انسان اور ایمان

انسان اور ایمان0%

انسان اور ایمان مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 10 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2091 / ڈاؤنلوڈ: 944
سائز سائز سائز
انسان اور ایمان

انسان اور ایمان

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

انسان اور ایمان

مصنف: استاد شھید مرتضی مطھری

انسان اور حیوان

انسان خود ایک طرح کا حیوان ہے لہٰذا دوسرے جانداروں کے ساتھ اس کی متعدد چیزیں مشترک ہیں لیکن اس کی بعض چیزیں اپنے ہم جنسوں سے مختلف بھی ہیں جو اسے دیگر جانداروں سے ممتاز کرتی ہیں انہیں امتیازات نے انسان کو اعلیٰ و اشرف بنا دیا ہے جن میں کوئی جاندار اس کا رقیب نہیں۔

انسان کا دوسرے جانداروں کے ساتھ بنیادی فرق دو صورتوں میں واضح ہوتا ہے:( ۱) ادراکات ( ۲) رجحانات

یہی فرق انسانیت کا معیار اور انسانی تمدن و ثقافت کا سرچشمہ ہے۔

عام طور پر جاندار نعمت سے بہرہ مند ہیں کہ اپنے آپ اور باہر کی دنیا کو جان سکیں۔ جاندار اپنی اسی آگاہی اور شناخت کے تحت اپنی آرزوؤں اور خواہشات کے حصول کی تگ و دو کرتا ہے۔ انسان بھی دوسرے جانداروں کی خواہشات اور آرزوؤں کا حامل ہے لہٰذا یہ بھی اپنی معرفت کے مطابق ان تک پہنچنے کی جدوجہد کرتا ہے البتہ اس کا دوسرے جانداروں کے ساتھ فرق یہ ہے کہ اس کی آگاہی و معرفت کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اسی طرح اس کی خواہشات اور آرزوئیں بھی اعلیٰ وارفع ہیں یہی چیز انسان کو ممتا ز کرتی ہے عظمت عطا کرتی ہے اور دیگر تمام جانداروں سے جدا کرتی ہے۔

حیوان کی آگاہی و خواہشات کی سطح

اس دنیا کے بارے میں حیوان کی آگاہی فقط ظاہری حواس ہی کے ذریعہ ہوتی ہے بنا برایں :

۱ ۔ یہ آگاہی سطحی اور ظاہری ہے اشیاء کے اندر اور ان کے اندرونی روابط سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔

۲ ۔ یہ آگاہی انفرادی اور جزوی ہوتی ہے۔ کلیت اور عمومیت سے تہی دامن ہے۔

۳ ۔ یہ خاص علاقہ تک محدود ہوتی ہے حیوان کی زندگی کے دائرے تک محدود رہتی ہے اس کے اپنے محدود محیط سے باہر نہیں جاتی۔

۴ ۔ یہ آگاہی حال سے متعلق ہے فقط زمان حال سے مربوط ہے ماضی و مستقبل سے منقطع ہے۔ حیوان اپنی تاریخ سے آگاہ ہے نہ تاریخ عالم سے آشنائی رکھتا ہے مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے نہ اس کے لئے کوئی ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔

حیوان شعور کے اعتبار سے ظواہر انفرادیت جزویت محیط زندگی کے ماحول اور زمان حال کی چاردیواری سے باہر نہیں نکلتا۔ حیوان ان چاروں زندانوں میں ہمیشہ کے لئے قید ہے۔ اگر کبھی اس قید و بند سے باہر نکلے تو شعور و آگاہی اور اختیار کے ساتھ باہر نہیں آتا بلکہ غیر شعوری طور پر جبلت و طبیعت کے تحت مجبوراً باہر نکلتا ہے۔

جس طرح کائنات کے بارے میں حیوانی شناخت محدود ہے اسی طرح حیوانی خواہشات بھی خاص حدود ہی کے اندرمقید ہیں۔

اولاً: یہ خواہشات مادی ہیں کھانے پینے کھیلنے سونے گھر بنانے اور جنسی لذت کے حصول تک محدود ہیں حیوان کے لئے اخلاقی و معنوی اقدار معنیٰ نہیں رکھتیں۔

ثانیاً: ذاتی اور انفرادی خواہشات ہیں جو اس کے اپنے ساتھ ہی مربوط ہیں یا زیادہ سے زیاد اس کے اپنے جوڑے اور اولاد کے اردگرد گھومتی ہیں۔

ثالثاً: ایک خاص علاقہ تک محدود ہیں اور اس کی زندگی کے دائرے میں ہیں۔

رابعاً: زمان حال ہی سے متعلق ہوتی ہیں۔

مختصر یہ کہ جو محدودیت حیوان و ادراک کے پہلو میں ہے وہی محدودیت اس کے میلانات و خواہشات میں بھی پائی جاتی ہے لہذا حیوان اس اعتبار سے بھی ایک خاص زندان میں مقید ہے۔

اگر حیوان کسی خاص ہدف کے حصول کی تگ و دو کر رہا ہو یا کسی خاص مقصد کی جانب بڑھ رہا ہو جو اس کے دائرے سے باہر ہے مثلاً اس کی حرکت انفرادی ہونے کی بجائے نوع سے تعلق رکھتی ہو یا حال کی بجائے مستقبل سے مربوط ہو جیسے بعض اجتماعی زندگی گزارنے والے حیوانا ت مثلاً شہد کی مکھی وغیرہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ سب کچھ وہ غیر شعوری طور پر جبلی تقاضوں کے تحت انجام دے رہی ہوتی ہے یا دوسرے لفظوں میں اس قوت و طاقت کے حکم کے مطابق انجام دیتا ہے جو اس کی کائنات کی خالق و مدبر ہے۔

انسان کی آگاہی اور خواہشات کی سطح

آگاہی و ادراک کا میدان ہو یا خواہشات ومیلانات کا ہر دور تک انسان کی دسترس بہت وسیع اور اعلیٰ ہے۔ انسانی آگاہی و معرفت اشیاء کے ظواہر سے عبور کر کے ان کی ذات و ماہیت کے اندر دور تک سرایت کرتی ہے۔ اس کے باہمی روابط اور ان پر حاکم قوانین میں بھی اثرورسوخ پیدا کر لیتی ہے۔

انسانی آگاہی زمان و مکان کی قید سے مبرا یہ زمان و مکان دونوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتی ہے اس لئے یہ اپنے دائرہ حیات سے ماورا کی بھی آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ دوسرے کرات کی بھی خبر لے آتا ہے۔ انسان اپنے ماضی و مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کر لیتا ہے۔ اپنی تاریخ کے ساتھ ساتھ زمین آسمان پہاڑ دریا جنگلات و نباتات معدنیات و حیوانات اور دنیا کی دوسری مخلوقات کے بارے میں بھی آگاہی حاصل کر لیتا ہے۔ اور آئے دن نئی نئی خبروں کا انکشاف کرتا رہتا ہے۔ مستقبل کے بارے میں بڑی دور کی سوچتا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر انسان اپنی فکری قوت کے بل بوتے پر بعض لا محدود اور جاوداں اشیاء کی بھی شناخت حاصل کر لیتا ہے۔ انفرادی اور جزوی شناخت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بہت بلند ہو جاتا ہے۔ کلی قوانین آفاقی حقائق اور کائنات پر حاکم اسرار و رموز کشف کرتا ہے پھر آہستہ آہستہ فطرت پر اپنا تسلط جما لیتا ہے۔

انسان اپنی خواہشات کو بھی رفعتوں سے نوازسکتا ہے۔ انسان ایک ایسا وجود ہے جو اعلیٰ اقدار کے حصول کے لئے پاؤں مارتا ہے اعلی جذبات کا حامل اور کمال کا طالب ہے ایسے عقائد کی تلاش میں رہتا ہے جو مادے کاپابند نہ ہوں اور مفاد پرستی کی آلائشوں سے پاک ہوں ایسے جذبے بیوی بچوں اور ذاتیات ہی میں نہیں کھو جاتے بلکہ خاص عمومیت رکھتے ہیں اور تمام بشریت پر سایہ فگن ہوتے ہیں کسی خاص زمان یا کسی خاص مکان و علاقے تک محدود نہیں ہوتے۔

انسان اس قدر عقیدہ پر ست ہے کہ اسے اپنے عقائد کے سامنے دیگر تمام اشیاء کی قدروقیمت ہیچ نظر آتی ہے۔ انسانوں کی آسائش و خدمت اسے آسائش سے زیادہ اہم دکھاتی ہے دوسروں کے پاؤں میں چبھنے والا کانٹا اسے یوں لگتا ہے جیسے اس کے اپنے پاؤں میں بلکہ آنکھ میں چبھا ہو ہر ایک کو ہمدردی کی دولت بانٹتا پھرتاہے دوسروں کے دکھ میں دکھی اور شادی و سرود میں مسرور وشاداں ہوتا ہے۔ اپنے مقدس عقائد کو یوں دل میں اتار لیتا ہے کہ پھر وہ تمام ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال دیتا ہے یہاں تک کہ پھر ان کی راہ میں اپنی قیمتی ترین متاع حیات بآسانی قربان کر دیتا ہے۔ تمدن بشری کا یہی انسانی پہلو روح تمدن کہلاتا ہے اور یہ انہیں بشری جذبوں و خواہشات سے پیدا ہوتا ہے۔

انسانی امتیاز کا معیار

کائنات کے بارے میں انسان کی وسیع آگاہی اجتماعی بشری کاوشوں ہی کی بدولت ہے۔ اس آگاہی کی تکمیل میں صدیوں کی انتھک محنت کارفرما ہے خاص قواعد و ضوابط اور منطقی اصولوں کے خمیر سے حاصل ہونے والی اس آگاہی و شناختی کو "علم" سے موسوم کیا جا تاہے یہاں علم سے مراد ہے کائنات سے متعلق وہ تمام بشری افکار کا مجموعہ جو انسان کی اجتماعی کوششؤں کا ثمر ہے۔ اور ایک خاص منطقی نظم و ترتیب سے آراستہ ہے۔

انسان کے روحانی رجحانات اس کے ایمان و عقیدہ کی پیداوار ہوتے ہیں۔ دنیا میں موجود بعض حقائق سے انسان کا دلی لگاؤ بھی اس کے رجحانات کی پیدائش کا باعث ہوتا ہے یہ حقائق انفرادیت جزویت اور مادیت سے ماوراء ہوتے ہیں۔ عمومیت کے حامل ہوتے ہیں۔ نفع و سود کے درپے نہیں ہوتے ایسا ایمان اور قلبی لگاؤ اپنے مقام پر خود سے ایسے تصور کائنات کے لئے رحم کا کردار ادا کرتا ہے جو پیامبران خدا نے بشریت کو عطا کیا ہے یا پھر ایمان افروز فکر پیش کرنے والے فلسفی نے پیش کیا ہے۔ مختصر یہ کہ انسان کے یہی حیوانیت سے بلند و بالا روحانی میلانات جب اس کے افکار و اعتقادات کی بنیاد بنتے ہیں تو انہیں ایمان کہا جاتا ہے۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ انسان اور دوسرے جانداروں کے درمیان اہم اور بنیادی فرق علم و ایمان ہے۔ علم و ایمان ہی انسانیت کا معیار ہے اور اسی پر انسان کی انسانیت کا دارومدار ہے۔

انسان اور دوسرے جانداروں کے درمیان تفاوت پر مفکرین نے بہت کچھ کہا ہے بعض کے نزدیک انسان کا دیگر انواع کے ساتھ کوئی بنیادی فرق نہیں ہے آگاہی و شناخت کے مسئلہ کو "تفاوت کمیت" یا زیادہ سے زیادہ "تفاوت کیفیت" میں شمار کرتی ہیں اسے تفاوت ماہیت نہیں سمجھتے۔ مشرق و مغرب کے عظیم فلاسفہ کو انسانی مسئلہ شناخت کے حوالے سے جن عجائب اہمیتوں اور عظمتوں نے بہت متاثر کیا ہے وہ ان لوگوں کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ یہ لوگ انسان کو خواہشات کے میدان میں بھی ہر جہت سے حیوان ہی سمجھتے ہیں اور اس بارے میں معمولی ترین فرق کے بھی قائل نہیں ہوتے۔

(برطانیہ کے معروف فلسفی "ہابر" کی انسان کے بارے میں یہی رائے ہے)

بعض کے نزدیک بنیادی فرق جاندار ہونے میں ہے ان کا نظریہ ہے کہ جاندار ذی حیات ہونا فقط انسان ہی کا خاصہ ہے دوسرے حیوانات احساس رکھتے ہیں۔ نہ میلان و رغبت لذت و الم سے نا آشنا ہیں۔ یہ جانداروں کے مشابہ بے جان مشینیں ہیں۔ جاندار وجود صرف انسان ہے بنا برایں اس کی صحیح تعریف یہ ہو گی کہ انسان ایک جاندار وجود کا نام ہے۔( ڈکارٹ کا مشہور نظریہ )

بعض مفکرین صرف انسان کو دنیا کا جاندار نہیں سمجھتے اس کے اور دوسرے جانداروں کے درمیان بنیادی خصوصیات و تفاوت کے قائل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک گروہ نے انسان کی کسی ایک خصوصیت کو پیش نظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف و جوہات کی بناپر انسان کی مختلف تعریفیں ہوئی ہیں۔ مثلاً حیوان ناطق (عقل فکر سے کام لینے والا کمال کا طالب لامتناہی عقیدے کا تمنائی اقدار کا متلاشی مافوق الفطرت حیوان سیر نہ ہونے والا غیر معین ذمہ داری اٹھانے والا دور اندیش آزادو خود مختار گناہگار سماجی قانون کا پابند حسن کا شیدائی انصاف پسند دوغلا حامل فرائض عاشق باضمیر بے خبر ایجادوتخلیق کرنے والا تنہا مضطرب عقیدہ پرست آلات ساز مہم جو خیال تراش روحانی اور دروازہ روحانیت وغیرہ۔ یہ بات واضح ہے کہ ان میں ہر ایک برتری اپنے مقام پر ٹھیک ہے لیکن اگر ہم کوئی جامع اصطلاح یا عبارت پیش کرنا چاہیں جو ان تمام تعریفات کی جامع ہو تو پھر شاید "علم و ایمان" کی بنیاد پر ممتاز ہے۔

انسانیت بنیا دیا عمارت

ہم جان چکے ہیں کہ انسان ایک قسم کا حیوان ہے اس لئے دوسرے تمام جانداروں کے ساتھ اس کی بہت ساری چیزیں مشترک ہیں اور یہ بعض بنیادی فرق بھی رکھتا ہے جن وجہ سے انسان دوسرے جانداروں سے ممتاز ہوتا ہے۔ انسان حیوان سے اپنی مشترک و امتیازی و جوہات کی بناء پر دو طرح کی زندگی کا حامل ہے۔ حیوانی اور انسانی زندگی یا دوسرے معنوں میں مادی اور ثقافتی زندگی۔

اب یہاں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ انسان کی حیوانیت اور انسانیت میں کیا ربط ہے؟ بحث یہ ہے کہ انسان کی حیوانی زندگی اور انسانی زندگی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ یا انسان کی مادی زندگی اور روحانی و تمدنی زندگی کا باہم کیا جوڑ بنتا ہے؟ کیا ان دونوں میں سے کوئی ایک جڑ کا کام دیتی ہے اور دوسری اس کی شاخ و برگ کی مانند ہے؟ ایک اساس کے طور پر ہے تو دوسری اس کا پر تو اور انعکاس ہے؟ ایک بنیاد ہے تو دوسری اس کے اوپر قائم ہونے والی عمارت ؟ آیا مادی زندگی بنیاد ہے اور ثقافی زندگی عمارت ہے؟

آج کل بحث مباحثوں میں سماجی پہلوزیادہ غالب رہتا ہے اور نفسیاتی پہلو نظر انداز کر دیا جاتا ہے سماجیات کو اہمیت دی جاتی ہے اور ماہرین نفسیات کی آراء پس پشت ڈال دی جاتی ہیں لہٰذا بحث کی صورت یوں بنتی ہے کہ آیا اجتماعی و معاشرتی شعبوں کی اقتصادیات ہی بنیاد بنتی ہے چونکہ پیداوار اور پیداواری روابط اسی پر منحصر ہیں اور باقی تمام سماجی پہلواس کا پر تو ہیں۔ خصوصاً وہ شعبے جو انسان کی انسانیت کے علم بردار ہیں۔ وہ بھی اقتصادی بنیادپر اٹھنے والی عمارت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کیا سائنس فلسفہ ادب دین قانون اخلاق اور فن ہر دور میں اقتصادی و معاشی حقیقتوں ہی کے مظاہر رہے ہیں اور خود بنیاد کی حیثیت نہیں رکھتے۔

جی ہاں! آج کل جو بحث ہے وہ اس اندا زمیں ہے لیکن سماجیات کی اس بحث کا نتیجہ بہرحال علم نفسیات (سائیکالوجی) ہی پر منتہی ہوتا ہے۔ پھر یہ بحث انسان کی اصلیت و حقیقت کے بارے میں موجود فلسفی بحث میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ یوں کہ انسان کی انسانیت کسی صورت بھی اصالت کی مالک نہیں فقط اس کی حیوانت اصالت سے بہرہ مندہے۔ حیوانیت کے مقابلے میں انسان کے اندر انسانیت نام کی کوئی اصالت موجود نہیں ہے۔ اس سے اسی نظریے کی تائید ہوتی ہے جو انسان اور حیوان کے درمیان کسی بنیادی فرق کا قائل نہیں۔

اس نظریہ کے مطابق خیر خواہی حقیقت جوئی جمال پرستی اور خدا پرستی جیسے انسانی رجحانات کی اصالت کا انکار ہوتا ہے مزید اس سے اس امر کی بھی نفی ہو جاتی ہے کہ انسان کائنات اور حقیقت سے متعلق حقیقت پسند ہو سکتا ہے کیوں کہ پھر کوئی نظریہ فقط نظریہ نہیں ہو سکتا غیر جانبدار رائے نہیں ہو سکتی بلکہ نظریہ کسی خاص مادی رجحان ہی کا نتیجہ ہو گا۔ تعجب ہے کہ اس نظریے کے حامل بعض مکاتب انسانیت کا دم بھی بھرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان کے ارتقاء کا سلسلہ حیوانیت سے شروع ہوتا ہے اور انسانیت کے کمال تک جا پہنچتا ہے۔ یہ اصول ایک ایک فرد پر بھی پورا اترتا ہے اور معاشے پر بھی صادق آتا ہے ۔

انسان اپنے وجود کی ابتداء میں ایک مادی جسم ہوتا ہے۔ جوہری تکامل کے ساتھ ساتھ روح یا جوہر روح میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ انسانی روح جسم کے دامن میں آنکھ کھولتی ہے پروان چڑھتی ہے اور آزادی کی دولت سے مالا مال ہو جاتی ہے۔

انسانیت کی حیوانیت بھی اس گھونسلے اور آشیانے کے مترادف ہے جس میں اس کی انسانیت پروان چڑھ کر کمال حاصل کرتی ہے۔ کمال کی خاصیت یہ ہے کہ وجود مکمل جس قدر بھی کمال حاصل کرتا جائے گا مستقل آزاد قائم بالذات اور اپنے محیط پر حاکم اور موثر ہوتا چلا جائے گا۔ لہذا انسان کی انسانیت فرد میں یا معاشرے میں جس قدر کمال حاصل کرے گی۔ استقلال اور تمام جوانب پر حاکمیت کی جانب گامزن رہے گی۔ کمال حاصل کرنے والا انسان ایک ایسا فرد ہے جو اندرونی و بیرونی ماحول کے تسلط و حاکمیت سے مبرا ہو اور عقیدہ و ایمان سے وابستہ ہو۔ معاشرے کی تکمیل بھی عیناً اسی طرح وقوع پذیر ہوتی ہے جیسے تکمیل روح جسم کے دامن میں اور فرد کی انسانیت کی تکمیل اس کی حیوانیت کے دامن میں انجام پاتی ہے انسانی معاشرہ زیادہ تر اقتصادی شعبوں کے خمیر سے ہی پروان چڑھتا ہے۔ معاشرے کے ثقافتی اور روحانی پہلومعاشرے کی روح کی طرح ہوتے ہیں جیسے جسم اورروح ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کی روح اور بدن ایک دوسرے پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یعنی مادی شعبوں کے درمیان ایسے ہی روابط ہوتے ہیں۔جیسے فرد کے تکامل کا سفر روح کی زیادہ سے زیادہ آزادی استقلال اور حاکمیت کی جانب ہوتا ہے۔ معاشرے کی تکمیل بھی اس نہج پر ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے زندگی پر آزادی و حاکمیت اور ثقافتی زندگی کا غلبہ ہوتا جاتا ہے۔

مستقبل کا انسان اقتصادی حیوان نہیں بلکہ ثقافتی حیوان ہے مستقبل کا انسان شکم پرور نہیں بلکہ عقیدہ و ایمان اور مسلک کا انسان ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک جبر کے تحت قدم بہ قدم صراط مستقیم پر انسانی اقدار کی طرف رواں دواں ہے اور انسانی معاشرہ اس اعتبار سے ہر زمانے میں پہلے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔

ممکن ہے انسانی معاشرتی و اجتماعی زندگی کی تمام تر مادی و سائنسی ترقی کے باوجود روحانی اعتبار سے گذشتہ ادوار کی نسبت پستی کا شکار ہو جیسا کہ آج ہمارے اس دور کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی حرکت میں مجموعی طور پر مادی و روحانی دونوں میدانوں میں پیش رفت کر رہا ہے۔ روحانی اعتبار سے انسان کی تکمیل حرکت بالکل سیدھی خط مستقیم پر نہیں ہوتی بلکہ گاہ بگاہ دائیں بائیں منحرف ہوتی رہتی ہے اور بعض اوقات ٹھہراؤ پھر باز گشت سے بھی دو چار ہو جاتی ہے لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر ایک تکمیل حرکت ہے اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ مستقبل کا انسان ثقافتی حیوان ہے نہ کہ اقتصادی مستقبل کا انسان شکم پرور نہیں بلکہ ایمان و عقیدہ کا انسان ہے۔

اس نظریہ کے تحت انسان پہلے اپنی اصالت کی وجہ سے پیداواری آلات کی تکمیل کے ساتھ ساتھ بلکہ ان سے بڑھ کر تکمیلی مراحل طے کرتا ہے۔ اپنی اسی تکمیل کی بناء پر قدرتی اور معاشرتی ماحول سے اس کی وابستگی اور تاثیر پذیری میں بھی آہستہ آہستہ کمی واقع ہوتی رہتی ہے دوسری طرف عقیدے ایمان مسلک اور نظریات کے ساتھ اس کی وابستگی ہوگی اور قدرتی و اجتماعی ماحول آزادی استقلال اور عقیدہ و ایمان کے ساتھ مکمل وابستگی ہو گی اور قدرتی و اجتماعی ماحول آزادی استقلال اور عقیدہ و ایمان کے ساتھ مکمل وابستگی حاصل کر لے گا۔ اگرچہ گذشتہ ادوار میں انسان نے اپنے وجود اور قدرتی نعمتوں سے کمتر فائدہ اٹھایا ہے اور زیادہ تر اپنی حیوانیت اور فطرت ہی کا اسیر رہا ہے۔ لیکن مستقبل کا انسان جہاں اپنے وجود اور فطرت سے پہلے بڑھ کر مستفید ہو گا وہاں ان کی قید سے نسبتاً زیادہ آزاد ہو گا اور ان دونوں پر اپنے غلبے میں اضافہ کرے گا۔ اس نظریہ کے مطابق انسان کی حقیقت اگرچہ حیوانی و مادی تکمیل ہی کے دامن میں ترقی کے زینے طے کرتی ہے لیکن کسی صورت میں مادی تکامل کے زیر سایہ یا تابع نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ خود سے علیحدہ آزاد مستقل اور کمال حاصل کرنے والی ایک حقیقت ہے۔ یہ مادی پہلوں سے اثر قبول کرتی ہے اور ان پر موثر بھی ہوتی ہے۔ انسان کا خالص تمدنی ارتقاء اور اصل انسانی حقیقت ہی دراصل انسان کی قسمت و تقدیر کا آخری فیصلہ کریں گے نہ کہ ترقی یافتہ پیداواری آلات انسان کی یہ اصل حقیقت اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔ اور زندگی کے باقی شعبوں کے ہمراہ پیداواری آلات کو بھی کمال بخشتی ہے۔ پیداواری آلات خود بخود ترقی کے زینے طے نہیں کرتے۔ جیسے اوزار کے ترقی یافتہ ہونے سے پیداواری نظام ارتقاء پاتا ہے تو گویا اس نظا م میں تغیر و تبدل کی گنجائش موجود ہے۔ انسان کی انسانیت میں بھی اسی طرح تغیر و تبدل آتا رہتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں تکامل ہوتا ہے اور انسانیت پیداواری نظام کو بھی کامل کر دیتی ہے۔

علم و ایمان

علم و ایمان کا باہمی رابطہ

ہم انسان کی انسانیت اور حیوانیت کے باہم رابطہ کو جان چکے ہیں یا دوسرے الفاظ میں انسان کی ثقافتی تمدنی اور معنوی زندگی کے ساتھ اس کی مادی زندگی کے رابطے کو بیان کر چکے ہیں۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کی انسانیت اصالت و استقلال رکھتی ہے یہ فقط اس کی حیوانی زندگی کا پر تو نہیں ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہوا کہ علم وایمان انسان کی انسانیت کے بنیادی ارکان میں سے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو ارکان یا انسانیت کے ان دورخوں کا آپس میں کیا رابطہ ہے یا آئندہ کیا رابطہ ہو سکتا ہے؟

یہ بات قابل افسوس ہے کہ عیسائیوں کے ہاں عہد عتیق ( تورات) کے بعض تحریفی حصوں کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ایک فکر راسخ ہو چکی ہے جو علم و ایمان دونوں کو مہنگی پڑی ہے اور وہ فکر یہ ہے کہ علم و ایمان باہم متضاد ہیں۔ اس فکر کی اصل بنیاد وہی سوچ ہے۔ جو "عہد عتیق" کے "سفر پیدائش" میں ملتی ہے۔ سفر پیدائش باب دوم آیت ۱۶ میں آدم بہشت اور شجرہ ممنوعہ کے بارے میں یوں ملتا ہے۔

خدا نے آدم کو حکم فرمایا "باغ کے تمام درختوں سے بلا روک ٹوک کھاؤ لیکن معرفت نیک و بد کے درخت سے ہر گز نہ کھانا جس دن تم نے اس سے کھایا یقینا موت کے منہ میں چلے جاؤ گے۔"

باب سوم آیت نمبر ایک سے لے کر آٹھ میں ارشاد ہے:

"خدا کے بنائے ہوئے صحرائی جانوروں میں سب سے زیادہ ہوشیار سانپ تھا اس نے خاتون (حوا) سے کہا: کیا خدا نے واقعاً کہا ہے کہ باغ کے تمام درختوں سے نہ کھانا؟ خاتون نے سانپ سے کہاکہ باغ میں موجود درختوں کے پھل تو ہم کھاتے ہیں لیکن باغ کے درمیان میں موجود جو درخت ہے اس کے بارے میں خدا نے کہا ہے کہ اس کا پھل نہ کھانا اور نہ ہی اسے چھونا مبادا ! موت کے منہ میں جا پڑو۔ سانپ نے خاتون سے کہا تم ہرگز نہ مرو گے بلکہ خدا کو پتہ ہے کہ جس دن تم نے اس درخت سے کچھ کھالیا تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی طرح نیک و بد سے آگاہ ہو جاؤ گے۔ اب جب خاتون نے دیکھا کہ اس درخت سے کھانا بہتر ہے تو اس کی نظروں میں یہ بھلا دکھائی دینے لگا اسے دل پذیر و علم افزا سمجھ کر اس کا پھل کھا لیا اور اپنے شوہر کو بھی دیا تو اس نے بھی کھالیا اب ان دونوں کی آنکھیں کھل گئیں تو وہ سمجھ گئے کہ وہ عریاں ہیں لہذا انجیر کے پتے جوڑ کر دونوں نے اپنی شرم گاہ ڈھانپی۔"

اسی باب کی آیت ۲۳ ملاحظہ فرمائیں:

"خدا وند نے کہا ! اب تو انسان بھی ہم جیسا ہو گیا ہے کیوں کہ عارف نیک و بد ہو گیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مزید دست درازی کرے اور درخت حیات سے بھی کھالے اور پھرتا ابد زندہ رہے۔"

انسان خدا عرفان اورگناہ کی جو شناخت یہاں کی گئی ہے اس سے تو یوں لگتا ہے کہ خدا (دین) کا حکم یہ ہے کہ انسان نیک و بد کی پہچان حاصل نہ کرے آگاہی و معرفت کے قریب نہ پھٹکے۔ آگاہی کو شجرہ ممنوعہ قرار دیا گیا ہے انسان گناہ کا ارتکاب اور خدا کے حکم سے روگردانی کر کے (شریعت اور پیامبروں کی تعلیمات سے منہ موڑ کر ) معرفت و آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ اسی بناء پر اسے بہشت سے نکال باہر کیا گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق تمام وسوسوں کا سرچشمہ آگاہی ہے لہذا وسوسے کرنے والا شیطان در حقیقت عقل ہی ہے۔

ہم مسلمانوں نے قرآن سے یہ سیکھا ہے کہ خدا نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اسماء (حقائق) بتا دئیے اور پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں۔ شیطان اس لئے راندہ درگاہ ہوا کہ اس نے حقائق سے آگاہ خلیفة اللہ کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح سنت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ شجرہ ممنوعہ حرص و طمع جیسی تھیں یعنی ایسی جو آدم کی حیوانیت سے متعلق تھیں یہ چیزیں اس کی انسانیت سے مربوط نہ تھیں۔ وسوسے ڈالنے والا شیطان ہمیشہ عقل کے خلاف اور حیوانی ہوائے نفس کے مطابق وسوسے ڈالتا ہے۔ انسانی وجود میں مظہر شیطان عقل نہیں نفس امارہ ہے۔ بنا برایں قرآن و سنت کی ان تعلیمات کے پیش نظر "سفر پیدائش کے مطالب ہمارے لئے انتہائی تعجب خیز ہیں۔

اسی فکر نے یورپی تمدن کی تاریخ کو گذشتہ پندرہ صدیوں میں ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ ایک دور کو ایمان سے تعبیر کرتے ہیں اور دوسرے دور کو علم کا زمانہ کہتے ہیں۔ اس فکر نے علم و ایمان کو ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ جبکہ اسلامی تمدن کی تاریخ ان ادوار میں تقسیم ہوتی ہے ایک عروج کا زمانہ جو علم و ایمان کا زمانہ ہے۔ دوسرا زوال کا زمانہ کہ جس میں علم و ایمان دونوں انحطاط و پستی کا شکار ہیں۔ ہم مسلمانوں کو ان کی اس غلط فکر سے دور رہنا چاہئے جس کی وجہ سے علم ایمان اور انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ہمیں آنکھیں بند کر کے خوا ہ مخواہ علم وایمان کو باہم متضاد نہیں سمجھنا چاہئے۔

اب ہم ایک تحقیقی انداز سے مسئلہ کو پیش کرتے ہیں اور اس پر یہ عالمانہ بحث کرتے ہیں کہ آیا انسانیت کی یہ دو بنیادیں واقعاً دو جدازمانوں سے تعلق رکھتی ہیں؟ کیا انسان مجبور ہے کہ ہمیشہ آدھا انسان رہے اور ہر دور میں صرف آدھی انسانیت رکھتا ہو؟کیا انسان مجبور ہے کہ ہمیشہ ان دو بد بختوں میں سے کسی ایک کا شکار رہے؟ ایک جہل و نادانی سے پیدا ہونے والی بدبختیاں اور دوسری ایمان کے فقدان سے پیدا ہونے والی بدبختیاں۔

یہ بات بعد میں واضح ہو گی کہ ہر ایمان کی بنیاد بہر حال کائنات کے بارے میں ایک خاص فکر و نظر پر قائم ہوتی ہے اور بلا شبہ کائنات کے بارے میں ایسے متعدد افکار و عقائد علمی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں اور جو بہرحال مسترد کر دئیے جانے کے قابل ہیں البتہ ہمارا موضوع بحث یہ نہیں بلکہ ہماری بحث اس بارے میں ہے کہ آیا کائنات و ہستی کے بارے میں کوئی ایسی فکر یا نظریہ موجود ہے جو سائنس و فلسفہ اور منطق کی کسوٹی پر بھی پورا اترتا ہو اور سعادت بخش ایمان کے لئے ایک مضبوط بنیاد بھی بن سکے؟

اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ ایسی فکر یا تصور کائنات میں موجود ہے تو پھر انسان مجبور نہیں کہ دو بد بختیوں میں سے کوئی ایک ضرور اس کے نصیب میں ہو۔

علم وایمان کے باہمی رابطہ پر دو پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ پہلا یہ کہ آیا کوئی ایسا نظریہ ہے جو علم و منطق کی کسوٹی پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ ایمان و عقیدہ کی پیدائش کا باعث بھی ہو علم و فلسفہ کے عطا کردہ افکار ایمان عقیدے امید اور خوش بینی کے خلاف ہیں۔ اس مسئلہ پر ہم تصور کائنات کے عنوان سے بعدمیں بحث کریں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک طرف علم کے انسان پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے اور دوسری طرف ایمان کی تاثیر بھی دیکھی جائے۔ کیا علم انسان کو جس چیز کی دعوت دیتا ہے ایمان اس کے برخلاف پکارتا ہے؟ کیا علم ہماری تربیت جس انداز سے کرنا چاہتا ہے ایمان اس کے برعکس ہماری تربیت کا متمنی ہے؟ کیا علم ہمیں جس طرف کھینچتا ہے ایمان اس کے متضاد کہیں اور گھسیٹتا ہے؟ یا ایسا نہیں ہے بلکہ علم اور ایمان ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث بنتے ہیں؟ ہمارے آدھے حصے کی تعمیرعلم کرتا ہے اور باقی آدھے حصے کو علم کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ایمان پروان چڑھاتا ہے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علم ہمیں کیا دیتا ہے اور ایمان کیا بخشتا ہے؟ علم روشنی اور توانائی عطا کرتا ہے۔ ایمان عشق امید اور دل گرمی کا باعث بنتا ہے۔ علم آلات بناتا ہے اور ایمان مقصد علم سرعت دیتا ہے اور ایمان جہت علم کر سکنا ہے اور ایمان اچھا چاہنا علم بتاتا ہے کہ کیا ہے اور ایمان ہدایت کرتا ہے کہ کیا کرناچاہئے ؟ علم بیرونی انقلاب ہے اور ایمان اندرونی انقلاب ہے۔ علم جہان کو جہان آدمیت بناتا ہے اور ایمان روح کو روح آدمیت بناتا ہے۔ علم انسانی وجود کو افقی سطح تک ترقی دیتا ہے اور ایمان انسان کو عمودی سطح پر اوپر لے جاتا ہے علم طبیعت ساز ہے اور ایمان انسان ساز علم بھی انسان کو طاقت عطا کرتا ہے اور ایمان بھی لیکن علم کی طاقت منفصل ہوتی ہے اور ایمان کی طاقت متصل ہوتی ہے۔ علم جمال ہے اور ایمان بھی جمال لیکن علم حسن عقل اور ایمان جمال روح علم حسن فکر ہے اور ایمان جمال احساس علم بھی انسان کو اطمینان عطا کرتا ہے اور ایمان بھی۔ علم اطمینان خارجی عطا کرتا ہے اور ایمان سکون داخلی۔ علم بیماری سیلاب زلزلہ اور طوفان کے مقابل پناہ گاہ ہے اور ایمان اضطراب پریشانی تنہائی احساس محرومی اور بے وقتی کے مقابل پناہ گاہ ہے۔ علم دنیا کو انسان کے لئے ساز گار کرتا ہے اور ایمان انسان کو انسان کے لئے ساز گار کرتا ہے۔

انسان کے لئے علم و ایمان کی اکٹھی ضرورت ہے یہ بات مذہبی و غیر مذہبی مفکرین کی انتہائی توجہ کا مرکز رہی ہے علامہ اقبال کہتے ہیں:

آج بشریت کو تین چیزوں کی احتیاج ہے کائنات کی روحانی تعبیر کی جائے فرد کو روحانی آزادی حاصل ہو ایسے بنیادی اور بااثر جہانی اصول جو انسانی معاشرے کے تکامل کی روحانی توجیہ کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید یورپ نے ان شعبوں میں مثالی فکری ادارے قائم کیے ہیں۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ صرف عقل کے ذریعے حاصل ہونے والی حقیقت میں ایک زندہ عقیدے کی سی حرارت نہیں ہو سکتی کیوں کہ یہ فقط شخصی الہام کا نتیجہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ عقل محض نے نوع بشر پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔ جبکہ دین ہمیشہ افراد کی ترقی اور معاشروں کے تغیر وتبدل کا سبب رہا ہے۔

یورپ کی مثالیت پسندی ایک زندہ عامل کی صورت میں اس کی حیات میں ہر گز داخل نہیں ہو سکی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خودی سرگرداں ہے۔

یقین کریں کہ آج کا یورپ انسانی اخلاق کی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جبکہ مسلمان وحی پر مبنی ایسیے افکار اور نظریات سے مالا مال ہیں جو زندگی کی بہت گہرائیوں سے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان کے ظاہر کو باطنی رنگ عطا کرتے ہیں۔ مسلمان شخص کے لئے زندگی کا روحانی پہلو چونکہ ایک اعتقادی مسئلہ ہے لہذا اس اعتقاد کے دفاع میں وہ خوشی سے جان کی بازی لگا دیتا ہے۔("احیاء فکر دینی دراسلام "، ترجمہ احمد اسلام ص ۲۰۳)

ویل ڈیورانٹ مشہور کتاب "تاریخ تمدن" کا مصنف اگرچہ غیر مذہبی شخص تھا اس کے باوجود کہتا ہے قدیم دنیا اور آج کی جدید مشینی دنیا میں فرق صرف وسائل کی بناء پر ہے۔ مقاصد کے اعتبار سے ان میں اختلاف نہیں اب اس مسئلہ پر آپ کیا کہیں گے اگر ہماری تمام تر ترقی و پیش رفت صرف وسائل اور روش کی اصلاح تک محدود ہو اور اہداف و مقاصد کی بہترین نہ ہو۔( ندات فلسفہ ص ۲۹۲)

مزید کہتا ہے کہ

"دولت تھکا دیتی ہے عقل و حکمت ایک سرد اور دھیمی ہی روشنی

ہے لیکن عشق ناقابل بیان حد تک دلجوئی کرتے ہوئے دلوں کو گرماتاہے۔"(ندات فلسفہ ص ۱۳۵)

آج پیشتر اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ سینتھسزم ( Synthesism )محض علم پسندی اور خالص سائنسی تربیت ایک مکمل انسان بنانے سے قاصر ہے۔ نری علمی تربیت آدھا انسان بناتی ہے مکمل انسان نہیں بناتی۔ اس تربیت کے نتیجہ میں انسان خام مال ہوتا ہے اس کی تکمیل نہیں ہوتی۔ ایسی تربیت سے انسان توانا قوی بنتا ہے لیکن بافضیلت نہیں ہوتا۔ انسان کے ایک پہلو کی تعمیر ہوتی ہے اور باقی تمام پہلو تشنہ رہ جاتے ہیں۔ آج سب یہ بات سمجھتے ہیں کہ علم محض کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب معاشرے میں عقیدے کا فقدان خطرناک صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ بعض لوگ اس فقدان کو فلسفہ محض سے پورا کرنا چاہتے ہیں جبکہ بعض دوسرے افراد ادبیات آرٹ اور علوم انسانی کی مدد سے عقیدے کا خلا پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک (ایران) میں بھی انسان دوستی کی ثقافت کی باتیں اور خصوصاً مولانا روم سعدی اور حافظ جیسے شعراء کے عرفانی کلام کی تجاویز بھی اسی عقیدتی و معنوی خلا کو پر کرنے کی کوششیں ہیں جبکہ یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ ان ادبیات کی روح اور کشش مذہب ہی کی وجہ سے ہے۔ ان ادبیات کی انسان دوستی والی روح در حقیقت وہی اسلامی مذہبی روح ہے۔ وگرنہ آج کی نئی ادبیات اپنی تمام تر انسان دوستی کے اظہار کے باوجود کیونکر سرد اور بے جان ہیں؟ ان میں کیوں کشش دکھائی نہیں دیتی؟ ہماری عرفانی ادبیات کا انسانی پہلو انسان و کائنات کے بارے میں ایک خاص طرز فکر کی پیداوار ہے جو در حقیقت اسلامی فکر ہی ہے۔ اگر ان ادبی شہ پاروں سے اسلامی روح نکال دی جائے تو باقی مردہ جسم اور کوڑا کرکٹ کے علاوہ کچھ نہ بچے گا۔

اس خلا کو محسوس کرنے والوں میں سے ایک ویل ڈیورنٹ بھی ہے اس نے ادب فلسفہ اور آرٹ کے ذریعے اس خلا کو پر کرنے کی تجویز دی ہے۔ وہ کہتا ہے:

ہمارے سکولوں میں اور یونیورسٹیوں کو اسپنسر(انیسویں صدی کا مشہور برطانوی فلسفی) کے نظریہ تربیت سے بہت زیادہ نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اسپنسر نے تربیت کی تعریف یوں کی ہے کہ انسان کو اس کے ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یہ تعریف بے جان اور میکانیاتی ہے۔ اس نے میکانیات کی برتری کے فلسفے سے جنم لیا ہے۔ ہر تخلیقی زمین اور روح اس سے متنفر ہے۔ اس نظریہ تربیت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے تعلیمی ادارے نظری اور میکانیات علوم سے معمور ہیں اور ادب تاریخ فلسفہ اور آرٹ جیسے مضامین سے خالی ہیں۔ ایسے مضامین ان کے نزدیک بے فائدہ ہے۔ تربیت کا حاصل آلات و اوزار کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ ایسی تربیت انسان کو حسن و جمال سے بیگانہ بنا دیتی ہے۔ اسے حکمت سے الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ اگر اسپنسر کوئی کتاب نہ لکھتا تو یہ دنیا کے لئے اچھا ہوتا ۔(ندات فلسفہ ص ۲۰۶)

یہ بات انتہائی تعجب انگیز ہے کہ ویل ڈیورنٹ اعتراف تو کرتا ہے کہ موجودہ بحران اعتقادی بحران ہے۔ یہ خلا عقائد اہداف اور مقاصد کا خلا ہے۔ ایک ایسا خلا جو بے ہودہ پستیوں کا شکار ہے علاوہ ازیں ویل ڈیورنٹ اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ یہ خلا انسانی اہداف اور مقاصد کے بارے میں کوئی خاص سوچ اور ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ ان تمام اعترافات کے باوجو اس کاخیال یہ ہے کہ ہر طرح کی معنویت سے اس کی چارہ جوئی ہو سکتی ہے خواہ وہ معنویت قوت تخیل تک ہی محدود کیوں نہ ہو۔ اس کے خیال میں آرٹ شعر موسیقی اور تاریخ جیسے شعبے اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت و قدرت رکھتے ہیں جو انسان کی عقیدہ پرستی اور کمال مطلوب تک پہنچنے کی فطری خواہش سے پیدا ہوتی ہے۔