الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)9%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 417

جلد ۲
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 417 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 209923 / ڈاؤنلوڈ: 6321
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۲

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

مالک بن جاؤ گے اور عجم بھی تمہارے مطیع ہونگے نیز جنت میں بھی تمہاری بادشاہی ہوگی''_ لیکن قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذاق اڑایا اور وہ کہنے لگے کہ محمد بن عبداللہ مجنون ہوگیا ہے البتہ حضرت ابوطالب کی سماجی حیثیت کے پیش نظر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف کوئی عملی کاروائی نہ کرسکے_(۱)

یہ بھی منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صفاکی پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو پکارا جب وہ جمع ہوگئے تو فرمایا:''اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے ایک لشکر تمہارا منتظر ہے تو کیاتم میری تصدیق کرو گے؟''_ وہ بولے:'' کیوں نہیں ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں کوئی بدی نہیں دیکھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں سنا تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہیں شدید عذاب سے ڈراتا ہوں ...'' اس پر ابولہب نے کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا ''تیرا سارا دن بربادی میں گزرے، کیا اتنی سی بات کیلئے لوگوں کو اکٹھا کیا تھا؟'' یہ سن کر سارے لوگ متفرق ہوگئے اور اس پر سورہ( تبت یدا ابی لهب ) نازل ہوئی_(۲)

ناکام مذاکرات

ابن اسحاق وغیرہ کا بیان ہے کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بحکم خدا اپنی قوم کے سامنے علی الاعلان ًاسلام کو پیش کیا تو اس وقت لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور ہوئے نہ آپ کی مخالفت کی_ لیکنجب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے معبودوں کی برائی بیان کی تو اس وقت انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف متحد ہوگئے سوائے ان لوگوں کے کہ جن کواللہ تعالی نے اسلام کے ذریعے ان سے بچایا_ یہ لوگ کم بھی تھے اور بے بس بھی_

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کرتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں آپ کا دفاع کیا اور پیغمبراکرم بلاروک ٹوک اعلانیہ حکم الہی بجالاتے رہے_

___________________

۱_ تفسیر نور الثقلین ج۳ص۳۴کہ تفسیر قمی سے نقل کیا ہے_

۲_ اس حدیث کو مفسرین نے نقل کیا ہے اور سیوطی نے در منثور میں، نیز غیر شیعہ مورخین نے بھی واقعہ انذار کے ضمن میں نقل کیا ہے لیکن ہم واضح کرچکے ہیں کہ آیہ انذار میں سارے رشتہ دار مراد نہیں بلکہ فقط قریبی رشتہ دار ہی منظور ہیں_ بنابریں یہ روایت مذکورہ ارشاد الہی (فاصدع بما تو مر) کے ساتھ ہی سازگار معلوم ہوتی ہے_

۴۱

جب قریش نے یہ دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی مخالفت کے باوجود باز نہیں آتے، ان کے معبودوں کو برا بھلا کہنے سے نہیں رکتے اور آپ کے چچا حضرت ابوطالب بھی آپ کی حمایت کرتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش کے حوالے کرنے سے گریزاں ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطالب کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی_ یہ مذاکرات (ا بن اسحاق وغیرہ کے خیال میں) تین مراحل سے گزرے اور سب کے سب بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے_

پہلا مرحلہ:

قریش کے چند سر کردہ افراد (جن کے ناموں کا مورخین نے ذکر کیا ہے) حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور کہا :''اے ابوطالب آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا ہے ہمارے دین کی برائی بیان کی ہے_ ہمارے نظریات کو باطل اور ہمارے آباء و اجداد کو گمراہ قرار دیا ہے پس یاتو آپ خود اس کو روکیں یا ہمارے اور اس کے درمیان حائل نہ ہوں کیونکہ آپ بھی ہماری طرح ( نظریاتیلحاظ سے) اس کے مخالف ہیں_ یوں ہم اس سے آپ کو بھی بچائیں گے''_ حضرت ابوطالبعليه‌السلام نے ان سے نرم گفتگو کی اور اچھے طریقے سے انہیں ٹال دیا چنانچہ وہ چلے گئے_

دوسرا مرحلہ:

جب مشرکین نے دیکھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اپنے مشن پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے دین کی ترویج وتبلیغ میں مصروف ہیں یہاں تک کہ ان کے درمیان معاملہ بگڑنے لگا ہے_ لوگوں میں دشمنی اور اختلاف پیدا ہوچکا ہے اور قریش کے در میان کثرت سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا ذکر ہونے لگا ہے تو وہ حضرت ابوطالب کے پاس گئے اور دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے بھتیجے کو ان کے آباء و اجداد کو برا بھلا کہنے ، ان کے نظریات کو باطل ٹھہرانے اور ان کے خداؤں کو بُرا کہنے سے نہیں روکیں گے تو وہ ان دونوں کے مقابلے پر اترآئیں گے اور ان سے جنگ

۴۲

کریں گے یہاں تک کہ کوئی ایک فریق ہلاک ہوجائے_ اس دھمکی کے بعد وہ چلے گئے_

حضرت ابوطالب نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بات کی اطلاع دی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اور ان کے اوپر رحم کھائیں اور ناقابل برداشت بوجھ نہ ڈالیں حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوچاکہ چچا کا ارادہ بدل چکا ہے اور وہ آپ کی نصرت و حمایت کی طاقت نہیں رکھتے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' اے چچا خدا کی قسم اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تاکہ میں اس امر سے دست بردار ہوجاؤں پھر بھی میں ہرگز باز نہیں آؤں گا یہاں تک کہ خدا اپنے دین کوغالب کر دے یا میں اس دین کی راہ میں قتل ہوجاؤں'' یہ دیکھ کر حضرت ابوطالب نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا وعدہ کیا_

تیسرا مرحلہ:

اس دفعہ قریش نے حضرت ابوطالب کویہ پیشکش کی کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی جگہ عمارة بن ولید کو اپنا بیٹا بنالیں اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو( جن کے بارے میں قریش کا خیال تھا کہ انہوں نے ابوطالب اور ان کے آباء و اجداد کے دین کی مخالفت کی تھی، مشرکین میں اختلاف ڈالا تھا اور ان کی آرزوؤں کو پامال کیا تھا) ان کے حوالے کر دیں تاکہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کریں_ تو اس طرح سے آدمی کا بدلہ آدمی سے ہوجائے گا _

حضرت ابوطالب نے کہا:'' خدا کی قسم تم نے میرے ساتھ نہایت برا سودا کرنے کا ارادہ کیا ہے_ تم چاہتے ہو کہ اپنا بیٹاپلنے کے لئے میرے حوالے کرو اوراس کے بدلے میں میں اپنا بیٹا قتل ہونے کے لئے تمہارے حوالے کردوں _خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوسکتا''_

یہ سن کر مطعم بن عدی نے کہا:'' اے ابوطالب اللہ کی قسم تیری قوم نے تیرے ساتھ انصاف کیا ہے انہوں نے اس چیز (افتراق و انتشار) سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جوتجھے بھی نا پسند ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تو ان کی کوئی بات قبول نہیں کرنا چاہتا''_ حضرت ابوطالب نے کہا:'' واللہ انہوں نے تومیرے ساتھ نا انصافی کی ہے لیکن تونے مجھے بے یار ومددگار بنانے اور لوگوں کو میرے مقابلے میں لاکھڑا

۴۳

کرنے کا ارادہ کیا ہے_ پس تیری جو مرضی ہو وہ کر کے دیکھ لے''_ حضرت ابوطالب کی اس بات کے بعد معاملہ بگڑ گیا مخالفت کا بازار گرم ہوگیا اور لوگوں نے کھلم کھلا دشمنی شروع کردی_

ممکن ہے کہ یہ مراحل اسی ترتیب سے واقع ہوئے ہوں اور ممکن ہے کہ یہ ترتیب نہ رہی ہو_ بہرحال ہم نے جو کچھ کہا وہ ہمارے نزدیک بلا کم و کاست حالات و واقعات کے(۱) طبیعی سفر کی ایک تصویر کشی تھی البتہ اس گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے سے قبل درج ذیل نکات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں_

الف: اس ناکامی کے بعد

ہم نے ملاحظہ کیا کہ مشرکین مکہ نے شروع شروع میں یہ کوشش کی کہ وہ حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ساتھ نہ الجھیں_ چنانچہ انہوں نے خود حضرت ابوطالب کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے موقف سے ہٹائیں اور اس چیز کا خاتمہ کریں جسے وہ اپنے لئے مشکلات اور خطرات کا سرچشمہ سمجھتے تھے_ انہوں نے ابوطالب کو بھڑکانے اور انہیں اپنے بھتیجے کے خلاف یہ سمجھاکر اکسانے کی کوشش کی کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا پیغام ان کے مفادات کے منافی اور دیگر لوگوں کے علاوہ خود حضرت ابوطالب کی ہمدردی و شفقت کو زک پہنچانے کے مترادف ہے_

اس بناپر طبیعی تھا کہ خود حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے کی سرگرمیاں محدود کرتے_ اور قریش کو اس مسئلے سے نجات دلاتے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت ابوطالب نے ان کی بے سروپا باتوں کو تسلیم نہیں کیا اور ان کی ذات اور مفادات کو درپیش خطرات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا تو وہ دھمکی دینے پر اترآئے _ اس کے بعد انہوں نے مکروفریب اور دھوکے کی سیاست اپنائی( جیساکہ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برائے قتل ان کے حوالے کرنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بدلے عمارة بن ولید کو بطورفرزند، حضرت ابوطالب کے حوالے کرنے کی کوشش سے ظاہر ہوتا ہے)اس واقعے نے ان کے دلوں میں پوشیدہ مقصد کو بھی ظاہر کر دیا _ نیز حضرت ابوطالب اور

___________________

۱_ رجوع کریں: سیرت ابن ہشام ج۱ ص۲۸۲،۲۸۶نیز البدء والتاریخ ج۴ص ۴۷،۱۴۹ نیز تاریخ طبری ج ۲ ص ۶۵،۶۸_

۴۴

دیگر لوگوں کیلئے واضح ہوا کہ ان کا مقصد دین حق کومٹانے اور نورالہی کو بجھانے کے علاوہ کچھ بھی نہیں_ اس امرنے حضرت ابوطالب کو دین حق اور پیغمبراسلام کی حمایت پر مزید کمربستہ کر دیا_

ب: قریش کی ہٹ دھرمی کا راز

مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی اور نور الہی کو بجھانے کی کوششوں کا راز درج ذیل امور میں مضمر معلوم ہوتا ہے:

۱)قریش ،مکہ اور دوسرے مقامات کے غریبوں، غلاموں اور کمزوروں سے اپنے مفادات کے حصول کیلئے کام لیتے تھے_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے آکران بیچارے لوگوں کے اندر ایک تازہ روح پھونکی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انسانی عظمت اور حریت کے تصور کو واضح کرنے کی کوشش شروع کی اورساتھ ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی دستگیری کرتے اور مسائل و مشکلات زندگی میں ان کے مددگار ہوتے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کی حقیقت خودان کیلئے آشکارکرتے تھے اور اسلامی تعلیمات سے ان کو بہرہ ور فرماتے تھے _ان تعلیمات کی ابتدائی باتوں میں سے ایک، ان ظالموں کے تسلط اور ظلم سے رہائی کی ضرورت کا مسئلہ بھی تھا_

۲)کفار مکہ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی تبلیغ اور اس کے مقاصد کو دیکھ کر یہ اندازہ کرچکے تھے کہ وہ اس دین کے زیر سایہ اپنے ناجائز امتیازات کو برقرار نہیں رکھ سکتے جنہیں ان ظالموں نے اپنے لئے مخصوص کررکھا تھا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ انہیں رد کر ر ہے تھے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تاکید فرماتے تھے کہ خدا کی عدالت میں سب لوگ مساوی ہیں اس کے علاوہ یہ مشرکین، دین اسلام کے سائے تلے اپنی غیراخلاقی اور غیر انسانی اطوار کو برقرار نہیں رکھ سکتے تھے کیونکہ اسلام مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے آیا تھا اور یہ لوگ اپنے رسوم کے زبردست پابند تھے حتی کہ اپنے ان معبودوں کی عبادت سے بھی زیادہ پابند رسوم تھے جن کی نگہبانی کے وہ دعویدار تھے_ چنانچہ ایک دفعہ ایک عرب نے بھوک لگنے پر اپنے اس خدا کو کھالیا جسے اس نے کھجوروں سے تیار کیاہوا تھا_

۳)تیسرے سبب کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے( وقالوا ان نتبع الهدی معک نتخطف من ارضنا ) (۱) یعنی اگر ہم تمہارے ساتھ ایمان لے آئیں تو اپنی سرزمین سے اچک لئے جائیں گے،

۴۵

بالفاظ دیگر انہوں نے اسلام قبول نہ کرنے کیلئے یہ بہانہ تراشا کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو مشرکین عرب ان کے ایمان لانے اور بتوں کو ٹھکرانے کی وجہ سے ناراض ہوجائیں گے_

قرآن نے اس کا جواب یوں دیا ہے( اولم نمکن لهم حرما آمنا يُجبی الیه ثمرات کل شی رزقا من لدنا ) (۲) کیا ہم نے انہیں امن کے مقام حرم مکہ میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل ہماری دی ہوئی روزی کی بناپر چلے آر ہے ہیں_

بنابرایں اس خوف کی کوئی وجہ نہ تھی نیز اس خوف کے بہانے شرک پر باقی رہنے سے بھی خطرہ ٹل نہیں سکتا تھا کیونکہ کتنی ہی بستیوں کو خدانے ہلاک کرڈالا تھا جن کے مکین نعمتوں کی کثرت کے باعث بہک گئے پھر ان گھروں میں رہنے والا کوئی نہ رہا بلکہ یہی بات دنیا میں ان کی ہلاکت کی وجہ بنی کیونکہ اگر ان تمام امکانات اور مادی وسائل کو صحیح راہوں پر چلانے والے اور حال و مستقبل کے لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر فائدہ مند بنانے والے کوئی قواعد و ضوابط موجود نہ ہوں تو یہی چیزیں باہمی اختلافات، ظلم و استبداد اور معاشرتی و قومی بربادی والے دیگر انحرافات کا باعث بنتی ہیں_

ہر چیز کا اختیار خداکے دست قدرت میں ہے_ جو کوئی بھی اس کی نافرمانی کرتاہے وہ اپنی ذات کو دنیوی اور اخروی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے پھر خدانے ان کیلئے قارون کی مثال بھی دی جس کے پاس اس قدر خزانے تھے جن کی چابیاں اٹھانے سے ایک طاقتورجماعت بھی عاجز تھی_ لیکن جب اس نے ہٹ دھرمی تکبر اور نافرمانی کا مظاہرہ کیا اور احکام الہی کی مخالفت کی تو خدانے اسے گھر سمیت زمین کے اندر دھنسا دیا_

متعلقہ سورہ کی آیات میں عجیب نکتے اور لطیف معانی پوشیدہ ہیں جو مستقل اور عمیق مطالعے کے محتاج ہیں لیکن یہاں اس کی گنجائشے نہیں یہاں ہم اسی اجمال اور اشارے پر اکتفا کرتے ہیں، خداوند عالم توفیق عطا کرنے اور مدد کرنے والا ہے_

___________________

۱ و ۲ _سورہ قصص، آیت ۵۷_

۴۶

مذاکرات کی ناکامی کے بعد

مذاکرات کی ناکامی کے بعدحضرت ابوطالب سمجھ گئے تھےکہ اب معاملہ سنگین صورت اختیار کرچکا ہے اور مشرکین سے کھلی جنگ کا مرحلہ قریب ہے لہذا حضرت ابوطالب نے حفظ ماتقدم کے طورپر بنی ہاشم اور بنی مطلّب سب کو جمع کیا اور ان کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی حمایت و حفاظت کرنے کی دعوت دی تو ابولہب ملعون کے سوا انہوں نے مثبت جواب دیااور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کیلئے آمادہ ہوگئے _

خدانے بھی اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی اور مشرکین آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکے ہاں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مجنون، ساحر، کاہن، اور شاعر کہہ کرپکارتے ر ہے لیکن قرآن ان لوگوں کو جھٹلاتا رہا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم راہ حق پرقائم ر ہے مشرکین کی افتراپردازیاں آپ کو خفیہ و اعلانیہ دعوت حق دینے سے کبھی نہ روک سکیں_

درحقیقت جب مشرکین نے دیکھا کہ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات کو ضرر پہنچانے کا نتیجہ مسلح جھڑپ ہوگا جس کیلئے وہ آمادہ نہ تھے اور خاص کر بنی ہاشم کے روابط اور قبائل کے ساتھ ان کے معاہدوں مثلاً مطیبین کے معاہدہ اور جناب عبدالمطلب کے ساتھ مکہ کے نواح میں رہنے والے قبیلہ خزاعہ کے معاہدے کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ بھی یقیننہ تھا کہ اس جھڑپ کا نتیجہ ان کے حق میں نکلے گا_ بلکہ اگر یہ جنگ چھڑتی تو ممکن تھا کہ اس سے حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا موقع ملتا_(۱) توان تمام باتوں کے پیش نظر مشرکین نے بہتر یہ سمجھا کہ جنگ سے بچا جائے اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کمزور بنانے اور اس کی تبلیغ کا مقابلہ کرنے کیلئے دیگر طریقوں سے کام لیا جائے_

چنانچہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ مشرکین:

الف : لوگوں کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملنے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی آیات قرآن سننے سے منع کرتے تھے جیساکہ

___________________

۱_ بعض محققین کا خیال ہے کہ شاید حضرت ابوطالب نے کبھی نرمی اور کبھی سختی برتنے کی روش اسلئے اختیار کی تاکہ اس قسم کی ایک جنگ چھڑ جائے جس سے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنا پیغام پھیلانے کا بہتر موقع مل جائے_

۴۷

ارشاد الہی ہے:( وهم ینهون عنه وینا وْنَ عنه ) (۱) یعنی وہ قرآن سے دوسروں کو منع کرتے تھے اور خود بھی دوری اختیار کرتے تھے_ نیزفرمایا:( وقال الذین کفروا لا تسمعوا لهذا القرآن و الغوافیه لعلکم تغلبون ) (۲) یعنی کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے وقت شور مچاؤ شاید اس طرح ان پر غالب آسکو_

ب: حضور کا مذاق اڑانے اور آپ پر بے بنیاد تہمتیں لگانے کی روش اختیار کئے ہوئے تھے تاکہ وہ:

۱_ نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات پر دباؤ ڈال سکیں کیونکہ ان کے گمان باطل میں شاید آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نفسیاتی طورپر شکست کھاجائیں گے اور احساس کمتری و حقارت کاشکار ہوکر اپنے مشن سے ہاتھ اٹھا لیں گے_

۲_نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مرتبے کو گھٹاکر نیز آپ کی شخصیت کو مسخ کر کے کمزور ارادے کے مالک افراد کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دین میں داخل ہونے سے روکیں _اسی مقصد کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بیوقوف لوگوں کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کواذیت پہنچائیں اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جھٹلائیں _بسا اوقات قریش کے رو سا بھی اس قسم کے کاموں کا ارتکاب کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے کسی غلام کو حکم دیا کہ وہ حیوان کی اوجھڑی اور گوبر حالت نماز میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر ڈال دے چنانچہ غلام نے اسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کاندھوں پر پھینک دیا _اس بات سے حضرت ابوطالب غضبناک ہوئے اور آ کر وہ گندگی مشرکین کی مونچھوں پر مل دی _اس طرح خدا نے ان کے اوپر رعب طاری کر دیا_ مشرکین آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اوپر مٹی اور بکری کی بچہ دانی وغیرہ بھی ڈالتے تھے_

ان باتوں نے لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دور رکھنے اور انہیں قبول اسلام سے روکنے میں کچھ حد تک اپنا اثردکھایا یہاں تک کہ عروة بن زبیر اور دوسروں کاکہنا ہے کہ مشرکین حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو ناپسند کرتے تھے، وہ اپنے زیر دست افراد کو آپ کے خلاف اکساتے تھے یوں عام لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دوری اختیار کرگئے_(۳)

___________________

۱_سورہ انعام، آیت ۲۶_

۲_ سورہ فصلت، آیت ۲۶_

۳_تاریخ طبری، ج ۲ ص ۶۸_

۴۸

مکہ کے ستم دیدہ مسلمان

مذکورہ باتوں کے علاوہ مشرکین نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان اصحاب سے انتقام لینے کی ٹھانی جو مختلف قبائل میں زندگی گزارتے تھے _چنانچہ ہر قبیلے نے اپنے اندر موجود مسلمانوں کو ستانے، انہیں اپنے دین سے دوبارہ پلٹانے، قیدکرنے، مارنے پیٹنے، بھوکا رکھنے، مکہ کی تپتی زمینوں پر سزا دینے، نیزدیگر ظالمانہ اور وحشیانہ طریقوں سے ان کو اذیت دینے کا سلسلہ شروع کیا_

ذکر مظلوم :

مشرکین نے کئی مسلمانوں پر ستم کیا _ عمر بن خطاب نے بھی قبیلہ بنی عدی کی شاخ بنی مؤمل کی ایک مسلمان لڑکی پر تشدد کیا_ وہ اسے مارتا رہا اور جب وہ مار مار ہلکان ہوگیا تو بولا '' میں تمہیں صرف تھکاوٹ سے تنگ آکر چھوڑ رہا ہوں''(۱) _ شاید قبیلہ بنی مؤمل نے عمر بن خطاب کو اپنے قبیلے کی لڑکی پر تشدد کرنے کی اجازت دے رکھی تھی وگرنہ معاشرے میں اس کی اتنی حیثیت ہی نہیں تھی کہ اسے اس جیسے کام کی کھل چھٹی دے دی جاتی _ اسی طرح مشرکین نے خباب بن الارت ، ام شریک ، مصعب بن عمیر اور دیگر لوگوں پر بھی تشدد کیا جن کے نام اور واقعات کے ذکر کی یہاں گنجائشے نہیں ہے_

انہی لوگوں نے ہمارے لئے توحید اور عقیدے کی خاطر استقامت اور جہاد کی عمدہ مثال پیش کی ہے_ حالانکہ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ارادہ الہی کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو مشرکوں کو اس تشدد سے باز رکھ سکے _ پھر بھی انہوں نے اپنے اسلام کے بل بوتے پر اس پوری دنیا کو چیلنج کیا ہوا تھا جو اپنی تمام تر توانائیوں سمیت ان کے مقابلے پر اتر آئی تھی _ اور اسی چیز میں ہی ان کی عظمت اور خصوصیت پوشیدہ تھی _

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۱ ، سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۰۰ اور ملاحظہ ہو: السیرة النبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۳ اور المحبر ص ۱۸۴_

۴۹

حضرت ابوبکر نے کن کو آزاد کیا؟

راہ خدامیں اذیت پانے والوں میں بلال حبشی اور عامر بن فہیرہ بھی تھے، کہتے ہیں کہ ان کو حضرت ابوبکر نے خرید کر آزاد کیا اور انہیں حضرت ابوبکر کی وجہ سے نجات حاصل ہوئی_ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک مشکوک ہے کیونکہ:

اولا: اسکافی نے کہا ہے'' بلال اور عامربن فہیرہ کو خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آزاد کیاہے''_ اور اسے واقدی اور ابن اسحاق نے بھی نقل کیا ہے_(۱)

علاوہ ازیں ابن شہر آشوب نے بلال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں آزاد شدگان میں شمار کیا ہے_(۲)

ثانیا: اس بارے میں وہ خود متضاد روایتیں ذکر کرتے ہیں جن کا ایک دوسرے سے کوئی ربط ہی نہیں بنتا_

اس سلسلے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ہم حضرت ابوبکر کی طرف سے اداکی جانے والی قیمت میں اختلاف کا ہی ذکر کریں چنانچہ ایک روایت کہتی ہے حضرت ابوبکر نے اس کی قیمت میں اپنا ایک غلام دے دیا جو (بلال) سے زیادہ مضبوط تھا_

دوسری روایت کہتی ہے کہ اس کی قیمت کے طورپر ایک غلام، اس کی بیوی اور بیٹی کے علاوہ دو سو دینار بھی دیئے_

تیسری روایت کی رو سے سات اوقیہ(۳) سونے میں خریدا_

چوتھی روایت کے مطابق نو اوقیہ میں_

___________________

۱_ شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ اور قاموس الرجال ج ۵ ص ۱۹۶ و ج ۲ ص ۲۳۸ کی طرف رجوع کریں_

۲_المناقب ابن شہر آشوب ج ۱ ص ۱۷۱_

۳_ اوقیہ رطل کا بارہواں حصہ جو چو تھائی چھٹانک تک ہوتا ہے_ (المنجد، مترجم)_

۵۰

پانچویں روایت کے مطابق پانچ اوقیہ کے بدلے اور چھٹی روایت کے مطابق ایک رطل(۱) سونے کے عوض خریدا_

ساتویں روایت کا کہنا ہے کہ حضرت ابوبکر نے اسے اپنے غلام قسطاس کے بدلے خریدا جو دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں، غلاموں اور مویشیوں کا مالک تھا_

آٹھویں روایت کی رو سے اس کی قیمت ایک کمبل اور دس اوقیہ چاندی تھی علاوہ بریں اس مسئلے میں مزید اختلاف موجود ہے(۲) _

ثالثا :کہتے ہیں کہ اسی مناسبت سے( فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسره للیسری ) (۳) والی آیات حضرت ابوبکر کے حق میں نازل ہو ئیں(۴) حالانکہ:

۱_ اسکافی نے اسے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک قول کے مطابق یہ آیات مصعب ابن عمیر کے بارے میں اتری ہیں_(۵)

۲_ علاوہ برآں ابن عباس وغیرہ بلکہ خودرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے مروی احادیث میں اس آیت کی تفسیر کو عام قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی فردسے مختص نہیں سمجھا گیا، شیعوں کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت علیعليه‌السلام کے حق میں نازل ہوئی، حلبی نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے احسان چکا دیا تھا اور وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ہاں آپ کا تربیت پانا تھا جبکہ آیات یہ کہتی ہیں کہ اس پرکسی کاکوئی احسان نہیں جس کا چکانا ضروری ہو_ رازی نے بھی یہی اعتراض کیا ہے_(۶)

___________________

۱_ رطل، ایک وزن مساوی ۱۲ اوقیہ کے ہے_ (المنجد، مترجم)_

۲_ گذشتہ اختلافات کے معاملہ میں مراجعہ ہو: سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۲۹۸ و ۲۹۹ ، قاموس الرجال ج ۱ ص ۲۱۶ ، سیر اعلام النبلاء ج۱ ص ۳۵۳، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۱ ص ۳۴۰ ، حلیة الاولیاء ج۱ ص ۱۴۸ اور بہت سے دیگر منابع

۳_ سورہ لیل، آیت ۵،۷_

۴_ درمنثور ء ۶ ص ۳۵۸،۳۹۰ کئی کتب سے ماخوذ نیز السیرة الحلبیة ہ ج ۱ ص ۲۹۹ اور شرح نہج البلاغة (معتزلی) ج ۱۳ ص ۲۷۳ بہ نقل از جاحظ اور عثمانیہ ص ۲۵ _

۵_ شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ ص ۲۷۳_

۶_ السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹_

۵۱

لیکن رازی اور حلبی یہ نہیں جانتے کہ یہاںمرادکچھ اورہے یعنی خدا اس صاحب تقوی شخص کی صفت بیان نہیں کررہا بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ مال جو وہ خرچ کررہا ہے اسلئے خرچ نہیں کر رہا کہ کسی شخص کی طرف سے اس کی جزا ملے بلکہ وہ فقط اور فقط خدا کی مرضی کیلئے خرچ کررہا ہے _

۳_ ابن حاتم کے بیان کے مطابق یہ سورہ سمرة بن جندب کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک درخت کھجور کا مالک تھا اس درخت کی شاخ ایک نادار شخص کے گھر میں تھی_ جب سمرة کھجور چننے درخت پر چڑھتا تو گاہے کچھ دانے گرپڑتے اور نادار شخص کے بچے وہ اٹھالیتے _یہ دیکھ کر سمرة درخت سے اترتا اور ان کے ہاتھوں سے دانے چھین لیتا اوراگر وہ منہ میں ڈال لیتے تو اپنی انگلی ڈال کر کھجور باہر نکال لیتا _پس نادار شخص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس اس کی شکایت کی _اس کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی سمرة سے ملاقات ہوئی ،آپ نے اس سے کہا کہ وہ اس درخت کو جنت کے ایک درخت کے بدلے فروخت کر دے_ سمرة بولامجھے بہت کچھ ملا ہوا ہے میں خرما کے بہت سارے درختوں کا مالک ہوں ان میں سے کسی کا پھل اس درخت کے پھل سے زیادہ مجھے پسند نہیں_

ایک اورشخص جس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ اور سمرة کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی تھی وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس آیا اورعرض کیا کہ اگر میں اس درخت کو حاصل کروں توآپ مجھے وہی چیز عنایت کریں گے جس کا آپ نے سمرة سے وعدہ فرمایا تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے یہ سن کر وہ چلا گیا اور درخت کے مالک سے ملا _پھر خرما کے چالیس درختوں کے بدلے اس نے سمرة سے وہ درخت خرید لیا_ پھر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس گیا اور درخت آپ کو ہدیہ کر دیا_ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ مالک مکان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اب یہ درخت تمہارا اور تمہارے گھروالوں کا ہے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:( واللیل اذا یغشی ) (۱)

اسی لئے سیوطی نے سورہ اللیل کے بارے میں کہا ہے کہ قول معروف کے مطابق یہ سورہ مکی ہے نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ مدنی ہے کیونکہ اس کے سبب نزول میں خرما کے درخت کا واقعہ منقول ہے جیساکہ ہم نے اسباب نزول کے بارے میں ذکر کیا ہے_(۲)

___________________

۱_ درالمنثور ج ۶ ص ۳۵۷ از ابن ابی حاتم از ابن عباس اور تفسیر برہان ج ۴ ص ۴۷۰ از علی ابن ابراہیم ، در منشور سے منقول بات سے کچھ اختلاف کے ساتھ_

۲_ الاتقان ج ۱ ص ۱۴_

۵۲

یہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ منقول واقعہ ان آیات کے ساتھ متناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ آیت کہتی ہے، کسی نے راہ خدا میں مال دیکر تقوی اختیار کیا لیکن کسی نے بخل سے کام لیا اور لاپروائی اختیار کی_

ہاں اگر ان کا عقیدہ یہ ہو کہ بخل کرنے والے سے مراد (نعوذ باللہ ) رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ تھے تو اور بات ہے جبکہ یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال کے فقدان کی صورت میں آپ پر بخل صادق نہیں آتا، نیز خود یہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے_ یا پھر بخلکرنے والے سے مراد جناب عباس تھے جن کے بارے میں روایات کہتی ہیں کہ اس نے جاکر بلال کو خریدا اور ابوبکر کے پاس بھیجا پھر انہوں نے بلال کو آزاد کیا_

۴_ حدیث غار میں ہم حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کریں گے کہ قرآن میں آل ابوبکر کے بارے میں کوئی آیت نازل ہی نہیں ہوئی_ ہاں حضرت عائشہ کا عذر نازل ہوا یعنی سورہ نور میں حدیث افک (تہمت) سے متعلق آیات اور حضرت عائشہ کی اپنے متعلق صفائی بھی نازل ہوئی_ لیکن درحقیقت وہ آیت بھی حضرت عائشہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی جیساکہ ہم نے اپنی کتاب حدیث الافک میں اس کا تذکرہ کیا ہے_

رابعاً: یہ بات بھی ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یہ کیونکر فرمایا کہ اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مال ہوتا تو بلال کو خرید لیتے کیونکہ ایک طرف تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ قول ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت ابوبکر سے بلال کو مشترکہ طور پر خریدنے کا تقاضا کیا تو ابوبکر نے بتایا کہ اس نے بلال کو آزاد کر دیا ہے_(۱) وہ ان دو اقوال کے درمیان کیسے ہماہنگی پیدا کرسکتے ہیں؟ علاوہ برایں کیا حضرت خدیجہ (س) کے اموال آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اختیار میں نہ تھے؟ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ کے مسلمانوں پر یہ اموال خرچ نہ کرتے تھے؟ جیساکہ اسماء بنت عمیس کو حضرت عمرنے ہجرت کے شرف سے محروم رہنے کا طعنہ دیا تو اس نے جواب میں کہا: ''بے شک وہ اور اس کے دیگر مسلمان ساتھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے ساتھ تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھوکوں کو سیر کراتے اور جاہلوں کو علم سکھاتے تھے'' اس واقعے کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ اپنے مقام پرہوگا_

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۱۶۵_

۵۳

رہا اس بات کا احتمال کہ بلال والا واقعہ ہجرت سے قبل کے آخری سالوں میں واقع ہوا ہے تو اسے مورخین قبول نہیں کرتے کیونکہ نووی کہتے ہیں '' وہ اعلان نبوت کی ابتدا میں مسلمان ہوئے وہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والوں میں سے تھے''_(۱) مگر یہ کہا جائے کہ بلال مسلمان تو بہت پہلے ہوگئے تھے لیکن کچھ سال بعد انہیں خرید کر آزاد کیا گیا تھا_

ان ساری باتوں کے علاوہ یہ بھی روایت ہوئی ہے کہ حضرت بلال کو حضرت عباس نے خرید کر حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا اور انہوں نے اسے آزاد کیا_(۲) بعض دیگر روایات کہتی ہیں کہ حضرت بلال کو حضرت ابوبکر نے بذات خود خرید کر آزاد کیا_ نیز ایسی روایات بھی ملتی ہیں جو کہتی کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی وفات ہوئی تو حضرت بلال نے ابوبکر سے کہا ''اگر تم نے مجھے اپنے لئے خریدا تھا تو اپنا غلام بنائے رکھو اور اگر رضائے الہی کیلئے خریدا تھا تو پھر مجھے آزاد کردو''_

اس روایت کی رو سے تو وفات رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو آزاد نہیں کیا تھا_ رہی حضرت عباس کے حضرت بلال کو خریدنے کی بات تو یہاں ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت عباس نے اگر بلال کو اپنے لئے خریدا تھا تو انہوں نے خود حضرت بلال کو آزاد کیوں نہیں کیا؟ اور اگرحضرت عباس نے حضرت ابوبکر کے لئے خریدا تھا تو وہ حضرت ابوبکر کے وکیل کب بنے تھے؟ اور اس قسم کے کاموں میں کب سے دلچسپی لینے لگے تھے؟ جبکہ انہی لوگوں کے بقول حضرت عباس نے فتح مکہ کے سال یا جنگ بدر میں اسلام قبول کیا تھا_

بعض لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ حضرت عباس نے امیة بن خلف سے بات کی پھر حضرت ابوبکرنے آکر حضرت بلال کو خریدلیا_(۳) یہ تو نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے _ زمانے کا دستور نرالا ہوتاہے_

گذشتہ نکات کے علاوہ اس بات کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ خود حضرت ابوبکر کے معاشی

___________________

۱_تہذیب الاسماء و اللغات ج ۱ ص ۱۳۶_

۲_سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۳_ سیرت نبویہ از دحلان ج ۱ ص ۱۲۶ و السیرة الحلبیة ج ۱ ص ۲۹۹ نیز رجوع کریں المصنف ج ۱ ص ۲۳۴ کی طرف_

۵۴

حالات اس بات کی اجازت کب دیتے تھے کہ وہ کئی سو دینار دے سکتے؟ چہ جائیکہ ان کاایک غلام دس ہزار دینار کے علاوہ کنیزوں اور مویشیوں وغیرہ کا بھی مالک ہو( اگرچہ ہم فرض بھی کرلیں کہ اس دور میں عربوں کے غلام مال و دولت کے مالک بھی بن سکتے تھے) کیونکہ حضرت ابوبکر تاجر نہ تھے بلکہ چھوٹے بچوں کے استاد تھے پس ان کے پاس ہزاروں یاکم از کم سینکڑوں درہم و دینار کہاں سے آگئے تھے کہ جس سے سات یا نو افرادکو خرید کر آزاد کرتے_ غار والے واقعہ پر بحث کے دوران ہم انشاء اللہ حضرت ابوبکر کی مال و دولت کے بارے میں بھی اشارہ کریں گے_

بعض لوگوں نے تو حضرت ابوبکر سے منسوب غلاموں میں سے کئی ایک کے وجود میں ہی شک کیا ہے بالخصوص زنیرہ وغیرہ کے بارے میں_ جس کے متعلق سہیلی نے کہا ہے کہ عورتوں میں زنیرہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا_(۱)

سید حسنی کہتے ہیں: ''قریش ایمان لانے والوں کو سزائیں دیتے تھے تاکہ اسلام نہ پھیلے _وہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہرقسم کا قیمتی اور نفیس مال دینے پر آمادہ تھے تاکہ وہ اپنے مشن سے دست بردار ہوجائیں _اس صورت میں قریش حضرت ابوبکر کے حق میں اپنے غلاموں سے کیسے دست بردار ہوسکتے تھے؟ اور ان کو سزا دیئے بغیر اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ سکتے تھے''(۲) مگریہ کہاجائے کہ مال و دولت سے قریش کی محبت اور ساتھ ساتھ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان کی مایوسی کے سبب انہوں نے ایسا کیا (جیساکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے)_

کیا حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کیں؟

مؤرخین کہتے ہیں کہ اسلام کی راہ میں حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں برداشت کی ہیں_ کیونکہ جب ابوبکر اور طلحہ بن عبداللہ تیمی نے اسلام قبول کیا تو عمر بن عثمان نے دونوں کو پکڑکر ایک رسی میں ایک ساتھ باندھ دیا اور نوفل بن خویلد نے ان پر تشدد کرکے انہیں دین سے پھیرنے کی کوشش کی_ اسی لئے ابوبکر اور طلحہ کو'' قرینین ''

___________________

۱_ الروض الانف ج ۲ ص ۷۸_

۲_سیرة المصطفی ص ۱۴۹_

۵۵

کہا جاتا ہے _ البتہ بعض مؤرخین کے مطابق انہیں باندھ کر ان پر تشدد کرنے والا صرف نوفل ہی ہے جبکہ اس دوران عمر بن عثمان کا کہیں ذکر ہی نہیں ملتا(۱) اس کے باوجود بھی ہم دیکھتے ہیں کہ :

۱_ وہ خود ہی کہتے ہیں'' خدانے حضرت ابوبکر کی حفاظت اس کی قوم کے ذریعہ سے کی ''(۲) اور یہ ان کے اس قول '' حضرت ابوبکر نے بھی تکلیفیں اٹھائیں'' کے بالکل متضاد ہے_ اسی طرح ابن دغنہ کے اس قول ''اسے قوم سے نکال دیا گیا'' سے بھی متناقض ہے_

۲_ سیرت کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جس قبیلہ سے بھی کوئی شخص اسلام لاتا تو صرف وہی قبیلہ اس پر تشدد کرتا تھا_ دوسرے قبیلہ والوں کو اس پر تشدد کرنے کی جرات نہیں ہوتی تھی_

۳_ اسکافی نے بھی یہی کہا ہے کہ ہمیں تو صرف یہ معلوم ہے کہ یہ تشدد صرف غلاموں یا کرائے کے غنڈوں کے ذریعہ سے ہوتا اور اس شخص پر ہوتا جس کی حمایت کرنے والا کوئی خاندان نہیں ہوتا تھا_(۳) اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جناب ابوبکر بڑے قابل اطاعت سردار اور بزرگ تھے_(۴) جس کے منتظر بزرگان قریش بھی رہتے تھے اور اس کی عدم موجودگی میں کوئی بھی فیصلہ نہیں کرتے تھے_ حتی کہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معاملے میں بھی (جیسا کہ ابوبکر کے اسلام لانے والے واقعہ میں گذر چکا ہے) اسی کے پاس کوئی قطعی فیصلہ کرنے آئے تھے_ ان کی تعریفوں کے مطابق وہ بلند پایہ شخصیت ، بزرگ سردار اور قریش کے محترم رئیس تھے_(۵) پھر جناب ابوبکر اس گروہ سے کیسے ستائے گئے جو ان کے قبیلے سے بھی

___________________

۱_ اس بارے میں ملاحضہ ہو : العثمانیہ جاحظ ص ۲۷و ۲۸ ، شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۳، سیرة ابن ہشام ج ۱ ص ۳۰۱، نسب قریش مصعب زبیری ص ۲۳۰، البدایہ و النہایہ ج ۲ ص ۲۹ ، بیہقی اور مستدرک حاکم ج ۳ ص ۳۶۹ اور البدء و التاریخ ج ۵ ص ۸۲_

۲_ البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۸ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۲۸۴ حاکم نے بھی اور ذہبی نے بھی اس کی تلخیص کے حاشیہ میں اس قول کو صحیح جانا ہے ، حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۹، استیعاب ج ۱ ص ۱۴۱، سنن احمد ، سنن ابن ماجہ ، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۶، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۶از کنز العمال ج ۷ ص ۱۴از ابن ابی شیبہ اور طبقات الکبری ابن سعد مطبوعہ صادر ج ۳ ص ۲۳۳_

۳_ شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵_ ۴_ ملاحظہ ہو : شرح نہج البلاغہ معتزلی ج ۱۳ ص ۲۵۵، سیرہ نبویہ دحلان ج ۱ ص ۱۲۳ اور سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۲۷۳_ ۵_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۳ اور البدایہ و النہایہ ج ۳ ص ۲۶_

۵۶

نہ تھے؟ اور اس کی قوم نے اپنے سردار اور بلند پایہ شخصیت کو ایسے کیسے چھوڑدیا کہ وہ لوگ اس کی توہین کرتے رہیں؟اور ابن ہشام و غیرہ کے مطابق :'' اپنی قوم کا مونس ، محبت کرنے والا اور نرم خو تھا '' حتی کہ وہ کہتا ہے ''اس کی قوم کے افراد اس کے پاس جاکر کئی ایک امور کے لئے اس کی حمایت حاصل کرتے(۱) اور ابن دغنہ کے زعم میں : '' ایسے شخص کو کیونکر نکالا جاسکتا ہے؟ کیا تم ایسے شخص کو نکال باہر کر رہے جو گمنامی کا طالب ہے ، صلہ رحمی کرتاہے ، دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے ، مہمان نوا ز اور زمانے کی مصیبتوں پر دوسروں کا مدد گار ہے؟''(۲) _

توجہ : یہ ا لفاظ تقریباً وہی الفاظ ہیں جو وقت بعثت حضرت خدیجہ نے حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلجوئی کے لئے کہے تھے_ ان الفاظ کو ابن دغنہ نے جناب ابوبکر کے ہجرت حبشہ کے وقت اس کے حق میں کہے ہیں جن کا سقم آئندہ معلوم ہوگا _یہاں بس پڑھتے جائیں ، سنتے جائیں اور پیش آیند پر تعجب بھی کرتے جائیں_ سنتا جاشرماتاجا _

پہلانکتہ : کیا حضرت ابوبکر قبیلہ کے سردار تھے؟

گذشتہ تمام باتیں ہم نے صرف ان کی باتوں کے اختلاف اور تناقض کو بیان کرنے کے لئے ذکر کی ہیں_ کیونکہ اگر ایک بات صحیح ہے تو دوسری صحیح نہیں ہے_ وگرنہ ہمیں ابوبکر کے عظیم سردار اور قابل اطاعت بزرگ ہونے میں شک ہے ، کیونکہ :

۱_ حضرت ابوبکر جب ابوسفیان کے ساتھ حج کوگئے تو (وقت تلبیہ) اس نے اپنی آواز ابوسفیان کی آواز سے اونچی رکھی ، ابوقحافہ نے اس سے کہا :'' ابوبکر اپنی آواز ابن حرب کی آواز سے دھیمی رکھو'' جس پر ابوبکر نے کہا :'' اے ابوقحافہ خدا نے اسلام میں وہ گھر بنائے ہیں جو پہلے نہیں بنے تھے اور وہ گھر ڈھادیئےیں جو زمانہ جاہلیت میں بنے ہوئے تھے_ اور ابوسفیان کا گھر بھی ڈھائے جانے والے گھروں میں سے ہے''_(۳)

۲_ جب ابوبکر کی بیعت کی جا رہی تھی تو ابوسفیان چلا اٹھا: '' امر خلافت کے لئے قریش کا سب سے پست

___________________

۱_ سیرہ ابن ہشام ج ۱ ص ۳۶۷ اور سیرہ نبویہ ابن کثیر ص ۴۳۷_

۲_ سیرہ حلبیہ ج ۱ ص ۱۰۳ اور اس بارے میں مزید منابع کا ذکر ہجرت ابوبکر کی بحث کی دوران ہوگا ان شاء اللہ _

۳_ ملاحظہ ہو : النزاع و التخاصم مقریزی ص ۱۹ اور اسی ماخذ سے ذکر کرتے ہوئے الغدیر ج ۳ ص ۳۵۳_

۵۷

گھرانہ تم پر غالب آگیا ہے'' اور حاکم کی عبارت میںیوں آبا ہے '' اس امر خلافت کا کیا ہوگا جو قریش کے سب سے کم مرتبہ اور ذلیل شخص یعنی ابوبکر کے پاس آیا ہے''(۱) جبکہ بلاذری کی عبارت یوں ہے: ''ابوسفیان نے حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آکر کہا ہے '' یا علیعليه‌السلام تم لوگوں نے قریش کے ذلیل ترین قبیلے کے آدمی کی بیعت کی ہے''(۲)

۳_ شاعر عوف بن عطیہ کا کہنا ہے:

و اما الا لامان بنوعدی ---- و تیم حین تزد حم الامور

فلا تشهد بهم فتیان حرب ---- و لکن ادن من حلیب و عیر

اذا رهنوا رماحهم بزبد ---- فان رماح تیم لا تضیر(۳)

اور قبیلہ بنی عدی اور تیم تو مشکلات کی بھیڑ میں واویلا کرنے والے پست اور بے صبرے ہیں_ انہیں کوئی جنگجو نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ایک جماعت اور قافلے سے بھی مغلوب ہونے والے ہیں_ انہیں مکھن (چکنی چپڑی باتوں) کے بدلے میں نیزے گروی رکھ لینے چاہئیں کیونکہ اب ان کے نیزے کسی کام کے نہیں ہیں_

___________________

۱_ ملاحظہ ہو : المصنف عبدالرزاق ج ۵ ص ۴۵۱ ، مستدرک حاکم ج ۳ ص ۷۸ از ابن عساکرو ابواحمد دہقان ، الکامل ابن اثیر ج ۲ ص ۳۲۶، تاریخ طبری ج ۲ ص ۹۴۴، النزاع و التخاصم ص ۱۹ اور کنز العمال ج ۵ ص ۳۸۳و ۳۸۵از ابن عساکروابواحمد دہقان_

۲_ انساب الاشراف بلاذری (حصہ حیات طیبہ) ص ۵۸۸ _(اسی طرح منہاج الراعہ شرح نہج البلاغہ حبیب اللہ خوئی کے ترجمہ اردو ج ۳ ص ۵۰ پر جناب ابوبکر کے خاندانی پس منظر کے ذکر کے بعد آیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر مسند اقتدار پر فائز ہوئے تو ابوسفیان نے ان کا خاندانی پس منظر یاد کرکے حضرت علیعليه‌السلام سے کہا:'' ارضیتم یا بنی عبد مناف ان یلی علیکم تیمی رذل'' اے بنی عبد مناف کیا تم ایک رذیل تیمی کی حکومت پر راضی ہوچکے ہو؟ ''حاکم نیشاپوری اور ان حجر نے لکھا ہے کہ جب ابوقحافہ نے اپنے بیٹے کی حکومت کا سناتو کہا : '' کیا بنی عبدمناف اور بنی مغیرہ میرے بیٹے کی حکومت پر راضی ہوگئے؟ '' لوگوں نے بتایا : '' جی ہاں'' تو اس وقت اس نے کہا تھا :'' اللهم لا واضع لما رفعت و لا رافع لما وضعت '' خدایا جسے تو بلند کرے اسے کوئی پست نہیں کرسکتا اور جسے تو پست کرے اسے کوئی بلندی نہیں دے سکتا_ اگر چہ کہ ابوسفیان کی باتیں نیک نیتی کی بناپر نہیں تھیں لیکن اس سے دو باتوں کا علم ہوتا ہے : ۱_ حضرت ابوبکر نہ صرف قبیلہ کے رئیس نہیں تھے بلکہ ان کا خاندانی پس منظر بھی کچھ قابل ذکر نہیں ہے اس لئے تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے حضرت ابوبکر کی دولت سے اپنے نبی کو مالامال کردیا تھا_۲_ حضرت علیعليه‌السلام ہر لحاظ سے خلافت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زیادہ حقدار تھے _ اسی لئے ابوسفیان صرف حضرت علیعليه‌السلام کے پاس آیا تا کہ وہ حق دار ہونے کی بنا پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاکر ابوسفیان اپنے مقاصد حاصل کرے گا لیکن حضرت علیعليه‌السلام نے اس کے ارادے بھانپ لئے تھے اور مناسب جواب دیا تھا _ از مترجم)_ ۳_ طبقات الشعراء ابن سلام ص ۳۸_

۵۸

دوسرا نکتہ :

دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں :'' ابوبکر اظہار اسلام کرنے والا پہلا شخص ہے جس کی قوم نے اس کی حمایت کی'' یا'' جس پر اسے اتنا ماراگیا کہ وہ مرنے کے قریب ہوگیا ''(۱) تو ان لوگوں کی مذکور باتوں کو بہت ساری گذشتہ باتیں بھی جھٹلاتی ہیں اور یہاں پر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ دعوت اسلام کے اعلان کرنے والی سب سے پہلی شخصیت رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات والا صفات تھی جناب ابوبکر نہیں تھے_ اور مذکورہ بات تو ان متضاد باتوں کے علاوہ ہے جو یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا تھا ، کبھی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے کیا تھا اور یہاں پر وہ یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر نے ایسا کیا تھا؟ (حافظہ کہاںگیا؟)

اسی طرح ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ ابوبکر کا اظہار اسلام اس وقت تھا جب مسلمانوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچ گئی تھی اور حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرماتھے_ جبکہ ہم پہلے یہ بتاچکے ہیں کہ ابوبکر تو اس وقت تک بھی اسلام نہیں لائے تھے کیونکہ وہ پچاس سے زیادہ افراد کے اسلام لانے کے بعد مسلمان ہوئے تھے_ مگر یہ کہا جائے کہ اس روایت کا مقصد یہ ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد اسلام لانے والوں کی تعداد ۳۸ افراد تک پہنچنے کے بعد ابوبکر مسلمان ہوا تھا_ لیکن یہ بات بھی روایت کی اس تصریح کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتی جس میں آیاہے کہ ابوبکر کا مسلمان ہونا جناب حمزہ کے اسلام لانے کے دن تھا جس وقت نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ارقم کے گھر میں تشریف فرما تھے_

اسلام میں سب سے پہلی شہادت

قریش کے ہاتھوں آل یاسرکو سخت ترین سزائیں دی گئیں نتیجتاً حضرت عمار کی ماں حضرت سمیہ، فرعون قریش ابوجہل (لعنة اللہ علیہ) کے ہاتھوں شہید ہوگئیں وہ اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی سب سے پہلی

___________________

۱_ سیرہ نبویہ ابن کثیر ج ۱ ص ۴۳۹ تا ۴۴۹ ، البدایہ و النہایة ج ۳ ص ۳۰ ، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۲۹۴ اور الغدیر ج ۷ ص ۳۲۲ از تاریخ الخمیس و الریاض النضرہ ج ۱ ص ۴۶_

۵۹

ہستی ہیں_(۱) حضرت سمیہ کے بعد حضرت یاسر (رحمة اللہ علیہ) شہید ہوئے_البتہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے پہلے شہید حضرت حارث ابن ابوہالہ ہیں_ وہ اس طرح کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسجد الحرام میں کھڑے ہو کر فرمایا: '' اے لوگو لا الہ الا اللہ کہو تاکہ نجات پاؤ ''یہ سن کر قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ٹوٹ پڑے، سب سے پہلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فریاد رسی کیلئے پہنچنے والا یہی حارث تھا اس نے قریش پر حملہ کرکے انہیں آپ کے پاس سے ہٹایا جبکہ قریش نے حارث کارخ کیا اور اسے قتل کر دیا_(۲)

لیکن یہ واقعہ درست نہیں کیونکہ (جیساکہ پہلے ذکر ہوچکا) خدانے حضرت ابوطالب اور بنی ہاشم کے ذریعے اپنے نبی کی حفاظت کی، چنانچہ قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بال بھی بیکا کرنے کی جر ات نہ کرسکے_اسی طرح بنی ہاشم کے دوسرے ایمان لانے والوں کی حالت ہے کیونکہ وہ لوگ حضرت جعفر (رض) حضرت علیعليه‌السلام اور دیگر افراد پر بھی حضرت ابوطالب کے مقام کی وجہ سے تشدد نہیں کرسکے_

علاوہ برایں مورخین کا تقریبا ًاتفاق ہے کہ اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہادت حضرت سمیہ اور اس کے شوہر حضرت یاسر کو نصیب ہوئی مزید یہ کہ اعلانیہ تبلیغ کی کیفیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مذکورہ باتوں کے صریحاً منافی ہے (عنوان '' فاصدع بما تؤمر'' کا مطالعہ فرمائیں)_

یہاں ہمارے خیال کے مطابق اس واقعے کو گھڑنے کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ حضرت خدیجہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کرنے سے قبل ایک یا ایک سے زیادہ بار شادی کی تھی اور ان دونوں سے ان کی اولاد ہوئی لیکن قبل ازیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے ان کی شادی کی بحث میں اس کا ذکر ہوچکا ہے جو مذکورہ بالا بات کو مشکوک ظاہر کرتی ہے_

عمار بن یاسر

بنی مخزوم نے عمار بن یاسر کوبھی زبردست اذیتیں پہنچائیں یہاں تک کہ وہ قریش کی من پسند بات کہنے پر

___________________

۱ _ الاستیعاب حاشیہ الاصابہ ج ۴ ص ۳۳۰ و ۳۳۱ و ۳۳۳ ، الاصابہ ج۴ ص ۳۳۴ و ۳۳۵، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۱ ص ۴۹۵، اسد الغابہ ج۵ ص ۴۸۱ اور تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۸_

۲_ نور القبس ص ۲۷۵ از شرقی ابن قطامی، الاصابة ج ۱ ص ۲۹۳ از کلبی، ابن حزم اور عسکری نیز الاوائل ج ۱ ص ۳۱۱،۳۱۲_

۶۰

مجبور ہوئے اور یوں انہوں نے عمار کو چھوڑ دیا_ اس کے بعد وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ جب تک میں نے مجبور ہوکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا نہیں کہا اور ان کے معبودوں کی تعریف نہیں کی تب تک انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''اے عمار تیری قلبی کیفیت کیسی ہے؟'' عرض کیا ''یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ میرا دل تو ایمان سے لبریز ہے''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''پس کوئی حرج نہیں بلکہ اگر وہ دوبارہ تمہیں مجبور کریں توتم پھر وہی کہو جو وہ چاہیں_ بے شک خدانے تیرے بارے میں یہ آیت نازل کی ہے( الا من اکره وقلبه مطمئن بالایمان ) مگرجس پر جبر کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان سے لبریز ہو_(۱)

تقیہ کتاب وسنت کی روشنی میں

۱_حضرت عمار کا قصہ اور اس کے بارے میں آیات کا نزول، جان ومال کا خوف در پیش ہونے کی صورت میں تقیہ کے جواز کی دلیل ہے_

۲_علاوہ ازیں خدا کا یہ ارشاد بھی جواز تقیہ کی دلیل ہے( ومن یفعل ذلک فلیس من الله فی شی الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) یعنی جو بھی ایسا کرے (یعنی کفار کو اپنا ولی بنائے) اس کاخدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں_(۳)

۳_نیز یہ آیت بھی تقیہ کو ثابت کرتی ہے( قال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله ) (۴) یعنی آل فرعون کے ایک شخص نے جو اپنے ایمان کو چھپائے رکھتا تھا کہا: ''کیا تم ایک شخص کو اس جرم میں قتل کرتے ہو کہ وہ خدائے واحد کا اقرار کرتا ہے''_ اس آیت کو منسوخ قرار دینا غلط اور بے دلیل ہے بلکہ اس کا منسوخ نہ ہونا ثابت ہے، جیساکہ جناب

___________________

۱_ سورہ نحل، آیت ۱۰۶ ، رجوع کریں: حلیة الاولیاء ج ۱ ص ۱۴۰، تفسیر طبری ج ۴ ص ۱۱۲ اور حاشیہ پر تفسیر نیشاپوری اور بہت سی دیگر کتب_

۲_ سورہ آل عمران، آیت ۲۸_ ۳_ تقیہ کے متعلق مزید مطالعہ کے لئے: احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۹ ، تقویة الایمان ص ۳۸ ، صحیح بخاری مطبوعہ میمنہ ج ۴ ص ۱۲۸ اور دیگر متعلقہ کتب ۴_ سورہ غافر، آیت ۲۸_

۶۱

یعقوب کلینی نے عبداللہ بن سلیمان سے نقل کیا ہے کہ سلیمان نے کہا:'' میں نے ابوجعفر (امام باقرعليه‌السلام ) سے سنا جبکہ آپ کے پاس عثمان اعمی نامی ایک بصری بیٹھا تھا ، جب اس نے کہا کہ حسن بصری کا قول ہے ''جو لوگ علم کو چھپاتے ہیں ان کے شکم کی ہوا سے اہل جہنم کواذیت ہوگی''_ تو آپ نے فرمایا:''اس صورت میں تو مومن آل فرعون تباہ ہوجائے گا، جب سے خدانے حضرت نوحعليه‌السلام کو مبعوث کیا علم مستور چلا آرہا ہے _حسن دائیں بائیں جس قدر چاہے پھرے خدا کی قسم علم سوائے یہاں کے کہیں اور پایا نہ جائے گا''_(۱) مذکورہ آیت سے امامعليه‌السلام کا استدلال اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے منسوخ نہ ہونے پرعلماء کا اتفاق تھا_رہی سنت نبوی تو اس سے ہم درج ذیل دلائل کا ذکر کریں گے_

سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں تقیہ

۱_ جناب ابوذرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی ہے کہ حضور کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :'' عنقریب تمہارے اوپر ایسے حاکم مسلط ہوں گے جو نماز کا حلیہ بگاڑدیں گے_ اگر تم ان کے زمانے میں رہے تو تم اپنی نماز وقت پر پڑھتے رہو لیکن ان کے ساتھ بھی بطور نافلہ نماز پڑھ لیا کرو ...''(۲) اور اس سے ملتی جلتی دیگر احادیث(۳)

۲) مسیلمہ کذاب کے پاس دو آدمی لائے گئے اس نے ایک سے کہا :''کیاتم جانتے ہو کہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ہوں''_ اس نے جواب دیا: '' اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ''_مسیلمہ نے اسے قتل کردیا پھر دوسرے سے کہا تو اس نے جواب دیا:'' تم اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں اللہ کے نبی ہو ''_یہ سن کر مسلیمہ نے اسے چھوڑ دیا_ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' پہلا شخص اپنے عزم ویقین پر قائم رہا لیکن دوسرے نے اس راہ کو اختیار کیا جس کی خدا نے اجازت دی ہے پس اس پر کوئی عقاب نہیں''_(۴)

___________________

۱_ اصول کافی ص ۴۰،۴۱ (منشورات المکتبة الاسلامیة )نیز وسائل جلد ۱۸ص ۸_

۲_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۵۹_

۳_ مسند احمد ج ۵ ص ۱۶۰، ۱۶۸_

۴_ محاضرات الادباء ، راغب اصفہانی ج ۴ص ۴۰۸اور ۴۰۹ ، احکام القرآن جصاص ج۲ ص ۱۰ اور سعد السعود ص ۱۳۷_

۶۲

۳) سہمی نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے روایت کی ہے''لا دین لمن لا ثقة له'' (۱) بظاہر یہاں لفظ ثقہ کی بجائے لفظ تقیہ مناسب اور درست ہے یعنی جو تقیہ نہیں کرتا وہ دین نہیں رکھتا جیساکہ شیعوں کی اہل بیتعليه‌السلام سے مروی روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں(۲) _

۴) حضرت عمار یاسر کا معروف واقعہ اور حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمار سے فرمانا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو تم بھی گذشتہ عمل کا تکرار کرو یہ بات احادیث وتفسیر کی مختلف کتابوں میں مذکور ہے اور اسی مناسبت سے آیت( من کفر بالله بعد ایمانه ، الاّ من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۳) نازل ہوئی تھی_

۵) نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا بذات خود تقیہ فرمانا کیونکہ آپ تین یا پانچ سالوں تک خفیہ تبلیغ کرتے رہے جو سب کے نزدیک مسلمہ اور اجماعی ہے اور کسی کیلئے شک کی گنجائشے نہیں اگر چہ کہ ہم نے وہاں بتایا تھا کہ حقیقت امر صرف یہی نہیں تھا_

۶) اسلام کفار کو بعض حالات میں اجازت دیتا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں یا قتل ہونے کیلئے تیار ہوجائیں_ واضح ہے کہ یہ بھی تقیہ کی ترغیب ہے کیونکہ اس قسم کے حالات میں قبول اسلام جان کی حفاظت کیلئے ہی ہوسکتا ہے پختہ عقیدہ کی بناپر نہیں_اسلامی معاشرے میں اس امید کے ساتھ منافقین کو رہنے کی اجازت دینا اور ان کے ساتھ اسلامی بھائی چارے کے مطابق سلوک کرنا کہ وہ اسلام کے ساتھ تعاون کریں گے اور ان کے دلوں میں ایمان مستحکم ہوجائے گا بھی اسی طرح ہے _

۷) فتح خیبر کے موقع پر حجاج بن علاط نے نبی کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا :'' مکہ میں میرا کچھ مال اور رشتہ دار ہیں اور میں انہیں وہاں سے لے آنا چاہتا ہوں _ پس اگر مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برا بھلا کہنا بھی پڑا تو کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت ہوگی؟'' تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدانے اجازت دے دی کہ جو کچھ کہے کہہ سکتا ہے(۴)

___________________

۱_ تاریخ جرجان ص ۲۰۱ _

۲_ ملاحظہ ہو : کافی (اصول) ج۲ ص ۲۱۷ مطبوعہ آخندی، وسائل الشیعہ ج۱۱ ص ۴۶۵اور میزان الحکمت ج۱۰ ص ۶۶۶ و ۶۶۷_

۳_ سورہ نمل آیت ۱۰۶اور ملاحظہ ہو فتح الباری ج۱۲ ص ۲۷۷ و ۲۷۸_

۴_ دراسات فی الکافی و الصحیح ص ۳۳۸ از سیرہ حلبیہ_

۶۳

تاریخ سے مثالیں

۱) ایک شخص نے ابن عمر سے پوچھا: ''کیا میں حکام کو زکوة دوں''؟ ابن عمر نے کہا : ''اسے فقراء اورمساکین کے حوالے کرو'' راوی کہتا ہے کہ پس حسن نے مجھ سے کہا : ''کیا میں نے تجھ سے کہا نہیں تھا کہ جب ابن عمر خوف محسوس نہیں کرتا، تو کہتا ہے زکوة فقیروں اور مسکینوں کو دو''_(۱)

۲) علماء نے دعوی کیا ہے کہ انس بن مالک نے رکوع سے قبل قنوت والی حدیث کو اپنے زمانے کے بعض حکام سے تقیہ کی بناپر روایت کیا ہے(۲)

۳) عباس بن حسن نے اپنے محرروں اور خاص ندیموں سے مکتفی کے مرنے کے بعد خلافت کے اہل آدمی کے متعلق مشورہ لیا تو ابن فرات نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ ہر کسی سے علیحدگی میں مشورہ کرے تا کہ اس کی صحیح رائے معلوم ہوسکے دوسرے لوگوں کی موجودگی میں ہوسکتا ہے تقیہ کرتے ہوئے وہ اپنی رائے پیش نہ کرسکا ہو اور دوسروں کا ساتھ دیا ہو اس بات پر اس نے کہا : ''سچ کہتے ہو'' _ پھر اس نے ویسا ہی کیا جیسا ابن فرات نے کہا تھا(۳)

۴) بیعت عقبہ میں جناب رسول خدا اور جناب حمزہ نے تقیہ فرمایا تھا جس کے متعلق روایتیں علیحدہ فصل میں بیان ہوں گی_

۵) ایوب سے مروی ہے کہ میں جب بھی حسن سے زکوة کے بارے میں سوال کرتاتو کبھی وہ یہ کہتا حکام کو دے دو اور کبھی کہتا ان کو نہ دو_ مگر یہ کہا جائے کہ حسن کی جانب سے یہ تردید اس بارے میں شرعی مسئلہ کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے تھی(۴)

۶) محمد بن حنفیہ کے ایک خطبے میں یوں بیان ہوا ہے، امت سے جدا نہ ہونا ان لوگوں (بنی امیہ) سے تقیہ کے ذریعے سے بچتے رہو ، اور ان سے جنگ نہ کرو،راوی نے کہا :''ان سے تقیہ کرنے سے کیا مراد ہے؟'' کہا :''جب وہ بلائیں تو ان کے پاس حاضری دینا_یوں خدا تجھ سے نیز تیرے خون اور تیرے دین سے ان

___________________

۱_ المصنف عبدالرزاق ج ۴ص ۴۸ _

۲_ ملاحظہ ہو : المحلی ج۴ ص ۱۴۱_ ۳_ الوزراء صابی ص ۱۳۰_

۴_ مصدر سابق_

۶۴

کے شر کو دور رکھے گا اور تجھے خدا کے مال سے حصہ بھی ملے گا جس کے تم زیادہ حقدار ہو ''_(۱)

۷) مالک سے محمد بن عبداللہ بن حسن کے ساتھ خروج کرنے کے بارے میں سوال ہوا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہم نے ابوجعفر المنصور کی بیعت بھی کررکھی ہے مالک نے کہا :'' تم نے مجبوراً بیعت کی تھی اور جسے مجبور کیا جائے اسکی قسم (بیعت) کی کوئی حیثیت نہیں''(۲)

۸) قرطبی نے شافعی اور کوفیوں سے نقل کیا ہے کہ قتل کا خطرہ ہونے کی صورت میں تقیہ جائزہے_ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے_(۳)

۹) حذیفہ کی روایت ہے کہ ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کی خدمت میں تھے_ انہوں نے فرمایا: '' مجھے گن کربتاؤ اسلام کے کتنے ارکان ہیں؟'' حذیفہ کا کہنا ہے کہ ہم نے عرض کیا :'' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہماری طرف سے کوئی پریشانی لاحق ہے؟ جبکہ ہم ابھی بھی چھ سوسے سات سو کے درمیان ہیں'' تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' تمہیں کیا خبر کل کلاں تم آزمائشے میں مبتلا ہوجاؤ'' حذیفہ کہتا ہے کہ بعد میں ہم ایسی سخت آزمائشے میں مبتلا ہوئے کہ حتی کہ ہم میں سے ہر کوئی چھپ کر نماز پڑھتا تھا_(۴) یہی حذیفہ حضرت علیعليه‌السلام کی بیعت کے صرف چالیس دن بعد فوت ہوا اور یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس بیعت سے قبل پچھلے دور میں مؤمنین سخت دباؤ کا شکار تھے_ جو لوگ شرعی حکومت پر قابض تھے وہ دین اور دینداروں کے خلاف اپنے دل میں پرانا کینہ رکھتے تھے اور جس چیز کا تھوڑا سا تعلق بھی دین کے ساتھ ہوتا تھا اس کا مذاق اڑایا کرتے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرتے تھے_

۱۰) تمام اہل حدیث اور ان کے بڑے بڑے علماء نے تقیہ کرتے ہوئے قرآن کے مخلوق ہونے کی تصدیق کی حالانکہ وہ اس کے قدیم ہونے کے قائل تھے فقط امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح نے انکار کیا(۵) بلکہ امام احمد نے بھی تقیہ کیا چنانچہ جب وہ پھندے کے پاس پہنچا تو کہا : ''میں کوئی بات زبان پر نہ

___________________

۱_ طبقات ابن سعد ج ۵ص ۷۰ _ ۲_ مقاتل الطالبین ص ۲۸۳نیز طبری ج ۳ص ۲۰۰ مطبوعہ یورپ_

۳_ تفسیر قرطبی ج ۱۰ص ۱۸۱ _ ۴_ صحیح مسلم ج ۱ ص ۹۱ _ صحیح بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ھ ج ۲ ص ۱۱۶و مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۴_

۵_ تجارب الامم مطبوعہ ہمراہ العیون و الحدائق ص ۴۶۵ _

۶۵

لاؤںگا'' نیز جب حاکم وقت نے اس سے کہا:'' قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہو'' تو جواب دیا: '' قرآن کلام الہی ہے'' پوچھا گیا ''کیا قرآن مخلوق ہے''؟ جواب دیا: ''میں بس اتنا کہتا ہوں کہ اللہ کا کلام ہے''_(۱) بلکہ یعقوبی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جب امام احمد سے اس بارے میں پوچھا گیا تو بولے : '' میں ایک انسان ہوں جس نے کچھ علم حاصل تو کیا ہے لیکن اس بارے میں مجھے کچھ علم نہیں ہے '' _اس مناظرے اور چند کوڑے کھانے کے بعد اسحق بن ابراہیم مناظرے کے لئے دوبارہ آیا اور اس سے کہا : '' اب کچھ باقی رہ گیا ہے جسے تو نہ جانتاہو؟''کہا : '' ہاں باقی ہے'' _ کہا : ' ' پس یہ مسئلہ بھی ان مسائل میں سے ہے جنہیں تو نہیں جانتا_ حالانکہ امیر المؤمنین (حاکم وقت) نے تجھے اچھی طرح سکھا دیا ہے '' _ کہا : '' پھر میں بھی امیرالمؤمنین کے فرمان کا قائل ہوگیا ہوں '' پوچھا: '' قرآ ن کے مخلوق ہونے کے متعلق ؟'' کہا : '' جی ہاں خلق قرآن کے متعلق '' کہا : ''پھر یا د رکھنا'' پھر اسے آزاد کرکے گھر کو جانے دیا(۲) _

حالانکہ امام احمد خودکہتے ہیں کہ جو فقط یہ کہے کہ قرآن کلام اللہ ہے اور مزید کچھ نہ کہے تو وہ واقفی اور ملعون ہے_(۳)

خوارج کے مقابلے میں ابن زبیر نے بھی تقیہ سے کام لیا(۴) اسی طرح شعبی اور مطرف بن عبداللہ نے حجاج سے تقیہ کیا اور عرباض بن ساریہ اور مؤمن الطاق نے بھی خوارج سے اور صعصعہ بن صوحان نے معاویہ سے تقیہ کیا(۵)

خلق قرآن کے مسئلے میں اسماعیل بن حماد اور ابن مدینی نے بھی تقیہ کیا، ابن مدینی قاضی ابو داؤد معتزلی کی مجلس میں حاضر رہتا اور اس کے پیچھے نماز پڑھتا تھا_ نیز احمد بن حنبل اور اس کے اصحاب کی حمایت کرتا تھا_(۶)

۱۱_ مدینہ پر بسربن ابی ارطاة کے غارتگرانہ حملہ کے موقع پر جابربن عبداللہ انصاری نے ام المومنین

___________________

۱_ تاریخ طبری ج ۷ص ۲۰۱نیز آثار جاحظ ص ۲۷۴و مذکرات الرمانی ص ۴۷_

۲_ تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۴۷۲_ ۳_ بحوث مع اھل السنة و السلفیہ ص ۱۲۲،۱۲۳ از الرد علی الجھمیة (ابن حنبل) در کتاب الدومی ص۲۸ _

۴_ ملاحظہ ہو العقد الفرید ابن عبدربہ ج۲ ص ۳۹۳_ ۵_ العقد الفرید ج ۲ ص ۴۶۴ و ص ۴۶۵ اور ملاحظہ ہو : بہج الصباغہ ج ۷ ص ۱۲۱_

۶_ رجوع کریں لسان المیزان ج ۱ص ۳۳۹اور ۴۰۰متن اور حاشیہ ملاحظہ ہو_

۶۶

حضرت ام سلمہ کی خدمت میں شکایت کی :'' مجھے قتل ہونے کا خوف ہے اور یہ بیعت ایک گمراہ شخص کی بیعت ہے اس موقع پر میں کیا کروں''؟ تو انہوں نے فرمایا : '' اس صورت میں تم اس کی بیعت کرلو کیونکہ اصحاب کہف کو بھی اسی تقیہ نے صلیب پہننے اور دوسرے شہریوں کے ساتھ عید کی محفلوں میں شریک ہونے پر مجبور کردیا تھا''(۱)

۱۲_ حضرت امام حسنعليه‌السلام کے مسموم ہونے کے بعد جب اہل کوفہ نے حضرت امام حسینعليه‌السلام سے معاویہ کے خلاف قیام کرنے کا مطالبہ کیا تو آپعليه‌السلام نے ان کا مطالبہ مسترد کردیا_ البتہ اس معاملے میں آپ کے اور بھی اہداف تھے جو معاویہ کے خلاف پوری زندگی قیام نہ کرنے کے اپنے شہید بھائی کے موقف کے ہماہنگ تھے_ اس بارے میں ملاحظہ فرمائیں اخبار الطوال ص ۲۲۰تا۲۲۲_

۱۳_ حسن بصری کا قول ہے کہ تقیہ روز قیامت تک ہے_(۲)

۱۴_ بخاری کا کہنا ہے:'' جب کسی آدی کو اپنے ساتھی کے قتل و غیرہ کا ڈر ہو اور اس کے متعلق یہ قسم کھائے کہ یہ میرا بھائی ہے _ تو اس پر کوئی بھی حد یا قصاص و غیرہ نہیں ہے کیونکہ اس سے ظالم کے مقابلے میں اس کی حمایت کر رہا ہو تا ہے_ ظالم شخص اسے چھوڑکر قسم کھانے والے کے ساتھ جھگڑتا ہے جبکہ اسے کچھ نہیں کہتا_ اسی طرح اگر اس سے یہ کہا جائے کہ یا تو تم شراب پیو ، مردار کھاؤ ، اپنا غلام بیچو، قرض کا اقرار کرو یا کوئی چیز تحفہ دویا کوئی معاملہ ختم کردو و گر نہ تمہارے باپ یا تمہارے مسلمان بھائی کو قتل کردیں گے تو اسے ان چیزوں کے ارتکاب کی اجازت ہے ...'' یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :'' نخعی کا قول ہے کہ اگر قسم لینے والا ظالم ہے تو قسم اٹھانے والے کی نیت پر منحصر ہے اور اگر قسم لینے والا مظلوم ہے تو پھر اس کی نیت پر منحصر ہوگا ''(۳)

۱۵_ یہاں تک کہ مغیرہ بن شعبہ کا حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق عیب جوئی کے بارے میں یہ دعوی ہے کہ وہ تقیہ پر عمل کرتا تھا کیونکہ صعصعہ سے کہتا ہے:'' یہ بادشاہ ہمارے سروں پر مسلط ہوچکا ہے اور ہمیں لوگوں کے سامنے آپعليه‌السلام کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتا ہے ، ہمیں بھی اکثر اوقات اس کی پیروی کرتے ہوئے ان لوگوں

___________________

۱) تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۱۹۸_ ۲) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ مطبوعہ المیمنیہ_

۳) صحیح بخاری ج ۴ ص ۱۲۸ ، صحیح بخاری کی '' کتاب الاکراہ'' کا مطالعہ بہت مفید ہوگا کیونکہ اس میں تقیہ کے متعلق بہت مفید معلومات ہیں_

۶۷

کے شر سے دور رہنے کے لئے بطور تقیہ ایسی بات کہنی پڑتی ہے _ اگر تم حضرتعليه‌السلام کی فضیلت بیان کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے ساتھیوں کے درمیان اور اپنے گھروں میں چھپ کر کرو ...''(۱)

۱۶_ ابن سلام کہتا ہے :'' رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے نماز کو وقت پر پڑھنے کا اور پھر بطور نافلہ ان حکام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا جو نماز کو تاخیر کے ساتھ پڑھتے ہیں''(۲)

۱۷_ خدری نے یہ تصریح کی ہے کہ حضرت علیعليه‌السلام کے متعلق اپنے موقف میں وہ تقیہ سے کام لیتا تھا_ تا کہ بنی امیہ سے اس کی جان بچی رہے اور اس نے آیت( ادفع بالتی هی احسن السیئة ) سے استدلال کیا ہے(۳) اسی طرح بیاضی کی '' الصراط المستقیم'' ج ۳ ص ۲۷ تا ۷۳ میں ایسے کوئی واقعات ذکر ہوئے ہیں وہ بھی ملاحظہ فرمائیں_

بہرحال اس مسئلے کی تحقیق کیلئے کافی وقت کی ضرورت ہے یہاں جتنا عرض کیا گیا ہے شاید کافی ہو_

تقیہ ایک فطری، عقلی، دینی اور اخلاقی ضرورت

تقیہ کا جواز اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ اسلام ایک جامع اور لچک دار دین ہے اور ہر قسم کے حالات سے عہدہ برا ہوسکتا ہے_ اگر اسلام خشک اور غیرلچک دار ہوتا یااس میں نئے حالات وواقعات سے ہم آہنگ ہونے کی گنجائشے نہ ہوتی تو لازمی طورپر نت نئے واقعات سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتا _بنابریں خدانے تقیہ کو جائز قرار دیکر مشکل اور سنگین حالات میں اپنے مشن کی حفاظت اس مشن کے پاسبان (رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی حفاظت کے ذریعے کی_ اس کی بہترین مثال خفیہ تبلیغ کا وہ دور ہے جس میں حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب، بعثت کے ابتدائی دور سے گزرے_

جب دین کے لئے قربانی دینے کا نہ صرف کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ دین کے ایک وفادار سپاہی کو ضائع کرنے

___________________

۱_ تاریخ الامم و الملوک ج ۴ ص ۱۲_

۲_ تہذیب تاریخ دمش ج ۶ ص ۲۰۵_

۳_ سلیم بن قیس ص ۵۳ مطبوعہ مؤسسہ البعثة قم ایران_

۶۸

کی وجہ سے الٹا دین کا نقصان بھی ہو تو تب دین اسلام کے پاسبانوں کی حفاظت کے لئے دین میں لچک کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے _ یوں بہت سے موقعوں پر اسلام کی حفاظت اس کے ان وفادار اور نیک سپاہیوں کی حفاظت کے زیر سایہ ہوتی ہے جوبوقت ضرورت اس کی راہ میں قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیں پس تقیہ کا اصول انہی لوگوں کی حفاظت کیلئے وضع ہوا ہے_

رہے دوسرے لوگ جنہیں اپنے سواکسی چیزکی فکر ہی نہیں ہوتی تو، تقیہ کے قانون کی موجودگی یا عدم موجودگی ان کیلئے مساوی ہے تقیہ اسلام کے محافظین کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ اس طریقے سے خود اسلام کی حفاظت ہوسکے تقیہ نفاق یا شکست کا نام نہیں کیونکہ اسلام کے یہ محافظین تو ہمیشہ قربانی دینے کیلئے آمادہ رہتے ہیںاور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ معاویہ کے دورمیں خاموش رہنے والے حسینعليه‌السلام وہی حسینعليه‌السلام تھے جنہوں نے یزید کے خلاف اس نعرے کے ساتھ قیام کیا:

ان کان دین محمد لم یستقم

الا بقتلی فیا سیوف خذینی

یعنی اگر دین محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلاح میرے خون کے بغیر نہیں ہوسکتی ، تو اے تلوارو آؤ اور مجھے چھلنی کر دو_

پس جس طرح یہاں ان کا قیام دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھا بالکل اسی طرح وہاں ان کی خاموشی بھی فقط دین اور حق کی حفاظت کے لئے تھی_ اس نکتے کے بارے میں ہم نے حلف الفضول کے واقعے میں گفتگو کی ہے_

یوں واضح ہوا کہ جب حق کی حفاظت کیلئے قربانی کی ضرورت ہوتو اسلام اس کو لازم قراردیتا ہے اوراس سے پہلوتہی کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں برتتا_

علاوہ برایں اگر اسلام کے قوانین خشک اورغیر لچک دار ہوں توبہت سے لوگ اس کو خیر باد کہہ دیں گے بلکہ اس کی طرف بالکل رخ ہی نہیں کریں گے_ وحشی وغیرہ کے قبول اسلام کے بارے میں ہم بیان کریں گے کہ بعض لوگ اسلئے مسلمان ہوتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل نہیں کرتے _

بنابریں واضح ہے کہ اسلام کے اندر موجود اس نرمی اور لچک کی یہتوجیہ صحیح نہیں ہے کہ یہ قانون دین میں

۶۹

دی گئی ایک سہولت ہے تاکہ بعض لوگوں کیلئے قبول اسلام کوآسان بنایاجاسکے بلکہ اسے تو اسلام ومسلمین کی حفاظت کا باعث سمجھنا چاہئے بشرطیکہ اس سے اسلام کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو بلکہ ترک تقیہ کی صورت میں قوت اور وسائل کابے جا ضیاع ہوتا ہو اور یہی امر تقیہ اور نفاق کے درمیان فرق کا معیار ہے لیکن بعض لوگ تقیہ کو جائز سمجھنے والوں پر نفاق جیسے ناجائزاور ظالمانہ الزام لگانے میں لطف محسوس کرتے ہیں_

ایک دفعہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے پاس قبیلہ ثقیف کے افراد آئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے درخواست کی کہ کچھ مدت کیلئے ان کو بتوں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے نیز ان پر نماز فرض نہ کی جائے (کیونکہ وہ اسے اپنے لئے گراں سمجھتے تھے) اس کے علاوہ انہیں اپنے ہاتھوں سے بت توڑنے کا حکم نہ دیاجائے تو اسی معیار کی بناپریہاں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حضورنے آخری بات تو مان لی لیکن پہلی دو باتوں کو رد کردیا_(۱) اسی طرح انہوں نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ انہیں زنا، شراب سود اور ترک نماز کی اجازت دی جائے(۲) انہیں بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے رد کردیااور اس بات کا لحاظ نہ کیا کہ یہ قبیلہ اسلام قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے اسلام کو تقویت ملے گی اور دشمن کمزور ہوں گے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں کو جنہوں نے سال ہا سال بتوں کی پوجا کی تھی مزید ایک سال تک بت پرستی کی مہلت کیوں نہ دی؟ جس کے نتیجے میں وہ اسلام سے آشنا اور قریب ترہوجاتے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کا مطالبہ ٹھکرادیا حتی کہ ایک لمحے کیلئے بھی آپ نے ان کو اس بات کی اجازت نہ دی، کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر جائز وناجائز وسیلے سے اپنے اہداف تک پہنچنے کے قائل نہ تھے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وسیلے کو بھی ہدف کاایک حصہ سمجھتے تھے جیساکہ ہم ذکر کرچکے ہیں_

___________________

۱_ یہاں سے پتہ چلا کہ ''جبلہ ابن ایھم'' سے قصاص لینے پر اصرار میں عمر کی پالیسی کامیاب نہ تھی_ کیونکہ وہ تازہ مسلمان ہوا تھا اور اپنی قوم کا حاکم تھا_ اس نے ابھی اسلام کی عظمت اور ممتاز خوبیوں کو نہیں سمجھا تھا_ حضرت عمر کو چاہئے تھا کہ وہ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر اس مسئلے کو کسی آسان تر طریقے سے حل کرتے_

۲_ سیرہ نبویہ دحلان ( حاشیہ سیرہ حلبیہ پر مطبوع) ج۳ ص ۱۱ ، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۲۳۶ ، تاریخ الخمیس ج ۲ ص ۱۳۵ تا ۱۳۷ اور ترک نماز کے متعلق ملاحظہ ہو : الکامل فی التاریخ ج ۲ ص ۲۸۴ ، اسی طرح سیرہ نبویہ ابن ہشام ج ۴ ص ۱۸۵ ، سیرہ نبویہ ابن کثیر ج۴ ص ۵۶ اور البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۳۰_

۷۰

لیکن اس کے مقابل اگر کوئی بالفرض آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے حرمتی کرتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم معاف کردیتے تھے بشرطیکہ اسے یہ احساس ہوجاتا کہ اس نے گناہ کیا ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے اس سے درگذر کیاہے_ لیکن اگر وہ شخص اپنے غلط عمل کو صحیح سمجھتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی صورت میں بھی اسے معاف نہیں فرماتے_

خلاصہ(۱) یہ کہ جب مسلمان کمزور ہوں تو پھر انہیں دشمنوں کے ساتھ سخت لڑائی لڑنے کاحق نہیں جس میں وہ خود ہلاک ہوجائیں یاان کے ختم ہونے سے عقیدہحق بھی ختم ہوجائے کیونکہ دین اور نظریات وعقائد کو اس قسم کے مقابلے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ کبھی کبھی الٹا نقصان پہنچتا ہے _ نیز اگرحق کا دفاع ایسی قربانی دینے سے پرہیز پر موقوف ہو جو حق کے مٹنے کا باعث ہو، عقل وفکر سے بیگانہ ہو یا وحشیانہ طرز عمل کے ساتھ ہو، نیز ایک نظریاتی جنگ کیلئے مطلوبہ شرائط سے خالی ہو تو پھر اس قربانی سے احتراز کرنا چاہیئے_

یہ بات اسلام کی عظمت، جامعیت اور حقائق زندگی کے ساتھ اس کی ہماہنگی کی ایک اور دلیل ہے_

___________________

۱_ یہ خلاصہ علامہ سید محمد حسین فضل اللہ کے فرمودات سے ماخوذ ہے _ مراجعہ ہو: مفاہیم الاسلامیہ عامہ حصہ ۸ ص ۱۲۷_

۷۱

دوسری فصل

ہجرت حبشہ اور اس سے متعلقہ بحث

۷۲

راہ حل کی تلاش:

قریش نے ان مسلمانوں کو ستانے کا سلسلہ جاری رکھا جن کی حمایت کرنے والا کوئی قبیلہ نہ تھا_ مسلمانوں کیلئے یونہی بیٹھے رہنا ممکن نہ تھا_ان ستم زدہ لوگوں کیلئے ایک ایسی سرزمین کی ضرورت تھی جو ان کی امیدوں کا مرکزہوتی، ان کو مشکلات کامقابلہ کرنے میں مدد دیتی اور جہاں وہ مشرکین کی طرف سے قسم قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے زیادہ قابل بن سکتے_ یوں وہ ان مشرکین کا مقابلہ کرسکتے تھے جنہوں نے اپنے خداؤں سے ما فوق خدا اور اپنی حاکمیت سے برتر حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا_ نیز اطاعت وتسلیم کے بجائے ہٹ دھرمی اور عناد کی روش اپنائی تھی_

دوسری طرف سے اس پر مشقت و پرآلام صورتحال پر باقی رہنے کی صورت میں قبول اسلام کی جانب لوگوں کی رغبت میں کمی آجاتی کیونکہ اسلام قبول کرنے کا نتیجہ خوف، دہشت اور تکالیف وآلام میں مبتلا ہونے کے علاوہ کچھ نہیں دکھائی دیتا تھا_

تیسرا پہلو یہ کہ قریش کے تکبر اور ان کی خود پسندانہ طاقت پر کم از کم نفسیاتی طور پر ایسی کاری ضرب لگانے کی ضرورت تھی ، کہ وہ سمجھ جا ئیں کہ دین کا مسئلہ ان کے تصورات اور ان کی طاقت کی حدود سے مافوق چیز ہے اور ان کو زیادہ سنجیدہ ہوکر سوچنے کی ضرورت ہے_

ان حقائق کے پیش نظر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا_ ہجرت حبشہ بعثت کے پانچویں سال ہوئی لیکن حاکم نیشابوری کے مطابق ہجرت حبشہ جناب ابوطالب کی وفات کے بعد ہوئی(۱)

___________________

۱_ مستدرک حاکم ج۲ص ۶۲۲_

۷۳

حالانکہ جناب ابوطالب کی وفات بعثت کے دسویں سال ہوئی _ شاید وہ ایک اور ہجرت کے متعلق بتانا چاہتے ہوں جسے کچھ مسلمانوں نے اس موقع پر انجام دیا یا شاید کچھ لوگ صلح کے متعلق سن کر واپس پلٹے ہوں اور اچانک برعکس صورت حال دیکھ کر دوبارہ ہجرت کرگئے ہوں _ لیکن ہمارے پاس ایسے کوئی قرائن بھی نہیں ہیں جو اس بات کی تائید کرتے ہوں کہ یہ واقعہ وفات جناب ابوطالب کے بعد پیش آیا_

حبشہ کے انتخاب کی وجہ

ہجرت کیلئے حبشہ کا انتخاب کیوں ہوا؟ اس رازکی طرف رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے یوں اشارہ فرمایا ''یقینا وہاں ایک ایسا بادشاہ موجود ہے جس کی حکومت کے زیر سایہ کسی پر ظلم نہیں ہوتا''_ حبشہ سچائی کی سرزمین ہے اور وہ (بادشاہ) مانگنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے_ اس انتخاب کی علت بالفاظ دیگر یہ تھی کہ:

۱) اس صورت میں قریش پر ضروری ہوجاتا کہ وہ اپنے اقتدار، بت پرستی اور انحرافی افکار کے لئے خطرہ سمجھنے والے دین پر اول و آخر اپنے مکمل تسلط اور اختیار کو باقی رکھنے کے لئے مسلمانوں کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں_

۲) قریش کو تجارتی اور اقتصادی روابط کے سبب روم اور شام میں اثر و رسوخ حاصل تھا ،بنابریں ان سرزمینوں کی طرف ہجرت کرنے کی صورت میں قریش کیلئے مسلمانوں کو لوٹانا یاکم از کم آزار پہنچانا آسان ہوجاتا_ خصوصا اس حالت میں جب ان ملکوں کے حکمران کسی قسم کے اخلاقی یا انسانی اصولوں کے پابند نہ تھے اور ان کو ظلم وستم سے روکنے والی کوئی چیز موجود نہ تھی خاص کر ان مسلمانوں کے اوپر جن کا دین ان کے ذاتی مفادات اور اقتدار کیلئے خطرہ اور چیلنج تھا_

رہا یمن یا دوسرے عرب قبائل کا مسئلہ تو وہ ظالم اور جابر ایرانی بادشاہوں کے زیر تسلط تھے_ کہتے ہیں کہ جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بعض قبائل کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حمایت چاہی تو انہوں نے قبول کیا لیکن کسری نے قبول نہ کیا_واضح رہے کہ کسری کے ہاں پناہ تلاش کرناملک روم میں پناہ ڈھونڈنے سے کم خطر ناک نہ تھا_ بالخصوص اس حالت میں جب کہ کسری دیکھ رہا تھا کہ یہ عرب شخص جلدہی اس کے ملک سے قریب علاقے میں خروج کرے گا اور اس کی دعوت اس کے ملک میں بھی سرایت کرجائے گی_

۷۴

نیز یہ دعوت اپنے لئے تراشے گئے ناجائز امتیازی حقوق پر اثر انداز ہوگی( جیساکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشن اوراہداف سے ظاہر تھا) _اس کے علاوہ وہ طبیعة عربوں کو حقیر سمجھتا تھا اور ان کیلئے کسی عزت واحترام کا قائل نہ تھا_

۳) قریش کو مختلف عرب قبائل کے اندر کافی اثر و نفوذ حاصل تھا حتی ان قبائل کے درمیان بھی جو ایران وروم کے زیر اثر تھے جیساکہ اس کتاب کے اوائل میں مذکوربعض معروضات سے واضح ہے_

۴)مذکورہ باتوں کے علاوہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ حبشہ میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا_ ان حقائق کے پیش نظر ہم ہجرت کیلئے حبشہ کے انتخاب کی وجہ سمجھ سکتے ہیں_ حبشہ کا علاقہ ایران، روم اور قریش کے اثر و رسوخ سے خارج تھا _قریش وہاں گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار ہوکر نہیں پہنچ سکتے تھے قریش بحری جنگ سے بھی نا آشنا تھے_ بنابریں مسلمانوں نے (جو قریش کی طاقت و جبروت کے سامنے کمزور تھے ) ہجرت کیلئے حبشہ کی راہ لی

آخر میں ہم ارض حبشہ کے بارے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے ارشاد (حبشہ صدق وصفا کی سرزمین ہے) سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حبشہ میں بعض قبیلے فطرت کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے اور صدق وخلوص سے میل جول رکھتے تھے_ پس اس مسلمان مہاجر گروہ کا وہاں ان لوگوں کے ساتھ آسودگی کے ساتھ رہنا اور میل جول رکھنا ممکن تھا، خاص طور پر جب یہ بات مدنظر رکھی جائے کہ اس مملکت میں وہ انحرافات اور غلط افکار وعقائدنہیں پائے جاتے تھے جو روم اور ایران میں پائے جاتے تھے کیونکہ یہ ممالک غیر انسانی نظریات وافکار اور منحرف عقائد وادیان سے کافی حد تک آلودہ ہوچکے تھے لیکن حبشہ کی سرزمین ان آلودگیوں سے دور تھی _

اس لئے کہ وہاں نت نئے دین نہیں ابھرتے تھے اور نہ ہی وہاں روم اور ایران کی مقدار میں دانشمند اور فلاسفر تھے اس لئے وہ دوسرے ممالک کی بہ نسبت فطرت اور حق سے زیادہ قریب تھی لیکن فطرت کی بالادستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ممالک کسی بھی انحراف سے خالی ہیں _ کیونکہ وہاں انحرافات کا وجود بھی طبیعی امر ہے جبکہ یہ کہنا کہ وہاں فطرت کا راج ہے بالکل اس طرح ہے جیسے یہ کہا جائے کہ فلاں شہر کے لوگ مؤمن ہیں ،

۷۵

بہادر ہیں یا سخی ہیں _ کیونکہ یہ بات اس شہر میں کافروں، منافقوں ، بزدلوں یابخیلوں کے وجود سے مانع نہیں ہے _ اور واضح سی بات ہے کہ اگر مسلمان کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کرتے جہاں فطرت کی بالادستی نہ ہوتی اور وہاں کا فرمانروا ظلم سے پرہیز نہ کرتا تو وہاں بھی ان کے لئے زندگی مشکل ہوجاتی اور ان کی ہجرت کا کوئی زیادہ فائدہ اور بہتر اثر نہ ہوتا_

حبشہ کا سفر

مسلمانوں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے حکم سے حبشہ کی طرف ہجرت کی، حضرت ام سلمہ سے منقول ایک روایت کے مطابق وہ مختلف گروہوں کی شکل میں وہاں گئے(۱) کہتے ہیں کہ پہلے دس مردوں اور چارعورتوں نے عثمان بن مظعون کی سرکردگی میں ہجرت کی(۲) اس کے بعد دیگر مسلمان بھی چلے گئے یہاں تک کہ بچوں کے علاوہ کل بیاسی مرداور اگر حضرت عمار یاسر بھی ان میں شامل ہوں تو تراسی مرد اور انیس عورتیں حبشہ پہنچ گئے_

لیکن ہم صرف ایک ہی مرتبہ کی ہجرت کے قائل ہیں جس میںسب نے حضرت جعفر بن ابوطالب کی سرکردگی میں حبشہ کی طرف ایک ساتھ ہجرت کی تھی _اس قافلے میں حضرت جعفر طیارعليه‌السلام کے علاوہ بنی ہاشم میں سے کوئی نہ تھا _البتہ ممکن ہے کہ مکہ سے نکلتے وقت احتیاط کے پیش نظر افراد مختلف گروہوں کی شکل میں خارج ہوئے ہوں لیکن ہجرت ایک ہی مرتبہ ہوئی تھی کیونکہ شاہ حبشہ کے نام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کاخط بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے جسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمروبن امیہ الضمری کے ساتھ روانہ کیا تھا ، اس خط میں مکتوب ہے:

'' البتہ میں نے آپ کی طرف اپنے چچا زاد بھائی جعفر بن ابوطالب کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے

___________________

۱_ السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۲ تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۹۰ ازالصفوة و المنتہی_

۲_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۵، سیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۵، البدایہ و النہایة ج ۳ص ۶۷، السیرة الحلبیة ہ ج ۱ص ۳۲۴ (جس میں کہا گیا ہے کہ ابن محدث نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کی تصریح کی ہے) نیز تاریخ الخمیس ج ۱ص ۲۸۸_

۷۶

ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہنچ جائیں تو ان کو وہاں ٹھہرانا ...''(۱)

یہی بات ابوموسی سے مروی روایت سے بھی ظاہر ہوتی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جعفربن ابوطالب کے ہمراہ نجاشی کے ملک کی طرف چلے جائیں_(۲) اگرچہ خود ابو موسی کی ہجرت مشکوک ہے جس کا تذکرہ آئندہ ہوگا_

جعفر سردار مہاجرین :

ہمارا نظریہ یہ ہے کہ حضرت جعفر طیار کی حبشہ کی طرف ہجرت قریش کی جانب سے سختیوں اور مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لئے نہیں تھی_ کیونکہ قریش حضرت ابوطالبعليه‌السلام کی شان و شوکت سے ڈرتے تھے اور بنی ہاشم اور خاص کر ان کا لحاظ کرتے تھے_ حضرت جعفر کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے صرف مہاجرین کا سردار اور ان کا سرپرست بنا کر بھیجاتھا تا کہ وہ انہیں اس نئے معاشرے میں جذب ہوجانے سے بچاسکے، جس طرح کہ ابن جحش کی صورتحال تھی کہ وہ حبشہ میں نصرانی ہوگیا تھا_

حبشہ کا پہلا مہاجر

کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے پہلے حبشہ کی جانب ہجرت کی اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بارے میں فرمایاکہ وہ حضرت لوطعليه‌السلام کے بعد پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ ہجرت کی_(۳) یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سب سے پہلے خارج ہوئے_(۴)

___________________

۱_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۸۳، بحارالانوار ج ۱۸ص ۴۱۸، اعلام الوری ص ۴۵_۴۶از قصص الانبیاء_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۰ نے ابو نعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے اور سیرت نبویہ (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۱ _

۳_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از ابن اسحاق، السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳اور تاریخ الخمیس ج ۱ ص۲۸۹ _

۴_ سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۴، نیز البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۶از بیہقی نیر السیرة الحلبیة ج ۱ ص۲۲۳ _

۷۷

لیکن ہمیں اس بارے میں شک ہے کیونکہ اگر مراد یہ ہو کہ وہ گھروالوں کے ساتھ ہجرت کرنے والے پہلے آدمی تھے تویہ بات واضح رہے کہ سب سے پہلے اپنے گھروالوں کے ساتھ ابوسلمہ نے ہجرت کی تھی جیساکہ نقل ہوا ہے_(۱) اور اگر مراد یہ ہو کہ وہ بذات خود سب سے پہلے خارج ہوئے تو عرض ہے کہ خود انہی نقل کرنے والوںکے بقول سب سے پہلے خارج ہونے والے شخص حاطب بن عمر تھے(۲) یا سلیط بن عمرو(۳) نیز ابوسلمہ کے بارے میں بھی اسی قسم کا قول موجود ہے_

ابوموسی نے حبشہ کی جانب ہجرت نہیں کی

امام احمد نے (حسن و غیرہ کی سند کے ساتھ) اوردوسروں نے بھی روایت کی ہے کہ ابوموسی اشعری حبشہ کی طرف پہلی بار ہجرت کرنے والوں میں شامل ہے_(۴) لیکن بظاہر یہ بات یا تو غلط فہمی کا نتیجہ ہے یا راوی نے عمداً غلط بیانی کی ہے کیونکہ ابوموسی ہجرت کے ساتویں سال مدینے میں مسلمان ہوا تھا_ کہتے ہیں کہ وہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے پاس جانے کیلئے نکلے لیکن ان کی کشتی نے انہیں حبشہ پہنچادیا اور وہ حبشہ کے مہاجرین کے ساتھ ساتویں ہجری میں مدینہ آئے(۵) اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ہجرت مدینہ کے بعد کا واقعہ ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس مکہ آنے کیلئے چلتے اور پندرہ سال حبشہ میں ٹھہرتے بظاہر ابوموسی اشعری مہاجرین حبشہ کے ساتھ واپسی کے راستے میںآن ملے تھے کیونکہ عسقلانی نے کہا ہے : '' اس کی کشتی جناب

___________________

۱_ الاصابة ج ۲ص ۳۳۵نیز رجوع کریں ج ۴ص ۴۵۹اور ۴۵۸نیز الاستیعاب (حاشیہ الاصابہ پر) ج ۲ص ۳۳۸از مصعب الزبیری و تہذیب الاسماء و اللغات ج ۲ص ۳۶۲واسد الغابة ج ۳ص ۱۹۶از ابی عمر و ابن منزہ اور السیرة الحلبیہ ج ۱ص ۳۲۳ _

۲_ الاصابة ج ۱ ص ۳۰۱ اور السیرة الحلبیة ج ۲ ص ۳۲۳_

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۳ _

۴_ رجوع کریں: سیرة ابن ہشام ج ۱ص ۳۴۷، البدایة و النہایة ج ۳ص ۶۷، ۶۹، ۷۰ نے ابن اسحاق، احمد اور ابونعیم کی الدلائل سے نقل کیا ہے_ السیرة النبویة( ابن کثیر) ج ۲ص ۷اور ص ۹، فتح الباری ج۷ص ۱۴۳، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴ از طبرانی اور نیز حلیة الاولیاء ج ۱ ص۱۱۴ _

۵_ رجوع کریں السیرة النبویة (ابن کثیر) ج ۲ص ۱۴اور البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۱_

۷۸

جعفر بن ابوطالب کی کشتی سے ملی اور وہ سب اکٹھے آئے''(۱)

مہاجرین کے ساتھ عمر کا رویہ

کہتے ہیں کہ جب مسلمان ہجرت حبشہ کی تیاری میں مصروف تھے تو حضرت عمر نے ان کو دیکھا یوں ان کا دل پسیجا اور وہ محزون ہوئے(۲) لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ وہ لوگ تو خاموشی سے چھپ کر نکلے تھے_ ان میں سے بعض پیدل تھے اور بعض سواریہاں تک کہ ساحل سمندر تک پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایک کشتی دیکھی اور جلدی سے اس میں سوار ہوگئے_ ادھر قریش ان کے تعاقب میں ساحل تک پہنچے لیکن وہاں کسی کو نہیں پایا_(۳) اس کے علاوہ حضرت عمرکی وہ سخت گیری اور قساوت بھی ملحوظ رہے جس کی نسبت (ہجرت حبشہ سے قبل اور ہجرت حبشہ کے بعد) ان کی طرف دی جاتی ہے اور یہ بات مذکورہ بالاقول کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے_

حضرت ابوبکر نے ہجرت نہیں کی

کہتے ہیں کہ جب مکے میں بچے ہوئے مسلمانوں پر سختیوں میں اضافہ ہوا اور حضرت ابوبکر کیلئے مکے میں زیادہ تکالیف کے سبب جینا دوبھر ہوگیا، تو وہ وہاں سے نکل گئے اور حبشہ کی راہ لی اس وقت بنی ہاشم شعب ابوطالب میں محصور تھے_ جب وہ ''برک الغماد'' کے مقام پر پہنچے (جو مکہ سے پانچ دن کے فاصلے پر یمن کی جانب واقع ہے) تو قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ کی ان سے ملاقات ہوگئی ،یہ لوگ قریش کے قبیلہ بنی زہرہ

___________________

۱_ الاصابہ ج۲ ص ۳۵۹_

۲_ البدایة و النہایة ج ۳ص ۷۹از ابن اسحاق، مجمع الزوائد ج ۶ص ۲۴، مستدرک الحاکم ج ۳ص ۵۸، الطبرانی اور السیرة الحلبیہج ۱ص ۳۲۳اور ۳۲۴ _

۳_ السیرة الحلبیة ج ۱ص ۳۲۴، تاریخ الخمیس ج۱ص ۲۸۸اور ۲۸۹از المنتقی، الطبری ج ۲ص ۶۹البدء و التاریخ ج ۴ص ۱۴۹و اعلام الوری ص ۴۳ ویعقوبی ج ۲ص ۲۹اور ابن قیم کی زاد المعاد ج ۲ص ۴۴_

۷۹

کے حلیف تھے_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر کہاں کا ارادہ ہے؟'' وہ بولے :''میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے چنانچہ میرا ارادہ ہے کہ میں دنیا میں پھروں اور اپنے رب کی عبادت کروں''_ ابن دغنہ نے کہا:'' اے ابوبکر تم جیسوں کو نکالانہیں کرتے، تم محروموں کی مدد کرتے ہو''_ یہاں تک کہ کہا:'' اب لوٹ جاؤ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں'' یوں حضرت ابوبکر ابن دغنہ کے ساتھ واپس ہوئے، ابن دغنہ نے رات کو قریش کے بزرگوں کے ہاں جاکر بتایا کہ اس نے حضرت ابوبکر کو پناہ دی ہے قریش نے اس شرط کے ساتھ اسے قبول کیا کہ وہ اپنے رب کی اعلانیہ عبادت نہ کریں بلکہ اپنے گھر میں عبادت کیا کریں_

لیکن حضرت ابوبکر نے کچھ عرصے بعد بنی جمح کے ہاں اپنے پڑوس میں ایک مسجد تعمیر کی وہاں وہ نمازیں پڑھتے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے، مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کی تلاوت سننے کیلئے جمع ہوتے تھے حتی کہ ازدحام کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے اوپر گر پڑتے تھے_ حضرت ابوبکر کی آواز سریلی اور ان کا چہرہ خوبصورت تھا_مشرکین نے ابن دغنہ سے اس مسئلے میں استفسار کیا چنانچہ ابن دغنہ حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور امان کی شرائط کو نبھانے کا مطالبہ کیا لیکن حضرت ابوبکر نے اس کی امان سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا_(۱)

ہمارے نزدیک یہ بات مشکوک ہے کیونکہ اس سے قطع نظر کہ :

ا_ جناب ابوبکر کو قوم سے نکال دیئے جانے کا مطلب ان کی ہجرت نہیں ہے لیکن ان کے الفاظ سے یہی ظاہر ہوتاہے_

۲_ یہ روایت فقط حضرت عائشہ سے مروی ہے اور خود یہ ایک عجیب بات ہے اسلئے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت وہ بہت چھوٹی تھیں لہذا ان امور کی تمام جزئیات کو درک نہیں کرسکتی تھیں لیکن اگر ہم فرض

___________________

۱_ رجوع کریں السیرة النبویة (دحلان) ج ۱ص ۱۲۷،۱۲۸، و سیرت ابن ہشام ج۲ص ۱۲،۱۳، شرح نہج البلاغہ ج ۱۳ص ۲۶۷، المصنف ج ۵ص ۳۸۵،۳۸۶، البدایة و النہایة ج ۳ص ۹۴،۹۵ اور تاریخ الخمیس ج ۱ص ۳۱۹و ۳۲۰میں مذکور ہے کہ یہ بعثت کے تیرہویں سال کا واقعہ ہے_ نیز رجوع کریں حیات الصحابہ جلد ۱ص ۲۷۶،۲۷۷نے بخاری ص ۵۵۲سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

341

342

343

344

345

346

347

348

349

350

351

352

353

354

355

356

357

358

359

360

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417