‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) جلد ۲

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 285

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 285
مشاہدے: 26365
ڈاؤنلوڈ: 1184


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 285 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 26365 / ڈاؤنلوڈ: 1184
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلد دوم) جلد 2

مؤلف:
اردو

زائد مقدار کو ہمارے لیئے ذخیرہ کرلیتے ہیں_ گائے بھیڑ بکریاں بھی غذا کی محتاج ہیں وہ دانے اور سبز گھاس کھاتی ہیں اور ہمیں دودھ مکھن دہی گوشت اور پنیر دیتی ہیں مرغیاں بھی دانہ کھاتی ہیں اور ہمارے لئے گوشت اور انڈے بناتی ہیں_ تمام حیوانات اور جانور غذا کے محتاج ہیں_

ان تمام کی غذا سبز نباتات کے ذریعے بنتی ہے_ کوئی انسان او رحیوان نباتات کے بغیر اپنی غذا تیار نہیں کرسکتا_ بلکہ تمام نباتات کے محتاج ہیں_ انسان نباتات اور حیوانات کا محتاج ہے اور حیوانات نباتات کے محتاج ہیں اور نباتات غذا تیار کرنے میں پانی مٹی اور ہوا اور سورج کی روشنی کے محتاج ہیں_

اب دیکھیں کہ کس ذات نے سورج کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا پر چمکے اور روشنی اور طاقت (انرجی) دے تا کہ نباتات ہمارے لئے غذا تیار کرسکیں؟ کس ذات نے درختوں اور نباتات کو اس نظم اور ترتیب اور ارتباط سے پیدا کیا اور خوبصورت سبز پتّوں کو غذا بنانے کی طاقت عنایت فرمائی ہے_

وہ دانا اور توانا ذات خدا ہے کہ جو تمام چیزوں کا عالم ہے اور ہر کام پر قدرت رکھتا ہے_

وہ عالم اور توانا ذات ہمیں دوست رکھتی ہے کہ ہماری تمام ضروریات کو پیش بینی کرتے ہوئے پیدا کردیا ہے_ ہم بھی اسے دوست رکھتی ہیں اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے فرمان کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں_ خدا سے بہتر کون ہے جو ہماری زندگی کے لئے راہنما ہوسکتا ہے؟

۲۱

غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱)___ روٹی کس چیز سے بناتے ہیں

۲)___ گندم کا پودا گندم اگانے میں کس چیز کا محتاج ہے_

۳)___ اگر سورج کی روشنی گندم کے پودے پر نہ پڑے تو کیا گندم وجود میں آسکتا ہے_

۴)___ اگر سبز پتے گندم کا پودا اور دوسری غذا نہ بنائیں تو کیا ہم غذا حاصل کرسکتے ہیں

۵)___ کس ذات نے ہماری ضروریات کی پیش بینی کی ہے اور جہاں کو اس نظم و ارتباط سے خلق کیا ہے؟

۶)___ ہمارا فریضہ ان نعمتوں کے مقابل کیا ہے؟

تجربہ اور تحقیق کیجئے

بڑے سبز پتّے ہوا کو بھی صاف کرنے کا کام کرتے ہیں: جانتے ہو کس طرح

مشق

۱)___ سبق کو ایک دفعہ بلند آواز سے پڑھیں_

۲)___ اس سبق میں کئی اور سوال بنائیں اور ان کے جواب اپنے دوست سے پوچھیں

۳)___ سبق کا خلاصہ بیان کریں اور اس سبق کی غرض و غایت کو بھی بیان کر یں

۴)___ اوپر کے سوالوں کا جواب خوبصورت خط سے اپنی کاپی میں لکھیں

۲۲

پانچواں سبق

تجربے کی روش خداشناسی کا سبق دیتی ہے

جب میں گھر آئی تو میری ماں نے کہا مریم آج عصر کے وقت کون سا سبق پڑھا ہے؟ میں نے علم حیاتات ''بیالوجی'' اور بحث نظام ہاضمہ کا سبق پڑھا ہے استاد نے پوچھا جانتی ہو کہ غذا کی نالی کیا ہے: معدہ کہاں ہے؟ آنتوں کا کیا کام ہے_ غذا کس طرح ہضم ہوتی ہے؟ شاگرد اس کا جو جواب دے رہے تھے وہ درست نہ تھا استاد نے کہا ان سوالوں کے متعلق تحقیق کرو ان کا صحیح اور کامل جواب یاد کرو اور کل اپنے دوستوں سے بیان کرنا میں حیاتیات کی کتاب لائی تا کہ آپ کی مدد سے ان سوالوں کے متعلق تحقیق کروں میری امّی بھی اپنی لائبریری سے ایک کتاب لائیں جس میں مختلف اور بہت زیادہ شکلیں موجود تھیں ایک شکل مجھے دکھلائی اور کہا اس تھیلی کو دیکھ رہی ہو ہم جب غذا کھاتے ہیں تو غذا اس تحصیلی میں جاتی ہے اس کا نام معدہ ہے

۲۳

کیا بتلا سکتی ہو کہ غذا کسے راستے سے معدہ میں جاتی ہے؟

میں نے شکل کو دیکھا اور کہا یقینا اس نالی کے ذریعہ جاتی ہوگی ماں نے کہا ہاں بالکل ٹھیک ہے اس کا نام غذا کی نالی ہے یہ نالی حلق کو معدہ سے ملاتی ہے_

ایک اور نالی حلق کو پھیپھڑوں سے ملاتی ہے جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہو اس نالی سے پھیھپڑوں میں جاتی ہے_ ا س کا نام جانتی ہو میں نے شکل کو دیکھا اور کہا یہ ہوا کی نالی ہے_ میری امّی نے کہا یہ نالی غذا کے گذرنے کے لئے ہے اور یہ نالی ہوا کے گذرنے کے لئے ہے_ میں نے کہا کہ اگر غذا ہوا کی نالی سے جائے تو کیا ہوگا؟ امّی نے کہا غذا کو اس نالی سے نہیں جانا چاہتے ورنہ ہوا کے جانے کا راستہ بند ہوجائے گا اور ہمارا دم گھٹ جائے گا_ میں نے کہا پس کس لئے میرا دم ابھی تک نہیں گھٹا مجھے تو علم نہ تھا کہ غذا کو اس نالی سے نہ نگلوں امّی نے کہا: بیٹی: غذا نگلنا بہت عمدہ ہے اس شکل کودیکھو_ دیکھو حلق میں چار راستے ہیں ایک راستہ ناک کی طرف اور ایک راستہ منہ کی طرف اور ایک راستہ پھیھڑوں کی طرف اور ایک راستہ معدہ کی طرف_

جب ہم غذا کو نگلنا چاہتے ہیں تو صرف غذا والی نالی کھلتی ہے اسی لئے حلق میں دو دروازے ہماری ضرورت کے لئے حلق کئے گئے ہیں پس ایک دروازہ ہوا کی نالی کو بند کرتا ہے اور دوسرا دروازہ ناک والی نالی کو بند کرتا ہے ہوا کا دروازہ کہلاتا ہے اور وہ دروازہ جو ناک کی نالی کو بند کرتا ہے اسے چھوٹی زبان کہا جاتا ہے ہمیں ان دونوں دروازوں کی ضرورت ہے اگر یہ

۲۴

نہ ہوں تو پہلے لقمے کے نگلتے وقت گھٹ کر مرجائیں_ میں نے کہا_ کیا خوب: میں بھی ایک دوازہ ہوا والا دوسری چھوٹی زبان رکھتی ہوں ورنہ گھٹ کر مرجاتی_

امّی نے کہا مریم جان: کیا تو یہ خیال کرتی ہے کہ چھوٹی زبان اور دوسرا دروازہ خودبخود بے صرف و غرض وجود میں آگئے ہیں میں نے کہا: نہیں چونکہ ان کی غرض و غایت بالکل واضح اور معلوم ہے: ایک ناک کے راستے کو بند کرتی ہے اور دوسرا پھیھپڑوں کو جانے والی نالی کو ان کے کام اور غرض معین اور معلوم ہیں بغیر علّت کے وجود میں نہیں آئے واضح ہے کہ کس ذات عالم نے ان کو ہمارے لئے خلق کیا ہے_ امّی نے کہا_ شاباش_ بالکل ٹھیک کہا تو نے: جس نے ہم کو پیدا کیا ہے ہماری ضروریات کو جانتا تھا اور تمام چیزوں کو جانتا ہے اسے علم تھا کہ ہمیںاس دروازے کی ضرورت ہے چونکہ ہم کو سانس بھی لینا ہے اور غذا بھی کہانا ہے وہ جانتا تھا کہ غذا کو ہوا کی نالی میں نہیں جانا چاہیئے اسی غرض کے ماتحت ہوا کا دروازہ خلق کردیا ہے_ جب تک لقمے نگلتے رہیں گے ہوا کی نالی کا دروازہ بند رہے گا اور غذا اس میں نہیں جائے گی_ ہمیں پیدا کرنے والا خدا عالم اور قادر ہے اسے ہماری تمام ضروریات کا علم تھا اسی لئے ان کو ہماری ضرورت کے تحت خلق کیا_ مثلاً معدہ کی دیوار میں ہزاروں غدّے خلق فرمائے ہیں تا کہ مخصوص لعاب پیدا ہوکر غذا پر

۲۵

پڑے تا کہ غذا ہضم ہو اور مائع میں تبدیل ہوجائے_ ہمارے لئے آنتیں خلق فرمائی ہیں تا کہ مائع شدہ غذا معدہ سے آنتوں میں داخل ہو اور وہاں ہضم او رجذب ہو صفراوی پتا اور تلی کو خلق فرمایا ہے تا کہ مخصوص لعاب غذا پر پڑے تا کہ غذا مکمل طور پر ہضم ہوجائے_ جب غذا پوری طرح ہضم ہوجائے تو ضروری مواد کو آنتوں کی دیوار سے جذب کرتا ہے اور خون میں داخل ہوجاتا ہے اور تمام بدن تک پہنچتا رہتا ہے_ پیاری مریم_ ایک منظم کارخانہ جو نظام ہضم کہلاتا ہے خودبخود بغیر علت اور فائدہ ہے کے وجود میں نہیں آیا بلکہ مہربان اور دانا خدا نے ہمارے لئے ہماری ضرورت کے تحت اسے خلق کیا ہے_ غذا کھانے سے طاقت اور انرجی بنتی ہے اور پھر ہم زندہ رہ سکتے ہیں_ خداوند عالم کی مہربانی سے ہمیں توانائی حاصل ہوتی ہے جس کی بدولت ہم زندہ ہیں اور دیگر امور انجام دیتے ہیں_ ہم بھی اس کے شکر کے لئے اس طاقت کو اس کی اطاعت میں صرف کرتے ہیں اس کے فرمان اور احکام کو قبول کرتے ہیں او رگناہ و نافرمانی اور برے اخلاق سے دور رہتے ہیں تا کہ خدا ہم سے خوش ہو اور دنیا و آخرت میں بہت اعلی اور بہترین نعمتیں عنایت فرمائے_

یہ شکل اس عظیم کارخانے کی ہے جو منظم اور مرتبط غذا کے ہضم کے لئے بنایا گیا ہے اور نظام ہضم کہلاتا ہے_ مہربان خدا نے ہماری ضرورت کے تحت اسے خلق کیا_

کیا سوائے خدا علیم و قادر کے کوئی اتنا بڑا کارخانہ ہمارے لئے بنا سکتا ہے؟

غور کریں اور جواب دیں

۱)___ ہوا کی نالی کے لئے دروازہ بنانے کی غرض کیا ہے؟

۲۶

۲)___ چھوٹی زبان کے خلق کرنے کی غرض کیا ہے؟

۳)___ اگر یہ دروازے نہ ہوں تو ہم کیسے غذا کھاسکتے ہیں؟

۴)___ کیا یہ دروازے خودبخود بے غرض و غایت کے وجود میں آئے ہیں اور کیوں؟

۵)___ ہمارا نظام ہضم کن چیزوں سے بنا ہے؟

۶)___ ہمارے بدن میں غذا کس طرح ہضم ہوتی ہے؟

۷)___ کیا نظام ہضم بے ربط اور بے غرض ہے؟

۸)___ کیا ہم نے اس منظّم و مرتبط کارخانہ کو بنایا ہے؟

۹)___ نظام ہضم کے منظم اور مرتبط ہونے سے کیا نتیجہ لیتے ہیں؟

۱۰)___ اللہ تعالی کی اعلی اور عمدہ نعمتوں سے نوازے جائیں تو کیا کریں؟

۱۱)___ کیا آپ جانتے ہیں کہ غذا کے نگلنے کے وقت منہ کا راستہ کس طرح بند ہوجاتا ہے؟

ان سوالوں اور اس کے جوابوں کو خوبصورت خط کے ساتھ اپنی کاپی میں لکھیں

۲۷

چھٹا سبق

خدا کی قدرت کے آثار اور اس کی علامتیں

جب میں صبح اسکول پہنچا تو بچّے میرے ارد گرد اکٹھے ہوگئے گویا کہ انہیں کل رات کے حادثے کا علم تھا گھنٹی بجی اور ہم کلاس میں جا بیٹھے استاد کلاس میں آئے میں نے اپنے آنسو صاف کئے اور کھڑا ہوگیا لیکن میری آنکھیں اشک آلود تھیں لڑکوں نے کل رات کے متعلق جتنا انہیں علم تھا استاد کو بتلایا جب میرے بھائی احمد کو ہسپتال لے جا رہے تھے تو اس کا ہاتھ اور منہ سیاہ ہوگیا تھا شاگردوں نے پوچھا کہ کیوں احمد کا ہاتھ اور منہ سیاہ تھا_ سانس کا گھٹنا کیا ہے؟ کیوں احمد کے بھائی کا دم گھٹتا ہے کیا وہ ٹھیک ہوجائے گا؟ اس کا کس طرح علاج کریں گے؟ استاد نے کہا بچّوں جب تم ان سوالوں کا جواب چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ خون کی حرکت اور تنفس کا درس جلدی شروع کردیا جائے کل حیاتیات کا علم ایک دوسرے کی مدد سے شروع

۲۸

کریں گے تم میں سے کون ہے جو کل ای بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لائے دو طالب علموں نے وعدہ کیا کہ ہم کسی بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لائیں گے دوسرے دن بکرے کا دل اور پھیھپڑا اسکول لے آئے استاد نے چھری سے دل کو چیرا اور اس کے مختلف حصّے شاگردوں کو دکھلائے اور دل و پھیھپڑے کا کام طالب علموں کو بتلایا تمام طالب علم دل اور پھیھپڑے کے عمل سے آگاہ ہوئے اور اپنے سوالوں کے جوابات سمجھے پھر استاد نے اس درس کا خلاصہ اس طرح لکھا اور شاگردوں کے سامنے رکھا

نظام تنفس اور دوران خون

اس درس سے ہم اپنے جسم کے بعض حالات سے باخبر ہوجائیں گے اور بدن کے کارخانے کی غرض و غایت اور ارتباط کو اچھی طرح جان لیں گے اور قدرت خدا کے آثار کا مشاہدہ کرنے سے خدا کو پہنچانیں گے_

آپ کو علم ہے کہ خون بدن کی رگوں میں ہمیشہ گردش میں رہتا ہے کیا آپ خون کی گردش کے فوائد کو بھی جانتے ہیں؟ خون بدن کے تمام خلیوں کے پہلو سے گزرتا ہے اور انھیں غذا و آکسیجن دیتا ہے_ خون کے کاموں میں سے ایک اہم کام بدن کے تمام خلیوں میں آکسیجن کو پہنچانا ہے خلیوں میں آکسیجن نہ پہنچے تو ہماری موت فوراً ہوجائے_ بدن میں حرارت اور انرجی

۲۹

آکسیجن کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہے آکسیجن کو پہنچانے میں سرخ خلیے حصّہ دار ہیں سرخ خلیے جو خون میں تیرتے ہیں اور بدن میں پھرتے رہتے ہیں وہ بدن کے تمام خلیوں کو آکسیجن پہنچاتے رہتے ہیں_

لیکن آپ کو علم ہے کہ خون خودبخود حرکت نہیں کرتا بلکہ ایک طاقتور پمپ اس کام کو انجام دیتا ہے طاقت ور پمپ جو برابر یہ کام کرتا ہے اور خون کو تمام بدن میں گردش دیتا ہے کیا اس طاقتور پمپ کو پہچانتے ہیں اس کا نام جانتے ہیں کہ سرخ خلیے کہ جن کے ساتھ آکسیجن ہوتا ہے دل کی دھڑکن سے بدن کی بڑی شریان میں وارد ہوتے ہیں یہ شریان بدن میں جگہ جگہ تقسیم ہوجاتی ہے اور ہر شاخ پھر چھوٹی شاخوں میں تبدیل ہوجاتی ہے ان تمام میں سے باریک تر قسم کی رگیں کیلپری کہلاتی ہیں_

خون کیلپری سے خلیوں کے پہلو میں سے گزرتا ہے سرخ خلیے جو شاداب ہیں اپنے ساتھ آکسیجن رکھتے ہیں اور خلیوں کو دیتے ہیں اور خلیوں کو سالم و زندہ رکھتے ہیں اور کاربن ڈائی اکسائڈ جو ایک ہوا کی زہریلی قسم ہے اس سے لے لیتے ہیں سرخ خلیے اس ہوا کے لینے سے آدھے سیاہ ہو جاتے ہیں اور اگر چند منٹ ایسے رہیں تو تمام مرجائیں گے جسکے نتیجے میں ہماری موت بھی واقع ہوجائے گی خلیوں کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ دوبارہ سرخ اور شاداب ہوجائیں اور اپنے کام کو پھر سے شروع کرسکیں لیکن کہاں سے آکسیجن لیں؟ اور کس طرح اپنا کام دوبارہ شروع کریں اور دل کی طرف لوٹیں ان نیم سیاہ خلیوں کا دل کی طرف لوٹنا دوسری رگوں کا محتاج ہے تا کہ نیم سیاہ خلیے ان رگوں کے ذریعہ دل کی طرف لوٹ سکیں_

۳۰

خداوند عالم اس ضرورت کو جانتا تھا لہذا دوسری رگیں خلیوں کو دل کی طرف لوٹانے کے لئے ہمارے بدن میں بنائی ہیں_

تعجب ہے کہ ان رگوں میں دروازے بھی بنے ہیں جو خون کی حرکت کو صرف دل کی طرف ممکن قرار دیتے ہیں دل گندے خون اور: سفید خلیوں کو ان سیاہ رگوں کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتا ہے سیاہ اور گنہ خون دل کے پاس پہنچ کرکیا تازہ اور شاداب خون کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے؟ نہیں_ مخلوط نہیں ہوتا کیونکہ خالق دانا نے دل کے وسط میں ایک قسم کی مضبوط دیوار بنائی ہے تا کہ تازہ خون اس گندے اور سیاہ خون سے مخلوط ہوسکے اور ہر ایک اپنی مخصوص جگہ پر رہے اب جب کہ نیم سیاہ خلیے دل کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب دل میں بھی آکسیجن کی ضرورت ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو آزاد ہوا میں پہنجائیں اور آزاد ہوا سے آکسیجن حاصل کریں خالق بزرگ اور دانا نے دل سے ایک راستہ پھیھپڑوں کی طرف بنایا ہے تا کہ خلیے اس راستے سے آزاد ہوا ہیں اپنے آپ کو پہنچائیں اور آزاد ہوا سے جو پھیھپڑوں میں سے، استفادہ کریں دل اپنی ایک دھڑکن سے سیاہ خون اور سفید خلیوں کو اس راستے سے پھیھپڑے تک پہنچا دیتا ہے وہ آکسیجن لیتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو خارج کردیتے ہیں_ کیا آپ کو علم ہے کہ سرخ خلیوں کی تعداد خون میں کتنی زیادہ ہے؟ کیا خلیوں کی تعداد کے مطابق پھیھپڑوں میں ہوا کی مقدار ان تمام کے لئے کا فی ہے؟ کیا یہ تمام آزاد ہوا کے نزدیک آسکتے ہیں کہ آکسیجن لے لیں اور کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کردیں_

جی ہاں اہمارے بزرگ اور دانا خالق نے جو ہماری تمام ضروریات

۳۱

سے باخبر تھا لاکھول ہوائی کیسوں کے ذریعہ پھیھپڑوں میں ہمارے لئے پیش گوئی کی تھی اور خلق فرما دیا تھا یہ تھیلیاں ہر سانس لینے سے تازہ ہوا سے بھر جاتی ہیں اور وہی خلیے تازہ ہوا سے نزدیک ہوتے ہیں آکسیجن لے لیتے ہیں اور دل کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اپنا کام پھر سے شروع کردیتے ہیں بدن کے خلیے جو آکسیجن کے انتظار میں ہوتے ہیں آکسیجن حاصل کرتے ہیں اور بدن کی حرارت اور انرجی کو پورا کردیتے ہیں_ کون ذات ہے سوائے خدائے مہربان اور دانا کے جو خلیوں کی تعداد کو جانتی ہو؟ اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لاکھوں ہوائی کیسوں کو پھیھپڑوں میں خلق کیا ہے_ نظام تنفس اور نظام دوران خون آپس میں مربوط اور ہم آہنگ ہیں اور یہ ایک ہی غرض و غایت کے ساتھ وجود میں آئے ہیں کیا یہ دقیق اور منظم کارخانہ خودبخود بغیر کسی غرض و غایت کے پیدا ہوا ہے_ کیا بے شعور اور نادان مادہ اس قسم کا کارخانہ جو دقیق اور با مقصد ہے پیدا کرسکتا ہے؟ کون ہے سوائے ذات الہی حکیم اور قادر کے جو اس قسم کا دقیق اور عمدہ کارخانہ وجود میں لاسکے؟ ہم تنفس اور خون کی گردش کے اس عظیم منظم کارخانے کے دیکھنے اور مشاہدے سے پیدا کرنے والے خدا کی عظمت کو سمجھ سکتے ہیں اور اس کی بے شمار نعمتوں سے زیادہ واقف ہوسکتے ہیں_

اس کو بہتر پہچانتے ہیں اور اس کی بہتر عبادت اور شکر ادا کرتے ہیں:

بہت غور سے ان سوالوں کا جواب دیجئے

۱)___ خون کی گردش بدن میں کیا فائدہ رکھتی ہے؟

۳۲

۲)___ سرخ خلیے بدن میں کیا فائدہ دیتے ہیں؟

۳)___ خون کس ذریعے سے بدن میں حرکت کرتا ہے؟

۴)___ جب سرخ خلیے نیم سیاہ ہوجاتے ہیں تو کس راستے سے دل کی طرف لوٹ آتے ہیں؟

۵)___ کیا گندہ اور سیاہ خون دل میں تازہ خون سے مخلوط ہوجاتا ہے؟

۶)___ خلیے کہاں سے آکسیجن لیتے ہیں؟

۷)___ کیاتمام خلیے پھیھپڑوں کی تازہ ہوا سے استفادہ کرسکتے ہیں؟ اور کس طرح؟

۸)___ اگر خلیوں کو آکسیجن نہ ملے تو کیا ہوگا_

۹)___ اگر سرخ خلیوں کا دل کی طرف لوٹ آنے کا راستہ نہ ہو تو کیا ہوگا ...؟ خلیے کس راستے سے دل کی طرف لوٹ جاتے ہیں؟

۱۰)___ آکسیجن کس طرح پھیھپڑوں میں داخل ہوتی ہے؟

۱۱)___ اگر پھیھپڑے اور سانس لینے کا نظام نہ ہوتا تو کیسے صاف ہوا کرتا؟

۱۲)___ اگر ہوا میں آکسیجن نہ ہوتی تو کیا ہوتا خلیے کہاں سے آکسیجن لیتے اور کس طرح زندہ رہتے_

۱۳)___ کیا خون کی گردش اور نظام تنفس اس ارتباط اور نظم کے ساتھ خودبخود وجود میں آیا ہے؟

۱۴)___ یہ ہم آہنگی اور دقیق ربط جو بدن کے کارخانہ میں وجود ہے

۳۳

اس سے کیا سمجھتے ہیں؟

۱۵)___ اللہ تعالی کی ان تمام نعمتوں کے مقابل جو اس نے ہمیں عنایت کی ہیں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

۳۴

ساتواں سبق

عالم و قادر خدا

سبزیاں اور نباتات ہمارے لے بہت مفید اور کارآمد ہیں اپنی ضرورت سے زائد غذا بناتی ہیں اور ہمارے لئے ذخیرہ کرلیتی ہیں_ درختوں میں سے سب آم گلاب، مالٹے ضرورت سے زائد ہمارے لئے میوہ بناتے ہیں گاجر آلو اور پیاز کے پودے اضافی غذا کو اپنی جڑوں میں ذخیرہ کرتے ہیں_

جی ہاں اگر نباتات کے سبز پتے نہ ہوتے تو کس طرح غذا بناتے اور اگر سبز پتوں میں باریک سوراخ نہ ہوتے تو ہوا کہاں سے داخل ہوتی لیکن مہربان خدا نے نباتات میں سبز پتے خلق کئے اور پتوں میں چھوٹے چھوٹے خانے اور سوراخ بنائے_ تا کہ سبز پتّے غذا بناسکیں اور اگر نباتات اپنی ضرورت کے لئے غذا بناتے تو ہم کیا کھاتے؟ حیوانات کیا کھاتے

۳۵

لیکن احسان کرنے والے خدا ے نباتات کو اس طرح خلق کیا ہے کہ وہ اپنے مصرف سے زیادہ غذا بناسکیں اور اگر سوراخ کی روشنی نباتات تک نہ پہنچی تو پودے کس طاقت سے غذا درست کرسکتے تھے؟ لیکن خدائے علیم اور قدیر نے سوراخ کو ایسا پیدا کیا ہے کہ اس کی روشنی ضرورت کے مطابق نباتات تک پہنچ سکے تا کہ پتے سورج کی روشنی اور توانائی کی مدد سے غذا حاصل کرسکیں پس خدا تمام چیزوں کو جانتا ہے اور اس پر قادر ہے اسے علم تھا کہ ہمیں غذا کی ضرورت ہے اورہم خود نہیں بناسکتے اسی لئے نباتات کے سبز پتّے خلق کئے اور ان میں سوراخ رکھے تا کہ ہمارے لئے غذاسازی کا کارخانہ بن سکے_

اسے علم تھا کہ ہی چھوٹا کارخانہ سورج کی روشنی اور توانائی کا محتاج ہے لہذا سورج کو اس طرح خلق کیا کہ سورج کی توانائی اور روشنی جس قدر پتّوں کے لئے ضروری ہے اس چھوٹے کارخانے تک پہنچ سکے اگر خدا قادر نہ ہوتا تو ان کو نہ بناپاتا جو ہمارے لئے ضروری تھیں_

اگر خدا بخشش کرنے والا اور مہربان نہ ہوتا تو یہ تمام نعمتیں ہمیں عطا نہ کرتا پس معلوم ہوا کہ خدا عالم ہے، خدا قادر ہے، خدا رحمان یعنی بخشنے والا ہے''

خدا رحیم یعنی مہربان ہے:

اس سبق کے متعلق آپ خود سوال بنائیں

۱)

۳۶

۳)

اور مشقیں بھی آپ خود بتلائیں

۱)

۲)

۳)

۳۷

آٹھواں سبق

خدا جسم نہیں رکھتا

کیا آپ جانتے ہیں جسم کیا ہے؟

کتاب، قلم، میز، پتھر، درخت، زمین، سورج، اور وہ چیزیں جو ان کی طرح ہوں اور جگہ گھیرتی ہوں انہیں جسم کہا جاتا ہے یہاں تک کہ ہوا بھی جسم ہے اور جسم کو مادہ بھی کہاجاتا ہے ہر جسم مکان کا محتاج یعنی ایک جگہ چاہتا ہے کہ جس میں مستقر ہو کیونکہ بغیر مکان کے جسم وجود میں نہیں آسکتا_ ہر جسم ایک وقت میں ایک مکان سے زیادہ میں نہیں ہوتا جب وہ ایک مکان میں ہو گا تو اسی وقت دوسرے مکان میں نہیں ہوگا ہم جب مدرسہ میں ہوتے ہیں توگھر میں نہیں ہوتے اور جب گھر میں ہوتے ہیں تو مدرسہ میں نہیں ہوتے اور جب مدرسہ میں ہوتے ہیں تو وہ کام جو گھر میں ہو رہے ہوتے ہیں

۳۸

انہیں نہیں دیکھ سکتے اور جب گھر میں ہوتے ہیں تو وہ کام جو مدرسہ میں ہو رہے ہوتے ہیں انہیں نہیں دیکھ سکتے جسم کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے اور ہاتھ سے چھواجا سکتا ہے وہ چیزیں جو آنکھ سے دیکھتے ہیں یا دوسرے کسی عضو سے مس کرتے ہیں تمام کے تمام جسم اور جسمانی ہیں یہاں تک ہوا اور روشنی بھی؟

اب ان دو سوالوں کے متعلق فکر کریں_

کیا خدا جسم رکھتا ہے؟

کیا خدا کو آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں؟

چونکہ خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے اور اس کی قدرت او ردانائی کی کوئی انتہا نہیں اور کسی چیز اور کسی شخص کا محتاج نہیں _ پس خدا کا جسم نہیں ہے کیونکہ اگر جسم ہوتا تو مکان کا محتاج ہوتا اور چونکہ خدا کسی کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اس نے خود مکان خلق کیا ہے لہذا جسم نہیں رکھتا کیونکہ خدا اگر جسم رکھتا ہوتا تو یہاں ہوتا اور وہاں نہ ہوتا اور پھر جو چیزیں وہاں ہوتیں انہیں خلق نہ کرسکتا اور نہ دیکھتا_ خدا جسم نہیں رکھتا اور نہ ہی ایک مخصوص جگہ پر مستقر ہے تا کہ دوسری جگہیں اس سے خالی ہوں ہر ایک شخص اور ہر ایک چیز کو اس نے پیدا کیا ہے خدا یہاں وہاں یہ مکان وہ مکان نہیں رکھتا اس کے سامنے تمام مکان برابر ہیں تمام کے ساتھ ہے او رتمام جگہوں سے مطلع ہے خدا چونکہ جسم نہیں رکھتا لہذا مکان نہیں رکھتا نہ زمین میں نہ آسمان میں خدا چونکہ جسم نہیں ہے آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا اور ہاتھوں سے نہیں چھواجا سکتا خدا یہاں کے نور سے بھی نہیں چوں کہ یہ نور جسمانی ہیں اور مکان کے محتاج ہیں لیکن خدا محتاج نہیں اس نے مکان کو پیدا کیا ہے اس نے آنکھ اور ہاتھ کو خلق کیا ہے اس نے نور کو پیدا کیا ہے

۳۹

اللہ کی بے پایاں قدرت ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ تمام چیزوں اور تمام لوگوں سے باخبر ہے _

''فکر کیجئے اور جواب دیجئے''

۱)___ جو تمہارے اطراف میں اجسام ہیں انہیں شمار کرو؟

۲)___ میز جسم ہے یہ کس چیز کی محتاج ہے کیا یہ ممکن ہے کہ یہ کسی مکان میں نہ ہو؟

۳)___ کرسی جسم ہے کیا ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں دو مکان میں ہو؟

۴)__ _ کوئی ایسا جسم جانتے ہو کہ مکان کا محتاج نہ ہو؟ اور کیوں؟

۵)___ کیا خدا جسم رکھتا ہے؟ کیا خدا مکان کا محتاج ہے؟

۶)___ کیا خدا کو آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے؟

یہ سوال اور ان کے جواب خوبصورت خط سے اپنی کاپی میں لکھیں

مشقیں

۱)___ اس سبق کو ایک دفعہ بلند آواز سے پڑھیں

۲)___ سبق کو اپنے دوستوں سے بیان کریں

۳)___ اس درس کا خلاصہ لکھیں اور دوستوں کو پڑھ کر سنائیں

۴)___ کئی اور سوال بھی بنائیں اور ان کے جواب دوستوں سے پوچھیں

۴۰