رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر0%

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر مؤلف:
قسم: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 311

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مرکزتحقیقات علوم اسلامی
قسم: صفحے: 311
مشاہدے: 6609
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 585

تبصرے:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 311 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 6609 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 585
سائز سائز سائز
  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے :

۲

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

تالیف : مرکز تحقیقات علوم اسلامی

ترجمہ : معارف اسلام پبلشرز

۳

پہلا سبق:

(ادب و سنت )

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب و سنن کو پیش کرنے سے قبل مناسب ہے کہ ادب اور سنت کی حقیقت کے بارے میں گفتگو ہوجائے _

ادب: علمائے علم لغت نے لفظ ادب کے چند معانی بیان کئے ہیں ، اٹھنے بیٹھنے میں تہذیب اور حسن اخلاق کی رعایت اور پسندیدہ خصال کا اجتماع ادب ہے(۱)

مندرجہ بالا معنی کے پیش نظر در حقیقت ادب ایسا بہترین طریقہ ہے جسے کوئی شخص اپنے معمول کے مطابق اعمال کی انجام دہی میں اس طرح اختیار کرے کہ عقل مندوں کی نظر

میں داد و تحسین کا مستحق قرار پائے ، یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ '' ادب وہ ظرافت عمل اور خوبصورت چال چلن ہے جسکا سرچشمہ لطافت روح اور پاکیزگی طینت ہے '' مندرجہ ذیل دو نکتوں پر غور کرنے سے اسلامی ثقافت میں ادب کا مفہوم بہت واضح ہوجاتاہے_

___________________

۱) (لغت نامہ دہخدا مادہ ادب)_

۴

پہلا نکتہ :

عمل اسوقت ظریف اور بہترین قرار پاتاہے جب شریعت سے اس کی اجازت ہو اور حرمت کے عنوان سے اس سے منع نہ کیا گیا ہو_

لہذا ظلم ، جھوٹ، خیانت ، بر ے اور ناپسندیدہ کام کیلئے لفظ ادب کا استعمال نہیں ہو سکتا دوسری بات یہ ہے کہ عمل اختیاری ہو یعنی اسکو کئی صورتوں میں اپنے اختیار سے انجام دینا ممکن ہو پھر انسان اسے اسی طرح انجام دے کہ مصداق ادب بن جائے

_(۱)

دوسرا نکتہ :

حسن کے اس معنی میں کہ عمل زندگی کی آبرو کے مطابق ہو، کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اس معنی کے اپنے حقائق سے مطابقت میں بڑے معاشروں مثلاً مختلف اقوام ، ملل ، ادیان اور مذاہب کی نظر میں اسی طرح چھوٹے معاشروں جیسے خاندانوں کی نظر میں بہت ہی مختلف ہے _چونکہ نیک کام کو اچھے کام سے جدا کرنے کے سلسلہ میں لوگوں میں مختلف نظریات ہیں مثلاً بہت سی چیزیں جو ایک قوم کے درمیان آداب میں سے شمار کی جاتی ہیں، جبکہ دوسری اقوام کے نزدیک ان کو ادب نہیں کہا جاتا اور بہت سے کام ایسے ہیں جو ایک قوم کی نظر میں پسندیدہ ہیں لیکن دوسری قوموں کی نظر میں برے ہیں( ۲ )

___________________

۱)(المیزان جلد ۲ ص ۱۰۵)_

۲)(المیزان جلد ۲ ص ۱۰۵)_

۵

اس دوسرے نکتہ کو نگاہ میں رکھنے کی بعد آداب رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قدر و قیمت اس وجہ سے ہے کہ آپ کی تربیت خدا نے کی ہے اور خدا ہی نے آپ کو ادب کی دولت سے نوازا ہے نیز آپ کے آداب ، زندگی کے حقیقی مقاصد سے ہم آہنگ ہیں اور حسن کے واقعی اور حقیقی مصداق ہیں _

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

''ان الله عزوجل ادب نبیهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی محبته فقال : انک لعلی خلق عظیم''

خدا نے اپنی محبت و عنایت سے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تربیت کی ہے اس کے بعد فرمایاہے کہ: آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خلق عظیم پر فائز ہیں(۱)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جو آداب بطور یادگار موجود ہیں ان کی رعایت کرنا در حقیقت خدا کے بتائے ہوئے راستے '' صراط مستقیم '' کو طے کرنا اور کاءنات کی سنت جاریہ اور قوانین سے ہم آہنگی ہے_

___________________

۱)( اصول کافی جلد ۲ ص ۲ ترجمہ سید جواد مصطفوی)_

۶

ادب اور اخلاق میں فرق

باوجودی کہ بادی النظر میں دونوں لفظوں کے معنی میں فرق نظر نہیں آتاہے لیکن تحقیق کے اعتبار سے ادب اور اخلاق کے معنی میں فرق ہے _

علامہ طباطبائی ان دونوں لفظوں کے فرق کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

ہر معاشرہ کے آداب و رسوم اس معاشرہ کے افکار اور اخلاقی خصوصیات کے آئینہ دار ہوتے ہیں اس لئے کہ معاشرتی آداب کا سرچشمہ مقاصد ہیں اور مقاصد اجتماعی، فطری اور تاریخی عوامل سے وجود میں آتے ہیں ممکن ہے بعض لوگ یہ خیال کریں کہ آداب و اخلاق ایک ہی چیز کے دو نام ہیں لیکن ایسا نہیں ہے اسلئے کہ روح کے راسخ ملکہ کا نام اخلاق ہے در حقیقت روح کے اوصاف کا نام اخلاق ہے لیکن ادب وہ بہترین اور حسین صورتیں ہیں کہ جس سے انسان کے انجام پانے والے اعمال متصف ہوتے ہیں(۱)

ادب اور اخلاق کے درمیان اس فرق پر غور کرنے کے بعد کہا جاسکتاہے کہ خلق میں اچھی اور بری صفت ہوتی ہے لیکن ادب میں فعل و عمل کی خوبی کی علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں یوں کہاجائے کہ اخلاق اچھا یا برا ہوسکتاہے لیکن ادب اچھا یا برا نہیں ہوسکتا_

___________________

۱)المیزان جلد ۱۲ ص ۱۰۶_

۷

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ادب کی خصوصیت

روزمرہ کی زندگی کے اعمال میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جن آداب سے کام لیاہے ان سے آپ نے اعمال کو خوبصورت و لطیف اور خوشنما بنادیا اور ان کو اخلاقی قدر وقیمت بخش دی _

آپ کی سیرت کا یہ حسن و زیبائی آپ کی روح لطیف ، قلب ناز ک ا۵ور طبع ظریف کی دین تھی جن کو بیان کرنے سے ذوق سلیم اورحسن پرست روح کو نشاط حاصل ہوتی ہے اور اس بیان کو سن کر طبع عالی کو مزید بلندی ملتی ہے _ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کے مجموعہ میں مندرجہ ذیل اوصاف نمایاں طور پر نظر آتے ہیں _

الف: حسن وزیبائی ب: نرمی و لطافت ج: وقار و متانت

ان آداب اور پسندیدہ اوصاف کے سبب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جاہل عرب کی بدخوئی ، سخت کلامی و بدزبانی اور سنگدلی کو نرمی ، حسن اور عطوفت و مہربانی میں بدل دیا، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے دل میں برادری کا بیچ بویا اور امت مسلمہ کے درمیان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اتحاد کی داغ بیل ڈالی_

۸

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب

اپنے مدمقابل کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا جو سلوک تھا اس کے اعتبار سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب تین حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں _

۱_ خداوند عالم کے روبرو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب

۲_ لوگوں کے ساتھ معاشرت کے آداب

۳ _ انفرادی اور ذاتی آداب

انہیں سے ہر ایک کی مختلف قسمیں ہیں جن کو آئندہ بیان کیا جائے گا _

خدا کے حضور میں

بارگاہ خداوندی میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعائیں بڑے ہی مخصوص آداب کے ساتھ ہوتی تھیں یہ دعائیں خدا سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عمیق ربط کا پتہ دیتی ہیں_

وقت نماز

نماز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آنکھوں کا نور تھی ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز کو بہت عزیز رکھتے تھے چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر نماز کو وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرتے تھے ، بہت زیادہ نمازیں پڑھتے اور نماز کے وقت اپنے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مکمل طور پر خدا کے سامنے محسوس کرتے تھے_

نماز کے وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہتمام کے متعلق آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایک زوجہ کا بیان ہے کہ ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم سے باتیں کرتے اور ہم ان سے محو گفتگو ہوتے ، لیکن جب نماز کا وقت آتا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ایسی حالت ہوجاتی تھی گویا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ ہم کو پہچان رہے ہیں اور نہ ہم

۹

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچان رہے ہیں(۱)

منقول ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پورے ا شتیاق کے ساتھ نماز کے وقت کا انتظار کرتے اور اسی کی طرف متوجہ رہتے تھے اور جیسے ہی نماز کا وقت آجاتا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مؤذن سے فرماتے ''اے بلال مجھے اذان نماز کے ذریعہ شاد کردو''(۲)

امام جعفر صاد قعليه‌السلام سے روایت ہے '' نماز مغرب کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی بھی کام کو نماز پر مقدم نہیں کرتے تھے اوراول وقت ، نماز مغرب ادا کرتے تھے(۳) منقول ہے کہ ''رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز واجب سے دو گنا زیادہ مستحب نمازیں پڑھا کرتے تھے اور واجب روزے سے دوگنے مستحب روزے رکھتے تھے_(۴)

روحانی عروج میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ایسا حضور قلب حاصل تھا کہ جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، منقول ہے کہ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے تو خوف خدا سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بڑی دردناک آواز سنی جاتی تھی(۵)

___________________

۱) سنن النبی ص ۲۵۱_

۲) سنن النبی ص ۲۶۸_

۳) سنن النبی ص_

۴) سنن النبی ص ۲۳۴_

۵) سنن النبی ص۲۵۱_

۱۰

جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز زپڑھتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے کوئی کپڑا ہے جو زمین پر پڑا ہوا ہے(۱) حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز شب کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایاہے :

''رات کو جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سونا چاہتے تھے تو ، ایک برتن میں اپنے سرہانے پانی رکھ دیتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسواک بھی بستر کے نیچے رکھ کر سوتے تھے،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اتنا سوتے تھے جتنا خدا چاہتا تھا، جب بیدار ہوتے تو بیٹھ جاتے اور آسمان کی طرف نظر کرکے سورہ آل عمران کی آیات( ان فی خلق السموات والارض الخ ) پڑھتے اس کے بعد مسواک کرتے ، وضو فرماتے اور مقام نماز پر پہونچ کر نماز شب میں سے چار رکعت نماز ادا کرتے، ہر رکعت میں قراءت کے بقدر ، رکوع اور رکوع کے بقدر ، سجدہ فرماتے تھے اس قدر رکوع طولانی کرتے کہ کہا جاتا کہ کب رکوع کو تمام کریں گے اور سجدہ میں جائیں گے اسی طرح انکا سجدہ اتنا طویل ہوتا کہ کہا جاتا کب سر اٹھائیں گے اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پھر بستر پر تشریف لے جاتے اوراتنا ہی سوتے تھے جتنا خدا چاہتا تھا_اس کے بعد پھر بیدار ہوتے اور بیٹھ جاتے ، نگاہیں اسمان کی طرف اٹھاکر انہیں آیتوں کی تلاوت فرماتے پھر مسواک کرتے ، وضو فرماتے ، مسجد میں تشریف لے جاتے اور نماز شب میں سے پھر چار رکعت نماز پڑھتے یہ نماز بھی اسی انداز سے ادا ہوتی جس انداز سے اس سے پہلے چار رکعت ادا ہوئی تھی ، پھر

___________________

۱) سنن النبی ص ۲۶۸_

۱۱

تھوڑی دیر سونے کے بعد بیدار ہوتے اور آسمان کی طرف نگاہ کرکے انہیں آیتوں کی تلاوت فرماتے ، مسواک اور وضو سے فارغ ہوکر تین رکعت نماز شفع و وتر اور دو رکعت نماز نافلہ صبح پڑھتے پھر نماز صبح ادا کرنے کیلئے مسجد میں تشریف لے جاتے''(۱)

آنحضرت نے ابوذر سے ایک گفتگو کے ذیل میں نماز کی اس کوشش اور ادائیگی کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:'' اے ابوذر میری آنکھوں کا نور خدا نے نماز میں رکھاہے اوراس نے جس طرح کھانے کو بھوکے کیلئے اور پانی کو پیاسے کیلئے محبوب قرار دیا ہے اسی طرح نماز کو میرے لئے محبوب قرار دیا ہے، بھوکا کھانا کھانے کے بعد سیر اور پیاساپانی پینے کے بعد سیراب ہوجاتاہے لیکن میں نماز پڑھنے سے سیراب نہیں ہوتا''(۲)

دعا کے وقت تسبیح و تقدیس

آپ کے شب و روز کا زیادہ تر حصہ دعا و مناجات میں گذرجاتا تھا آپ سے بہت ساری دعائیں نقل ہوئی ہیں آپ کی دعائیں خداوند عالم کی تسبیح و تقدیس سے مزین ہیں ، آپ نے توحید کا سبق، معارف الہی کی گہرائی، خود شناسی اور خودسازی کے تعمیری اور تخلیقی

___________________

۱) سنن النبی ص ۲۴۱_

۲)سنن النبی ص ۲۶۹_

۱۲

علوم ان دعاؤں میں بیان فرمادیئے ہیں ان دعاؤں میں سے ایک دعا وہ بھی ہے کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں کھانا لایا جاتا تھا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پڑھا کرتے تھے:

(سبحانک اللهم ما احسن ما تبتلینا سبحانک اللهم ما اکثر ما تعطینا سبحانک اللهم ما اکثر ما تعافینا اللهم اوسع علینا و علی فقراء المومنین )(۱)

خدایا تو منزہ ہے تو کتنی اچھی طرح ہم کو آزماتاہے، خدایا تو پاکیزہ ہے تو ہم پر کتنی زیادہ بخشش کرتاہے، خدا یا تو پاکیزہ ہے تو ہم سے کس قدر درگذر کرتاہے، پالنے والے ہم کو اور حاجتمند مؤمنین کو فراخی عطا فرما_

بارگاہ الہی میں تضرع اور نیازمندی کا اظہار

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی عظمت و جلالت سے واقف تھے لہذا جب تک دعا کرتے رہتے تھے اسوقت تک اپنے اوپر تضرع اور نیازمندی کی حالت طاری رکھتے تھے، سیدالشہداء امام حسینعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعا کے آداب کے سلسلہ میں فرماتے ہیں :

''کان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یرفع یدیه اذ ابتهل و دعا کما یستطعم المسکین '' (۲)

___________________

۱) اعیان الشیعہ ج۱ ص۳۰۶_

۲)سنن النبی ص ۳۱۵_

۱۳

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بارگاہ خدا میں تضرع اور دعا کے وقت اپنے ہاتھوں کو اس طرح بلند کرتے تھے جیسے کوئی نادار کھانا مانگ رہاہو_

لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت

رسول اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نمایاں خصوصیتوں میں سے ایک خصوصیت لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت ہے ، آپ تربیت الہی سے مالامال تھے اس بناپر معاشرت ، نشست و برخاست میں لوگوں کےساتھ ایسے ادب سے پیش آتے تھے کہ سخت مخالف کو بھی شرمندہ کردیتے تھے اور نصیحت حاصل کرنے والے مؤمنین کی فضیلت میں اضافہ ہوجاتا تھا_

آپ کی معاشرت کے آداب، اخلاق کی کتابوں میں تفصیلی طور پر مرقوم ہیں _ہم اس مختصر وقت میں چند آداب کو بیان کررہے ہیں امید ہے کہ ہمارے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ا دب سے آراستہ ہونے کا باعث ہو:

۱۴

گفتگو

بات کرتے وقت کشادہ روئی اور مہربانی کو ظاہر کرنے والا تبسم آپ کے کلام کو شیریں اور دل نشیں بنادیتا تھا روایت میں ہے کہ :

''کان رسول الله اذا حدث بحدیث تبسم فی حدیثه'' (۱)

بات کرتے وقت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تبسم فرماتے تھے_

ظاہر ہے کہ کشادہ روئی سے باتیں کرنے سے ہر ایک کو اس بات کا موقع ملتا تھا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عظمت و منزلت سے مرعوب ہوئے بغیر نہایت اطمینان کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کرے، اپنے ضمیر کی آواز کو کھل کر بیان کرے اور اپنی حاجت و دل کی بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کرے_

سامنے والے کی بات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی منقطع نہیں کرتے تھے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو کا آغاز کرے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہلے ہی اسکو خاموش کردیں(۲)

مزاح

مؤمنین کا دل خوش کرنے کیلئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی مزاح بھی فرمایا کرتے تھے، لیکن تحقیر و تمسخر آمیز، ناحق اور ناپسندیدہ بات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کلام میں نظر نہیں آتی تھی_

''عن الصادق عليه‌السلام قال ما من مؤمن الا وفیه دعابة و کان رسول الله یدعب و لا یقول الاحقا'' (۳)

___________________

۱) سنن النبی ص۴۸ بحار ج۶ ص ۲۹۸_

۲)مکارم الاخلاق ص ۲۳_

۳)سنن النبی ص ۴۹_

۱۵

امام صادقعليه‌السلام سے نقل ہوا ہے کہ : کوئی مؤمن ایسا نہیں ہے جس میں حس مزاح نہ ہو، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مزاح فرماتے تھے اور حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے_

آپ کے مزاح کے کچھ نمونے یہاں نقل کئے جاتے ہیں :

''قال صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لاحد لا تنس یا ذالاذنین '' (۱)

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اے دو کان والے فراموش نہ کر_

انصار کی ایک بوڑھی عورت نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض کیا کہ آپ میرے لئے دعا فرمادیں کہ میں بھی جتنی ہوجاؤں حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: '' بوڑھی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی'' وہ عورت رونے لگی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسکرائے اور فرمایا کیا تم نے خدا کا یہ قول نہیں سنا ;

( انا انشأناهن انشاءً فجعلنا هن ابکاراً ) (۲)

ہم نے بہشتی عورتوں کو پیدا کیا اور ان کو باکرہ قرار دیا _

کلام کی تکرار

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتگو کی خصوصیت یہ تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بات کو اچھی طرح سمجھا دیتے تھے_

___________________

۱)بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۹۴_

۲)سورہ واقعہ آیت ۳۵ و ۳۶_

۱۶

ابن عباس سے منقول ہے : جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوئی بات کہتے یا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کوئی سوال ہوتا تھا تو تین مرتبہ تکرار فرماتے یہاں تک کہ سوال کرنے والا بخوبی سمجھ جائے اور دوسرے افرادآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قول کی طرف متوجہ ہوجائیں _

انس و محبت

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے اصحاب و انصار سے بہت انس و محبت تھی ان کی نشستوں میں شرکت کرتے اور ان سے گفتگو فرماتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان نشستوں میں مخصوص ادب کی رعایت فرماتے تھے_

حضرت امیر المؤمنین آپ کی شیرین بزم کو یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں '' : ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا کہ پیغمبر خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی کے سامنے اپنا پاؤں پھیلاتے ہوں''(۱)

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بزم کے بارے میں آپ کے ایک صحابی بیان فرماتے ہیں '' جب ہم لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس آتے تھے تو داءرہ کی صورت میں بیٹھتے تھے''(۲)

جلیل القدر صحابی جناب ابوذر بیان کرتے ہیں '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب اپنے اصحاب کے درمیان بیٹھتے تھے تو کسی انجانے آدمی کو یہ نہیں معلوم ہوسکتا تھا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کون ہیں آخر

___________________

۱) مکارم الاخلاق ص ۲۲_

۲) سنن النبی ص ۷۰_

۱۷

کا ر اسے پوچھنا پڑتا تھا ہم لوگوں نے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ ایسی جگہ بیٹھیں کہ اگر کوئی اجنبی آدمی آجائے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پہچان لے ، اسکے بعد ہم لوگوں نے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس چبوترہ پر تشریف فرماہو تے تھے اور ہم لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بیٹھتے تھے_(۱)

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں: رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب کسی کے ساتھ بیٹھتے تو جب تک وہ موجود رہتا تھا حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے لباس اور زینت والی چیزوں کو جسم سے جدا نہیں کرتے تھے(۲)

مجموعہ ورام میں روایت کی گئی ہے '' پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت یہ ہے کہ جب لوگوں کے مجمع میں بات کرو تو ان میں سے ایک ہی فرد کو متوجہ نہ کرو بلکہ سارے افراد پر نظر رکھو(۳)

___________________

۱) سنن النبی ص۶۳_

۲)سنن النبی ص۴۸_

۳)سنن النبی ص۴۷_

۱۸

خلاصہ درس

۱)علمائے علم لغت نے لفظ ادب کے جو معنی بیان کئے ہیں ان پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ در حقیقت ظرافت عمل اور ایسے نیک چال چلن کا نام ادب ہے کہ جس کا سرچشمہ لطافت روح اور طینت کی پاکیزگی ہے _

۲) آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ادب کی قدر و قیمت اس عنوان سے ہے کہ آپ خدا کی بارگاہ کے تربیت یافتہ اور اس کے سکھائے ہوئے ادب سے آراستہ و پیراستہ تھے_

۳) اخلاق و آداب ، میں فرق یہ ہے کہ اخلاق میں اچھائی اور برائی دونوں ہوتی ہیں مگر ادب میں حسن عمل کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا_

۴) رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے روزمرہ کی زندگی کے اعمال میں جن طریقوں اور آداب کو اپنایا، وہ ایسے تھے کہ جنہوں نے اعمال کو خوبصورتی لطافت اور حسن عطا کیا اور انہیں اخلاقی قدروں کا حامل بنادیا_

۵) رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت میں مندرجہ ذیل اوصاف نمایاں طور پر نظر آتے ہیں :

الف:حسن و زیبائی ب: نرمی اور لطافت ج: وقار و متانت

۶ ) مدمقابل کے سامنے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب تھے ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے:

۱_ خدا کے بالمقابل آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب

۲_ لوگوں کی ساتھ معاشرت کے آداب

۳_فردی اور ذاتی آداب

۱۹

سوالات :

۱ _ ادب کے معنی لکھئے؟

۲_ ادب اور اخلاق کا فرق تحریر کیجئے؟

۳ _ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب کے کتنے حصے ہیں؟

۴ _ نماز کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آداب کا اجمالی طور پر جاءزہ لیجئے_

۵ _لوگوں سے معاشرت کے وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کیا آداب تھے؟ اجمالی طور پر بیان کیجئے_

۲۰