رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر12%

  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 311

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 311 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 202735 / ڈاؤنلوڈ: 5565
سائز سائز سائز
  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق حسنہ پر ایک نظر

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

سوالات :

۱ _ اصحاب نے جب کفار کے بارے میں لعن اور نفرین کی بات کہی تو اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا جواب دیا؟

۲ _ عفو کیونکر انسان کے کمالات کی زمین ہموار کرتاہے؟

۳ _ سب سے بلند اور سب سے بہترین معافی کون سی معافی تھی ؟

۴ _ فتح مکہ کے دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سعد بن عبادہ سے کیا فرمایا تھا؟

۵ _ فتح مکہ کے دن پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو عفو اور درگذر کے نمونے پیش کئے ان میں سے ایک نمونہ بیان فرمایئے؟

۱۴۱

دسواں سبق:

(بدزبانی کرنے والوں سے درگزر)

عفو،درگذر، معافی اور چشم پوشی کے حوالے سے رسول اکرم، اور ائمہ اطہار علیہم السلام کا سبق آموز برتاؤ وہاں بھی نظر آتاہے جہاں ان ہستیوں نے ان لوگوں کو معاف فرمادیا کہ جو ان عظیم و کریم ہستیوں کے حضور توہین، جسارت اور بدزبانی کے مرتکب ہوئے تھے، یہ وہ افراد تھے جو ان گستاخوں کو معاف کرکے ان کو شرمندہ کردیتے تھے اور اس طرح ہدایت کا راستہ فراہم ہوجایا کرتا تھا_

اعرابی کا واقعہ

ایک دن ایک اعرابی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہونچا اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کوئی چیز مانگی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو وہ چیز دینے کے بعد فرمایا کہ : کیا میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا نہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہرگز مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا ہے _ اصحاب کو غصہ

۱۴۲

آگیا وہ آگے بڑھے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو منع کیا ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے اور واپس آکر کچھ اور بھی عطا فرمایا اور اس سے پوچھا کہ کیا اب میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا ہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احسان کیا ہے خدا آپ کو جزائے خیر دے_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : تم نے جو بات میرے اصحاب کہ سامنے کہی تھی ہوسکتاہے کہ اس سے ان کے دل میں تمہاری طرف سے بدگمانی پیدا ہوگئی ہو لہذا اگر تم پسند کرو تو ان کے سامنے چل کر اپنی رضامندی کا اظہار کردو تا کہ ان کے دل میں کوئی بات باقی نہ رہ جائے، وہ اصحاب کے پاس آیا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: یہ شخص مجھ سے راضی ہوگیا ہے،کیا ایسا ہی ہے ؟ اس شخص نے کہا جی ہاں خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان کو جزائے خیردے، پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا میری اور اس شخص کی مثال اس آدمی جیسی ہے جسکی اونٹنی کھل کر بھاگ گئی ہو لوگ اس کا پیچھا کررہے ہوں اور وہ بھاگی جارہی ہو،اونٹنی کا مالک کہے کہ تم لوگ ہٹ جاو مجھے معلوم ہے کہ اس کو کیسے رام کیا جاتا ہے پھر مالک آگے بڑھے اور اس کے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرے اس کے جسم اور چہرہ سے گرد و غبار صاف کرے اور اسکی رسی پکڑلے، اگر کل میں تم کو چھوڑ دیتا تو تم بد زبانی کی بناپر اس کو قتل کردیتے اور یہ جہنم میں چلاجاتا_

___________________

۱)(سفینةا لبحار ج۱ ص۴۱۶)_

۱۴۳

امام حسن مجتبی اورشامی شخص

ایک دن حسن مجتبیعليه‌السلام مدینہ میں چلے جارہے تھے ایک مرد شامی سے ملاقات ہوئی اس نے آپعليه‌السلام کو برا بھلا کہنا شروع کردیا کیونکہ حاکم شام کے زہریلے پروپیگنڈہ کی بناپر شام کے رہنے والے علیعليه‌السلام اور فرزندان علیعليه‌السلام کے دشمن تھے، اس شخص نے یہ چاہا کہ اپنے دل کے بھڑ اس نکال لے، امامعليه‌السلام خاموش رہے ، وہ اپنی بات کہہ کر خاموش ہوگیا تو آپعليه‌السلام نے مسکراتے ہوئے کہا '' اے شخص میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور تم میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوئے ہو ( یعنی تو دشمنوں کے پروپیگنڈوں سے متاثر ہے ) لہذا اگر تو مجھ سے میری رضامندے حاصل کرنا چاہے تو میں تجھ سے راضی ہوجاونگا ، اگر کچھ سوال کروگے تو ہم عطا کریں گے ، اگر رہنمائی اور ہدایت کا طالب ہے تو ہم تیری رہنمایی کریں گے _ اگر کسی خدمتگار کی تجھ کو ضرورت ہے تو ہم تیرے لئے اس کا بھی انتظام کریں گے _ اگر تو بھوکا ہوگا تو ہم تجھے سیر کریں گے محتاج لباس ہوگا تو ہم تجھے لباس دیں گے_ محتاج ہوگا تو ہم تجھے بے نیاز کریں گے _ پناہ چاہتے ہو تو ہم پناہ دیں گے _ اگر تیری کوئی بھی حاجت ہو تو ہم تیری حاجت روائی کریں گے _ اگر تو میرے گھر مہمان بننا چاہتاہے تو میں راضی ہوں یہ تیرے لئے بہت ہی اچھا ہوگا اس لئے کہ میرا گھر بہت وسیع ہے اور میرے پاس عزت و دولت سبھی کچھ موجود ہے _

جب اس شامی نے یہ باتیں سنیں تو رونے لگا اور اس نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ

۱۴۴

آپعليه‌السلام زمیں پر خلیفة اللہ ہیں ، خدا ہی بہتر جانتا ہے اپنی رسالت اور خلافت کو کہاں قرار دے گا _ اس ملاقات سے پہلے آپعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام کے پدر بزرگوار میرے نزدیک بہت بڑے دشمن تھے اب سب سے زیادہ محبوب آپ ہی حضرات ہیں _

پھروہ امام کے گھر گیا اور جب تک مدینہ میں رہا آپ ہی کا مہمان رہا پھر آپ کے دوستوں اور اہلبیت (علیہم السلام )کے ماننے والوں میں شامل ہو گیا _(۱)

امام سجادعليه‌السلام اور آپ کا ایک دشمن

منقول ہے کہ ایک شخص نے امام زین العابدینعليه‌السلام کو برا بھلا کہا آپ کو اس نے دشنام دی آپعليه‌السلام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ، پھر آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے پلٹ کر کہا: آپ لوگوں نے اس شخص کی باتیں سنں ؟ اب آپ ہمارے ساتھ آئیں تا کہ ہمارا بھی جواب سن لیں وہ لوگ آپ کے ساتھ چل دیئے اور جواب کے منتظر رہے _ لیکن انہوں نے دیکھا کہ امامعليه‌السلام راستے میں مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کر رہے ہیں _

( و الکاظمین الغیظ و العافین عن الناس و الله یحب المحسنین ) (۲)

وہ لوگ جو اپنے غصہ کوپی جاتے ہیں; لوگوں کو معاف کردیتے ہیں ، خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے _

___________________

۱) ( منتہی الامال ج ۱ ص ۱۶۲)_

۲) (آل عمران۱۳۴)_

۱۴۵

ان لوگوں نے سمجھا کہ امامعليه‌السلام اس شخص کو معاف کردینا چاہتے ہیں جب اس شخص کے دروازہ پر پہونچے او حضرتعليه‌السلام نے فرمایا : تم اس کو جاکر بتادو علی بن الحسینعليه‌السلام آئے ہیں ، وہ شخص ڈراگیا اور اس نے سمجھا کہ آپعليه‌السلام ان باتوں کا بدلہ لینے آئے ہیں جو باتیں وہ پہلے کہہ کے آیا تھا ، لیکن امامعليه‌السلام نے فرمایا: میرے بھائی تیرے منہ میں جو کچھ ۱آیا تو کہہ کے چلا آیا تو نے جو کچھ کہا تھا اگر وہ باتیں میرے اندر موجود ہیں تو میں خدا سے مغفرت کا طالب ہوں اور اگر نہیں ہیں تو خدا تجھے معاف کرے ، اس شخص نے حضرت کی پیشانی کا بوسہ دیا اور کہا میں نے جو کچھ کہا تھا وہ باتیں آپ میں نہیں ہیں وہ باتیں خود میرے اندر پائی جاتی ہیں _(۱)

ائمہ معصومین (علیہم السلام ) صرف پسندیدہ صفات اور اخلاق کریمہ کی بلندیوں کے مالک نہ تھے بلکہ ان کے مکتب کے پروردہ افراد بھی شرح صدر اور وسعت قلب اور مہربانیوں کا مجسمہ تھے نیز نا واقف اور خود غرض افراد کو معاف کردیا کرتے تھے _

مالک اشتر کی مہربانی اور عفو

جناب مالک اشتر مکتب اسلام کے شاگرد اور حضرت امیرالمومنین علیعليه‌السلام کے تربیت کردہ تھے اور حضرت علیعليه‌السلام کے لشکر کے سپہ سالار بھی تھے آپ کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے کہ اگر کوئی یہ قسم کھائے کہ عرب اور عجم میں علیعليه‌السلام کے علاوہ مالک اشتر

___________________

۱) (بحارالانوار ج ۴۶ ص ۵۵) _

۱۴۶

سے بڑھ کر کوئی شجاع نہیں ہے تو اس کی قسم صحیح ہوگی حضرت علیعليه‌السلام نے آپ کے بارے میں فرمایا : مالک اشتر میرے لئے اس طرح تھا جیسے میں رسول خدا کے لئے تھا _ نیز آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کاش تمہارے در میان مالک اشتر جیسے دو افراد ہوتے بلکہ ان کے جیسا کوئی ایک ہوتا _ایسی بلند شخصیت اور شجاعت کے مالک ہونے کے با وجود آپ کا دل رحم و مروت سے لبریز تھا ایک دن آپ بازار کوفہ سے گذر رہے تھے ، ایک معمولی لباس آپ نے زیب تن کر رکھا تھا اور اسی لباس کی جنس کا ایک ٹکڑا سر پر بندھا ہوا تہا ، بازار کی کسی دو کان پر ایک شخص بیٹھا ہوا تھا، جب اس نے مالک کو دیکھا کہ وہ اس حالت میں چلے جارہے ہیں تو اس نے مالک کو بہت ذلیل سمجھا اور بے عزتی کرنے کی غرض سے آپ کی طرف سبزی کا ایک ٹکڑا اچھال دیا، لیکن آپ نے کوئی توجہ نہیں کی اور وہاں سے گزر گئے ایک اور شخص یہ منظر دیکھ رہاتھا وہ مالک کو پہچانتا تھا، اس نے آدمی سے پوچھا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تم نے کس کی توہین کی ہے؟ اس نے کہا نہیں ، اس شخص نے کہا کہ وہ علیعليه‌السلام کے صحابی مالک اشتر ہیں وہ شخص کانپ اٹھا اور تیزی سے مالک کی طرف دوڑا تا کہ آپ تک پہنچ کر معذرت کرے، مالک مسجد میں داخل ہو چکے تھے اور نماز میں مشغول ہوگئے تھے، اس شخص نے مالک کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کیا جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو اس نے پہلے سلام کیا پھر قدموں کے بوسے لینے لگا، مالک نے اس کا شانہ پکڑ کر اٹھایا اور کہا یہ کیا کررہے ہوا؟ اس شخص نے کہا کہ جو گناہ مجھ سے سرزد ہوچکاہے میں اس کے

۱۴۷

لئے معذرت کررہاہوں، اس لئے کہ میں اب آپ کو پہچان گیا ہوں، مالک نے کہا کوئی بات نہیں تو گناہ گار نہیں ہے اس لئے کہ میں مسجد میں تیری بخشش کی دعا کرنے آیا تھا_(۱)

ظالم سے درگذر

خدا نے ابتدائے خلقت سے انسان میں غیظ و غضب کا مادہ قرار دیا ہے ، جب کوئی دشمن اس پر حملہ کرتاہے یا اس کا کوئی حق ضاءع ہوتاہے یا اس پر ظلم ہوتاہے یا اس کی توہین کی جاتی ہے تو یہ اندرونی طاقت اس کو شخصیت مفاد اور حقوق سے دفاع پر آمادہ کرتی ہے اور یہی قوت خطروں کو برطرف کرتی ہے _

قرآن کا ارشاد ہے :

( فمن اعتدی علیکم فاعتدوا بمثل ما عتدی علیکم ) (۲)

جو تم پر ظلم کرے تو تم بھی اس پر اتنی زیادتی کرسکتے ہو جتنی اس نے کی ہے _

قرآن مجید میں قانون قصاص کو بھی انسان اور معاشرہ کی حیات کا ذریعہ قرار دیا گیاہے اور یہ واقعیت پر مبنی ہے _

( و لکم فی القصاص حیوة یا اولی الالباب ) (۳)

اے عقل والو قصاص تمہاری زندگی کی حفاظت کیلئے ہے_

___________________

۱) (منتہی الامال ص ۱۵۵)_

۲) (بقرہ ۱۹۴)_

۳) (بقرہ ۱۷۹) _

۱۴۸

لیکن بلند نگاہیوں اور ہمتوں کے مالکوںکی نظر میں مقابلہ بالمثل اور قصاص سے بڑھ کر جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ آتش غضب کو آپ رحمت سے بجھا دیناہے _

( و ان تعفوااقرب للتقوی ) (۱)

اگر تم معاف کردو تو یہ تقوی سے قریب ہے_

عفو اور درگذر ہر حال میں تقوی سے نزدیک ہے اسلئے کہ جو شخص اپنے مسلم حق سے ہاتھ اٹھالے تو اس کا مرتبہ محرمات سے پرہیز کرنے والوں سے زیادہ بلند ہے(۲)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) پر جن لوگوں نے ظلم ڈھائے ان کے ساتھ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار کا ہم کو کچھ اور ہی سلوک نظر آتاہے جن لوگوں نے اپنی طاقت کے زمانہ میں حقوق کو پامال کیا اور ظلم و ستم کا بازار گرم رکھا جب وہی افراد ذلیل و رسوا ہوکر نظر لطف و عنایت کے محتاج بن گئے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ اطہار نے ان کو معاف کردیا_

امام زین العابدینعليه‌السلام اور ہشام

بیس سال تک ظلم و استبداد کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد سنہ ۸۶ ھ میں عبدالملک بن مروان دنیا سے رخصت ہوگیا اس کے بعد اس کا بیٹا ولید تخت خلافت پر بیٹھا اس نے

___________________

۱) (بقرہ ۲۳۷)_

۲) (المیزان ج۲ ص ۲۵۸)_

۱۴۹

لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور عمومی مخالفت کا زور کم کرنے کے لئے حکومت کے اندر کچھ تبدیلی کی ان تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی یہ تھی کہ اس نے مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل کو معزول کردیا کہ جس نے اہلبیت (علیہم السلام) پر بڑا ظلم کیا تھا جب عمر بن عبدالعزیز مدینہ کا حاکم بنا تو اس نے حکم دیا کہ ہشام کو مروان حکم کے گھر کے سامنے لاکر کھڑا کیاجائے تا کہ جو اس کے مظالم کا شکا رہوئے ہیں وہ آئیں اور ان کے مظالم کی تلافی ہوجائے_لوگ گروہ در گروہ آتے اورہشام پر نفرین کرتے تھے اور اسے گالیاں دیتے تھے، ہشام علی بن الحسینعليه‌السلام سے بہت خوفزدہ تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ میں نے چونکہ ان کے باپ پر لعن کیا ہے لہذا اسکی سزا قتل سے کم نہیں ہوگی ، لیکن امامعليه‌السلام نے اپنے چاہنے والوں سے کہا کہ : یہ شخص اب ضعیف اور کمزور ہوچکاہے اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ضعیفوں کی مدد کرنی چاہئے، امامعليه‌السلام ہشام کے قریب آئے اور آپعليه‌السلام نے اس کو سلام کیا ، مصافحہ فرمایا اور کہا کہ اگر ہماری مدد کی ضرورت ہو تو ہم تیار ہیں ، آپعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ : تم اس کے پاس زیادہ نہ جاو اس لئے کہ تمہیں دیکھ کر اس کو شرم آئے گی ایک روایت کے مطابق امامعليه‌السلام نے خلیفہ کو خط لکھا کہ اس کو آزاد کردو اور ہشام کو چند دنوں کے بعد آزاد کردیا گیا_(۱)

___________________

۱)(بحارالانوار ج۴۶ ص ۹۴)_

۱۵۰

امام رضاعليه‌السلام اور جلودی

جلودی وہ شخص تھا جس کو محمد بن جعفر بن محمد کے قیام کے زمانہ میں مدینہ میں ہارون الرشد کی طرف سے اس بات پر مامور کیا گیا تھا کہ وہ علویوں کی سرکوبی کرے ان کو جہاں دیکھے قتل کردے ، اولاد علیعليه‌السلام کے تمام گھروں کو تاراج کردے اور بنی ہاشم کی عورتوں کے زیورات چھین لے ، اس نے یہ کام انجام بھی دیا جب وہ امام رضاعليه‌السلام کے گھر پہونچا تو اس نے آپعليه‌السلام کے گھر پر حملہ کردیاامامعليه‌السلام نے عورتوں اور بچوں کو گھر میں چھپادیا اور خود دروازہ پر کھڑے ہوگئے، اس نے کہاکہ مجھ کو خلیفہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوںکے تمام زیورات لے لوں، امام نے فرمایا: میں قسم کھاکر کہتاہوں کہ میں خود ہی تم کو سب لاکردے دونگا کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی لیکن جلودی نے امامعليه‌السلام کی بات ماننے سے انکار کردیا، یہاں تک کہ امامعليه‌السلام نے کئی مرتبہ قسم کھاکر اس سے کہا تو وہ راضی ہوگیا اور وہیں ٹھہرگیا، امامعليه‌السلام گھر کے اندر تشریف لے گئے، آپعليه‌السلام نے سب کچھ یہانتک کہ عورتوں اور بچوں کے لباس نیز جو اثاثہ بھی گھر میں تھا اٹھالائے اور اس کے حوالہ کردیا _

جب مامون نے اپنی خلافت کے زمانہ میں امام رضاعليه‌السلام کو اپنا ولی عہد بنایا تو جلودی مخالفت کرنے والوں میں تھا اور مامون کے حکم سے قید میں ڈال دیا گیا ، ایک دن قیدخانہ سے نکال کر اسکو ایسی بزم میں لایا گیا جہاں امام رضاعليه‌السلام بھی موجود تھے، مامون جلودی کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن امامعليه‌السلام نے کہا : اس کو معاف کردیا جائے، مامون نے کہا : اس نے آپعليه‌السلام پر

۱۵۱

بڑا ظلم کیا ہے _ آپعليه‌السلام نے فرمایا اس کی باوجود اس کو معاف کردیا جائے_

جلودی نے دیکھا کہ امام مامون سے کچھ باتیں کررہے ہیں اس نے سمجھا کہ میرے خلاف کچھ باتیں ہورہی ہیں اور شاید مجھے سزا دینے کی بات ہورہی ہے اس نے مامون کو قسم دیکر کہا کہ امامعليه‌السلام کی بات نہ قبول کی جائے ، مامون نے حکم دیا کہ جلودی کی قسم اور اس کی درخواست کے مطابق اسکو قتل کردیا جائے_(۱)

سازش کرنے والے کی معافی

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ(علیہم السلام) نے ان افراد کو بھی معاف کردیا جنہوں نے آپعليه‌السلام حضرات کے خلاف سازشیں کیں اور آپعليه‌السلام کے قتل کی سازش کی شقی اور سنگدل انسان اپنی غلط فکر کی بدولت اتنا مرجاتاہے کہ وہ حجت خدا کو قتل کرنے کی سازش کرتاہے لیکن جو افراد حقیقی ایمان کے مالک اور لطف و عنایت کے مظہر اعلی ہیں وہ ایسے لوگوں کی منحوس سازشوں کے خبر رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ عفو و بخشش سے پیش آتے ہیں اور قتل سے پہلے قصاص نہیں لیتے البتہ ذہنوں میں اس نکتہ کا رہنا بہت ضروری ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہنے ایک طرف تو اپنے ذاتی حقوق کے پیش نظر ان کو معاف کردیا دوسری طرف انہوں نے اپنے علم غیب پر عمل نہیں کیا، ا س لئے کہ علم غیب پر عمل کرنا ان کا فریضہ نہ تھا وہ ظاہر کے

___________________

۱) ( بحارالانوار ج۹ ص ۱۶۷ ، ۱۶۶)_

۱۵۲

مطابق عمل کرنے پر مامور تھے_ لہذا جو لوگ نظام اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں انکا جرم ثابت ہوجانے کے بعد ممکن ہے کہ ان کو معاف نہ کیا جائے یہ چیز اسلامی معاشرہ کی عمومی مصلحت و مفسدہ کی تشخیص پر مبنی ہے اس سلسلہ میں رہبر کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتاہے_

ایک اعرابی کا واقعہ

جنگ خندق سے واپسی کے بعد سنہ ۵ ھ میں ابوسفیان نے ایک دن قریش کے مجمع میں کہا کہ مدینہ جاکر محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کون قتل کرسکتاہے؟ کیونکہ وہ مدینہ کے بازاروں میں اکیلے ہی گھومتے رہتے ہیں ، ایک اعرابی نے کہا کہ اگر تم مجھے تیار کردو تو میں اس کام کیلئے حاضر ہوں، ابوسفیان نے اس کو سواری اور اسلحہ دیکر آدھی رات خاموشی کے ساتھ مدینہ روانہ کردیا،اعرابی مدینہ میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ڈھنڈھتاہوا مسجد میں پہنچاآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جب اسکو دیکھا تو کہا کہ یہ مکار شخص اپنے دل میں برا ارادہ رکھتاہے، وہ شخص جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قریب آیا تو اس نے پوچھاکہ تم میں سے فرزند عبدالمطلب کون ہے ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں ہوں، اعرابی آگے بڑھ گیا اسید بن خضیر کھڑے ہوئے اسے پکڑلیا اور اس سے کہا : تم جیسا گستاخ آگے نہیں جاسکتا، جب اسکی تلاشی لی تو اس کے پاس خنجر نکلاوہ اعرابی فریاد کرنے لگا پھر اس نے اسید کے پیروں کا بوسہ دیا _

۱۵۳

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : سچ سچ بتادو کہ تم کہاں سے اور کیوں آئے تھے؟ اعرابی نے پہلے امان چاہی پھر سارا ماجرا بیان کردیا،پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے مطابق اسید نے اسکو قید کردیا ، کچھ دنوں بعد پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسکو بلاکر کہا تم جہاں بھی جانا چاہتے ہو چلے جاو لیکن اسلام قبول کرلو تو (تمہارے لئے) بہتر ہے اعرابی ایمان لایا اور اس نے کہا میں تلوار سے نہیں ڈرا لیکن جب میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا تو مجھ پر ضعف اور خوف طاری ہوگیا، آپ تو میرے ضمیر و ارادہ سے آگاہ ہوگئے حالانکہ ابوسفیان اور میرے علاوہ کسی کو اس بات کی خبر نہیں تھی، کچھ دنوں وہاں رہنے کے بعد اس نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت حاصل کی اور مکہ واپس چلا گیا _(۱)

اس طرح پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عفو اور درگذر کی بناپر ایک جانی دشمن کیلئے ہدایت کا راستہ پیدا ہوگیا اور وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شامل ہوگیا_

یہودیہ عورت کی مسموم غذا

امام محمد باقرعليه‌السلام سے منقول ہے کہ ایک یہودی عورت نے ایک گوسفند کی ران کو زہرآلود کرکے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے پیش کیا ، لیکن پیغمبر نے جب کھانا چاہا تو گوسفند نے کلام کی اور کہا اے اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں مسموم ہوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہ کھائیں _پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے دل میں یہ سوچا تھا کہ

___________________

۱) (ناسخ التواریخ ج۲ ص۱۵۱)_

۱۵۴

اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر ہیں ، تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو زہر نقصان نہیں کریگا اور اگر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیغمبر نہیں ہیں تو لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے چھٹکارا مل جائیگا، رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کو معاف کردیا _(۱)

علیعليه‌السلام اور ابن ملجم

حضرت علیعليه‌السلام اگرچہ ابن ملجم کے برے ارادہ سے واقف تھے لیکن آپعليه‌السلام نے اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا اصحاب امیر المؤمنینعليه‌السلام کو اس کی سازش سے کھٹکا تھا انہوں نے عرض کی کہ آپعليه‌السلام ابن ملجم کو پہچانتے ہیں اور آپعليه‌السلام نے ہم کو یہ بتایا بھی ہے کہ وہ آپ کا قاتل ہے پھر اس کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ آپعليه‌السلام نے فرمایا: ابھی اس نے کچھ نہیں کیا ہے میں اسکو کیسے قتل کردوں ؟ ماہ رمضان میں ایک دن علیعليه‌السلام نے منبر سے اسی مہینہ میں اپنے شہید ہوجانے کی خبر دی ابن ملجم بھی اس میں موجود تھا، آپعليه‌السلام کی تقریر ختم ہونے کے بعد آپعليه‌السلام کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرے دائیں بائیں ہاتھ میرے پاس ہیں آپعليه‌السلام حکم دےدیجئے کہ میرے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں یا میری گردن اڑادی جائے _

حضرت علیعليه‌السلام نے فرمایا: تجھ کو کیسے قتل کردوں حالانکہ ابھی تک تجھ سے کوئی جرم نہیں سرزد ہوا ہے_(۲)

___________________

۱) (حیات القلوب ج۲ ص ۱۲۱)_

۲) (ناسخ التواریخ ج۱ ص ۲۷۱ ، ۲۶۸)_

۱۵۵

جب ابن ملجم نے آپعليه‌السلام کے سرپر ضربت لگائی تو اسکو گرفتار کرکے آپعليه‌السلام کے پاس لایا گیا آپعليه‌السلام نے فرمایا: میں نے یہ جانتے ہوئے تیرے ساتھ نیکی کہ تو میرا قاتل ہے ، میں چاہتا تھا کہ خدا کی حجت تیرے اوپر تمام ہوجائے پھر اس کے بعد بھی آپعليه‌السلام نے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا_(۱)

سختی

اب تک رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ (علیہم السلام)کے دشمن پر عفو و مہربانی کے نمونے پیش کئے گئے ہیں اور یہ مہربانیاں ایسے موقع پر ہوتی ہیں جب ذاتی حق کو پامال کیا جائے یا ان کی توہین کی جائے اور ان کی شان میں گستاخی کی جائے، مثلا ً فتح مکہ میں کفار قریش کو معاف کردیا گیا حالانکہ انہوں نے مسلمانوں پر بڑا ظلم ڈھایا تھا لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چونکہ مومنین کے ولی ہیں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حق حاصل ہے ، اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی معاشرہ کی مصلحت کے پیش نظر بہت سے مشرکین کو معاف فرمادیا تو بعض مشرکین کو قتل بھی کیا ، یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ معاف کردینے اور درگذر کرنے کی بات ہر مقام پر نہیں ہے اس لئے کہ جہاں احکام الہی کی بات ہو اور حدود الہی سامنے آجائیں اور کوئی شخص اسلامی قوانین کو پامال کرکے مفاسد اور منکرات کا مرتکب ہوجائے یا سماجی حقوق اور مسلمانوں

___________________

۱) (اقتباس از ترجمہ ارشاد مفید رسول محلاتی ص ۱۱)

۱۵۶

کے بیت المال پر حملہ کرنا چاہے کہ جس میں سب کا حق ہے تو وہ معاف کردینے کی جگہ نہیں ہے وہاں تو حق یہ ہے کہ تمام افراد پر قانون کا اجرا ہوجائے چاہے وہ اونچی سطح کے لوگ ہوں یا نیچی سطح کے ، شریف ہوں یا رذیل_

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ( والحافظون لحدود الله ) (۱) (حدود و قوانین الہی کے جاری کرنے والے اور انکی محافظت کرنے والے) کے مکمل مصداق ہیں_

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی اور حضرت علیعليه‌السلام کے دور حکومت میں ایسے بہت سے نمونے مل جاتے ہیں جن میں آپ حضرات نے احکام الہی کو جاری کرنے میں سختی سے کام لیا ہے معمولی سی ہی چشم پوشی نہیں کی _

مخزومیہ عورت

جناب عائشہ سے منقول ہے کہ ایک مخزومی عورت کسی جرم کی مرتکب ہوئی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے اسکا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر ہوا ، اس کے قبیلہ والوں نے اس حد کے جاری ہونے میں اپنی بے عزتی محسوس کی تو انہوں نے اسامہ کو واسطہ بنایا تا کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس کردہ ان کی سفارش کریں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اسامہ، حدود خدا کے بارے میں تم کو ئی بات نہ کرنا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خطبہ میں فرمایا: خدا کی قسم تم سے پہلے کی امتیں اس لئے ہلاک

___________________

۱) (سورہ توبہ ۱۱۲) _

۱۵۷

ہوگئیں کہ ان میں اہل شرف اور بڑے افراد چوری کیا کرتے تھے ان کو چھوڑدیا جاتا تھا اگر کوئی چھوٹا آدمی چوری کرتا تھا تو اس پر حکم خدا کے مطابق حد جاری کرتے تھے ، خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی اس جرم کی مرکتب ہو تو بھی میرا یہی فیصلہ ہوگا پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمائی(۱)

آخرمیں خداوند عالم کی بارگاہ میں یہ دعا ہے کہ وہ ہم کو رحمة للعالمین کے سچے پیروکاروں میں شامل کرے اور یہ توفیق دے کہ ہم( والذین معه اشداء علی الکفار و رحماء بینهم ) کے مصداق بن جائیں، دشمن کے ساتھ سختی کرنیوالے اور آپس میں مہر و محبت سے پیش آنیوالے قرار پائیں _

___________________

۱) (میزان الحکمہ ج۲ ص ۳۰۸)_

۱۵۸

خلاصہ درس

۱) رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین کاایک تربیتی درس یہ بھی ہے کہ بدزبانی کے بدلے عفو اور چشم پوشی سے کام لیا جائے_

۲ ) نہ صرف یہ کہ ائمہ معصومین ہی پسندیدہ صفات کی بلندیوں پر فائز تھے بلکہ آپعليه‌السلام کے مکتب اخلاق و معرفت کے تربیت یافتہ افراد بھی شرح صدر اور مہربان دل کے مالک تھے، کہ ناواقف اور خودغرض افراد کے ساتھ مہربانی اور رحم و مروت کا سلوک کیا کرتے تھے_

۳) جن لوگوں نے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین کے اوپر ظلم کیا ان کو بھی ان بزرگ شخصیتوں نے معاف کردیا ، یہ معافی اور درگزر کی بڑی مثال ہے _

۴ ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہعليه‌السلام کے عفو کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ آپ حضرات نے ان لوگوں کو بھی معاف کردیا جن لوگوں نے آپ کے قتل کی سازش کی تھی_

۵ ) قابل توجہ بات یہ ہے کہ معافی ہر جگہ نہیں ہے اس لئے کہ جب احکام الہی کی بات ہو تو اور حقوق الہی پامال ہونے کی بات ہو اور جو لوگ قوانین الہی کو پامال کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے معافی کو کوئی گنجائشے نہیں ہے بلکہ عدالت یہ ہے کہ تمام افراد کے ساتھ قانون الہی جاری کرنے میں برابر کا سلوک کیا جائے_

۱۵۹

سوالات

۱ _ وہ اعرابی جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زیادہ طلب کررہا تھا اس کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا سلوک کیا تفصیل سے تحریر کیجئے؟

۲_ امام زین العابدینعليه‌السلام کی جس شخص نے امانت کی آپعليه‌السلام نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟

۳_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) نے اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کو کب معاف فرمایا؟

۴ _ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ائمہ معصومین ( علیہم السلا م) جب سازشوں سے واقف تھے تو انہوں نے سازش کرنیوالوں کو تنبیہ کاکوئی اقدام کیوں نہیں کیا ، مثال کے ذریعہ واضح کیجئے؟

۵ _ جن جگہوں پر قوانین الہی پامال ہورہے ہوں کیاوہاں معاف کیا جاسکتاہے یا نہیں ؟ مثال کے ذریعہ سمجھایئے

۱۶۰

گیارہواں سبق:

(شرح صدر)

شر ح کے معنی پھیلانے اور وسعت دینے کے ہیں _ صاحب اقرب الموارد لکھتے ہیں :''شرح الشئ ای وسعه'' (کسی چیز کی شرح کی یعنی اسے وسعت دی)(قاموس قرآن تھوڑے سے تصرف کے ساتھ)_

شرح یعنی کھولنا اور شرح صدر یعنی باطنی وسعت اور معنوی حقائق سمجھنے کے لئے آمادگی(۱) _

شرح صدر کی تعریف میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ آمادگی اور مطالب کو درک کرنے کی ظرفیت و صلاحیت کا موجود ہونا شرح صدر ہے _ اب اگر یہ آمادگی الہی توفیق اور تایید کی بناپر ہوگی تو حق کی طرف رجحان بڑھ جائے گا قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے:

( فمن یرید الله ان یهدیه یشرح صدره للاسلام ) (۲)

___________________

۱) (نثر طوبی ج۲ ص ۴ تھوڑے سی تبدیلی کے ساتھ)_

۲) (انعام آیت ۱۲۵)_

۱۶۱

'' خدا جس کی ہدایت کرنا چاہتاہے اسلام قبول کرنے کے لئے اس کا سینہ کشادہ کر دیتاہے''

خدا سے دوری کی وجہ سے انسان میں کفر اور باطل کو قبول کرنے کی آمادگی پیدا ہوجاتی ہے یہ بھی شرح صدر ہے لیکن اس کو کفر کے لئے شرح صدر کہتے ہیں : قرآن مجید میں ارشاد ہوتاہے:

( لکن من شرح بالکفر صدر فعلیهم غضب الله ) (۱)

لیکن جن لوگوں کا سینہ کفر اختیار کرنے کے لئے کشادہ اور تیار ہے ان کے اوپر خدا کا غضب ہے اور ایسے لوگ آخرت میں عذاب میں مبتلا ہوں گے _

تفسیر المیزان میں علامة طباطبائی فرماتے ہیں :

'' لکن من شرح بالکفر صدره ای بسط صدره للکفر فقبله قبول رضی و دعاه'' (۲)

کفر کے لئے شرح صدر کا مطلب یہ ہے کہ وہ کفر کو برضا و رغبت قبول کرلے_

اگر کوئی انسان حقیقت کا ادراک اور مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتاہے تو اس کو سعہ صدر کا مالک ہونا چاہیے ، دریا دل ہونا چاہیے اور اس کو یہ قبول کرنا چاہیے کہ راستہ میں مشکلات موجود ہیں جن کو برداشت کئے بغیر کوئی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا_

___________________

۱) (نحل آیت ۱۰۶)_

۲) (المیزان ج۱۲ ص ۳۵۴)_

۱۶۲

وسعت قلب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس سرزمین پر مبعوث ہوئے وہ علم و تمدن سے دور تھی ، عقاءد و افکار پر خرافات اور بت پرستی کا رواج تھا، ان کے درمیان ناشاءستہ آداب و رسوم راءج تھے، پیغام حق پہنچانے کے لئے پیغمبر اکرم کو بڑے صبر سے کام لینا اور مشکلات کا کو برداشت کرنا تھا، آنحضرت نے مشکلات کا مقابلہ کیا ، سختیوں کو برداشت کیا ، اذیتوں کے سامنے پامردی سے ڈٹے ہے لیکن کبھی کبھی اتنی تکلیف دہ باتیں سامنے آجاتی تھیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کہنا پڑتا تھا:

''ما اوذی احد مثل ما اوذیت فی الله'' (۱)

'' خدا کی راہ میں کسی کو اتنی اذیت نہیں دی گئی جتنی مجھے دی گئی ہے ''

لیکن ایسی حالت میں بھی آپ نے ان کے لئے بدعا نہیں فرمائی آپ فرماتے تھے:

( اللهم احد قومی فانهم لایعلمون ) (۲)

''پالنے والے میری قوم کو ہدایت فرمایہ ناواقف ہیں''

خداوند عالم کی طرف سے پیغمبر کو شرح صدر عطا کیا گیا تھا قرآن نے حضرت کو مخاطب کرکے فرمایا:

( الم نشرح لک صدرک ) (۳)

___________________

۱) (میزان الحکمة ج۱ ص۸۸)_

۲) (سورہ الم نشرح آیت ۱)_

۳) (سورہ الم نشرح ۱)_

۱۶۳

کیا ہم نے تمہارے سینہ کو کشادہ نہیں کیا _

امیر المؤمنینعليه‌السلام نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا:

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سخاوت اور شرح صدر میں سب سے آگے تھے_(۱)

بد دعا کی جگہ دعا

کسی جنگ میں اصحاب نے کہا کہ آپ دشمن کے لئے بد دعا کیجئے ، آپ نے فرمایا: میں ہدایت ، مہربانی کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں بددعا کرنے کے لئے نہیں_(۲)

جب کبھی کسی نے کسی مسلمان یا کافر کے لئے بددعا کرنے کے لئے کہا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیشہ بددعا کے بجائے دعا کے لئے ہاتھ بلند فرمائے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کبھی بددعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھائے مگر یہ کہ یہ کام خدا کے لئے ہو، کسی بھی غلط کام پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کبھی بھی انتقام نہیں لیا، لیکن اگر کسی نے حرمت خدا کو پامال کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے ضرور انتقام لیا _(۳)

ایک اعرابی کی ہدایت

صحراؤں میں رہنے والا ایک اعرابی پیغمبر کے پاس پہنچا اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کسی چیز کا

___________________

۱) (محجة البیضاء ج۴ ص ۱۴۹)_

۲) (محجة البیضاء ج۴ ص ۱۲۹)_

۳) (محجة البیضاء ج۴ ص ۱۲۹)_

۱۶۴

سوال کیا آپ نے اس کو کچھ عطا کرنے کے بعد فرمایا:'' کیا میں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کیا ؟

اس عرب نے کہا : ' ' نہیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے میرے ساتھ کوئی نیکی نہیں کی _ مسلمان بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے اس کی تنبیہ کا ارادہ کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو روکا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بزم سے اٹھے اور اس اعرابی کو لے کر اپنے گھر تشریف لائے اس کو کچھ اور سامان دیا پھر اس سے پوچھا کہ میں نے تیرے ساتھ نیکی کی ؟ عرب نے کہا ہاں خدا آپ کے بال بچوں کو اچھا رکھے_

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: تم نے ابھی جو بات کہی تھی اس کی وجہ سے میرے اصحاب ناراض ہوگئے تھے اگر تم کو یہ بات بھلی معلوم ہو تو میرے اصحاب کے سامنے بھی چل کر وہی کہہ دو جو تم ابھی کہہ رہے تھے تا کہ ان کے دلوں میں تمھارے خلاف جو بات ہے وہ نکل جائے _دوسرے دن جبپیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مسجد میں تشریف لائے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ اس عرب سے ایک بات تم نے سنی تھی اس کے بعد میں نے اس کو کچھ اور دے دیا اب میرا خیال ہے کہ یہ راضی ہوگیا ہوگا عرب نے کہا جی ہاں میں راضی ہوں خدا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اور آپ کے اہل و عیال کو خیر سے نوازے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ایسے افراد کی مثال اس شخص کی ہے جس کا اونٹ بھاگ گیا ہو لوگوں نے اونٹ کے مالک کی مدد کے لئے اس کے پیچھے دوڑنا اور چلانا شروع کردیا ہو اونٹ ان آوازوں کو سن کر اور تیزی سے بھاگنے لگا ہو مالک نے کہا : ہو کہ آپ حضرات ہٹ جائیں مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میرا اونٹ کیسے قبضہ میں آئے گا پھر وہ تھوڑا چارہ

۱۶۵

اپنی مٹھی میں لیکر آہستہ آہستہ اونٹ کے قریب آیا ہو اور چارہ دکھاتے دکھاتے اس نے اونٹ کو پکڑ لیا ہو_

اگر تم لوگوں کو میں چھوڑ دیتا تو تم لوگ اس کو قتل کردیتے اور یہ شخص گمراہی کے عالم میں جہنم میں چلا جاتا_(۱)

تسلیم اور عبودیت

تمام ادیان الہی کی بنیاد اور اساس یہ ہے کہ خدا پر ایمان لایا جائے اور اس کے حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرلیا جائے ایمان اور تسلیم اگر چہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق دل سے ہے ظاہری طور پر یہ دکھائی نہیں دیتیں لیکن عمل اطاعت اور عبادت خدا کی منزل میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے اور یہ معلوم ہوجاتاہے کہ سچ اور جھوٹ کیا ہے ، صحیح اور غلط کیا ہے _

حضرت امیر المؤمنین فرماتے ہیں :

''الاسلام هو التسلیم و التسلیم هو الیقین والیقین هو التصدیق والتصدیق هو الاقرار والاقرار هو الاداء والاداء هو العمل'' (۲)

اسلام تسلیم ہے تسلیم یقین ہے ، یقین تصدیق ہے ، تصدیق اقرار ہے اقرار فرمان کوبجالانے کا نام ہے اور فرمان کو بجالانا نیک عمل ہے_

___________________

۱) محجة البیضاء ج۴ ص ۱۴۹_

۲) نہج البلاغہ حکمت ۱۲۵ ص ۲۶۵_

۱۶۶

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جو اسلام کے مؤسس اور پہلے مسلمان ہیں ، قرآن کریم آپ کے بارے میں فرماتاہے:

( و امرت ان اکون اول المسلمین ) (۱)

یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان ہوں_

خداوند عالم کی ذات مقدس کے سامنے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تسلیم محض کی صفت سے متصف تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عذاب و عقاب خدا سے محفوظ تھے لیکن پھر بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں ارشاد ہوتاہے :

( لیغفر الله ما تقدم من ذنبک و ما تاخر ) (۲)

خدا نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گذشتہ اور آئندہ باتوں کو بخش دیا ، آپ نے کبھی بھی عبادت خدا سے ہاتھ نہیں اٹھا یا اور اتنی عبادت کی کہ سب حیرت میں پڑگئے_

ہم یہاں آپ کی کچھ عبادات کا ذکر کریں گے_

پیغمبر کی نماز

امام زین العابدینعليه‌السلام فرماتے ہیں :

''ان جدی رسول الله قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تاخر فلم یدع الاجتهاد له و تعبد_ بابی و امی حتی انتفخ الساق و ورم القدم و

___________________

۱) (سوہ زمر ۱۲)_

۲) (فتح آیت ۲)_

۱۶۷

قیل له اتفعل هذا و قد غفر الله لک ما تقدم من ذنبک و ما تاخر؟ قال افلا اکون عبداً شکوراً'' (۱)

اللہ تعالی نے میرے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گذشتہ اور آئندہ دونوں الزامات کو معاف کردیا تھا_ لیکن اس کے باوجود آپ نے سعی و عبادت کو ترک نہیں فرمایا _ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں _آپ اس طرح عبادت کرتے تھے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروں میں ورم آجاتا تھا ، لوگوں نے کہا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیوں اتنی زحمت کرتے ہیں خدا نے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گذشتہ اور آئندہ دونوں الزامات کو معاف کردیا ہے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ کیا میں خدا کا شکر گذار بندہ نہ رہوں ؟

امام زین العابدین فرماتے ہیں :

''و کان رسول الله ایقوم علی اطراف اصابع رجلیه ما نزل الله سبحانه طه ما انزلنا علیک القرآن لتشفی'' (۲)

پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز کے لئے اتنا زیادہ قیام فرماتے تھے کہ خدا نے آیہ طہ( ما انزلنا علیک القرآن لتشقی ) نازل کی_

یعنی ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں نازل کیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے کو مشقت میں ڈالدیں_

___________________

۱) (بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۸۸ طبع بیروت)_

۲) (بحار الانوار ج۱۶ ص ۲۶۴ طبع بیروت)_

۱۶۸

پیغمبر کی دعا

ایک رات رسول خدا ام سلمہ کے گھر پر تشریف فرماتھے _ جب تھوڑی رات گزری تو جناب ام سلمہ نے دیکھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بستر پر موجود نہیں ہیں اٹھ کر تلاش کرنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کمرہ کے ایک کو نہ میں کھڑے ہیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور خدا کی بارگاہ میں ہاتھوں کو بلند کرکے دعا کررہے ہیں_

''اللهم لا تنزع منی صالح ما اعطیتنی ابداً'' (۱)

خدایا تو نے جو نیکی مجھ کو عطا کی ہے اس کو مجھ سے جدا نہ کرنا_

''اللهم لا تشمت عدواً و لا حاسداً ابداً''

خدایا میرے دشمنوں اور حاسدوں کو کبھی بھی خوش نہ رکھنا_

''اللهم لا ترد لی فی سوء استنقذتنی منه ابداً''

خدایا جن برائیوں سے تو نے مجھ کو نکالاہے اس میں پھر واپس نہ پلٹادینا_

''اللهم و لا تکلنی الی نفسی طرفة عین ابداً''

پالنے والے ایک لمحہ کے لئے بھی مجھ کو میرے نفس کے حوالے کبھی نہ کرنا_

ام سلمہ رونے لگیںآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ ام سلمہ تم کیوں رورہی ہو؟

جناب ام سلمہ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجائیں میں کیوں نہ گریہ کروں میں دیکھ رہی ہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بلند مقام پر فائز کہ خدا نے گذشتہ اور آئندہ کے تمام

___________________

۱) (بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۱۷ مطبوعہ بیروت)_

۱۶۹

الزامات کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے معاف کردیا _ پھر بھی آپ خدا سے اس طرح راز و نیاز کی کررہے ہیں ( ہم کو تو اس سے زیادہ خدا سے ڈرنا چاہیے) آنحضرت نے فرمایا :

'' و ما یومننی؟ و انما وکل الله یونس بن متی الی نفسه طرفة عین و کان منه ما کان'' (۱)

ہم کسی طرح اپنے کو محفوظ سمجھ لیں حالانکہ یونس پیغمبرعليه‌السلام کو خدا نے ایک لمحہ کے لئے ان کے نفس کے حوالے کیا تھا تو جو مصیبت ان پر آنا تھی وہ آگئی''

پیغمبر کا استغفار

اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغمبر نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہیں کیا لیکن اس کے باوجود آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت استغفار کرتے تھے_

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں :

''کان رسول الله یستغفر الله عزوجل کل یوم سبعین مرة و یتوب الی الله سبعین مرة'' (۲)

رسول خدا ہر روز ستر مرتبہ استغفار کرتے اور ستر مرتبہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرتے تھے_

___________________

۱) (بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۱۸)_

۲) (بحار الانوار ج۱۶ ص۲۸۵ مطبوعہ بیروت)_

۱۷۰

پھر امامعليه‌السلام فرماتے ہیں :

''ان رسول الله کان لا یقوم من مجلس و ان خفف حتی یستغفر الله خمس و عشرین مرة '' (۱)

رسول خدا کسی چھوٹی سے چھوٹی بزم سے بھی پچیس مرتبہ استغفر اللہ کہے بغیر نہیں اٹھتے تھے_

پیغمبر کا روزہ

امام جعفر صادقعليه‌السلام کا ارشاد ہے :

''کان رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یصوم حتی یقال لا یفطر ثم صام یوما ً و افطر یوماً ثم صام الاثنین والخمیس ثم اتی من ذلک الی صیام ثلاثة ایام فی الشهر الخمیس فی اول الشهر و اربعاء فی وسط الشهر و خمیس فی آخر الشهر و کان یقول ذلک و صوم الدهر'' (۲)

رسول خدا مسلسل اتنے روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی دن بھی بغیر روزے کے نہیں رہتے کچھ دنوں کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک دن ناغہ کرکے روزہ رکھنے لگے ، پھر اس کے بعد پیر اور جمرات کو روزہ رکھتے تھے پھر اس کے بعد آپ نے اس میں

___________________

۱) (بحار الانوار ج۱۷ ص ۲۸۵ مطبوعہ بیروت)_

۲) (بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۷۰ مطبوعہ بیروت)_

۱۷۱

تبدیلی کی اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے لگے اب ہر مہینہ کی پہلی جمعرات کواور مہینہ کے درمیان بدھ کے دن ( اگر مہینہ کی درمیانی دھائی میں دوبدھ آجائے تو پہلے _ بدھ کو آپ روزہ رکھتے تھے _(۱)

مہینہ کی آخری جمعرات کو اور آپ فرماتے تھے اگر کوئی ان دنوں میں روزہ رکھے تو وہ ہمیشہ روزہ دار سمجھا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا اعتکاف

امام جعفر صادقعليه‌السلام سے منقول ہے :

''اعتکف رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی شهر رمضان فی العشر الاول ثم اعتکف فی الثانیة فی العشر الوسطی ثم اعتکف فی الثلاثة فی العشر الاواخر ثم لم یزل یعتکف فی العشر الاخر'' (۲)

رسول خدا نے ماہ رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا دوسرے سال ماہ رمضان میں دوسرے عشرہ کو اعتکاف کے لیے منتخب فرمایا تیسرے سال آخری عشرہ ماہ رمضان میں آپ نے اعتکاف فرمایا اس کے بعد ہمیشہ رمضان کے آخری عشرہ میں آپ اعتکاف کرتے رہے_

___________________

۱) (منتہی الآمال ص ۲۷)_

۲) (بحارالانوار ج۱۶ ص ۲۷۴)_

۱۷۲

امام جعفرصادقعليه‌السلام نے فرمایا : جب ماہ رمضان کا آخری عشرہ آتا تھا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عبادت کے لیے آمادہ ہوجاتے عورتوں سے الگ ہوجاتے اور پوری پوری رات جاگ کر گذارتے تھے _(۱)

خدا کی مرضی پر خوش ہونا

جب رسول اللہ کے بیٹے ابراہیم دنیا سے رخصت ہوگئے اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے آپ نے فرمایا:

''تدمع العین ویحزن القلب و لا نقول ما یسخط الرب و انا بک یا ابراهیم لمحزون'' (۲)

آنکھوں سے اشک جاری ہیں دل رنجیدہ ہے لیکن خدا جس بات سے غضبناک ہوتاہے وہ بات میں زبان پر جاری نہیں کروں گا اے ابراہیم میں تمہارے غم میں سوگوار ہوں_

___________________

۱) (بحارالانوار ج۱۶ ص۲۷۳ مطبوعہ بیروت)_

۲) (بحارالانواج ۲۲ ص ۱۵۷ مطبوعہ بیروت)_

۱۷۳

خلاصہ درس

۱) لغت میں شرح کے معنی پھلانے اور وسعت دینے کے ہیں شرح صدر کا مطلب باطنی کشادگی کا ظہوراور معانی و حقائق کو قبول کرنے کی آمادگی ہے جب خدا کی طرف سے یہ آمادگی ہوتی ہے تو انسان خدا کی توفیق و تایید سے حق کی طرف مائل ہوتاہے جس طرح خدا سے دوری کی بناپر باطل اور کفر کو قبول کرنے کی آمادگی پیدا کرلیتاہے اور یہ آمادگی بھی شرح صدر ہے مگر اس کو کفر کے لیے شرح صدر کہا جاتاہے_

۲) پیغمبر کو خدا کی طرف سے جو عطیات ملے ہیں ان میں سے شرح صدر کی نعمت بھی ہے ارشاد ہے '' الم نشرح لک صدرک'' کیا ہم نے آپ کے سینہ کو کشادہ نہیں کیا _ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالبعليه‌السلام نے فرمایا : پیغمبر کی سخاوت اور ان کا شرح صدر ہر ایک سے زیادہ تھا_

۳) تمام ادیان الہی کی بنیاد خدا پرا یمان اور تسلیم محض پر استوار ہے _

۴ ) خدا کی ذات کے سامنے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سر تسلیم خم کرلیا تھا_ باوجودیکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عذاب اور عقاب سے محفوظ تھے پھر بھی عبادت میں کمی نہیں کرتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس قدر استغفار کرتے تھے کہ لوگوں کو حیرت ہوتی تھی_

۱۷۴

سوالات؟

۱_ لغت میں شرح صدر کے کیا معنی ہیں ؟

۲ _ شرح صدر کا کیا مطلب ہے ؟

۳_ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شرح صدر کی کیفیت بیان فرمایئے_

۴ _ انسان کے ایمان پر تسلیم و عبودیت کا کیا اثر پڑتاہے ؟

۵ _ رسول خدا کا تعبد ( تسلیم محض ) کیساتھ تھا، آیہ لیغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک و ما تاخر کو پیش نظر رکھ کر جواب دیجئے_

۶_ جب حضور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابتدائے عمر سے انتہاء تک کوئی گناہ نہیں کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اتنا زیادہ استغفار کیوں کرتے تھے؟

۱۷۵

بارہواں سبق:

(مدد اور تعاون )

مدد اور باہمی تعاون پر انسانی معاشرہ کی بنیاد استوار ہے ضرورتوں اور مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد اور تعاون سے ایک طرف تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے دوسری طرف آپس میں محبت اور دوستی بڑھتی ہے اس کے برعکس سماجی کاموں میں ہاتھ نہ بٹانا اور ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنا ظلم اور انسان کے خدا کی رحمت سے دوری کا باعث ہے_

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ارشاد ہے :

''ملعون من القی کله علی الناس '' (۱)

''جو اپنا بوجھ دوسرے کے کاندھے پر رکھدے وہ خدا کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے ''_

اسلام نے انسانوں کو اچھے اور نیک کاموں میں مدد کرنے کی تعلیم دی ہے قرآن کریم میں ارشاد ہے:

( تعاونوا علی البر و التقوی و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان ) (۲)

___________________

۱) (نہج الفصاحہ ۵۶۸) _

۲) (سورہ ماءدہ ۲) _

۱۷۶

نیکی میں ایک دوسرے کی مدد کرو ظلم و گناہ میں مدد گار نہ بنو_

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اپنے اصحاب اور پیروکاروں کو مدد و نصرت اور تعاون کی تعلیم دی ہے :

''من اصبح لا یهتم بامور المسلمین فلیس بمسلم'' (۱)

جو شخص مسلمانوں کے امور سے بے توجھی برتتے ہوئے صبح کرے وہ مسلمان نہیں ہے_

نیز فرمایا :

''من بات شبعان و جاره جاءع فلیس بمسلم '' (۲)

جو شخص شکم سیر ہو کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہ جائے تو وہ مسلمان نہیں ہے _

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے با ایمان معاشرہ کی تشبیہ انسانی جسم سے دی ہے مثل''المومنین فی توادهم و تراحمهم کمثل الجسد اذا شتکی بعضهم تداعی سایرهم بالسهر و الحمی '' (۳)

دوستی اور مہربانی میں مومنین کی مثال اعضاء بدن کی سی ہے جب کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو دوسرے اعضاء بھی اسکی رعایت اور نگرانی کرنے لگتے ہیں _

___________________

۱) (محجة البیضاء ج ۲ ص ۴۰۷) _

۲) ( نہج الفصاحہ ۵۵۹) _

۳) ( نہج الفصاحہ ۵۶۱) _

۱۷۷

سعدی نے کہا تھا :

بنی آدم اعضاء یک پیکر اند

کہ در آفرینش ز یک گوہر اند

چو عضوی بدرد آورد روزگار

دگر عضوہا را نماند قرار

تو کز محنت دیگران بی غمی

نشاید کہ نامت نہند آدمی

امام جعفر صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں :

''من قضا لاخیه المومن حاجة قضی الله عزوجل له یوم القیمه ماة الف حاجة من ذالک اولها الجنة'' (۱)

اگر کوئی اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرے تو قیامت کے دن خدا اس کی ایک لاکھ حاجتیں پوری کریگا جن میں سب سے پہلی حاجت جنت ہے _پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صرف مسلمانوں ہی کو مدد اور تعاون کی تعلیم نہیں دیتے تھے بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود بھی مختلف کاموں میں شریک ہوجاتے تھے یہاں تک کہ اصحاب آگے بڑھ کر آپ، کے بدلے اس کام کے کرنے کا اصرار کرنے لگتے تھے لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس بات کو قبول نہیں کرتے اور فرماتے تھے کہ خدا اپنے بندہ کو دوسروں کے درمیان امتیازی شکل میں دیکھنا پسند نہیں کرتا_(۱)

مدد اور تعاون کی اہمیت کو اور زیادہ واضح کرنے کیلئے رسول خدا کے معاشرتی کاموں میں تعاون اور مدد کی مزید مثالیں ہم پیش کر رہے ہیں _

___________________

۱) (داستان راستان ج ۱ ص ۱۲)_

۱۷۸

جناب ابوطالب کے ساتھ تعاون

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعثت سے پہلے مکہ کے لوگ فقر و فاقہ اور اقتصادی پریشانیوں میں مبتلا تھے ، جناب ابوطالب بنی ہاشم کے سردار تھے ، لیکن اولاد کی کثرت کی بنا پر پریشانیوں اور الجھنوں میں مبتلا رہتے تھے ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس صورت حال کو دیکھ کر رنجیدہ ہوتے تھے لہذا ایک روز آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دوسرے چچا جناب عباس کے پاس گئے کہ جن کی حالت جناب ابوطالبعليه‌السلام کی نسبت زیادہ بہتر تھی اور فرمایا : چچا آپ کے بھائی ابوطالب کا خاندان بڑا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اقتصادی تنگی میں گذر بسر کر رہے ہیں آیئےم آپ کے ساتھ چلیں اور ان کا بوجھ بانٹ لیں ان کے ایک بچہ کو میں لے لوں اور ایک کو آپ لے آئیں، عباس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات قبول کی ، دونوں حضرات جناب ابوطالب کے پاس پہنچے عباس نے جعفر کو اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علیعليه‌السلام کو اپنے ساتھ لیا اس طرح ابوطالب کے خاندان کے دو افراد کا بوجھ ان سے کم ہوگیا(۱)

مسجد مدینہ کی تعمیر میں شرکت :

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب مدینہ پہنچے تو اس وقت عبادت اور دوسرے سیاسی و معاشرتی کاموں کیلئے ایک مسجد بنانا لازمی ہوگیا تھا _

___________________

۱) ( سیرہ ابن ہشام ج ۲ ص ۲۶۳) _

۱۷۹

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسجد بنانے کی پیشکش کی تو لوگوں نے اس تجویز کا استقبال کیا اور مسجد کے لیے زمین خریدی گئی اور مسجد بننے لگی _

سارے مسلمانوں کی طرح حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی پتھر اٹھا کرلا رہے تھے ، اسید بن حضیر نے جب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کام کرتے ہوئے دیکھا تو کہا اے اللہ کے رسول آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پتھر مجھے دیدیں میں لے چلوں گا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : نہیں ، جاؤتم دوسرا پتھر اٹھالو(۱)

خندق کھودنے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شرکت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نئی حکومت کو ختم کردینے کے ارادہ سے عرب کے مختلف قباءل مدینہ کی جانب بڑھے _

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دشمنوں کے ارادے کی خبر پاتے ہی اپنے اصحاب کو جمع کیا اور دشمن کے عظیم لشکر سے جنگ اور دفاع کے بارے میں ان سے مشورہ فرمایا _ جناب سلمان فارسی کی پیشکش اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تائید سے یہ طے پایا کہ مدینہ کی اطراف میں خندق کھود دی جائے تا کہ دشمن شہر کے اندر داخل نہ ہوسکے _

ہر بیس تیس قدم کے فاصلہ پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مہاجرین و انصار کو خندق کھودنے کے لئے معین فرمایا جس حصہ میں مہاجرین خندق کھود رہے تھے وہاں کدال لیکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود بھی پہنچ گئے اور

___________________

۱) ( بحار الانوار ج ۹ ص ۱۱۱)_

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311