فلسفۂ انتظار

فلسفۂ انتظار0%

فلسفۂ انتظار مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

فلسفۂ انتظار

مؤلف: آیۃ اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 1713
ڈاؤنلوڈ: 662

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 11 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1713 / ڈاؤنلوڈ: 662
سائز سائز سائز
فلسفۂ انتظار

فلسفۂ انتظار

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین ( علیہ ما السلام ) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

فلسفۂ انتظار

مؤلف : مکارم شیرازی، ناصر (آیۃ اللہ)

مترجم / مصحح : احمد علی عابدی

ناشر : نور اسلام

نشر کی جگہ : فیض آباد ہندوستان

نشر کا سال : ۱۹۸۳

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۰۴

سائز : رقعی

زبان : اردو

پیش لفظ

خداوند عالم نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کی مرضی یہ تھی کہ انسان ہدایت کی شاہراہ پر گامزن اور ضلالت و گمراہی کے راستوں سے دور رہے۔ اسی بنا پر خداوند عالم نے اس روئے زمین پر سب سے پہلے جس انسان کو بھیجا اس کو "رہبر" بنا کر بھیجا۔ تاکہ بعد میں آنے والے رہبر کی تلاش میں سرگرداں نہ رہیں۔

رہبر کے ساتھ ساتھ خداوند عالم نے ایک ایسا جامع نظام حیات بھی بھیجا جس کے تمام قانون فطرت کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں، تاکہ قوانین پر عمل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔ یہ قوانین فطرت کے سانچے میں اس لئے ڈھالے گئے کہ ان پر عمل کرنے کے لئے بس ضمیر کی آواز کافی ہو اور رہبروں کی ذمہ داری توجہ دلانا ہو ۔۔ اس حقیقت کی طرف مولائے کائنات (ع) نے نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا ہے: ۔۔

انبیاء اس لئے مبعوث کیے گئے تاکہ وجود انسانی میں عقل کے پوشیدہ خزانوں کو سامنے لاسکیں"۔

جس وقت سے زمین آباد ہوئی ہے اس وقت سے آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پوری زمین پر اللہ کی حکمرانی ہو، اور بس اسی کا قانون چل رہا ہو۔ ہاں جناب سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ضرور کچھ دن دنیا پر اللہ کے قوانین کی حکومت تھی۔ کچھ دن اس مدّت کے مقابلہ میں لکھا گیا جب الٰہی احکام کا نفاذ نہیں تھا۔

ایک طرف ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ الٰہی احکام نافذ نہ ہونے پائیں۔ ہدایت کی شاہراہ کے بجائے انسان ضلالت کی وادیوں میں ہاتھ پیر مارتا رہے اور اسی حالت میں جان دے دے۔

ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گمراہ کرنے کا جو منصوبہ شیطان نے بنایا تھا وہ اس میں کافی حد تک کامیاب رہا اور آج تک الٰہی احکام ساری دنیا پر نافذ نہ ہوسکے۔

ایک مدت کے بعد خدا کے مخلص بندوں نے ایران سے شیطانی حکومت کو اکھاڑ پھینکا اور الٰہی احکام نافذ کئے۔ مگر شیطان نے اس حکومت کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈہ کیا کہ نزدیک کے ممالک بھی حقیقت حال سے آگاہ نہ ہوسکے اور اندیشہائے دور و دراز میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

ہاں ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ کیا تک یہی صورت حال رہے گی۔ ساری دنیا پر اللہ کے احکام نافذ نہ ہوپائیں گے، اور شیطان کی عمل داری قائم رہے گی؟۔

اگر اس سوال کا جواب مثبت ہے تو اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ الٰہی احکام میں اس کی لیاقت ہی نہیں کہ ساری دنیا پر ان کا نفاذ ہوسکے۔

وہ لوگ جو عقیدۂ مہدویت کے قائل نہیں ہیں ان کے پاس گذشتہ سوال کا جواب ہی نہیں۔

البتہ وہ افراد جو عقیدۂ مہدویت کو دل سے لگائے ہوئے ہیں، یقین کامل سے یہ بات کہتے ہیں کہ شیطان کی ساری ریشہ دوانیاں پس چند روزہ ہیں، باطل کی چمک دمک وقتی ہے۔

ایک دن یقیناً ایسا آئے گا جب اللہ کی آخری حجت کا ظھور ہوگا۔ روئے زمین پر صرف اللہ کے احکام نافذ ہوں گے۔ فطرت سے منحرف انسان اپنی فطرت کی طرف واپس آجائے گا، انسان کا ضمیر اتنا زیادہ بیدار ہوجائے گا کہ وہ انسان کو انحراف سے باز رکھے گا۔

حضرت ولی عصر (عج) کے سلسلے میں اس مختصر کتاب میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اس کے پہلے ایڈیشن میں صرف "انتظار" کا فلسفہ بیان کیا گیا تھا۔ لیکن اس جدید ایڈیشن میں کئی نئے مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے۔

انتظار" بھی استاد بزرگوار آیۃ اللہ مکارم شیرازی مدظلہ کے قلم کی تخلیق تھا اور جن نئے مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے وہ بھی استاد بزرگوار کی گراں مایہ تصنیف "مھدی انقلابی بزرگ" سے اقتباس کیے گئے ہیں۔

نام: محمد

کنیت: ابو القاسم

القاب: مھدی، صاحب الزمان، قائم، منتظر، ولی عصر، بقیۃ اللہ

والد بزرگوار: حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

والدۂ ماجدہ: جناب نرجس خاتون

تاریخ ولادت: ۱۵/ شعبان، ۲۵۵ ہجری

جائے ولادت: سامراء (عراق)

غیبت صغریٰ: ۲۶۰ ہجری

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام کے نائبین:

(۱) ابو عمر عثمان بن سعید العمری (ربیع الاول ۲۶۰ - شعبان ۲۶۵)

(۲) ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید العمری _شعبان ۲۶۵ - جمادی الاولیٰ ۳۰۵)

(۳) ابو القاسم حسین بن روح النوبختی (جمادی الاولیٰ ۳۰۵ - شعبان ۳۲۶)

(۴) ابوالحسن علی بن محمد السمری (شعبان ۳۲۶ - شعبان ۳۲۹)

۳۲۹ ہجری کے بعد غیبت صغریٰ تمام ہوگئی۔

غیبت صغریٰ میں امام علیہ السلام عام نگاہوں سے پوشیدہ تھے۔ مگر ان نائبین کے ذریعہ امام تک رسائی ممکن تھی۔ یہ نائبین لوگوں کے مسائل امام کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور امام جواب مرحمت فرمادیتے تھے۔ ایک نائب کے انتقال کے بعد دوسرے نائب کا تعین فرمادیتے تھے۔ لیکن ابوالحسن السمری کے انتقال سے چند دن پہلے آپ نے توقیع میں تحریر فرمایا کہ:

اسی ہفتہ تمھارا انتقال ہوجائے گا، تم کسی کو نائب معین نہ کرنا۔۔۔۔۔

غیبتِ کبریٰ شروع ہونے والی ہے، خدا کے حکم سے ظھور ہوگا۔ اس دوران جو میری ملاقات کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔"

غیبت صغریٰ کے بعد نیابت خاصہ کا دور ختم ہوگیا۔ غیبت کبریٰ میں نیابت عامہ کا آغاز ہوا۔ غیبت کبریٰ میں امام نے دین کے تحفظ کی ذمہ داری کسی خاص فرد پر نہیں بلکہ عادل فقہاء پر عائد فرمائی ہے۔

ایک توقیع میں امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

جدید مسائل کے بارے میں ہم اری احادیث کے راوی (فقہاء) کی طرف رجوع کرو، کیونکہ یہ میری طرف سے تم لوگوں پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے ان پر حجت ہوں، ان کی بات کو رد کرنا میری بات کا رد کرنا ہے۔"

گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتیں اس لئے تحریف کا شکار ہوگئیں کہ اس وقت ایسے امین فقہاء نہ تھے ۔۔۔ لائق صد آفریں ہیں وہ فقہاء جنھوں نے دین کو تحریف سے محفوظ رکھا اور ہم تک دین پہونچایا ۔۔ اور اس اسلام دشمن دور میں اسلام کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ سلام ہو ان فقہاء پر۔

جس دن ان کی ولادت ہوئی، جس دن ان کی وفات ہوئی اور جس دن وہ محشور کیے جائیں گے۔

آئیے حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کے اقوال پر ایک نظر ڈالیں، اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

میرا وجود غیبت میں بھی لوگوں کے لیے ایسا ہی مفید ہے جیسے آفتاب بادلوں کی اوٹ سے۔

میں زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھردوں گا جس طرح وہ ظلم و جود سے بھر گئی ہے۔

ظھور میں تعجیل کے لئے دعا مانگو کیونکہ اسی میں تمھاری بھلائی ہے۔

جو لوگ ہم ارے اموال کو مشتبہ اور مخلوط کیے ہوئے ہیں، جو کوئی بھی اس میں سے ذرہ برابر بلا استحقاق کھائے گا گویا اس نے اپنا شکم آگ سے پر کیا۔

میں اہل زمین کے لئے اس طرح باعثِ امان ہوں جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے۔

ہم ارا علم تمھارے سارے حالات پر محیط ہے اور تمھاری کوئی چیز ہم سے پوشیدہ نہیں ہے۔

ہم تمھاری خبر گیری سے غافل نہیں ہیں اور نہ تمھاری یاد اپنےدل سے نکال سکتے ہیں۔

ہر وہ کام کرو جو تمھیں ہم سے نزدیک کردے اور ہر اس عمل سے پرہیز کرو جو ہم ارے لئے بار خاطر اور ناراضگی کا سبب ہو۔

تم میں کوئی تقویٰ اختیار کرے گا اور مستحق تک اس کا حق پہونچائے گا وہ آنے والی آفتوں سے محفوظ رہے گا۔

اگر ہم ارے چاہنے والے اپنے عہد و پیمان کی وفا کرتے تو ہم اری ملاقات میں تاخیر نہ ہوتی۔ اور ہم اری زیارت انھیں جلد نصیب ہوتی۔

ہم یں تم سے کوئی چیز دور نہیں کرتی مگر وہ جو ہم یں ناگوار اور ناپسند ہیں۔

نماز شیطان کو رسوا کردیتی ہے، نماز پڑھو اور شیطان کو رُسوا کرو۔

تعجب ہے ان لوگوں کی نماز کیسے قبول ہوتی ہے جو سورہ انّا انرلناہ کی تلاوت نہیں کرتے۔

ملعون ہے ملعون وہ شخص جو نماز مغرب میں اتنی تاخیر کرے کہ تارے خوب کھل جائیں۔

اور ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جو نماز صبح میں اتنی تاخیر کرے جب کہ تمام ستارے غائب ہوجائیں۔

بطورِ ابتداء

آج دانش ور حضرات یہ کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں کہ اگر دنیا کی یہی حالت رہی اور اسی رفتار سے مہلک ہتھیاروں میں اضافہ ہوتا رہا تو دنیا بہت جلد نیست و نابود ہوجائے گی۔ دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔

اگر دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے تو اس کی بس ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ دنیا سے ممالک کی تقسیم اور جغرافیائی حد بندیاں ختم ہوجائیں، پوری دنیا پر صرف ایک حکومت ہو اور بس یہی ایک صورت ہے جس کی بنا پر امن قائم ہوسکتا ہے۔ آج نہیں تو کچھ دنوں بعد ضرور یہ حقیقت بالکل واضح ہوجائے گی۔

ایک سوال ذہن میں کروٹیں لیتا ہے کہ اس عظیم حکومت کی رہبری کس کے سپرد ہو، زمام حکومت کس کے ہاتھوں میں ہو۔؟

زمامِ حکومت بس اسی کے ہاتھوں میں ہونا چاہیئے جس نے اپنے اوپر پورا اختیار ہو، جو جذبات پر باقاعدہ مسلط ہو۔ جذبات میں بہہ جانے والا، خواہشات کے سمندر میں غرق ہوجانے والا کبھی صحیح رہبری نہیں کرسکے گا۔ خواہشات کا پابند ہونے کا مطلب یہی ہے کہ عدل و انصاف کا دامن اس کے ہاتھوں سے چھوٹ جائے، تو اس میں امن کہاں قائم ہوسکتا ہے۔

اگر دنیا کے عام انسان اس عظیم رہبری کی صلاحیت رکھتے ہوتے تو دنیا کب کی گہوارۂ امن بن چکی ہوتی۔

ضرورت ہے ایک ایسے رہبر کی جسے ہم اصطلاحاً معصوم کہتے ہیں۔

اس بات پر دنیا کے تمام مسلمان متفق ہیں کہ قبل ایک ایسے انسان کا ظھور ہوگا جو معصوم ہوگا، ساری دنیا پر اس کی حکومت ہوگی، جس کے نتیجہ یہ میدانِ جنگ گہوارۂ امن میں تبدیل ہوجائے گا۔

اختلاف صرف اس بات کا ہے کہ وہ عظیم انسان پیدا ہوچکا ہے، یا پیدا ہوگا۔۔؟ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ عظیم انسان ۲۵۶ ہجری میں اس دنیا میں آچکا ہے، اور اس وقت وہ پردۂ غیبت میں ہے، جس کا ہم لوگ انتظار کر رہے ہیں۔

کیا ایک انسان اتنے دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔؟

اگر وہ زندہ ہے تو ہم یں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔؟

ارادہ تو یہی تھا کہ اس مقدمہ میں اس قسم کے سوالات کا معقول اور اطمینان بخش جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائے مگر اس صورت میں کتاب کافی طویل ہوجاتی۔ جس کی بنا پر صرف نظر کرنا پڑا۔ اگر توفیق خداوندی شاملِ حال رہی تو انشاء اللہ عنقریب ان موضوعات کو پیش کیا جائے گا۔

ایک سوال اور ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ:

اگر ایک امامِ غائب کا عقیدہ ایک خالص اسلامی عقیدہ ہے اور امام کا انتظار کرنا ایک عظیم عبادت ہے تو اس انتظار کا فائدہ کیا ہے۔ اور اس عقیدے کے اثرات انسانی زندگی پر کیا ہیں۔؟

اس سوال کا مفصل جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کتابچے میں ملے گا۔

اس کتابچے کو استاد محترم دانشمند عالی قدر حضرت علامہ الحاج آقایٔ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ العالی نے تحریر فرمایا ہے۔ آپ کا شمار "حوزہ علمیہ قم" (ایران) کے صفِ اوّل کے اساتذہ کرام میں ہوتا ہے،آپ کے جلسہ درس میں سیکڑوں با فضل طلاب علوم شرکت کرتے ہیں، اور آپ کے سر چشمۂ علم و کمال سے اپنے لئے بقدر طرف ذخیرہ کرتے ہیں۔ جہاں آپ "حوزہ علمیہ قم" کے طلاب علم کو معارف اسلامی سے آشنا کرتے ہیں، وھاں آپ ایران کے گوشہ و کنار میں لوگوں کو اسلامی تعلیمات سے آشنا کرانے کے لئے کثیر تعداد میں مبلغین ارسال فرمایا کرتے ہیں اور ان کے تمام مصارف خود برداشت کرتے ہیں۔

حضرت استاد محترم نے سب سے پہلے ایک ایسے درسِ عقائد کی بنیاد رکھی جس کی روشنی میں آج کی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا کو اسلامی عقائد سے روشناس کرایا جاسکے۔ آپ نے بہت ہی نایاب انداز سے ان اعتراضات کا جواب دیا ہے جو آج کی دنیا اسلامی عقائد پر وارد کرتی ہے۔ یہ آپ کا شاھکار ہے کہ آپ نے اسلامی عقائد اور دیگر مذاہب کے عقائد کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے، جس میں اسلام کی برتری روزِ روشن کی طرح نظر آتی ہے اس درس کے نتیجہ میں متعدد علمی اور فلسفی کتابیں منظر عام پر آئیں، اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تحریر فرمائی ہیں جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ مستقل حیثیت کی مالک ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں شائع ہونے والا علمی، فلسفی، دینی اور اخلاقی ماہنامہ "مکتب اسلام" آپ ہی کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

آپ بھی شاہ ایران کی ظالم و جابر حکومت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہے، صرف اس لئے کہ آپ لوگوں تک اسلامی تعلیمات نہ پہونچاسکیں اور آپ کا مشن ناکام ہوجائے آپ کو مختلف شھروں میں شھر بدر کیا جاتا رہا، لیکن آپ اپنے عزم و ارادے سے ذرا بھی پیچھے نہ ہٹے بلکہ پہلے سے زیادہ عزم و استقلال کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ آپ کی زندگی کے حالات کے لئے خود ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہے۔

ہم بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہیں کہ محمد وآل محمد علیہم السلام کے تصدق میں موصوف کو ہم یشہ مصائب و مشکلات سے محفوظ رکھے، طویل عمر عنایت فرمائے، آپ کے مقاصد کو دن دونی رات چوگنی ترقی نصیب ہو۔

اور ہم لوگ بھی آپ کی زندگی سے کچھ سبق حاصل کرسکیں۔ آمین یا رب العالمین۔

صاحبان نظر سے استدعا ہے کہ اگر کوئی اشتباہ ہو یا کوئی چیز باقی رہ گئی ہو، تو براہِ کرم حقیر کو مطلع فرمائیں تاکہ اس کا ازالہ ہوسکے۔ انسان کی کمزوریاں صحیح و سالم انتقاد سے دور ہوا کرتی ہیں۔

خدایا! توفیق عطا فرما کہ تیری راہ میں قدم اٹھا سکیں۔

لوگوں تک تیرا پیغام پہونچاسکیں، تو ہی بہترین توفیق دینے والا ہے۔

ناچیز مترجم