‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) جلد ۲

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 285

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 285
مشاہدے: 26570
ڈاؤنلوڈ: 1187


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 285 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 26570 / ڈاؤنلوڈ: 1187
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) جلد 2

مؤلف:
اردو

پہلا سبق

پیغمبر کا خلیفہ اور جانشین کون ہوسکتا ہے

ہوائی جہاز پر مسافر سوار ہوچکے تھے لیکن ابھی ہوائی جہاز کا پائلٹ نہیں آیا تھا اور وہ آبھی نہیں سکا تھا کسی آدمی کو اس کی جگہ لایا جائے گا کہ جو مسافر وں کو ان کی منزل تک پہنچادے کیا انہیں مسافروں میں سے کسی ایک کوا ہوائی جہاز میں کسی کام کرنے والے کو کسی راہ گیر کو آیا اسے جو ہوائی جہاز چلانے میں مہارت اور آگاہی نہ رکھتا ہو ہوئای جہا زجلانے کے لئے اس پائلٹ کی جگہ بھیج دیا جائے گا؟ کیا اس پر مسافر اعتماد کرسکیں گے اور کیا وہ ہوائی جہاز اڑاسکے گا کون آدمی ایک پائلٹ کا جانشین ہوسکتا ہے؟ یقینا وہ آدمی جو ہوائی جہاز چلانے میں مہارت رکھتا ہو اور اس فن میں کافی معلومات اور آگاہی رکھتا ہو اور خود پائلٹ ہو اس مثال کو دیکھتے ہوئے آپ یہ کہہ سکتے

۱۶۱

ہیں کہ کو آدمی پیغمبر(ص) کا جانشین او رخلیفہ ہوسکتا ہے؟

پیغمبر(ص) کا جانشین کیسا ہونا چاہیئے

آیا وہ آدمی جو لوگوں کی ہدایت اہليّت اور اس کے متعلق کامل علم نہ رکھتا ہو وہ پیغمبر کا جانشین ہوسکتا ہے آیا وہ آدمی جو دین اسلام کے قوانین نہ جانتا ہو اور ان میں غلطیاں کرتا اور گناہ کرتا ہو پیغمبر اسلام(ص) کا جانشین اور خلیفہ ہوسکتا ہے اور اس منصب کے لائق ہوسکتا ہے_

کون بہتر جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کی جانشینی کے لئے کون لائق اور سزاوار ہے خدا بہتر جانتا ہے یا لوگ یقینا خدا بہتر جانتا ہے لہذا خدا ہی پیغمبر اسلام(ص) کی جانشینی کے لئے کسی لائق انسان کو معین کرتا ہے اور پیغمبر(ص) کو حک۴م دیتا ہے کہ علم الہی کو جو اس کو دیا گیا ہے اسے بھی آگاہ کرے پیغمبر(ص) بھی اللہ کے حکم پر علم الہی کو جو اس کو دیا گیا ہے اسے بھی آگاہ کرے پیغمبر(ص) بھی اللہ کے حکم پر عمل کرتا ہے اور اس کا اپنی جانشینی کے لئے اعلان کرتا ہے پیغمبر(ص) کے جانشین کوامام کہا جاتا ہے_

۱۶۲

دوسرا سبق

پیغمبر کا جانشین امام معصوم ہوتا ہے

پیغمبر اللہ کے حکم سے ایک ایسے انسان کو جو امین اور معصوم ہوتا ہے اپنی جانشینی کے لئے چنتا ہے تا کہ وہ اس کا خلیفہ ہو اور اس کے کاموں کو انجام دے امام ایک امین اور معصوم انسان ہوتا ہے کہ جسے خدا لوگوں کی رہبری کے لئے انتخاب کرتا ہے اور اللہ کے فرمان اور حکم سے پیغمبر اسے لوگوں کو بتلاتا اور اعلان کرتا ہے تا کہ وہ اپنے کردار اور گفتار سے لوگوں کی اللہ تعالی کی طرف راہنمائی او رہدایت کرے اور لوگ اپنی زندگی میں اسے اپنے لئے نمونہ قرار دیں اور اس کی پیروی کریں پیغمبر(ص) اللہ تعالی کے حکم سے اپنے علم اور آگاہی کو اس کے اختیار میں قرار دیتا ہے تا کہ لوگوں کی راہنمائی اور رہبری کرسکے امام دین کے قانون اور دستور کو جانتا ہے یعنی خدا اور پیغمبر اسے اس کی تعلیم دیتے ہیں اور پھر وہ

۱۶۳

اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے امام پیغمبر کی طرح دین کا کامل نمونہ ہوتا ہے اور دین کے پورے احکا اور دستور پر عمل کرتا ہے_

امام پیغمبر(ص) کی طرح نگاہ کی نجاست اور قباحت کو دیکھتا ہے اور اسی علم و آگاہی کی وجہ سے ہرگز گناہ نہیں کرتا بلکہ گناہ سے دور رہتا ہے امام پیغمبر کی طرح نگاہ اور غلطی نہیں کرتا لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کے اقوال اور اعمال کی پیروی کرتے ہیں_

بارہ امام (ع) تمام کے تمام معصوم ہیں یعنی گناہ نہیں کرتے کامل طور پر امین اور صحیح انسان ہیں دین اسلام کے احکام اور قوانین کو ٹھیک اور کامل لوگوں تک پہنچاتے ہیں یعنی اس میں غلطی اور نسیان نہیں کرتے_

سوالات

۱)___کون آدمی پیغمبر کا جانشین ہوسکتا ہے؟

۲)___ کیا گناہ اور خطا کار آدمی مسلمانوں کا امام ہوسکتا ہے اور کیوں؟

۳)___ دین کا کامل نمونہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

۴)___ امام گناہوں سے کیوں دور رہتا ہے؟

۵)___ علم اور آگاہی امام کو کون د یتا ہے؟

۶)___ معصوم ہونے سے کیا مراد ہے؟

۷)___ امام پر اللہ کی کیا ذمہ اری عائد ہوتی ہے؟

۱۶۴

تیسرا سبق

عید غدیر

پیغمبر اسلام(ص) اپنی زندگی کے آخری سال حج بجالانے کے لئے تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو بھی دعوت دی کہ وہ بھی اس سال حج میں شریک ہوں اس کی بناپر مسلمانوں نے جو بھی حج کے لئے آسکتے تھے پیغمبر کے اس فرمان کو قبول کیا اور تھوڑی مدت میں مسلمانوں کی کافی تعداد مکہ کی طرف روانہ ہوگئی وہاں حج کی باعظمت عبادت میں شرکت کی اور حج کے پورے اعمال پیغمبر اکرم(ص) سے یاد کئے_

جب حج اور خانہ کعبہ کی زیارت کے اعمال ختم ہوگئے تو قافلے واپس لوٹنے کے لئے تیاری کر کے چل پڑے پیغمبر اسلام(ص) نے بھی قافلوں کے ساتھ مدینہ کی طرف حرکت کی اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز نے میدانوں کی خاموشی کو توڑ دیا تھا موسم بہت گرم تھا اور صحرا آگ برسا

۱۶۵

رہا تھا کہ راستے میں پیغمبر اسلام(ص) پر اللہ تعالی کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور یہ پیغام اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبر اسلام (ص) کے لئے آیا_

اے پیغمبر(ص) وہ پیغام جو اللہ تعالی کی طرف سے آپ کی طرف اتارا جاچکا ہے لوگوں تک پہنچا دیجئے اگر اسم میں کوتاہی کی تو آپ(ص) نے کار رسالت ہی انجام نہیں ی_ اللہ آپ(ص) کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا اور کافر اپنے مقصد تک نہیں پہنچیں گے پیغمبر اسلام(ص) وہیں پر فوراً اتر گئے تا کہ اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کریں مسلمانوں کی ایک تعداد کو آواز دی اور فرمایا کہ جتنے قافلے آگے جاچکے ہیں ان کی خبر کرو کہ وہ واپس لوٹ آئیں اور وہ قافلے جو پیچھے رہ گئے ہیں اور ابھی یہاں نہیں پہنچے انہیں کہو کہ جلد وہ یہاں پہنچ جائیں یہ لوگ تیز رفتار اونٹوں پر سوار ہوئے اور تیزی سے ان قافلوں کو جو آگے چلے گئے تھے جا ملے اور انہیں آواز دی ٹھہرو ٹھہرو، واپس لوٹ آؤ، قافلے والوں نے اونٹوں کی مہاریں کھینچیں اور اونٹوں کی گھنٹیاں خاموش ہوگئیں برابر پوچھ رہے تھے کیوں ٹھہریں، کیا خبر ہے، اس گرمی کے عالم میں کیوں رکیں؟ اور واپس لوٹ آئیں''

اونٹ سوار کہتے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے لوٹ آؤ غدیر کے نزدیک میرے پاس اکھٹے ہوجاؤ قافلے واپس لوٹ آئے غدیر کے قریب اپنے سامان کو اتارا اور جو قافلے ابھی تک نہیں پہنچے تھے وہ بھی پہنچ گئے اس طرح ہزاروں مسلمان جو حج سے واپس آرہے تھے اٹھارہ ذی الحجہ کو جمع ہوگئے ظہر کی نماز انہوں نے پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ پڑھی

۱۶۶

اس کھے بعد اونٹوں کے پالانوں سے منبر بنایا گیا پیغمبر اسلام(ص) اس منبر پر گئے تا کہ اللہ تعالی کے فرمان کو انجام دیں او روہ اہم پیغام لوگوں تک پہنچادیں تمام لوگ چپ اور منتظر بیٹھے تھے کہ پیغمبر اسلام(ص) کا پیغام سنیں اور دیکھیں کہ وہ اہم پیغام کیا ہے؟

پیغمبر اسلام(ص) نے چند مفید کلمات کے بعد آسمانی آواز میں جو سب تک پہنچ رہی تھی لوگوں سے پوچھا لوگو تمہارا پیشوا اور حاکم کون ہے؟ تمہارا رہبر اور صاحب اختیار کون ہے؟ کیا میں تمہارا رہبر اور پیشوا نہیں ہوں کیا میں تمہارا رہبر اور صاحب اختیار نہیں ہوں سب نے کہا یا رسول اللہ: آپ ہمارے رہبر اور صاحب اختیار ہیں آپ(ص) ہمارے پیشوا ہیں اس کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی (ع) کو آواز دی اور اپنے پہلو میں بیٹھایا اور ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بلند کیا اور لوگوں کو دکھلایا اور بلند آواز میں فرمایا کہ ''جس کا میں پیشوا اور صاحب اختیار ہوں میرے بعد علی ''علیہ السلام'' اس کے پیشوا اور صاحب اختیار ہیں_ اے لوگو اے مسلمانو میرے بعد تمہارے علی (ع) پیشوا اور رہبر ہیں اس کے بعد اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور فرمایا پروردگار علی (ع) کے دوستوں سے دوستی رکھ اور علی (ع) کے دشمنوں سے دشمن رکھ، پروردگار علی (ع) کے دوستوں سے دوستی رکھ اور علی (ع) کے بدخواہوں کو ذلیل و خوار کر ''

اس کے بعد آپ(ص) منبر سے نیچے اترے اپنی پیشانی سے پسینے کو صاف کیا اور ایک آہ بھری اور تھوڑی دیر آرام سے ٹھہرے

۱۶۷

اور اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ میرے بھائی اور جانشین علی (ع) کے ہاتھ پر بیعت کریں او راس منصب الہی کی انھیں مبارک باد دیں وہ پیشوا اور امیرالمومنین ہیں_

مسلمان گروہ در گروہ آئے اور حضرت علی (ع) سے ہاتھ ملا کر ان کو مومنین کے منصب رہبری کی مبارک باد دی اور آپ کو امیرالمومنین (ع) کہہ کر پکارا اس لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام اٹھارہ ذی الحجہ کو رہبری اور امامت کے لئے چند گئے رہبری اور امامت کا مقام دین اسلام کا جزء ہے رہبر اور امام کے معيّن کردینے سے دین اسلام کامل طور جاودانی ہوگیا ہے ہم ہر سال اس مبارک دن کو عید مناتے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور پیشوائی پر خوش ہوتے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام کو مسلمانوں کا رہبر اور امام سمجھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ آپ کی گفتار اور کردار کی پیروی کریں_

سوالات

۱)___ بیعت کا کیا مطلب ہے مسلمانوں نے حضرت علی (ع) کی کیوں بیعت کی تھی اور کیوں آپ(ع) کو مبارک باد دی تھی؟

۲)__ _ ہمارے پیغمبر (ص) نے حضرت علی (ع) کو لوگوں کے لئے امام معین کرنے سے پہلے ان سے کیا پوچھا تھا اور ان سوالوں کا حضرت علی (ع) کے تعارف اور تعيّن سے کیا تعلق تھا؟

۱۶۸

۳)___ وہ اہم پیغام کیا تھا کہ جس کے پہنچانے کے لئے اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا؟

۴)___ پیغمبر اسلام(ص) نے اللہ کی وحی سننے کے بعد کیا کیا اور مسلمانوں سے کیا فرمایا؟

۵)___ پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی (ع) کا لوگوں سے کس طرح تعارف کرایا اور آپ(ع) کے حق میں کیا فرمایا ؟

۶)___ غدیر کی عید کون سے دن ہوتی ہے اس عید کے جشن میں ہم کیا کرتے ہیں اور کس چیز کی کوشش کرتے ہیں اس سال غدیر کی عید کس موسم میں آئے گی اور کس مہینے میں_ یاد رکھئے گا اس دن جشن بنائیں اور اپنے دوستوں کو اس جشن میں دعوت دیں_

۱۶۹

چوتھا سبق

شیعہ

حضرت علی علیہ السلام پہلے مسلمان ہیں اور بعد پیغمبر اسلام(ص) سب سے افضل ہیں پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کو اچھی طرح سنتے تھے اور پیغمبر(ص) کے احکامات کے کامل مطیع تھے ہر جگہ پیغمبر(ص) کی مدد اور اعانت کرتے تھے دینداری میں کوشش اور جہاد کرتے تھے_

پیغمبر کے زمانے میں ایک گروہ حضرت علی علیہ السلام کا دوست تھا حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ اسلام کی پیش رفت میں کوشش اور جہاد کرتا تھا یہ گروہ تمام حالات میں حضرت علی علیہ السلام کی گفتار، رفتار اور اخلاق میں پیروی کیا کرتا تھا یہ حضرت علی علیہ السلام کی طرح پیغمبر اسلام(ص) کی اطاعت کرتا تھا پیغمبر اسلام(ص) حضرت علی علیہ السلام اور اس ممتاز گروہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اے علی (ع) آپ(ع) اور

۱۷۰

آپ (ع) کے شیعہ روئے زمین پر بہترین انسان ہین اور جب حضرت علی (ع) کو اپنے دوستوں کے ساتھ دیکھتے تو ان کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ یہ نوجوان اور اس کے شیعہ نجات پائے ہوئے ہیں پیغمبر اکرم(ص) اس ممتاز گروہ کہ جو مکمل ایمان لے آیا تھا شیعہ کے نام سے پکارتے تھے اسی دن سے جو مسلمان رفتار، گفتار اور کردار میں ممتاز تھے اور دینداری میں حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کرتے تھے شیعہ کہلاتے تھے یعنی پیروکار_

پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد مسلمانوں کا وہ ممتاز گروہ جو واقعی ایمان لایاتھا اور پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کا مطیع تھا انہوں نے مکمل طور پر پیغمبر کے فرمان پر عمل کیا اور حضرت علی علیہ السلام کو پیشوائی اور رہبری اور امامت کے لئے قبول کیا اور ان کی مدد اور حمایت کی البتہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے پیغمبر اسلام(ص) کے فرمان کو قبول نہ کیا اور حضرت ابوبکر کو پیغمبر اسلام(ص) کا جانشین شمار کیا اور اس کے بعد حضرت عمر کو دوسرا اور حضرت عثمان کو تیسرا خلیفہ اور حضرت علی علیہ السلام کو چوتھا خلیفہ جانا اس گروہ کو اہلسنّت کہا جاتا ہے یہ دونوں گروہ مسلمان ہیں خدا اور پیغمبر اکرم(ص) اور قرآن کو قبول کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے محیت اور مہربانی کرتے ہیں اور قرآن کی تعلیم اور پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا ہے عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلام(ص) کے بعد یکے بعد دیگرے بارہ امام اور رہبر ہیں پہلے امام حضرت علی علیہ السلام ہیں اور بارہویں امام حضرت مہدی علیہ السلام ہیں

۱۷۱

کیونکہ پیغمبر اسلام(ص) کے حکم کے مطابق آپ کے خلیفہ اورجانشین بارہ ہوں گے_

مذہب شیعہ کو جعفری مذہب بھی کہاجاتا ہے_

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ شیعہ کہا کیا مطلب ہے شیعہ اسلام اور دین داری میں کسکی پیروی کرتے ہیں؟

۲)___ مسلمانوں کے کس ممتاز گروہ کا نام شیعہ ہے اور پیغمبر(ص) نے ان کے م تعلق کیا فرمایا ہے؟

۳)__ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد کن لوگوں نے پیغمبر(ص) کی تعلیمات پر عمل کیا اور کس طرح؟

۴)___ مسلمانوں کے دوسرے گروہ کو کیا کہاجاتا ہے وہ پیغمبر اکرم(ص) کی وفات کے بعد کس کو ان کا جانشین مانتے ہیں؟

۵)___ یہ دونوں گروہ آپس میں کیسے تعلقات رکھتے ہیں اور کن مسائل کی شناخت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں

۶)___ ہمارا عقیدہ پیغمبر(ص) کے جانشینوں کے متعلق کیا ہے؟ ایران کا رسمی مذہب کو ن سا ہے_

اس قسم کے دوسرے سوال بنایئےور ان کے جواب دوستوں سے پوچھئے_

۱۷۲

پانچواں سبق

آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام

امام رضا علیہ السلام ایک سواڑ تالیس ہجری گیارہ ذیعقدہ مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ کے والد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام تھے اور آپ(ع) کا نام علی (ع) ہے اور رضا کے لقب سے معروف ہوئے اور آپ(ع) کی والدہ ماجدہ کا نام نجمہ تھا_

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کے حکم اور پیغمبر اسلام(ص) کی وصیت کے مطابق اپنے بعد آپ کو لوگوں کا امام معيّن کیا اور اس سے لوگوں کو آگاہ کیا امام رضا علیہ السلام کا علم دوسرے اماموں کی طرح آسمانی اور الہی تھا اسی لئے تمام لوگوں کے علم پر آپ(ع) کے علم کو برتری حاصل تھی طالبان علم اور علماء اور دانشمند آپ(ع) سے علم حاصل کرنے کے لئے آپ (ع) کی خدمت میں آتے اور علوم سے بہرہ مند ہوتے تھے

۱۷۳

عیسائی اور یہودی اور دوسرے ادیان کے علماء آپ (ع) کے پاس آتے اور امام علیہ السلام ان سے گفتگو اور بحث و مباحثہ کیا کرتے اور ان مشکل سوالوں کا جواب دیا کرتے تھے اور ان کی راہنمائی اور ہدایت فرمایا کرتے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ (ع) نے کسی کے سوالوں کا جواب نہ دیا ہو یا جواب صحیح نہ دیا ہو آپ (ع) کو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے کثیر علم وجہ سے عالم آل محمد(ص) کہا جاتا تھا آپ کے بہت سے قیمتی ارشادات ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ ہیں_

امام رضا علیہ السلام کی امامت کے زمانے میں مامون مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ تھا اور چونکہ وہ لوگوں کو امام رضا علیہ السلام سے دور رکھنا چاہتا تھا امام کو جو مدینہ منورہ میں زندگی بسر کرتے تھے شہر طوس میں بلوایا اور امام علیہ السلام کے سامنے ولی عہد اور خلاقت کے عہدے کی پیش کش کی لیکن امام رضا علیہ السلام نے جو مامون کے مکر و فریب اور منافقت سے آگاہ تھے مامون کی اس پیش کش کو قبول نہ کیا مامون نے بہت زیادہ اصرار کیا امام رضا علیہ السلام چاہتے تھے کہ ولی عہدی کو قبول نہ کریں لیکن مامون کے بہت زیادہ اصرار کے بعد آپ (ع) نے بظاہر ولی عہدی کو قبول کرلیا لیکن شرطر لگادی کہ آپ (ع) حکومت کے کسی کام میں دخل نہیں دیں گے بالآخر مامون نے جو امام کی شخصیت سے سخت خائف تھا اور آپ (ع) کی صلاحیتوں کی وجہ سے خطرے کا احساس رکھتا تھا آپ کو زہر دے کر شہید کردیا_

۱۷۴

حضرت امام رضا علیہ السلام نے صفر کی آخری تاریخ کو ۲۰۳ ھ میں طوس میں شہادت پائی اور آپ (ع) کے جسم مبارک کو اسی شہر کے نزدیک کہ جو آج مشہد مقدس کے نام سے مشہور ہے_ دفن کردیا گیا آپ (ع) کی قبر مبارک آج کے دور میں سارے مسلمانوں کے لئے زیارت گاہ ہے_

۱۷۵

چھٹا سبق

اسراف کیوں؟

امام رضا علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک آدھا کھایا ہوا پھل زمین پر پڑا ہے آپ (ع) کے خادموں میں سے کسی نے پھل کا کچھ حصّہ کھایا تھا اور باقی کو زمین پر پھینک دیا تھا حضرت امام رضا علیہ السلام اس سے ناراض ہوئے اور اس کے خادم کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ کیوں اسراف کرتے ہو؟ اللہ کی نعمت کے ساتھ کیوں بے پروا ہی کرتے ہو کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ اسراف کرنے والے انسان کو دوست نہیں رکھتا کیا تم نہیں جانتے خدا اسراف کرنے والے انسان کودوست نہیں رکھتا کیا تم نہیں جانتے خدا اسراف کرنے والے کو سخت سزا دے گا اگر تمہیں کسی چیز کی حاجت نہیں تو اسے ضائع نہ کرو اور فضول خرچ نہ کرو بلکہ وہ ان کو دے دو جو اس کے محتاج ہیں_

امام رضا علیہ السلام کے فرمان سے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خدا

۱۷۶

کیوں اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا___؟

____ اور کیوں اسراف نہ کرنا برا ناپسندیدہ فعل ہے___؟

ان دو سوالوں کے جواب دینے کے لئے یہ سوچئے کہ ایک سیب کو تیار ہونے کے لئے کتنی قوت اورتوانائی خرچ ہوتی ہے اور کتنے کام انجام پاتے ہیں تب جاکر ایک سیب بنتا ہے مثلا سوچئے کہ سیب کے پودے کوپڑھنے کے لئے سورج کی کتنی توانائی ضروری ہے کتنی مقدار میں پانی، ہوا معدنی اجزاء خرچ ہوں گے اور کتنے لوگ محنت کریں گے تب جاکر سیب کا ایک دانہ آپ کے ہاتھ تک پہنچے گا سوچئے اس قدر کام او رتوانائی کی قیمتی ہے___؟ جب سیب کا کچھ حصّہ پھینک دیتے ہیں یا کسی اور اللہ کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کو بیجا خرچ کرتے ہیں تو در حقیقت اس تمام توانائی اور محنت کو ضائع کرتے ہیں اور اس کے علاوہ ایک دوسرے انسان کو بھی خدا کی نعمتوں سے محروم کرتے ہیں اور اس کے حق کو ضائع کرتے ہیں کیا اسراف کرنا اللہ کی نعمتوں کی حرمت کی منافی نہیں___؟

کیا اسراف کرنا اللہ کی ناشکری نہیں ہے___؟

کیوں اللہ کی نعمتوں کو معمولی شمار کرتے ہیں اور ان کو بیجا خرچ کرتے ہیں___؟

کیا آپ راضی ہیں کہ ایک بچّہ بھوکا سوئے اور آپ اپنی غذا سے تھوڑی مقدار ضائع کردیں یا نیم میوہ کو بغیر کھائے گندگی میں ڈال دیں___؟

۱۷۷

کیا آپ راضی ہیں کہ بچّہ جس کے پاس کاغذ اور قلم ہے تحصیل علم سے محروم رہے اور آپ اپنی کاپیاں اور کاغذ بلا وجہ پھاڑ ڈالیں یا انھیں لکھے بغیر ہی ضائع کردیں___؟

کیا یہ درست ہے کہ آپ ضرورت سے زیادہ بجلی صرف کریں اور دوسرے بقدر ضرورت بجلی اور روشنی نہ رکھتے ہوں حالانکہ خدا نے پانی سورج مٹی ہوا اور دوسری نعمتیں تمام انسانوں کے لئے پیدا کی ہیں اور ہر انسان کو حق پہنچتا ہے کہ اللہ کی ان نعمتوں سے استفادہ کرے____؟

اب جب کہ آپ سمجھ چکے ہیں کہ اسراف کرنا گناہ ہے اور بہت برا اور ناپسندیدہ کام ہے تو اس کے بعد اسراف مت کیجئے اب جب کہ آپ جان چکے ہیں کہ خداوند عالم اسراف کرنے والوں کودوست نہیں رکھتا اور سخت سزا دیتا ہے تو اس کے بعد کسی چیز کو فضول اور بیجا خرچ نہ کریں، کسی چیز کو ضائع نہ کریں اور اعتدال کے ساتھ خرچ کریں اس طریقے سے وہ روپیہ جو فضول اور بے فائدہ چیزوں پر خرچ کرتے ہیں بچا کر اپنے دوستوں کے لئے تحفے خرید سکتے ہیں یا اپنے ہمسایوں اور واقف کاروں کی اس سے مدد کرسکتے ہیں جس کے نتیجہ میں خدا آپ کے اس کام سے خوش ہوگا اور آپ کو اچھی جزاء عنایت کرے گا اور لوگ بھی آپ کو زیادہ دوست رکھیں گے اور آپ کی زیادہ مدد کریں گے

۱۷۸

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ امام رضا (ع) اور دوسرے ائمہ کا علم کیسا ہوتا ہے اور کیوں تمام لوگوں کے علم پر برتری رکھتا ہے؟

۲)___ عالم آل محمد(ص) کسے کہا جاتا تھا اور کیوں ؟

۳)___ امام رضا (ع) خلفاء عباسی کے کس خلیفہ کے ہم عصر تھے؟

۴)___ مامون نے کیوں امام رضا (ع) کو طوس بلوایا اور امام (ع) سے کیا پیش کش کی؟

۵)___ امام رضا (ع) نے ولی عہدی کو کس شرط پر قبول کیا اور کیوں؟

۶)___ ماموں نے امام (ع) کو کیوں شہید کیا؟

۷)___ امام رضا (ع) کی شہادت کس سال او رکس دن ہوئی؟

۸)___ اسراف سے کیا مراد ہے امام رضا (ع) نے اسراف کے متعلق کیا فرمایا؟

۹)___ اسراف کیوں نہ کریں اعتدال برتنے سے کون سے کام انجام دے سکتے ہیں؟

۱۷۹

ساتواں سبق

نویں امام ''حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

ہمارے نویں امام حضرت امام محمد تقی علیہ السلام حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرزند ہیں آپ (ع) ایک سوپچا نوے ۱۹۵ ہجری ماہ رمضان میں مدینہ منورہ میں متولد ہوئے آپ (ع) کے والد حضرت امام رضا علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اور پیغمبر اسلام (ص) کی وصیت کے تحت آپ (ع) کو اپنے بعد لوگوں کا امام معيّن فرمایا اس سے لوگوں کو آگاہ کیا امام محمد تقی علیہ السلام امام جواد کے نام سے بھی مشہور ہیں آپ (ع) بچپن ہی سے اللہ تعالی کے ساتھ خصوصی ربط رکھتے تھے اور اسی سن میں لوگوں کی دینی مشکلات کو حل کرتے تھے اور ان کی راہنمائی اور رہبری فرماتے تھے بہت بڑے بڑے علماء آپ (ع) کی خدمت میں آتے اور بہت سخت اور مشکل دینی اور عملی مسائل آپ (ع) سے پوچھتے امام جواد علیہ السلام ان کے تمام مشکل

۱۸۰