجیح دیتا ہوں کہ خدا کی پناہ میں رہوں اور اس کے سوا کسی سے پناہ نہ مانگوں ''_ولیدنے کہا پس مسجدجاؤ اور میری پناہ سے نکلنے کا اعلانیہ اظہار کرو جس طرح میں نے تجھے اعلانیہ پناہ دی ہے''_چنانچہ وہ اس کے ساتھ مسجد گئے اور مسجد میں اس کی امان سے نکل جانے کا اعلان کیا_(۱)

قریش کی مایوسانہ کوشش

جب قریش ہجرت حبشہ کے سبب لگنے والے اچانک دھچکے سے کچھ سنبھل گئے اور دیکھا کہ مسلمان حبشہ میں بس گئے ہیں اور وہاں امن و سکون سے زندگی گزار رہے ہیں،(۲) تو انہوں نے سازش کی اور یہ فیصلہ کیا کہ دو آدمی مہاجرین کو لوٹانے کیلئے روانہ کئے جائیں _اس سلسلے میں ان کی نظر انتخاب عمرو بن عاص پرپڑی اور بقولے عمارہ بن ولیدبھی منتخب ہوا _چنانچہ قریش نے ان دونوں کو نجاشی اور اس کے سرداروں کیلئے تحائف کے ساتھ حبشہ بھیجا (راستے میں عمارہ اور عمرو کے درمیان ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جو عمرو بن عاص کی بیوی

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۲اس واقعے کا ذکر تاریخ کی متعدد بنیادی کتابوں میں ہوا ہے بنابرین تعداد کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے_

۲_ سیرت مغلطای ص ۲۲ _

۸۴

اور عمارہ کے درمیان عاشقی سے مربوط ہے عمرو نے مناسب موقع پر عمارہ کو پھنسانے کیلئے وقتی طور پر چشم پوشی کرلی) ان دونوں نے نجاشی کے پاس یہ دعوی کیا کہ ہمارے کچھ سر پھرے جوانوں نے تمہاری سرزمین میں پناہ لی ہے انہوں نے اپنے آبائی دین کو خیر باد کہہ دیا ہے اور تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں _وہ ایک جدید اور خودساختہ دین کے پیرو بن گئے ہیں جو تمہارے دین کے مطابق ہے نہ ہمارے_ ہمیں ان کی قوم کے بزرگوں نے (جن میں ان کے باپ، چچے اور اہل قبیلہ شامل ہیں) تمہاری خدمت میں بھیجا ہے تاکہ تم ان لوگوں کو واپس بھیج دو_

نجاشی نے عمرو اور عمارہ کے مدعا کے بارے میں تحقیق کرنے سے پہلے مسلمانوں کو ان کے حوالے کرنے سے انکار کردیا _چنانچہ مسلمان حاضر کئے گئے اور نجاشی نے ان سے سوالات کئے_ اس کے جواب میں جناب جعفر بن ابوطالبعليه‌السلام نے فرمایا:''اے بادشاہ ہم جاہل اور بت پرست تھے، مردار کھاتے تھے، بدکاریوں میں مشغول رہتے تھے، قطع رحم کرتے تھے، ہمسایوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، اور کمزوروں کے حقوق کو پامال کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے ہم میں سے ایک شخص کورسول بناکر بھیجا _ہم اس کے نسب، اس کی صداقت، امانت اور پاکدامنی سے خوب آگاہ ہیں_اس نے ہمیں خدا کی طرف بلایا تاکہ ہم اس کی وحدانیت کا اقرار کریں، اس کی عبادت کریں، اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور جن پتھروں اور بتوں کی پوجا ہم اور ہمارے آباء واجداد کرتے تھے انہیں ترک کریں_

اس نے ہمیں سچ بولنے، امانت کو ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے، ہمسائے کے ساتھ نیکی کرنے اور حرام چیزوں اور خونریزی سے اجتناب کرنے کا حکم دیا _اس نے ہمیں بدکاری کرنے، جھوٹ بولنے ، یتیموں کا مال کھانے اور پاکدامن عورتوں پر ناروا الزام لگانے سے منع کیا اور حکم دیاکہ ہم خدائے واحد کی عبادت کریں، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور نماز، زکواة اور روزہ کا بھی حکم دیا ''_(۱)

___________________

۱_ مختلف منابع میں زکوة اور روزے کا ذکر ہوا ہے_ رجوع کریں سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۰ و السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ ص ۲۱، الکامل ابن کثیر ج ۲ص ۸۰ (اس نے زکوة کا ذکر نہیں کیا)، نیز اعلام الوری ص ۴۴ (روزہ کے ذکر کے بغیر)، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۹۰، السیرة الحلبیة ج۱ ص ۳۴۰ (بقیہ مآخذ کا ذکر نماز اور زکوة کے مدینے میں واجب ہونے کی بحث کے دوران ہوگا_ غزوہ بدر کے ذکر سے پہلے)_

۸۵

اس کے بعد حضرت جعفرعليه‌السلام نے نجاشی کے دربار میں سورہ کہف کی بعض آیات کی تلاوت کی جنہیں سن کر نجاشی روپڑا یہاں تک کہ اس کی داڑھی بھیگ گئی _نیز وہاں موجود پادری بھی روئے ،اس کے بعد نجاشی نے کہا:'' بے شکیہ کلام اور وہ کلام جوعیسیعليه‌السلام لے آئے دونوں ایک ہی نورانی سرچشمہ سے پھوٹے ہیں_ تم دونوں چلے جاؤ خدا کی قسم میں انہیں تمہارے حوالے نہیں کروں گا''_

دوسرے دن عمرو نجاشی کے پاس یہ بتانے گیا کہ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق عیسیعليه‌السلام بن مریم انسان ہیں_ نجاشی نے مسلمانوں کو بلاکر پوچھا تو حضرت جعفرعليه‌السلام نے اس سے کہا: '' ہم عیسیعليه‌السلام کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کہا ہے ،وہ بندہ خدا ہیں اس کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، اس کی روح اور اس کا وہ کلمہ ہیں جسے خدانے پاکدامن مریم کو عطاکیا''_ یہ سن کر نجاشی نے کہا خدا کی قسم عیسیعليه‌السلام کا مقام اس سے زیادہ نہ تھا جو تم نے بیان کیا بادشاہ کی بات کو درباریوں اور امراء نے نا پسند کیا،لیکن نجاشی نے کہا :''اگرچہ یہ بات تم لوگوں کو پسند نہ آئے''_ پھر (مسلمانوں سے) کہا :'' جاؤ تمہیں امان حاصل ہے جس نے تمہاری برائی بیان کی وہ خسارے میں رہا''_ یہ بات اس نے تین بار دہرائی پھر بولا :''میں سونے کے ایک پہاڑ کے بدلے بھی تم میں سے کسی ایک کو ستانا قبول نہیں کروں گا''_ اس کے بعد نجاشی نے قریش کے تحائف واپس کردیئے_

نوٹ: کچھ لوگ اس روایت کے جعلی ہونے کا احتمال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں روزے کا ذکرہے حالانکہ روزہ مدینہ میں واجب ہوا_(۱)

لیکن یہ احتمال باطل ہے کیونکہ روزہ، اور زکواة وغیرہ کا حکم مکہ میں ہی نازل ہوا انشاء اللہ ہجرت کے بعد کے واقعات میں اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے اور ثابت کریں گے کہ مذکورہ نظریہ (کہ روزہ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا) باطل ہے لہذا فی الحال اس مسئلے پر بحث نہیں چھیڑتے کیونکہ مورخین اس کا تذکرہ وہاں کرتے ہیں_

___________________

۱_ فجر الاسلام( احمد امین) ص ۷۶_

۸۶

محقق محترم روحانی صاحب کانظریہ ہے کہ احمد امین اور اس کے ہم خیال افراد کی بے بنیاد تحقیقات کا اصلی مقصداس پہلو کو مشکوک کرنا ہے جس سے حضرت جعفرعليه‌السلام کی مردانگی، جرا ت، حکمت، عقل اور ہوش کا اظہار ہوتا ہے_

اس قسم کی نا انصافی حضرت جعفرعليه‌السلام کے بارے میں دوسرے مقام پر بھی ہوئی ہے یعنی جنگ موتہ میں سپہ سالار ہونے کے بارے میں _کچھ لوگوں کو اس بات سے نہایت دلچسپی ہے کہ حضرت جعفر کی بجائے زید بن حارثہ کو لشکر اسلام کا پہلا سپہ سالار ثابت کرسکیں_

وجہ صرف یہ ہے کہ حضرت جعفرعليه‌السلام حضرت علیعليه‌السلام کے بھائی ہیں، اس سلسلے میں ہماری کتاب ''دراسات وبحوث فی التاریخ والاسلام''کی جلداول میں اس مقالے کی طرف رجوع کریں جس کا موضوع ہے جنگ موتہ کا پہلا سپہ سالار کون تھا؟_

قریش اور مستقبل کے منصوبے

حقیقت یہ ہے کہ ہجرت حبشہ قریش کیلئے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی جس نے ان کے اوسان خطا کردیئے اور ان کے وجود کو ہلاکر رکھ دیا_ لہذا انہوں نے خطرات کی روک تھام کیلئے کوششیں کیں، چنانچہ قریش نے مسلمانوں کا پیچھا کیا تاکہ انہیں حبشہ سے لوٹاکر اپنے زیر تسلط رکھیں، لیکن پانی سر سے گزرچکا تھا_ جب قریش نے محسوس کیا کہ حالات ان کے قابوسے باہر ہو رہے ہیں تو ان کواپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوئی_ اس کی وجوہات درج ذیل تھیں:

۱) انہوں نے دیکھا کہ مختلف قبائل میں موجود مسلمانوں کو سزائیں دینے کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا بلکہ اس سے الٹا اندرونی اختلافات اور خانہ جنگی کو ہوا لگنے کا احتمال ہے_

یہ بات قریش کی شہرت وعزت کیلئے سخت خطرناک تھی_ نیز ہر قبیلہ اس بات پر بھی راضی نہ تھا کہ وہ اپنے اندر موجود مسلمانوں کاصفایا کرے کیونکہ وہ قبائلی طرزفکر رکھتے تھے اور اس کے مطابق فیصلے کرتے چلے

۸۷

آرہے تھے،یہاں تک کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپ کے مشن کی مخالفت پر اتفاق کے باوجود بھی قبائلی طرزفکر مذکورہ امرکی راہ میں رکاوٹ بنا رہا_ اس قبائلی طرز تفکر کی یہی مثال کافی ہے کہ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر قبیلے کے مسلمانوں کو وہی قبیلہ سزادے گا ،کوئی دوسرا قبیلہ مداخلت نہیں کرے گا_

۲) قریش دیکھ رہے تھے کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعوت ایک عالم گیر پیغام بن کر اُبھر رہی ہے جو مکہ وحجاز کے لوگوں سے مختص نہیں اور مسلمانوں کی حبشہ کی طرف ہجرت فقط سزاؤں سے فرار کرنے کی غرض سے نہ تھی کیونکہ ہجرت کرنے والوں میں بہت سے افراد ایسے تھے جن کو اذیتیں نہیں دی گئی تھیں اور ایک خاص بات یہ تھی کہ مہاجرین مکہ کے مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے_اس لئے وہ خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے حاصل ہونے والے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھے کیونکہ ہر ایک کے لئے واضح ہوگیا تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کا مرجانا اسلام کے خاتمہ کی نشانی نہیں ہے_

۳) قریش یہ بھی مشاہدہ کررہے تھے کہ مسلمانوں کے اس طرح ہجرت کرنے اور انکے تسلط سے خارج ہونے کے نتیجے میں ان کو مستقبل قریب میں ایک ہمہ گیر مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اوران کے مفادات کو سخت خطرہ لاحق ہوگا_ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوذر نے تن تنہا قریش کا ناطقہ بندکردیا تھا جب وہ عسفان نامی مقام پر قافلوں کی گزرگاہ پر بیٹھے رہتے اور وہاں سے گزرنے والے کاروانوں کوروکے رکھتے (اور سمجھاتے تھے) یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رسول اللہ نہ کہہ دیتے_ حضرت ابوذر جنگ احد کے بعد تک اسی روش پر قائم رہے جب حضرت ابوذر نے قریش کے ساتھ اس قدر سختی کی جبکہ وہ جانتے تھے کہ قریش کیلئے ان سے نپٹنا آسان تر تھا کیونکہ وہ قریش کی سرزمین کے اندر موجود تھے _نیز حضرت ابوذر کی جلد گرفتاری اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی بھی آسان تھی اسلئے کہ وہ قریش کے دوستوں اور تابعداروں کے درمیان موجود تھے_ علاوہ برایں حضرت ابوذر ان لوگوں کی نظر میں ایک اجنبی اور انتہا پسند شخص تھے _خلاصہ یہ کہ جب ایک حضرت ابوذر کے سامنے ان کی یہ حالت تھی تو پھر ان مسلمانوں کا (جن کا تعلق خود قریش سے تھا) ان کے تسلط اور اثر ونفوذ سے دور حبشہ میں امن وسکون کے ساتھ رہنا قریش اور ان کے مفادات کیلئے

۸۸

نہایت خطرناک تھا_ یہ حقیقت قریش کو صبر وحوصلے اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کرتی تھی، خصوصاً ان حالات میں جبکہ شیخ الابطح حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی حمایت اور ابولہب ملعون کے علاوہ دیگر ہاشمیوں کی حمایت کی بنا پر وہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاخاتمہ کرنے یا ان کو خاموش کرنے کی تدبیر نہ کرپاتے تھے_

لہذا انہوں نے نجاشی کے پاس اپنے دو نمائندے بھیجے تاکہ وہ مہاجرین کو واپس بھیج دے لیکن انہیں ناکامی اور سیہ روئی کے ساتھ واپس ہونا پڑا _اس کے بعد قریش نے باقی ماندہ مسلمانوں پر نئے سرے سے مظالم ڈھانے کا سلسلہ شروع کیا_انہوں نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ستانے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذاق اڑانے کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ساحر ومجنون اور کاہن ہونے کی تہمت لگائی نیز مختلف قسم کے نفسیاتی حربوں سے کام لینے لگے_

نجاشی کے خلاف بغاوت

حبشہ میں مسلمانوں کی موجودگی نجاشی کیلئے کئی ایک مشکلات کا سبب بنی، کیونکہ اہل حبشہ نے اس پریہ الزام لگایا کہ وہ ان کے دین سے خارج ہوگیا ہے_ یوں اس کے خلاف بغاوت ہوئی لیکن نجاشی اپنی فہم وفراست کے باعث بغاوت کی آگ بجھانے میں کامیاب رہا اور مسلمان اس کے پاس نہایت امن وسکون کی زندگی گزارتے رہے ،یہاں تک کہ وہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہجرت مدینہ کے بعد مدینہ چلے گئے (جس کا آگے چل کر تذکرہ ہوگا)_

محمد بن اسحاق نے امام جعفر صادقعليه‌السلام سے اور انہوں نے اپنے والد گرامیعليه‌السلام سے نقل کیا ہے کہ حبشہ والوں نے مل کر نجاشی سے کہا کہ تم ہمارے دین سے نکل گئے ہو اس طرح انہوں نے اس کے خلاف بغاوت کی_ نجاشی نے حضرت جعفر اور دیگر مہاجرین کیلئے کشتیوں کا بندوبست کیا اور کہا :'' ان میں سوار ہوجاؤ اور بدستور یہیں رہو اگر مجھے شکست ہوئی تو جہاں چاہو چلے جاؤ لیکن اگر مجھے کامیابی ہوئی تو یہیں رہو'' اس کے بعد وہ باغیوں کے پاس گیا اور ان سے بحث کی ،نتیجتاً وہ متفرق ہوکر چلے گئے_(۱)

___________________

۱_ سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۵و البدایة و النہایة ج۳ص ۷۷و سیرت حلبی ج ۲ص ۲۰۲_

۸۹

یہ واقعہ قریش کی طرف سے عمرو اور عمارہ کو حبشہ بھیجنے سے پہلے کا ہے کیونکہ نجاشی نے ان دونوں سے کہا تھا، خداکی قسم اس (اللہ ) نے مجھے حکومت واپس کردی لیکن مجھ سے اس کے بدلے کچھ نہیں لیا_ اس نے میرے بارے میں لوگوں کی بات نہیں مانی پس میں اس کے بارے میں لوگوں کی بات کیونکرمانوں؟ ان کے تحائف واپس کردو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں اور تم دونوں میری سرزمین سے نکل جاؤ پس وہ دونوں بے آبرو اور ناکام ہوکر واپس لوٹے_(۱)

بعض مہاجرین کی واپسی

حبشہ میں مسلمانوں کو خبر ملی کہ مکہ میں وقتی طورپر صلح ہوگئی ہے _ادھر مسلمانوں نے یہ بھی دیکھاکہ ان کے باعث نجاشی کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے_ چنانچہ بعض مسلمانوں نے دو یا تین ماہ بعد مکہ واپسی کی ٹھانی اورتیس سے زیادہ افراد واپس ہوئے جنمیں سے عثمان بن مظعون کو ولید بن مغیرہ نے پناہ دی _ حضرت عثمان کی طرف سے ولید کی پناہ سے نکل جانے اور امان الہی پر اکتفا کرنے کا واقعہ گزرچکا ہے_

حبشہ سے بعض مسلمانوں کی واپسی کی وجہ صرف یہی تھی نہ افسانہ غرانیق جسے اسلام دشمنوں نے گھڑا ہے اورہم اس پر بحث کرنے والے ہیں_

غرانیق کا افسانہ(۲)

اس خودساختہ کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے دوماہ بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے مشرکین کے ساتھ ایک نشست رکھی_ اتنے میں خداکی طرف سے سورہ نجم نازل ہوئی ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی تلاوت شروع کی یہاں

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۵از ابن اسحاق اور سیرت ابن ہشام ج ۱ص ۳۶۲ _

۲_ غرانیق غرنوق کی جمع ہے یعنی آبی پرندے چونکہ پرندے بہت بلندی پر پرواز کرتے ہیں اسلئے بتوں کو ان سے تشبیہہ دی گئی ہے تاکہ بتوں کی عظمت ظاہر ہو نیز غرنوق سفید اور خوبصورت جوانوں کو بھی کہتے ہیں_

۹۰

تک کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس آیت پر پہنچے( افرا یتم اللات والعزی ومناة الثالثة الاخری ) تو شیطان نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دل میں دوباتیں ڈالیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان دونوں باتوں کو وحی الہی سمجھتے ہوئے زبان پر جاری کردیا_وہ دو جملے یہ ہیں( تلک الغرانیق العلی وان شفاعتهن لترتجی ) یعنی یہ بلند مرتبہ غرانیق ہیں جن کی شفاعت مقبول ہے_ اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بقیہ آیات پڑھیں جب سجدے والی آیت پر پہنچے توآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سجدہ کیا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ مسلمانوں اور مشرکین نے بھی سجدہ کیا لیکن ولیدبن مغیرہ نے بڑھاپے یا بقولے تکبر کی بناء پر سجدہ نہ کیا_ اس نے کچھ مٹی اٹھاکر اپنی پیشانی کے قریب کی اور اس پر سجدہ کیا_ ایک قول کی بنا پر یہ شخص سعید بن عاص تھا نیز کہا گیا ہے کہ وہ دونوں تھے،ایک اور قول کی رو سے وہ شخص امیہ بن خلف تھا ،ابولہب اور مطلّب کے بارے میں بھی اقوال موجود ہیں_

بخاری نے مسلمانوں کے ساتھ جنوں اور انسانوں کے سجدے کا بھی ذکر کیا ہے_جب یہ خبر مکہ میں پھیلی تو مشرکین نے خوشی منائی یہاں تک کہ بقولے انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوکاندھوں پر اٹھاکر پورے مکے کا چکرلگایا_

جب رات ہوئی تو حضرت جبریل آئے حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مذکورہ سورہ دہرایا اوران دوجملوں کو بھی پڑھا حضرت جبریل نے ان کی نفی کی اور کہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خداسے وہ چیز منسوب کی ہے جو اس نے نہیں فرمائی اس وقت خدانے یہ آیت نازل کی( وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره واذا لاتخذوک خلیلا ولولا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شیئا قلیلا اذا لاذقناک ضعف الحیاة وضعف الممات ثم لا تجد لک علینا نصیرا ) یعنی یہ لوگ کوشاں تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہماری وحی سے ہٹاکر دوسری باتوں کے افتراء پر آمادہ کریں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوستی گھڑلیتے اگر ہماری توفیق خاص نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ضرور ہوتے پھر ہم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دنیا کی زندگی اور موت دونوں مرحلوں پر دوھرا مزا چکھاتے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگارنہ پاتے_

اس افسانے کی صحت پر درج ذیل آیت سے استدلال کیا گیا ہے (اور دعوی کیا گیا ہے کہ آیت اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہے)_

۹۱

ارشاد رب العزت ہے:

( وما ارسلنا من قبلک من رسول و لا نبيّ الا اذا تمنی القی الشیطان فی امنیته فینسخ الله مایلقی الشیطان ثم یحکم الله آیاته والله علیم حکیم لیجعل مایلقی الشیطان فتنة للذین فی قلوبهم مرض ) یعنی اور ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے کوئی رسول یا نبی نہیں بھیجا مگر یہ کہ جب بھی اس نے کوئی نیک آرزو کی تو شیطان نے اس کی آرزؤوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی لیکن خدانے شیطان کی ڈالی ہوئی رکاوٹوں کو دور کردیا اور اپنی آیات کو مستحکم بنادیا ،وہ نہایت جاننے والا اور صاحب حکمت ہے تاکہ وہ شیطانی القاء کو امتحان قراردے ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے_

بعض حضرات کے نزدیک اس واقعے کی بعض اسانید درست ہیں_(۱)

کہتے ہیں کہ جب حبشہ میں مسلمان مہاجرین نے یہ سنا کہ مکہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان موافقت اور صلح ہوگئی ہے تو ان میں سے کچھ لوگ واپس مکہ آگئے لیکن دیکھا کہ صورت حال برعکسہے _ لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہ روایت جھوٹی اور جعلی ہے بہت سے علماء اس نظریئے میں ہمارے ہم خیال ہیں_

جب محمد بن اسحاق سے اس بارے میں سوال ہوا تو اس نے جواب دیا اس کو زندیقوں نے گھڑا ہے_ موصوف نے اس کی رد میں ایک الگ کتاب بھی لکھی ہے_(۲)

قاضی عبدالجبار نے اس روایت کے متعلق کہا ہے کہ یہ بے بنیاد ہے ،اس قسم کی احادیث ملحدین کی سازش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوسکتیں_(۳)

___________________

۱_ رجوع کریں: الدر المنثور ج ۴ص ۱۹۴، ص ۳۶۶اور ص ۳۶۸، السیرة الحلبیة ج۱ص ۳۲۵اور ۳۲۶، تفسیر طبری ج ۱۷ص ۱۳۱اور ۱۳۴، فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳اور بخاری نے بھی اصل واقعے کی طرف ایک سے زیادہ بار اشارہ کیا ہے نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۰میں بھی مذکور ہے_ سیوطی نے در منثور میں بعض اسانید کی صحت کی تصریح کی ہے_ رجوع کریں لباب النقول اور تفسیر طبری_ مختلف تفاسیر میں بھی یہ واقعہ موجود ہے (مذکورہ آیت کی تفسیر کے ضمن میں) بنابریں مآخذ کی تعداد بیان کرنے کی ضرورت نہیں_

۲_ رجوع کریں البحر المحیط ( ابی حیان) ج ۶ص ۳۸۱ _

۳_ تنزیہ القرآن عن المطاعن ص ۲۴۳ _

۹۲

ابوحیان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی کتاب کو اس قصے کے ذکر سے پاک رکھا ہے_(۱)

بیضاوی نے اس کی اسناد پر اعتراض کرتے ہوئے اسے رد کیا ہے نیز بیہقی، نووی، رازی، نسفی، ابن عربی اور سید مرتضی کا بھی یہی نظریہ ہے_ تفسیر خازن میں لکھا ہے صاحبان علم نے اس واقعے کوبے بنیاد قرار دیا ہے_(۲)

عیاض کہتے ہیں کہ معتبراحادیث نقل کرنے والوں نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی ثقہ نے اسے درست اور مدلل سندکے ساتھ نقل کیا ہے _ اس قسم کی روایات سے دلچسپی ان مفسرین اور مورخین کو ہے جو ہر قسم کی ضعیف روایت سے بھی شغف رکھتے ہیں اور کتابوں سے ہر صحیح وسقیم روایت کو نقل کرتے ہیں_

قاضی بکربن علاء مالکی نے سچ کہا ہے کہ لوگ بعض ہوا پرست مفسروںکے ہاتھوں پھنس گئے اور ملحدین بھی اسی سے چمٹ گئے حالانکہ اس حدیث کے راوی ضعیف اور اس کی اسناد مبہم و منقطع ہیں، نیز اس کے کلمات میں بھی تضاد ہے_(۳)

ہم اس بات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ:

۱) سعید بن جبیر کی سند کے علاوہ اس واقعے کی تمام اسناد یا تو ضعیف ہیں یا منقطع ہیں_(۴) سعید کی روایت بھی مرسل ہے اور اکثر محدثین کے نزدیک مرسل کا شمار بھی ضعیف احادیث میں ہی ہوتا ہے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ راوی نے اسے غیر ثقہ افراد سے نقل کیا ہو_(۵)

علاوہ برایں اگر ہم حدیث مرسل سے استدلال کو صحیح قرار دے بھی دیں تو اس کا فائدہ فقط فرعی مسائل میںہوگا اعتقادی امور میں نہیں_ جبکہ یہاں ہماری بحث اعتقادی مسئلے میں ہے جسں میں قطعی دلیل کی

___________________

۱_ تفسیر البحر المحیط ج ۲ص ۳۸۱ _

۲_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۹۱، الہدی الی دین المصطفی ج ۱ص ۱۳۰، الرحلة المدرسیة ص ۳۸، فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ اور تفسیر رازی ج ۲۳ص ۵۰ _

۳_ الشفاء ج ۲ص ۱۲۶، مطبوعہ عثمانیہ اور المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۵۳_

۴_ فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ _

۵_ رجوع کریں مقدمہ ابن صلاح ص ۲۶ _

۹۳

ضرورت ہے_ ان باتوں سے قطع نظر اس قصے کے اسناد کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی اسناد یا کسی تابعی پر ختم ہوتی ہیں یا ایسے صحابی پر جواس واقعہ کے بعد پیدا ہوا ہے اگر ہم اس حدیث کے سلسلے کو متصل بھی قرار دیں تب بھی اس حدیث کو رد کرنے اور اس کے جعلی اور جھوٹی ہونے پر یقین رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ عقل سلیم کے خلاف ہے اوریہ اعتراض قسطلانی، عسقلانی اور ان لوگوں پر وارد ہوتا ہے جنہوں نے اسے صحیح گردانا ہے اور کثرت اسناد کے بہانے اسے معتبر سمجھا ہے_(۱)

۲) مضامین کا اختلاف_ سجدہ نہ کرنے والے کے بارے میں اختلاف کا ذکر تو پہلے گزرچکا ہے یہاں ہم مزید اختلافات اور تضادات کی طرف اشارہ کریں گے; مثلاً کبھی کہا گیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حالت نماز میں مذکورہ جملے ادا کئے اور کبھی کہا گیا ہےکہ قریش کی مجلس میں، نیز اس میں بھی اختلاف ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان الفاظ پر فقط غور کیا یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان پر جاری بھی ہوئے؟ نیز اختلاف ہے کہ شیطان نے ان کو خبردی تھی ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ایسا فرمایا، یا یہ کہ مشرکین نے اسے پڑھا_

علاوہ ازیں کبھی کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پڑھتے وقت اس طرف متوجہ بھی تھے اور کبھی یہ کہ آپ شام تک متوجہ ہی نہیں ہوئے_ کلاعی نے تو یہ کہا ہے کہ حقیقت حال اتنی جلدی منکشف نہ ہوئی بلکہ بات اس وقت واضح ہوئی جب حبشہ میں مسلمانوں کو خبر ملی کہ مکہ میں مسلمانوں کو امان حاصل ہوگئی ہے چنانچہ حبشہ سے مسلمان واپس آگئے پھر شیطان کی طرف سے القاء شدہ جملوں کے منسوخ ہونے کے بارے میں آیت اتری اور جب خدانے اپنا حکم واضح کیا تو مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ سخت کرلیا_(۲) اسلئے کہتے ہیں: دروغگو را حافظہ نباشد_

۳) اس افسانے سے نہ صرف سہو و خطا سے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معصوم ہونے کی نفی ہوتی ہے( خصوصاً تبلیغ کے بارے میں) جس پر امت کا اجماع ہے اور قطعی دلائل قائم ہیں بلکہ اس افسانے سے (نعوذ باللہ ) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارتدادبھی لازم آتا ہے_ خدا ہمیں اس قسم کے گمراہ کن نظریات سے بچائے_

___________________

۱_ فتح الباری ج ۸ص ۳۳۳ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۶اور سیرت مغلطای ص ۲۴از المواہب اللدنیة ج۱ ص ۵۳_

۲_ رجوع کریں: الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۲/۳۵۳_

۹۴

۴)یہ واقعہ اس آیت کے منافی ہے( ان عبادی لیس لک علیهم سلطان ) (۱) یعنی اے شیطان تجھے میرے برگزیدہ بندوں پر تسلط حاصل نہ ہوگا _نیز اس آیت سے بھی متصادم ہے( انه لیس له سلطان علی الذین آمنوا وعلی ربهم یتوکلون ) (۲) یعنی شیطان کو ان پر تسلط حاصل نہ ہوگا جوایمان لے آئے اور جو اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں_ ہاں اگر وہ لوگ یہ فرض کرلیں کہ نعوذ باللہ حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے برگزیدہ بندوں میں شامل نہیں اور نہ ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں میں، تویہ اور بات ہے، اور ایسا کہنا ایمان کے بعد کفر اختیار کرنے کے سوا اور کیاہوسکتا ہے؟ جیساکہ صاف ظاہر ہے_

۵) کلاعی صریحاً کہتا ہے کہ جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سورہ کے آخر تک پہنچے تو مسلمانوں اور مشرکین سب نے سجدہ کیا اور مسلمانوں نے مشرکین کے سجدے پر تعجب کیا کیونکہ مسلمانوں نے اس چیز کو نہیں سنا تھا جسے شیطان نے مشرکین کی زبان پر جاری کیا تھا حالانکہ خود کلاعی چند سطر قبل صریحاًیہ کہتا ہے کہ شیطان نے ان کلمات کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان پر جاری کیا(۳) اس واضح تناقض کے علاوہ یہ سوال پیش آتا ہے کہ مشرکین نے وہ بات کیونکر سنی جو شیطان نے نعوذ باللہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان پر جاری کی تھی جبکہ مسلمانوں نے نہیں سنی؟ حالانکہ وہ بھی ان کے ساتھ تھے پھر تو لازمی طورپر مسلمانوں کی نسبت کافررسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے قریب تر ہوئے ؟ _

۵) ساری مذکورہ آیات ممکن ہی نہیں کہ ان روایات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہوں کیونکہ:

الف:سورہ نجم کی آیات میں خدانے مشرکین کے بتوں (لات، منات، عزی) کے بارے میں کہا ہے( ان هی اسماء سمیتموها انتم وآباء کم ما انزل الله بها من سلطان ان یتبعون الا الظن وما تهوی الانفس ولقد جائهم من ربهم الهدی ) (۴) یعنی یہ نام توصرف تم اور تمہارے آباء نے رکھے ہیں

___________________

۱_ سورہ اسراء آیت ۶۵_

۲_ سورہ نمل آیت ۹۹_

۳_ رجوع کریں: الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۲_

۴_ سورہ نجم آیت ۲۳_

۹۵

خدانے اس کے بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں کی درحقیقت وہ تو بس ظن وگمان اور ہوائے نفس کی پیروی کرتے ہیں جبکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے ہاں ہدایت آچکی ہے_

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کی اس قدر تند لہجے میں مذمت پر کیوں راضی ہوئے اور پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات سے خوش ہوکر سربسجودبھی ہوگئے؟ انہوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کلام میں اس واضح تضاد کوکیوں محسوس نہیں کیا یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور بات یہاں تک آن پہنچی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اٹھاکر پورے مکہ میں یہ کہتے ہوئے چکر لگایا کہ یہ بنی عبد مناف کا نبی ہے_

دوسرا سوال یہ ہے کہ خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس واضح تضاد کو کیوں نہ سمجھ سکے اور رات تک غافل رہے یہاں تک کہ جبریل آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس تضاد سے آگاہ کیا؟ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس دوران (نعوذ باللہ) غائب دماغ رہے تھے یا (نعوذ باللہ ) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ذہن کام نہیں کر رہا تھا؟_

تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ اسی سورہ نجم کی اس آیت سے منافات نہیں رکھتا جس میں قسم اٹھانے کے بعد فرمایا گیا ہے( وما ینطق عن الهوی ان هو الاوحی یوحی ) یعنی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتگو خواہشات کے تابع نہیں بلکہ نازل شدہ وحی ہوتی ہے_ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ اس صورت میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی خواہش کے مطابق بات کریں بلکہ شیطان کی طرف سے القاء شدہ جملوں کو خدا کی طرف سے نازل شدہ آیات کے طور پر دہرائیں؟ جبکہ فرمان الہی ہے:( ولو تقوّل علینا بعض الاقاویل لاخذنا منه بالیمین ثم لقطعنا منه الوتین ) (۱) (اگر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتاتو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑلیتے اور پھر اس کی گردن اڑادیتے) پس خدا نے مذکورہ جملوں کے گھڑنے پرکوئی اقدام کیوں نہیں کیا(۲) اگر یہ آیت سورہ نجم کے بعد اتری ہو تو پھر بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ آیت ایک قاعدہ کلیہ اور قانون بیان کر رہی ہے نہ یہ کہ ایک خارجی واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہو اور بس_

___________________

۱_ سورہ الحاقّہ آیت ۴۴_۴۶_

۲_ یہ اس صورت میں ہے کہ آیت میں تقوّل سے مراد صرف جان بوجھ کر جھوٹ بولنا نہ ہو کیونکہ آیت میں تقول کا لفظ آیا ہے اور تقول کا مطلب ہے کہ جان بوجھ کر کوئی بات گھڑی جائے_

۹۶

ب: رہی آیہ تمنّی تو وہ سورہ حج میںہے جو سب کے نزدیک مدنی ہے _بالخصوص اس میں لوگوں کیلئے اعلان حج ،نیز جنگ وجہاد کا حکم ہوا ہے، مسجد حرام کا راستہ روکنے کا بھی تذکرہ ہوا ہے اور یہ ساری باتیں ہجرت کے بعد کی ہیں _کچھ احکام تو ہجرت کے کئی سال بعد کے بھی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ ابن عباس، قتادہ اور ابن زبیر وغیرہ نے بھی اسے مدنی قرار دیا ہے _

اگر یہ مدنی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غرانیق والے افسانے کے سالہا سال بعد یہ آیت نازل ہوئی کیونکہ غرانیق کا واقعہ بعثت کے پانچویں سال سے منسوب ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تسلی دینے میں سالہا سال تک تاخیر فرمائے؟

علاوہ ازیں آیت کا مفہوم بھی اس واقعے کے ساتھ بالکل ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ تمنّی کا مطلب کسی مرغوب اور پسندیدہ امر کی خواہش ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گرامی فقط اسی چیز کی خواہش کرسکتے ہیں جو ایک رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیثیت سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذمہ داریوں کے مناسب ہو_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جیسے انسانوں کی سب سے بڑی خواہش حق وہدایت کی ترویج اور باطل کی سرکوبی ہوتی ہے_ شیطان اپنی گمراہی کے باعث لوگوں کے دلوں میں ایسے وسوسے ڈالتا ہے جو اس نیک خواہش کو دھندلاکر دکھاتاہے ،یوں جن کے دلوں میں مرض ہو وہ اس آزمائشے میں گرفتار ہو جاتے ہیں جیساکہ شیطان نے امت موسیعليه‌السلام کے دلوں میں وسوسہ ڈالا، لیکن خدا ہدایت کے نور سے شیطانی وسوسوں کو دور کرتا ہے اور عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے حق کو واضح کرتا ہے_

اور اگر ان لوگوں کے بقول تمنا سے مراد تلاوت لی جائے تو تمنی کا یہ معنی بہت نادر، خلاف قاعدہ اور انوکھا ہوگا جو وضع لغوی کے بھی مخالف ہوگااور ظاہر لفظ کے بھی _ آخر کس نے اب تک '' تمنا'' کا معنی '' پڑھنا'' کیا ہے؟ ہمیں تو کوئی شک نہیں کہ اس خیالی واقعہ کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کے لئے اس آیت کی مذکورہ تفسیر گھڑی گئی ہے _ اور اسی طرح حسان بن ثابت سے منقول شعر(۱) بھی اسی مقصد کے لئے گھڑا گیا ہے _

___________________

۱_ تنزیہ الانبیاء کے ص ۱۰۷ میں حسان سے یہ شعر منسوب ہے :

تمنی کتاب الله اوّل لیلة و آخره لاقی حمام المقادر

جبکہ ممکن ہے کہ یہاں تمنی سے مراد محبت اور شوق ہو_

۹۷

اور تاریخ کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں _ اور اگر تمنا کا معنی تلاوت بھی لے لیں تو اس آیت کا مطلب وہی ہوگا جو سید مرتضی نے فرمایاہے_

سید مرتضی فرماتے ہیں کہ اگر مراد تلاوت ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی قوم کیلئے آیات کی تلاوت کی تو قوم نے ان میں تحریف کی اور کمی بیشی کے مرتکب ہوئے_ جس طرح یہودی اپنے نبی پر جھوٹ باندھتے ہوئے اس امر کے مرتکب ہوئے تھے اس صورت میں اسے شیطان کی طرف منسوب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ درحقیقت دلوں میں وسوسہ ڈالنے والا وہی شیطان ہے لیکن خدا اس وسوسے کو اپنی دلیلوں کے ذریعے زائل اور باطل کردیتا ہے_(۱)

ج: سورہ اسرا کی آیات( وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره ) کے بارے میں ان لوگوں کا یہ دعوی کہ یہ آیات غرانیق کے مسئلے میں نازل ہوئیں تو یہ بھی غیرمعقول قول ہے کیو نکہ ان آیا ت کا اس واقعے سے کوئی ربط نہیں بلکہ ان کے درمیان منافات ہے پس ان آیات کا شان نزول مذکورہ واقعہ کیسے ہوسکتا ہے؟

آیات کہتی ہیں کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کی طرف مائل نہیں ہوئے بلکہ اس امر کے قریب بھی نہیں ہوئے اور اللہ نے ان کو ثابت قدم رکھا نیزاگران کی طرف مائل ہوتے تو خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سزادیتا جبکہ غرانیق کاافسانہ کہتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ صرف مائل ہوئے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبول بھی کیا اور (نعوذ باللہ ) خدا پر جھوٹ باندھا اور جو بات خدا کی طرف سے نہ تھی اسے قرآن میں داخل کرلیا_

آیت کا مقصود تو یہ ہے کہ مشرکین نے اس بات پر اصرار کیا کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے انہوں نے حضرت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور حضرت ابوطالب کے ساتھ متعدد مذاکرات بھی کئے _پس بعید نہیںکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کو کچھ مہلت دینے کا سوچاہو تاکہ غور کریں اور باطل کو چھوڑ دیں پس یہ آیت نازل ہوئی تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر واضح کردے کہ ان کو مہلت دینے میں مصلحت نہیں بلکہ مصلحت سختی کرنے میں ہے_

ان تمام دلائل سے قطع نظر وہ کہتے ہیں کہ سورہ اسرا کی مذکورہ آیات بنی ثقیف کے بارے میں اس وقت

___________________

۱_ تنزیہ الانبیاء ص ۱۰۷ ، ۱۰۸_

۹۸

اتریں جب انہوں نے قبول اسلام کیلئے ایسی شرائط پیش کیں جو ان کے مقام کو بلند کریں_ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیات قریش کے بارے میں اتریں جب انہوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو حجر اسود مس کرنے سے روکا_ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئیں جب انہوں نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شام چلے جائیں_(۱) قاضی بیضاوی نے یہی آرا ء بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے_

۶) آخری نکتہ یہ ہے کہ مشرکین نے خدا کا قول (فاسجدوا للہ واعبدوا) سن کر کیونکر سجدہ کیا؟ جبکہ وہ اللہ تعالی کیلئے سجدہ کرنے کے قائل نہیں تھے، چنانچہ ارشاد باری ہے( اذا قیل لهم اسجدو للرحمان قالوا وما الرحمان ا نسجد لما تأمرنا وزادهم نفورا ) جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کیلئے سجدہ کرو تو کہتے ہیں کہ رحمان کیا چیزہے؟ کیا ہم اس چیز کیلئے سجدہ کریں جسکا تو ہمیں حکم دیتا ہے؟ اسطرح انکی نفرت میں مزید اضافہ ہوتا ہے_

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ منظر دیکھ کر کسی مسلمان کا ایمان متزلزل کیوں نہیں ہوا؟ یاوہ دین سے خارج کیوں نہیں ہوا جبکہ وہ دیکھ رہا ہو کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ (نعوذ باللہ ) اصنام کی تعریف کر رہے ہیں اور ان کی شفاعت کو مقبول قرار دے رہے ہیں؟(۲)

مسئلے کی حقیقت

یہاں مسئلے کی حقیقت کچھ یوں معلوم ہوتی ہے (جیساکہ نقل ہوا ہے) کہ جب حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قرآن کی تلاوت کرتے تو کفار فضول اور غلط باتوں کا سلسلہ شروع کردیتے تاکہ کوئی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات سننے نہ پائے سورہ فصّلت کی آیت ۲۶میں ارشاد ہے:( و قال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوا فیه لعلکم تغلبون ) یعنی کفار آپس میں کہتے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور شور مچاؤ شایداس طرح سے غالب آسکو_ پس جب

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرہ حلبی ج۱ص ۳۲۶نیز الدر المنثور و تفسیر خازن اور تفسیر کی دیگر کتب میں بھی مرقوم ہے_

۲_ رجوع ہو حاشیہ الاکتفاء (کلاعی) ج ۱ص ۳۵۳_۳۵۴_

۹۹

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سورہ نجم کی تلاو ت کی اور اس مقام( افرایتم اللات و العزی و مناة ثالثة اخری ) پرپہنچے تومشرکین نے حسب معمول مداخلت کرتے ہوئے کہا( تلک الغرانیق العلی ) _(۱)

ہاں اس کے بعدجب کرایہ کے قصہ پردازوں اور کینہ توزوں کی باری آئی تو انہوں نے اپنے شیطانی مفادات کے پیش نظر اس میں مزید پیوند کاری کرتے ہوئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی عصمت کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایااور قرآن میں موجود ہر چیز میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس حدتک جاہل ثابت کرسکیں کہ گویا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واضح تضادات کو بھی نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ نعوذ باللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شیطان کے آگے بھی بے بس تھے، شیطانی وغیر شیطانی امور میں تمیز نہیں کرپاتے تھے_

لیکن ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ان باتوں کے مقابلے میں یہی لوگ کہتے ہیں کہ شیطان حضرت عمر کی آہٹ سے بھی ڈرتا تھا(۲) نیز یہ کہ جب سے حضرت عمر مسلمان ہوئے ،شیطان کا ان سے جب بھی سامنا ہوتا تھا تو شیطان منہ کے بل گر پڑتا تھا(۳) یا یہ کہ جس وادی سے حضرت عمر گزرتے تھے شیطان وہاں سے کترا کرنکل جاتا تھا(۴) گویا ان لوگوں کی مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر کی طرح نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بھی ایک شیطان تھا جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر اثر انداز ہوتا رہتا تھا_ ان سارے مسائل پر پہلے بحث ہوچکی ہے_

اس کے بعد اسلام دشمن متعصب مستشرقین کی باری آئی انہوں نے ان بے بنیاد باتوں اور افسانوں سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اعتراضات کا نشانہ بنایا_(۵)

___________________

۱_ سیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۸ اور تنزیہ الانبیاء ص ۱۰۷نیز رجوع کریں حاشیہ الاکتفاء (کلاعی) ج۱ص ۳۵۴از سہیلی_ کلبی نے کتاب الاصنام میں نقل کیا ہے کہ قریش یہ جملے اپنے بتوں کی تعریف میں جو کعبہ کے اردگرد رکھے گئے تھے ادا کرتے تھے_

۲_ الریاض النضرہ ج ۲ ص ۱۰۳_

۳_ عمدة القاری ج ۱۶ ص۱۹۶ اور ملاحظہ ہو تاریخ عمر ص ۶۲_

۴_ صحیح مسلم ج ۷ ص ۱۱۵ اور اسی کے قریب قریب واقعہ تاریخ عمر ص ۳۵ نیز ص ۶۲ ، الغدیر ج ۸ ص ۹۴ ، مسند احمد ج ۱ ص ۱۷۱، ص ۱۸۲، ص۱۸۷ صحیح بخاری ج۲ ص ۴۴و ص ۱۸۸ اور عمدة القاری ج ۱۶ ص ۱۹۶_

۵_ رجوع ہو تاریخ الشعوب الاسلامیة ص ۳۴از بروکلمان اور کتاب الاسلام ص ۳۵/۳۶ (الفریڈ ھیوم)_

۱۰۰

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

میں بھی یہی کہا گیا ہے_ علاوہ برایں ان اشعار کو پڑھنے والیوں میں کسی ایسے فرد کے موجود ہونے کا بھی کوئی ثبوت نہیں جس کی آواز کا سننا حرام تھا_

اگر ہم ان کی ساری باتیں تسلیم کرلیں پھر بھی اس بات کا احتمال ہے کہ ان حالات میں ان لوگوں کو منع کرنا یا ان کو حکم شرعی سے آگاہ کرنا ممکن نہ تھا_ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا سکوت کسی مصلحت کے پیش نظر تھا بنابریں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سکوت سے ان کے عمل کی تائید پر استدلال نہیں کیا جاسکتا_

(ج): رہا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا (نعوذ باللہ ) اپنی آستینوں کو نچانا تو یہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان کے منافی ہے جیساکہ فضل بن روزبہان نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے_(۱)

شیخ مظفر کہتے ہیں ''یہ عمل واضح بے وقوفی اور بے حیائی ہے اور ایک رہبر کیلئے بہت بڑا عیب ہے_ نیز ان حالات میں حیا و مروت کے تقاضوں کی زبردست خلاف ورزی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت کے سخت منافی ہے (کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد لوگوں کی ہدایت، ان کو نقائص اور احمقانہ اعمال سے نجات دلانا اور آخرت کی یاد دلانا تھا)''_(۲)

ان سب باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے واضح طور پر ہر قسم کے لہو ولعب، گانے بجانے اور رقص سے منع فرمایا ہے جیساکہ ہم اس کا جلد تذکرہ کریں گے_

مذکورہ باتوں کی روشنی میں ایک اور روایت (جو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے استقبال کے وقت بنی ساعدہ کی عورتوں کے گانے اور دف بجانے سے متعلق ہے) کے ذریعے ان کے استدلال کی کمزوری بھی معلوم ہوجاتی ہے_

یہاں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ غنا اور رقص کے جواز پر ان کے سارے دلائل کو پیش کرنے کے بعد ان پر بحث کی جائے اور پھر اس مسئلے میں قول حق کو بعض دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے_

___________________

۱_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _

۲_ رجوع کریں دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳_۳۹۰(ترتیب کے ساتھ) _

۳۸۱

حلّیت غنا کے دلائل

گانے بجانے اور رقص کرنے کی حلیت پر مذکورہ باتوں کے علاوہ درج ذیل امور سے استدلال کیا گیا ہے:

۱_حلبی نے ابوبشیر سے نقل کیا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اور حضرت ابوبکر حبشیوں کے پاس سے گزرے جبکہ کھیل اور رقص میں مصروف تھے اور کہہ رہے تھے: ''یا ایہا الضیف المعرج طارقاً'' (اے رات کے وقت آنے والے مہمان)_

(حلبی) کہتا ہے: ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہیں منع نہیں کیا اور ہمارے فقہاء نے رقص کے جواز پر اسی سے استدلال کیا ہے جو اشکال سے خالی ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے سامنے دف کے ساتھ یا اس کے بغیر خوبصورت آوازوں کے ساتھ اشعار گائے جانے کے بارے میں صحیح اور متواتر اخبار موجود ہیں_ انہی روایات کی رو سے ہمارے فقیہوں نے دف بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے اگرچہ گھونگھرؤوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہوں''_(۱)

۲_ برید ہ سے مروی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کسی جنگ کیلئے شہر سے خارج ہوئے_ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واپس تشریف لائے تو سیاہ رنگ کی ایک لونڈی آئی اور بولی:'' میں نے نذرکی ہے کہ اگر اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو صحیح وسالم واپس لوٹائے تو میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی اور گاؤں گی'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اگر تونے نذر کی تھی تو پھر دف بجاؤ وگرنہ نہیں''_ چنانچہ وہ دف بجانے لگی اس دوران حضرت ابوبکر آئے اس کے بعد حضرت علیعليه‌السلام آئے جبکہ وہ دف بجا رہی تھی پھر حضرت عثمان آئے جبکہ ابھی وہ کنیز دف بجانے میں مشغول تھی اس کے بعد حضرت عمر داخل ہوئے پس اس کنیز نے دف کو اپنے سرین کے نیچے رکھا اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئی_ چنانچہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے وہ گارہی تھی حالانکہ میں بیٹھا ہوا تھا پھر ابوبکر آیا

___________________

۱_ سیرت حلبی ج۲ ص۶۲_

۳۸۲

جبکہ وہ بدستور گاتی رہی تھی ...''_(۱)

۳_حضرت جابر سے منقول ہے حضرت ابوبکر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں پہنچے اس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس دف بجایا جارہا تھا وہ بیٹھ گئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا عمل دیکھ کر کچھ نہ کہا_ پھر حضرت عمر آئے جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے عمر کی آواز سنی تو اس کام سے روکا جب وہ دونوں چلے گئے تو حضرت عائشہ بولیں :''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا عمر کے آنے سے حلال چیز حرام بن گئی؟ ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اے عائشہ ہر کسی کے ساتھ آزادانہ روش نہیں اپنائی جاسکتی''_(۲)

۴_بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا میرے پاس تشریف لائے اس وقت میرے پاس دو کنیزیں ایک طرب انگیز گیت گارہی تھیں_ (مسلم کے بقول وہ دونوں گا بھی رہی تھیں اور دف بھی بجا رہی تھیں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا رخ پھیر لیا_ اتنے میں حضرت ابوبکر آئے اور مجھے ڈانٹ کر کہا:'' شیطان کی بانسری اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہاں؟''

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ان کی طرف رخ کیا اور فرمایا:'' ان دونوں کو چھوڑ دو''_ مسلم کی ایک روایت کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے ابوبکر ان کو کچھ نہ کہو کیونکہ یہ عید کے ایام ہیں''_(۳)

بعض روایات میں مزید (جیساکہ بخاری میں ہے) مذکور ہے کہ وہ دونوں صرف گانے والیاں نہیں تھیں_

___________________

۱_ اسدالغابة ج۴ ص ۶۴ ، نوادرالاصول ( از حکیم ترمذی) ص ۵۸ و مسند احمد ج۵ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ ( کچھ اختلاف کے ساتھ) نیز دلائل الصدق ج۱ ص ۲۹۱ _ ۳۹۰ از ترمذی ج۲ ص ۲۹۳ جس نے اسے صحیح قرار دیا ہے _ نیز بغوی نے بھی المصابیح میں اسے صحیح گرداناہے _ نیز رجوع کریں الغدیر ج۸ ص ۶۴ _۶۵ سیرت حلبی ج ۲ ص ۶۲ سنن بیہقی ج۱۰ ص ۷۷ اور التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱_

۲_ نیل الاوطار ج ۸ ص۲۷۱ و نوادر الاصول ( حکیم الترمذی) ص ۱۳۸ ، و الغدیر ج ۸ ص ۶۴ _۶۵ از مشکاة المصابیح ص ۵۵ اور گذشتہ بعض منابع سے_

۳_ صحیح البخاری ج ۱ ص ۱۱۱ ط المیمنیہ،و صحیح مسلم ج ۳ ص ۲۲ ط مشکول، و السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۱_۶۲ وحاشیہ ارشاد الساری ج ۴ ص ۱۹۵_۱۹۷ و لائل الصدق ج ۱ ص ۳۸۹ و سنن البیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴، و اللمع لابی نصرص ۲۷۴_ و البدایة و النہایة ج ۱ ص۲۷۶ و المدخل لابن الحاج ج ۳ ص ۱۰۹ و المصنف ج ۱۱ ص ۴ نیز تہذیب تاریخ دمشق ج۲ ص ۴۱۲_

۳۸۳

۵_ایک روایت کے مطابق ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حضرت عائشہ کو ایک حبشی عورت کا ناچ دیکھنے کی دعوت دی_ چنانچہ حضرت عائشہ آئیں اور اپنی ٹھوڑی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے کندھے پر رکھ کر دیکھنے لگیں_ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرم نے اسے فرمایا:'' کیا ابھی جی نہیں بھرا؟ ابھی سیر نہیں ہوئی؟ اب بھی جی نہیں بھرا ؟''وہ کہتی تھیں:'' نہیں ''تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک اپنے مقام کا اندازہ لگالے_ اتنے میں حضرت عمر آنکلے پس لوگ وہاں سے متفرق ہوگئے اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا: ''میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں''_(۱)

۶_ ابن عباس سے مروی ہےکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کےاصحاب خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور ایک کنیز سارنگی کے ساتھ یہ گارہی تھی_هل علی ویحکم

ان لهوت من حرج

وائے ہو تم پر اگر میں دل بہلانے والا کام کروں تو کیااس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا مسکرائے اور بولے:'' انشاء اللہ کوئی حرج نہیں''_(۲)

۷_ ربیع بنت معوذ سے مروی ہے کہ جب اسے دلہن بناکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بھیجا گیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس آئے اور بیٹھ گئے_ اس وقت چھوٹی لڑکیاں دف بجاتی ہوئی بدر میں قتل ہونے والے اپنے آباء پربین کر رہی تھیں_ یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا ''ہمارے درمیان وہ نبی بیٹھا ہوا ہے جو آئندہ کے حالات سے با خبر ہے'' آپ نے فرمایا:'' یوں نہ کہو بلکہ پہلے جو کچھ کہہ رہی تھیں وہی کہو''_(۳)

۸_ ایک اور روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس چند کنیزیں گانے اور کھیلنے میں مشغول تھیں اتنے میں عمر آئے اور اذن چاہا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان عورتوں کو خاموش کرایا اور عمر کی حاجت پوری کردی، پس وہ چلے گئے_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جس کی آمد پر

___________________

۱_ دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۰، التاج الجامع (للاصول) ج ۳ ص ۳۱۴ و الغدیر ج ۸ ص ۶۵ از صحیح ترمذی ج ۲ ص ۲۹۴ (ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے) واز مصابیح السنة ج ۲ ص ۲۷۱ از مشکاة المصابیح ص ۵۵۰ اور ریاض النضرة ج ۲ ص ۲۰۸ سے حیاة الصحابہ ج ۲ ص ۷۶۰_۷۶۱ اور منتخب کنز العمال ج ۴ ص ۳۹۳ از ابن عساکر و ابن عدی اور مشکات ص ۲۷۲ از شیخین_ ۲_ السیرة الحلبیة ہ ج ۲ ص ۶۱ ، التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۱۳۱ _۱۳۲ از عقد الفرید و غیرہ اور تہذیب تاریخ دمشق ج۴ ص ۱۳۶_ ۳_البخاری فتح الباری کے حاشیہ کے ساتھ ج۷ ص ۲۴۴_

۳۸۴

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان (کنیزوں) کو خاموش رہنے کا حکم دیاتھا اور اس کے چلے جانے کے بعد دوبارہ گانا شروع کرنے کیلئے کہا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواباً فرمایا:'' یہ وہ شخص ہے جو فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''_(۱)

۹_ ایک روایت یہ کہتی ہے کہ ایک عورت عائشہ کے پاس آئی_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:'' اے عائشہ اسے پہچانتی ہو؟'' وہ بولیں :''نہیں اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا''_ فرمایا :''یہ فلان قبیلے کی گلو کارہ ہے_ کیا تم اس سے گانا سننا چاہتی ہو؟''وہ بولیں:'' ہاں''_ پس آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو ایک گول طشتری تھمادی، چنانچہ اس نے عائشہ کیلئے ایک گیت گایا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' شیطان نے اس کی ناک کی دونوں سوراخوں میں پھونک ماری ہے''_(۲) ابن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس حضرت ابوبکر آئے تب بھی ایک لڑکی دف بجاتی رہی پھر حضرت عمر آئے تب بھی وہ بجاتی رہی لیکن جب حضرت عثمان آئے تو تب وہ چپ ہورہی(۳) شاعر نیل (محمد حافظ ابراہیم) اپنے دیوان میں خلیفہ ثانی کے فضائل گنتے ہوئے کہتا ہے:

ا خاف حتی الذراری فی ملاعبها ---- وراع حتی الغوانی فی ملاهیها

اریت تلک التی لله قد نذرت ---- انشوده لرسول الله تهدیها

ققالت : نذرت لئن عاد النبی لنا ---- من غزوة لعلی دفی اغنیها

ویممت حضره الهادی و قد ملات ---- نوار طلعته ارجاء و ادیها

و استاذنت ومشت بالدف واندفعت ---- تشجی بالحانها ماشاء مشجیها

و المصطفی و ابوبکر بجانبه ---- لا ینکران علیها ما اغانیها

حتی اذا لاح عن بعد لها عمر ---- خارت قواها وکاد الخوف یردیها

و خبات دفها فی ثوبها فرقا ---- منه ووّدت لون الارض تطوّیها

قد کان علم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الله یؤنسها---- فجاء بطش ابی حفص یخشیها

فقال مهبط وحی الله مبتسما ---- و فی ابتسامته معنی یواسیها

قد فر شیطانها لما رای عمرا ---- ان الشیاطین تخشی باس مخزیها

___________________

۱_ نہج الحق (دلائل الصدق کے ضمن میں) ج۱ ص ۴۰۲ از غزالی_

۲_ مسند احمد ج۳ ص ۴۴۹_

۳_ مسند احمد ج۴ ص ۳۵۳ _ ۳۵۴ اس سے حضرت عمر کی ہیبت کی نفی لیکن حضرت عثمان کا رعب ثابت ہوتاہے _ مترجم

۳۸۵

اس نے اپنے بچوں تک کو کھیلوں کے مقامات پر ڈرایا_ اور گانے والیوں پر اور لہو و لعب کی جگہوں پر دہشت طاری کرادی_

کیا تونے اس عورت کا ذکر سنا ہے جس نے خدا کی خوشنودی کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک گیت سنانے کی نذر کی تھی_

اس عورت نے کہا میں نے نذر کی تھی کہ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگ سے واپس آئے تو میں دف بجا کر گاؤں گی_

وہ کنیز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس گئی جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نور نے پوری وادی کو منور کر رکھا تھا_

اس نے اجازت لی اور دف لےکرچلی پھر اپنی طربناک آواز کا جادو جگانا شروع کیا_

مصطفی اور ابوبکر اسکے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اس کو گانے سے منع نہ کیا_

یہاں تک کہ جب اسے دور سے عمر نظر آیا تو اس کی قوت ماند پڑنے لگی اور قریب تھا کہ خوف سے ہلاک ہوجاتی_

اس نے ڈر کے مارے اپنی ڈفلی کپڑے کے اندر چھپالی اور یہ تمنا کی کہ کاش زمین اس کو اپنے اندر چھپا لیتی_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدااپنی دانش کی بنا پر اس کے مونس تھے لیکن ابوحفضہ (عمر) کی سخت گیری نے اسے وحشت زدہ کردیا_

وحی کے جائے نزول (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا) نے مسکرا کر فرمایا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسکراہٹ میں اس کیلئے تسلی کا سامان تھا_

اس کنیز پر مسلط شیطان نے جب عمر کو دیکھا تو بھاگ گیا_ شیاطین اپنے کو ذلیل کرنے والی طاقت سے ڈرتے ہیں_

یہ وہ قابل ذکر دلائل تھے جن کے ذریعے ان لوگوں نے گانے بجانے کی حلیت پر استدلال کیا ہے

۳۸۶

ہمارے خیال میں یہ ساری باتیں ان کے مدعا کو ثابت کرنے کیلئے کسی کام بھی نہیں آسکتیں_

حلیت غنا کے دلائل کا جواب

اگر ہم مذکورہ احادیث کے ضعف کو بیان کرنا چاہیں تو ضروری ہے کہ ان کے اسناد سے چشم پوشی کریں وگرنہ بات لمبی ہوجائیگی اور ممکن ہے کچھ لوگ یہ سوچتے ہوں کہ صحاح ستہ میں موجود اسناد پر تنقید کرنے کا کسی کو حق حاصل نہیں، خاص کر بخاری اور مسلم میں جبکہ گذشتہ احادیث میں سے بعض ان کتب میں موجود ہیں_

ہمارے نزدیک اگرچہ یہ خیال باطل ہے_ اس موضوع پر علماء خاص کر شیخ محمود ابوریہ نے اپنی کتاب ''اضواء علی السنة المحمدیہ'' میں اور اسی طرح دیگر افراد نے بھی گفتگو کی ہے(۱) لیکن اس کے باوجود ہم ان احادیث کی اسناد سے بحث نہیں کرتے (تا کہ ان لوگوں کی دلجوئی ہو اور ان کے جذبات کا احترام عمل میں آئے) بلکہ ان احادیث کے متن سے بحث کرتے ہوئے درج ذیل عرائض پیش کرتے ہیں:

(الف): مذکورہ روایات میں سے بعض کے متون میں زبردست اختلاف ہے خاص کر روایت نمبر۲ اور روایت نمبر۴ جو صحیح بخاری وصحیح مسلم اور دیگر کتب سے مروی ہیں_

(ب): یہ روایات غنا کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ اس کی حلیت پر، بطور مثال: _

۱_روایت نمبر۲ میں حضور کا فرمان ''ان الشیطان لیخاف او لیفرق منک یا عمر'' (اے عمر شیطان تجھ سے ڈرتا ہے) گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتا ہے_ کیونکہ اگر غنا (گانا بجانا) حلال ہوتا (خاص کر نذر کی صورت میں) تو یہ بات درست نہ ہوتی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اس عمل کی مذمت کرتے اور اسے شیطانی عمل قرار دیتے_

۲_ روایت نمبر ۳ بھی عائشہ کی طرف سے اعتراض اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جانب سے جواب کے پیش نظر حرمت پر دلالت کر رہی ہے_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو: اضواء علی السنتہ المحمدیہ ، العتب الجمیل اور الغدیر و غیرہ_

۳۸۷

۳_چوتھی روایت میں اسے شیطانی بانسری قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل حرام اور ناپسندیدہ تھا بنابریں یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کیونکر ایسے امر کے مرتکب ہوئے؟

روزبہان نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حکم خدا سمجھانے کیلئے ایسا کیا_

لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم زبانی طور پر حکم خدا بتادیتے تو کافی بھی ہوتا اور آسان بھی_ علاوہ اس کے اگر مذکورہ بات درست ہوتی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عام لوگوں کے سامنے یہ کام انجام دیتے نہ کہ اپنے گھر میں بیٹھ کر اکیلے ہی سنتے_ پھر جو عمل عقلاء کے نزدیک شیطانی بانسری قرار پائے وہ کیسے حلال ہوسکتا ہے؟

۴_ پانچویں روایت کی رو سے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' میں شیاطین جن وانس کو عمر کے خوف سے بھاگتے دیکھ رہا ہوں''_ پس جب یہ کام شیطانوں کے جمع ہونے کا باعث ہو تو پھر اسے حرام ہونا چاہی ے نہ کہ حلال_

۵_ آٹھویں روایت میں مذکور ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا: ''یہ شخص فضولیات سننے کو ترجیح نہیں دیتا''یاد رہے کہ جو کام حلال یا مکروہ ہو وہ باطل و فضول نہیں کہلایا جاسکتا_

۶_ آخری روایت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مغنیہ کے بارے میں فرمایا:''شیطان نے اس کی ناک کے دونوں سوراخوں میں پھونکا ہے''_ یہ بات بھی حرمت پر دلالت کرتی ہے_

(ج): ہم یہ سوال کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ کیسا شیطان تھا جو عمر سے خوف کھاتا تھا لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے نہیں؟ نیز جس کام کے بارے میں شیطان عمر سے ڈرے اس عمل کی نذر کیسے درست ہوسکتی ہے؟ جبکہ نذر میں یہ شرط ہے کہ جس چیز کی نذر کی جارہی ہے وہ خدا کی اطاعت اور پسندیدہ عمل محسوب ہو یا کم از کم نا پسندیدہ چیز نہ ہو جیساکہ بیہقی اور ترمذی جیسی حدیث کی کتابوں میں نذرسے متعلقہ ابواب کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے_

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداتو فضول اور باطل باتیں سننے کو ترجیح دیں لیکن حضرت عمر فضولیات سے پرہیز کریں؟ یہاں پر حضرت عمر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے بھی زیادہ با اصول کیسے بن گئے_؟

نیز یہ کیونکر ممکن ہے کہ شیطان تو اس مغنیہ کی ناک میں پھونکے لیکن دوسری طرف سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ عائشہ کو

۳۸۸

اس کے گیت سننے کی دعوت دیں؟ کیا کوئی بھی صاحب عقل شخص اس قسم کے متضاد اعمال بجالا سکتا ہے؟ چہ جائیکہ معصوم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف اس کی نسبت دی جائے_ علاوہ برآن یہ کیسے معقول ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا اپنے بعض اعمال کو بعض لوگوں (عمر) سے چھپائیں اور اس عمل سے اس شخص کے باخبر ہونے کو اپنے لئے باعث ہتک حرمت سمجھیں لیکن کچھ لوگوں سے اس کو نہ چھپائیں؟ کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ عمل، قبیح یا کم از کم غیر پسندیدہ اور نا مناسب تھا؟

ایک روایت میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر گانے بجانے سے منع کرتے ہیں لیکن دوسری روایت میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ عمر اس امر سے منع کرتے ہیں_

(د): آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عائشہ کو حبشیوں کا رقص دیکھنے کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چہرہ ان کے چہرے سے ملاہواہو؟ اور ساتھ ہی ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے یہ بھی کہہ رہے ہوں:'' اے بنی ارفدہ اپنا خیال رکھنا ''_(۱) کیا یہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیا (جو معروف ہے )کے منافی نہیں ؟ یہاں تک کہ روایات کے مطابق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پردہ نشین دوشیزاؤں سے بھی زیادہ باحیا تھے_ کیا مذکورہ عمل اس شخص کو زیب دیتا ہے جو حیا کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہو اور جس کی مسکراہٹ ہی اس کا خندہ تھی؟ کیا یہ عمل اس بات کے ساتھ ہم آہنگ ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی زوجات کو اندھے کی طرف دیکھنے سے منع فرماتے تھے؟ چنانچہ آپ نے اپنی دو بیویوں سے فرمایاتھا:'' کیا تم دونوں بھی اندھی ہو اور اس کو نہیں دیکھ رہی ہو؟''(۲)

(ھ): دف بجانے اور بدر کے مقتولین پر رونے کے درمیان کونسی مناسبت ہے؟ نیز کیا نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سکوت (اگر فی الواقع آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساکت رہے ہوں) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رضا مندی پر دلالت کرتا ہے؟ خاص کر ان حالات میں کہ ان کاموں سے منع کرنے کیلئے تدریجی طریقہ کار کی ضرورت ہو_

اگر کوئی یہ کہے کہ مذکورہ افعال کے مرتکب افراد آپ کے احکام کی اطاعت کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا تو مسلمان ہونا بھی ثابت نہیں ہے_

___________________

۱_ بخاری مطبوعہ میمنیہ ج ۱ ص ۱۱۱ _

۲_ رجوع ہو بطرف مسند احمد ج ۶ ص ۲۹۶ و طبقات ابن سعد و مصابیح بغوی مطبوعہ دار المعرفہ ج۲ ص ۴۰۸ ، الجامع الصحیح ج۵ ص ۱۰۲ اور سنن ابوداؤد ج۴ ص ۶۳ ، ۶۴_

۳۸۹

(و): چھٹی اور آخری عرض یہ کہ گانے بجانے کی حرمت پر بہت ساری روایات صریح انداز میں دلالت کرتی ہیں_ یہ روایات یقینی طور پر متواتر ہیں_یہاں ہم ان روایات میں سے درج ذیل روایتوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں_

۱_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے ''میری امت میں ضرور ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شراب، ریشم اور معازف (بینڈباجوں) کو حلال سمجھیں گے''_(۱)

۲_ حضرت انس سے مروی مرفوع حدیث (وہ حدیث جس کے راویوں کا ذکرنہ ہو) میں مذکور ہے ''دو آوازیں لعنت اور گناہ کا باعث ہیں ان دونوں سے منع کرتا ہوں ایک بانسری کی آواز اور دوسری طرب انگیز نغمے یا مصیبت کے وقت شیطانی آواز''_

عبدالرحمان بن عوف سے مروی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' میں نے دو احمقانہ اور گناہ آلود آوازوں سے منع کیا ہے ایک لہو ولعب والے نغمے اور شیطانی بانسریوں کی آواز سے اوردوسری مصیبت کے وقت نکالی جانے والی آواز سے'' حسن سے بھی اسی قسم کے الفاظ نقل ہوئے ہیں_(۲)

۳_عمر بن خطاب سے مروی ہے'' گانے والی کنیز کی مزدوری حرام ہے اس کا گانا حرام ہے اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے اس کی قیمت کتے کی قیمت جیسی ہے اورکتے کی قیمت حرام ہے''_(۳)

۴_ ابن عباس سے منقول ہے'' دف بجانا حرام ہے، باجے حرام ہیں، ڈگڈگی (یا ڈھولکی) حرام ہے اور بانسری بھی حرام ہے''_(۴)

___________________

۱_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۱ اور صحیح بخاری و الغدیر ج ۱۸ ص ۷۰ از بخاری از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ مولف کا کہنا ہے کہ اسے احمد، ابن ماجہ و ابونعیم اور ابوداؤد نے اپنی صحیح سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے کسی نے اس پر اشکال نہیں کیا بعض لوگوں نے تو اس کو صحیح قرار دیا ہے_

۲_ المصنف ج ۱۱ ص ۶ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۸ و تفسیر شوکانی ج ۴ ص ۲۳۶ و الدر المنثور ج ۵ ص ۱۶۰ والغدیر ج ۸ ص ۶۹ جس نے مذکورہ مآخذ سے سوائے پہلے ماخذ کے نقل کیا_ نیز از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۳ نقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۸ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳۰ _

۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ اور الغدیر ج ۸ ص ۶۹_۷۰ از طبرانی و ارشاد الساری_

۴_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ _

۳۹۰

۵_ ابن عباس، انس اور ابوامامہ سے ایک حدیث مرفوع نقل ہوئی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اس امت کے اوپر زمین میں دھنسنے ،پتھر برسنے اور مسخ ہونے کی بلائیں نازل ہوں گی_ یہ اس وقت ہوگا جب لوگ شراب پئیں گے، گانے والیوں سے استفادہ کریں گے اور باجے بجائیں گے''_(۱)

۶_ انس اور ابوامامہ سے مروی حدیث مرفوع کہتی ہے ''اللہ نے مجھے کائنات کیلئے باعث رحمت بناکر، نیز باجوں بانسریوں اور ایام جاہلیت کے آثار کو مٹانے کیلئے بھیجا ہے''_(۲)

۷_ابوہریرہ سے مروی حدیث مرفوع میں مذکور ہے ''آخری زمانے میں کچھ لوگ بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ ہوجائیں گے''_ لوگوں نے اس کی علت پوچھی تو فرمایا:'' وہ باجوں، ڈھولکیوں اور گانے والیوں سے سروکار رکھیں گے''_

اس قسم کی بات عبدالرحمان بن سابط، غازی بن ربیعہ، صالح بن خالد، انس بن ابی امامہ اور عمران بن حصین سے بھی مروی ہے_(۳)

۸_ ترمذی نے حضرت علیعليه‌السلام سے (بطریق مرفوع)حدیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نقل کیا ہے کہ جب میری امت پندرہ چیزوں میں مبتلا ہوگی تو اس پر بلائیں نازل ہوں گی (ان کے ذکر میں فرمایا) جب وہ گانے والیوں اور باجوں سے بھی سروکار رکھیں گے_

یہی بات ابوہریرہ سے بھی مروی ہے_(۴)

۹_ صفوان بن امیہ سے منقول ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس تھے اتنے میں عمر بن قرہ آیا اور عرض کیا:

___________________

۱_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ وا لغدیر ج ۸ ص ۷۰ از در منثور و از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۷۶ اسے طبرانی، احمد اورابن ابی الدنیانے نقل کیا ہے_

۲_ جامع بیان العلم ج ۱ ص ۱۵۳ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۲ و در منثور ج ۲ ص ۳۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۰_۷۱ مذکورہ مآخذ سے _

۳_ الدر المنثور ج ۲ ص ۳۲۴ اسے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن عدی، حاکم، بیہقی، داود اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے نیز رجوع ہو المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ _

۴_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و المدخل ج ۳ ص ۱۰۵ و الغدیر ج ۸ ص ۷۱ از المدخل ونقد العلم و العلماء (ابن جوزی) ص ۲۴۹ و تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۳ _

۳۹۱

''اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے میری قسمت میں شقاوت لکھ دی ہے اسی لئے میں روزی کما نہیں سکتا مگر اپنے ہاتھوں سے ڈھولکی بجاکر_ بنابریں مجھے اجازت دیجئے کہ میں بے حیائی والے کا موں سے ہٹ کر گانے بجانے کا کام کروں''_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تجھے اجازت نہیں دیتا_ اس کام میں نہ عزت ہے نہ شرافت_ اے دشمن خدا تم جھوٹ بولتے ہو_ اللہ نے تجھے پاکیزہ روزی عطا کی ہے لیکن تونے رزق حلال کاراستہ چھوڑ کرحرام روزی کی راہ اپنائی ہے_ خبر دار جو دوبارہ یہ بات کہی تو میں تجھے المناک سزا دوںگا''_(۱)

حلبی نے اس روایت پر یوں تبصرہ کیا ہے:'' مگر یہ کہاجائے کہ یہ نہی (بشرطیکہ صحیح ہو) اس شخص کیلئے ہے جو ڈھولکی بجانے کو پیشہ بنالے_ اس صورت میں یہ عمل مکروہ ہے_ رہا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ فرمانا کہ''تم نے راہ حرام کو اختیار کیا'' تو یہ جملہ اس کام کی قباحت کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی کیلئے ہے''_(۲)

لیکن حلبی یہ بھول گئے کہ اگر اس کام کو پیشہ بنانا فقط مکروہ ہوتا تو پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کو المناک سزا دینے کی دھمکی کیوں دیتے؟ اور اسے دشمن خدا کیوں قرار دیتے؟

اس کے علاوہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حرام کو ''طیب'' (پاکیزہ وحلال) کے مقابلے میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حرام سے مراد وہی ''خبیث'' ہے جو قرآن کی اس صریح آیت کے مطابق حرام قرار دی گئی ہے( ویحل لهم الطیبات ویحرم علیهم الخبائث ) (۳) یعنی وہ پاکیزہ چیزوں کو ان کیلئے حلال اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام قرار دیتا ہے_

۱۰_ابوامامہ سے مروی ہے گانے والیوں کو نہ بیچو اور نہ ہی خریدو، اور نہ ان کو تعلیم دو، ان کی تجارت میں کوئی خوبی نہیں_ ان کی قیمت حرام ہے اس قسم کے امور کے بارے میںیہ آیت نازل کی گئی ہے( ومن الناس من یشتری ) (۴)

___________________

۱_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۳ از ابن ابی شیبہ_

۲_ السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۶۲ _

۳_ سورہ اعراف آیت ۱۵۷_

۴_سورہ لقمان، آیت ۶_

۳۹۲

ایک اور عبارت میںآیا ہے ''گانے والیوں کو تعلیم دینا جائز نہیں اور نہ ہی ان کو بیچنا_ ان کی قیمتیں حرام ہیں_ قرآن کی یہ(مذکورہ) آیت اسی قسم کی چیزوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ...''_(۱)

۱۱_ عائشہ سے مروی ایک حدیث مرفوع کہتی ہے'' خدائے تعالی نے گانے والی کنیزوں، ان کی خریدوفروخت اور قیمت کو حرام قرار دیا ہے _نیز ان کو تعلیم دینا اور ان کو سننا بھی حرام ہے''_ پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ آیت پڑھی (ومن الناس من یشتری لھوالحدیث)(۲)

۱۲_ابن مسعود سے خدا کے اس قول (ومن الناس من یشتری لہوالحدیث) کے بارے میں سوال ہوا تو جواب دیا:'' اللہ کی قسم، اس سے مراد غنا (گانا بجانا) ہے''_ ایک اور عبارت یوں کہتی ہے ''واللہ اس سے مراد غنا ہے قسم ہے اس اللہ کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں'' _ اور اس کو تین بار دہرایا_

جابر سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد غنا اور اس کا سننا ہے_

علاوہ ان کے ابن عباس ابن عمر، عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد، مکحول، عمرو بن شعیب، میمون بن مہران، قتادہ، نخعی، عطائ، علی ابن بذیمہ، اور حسن نے بھی اس آیت کا مقصود غنا ہی کو قرار دیا ہے_(۳)

___________________

۱_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۳ و تفسیر شوکانی ج ص ۲۳۴ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۲ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ (مذکورہ مآخذ) اور تفسیر قرطبی ج ۱۴ ص ۵۱ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۳۶ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ و ترمذی کتاب ۱۲ باب ۵۱ سے ماخوذ _انہوں نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ درج ذیل محدثین نے بھی اس کو نقل کیا ہے_ سعید بن منصور، احمد، ابن ماجة، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن ابی شیبة ، ابن مردویہ ،طبرانی و ابن ابی دنیا_

۲_ الدرالمنثور ج ۴ ص ۲۲۸ و الغدیر ج ۸ ص ۶۷ از در منثور از تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۸ _

۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۱۲۲ و ۲۲۳ و ۲۲۵ و مستدرک الحاکم ج ۲ ص ۴۱۱ و تفسیر طبری ج ۲۱ ص ۳۹_۴۰ و المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴ و تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۴۱ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۳ و در منثور ج ۵ ص ۱۵۹_۱۶۰ و فتح القدیر ج ۴ ص ۳۴ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۱۶۳ و الغدیر ج ۸ ص ۶۸ مذکورہ مآخذ سے نیز تفسیر قرطبی ج۱۴ ص ۵۱_۵۳ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و تفسیر الخازن ج ۳ ص ۴۶ نیز اس کے حاشیے پر تفسیر نسفی ج ۳ ص ۴۶۰ و تفسیر آلوسی ج ۲۱ ص ۶۷ وغیرہ سے نیز اسے نقل کیا ہے ابن ابی دنیا، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، بیہقی (شعب ایمان میں) ابن ابی حاتم، ابن مردویہ و فاریابی اور ابن عساکر نے _

۳۹۳

۱۳_ابلیس سے خدا کے خطاب (واستفززمن استطعت منہم بصوتک)(۱) (یعنی تو جس جس کو اپنی آواز سے پھسلاسکتا ہے پھسلا لے) کے متعلق_ ابن عباس اورمجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد غنا، بانسری اور لہو ہے_(۲)

۱۴_حسن بصری نے یزید کی برائیاں گنتے ہوئے کہا ہے ''وہ اکثر اوقات نشے اور شراب نوشی میں مبتلا رہتا تھا، ریشم پہنتا تھا اور طنبورے (ستار) بجاتا تھا''_(۳)

اہل مدینہ یزید کی جن باتوں کی مذمت کرتے تھے ان میں یہ باتیں بھی شامل تھیں کہ وہ شراب پیتا ہے، طنبور بجاتا ہے، گانے والے اس کے پاس سازبجاتے رہتے ہیں_(۴)

۱۵_ابن عباس نے قول خدا ''و انتم سامدون'' کے بارے میں کہا ہے کہ سامدون سے مراد حمیریوں کے لہجے میں گانا ہے_(۵)

۱۶_ جابر نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ ابلیس ہی سب سے پہلے رویا دھویا اور سب سے پہلے غنا کا مرتکب ہوا_(۶)

۱۷_حضرت علیعليه‌السلام نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے نقل کیا ہے کہ گانے بجانے والے مرد اور عورت کی کمائی حرام ہے_ زنا کرنے والی عورت کی آمدنی حرام ہے اور خدا کا حق ہے کہ وہ حرام سے اگنے والے گوشت کو جنت میں داخل نہ کرے_(۷)

___________________

۱_ سورہ اسراء آیت ۶۴ _

۲_ فتح القدیر ج ۳ ص ۲۴۱ و تفسیر طبری ج ۱۵ ص ۸۱ تفسیر ابن کثیر ج ۳ ص ۴۹، الغدیر ج ۸ ص ۸۹ ان سے اور تفسیر قرطبی ج ۱۰ ص ۲۸۸ سے و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۷ و تفسیرالخازن ج ۳ ص ۱۷۸ اور اس کے حاشیے میں تفسیر نسفی ج ۳ ص ۱۷۸ و تفسیر ابن جزی کلبی ج ۲ ص ۱۷۵ و تفسیر آلوسی ج ۱۵ ص ۱۱۱ _

۳_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۲۵ از تاریخ ابن عساکر ج ۵ ص ۴۱۲ و تاریخ طبری ج ۶ ص ۱۵۷ و تاریخ ابن اثیر ج ۴ ص ۲۰۹ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۱۳۰ و محاضرات الراغب ج ۲ ص ۲۱۴ و النجوم الزہرة ج ۱ ص ۱۴۱ _

۴_ الغدیر ج ۱۰ ص ۲۵۵ از تاریخ طبری ج ۷ ص ۴ و الکامل ابن اثیر ج ۴ ص ۴۵ و البدایة و النہایة ج ۸ ص ۲۱۶ و فتح الباری ج ۱۳ ص ۵۹ _

۵،۶،۷_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷ _

۳۹۴

۱۸_حضرت علیعليه‌السلام نے روایت کی ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دف بجانے، طبل بجانے اور بانسری بجانے سے منع فرمایا ہے_(۱)

یہاں ہم نے جتنا عرض کیا کافی معلوم ہوتا ہے جو حضرات مزید تحقیق کے خواہشمند ہوں وہ ان مآخذ کی طرف رجوع کریں جن کا ہم نے حاشیے میں ذکر کیا ہے_(۲)

غنا کے بارے میں علماء کے نظریات

الغدیر میں مذکور ہے کہ حنفیوں کے امام نے غنا کو حرام قرار دیا ہے_ یہی حکم کوفہ کے علماء (یعنی سفیان، حماد، ابراہیم، شعبی اور عکرمہ) کا بھی ہے_

مالک نے بھی غنا سے منع کیا ہے اور اسے ان عیوب میں شمار کیا ہے جس سے عیب کی حامل کنیز کا سودا فسخ ہوسکتا ہے_ یہی نظریہ سارے اہل مدینہ کا ہے سوائے ابراہیم بن سعد کے_

حنبلیوں کی ایک جماعت سے بھی حرمت کا قول نقل ہوا ہے_ عبداللہ بن احمد بن حنبل سے مروی ہے کہ اس نے اپنے باپ سے غنا کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا''غنا دلوں میں نفاق پیدا کرتا ہے مجھے یہ

___________________

۱_ المدخل (ابن حاج) ج ۳ ص ۱۰۴_۱۰۷

۲_ ابن الحاج کی کتاب المدخل ج ۳ ص ۹۶ سے ۱۱۵ تک و تفسیر طبری ج ۲۸ ص ۴۸ و نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۴ و ۲۶۳ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۲ و فتح القدیر ج ۴ ص ۲۲۸ و ج ۵ ص ۱۱۵ و تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۹۶ و ج ۶ ص ۲۶۰ و الفائق زمخشری ج ۱ ص ۳۰۵ و الدر المنثور ج ۲ ص ۳۱۷_۳۲۴ و ج ۵ ص ۱۵۹ و الغدیر ۸ ص ۶۴ اور اس سے آگے (مذکورہ مآخذ سے) نیز قرطبی ج ۷ ص ۱۲۲ و ج ۱۴ ص ۵۳_۵۴ و الکشاف ج ۲ ص ۲۱۱ و تفسیر آلوسی ج ۷ ص ۷۲ و ج ۲۱ ص ۶۸ و ارشاد الساری ج ۹ ص ۱۶۴ و بہجة النفوس (ابن ابی حجرہ) ج ۲ ص ۷۴ و تاریخ البخاری ج ۴ حصہ اول ص ۲۳۴ و نقد العلم و العلماء ص ۲۴۶ و ۲۴۸ و نہایة ابن اثیر ج ۲ ص ۹۵ و تفسیر خازن ج ۳ ص ۴۶۰ و ج ۴ ص ۲۱۲ و نسفی (اس کتاب کے حاشیے پر) ج ۳ ص ۴۶۰ سے نیز اسے نقل کیا ہے سعید بن منصور، عبد بن حمید، عبدالرزاق، فریابی، ابوعبید، ابن ابی الدنیا، ابن مردویہ، ابوالشیخ، بزار، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے_ رہا ابن زبیر کا یہ قول کہ میں نے مہاجرینتمام کو ترنم کے ساتھ گاتے سنا ہے اس کے متعلق ملاحظہ ہو: المصنف ج۱ ص ۵ ، ۶ نیز سنن بیہقی ج۱۰ ص ۲۲۵_ تو اس سے مراد غنا نہیں بلکہ ترنم کے ساتھ شعر پڑھنا ہے جیساکہ ابن الحاج نے ج ۳ ص ۹۸ و ۱۰۸ میں ذکر کیا ہے_

۳۹۵

ناپسندہے'' پھر مالک کا یہ قول نقل کیا کہ اسے فقط فاسق لوگ انجام دیتے ہیں_

مزنی جیسے مذہب شافعی سے آگاہ شافعیوں کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ حرمت کے قائل تھے_ ان لوگوں نے حلیت کے قائل افراد پر اعتراض کیا ہے مثلاً قاضی ابوطیب نے غنا کی مذمت اور ممانعت کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کی ہے_ ابوبکر طرطوشی نے بھی غناپر ایک کتاب لکھی ہے_ طبری کے علاوہ شیخ ابواسحاق نے'' التنبیہ'' نامی کتاب میں اسے حرام قرار دیا ہے_ محاسبی، نحاس اور قفال نے اسے صریحاً حرام قرار دیا ہے_ نیز قاسم بن محمد، ضحاک، ولید بن یزید، عمر بن عبدالعزیز اور دیگر بے شمار علماء نے اس سے منع کیا ہے_

ابن صلاح نے نقل کیا ہے کہ مسلمانوں کے اہل حل وعقد کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے_

طبری نے کہا ہے کہ مختلف شہروں کے رہنے والے اس کی کراہت اور ممنوعیت پر متفق الخیال ہیں سوائے ابراہیم ابن سعد اور عبداللہ عنبری کے، مذکورہ باتوں کیلئے رجوع ہو الغدیر ج ۸ ص ۷۲_۷۴ اور المدخل (از ابن الحاج) ج ۳ صفحہ ۹۶ تا ۱۱۵ کے طرف_ اس میں مزید باتیں بھی درج ہیں جن کا ہم نے اختصار کی وجہ سے ذکر نہیں کیا_ جو مزید جستجو کا طالب ہو وہ اس کی طرف رجوع کرے_

غنا اہل کتاب کے نزدیک

چونکہ غنا کا اسلامی تعلیمات سے کوئی رابطہ نہیں اس لئے یہ سوال ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کہاں سے بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں داخل ہوا یہاں تک کہ وہ اس کی حلیت اور اس پر مداومت کی تاکید کرنے لگ گئے؟ بلکہ بات یہاں تک پہنچی کہ یہ مسئلہ صوفیوں کی امتیازی علامت بن گیا جیساکہ سب کو معلوم ہے_ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں نے اس کو اہل کتاب سے اخذکیا ہے_

چنانچہ ابن کثیرعمران کی بہن مریم ( حضرت موسیعليه‌السلام کے دور میں زندگی بسر کرتی تھی) کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:''مریم کا اس دن جو کہ ان کے نزدیک سب سے بڑی عید کا دن تھا دف بجانا اس

۳۹۶

بات کی دلیل ہے کہ عید کے دن دف بجانا ہمارے دین سے پہلے جائز تھا''_(۱)

اس کے بعد ابن کثیر نے مریم والی اس روایت سے استنباط کرتے ہوئے عیدوں اور مسافروں کی واپسی کے مواقع پر جواز کا فتوی دیا ہے_

جعل سازی کا راز

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام اور اسلام کی طرف مذکورہ باتوں کی نسبت دینے کی وجہ درج ذیل امور ہوسکتے ہیں_

۱_ حضرت عائشہ اور حضرت عمر غنا اور موسیقی کو پسند کرتے اور سنتے تھے_

حضرت عائشہ کے بارے میں تو بخاری وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ وہ اس کام کی حوصلہ افزائی کرتی اور کہتی تھیں''فاقدروا قدر الجاریة الحدیثة السن، الحریصة علی اللهو'' (۲) یعنی اس نوجوان لونڈی کی قدر کرو جو گانے کی شوقین ہو_

نیز انہوں نے ایک گویے (مرد) کو اجازت دی کہ وہ بعض کمسن لونڈیوں کیلئے گائے البتہ بعد میں انہوں نے اس کو نکال دینے کا حکم دیا تھا_(۳) ادھر خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے بارے میں ابن منظور نے کہا ہے ''بتحقیق عمرنے بادیہ نشینوں کے غنا کی اجازت دی تھی''_(۴) خواّت بن جبیر نے حضرت عمرسے گانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دی_ چنانچہ خواّت نے گانا شروع کیا اور حضرت عمر نے کہا:'' آفرین اے خوات، آفرین اے خوات''_(۵)

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۱ ص ۲۷۶_

۲_ عبد الرزاق کی کتاب المصنف ج ۱۰ ص ۴۶۵ صحیح بخاری مطبوعہ مشکول ج ۹ ص ۲۲۳ و ۲۷۰ و حیات الصحابة ج ۲ ص ۷۶۱ از مشکاہ ص ۳۷۲ از شیخین (بخاری و مسلم) و دلائل الصدق ج ۱ ص ۳۹۳ _

۳_ سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ _

۴_ لسان العرب ج ۱۵ ص ۱۳۷ لفظ غنا کی بحث میں _

۵_ الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _

۳۹۷

نیز انہوں نے یہ بات سنی کہ رباح بن مغترف گاتا ہے چنانچہ انہوں نے اس کی تحقیق کی تو لوگوں نے اس کے بارے میں اطلاع دی، حضرت عمر بولے :''اگر تم یہ کام کرنا چاہتے ہو تو تمہیں چاہیئے کہ ضرار بن خطاب کے اشعار پر توجہ دو''_ قریب قریب یہی بات خوات کے ساتھ بھی کہی_(۱)

علاء بن زیاد سے مروی ہے کہ عمر اپنے راستے پر جا رہے تھے اس دوران انہوں نے کچھ گایا پھر کہا کہ''جب میں نے گایا تو تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں ٹوکا؟''_(۲)

شوکانی اور عینی نے عمر اور عثمان کو ان لوگوں میں سے قرار دیا ہے جنہوں نے غنا کو جائز قرار دیا ہے_(۳)

نیز حضرت عمرنے زید بن سلم اور عاصم عمر سے دوبارہ گانے کیلئے کہا اور اظہار نظر بھی فرمایا جیساکہ ابن قتیبہ نے ذکر کیا ہے_(۴)

بنابریں گذشتہ روایات میں سے اکثر میں حضرت عمر کے ساتھ اس بات کی جعلی نسبت (کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے گھر میں گانے والیوں کو منع کرتا تھا) دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ ان (عمر) کے بارے میں معروف بات کو مشکوک بنا دیا جائے یا یہ کہ غنا سے ان کو جو واسطہ رہا تھا اس کی قباحت میں کمی کی جاسکے کیونکہ جب لوگ یہ دیکھ لیں کہ رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم توخود غنا سنتے تھے، اپنے گھر میں شیطانی آلات (بانسری وغیرہ) رکھتے اور لہویات سننے سے شغف رکھتے تھے تو اس کے بعد کوئی اور شخص ان اعمال کا مرتکب ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت محسوس نہ ہو_

۲_ مذکورہ روایات (جو غنا کی حلیت کو ثابت کرنا چاہتی ہیں) کی اکثریت کا مقصد حضرت عائشہ کے کردار کو بیان کرنا ہے یہاں تک کہ ان روایات کی رو سے جب وہ حبشیوں کا رقص دیکھ رہی تھیں تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ

___________________

۱_ نسب قریش (مصعب) ص ۴۴۸ و سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۲۲۴ و الغدیر ج ۸ ص ۷۹ از سنن بیہقی واز استیعاب ج ۱ ص ۸۶ و ۱۷۰ و از الاصابة ج ۱ ص ۵۰۲ و ۴۵۷ و ج ۸ ص ۲۰۹ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ و تاریخ ابن عساکر ج ۷ ص ۳۵ نیز الاصابہ ج۲ ص ۲۰۹_

۲_ الغدیر ج ۸ ص ۸۰ از کنز العمال ج ۷ ص ۳۳۵ _

۳_ نیل الاوطار ج ۸ ص ۲۶۶ و الغدیر ج ۷ ص ۷۸ از نیل الاوطار و از عمدة القاری در شرح صحیح بخاری ج ۵ ص ۱۶۰ _

۴_ عیون الاخبار ج ۱ ص ۳۲۲ _

۳۹۸

ان سے فرما رہے تھے کہ کیاابھی تم سیر نہیں ہوئی؟ اور وہ کہتی تھیں ''نہیں''_ تاکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے نزدیک اپنا مقام دیکھ لیں_ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک (خفیہ) ہاتھ اس کوشش میں مصروف تھاکہ حضرت عائشہ کیلئے فضائل تراشے اور یہ ثابت کرے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ان کی پسند کا خیال رکھتے اور ان سے محبت کرتے تھے_ علاوہ بر این ان روایات میں اس بات کے واضح اشارے ملتے ہیں کہ ان میں حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کیلئے فضائل ثابت کرنے نیز اسلام سے ان کے تمسک اور ان کی جانب سے اسلام کی حمایت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے اگرچہ اس مقصد کے حصول کیلئے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عزت وشرف اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عفت وپاکیزگی کو داغدار بنانے کی ضرورت کیوں نہ پڑے_

۳_ ہم امویوں اور عباسیوں کو بھی نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جھوٹی احادیث وضع کرنے کے عمل سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے_ کیونکہ ان کے درمیان ایسے لوگ موجود تھے جو ان کے ہر فعل کو شریعت اور قداست کا لباس پہنانے کی کوشش میں رہتے تھے_چنانچہ غیاث ابن ابراہیم اور ابوالبختری کے ساتھ مہدی عباسی کا قصہ ہمارے سامنے ہے جب وہ مہدی کے پاس پہنچا تو اسے کبوتربازی میں مشغول پایا_ اس نے یہ حدیث بیان کی ''لاسبق الا فی خف او نصل او حافر'' یعنی شرط لگانا جائز نہیں مگر ٹاپوں والے حیوانات (مثلا اونٹ) کی دوڑ یا تیر اندازی یا کھروں والے حیوانات (مثلا گھوڑے وغیرہ) کی دوڑ میں پھر اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہوئے کہا ''اوجناح'' (یعنی اڑنے والے پرندوں میں بھی جائز ہے) تاکہ یوں مہدی کے شوق کی تسکین ہو_ چنانچہ مہدی نے اسے پیسوں کی ایک تھیلی دیئے جانے کا حکم دیا_ جب وہ نکل گیا تو مہدی نے کہا :''میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری پشت ایک کذاب کی پشت ہے''_(۱)

ہم تاریخ وادب کی کتابوں میں گانے بجانے اور لہو ولعب پر اموی اور عباسی خلفاء کی توجہ کے بارے میں عجیب وغریب باتوں کا مشاہدہ کرتے ہیں_وہ گانے والوں کو دسیوں سینکڑوںبلکہ ہزاروں گنابڑے انعامات

___________________

۱_ الاسرار المرفوعة فی الاخبار الموضوعة (مصنفہ قاری) ص ۴۶۹ و اللئالی المصنوعة ج۲ ص۴۷۰ و الموضوعات (ابن جوزی) ج ۱ ص ۴۲ و لسان المیزان ج ۴ ص ۴۲۲ و میزان الاعتدال ج ۳ ص ۳۳۸ والمجروحون ج۱ ص ۶۶ ، تاریخ الخلفاء ص ۲۷۵ نیز المنار المنیف ص ۱۰۷_

۳۹۹

دیتے تھے_(۱) یہاں تک کہ اسحاق موصلی (جو موسیقی دانوں کا استاد تھا) نے کہا:'' اگرہادی زندہ رہتا تو ہم اپنےگھروں کی دیواریں سونے اور چاندی سے بناتے''_(۲)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا قبا میں نزول

کہتے ہیں کہ اس پرشکوہ استقبال کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ ، قبا کی جانب چلے اور قبیلہ عمرو بن طوف میں کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_

اس دن حضرت ابوبکر نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر میں داخل ہونے پر بہت اصرار کیا لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انکار فرمایا اور بتایا کہ جب تک آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا کا بیٹا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا برادر دینی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھرانے میں آپ کے نزدیک، سب سے عزیز ہستی (جس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بقول اپنی جان کے بدلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچائی تھی) نہ پہنچے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہاں سے کوچ نہیں کریں گے_ یہ سن کر حضرت ابوبکر کی طبیعت ہی مکدر ہوگئی اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جدا ہو کراس رات شہر مدینہ میں داخل ہوئے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا وہیں امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے منتظر رہے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فواطم (فاطمہ کی جمع _ یعنی فاطمہ زہراعليه‌السلام ، فاطمہ بنت اسد اور فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب )اور ام ایمن(۳) کے ساتھ نیمہ ربیع الاول کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں پہنچ گئے(۴) اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کلثوم بن ہدم کے ہاں ٹھہرے_(۵)

___________________

۱_ ربیع الابرار ج ۱ ص ۶۷۵ جس میں مذکور ہے کہ اس نے ابراہیم موصل کو بہترین موسیقی کے انعام میں ایک لاکھ،درہم دیئے اس سلسلے میں ابوالفرج نے اپنی کتاب الاغانی میں جن موارد کا ذکر کیا ہے اس کا مطالعہ کافی ثابت ہوگا_

۲_ حیاة الامام الرضا السیاسیة (از مولف کتاب ہذا) ص ۱۱۸ از الاغانی مطبوعہ دار الکتب قاھرہ ج ۵ ص ۱۶۳_

۳_ البحار ج ۱۹ ص ۱۰۶ و ۱۱۵،۱۱۶ و ۷۵،۷۶ و ۶۴ از روضة الکافی ص ۳۴۰ و اعلام الوری ص ۶۶ و الخرائج و الجرائح نیز رجوع ہو الفصول المھمة (ابن صباغ مالکی )ص ۳۵ و امالی شیخ طوسی ج ۲ ص ۸۳_

۴_ امتاع الاسماع ص ۴۸ _

۵_ البحار ج ۱۹ و البدایة و النہایة ج ۳ ص ۱۹۷ _

۴۰۰

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417