الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۳

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)13%

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 460

جلد ۳
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 460 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 242099 / ڈاؤنلوڈ: 6989
سائز سائز سائز
الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

الصحیح من سیرة النبی الاعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد ۳

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

آخری سانس تک زندگی سے استفادہ کریں

ہمیں آخری سانس اور آ خری لحظہ تک اپنے وظیفہ کو انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیئے اور اپنی زندگی کے لحظات کو ایسے امور میں ضائع نہ کریں  کہ جن میں خدا کی رضایت شامل نہ ہو ۔

حضرت امیر المو منین  (ع) فرما تے ہیں :

'' انّ انفا سک اجزاء عمرک ، فلا تفنها الاَّ فی طاعةٍ تزلفک ''(1)

تمہاری سانسیں تمہاری زندگی کے اجزا ء ہیں لہذا انہیں ضائع نہ کریں مگر ایسی عبادت میں کہ جوتمہارے لئے بیشتر تقرب کا باعث بنے۔

ہمارے بزرگان نے زندگی کے آخری لمحات اور آخری سانسوں تک فرصت اور وقت سے  بہترین استفادہ کیا ۔

شیعہ تاریخ  کے علماء و بزرگ شخصیات میں سے بر جستہ شخصیت آیت اللہ العظمیٰ حاج سید محمد حجت ایسے افراد میں سے تہے ۔

مرحوم آیت اللہ العظمیٰ شیخ مرتضی حائری اس بزرگوار کے بارے میں یوں لکہتے ہیں کہ وہ آیت اللہ العظمیٰ بروجردی  کے زمان میں تقریباً مرجع مطلق یا اکثر آذر بائیجان کے مرجع تہے تہران میں مقیم آذر بائیجانی اور بعض غیر آذر بائیجانی ان کی طرف مراجعہ کرتے تہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ غرر الحکم :ج2  ص9 9 4

۱۰۱

جس سال سردیوں کے اوائل میں وہ مرحوم ہوئے ، اس وقت موسم ابہی تک مکمل طور پر سرد نہیں ہوا تہا ، وہ گہر کی تعمیر میں مشغول تہے گہر کے ایک حصے کو توڑ چکے تہے تا کہ جدید گہر تعمیر کر سکیں اور گہر کے دوسرے حصے میں کاریگر دوسرے کاموں میں مصروف تہے جیسے کنویں کی کہودائی یا اس میں پتہر لگانا ، ان تعمیرات کے بانی ان کے ایک ارادتمند تہے ۔ ایک دن صبح کے وقت ان کی خدمت میں حاضر ہوا وہ تخت پر تشریف فرما تہے اور ان کی حالت عادی تہی وہ اکثر دمہ کی وجہ سے سر دیوں میں نفس تنگی کا شکار ہوتے تہے لیکن اس وقت سرد موسم کے باوجود ان کی حالت عادی و معمول کے مطابق تہی ۔ مجہے اطلاع ملی کہ انہوں نے ٹہیکے دار اور دیگر کاریگر وں کو کام سے فارغ کر دیا ہے ۔ میں نے کہا کہ آغا آپ نے انہیں کیوں جواب دے دیا ؟ انہوں نے بڑے وثوق و صراحت سے کہا کہ ! مجہے لگتا ہے کہ میں مرجاؤں گا تو پہر یہ گہر کی تعمیر کس لئے ؟

پہر میں نے بہی کچہ نہ کہا دوسرے دن شاید بروز چہار شنبہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا سید احمد زنجانی ان کے پاس بیٹہے تہے انہوں نے جائیداد کے کاغذات و اسناد آغا زنجانی کو دیئے اور ایک  چہوٹے صندوق میں پڑہی نقد رقم مجہے دی کہ اسے معین مصارف میں صرف کرو ں اور اس میں سے کچہ حصہ مجہے عطا فرمایا ۔

اس سے پہلے انہو ں نے وصیت کو چند نسخوں میں لکہا تہا کہ جن میں سے ایک انہوں نے مجہے بہیجوا یا تہا جواب بہی موجود ہے ۔ انہوں نے وصیت کی تہی کہ ان کے اور ان کے وکلا کے پاس تمام موجود رقم سہم امام ہے ۔

انہوں نے  جو زمین مدرسہ کے نام پر خریدی تہی ، وہ ان کے نام پر تہی کہ جس کا یک بڑا حصہ بعد میں آغا بروجردی کی مسجد میں شامل ہو گیا انہوں نے وصیت نامہ لکہا تہا کہ وہ زمین بہی سہم مبارک امام سے جو ارث میں نہیں دی جاسکتی اور اگر آغا بروجردی نے چا ہا تو انہیں مسجد کے لئے دے دیں ۔

۱۰۲

ان کی رقم وہ ہی صندوق میں موجود رقم میں ہی منحصر تہی اور چند دن سے وجوہات شرعیہ نہیں لیتے تہے انہوں نے جب وہ رقم مجہے دی کہ میں وہ ان کے موارد میں صرف کروں تو انہوں نے آسمان کی طرف ہاتہ بلند کئے اور کہا کہ خدا یا میں نے اپنی تکلیف  پر عمل کیا اب تو میری موت کو پہنچا دے ۔

میں نے ان کی طرف دیکہا  اور کہا کہ آغا آپ ویسے ہی اس قدر ڈر رہے ہیں آپ ہر سال سردیوں میں اسی بیماری میں مبتلا ہو تے ہیں اور پہر ٹہیک ہو جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ نہیں میں ظہر کے وقت فوت ہو جاؤں گا میں خاموش رہا اور ان کے فرمان کے مطابق کاموں کو انجام دینے کے لئے نکل پڑا میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں یہ اسی دن ظہر کے وقت وفات نہ پاجائیں اور ان پیسوں کے بارے میں تکلیف معلوم نہ ہو کہ کیا ورثہ کو دیں یا ان موارد میں خرچ کریں ۔ اسی شک میں میں سوار ہوا اور ظہر تک ان کو انجام دیا وہ اس دن ظہر کے وقت فوت نہ ہوئے بلکہ اس چہار شنبہ کے بعد آنے والے ہفتہ کو ظہر کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جاملے میں گہر سے باہر آیا تو اسی وقت مدرسہ حجتیہ سے اذان کی صدا بلند تہی  ۔

انہیں راتوں میں سے ایک رات انہوں نے مجہے کہا کہ مجہے قرآن دو انہوں نے قرآن کہو لا تو  پہلے  صفحہ پر یہ آیت شریفہ تہی ، '' لہ دعوة الحق '' ظاہراً انہوں نے گریہ کیا اور انہوں نے اسی رات یا دوسری رات اپنی مہر توڑدی ۔

وفات کے نزدیک ایک دن وہ اپنی آنکہیں دروازے پر لگائے بیٹہے تہے اور ایسے لگتا تہا کہ وہ کسی چیز کا مشاہدہ فر ما رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ! آغا علی تشریف لائیں لیکن کچہ دیر بعد وہ عادی حالت  پہ واپس آگئے ۔ آخری دوتین دن وہ ذکر اور خدا  سے راز ونیاز میں زیادہ مشغول ہوتے تہے ۔

۱۰۳

ان کی وفات کے دن میں نے بڑے اطمینان سے گہر میں مکاسب کا درس دیا اور پہر ان کے چہوٹے کمرے میں گیا کہ جہاں وہ لیٹے تہے ۔ اس وقت فقط ان کی بیٹی وہاں موجود تہی کہ جومیری زوجہ بہی تہیں لیکن آغا کا چہرہ دیوار کی طرف تہا اور وہ ذکر  و دعا میں مشغول تہے ۔ انہوں نے کہا کہ آغا آج کچہ مضطرب ہیں ظاہراً ان کے اضطراب کی دلیل وہ ہی زیادہ ذکر و دعا تہا میں نے سلام کیا انہوں نے میرے سلام کاجواب دیا ور کہا آج کیا دن ہے میں نے کہا ، ہفتہ ، انہوں نے فر مایا کہ آج آغابروجردی درس پہ گئے تہے ؟ میں نے کہا جی ہاں ، انہوں نے صمیم قلب سے چند بار کہا ۔ الحمد للہ ۔

غرض یہ کہ ان کی بیٹی نے کہا کہ انہیں تہوڑی سی تربت امام حسین (ع)  دیں ۔ میں نے کہا ٹہیک ہے وہ تربت لائیں میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ نوش فرمائیں وہ بیٹہ گئے میں ان کے سامنے گلاس لے گیا انہوں نے سو چا غذا یا دوا ہے انہوں  نے کچہ تلخ لہجے میں کہا یہ کیا ہے ؟ میں  نے کہا ، تربت امام حسین  ۔ ان کا چہرہ کہل گیا اور تربت اور پانی نوش فرمایا اس کے بعد میں نے ان سے یہ کلمہ سنا کہ  انہوں نے کہا'' آخر زادی من الدنیا تربة الحسین '' دنیا سے میرا آخری توشہ تربت امام حسین (ع)  ہے۔ وہ دوبارہ لیٹ گئے میں نے دوسری مرتبہ ان کی فرمائش پر دعاء عدیلہ قرائت کی ۔ ان کے دوسرے بیٹے آغا سید حسن رو بہ قبلہ بیٹہے تہے اور آغا تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹہے ہوئے پڑہ رہے تہے اور وہ خدا وند متعال کے سامنے بڑی شدت اور صمیمیت سے اپنے عقائد کا اظہار کر رہے تہے ۔

مجہے یاد ہے کہ وہ امیر المو منین علی(ع)  کی خدمت کے اقرار کے بعد ترکی زبان میں یہ کہہ رہے تہے :بلافصل ، ہیچ فصلی یخدی ، لاپ بلا فصل لاپ بلا فصل ، کیمین بلا فصل وار؟

۱۰۴

آئمہ معصو مین علیہم السلام کے بارے میں انہوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی '' الم تر کیف ضرب اللّٰه مثلاً کلمةً طیّبةً کشجرةٍ طیّبةٍ اصلها ثابت و فرعها فی السماء ''(1)

کیا تم نے نہیں دیکہا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے ۔

میں وہاں کہڑا اس معنو ی منظر کا مشاہدہ کر رہا تہا میرے ذہن میں آیا کہ ا ن سے کہوں کہ آغا میرے لئے بہی دعا فرمائیں لیکن شرم مانع ہوئی کیو نکہ وہ اپنے حال میں مشغول تہے اور کسی دوسری جانب متوجہ نہیں تہے کیو نکہ وہ موت سے پہلے اپنے خدا کے  ساتہ راز ونیاز کر رہے تہے اور معنوی وظائف انجام دے رہے تہے اور ثانیاً یہ تقا ضا کرنا اس چیز کی طرف اشارہ تہا کہ ہم بہی آغا کی موت کی طرف متوجہ ہیں اور ان کی موت کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں ۔

میں خاموشی سے کہڑا اس ماجرا کو دیکہ رہا تہا وہاں آغا سید حسن ، ان کی بیٹی اور خاندان کے دوسرے افراد موجود تہے۔ میں نے یہ بہی سنا کہ آغا کہہ رہے تہے ! خدا یا میرے تمام عقائد حاضر ہیں وہ تمام تجہے سپرد کر دیئے اب مجہے لوٹا دو ۔

میں وہیں کہڑا ہوا تہا اور وہ بہی اسی حالت میں تکیہ پر ٹیک لگائے رو بہ قبلہ

بیٹہ تہے  ۔ اچانک انکی سانس رک گئی ہم نے سوچا کہ شاید ان کا دل بند ہوا ہے ہم نے ان کے منہ میں کرامین کے چند قطرے ڈالے لیکن دوا ان کی لبوں کی اطراف سے باہر نکل آئی ۔ وہ اسی وقت وفات پاگئے تہے اس پانی اور تربت امام حسین  کے بعد کرامین کے چند قطرے بہی ان کے حلق تک نہیں پہنچے تہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ سورہ ابراہیم آیت: 4 2

۱۰۵

مجہے یقین ہوگیا کہ آغا فوت ہوگئے ہیں میں گہر سے باہر آیا تو مدرسہ حجتیہ سے اذان کی آواز سنی   ان کی وفات اول ظہر کے قریب تہی جس کے بارے میں انہوں نے چہار شنبہ کو کہاتہا کہ میری موت ظہر کے وقت واقع ہو گی ۔

یہ مرد بزرگوار وہ تہے کہ جنہوں نے زندگی کے اس سفر میں ، سفر کی تمام قید و شرط کی رعایت کی اور وجوہات شرعیہ کے مصرف کو بہی کاملاً واضح کرد یا کہ اس میں ورثہ کو کچہ بہی نہ ملا ۔

ایک ایمان محکم شخص کی یہ گزشتہ داستان چند چیزوں پر مشتمل ہے :

1 ۔ ان کا ظہر کے وقت اپنی  موت کے بارے میں خبر دینا اور پہر حقیقتاً ان کی موت ظہر کے وقت واقع ہوئی ۔

2 ۔ وہ مکاشفہ کہ جس میں انہوں نے حضرت امیر المو منین(ع)  کو دیکہا تہا ۔

3 ۔ ان کا یہ خبر دینا کہ ان کا آخری توشہ تربت امام حسین  (ع)ہو گا اور پہر ایسا ہی ہوا  ۔

مرحوم آیة اللہ العظمیٰ آغا حجت مو لا امیر المومنین (ع) کے فرمان کے واضح مصداق ہیں کہ :

'' انّ انفاسک اجزاء عمرک فلا تفنها الاَّ فی طاعة تزلفک ''

انہوں نے زندگی کے آخری لمحے اور آخری سانس کو راہ عبادت اور اطاعت خداوند میں بسر کیا ۔

جولوگ شیعہ  بزرگوںکی زندگی سے درس لیتے ہیں وہ آخری لحظہ تک مقام عبودیت اور اپنی  ذمہ  داری  کو انجام دیتے ہیں آخرت میں خداوند کریم کا خاص لطف ان کے شامل حال ہو گا ور اہل بیت  علیہم  السلام  کے جوار رحمت میں قرار پائیں گے ۔

۱۰۶

نتیجہ ٔ بحث

وقت اہم ترین نعمت ہے کہ جو خداوند تعالیٰ نے آپ کو عنایت کی ہے یہ آپ کی زندگی اور وجود کا بہترین اور بزرگترین سرمایہ ہے اسے بہترین راہ اور عالی ترین ہدف میں مصرف کریں ۔

آپ کی موجودہ وضعیت ، آپ کے گزشتہ اعمال و کردار کا نتیجہ و محصول ہے اور آپ کا مستقبل ، آپ کے حال کی رفتار و کردار کا ثمرہ ہوگا ۔

اگر آپ ارزشمند اور اعلیٰ اہداف کے خواہاں ہیں اگر آپ روشن مستقبل کے امید وار ہیں تو اپنے وقت کو فضول ضائع نہ کریں ۔

آپ متوجہ رہیں کہ اگر آپ نے اپنے ماضی سے استفادہ نہ کیا ہو اور آپ کو گزرے ہوئے کل پر افسوس ہو تو آپ اب اس طرح سے زندگی بسر کریں کہ آپ کو آئندہ اپنے آج پر شرمندگی و افسوس نہ ہو ۔

جستجو اور کوشش کے ذریعہ اپنے ماضی کا جبران اور باقی ماندہ فرصت سے بہترین طریقے سے استفادہ کریں اورجو لوگ اپنے گزرے ہوئے وقت سے درس عبرت  لیتے ہیں اپنے لئے درخشاں اور روشن مستقبل کا انتخاب کرتے ہیں ۔

قدر وقت از نشناشی تو و کاری نکنی

پس خجالت کہ از این حاصل اوقات بری

اگر آپ وقت کی قدر و اہمیت کو نہیںپہچانیں گے اور کوئی کام انجام نہیں دیں گے تو وقت ضائع کرنے کے بعد صرف شرمندگی حاصل ہو گی ۔

۱۰۷

ساتواں باب

اہل تقویٰ کی صحبت

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

''  اکثر  الصّلاح و الصّواب فی صحبة اولی النهیٰ والا لباب ''

اکثر و بیشتر اصلاح اور درستی صاحبان عقل و خرد کی صحبت میں ہے ۔ ۔

    صالحین سے ہمنشینی کی اہمیت کا راز

    جن افراد کی صحبت روح کی تقویت کا باعث ہے

   1 ۔ علماء ربانی کی صحبت

   2 ۔ صالحین کی صحبت

    اپنے ہمنشینوں کو پہچانیں

    جن افراد کی صحبت ترقی کی راہ میں رکاوٹ

   1 ۔ چہوٹی سوچ کے مالک افراد کی صحبت

   2 ۔ گمراہوں کی صحبت

   3 ۔ خواہش پرستوں کی صحبت

    ۴ ۔ شکّی لوگوں کی صحبت

    نتیجۂ بحث

۱۰۸

صالحین سے ہمنشینی کی اہمیت کا راز

معنوی مقاصد تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں لیکن ان میں سے کون سا راستہ اہم ترین ہے کہ جو انسان کو جلد منزل و مقصد تک پہنچا دے ۔

اس بارے میں مختلف عقائد و نظریات ہیں ہر گروہ کسی راہ کو اقرب الطرق کے عنوان سے قبول کرتاہے اور اسے نزدیک ترین ، بہتر اور سریع ترین راہ سمجہتے ہیں ان میں سے بعض نیک اور صالح افراد کے ساتہ ہمنشینی کو اقرب الطرق سمجہتے ہیں ۔

ان میںسے جو نظریہ صحیح لگتاہے وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے ہمنشینی کہ جو خدا کو خدا کے لئے چاہیں نہ کہ اپنے لئے ، اور ان کی صحبت کہ جو اپنے اندر حقیقت ایمان کو واقعیت کے مرحلہ تک پہنچا ئیں ۔ یہ فوق العادہ اثر رکہتا ہے ۔

اسی وجہ سے کائنات کے پہلے مظلوم حضرت امیر المو منین(ع)  اپنے دل نشین کلام میں فرماتے ہیں :

'' لیس شیء اوعیٰ لخیر و انجیٰ من شرّ من صحبة الاخیار '' (1)

اچہے افراد کی صحبت سے بڑہ کر کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو انسان کو بیشتر خوبیوں کی دعوت دے اور برائیوں  سے نجات دے  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ شرح غر ر الحکم :ج5ص  87

۱۰۹

کیو نکہ معاشرے کے شریف اور صالح افراد کے ساتہ بیٹہنا انسان کے لئے شرف و ہدایت کا باعث ہوتا ہے جو زنگ آلود دلوں کو صاف اور منور کر تا ہے اور انسان کو معنویت کی طرف مائل کرتاہے ۔

حضرت امام زین العابدین (ع) فر ماتے ہیں :

'' مجالسة الصالحین داعیة الی الصلاح '' (1)

صالح افراد کی صحبت انسان کو صلاح کی دعوت دیتی ہے  ۔

ایسے افراد میں معنوی قوت و طاقت ، ان کے ہمنشین حضرات میں بہی نفوذ کرتی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتہ ان کے اعمال و کردار و رفتار ان ہی کی مانند ہو جاتے ہیں ۔

کبہی ایسے افراد کا دوسروں میں معنوی نفوذ جلد ہو تا ہے جس میں طولانی مدت کی صحبت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بلکہ ایک نشست یا ایک نگاہ یا ایک دلنشین جملہ دوسروں کی فکر ی و اعتقادی وضعیت کو بدل کر ان میں حیات جاویداں ایجاد کر تا ہے ۔

جی ہاں ، نیک افراد کے مجمع میں دوسرے بہی ان سے معطر ہو کر نیک اور اچہے لوگوں کی صف میں آجاتے ہیں نیک لوگوں کی نورانیت و پاکیزگی دوسروں پر بہی اثر انداز ہوتی ہے اور ان کے قلب کی آلودگی و ظلمت کو دور کر کے اپنی طرف جذب کر تی ہے۔

نیک اور پاکیزہ افراد کی صحبت سے قلب کی پاکیزگی میں اضافہ ہو تا ہے ۔ اچہے لوگوں کے ساتہ رہنا اچہائی سکہا تا ہے اور نیک اور خود ساختہ افراد کے ہمراہ رہنا ، انسان بناتا ہے اور ان پر ہونے والی توجہات ان کے ہمراہ رہنے والوں کو بہی شامل ہو تی ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ اصول کافی:ج 1ص  20

۱۱۰

یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کی طرف دعاؤں میں بہی اشارہ ہواہے ۔ مرحوم شیخ مفید   کتاب مزار میں ایک دعانقل فرماتے ہیں کہ آئمہ معصومین  کی زیارت کے بعد اس دعا کو پڑہنا مستحب ہےاوراس دعا کے ایک حصے میں یوں بیان ہو اہے :

'' یا ولیّ اللّٰه عزّ و جلّ حظّی من زیارتک تخلیطی بخالصی زوّارک الّذین تسأل اللّٰه عزّ و جلّ فی عتق رقابهم و ترغب الیه فی حسن ثوابهم ''

اے ولی خدا ! اپنی زیارت سے مجہے اپنے خالص زوار وں میں سے قرار دے   کہ جن افراد کی خداوند کریم سے آزادی چاہتے ہو اور جن کے لئے خدا سے نیک ثواب اور جن کے لئے خدا کی رغبت چاہتے ہو ۔ ۔

جس طرح خشک و تر ایک ساتہ جل جاتے ہیں جس طرح پہول اور کانٹے ایک ہی چشمہ سے سیراب ہو تے ہیں جس طرح باغبان کی گلستان پر پڑنے والی محبت آمیز نگاہ میں باغ میں موجود کانٹوں کو بہی شامل کر تی ہے اور پہول کی خوشبو سے کانٹے بہی معطر ہو جاتے ہیں جس طرح پہول فروخت کرنے والے پہول کو کانٹوںکے ساتہ فروخت کر تے ہیں اسی طرح خریدار بہی پہول کو کانٹوں سمیت خرید تا ہے اسی طرح جو نیک افراد کی خدمت میں حاضر ہو وہ ان پر پڑنے والے تابناک انوار سے بہی بہرہ مند ہو تا ہے ۔

اسی لئے زیارت کے بعد پڑہی جانے والی دعامیں امام  کی خدمت میں عرض کر تے ہیں کہ اے ولی خدا ! مجہے اپنی زیارت سے اپنے خالص زوار وں میں سے قرار دے ۔

نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹہنا ایک ایسے نسخہ کیمیا کی مانند ہے کہ جو اولیاء خدا کے اطراف بدن میں موجود ہو تا ہے کہ جو ان کے ہمراہ اور ان کی صحبت میں بیٹہنے والے شخص میں موجود ضعف کو ختم کرکے اسے شہامت و ا چہائی عطا کر تے ہیں اسے بال و پر عطا کر تے ہیں تاکہ وہ معنویت کی بیکراں فضا میں پرواز کر سکے اور عالم معنی کی لذّتوں سے مستفید ہو ۔

۱۱۱

انسان ایک دوسرے کی صحبت اور ہمنشینی سے ایک دوسرے پر مثبت و منفی اثرات مرتب کر تا ہے  انسان کی نفسیات اور اعتقا دات مختلف ہو تے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کیفیت کے لحاظ  سے بہت  تفاوت ہو تا ہے ۔ اسی طرح ان افراد میں ایک دوسرے پر اثر گزاری کی مقدار و کمیت کے لحاظ سے بہی درجات کا اختلاف ہو تا ہے ۔

افراد کی ایک دوسرے سے مصاحبت ، ہمنشینی اور رفاقت سے افراد کی فکری اور اعتقادی خصوصیات ایک دوسرے کی طرف منتقل ہو تی ہیں ۔

عام طور پر صاحب یقین افراد دوسروں پر زیادہ اثر چہوڑ تے ہیں کیو نکہ یہ ارادہ و نفوذ رکہتے ہیں لہذا یہ اپنی فکری اور اعتقادی خصوصیات دوسروں میں ایجاد کر تے ہیں یا انہیں تقویت دیتے ہیں ۔ معنوی افراد کی صحبت ، صرف مقابل کی فکری خصو صیات میں تحول ایجاد کر تا ہے اور غیر سالم اور غلط افکار کو صحیح اعتقادات میں تبدیل کر تا ہے لیکن یہ ایک قانون کلی ہے کیو نکہ جس طرح دین ایک آگاہ و عالم شخصیت کو دستور دیتا ہے کہ جاہل اور نا آگاہ افراد میں جا کر انہیں دین و مذہب کی طرف لائیں اور انہیں تشیع کے حیات بخش دستورات سے آشنا کروا ئیں ۔ اسی طرح وہ دستور و حکم دیتا ہے کہ پست اور منحرف افراد سے ہمنشینی سے دور رہو کہ جب ان کے ساتہ آمد و رفت تم پر اثر انداز ہو ۔

یہ تشخیص دینا عالم اور با خبر شخص کی  ذمہ  داری ہے کہ جاہل افراد کی ہمنشینی کس حد تک منفی یا مثبت اثرات رکہتی ہے ؟ کیا وہ دوسروں میں نفوذ کر تا ہے اور ان افکار و عقائد کو کمال کی طر ف لے جارہا ہے یا ان کی نفسیات اس پر مسلط ہو چکی ہے اور ان کی صحبت اس پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہے؟ کیا وہ دوسروں پر اثر انداز ہو رہا ہے یا دوسرے اس پر اثر انداز ہو رہے ہیں ؟

لہذا اہل علم کا یہ وظیفہ و ذمہ داری ہے کہ وہ لو گوں کو تبلیغ کریں اور اپنے روحانی و نفسانی حالات کی جانب بہی متوجہ رہیں تاکہ دوسروں کے تحت تاثیر قرار نہ پائیں ۔

۱۱۲

جن افراد کی صحبت روح کی تقویت کا باعث ہے

ہم جلد ایسے افراد کے بارے میں بحث کریں گے کہ جن کی صحبت انسان کی علمی و عملی ترقی کے لئے نقصان دہ ہے اب ہم نمونہ کے طور پر چند ایسے افراد کا ذکر کر تے ہیں کہ جن کی صحبت اور ہمنشینی معنوی سیر اور پرواز کا باعث ہے :

1 ۔ علماء ربانی کی صحبت

ان افراد کی صحبت اور ہمنشینی کے بہت زیادہ آثار اور فوائد ہیں مخصوصا اگر انسان ان کے لئے خاص احترام و محبت کا قائل ہو ۔

پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں :

'' لا تجلسوا عند کلّ عالمٍ الاَّ عالم یدعوکم الی الاخلاص '' (1)

ہر عالم کے پاس نہ بیٹہو مگر اس عالم کے پاس کہ جو تمہیں ریا سے روکے اور اخلاص کی طرف لے کر جائے ۔

جو آپ کوصحیح راستہ کی طرف لے جا کر اللہ کی طرف دعوت دے اس کی رہنمائی اور گفتار کا ہدف اپنی طرف دعوت دینا نہیں ہے ۔ ایسے ربانی علماء کی صحبت آپ پر اثر انداز ہو گی اور آپ کو اہل بیت  کے نورانی معارف سے آشنا کر ے گی وہ تمہارے دل کو خاندان وحی کی محبت سے پیوند لگا دیں گے اور تمہیں منافقین تاریخ کی کالی کر توتوں سے آگاہ کر کے تمہارے دلوں میں ان کے لئے نفرت کو زیادہ کریں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]بحار الانوار:ج 1  ص5 20۔

۱۱۳

2 ۔ صالحین کی صحبت

پیغمبر اکرم(ص) اپنے ارشادات میں مجالست و مصاحبت کے مورد میں اپنے محبوں اور دوستوں کی رہنمائی فرماتے ہیں اور انہیں تاکید فرماتے ہیں کہ پر ہیز گار اورمو من افراد میں سے اپنے ہمنشینی منتخب کریں اور بے ہدف اور دنیا پرست افراد کی صحبت سے پر ہیز کریں ۔ آپ  نے اپنے ایک مفصل ارشاد میں عبد اللہ بن مسعود  سے  یوں فرمایا :

'' یابن مسعود فلیکن جلساؤک الا برار واخوانک الا تقیاء والزّهاد ، لانّ اللّٰ هتعالیٰ قال فی کتاب ه: الاخلاَّئ یو مئذٍ بعضهم لبعضٍ عدوّ والاَّ المتّقین ''(1)

اے ابن مسعود ، تمہارے ہمنشین نیک افراد ہوں او ر تمہارے بہائی متقی اور زاہد ہوں کیو نکہ خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے : آج کے دن صاحبان تقویٰ کے علاوہ تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجا ئیں گے  ۔

رسول اکرم(ص) نے  جناب ابوذر کو کی گئی وصیت میں ارشاد فرمایا :

'' یا اباذر لا تصاحب الاَّ مومناً '' (2)

اے ابوذر ! اپنے لئے کسی مصاحب کو منتخب نہ کرو ، مگر یہ کہ وہ مومن ہو  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ سورہ زخرف ، آ یت 67 ، بحار الا نوار:ج 77ص  2 10

[2]۔ بحار الانوار:ج 77ص  86

۱۱۴

کیو نکہ زندگی کا لطف ، اولیاء خدا اور نیک لو گوں کی صحبت میں ہے حضرت امیر المومنین  اپنے ایک حیات بخش فرمان میں رسول(ص) سے فرماتے ہیں :

'' هل احبّ الحیاة الاَّ بخدمتک والتّصرّف بین امرک و نهیک ولمحبّة اولیائک ''(1)

کیا زندگی کو دوست رکہتا ہوں مگر آپ کی خدمت ، آپ کے امر و نہی کی اطاعت اور آپ نے اولیا ء  و محبین سے محبت کے لئے ؟ 

دنیا کی ارزش و اہمیت صرف اولیاء  خدا ور نیک و خود ساختہ افراد کی وجہ سے ہے ورنہ زندگی صرف رنج و غم کا نام ہے جیسا کہ حضرت امیر المومنین کی نظر میں دنیا کی کوئی ارزش و واقعیت نہیں ہے زندگی میں کچہ بے ارزش ، رنج آور اور نا راحت کرنے والے و اقعات ہو تے ہیں لہذا صرف اولیاء خدا کا وجود ہی خدا کے بندوں کے لئے دنیا میں زندگی گزار نے کا سبب ہے نہ کہ دنیا کی زرق برق رونقیں اس بناء پر خدا کے بندوں کے لئے جو چیز دنیا میں زندگی بسر کرنے کو شیریں بنا تی ہے وہ اولیاء خدا اور نیک لوگوں کا وجود ہے کہ جن کی صحبت انسان کے دل میں یاد خدا اور اہل بیت  کو زندہ کرتی ہے یہ چیز ان شخصیات کے لئے دنیا میں زند گی گزار نے کے لئے شیرینی ، مسرت و فرحت کا باعث ہے کہ جنہوں نے دنیا کو فروخت کر دیا ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[3]۔ بحا ر الانوار:ج 19ص  81

۱۱۵

اپنے ہمنشینوں کو پہچانیں

ان دو قسم کے افراد کے درمیاں فرق کو مد نظر رکہیں کہ جن میں سے بعض کا ہدف اپنے نام  چمکانا  ہوتا  ہےاور  کچہ   کا ہدف اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے نام کی نشر و اشاعت کے علاوہ کچہ نہ ہو ، انہیں ایک دوسرے سے تشخیص دیں ۔ افراد کی پہچان اور ان کو آزمانے سے پہلے ان پر اطمینان ہلا کت وگمراہی یا توقف کا باعث بن سکتا ہے ۔ حضرت جواد الائمہ امام تقی (ع)   فرما تے ہیں :

'' من انقاد الیٰ الطّمانینة قبل الحبرة ، فقد عرض نفسه للهلکة و لعاقبة المتعبة ''(1)

جو کسی کو آزمانے سے پہلے ان پر اطمینان کرے وہ اپنے نفس کو ہلا کت میں ڈالتا ہے جس کا انجام بہت سخت ہو گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ بحار الا نوار :ج71 ص 40 3

۱۱۶

اکثر دہو کا کہانے والے یا پہر آسمان سے گرنے  اور کہجور پر اٹہکنے کے مصداق وہ افراد ہیںجوحسن ظن ، جلدی فریفتہ ہو نے والے اور تحقیق کے بغیر اطمینان کر نے کی وجہ سے دہو کا دینے والوں کے چکر میں پہنس جاتے ہیں ۔ اگر وہ مکتب اہل بیت  کی پیروی کرتے ہوئے کسی سے دل لگی اور محبت سےپہلے ان کو آزمالیں تو وہ کبہی بہی  ہلاکت اور گمراہی میں مبتلا نہ ہوں  ۔

اسی وجہ سے ہمیں اپنے دوستوں اور ہمنشین افراد کو پہچا ننا چاہیئے ۔ ان کی کامل پہچان کے بعد ان پر اطمینان و اعتماد کریں اور یہ صحیح و کامل شناخت انہیں آزمانے کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے ۔

           حضرت امیر المو منین (ع) فرماتے ہیں :

          '' یعرف النّاس بالا ختیار '' (1)

           لوگوں کو امتحان اور آزمائش کے ذریعہ پہچانو  ۔

پس  کیوں  سب  پر  بہروسہ  کریں؟  کیوں کسی  بہی قسم کے افراد کے ساتہ ہمنشینی و رفاقت کے لئے تیار ہو جائیں ؟ ہمیں اپنی زند گی کا برنامہ اہل بیت  کے ہدایت کر نے والے ارشا دات کے مطابق قراردیں  اور ان کے فرامین پر عمل پیرا ہو کر  اپنے مستقبل کو درخشاں بنا ئیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ اصول کافی :ج۱  ص30

۱۱۷

جن افراد کی صحبت ترقی کی راہ میں رکاوٹ

 خاندان وحی علیہم  السلام  نے ہمیں اپنے فرامین میں لوگوں کے چند گروہوں کی صحبت و دوستی سے پر ہیز کرنے کا حکم دیا ہے

1 ۔ چھوٹی سوچ کے مالک افراد کی صحبت

           جو معا شرے میں اپنا مقام و مرتبہ اور شخصیت بنانا چاہتے ہیں وہ اپنے اطرافی اور دوستوں کی شناخت کی سعی و کوشش کریں کہ ان کا ماضی اور اس پر لوگوں کے اعتبار کو مد نظر رکہیں ۔ انجان دوست ، یاجو لوگوں میں اچہی صفات سے نہ پہچا نا جا تا ہو ، وہ نہ صرف مشکل میں انسان کی پشت پنا ہی نہیں کرے گا بلکہ اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا ۔

           حضرت امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں :

           '' واحذر صحابة من یفیل رایه و ینکر عمله فانّ الصّاحب معتبر بصاحبه ''(1)

           کمزور و ضعیف الرأی شخص کی ہمنشینی اور صحبت اختیار نہ کرنا کہ جس کے اعمال نا پسند یدہ ہوں کیو نکہ ساتہی کا قیاس اس کے ساتہی پر کیا جا تاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]۔ نہج البلاغہ مکتوب: 69

۱۱۸

           کیو نکہ لوگ ظاہر کو دیکہ کر قضاوت کر تے ہیں ۔ ہمیشہ انسان کی اہمیت اس کے دوستوں کی اہمیت کے مانند ہو تی ہے ۔لہذا معاشرے میں بے ارزش اور ضعیف الرأی افراد کی دوستی سے دور رہیں تا کہ ان کے منفی روحانی حالات سے محفوظ رہیں ۔ نیز اجتماعی و معاشرتی لحا ظ سے بہی ا ن کے ہم ردیف شمار نہ ہوں ۔

           یہ کائنات کے ہادی و رہنما حضرت امیر المو منین علی  کی را ہنمائی ہے جس سے درس لے کر اور زندگی کے برنامہ میں اس پر عمل پیرا ہو کر آپ اپنے آئندہ کو درخشاں بنا  سکتے ہیں ۔ اپنے روزانہ کے برنامہ و اعمال اور رفتار کو تشیع کے غنی ترین مکتب کی بنیاد پر قرار دیں تا کہ ابدی سعادت حاصل کر سکیں۔

           ملاحظہ فرمائیں کہ سید عزیز اللہ تہرانی کس طرح چہوٹی فکر والے افراد سے کنارہ کش ہو کر عظیم معنوی فیض تک پہنچ گئے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نجف اشرف میں شرعی ریاضتوں مثلا نماز ، روزہ اور دعاؤں میں مشغول رہتا اور ایک لمحہ کے لئے بہی اس سے غافل نہ ہوتا ۔ جب عید الفطر کی مخصوص زیارت کے لئے کربلا مشرف ہوا تو میں مدرسہ صدر میں ایک دوست کا مہمان تہا ۔ بیشتر اوقات حرم مطہر حضرت سید الشہداء امام حسین  (ع)میں مشرف ہو تا اور کبہی آرام و استراحت کی غرض سے مدرسہ چلاجاتا ۔

           ایک دن کمرے میں داخل ہوا تو وہاں چند دوست جمع تہے اور واپس نجف جانے کی باتیں ہو رہی تہیں ، انہوں نے مجہ سے پوچہا کہ آپ کب واپس جائیں گے ؟ میں نے کہا کہ آپ چلے جائیں میں اس سال خانہ خدا کی زیارت کا قصد رکہتا ہوں اور محبوب کی زیارت کے لئے پیدل جاؤں گا ۔ میں نے حضرت سید الشہداء  (ع)کے قبہ کے نیچے دعا کی ہے اور مجہے امید ہے کہ میری دعا مستجاب ہو گی ۔

۱۱۹

           میرے دوست مجہے مذاق کر رہے تہے اور کہہ رہے تہے کہ سید ایسا لگتا ہے کہ عبادت و ریاضت کی کثرت سے تمہارا دماغ خشک ہو گیاہے ۔ تم کس طرح توشہ راہ کے بغیر بیابانوں میں ضعف مزاج کے ساتہ پیدل سفر کر سکتے ہو ۔ تم پہلی منزل پر ہی رہ جاؤ گے اور بادیہ نشین عربوں کے چنگل میں گرفتار ہو جاؤگے ۔

           جب ان کی سر زنش حد  سے بڑہ گئی تو میں غصہ کے عالم میں کمرے سے باہر چلا آیا اور شکستہ دل اور پر نم آنکہوں کے ساتہ حرم کی طرف روانہ ہو گیا کسی چیز کی طرف توجہ نہیں کر رہا تہا ۔ حرم میں مختصر زیارت کی اور بالا سر حرم مطہر کی جانب متوجہ ہوا جس جگہ ہمیشہ نماز اور دعا پڑہتا وہاں بیٹہ کر گریہ و توسل کو جاری  رکہا ۔

           اچانک ایک دست ید اللّٰہی میرے کندہے پر آیا ، میں نے دست مبارک کی طرف دیکہا وہ عربی لباس میں ملبّس تہے ۔ لیکن مجہ سے فارسی زبان میں فرمایا کہ کیا تم پیا د ہ خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہونا چاہتے ہو ؟ میں  نے عرض کیا ! جی ہاں ۔ انہوں نے فرمایا ! کچہ نان جو تمہارے ایک ہفتہ کے لئے کافی ہوں ؟ ایک آفتابہ اور احرام اپنے ساتہ لے کر فلاں دن فلاں وقت اسی جگہ حاضر ہو جاؤ اور زیارت و داع انجام دو تا کہ ایک ساتہ اس مقدس جگہ سے منزل مقصود کی طرف حرکت کریں ۔

           میں ان کے حکم کی بجا آوری و اطاعت کا کہہ کر حرم سے باہر آیا ۔ کچہ گندم لی اور بعض رشتہ دار خواتین کو دی کہ میرے لئے نان تیار کر دیں ۔ میرے تمام دوست نجف واپس چلے گئے اور پہر وہ دن بہی آگیا ۔ اپنا سامان لے کر معین جگہ پہنچ گیا ، میں زیارت وداع میں مشغول تہا کہ میں نے ان  بزرگوار سے ملاقات کی ، ہم حرم سے باہر آئے ، پہر صحن اور پہر شہر سے بہی خارج ہوگئے ۔ کچہ دیر چلتے رہے نہ تو انہوں نے مجہے اپنے شیرین سخن سے سر فراز فرمایا اور نہ ہی میں نے ہی ان سے بولنے کی جسارت کی کچہ دیر کے بعد پانی تک پہنچے ۔ انہوں نے فرمایا : یہاں آرام کرو۔ اپنا کہانا کہاؤ اور انہوں نے زمین پر ایک خط کہینچا اور فرمایا یہ خط قبلہ ہے نماز بجا لاؤ عصر کے وقت تمہارے پاس آؤں گا ۔ یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گئے میں وہیں ٹہہرا رہا ، کہا نا کہایا  ، وضو کیا اور پہر نماز پڑہی ۔ عصر کے وقت وہ بزرگوار تشریف لائے اور فرمایا : اٹہو چلیں ، چند گہنٹے چلنے کے بعد پہر اک جگہ اور پانی تک پہنچے، انہوں نے پہر زمین پر خط کہینچا اور فرمایا

۱۲۰

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329

330

331

332

333

334

335

336

337

338

339

340

تھے تو ان میں سہیل بن عمرو بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اونٹنی کے ساتھ بندھا ہوا تھا_ مدینہ سے کچھ میل پہلے اس نے اپنے آپ کو کسی طرح کھینچا تو وہ آزاد ہوکر بھاگ نکلا_ جس پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: '' سہیل بن عمرو کو ڈھونڈ کر اسے قتل کردو'' لوگ اس کی تلاش میں بکھر گئے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی اسے ڈھونڈکر دو بارہ باندھ دیا لیکن اسے قتل نہیں کیا _

سید شریف رضی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ کوئی حکم، حکم دینے والے کو شامل نہیں ہوتا _ کیونکہ رتبہ کے لحاظ سے حکم دینے والا، حکم بجالانے والے سے اونچا ہوتاہے اس لئے وہ اپنے سے تو بلند مرتبہ نہیں ہوسکتا(۱) _

لیکن ہم کہتے ہیں کہ انشاء(۲) کی حد تک تو سید رضی کی مذکورہ بات صحیح ہے لیکن یہاں ایک سوال باقی رہتا ہے کہ اگر قتل کا محرک اور وجوہات باقی تھیں تو پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قتل کیوں نہیں کیا؟ چاہے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے کسی صحابی کو ہی اس کے قتل کا حکم دے دیتے اور خود قتل نہ کرتے_ کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے دست مبارک سے کسی کو قتل نہیں کیا کرتے تھے_ اس کی طرف اسی کتاب کی اگلی جلد میں اشارہ ہوگا_ پس یہاں یہ کہنا پڑے کہ چونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود ہی اسے ڈھونڈ نکالا تھا اس لئے اس آدمی کو قتل کرنا مناسب نہیں سمجھا_

قید میں عباس کے نالے

بہرحال ، ان قیدیوں میں عباس اور عقیل بھی شامل تھے_ ایک رات آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جاگ کر گذاری_ ایک صحابی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا: '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ساری رات کیوں جاگتے رہے ؟'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: '' عباس کی آہ و فریاد نے مجھے سونے نہیں دیا'' _ یہ بات سن کر ایک صحابی نے اٹھ کر اس کی رسیاں ڈھیلی کردیں جس کی وجہ سے اس کی کراہیں بھی رک گئیں ، لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صحابی کے اس عمل کو نہ دیکھ سکے ، جس کی وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

۱)ملاحظہ: ہو حقائق التاویل ج۵ ص۱۱_

۲) انشاء خبر کے مقابلے میں ہے جہاں سچ یا جھوٹ کا شائبہ نہ ہو _ زیادہ تر جاری کرنے کا معنی دیتاہے مثلا ً حکم جاری کرنا _ تفصیل دیگر کتابوں میں_

۳۴۱

نے پوچھا : '' اب عباس کی آواز کیوں نہیں آرہی ؟ '' تو اس صحابی نے کہا : '' میں نے اس کی رسیاں ڈھیلی کردی ہیں '' _ اس پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : '' پھر سب قیدیوں کی رسیاں کچھ ڈھیلی کردو''(۱)

اور یہ روایت ایک معقول روایت ہے جس میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کی عدالت، احکام الہی کی بجا آوری میں دقت نظر اور دین میں صلابت کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے اور یہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان کے مناسب بھی ہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس مشہور بات کے مناسب بھی ہے کہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو راہ خدا سے نہیں ہٹاسکتی تھی _ نہ وہ روایتیں جن میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے قریبوں کا دم بھرتے ہوئے دکھا یا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی عباس کی رسیاں ڈھیلی کرنے کا حکم دیا تھا_ کیونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی ایسے نہیں تھے کہ اپنے قریبوں اور رشتہ داروں پر تو رعایت کریں لیکن دشمنوں پر سختی کریں_ اور ایسی روایتیں مکمل اور صحیح طور پر بیان نہیں ہوئیں_ مگر یہ کہا جائے کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم جانتے تھے کہ اسے زبردستی لایا گیا ہے اس لئے اس کا گناہ دوسروں کے گناہ سے قدر ے چھوٹا اور ہلکا ہے اور اس کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی بھی یہی وجہ تھی _ لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر چہ حقیقت یہی ہے کہ وہ بامر مجبوری اس جنگ میں شریک ہوا تھا_ لیکن نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عدالت کا یہ تقاضا تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے ساتھ بھی دوسرے قیدیوں جیسا سلوک کرتے تا کہ کسی تنقید اور اعتراض کی کوئی گنجائشے ہی نہ رہے _ اسی لئے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب عباس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ کہا کہ اسے زبردستی یہاں لایا گیا ہے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا : '' لیکن بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی تھے'' _ البتہ اس کی تفصیل آئی چاہتی ہے_

بظاہر عباس کی کراہوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے آرامی اس وجہ سے تھی کہ اس کی جگہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگہ کے نزدیک تھی ، یہ بات نہیں تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خاص طور پر دوسرے قیدیوں کے علاوہ صرف عباس پر رحم کھایا تھا_

____________________

۱)تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۰ و صفة الصفوة ج۱ ص ۵۱۰ البتہ عبدالرزاق ، المصنف ج ۵ ص ۳۵۳میں لکھتاہے کہ ایک انصاری نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا:''کیا میں اس کی رسی جاکر کچھ ڈھیلی نہ کردوں؟'' آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : '' اگر اپنی طرف سے یہ کام کرنا چاہتے ہو تو بے شک کرو'' _ تب اس انصاری نے جاکر اس کی رسی ڈھیلی کی جس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اطمینان سے سوئے _ نیز ملاحظہ ہو: دلائل النبوة بیہقی ج۲ ص ۴۱۰_

۳۴۲

عباس کا فدیہ اور اس کا قبول اسلام

مسلمانوں نے عباس سے بیس سے چالیس اوقیہ سونا( ہر اوقیہ چالیس مثقال کا ہوتاہے یعنی آٹھ سو سے سولہ سو مثقال سونا) مال غنیمت لوٹا_ اس نے اسی لوٹے ہوئے سونے کو فدیہ کے طور پر شمار کرنے کا مطالبہ کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : '' تم جو چیز ہمارے خلاف استعمال کرنے لائے تھے ہم اسے تمہیں واپس نہیں کرسکتے''_مؤرخین کہتے ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بات اس لئے کی کہ وہ مشرکوں کے کھانے پینے کا خرچہ برداشت کرنے کے لئے اپنے ساتھ یہ سونا لایا تھا(۱) بہر حال آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنا اور اپنے دو بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا _ لیکن اس نے اپنے پاس کسی مال کی موجودگی کا انکار کیا _ جس پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے کہا : '' جو مال تم نے ام الفضل کے حوالے کرکے اس سے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس مال کو اپنے اور بچوں پر خرچ کرنا ، وہ تو ہے اب اس مال سے اپنا فدیہ دو'' _ تب اس نے پوچھا کہ کس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ بات بتائی ہے اور جب اسے پتا چلا کہ جبرائیلعليه‌السلام نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بتایا ہے تو اس نے کہا: '' قسم سے اس بات کا علم تو صرف یا مجھے تھا یا پھر اس کو ، میں گواہی دیتاہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ''_

پس عباس - ، عقیل اور نوفل کرم اللہ و جوھہم کے سوا باقی سب قیدی حالت شرک میں واپس پلٹے ، اور انہی تینوں کے بارے میں مندرجہ ذیل آیت اتری:

( قل لمن فی ایدیکم من الاسری ان یعلم الله فی قلوبکم خیراً یؤتکم خیرا مما اخذ منکم و یغفر لکم و الله غفور رحیم ) (۲)

اور اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے پاس موجود قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر خدا جان لے کہ تمہارے دل میں اچھائی ( یعنی اسلام کی حقیقت) سماگئی ہے تو تم سے لوٹی جانے والی چیزوں سے بہتر چیزتمہیں عطا کرے گا _ اور تمہیں معاف بھی کردے گا کہ خدا معاف کرنے والا اور مہربان ہے _

____________________

۱)اسباب النزول واحدی ص ۱۳۸ و سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۸_

۲)انفال / ۷۰ ، اس کی معتبر روایت تفسیر البرہان ج۲ ص ۹۴ میں ہے نیز ملاحظہ ہو تفسیر الکشاف ج۲ ص ۲۳۸ و دیگر کتب_

۳۴۳

ایک اور روایت میں ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عباس سے فرمایا: '' عباس تم نے چونکہ خدا سے جنگ کی ہے اس لئے خدا نے بھی تم سے جنگ کی ہے''(۱) ایک اور روایت میں ہے کہ جب اس سے فدیہ طلب کیا جانے لگا تو اس نے کہا کہ میں پہلے سے اسلام لاچکا تھا لیکن ان لوگوں نے مجھے زبردستی جنگ میں دھکیلاہے _جس پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے فرمایا: '' خدا تمہارے اسلام سے بخوبی واقف ہے اگر تمہاری بات سچی ہے تو خدا تمہیں اس کا اجر دے گا ، لیکن بظاہر تو تم ہمارے خلاف ہی تھے''(۲) _ اور یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بعض کا یہ دعوی صحیح نہیں ہے کہ عباس جنگ بدر سے پہلے خفیہ طور پر اسلام لے آئے تھے(۳) مگر یہ کہ اس بارے میں خود عباس کے دعوی کو دلیل بنایا جائے جبکہ عباس کے اس دعوی کو خو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے بھی قبول نہیں کیا _ جنگ بدر کے موقع پر عباس کے مسلمان نہ ہونے پر گذشتہ باتوں کے علاوہ یہ دلائل بھی ہیں کہ جنگ بدر کے موقع پر جب عباس گرفتار ہوا تو مسلمان اسے کافر ہونے اور قطع رحمی کرنے کی بناپر لعنت ملامت کرنے لگے _ اور حضرت علیعليه‌السلام نے بھی اسے بہت سخت باتیں کہیں_ جس پر عباس نے کہا : '' تم ہماری برائیاں تو گنوارہے ہو ، ہماری اچھائیاں کیوں نہیں بتاتے؟'' _ حضرت علیعليه‌السلام نے اسے کہا : '' کیا تمہاری اچھائیاں بھی ہیں ؟ ''_ اس نے کہا: '' ہاں ہم تو مسجد الحرام (خانہ کعبہ) کو آباد کرتے ہیں ، کعبہ کو زندہ کرتے ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور قیدی آزاد کرتے ہیں '' جس پر یہ آیت نازل ہوئی:

( ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد الله شاهدین علی انفسهم بالکفر ) (۴)

مشرکوں کو ان کے کفر کی حالت میں خدا کی مسجدوں کو آباد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا

____________________

۱)بحار الانوار ج ۱۹ ص ۲۵۸ و تفسیر قمی ج ۱ ص ۲۶۸ _

۲)گذشتہ دونوں منابع و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۰ و سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۹۸

۳) ملاحظہ ہو البدایہ والنہایہ ج ۳ ص ۳۰۸ سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۸۸ و ۱۹۸ و طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۲۰_

۴)توبہ /۱۷ و حدیث: اسباب النزول واحدی ص ۱۳۹ درمنثور ج۳ ص ۲۱۹ از ابن جریر وابوشیخ از ضحاک لیکن یہ بات اگلی آیت سقایت الحاج والی آیت میں مذکور ہے_

۳۴۴

ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے کہا : '' اگر تم اسلام ، جہاد اور ہجرت میں ہم سے سبقت لے گئے ہو تو ہم بھی تو مسجد الحرام کو آباد کرتے آئے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے آئے ہیں '' اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

( اجعلتم سقایة الحاج و عمارة المسجد الحرام کمن آمن بالله ) (۱)

کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے کا رتبہ خدا پر ایمان لانے والے شخص کے رتبہ کے برابر قرار دیتے ہو؟

لیکن مذکورہ دونوں آیتیں سورہ توبہ میں ہیں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات طیبہ کے تقریبا آخر میں یعنی جنگ بدر کے کئی سال بعد نازل ہوا _ اس لئے شاید روایت میں مذکور باتیں جنگ بدر کے موقع پر نہ کہی گئی ہوں بلکہ فتح مکہ کے موقع پر کہی گئی ہوں لیکن بدر سے ان کی تصریح راویوں کی غلطی اور ان کے اشتباہ کی وجہ سے ہو _ لیکن پھر بھی اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ فتح مکہ کے موقع پر تو عباس اسیر ہی نہیں ہوا تھا پھر حضرت علیعليه‌السلام نے اس سے سخت باتیں کیوں کیں ؟ البتہ اس کا جواب یوں دیا جاسکتاہے کہ یہ واقعہ ہوسکتاہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عام معافی کے اعلان اور کسی کو کچھ کہنے سے منع کرنے سے پہلے پیش آیا ہو(لیکن اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ عباس جنگ بدر کے موقع پر نہیں بلکہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لایا تھا _ مترجم)

ایک اور دستاویز میں آیا ہے کہ انصاری، عباس کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے ان کے ہاتھ سے لے لیا او رجب وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آگیا تو عمر نے اس سے کہا : '' مجھے (اپنے باپ ) خطاب کے اسلام لانے سے تیرا اسلام لانا زیادہ پسند ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کو تیرا اسلام لانا زیادہ پسند ہے ''(۲) بلکہ روایتوں میں آیا ہے کہ عباس کا اسلام فتح مکہ کے دن ہی سب پر ظاہر ہوا(۳)

____________________

۱)توبہ / ۱۹ و حدیث: اسباب النزول واحدی ص ۱۳۹ ، درمنثورج۳ ص ۲۱۸ از ابن جریر ، ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ و ابوشیخ_

۲)البدایہ والنہایة ج۳ ص ۲۹۸ از حاکم و ابن مردویہ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۴۴ و ۲۴۵ از کنز العمال ج۷ ص ۶۹ از ابن عساکر_

۳)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۱۹۹_

۳۴۵

اور یہ بات حقیقت کے زیادہ قریب لگتی ہے _ کیونکہ اگر وہ جنگ بدر کے موقع پر اسلام لایا بھی تھا (جس طرح گذشتہ روایتیں خاص کر تفسیر البرہان کی معتبر روایت اس بات پر دلالت بھی کرتی ہیں) تو وہ خفیہ طور پر اسلام لایا ہوگا لیکن وہ اپنے مفادات،ا موال اور تعلقات کی حفاظت کے لئے مشرکین کے سامنے شرک اور ان کی مرضی کی باتوں کا اظہار کیا کرتا ہو گا _ کیونکہ قریش یہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایسی سخت جنگ میں بھی مصروف ہوں جس میں ان کے بھائی اور بیٹے قتل ہوتے رہیں، ان کا تجارتی راستہ بند ہوجائے اور انہیں عربوں میں ذلیل ہونا پڑے لیکن ان کے درمیان کئی سال تک ایک مسلمان آرام اور اطمینان سے رہے، خاص کر وہ مسلمان آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچا اور قریبی رشتہ دار بھی ہو_ اور ابوسفیان سے اس کی دوستی بھی اس کے مکہ میں رہنے کی ضمانت نہیں بن سکتی تھی ، کیونکہ قریشیوں نے تو اپنے پیارے رشتہ داروں کو بھی عبرتناک سزائیں دی تھیں پھر وہ اپنے دوستوں کو کیسے برداشت کرسکتے تھے اور صلح حدیبیہ میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم پر قریش کی شرطیں ، مذکورہ بات پر ان کی حساسیت، سختی اور شدت نیز کسی بھی صورت میں کسی کو کوئی چھوٹ نہ دینے کی بہترین دلیل ہیں _ہاں یہ بھی کہا جاتاہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے ان کے درمیان رہنے کا حکم دیا تھا تا کہ وہ ان کی خبریں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچا تارہے اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ان کی جاسوسی کرتاہے_ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خط میں ان کی خبریں پہنچاتا رہتاتھے اور ایک گمان کے مطابق اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جنگ احد کے بارے میں بھی بتادیا تھا_ لیکن یہ سب باتیں اس کے اسلام کی دلیل نہیں بن سکتیں_ یہ باتیں صرف آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبردار کرنے پر دلالت کرتی ہیں چاہے یہ کام رشتہ داری اور اس غیرت کی بناپر ہو کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بھی یہ سب جاننا چاہئے اور ان کی برابری کرنی چاہئے_

نکتہ :

جب عباس کے متعلق گفتگو کرہی رہے ہیں تو چند اور باتوں کی طرف اشارہ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے _ کہا جاتاہے کہ جناب عباس مال دنیا کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور انہیں مال کے حصول کی

۳۴۶

بڑی شدید خواہش ہوتی تھی_ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جنگ بدر میں اپنے اور عقیل کا فدیہ دینے کی وجہ سے بعد میں وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مال کا مطالبہ کرتا رہتا تھا_ روایتوں میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بحرین سے کچھ مال آیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے تقسیم کرنے لگے تو عباس نے آکر کہا : '' یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ میں نے جنگ بدر میں اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا تھا اور عقیل نادار آدمی تھا اس لئے یہ مال مجھے دیں ''_ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اسے وہ مال دے دیا(۱) _اور بعض روایات میں یہ بات بھی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ اس کی آنکھیں پڑھ لیا کرتے تھے ( اور مانگنے سے بھی پہلے دے دیا کرتے تھے) اس لئے اس کی یہ لالچ ہم سے پوشیدہ رہتی اور اس پر نہایت تعجب ہوتا تھا(۲) _ لوگوں میں تقسیم کے بعد بچے کھچے مال کے حصول کا اس کا طریقہ بھی قابل ملاحظہ ہے _ ابن سعد کہتاہے کہ عہد عمر میں لوگوں میں مال تقسیم کرنے کے بعد بیت المال میں کچھ مال بچ گیا تو عباس نے عمر اور لوگوں سے کہا: '' مجھے بتاؤ اگر تم میں حضرت موسیعليه‌السلام کے چچا موجود ہوتے تو کیا تم اس کی عزت افزائی کرتے ؟'' سب نے کہا : '' جی ہاں'' تب اس نے کہا : '' پھر تو میں اس کا زیادہ حق دار ہوں _ میں تو تمہارے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا چچاہوں '' یہ بات سن کر عمر نے لوگوں سے بات چیت کی اور ان لوگوں نے وہ سارا بچا کھچا مال اسے عطا کردیا(۳) _ بہر حال اس نے اپنی آرزوئیں پالیں_ حتی کہ منقول ہے کہ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے مال عطا کیا تو اس نے کہا : '' خدا نے جن دو چیزوں کا مجھ سے وعدہ کیا تھا ان میں سے ایک کو تو پورا کردیا ہے دوسرے کا نہیں پتا _ خدا نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرمایا تھا کہ اپنے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر تمہارے دلوں میں اچھائی سمانے کا خدا کو پتا چل گیا تو تم سے لی جانے والی چیز سے بہتر چیز تمہیں عطا کرے گااور تمہیں معاف بھی کردے گا_ یہ مال اس مال سے کہیں بہتر اور زیادہ ہے جو مجھ سے لیا گیا تھا، لیکن یہ نہیں پتا کہ مغفرت کاکیا بنے گا ؟ ''(۴)

____________________

۱)صحیح بخاری ج۱ ص ۵۵ و ص ۵۶ و ج۲ ص ۱۳۰ ، مستدرک حاکم ج۳ ص ۳۲۹ و ص ۳۳۰ ، تلخیص مستدرک ذہبی اسی صفحہ کے حاشیہ پر اور اس نے اسے صحیح جاناہے ، طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۹ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۰۰ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۲۵و التراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۸ و ۸۹_

۲)صحیح بخاری ج۱ ص ۵۵ و ۵۶ و ج۲ ص ۱۳۰ والتراتیب الاداریہ ج۲ ص ۸۹ _ (۳)طبقات ابن سعد ج۴ حصہ اول ص ۲۰ ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۳۴و تہذیب تاریخ دمشق ج ۷ ص ۲۵۱_ (۳)مستدرک حاکم ج۳ ص ۳۲۹، تلخیص مستدرک ذہبی ( اس کے مطابق حدیث صحیح ہے) ، طبقات ابن سعد ج۴ حصہ ۱ ص ۹ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۲۰ و حیاة الصحابہ ج۲ ص ۲۲۵_

۳۴۷

نبی کریم کو قتل کرنے کی سازش

اس جنگ میں عمیر بن وہب کا ایک بیٹا بھی گرفتار ہوا_ جس کا بدلہ لینے کے لئے عمیر نے صفوان کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر یہ سازش کی کہ عمیر مدینہ جاکر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اغوا کر کے لے آئے گا جس کے بدلے میں صفوان عمیر کے قرض چکائے گا_ اس سازش کو انہوں نے سب سے خفیہ رکھا اور عمیر نے اپنی تلوار کی دھار تیز کی اور اسے زہر آلود کیا اور مدینہ پہنچ گیا_ غرض آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی لیکن عمر کو اس سے خطرہ محسوس ہوا تو اس نے نیام سمیت اس سے اس کی تلوار لے لی، پھر اسے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے پاس لے گیا_ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے دیکھا تو عمر سے کہا کہ اسے چھوڑ دو _ عمر نے اسے چھوڑ دیا تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریب آیا_ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا:'' میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس اس قیدی یعنی وہب کی سفارش کرنے آیا ہوں: اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں'' _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا: '' پھر تلوار کیوں ساتھ لائے ہو؟''_ تو اس نے کہا :'' ان تلواروں کا ستیاناس ہو، کیا انہوں نے کبھی فائدہ پہنچا یا ہے؟''_

تب آنحضرتعليه‌السلام نے بستی میں ہونے والا اس کا اور صفوان کا ماجرا اسے بتایا تو عمیر یہ سن کر مسلمان ہوگیا_ جس پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا:'' اپنے اس بھائی کو دین کی باتیں سکھاؤ، قرآن پڑھاؤ اور اس کے قیدی کو بھی آزاد کردو'' _ اور مسلمانوں نے بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے احکام کی تعمیل میں ایسا ہی کیا _

پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اجازت سے عمیر مکہ جاکر تبلیغ کرنے لگا جس سے مشرکین کو تکلیف پہنچتی تھی بلکہ صفوان نے تو یہ قسم اٹھالی کہ وہ اس سے نہ کبھی گفتگو کرے گا اور نہ اس کے کسی کام آئے گا(۱)

زینب کے ہار اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کا موقف

اس موقع پر کہا جاتاہے کہ آنحضرت کی لے پالک بیٹی جناب زینب نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کی رہائی کے لئے فدیہ کے طور پر کچھ چیزیں بھیجیں جن میں وہ ہار بھی شامل تھے جنہیں جناب خدیجہعليه‌السلام نے

____________________

۱)سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۳۱۷ و ۳۱۸_

۳۴۸

زینب کو جہیز میں دیا تھا _ یہ ہار دیکھ کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو جناب خدیجہعليه‌السلام کی بہت یاد آئی اور زینب کے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی کا احساس ہوا اور اس پر رحم آگیا _ جس کی وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں سے اس قیدی کو چھوڑنے کی خواہش کی اور انہوں نے بھی اسے چھوڑدیا _ لیکن آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اس شرط پر آزاد کرکے جانے دیا کہ وہ جاتے ہی زینب کو ادھر بھیج دے گا _ اس نے بھی وعدہ وفائی کرتے ہوئے زینب کو مدینہ بھجوادیا تھا(۱) زینب کی ہجرت کا ماجرا بھی انشاء اللہ آئندہ آئے گا_

چند جواب طلب سوال

یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم واقعاً اتنے جذباتی تھے کہ ان کی ہمدردی اور رقت نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایک ایسے قیدی کی رہائی پر مجبور کردیا جس پر مسلمان بھاؤ تاؤ کرکے اس کے بدلے میں ایسی چیز یا اتنا مال حاصل کرسکتے تھے جو دشمن کے مقابلے میں انہیں طاقتور بناسکتی تھی؟ کیا صرف زینب کی پرورش ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس کے ساتھ امتیازی سلوک اختیار کرنے کے لئے کافی تھی؟ یا اور وجوہات بھی تھیں ؟ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے رشتہ داروں کا دوسروں سے زیادہ اور خاص خیال رکھنا چاہتے تھے؟ اور کیا یہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رسالت ، صفات اور اخلاق کے مناسب بھی ہے ؟

ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ اصل بات یہ نہیں تھی بلکہ اس موقف میں چند ایسی مصلحتیں پوشیدہ تھیں جو اسلام اور مسلمانوں کی نفع میں ہی تھیں وگرنہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا موقف کسی کے ساتھ بھی کبھی امتیازی نہیں رہا _ اور اس جیسے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سلوک بھی ہمارے سامنے ہے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اپنے چچا ابولہب ملعون اور عقیل کے ساتھ رویہ بھی ہمارے ذہن میں محفوظ ہے _ جبکہ ہم یہاں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مذکورہ عمل اس بات کی تاکیدی وضاحت کے لئے تھا کہ اسلام دوسروں کے (اسلام کی خاطر انجام دیئے

____________________

۱)سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۲ ص ۳۰۸ ، تاریخ الامم والملوک مطبوعہ الاستقامة ج۲ ص ۱۶۴ الکامل فی التاریخ ج۲ ص ۱۳۴ ، بحار الانوار ج ۱۹ ، ص ۲۴۱ ، دلائل النبوہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ج۳ ص ۱۵۴ و تاریخ الاسلام ذہبی ( حصہ مغازی) ص ۴۶ _

۳۴۹

جانے والے) افعال اور خدمات کا احترام اور ان کی قدر کرتاہے اور جناب خدیجہعليه‌السلام بھی ان شخصیات میں سے ہیں جن کی خدمات قابل قدر ہیں _ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب خدیجہعليه‌السلام کی پیاری شخصیتوں کے ساتھ محبت آمیز اور بہترین سلوک کرکے ان قابل قدر خدمات کا صلہ دیتے تھے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جناب خدیجہعليه‌السلام کی سہیلیوں کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً ان کو تحفے تحائف دیا کرتے تھے _ حتی کہ اس وجہ سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بی بی عائشہ سے ناپسندیدہ الفاظ بھی سننے پڑے تھے(۱) اور اگر یہ خدمات جناب خدیجہعليه‌السلام کے علاوہ کسی اور شخصیت سے بھی انجام پاتیں تب بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہی موقف ہوتا _ یعنی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دین کی راہ میں انجام دی جانے والی خدمات کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے چاہے یہ خدمات جس کسی سے اور جس سطح پر انجام پائی ہوں_ اس پر مزید یہ کہ اس موقع سے اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، مشرکین کے ظلم و ستم اور ان کے چنگل سے کسی کو (اور وہ بھی زینب جیسی شخصیت کو ) نجات دلاسکتے تھے تو پھر اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھاتے؟ اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابوالعاص کو فدیہ لئے بغیر بھی تو نہیں چھوڑا تھا کیونکہ زینب نے اس کا فدیہ بھجوا دیا تھا، پھر اب اس کو قید رکھنے کا کیا جواز رہ جاتا تھا؟

جناب زینب کا واقعہ اور ابن ابی الحدید

اس مقام پر ابن ابی الحدید آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رقت اور ہمدردی کے متعلق لکھتے ہیں کہ '' میں نے نقیب(۲) ابوجعفر یحیی بن ابوزید بصری ( اس کی شخصیت کی تعریف اور تعارف ابن ابی الحدید نے کئی دیگر مقامات پر کیا ہے)_(۳) کو یہ روایت پڑھ کر سنائی تو انہوں نے کہا :

____________________

۱)اس کے منابع و مآخذ '' بیعت عقبہ'' والی فصل میں '' بی بی عائشہ کی غیرت اور حسد'' کے متعلق گفتگو کے دوران ذکرہوچکے ہیں_

۲)کسی دور میں عالم عارف اور زاہد کامل کو نقیب کا لقب دیا جاتا تھا جس کا مطلب خدا کا یا دین اسلام کا نمائندہ اور تقوی کا عملی نمونہ ہوتا تھا_

۳) ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ ج ۱۲ میں ان الفاظ سے اس کا تعارف کرایا ہے کہ '' وہ نہ تو امامی مذہب ہے ، نہ کسی بزرگ صحابی سے بیزار اور نہ ہی کسی افراطی شیعہ کی بات سننے والا '' اور اسی کتاب کی ج ۹ ص ۲۴۸ میں اس کی تعریف یوں کی ہے کہ '' وہ منصف مزاج اور نہایت عقل مند ہے '' نیز بحار الانوار ج ۱۹ کے حاشیہ میں ابن ابی الحدید سے منقول ہے کہ اس نے اس کی تعریف دیانت داری ، امانت داری، خواہشات اور تعصبات سے دوری ، مناظروں میں انصاف پسندی، کثرت علم ، تیز فہمی اور عقل مندی جیسی صفات سے کی ہے _

۳۵۰

'' کیا تمہارے خیال میں اس واقعہ میں ابوبکر اور عمر موجود نہیں تھے؟ کیا کرم اور احسان کا یہ تقاضا نہیں تھا کہ وہ فدک کو مسلمانوں کی طرف سے حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کو دے کر ان کا دل خوش کرتے ؟ کیا کائنات کی عورتوں کی سردار اس بی بی کی شان اپنی بہن جناب زینب سے بھی کم تھی؟ یہ تو اس صورت میں ان کا حق بنتا تھا جب وراثت یا رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے عطیہ والا ان کا حق ثابت نہ ہوتا ( حالانکہ دونوں صورتوں میں ان کا ثابت ہوتاہے، لیکن برا ہوکر سی کا جو اپنے مد مقابل کو دبانے کے لئے ہر قسم کے انسانی اور غیر انسانی بلکہ شیطانی ہتھکنڈے استعمال کرنے پر مجبور کردیتی ہے )''(۱)

فدیہ اسیر، تعلیم تحریر

مقریزی کہتاہے:'' قیدیوں میں کئی ایسے بھی تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے جبکہ انصار میں کوئی بھی اچھی لکھائی والا نہیں تھا_ اوروہ قیدی نادار بھی تھے_ پس ان کے ساتھ یہ طے پایا کہ ہر قیدی دس لڑکوں کو لکھنا سکھائے گا تو اسے آزاد کردیا جائے گا _ انصار کے لڑکوں کے ساتھ زید بن ثابت نے بھی اسی عرصے میں لکھنا سیکھا تھا_ امام احمد نے عکرمہ کے ذریعہ ابن عباس کی روایت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بدر کے قیدیوں میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کو کچھ نہیں تھا_ تورسول خدا نے ان کا فدیہ یہ قرار دیا کہ وہ انصار کے لڑکوں کو لکھنا سکھائیں '' اس کے بعدمقریزی ایک ایسے شخص کا واقعہ نقل کرتا ہے جسے اس کے استاد نے مارا تھا_ پھر اس کے بعد کہتاہے : '' عامر الشعبی نے کہا ہے کہ جنگ بدر کے ہر قیدی کا فدیہ چالیس اوقیہ سونا تھا_ لیکن جس کے پاس یہ سب نہیں تھا تو اس پر دس مسلمانوں کو لکھائی سکھانا ضروری تھا_ اور زید بن ثابت بھی انہی افراد میں سے تھا جنہوں نے لکھناسیکھا تھا''(۲)

____________________

۱)شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ۱ ص ۱۹۱_

۲) ملاحظہ ہو: التراتیب الاداریہ ج۱ ص ۴۸ و ۴۹ از المطالع النصریہ فی الاصول الخطیہ ابوالوفاء نصر الدین الہورینی واز سہیلی ، مسند احمد ج۱ ص ۲۴۷ ، الامتاع ص ۱۰۱ ، الروض الانف ج ۳ ص ۸۴ ، تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۹۵ ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۱۹۳ ، طبقات ابن سعد ج۲ حصہ ۱ ص ۱۴ و نظام الحکم فی الشریعة والتاریخ الاسلامی (الحیاة الدستوریہ ) ص ۴۸_

۳۵۱

ہم بھی کہتے ہیں کہ دس مسلمان بچوں کو لکھائی کی تعلیم کو قیدیوں کا فدیہ قرار دینا تاریخ میں پہلی جہالت مکاؤ تحریک تھی جس میں اسلام تمام دیگر اقوام اور ادیان سے سبقت لے گیا _ یہ روایت بھی ملتی ہے کہ حکم بن سعید بن عاص نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے پاس آکر اپنے نام کے متعلق پوچھا تو آپ نے اس کا نام بدل کر عبداللہ رکھا اور اسے حکم دیا کہ مدینہ جاکر لوگوں کو لکھنا سکھائے(۱) اور یہ بات ایسے زمانے میں اسلام میں علم کی اہمیت کی انتہا کو بیان کرتی ہے جب اس وقت کی ایران جیسی دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے درباری اور حکومتی افراد کے علاوہ ہر کسی کو بڑے زور و شور سے حصول علم سے منع کرتی تھیں _ حتی کہ اس زمانے کے ایک بہت بڑے تاجر نے قیصر روم سے انوشیروان کی جنگ کے تمام لازمی اخراجات اس شرط پر اپنے ذمہ لینے کی پیشکش کی کہ اس کے بیٹے کو حصول علم کی اجازت دی جائے(۲) _ بلکہ بعض عربی قبیلے تو لکھنے پڑھنے سے آشنائی کو اپنے لئے عیب سمجھتے تھے(۳) _اس کی طرف ہم نے اس سیرت کی بحث کے مقدمہ میں اشارہ کردیا تھا_ شائقین وہاں مراجعہ فرمائیں_

بہر حال اسلام ان نازک حالات اور مشکل لمحات میں بھی دس مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کے بدلے میں اپنے سخت ترین دشمنوں کو بھی آزاد کرنے آیا _ حالانکہ وہ ان قیدیوں سے فدیہ بھی لے سکتا تھا یا خود ان سے مسلمانوں کے مشقت والے کام کرائے جاسکتے تھے بلکہ وہ انہیں قریش پر سیاسی دباؤ کا ذریعہ بھی بناسکتے تھے_ اور یہ کام اس نئے جنم لینے والے معاشرے کے لئے نہایت ضروری بھی تھے جسے دوسرے معاشرے دھتکارنے اور تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے جبکہ اس نئے معاشرے کو اپنی زندگی ، بقائ، اسلامی حکومت کے قیام اور آسمانی تعلیمات کے نشر و اشاعت کے لئے جنگوں سے بھر پور ایک طویل اور پر مشقت راستہ طے کرنا تھا_

____________________

۱)نسب قریش مصعب زبیری ص ۱۷۴ و الاصابہ ج۱ ص ۳۴۴ از نسب قریش_

۲)خدمات متقابل اسلام و ایران ص ۲۸۳ ، ۲۸۴و ۳۱۴نیز ملاحظہ ہو ص ۳۱۰ از شاہنامہ فردوسی ج ۶ ص ۲۵۸ تا ۲۶۰_

۳)الشعر والشعراء ص ۳۳۴ والتراتیب الاداریہ ج۲ ص ۲۴۸_

۳۵۲

قیدیوں سے سلوک

یہاں قابل ملاحظہ ہے کہ جن مسلمانوں نے کل مشرکوں سے سختیاں اور تلخیاں چکھی تھیں وہ آج اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کرچکے تھے اور جن لوگوں نے کل انہیں اذیتیں دی تھیں ، دربدر کیا تھا، تمام مال و اسباب چھین لیا تھا اور قطع رحمی کی تھی وہ آج انہی کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی میں مبتلا ہوگئے تھے اور ان کی ہمدردی کے محتاج ہوگئے تھے، تو آپ لوگوں کے خیال میں وہ مسلمانوں سے کس قسم کے سلوک کی توقع رکھ سکتے تھے ؟ یا مسلمان ان سے کس قسم کا اور کس طرح کا بدلہ لیتے؟

توقعات اور خیالات تو ذہن میں بہت سے آسکتے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان تمام توقعات کے برخلاف ان سے کسی قسم کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس فرصت سے کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی _ بلکہ ان کے عظیم رہنما (حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ) کی طرف سے صرف ایک جملہ صادر ہوا کہ قیدیوں سے ہر ممکن اچھا سلوک کرو_ اور مسلمانوں نے بھی اس حکم کی پیروی کی اور انہوں نے قیدیوں کو اپنے مال و اسباب تک میں شریک کرلیا_ حتی کہ بعض توایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کھانا تک بھی قیدیوں کو کھلا دیتے تھے(۱)

سودہ کا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف قیدیوں کو بھڑکانا

یہاں قابل تامل اور تعجب بات یہ ہے کہ ہے (آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ) ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ مشرک قیدیوں کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں کی خلاف بھڑکاتی رہی_اور واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب بدر کے قیدیوں کو مدینہ لایا گیا اور سودہ نے سہیل بن عمرو کورسی کے ساتھ پس گردن بندھے ہاتھوں سے گھر کے ایک کونے میں دیکھا تو کہتی ہے کہ '' بخدا جب میں نے ابویزید کو اس حالت میں دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں آپے سے باہر ہوکر کہنے لگی: ''او ابویزیدتم لوگوں نے اپنے ہاتھ ان کے آگے جوڑ دیئے؟کیا تم شرافت کی موت نہیں

____________________

۱)ملاحظہ ہو : طبری ج۲ ص ۱۵۹ ، الکامل ابن اثیر ج۲ ص ۱۳۱ ، سیرہ ابن ہشام ج۲ ص ۲۹۹ و ص ۳۰۰ المغازی واقدی ج۱ ص ۱۱۹ و تاریخ الخمیس ج۱ ص ۳۸۸_

۳۵۳

مرسکتے تھے؟'' اور خدا کی قسم مجھے اس وقت ہوش آیا جب گھر کے اندر سے مجھے سولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی آواز سنائی دی_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرمارہے تھے: '' سودہ کیا تو انہیں خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے خلاف بھڑکانا چاہتی ہے ؟'' جس پر میں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا : '' یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو برحق نبی بناکر بھیجنے والی ذات کی قسم جب میں نے ابویزید کو اس حالت میں دیکھا کہ اس کے ہاتھ پس گردن بندھے ہوئے ہیں تو مجھ سے رہا نہ گیا اور جو کچھ منہ میں آیا کہہ دیا ''(۱) _

اور بعض دستاویزات میں یہ اشارہ بھی ملتاہے کہ سودہ کا اپنی زندگی میں آنحضرت کے ساتھ رویہ اکثر و بیشتر منفی رہا ہے حتی کہ یہ بھی ملتاہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے طلاق دینے پر بھی آمادہ ہوگئے لیکن اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو واسطہ دے دے کر دوبارہ رجوع کرنے پر راضی کیا اور اپنے حصے کے دن اور رات سے بھی عائشہ کے حق میں دست بردار ہوگئی کیونکہ عائشہ ہر وقت اس کی تعریف کیا کرتی تھی_ حتی کہ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ سودہ سے زیادہ مجھے کوئی بھی شخص زیادہ عزیز نہیں ہے _ میرا تو دل کرتاہے کہ سودہ کے جسم ( روایت میں کینچلی کا لفظ آیا ہے ) میں میری روح سماجاتی(۲)

____________________

۱) البدایہ والنہایہ ج۳ ص ۳۰۷_

۲) الاصابہ ج۴ ص ۳۳۸ و دیگر کثیر منابع_

۳۵۴

۳۶۹

چوتھی فصل:

جنگ بدر کا اختتام

۳۵۵

اہل بدر بخشے ہوئے ہیں

مؤرخین کہتے ہیں کہ جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فتح مکہ کے لئے تیاریوں میں مصروف تھے تو حاطب ابن ابی بلتعہ نے ایک خط میں مکہ والوں کو اس بات سے خبردار کرنا چاہا_ اس نے وہ خط ایک عورت کو دیا تا کہ وہ اسے ان تک پہنچادے_ لیکن جبرائیلعليه‌السلام نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ بات بتادی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علیعليه‌السلام کو ایک اور آدمی کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان '' روضہ خاخ ( باغ خاخ)نامی ایک جگہ بھیجا تا کہ وہ اس عورت سے وہ خط لے آئیں _ انہوں اسی جگہ پر اس عورت کو جالیا اور اس کے سامان کی تلاشی لی تو اس کے سامان سے کچھ بھی برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے وہ واپس جانے لگے تو حضرت علیعليه‌السلام نے کہا: '' بخدا ہم لوگوں نے کبھی جھوٹ بولا ہے نہ ہمیں کبھی کوئی جھوٹی بات بتائی گئی ہے'' آپعليه‌السلام نے نیام سے تلوار نکال کر لہراتے ہوئے اس عورت سے کہا : '' وہ خط نکالو وگرنہ بخدا میں تمہاری گردن اڑادوں گا'' جب اس نے آپعليه‌السلام کی از حد سنجیدگی کا مشاہدہ کیا تو اپنی چوٹی سے وہ خط نکال کر آپعليه‌السلام کو دے دیا_

حضرت علیعليه‌السلام نے وہ خط لے کر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں جاکر پیش کیا _ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی حضرت علیعليه‌السلام کو حاطب کی طرف بھیجا اور اس سے اس خط کی بابت پوچھا تو اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : '' میرے رشتہ دار مکہ میں رہتے ہیں اور مجھے مشرکوں سے ان کی جان کا خطرہ لاحق ہوا تو میں نے یہ کام کرکے مشرکوں کو اس کام سے روکنا چاہا تھا'' اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا عذر قبول کرلیا_

لیکن عمر بن خطاب نے دل میں سوچا کہ حاطب نے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ خیانت کی ہے اس لئے اس نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے اس کی گردن مارنے کا مطالبہ کیا _ جسے سن کر آنحضرت نے اس سے فرمایا: '' کیا وہ بدری صحابی نہیں ہے؟ شاید(یا یقینا) خدا بدریوں کے دلی حالات بخوبی جانتاہے'' پھر آپ نے بدریوں سے مخاطب ہوکر فرمایا :'' جوجی میں آئے کرو کہ جنت تمہارے اوپر واجب ہوچکی ہے

۳۵۶

(یا تمہیں بخش دیا گیا ہے)(۱) حلبی اس بارے میں کہتاہے:'' اس جملے سے معلوم ہوتاہے کہ اگر اہل بدر سے کوئی کبیرہ گناہ بھی ہو جائے تو انہیں اس کے لئے کسی توبہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ جب بھی مریں گے بخشے ہوئے اس دنیا سے جائیں گے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فعل ماضی میں یہ خبر دینا اس کے تحقق میں مبالغہ کی علامت ہے( یعنی وہ یقینا ہر صورت میں بخشے ہوئے مریں گے)البتہ یہ معاملہ صرف ان کے آخرت کی بہ نسبت ہے ، ان کی دنیا کی بہ نسبت ایسا نہیں ہے دنیا میں انہیں سزائیں ملیں گی ، اسی لئے جب عہد عمر میں قدامہ بن مظعون نے شراب پی تو اس پر حد جاری کیا گیا(۲)

____________________

۱) ملاحظہ ہو : بخاری مطبوعہ ۱۳۰۹ ج۲ ص ۱۱۰ و ج ۳ ص ۳۹ و ص ۱۲۹ و طبع مشکول کتاب المغازی غزوہ بدر و ج۹ ص ۲۳ ،فتح الباری ج۶ ص ۱۰۰ ، ج۸ ص ۴۸۶و ج۷ ص ۲۳۷ از احمد ، ابوداؤد و ابن ابی شیبہ ، البدایہ والنہایہ ج۴ ص ۲۸۴ و ج۳ ص ۳۲۸ از تمام صحاح سوائے ابن ماجہ ، مجمع الزوائد ج ۸ ص ۳۰۳ ، ج۹ ص ۳۰۳ و ۳۰۴ و ج۶ ص ۱۶۲ و ۱۶۳ از احمد ، ابویعلی و بزار ، حیاة الصحابہ ج۲ ص ۴۶۳ و ۳۶۴ از گذشتہ بعض ، سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۲۰۳ و ۱۹۲ ، مجمع البیان ج ۹ ص ۲۶۹ و ۲۷۰ ، تفسیر قمی ج ۲ ص ۳۶۱، الارشاد مفید ص ۳۳ ، ۳۴ و ۶۹، صحیح مسلم ج ۴ ص ۱۹۴۱ ، مطبوعہ دار احیا التراث العربی، المغازی ج۲ ص ۷۹۷ و ۷۹۸ اسباب النزول ص ۲۳۹ ، تاریخ یعقوبی ج ۲ ص ۴۷ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۶ ص ۵۸ و ج۱۷ ص ۲۶۶ ، سنن ابوداؤد ج۳ ص ۴۴ و ۴۵و ۴۸ ، التبیان شیخ طوسی ج ۹ ص ۲۹۶ ، اسد الغابہ ج۱ ص ۳۶۱ درالمنثور سیوطی ج ۶ ص ۲۰۳، تاریخ اسلام ذہبی (حصہ مغازی) ص ۹۳ ، ۴۳۹ و ۴۴۰ السنن الکبری ج۹ ص ۱۴۶ ، سیرہ نبویہ ابن ہشام ج۴ ص ۳۹ وص ۴۱ ، دلائل النبوہ بیہقی ج ۲ ص ۴۲۱ و ۴۲۲ الجامع الصحیح ج۵ ص ۴۰۹ و ص ۴۱۰ ، مسند شافعی ۳۱۶ ، الطبقات الکبری ج۲ ص ۹۷ ، تفسیر فرات الکوفی ص ۱۸۳ ص ۱۸۴ ، لسان العرب ج۴ ص ۵۵۷ ، المبسوط شیخ طوسی ج۲ ص ۱۵ ، تاریخ الامم والملوک ج۳ ص ۴۸ و ۴۹، المناقب ابن شہر آشوب ج۲ ص ۱۴۳ و ۱۴۴، کنز العمال ج ۱۷ ص ۵۹، تہذیب تاریخ دمشق ج۶ ص ۳۷۱ ، بحارالانوار مطبوعہ بیروت ج۷۲ ص ۳۸۸ و ج۲۱ ص ۱۲۵ ، ۱۱۹ ، ۱۲۰، ۱۳۶، ۱۳۷و طبع سنگی ج ۸ ص ۶۴۳ ازالارشاد شیخ مفید، اعلام الوری، تفسیر قمی و تفسیر فرات الکوفی، عون المعبود ج۷ ص ۳۱۰ ، ۳۱۳ الدرجات الرفیعہ ص ۳۳۶ ، زاد المعاد ابن قیم ج ۳ص ۱۱۵ ، عمدة القاری ج ۱۴ ص ۲۵۴، تاریخ الخمیس ج۲ ص ۷۹ ، ترتیب مسند شافعی ج ۱ ص ۱۹۷ ، المحلی ج ۷ ص ۳۳۳ ، الجامع لاحکام القرآن ج۱۸ ص ۵۰ و ص ۵۱ ،احکام القرآن جصاص ج ۵ ص۳۲۵ ، جامع البیان ج ۲۸ ص ۳۸ تا ص ۴۰ ، الکامل فی التاریخ ج۲ ص ۲۴۲ ، کشف الغمہ اربلی ج ۱ ص ۱۸۰ الاصابہ ج ۱ ص ۳۰۰ ، البرہان فی تفسیر القرآن ج۴ ص ۳۲۳، الاعتصام بحبل اللہ المتین ج ۵ ص ۵۰۰ و ص ۵۰۱ ، تفسیر الصافی ج ۵ ص ۱۶۱ ، نہج السعادة ج ۴ ص ۲۸ ، معجم البلدان ج۲ ص ۳۳۵، المواہب اللدنیہ ج۱ ص ۱۴۹ ، بہجة المحافل ج۱ ص ۱۸۸ و ۴۰۰ المصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۶۹ ، تفسیر ثعالبی ج۴ ص ۲۹۸ و منہاج البراعہ ج ۵ ص ۱۰۶(مؤخر الذکر کتاب کا اردو ترجمہ بھی میرے والد محترم کے قلم سے منظر عام پر آ رہا ہے_مترجم)_ (۲) حد ایک فقہی اور شرعی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ (قتل کے علاوہ) ایسا جرم جس کی سزا کی حد شریعت میں مقرر کی گئی ہو مقرر نہ ہو تو تعزیرات جبکہ قتل یا اس جیسے معاملے میں بدلے کو قصاص اور اس کی قیمت کو دیت کہتے ہیں _

۳۵۷

حالانکہ وہ بھی بدری صحابی تھا'' حلبی نے یہ بھی کہا ہے: '' کتاب خصائص الصغری میں شرح جمع الجوامع سے منقول ہے کہ دوسروں کے فسق کا موجب بننے والے افعال کے ارتکاب سے کوئی بھی صحابی فاسق نہیں ہوگا ''(۱) _

اسی طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ جنگ بدر میں شرکت کرنے والا کوئی بھی شخص ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا(۲) _

لیکن ہم کہتے ہیں کہ :

اس صورت میں تو اگر کوئی بدری (بلکہ کوئی بھی )صحابی شراب پیتا رہے ، کسی سے بلکہ محارم سے زنا بھی کرتارہے نماز ترک کردے، کسی بھی واجب پر عمل نہ کرے اور کسی بے گناہ کو قتل کردے ( جیسا کہ جنگ جمل اور جنگ صفین میں انہوں نے ہزاروں بے گناہوں کو قتل کیا تھا نیز دسیوں بے گناہوں کو چوری چھپے، دن دیہاڑے، دھوکے سے یا قید کرکے قتل کیا گیا تھا)_ غرض کوئی بھی کبیرہ گناہ ان سے نہ چھوٹنے پائے تب بھی انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا _ وہ ان کے فاسق ہونے کا باعث نہیں ہوں گے_ وہ نہ تو کسی سزا کے مستحق ہوسکتے ہیں اور نہ انہیں ان کبیرہ گناہوں سے توبہ کرنے کی کوئی ضرورت ہے _

یہ بھی کہتے چلیں کہ اس صورت میں عبداللہ بن ابی کو بھی بخشا ہوا ہونا چاہئے _ کیونکہ بعض روایتوں کے مطابق اس نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا(۳) _

اور اگر اہل بدر کے بارے میں یہ باتیں صحیح ہوں تو پھر بدریوں پر کسی فریضے کی پابندی اور احکام شریعت کے وجوب کا پھر کوئی معنی نہیں رہتا _ تو پھر وہ اپنے آپ کو مشقتوں میں ڈال کر کیوں تھکائیں ؟ جبکہ انہیںجنت کی ضمانت دی گئی ہے بلکہ وہ حاصل ہوچکی ہے _ اب انہیں دنیاوی زندگی اور اس کی لذتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہئے چاہے وہ حلال ہوں یا حرام پھر اس میں کوئی فرق نہیں رہے گا_

____________________

۱)سیرہ حلبیہ ج ۲ ص ۲۰۳ و ۲۰۴ نیز ملاحظہ : ہو فتح الباری ج ۷ ص ۲۳۷ و ۲۳۸_

۲) فتح الباری ج۷ص ۲۳۷ اور اس کی سند مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے _

۳)سیرہ حلبیہ ج۱ ص ۳۳۵ _

۳۵۸

لیکن حق سے دفاع میں ناکثین ، قاسطین اور مارقین کے باطل اور گمراہ فرقوں سے حضرت علیعليه‌السلام کی جنگ کے متعلق رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے برحق فرامین اور پیشین گوئیوں کو ان لوگوں نے جان بوجھ کر طاق نسیان کے سپرد کردیا اور یہ کہنے لگے کہ حضرت علیعليه‌السلام کی ان سے جنگ اور ان کا قتل ، خونریزی میں ان کی جرات ، بے باکی اور جسارت کی وجہ سے تھا اور اس کا اصلی سبب یہ تھا کہ انہوں نے یہ سن رکھا تھا کہ خدا نے اہل بدر کو کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ وہ جو چاہیں کریں انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی(۱) ؟

لیکن پھر ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ بدریوں کو دنیا میں کیوں سزا ملے گی ؟ جبکہ خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے عمر بن خطاب کو مشرکوں پر مسلمانوں کا راز برملا کرنے کی کوشش کرکے خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے خیانت کے مرتکب ہونے والے حاطب کو یہ کہہ کر سزا دینے سے منع کردیا تھا کہ یہ اہل بدر سے ہے ؟_ جب خدا نے بدریوں کو ہر چیز سے معاف کررکھا ہے تو انہیں دنیا میں کیوں سزا ملے گی ؟ کیا اس صورت میں انہیں سزا دینا بلا سبب نہیں ہوگا؟ جب وہ کسی گناہ یا غلطی کے مرتکب ہوتے ہی نہیں تو پھر انہیں سزا کیسی؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب حلبی نے دیکھا کہ عمر ، قدامہ پر حد جاری کررہے ہیں تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ بدریوں کو دنیاوی سزا معاف نہیں ہوئی _ اور اگر عمرکا یہ واقعہ نہ ہوتا تو ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے حاطب کی سزا معاف کرنے کو دلیل بناکر ان کی دنیاوی سزا بھی معاف کردی جاتی اور چونکہ انکی فقہ اور شریعت کے احکام کا دارومدار جناب عمر کی ذات ہے اس لئے ضروری تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے قول ، فعل اور تقریر(۲) یعنی سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نظر انداز کرکے جناب عمر کے افعال و اقوال پر احکام شریعت کی بنیاد رکھی جاتی ( اور اس کے مطابق سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی توجیہ کی جاتی) حلبی نے یہ سارے احکام آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس حدیث شریف سے اخذ کئے ہیں جس میں '' شاید'' کا لفظ آیا ہے _ کاش کسی طریقے سے مجھے یہ معلوم ہوجاتا کہ اگر اسے ایسی حدیث مل جاتی جس میں قطعیت کے ساتھ ان کی مغفرت کا ذکر ہوا ہے تووہ اس سے کتنے احکام استنباط کرتا؟

____________________

۱) ملاحظہ ہو : صحیح بخاری ج۹ ص ۲۳ طبع مشکول ، فتح الباری ج۷ ص ۲۳۸، الغارات ج۲ ص ۵۶۸ و ۵۶۹ و شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج۴ ص ۱۰۰_ اور چاہے وہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اپنی دختر کو اذیت بھی کرتے رہیں انہیں کچھ نہیں ہوگا_ (۲)تقریر کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے کوئی فعل انجام د ے یا کوئی بات کرے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اور کوئی رکاوٹیں بھی نہ ہوں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے منع نہ فرمائیں تو اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتاہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس عمل پر راضی ہیں اور یوں وہ عمل ایک شرعی حکم کی حیثیت حاصل کرجاتاہے_

۳۵۹

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہل بدر کے لئے مغفرت والی حدیث میں( اگر صحیح بھی مان لیں تو) یقینا ''اعملوا ماشئتم '' (جو جی میں آئے کرو) کا جملہ ہرگز نہیں ہے _ بلکہ ان کی بخشش ان کے سابقہ گناہوں کی بہ نسبت ہوگی _ اور اگر اس میں یہ فقرہ ہوگا بھی تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ '' اپنے اعمال کا از سر نوجائزہ لو کہ تمہاری سزا و جزا کا دارومدار تمہارے آئندہ کے اعمال ہوں گے'' یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ان کے آئندہ کے بھی تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں_ لیکن اگر اس حدیث میں'' اعملوا ما شئتم'' کا فقرہ موجود ہوتا اور اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تمہارے آئندہ کے بھی تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں تو اس حدیث اور اس بات کو دلیل بناکر قدامہ عمر پر اعتراض کرسکتا تھا تا کہ اس حد سے چھٹکارا پاسکے _ نیز وہ حاطب کے ساتھ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے موقف کو بھی بطور دلیل پیش کرسکتا تھا_ بلکہ خود عمر پر بھی اتنے واضح اور مشہور نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حکم کی مخالفت بھی نہایت دشوار ہوتی(۱) اس کے علاوہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم سے مذکورہ فقرہ منسوب کرکے اس کی نشر و اشاعت زیادہ تر سیاسی مفادات کے پیش نظر کی گئی _ اس لئے پختہ احتمال یہی ہے کہ اس حدیث کو مذکورہ معنی میں پھیلانے میں سیاست کا ہاتھ تھا_

اہل بدر سے بھی افضل لوگ ؟

تاریخ میں ملتاہے کہ سعد بن ابی وقاص جنگ مدائن میں اپنے لشکر کو اہل بدر سے افضل قرار دیتے ہوئے کہتاہے: '' بخدا یہ لشکر امین ہے _ اور اگر اہل بدر کے متعلق انتہائی باتیں نہ ہوچکی ہوتیں تو خدا کی قسم میں یہ کہتا کہ یہ لشکر اہل بدر سے بھی بافضیلت ہے کیونکہ بدریوں سے ناقابل بیان کرتوت سرزد ہوئے لیکن میں نے اس لشکر سے کوئی ایسی ویسی بات نہیں سنی اور نہ ہی میرے خیال میں آئندہ کوئی بات ہوگی ''(۲) _ بلکہ کعب بن مالک تو بیعت عقبہ کی رات کو جنگ بدر اور بدریوں سے زیادہ بافضیلت قرار دیتاہے گرچہ واقعہ بدر لوگوں میں بیعت عقبہ سے زیادہ مشہور ہے(۳)

____________________

۱) عدالت صحابہ کے نظریئےے متعلق ملاحظہ ہو ہماری کتاب ''دراسات و بحوث فی التاریخ والاسلام '' ج۲_

۲)حیاة الصحابہ ج۳ ص ۷۵۸ از تاریخ طبری ج۳ ص ۱۳۸_

۳)البدایہ والنہایہ ج۵ ص ۲۳ از بخاری ، ابوداؤد نسائی و غیرہ ، ٹکڑے ٹکڑے اور اختصار کے ساتھ ، ترمذی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، بیہقی ج۹ ص ۳۳ ، حیاة الصحابہ ج۱ ص ۴۷۵ از گذشتہ منابع واز الترغیب والترہیب ج۴ ص ۳۶۶_

۳۶۰

361

362

363

364

365

366

367

368

369

370

371

372

373

374

375

376

377

378

379

380

381

382

383

384

385

386

387

388

389

390

391

392

393

394

395

396

397

398

399

400

401

402

403

404

405

406

407

408

409

410

411

412

413

414

415

416

417

418

419

420

421

422

423

424

425

426

427

428

429

430

431

432

433

434

435

436

437

438

439

440

441

442

443

444

445

446

447

448

449

450

451

452

453

454

455

456

457

458

459

460