‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد ۴

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 254

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 254
مشاہدے: 11378
ڈاؤنلوڈ: 938


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 254 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 11378 / ڈاؤنلوڈ: 938
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد 4

مؤلف:
اردو

جسطرح خلقت کی ابتدا خداوند کریم سے ہے اسی طرح ان کے وجود کا باقی رہنا، پر وان چڑھنا اور نشو و نما بھی خدا کی ذات سے وابستہ ہے_

خدا کے علاوہ کون ہے جو بادام کے بیج کی مانند ایک مخصوص راہ کو طے کر رہے ہیں اور اس راہ میں صرف خدا کی ہدایت ان کے شامل حال ہے اور اس تکمیل کی راہ میں ان کا ہدایت کرنے والا پروردگار عالم ہے_

خداہی کی ذات ہے کہ جس نے ہر ایک کی سرشت اور فطرت میں حرکت راہ کو تلاش کرنا اور رشد و کمال تک پہنچنا و دیعیت کیا ہے اور یہ ایک عمومی ہدایت ہے اس عمومی ہدایت میں انسان کی حالت و کیفیت کیسی ہوتی ہے _ انسان دوسرے تمام موجودات سے ایک واضح فرق رکھتا ہے _ اور یہ فرق ، فکر ، ارادے و اختیار کی قدرت اور طاقت ،، کا ہوتا ہے _ دوسرے موجودات فکر و اختیار اور انتخاب جیسی قدرت سے بہرہ مند نہیں ہیں _ خداوند کریم نے یہ عظیم اور قیمتی نعمت انسان کو عطا کی ہے یہ بات واضح اور روشن ہے کہ انسان کو بھی دوسرے موجودات کی طرح عمومی ہدایت سے سرفراز ہونا چاہیئے لیکن یہ ہدایت بادام کے بیج کی طرح جبری نہیں ہے کہ اسکو رشد و ارتقاء کے مراحل طے کرنے میں کوئی اختیار حاصل نہیں انسان کو خدا نے فکر و انتخاب کی قوتوں کے ساتھ خلق کیا ہے لہذا ضروری ہے کہ اسے خیر و شر کے راستے بتائیں جائیں اور اگلا جہان جو کہ اس کے سامنے آنے والا ہے اس کی آنکھوں کے سامنے واضح کردیا جائے تا کہ وہ

۱۰۱

غور و فکر کے ساتھ اپنی راہ کا انتخاب کرسکے

انسان کو خیر و شر کا راستہ بتانے اور دکھانے والے اور آئندہ کے حالات سے آگاہ کرنے والے پیغمبر ہیں اللہ تعالی نے پیغمبروں کو انسان کی ہدایت لئے بھیجا ہے خداوند عالم نے سعادت بخش فرامین کو جو ایک حقیقی سر چشمہ سے جاری ہوتے ہیں وحی کے ذریعہ پیغمبروں کے اختیار میں قراردیا ہے پیغمبروں کی ماموریت ایک ایسی ماموریت ہے کہ جس میں تمام کے تمام پیغمبرو متحد اور ایک جیسا ہدف رکھتے ہیں یعنی کبھی بشارت و خوشخبری دے کراور کبھی دڑ اودھمکاکر معارف و احکام خدا کو لوگوں کیلئے بیان کریں اور انہیں خدا کے فرامین کی اطاعت کی دعوت دیں _

تین بنیادی اصول

تاریخ بشریت میں ہزاروں پیغمبر خداوند عالم کی جانب سے مبعوث کئے گئے ان میں سے کچھ دین اور شریعت لے کر آئے حضرت نوح (ع) ، حضرت ابراہیم (ع) ، حضرت موسی (ع) ، حضرت عیسی (ع) اور حضرت محمد(ص) کی مانند کہ ان تمام پاک و پاکیزہ ہستیوں پر ہمارا سلام ہو ان تمام پیغمبروں کو ''اولوالعزم'' پیغمبر کہاجاتا ہے_

باقی پیغمبران الہی کسی خاص دین و شریعت کے نہیں تھے بلکہ انکا کام اولوالعزم انبیاء کے دین و شریعت کی ترویج کرنا تھا لیکن یہ جان لینا چاہیئے کہ تمام پیغمبروں کے دین کی حقیقت و اصول ایک ہی میں اور وہ سب کے سب ایک ہدف کی طرف انسانوں کو دعوت دیتے ہیں_ سب ایک ہی پروگرام پر

۱۰۲

عمل کرتے رہے ہیں_

تمام آسمانی آدیان ان تین بنیادی اصولوں پر استوار ہیں_

اوّل: __ خدائے واحد و خالق کی شناخت اور اس پر ایمان_ _''توحید''

دوم: __معاد و آخرت اور انسان کے جاودانہ مستقبل پر ایمان__ ''معاد''

سوم: __ پیغمبروں اور ان کے ایک راہ و ہدف پر ایمان__ ''نبوت''

پیغمبر ان گرامی ان تین بنیادی اصولوں کی طرف انسانوں کو دعوت دیتے تھے اور ان سے خدا کی ہدایت پر کان دھرنے کی آرزو کیا کرتے تھے_

وہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کی باتیں سنین اور ان پر غور و فکر کریں اور خدائے علیم و قدیر کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور زندگی گزرانے کا سلیقہ صرف اور صرف خدا کی رضا کے مطابق اپنائیں_

تمام پیغمبروں نے اول سے آخر تک، آدم(ع) سے خاتم (ص) تک انسانوں کو اسی حقیقت کی طرف دعوت دی ہے پیغمبروں نے اس راہ و روش کو جسے خداوند متعال نے انسانوں کی زندگی کیلئے پسند کیا ہے ''دین خدا'' کا نام دیا ہے اور یقین وہانی کرائی ہے کہ دین خدا ایک سے زیادہ نہیں_

تمام پیغمبر ایک دوسرے کی تائید کرتے تھے

تمام پیغمبروں کی دعوت کے اصول و کلیات میں معمولی سا بھی اختلاف نہیں پایا جاتا ہرآنے والا پیغمبر اپنے سے پہلے پیغمبروں کو عزت و احترام سے یاد کیا کرتا تھا ان کی دعوت اور طریقہ کار کی تائید کرتا اور بعد میں آنے والے پیغمبر کی

۱۰۳

خوشخبری اور بشارت دیتا تھا اپنی امت کو تاکید کے ساتھ حکم دیتا تھا کہ بعد میں آنے والے پیغمبر پر ایمان لائیں، اس کی دعوت کو قبول کریں اور اس کی تائید کریں_

خداوند عالم قرآن کریم میں بطور یاد دہانی فرماتا ہے_

جب ہم پیغمبروں کو کتاب و حکمت دیتے تھے تو تاکید کرتے تھے کہ جب ہمارا رسول تمہارے بعد آئے تو تم پر لازم ہے کہ اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد و نصرت کرنا قرآن کریم پیغمبروں پر اور ان کے ایک ہدف و راستے پر ایمان کے متعلق اس طرح فرما رہا ہے_

کہدو ہم خدا پر ایمان لائے اور ہر اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ان تمام احکام پر ایمان لائے جو ہمارے لئے نازل کئے گئے وہ جو ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل (ع) و اسحاق (ع) و یعقوب (ع) اور ان کے نواسوں پر بھیجا ہے اور وہ جو موسی (ع) و عیسی (ع) اور دوسروں پیغمبروں پر نازل فرمایا ہے تمام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان میں کسی فرق و تفاوت کے قائل نہیں اور ہم سب خدا کے سامنے تسلیم ہیں اور جو کوئی دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو اختیار کرے گا اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان والوں میں ہوگا

''سورہ آل عمران آیت ۸۴''

اسلام یعنی خدا کے دین اور احکام کے سامنے جھک جانا تسلیم ہوجانا تمام پیغمبروں کی سیرت اللہ کے سامنے جھک جانا ہی تھی تمام پیغمبر اس معنی کے

۱۰۴

اعتبار سے مسلم تھے ہر چند کہ اسلام ایک مخصوص معنی کے لحاظ سے اس دین کو کہا جاتا ہے جو جناب رسول خدا(ص) ، خداوند عالم کی طرف سے لائے ہیں_

حضرت ابراہیم (ع) دعا و مناجات کے وقت اس طرح خدا سے تقاضہ کر رہے ہیں_

ائے پروردگار مجھے اور میرے فرزند اسماعیل کو مسلم قرار دے اور میری نسل سے ایک امت کو وجود میں لا جو تیرے سامنے سرا پا تسلیم ہو ہماری عبادت ہمیں دکھا دے اور ہماری توبہ کو قبول فرما کہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے_ اے پروردگار میری ذرّیت اور اولاد میں سے ایک رسول مبعوث فرما کہ جو تیری آیات کو ان کے لئے پڑھے اور کتاب او رحکمت کی انہیں تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے اور رشد دے کہ تو عزیز و حکیم ہے_

کون ہے جو حضرت ابراہیم (ع) کے دین سے روگردانی کرے؟ مگر وہ جو کہ کم عقل ہو ہم نے اسے دنیا میں منتخب کیا ہے اور یقینا آخرت میں وہ صالحین میں شامل ہوگا_ یاد کرو کہ اس کے رب نے اس سے فرمایا اسلام لے آ_ وہ بولا میں پروردگار عالم کے سامنے اسلام لایا اور اس نکتہ کی ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند اور یعقوب (ع) سے سفارش کی اور فرمایا

خدائے تعالی نے یہ دین تمہارے لئے منتخب کیا ہے

۱۰۵

موت تک اس دین کو ترک نہ کرنا ایسا نہ ہو کہ مرجاؤ اور مسلمان نہ ہو_

کیا تم اس وقت حاضر تھے جب یعقوب (ع) موت کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کر رہے تھے؟ اس وقت جب انہوں نے اپنے فرزند سے پوچھا: میرے بعد کس کی پرستش کروگے انہوں نے جواب دیا_

آپ کے خدا اور آپ کے باپ دادا ابراہیم (ع) و اسماعیل (ع) کے خدا کی جو وحدہ لا شریک ہے اور ہم تمام اس کے ماننے والے اور اس کے سامنے تسلیم ہوجانے والے ہیں_

آپ نے ملاحظہ کیا کہ خدا پیغمبروں کو ایک اور صرف ایک ہدف کی جو صرف اللہ کے سامنے جھکنا ہے، تعلیم فرما رہے ہے اور جو بھی اس راستہ سے روگردانی کرے اسے بے عقل اور نادان شمار کرتا ہے اس سلسلہ میں ان آیات کی طرف توجہ فرمائیں جو ایک دوسرے پیغمبر کے لئے نازل کی گئیں_

خدا نے اسے کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی اور اس کو بعنوان پیغمبر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا حضرت عیسی (ع) نے ان سے کہا: میں واضح اور روشن نشانیوں کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہوں میں مٹی سے تمہارے سامنے پرندے کا مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونکتا ہوں اور وہ بے جان مجسمہ خدا کے اذن سے پرندہ ہوجاتا ہے_ میں جذامی اور مبروص

۱۰۶

کو شفا دیتا ہوں میں مردوں کو خدا کے اذن سے زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم کھاتے ہو اور گھر میں ذخیرہ کرتے ہو خبر دیتا ہوں ان تمام باتوں میں واضح نشانی ہے اگر تم پاک دل اور مومن ہو_

میں تورات پر ایمان رکھتا ہوں جو مجھے سے پہلے نازل ہوئی اور اس کی تصدیق کرتا ہوں بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کے حلال ہونے کا اعلان کرتا ہوں میں پروردگار کی طرف سے تمہارے سامنے واضح علامت اور نشانی لایا ہوں تقوی اختیار کرو اور میری اطاعت کرو او جان لو کہ میرا اور تمہارا پروردگار خدا ہے اس کی اطاعت کرو کہ یہی راستہ سیدھا راستہ ہے_

لیکن جب عیسی (ع) نے محسوس کیا کہ لوگ ان کی بات کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں اور ان پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو فرمایا

خدا کی راہ میں میرے دوست اور مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم خدا کے دوست ہیں ہم خدا پر ایمان لائے ہیں او رگواہ رہنا کہ ہم سب مسلمان ہیں پروردگار ہم اس پر جو تو نے نازل کیا ہے ایمان لائے ہیں اور اس رسول کی پیروی کرتے ہیں_ ہمارا شمار گواہوں میں کرنا_

انبیاء خدا ایک مدرسہ کے معلم کی طرح ہیں جو ایک دوسرے کے بعد

۱۰۷

مبعوث ہوئے اور بالعموم انسانوں کو خدا کے سامنے تسلیم ہوجانے کی دعوت دیتے ہرے اور اپنے اسی رہنما اصول اور ایک راستہ کو رشد و ارتق دیتے رہے اور دین خدا کی تعلیم دیتے رہے_

خدا کا دین ایک سے زیادہ نہیں اور یہی صراط مستقیم ہے اور انبیاء کا ہدف بھی ایک سے زیادہ نہیں_ آسمانی ادیان اور پیغمبروں کے درمیان کسی قسم کا اختلاف نہیں_

ممکن ہے کہ مختلف ادیان کے فرعی احکام ہیں اختلاف پایا جاتا ہو اور یہ اختلاف زمانے اور لوگوں کی صلاحتیوں اور حالات زمانہ کے اختلاف کی بنا پر ضروری ہے کیونکہ تمام زمانوں میں لوگوں کے فہم و ادراک کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی لہذا تمام پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کے فہم و ادراک کے مطابق ان سے گفتگو کرتے تھے اور بتدریج معارف دین میں ان کے فہم و ادراک میں اضافہ کرتے رہے یہاں تک کہ آخری آسمانی پیغمبر(ص) محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک نوبت آپہنچی آپ(ص) ایسے گہرے اور وسیع معارف اور احکام لے کر لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے کہ جن کی مثال پہلے ادیان میں نہیں ملتی_

یہ دین اپنی وسعت، عظیم معارف اور تمام احکام کے سبب انسانوں کے تفکر و تحقیق کی راہوں کو کھولتا چلاگیا اس لئے اس کا خداوند متعال کی طرف سے آخری اور بہترین دین کے عنوان سے اعلان کردیا گیا_

خداوند کریم دین اسلام کے حدود و ابعاد اور اپنے سے پہلے ادیان کے ساتھ اس کے ارتباط کو اس طرح بیان فرما رہے ہے_

۱۰۸

آیت قرآن

''( شرع لکم مّن الدّین ما وصّی به نوحا وّ الّذی اوحینا الیک و ما وصّینا به ابرهیم و موسی و عیسی ان اقیموا الدّین و لا تتفرّقوا فیه ) ''

''سورہ شوری آیت ۱۳''

اس نے دین کا وہی طریقہ قرار دیا جس کی نوح(ع) کو وصیت کی تھی اور اے رسول اسی کی تیری طرف وحی کی اور اسی کا حکم ہم نے ابراہیم (ع) اور موسی (ع) اور عیسی (ع) کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو''

سوچئے اور جواب دیجئے

۱)___ عمومی ہدایت سے کیا مراد ہے؟ موجودات کے لئے عمومی ہدایت کس طرح ہوتی ہے_

۲)___ انسان کس اعتبار سے دوسری موجودات سے مختلف ہے؟

۳) ___ بادام کے بیج سے عمدہ درخت کی صورت اختیار کرتے تک کی ہدایت کیسی ہدایت ہے؟ آیا یہ جبری ہدایت ہے؟ یا انتخاب و

۱۰۹

اختیار کے ساتھ؟ وضاحت کیجئے

۴)___ اگر انسان میں فکر و انتخاب کی صلاحیت نہ ہوتی تو اس کی ہدایت کیسی ہوتی؟ ابھی جو انسان فکر و انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی ہدایت کا طریقہ کا کیا ہے؟

۵)___ انسان کو اچھائی، برائی بتانے والے اور آئندہ آنے والے خطرات سے آگاہ کرنے والے افراد کون ہیں؟

۶)___ خداوند عالم نے پیغمبروں کو کس لئے مامور کیا ہے؟

۷) ___ اولوالعزم پیغمبر کون ہیں اور ان کی خصوصیت کیا ہے؟

۸)___ وہ کون سے تین بنیادی اصول ہیں کہ تمام پیغمبر جن پر ایمان لانے کے لئے تمام انسانوں کو دعوت دیتے تھے؟

۹)___ دین خدا سے کیا مراد ہے؟

۱۰)___ قرآن کریم نے تمام پیغمبروں کے ایک راہ و ہدف کے متعلق کیا کہا ہے؟

۱۱) ___ خداوند عالم کن افراد کو ''غیر عاقل اور سفیہ'' کے نام سے متعارف کراتا ہے ؟

۱۱۰

پیغمبروں کا الہی تصور کائنات

دنیا کے متعلق ان کا نظریہ کیا ہے__؟

انسان کس طرح کا موجود ہے__؟

ان سوالوں کے جواب میں دو نظریے واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں_ ایک خدائی اور الہی نظریہ اور دوسرا مادی اور دہری نظریہ_ پہلے کو الہی تصور کائنات دوسرے کو مادی تصوّر کائنات کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے_

مادی تصوّر کائنات

اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مستقبل وجود ہے_ ایسا موجود

۱۱۱

ہے جس کے وجود میں آنے میں شعور و ارادہ کارفرما نہیں_

اس نظریہ کے مطابق جہان ایسا مجموعہ ہے کہ جو کوئی خاص مقصد یا ہدف نہیں رکھتا یہ جہان عناصر مادی سے تشکیل ہوا ہے کہ جن کی کوئی غرض و ہدف نہیں_ کائنات کے تمام کے تمام اجزاء و عناصر بے ہدف اور بے فائدہ ہیں_ کائنات کے اس عظیم مجموعہ کا ایک حصہ انسان ہے جو ایک بے مقصد موجود ہے جو نابودی کی طرف جارہا ہے_ اس کے کام بے مقصد ہیں اور اس کی انتہا ناامیدی، یاس و حسرت ، تاریکی اور نیستی و عدم ہے_

انسام کے لئے کوئی پناہ گاہ اور کوئی اس کا ملجا و ملولی نہیں وہ ایک بے انتہا تاریک وحشت ناک اور بے امید دنیا میں زندگی گذار رہا ہے_

مادّی تصوّر کائنات کے مطابق انسان کی زندگی بے قیمت اور بے معنی ہے کوئی ایسی ذا نہیں جس کے سامنے انسان جوابدہ ہو_ کوئی ایسا عالم اور برتر وجود نہیں جو انسان کے اچھے برے سلوک و عمل کو سمجھتا اور جانتا ہوتا کہ اسے سزا یا جزاء دے سکے_ انسان کے اعمال کی قدر و قیمت اور انسان کے اچھے اور برے کردار کا کوئی معیار موجود نہیں ہے_

الہی تصوّر کائنات

اس نظریے کے مطابق کائنات ایک مستقبل وجود نہیں رکھتی بلکہ اسے ایک مخلوق او رکسی سے وابستہ جانا جاتا ہے_

اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک ایسی مخلوق ہے کہ جسے بہت

۱۱۲

گہرے حساب_ خاص نظم و ضبط اور خاص ہم آہنگی کے ساتھ کسی خاص_ مقصد اور ہدف کے لئے خلق کیا گیا ہے_

یہ کائنات ایک قدرت مند خالق کی قدرت کے باعث قائم ہے اور اس کا ارادہ اور اس کا علم اور قدرت ہمیشہ اس کائنات کے مددگار محافظ اور نگہبان ہیں_

اسی الہی نظریے کے مطابق اس کائنات کی کوئی بھی چیز بے فائدہ اور بے غرض و مقصد نہیں ہے_ اس کائنات کے موجودات میں انسان ایک خاص فضیلت و اہمیت رکھتا ہے_ اس کا ہدف سب سے بالا ہے جس کی طرف وہ تمام عمر بڑھتا رہتا ہے_

انسان کا انجام نا امیدی و یاس نہیں ہے_ بلکہ امید شوق اور موجود رہنا ہے انسان ایسا وجود ہے جسے فنا نہیں، بلکہ وہ اس فانی اور راہ گزر جہان سے ایک دوسرے جہان کی طرف سفر کر جائے گا جو باقی اور ہمیشہ رہنے والا ہے_

اس الہی نظریے کے مطابق انسان اپنے پروردگار مطلق اور اپنے خالق رحمن و رحیم کے سامنے جوابدہ ہے_ انسان اپنے خدا کے سامنے مکمل جوابدہی کا ذمہ دار ہے کیونکہ خداوند عالم نے اسے خلق فرمایا اور اسے اختیار عنایت فرمایا ہے اور اسے مکلف اور ذمہ دار بنایا ہے_

الہی نظریے کے مطابق انسان کا ایک خالق ہے جو خبیر و بصیر ہے اور اس کے اعمال کا حاضر و ناظر ہے_ جو اچھے برے کا تعین کرتا ہے اور صالح افراد کو جزا اور برے اور شریر کو سزا دیتا ہے_

۱۱۳

پیغمبروں کا الہی تصوّر کائنات

پیغمبروں کا نظریہ کائنات و انسان کے بارے میں وہی ہے جو خدا کا نظریہ ہے_

کائنات کے بارے میں

تمام پیغمبر اس کائنات کو اس کی تمام موجودات کو محتاج اور مربوط جانتے ہیں_ ان تمام موجودات کو خداوند عالم کی عظمت کی نشانیاں اور علامتیں شمار کرتے ہیں_ تمام پیغمبر اور ان کے پیروکار اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدائے رحمن و رحیم اس کائنا کا خالق ہے اور تما خوبیاں اسی کی طرف سے ہیں_ کائنات کو چلانا اور باقی رکھنا اس کے ہاتھ میں ہے_ کائنات لغو اور بیکار کھیل نہیں کہ جو کسی خاص ہدف اور غرض کے لئے پیدا نہ کی گئی ہو_

انسان اور سعادت انسان کے بارے میں

تمام پیغمبر انسان کے بارے ہیں ایک خاص فکر و نظر رکھتے ہیں، اسے ایک ایسا محترم، بلند و بالا اور ممتاز موجود جانتے ہیں کہ جو دو پہلو رکھتا ہے_ اس کا جسم خاک سے بنایا گیا ہے اور روح و جان اللہ تعالی کے خاص حکم اور عالم ربوبیت سے خلق کی گئی ہے_ اسی وجہ سے یہ ایک برتر اور ہمیشہ

۱۱۴

رہنے والا موجود ہے کہ جو اللہ تعالی کی امانت قبول کرنے والا اور اس کی جانب سے مکلّف اور اس کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے_

اس نظریہ کے مطابق انسان کی سعادت واقعی اور ارتقا اللہ کی معرفت اور اس کے ارادے کی معرفت اور اس کے ارادے کے تحت چلنا اور اس کی رضا کے مطابق عمل کرنے میں ہے_ کیونکہ تمام قدرت اور خوبی اسی ذات کی جانب سے ہے_ اسی کی طرف توجہ کرنا انسان کی تمام خوبیوں اور کمالات انسانی کی طرف متوجہ رہنا ہے_

تمام پیغمبروں کی پہلی دعوت اللہ تعالی کی عبادت، اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے ہر قسم کے شرک کی نفی کرنا تھی_ اللہ کے پیغمبر، انسان کی شرافت و اہمیت کی بنیاد خدا کی عبادت اور اس کی وحدانیت کے اقرار کو قرار دیتے ہیں اور تمام بدبختیوں کی جڑ، خدا کو بھولنے اور اس کی یاد سے روگرانی کو قرار دیتے ہیں_ غیر خدا سے لگاؤ کو تمام تباہیوں، برائیوں اور بدبختیوں کی جڑ اور بنیاد شمار کرتے ہیں_

انسان کے مستقبل (معاد) کے بارے میں

پیغمبروں کی نگاہ میں انسان کا مستقبل ایک کامل، روشن اور امیدبخش و خوبصورت مستقبل ہے_ پیغمبروں کا یہ عقیدہ ہے کہ صالح اور مومن انسان کا مستقبل درخشاں اور روشن ہے_ وہ اس کائنات سے ایک دوسرے وسیع اور برتر جہان کی طرف جائے گا اور وہاں اپنے تمام اعمال کا نتیجہ دیکھے گا_

۱۱۵

تمام پیغمبر انسان، کائنات اور سعادت انسان اور اس کے مستقبل کے لئے ایک واضح اور برحق نظریہ رکھتے تھے اور خود بھی اس بلند و برحق نظریہ پر کامل ایمان رکھتے تھے_

پیغمبروں کی دعوت کی بنیاد

پیغمبروں کی دعوت کی اساس و بنیاد اسی مخصوص تصوّر کائنات پر مبنی تھی_ وہ خود بھی اپنے دین و شریعت کو اسی اساس پر استوار کرتے تھے_

حضرت نوح کی اپنی قوم سے پہلی گفتگو یہ تھی کہ

خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا کہ مجھے ایک پر درد عذاب کے دن کا تم پر خوف ہے''

جناب ہود(ع) کا اپنی قوم سے پہلا کلام یہ تھا

اے میری قوم خدا کی پرستش کرو کہ تمہارا اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے_

حضرت صالح پیغمبر کی بھی اپنی قوم سے اسی قسم کی گفتگو تھی_ آپ نے فرمایا:

اے میری قوم خدا کی عبادت کرو کہ تمہارا اس کے سواکوئی اور معبود نہیں ہے وہ ذات ہے کہ جس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں حکم دیا کہ زمین کو آباد کرو اس سے درخواست کرو کہ تمہیں بخش دے اور اسی کی طرف رجوع کرو اس سے توبہ کرو_ ہاں میرا رب

۱۱۶

بہت قریب اور اجابت (جواب دینے والا) کرنے والا ہے_ حضرت شعیب(ع) نے اپنی رسالت کے آغاز پر لوگوں سے اس طرح خطاب کیا_

اے میری قوم خدا کی پرستش کرو کہ تمہارا سوائے اس کے اور کوئی خدا نہیں او رکبھی وزن و پیمائشے میں کمی نہ کرو کہ میں تمہاری بھلائی کا خواہاں ہوں اور تم پر قیامت کے عذاب سے ڈرتا ہوں_

اے میری قوم وزن و پیمائشے کو پورے عدل سے بناؤ او رلوگوں کی چیزوں کو معمولی شمار نہ کرو اور زمین میں ہرگز فساد برپا نہ کرو_''

خداوند عالم نے حضرت موسی (ع) کی رسالت کے بارے میں یوں فرمایا ہم نے موسی کو واضح اور محکم دلائل اور آیات دے کر فرعون اور اس کے گروہ کی طرف بھیجا_ فرعون کے پیروکار اس کے امر کو تسلیم کئے ہوئے تھے لیکن فرعون کا امر ہدایت کرنے اور رشد دینے والا نہ تھا_ فرعون قیامت کے دن آگے آگے اپنی قوم کو جہنّم میں وارد کرے گا جو براٹھکانا اور مکان ہے اس دنیا میں اپنے اوپر لعنت او رنفرین لیں گے اور آخرت میں بھی یہ کتنا برا ذخیرہ ہے ان آیات کے ساتھ ہی قرآن میں اس طرح سے آیات ہے ایک دن آنے والا ہے کہ کوئی شخص اس دن اپنے

۱۱۷

پروردگار کی اجازت کے بغیر بات نہ کرسکے گا_ اس دن ایک گروہ بدبخت اور شقی ہوگا اور ایک گروہ خوش بخت اور سعادت مند، وہ جو بدبخت اور شقی ہوں گے انہوں نے خدا کے سوا دوسروں سے اپنا دل لگا رکھا تھا اور خدا کی یاد اپنے دل سے نکال چکے تھے غیر خدا کی عبادت کرتے تھے وہ آگ میں گریں گے جو بہت شعلہ ور، بلند قد اور رعب دار ہوگی یہ لوگ اس آگ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں مگر سوائے اس کے کہ تیرا پروردگار کچھ اور چاہے اور جو کچھ تیرا خدا چاہتا ہے اسے یقینا آخر تک پہنچا کر رہتا ہے لیکن وہ لوگ جو خدائے واحد پر ایمان لانے اور عمل صالح انجام دینے کی وجہ سے سعادت مند ہوئے ہیں بہشت میں داخل ہوں گے اور اس میں جب تک زمین و آسمان قائم ہیں زندگی گزاریں گے مگر یہ کہ خدا اس کے علاوہ کچھ اور چاہے البتہ خدا کی یہ عنایت اختتام پذیر نہیں_

اگر تمام پیغمبروں کی دعوت پر غور کریں تو نظر آتا ہے کہ تمام پیغمبروں کی دعوت میں اپنی نبوت کے اثبات اور بیان کے علاوہ دو رکن، دو اصل اور دو اساس موجود ہیں_

پہلا: خدائے واحد کی پرستش و عبادت: توحید_

دوسرا: انسان کا مستقبل سعادت یا شقاوت: معاد

۱۱۸

ان دو بنیادی اصولوں پر ایمان لانا، انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد و اساس ہے_ پیغمبر دلیل و برہان اور معجزات و بینات کے ذریعہ پہلے انسانوں کو ان دو اصولوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے_

کائنات کے اسرار و عجائب میں غور و فکر کی ترغیب دلا کر انسانوں کو ان دو اصولوں پر عقیدہ رکھنے کی دعوت دیتے تھے_ انسان میں جو خداپرستی اور خداپرستی کی فطرت موجود ہے انبیاء اسے بیدار کرتے تھے تا کہ وہ خدا کی وحدانیت کو مان لیں اور اس کی پرستش کریں اور اپنے الہی نظر یے کے ذریعے سے اس کی قدرت کے آثار اور اس کی عظمت کا کائنات کے ہرگوشہ میں مشاہدہ کریں انسان کی خلقت کی غرض و غایت کو سمجھ سکیں اور موت کے بعد کی دنیا سے واقف ہوجائیں اور اپنی آئندہ کی زندگی میں بدبختی اور خوش بختی سے متعلق ہوچیں_

ابتداء میں تمام پیغمبر لوگوں کے عقائد کی اصلاح کرتے تھے کیونکہ اسی پر لوگوں کے اعمال، رفتار و کردار کا دار و مدار ہے_ ابتدا میں لوگوں کو ان دو اصولوں (توحید اور معاد) کی طرف دعوت دیتے تھے_

اس کے بعد احکام، قوانین و دساتیر آسمانی کو ان کے سامنے پیش کرتے تھے_ کیونکہ ہر انسان کا ایمان، عقیدہ اور جہان بینی اس کے اعمال اخلاق او رافکار کا سرچشمہ ہوا کرتے ہیں_

ہر انسان اس طرح عمل کرتا ہے جس طرح وہ عقیدہ رکھتا ہے ہر آدمی کا کردار و رفتار ویسا ہی ہوتا ہے جیسا اس کا ایمان و عقیدہ ہوتا ہے ہر انسان کے اعمال و اخلاق اس کے ایمان و اعتقاد کے نشان دہندہ ہوتے ہیں

۱۱۹

صحیح اور برحق ایمان و عقیدہ عمل صالح لاتا ہے اور نیکوکاری کا شگوفہ بنتا ہے اور برا عقیدہ نادرستی، تباہی اور ستمگری کا نتیجہ دیتا ہے_ اس بنا پر ضروری ہے کہ لوگوں کی اصلاح کے لئے پہلے ان کے عقائد اور تصور کائنات کے راستے سے داخل ہوا جائے_

پیغمبروں کا یہی طریقہ تھا_

اللہ تعالی پر ایمان اور قیامت کے دن کے عقیدے کو لوگوں کے دل میں قوی کرتے تھے تا کہ لوگ سوائے خدا کے کسی اور کی پرستش نہ کریں اور اس کی اطاعت کے سوا کسی اور کی اطاعت نہ کریں_

پیغمبروں کا ہدف

تمام پیغمبروں اور انبیاء کا ہدف خدائے واحد پر ایمان لانا، اس کا تقرب حاصل کرنا، دلوں کو اس کی یاد سے زندہ کرنا اور اپنی روح کو خدا کے عشق و محبت سے خوش و شاد رکھنا ہوتا ہے اور تمام احکام دین، اجتماعی و سیاسی قوانین یہاں تک کہ عدل و انصاف کا معاشرے میں برقرار رکھنا اپنی تمام ترضرورت و اہمیت کے باوجود دوسرے درجے پر آتے ہیں_

پیغمبر، انسان کی سعادت کو اللہ تعالی پر ایمان لانے میں جانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگوں کے اعمال و حرکات اللہ کی رضا اور اس کے تقرّب کے حاصل کرنے کے لئے ہوں_ کائنات کے آباد کرنے میں کوشش کریں_ خدا کے لئے مخلوق خدا کی خدمت کریں اور انہیں فائدہ پہنچائیں _

۱۲۰