اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ0%

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

مؤلف: آیۃ اللہ سید كاظم حائری
زمرہ جات:

مشاہدے: 2777
ڈاؤنلوڈ: 598

تبصرے:

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 17 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2777 / ڈاؤنلوڈ: 598
سائز سائز سائز
اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

اساس الحكومۃ الاسلامیۃ

مؤلف:
اردو

باب سوّم: ولايت فقيہ

ہم بيان كرچكے ہيں كہ كوئي بھي باصلاحيت حكومت وہ ہوتي ہے جس كي اساس درج ذيل دو چيزوں پر ہو:

۱) صحيح ماخذ سے شرعي طور پر ولايت حاصل كرے ۔

۲) معاشري كي سعادت و خوشبختي اور معاشرتي مفادات اور مصلحتوں كے تحقق كي كفيل و ضامن ہو اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ وہ ولايت فقيہ جو شيعہ مكتب فكر سے مطابقت ركھنے والي ايك الہي حكومت ہے اس كي اساس بھي ان دو چيزوں پر استوار ہے؟

ہماري موجودہ بحث كا ہدف و مقصد اس بات كو ثابت كرناہے كہ ولايت فقيہ نبي و امام عليہ السلام كي ولايت كے تسلسل كا نام ہے ۔ مسلمانوں كے نزديك ولايت كا سرچشمہ ذات كردگار ہے جو ہرچيز كي خالق و موجد ہے خدا ہي حقيقي مولا ہے اور تمام لوگ اسكے بندے ہيں اور ان پر اسكے احكام كا اتباع كرنا (يعني خدا نے جن كاموں سے منع كيا ہے انہيں ترك كرنا اور جنكا حكم ديا ہے انكو انجام دينا) واجب ہے۔

ان ہي احكام ميں سے ايك يہ ہے كہ خداوندحكيم نے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كو ولايت عطا فرما كر لوگوں كوآپكي پيروي كا حكم ديا ہے ارشاد رب العزت ہے ”بے شك نبي تمام مومنين سے ان كے نفس كي نسبت زيادہ اولي ہے“(۱۰۲) شيعہ عقيدے كے مطابق (نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي رحلت كے بعد) يہ ولايت آپكے معصوم جانشينوں كي طرف منتقل ہوگئي جن كے (ناموں) كي تصريح (روايات) ميں كي گئي ہے۔(۱۰۳)

واضح ہے كہ ہماري بحث كا ہدف و مقصد اللہ تعالي اورنبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي ولايت كوثابت كرنا نہيں ہےكيونكہ تمام مسلمان اسےقبول كرتے ہيں اورنہ ہي ائمہ اطہار عليھم السلام كي ولايت كوثابت كرنا ہمارا مقصودہے كيونكہ عالم تشيع ائمہ اطہارعليھم السلام كي ولايت كا صدق دل سے اقرار كرتا ہے (اس كے باري ميں مفصل بحث مسلمانوں اور شيعوں كے عقائد سے متعلق كتابوں ميں كي گئي ہے)

ہماري يہاں پر بحث، اسلام اور تشيع كے مباني كے باري ميں ہے تاكہ معلوم ہوسكے كہ كيا مذہب شيعہ كے پاس موجود دلائل يہ ثابت كرنے كي صلاحيت ركھتے ہيں كہ ولايت فقيہ كا سرچشمہ اور ماخذ اسلام اور وحي پروردگار ہے؟ ہم يہاں پر اس بات كي طرف اشارہ كرنا ضروري سمجھتے ہيں كہ اگر شيعوں كا يہ دعوي صحيح نہ ہو كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے نص اور تصريح كے ذريعہ اپنے بعدانے والے خليفہ كو معين فرمايا ہے تو وہ اسلا مي نظام (جسے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بشريت كو دنيا وآخرت ميں سعادت مند و خوشبخت بنانے كے لئے لائے تھے) لامحالہ طور پر ناقص رہ جائے گا۔

پھر اس نقص كي دو ہي صورتيں ہوسكتي ہيں يا تو يہ نقص خدا كي طرف سے ہے يا پھر نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے تبليغ ميں كوتاہي كي ہے اور يہ بات اسلام كے مسلمات ميں سے ہے كہ خدا اور رسول اس سے بہت بالاتر ہيں كہ ان كي طرف اس نقص كي نسبت دي جائے۔

اب جبكہ ہم تفصيل سے جان چكے ہيں كہ اسلام ميں رسول خدا كے بعد شوري كو اسلامي حكومت كي بنياد اور اساس قرار نہيں ديا گيا ہے اور يہ بھي واضح ہے كہ ايك طرف سے بشريت كي سعادت و خوشبختي اور دوسري طرف سے اسلامي احكام كا نفاذ اس وقت تك ممكن نہيں ہے جب تك كہ ايك اسلامي حكومت نہ قائم كي جائے ساتھ ہي ساتھ يہ بھي طے ہے كہ اسلام نے رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد اسلامي حكومت كے لئے شوري اور نص كے علاوہ كوئي اور بنياد اور اساس نہيں قرار دي ہے اور شوري كو قبول نہيں كيا جاسكتا لہذا اب نص كا انكار اسلام يا مبلغ اسلام (رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) پر كوتاہي كي تہمت لگانے كا باعث بنے گا۔(۱۰۴)

شيعہ معتقد ہيں كہ بارہويں امام حضرت مھدي عليہ السلام نے اپني غيبت صغري ميں چار افراد كو اپنا نائب قرار دياتھا اوران ميں سے ہر ايك كے نام كي تصريح خود حضرت نے فرمائي۔ وہ چار نائب يہ ہيں:

۱) عثمان بن سعيد العمري

۲) محمدبن عثمان العمرى

۳) حسين بن روح النوبختى

۴) علي بن محمد السمري۔

شيعہ روايات سے استفادہ ہوتا ہے كہ ان چار نائبوں كي مدت ختم ہوجانے كے بعد امام زمانہ عليہ السلام نے اپني نيابت و نمايندگي اور عمومي ولايت ان فقہا كو عطا فرمائي جن كے اندرآئندہ ذكر ہونے والي صفات پائي جاتي ہوں، فقہاء كے لئے عمومي ولايت كے ثبوت كا مطلب يہ نہيں ہے كہ فقہاء نبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم و امام عليہ السلام كي طرح تمام مومنين سے ان كے نفس كي نسبت زيادہ اولي ہيں ۔ ولايت سے اگر مومنين كے نفسوں پر اولويت مراد لي جائے تو نص كے مطابق ايسي ولايت صرف نبي اور امام عليہ السلام كے پاس ہے ليكن عرفي(۱۰۵) طور پر ولايت كے دلائل (خواہ وہ والد كي اولاد پر ولايت سے متعلق ہوں خواہ فقيہ كي معاشري پر ولايت كے باري ميں ہوں) جو بات ذہن ميں آتي ہے وہ يہ ہے كہ اس سے مراد ايسي ولايت ہے جس كے ذريعہ مولي عليہ (جس پر ولايت حاصل ہے) كا نقص برطرف كيا جاسكے اور اس كے خاميوں كا علاج ہوسكے۔

ولايت فقيہ سے متعلق حضرت امام خمينى عليہ الرحمۃ كا بيان

متعدد شيعہ علماء نے فتوي ديا ہے كہ اس طرح كي عمومي ولايت اس فقيہ كو حاصل ہے جس كے

اندر روايات ميں ذكر شدہ صفات پائي جاتي ہوں ہم ان علماء ميں سے بہ طور خاص آيت اللہ العظميٰ امام الحاج سيد روح اللہ الموسوي الخميني عليہ الرحمۃ كا ذكر كريں گے جنہوں نے فقيہ كے لئے عمومي ولايت ثابت كي ہے اور ان كے نزديك اسلامي نظام حكومت اسي ولايت كي بنياد پر استوار ہے انہوں نے اپني كتاب ”البيع" ميں اس موضوع پر سير حاصل بحث كي ہے ہم ان كي بحث سے بعض اقتسابات نقل كررہے ہيں امام خمينى عليہ الرحمۃ نے فرمايا: اسلام نے حكومت كي بنياد نہ تو استبداد پر ركھي ہے كہ جس ميں فرد كي راي اور اس كے ذاتي رجحانات معاشري پر مسلط ہوتے ہيں اور نہ ہي آئيني بادشاہت پر يا ايسي جمہوريت پر جو ايسے بشري قوانين كي بنياد پر قائم ہو جو انسانوں كي ايك جماعت كے نظريات اور افكار كو پوري معاشري پر مسلط كرتے ہيں، بلكہ اسلامي حكومت كي بنياد و اساس يہ ہے كہ زندگي كے تمام شعبوں ميں خدائي قوانين سے الہام و امداد لي جائے، كسي بھي حكمران كو اپني ذاتي راي مسلط كرنے كا حق حاصل نہيں ہے بلكہ حكومت اوراس كے مختلف شعبوں اور اداروں ميں جاري ہونے والے تمام قوانين حتي صاحبان امر كي اطاعت بھى، لازمي ہے كہ خدائي قانون كے مطابق ہو ۔ مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے فيصلے كرنے البتہ يہ چيز اپني راي مسلط كرنا نہيں كہلاتي بلكہ انہيں مسلمانوں كي مصلحت كے پيش نظر كئے جانے والے فيصلے شمار كياجاتا ہے اس اعتبار سے حاكم كي راي اس كے عمل كي طرح عوام كي مصلحت كے تابع ہوتي ہے ۔۔

اب حكمران (صاحبان ولايت) سے متعلق بحث باقي رہ گئي ہے مذہب حق (شيعہ) كے مطابق اس ميں كوئي اختلاف نہيں كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے بعد صاحبان امر و ولايت ائمہ اطہارعليھم السلام ہيں جو سيد الوصيين اميرالمومنين حضرت علي ابن ابي طالب عليہ السلام اور آپكي معصوم اولاد ہيں، يہ ائمہ اطہار يكے بعد ديگري اس دنيا ميں آتے رہے اور يہ سلسلہ زمانہ غيبت تك جاري رہا ان ائمہ اطہارعليھم السلام كے لئے نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي عمومي ولايت اور كلي خلافت ہي كي طرح خدا كي طرف سے ولايت و خلافت قرار دي گئي ہے زمانہ غيبت كبري ميں ولايت و حكومت كسي فرد خاص كے لئے قرار نہيں دي گئي ہے ليكن عقل و نقل كے اعتبار سے كسي نہ كسي شكل ميں باقي رہنا بہرحال واجب ہے۔

جب اسلامي حكومت ايك قانوني حكومت ہے بلكہ خدائي قانون كي حكومت فقط يہي ہے اور اس حكومت كا واحد ہدف يہ ہے كہ قانون كے نفاذ كے ساتھ ساتھ لوگوں كے درميان خداپسند عدالت كا رواج ہے تو والي (حكمران) ميں دو صفتوں كا پايا جانا ضروري ہے جو قانوني حكومت كي بنياد و اساس ہيں كيونكہ ان كے بغير كسي بھي (اسلامي) قانوني حكومت كا وجود ميں انا ممكن ہي نہيں ہے وہ صفات يہ ہيں ۔

۱) قانون كا علم۔

۲) عدالت۔

علم كے وسيع دائري ميں لياقت اور شايستگي بھي شامل ہے كيونكہ اس ميں شك نہيں كہ ان دونوں كا ہونا بھي حاكم كے لئے ضروري ہے اگرآپچاہيں تو يوں كہہ سكتے ہيں كہ يہ صفتيں حكومت كي تين بنيادي شرطوں ميں سے تيسري شرط ہيں، ولايت كي بازگشت اس فقيہ عادل كي طرف ہے جو مسلمانوں پر ولايت (سرپرستي) كي صلاحيت ركھتا ہو اب چونكہ يہ ضروري ہے كہ حاكم، فقہ و عدالت سے بہرہ مندہو لہذا حكومت اور اسلامي حكومت كو تشكيل دينا دنيا كے تمام عادل فقہاء پرواجب كفائي ہوجاتا ہے اس اعتبار سے ان ميں سے كوئي ايك حكومت تشكيل دينے ميں كامياب ہوجائے تو بقيہ پر اس كي اطاعت واجب ہوجاتي ہے ۔

اور اگر حكومت كا قيام اس وقت تك ممكن ہي نہ ہو جب تك ساري فقہاء اكھٹے ہوكر اسے انجام نہ ديں تويہ كام اجتماعي طور پر ان پر واجب ہوجاتا ہے ۔ يعني سب كے لئے ضروري ہوجاتا ہے كہ مل كر حكومت تشكيل ديں اور اگر كسي بھي صورت ميں حكومت كي تشكيل ممكن نہ ہو (نہ انفرادي طور پر اور نہ ہي اجتماعي طور پر) تو فقہاء كا منصب ساقط نہيں ہوتا ۔ اگرچہ تشكيل حكومت كے سلسلے ميں ان كا عذر قابل قبول ہوتا ہے اس كے باوجود ان سب فقہاء كو بيت المال ميں تصرف كا حق بھي حاصل ہوتا ہے اور ان كے لئے حدود كا جاري كرنا (اگر ممكن ہو تو) واجب ہوجاتا ہے، اسي طرح صدقات لينا ٹيكس اور خمس كا وصول كرنا اور اسے مسلمانوں اور تنگ دست سادات وغيرہ اور اسلام و مسلمين كي دوسري ضروريات پوري كرنے كے لئے خرچ كرنا بھي واجب ہوجاتا ہے كيونكہ فقہا ء كو حكومتي امور ميں وہي ولايت حاصل ہے جو ولايت پيغمبراكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور آپكے بعد ائمہ اطہارعليھم السلام كو حاصل تھى، اور حكومت و سياست جيسے امور ميں فقہ عادل كو وہ تمام حقوق حاصل ہيں

جو رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار كوحاصل تھے

يہ امام خمينى كي عبارت سے چند اقتباس تھے جنہيں ہم نے نقل كيا ۔(۱۰۶)

اس اعتبار سے اگر ولايت فقيہ كو اسلامي حكومت كي بنياد و اساس قرار دينے كے لئے (شيعوں كے پاس) تام و كامل دليل ہو تو يہ چيز اس مذہب كي حقانيت پر ايك اور شاہد قرار پائے گي كيونكہ مذہب تشيع كے علاوہ بقيہ ساري مذاہب كي شريعت ميں موجودہ زمانے ميں اسلامي حكومت كي تشكيل كے لئے اسي شورائي نظام كے علاوہ كوئي اور بنياد و اساس نظر نہيں آتي جس كابطلان واضح وآشكار ہوچكا ہے لہذا ان كے نظريہ كا لازمہ يہ ہے كہ اسلام ميں نقص ہے يا پھر العياذ باللہ مبلغ اسلام (رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) نے تبليغ ميں كوتاہي كي ہے ۔

اب ہم ولايت فقيہ كي عمومي دليلوں كو پيش كريں گے ۔

دو طريقوں سے ولايت فقيہ كا اثبات:

اس ولايت كو ثابت كرنے كے دو طريقے ہيں پہلا طريقہ، يقيني اور حتمي امور كو انجام دينا:

اس بات كي وضاحت كے لئے درج ذيل دو نكات پر توجہ ضروري ہے:

پہلا نكتہ

يہ بات واضح و روشن ہے كہ زمانہ غيبت ميں (امكاني صورت ميں) اسلامي حكومت كي تشكيل واجب ہے اگر اسلام كي فطرت (حقيقت) ميں معمولي غور فكر كيا جائے تو يہ امر واضح اور آشكار ہوجاتا ہے ۔اسماني اديان ميں سے سب سےآخري دين اسلام ہے جس كے ذريعے اللہ تعالي نےاسماني اديان پر خاتمے كي مہر لگائي ہے اسلام تمام اديان كے درميان بہترين اور كامل ترين دين ہے ۔

جسے رسول اعظم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اس زمانے ميں لے كراي جسے زمانہ فترت (يعني رسولوں سے خالي زمانہ) كہا جاتا ہے جب انسانيت ترقي كركے اس مرحلے تك پہنچ چكي تھي كہ اس عظيم اور كامل رسالت كي ہدايت سے استفادہ كرے گزشتہ زمانہ سے انسانيت (كسي حد تك) درك و فہم، علم و معرفت اور احساس ذمہ داري كے اعتبار سے كامل اور قدرتمند ہوچكي تھي اس كے پس پردہ بہت سے اسباب كارفرماتھے ان ميں سب سے اہم سبب يہ تھا كہ انسانيت ايسي متعدداسماني اور خدائي رسالتوں كا زمانہ ديكھ چكي تھي جو كہ انبياكرام كے ذريعہ آئي تھيں اور كامل ترين اور عظيم رسالت يعني اسلام كے لئے تمہيد اور مقدمہ قرار پائي تھيں اسلام نےآكر وہ تمام چيزيں مہيا كيں جن كا انسان اپني سعادت و خوشبختي اور اپني روحي و معنوي ضرورتوں نيز علمي اور عملي ترقي اور نشوونما كے سلسلے ميں محتاج ہے ساتھ ہي ساتھ اسلام نے وہ چيزيں بھي فراہم كيں جو بشري نظام زندگي عبد و معبود كے روابط انسانوں كے باہمي تعلقات اور فرد كے اپني ذات پر حقوق سے متعلق ہيں اگر اس دعوي كي حقانيت كي بہترين دليل حاصل كرنے كے لئے كتاب و سنت ميں موجود احكام كادقت كے ساتھ مطالعہ كيا جائے اور ان كے باري ميں غور و خوض سے كام ليا جائے تو معلوم ہوجائے گا كہ يہ احكام جامع، وسيع اور تمام ابواب پر محيط ہيں اس بات كي تصريح و وضاحت متعدد احاديث ميں ہوئي ہے ان احاديث ميں سے چند حديثيں درج ذيل ہيں:

۱)عن علي بن ابراهيم عن محمد بن عيسي عن يونس عن حماد عن ابي عبدالله عليه السلام قال سمعته يقول: مامن شي الا وفيه كتاب او سنة (۱۰۷) كافي ميں شيخ يعقوب كليني نے علي ابن ابراھيم سے انہوں نے محمد بن عيسي سے انہوں نے يونس سے انہوں نے حماد سے اور حماد نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا، حماد كہتے ہيں ميں نے سنا كہ آپنے فرمايا كوئي بھي چيز ايسي نہيں ہے كہ جس كے باري ميں كتاب و سنت ميں (ذكر) نہ كيا ہو

۲) كافي ميں يعقوب كليني نے اصحاب كي ايك جماعت سےانہوں نے احمد بن محمد سے

عن عدة من اصحابنا عن احمد ابن محمد عن ابن فضال عن عاصم عن حميد عن ابي حمزه ثمالي عن ابي جعفرعليه السلام قال: خطب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في حجة الوداع فقال: ياايهاالناس والله ما من شي يقربكم من الجنة و يباعدكم من النار الا وقد امرتكم به ومامن شي يقربكم من النار و يباعدكم من الجنة وقد نهيتكم عنه ۔۔۔)(۱۰۸)

ترجمہ: انہوں نے ابن فضال سے انہوں نے عاصم بن حميد سے انہوں نے ابوحمزہ ثمالي سے اور ابوحمزہ ثمالي نے امام محمدباقرعليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع كے موقع پر خطبہ ديتے ہوئے فرمايا: اے لوگو! خدا كي قسم جن چيزوں كا ميں نے حكم ديا ہے ان كے علاوہ كوئي بھي چيز ايسي نہيں رہ گئي ہے جو تمہيں جہنم سے قريب اور جنت سے دور كرسكے ۔

مندرجہ بالا دونوں حديثيں سند كے اعتبار سے كامل ہيں۔

واضح ہے كہ دين اسلام اپني جامعيت اور وسعت كے ساتھ انساني زندگي كے مختلف شعبوں كو منظم كرنے كے لئےكيا ہے لہذا يہ ممكن نہيں ہے كہ يہ دين حكومت سے بے نياز ہوجائے كيونكہ حكومت ہي كے ذريعہ اسلام مكمل نافذ ہوسكتا ہے خود رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اپنے زمانے ميں اسلامي حكومت كے سربراہ تھے امير المومنين علي عليہ السلام كو بھي جتني مہلت ملے اتنے دن آپ اسلامي حكومت كے سربراہ رہے امام حسن عليہ السلام صلح سے پہلے اسلامي حكومت كے سربراہ تھے امام حسين عليہ السلام نے بھي حكومت حق قائم كرنے كے لئے قيام كياتھا، البتہ يہ اس بات سے منافات نہيں ركھتي كہ آپكو اپني شہادت كا علم تھا اور يہ بھي علم تھا كہ آپكي شہادت سے دين حنيف كي نصرت ہوگى اسي طرح امام زمانہ (ارواحنا فداہ) بھي انشاء اللہ اسلام كي بنياد پرحكومت قائم كرنے كے لئے ظہورفرمائيں گے۔

فطرت (حقيقت) اسلام سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ امكاني صورت ميں اسلامي حكومت كا قائم كرنا واجب ہے حضرت امام خمينى عليہ الرحمۃ اپني كتاب ”البيع" ميں ارشاد فرماتے ہيں: وہ دليل جو امامت ائمہ عليہم السلام كے سلسلے ميں ہے بعينہ وہي دليل امام زمانہ عليہ السلام كي غيبت كے زمانے ميں حكومت كي ضرورت كو ثابت كرتي ہے خصوصاايسے حالات ميں جب كہ امام زمانہ عليہ السلام كي غيبت كو شروع ہوئے كافي عرصہ گذرچكا ہے شايد اب بھي يہ غيبت كئي سال تك باقي رہے كيونكہ اس كا علم صرف خدا كے پاس ہے(۱۰۹)

دوسرا نكتہ

جيسا كہ جمہوريت كي بحث ميں بيان كيا گيا تھا كہ چونكہ حكومت كي اساس عمومي ولايت پر ہوئي ہے لہذا اسلام (جس كے لئے امت كي قيادت كرنا اور امت كو ساحل سعادت و خوشبختي اور خير و صلاح تك پہنچانا فقط حكومت كے ذريعے ہي ممكن ہے) كے ذريعے قائم ہونے والي حكومت ميں بھي يقينا عمومي ولايت پائي جاتي ہے اور اگر يہ شك ہوجائے كہ يہ ولايت كس كو حاصل ہے تو اس صورت ميں قدرمتيقن (يقيني مقدار) پر اكتفاكرنا واجب ہوجائےگا كيونكہ كسي بھي انسان كي كسي دوسري انسان پر ولايت، اسلامي اصولوں اورابتدائي قواعد (قواعد اوليہ) كےخلاف ہے(۱۱۰) واضح ہے كہ ايسي صورت ميں قدر متيقن يہ ہے كہ يہ ولايت اس شخص كے حصے ميں آئےگي جس ميں درج ذيل مخصوص صفات پائي جاتي ہوں:

۱) اسلام كےاحكام كي معرفت اس كامطلب يہ ہے كہ معاشرے كا ولي (سرپرست وحكمران) فقيہ ہو

۲) عدالت

۳) لياقت

امور حكومت كو چلانے كي اہليت و لياقت ركھتا ہو) لہذا معاشري كا ولي ايسا فقيہ ہوگا جو عادل اور باصلاحيت (لائق) ہو۔يہ تھا ولايت فقيہ كو ثابت كرنے كا پہلا طريقہ مگر يہ طريقہ صحيح نہيں ہے كيونكہ قدر متيقن كو اخذ كرنے كا تصور وہاں پر ہوتا ہے جہاں امر دو چيزوں كے درميان مشتبہ ہوجبكہ ان دو چيزوں ميں سے ايك كا دائرہ وسيع ہو اور دوسري كا دائرہ تنگ ہو كہ وہ وسيع دائري ميں شامل ہو(۱۱۱) ايسے موقع پر قدر متيقن كا يہ تقاضا ہوتا ہے كہ تنگ دائرہ كو لے ليا جاتا ہے يعني اس تنگ دائرہ ميں اس حكم كا ثبوت يقيني ہوتا ہے ليكن جب حالت يہ ہو كہ امر ايسي دو عدد چيزوں كے درميان مشتبہ ہو اور ان كے درميان تباين اور اختلاف پايا جاتا ہو تو اس صورت ميں قدر متقين كا فرضيہ بے معني ہوجاتا ہے ۔

ہماري بحث بھي اسي دوسري قسم ميں شامل ہے كيونكہ جس طرح ہم يہ احتمال ديتے ہيں كہ عمومي ولايت، فقيہ كے ہاتھ ميں ہوتي ہے اسي طرح يہ احتمال بھي پايا جاتاہے كہ مذكورہ ولايت، (بہت سے ميدانوں اور شعبوں ميں) اكثرت كے ہاتھ ميں ہوسكتي ہے البتہ اس شرط كے ساتھ كہ قوانين كے فقہي پہلوؤں پر فقيہ كي كڑي نظارت ہو، تاكہ يہ ضمانت فراہم كي جاسكے كہ قوانين، شريعت اسلامي سے مطابقت ركھتے ہوں اس قسم كي نظارت ايك دوسرا موضوع ہے جو فقيہ كي عمومي ولايت سے الگ ہے ۔

اسي طرح ہم يہ بھي ملاحظہ كرتے ہيں كہ انساني معاشرہ ميں بہت سے حياتي اور بے پناہ اہميت كے حامل شعبے پائے جاتے ہيں جن ميں سے ہر ايك كے لئےماہر افراد ہوتے ہيں اس سلسلے ميں فقيہ كي ولايت كے قائل افراد يہ احتمال ديتے ہيں كہ فقيہ كو (ان شعبوں ميں بھي) عمومي ولايت حاصل ہوتي ہے اور وہ ان شعبوں كے نقائص كو انہي شعبوں كےماہرين پر بھروسہ كرتے ہوئے دور كرتا ہے ۔ ليكن اس كے برعكس يہ احتمال بھي ديا جاسكتا ہے كہ خود ان شعبوں كےماہرين كو ولايت حاصل ہوتي ہے اور ان كے لئے ضروري ہوتا ہے كہ فقہ سے متعلق مسائل ميں فقيہ كي طرف رجوع كريں ۔ظاہر ہے كہ اس اعتبار سے يقيني اور حتمي امور كو انجام دينے كے نظرئيے ميں اختلاف نظر سے اس كے عملي نتائج ميں بھي اختلاف پيدا ہوجائے گا۔

دوسرا طريقہ:روايات سے تمسك

دوسرا طريقہ يہ ہے كہ اس سلسلے ميں موجود روايات سے تمسك كيا جائے اس موضوع سے متعلق سب سے عمدہ روايات يہ ہيں:

پہلي روايت

الروايات التي ذكرت قولہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم”اللھم ارحم خلفائى: قيل، يارسول اللہ ومن خلفاؤك، قال: الذين ياتون من بعدي يروون حديثي و سنتي وزاد بعضھا، ثم يعلمونھا في بعض، فيعلمونھا الناس من بعدي۔(۱۱۲)

يہ روايت متعدد طريقوں سے نقل ہوئي ہے جس ميں رسول خدا كا يہ قول ذكر ہوا ہے ”اے خدا ميري خلفاء پر رحم فرما كہا گيا ! اے رسول اللہ آپكے خلفاء كون ہيں؟ آپنے فرمايا جو ميري بعدآئيں گے اور ميري حديث اور ميري سنت كو نقل كريں گے بعض روايات ميں اس جملے كا اضافہ ہے ”پھر ميري سنت كي تعليم ديں گے “جبكہ بعض روايات ميں يوں نقل ہوا ہے پھر ميرے بعد لوگوں كو ميري سنت كي تعليم ديں گے ۔

اگر يہ مان لياجائے كہ يہ تمام روايات سند كے اعتبار سے كامل ہيں (چونكہ ان كے باري ميں دعوي ہے كہ اس قسم كي روايات استفاضہ(۱۱۳) كي حد تك پہنچي ہوئي ہيں) ليكن پھر بھي ان كي دلالت كامل نہيں ہے كيونكہ ان روايات سے استدلال كے لئے زيادہ سے زيادہ يہ كہا جاسكتا ہے كہ ان سے خلافت مطلق (قيد و شرط كے بغير خلافت) ثابت ہوتي ہے لہذا جن كے باري ميں يہ شبہ ہو كہ كيا ان كو رسول خدا نے خلافت عطا فرمائي تھي يا نہيں تو وہاں پر ان روايات كے اطلاق سے تمسك كر كے ان كے لئے ولايت مطلقہ كو ثابت كيا جاسكتا ہے۔

اس بات كي طرف توجہ كرني چاہيئے كہ اطلاق ہميشہ شمول اور سرايت كا موجب بنتا ہے ليكن محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہوسكتا (يعني اطلاق كبھي بھي محمول ميں شمول اور سرايت كا موجب نہيں بنتا) مثلا اگر كہا جائے زيد عالم، زيد عالم ہے تو يہ قضيہ اپنے اطلاق كے ذريعہ اس بات پر دلالت كرتا ہے كہ ہر وہ چيز جس كے متعلق عالم ہونے كا احتمال ديا جائے زيد اس كا عالم ہے اگر كہا جائے فلاں شخص كي غذا نفع بخش ہے(۱۱۴) تو يہ جملہ تمام احتمالي منفعتوں كے ثبوت پر دلالت نہيں كرتا كيونكہ محمول كي حالت اس كے موضوع كي حالت كي طرح نہيں ہے جس ميں اطلاق جاري ہوتا ہے اور سرايت كا سبب بنتا ہے جب كہا جائے ”النار حارہ" آگ گرم ہے تو اطلاق كا تقاضہ يہ ہے كہ آگ كي تمام قسميں گرم ہيں ۔

اس سلسلے ميں تفصيلي گفتگو علم اصول ميں كي جاتي ہے وہاں مراجعہ كيا جائے ہماري اس بيان سے يہ واضح ہوجاتا ہے كہ ان روايات سے خلافت ثابت نہيں ہوتي اور جو خلافت ثابت ہوتي ہے وہ اجمالي ہے جس كا قدر متيقن يہ ہے كہ يہ خلافت تعليم و ارشادا و رراہنمائي كے سلسلے ميں ہے گويا يہ روايات راويوں، روايت اور راہنمائي و ارشاد كي عظمت كو بيان كررہي ہے اور اس روايت ميں اس عمل كو رسول خدا كي خلافت قرار ديا گيا ہے ۔

جب يہ روشن ہوگىا كہ كس نكتے كي بنياد پر محمول ميں اس معني كے ساتھ اطلاق نہيں ہوسكتا، تو اب اس بات كي ضرورت نہيں رہ گئي كہ كس قسم كي روايات (جن كا ذكر ابھي انے والا ہے) كے متعلق دلالت، سنداور متن كے اعتبار سے بحث كر كے كلام كو طولاني كيا جائے(۱۱۵) وہ روايات درج ذيل ہيں:

۱) رسول خداكا ارشاد گرامي ہے: ان العلماء ورثۃ الانبياء(۱۱۶) علما انبياء كے وارث ہيں ۔

۲) آپ كا ارشاد ہے: الفقہاء امناالرسل مالم يدخلوافي الدنيا(۱۱۷) فقہاء رسولوں كے امين ہيں جب تك كہ دنيا ميں داخل نہ ہوجائيں۔

۳) امام موسيٰ كاظم عليہ السلام كاقول ہے: ان المومنين الفقھاء حصون الاسلام كحصن سورالمدينۃ لھا(۱۱۸)

وہ مومن جو فقيہ ہوں اسلام كے محكم قلعے ہيں جس طرح پتھر كي ديوار شہر كے لئے محكم قلعہ ہوتي ہے۔

دوسري روايت

كتاب تحف العقول ميں يہ روايت ہے كہ:

عن سيد الشهداء حسين ابن علي عن اميرالمومنين علي عليه السلام وقد جاء فيها مجاري الامور والاحكام علي ايد العلماء بالله الامناء علي حلاله و حرامه (۱۱۹)

سيدالشھداء امام حسين عليہ السلام نے اميرالمومنين علي عليہ السلام سے نقل كيا ہے”تمام امورواحكام كي باگ ڈورعلماء رباني كے ہاتھوں ميں ہے جو كہ خدا كے حلال وحرام كے امين ہيں"

يہ روايت دلالت كے اعتبار سے عبدالواحد احمدي كي اس روايت سے زيادہ قوي ہے جسے انہوں نے اپني كتاب غرر الحكم ميں اميرالمومنين علي سے نقل كيا ہےآپنے فرمايا:عن اميرالمومنين عليه السلام قال ”العلماء حكام علي الناس (علماء لوگوں پر حاكم ہيں)(۱۲۰) يہ دونوں روايتيں سند كے اعتبار سے ناقابل عمل ہيں۔

بعض اوقات دوسري روايت كي دلالت ميں اشكال كيا جاتا ہے كہ روايت ميں لفظ حكام موضوع نہيں ہے بلكہ محمول واقع ہوئي ہے لہذا محمول ميں اطلاق كے جاري و ساري ہونے كا موجب نہيں بنے گا۔

اس اشكال كا جواب يہ ديا گيا ہے كہ جب خطاب كے وقت قدرمتيقن نہ پايا جاتا ہو اور اطلاق بدلي بھي معقول ہو ساتھ ہي ساتھ امر ان دو چيزوں كے درميان منحصر ہو اطلاق شمولي روايت مہمل ہو اور قضيہ بھي ايسا ہو كہ جس ميں فقط خبر نہ دي جارہي ہو بلكہ اس قضيہ ميں حكم بيان ہورہا ہو تو ايسي صورت ميں عرف اس سے اطلاق سمجھتا ہے ۔

يہ جواب قابل قبول نہيں ہے كيونكہ جو مقدار يقيني ہے وہ يہ ہے كہ فقہاء كو تطبيق ميں ولايت حاصل ہے مثلا اگر دولوگ ايك دوسري كے خلاف مقدمہ دائر كريں تو فقيہ كو يہ حق حاصل ہے كہ جو شخص حق پر نہ ہو اس پر حدود اور احكام كا نفاذ كرے فقيہ كو اس سے زيادہ ولايت حاصل نہيں ہے تاكہ وہ غير ضروري كو ضروري كرسكے يعني جو چيزعنوان اولي كے اعتبار سے غير ضروري ہو اسے ضروري قرار دے سكے كبھي يہ بھي اشكال كيا جاسكتا ہے كہ اتني مقدار (حدود و احكام كي تطبيق و نفاذ) بھي مقام خطاب ميں يقيني نہيں ہے

تيسري روايت

”ما رواه الكليني عليه الرحمة عن محمد بن يحيٰ عن محمد بن الحسين عن محمد بن عيسيٰ عن صفوان بن يحيٰ عن داؤد بن الحصين عمر بن حنظله قال: سئلت اباعبدالله عليه السلام عن رجلين من اصحابنا بينهما منازعة في دين اوميراث فتحاكما الي السلطان والي القضاة ايحل ذالك؟ قال: من تحاكم اليهم في حق او باطل فانما تحاكم الي الطاغوت ومايحكم فانما ياخذ سحتاوان كان حقا ثابتاً له لانه اخذه بحكم الطاغوت وما امر الله ان يكفربه قلت: فكيف يضعان؟ قال:

ينظر ان من كان منكم ممن قد روي حديثنا و نظر في حلالنا وحرامنا و عرف احكامنا فليرضوابه حكما فاني قد جعلته عليكم حاكما فاذا حكم بحكمنا فلم يقبل منه فانما استحف بحكم الله علينا رد والراد علينا الراد علي الله وهو علي حد الشرك بالله

شيخ كليني عليہ الرحمۃ نے محمد بن يحي سے انھوں نے محمد بن الحسين سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے انھوں نے صفوان بن يحيٰسے انھوں نے داؤد بن حصين سے اور انھوں نے عمر بن حنظلہ سے نقل كيا ہے، عمر بن حنظلہ كا كہنا ہے: ميں نے امام صادق عليہ السلام سے ہماري مسلك كے اصحاب كے باري ميں سوال كيا جن كے درميان قرض يا وراثت كے سلسلے ميں اختلاف ہو گيا تھا اور وہ دونوں اپنے شكايت حاكم وقت اور اس كے قاضيوں كے پاس لے گئے تھے تو كيا يہ كام جائز ہے؟ حضرت نے فرمايا: جس نے حق يا باطل ميں سے كسي كے لئے ان كي طرف رجوع كيا تو بيشك اس نے طاغوت كي طرف رجوع كيااور وہ (قاضي يا حاكم) جو حكم كرے گا اس حكم كے نتيجہ ميں حاصل ہونے والا مال ناحق اور ناجائز ہوگا۔اگر چہ حقيقتاً يہ مال اس شخص كا حق ہي كيوں نہ ہو كيونكہ اس نے طاغوت كے حكم كے ذريعے يہ مال حاصل كيا ہے، ميں نے كہا: پھر وہ كياكريں؟ حضرت نے فرمايا: وہ دونوں ڈھونڈتے كہ تم ميں سے جو ہماري احاديث كو نقل كرنے والا ہو ہماري حلال و حرام سےآگاہ ہو اور ہماري احكام كو جانتا ہو، تو اسے حاكم تسليم كرتے ميں نے اس شخص (ان صفات كے حامل مجتہد) كو تم لوگوں پر حاكم قرار ديا ہے، اگر وہ ہماے احكام كے مطابق فيصلہ كرے اور اس كا فيصلہ قبول نہ كيا جائے تو يہ حكم خدا كي اہميت كو كم كرنے اور ہماري بات كو رد كرنے اور ٹھكرانے كے برابر ہوگا اور جو ہميں ٹھكراي گا اس نے خدا كو ٹھكركيا اور جس نے خدا كو ٹھكركيا اس نے شرك اختيار كيا۔

اس روايت كو شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن يحيٰ سے نقل كيا ہے اور انھوں نے محمد بن الحسن بن شمون سے اور انھوں نے محمد بن عيسي سے نقل كيا ہے۔(۱۲۱)

شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے اپنے سند كے ساتھ محمد بن علي بن محبوب سے انھوں نے محمد بن عيسيٰ سے اسي طرح نقل كيا ہے۔(۱۲۲) اوران تين سندوں ميں سے پہلي اور تيسري سند كامل ہے۔(۱۲۳)

روايت عمربن حنظلہ كي دلالت

پہلا استدلال

دلالت كي بحث ميں بعض اوقات حضرت كے قول ”فاني جعلتہ حاكما"كے اطلاق سے استدلال كيا جاتا ہے ليكن اس استدلال ميں وہي اشكال پايا جاتا ہے جو گذشتہ روايت ميں تھا وہ يہ كہ محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہو تا (كيونكہ اطلاق شمول و عموم نہيں ركھتا) اور اگر قدر متيقن كو اخذ كيا جائے تو حديث كے موقع ومحل كو مد نظر ركھتے ہوئے يہ كہا جائے گا كہ ولايت كي يقيني مقدار يہ ہے كہ فقہاء كو باب قضاوت ميں اور نزاع و اختلاف كو حل مرنے كے سلسلہ ميں ولايت حاصل ہے ۔(۱۲۴)

دوسرا استدلال

بعض اوقات مذكورہ روايت سے استدلال كرتے وقت حضرت كے اس قول مبارك”فاذاحكم بحكمنا فلم يقبل منه فانما استخف بحكم الله“ كے اطلاق(۱۲۵) سے استفا دہ كيا جاتا ہے ليكن اس استدلال ميں يہ اعتراض ہے كہ عرف ميں اس بات كا احتمال پايا جاتا ہے كہ حضرت كے اس قول ”اذاحكم “جب وہ حكم كرے “ميں موجد ضمير ”ھو” اس حاكم كي طرف پلٹ رہي ہے جس كے پاس وہ دونوں افراد اپني شكايت اور اپنا مقدمہ لے كے گئے تھے۔

اس احتمال كے مطابق عرفي طورپر حضرت كے اس قول سے يہ مفہوم ليا جائے گا كہ ”جب وہ ہماري حكم كے ذريعے نزاع و اختلا ف كو حل كرے اور فيصلہ كرے اور اس كے فيصلہ كو قبول نہ كيا جائے تو يہ خدا كے حكم كو كم اہميت اور سبك شمار كرنے كے برابر ہے، اس طرح مذكورہ روايت سے فقيہ كے لئے ولايت مطلقہ كو ثابت نہيں كيا جا سكتا ۔(۱۲۶)

چوتھي روايت: "ما جاء في كتاب "اكمال الدين واتمام النعمة " عن محمدبن محمد بن عصام عن محمد بن يعقوب عن اسحٰق بن يعقوب قال: سالت محمد بن عثمان العمري ام يوصل لي كتابا سئلت في عن مسائل اشكلت على، فوردالتوقيع بخط مولاناصاحب الزمان عليه السلام: اما ما سئلت عنه ارشدك الله وثبتك الي ان قال: واماالحوادث الواقعه فارجعوا فيها الي رواة احاديثنا فانهم حجتي عليكم وانا حجة الله “ ۔

”اكمال الدين واتمام النعمۃ" ميں صاحب كتاب نے محمد بن محمد بن عصام سے انھوں نے محمد بن يعقوب سے انھوں نے اسحٰق بن يعقو ب سے نقل كيا ہے كہ وہ كہتے ہين: ميں نے محمد بن عثمان سے كہا كہ وہ ميري خاطر (يہ زحمت كريں كہ ميري) ايك خط كو پہچاديں جس ميں، ميں نے ان مسائل كے باري ميں سوال كيا تھا جو ميري لئے واضح نہيں تھے پھر ہماري موليٰ صاحب الزمان عليہ السلام كے دست مبارك سے تحرير كي ہوئي توتوقيع(۱۲۷) مجھ تك پہنچي (جس ميں لكھاتھا): اورجس چيز كے متعلق تم نے سوال كيا ہے خداوند تمہاري ہدايت كرے اور تمہيں ثابت قدم ركھےيہاں تك كہ حضرت نے فرمايا: اور پيش انے والے حوادث و واقعات ميں ہماري احاديث نقل كرنے والوں كي طرف رجوع كرو وہ تم پر ميري حجت ہيں اور ميں حجت خدا ہوں۔

اس روايت كو شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے كتاب ”الغيبۃ"ميں ايك جماعت سے نقل كيا ہے اور اس جماعت نے جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي سے نقل كيا ہے ۔ساتھ ہي ساتھ يہ روايت ان دو كے علاوہ دوسرون سے بھي نقل ہوئي ہے اور ان سب نے محمد بن يعقوب سے نقل كيا ہے اس روايت كو طبرسي نے بھي اپني كتاب ”الاحتجاج"ميں اطر ح نقل كيا ہے۔(۱۲۸)

اس روايت كي دوسري سند نقل كے اعتبار سے اسحاق بن يعقوب تك تقريباً يقيني ہے كيونكہ روايت كو ايك جماعت(۱۲۹) نے ايك دوسري جماعت(۱۳۰) سے اوراس جماعت نے شيخ كليني عليہ الرحمۃ سے نقل كيا ہے اور پہلي سند بھي اس كو اور قوي كر رہي ہے پس اس روايت كا شيخ كليني عليہ الرحمۃ سے نقل كيا جانا شخصي اطمينان كا باعث ہے ۔پھر شيخ كليني نے يہ روايت ايك شخص يعني اسحاق بن يعقوب كے واسطہ سے امام زمانہ عليہ السلام سے نقل كي ہے، سند ميں نقص يہ ہے كہ اسحاق بن يعقوب كا نام علماء رجال نے اپني كتابوں ميں نقل نہيں كيا ہے لہٰذا كيا يہ شخص مجہول الحال شمار كيا جائے گاجب كہ يہ شخصيت اتني عظيم الشان ہے كہ ان كے باري ميں شيخ كليني نے نقل كيا ہے كہ ان كے پاس امام زمانہ عليہ السلام كي توقيع مبارك آئي تھي۔لہٰذا اس صورت ميں اس جھوٹ اور كوتاہي كے باري ميں يوں بحث كي جائے گي ۔پہلي دفعہ اس شخصيت كے سلسلے ميں جھوٹ يا كوتاہي كا احتمال خود تو قيع كے صادر ہونے باري ميں ہے اور دسري دفعہ اس توقيع كے جملوں اور خصوصيات كے سلسلے ميں ہے ۔

ليكن پہلا فرضيہ بہت بعيد ہے كيونكہ يہ احتمال قابل توجہ نہيں ہے كہ شيخ كليني سے يہ بات چھپي رہي ہو كہ ان كے زمانے ميں كوئي شخص توقيع كا جھوٹا دعويٰ كررہا ہے، يعني توقيع كے باري ميں جھوٹے دعويٰ كا احتمال شيخ كليني كے لئے اس حد تك قابل اعتناء نہيں تھاكہ انھيں اس كے نقل كرنے سے روك ديتا، خصوصاً جب اس باب كو بھي ملحوظ خاطر ركھا جائے كہ معمولاً امام زمانہ عليہ السلام كي توقيع مبارك فقط خاص افراد كے لئے صادر ہو ئي تھى، كيونكہ اس وقت تك امام عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ شروع ہو چكا تھا اور آپ معاشري اور خليفہ سے مخفي تھے، اس زمانے ميں تقيہ كي شدت كا يہ حال تھا كہ امام عليہ السلام نے لوگوں كے لئےآپكا نام لينا تك حرام قرار ديديا تھا، اگر چہ يہ حكم اس لئے تھا تاكہ لوگوں كي جان ومال كي حفاظت ہو سكے۔كيونكہ اگرامام عليہ السلام كا نام ليا جاتا تو اس شخص كو حاكم وقت كے پاس طلب كيا جاتا۔ان حالات ميں يہ بات كيسے تصور كي جاسكتي ہے كہ خاص افراد كے علاوہ كسي اور كے لئےآپكي توقيع مبارك صادر ہو؟! اور يہ كيسے فرض كيا جاسكتا ہے كہ شيخ كليني اپنے زمانے كے خواص كو عوام سے تميز دينے پر قادر نہيں تھے؟ يا يہ تصور كيسے ممكن ہے كہ خواص ميں سے كسي ايك كي طرف سے ايك مكمل توقيع جعل كي گئي ہو؟

كتاب ”الغيبۃ"ہي ميں ايك اور جگہ ص۲۲ ۰ پر اس حديث كي سند ذكر ہوئي ہے ليكن متن حديث كا ذكر نہيں ہے ۔اس سند ميں لفظ ”وغيرھما" كے بجائے لفظ”وابي محمد التلعكبري“ ذكر ہوئي ہے ۔يہ تينوں (جعفر بن محمد بن قولويہ ابو غالب رازي اور ابو محمد التلعكبري) ثقہ اور جليل القدر ہيں۔ليكن دوسري فرضيہ ميں جب يہ ثابت ہے كہ اصل نص (توقيع) كي بنا پر جھوٹ و بہتان پر نہيں تھي اور توقيع فقط خاص افراد كے لئے صادر ہوتي تھي تو پھر كيفيت نقل ميں كوتاہي عام طور پر درج ذيل صورتوں ہي ميں ممكن ہے:

(۱) توقيع ميں تبديلي كسي اہم ذاتي مصحلت كي وجہ سے كي گئي ہو، ليكن ہماري محبت ميں ايسي كسي مصلحت كا كوئي تصورنہيں ہے۔

(۲) نسيان يا شك و ترديد وغيرہ كي وجہ سے نقل كرنے ميں كوتاہي ہوئي ہو اور دقت سے كام نہ ليا گيا ہو، عام طور پر يہ چيز زباني نقل ميں پائي جاتي ہے ليكن اگر كتبي شكل ميں

نقل كيا جا ئے تو يہ چيز قابل تصور نہيں ہے، لہٰذا اب بڑے ہي اطمينان سے يہ دعويٰ كيا جا سكتا ہے كہ يقيناً اسحاق بن يعقوب نے اس روايت كے سلسلے ميں جھوٹ سے كام نہيں ليا، اوراس بات كا بھي يقين ہے كہ نہ تو اصل توقيع كے صادر ہونے ميں اور نہ ہي توقيع كي بعض خصو صيات ميں ايسا ہو اہے۔(۱۳۱) يہاں تك تو حديث كي سند كي كيفيت كے باري ميں بحث تھي۔

روايت كي دلالت: يہ روايت دلالت كے اعتبار سے كامل ہے كيونكہ عرف كي نگاہ ميں امام عليہ السلام كے اس جملے فانھم حجتي عليكم" ميں مناسبات مقام كي وجہ سے اطلاق پاياجاتا ہے، يعني امام عليہ السلام تمام ميدانوں اور تمام صورتوں ميں اہل بيت عليھم السلام كي حديث نقل كرنے والوں كي طرف رجوع كرنے كاحكم دے رہے ہيں ۔كيونكہ ارشاد وہدايت اور موقف عملي كي تعيين و تشخيص كے لئے امام كي طرف رجوع كيا جاتا ہے، اور يہ (راويان احاديث=فقہاء) امام عليہ السلام كي طرف سے لوگوں پر حجت ہيں ۔كيا اس كا مطلب (فقيہ كي) ولايت عامہ كے علاوہ كچھ اور ہو سكتا ہے؟(۱۳۲)

پانچويں روايت: يہ روايت اصول كافى ميں محمد بن عبداللہ (حميري) ومحمد بن يحي (عطار) سے نقل ہوئي ہے كہ جسے ان دونوں نے عبد ابن جعفر حميري سے نقل كيا ہے ۔عبد اللہ بن جعفر حميري كہتے ہيں:

ميں اور شيخ ابو عمر و عثمان بن سعيد عمري رحمۃ اللہ عليہ احمدبن عبد اسحاق كے پاس آئے ہوئے تھے اس وقت احمد بن اسحاق نے اشارہ كيا كہ ميں عثمان بن سعيد عمري سے امام عسكرے كا نائب و جانشين كے متعلق سوال كروں، ميں نے ان سے كہا: اے ابو عمرو!آپ سے ايك چيز كے باري ميں پوچھنا چاہتا ہوں البتہ جس چيز كے متعلق سوال كر رہا ہوں مجھے اس ميں كوئي شك وشبہ نہيں ہے، ميرا عقيدہ اور دين يہ ہے كہ زمين حجت خدا سے خالي نہيں رہ سكتي سوائے ان چاليس دنوں كے جو قيامت سے پہلےآئيں گے جب حجت خدا كو زمين سے اٹھا ليا جائے گا اور توبہ كا دروازہ بند ہو جائے گا، جو لوگ اس وقت تك ايمان نہيں لائے ہوں گے اور جنھوں نے ايمان كے ساتھ نيك عمل نہيں گئے ہوں گے ا ب ان كا ايمان لانا انھيں كوئي فائدہ نہيں پہنچائے گا، يہ لوگ خدا كي بد ترين مخلوق ہوں گے اور ان پر ہي قيامت برپا ہوگى ۔ميں يہ سوال صرف اپنے يقين ميں اضافے كي خاطر كر رہاہوں، ابراہيم عليہ السلام نے خدا سے درخواست كي كہ اے خدا!مجھے يہ دكھلا دے كہ تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے؟ خدا نے فرمايا: كيا تم (اس پر) ايمان نہيں ركھتے ہو؟ ابراہيم عليہ السلام نے فرمايا: (ايمان تو ركھتا ہوں) ليكن اطميان قلب كي خاطر (سوال كررہا ہوں) ۔

ميري لئے ابو احمد بن اسحاق نے امام علي نقي عليہ السلام سے نقل كيا ہے ۔احمد بن اسحاق كہتے ہيں ميں نے امام علي نقي عليہ السلام سے پوچھا: ميں كس سے رابطہ ركھوں؟ كس سے احكام وغيرہ لوں؟ اور كس كا قول قبول كروں؟ امام عليہ السلام نے فرمايا: عمري ميرا قابل اعتماد شخص ہے وہ جو كچھ ہماري طرف نسبت ديتے ہوئے تم تك پہنچائے گا وہ درحقيقت ہماري ہي طرف سے ہوگا اور ہماري طرف سے جو كچھ تم سے كہے گا وہ حقيقۃً ہماري ہي طرف سے ہوگا۔اس كي باتوں كو سنواور اس كي اطاعت كرو (كيونكہ) وہ ہماري نگاہ ميں قابل اعتماد اورامين ہے ۔

مجھے ابو علي نے بتايا ہے كہ انھوں نے امام حسن عسكرے عليہ السلام سے مندرجہ بالا سوال كئے تو امام حسن عسكرے عليہ السلام نے ابو علي كے جواب ميں فرمايا: عمري اور اسكا بيٹا قابل اعتماد ہيں، يہ دونوں ہماري طرف سے جو كچھ تم تك پہنچائيں (نقل كريں) وہ ہماري طرف سے پہنچاتے ہيں جو كچھ ہماري طرف سے تم سے كہتے ہيں وہ واقعاً ہماري طرف سے كہتے ہيں، ان دونوں كي بات غور سے سنو اور ان دونوں كي اطاعت كرو كيونكہ يہ دونوں قابل اطمينان اور امين ہيں، يہ آپ (عمري) كے باري ميں ان دواماموں كا ارشاد تھا جو دنيا سے رحلت فرماچكے ہيں، عبد اللہ بن حميري كہتے ہيں (يہ سن كر) ابو عمر وعثمان بن سعيد عمري روتے ہوئے سجدے ميں گر گئے، پھر مجھ سے كہنے لگے اپنا سوال بيان كرو، ميں نے ان سے كہا

كياآپنے امام حسن عسكرے عليہ السلام كے جانشين كو ديكھا ہے؟ انھوں نے كہا خدا كي قسم ميں نے ديكھا ہے ان كي مبارك گردن اس طرح ہے (انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ كيا) پھر ميں نے

ان سے كہا: فقط ايك سوال اور رہ گيا ہے انھوں نے كہا: بيان كرو ميں نے كہا: ان (امام عسكرے عليہ السلام) كے جانشين كانام كيا ہے؟ انھوں نے جواب ديا: ان كے نام كے باري ميں سوال كرنا تم لوگوں پر حرام ہے يہ بات ميں اپنے طرف سے نہيں كہہ رہا ہوں كيونكہ مجھے كسي چيز كو حلال يا حرام كرنے كا حق حاصل نہيں ہے، ميں يہ (حكم) خود امام زمانہ عليہ السلام كي طرف نقل كر رہاہوں، حاكم وقت كو يہ اطلاع ملي ہے كہ امام حسن عسكرے عليہ السلام اس دنيا سے رحلت كر چكے ہيں اور ان كي كوئي اولاد نہيں ۔

لہٰذا اس نے امام حسن عسكرے عليہ السلام كي ميراث تقسيم كر دي ہے، اس طرح انحضرت كي ميراث اس نے حاصل كي ہے جو حقدار(۱۳۳) نہ تھا، اس وقت حضرت كا خاندان در بدر ہے اور كسي ميں يہ جرات نہيں كہ ان كے سامنے اپنا تعارف كروائے يا ان تك كوئي چيز پہنچائے، اگر حضرت كا نام ليا جائے تو حاكم وقت انھيں ڈھونڈ ھنے لگے گا لہٰذا خدا كا تقويٰ اختيار كرو اور آپكا نام پوچھنے سے گريز كرو۔

شيخ كليني عليہ الرحمۃ فرماتے ہيں: ہماري اصحاب ميں سے ايك شيخ(۱۳۴) (جن كا نام ميں بھو ل گيا ہوں) نے ميري لئے نقل كيا ہے كہ ابو عمرو نے احمد بن اسحاق سے اس طرح كے سوال كئے تھے اور انھوں نے اسي طرح كے جواب ديئے تھے ۔(۱۳۵)

اس حديث كي سند تو اعليٰ درجے تك معتبر ہے ۔ (ليكن دلالت كے باري ميں ابھي بحث كي جائے گي)

روايت كي دلالت: روايت كي دلالت اس بات پرموقوف ہے كہ كلمہ ”اطعہ “ اس كي اطاعت كرو”اور "اطعھما" ان دو كي اطاعت كرو “سے عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كو ان تمام صورتوں ميں واجب سمجھا جائے جب وہ كسي بھي طرح كا حكم ديں۔

امام عليہ السلام نے عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كا حكم فقط اس صورت ميں نہيں ديا ہے كہ جب وہ امام عليہ السلام سے روايات نقل كررہے ہوں يا فقيہ ہونے كے اعتبار سے فتويٰ دے رہے ہوں، بلكہ امام عليہ السلام كا حكم اس فرضيہ كو بھي شامل كئے ہے كہ وہ جب بھي كسي چيز كا حكم ديں ان كي اطاعت واجب ہے اب وہ چاہے ولي امر كے طور پر حكم ديں يا حد اقل امام عليہ السلام كے نمايندے كے عنوان سے امر كريں كيونكہ اطاعت كا حقيقي مصدق روايت و فتويٰ ميں نہيں بلكہ حكم ميں جلوہ گر ہوتا ہے، اور پھر راوي يا مفتي (بعنوان راوي يا بعنوان مفتي) حكم دينے والا شمار نہيں ہوتا تاكہ اس كي اطاعت كي جائے بلكہ ہميشہ حاكم كو (بعنوان حاكم) امر كرنے والا شمار كيا جاتاہے ۔

امام كے اس قول "اطعہ يا اطعھما" كو روايت يا فتويٰ سے مخصوس كرنا، اطاعت كو مجازي اور ناقابل اعتنا معني سے مخصوص كرنے كے برابر ہے اوراس قسم كي تخصيص غير عر في ہے۔(۱۳۶)

اگر چہ فطري طور پر حديث ”عمرى" اور ان كے فرزند كے سلسلے ميں گفتگو ہوئي ہے ليكن چوں كہ روايت ميں حكم اطاعت كي يہ علت بيان كي گئي ہے كہ وہ دونوں ہماري نگاہ ميں قابل اعتماد ہيں اس لئے (ان كي اطاعت تم پر واجب ہے) لہٰذا اس تعليل كے قرينے سے روايت ميں مذكورہ حكم كو ان تمام فقہاء پر نافذ كيا جائے گا جو فہم اور نقل احكام ميں قابل اعتماد اور مورد اطمينان ہوں۔

اس تفصيلي بحث كے بعد بھي اگر كوئي يہ فرض كرے كہ ان روايات كے ذريعے ولايت فقيہ كو ثابت نہيں كياجا سكتا اور يہ كہے كہ ياتو سند كے اعتبار سے يہ روايتيں ضعيف ہيں يا پھر دلالت ميں نقص ہے ليكن پھر بھي در ج ذيل دوروشوں ميں سے كسي ايك كے ذريعے تو يقيناً ولايت فقيہ كو ثابت كيا جا سكتا ہے:

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے پہلي روش

واضح ہے كہ ہميشہ سے شيعوں كو ايك ايسے ولي كي شديد ضرورت رہي ہے جو ان كے امور كوآگے بڑھا ئے حتيٰ يہ ضرورت اسلامي حكومت كے قائم نہ ہونے كي صورت ميں بھي رہي ہے ہماري زندگي ميں متعدد ايسي صورتيں آتي ہيں جہاں حاكم شرعي كے حكم كي ضرورت محسوس ہوتي ہے، (چنانچہ واضح ہے) اگر يہ كہا جائے كہ فقيہ كا حكم صرف باب قضاوت اور باب شككيات يعني نزاع وغيرہ كے فيصلے كے باب ميں ہي نافذ ہوتا ہے تب بھي يہ ضرورتيں حكومت كے بغيرپوري نہيں ہو پاتيں اوران خلاؤں كو پر نہيں كرپاتے، اوراگر يہ فرض كر ليا جائے كہ بعض صورتوں ميں مؤمنين ہي ميں سے كسي ايك عادل شخص كو شرعي ولايت حاصل ہے جو ان كاموں كو انجام دے تو اگر اس فرض كو قبول كر بھي ليا جائے تب بھي يہ ضروريات پوري نہيں ہوتيں۔

اب وہ واحد نظر يہ جو ان خلاؤں كو پر كرنے كي صلاحيت ركھتا ہے اور جو روايات سے ان خلاؤں كو پر كرنے كے سلسلے ميں راہ حل كے طور پر سامنےآتا ہے (اگر چہ روايات ميں سند و دلالت كے اعتبار سے شكوك و شبہات پائے جاتے ہيں) وہ ہے ولايت فقيہ يا راويان حديث كي ولايت كا نظريہ ۔ان روايات كي سند كے متعلق اس وقت جو شكوك و شبہات پائے جاتے ہيں شايد وہ شبہات نص كے (صادر ہونے كے) زمانے ميں نہيں پائے جاتے تھے، اور اسي طرح دلالت كے متعلق پائے جانے والے شبھات بھي نص كے صادر ہونے كے زمانے ميں موجود نہيں تھے، كيونكہ وہ لوگ جس ماحول اور جن افكار كے درميان زندگي گذار رہے تھے ان كے پاس ايسے اطمينان بخش قرائن موجود تھے جو ان كو روايت كے مقصود كوسمجھنے ميں مدد ديتے تھے (ليكن اب وہ قرائن مفقود ہيں لہٰذا ان روايات كے مقصود كو سمجھنے ميں شكوك و شبہات پيدا ہو گئے ہيں)

اس حقيقت كے مقابلے ميں ہماري سامنے دو فرضيےآتے ہيں:

پہلا فرضيہ

شيعوں كے نزديك غيبت كے كيام ميں يا اس سے كچھ پہلے (ائمہ كي تعليمات كي بنياد پر) يہ بات بالكل واضح ہو چكي تھي كہ ايسي صورت حال ميں ائمہ اطہارعليہ السلام كا پسنديدہ نظريہ، يہي ولايت فقيہ، يا راويان حديث كي ولايت كا نظريہ ہے۔اگر چہ ہميں اتفاقيہ طور پر روايات كي سند ميں شك ہو گيا ہے اور قواعد كي رو سے روايات كو قبول نہيں كيا ہے ساتھ ہي ساتھ ہم نے يہ احتمال بھي ديا ہے كہ مثلا ًاسحاق بن يعقوب شايد خدا كے نزديك نيك مؤمنين ميں سے تھے يا پھر ہماري نظر ميں حديث كي دلالت اس لئے كامل نہيں

تھي كہ جب راوي مذكورہ حديث كو نقل كررہا تھاتو مثلا! اس پر غفلت طاري ہوگئي تھي لہٰذانتيجے ميں ہميں حديث كے متعلق شك ہونے لگا جس كي وجہ سے روايت كي دلالت كامل نہ ہو سكي يا يہ كہ ہم نص كےماحول اور قرائن كو محسوس نہيں كر سكے ۔

دوسرا فرضيہ

شيعہ زمانہ غيبت اس سے كچھ پہلے تك ائمہ اطہارعليھم السلام كي تعليمات سے ولايت فقيہ كا نظريہ نہيں سمجھ پائے تھے اس ميں كوئي شك نہيں كہ دوسرا فرضيہ بالكل باطل ہے، اگر ايسا ہوتا كہ شيعہ ائمہ اطہار عليھم السلام كي تعليمات سے ولايت كو نہ سمجھ چكے ہوتے تو شيعوں كي طرف سے غيبت صغريٰ ميں يا اس سے پہلے سوالوں كي بوچھاڑ ہو جاتي كہ امور حسبيہ اور ان احكام ميں، جن ميں ولي امر كي ضروري ہوتي ہے شيعوں كا مرجع كون ہوگا اور كس طرف رجوع كيا جائے گا ۔

اس كامطلب يہ ہے كہ ائمہ اطہارعليھم السلام كي طرف سے متعدد جواب موجود تھے جو ولايت فقيہ كے نظريے كے علاوہ كسي اور نظريے كي وضاحت كرتے تھے (اگر يہ نظريہ (ولايت فقيہ) درست نہيں تھا) تو فطري طور پر اس دوسري نظريے كے متعلق كچھ جوابات اور كچھ روايات ہم تك پہنچتيں اگر ان كي سندوں ميں ضعف ہي ہوتا يا دلالت ميں شك وشبہ پايا جاتا يا كم از كم بعض قديم فقہاء كے فتاويٰ ميں يہ نظريہ ملتا، جب كہ ہم ديكھتے ہيں كہ ولايت فقيہ كے علاوہ كوئي اور نظريہ دكھائي نہيں ديتا، اس سے دوسري فرضيہ كا بطلان واضح ہوجاتا ہے، اور پہلو فرضيہ ثابت ہو جاتا ہے اور يہي ہمارا مطلوب ہے ۔

ولايت فقيہ كے اثبات كے لئے دوسري روش

يہ بات ثابت ہو چكي ہے كہ فقيہ اجمالي طور پر ولي ہوتا ہے جيسے باب قضاوت ميں، كيوں كہ اس پر مقبولہ عمر بن حنظلہ دلالت كرتي ہے اسي طرح فقيہ كو فتويٰ اور تقليد كے سلسلے ميں بھي ولايت حاصل ہوتي ہے چنانچہ تقليد كے دلائل اس پر دلالت كرتے ہيں فقط ان ہي امور ميں فقيہ كے لئے ولايت كا ثابت ہو جانا فقيہ كو ولي امر قرار دينے كے لئے كافي ہے، كيونكہ امام زمانہ عليہ السلام پردہ غيبت ميں ہيں، اور انحضرت كي طرف سے معين كيا ہوا كوئي ايسا نائب و وكيل بھي موجود نہيں ہے (جس كي آپنے نام بنا م تصريح كي ہو) نيز ولايت فقيہ كے علاوہ كوئي دوسر نظريہ بھي نہيں پايا جاتا ہے۔

اب جب فقيہ پر ولي امر كو عنوان آگيا تو فقيہ بھي خداوند متعال كے اس قول كے اطلاق(۱۳۷) ميں شامل ہو جائے گا كہ”اطاعت كرو اللہ كي اوراطاعت كرو رسول كي اور اپنے درميان سے صاحبان امر كي)(۱۳۸) لہٰذا اس صورت ميں فقيہ كے لئے عام ولايت ثابت ہو جائے گي ۔(۱۳۹)

ان دو روشوں كو ملانے والي راہ

ہماري لئے يہ بات ممكن ہے كہ ان دوروشوں كو يكجا كركے ايك ايسي روش بناديں جس سے ان دونوں روشوں ميں پايا جانے والا نقص دور ہو سكے، دوسري روش ميں اس نقص كا دعويٰ كيا جا سكتا ہے، كہ فقيہ كے لئے فقط منصب فتويٰ اور منصب قضاوت ثابت ہو جانے سے اسے ولي امر كہنے ميں شك و شبہ پايا جاتا ہے، جب كہ پہلي روش (آيندہ ذكر ہو نے والے نقص كے باوجود كہ اس ميں اطلاق كامل نہيں ہے) بے شك فقيہ كي حاكميت كے دائري كو وسعت عطا كرتي ہے، جب اس وسيع حاكميت كے دائري كو منصب فتويٰ كے ساتھ ضميمہ كيا جائے اور اس بات كو مد نظر ركھا جائے كہ امام زمانہ عليہ السلام پردہ غيبت ميں ہيں اور آپكي جانب سے كوئي نائب خاص بھي معين نہيں ہوا ہے تو كسي قسم كے اشكال كے بغيركم از كم ان دونوں كے مجموعے پر ولي امر كا عنوان صدق كرے گا اورجب اس مجموعے پر ولي امر صدق كرنے لگے لگا تو اسے مذكورہ آيہ مباركہ كے اطلاق ميں شامل كيا جا سكے گا۔

ليكن پہلي روش ميں يہ نقص پايا جاتا ہے كہ چوں كہ اس روش ميں معين لفظي دليل كے اطلاق سے تمسك نہيں كيا گيا ہے لہٰذا بعض اوقات كچھ صورتوں ميں شك وترديد باقي رہ جاتي ہے جسے اطلاق كے ذريعے برطرف نہيں كيا جا سكتا ۔ليكن جب اس آيہ مباركہ:( اطيعوا الله واطعيوا الرسول واولي الامرمنكم ) اطاعت كروخدا كي اوراطاعت كرو رسول كي اور صاحبان امر كي جو تم ميں سے ہوں”كا ضميمہ كر ديا جائے تو اطلاق لفظي مكمل ہو جاتا ہے اور تمام شكوك وشبہات زائل ہو جاتے ہيں۔

شرائط ولايت

گذشتہ بحثوں ميں سے يہ واضح ہو گيا كہ ولايت فقيہ كے لئے تين اہم دليليں ہيں ۔

(۱) اسحاق بن يعقوب كو توقيع ”پيش آنےوالے حوادث وواقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں (فقہاء) كي طرف رجوع كرو۔

(۲) احمد بن اسحاق كي روايت جس ميں عمري اور ان كے بيٹے كي شان و شوكت بيان كرتے ہوئے عمري يا عمري اور ان كے بيٹے كي اطاعت كاحكم ديا گيا ہے، اوراس حكم ميں يہ علت (فلسفہ) بيان كي ہے كہ يہ دونوں قابل اطمينان اور لائق اعتماد ہيں۔

(۳) اس آيہ مباركہ( اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم ) (۱۴۰) ميں يہ فرض كرتے ہوئے كہ جب دوسرا ولي موجود نہ ہو كہ جس كي ولايت مطلق ہے (جيسے امام عليہ السلام) چوں كہ فقيہ كے لئے منصب فتويٰ، منصب قضاوت اور وسيع دائري ميں ولايت ثابت ہے لہٰذا فقيہ پر ولي امر كا عنوان صاد ق آتا ہے اب ہم ان تين دليلوں كي روشني ميں ولايت كي شرطوں كے باري ميں بحث كريں گے ولايت كي چار اہم شرطيں ہيں:

پہلي شرط؛ فقاہت

مذكورہ دليلوں ميں فقيہ كا عنوان ذكر نہيں ہوا ہے ليكن اس كے باوجود اس شرط كے ضروري ہونے ميں كوئي شبہ نہيں ہے كيوں كہ تينوں ہي دلائل كے ذريعہ اس شرط كي ضروري كو ثابت كيا جا سكتا ہے ۔

پہلي دليل كے مطابق ولي امر ميں فقاہت كي ضرورت

اس بات كو سمجھنے كے لئے اس امر پر بنا ركھني ہوگى كہ قرائن ومناسبات كے ذريعے امام عليہ السلام كے قول ”فارجعوا فيها الي رواة احاديثنا “ اور پيشانے والے حوادث و واقعات ميں ہماري احاديث كو نقل كرنے والوں (فقہاء) كي طرف رجوع كرو"۔سے عرف يہ سمجھتا ہے كہ امام عليہ السلام كے اس جملے ميں روايات نقل كرنے والوں سے مراد يہ ہے كہ وہ سب احكام و روايات كو سمجھتے ہوں نہ يہ كہ وہ سب فقط روايات كو حفظ كرتے ہوں اور الفاظ روايات كو نقل كرتے ہوں، اور نہ ہي روايات كي كتابيں حمل كرنے والے مرادہيں۔

دوسري دليل كے مطابق فقاہت كي ضرورت

دوسري دليل (روايت احمد بن اسحاق) سے درحقيقت درج ذيل تين امور سمجھے جاتے ہيں (جس طرح توقيع سے بھي يہي تين امور سمجھے جاتے ہيں):

۱) نقل روايت اور روايت كي حجيت

۲) فتويٰ كي حجيت

۳) منصب ولايت وقضاوت

امام عليہ السلام نے اس روايت ميں اس حكم كي يہ علت بيان كي ہے كہ عمري اور ان كے فرزند قابل اطمينان اور لائق اعتماد ہيں، ہم جانتے ہيں كہ كسي بھي چيز ميں قابل اعتماد ہونا خود اس چيز كے مطابق ہوتا ہے، لہٰذا حجيت روايت ميں وثاقت يہ ہے كہ راوي روايت نقل كرنے ميں ثقہ اور قابل اعتماد ہو اگر چہ فقيہ نہ ہو اور روايات سے حكم كو نہ سمجھ سكتا ہو۔جب كہ فتويٰ ميں وثاقت (قابل اعتماد ہونا) يہ ہے كہ فتويٰ دينے والا فقيہ ہو اوردلائل سے حكم شرعي كا استنباط كر سكے، اور قضاوت وفيصلہ اور ولايت كے استعمال ميں وثاقت كا تقاضا يہ ہے كہ شخص ايك طر ف سے موضوعات اور مصالح و مفادات كي بصيرت ركھتا ہو اور دوسري طرف سے حكم شرعي ميں بھي صاحب نظر ہو تب يہ شخص حكم (قضاوت) ميں ثقہ اور قابل اعتماد ہوگا، كيونكہ اگر اس ميں مندرجہ بالا دو صفات و خصوصيات پائي جاتي ہوں تو اس كے لئے كسي ماخذ كے تحت فيصلہ اورقضاوت كرنا سزاوار ہوگا، اب يہ واضح ہے كہ احكام شرعي ميں بابصيرت (صاحب نظر) ہونے سے ہماري مراد يہ ہے كہ شخص فقيہ ہو ۔

تيسري دليل كے اعتبار سے فقاہت كي ضرورت

تيسري دليل سے بھي ولي امر ميں فقاہت كي شرط كو ثابت كيا جاسكتا ہے يہ ممكن ہے كہ اس آيہ مباركہ( اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم ) ميں پايا جانے والا اطلاق ولي امر كے لئے فقاہت كي شرط كي نفي كرے كيونكہ آيہ مباركہ ميں ولي امر كو موضوع قرار ديا گيا ہے۔

ليكن وہ ولي امر كون ہے؟ اس سلسلے ميں آيت نے كچھ بيان نہيں كيا۔(۱۴۱)

ہم نے فرض كيا ہے كہ منصب قضاوت وفتويٰ اور وسيع دائري ميں ولايت كا ثابت ہونا (جو كہ آيت كے علاوہ كسي دوسري طريقے سے ثابت ہيں) زمانہ غيبت ميں فقيہ پر ولي امر كا عنوان صاد ق آنے كے لئے كافي ہے ۔اور جب فقيہ پر ولي امر صدق كرے گا تو وہ آيہ مباركہ كے موضوع ميں داخل ہو جائے گا، جب كہ غيرفقيہ كے لئے يہ امور (منصب فتويٰ، قضاوت ولايت) ثابت نہيں ہيں۔(۱۴۲)

دوسري شرط؛ صلاحيت ولياقت

(ولايت كي تين شرائط ميں سے دوسري شرط صلاحيت ولياقت ہے) اس ميں شبہ نہيں كہ مناسبات و قرائن كے ذريعے ولايت كے دلائل (خواہ ولايت فقيہ يا اولاد (كم سن) پر والد كي ولايت يا ان دو كے علاوہ كوئي اورولايت) كے اطلاقات سے عرف ميں يہ سمجھا جاتا كہ چونكہ ولايت كا اصلي ھدف تحت ولايت افراد كے نقائص كي تلافي ہے اور ولايت كا دائرہ تحت ولايت افراد كے مفادات كے تحفظ تك محدود ہے۔لہٰذا اس ھدف كا حصول اس وقت تك ممكن ہي نہيں ہے جب تك ولي اپنے دائرہ ولايت ميں لياقت و صلاحيت نہ ركھتا ہو اگر كوئي باپ اپني كم سن اولادكے امور كوانجام دينے كي صلاحيت نہ ركھتا ہو تو اس كي ولايت ان امور كے سلسلے ميں عملي نہيں ہوگى، اور اگر ايسي صورت ميں بھي والد كي ولايت كو عملي سمجھا جائے تو اس كامطلب يہ ہوگا كہ والد بچے كے مفادات ومصالح كو مد نظر ركھے بغير اس كے امور ميں ايسے تصرفات واقدامات كر سكتا ہے جو اس كے لئے نقصان دہ ہوں، مكمل طورپريہي صورت حال مسلمانوں كے امور ميں ولايت كي بھي ہے كہ جو شخص كسي بھي وجہ سے اس عظيم ذمہ داري (ولايت) كو نبھانے كي صلاحيت نہ ركھتا ہو اسے يہ حق حاصل نہيں ہے كہ اس ذمہ داري كو سنبھالے، لہٰذا اس قسم كي ولايت ميں ان تمام امور ميں صلاحيت كا ہونا ضروري ہے

جو امور اس ولايت كے تحقق ميں بنيادي نقش ادا كرتے ہيں، مثلاً علم وآگہى، حالات سے مطلع ہونا، توجہ، ذہانت، فراست، اور قوت فيصلہ وغيرہ، ہم پہلے ہي جان چكے ہيں كہ احمدبن اسحاق كي روايت ميں وثاقت (اعتماد) كي شرط كا ذكرہوا ہے اور فطري طور پر كسي بھي حكم ميں وثاقت كا تقاضا يہ ہے كہ آگاہي اور صلاحيت بھي پائي جاتي ہو۔(۱۴۳)

يہ روايت بھي اس شرط (وثاقت) كے ضروري ہونے كي تائيد كرتي ہے۔سدير نے امام باقر عليہ السلام سے روايت كي ہے كہ آپنے فرمايا: رسول خداصلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: عہدہ امامت سزاوار و شائستہ نہيں ہے مگر ايسے شخص كے لئے جس ميں تين صفات پائي جائيں: ورع (تقويٰ و پر ہيزگاري) جو اسے معصيت پروردگار سے روكے، حلم جس كے ذريعے اپنے غصے كو قابو ميں ركھ سكے، اپنے تحت ولايت افراد پر اچھي طرح ولايت كرے تاكہ (ان كے لئے) مہربان والد كي طرح ہو۔(۱۴۴)

تيسري شرط؛ عدالت

ولايت كي شرائط ميں سے تيسري شرط عدالت ہے

روايت سے استفادہ ہوتا ہے كہ امام جماعت كے لئے عدالت شرط ہے جب نماز كي امامت كے لئے عدالت شرط ہے تو امت كي امامت، امت كے مسائل حل كرنے، امت كي تقدير بدلنے اور امت كے مقدرات ميں تصرف كرنے كے لئے كيا عدالت كي شرط نہيں ہوگى؟ !اسي طرح سدير كي گذشتہ روايت بھي اس شرط كي تائيد كرتي ہے۔

چوتھي شرط؛ مردہونا

ولايت كي چوتھي شرط يہ ہے كہ ولي مرد ہو

عورتوں كے سلسلے ميں ارشاد رب العزت ہے ”( اومن ينشو في الحليه وهو في الخصام غير مبين ) (۱۴۵)

ترجمہ آيت: كيا جس كو زيورات ميں لكيا جاتا ہے اور وہ جھگڑے كے وقت صحيح بات بھي نہ كر سكے“جب عورت كے متعلق اسلام كا نظريہ ہے كہ كہ وہ جھگڑ ے ميں صحيح فيصلہ نہيں كر سكتي تو ہم يہ احتمال نہيں دے سكتے كہ اسلام اس بات كي اجازت دے گا كہ عورت كو مسلمانوں كے امور ميں ولايت عطا كي جائے۔ شيعہ فقہاء كے درميان يہ بات مشہور يا متسالم عليہ (تسليم شدہ) ہے كہ قاضي كے لئے مرد ہونا شرط ہے اور نماز جمعہ و نماز جماعت عورت سے ساقط ہے، يہ مطالب مذكورہ روايات ميں بھي موجود تھے (حتيٰ اگر ان روايت كي سند صحيح نہ ہو) اس كے علاوہ باب شہادت (گواہي) ميں مرد و عورت مساوي نہيں ہيں بلكہ بعض اوقات دو عورتيں ايك مرد كے برابر ہيں ۔

يہ تمام اموراوران كےمانند دوسري امور ہميں (كم ازكم) يہ احتمال دينےپر مجبوركرتےہيں كہ ولايت فقيہ سےمتعلق تمام روايتيں صادرہونےكےزمانےميں اس وقت موجود دنيداروں كي ذہنيت كےمطابق عورت پر دلالت سےمنصرف ہيں اورعورت كو اپنے اندر شامل نہيں كئے ہيں، لہٰذااس صورت ميں اطلاق كايقين حاصل نہيں ہوگااوراصل عدم ولايت كو اس قرار ديا جائے گا۔(۱۴۶)

اس كے علاوہ قضاوت كے متعلق ابي خديجہ كي روايت سند كے اعتبار سے كامل ہے روايت يہ ہے: ”انظروا الي رجل منكم ليعلم شيئاًمن قضكيانا فاجعلوه بينكم قد جعلته قاضياً فتحاكمو اليه " اپنے درميان سے ايسے شخص كو تلاش كرو جو ہماري احكام و معارف كي معرفت ركھتا ہو اسے اپنے درميان فيصلے كے لئے منتخب كرو ميں نے اسے قاضي قرار ديا ہے اپنے اختلافات وغيرہ كے فيصلے كے لئے اس كي طرف رجوع كرو۔"(۱۴۷)

يہ روايت دلالت كرتي ہے كہ قضاوت اور طرفين كے درميان اختلاف كي صورت ميں فيصلہ كرنے كے لئے قاضي كا مرد ہونا ضروري ہے، اگر چہ روايت باب قضاوت سے متعلق ہے ليكن اس شرط كو وسعت دي جائے گي اور ہر اس منصب كے لئے اس شرط كو ضروري قرار ديا جائے گا جس منصب ميں قضاوت وحكم (فيصلہ) يكيا جاتا ہو اس تجاوز (شرط كو وسعت دينے) كي بنياد يا تو فہم عرفي ہے ياپھر يہ كہ ہم ان صورتوں كے درميان فرق كا احتمال نہيں ديتے كہ بعض موارد قضاوت ميں شرط معتبر ہو ليكن وہ منصب جس ميں قضاوت و حكم پايا جاتا ہو اس كے لئے يہ شرط معتبر نہ ہو۔

ليكن ان مطالب سے يہ نتيجہ اخذ نہيں كرنا چاہئے كہ عورت كے متعلق اسلام كا زاويہ نظر تحقيرآميز ہے يا اسلام نے عورت كے بعض حقوق كو پائمال كيا ہے، بلكہ اس فرق كي باز گشت تقسيم كار كے سر چشمہ كي طرف ہے، اورجو كام جس كے شكيان شان تھا اسكي طرف اسكي نسبت دي گئي ہے يعني اس كے سپرد كيا گيا ہے۔

اعلميت كي شرط

(دوسروں كي نسبت زيادہ علم والا ہونا)

ولايت و حكومت ميں اعلم ہونا، باب فتويٰ و تقليد ميں اعلم ہونے سے مختلف ہے۔باب فتويٰ ميں اعلم ہونے سے مراد يہ ہے كہ فقيہ دوسروں كي نسبت زيادہ عمدہ طريقے سے احكام شرعي كو ان كے دلائل سے استنباط كر سكتا ہو، جب كہ ولايت و حكم ميں اعلم ہونے كا مطلب فقط يہ نہيں كہ وہ احكام شرعي استنباط كرنے كے لئے دوسروں كي نسبت بہتر ذہنيت كامالك ہو بلكہ حكم كے لئے يہ بھي مؤثر اورضروري ہے كہ وہ سماجي حالات سے با خبر ہو نيز سماجي وسياسي بصيرت ركھتا ہو۔

ولايت فقيہ كے دلائل كے اطلاقات اعلم ہونے كي قيدسے خالي ہيں ليكن حكم ميں اس شرط كا اثر دو حكموں ميں اختلاف كي صورت ميں ظاہر ہوگا جس طرح فتويٰ ميں اس شرط كا اثر دو فتوؤں ميں ٹكراؤ كي صورت ميں ظاہر ہوتا ہے، كيونكہ دو فتوؤں يا دو حكموں ميں ٹكراؤ كي صور ت ميں اصل يہ ہے كہ دونوں فتوے يا دونوں حكم ساقط ہو جائيں گے ان ميں سے كوئي ايك فتويٰ يا حكم قابل اعتبار نہيں ہوگا، ليكن جب دو (فتويٰ دينے والوں يا حكم كرنے والوں) ميں سے ايك اعلم ہو اوراس كا مرتبہ دوسري سے بلند ہو (اعلم كا مرتبہ اس قدر بلند ہو كہ اختلاف كي صورت ميں يہ اختلاف و ٹكراؤ اعلم كي راي كو بے اعتبار اور ناقابل اعتماد نہ بنادے) تو اس صورت ميں اعلم كے فتويٰ كي حجيت بر قرار رہے گي چنانچہ اجتہاد و تقليد كي بحث ميں اس كي وضاحت موجود ہے يہ تو تھا دو فتوؤں ميں ٹكراؤ كا حكم ليكن اگر دوحكموں ميں ٹكراؤ پيدا ہو جائے تو اس كي دوصورتيں ہيں۔كبھي يہ ٹكراؤ ايسے حكم ميں ہے كہ جس ميں حكم شرعي كو معلوم (كشف) كرنے كا پہلو پايا جاتا ہے جيسے چاند (نظرآنے) كا حكم۔اور كبھي يہ اختلاف ايسے حكم ميں پيش آتا ہے جو حكم ولايت كو بروئے كار لاتے ہوئے فقط منطقہ فراغ كوپر كرنے كي غرض سے ديا جاتا ہے جيسے اشياء كي قيمتيں معين كرنا۔پہلي صورت ميں اعلم كي راي مقدم ہوگى بشرطيكہ اعلم اورغيراعلم كے درميان فرق واضح ہو۔اس حيثيت سے كہ اس ٹكراؤ كے باوجود اعلم كي راي پر اعتماد و بھروسہ برقرار رہتا ہے (اوريہ اختلا ف سلب اعتماد كا سبب نہيں بنتا) كيونكہ عرفي اعتبار سے اس ميں كاشفيت كا پہلو پايا جاتا ہے، جب كہ ايسے موقع پر غير اعلم كي راي لازمي اعتماد كو كھوديتي ہے۔

دوسري قسم ميں حكم غالباً(۱۴۸) اس ملاك كو كشف كرتا ہے جسے حاكم مورد حكم ميں لحاظ كرتا ہے، يہاں پر بھي اعلم كي راي مقدم ہوگى۔جب اعلم وغير اعلم كے درميان فرق كي مقدار بہت زيادہ ہوگى، كيونكہ غير اعلم كي راي لازمي اعتماد ووثوق سےعاري ہوجائےگي۔جب كہ اعلم كي راي پراعتمادووثوق برقرار رہےگا۔اور ہم گذشتہ بحثوں ميں يہ جان چكےہيں كہ ولايت كي دليل وثوق كي قيدسے مقيد ہوئي ہے(۱۴۹) يہاں پر ٹكراؤ كے باوجود اعلم كي راي قابل اعتماد اور لائق بھروسہ ہے، پس حجيت كي دليل فقط اعلم كي راي كو اپنے اندرشامل كرے گى، اور دونوں دليلوں كو حجيت كي دليل شامل نہيں كرے گي جس كي وجہ سے دونوں كے درميان (عالم وغيراعلم كي راي آپس ميں ٹكراؤ پيدا ہو جائے گا اور دونوں ساقط ہو جائيں گي اور كسي بھي راي كي پرواہ نہيں كي جائے گي ۔

ہم يہاں پر يہ اشارہ كرنا ضروري سمجھتے ہيں (اگر چہ انشاء اللہ تفصيلي بحث آيندہ ہوگى)، كہ عام طور پر اسلامي حكومت ميں حكام كے درميان حكم كے اعتبار سے كبھي ٹكراؤ نہيں پيدا ہوتا بلكہ جن فقہاء كے ہاتھ ميں امور (حكومت) كي باگ ڈور ہو ان پر عام حالات ميں واجب ہے كہ باہمي مشورت سے حاصل ہونے والے اتفاق راي كے ذريعے اعلم كي راي كو غير اعلم كي راي پر ترجيح ديتے ہوئے يا باقي طريقوں پر عمل كرتے ہوئے امت كے لئے متفقہ راي كے طورپر ايك ہي حكم كو پيش كريں كيونكہ عام طور پر امت كي مصلحت اس ميں ہے كہ جس راي كا اظہار كيا جائے وہ ايك اور متفقہ راي ہو۔اور ولي امر پر واجب ہے كہ وہ اپنے تحت ولايت افراد كے مصالح كو مد نظر ركھے۔

بيعت

مسئلہ بيعت كو دوطريقوں سے مورد بحث قرار ديا جاسكتا ہے۔

پہلا طريقہ

يہ فرض كيا جائے كہ بيعت ايك عہدو پيمان ہے جس كے ذريعے بيعت كئے جانے والے شخص كو ولايت حاصل ہو جاتي ہے اور اگر اس شخص كي بيعت نہ كي جاتي تو اس كو ولايت امت حاصل نہيں ہو سكتي تھي كيونكہ اس كي ولايت كے لئے بيعت كے علاوہ كوئي دوسري دليل نہيں ہے ہم جان چكے ہيں كہ ولايت، حكومت كي اساس وبنياد ہے ۔اور بيعت كے نافذ و با اثر ہونے كي بہترين دليل يہ آيہ كريمہ:

( يا ايها الذين آمنوا اوفوا بالعقود ) (۱۵۰) اے ايمان والو! اپنے عہدو پيمان كي پابندي كرو،

اور دوسري دليل وہ روايات ہيں جو شرط كو قابل نفاذ قرار ديتي ہيں جيسے:

عبد اللہ بن سنان كي روايت (رويه عبد الله بن سنان عن ابي عبدالله عليه السلام قال: المسلمون عند شروطهم، الاكل شرط خالف كتاب الله عز وجل فلا يجوز )(۱۵۱) جسے انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: مسلمان كو اپني شرائط كي پابندي كرني چاہئےآگاہ رہو ہر وہ شرط ناجائز ہے جو كتاب خدا كي مخالف ہو۔

اگر بيعت كي يہي تعريف كي جائے تو اس كي بازگشت اس عمومي معاہدہ كي طرف ہے جس كي بحث ہم پہلي فصل (جمہوريت) ميں كر چكے ہيں ہم نے وہاں عمومي معاہدہ پر جو اشكالات كئے تھے ان كا خلاصہ يہ ہے:

۱) اسلام ميں عہد و پيمان، معاہدہ يا شرط كسي حرام چيز كو حلال نہيں بنا سكتے اوربہت ساري اختيارات عطا كرنے كا سبب بھي نہيں بن سكتے جيسے حدود نافذ كرنے كا اختيار اور اسي طرح كے كچھ دوسري اختيارات جو اس شخص كے پاس اس قرارداد سے پہلے موجود نہ تھے، جب كہ جو ولايت تشكيل حكومت كي بنياد بننے كے لئے كافي ہے وہ ايسي عمومي ولايت عامہ ہے اوراس كا دائرہ اتنا وسيع كہ بعض اوقات ابتدائي طور پر حرام كام كو حلال قرار دينے كا حق بھي ركھتي ہے(۱۵۲) اور اس كے علاوہ بھي اس ولايت ميں بہت سے اختيارات پائے جاتے ہيں ہم اسلام ميں غورو خوض سے يہ بات درك كرتے ہيں كہ عہد و پيمان اور شرط، اسلام كے ابتدائي احكام كي حدود ميں نافذ وقابل اجراء ہيں اور يہ ولايت كے علاوہ ايك اور موضوع ہے۔

۲) اس عہد وپيمان يا شرط كو اس اقليت پر كيسے نافذ كيا جائے جو اس عہد وپيمان يا شرط كي موافق نہيں ہے؟

۳) جو شخص اس عہد وپيمان كے وقت موجود نہيں تھا اس كے متعلق كيا موقف اپنايا جائے جو اس عہد و پيمان كے وقت موجود نہيں تھا تاكہ اس كي طرف سے بھي اس كے حق ميں يہ عہد وپيمان كامل ہو، يا اس كے ولي كي طرف سے؟ !

۴) كتاب و سنت ميں ايسے دسيوں سوالات كا جواب مذكورنہيں ہے جو سوالات بيعت كي حدود و شرائط كے سلسلے ميں اٹھائے جاتے ہيں لوگوں كي كتني مقدار (تعداد) بيعت كے لئے كافي ہے تاكہ بيعت كے ذريعے مسلمانوں پر حكمراني ثابت ہو سكے، اوراختلاف كي صورت ميں كميت (مقدار) كے ذريعے ترجيح دي جائے گي يا كيفيت كے ذريعے اور اس كے علاوہ دوسري متعدد سوالات (جو تشنہ جواب ہيں)

بعض اوقات يہ ثابت كرنے كے لئے كہ بيعت (شخص كومسلمانوں پر ولايت عطا كرتي ہے، اور بيعت كا وفادر رہنا واجب ہے اور بيعت توڑنا حرام ہے، متعدد روايات سے تمسك كيا جاتا ہے۔

اگر يہ روايات سند ودلالت كے اعتبار سے صحيح ہوں تب بھي چوتھے اشكال كي وجہ سے ان سے يہ استفادہ نہيں كيا جا سكتا كہ بيعت، حكومت اسلامي كي بنياد و اساس بن سكتي ہے۔

اب وہ روايات بھي ملاحظہ ہوں:

۵) (عن ماجيلويه عن عمه عن هارون ابن زياد عن جعفر بن محمد عن ابيه عليهماالسلام: ان النبي قال: ثلاث موبقات: نكث الصفقه و ترك السنة وفراق الجماعة، وثلاث منجيات: تكف لسانك تبكي علي خطيئتك و تلزم بيتك )(۱۵۳)

كتاب خصال ميں جيلويہ سے نقل ہوا ہے انھوں نے اپنے چچا سے، انھوں نے ہارون سے انھوں نے ابن زياد سے انھوں نے جعفر بن محمد سے اور انھوں نے اپنے والد بزرگوار (امام باقر عليہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ: نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: تين چيزيں باعث ہلاكت ہيں، بيعت كا توڑنا، سنت كا ترك كرنا اور جماعت سے جدائي اختيار كرنا اور تين چيزيں باعث نجات ہيں زبان پر كنٹرول ركھو، اپني خطاؤں اور لغزشوں پر گريہ كرو اور اپنے گھر سے چپكے رہو (گھر ميں رہو)

۶) (عن عبدالله بن علي العمري عن علي بن الحسن عن علي بن جعفر عن اخيه موسيٰ قال: ثلاث موبقات عليه الرحمة نكث الصفقة، وترك السنة و فراق الجماعة )(۱۵۴)

انھوں نے عبد اللہ بن علي العمري سے انھوں نے علي بن الحسن سے انھوں نے علي بن جعفر سے اورانھوں نے اپنے بھائي موسيٰ عليہ السلام (امام كاظم عليہ السلام) سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: تين چيزيں باعث ہلاكت ہيں، بيعت كا توڑنا، سنت كا ترك كرنا اورجماعت سے جدائي اختيار كرنا ۔يہ دونوں ہي روايتيں سند كے لحاظ سے ضعيف ہيں۔

۷) (عن عدة اصحابنا عن احمد بن محمد عن ابن فضال عن ابي جميله عن محمد الحلبي عن ابي عبدالله عليه السلام قال: من فارق جماعة المسلمين و نكث صفقة الامام جاء الي الله تعاليٰ اجذم وفي بعض النسخ" صفقه الابهام ) ۔(۱۵۵)

اصحاب اماميہ كي ايك جماعت سے نقل ہوا ہے اور ان سب نے احمد بن محمد سے انھوں نے ابن فضال سے انھوں نے ابي جميلہ سے انھوں نے محمد حلبي سے اور انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: جس نے مسلمانوں كي جماعت سے جدائي اختيار كي اورامام كي بيعت توڑى، (قيامت كے دن) اللہ تعاليٰ كي بارگاہ ميں جذام كي بيماري ميں گرفتار حاضر ہوگا۔بعض نسخوں ميں ”صفقۃ الامام" كي بجائے "صفقہ الابھام" كياہے۔

بحار الانوار ميں ايك جگہ پر يہي روايت كافي كے حوالے سے اسي طرح نقل ہوئي ہے جس طرح ہم نے نقل كي ہے ۔(۱۵۶)

۸) (عن المحاسن عن ابن فضال عن ابي جميله عن محمد بن علي الحلبي عن ابي عبدالله عليه السلام قال: من خلع جماعة المسلمين قدر شبر خلع ربق الاسلام من عنقه و من نكث صفقه الامام جاء الي الله اجذم )(۱۵۷)

اور محاسن كے حوالے سے ابن فضال سے اس نے ابي جميلہ سے اس نے محمد بن علي حلبي سے اورحلبي نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: جس نے جماعت مسلمين سے ايك بالشت كے برابر جدائي اختيار كي اس نے اپنے گردم سے اسلام كي پيروي كا طوق اتارديا اورجس نے امام عليہ السلام كي بيعت كو توڑا خدا كي بارگاہ ميں جذام كے مرض ميں گرفتار حاضر ہوگا۔

توجہ رہے كہ علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ كي سند محاسن تك معلوم نہيں ہے ۔ليكن چوں كہ روايت اصول كافى ميں اس طريقے سے نقل ہوئي ہے جسےآپ جان چكے ہيں، لہٰذا محاسن تك علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ كي سند معلوم نہ ہونا قابل اہميت نہيں ہے۔

ہاں روايت كے سلسلہ سند ميں ابو جميلہ ہے جس كے معلق ابن غضائري كا كہنا ہے ”ضعيف، بہت زيادہ جھوٹ بولنے والا اورحديث گڑھنے والا ہے ہماري لئے احمد بن عبدالواحد نے نقل كيا ہے، احمد بن عبد الواحد كا كہنا ہے ہماري لئے علي بن محمد بن زبير نے نقل كيا ہے علي بن محمد بن زبير كا كہنا ہے كہ ہماري لئے علي بن فضال نے نقل كياہے ابن فضال كہتے ہيں ميں نے سنا معاويہ بن حكم كہہ رہا تھا ميں نے ابو جميلہ سے سنا ہے كہ ابي جميلہ كہہ رہا تھا ”محمد بن ابي بكر كے نام معاويہ كا خط ميں نے جعل كيا (گڑھا) ہے “توجہ رہے كہ (ابن غضائري كے ابو جميلہ كي تضعيف كرنے كي كوئي اہميت نہيں، نجاشي نے جابر بن يزيد جعفي كے حالات زندگي ميں كہا ہے ”اس سے ايك ايسي جماعت نے نقل كيا ہے جن كي صوت حال واضح نہيں ہے ان ميں سے عمر بن شمر اور مفضل بن صالح كو ضعيف قرار ديا گيا ہے“ شايد يہ عبارت اس پر دلالت نہيں كرتي كہ نجاشي نے شہادت دي ہو كہ ابي جميلہ مفضل بن صالح كے متعلق صحيح تضعيف موجود ہے۔

ابو جميلہ سے ان تين بزرگوں نے روايت نقل كي ہے جن كے متعلق شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے شہادت دي ہے كہ يہ تين افراد غير ثقہ سے روايت نقل نہيں كرتے وہ تين افراد احمد بن محمد بن ابي نصر بزنطى، صفوان بن يحييٰ، اور محمد ابي عمير ہيں، بہر حال خلفاء كے زمانے ميں صادر ہونے والي ان روايات سے عرفي طور پر يہ سمجھا جاتا ہے كہ مسلمانوں كي جماعت (مسلمانوں كي اكثريت جو خليفہ وقت كي پيروتھے) سے جدائي اور خليفہ كے ہاتھ پر كي گئي بيعت كو توڑنا جائز نہيں ہے۔

ہم جانتے ہيں كہ امام صادق عليہ السلام و امام كاظم عليہ السلام كے ہم عصر خلفاء كے متعلق شيعوں كے ائمہ عليہم السلام كاعقيدہ يہ تھا كہ يہ خلفاء، ظالم وجابراور خلفاء ناحق (باطل) ہيں، اور يہ كہ ان خلفاء كي بيعت كو توڑنا مسلمانوں كي جماعت كي مخالفت كرنا اورامام معصوم عليہ السلام كي موجودگي ميں امكان كي صورت ميں امام معصوم عليہ السلام كي طرف رجوع كرنا حرام نہيں ہے۔

پس اگر يہ روايات ائمہ اطہارعليہم السلام سے صادر ہوئي ہوں تو حتما بعنوان تقيہ صادر ہوئي ہيں يا يہ كہ حالت تقيہ ميں صادر ہوئي ہيں يا يہ حكم بعنوان تقيہ ہے كہ ظاہري طور پر خليفہ كي بيعت پر باقي رہو اور جماعت مسلمين سے جدائي اختيا ر نہ كرو، عرفي طور پر ان روايات كو ايسے معني پر منطبق نہيں كيا جاسكتا ہے جو معنيٰ خليفہ كي بيعت كو توڑنے اور مسلمانوں كي جماعت (اكثريت) سے جدائي كو شامل نہ ہو، ہاں ان روايات كي حقيقي تاويل اور ان كا واقعي معني كچھ اور ہے، ليكن بنا بر فرض ظاہر احاديث سے استدلال كرنا حجيت سے ساقط ہے۔بعض سند كے اعتبار سے ضعيف روايات ميں جماعت كي يہ تاويل ذكر ہوئي ہے كہ جماعت سےمراداہل حق كي جماعت ہے، جيسےكتاب (بحارالانوار) ميں متعدد روايات موجود ہيں:

۹)مانقله عن امالي لصدوق عن الهمداني عن علي عن ابيه نصر بن علي الجهضمي عن علي بن جعفر عن اخيه موسيٰ عن ابائه قيل يا رسول الله وماجماعة المسلمين؟ قال: جماعة اهل الحق و ان قلوا ۔(۱۵۸)

علامہ مجلسي نے امالي شيخ صدوق عليہ الرحمۃ كے حوالے سے، ہمداني سے اس نے علي سے اس نے اپنے والد سے اس نے نصر ابن علي جہضمي سے اس نے علي ابن جعفر سے انھوں نے اپنے بھائي موسيٰ (امام كاظم عليہ السلام) سے اور آپنے اپنے اباء و اجداد سے نقل كيا ہے كہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمايا: جس نے مسلمين كي جماعت سے جدائي اختيار كي اس نے اپنے گردن سے اسلام كاہار (پھندا) اتارديا پوچھا گيا يا رسول اللہ مسلمين كي جماعت سے مراد كيا ہے؟ آپ نے فرمايا: اہل حق كي جماعت اگر چہ كم ہي كيوں نہ ہو، ابن برقي نے محاسن ميں اپنے والد سے اسي طرح كي روايت نقل كي ہے ۔

۱۰)مانقله عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عليه الرحمة عن ابيه عن سعد عن البرقي هارو بن الجهم دن حفص بن عمر بن ابي عبدالله عليه السلام قال: سئل رسول الله ٴعن جماعة امته فقال: جماعة امتي اهل الحق وان قلوا جيسے علامہ مجلسي نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كيا ہے شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے انھوں نے برقي سے انھوں نے ہارون ابن جہم سے انھوں نے حفص بن عمر سے اور انھوں نے امام صادق عليہ السلام سے نقل كيا ہے كہ آپنے فرمايا: رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سےآپكي امت كے باري ميں پوچھا گيا توآپنے فرمايا: ميري امت كے جماعت (سے مراد) اہل حق كي جماعت ہے اگر كم ہي كيوں نہ ہوں ۔يہي روايات ابن برقي نے اپني كتاب ”المحاسن" ميں اپنے والد سے اور انھوں نے ہارون سے نقل كي ہے۔(۱۵۹)

۱۱)ما نقله ايضاً عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عليه الرحمة عن ابي عن سعد عن البرقي ابي يحي الواسطي عن عبدالله ابن يحي بن عبدالله العلولي رفعه قال: قيل يا رسول الله ما جماعة امتك ؟ قال: من كان علي الحق و ان كانوا عشره ۔

يہ روايت بھي علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كي ہے شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے اس نے برقي سے اس نے ابي يحي واسطي سے اس نے عبد اللہ ابن يحي بن عبد اللہ علوي اور اس نے حديث مرفوع

كے طور پر نقل كيا ہے: كہا گيا يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم آپكي امت كي جماعت سے مرادكيا ہے؟ آپنے فرمايا: جو حق پر ہوں اگر چہ ان كي تعداد كم ہي كيوں نہ ہو۔(۱۶۰)

۱۲)مانقله ايضاْ عن معاني الاخبار للشيخ الصدوق عن ابيه عن سعد عن البرقي عن الحجال عن ابن ابي حميد رفعه قال: جاء رجل الي امير المؤمين عليه السلام فقال: اخبرني عن السنة والبدعه وعن الجماعه وعن الفرقةفقال امير المؤ منين عليه السلام: السنة ما سن رسول الله والبدعهما حدث من بعده والجماعه اهل الحق وان كانوا قليلاً و الفرقة اهل الباطل وان كانوا كثيراً ۔

يہ روايت بھي علامہ مجلسي عليہ الرحمۃ نے شيخ صدوق كي كتاب معاني الاخبار سے نقل كي ہے، شيخ صدوق نے اپنے والد سے انھوں نے سعد سے انھوں نے برقي سے انھوں نے حجال سے انھوں نے ابن ابي حميد سے اور انھوں نے چندواسطہ حذف كرتے ہوئے نقل كيا ہے: امير المؤمنين كے پاس ايك شخص كيا اور كہا: مجھے سنت، بدعت، جماعت، اور فرقہ (گروہ) كے متعلق بتايئے اميرالمؤمنين نے فرمايا: سنت وہ ہےجس كي بنياد رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے ركھى، بدعت وہ ہے جو رسول خدا كے بعد (دين كے طورپر) ايجاد كي جائے، جماعت سے مراد اہل حق ہيں خواہ كم ہي كيوں نہ ہوں اور فرقہ سے مراد اہل باطل ہيں اگرچہ زيادہ ہي كيوں نہ ہوں۔(۱۶۱)

دوسرا طريقہ

(بيعت سے متعلق بحث كا دوسرا طريقہ)

يہ دعويٰ كيا جائے كہ ہم يہ فرض نہيں كرتے ہيں كہ جس صورت ميں ولايت موجود نہ ہو وہاں پر بيعت ولايت كو ايجاد كرتي ہے بلكہ ہمارا عقيدہ ہے كہ ولايت (جس صورت ميں دليل كے ساتھ ولايت ثابت ہو) كو بروئے كار لانے كے لئے بيعت شرط ہے، مثلاً ہم ولايت فقيہ كو گذشتہ دلائل كي روشني ميں قبول كرتے ہيں ليكن ہم كہتے ہيں كہ جس فقيہ كے ہاتھ پر امت نے اس لئے بيعت كي ہو كہ وہ ان كے امور كي باگ ڈورسنبھالے اوريہ كہ اس كے احكام كي اطاعت كريں تو اس فقيہ كي ولايت عملي ہوگى اور جن امور ميں اس كي بيعت كي گئي ہے صرف انہي امور ميں اس كي ولايت عملي قرار پائے گي ۔

مثلاً بعض اوقات فقط جھگڑے ونزاع كے فيصلے كي حد تك فقيہ كي بيعت كي جاتي ہے تو ان ہي حدود ميں فقيہ كي ولايت عملي ہوگى جيسا كہ مقبولہ (عمر بن حنظلہ) ميں امام كا قول ہے: ”يہ دونوں ديكھيں گے كہ تم ميں سے جو شخص ہماري حديث نقل كرتا ہے اور ہماري حلال و حرام سےآگاہ ہے اور ہماري احكام كي معرفت ركھتا ہے اسے فيصلہ كرنے والاقرار دينے پر راضي ہو جاؤ"يعني وہ تب قاضي بنےگا جب يہ دونوں اسے اختيار اور رضامندي سے اپنے لئے قاضي منتخب كرليں حديث ميں دوسري لفظوں ميں اس مطلب كو بيان كيا گيا ہے كہ اس كا فيصلہ نافذ ہونے كے لئے اس كي بيعت كي جارہي ہے ۔

بعض اوقات فقيہ كے ہاتھ پر بيعت تمام امور اور ساري واقعات وحوادث كے لحاظ سے كي جاتي ہے اس صورت ميں اس كے لئے تمام امورميں ولايت ثابت ہوگى ۔اس سلسلے ميں امام زمانہ عليہ السلام نے تو قيع شريف ميں فرمايا ہے ” پيش آنے والے حوادث وواقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں كي طر ف رجوع كرو"فقيہ كو اختيار كرنے اور اسكي بيعت كرنے كو رجوع كي تعبير كے ذريعے بيان كياگيا ہے۔

احمد بن اسحاق كي روايت ميں سائل كا سوال يہ تھا كہ كس كي طرف رجوع كيا جائے اور كس كي راي پر عمل كيا جائے، اس سوال كا مطلب يہ ہے كہ سوال كرنے والا تحقيق و جستجو كر رہا ہے كہ كس كي طرف رجوع كيا جائے اور اسے ولي كے طور پر اختيار كيا جائے تاكہ وہ اس كے وظائف معين كرے، امام نے يہ كہتے ہوئے عمري اوران كے بيٹے كي طرف سوال پوچھنے والے كي راہنمائي كى: ”ان دونوں كي بات غور سے سنو اور ان كي اطاعت كرو يہ دونوں قابل اطمينان اور لائق اعتماد و بھروسہ ہيں" البتہ يہ روايت اس بات پر دلالت نہيں كرتي كہ قابل اعتماد فقيہ كے اوامرو احكام ہر شخص پر نافذ ہوتے ہيں حتيٰ اگر كوئي شخص اسے اختيار نہ كرے اوراس پر اس كي بيعت نہ بھي كرے ۔

(ولايت كے لئے) بيعت كي شرط كو ثابت كرنے كے لئے يہ شاہد لكياجاتا ہے كہ رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے زمانے سے لے كر خلفاء راشدين كے زمانے تك بلكہ ان كے بعدآنے والے خلفاء كے زمانے ميں بھي مسلمانوں كي مسلسل سيرت رہي ہے كہ وہ سب رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي اور خلفاء كي بيعت كرتے تھے۔

البتہ وہ مصداق جسے وہ بيعت كے لئے اختيار كرتے تھے بعض اوقات صحيح تھا جيسے رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اميرالمؤمنين عليہ السلام، امام حسن عليہ السلام، امام حسين عليہ السلام، امام رضا عليہ السلام كي بيعت ميں نظرآتا ہے (يہ بيعت كے صحيح مصداق تھے) ۔جب كہ بعض اوقات وہ مصداق صحيح نہيں تھا جسے بيعت كے لئے اختيار كرتے تھے۔ليكن ہماري بحث مصاديق كے صحيح يا خطاء ہونے كے متعلق نہيں ہے۔

رسول خدا صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بيعت بعض اوقات محدود حد تك تھي جو جنگ كو اپنے اندر شامل نہيں كئے تھي اوربعض اوقات وسيع تھي جو جنگ كو بھي اپنے اندر شامل كر ليتي تھى، يہ بيعت اپني حدود ميں نافذ ہے ۔عورتوں كا رسول اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے ہاتھ پر بيعت كرنا پہلي قسم ميں سے تھا (يعني ان كي بيعت ميں جنگ شامل نہ تھي)

ارشاد رب العزت ہے:( ياايهَا النَّبِي إِذَا جَائَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يبَايعْنَكَ عَلَي انْ لاَيشْرِكْنَ بِاللهِ شَيئًا وَلاَيسْرِقْنَ وَلاَيزْنِينَ وَلاَيقْتُلْنَ اوْلاَدَهُنَّ وَلكياتِينَ بِبُهْتَان يفْتَرِينَهُ بَينَ ايدِيهِنَّ وَارْجُلِهِنَّ وَلاَيعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ فَبَايعْهُنَّ وَاستَغْفِرْ لَهُنَّ اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) (۱۶۲)

اے پيغمبر!اگر ايمان لانے والي عورتيں آپكے پاس اس امر پر بيعت كرنے كے لئےآئيں نہ كسي كو خدا كا شريك نہيں بنائيں گي اور چوري نہيں كريں گى، زنا نہيں كريں گے، اولاد كو قتل نہيں كريں گي اور اپنے ہاتھ پاؤں كے سامنے سے كوئي بہتان (لڑكا) لے كر نہيں آئيں گي اور كسي نيكي ميں آپكي مخالفت نہيں كريں گي توآپ ان سے بيعت كا معاملہ كر ليں اوران كے حق ميں استغفار كريں كہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے ۔

بيعت شجرہ (يابيعت رضوان) دوسري قسم ميں سے تھي يعني اس كا دائرہ وسيع تھا لہٰذا اس بيعت ميں جو جنگ بھي شامل تھي۔

خداوندمتعال كا ارشاد گرامي( إِنَّ الَّذِينَ يبَايعُونَكَ إِنَّما يبَايعُونَ اللهَ يدُ الله فَوْقَ ايدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما ينْكُثُ عَلَي نَفْسِهِ وَمَنْ اوْفَي بِما عَاهَدَ عَلَيهُ الله فَسَيؤْتِيهِ اجْرًا عَظِيما ( ۱۰ ) سَيقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنْ الْاعْرَاب شَغَلَتْنَا امْوَالُنَا وَاهْلُونَا فَاستَغْفِرْ لَنَا يقُولُونَ بِالْسِنَتِهِمْما لَيسَ فِي قُلُوبِهِمْ قُلْ فَمَنْ يمْلِكُ لَكُمْ مِنْ الله شَيئًا إِنْ ارَادَ بِكُمْ ضَرًّا اوْ ارَادَ بِكُمْ نَفْعًا بَلْ كَان اللهُ بِما تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ( ۱۱ ) بَلْ ظَنَنْتُمْ انْ لَنْ ينْقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَي اهْلِيهِمْ ابَدًا وَزُينَ ذَلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنْتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنْتُمْ قَوْما بُورًا ( ۱۲ ) وَمَنْ لَمْ يؤْمِنْ بِالله وَرَسُولِهِ فَإِنَّا اعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا ( ۱۳ ) وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّماوَاتِ وَالْارْضِ يغْفِرُ لِمَنْ يشَاءُ وَيعَذِّبُ مَنْ يشَاءُ وَكَان اللهُ غَفُورًا رَحِيما ( ۱۴ ) سَيقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَي مَغَانمَ لِتَاخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ يرِيدُونَ انْ يبَدِّلُوا كَلَامَ الله قُلْ لَنْ تَتَّبِعُونَا كَذَلِكُمْ قَالَ الله مِنْ قَبْلُ فَسَيقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانوا لاَيفْقَهونَ إِلاَّ قَلِيلًا ( ۱۵ ) قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ مِنْ الْاعْرَاب سَتُدْعَوْنَ إِلَي قَوْمٍ اوْلِي بَاسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ اوْ يسْلِمُونَ فَإِنْ تُطِيعُوا يؤْتِكُمْ الله اجْرًا حَسَنًا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا كَما تَوَلَّيتُمْ مِنْ قَبْلُ يعَذِّبْكُمْ عَذَابا الِيما ( ۱۶ ) لَيسَ عَلَي الْاعْمَي حَرَجٌ وَلاَعَلَي الْاعْرَجِ حَرَجٌ وَلاَعَلَي الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَمَنْ يطِعْ الله وَرَسُولَهُ يدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْانْهَارُ وَمَنْ يتَوَلَّ يعَذِّبْهُ عَذَابا الِيما ( ۱۷ ) لَقَدْ رَضِي الله عَنْ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يبَايعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ ما فِي قُلُوبِهِمْ فَانْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيهِمْ وَاثَابهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ( ۱۸ ) وَمَغَانمَ كَثِيرةً ياخُذُونَهها وَكَان الله عَزِيزًا حَكِيما ) (۱۶۳)

بيشك جو لوگ آپكي بيعت كرتے ہيں وہ در حقيقت اللہ كي بيعت كرتے ہيں اور ان كے ہاتھوں كے اوپر اللہ ہي كا ہاتھ ہے اب اس كے بعد جو بيعت توڑ ديتا ہے وہ اپنے ہي خلاف اقدام كرتا ہے اور جو عہد الٰہي كو پورا كرتا ہے خدا عنقريب اس كو اجر عظيم عطا كرے گا عنقريب يہ پيچھے رہ جانے والے گنوارآپسے كہيں گے كہ ہماري اموال اور اولاد نے مصروف كر ليا تھا لہٰذاآپ ہماري حق ميں استغفار كرديں، يہ اپني زبان سے وہ كہہ رہے ہيں جو يقينا ان كے دل ميں نہيں ہے توآپ كہہ ديجئے كہ اگر خدا تمہيں نقصان پہنچانا چاہے يا فائدہ ہي پہنچانا چاہے تو كون ہے جو اس كے مقابلہ ميں تمہاري امور كا اختيار ركھتا ہے حقيقت يہ ہے كہ اللہ تمہاري اعمال سے خوب باخبر ہے اصل ميں تمہارا خيال يہ تھاكہ رسول اورصاحبان ايمان اب اپنے گھر والوں تك پلٹ كر نہيں اسكتے ہيں اوراس بات كو تمہاري دلوں ميں خوب سجاديا گيا تھا اورتم نے بدگماني سے كام ليا اور تم ہلاك ہو جانے والي قوم ہو اور جو بھي خدا اور رسول پر ايمان نہ لائے گا ہم نے ايسے كافرين كے لئے جہنم كا انتظام كر ركھا ہے اور ا للہ ہي كے لئے زمين واسمان كا ملك ہے وہ جس كو چاہتا ہے بخش ديتا ہے اور جس پر چاہتا ہے عذاب كرتا ہے اور اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے عنقريب يہ پيچھے رہ جانے والے تم سے كہيں گے جب تممال غنيمت لينے كے لئے جانے لگو گے كہ اجازت دو ہم بھي تمہاري ساتھ چلے چليں يہ چاہتے ہيں كہ اللہ كي كلام كو تبديل كريں تو تم كہہ دوكہ تم لوگ ہماري ساتھ نہيں اسكتے ہو اللہ نے يہ بات پہلے سے طے كر دي ہے پھر يہ كہيں گے كہ تم لوگ ہم سے حسد ركھتے ہو حالانكہ حقيقت يہ ہے كہ يہ لوگ بات كو بہت كم سمجھ پاتے ہيںآپ ان پيچھے رہ جانے والوں سے كہہ ديں كہ عنقريب تمہيں ايك ايسي قوم كي طرف بلكيا جائے گا جو انتہائي سخت جنگجو قوم ہوگى كہ تم ان سے جنگ ہي كرتے رہو گے يا وہ مسلمان ہو جائيں گے تو اگر تم خدا كي اطاعت كرو گے تو وہ تمہيں بہترين اجر عنايت كرے گا اوراگر پھر منھ پھير لوگے جس طرح پہلے كيا تھا تو تمہيں دردناك عذاب كے ذريعے سزا دے گا اندھےآدمي كے لئے كوئي گناہ نہيں ہے، اور لنگڑےآدمي كے لئے بھي كوئي گناہ نہيں ہے۔اورمريض كي بھي كوئي ذمہ داري نہيں ہے اور جوا للہ اور اس كے رسول كي اطاعت كرے گا خدا اس كو ايسي جنتوں ميں داخل كرے گا جن كے نيچے نہريں جاري ہوں گى، اور جو روگرداني كرے گا وہ اسے دردناك عذاب كي سزاد ے گا

يقينا خدا صاحبان ايمان سے اس وقت راضي ہو گيا جب وہ درخت كے نيچےآپكي بيعت كر رہے تھے پھر اس نے وہ سب كچھ ديكھ ليا جو ان كے دلوں ميں تھا تو ان پر سكون نازل كرديا اور انہيں اس كے عوض قلبي فتح عنايت كر دي اور بہت سے منافع بھي دے ديئے جنھيں وہ حاصل كريں گے اوراللہ ہر ايك عذاب پر غالب آنے والا اور صاحب حكمت ہے ۔

ہاں معصوم كي بيعت (جيسے نبي كريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اورامام معصوم عليہ السلام) اس وقت واجب عيني ہوجاتي ہے جب وہ بيعت طلب كريں ليكن فقيہ كي بيعت واجب عيني نہيں ہے حتي اگر وہ مطالبہ بھي كرے، كيونكہ شريعت نے تمام فقہاء كے لئے ولايت قرار دي ہے اس كا مطلب يہ ہے كہ امت كو معين كرنے كا حق حاصل ہے وہ جسے بھي منتخب كرے ۔

لہٰذا ولايت فقيہ كي دليل اور ولايت كے عملي ہونے ميں بيعت كي دخالت كي دليل كو ملانے كي يہ صورت ہے كہ امت اپنے ولي امر كو بيعت كے ذريعے منتخب كرتي ہے ليكن امت پرواجب ہے كہ اپنے انتخاب ميں فقہاء كے دائرہ سے خارج نہ ہو۔

اشكال

ہماري اعتبار سے بيعت كو اس طرح پيش كرنا بھي صحيح نہيں ہے، احمد بن اسحاق كا يہ سوال كہ ”كس كے ساتھ معاملہ كيا جائے (كس كي طرف رجوع كيا جائے) اور كس كے امر كو بجالكيا جائے“ رغبت اور تمايل كے علاوہ كسي اور چيز پر دلالت نہيں كرتا تاكہ ان كے لئے واضح ہو سكے كہ كس كے ارشادات و اوامر كے سامنے خضوع كر كے سر تسليم خم كرے، ليكن اس كا مطلب يہ نہيں كہ ان كا اس شخص كو منتخب كرنا (اس كي ولايت) ميں شامل تھا يا اس كا ان كي بيعت كرنا محور سوال كو معين كرنے ميں دخل ركھتا تھا، تاكہ جواب ميں پائے جانے والے اطلاق كے لئے مضر و نقصان دہ ہو، امام عليہ السلام كا قول”اس (عمري) كي بات كو سنو اوراس كي اطاعت كرو”يا "ان دونوں (عمري اور ان كا بيٹا) كي بات سنو اور ان كي اطاعت كرو”اپنے اطلاق كے ذريعے ان كي بات سننے اور ان كي اطاعت كے وجوب پر دلالت كرتا ہے خواہ شخص نے اس پر ان كي بيعت كي ہو خواہ نہ كي ہو۔ (خواہ ان كي بات سننے پر اوران كي اطاعت كرنے پر بيعت كي ہو خواہ نہ كي ہو)

ليكن مقبولہ عمر بن حنظلہ ميں امام عليہ السلام كا يہ فرمان ”قاضي قرار دينے پر راضي ہو جاؤ" اور اسي طرح تو قيع شريف ميں امام زمانہ عليہ السلام كا يہ قول ”پيش آنے والے واقعات ميں ہماري احاديث كے راويوں كي طرف رجوع كرو”جس طرح ان دو قولوں ميں يہ احتما ل پايا جاتا ہے كہ رضامندي اور رجوع (يہ كہ بيعت كہا جائے) راوي حديث كي حاكميت اوراس كي راي كي حجيت ميں شامل ہے، اسي طرح يہ احتمال بھي پايا جاتا ہے كہ يہ ارادہ كيا گيا ہو كہ اس پر رضا مندي اور اس كي طرف رجوع كرنا واجب ہے كيونكہ پہلے ہي سے اس كي راي حجت تھي لہٰذا انسان پر واجب ہے كہ حجت پر رضامند ہو جائے اورواجب ہے كہ اس كي طرف رجوع كرے ۔

اگر فرض كر لياجائے كہ ان دو روايتوں ميں اجمال پايا جاتا ہے، تو احمد ابن اسحاق كي روايت كا اطلاق اپنے حال پر باقي رہے گا كيونكہ ان دو روايتوں كے اندر اس كے اطلاق كو مقيد كرنے (تقييد لگانے) كي صلاحيت نہيں ہے ۔

اوراگر ان دو روايتوں ميں اجمال فرض نہ كيا جائے تو دونوں روايتيں دوسري معني ميں ظہور ركھتي ہيں كيونكہ امام عليہ السلام نے اپنے قول ”فليرضوا بہ حكما”اسے قاضي قرار دينے پر رضا مند ہو جاؤ”كي علت اپنے اس قول”فاني قد جعلته عليكم حاكما ”ميں نے اسے تم پر حاكم قرار ديا ہے “كے ذريعے بيان فرمائي ہے اور امام عليہ السلام نے اپنے قول”فارجعوافيها الي رواة احاديثنا ”اور پيش آنے والے واقعات ميں ہماري احاديث كے رواويوں كي طرف رجوع كرو”كي علت اپنے اس قول ”فانھم حجتي عليكم “وہ تم پر ہماري طرف سے حجت ہيں”كے ساتھ بيان فرمائي ہے ا س كا مطلب يہ ہے كہ پہلے ہي سے اس كي حاكميت اور حجيت ثابت شدہ اور تسليم شدہ ہے۔

بيعت كے سلسلے ميں مسلمانوں كي دائمي سيرت

بيعت كے سلسلے ميں مسلمانوں كي سيرت كو دو قسموں ميں تقسيم كيا جاتا ہے۔

۱) مسلمانوں كا ايسے شخص كے ہا تھ پر بيعت كرنا كہ وہ پہلے سے جس كي ولايت كے معتقد نہيں تھے اور بيعت سے پہلے اس كي ولايت پر اعتقاد نہيں ركھتے تھے اس كي بيعت كريں كيونكہ اس كي شان ميں نص كا دعويٰ نہيں تھا، چنانچہ شيعوں كے ائمہ اطہارعليہ السلام كے علاوہ باقي تمام خلفاء كي حالت يہي ہے، در حقيقت يہ بيعت اس لئے تھي تاكہ جس شخص كي بيعت كي جارہي تھي اسے ولايت كي پوشاك پہنائي جائے اس تصور اوراس عقيدے كے ساتھ كہ بيعت اس طرح كي ولايت عطا كرتي ہے۔

خواہ ہم اس قسم كي بيعت كو صحيح فرض كريں خواہ اسے باطل فرض كريں يہ اس چيزسے غير مربوط ہے جس كے متعلق ہم بحث كر رہے ہيں فقط بيعت كو پہلے طريقے سے پيش كرنا ہماري بحث سے مناسب و ساز گار ہے ۔

۲) مسلمانوں كي سيرت اس پر تھي كہ ايسے شخص كي بيعت كرتے تھے جس كے باري ميں ان كا عقيدہ يہ تھا كہ يہ شخص پہلے ہي سے بيعت كے علاوہ كسي اور ماخذ سے ولايت حاصل كر چكا ہے، جيسے مسلمانوں كا رسول خدا كي بيعت كرنا، اورشيعوں كا اپنے معصوم ائمہ عليہم السلام كي بيعت كرنا (مسلمانوں كا پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے متعلق اور شيعوں كا ائمہ عليھم السلام كے متعلق عقيدہ ہے كہ بيعت سے پہلے ان كوولايت حاصل ہے) ۔

معلوم نہيں كہ مسلمانوں كے نزديك يہ بيعت ولي كے اوامر كي اطاعت كے وجوب كے لئے قيد (شرط) ہے ۔تاكہ اس كے ذريعے اطاعت كے دلائل كو مقيد كيا جائے (قيد لگائي جائے) جيسے (اطيعواالرسول)، رسول كي اطاعت كرو “شايد بيعت لينا اس طرح تھا جيسے كسي شخص سے ايسے عمل كو انجام دينے كا عہد وپيمان ليا جاتا ہے جوعمل اس پر پہلے سے واجب تھا، تاكہ يہ عہدوپيمان اس عمل كو انجام دينے كے لئے اس كے ضمير و وجدان كے لئے ايك جديد محرك ثابت ہو ۔

بلكہ يہ احتمال نہيں ديا جاسكتا كہ نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كي بيعت آپكے اوامر كي اطاعت كے واجب ہونے كے لئے شرط تھي اوراسي طرح شيعوں كے سلسلے ميں يہ احتمال نہيں ديا جا سكتا كہ ان كا معصوم عليہ السلام كي بيعت كرنا ان كے اوامر كي اطاعت واجب ہونے كے لئے شرط ہے۔(۱۶۴) ولايت فقيہ كي حدود ضروري ہے كہ ہم تين پہلوؤں سے ولايت فقيہ كي حدود كے سلسلے ميں بحث قرار ديں۔

۳) ولايت فقيہ كے موارد

۴) (اگر ہميں اتفاقا علم ہوجائے) كہ ولي فقيہ كا حكم خطا پر مبني ہے تو يہ علم كس حد تك اس كي ولايت كے نفوذ كي راہ ميں ركاوٹ بنے گا؟

۵) ولايت كے اعتبار سے فقہاء كے درميان ايك دوسري سے نسب ۔

اب ہم ان تين پہلوؤں كي تفصيل بيان كر رہے ہيں:

ولايت فقيہ كے موارد

ولايتوں (جمع ولايت) كے دلائل (روايات) كا اطلاق (عرفي مناسبات كي مدد سے) عام طور پر اس چيز كي طرف منصرف ہے كہ ولايتوں كو تحت ولايت فرد كے نقص و خلاء كوپركرنے اوراس كي كميوں كا جبران كرنے كے لئے جعل كيا گيا ہے (بناياگيا ہے قرارد يا گياہے) اور ولايت فقيہ كے دلائل بھي اس قاعدے سے مستثنيٰ نہيں ہيں ولايت فقيہ كي دليل فقط ان ہي حدود ميں فقيہ كي ولايت پر دلالت كرتي ہے ۔(۱۶۵)

۱) قاصرين(۱۶۶) كے اموال ميں تصرف: كيونكہ خود قاصر كي اجازت بے اثر ہے لہٰذا اگر اس كا كوئي معين ولي (سرپرست) نہ ہوتو اسے ہر صورت ميں ولي امر كي طرف رجوع كرنا ہوگا۔

ولايت فقيہ كي دليل كا اطلاق بھي اسے شامل ہے(۱۶۷) اور فطري اعتبار س ولي پر واجب ہے كہ اپنے زيرسرپرستي افراد كے اموال ميں تصرف كرتے وقت ان كے مفادات اور بھلائيوں كو مدنظر ركھے۔(۱۶۸)

عرفي اعتبار سے ولايت كا مفہوم (چنانچہ ہم بيان كر چكے ہيں) يہ ہے كہ جو چيز زير سرپرستي شخص كو غير قاصر بناديتي ہے گويا ولايت كي وجہ سے اس كانقص اور كمي بر طرف ہوچكي ہے، اور غير قاصر انسان كے كام ميں مصلحت شرط نہيں اور نہ ہي يہ شرط ہے كہ غير قاصر ايسا كام انجام دے سكتا ہے جس كا انجام دينا اس كے ترك كرنے سے بہتر ہو بنا برايں اگر غير قاصر كوئي كام انجام دے (كسي بھي غرض سے) اوراس كام كو ترك كرنا بہتر نہ ہوتو اس كا يہ كام سفاہت (كم عقلي) پر مبني نہيں ہے اور مصلحت و مفسدہ كے معياروں كے خلاف نہيں ہے، جب كہ فرض يہي ہے كہ اس كام ميں عقلائي مصلحت بھي نہيں پائي جاتى، ليكن يتيم كے متعلق آيہ مباركہ( وَلاَتَقْرَبُوامالَ الْيتِيمِ اِلاَّ بِالَّتِي هي احْسَنُ ) سورہ انعام آيت ۱۵۲۔اور خبردار ! مال كے قريب بھي نہ جانا مگر اس طريقہ سے جو بہترين طريقہ ہو ۔

شايدمناسبات حكم وموضوع كي مدد سے ايسے معني پر دلالت كرے جو مذكورہ معني كے مخالف نہ ہو۔ كيونكہ يہ حكم جعل كرنے (قرار دينے) كے پس پردہ يہ حكمت كار فرما ہے كہ يتيم كي بھلائي اور اس كے حالات كو مدنظر ركھا جائے واضح ہے كہ جس كام كو انجام دينا، انجام نہ دينے كے مساوي ہو اگر اسے حرام قرار ديا جائے تو اس كامطلب يہ ہے كہ اس كام ميں يتيم كے لئے مصلحت نہيں پائي جاتي ۔

اگر ولايت كي دليل اس اعتبار سے مطلق ہو تو اس دليل كوآيہ كے ذريعے تخصيص نہيں لگائي جا سكتي۔

كيونكہ ہم كہہ چكے ہيں كہ ولايت كا حقيقي فلسفہ زير سرپرستي افراد كے نقائص كر بر طرف كرنا اور اس كي ضروريات كو پورا كرنا ہے، يہ ولايت، نبي اور امام معصوم عليہ السلام كي ولايت كي مانند نہيں كيونكہ نبي اور امام معصوم عليہ السلام كي ولايت نص كے ذريعے ثابت ہے بلكہ اس كامعني يہ ہے كہ ولي (نبي اور امام معصوم) مومنين كے نفوس پر خود ان كي نسبت زيادہ حق تصرف ركھتا ہے۔

زير سرپرستي شخص كے مصالح ومفاسد كي تشخيص كا معيار ولي كي راي ہے خواہ اس كي راي خطا پر مبني ہو، حقيقي مصالح و مفاسد معيار نہيں ہيں ولايت كا معني يہ ہے كہ ولي كي راي كي پيروي ضروري ہے اس سے مراد يہ ہے كہ اس كے ذريعے زير سرپرستي افراد كے نقائص بر طرف ہوجاتے ہيں۔

مثلاً يہ سفيہ (كم عقل) يا كم سن بچہ اس ولايت كے بعد اپني سفاہت اور كم سني كے (بُري) اثرات سے نجات پاليتا ہے (كيونكہ اب ولي اس كي مصلحت كے مطابق اس كے امور كو انجام ديتا ہے) يہ احتمال كہ ولي مصلحت ومفاسد كي تشخيص ميں اشتباہ كر سكتا ہے، زير سرپرستي افراد كے حق ميں اس كے تصرفات جاري اور مؤثر ہونے كي راہ ميں ركاوٹ نہيں بن سكتا۔افراد كے نقائص بر طرف كرنا اور ان كي ضروريات كو پورا كرنا۔

اس احتمال (غلطي كے امكان) سے منافي ہے۔غلطي اور خطاء ايسي چيز ہے كہ زير سرپرستي شخص خود بھي كبھي كبھار اس كا مرتكب ہو سكتا ہے اگر اس كانقص بر طرف ہوجائے مثلاً بالغ ہو جائے اور اس ميں پختگي آجائے، تب بھي بعض اوقات اپنے تصرفات ميں غلطي اورخطاء كر سكتاہے، ليكن اسے نقص ياعيب شمار نہيں كيا جاتا، تاكہ ولايت كے ذريعے اس نقص كو بر طرف كياجائے ۔نقص سے مراد فقط سفاہت (كم عقلى، درست تصرفات پر قادر نہ ہونا) اور كم سني ہے جس كي تلافي اس كے ولي كي ولايت كے ذريعے ہو جاتي ہے۔

۲) معاشرہ ميں ايسے گناہگار، نافرمان اورسركش افراد پائے جاتے ہيں جو احكام الٰہي اور حق كي بنياد پر قائم ہونے والي اسلامي حكومت كے قوانين پر عمل نہيں كرتے لہٰذا ولي امر كو قوہ مجريہ تشكيل دينے كا حق حاصل ہے تاكہ سركش اور نافرمان افراد پر پوري قوت كے ساتھ ضرب لگا سكے اورانھيں حرام كاموں سے روك سكے ۔اور حدود و تعزيرات(۱۶۹) جاري كرسكے۔ ولايت كي دليل ميں پايا جانے والا اطلاق اسي كا تقاضا كرتا ہے۔(۱۷۰)

۳) بعض اوقات معاشري ميں اختلافات، نزاع جھگڑے وغيرہ پيش آتے ہيں لہٰذا ايك ولي كا وجود ضروري ہے جو اپنے حكم كے ذريعے نزاع وغيرہ كو ختم كرے، ولايت فقيہ كے عمومي دلائل اپنے اطلاق كے ذريعے اس مورد كو بھي شامل ہيں، علاوہ براين يہ منصب (منصب قضاوت) ولي كے لئے نص خاص كے ذريعے بھي ثابت ہے مثلاً مقبولہ عمر بن حنظلہ (جس كے مطابق فقيہ كے لئے قضاوت كا منصب ثابت ہوتا ہے)

۴) معاشري كے افراد (كيونكہ معاشري كي اكثريت يا تو جاہل ہے يا مطلع اور آگاہ نہيں ہے) بعض اوقات سماجي مصالح مفاسد كو تشخيص دينے اورصحيح موقف معين كر نے كي توانائي نہيں ركھتے تاكہ مثال كے طور پر يہ جانا جائے كہ صحيح موقف جہاد ہے يا سكوت؟ اوراس كے علاوہ دوسري امور، پس ا نہيں ايك قائدورہبر كي ضرورت ہے جس كي قيادت كے ذريعے ممكن حد تك معاشرہ ميں بہتري اسكے اور معاشري كي اصلاح ہو سكے، اس مورد كو ولايت فقيہ كي دلائل كا اطلاق شامل ہے۔

ليكن اولي الامر كي اطاعت پر دلالت كرنے والي آيت اوراحمد بن اسحاق كي روايت (جو اطاعت كا حكم ديتي ہے) ميں وہ اشكال ممكن نہيں جو اشكال ولايت كے پہلے مورد ميں بيان ہو چكا ہے، پس كہا جائے گا: يہ دونوں دليليں (آيت اور روايت) فقط يہ دلالت كرتي ہيں كہ ان كے اوامر كي انجام دہي واجب ہے ليكن اس چيز پر دلالت نہيں كرتيں كہ ولي كو حق حاصل ہے كہ طاقت و قوت كے ذريعے لوگوں كو اطاعت پر مجبور كرے اورحدود و تعزيرات جاري كرے۔اس كاجواب وہي ہے جو ہم پہلے بيان كر چكے ہيں ۔پس جواب ميں كہا جائے گا: جب عرف، شخص كے لئے حق اطاعت كي دليل اوراسلام ميں اجبار اور حدود و تعزيرات كے قانون كي ضرورت پر دلالت كرنے والے دلائل كے درميان جمع كرتا ہے (ہماہنگي پيدا كرتا ہے) تو عرف حكم كرتا ہے كہ ولايت مطلق ہے۔پس اس اطلاق ميں تشكيك عرفي نہيں عقلي ہے۔

۵) بعض اوقات اجتماعي مفادات اور بھلائياں، شخصي مفادات، شخصي خواہشات اور شخصي ارادوں سے معارض ہوتے ہيں، عنوان اولي كے مطابق كسي شخص كو اپني ذاتي مصلحت، ذاتي ارادے اور ذاتي رغبت كے خلاف عمل كر نے پر مجبور نہيں كيا جا سكتا ۔كيونكہ يہ اپنے اس ارادے ميں ابتدائي عموعي قوانين كي حدود سے خارج نہيں ہوتا ۔پس اگر اسے ايسے كام پر مجبور كرنا مقصود ہو جو اجتماعي مفادات كے مطابق ہو تو ايسے ولي كي ضرورت محسوس ہوتي ہے جو اپني ولايت كا استعمال كرتے ہوئے يہ كام انجام دے، مثلاً اگراجتماعي مصلحت كا تقاضا قيمتيں معين كرنا ہو، جنس كامالك عنوان اولي كے مطابق مجبور نہيں كہ اپني جنس كومشخص قيمت پر فروخت كرے، اسے اس كام پر مجبور كرنے كے لئے حق ولايت استعمال كرنے كي ضرورت ہے اسے بھي ولايت فقيہ كي دليل كا اطلاق شامل ہے۔

۶) بعض اوقات خود متفقہ موقف ميں مصلحت پائي جاتي ہے مثلاًامت كي مصلحت كا تقاضا ہو كہ متفقہ طور پر ايك موقف اور ايك لائحہ عمل اپنا ياجائے مثلاًچاند كي پہلي تاريخ كا ثابت ہونا، حج كے اوقات روزہ ركھنے اور افطار كرنے كے اوقات مشخص كرنا، جب اجتماعي ضرورت كا تقاضا ہو كہ اس قسم كے اوقات معين كئے جائيں تو ظاہراً يہ مورد بھي ولايت فقيہ كے دلائل كے اطلاق ميں شامل ہوگا۔(۱۷۱)

حاكم كے حكم ميں خطاو لغزش

اگر علم ہو جائے كہ حاكم كا حكم خطاء پر مبني ہے تو اس علم كا حاكم كے حكم كے نافذ ہونے پر كيا اثر پڑے گا ۔

حاكم كا حكم دو طرح كاہے

۱) ايسا حكم جس ميں حاكم فقط يہ چاہتا ہے كہ حكم شرعي نافذ ہو، جب كہ حاكم اس كام كو ضروري قرارنہيں ديتا ہے، لہٰذااگر حكم سے پہلے وہ كام ضروري نہ ہو تو حاكم اسے ضروري قرار نہيں ديتا، مثلاً حاكم چاند نظرانے كا حكم كرتا ہے، در حقيقت حاكم خبر ديتا ہے كہ چاند نظرآچكا ہے اور چاند كا ثابت ہونا جن امور (احكام) كا تقاضا كرتا ہے حاكم ان امور كو انجام دينے كا مطالبہ كرتا ہے، دوسري مثال: شككيات كي صورت ميں حاكم نزاع وغيرہ كا فيصلہ اپني تشخيص كے مطابق كرتا ہے يعني خود تشخيص ديتاہے كہ طرفين ميں سے كون حق پر ہے، حاكم كے ايسے حكم كو فقہ كي اصطلاح ميں حكم كاشف كہا جاتا ہے ۔

۲) وہ حكم جس ميں حاكم كا كردار يہ ہوتا ہے كہ (اپنے منصب و لايت كو بروئے كار لاتے ہوئے) اگر چہ حاكم كے حكم سے پہلے وہ كام شرعي طور پر لازم و ضروري نہيں ليكن حاكم اپنے حكم كے ذريعے اس چيز كو لازم و ضروري قرار ديتا ہے، حكم كي اس دوسري قسم كو فقہ كي اصطلاح ميں ولايتي حكم كا نام ديا جاتا ہے(۱۷۲)

جب حاكم كسي شئ كو لازمي و ضروري قرار ديتاہے (حتيٰ اس صورت ميں بھي كہ جب حكم سے پہلے وہ چيز شرعاً لازمي نہيں ہوتي) تواس كاپردہ درج ذيل دوامور ميں سےكوئي ايك امرہوتا ہے:

۳) حاكم حكم كے متعلّق ميں ملاك ومصلحت ديكھتا ہے اوراس كے باوجود اس كے بعض اوقات حكم سے پہلے فرد كے لئے وہ چيز لازمي نہيں ہوتى، اس بنياد پر كہ خود حكم حاكم مصلحت كے وجود ميں آنے ميں مؤثر ہوتا ہے ۔جيسے حاكم بعض اجناس كي قيمتيں معين كرنے كاحكم ديتا ہے، كبھي معاشري كا فرد درك كرتا ہے كہ معاشري كو اجناس كي تعيين شدہ قيمتوں كا پابند بنانے ميں شديدمصلحت پائي جاتي ہے كيونكہ اگر انھيں پابند نہ بنايا جائے تو مسلم معاشري كے بعض افراد كي اقتصادي حالت اس حدتك خراب ہو جاتي ہے كہ ہميں يقين ہے كہ اسلام اسے پسند نہيں كرتا وہ اسلام جس كا نظر يہ ہے كہ اگر كسي شخص نے ايسي حالت ميں صبح كي كہ اس نے مسلمانوں كے امور كو اہميت نہ دي وہ مسلمان نہيں ہے۔

ليكن اس كے باوجود حاكم كے حكم سے پہلے اس شخص پر واجب نہيں كہ اپنےآپكو اس مقرر ہونے والي قيمت كا پابند بنائے كيونكہ وہ جانتا ہےاگر قائد و رہبر موجود نہ ہوجو اس طرح اشياء كي قيمتيں مقرر كرنے كے معاملہ ميں معاشري كي رہبري و قيادت كرے تواس حالت ميں، اگر چہ ميں مقرر قيمت كي پابندي كروں تب بھي اس پر كوئي خاطر خواہ فائدہ مرتب نہيں ہوگا كيونكہ دوسري لوگ جنھوں نے اس اقتصادي مصلحت كو درك نہيں كيا يا اسے اہميت نہيں ديتے وہ اس مقرر قيمت كي پابندي نہيں كريں گے، اگر ميں اكيلا مقرر قيمت كي پابندي كروں تو اس كا كوئي خاص اثر نہيں ہوگا، اس صورت حال ميں قائد ورہبر معاشري كي قيادت كي غرض سے اشياء كي قيمتيں مقرر كرنے كے ذريعے مداخلت كرتا ہے اور يہ چيز مصلحت كو وجود ميں لانے ميں مؤثر ہے، اسلام كے لئے ممكن نہ تھا كہ صالح قيادت كي نظارت كو فرض كئے بغير جو مخصوص حالات اور شرائط زمان و مكان كو مد نظر ركھتى، اپنے قوانين ميں اس قسم كي مصلحتوں كو معين كرتا ۔

گويا يہ منطقۃالفراغ ہے جس كوپر كرنے كي ذمہ داري ولي امر كو سونپي گئي ہے۔

۴) حاكم تشخيص ديتا ہے كہ ان حالات ميں متقفہ موقف اختيار كرنے ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے اوراس سے قوم ميں اتحاد و يكجہتي وجود ميں آئے گي اوران كي صفوں ميں نظم وضبط اوراستحكام پيدا ہوگا، لہٰذا حاكم ايك معين موقف اختيار كرتا ہے اوراسے معاشري كے لئے ضروري قرار ديتا ہے، حتي اگر فرض كر ليا جائے كہ يہ موقف اور لائحہ عمل قابل تصور دوسري لائحہ عمل سے اس حد تك بہتر نہيں ہے تا كہ اسے لازمي طورپر اپنايا جائے لہٰذا حاكم كے حكم سے پہلے معاشري اس موقف كو اپنانا واجب نہيں تھا)

ليكن دوسري قسم يعني حكم كاشف (جيسے رؤيت ہلال سے متعلق حكم) اس شخص كے لئے مؤثر اور نافذ نہيں ہے جسے علم ہو كہ اس حكم ميں حاكم نے خطا كي ہے، كيونكہ قرائن اور عرفي مناسبتوں(۱۷۳) كاتقاضاہےاورحكم كو حجت قرار دينےوالي دليل سےبھي ظاہرہوتا ہے كہ كيونكہ حكم، امارہ(۱۷۴) ہے اورواقع كو كشف كرتاہے اس لئے حكم كو حجت قرار ديا گيا ہے۔اور جب علم ہو جائے كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے تو اب يہ حكم اپني كاشفيت كھو ديتا ہے (واقع كو كشف نہيں كرتا) اور حجيت سے ساقط ہو جاتا، حكم كي اس قسم كي حالت وہي ہے جو روايت و فتويٰ كي ہے ان سب ميں اصل يہ ہے كہ جب خطا كا علم ہو جائے تو ان كي حجيت ختم ہو جاتي ہے۔ليكن قضاوت اور شككيات كے فيصلہ كے باب ميں حاكم كا حكم اس قانون سے مستثنيٰ ہے يعني اگر چہ اس كا خلاف واقع ہونا ثابت ہو جائے اس كے باوجود اس كي حجيت بر قرار رہتي ہے كيونكہ مقبولہ عمر بن حنظلہ دلالت كرتي ہے كہ اس باب ميں حاكم كا حكم نافذہے حتي اس شخص پر بھي نافذ ہے جو علم ركھتا ہو كہ حاكم كا حكم خلاف واقع ہے، يعني اس كے لئے ا ُس حكم كے خلاف عمل كرنا جائز نہيں ہے جسے حاكم نے لازمي وضروري كرديا ہے پس مثلاًمحكوم عليہ (جس كے خلاف فيصلہ ہو اہے) كو علم ہے كہ ميں حق پر ہوں ليكن اس كے باوجود اس پر واجب ہے كہ حاكم كے حكم كے سامنے سر تسليم خم كرے كيونكہ قرائن ومناسبات عرفي كي مدد سے ہم دليل سے يہ سمجھتے ہيں كہ فقط اس لئے قاضي كے لئے منصب قضاوت قرارديا گيا ہے تاكہ وہ نزاع و جھگڑوں ميں فيصلہ كر سكے، اب اگر يہ كہا جائے كہ جسے حكم كي خطا كا علم ہو جائے اس پر يہ حكم نافذ نہيں ہوگا، تو محكوم عليہ (جس كے خلاف فيصلہ ہوا ہے) اكثر و اوقات دعويٰ كر سكتا ہے كہ مجھے علم ہے يہ حكم خطاء پر مبني ہے، اور يہ نزاع، جھگڑے اور دشمني كو ختم كرنے سے منافي ہے (يعني اس صورت ميں نزاع وغيرہ ختم نہيں ہو سكے گي)

جب كہ حكم كي دوسري قسم يعني حكم ولايتي احكام ظاہري كي سنخ سے نہيں ہے، مذكورہ مطالب كا تقاضا يہ ہے كہ اگر چہ خود حكم كي خطا كا علم نہ ہو ليكن حاكم كے حكم كے منبع ومآخذ كي خطا كا علم ہو جائے تب بھي حكم كي حجيت ختم ہوجائے ۔

ہاں قاضي كا حكم اس شخص كے لئے كسي حرام كام كو جائزنہيں بناتا جسے اس كام كي حرمت كا علم ہو، پس جس كے حق ميں فيصلہ ہوا ہے اگر وہ جانتا ہوكہ ميرا مخالف حق پر ہے تو اس پر واجب ہے كہ اس كاحق اس كے حوالے كردے۔فقط حاكم كا اس كے حق ميں فيصلہ دينا اس كے لئے جائز قرار نہيں ديتا ہے كہ وہ باطل پرڈٹا رہے۔

ليكن ولايتي حكم ميں خطا كا معلوم ہونا درحقيقت بے معني ہے كيونكہ ولايتي حكم ميں حاكم حكم كو وجود ميں لانے والا ہے قطع نظر اس سے كہ حاكم كے حكم سے پہلے اس طرح كا حكم شريعت ميں موجود تھكيا نہيں تھا،(۱۷۵) ہاں بعض اوقات شخص دعويٰ كر سكتا ہے كہ مجھے علم ہے كہ اس حاكم نے فلاں موقف اختيار كرنے ميں خطا كي ہے اور بہتر تھا كہ حاكم يہ حكم نہ كرتا يا بہتر تھا كہ اس كے بر عكس حكم كرتا، ليكن يہ علم حكم كو نفوذ و حجيت سے نہيں گراتا كيونكہ حاكم كي ولايت كا معني يہ ہے كہ زير سرپرستي شخص نے نہيں بلكہ حاكم نے موقف معين كرنا ہےحاكم كي ولايت كي دليل كےاطلاق كا تقاضا يہ ہے كہ اس كاحكم اس صورت ميں بھي نافذ ہے جب شخص كو علم حاصل ہوجائے كہ حاكم نے موقف اپنانے ميں خطاكي ہے۔

ہاں اگر شخص معتقد ہو كہ جس كام كا حاكم نے حكم ديا ہے وہ حرام ہے تو اس شخص پر حاكم كا حكم نافذ نہيں ہوگا (اگر چہ حاكم كے لئے جائز ہے كہ اسے يہ حكم ماننے پر مجبور كرے بشرطيكہ اجتماعي مصلحت كا تقاضا يہي ہو) يہاں پر حاكم كے حكم كے نافذ نہ ہونے اور حجت نہ ہونے كا سبب واضح ہے كيونكہ حاكم كي ولايت فقط واجبات شرعي كے دائري تك محدود ہے اور فقيہ كو حق حاصل نہيں كہ حرام كو حلال قرا ردے ديا واجب كو ساقط كرے (جائز قرار دے) ۔يہ موارد عرفي مناستبوں اور عرفي ذہنيت كي روسے اطلاقات كے دائري سے خارج ہيں۔

صاحب شريعت كي طرف سے كسي شخص كوولي قرار دينے كا عرفي طور پر مطلب يہ ہے كہ صاحب شريعت نے اسے شريعت اور احكام شريعت كے دائري اور شريعت كي حدود ميں ولي بنايا ہے ۔(۱۷۶)

فقيہ حاكم كا حكم اور دوسري جامع الشرائط فقہاء

ہم يہاں پر اس كلام كي وضاحت درج ذيل امور كے ضمن ميں كرتے ہيں:

۱) حاكم كا قاصرين كے اموال ميں تصرف نافذ ہے يہاں تك كہ فقہاء كو اس حكم كي مخالفت نہيں كرني چاہئے اگر چہ بعض فقہاء معتقد ہوں كہ حاكم نے قاصر كي مصلحت كي تشخيص ميں خطا كي ہے كيونكہ ولي كا تصرف خودمالك كے تصرف كا حكم ركھتا ہے جس طرح ولي زير سرپرستي افراد كي مصلحت تشخيص ديتے وقت بعض اوقات اشتباہ كر سكتا ہے اسي طرح خودمالك بھي بعض اوقات اس اشتباہ كا مرتكب ہوسكتا ہے ۔

ولي كي اجازت سے انجام پانے والا معاملہ جس دليل كي بنياد پرصحيح ہے اسي دليل كي بنياد پر يہاں بھي معاملہ صحيح كےآثار مرتب ہوں گے (خواہ يہ معاملہ خود شخص انجام دے يا بعض مخصوص حالات ميں اس كا ولي و سرپرست انجام دے)

۲) اختلافات و شككيات كے فيصلہ كے باب ميں قاضي كا حكم سب كے لئے حتي فقيہ كے لئے بھي نافذ ہے ۔

مقبولہ عمر بن حنظلہ ميں حكم كے نفاذ كے لئے يہ شرط پائي جاتي ہے كہ طرفين نزاع ميں سے كوئي ايك طرف جامع الشرائط فقيہ نہ ہو، وہ قرائن اورعرفي مناسبتيں جو فہم الفاظ ميں مؤثر ہيں ان كا تقاضا بھي يہي ہے كہ حكم كا نفاذ اس شرط سے مشروط نہيں ہے اختلافات اور شككيات كا فيصلہ كرنا ضروري ہے اور ہميشہ ايسا نہيں ہوتا كہ طرفين جامع الشرائط فقہاء كے علاوہ دوسري لوگ ہوں اسي طرح دشمني و اختلافات كو ختم كرنے كے باب ميں بھي قرائن اورعرفي مناسبتوں كا تقاضا يہي ہے كہ قاضي كا حكم حتي طرفين نزاع كے علاوہ باقي تمام لوگوں كے لئے بھي نافذ و قابل اجراء ہے جن ميں فقہاء بھي شامل ہيں۔

۳) حاكم كا وہ حكم جو واقع كو كشف كرتا ہے (اگر چہ باب قضاء كے علاوہ كسي اور باب ميں ہو جيسے رؤيت ہلال كا حكم) اس فقيہ پر بھي نافذ ہے جو حاكم كے حكم كے منبع وماخذ سےآگاہ نہ ہو ۔معاشري پر حاكم كي ولايت ثابت كرنے والي دليل كے اطلاق كا تقاضا يہي ہے كہ ولايت كا فلسفہ معاشري كے نقائص كو بر طرف كرناہے ِوہي نقص جو باقي تمام افراد ميں موجود ہے (وہ حاكم كے حكم كے منبع وماخذ سےآگاہ نہيں ہيں) اس فقيہ ميں بھي (موجودہ فرض كے مطابق) پايا جاتا ہے -

احمد بن اسحاق كي روايت بھي دلالت كرتي ہے كہ امام عليہ السلام نے احمدبن اسحاق كو عمري سے رجوع كرنے كا حكم اس لئے ديا كہ عمري روايات نقل كرنے والا قابل اعتماد اورمورد اطمينان شخص ہے جب كہ خود احمد بن اسحاق بھي جليل القدر اور قابل اعتماد راويوں ميں سے تھے۔

۴) قاصرين كے اموال ميں تصرف كے علاوہ باقي موارد ميں حاكم كا ولايتي حكم (اگر ہم اس كا مقايسہ ايك اورجامع الشرائط فقيہ كے ساتھ كريں) درج صورتوں سے خارج نہيں ہے:

پہلي صورت: يہ فقيہ آگاہ نہ ہوكہ حاكم كي طرف سے اپنا يا جانے والا مؤقف كس حد تك صحيح ہے ۔دليل ميں پائے جانے والے اطلاق كي بنياد پر اس فقيہ پر حاكم كا حكم نافذ ہوگا خصوصاً جب اس چيز كو مدنظر ركھا جائے جسے ہم نقل كر چكے ہيں كہ احمد بن اسحاق كو امام عليہ السلام نے عمري سے رجوع كرنے كا حكم اس لئے ديا كيونكہ عمرى، راوي قابل اعتماد اورمورد اطمينان شخص تھے جب كہ خود احمد بن اسحاق بھي عظيم الشان قابل اعتماد راويوں ميں سے تھے ۔

دوسري صورت: يہ فقيہ جا نتا ہو كہ كيونكہ اس مؤقف ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي تھي لہٰذا حاكم نے يہ مؤقف اختيار كيا ہے لہٰذا يہ مؤقف صحيح ہے تو اس فقيہ كے لئے حاكم كے حكم پر عمل كرنا واجب ہے البتہ نہ اس بنياد پر كہ حاكم كا حكم نافذ ہے بلكہ اپني راي كي بنياد پر (كيونكہ اسے مؤقف كے صحيح ہونے كا علم ہے) اورولايت كي دليل بہ طور مساوي دونوں (حاكم فقيہ اورعام فقيہ) كو شامل ہے، اور يہ فقيہ اس نقص (مؤقف سے عدم آگاہي) ميں مبتلا نہيں ہے جس ميں دوسري لوگ مبتلا ہيں۔عرفي طور پر اس سے يہي سمجھا جاتا ہے كہ حاكم كي ولايت پر دلالت كرنے والي دليل كا اطلاق اس مورد سے منصرف ہے (اس مورد كو شامل نہيں ہے)

تيسري صورت: يہ فقيہ مطلع ہو كہ حاكم كي طرف سے اپنايا جانے والا مؤقف صحيح ہے ليكن يہ اعتقاد نہ ركھتا ہو كہ خوداس موقف ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے ۔

مثلا ديكھتا ہے كہ اس مؤقف كے علاوہ ايك اورموقف بھي پايا جاتا ہے جس كو اپنانا صحيح تھا اگر چہ فقيہ نے جو موقف اپنايا ہے وہ اپنے مقام پر صحيح ہے ليكن دوسري موقف سے وجوب كي حد تك بہتر و برتر نہيں ہے اس صورت ميں عام طور پر فقيہ پر واجب ہے كہ حاكم كے حكم كا اتباع كرے تاكہ متفقہ مؤقف وجود ميں آئےاورمسلمانوں كي صفوں ميں نظم و ضبط اوراستحكام پيدا ہو۔

چوتھي صورت: يہ فقيہ جانتا تو ہے كہ حاكم كا مؤقف خطا پر مبني ہے ليكن ساتھ ہي ساتھ معتقد ہے كہ حاكم كے اتباع ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے تاكہ متفقہ مؤقف اور لائحہ عمل اپنايا جائے اور مسلمانوں كي صفوں ميں نظم وضبط اور استحكام پيدا ہوسكے ۔پس اس فقيہ پر اس بنياد پر نہيں كہ حاكم كا حكم نافذ ہے بلكہ خود اپني راي كي بنياد پر حاكم كا اتباع واجب ہے، چنانچہ گذر چكا ہے كہ ولايت فقيہ كے دلائل كا اطلاق اس مورد كو شامل نہيں ہے۔

پانچويں صورت: فقيہ جانتا ہو كہ حاكم كا مؤقف خطا پر مبني ہے ليكن عقيدہ نہ ركھتا ہو كہ حاكم كي اطاعت ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے بلكہ اس كا عقيدہ يہ ہو كہ حاكم كے حكم ميں پائے جانے والے نقص و عيب كا اعلان نہ كرنے ميں وجوب كي حدتك مصلحت پائي جاتي ہے، تاكہ مسلمانوں كي صفوں ميں انتشار پيدا نہ ہو اس صورت ميں اس فقيہ پر حاكم كے حكم كا اتباع واجب نہيں ہے ليكن حاكم كے حكم كو نقض كرنا حرام ہے۔

چھٹي صورت: يہ فقيہ جانتا ہو كہ حاكم كا حكم خطا پر مبني ہے ليكن يہ عقيدہ نہ ركھتا ہوكہ حاكم كے حكم كے اتباع ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے اور نہ ہي يہ اعتقادركھتاہو كہ اس وقت سكوت اختيار كرنے ميں وجوب كي حد تك مصلحت پائي جاتي ہے مثلاً اس فقيہ كا عقيدہ ہو كہ حاكم كي خطا پر خاموش رہنے كا نقص مسلمانوں كي صفوں كو مستحكم كرنے كي مصلحت سے زيادہ شديد ہے، يہاں پر بھي اس فقيہ كے لئے حاكم كے حاكم كو نقض كرنا جائز ہے۔

شوريٰ اور ولايت فقيہ كا تقابلي جائزہ

واضح ہوچكا ہے كہ حكومت اسلامي كا نظام عادل، باصلاحيت اور لائق فقيہ كي ولايت كي بنياد

پر استوار ہے اورشوريٰ (دوسروں كےآراء و افكار خصوصاً زندگي كے ہر شعبہ ميں اس شعبے كےماہر افراد كےآراء وافكار سے راہنمائي لينا) عام حالات ميں واجب ہے كيونكہ امت كي مصلحت اسي ميں ہے اورامت كي مصلحت كو مد نظر ركھنا ولي امر پر واجب ہے۔

ليكن زمانہ غيبت ميں حكومت كي شكل سے متعلق جزئيات و تفصيلات كتاب سنت ميں ذكر نہيں ہوئيں مثلاً يہ كہ كيا حكومت كا سربراہ ايك فقيہ ہوگا يا فقہاء كي كميٹى؟

كيا امت قانون سازي اور قانون نافذ كرنے كے لئے فقط ايك اسمبلي يا دو اسمبلياں يا دو سے زيادہ اسمبلياں منتخب كرے گى؟

اگر اتنخاب ميں فقہاء كے درميان يا امت كے درميان اختلاف پيدا ہو جائے توكيا كميت و كثرت كو معيار قرار ديا جائے گا يا كيفيت كو؟

فقيہ منطقۃالفراغ ميں احكام شرعي كي حدود ميں رہتے ہوئے جو قانون سازي كرتا ہےكيا اس قانون سازي ميں عام لوگوں كےآراء كو مدنظر ركھا جائے گا كيا عام لوگوں كےآراء كو شمار كيا جائے گا؟ كيا ان كےآراء و نظريات قانون سازي ميں مؤثر ہوں گے؟ اور اگر مؤثر ہوں گے تو كس حدتك مؤثر ہوں گےاوركن شرائط كي موجودگي ميں مؤثرہوں گےيا بالكل مؤثر نہيں ہوں گے؟

لوگوں كے مختلف طبقوں ميں سے كس طبقہ كے سامنے امور كو مشورہ كي غرض سے پيش كيا جائے گا؟ تمام لوگوں سے مشورہ ليا جائے گا يا فقط فقہاء سے يا فقط ان موضوع كےماہرين سے؟ اور كيا مشورہ كرنے كے بعد حكومت اپني مرضي پر عمل كرے گي يا ہر حالت ميں حكومت مشورہ دينے والوں كےآراء كا اتباع كرے گى؟ اور اس اتباع كي حد كيا اور كہاں تك ہوگى؟ اور ا ن كے علاوہ دوسري متعدد سوالات ۔

ان سب سوالات كا جواب يہ ہے: اسلام نے اس سلسلے ميں كوئي خاص شكل و صورت معين نہيں كي بلكہ زمان ومكان اور شرائط كے اختلاف سے يہ امر (حكومت كي شكل) بھي مختلف ہوگا يہ تشخيص دينا ولي فقيہ كي ذمہ داري ہے كہ كن شرائط ميں نظام كي كون سي شكل مناسب ہے۔اور اسي طرح ان مناسب بنيادي قوانين و ضوابط كا انتخاب بھي ولي فقيہ كي ذمہ داري ہے جن قوانين پر حكومت عمل پيرا ہو گي۔

اسلام كي طرف سے مختلف حالات و شرائط سے ہماہنگ مختلف نظام پيش نہ كرنا اسلام كے لئے

نقص كا سبب نہيں بلكہ اسلام كي نمكيا خوبي ہے گويا مختلف نظام پيش نہ كرنے كے ذريعے يہ بيان كيا گيا ہے كہ اسلام ميں لچك پائي جاتي ہے اور اسلام قابل انعطاف ہے يہي وجہ ہے كہ اسلام مختلف زماني ومكاني شرائط اور مختلف حالات ميں نافذ ہونے كي صلاحيت ركھتا ہے يہاں پر وہ اشكال نہيں كياجا سكےگا جو بعض اہل سنت اہل قلم كے قول پر كيا گيا تھا كہ حكومت كي تاسيس شوريٰ كي بنياد پر ہے، ان كا كہنا تھا كہ اسلام كا شوريٰ كي شكل اوراس كي حدود و شرائط كا معين نہ كرنا اسلام كے لئے ايك زبردست خوبي ہے جو اسلام كو دوسري اديان سے ممتاز بناديتي ہے اور يہي اسلامي نرمي اور اسلام كا قابل انعطاف ہونا اسلام كو ہر زمان و مكان ميں نفاذ كے قابل بنا ديتا ہے ۔

ہم نے اس كلام پر يہ اشكال كيا تھا كہ اگر اسلام نے لچك دار اور قابل انعطاف قاعدہ عطا كيا ہوتا جو ہر زمان و مكان ميں يكساں تھا ليكن مصاديق اور نفاذ ميں مختلف تھا اس كے باوجود كہ يہ قاعدہ مصاديق كے اعتبار سے مشخص تھا، ليكن پھر بھي عام طور پر مشخص تھااوراس كے عمومي پہلو ميں كوئي ابہام اور پيچيدگي موجود نہ تھي تو اسے اسلام كي نماياں خوبي كہا جاسكتا تھا ليكن شورائي نظام نے اس طرح عام اصول عطا نہيں كيا، اور يہ نظام عظيم پيچدگيوں اور ترديدوں ميں مبتلاہے اور اس سے متعلق متعدد سوالا ت كئے جاتے ہيں جن ميں سے بعض سوالات گذر چكے ہيں ليكن اسلام كي طرف سے ان سوالات كا كوئي جواب اور راہ حل سامنے نہيں كيا لہٰذا يہ اسلام كے لئے نماياں خوبي نہيں بلكہ واضح طور پر ايك نقص اور خامي ہے مثلاً ہم نہيں جانتےكياولايت كا حق ان كو حاصل ہے جو تعداد كے اعتبار سے اكثريت ميں ہوں يا ولايت ان كا حق ہے جو كيفيت كے اعتبار سے بہتر ہوں (مثلاً فقہاء)؟ اور اس كے علاوہ متعدد دسيوں سوالات۔

جب كہ ولايت فقيہ ميں ہم نے جس چيز كو بنياد قرار ديا ہے اس ميں اس طرح كي خوبياں نہيں پائي جاتيں ۔اور بطور كبريٰ (قاعدہ كلي) ولايت معين حدود و قيود كے ساتھ مشخص صفات كے حامل فقيہ كے لئے ثابت ہے اور ہر زمان ومكان ميں ولي اپني صلاحيتوں كو بروئے كار لاتا ہے اور اپني ولايت كے ذريعے نظام حكومت اور ان نظاموں كے بنيادي قوانين اور تفصيلات طے كرتا ہے جن نظاموں پر امور مرتب ہوتے ہيں، اور ولي معين كرتا ہے كہ كس طرح

اوركس حد تك شوريٰ، لوگوں كےآراء وافكار، انتخابات اور اسمبلي وغيرہ پر اعتماد كيا جائے البتہ فقيہ مصلحت كو مدنظر ركھتے ہوئے ان امور كو خود تشخيص ديتا ہے اور يہ مصلحت زمان ومكان اورظروف وغيرہ كے بدلنے سے بدلتي رہتي ہے، ولو اسلام نے ان امور كو تشخيص نہيں كيا ليكن يہ بيان كيا ہے كہ ہر زمان ومكان ميں ان امور كي تشخيص كے لئے كس كي طرف رجوع كيا جائے، اور بيان كيا ہے كہ وہ مرجع فقيہ ہے جس ميں ولايت كي شرائط موجود ہوں بعض اوقات كہا جاتا ہے كہ اس اسلامي نرمي اور اس مسئلہ ميں تفصيلات طے كرنے كي ذمہ داري فقيہ كے سپرد كرنے كي كوئي ضرورت ہے نہيں تھي۔

بلكہ بہتر يہ تھا كہ تفصيلات بيان كي جاتيں كيونكہ انسان كا انسان سے رابطہ اورانسان كي بعض ضروريات دائمي اور ہميشگي ہيں اور ان ميں تبديلي نہيں آتي مورد نياز ثابت وغيرمتغير امور جب كہ انسان كا طبيعت سے رابطہ اس نوعيت كاہے جو وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ اور طبيعي قوتوں پر انساني تسلط كي مقدار كے مختلف ہونے، اور پيداوار كے وسائل كي ترقي كے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے لہٰذا فطري طور پر (اسلام نے) اقتصادي احكام ميں منطقۃالفراغ چھوڑا ہے تاكہ ولي اس خلاء كو پر كرنے كے لئے اقتصادي قوانين وضع كرے ليكن يہ فطرت سے ہماہنگ نہيں كہ اسلام نظام حكومت ميں خلاء (منطقہ الفراغ) باقي ركھے جسے ولي امر پر كرے كيونكہ انسانوں كے باہمي روابط جس چيز كے نياز مند ہيں اس ميں تبديلي واقع نہيں ہوتي لہٰذا وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ نظام حكومت كي تفصيلي شكل بھي تبديل نہيں ہوتي تاكہ منطقہ الفراغ فرض كرنے كي ضرورت پيش آئے جس كو ولي پر كرے۔

ليكن حقيقت يہ ہے كہ نظام حكومت ميں دوامر مؤثر ہيں:

۱) وہ دوسري ممالك جو اپنے لئے مخصوص قوانين بناتے ہيں ان ممالك كے مقابلے ميں اسلامي حكومت كے پاس اپني مخصوص پاليسياں اور منصوبے ہوتے ہيں اور ان ممالك سے روابط كي كيفيت بھي مشخص ہوتي ہے كيونكہ ان ممالك كے بنائے ہوئے قوانين فطري طورپر وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ تبديل ہوتے رہتے ہيں جس كے نتيجے ميں حكومت اسلامي كي بعض پاليسياں بھي تبديل ہو جاتي ہيں كہ اسلامي حكومت عالم نظاموں كے درميان اپني اہم اورحساس حيثيت كو برقرار ركھتے ہوئے اس حيثيت سے ہماہنگ قوانين كے ذريعے اسلامي نظام حكومت كو منظم كر سكے۔

۲) نظام حكومت كي سطح(۱۷۷) پر لوگوں كے باہمي روابط كے تقاضے درج ذيل امور كے مختلف ہونے سے تبديل ہوتے رہتے ہيں: زمانے كے اعتبار سے اختلاف، معاشرتي اختلاف وسائل كے لحاظ سے اختلاف، افراد كي قلت وكثرت، وقت گذرنے كے ساتھ ساتھ اجتماعي مسائل و پيچيدگيوں ميں اضافہ، حكومت كي حدود ميں توسيع اورحكومت كا متعدد معاشروں پر مشتمل ہونا وغيرہ، بلكہ بعض اوقات ايك ہي زمانہ ميں ايك مسئلہ دو معاشروں ميں مختلف ہوتا ہے، مثلاً شوريٰ يا انتخاب (اگر ولي تشخيص دے كہ شوريٰ يا انتخاب ميں مصلحت پائي جاتي ہے) كي شكل معاشري كے افراد كي تعداد، معاشري كي پيچيدگي اور معاشري كے اندروني حالت اور دوسري شرائط كے اختلا ف اور معاشرتي تفاوت كي وجہ سے مختلف ہوتي ہے ۔

پس كيا نرمي اور اسلام كا انعطاف پذير ہونا ضروري تھا؟ كياايسے مرجع كو معين كرنا ضروري تھا جس كي طرف ہر زمان ومكان ميں اسلامي نرمي كے نتيجے ميں چھوڑے جانے والے خلاء كو پر كرنے كے لئے رجوع كيا جاتا، اس سلسلے ميں اسلام نے جامع الشرائط فقيہ كو معين كيا ہے۔

يہ بات مكمل طور پر اس نرمي سے مختلف ہے جو نرمي اور لچك شورائي نظام ميں فرض كي گئي تھي اور اس نرمي سے پيدا ہونے والے خلاء (منطقۃ الفراغ) كو پر كرنے كے لئے كسي مرجع كومعين نہيں كيا گيا جس كي طرف رجوع كيا جائے۔

ليكن اس كے باوجودممكن ہے ولايت فقيہ پر شورائي نظام پر كئے جانے والے اشكال سے مشابہ اشكال كيا جس كے يہ اشكال درج ذيل مختلف طريقوں سے بيان كيا جا سكتا ہے:

پہلا بيان

ولايت فقيہ كو ثابت كرنا اوراس كي حدود و شرائط معين كرنا (چنانچہ گذشتہ بحثوں كي طرف رجوع كرنے سے واضح ہوجاتا ہے) كوئي اسان كام نہيں بلكہ ان سب امور كو ثابت كرنے يا ان كي نفي كرنے كے لئے بحث وگفتگو كي ضرورت ہے اسلام نے شريعت كے اہم ترين امر كي وضاحت نہيں كي جس كے ذريعے اسلامي حكومت الٰہي حدود كي حفاظت كرتي ہے اوراحكام كا نفاذ كرتي ہے، اسلام ميں اس اہم امر كي وضاحت نہ كرنا اور اسلامي نظاموں اوراسلامي قوانين كي تفصيلات و جزئيات كے بيان پر مشتمل تفصيلي شرعي نصوص كا شارع كي طرف سے جاري نہ ہونا كيا معني ركھتا ہے؟ !

مگر يہ فرض كيا جائے كہ خداوند متعال كو معلوم تھا كہ غيبت كے زمانے ميں مومنين ہرگز صحيح اسلامي حكومت قائم كرنے ميں كامياب نہيں ہوسكيں گے ۔

جواب: زمانہ غيبت ميں اسلامي حكومت كي بنياد و اساس كچھ ابہاموں اور پيچدگيوں سے دو چار ہے جس كي وجہ سے ضروري ہے كہ علمي بحث كے ذريعے اس كے چہري سے گردو غبار كو صاف كيا جائے لہٰذا يہ نہيں كہا جا سكتا كہ اسلام ميں نقص ہے، اس دعويٰ پر بھي كوئي دليل نہيں ہے كہ اسلام نے حكومت كے لئے كوئي نظريہ اس لئے پيش نہيں كيا كيونكہ معلوم تھا كہ زمانہ غيبت ميں مسلمان اسلامي حكومت تشكيل دينے ميں كامياب نہيں ہوں گے نصوص كے زمانہ كو كئي سو سال گذرنے جانے بعد دليل ميں اس قسم كي پيچيدگيوں كا وجود ميں آنا ايك فطري امر ہے ۔خصوصاً يہ موضوع بھي ايسا ہے كہ نہ ہي نص كے زمانہ ميں اور نہ اس كے بعد جس كے نفاذ كي شرائط فراہم نہيں ہوسكيں تاكہ يہ موضوع لوگوں كے ذہنوں ميں راسخ ہوجاتا، ہم سب جانتے ہيں كہ زمانہ نص سے دوري نصوص كے ضائع ہونے اورسندوں كي پيچيدگي ميں كس قدر مؤثر ہے، بلكہ زمانہ نص سے دوري بعض اوقات دلالت ميں بھي پيچيدگيوں كا سبب بنتي ہے۔

دوسرا بيان

اسلامي شريعت ميں ولايت كو كسي خاص فقيہ كے لئے نہيں معين كيا گيا ہے بلكہ تمام جامع الشرائط فقہاء كے لئے قرار ديا گيا ہے اس حكم ميں ايك عظيم حكمت پوشيدہ ہے كيونكہ كوئي بھي جامع الشرائط فقيہ امام عليہ السلام كي طرح معصوم نہيں ہے تا كہ يہ عظيم منصب اس كو عطا كيا جائے ۔بلكہ ممكن ہے كہ كوئي فقيہ كسي موقع پر كسي بڑي خطا كا مرتكب ہوجائے اور اسلامي معاشري كو عظيم خطرات لاحق ہوجائيں، لہٰذا ضروري ہے كہ كسي خاص فقيہ كو اس منصب كے لئے معين نہ كيا جائے بلكہ تمام جامع الشرائط فقہاء كو ولايت حاصل ہو، تاكہ بعض

فقہاء ان امور ميں دخالت كريں جواموربعض دوسري فہقاء كے سپرد ہوں، اس طرح فقہاء ايك دوسري كو خطا سے محفوظ ركھ سكيں اورجہاں پر مصلحت كا تقاضا ہو وہاں پر حكمران فقيہ كے حكم كو نقض كريں (چنانچہ ہم بيان كرچكے ہيں كہ بعض صورتوں ميں حكمران فقيہ كے حكم كو دوسرافقيہ نقض كرسكتا ہے) تاكہ ايك ہي غير معصوم فقيہ، مسلمانوں كے امور پر مسلط نہ ہوجائے (اپني راي مسلط نہ كرسكے۔)

ليكن دوسري طرف يہ چيز اسلامي حكومت ميں واضح طور پر نقص كا موجب ہے، جس كي وجہ سے مسلمانوں كے امورميں مشكلات پيدا ہوجائيں گي اور ان كا نظام ناكارہ ہوجائے گا اور سب جہنم ميں جا گريں گے۔اس كي وجہ يہ ہے كہ جب سربراہ متعدد ہوں تو امت كي حالات خراب ہو جاتے ہيں، جب فقہاء متعدد ہوں اور ان ميں سے ہر ايك ولي امربن جائے اور مسؤليت كا بوجھ اٹھانے كے لئے قيام كرے، اور سب كےآراء و افكار اور تصورات بھي مختلف ہوں، تو ايسي صورت حال ميں اسلامي حكومت كي تشكيل ممكن نہيں جواپنے قدموں پر كھڑي ہو سكے!!ہر ج مرج سے كيسے بچا جائے اور كيسے اطمينان حاصل ہو كہ ان فقہاء ميں سے ہر فقيہ دوسري فقيہ كے حكم كو يہ كہتے ہوئے نقض نہيں كرے گا كہ ميں نے اسي مخالفت ميں مصلحت تشخيص دي ہے (كيونكہ ہر فقيہ كے پاس دوسري فقيہ كے حكم كو نقض كرنے كي يہ دليل ہوتي ہے كہ مصلحت كا تقاضا يہي ہے) اس كے علاوہ بہت سي دوسري خرابياں كہ جن كي وجہ سے حكومت كي قابل قبول شكل باقي نہيں رہتي۔

جواب:

۱) ايك دفعہ ہم اسلامي شريعت كو اس اعتبار سے ديكھتے ہيں كہ اس پر نقص وارد ہونے كا كتنا امكان ہے جو نقص نظام كو درہم برہم كردے اور امور ميں بد نظمي اورانتشار پيدا كردے ۔

۲) دوسري دفعہ اس اعتبار سے شريعت اسلامي كا ملاحظہ اس فرض كو مد نظر ركھتے ہوئے كرتے ہيں كہ (خدانخواستہ) فقہاء مخلص نہيں ہيں يا فقہاءآگاہ نہيں ہيں، ہم ديكھتے ہيں كہ اس كا نتيجہ تشويش اورامور ميں بد نظمي و انتشار ہے واضح رہے كہ دوسري صورت كواسلام كے منصوبوں اور پروگراموں ميں نقص شمار نہيں كرنا چاہے اور يہ نہيں كہنا چاہئے كہ اسلام كے پاس باصلاحيت اور امت كو حيراني و پريشاني سے نجات دلانے والا كوئي منصوبہ موجود نہيں تھا يہاں تك كہ فقہاء كے مخلص نہ ہونے اور آگاہ نہ ہونے كي صورت ميں بھي اسلام كے پاس كوئي قابل عمل پروگرام نہيں تھا۔

وضاحت: اگر فرض كر ليا جائے كہ زمام امور سنبھالنے والے تمام يا اكثر فقہاءآگا ہ اور مخلص ہيں تو عام طور پر امورمنظم ہوں گے اور ہر لحاظ سے مكمل حكومت قائم ہوگى ۔كيوں كہ وہ جانتے ہيں كہ ان كي ولايت اسلامي امت كے مفادات اور بھلائيوں كي حدود ميں ہے اور ان كي ولايت امت كي اصلاح كے لئے ہے امت كو تباہ وبرباد كرنے كے لئے نہيں ہے، اور يہ بھي جانتے ہيں كہ انتشار اور عدم وحدت كي وجہ سے كتني خرابياں اور كتنے عظيم خطرات لاحق ہو سكتے ہيں اور كس حد تك مسلمين زوال كا شكار ہو سكتے ہيں، لہٰذا وہ باہمي مشورہ كے ذريعے متفقہ راي اپناتے ہيں، مراد يہ نہيں كہ ہميشہ تمام امورميں ان كي راي ايك ہوتي ہے كيونكہ يہ فرض اكثر اوقات غير علمي ہے ۔بلكہ مراد يہ ہے كہ بعض اوقات ايك راي پر اتفاق كرليتے ہيں اور بعض فقہاء اپني راي سے دست بردار ہوجاتے ہيں (اگر چہ وہ اپني راي كو صحيح سمجھتے ہيں) اور بعض اوقات وحدت كلمہ كي مصلحت كو اپني راي كي مصلحت سے افضل سمجھتے ہوئے۔

اور ممكن ہے بعض اوقات خود كسي نظام كو معين كريں اور اس كي پيروي كريں تاكہ اختلافات ايجاد نہ ہوں مثال كے طور پر طے كيا جاتا ہے كہ اكثريت كي راي كو معيار قرار ديا جائےگا كيا طے پاتا ہے كہ اگر اختلاف پيش كيا تو فلاں شخص كي راي پر عمل كيا جائے گا جو شخص سب كي نظروں ميں افضل اور سب سے زيادہ ذہين ہوگا، ياہر ايك فقيہ كے لئے ايك شعبہ معين كر ديا جاتا ہے اور كہا جاتا ہے كہ اس شعبہ ميں مشوري كے بعد اس فقيہ كي راي قابل اطاعت ہوگى يا ايك فقيہ كو حكومت كا سربراہ بنا ديا جاتا ہے اور باقي فقہاء پر اس فقيہ كي راي كي پيروي اس وقت تك واجب قرار دي جاتي ہے جب تك اكثريت يا اجماع اس كي خطا كو ديكھ نہ لے، يا اس قسم كے دوسري معاہدے، اگر حكومت كے امور ميں شريك فقہاء كے دائري سے باہر ايك آگاہ اور مخلص فقيہ موجود ہو اور اس كا حكومت كے سر براہ يا نظارت كرنے والي كميٹي كے احكام ميں سے كسي حكم كو نقص كرنا حكومتي امور ميں مداخلت اور مسلمانوں كي صفوں ميں اختلاف كا سبب بنے اور اس كے نتيجہ ميں ايسي عظيم خرابياں پيدا ہوں جن كا نقصان، حكمران فقيہ يانظارت كرنے والي كميٹي كے حكم كي خلاف ورزي كرنے ميں پائي جانے والي مصلحت سے زيادہ ہو تو اس صورت ميں اس فقيہ كے لئے حكم كو نقس كرنا (خلاف ورزي كرنا) جائز نہيں ہوگا بلكہ اس پر واجب ہے كہ سكوت اختيار كرے اور ان احكام كے سامنے سر تسليم خم كر ے۔

تيسرا بيان

يہ كہا جائے كہ فقہاء كے فتوؤں ميں اختلاف مسلمانوں كے امور ميں تشويش كا سبب بنتا ہے جس كي وجہ سے ايك منظم نظام كي بنياد پر حكومت كا قيام ممكن نہيں ہوتا۔

بعض اوقات فقہاء كے فتوؤں ميں اختلاف شخصي احكام سے متعلق ہوتا ہے مثلاً نماز ميں تسبيحات اربعہ(۱۷۸) كا پڑھناكيا ايك مرتبہ واجب ہے يا تين مرتبہ؟ يہ اختلاف ہماري بحث ميں مشكل ايجاد كرنے كا سبب نہيں بنتا، كيونكہ ہر فقيہ اپني راي پر عمل كرتا ہے اور ہر فقيہ كامقلد اپنے مرجع تقليد كي راي پر عمل كرتا ہے لوگوں ميں تسبيحات اربعہ كي تعداد سے متعلق پائے جانے والے اختلاف پر كوئي خاص اجتماعي مشكل مرتب نہيں ہوتي ۔

جب كہ بعض اوقات فقہاء كے فتوؤں ميں اختلا ف ايسے احكام سے متعلق ہوتا ہے جو سماجي نظام سے مربوط ہوتے ہيں يہ فرض بعض اوقات مشكلات ايجاد كرتا ہے ۔مثلاً فرض كريں جامع الشرائط فقيہ كي قيادت ميں اسلامي حكومت نے اسلامي معاشري ميں ايك اقتصادي قانون واجب قرار ديا اورحكومت نے مصلحت تشخيص دي كہ اس قانون كو تمام لوگوں پر نافذ كيا جائے امت مختلف مراجع كي تقليد كرتي ہے امت كے بعض افراد ايسے فقيہ كي تقليدكرتے ہيں جو اس قانون كو صحيح سمجھتا ہے۔

جب كہ كچھ افراد ايسے فقيہ كي تقليد كرتے ہيں جس كے نزديك يہ قانون خطا پر مبني ہے مثال كے طور پر فرض كريں حكومت نے ان اموال ميں خمس ضروري قرار ديا جن اموال كے متعلق فقہاء ميں اختلاف پايا جاتا ہے كہ كيا ان اموال سے خمس تعلق پكڑتا ہے يا نہيں؟ ہم يہاں پر اس صورت حال ميں كيا كريں گے؟

توجہ رہے كہ يہ مشكلات عام طور پر حكمران كے حكم كے قابل نفاذ ہونے كے ذريعے حل ہو جاتي ہيں جب اسلامي حكومت كا سربراہ كوئي حكم كرتا ہے تو وہ ايسي چيز كا حكم نہيں كرتا جسے بعض لوگ حرام سمجھتے ہوں، تاكہ حكم نافذ نہ ہو، بنا براين حكمران كا حكم تمام امت پر نافذ ہوگا، حتي اس شخص پر بھي جو مثلاً فلاں مال ميں خمس كے وجوب كا قائل نہيں ہے، خمس نكالنا واجب ہوگا كيونكہ خمس نكالناحرام كام نہيں ہے، جس طرح دوسري لوگوں كے لئے جائز ہے كہ اس طريقے سے حاصل ہونے والےمال كے ذريعے انجام پانے والے معاملے كاايك فريق (بيچنے والا يا خريدنے والا) بن سكيں كيونكہ ولو فرض كيا جائے كہ يہ مال جبري طور پر حاصل كيا گيا ہے (يعني مال كامالك راضي نہيں تھا حتي كہ حاكم كے حكم كے بعد بھي راضي نہيں تھا) پس اس سے يہ مال زبردستي ليا گيا ہے۔

ليكن زبردستي حق پرمبني ہے كيونكہ اس كا حكم ايسے ولي نے ديا ہے جسے زبردستي كرنے كا حق حاصل ہے بلكہ ميں ايسے اسلامي نظام حكومت ميں جو تجويز دوں گا وہ يہ ہے: تمام مدني قوانين ( CIVEL.LAW ) اور شخصي قوانين ( PERSNAL.LAW )، عبادتوں كے نظام اور باقي احكام ايك متفقہ توضيح المسائل ميں منظم طور پر جمع كئے جائيں جو توضيح المسائل درج ذيل مراحل طے كرنے بعد مرتب كي جائے:

برجستہ فقہاء پر مشتمل كميٹي كے افراد باہمي مشورہ كريں، اور كسي بھي موضوع كے متعلق ديئے جانے والے فتويٰ كے باري ميں آپس ميں بحث گفتگو كريں، موضوعات كي تشخيص اورامت كے مفادات اور بھلائيوں (اسلامي شريعت ميں جن مفادات كو مد نظر ركھتے ہوئے منطقۃ الفراغ كو پر كيا جاتا ہے) كوتشخيص دينے كے لئے ہر شعبے كےماہرين اور اہل فن افراد سے مدد ليں اگر كسي مور دميں اختلاف فتويٰ پيش آجائے حتيٰ مشورہ اورباہمي افہام و تفہيم كے بعد بھي يہ اختلاف بر طرف نہ ہو سكے تو (عام طور پر يہ ممكن ہے كہ) احتياط پر عمل كيا جائے ۔يا اگر ان فقہاء كے درميان كوئي ايسا فقيہ موجود ہو جو تمام فقہاء كي نگاہ ميں اعلم (دوسروں كي نسبت زيادہ علم والا) ہواورتمام فقہاء اس كي اعلميت كا اس طرح اعتراف كريں كہ امت كے لئے دوسري فقہائ كا فتويٰ نہيں بلكہ اسي اعلم فقيہ كا فتويٰ حجت بن جائے تو اس صورت ميں اس اعلم كي راي كو اپنايا جائے، يا كسي ايك فقيہ كو ولايتي حكم جاري كرنے كے لئے مقدم كيا جائے (كيونكہ وہ ولي امر ہے لہٰذا ولايتي حكم جاري كر سكتا ہے) اور يہ ولايتي حكم اس كے اپنے فتويٰ كے مطابق ہو، تاكہ امت كے تمام گروہوں پر اس كاحكم نافذ ہو ۔

ان سب مراحل كو طے كرنے كے بعد ايك متفقہ توضيح المسائل مرتب كركے شايع كي جائے جس پر عمل كرنا امت كے تمام افراد پر واجب ہو۔

ولايت فقيہ اور معاشرہ كوسعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرتي ہے

قراردادي حكومتوں (حتي انتخاب كے نتيجے ميں قائم ہونے والي حكومت) ميں نفوذ كلام كي قوت ايك يا ايك سے زيادہ افراد (مثلاًدوياتين) كے ہاتھ ميں ہوتي ہے يا اس تعداد كے ہاتھ ميں ہوتي ہے جنھيں امت منتخب كرتي ہے تو حكم (حكومت كے احكام و قوانين) مركزيت طاقت وقدرت اورمكمل كنٹرول سے بہرہ مند ہوگا اور يہ چيز حكومت كے نظم و ضبط كے لئے مفيد ہے ليكن بعض اوقات اس كانتيجہ استبداد (منماني اور اپني راي مسلط كرنا) اورامت كو دھوكے ميں ركھنے كي صورت ميں برآمد ہوتا ہے، جس طرح صاحبا ن اختيار (حكمران) كا دائرہ وسيع ہوتا جائےگا اس حساب سے حكومت كے معرض استبداد ميں واقع ہونے كے امكانات كم ہوتے جائيں گے ۔اوراسي مقدارميں حكومت كي طاقت و قدرت، تسلط وكنٹرول اور نظم و نسق ميں كمي آجائے گي۔ليكن امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ ميں اسلام نے (حكومت كي) جو شكل پيش كي ہے وہ تيسري شكل ہے جس كي وضاحت ہم ولايت فقيہ كي بحث ميں كر چكے ہيں كيونكہ اسلام نے (غيبت كبريٰ كے زمانے ميں) ولايت فرد واحد كے ہاتھ ميں نہيں دي تاكہ نظام حكومت استبداد كے قريب ہو، اورنہ ہي تمام فقہاء كو اس طرح ولايت عطا كي ہے كہ ہر فقيہ منصب ولايت كے ايك حصے كامالك ہو جس كے نتيجے ميں مركزيت كمزور پڑجائے۔

بلكہ اسلام نے ولايت تمام جامع الشرائط فقيہ كے ہاتھ ميں دي ہے اور ان ميں سے ہر فقيہ مستقل حاكم ہے ليكن جب ان ميں سے كوئي ايك فقيہ حكومت كي تشكيل اور امور كو منظم كرنے كي غرض سےآگے بڑھے تو باقي فقہاء كے لئے جائز نہيں كہ مسلمانوں كي صفوں ميں تفرقہ ايجاد كريں (اس كي مخالفت كريں) اور جب تك حكومت قائم كرنے والا فقيہ منحرف نہ ہو اورجب تك اتني بڑي خطا كا مرتكب نہ ہو جس كے مفاسد ونقصانات مسلمانوں كي صفوں ميں تفرقہ ايجاد كرنے كے نقصانات ومفاسد سے زياہ ہوں تو باقي سب فقہاء پر واجب ہے كہ حكومت كے قائم كرنے والے فقيہ كے سامنے سر تسليم خم كرليں۔

اس شكل ميں اسلام نے (حكومت كي) دونوں شكلوں كے امتيازات اورخوبيوں كو يكجا محفوظ

ركھا ہے ايك طرف سے طاقت و قدرت، مكمل كنٹرول اور تسلط باقي ركھا ہے كيونكہ دوسري فقہاء اس وقت تك مخالفت كا اظہار نہيں كرتے جب تك امور كي باگ ڈور سنبھالنے والے فقہاء منحرف نہ ہوں اور اتني بڑي خطا كے مرتكب نہ ہوں جس كے مفاسد و نقصانات مخالفت كے مفاسد و نقصانات سے زيادہ ہوں اور دوسري طرف سے (حكومت يا فقيہ حاكم كو) استبداد (منماني) سے دور ركھا ہے كيونكہ دوسري فقہاء بھي نفوذ كلام كي طاقت سے بہرہ مند ہيں (وہ بھي حاكم ہيں) اور وہ حاكم پر نظارت كرتے ہيں اور جہاں پر مصلحت كا تقاضاہو اپني نظر بيان كرتے ہيں ۔جب حكومت كا سربراہ غير معصوم ہو تو يہ روش اپنائے بغيراور كوئي چارہ كار نہيں ہوتا۔اور يہ اسلامي حكومت كي خوبيوں ميں سے ايك نماياں خوبي ہے۔

اور ان دلائل ميں سے ايك دليل ہے جو دلائل دلالت كرتے ہيں كہ اسلامي حكومت (كے قوانين) مرتب كرتے وقت دقت سے كام ليا گياہے جب ايك طرف سے يہ نظام زہد و تقويٰ كي روكاوٹوں سے ملا ہوا ہو اور دوسري طرف سے يہ نظام قرار دادي ہو اور امت فقہاء پر نظارت كرے وہ امت جو معرفت ركھتي ہے كہ فقہاء ميں عدالت اور لياقت وصلاحيت كي شرط ضروري ہے، وہ امت كہ جس كي تربيت الٰہي تعليمات كي روشني ميں ہوئي ہے اور جب تيسري طرف سے ہر فن كےماہرين اور صاحب راي لوگوں سے مشورہ كيا جائے تو امام معصوم عليہ السلام كي غيبت كے زمانہ ميں حكومت كے لئے قابل تصور نظاموں ميں سے سب سے بہترين نظام تشكيل پائےگا جو ہر قسمي ظلم و استبداد سے دور ہوگا، لوگوں كوخوشنودي پروردگار سے نزديك ہونے كي طرف رغبت دلائے گا اور يہي اسلام كا بلند ترين ھدف ہے جو انساني معاشري كو دنياوآخرت ميں سعادت و خوشبختي سے ہمكنار كرتا ہے ۔

خلاصہ بحث

۱) غيبت كبريٰ كے زمانہ ميں اسلامي حكومت (مكتب اہل بيت عليھم السلام كے مطابق) ولايت فقيہ كي بنياد پر قائم ہے۔

۲) ولايت فقيہ كےلئےشرط ہے كہ فقيہ عالم اورلائق ہو (امور كو انجام دينےكي صلاحيت ركھتا ہو) ۔

۳) (عام حالات ميں) اسلامي حكومت پر واجب ہے كہ زندگي كے مختلف شعبوں ميں مہارت ركھنے والے افراد اور مضبوط راي كےمالك افراد سے مشورہ كرے۔

۴) اگرمعاشري كي مصلحت (مخصوص حالات و شرائط ميں يا جن عالمي حالات و واقعات ميں معاشرہ زندگي گذاررہا ہے) كا تقاضايہ ہو كہ قوہ تضننہ (قانون ساز اسمبلي يا قوہ مجريہ (كابينہ) كے اركان معين كرنے كے لئے يا كسي دوسري شعبے ميں يا قانون سازي كے بعض شعبوں ميں لوگوں كےآراء افكار كو مدنظر ركھنے كے لئے انتخاب كروائے جائيں تو فقيہ پر واجب ہے كہ اس پر دستخط كرے (اس كي تائيد كرے) ۔

۵) ہماري تجويز كے مطابق ايك قانوني منبع وماخذ (كتابي صورت ميں) ہونا چاہئے جس ميں زندگي كے مختلف شبعوں سے متعلق اسلام كے احكام اور قوانين موجود ہوں يا شيعوں كے بقول ”توضيح المسائل“ہوني چاہئے تاكہ امت اس كے مطابق عمل كر سكے۔توضيح المسائل ايسا رسالہ ہے جسے فقہاء كي كميٹي موضوعات اور مصالح ومفادات كي تشخيص كے لئے ہر شبعے كےماہرين اور پائيدا راي كے حامل افراد سے مشورہ كرنے كے بعد باہمي مشورہ كے بعد مرتب كرتي ہے، اگر باہمي مشورہ اور بحث وگفتگو كے ذريعے (فقہاء كے فتوؤں ميں موجود) اختلاف كو حل نہ كيا جا سكے تو فقہاء اپنے درميان سے كسي ايك فقيہ كي راي كو اعلميت كي بنياد پرمنتخب كرتے ہيں يا حكمران فقيہ كے حكم كي بنياد پر (كسي ايك راي كو منتخب كرتے ہيں) يا احتياط پر عمل كرتے ہيں ان سب مراحل كو طے كرنے كے بعد يہ ”توضيح المسائل “مرتب كي جاتي ہے تاكہ امت اس كے مطابق عمل كر سكے ۔

۶) ہماري تجويز ہے كہ ”وطن" كي اصطلاح جو مغربي مفاہيم پر مشتمل ہے، كو حذف كركے اس كي جگہ اسلامي فقہي اصطلاح ”دارالاسلام"(۱۷۹) كي اصطلاح استعمال كرني چاہئے۔اور لفظ وطن اس دوسري معني ميں استعمال ہوتا رہے جو معني نمازو روزہ كے متعلق مسافر كے احكام (پوري نماز يا قصر نماز يا روزہ ركھنا يا افطار كرنا وغيرہ) ميں مدنظر ہوتا ہے۔

۷) اسلامي حكومت كي نظرياتي حدود پوري كرہ ارض كو شامل ہيں جب كہ عملي اعتبار سے حكومت اسلامي كا دائرہ كار وہاں تك ہے جہاں تك اس كي قدرت واستطاعت ہو۔

۸) حكومت اسلامي كامالي نظام درجہ ذيل چار بنيادوں پر استوار ہے:

۹) وہ چيزيں جو حكومت اورامامت كي ملكيت ہيں جنھيں اسلامي فقہ كي اصطلاح ميں انفال كہاجاتا ہے، جيسے بنجر وغيرآباد زمينيں (بلكہ زمين كي اكثر انواع وا قسام) اور معدنيات جيسے تيل وغيرہ۔

۱۰) امت اسلامي كي ملكيت ميں داخل ہونے والي چيزيں مثلاً جزيہ كے طور پر حاصل ہونے والي زمينيں جنھيں امام كي اجازت سے جہاد كرتے ہوئے فتح كيا جائے ان اموال ميں اسلامي حكومت، معاشري كے ولي اور سر پرست كي حيثيت سے مسلمانوں كي ضروريات كو پورا كرنے كي غرض سے تصرف كرتي ہے۔

۱۱) كتاب و سنت ميں موجود اسلامي ٹيكس جيسے خمس وزكات ۔كيونكہ اسلامي حكومت كو معاشري پر ولايت كا حق حاصل ہے لہٰذا ان ٹيكسوں كے ذريعے حاصل ہونے والا سرمايہ ان ضروريات كو پورا كرنےكے لئے خرچ كرےگي جو ضروريات اسلامي فقہ ميں معين كي گئي ہيں۔

۱۲) وہ ٹيكس جنھيں اسلامي حكومت (اگر اسلامي حكومت مصلحت كي تشخيص دے) ولايت فقيہ كي بنياد پر ضروري قرار ديتي ہے۔

۱۳) حكومت كا ہدف ومقصد يہ ہے كہ خداوند متعال كي رضا كے مطابق عمل كرے، اور معاشري كو خداوند متعال كي خوشنودي حاصل كرنے كي ترغيب دلائے ہم جانتے ہيں كہ اللہ تعاليٰ كي خوشنودي كے لئے درج ذيل امور ضروري ہيں: لوگوں كے درميان عدل و انصاف كا قيام، ظلم واستبداد كا خاتمہ كرہ ارض پر الٰہي نظاموں اور كلمۃ اللہ (الٰہي قوانين) كا نفاذ ۔ ان شاء اللہ تعاليٰ

اللهم انا نرغب اليك في دولة كريمة تعزّ بها الاسلام واهله وتذل بها النفاق واهله وتجعلنا فيها من الدعاة الي طاعتك والقادة الي سبيلك ۔(۱۸۰)

____________________

۱۰۲. سورہ احزاب آيت۶

۱۰۳. فريقين كي كتب ميں ايسي روايات موجود ہيں جنكے مطابق نبي اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد بارہ جانشينوں كا نام بيان فرمايا ہے (مترجم.

۱۰۴. اس سلسلے ميں ہماري استاد بزرگوار حضرت آيت اللہ العظميٰ سيد باقر الصدر عليہ الرحمۃ كي گرانقدر اور جاذب (مگر مختصر. بحث كي طرف رجوع فرمائيں۔

۱۰۵. حكم و موضوع كي مناسبت سے حكم كي نوعيت كا ملاحظہ كرتے ہوئے اور عرفي طور پر اس حكم كے موضوع كے ساتھ تناسب كو ملاحظہ كرتے ہوئے۔

۱۰۶. كتاب البيع، امام خمينى، ج:(۲)ص: ۴۶۱۔۴۶۷

۱۰۷. اصول كافى، ج:(۱)ص: ۵۹، باب الرد الي الكتاب والسنۃ حديث:(۴)

۱۰۸. اصول كافى، جلد۲ ص۷۴، باب الطاعۃ والتقويٰ، حديث:(۲)

۱۰۹. كتاب البيع، امام خمينى، ج:(۲)ص: ۴۶۱

۱۱۰. اصل اولي (ابتدائي قاعدہ. يہ ہے كہ كسي بھي انسان كو كسي دوسري انسان پر ولايت كا حق حاصل نہيں ہے مگر يہ كہ كسي معتبر دليل كے ذريعہ كسي كے لئے ولايت ثابت ہوجائے۔ (مترجم.

۱۱۱. مثال كے طور پر امر ولايت مشتبہ ہے دو گروہوں كے درميان (۱. فقہاء (۲. تمام لوگ پہلے گروہ كا دائرہ تنگ ہے اور وہ دوسري گروہ ميں شامل ہے كيونكہ فقہاء بھي معاشري كا حصہ ہيں يہاں پر قدر متيقن يہ ہے كہ پہلے گروہ كو يقيني طور پر ولايت حاصل ہے كيونكہ اس طرح يہ ولايت دوسري گروہ كے بعض افراد كو بھي حاصل ہوجائے گي۔ (مترجم.

۱۱۲. وسائل الشيعة، ج ۱۸، ص: ۱۸ ص۵۳، باب ۸، ابواب صفات قاضي حديث:(۴)

۱۱۳. يعني تواتر كي حد تك نہيں پہنچيں ليكن خبر و احد بھي نہيں ہيں بلكہ ان كي تعداد زيادہ ہے (مترجم)

۱۱۴. زيد عالم، ميں زيد موضوع اور عالم محمول ہے اسي طرح النار حارۃ، النار موضوع اور حارہ محمول ہے ۔ جب موضوع ميں اطلاق پايا جائے تو يہ سبب بنتا ہے كہ متعدد صورتوں كو اپنے اندر شامل كئے ہو مثلا جب كہا گياآگ گرم ہے تو اس صورت ميں حرارت كاحكم آگ (موضوع. كي تمام اقسام كے لئے قرار پائے گاجبكہ (زيدعالم. كہا جائے تو اگر عالم (محمول. ميں اطلاق پايا جائے تو ا سكا مطلب يہ نہيں كہ جن چيزوں كے باري ميں علم كا احتمال ديا جائے زيد ان سب كا عالم ہے۔ (مترجم)

۱۱۵. كيونكہ حاشيے ميں بيان كرچكے ہيں كہ اگر محمول ميں اطلاق پايا جائے تو يہ سرايت كا باعث نہيں بنتافقط موضوع ميں پايا جانے والا اطلاق سرايت كا موجب بنتا ہے (مترجم.

۱۱۶. اصول كافى، ج ۱، ص: ۳۴ وسائل جلد۱۸ ص۵۳، باب ۸، ابواب صفات قاضي حديث: ۲

۱۱۷. اصول كافى، ج۱ص ۴۶

۱۱۸. اصول كافى، ج۱ ص۳۸

۱۱۹. مستدرك الوسائل، باب: ۱۱، از ابواب صفات قاضى

۱۲۰. مستدرك الوسائل، باب: ۱۱، از ابواب صفات قاضى۔

۱۲۱. يہ سند ضعيف ہے كيونكہ اس سلسلہ سند ميں محمد بن الحسن بن شمون موجود ہے۔

۱۲۲. وسائل الشيعة، ج۱۸، ص: ۹۹۔باب: ۱، ابواب صفات قاضي حديث: ۴

۱۲۳. علماء رجال نے عمربن حنظلہ كي توثيق نہيں كي ہے ليكن صحيح السند احاديث ميں صفوان نے عمر بن حنظلہ سے روايت نقل كي ہے اور صفوان ان تين افراد ميں سے ہيں جن كے باري ميں شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے گواہي دي ہے كہ يہ تين افراد ثقہ افراد كے علاوہ كسي اور سے روايت نقل نہيں كرتے يہ تين افراد: صفوان بن يحيٰ البجلى، محمد بن ابي عميرا زدي اور احمد بن محمد بن ابي نصر بزنطي ہيں اسي طرح ايك اور حديث ہے جس كي سند يزيد بن خليفہ تك صحيح (يزيد وہ ہيں جن سے صفوان نے روايت نقل كي ہے. راوي كہتا ہے كہ جب ميں نے امام صادق عليہ السلام سے كہا: ايك دفعہ عمر بن حنظلہ نے ايك حديث كو ہم سے بيان كيا ہے تو امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: وہ ہماري طرف جھوٹ كي نسبت نہيں ديتے، وسائل الشيعہ ج: ۳، ص: ۹۷وج: ۱۸ ص: ۵۹۔

۱۲۴. مزيد تحقيق يہ ہے كہ اگر جملہ ”جعلتہ حاكما “كے اطلاق سے يہ مراد ہو كہ كلمہ"حاكما" كے اطلاق سے تمسك كيا جائے تو اس ميں بھي سابقہ اشكال پيدا ہو جائے كہ محمول ميں اطلاق جاري نہيں ہوتا اور اطلاق كے ذريعہ شمول اور وسعت كا فائدہ حاصل نہيں ہو سكتا اور اگر اطلاق سے يہ مراد ہو كہ كلمہ ”حاكما”كے متعلق كے اطلا ق سے تمسك كياجائے جو كہ محذوف ہے (يعني در حقيقت عبارت يوں ہے "جعلتہ حاكما" (في كل شئى. تو اس صورت ميں يہ اشكال ہو گا كہ كسي كلمہ كا اطلاق اس كلمہ كو اس وقت تك شمول و وسعت عطا كرتا ہے جب خود كلمہ معين ہو نہ يہ كہ كسي كلمہ كے اطلاق كو ذريعہ بنا كر كسي اور محذوف كلمہ كو معين كيا جائے اور اگر مراد يہ ہو كہ چونكہ كلمہ ”حاكما" كا متعلق محذوف ہے لہٰذا اسے اطلا ق كا استفادہ ہو تا ہے تو اس ميں سے اعتراض پيدا ہو جائے گا (جسے ہم علم اصول فقہ ميں ثابت كر چكے ہيں. كہ ہماري نزديك كلمہ كے محذوف ہونے سے اس صورت ميں اطلاق كا فائدہ ہوتا ہے جب خطاب كے وقت قدر متيقن موجود نہ ہو، جب كہ ہماري اس بحث ميں مذكورہ حديث ميں قدرمتيقن موجود ہے جسے حديث مين موجود قرينہ سے سمجھا جاتا ہے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے كہ صرف باب قضاوت اور نزاع واختلاف كے حل كے سلسلہ ميں فقيہ كو ولايت حاصل ہے ۔

۱۲۵. حضرت نے فرمايا ہے: جب وہ ہماري احكام كے مطابق حكم كرے اور اس كا فيصلہ نہ مانا جائے تو يہ حكم خدا كو كم اہميت شمار كرنے كے برابر ہے، امام نے بطور مطلق فقيہ كے فيصلہ كو قبول كرنے كا حكم ديا ہے يعني تمام صورتوں ميں اس كے حكم كو ٹھكرانا خدا كے حكم كو كم اہميت شمار كر نے كے برابر ہے امام نے اس روايت ميں كسي قسم كي كوئي قيد نہيں لگائي كہ فلاں صورت كے لئے ميرا يہ حكم ہے جب كہ فلاں دوسري رويات كے لئے نہيں ہے لہٰذا اس استدلال سے فقيہ كي مطلق ولايت كو ثابت كرنا صحيح ہے۔ (مترجم)

۱۲۶. ضميمہ ۔۳ملاحظہ ہو۔

۱۲۷. غيبت صغريٰ كے زمانے ميں لو گ امام مہدي عليہ السلام كے چار خاص نائبوں كے ذريعے امام عليہ السلام سے مسائل كا جواب حاصل كرتے تھے امام عليہ السلام كي طرف سےانے والے (جوابى. نامہ مبارك كو توقيع كہا جاتا ہے۔ (مترجم)

۱۲۸. وسائل الشيعہ، ۱۸ص۱۰۱۔ اكمال الدين واتمام النعمۃ، ص۴۸۴۔ كتاب الغيبۃ شيخ طوسي ص۱۷۷مطبوعہ نجف۔

۱۲۹. بظاہر اس جماعت ميں سے ايك شيخ مفيد عليہ الرحمۃ ہيں كيونكہ شيخ طوسي عليہ الرحمۃ نے جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي كي جتني كتابوں اور روايتوں كو ايك جماعت سے نقل كيا ہے ان سب ميں اس جماعت ميں سے ايك فرد شيخ مفيدعليہ الرحمۃ ہيں۔

۱۳۰. گذشتہ حاشيہ سے يہ بات واضح ہو چكي ہے كہ يہ جماعت جعفر بن محمد بن قولويہ اور ابو غالب رازي وغيرہ ہيں ۔

۱۳۱. ضميمہ نمبر۴۔

۱۳۲. ضميمہ ۔۵۔

۱۳۳. غير حقدار سے مراد جعفر كذاب ہے ۔ (مترجم. مرآۃ العقول ج۴، ص۷۔

۱۳۴. علم حديث ميں شيخ سے مراد وہ شخص ہے جس سے روايت نقل كي جاتي ہے اور اس كي جمع مشائخ ہے ۔ جب كہ لغت ميں شيخ كا معني ہے بزرگ ۔ (مترجم)

۱۳۵. اصول كافى، ج۱، ص۳۲۰ روايت كامحل شاہد وسائل الشيعہ ج۱۸، ص۱۰۰ پر بھي نقل ہو اہے ۔

۱۳۶. ضميمہ نمبر۶۔

۱۳۷. آيہ مباركہ صاحبان امر كي اطاعت كا حكم دے رہي ہے اور يہ حكم بھي مطلق ہے يعني كسي قسم كي قيد نہيں لائي گئي اور ولي فقيہ پر بھي صاحب امر كا عنوان صادق ہےآيہ مباركہ كا اطلاق ولي فقيہ كو بھي شامل ہے اور اس كي اطاعت واجب ہے ۔ (مترجم)

۱۳۸. سورہ نساء آيت ۵۹۔

۱۳۹. ضميمہ نمبر۷۔

۱۴۰. سورہ نساء، آيت: ۵۹

۱۴۱. علماء اصول كا كہنا ہے: حكم كي دليل (جس دليل ميں حكم بيان ہواہو. اپنے موضوع كے صادقانے كي ضامن نہيں ہے۔ (مترجم)

۱۴۲. اگر ولايت عامہ كے لئے ہماري دليل مقبولہ عمر بن حنظلہ ہو تو فقاہت كي شرط كا ضروري ہونا بھي واضح ہے كيونكہ اس روايت كے لفظ ہيں ”يہ دونوں شخص ڈھونڈھيں گے كہ آپ ميں سے كون ہماري حديثيں نقل كرنے والا ہے اور ہماري حلال وحرام ميں نظر ركھتا ہے اور ہماري احكام كي معرفت ركھتا ہے، ، يہ عبارت واضح طور پر فقاہت كي شرط پر دلالت كرتي ہے ليكن كيا حكم كے نفاذ كے لئے حاكم كا مجتہد متجزي ہونا كافي ہے يا اجتہاد مطلق كے مرتبہ تك پہنچنا ضروري ہے اس سلسلے ميں ضميمہ نمبر ۸ ملاحظہ فرمائيں۔

۱۴۳. اگر اطلاق كو درست مان ليا جائے اور يہ بھي مان ليا جائے كہ اطلا ق شرط وثاقت كي نفي كرتا ہے تو يہ روايت اس اطلاق كو مقيد كر دے گي ۔اگر تعارض و تساقط فرض كيا جائے تو ہم قدر متيقن كے علاوہ باقي ميں اصل كي طرف رجوع كريں گے، اوراصل عدمِ ولايت كا تقاضا كرتي ہے مگر يہ كہ اس اصل سے دليل كے ذريعے (بعض افراد كو. خارج كيا جائے، اور يقيني مقدار (در متيقن. وثاقت اورصلاحيت ہے ۔

۱۴۴. اصول كافى، ج ۱، ص۴۰۷۔روايت كے سلسلہ سندميں ايك راوي صالح بن سندي ہے جس كي وثاقت ثابت نہيں ہے ليكن آيہ اللہ خوئي عليہ الرحمۃ كے معني كے مطابق اس كي وثاقت ثابت ہوتي ہے كيوں كہ ان كے نزديك كامل الزيارات كي سند ميں آنے والے تمام راوي ثقہ ہيں اور اس شخص (صالح بن سندى. سے كامل الزيارات ميں روايت نقل ہوئي ہے۔كامل الزيارات باب ۴۷حديث۲۔

۱۴۵. سورہ زخرف آيت ۱۸۔

۱۴۶. گذشتہ بيانات ايسے ہيں جو كم ازكم انصراف كا احتمال كا موجب ہيں، ولي كے لئے حلال زادہ ہونے كي شرط بھي قابل اثبات ہے۔ بعض گذشتہ بيانات يا ان كي مانند دوسري دلائل كے ذريعے بھي بلوغ كي شرط كو بھي ثابت كيا جاسكتا ہے۔

۱۴۷. وسائل الشيعہ، ج۱۱، س۴۔

۱۴۸. غالباً كي قيد اشارہ ہے اس چيز كي طرف كہ بعض اوقات حكم اپنے متعلق ميں پائے جانے والے ملاك كا انكشاف نہيں كرتا بلكہ باب ترجيح بلا مرجح كے طور پر ايك طرف كو دسري پر مقدم كيا جاتا ہے كيونكہ ضرورت تقاضا كرتي ہے كہ معين متحد موقف اپنايا جائے، اس فرض ميں وہ نكتہ نہيں پايا جاتا جس كي بنياد پر اعلم كي راي كو مقدم كيا جاتا ہے۔

۱۴۹. صحيح يہ ہے كہ احمد بن اسحاق كي روايت نے عمري اور اس كے بيٹے كي اطاعت كي تعليل (علت. يہ بيان كي ہے كہ كيونكہ يہ دونوں مورد وثوق (قابل اعتماد. ہيں نہ يہ كہ ان دونوں كا حكم مورد وثوق (قابل اعتماد. ہے، ليكن عرف قرائن و مناسبات كي مدد سے يہ درك كرتا ہے كہ حاكم كي وثاقت كو اس كے حكم پر اعتماد و بھروسہ كي غرض سے ضروري قرار ديا گيا ہے اوراس لئے اس كي وثاقت كو ضروري قرار ديا گيا ہے تاكہ ہميں اطمينان ہو اور ہم كشف كر سكيں كہ اس نے (اس حكم كے ذريعے. ايك ٹھوس اور مضبوط موقف اختيار كيا ہے، اس طرح وہ دلائل جن ميں وثاقت كي قيد ذكر نہيں ہوئي وہ بھي عرفاً انہي قرائن ومناسبات كي وجہ سے ان موارد سے منصرف ہيں (ان موارد كو شامل نہيں. جہاں پر معمولاً اس طرح كا وثوق نہ پايا جائے، غير اعلم كي راي جو اعلم كي راي سے معارض ہو عام طور پر اس ميں اس طرح كا وثوق و اعتماد نہيں پاياجاتا ہے۔

۱۵۰. سورہ مائدہ آيت ۱۔

۱۵۱. وسائل الشيعہ، ج۱۲، ص۳۵۳، باب ۶، از ابواب الخيار، حديث:(۲)

۱۵۲. گذر چكا ہے كہ يہاں حرمت سے مراد يہ حرمت ظاہري ہے يا يہ حرمت ايسے موضوع پر عارض ہوتي تھي جو موضوع حاكم كي دخالت سے اٹھ جاتا ہے (پس حكم يعني حرمت بھي اٹھ جاتي ہے.

۱۵۳. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۸ بحوالہ خصال۔باب: ۳، كتاب الامامۃ، حديث:(۴)

۱۵۴. بحار الانوار، ج: ۲، ص: ۲۶۶۔باب ۳۳، از كتاب العلم، حديث: ۲۵

۱۵۵. اصول كافى، ج: ۱، ص: ۴۰۵۔باب: ما امرالنبي بالنصيحہ، حديث:(۵)

۱۵۶. بحارالانوار، ج: ۲۷: ص۷۲باب:(۳)كتاب الامامہ حديث:(۵)

۱۵۷. بحار الانوار، ج۲۔ص۲۶۷۔باب: ۳۳ كتاب العلم حديث: ۲۸

۱۵۸. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۷، باب:(۳)كتاب العلم، حديث:(۱)

۱۵۹. بحار الانوار، ج۲۷، ص۶۷، باب:(۳)كتاب العلم، حديث:(۱)

۱۶۰. بحار الانوار، ج: ۲ص۲۶۶۔باب: ۳۳ كتاب العلم، حديث: ۲۲

۱۶۱. بحار الانوار، ج۲۔ص۲۶۶۔باب: ۳۳ كتاب العلم، حديث: ۲۳

۱۶۲. سورہ ممتحنہ۔آيہ۱۲ ۔

۱۶۳. سورہ فتح آيہ۱۰ تا۱۹۔

۱۶۴. ضميمہ نمبر ۹۔ملاحظہ ہو۔

۱۶۵. خصوصاً ۔ولايت فقيہ كے دلائل ميں اطلاق فقط مقدمات كے ذريعے نہيں آيہ مباركہ (اطيعوا اللہ واطيعوالرسول واولي الامر منكم. ميں اطاعت كا حكم احمد بن اسحاق كي روايت ”فاسمع لہ واطعہ۔اس كي بات كو سنو اوراس كي اطاعت كرو” ”فاسمع لھماو اطعھما۔ان دونوں كي بات سنو اور ان كي اطاعت كرو”دلالت كرتي ہے كہ (جس كي اطاعت كاحكم ديا جا رہا ہے. اس كي طرف سے جاري ہونے والے تمام احكام ميں اطاعت كا وجوب مطلق (غير مشروط. ہے۔اس كامعيار يہ ہے كہ جب مقام خطاب ميں قدرمتيقن (يقيني مقدار. پائي جائےتو متعلق كوحذف كردياجاتا ہے (جب اطاعت كا متعلق حذف ہوگا، اطاعت مطلق (غير مشروط. ہوگى. ہماري بحث ميں قدت متيقن زير ولايت (سرپرستى. افراد كے نقائص كو بر طرف كرنے اوران كي ضروريات اور ان كي كميوں كو پورا كرنے كي حدود ميں ہے اور توقيع ميں امام عليہ السلام كا فرمان ”فانھم حجتي عليكم”امام كے ظاہر حال اور امام كي غيبت كي مناسبت سے اطلاق پر دلالت كرتا ہے۔ (چنانچہ اس كا بيان گذر چكا ہے. اور وہ مناسبت اس سے زيادہ مقدار كا تقاضا نہيں كرتي۔

۱۶۶. فقہ كي روسے بعض افراد كو قاصر كہا جاتا ہے كيونكہ ان ميں اپنے اموال ميں مناسب تصرف كرنے كي صلاحيت نہيں پائي جاتي لہٰذا ان كے ولي (سرپرست. كو ان كے اموال ميں ان كي مصلحت اور بھلائي كو مدنظر ركھتے ہوئے تصرف كي اجازت دي جاتي ہے ۔مثلاً كم سن افراد، ديوانے اور سفيہ (كم عقل. جومالي تصرفات كي صلاحيت نہيں ركھتے. (مترجم)

۱۶۷. ايك شخص كو يہ حق حاصل ہے كہ اس كے احكام كي اطاعت كي جائے

۱۶۸. قاصر كے اموال كے لئے كسي ولي (سرپرست. كا ہونا ضروري ہے كے درميان جمع (ہماہنگي ايجاد كرنا. كرتا ہے تو عرف بخوبي درك كرتا ہے كہ اسے بطور ولي تصرف كا حق حاصل ہے، اطلاق ميں پائي جانے والي تشكيك و ترديدي عقلي ہے عرفي نہيں ہے۔

۱۶۹. اسلامي فقہ ميں دوقسم كي سزائيں پائي جاتي ہيں، پہلي وہ سزائيں ہيں جنھيں حدود كہا جاتا ہے كيونكہ ان ميں سزا كي مقدار معين ہوتي ہے مثلاً زنا كے بعض موارد ميں زاني كو سنگسار كيا جاتا ہے يا كچھ موارد ميں اسي (۸۰. كوڑے لگائے جاتے ہيں، دوسري قسم وہ سزائيں جن كي مقدار معين نہيں ہے بلكہ حاكم شرعي كو حق حاصل ہے كہ ہر مورد ميں جرم كے اعتبار سے سزامعين كرے، دوسري قسم كو تعزيرات كا نام ديا جاتا ہے ۔ (مترجم)

۱۷۰. توقيح ميں اطلاق كا پاياجانا واضح ہے كيونكہ ہم بيان كر چكے ہيں كہ ہر چيز ميں رجوع كرنے كا معني خود اس چيز كے مطابق ہے ۔

۱۷۱. ضميمہ نمر ۱۰ ملاحظہ ہو۔

۱۷۲. اس قسم ميں شرط نہيں كہ حاكم كے حكم سے پہلے اس چيز كا شرعي اعتبار سے لازمي ہونا ثابت نہ ہو۔بلكہ كبھي حكم سے پہلے اس چيز كا شرعي اعتبار سے لازمي ہونا ثابت ہوتا ہے ليكن حاكم كا ہدف ومقصد يہ ہوتا ہے كہ اسے لازمي قراردے حتي اس صورت ميں بھي كہ جب حكم حاكم سے پہلےاس كا لازمي ہونا ثابت نہ ہو (اگر چہ يہ تقدير (فرض. خلاف واقع ہے. اوركبھي حاكم كےحكم ميں دونوں صورتيں مفقود ہوتي ہيں يعني نہ حكم كاشف ہوتا ہےاورنہ ہي حكمِ ولايتي۔

۱۷۳. يہيں سے عرف كے لئے يہ حقيقت واضح ہوتي ہے كہ حكم كي يہ قسم احكام ظاہري كي سنخ سے ہے مثلاً ہميں علم ہو جائے كہ حاكم نے رؤيت ہلال كا حكم دينے كے لئے جس بينہ (دو گواہوں كي شہادت. پر اعتماد كيا وہ بينہ درست نہيں تھا ليكن اس كے باوجود ہم احتمال ديتے ہيں كہ ممكن ہے حاكم كا حكم اتفاقي طور پر واقع كے مطابق ہو، يہ حكم حجت سے گر جائے گا كيونكہ حكم اپني كاشفيت (واقع كو كشف كرنے. كي خصوصيت كھو چكا ہے ۔

۱۷۴. ايسي دليل جس ميں كاشفيت كا پہلوپايا جائے۔

۱۷۵. دوسري لفظو ں ميں اس حكم كي حجيت حكم واقعي ہے حكم ظاہري نہيں ہے تاكہ اس كا خلاف واقع ہونامعقول ہو۔

۱۷۶. ضميمہ نمبر ۱۱۔

۱۷۷. بلكہ حكومتي سطح سے نيچے بھى، باہمي روابط كے تقاضے مختلف ہوتے ہيں مثلاً متعدد بيويوں كا مسئلہ جنگ اور صلح كے زمانے ميں يكساں نہيں ہے۔

۱۷۸. سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اكبر۔ (مترجم)

۱۷۹. ضميمہ نمبر ۱۲۔ملاحظہ ہو۔

۱۸۰. دعائے افتتاح سے اقتباس