‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد ۴

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 254

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 254
مشاہدے: 11392
ڈاؤنلوڈ: 938


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 254 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 11392 / ڈاؤنلوڈ: 938
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد 4

مؤلف:
اردو

خدا کے لئے ظالموں سے جنگ کریں_ خدا کے لئے عدل و انصاف کو پھلائیں اور مظلوموں اور محروموں کی مدد کریں_ یہاں تک کہ اپنے سونے اور کھانے پینے کو بھی خدا اور اس کی رضا کے لئے قرار دیں اور خدا کے سوا کسی کی بھی پرستش نہ کریں اور اگر وہ ایسا کریں تو سعادتمند ہوجائیں گے_

آیت قرآن

( ان لّا تعبدوا الّا الله انّی اخاف علیکم عذاب یوم الیم ) ''

خدا کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو کہ میں تم پر اس دن کے دردناک عذاب سے ڈرتا ہوں (سورہ ہود آیت ۲۶)

سوچئے اور جواب دیجئے

۱) ___ مادی نظر یے کے مطابق انسان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اس نظریے میں انسان جوابدہ و ذمہ دار سمجھا جاتا ہے؟ آیا اس نظریے میں اعمال انسانی کے لئے کوئی معیار موجود ہے کہ جس سے اس کے اچھے اور برے اعمال کو معین کیا جاسکے؟

۲)___ مادّی تصوّر کائنات میں کائنات کو کس قسم کا موجود سمجھا جاتا ہے؟

۱۲۱

۳) ___ پیغمبروں کا نظریہ انسان کے متعلق کیا ہے؟ اور وہ اسے کس قسم کا موجود تصور کرتے ہیں؟

۴)___ پیغمبروں کا تبلیغ کے سلسلہ میں پہلا کلام کیا ہوتا تھا؟

۵)___ پیغمبروں کی نگاہ میں انسان کی شرافت کی بنیاد کیا ہے؟

تمام بدبختیوں کی بنیاد کیا ہے؟ اور کیوں؟

۶)___ پیغمبروں کی نظر میں صالح اور مومن انسان کا مستقبل کیا ہے؟

۷)___ تمام پیغمبروں کی دعوت اور تبلیغ کا محور اور اساس کون سے اصول ہیں مثال دیجئے؟

۸)___ پیغمبروں کی نگاہ میں لوگوں کی اصلاح کس راستے سے ضروری ہے؟

۹)___ پیغمبروں کا مقصد و ہدف کیا ہے؟ اور وہ اس عالی ہدف تک پہنچنے کے لئے لوگوں سے کیا چاہتے تھے؟

۱۲۲

پیغمبروں کی خصوصیات

خدا کے پیغمبر لائق اور شائستہ انسان تھے کہ جنہیں اس نے انسانوں میں منتخب کیا یہ صاحب لیاقت اور صالح افراد بہت سی خصوصیات کے حامل تھے ان میں سے بعض کو یہاں بیان کیا جاتا ہے_

خدا سے وحی کے ذریعہ ارتباط

پیغمبر(ص) خدا کے کلام اور پیغام کو سنتے تھے اور انہیں اچھی طرح سمجھتے تھے دین کے معارف اور حقائق، ہدایات اور اللہ کی گفتگ ان کے پاک دلوں پر وحی کی صورت میں نازل ہوتی تھی_

وہ خدا کی وحی کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اسے اپنے پاس محفوظ

۱۲۳

رکھتے تھے پھر بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں کیلئے بیان کرتے تھے بعض پیغمبر اس فرشتہ الہی کا مشاہدہ بھی کرتے تھے جو اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے مامور تھے جبکہ بعض صرف اس کی آواز سنتے تھے_

یہ بات تو آپ کو معلوم ہے کہ پیغمبر جسم و جان کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کی طرح تھے غذا کھاتے تھے، باتیں کرتے تھے، لوگوں کے درمیان آمد و رفت رکھتے تھے، عام انسانوں کی مانند حواس کی مدد سے چیزوں کو دیکھتے تھے، آوازوں کو سنتے تھے_

لیکن روحانی اور معنوی طور سے حقائق کو سمجھنے اور معارف دین کے سلسلہ میں عالم انسانوں سے کہیں زیادہ بلند درجے پر ہوتے تھے _

ان کا باطن اتنا پاکیزہ ہوتا تھا کہ وہ اپنے خدا سے رابطہ پیدا کرسکتے تھے اور عالم غیب کے حقائق اور معارف کو دریافت کرسکتے تھے اور اپنی چشم بصیرت سے جہان کی حقیقت اور باطن کا مشاہدہ کرتے تھے_ اللہ تعالی کے فرشتہ کو دیکھتے تھے اس کی آواز کو دل و جان سے سنتے تھے لیکن دوسرے انسان اس قسم کی طاقت اور استعداد نہیں رکھتے_

پیغمبر اس قسم کی لیاقت و قدرت رکھتے تھے کہ دین کے معارف اور حقائق کو جو اللہ تعالی کی جانب سے ان کے پاک و نورانی قلب پر نازل ہوتے ہیں سمجھ سکیں ان کی حفاظت و نگرانی کرتے ہوئے بغیر کسی کمی و زیادتی کے لوگوں تک پہنچا سکیں_

اس قسم کے ربط کو دین کی لغت اور اصطلاح میں ''وحی'' کہاجاتا ہے بہتر ہے کہ اس بات کو بھی جان لیں کہ وحی کا عمل تین طرح سے انجام

۱۲۴

پاتاہے_

پہلا یہ کہ فرشتہ الہی خدا کے پیغام کو لے کر قلب پیغمبر پر نازل ہو اور صرف اس کی آواز سن سکیں_

دوسرا یہ کہ پیغمبر، فرشتے کی آواز سننے کے ساتھ ساتھ اس کا مشاہدہ بھی کرتے ہیں_

تیسرا یہ کہ پیغمبر بغیر کسی واسطے کے حقائق دین کو خداوند عالم سے حاصل کرتے ہیں_

۲) گناہ اور غلطیوں سے پاک کرنا

پیغمبر ہر قسم کے گناہ اور برائیوں سے پاک ہوتے ہیں اور یہ عصمت و پاکیزگی ان کے اس علم و معرفت کے سبب ہوتی ہے کہ جو خداوند عالم نے انہیں عطا کیا ہے_

چونکہ پیغمبر برائیوں اور پلیدگی کو واضح طور پر سمجھتے تھے اس لئے کبھی بھی اپنے آپ کو گناہ اور معصیت سے آلودہ نہیں کرتے تھے_

پیغمبر اپنی گفتار میں سچے اور کردار و عمل میں کامل انسان تھے_

وحی کو سمجھنے اور بیان کرنے میں بھی خطاؤں سے پاک تھے یعنی اللہ کے پیغام کو صحیح ___ اور مکمل طور پر سمجھتے اور پھر اسے اسی صحیح اور مکمل صورت میں لوگوں تک پہنچاتے تھے_

لوگوں کی ہدایت و رہبری میں کسی قسم کی کوئی خطا غلطی اور انحراف

۱۲۵

نہیں کرتے تھے___ اور خداوند عالم کی ذات ان تمام مراحل اور حالات میں ان کی محافظ اور مددگار ہوتی تھی_

۳) خدا کی راہ میں پائیداری اور استقامت

پیغمبر ایمان اور یقین سے سرشار ہوتے تھے اور ان کی ذمہ اریاں اور مقصد اتنا واضح ہوتا تھا کہ جس میں وہ معمولی شک اور تردد کا بھی شکار نہ ہوتے تھے خدا اور جہان آخرت پر انہیں دل کی گہرائیوں سے یقین تھا_

وہ اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ تھے اور اللہ تعالی کی رسالت اور اپنے فرائض کی انجام ہی میں ثابت قدم تھے حق کو پہچان چکے تھے اور اس میں انہیں کوئی شک و شبہ نہ تھا_

خدا کی بے پایاں قدرت پر تکیہ کرتے تھے اور دوسری کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے اپنے فرائض و ذمہ داریوں کو مکمل طور پر کما حقہ انجام دیتے تھے اور اپنے حامیوں اور دوستوں کی کمی سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے_

دشمنو کی طرف سے پیدا کی جانے والی شدید مشکلات ان کے مصمم ارادے اور فولادی عزم میں معمولی سا بھی خلل پیدا نہیں کرپاتی تھیں اور آپ حضرات مشکلات دور کرنے میں پائیداری اور استقامت سے کوشش کرتے تھے_

ذیل میں ہم بعض پیغمبروں کی سعی و کوشش کے کچھ نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں_

۱۲۶

حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت

اس عظیم پیغمبر نے تن تنہا بت پرستی اور شرک کا مقابلہ کیا اپنے دور کے ظالم ترین اور طاقتور انسان نمرود کے سامنے ڈٹ گئے اس کی عظیم طاقت سے نہ ڈرے اور پوری قوت سے اس سے کہا _

خدا کی قسم تمہارے بتوں کو توڑ پھڑ ڈالوں گا''

اور پھر تن تنہا بتوں کے توڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے چھوٹے اور بڑے بت کدے کے بتوں کو توڑ کر زمین پر ڈھیر کردیا_

جب نمرود کے دربار میں آپ کو جلائے جانے کا حکم ملا تو ذرا سی بھی کمزوری اور پشیمانی کا اظہار نہ کیا اور اپنے صحیح عقیدے کے دفاع میں مستحکم اور ثابت قدم رہے_

یہاں تک کہ اس لمحہ بھی کہ جب آپ کو آگ میں ڈالا جارہا تھا معمولی کمزوری اور ناتوانی کا اظہار نہ کیا اور سوائے خدا کے کسی سے مدد طلب نہ کی آپ(ع) اس وقت بھی صرف اللہ کے لطف و کرم پر ایمان رکھے ہوئے تھے_

اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے اپنے گھر بار کو چھوڑ دیا اور دوسری سر زمین کی طرف ہجرت کی اپنی بیوی اور بچے کو خشک و بے آب وادی میں تنہا چھوڑ گئے حضرت ابراہیم (ع) کی استقامت اس حد تک تھی کہ

قرآن انہیں ایک امت بتا رہا ہے اور ان کی اس طرح عمدہ تعریف کرتا ہے کہ:

حضرت ابراہیم (ع) تنہا ایک امت تھے اور مکمل طور پر خدا کے فرمانبردار تھے

۱۲۷

حضرت موسی (ع) و حضرت عیسی (ع) کی استقامت

حضرت موسی (ع) اپنے بھائی ہارون کے ساتھ اونی لباس پہنے اور ہاتھ میں عصا لئے فرعون کے محل میں داخل ہوئے اور بغیر کسی وحشت و اضطراب کے اس ظالم طاقتور سے فرمایا_

میں اللہ تعالی کی طرف سے رسول ہوں اور بجز حق اور کچھ نہیں بولتا_ اللہ تعالی کی طرف سے واضح اور روشن دلائل اور گوہیاں لایا ہوں بنی اسرائیل کو میرے ساتھ روانہ کردے_

سورہ اعراف آیت ۱۰۴، ۱۰۵

حضرت موسی (ع) بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے اس سے بر سر پیکار ہوگئے اور پوری استقامت سے ظالم فرعون کا خاتمہ کیا اور اس کے ظالم مددگاروں کو بھی ہلاک کردیا_

حضرت موسی (ع) نے ان مشکلات اور دشواریوں کے وقت جبکہ کسی طرف سے کوئی معمولی سی بھی امید نظر نہیں آرہی تھی اور پھر فرعون پوری قساوت سے بنی اسرائیل کا قتل عام کر رہا تھآ اور ان کی عورتوں کو لونڈی بنارہا تھا اپنے ماننے والوں سے یوں فرمایا_

اللہ تعالی سے مدد طلب کرو، صابر و محکم و مضبوط بنو اور جان لو کہ زمین اللہ کی ہے جسے چاہے اسے دے گا اور جان لو کہ پرہیزگاروں کی کامیابی یقینی ہے_

''سورہ اعراف ۷_ آیت۱۲۸''

۱۲۸

حضرت موسی (ع) کی قوم کا گویا صبر و حوصلہ ختم ہوچکا تھا آپ سے انہوں نے کہا: اے موسی (ع) تمہارے پیغمبری کے لئے مبعوث ہونے اور رسالت کے لئے چنے جانے سے پہلے بھی ہم فرعون کے ظلم و ستم کے سبب اذیتیں اٹھا رہے تھے وہی مصائب اب بھی ہم پر باقی ہیں_

حضرت موسی (ع) خدا کی فتح و نصرت پر اعتماد و ایمان رکھتے ہوئے فرماتے تھے_

خداوند عالم جلدی ہی تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں ان کا جانشین قرار دے گا تا کہ تمہارے کردار و عمل کا جائزہ لے سکے''

سورہ اعراف۷، آیت ۱۲۹

حضرت عیسی (ع) بھی اپنے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ پر اتر آئے اور ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک مقام سے دوسرے مقام پر ہجرت کرتے رہے جہاں بھی گئے لوگوں کو خداوند عالم کا پیغام سنایا اور لوگوں کو ظالم و جابر حکمران کے سامنے جھکنے سے روکا یہاں تک کہ آپ کے وجود کو دشمن برداشت نہ کرسکے اور آپ کے قتل کے لئے پھانسی کا پھندا بنایا گیا لیکن آپ کو پا نہ سکے تا کہ قتل کریں_ خداوند عالم نے انہیں آسمان پر اپنے خاص بندوں کا مقام عنایت کیا ہے_

حضرت محمد مصطفی (ع) کی استقامت

حضرت محمد مصطفی (ع) نے بھی یکہ و تنہا شرک و بت پرستی سے مقابلہ کیا

۱۲۹

اور پختہ و محکم ارادے سے آخری وقت تک کوشش کرتے رہے اور لاتعداد مشکلات اور دشواریوں کے باوجود پائیداری اور استقامت کا مظاہرہ کرتے رہے اور معمولی سی کمزوری اور تردد کا بھی اظہار نہ کیا_

اپنی کھلی دعوت کے پہلے مرحلے میں اپنے رشتہ داروں سے فرمایا میں االلہ کا پیغمبر ہوں اور اللہ تعالی کی طرف سے مامور ہوں کہ تمہیں گمراہی اور ضلالت سے نجات دلاؤں اور دنیا و آخرت کی خوش بختی اور سعادت تک پہنچاؤں جو شخص بھی مری مدد کا اعلان کرے گا اور اس عظیم کام میں میری نصرت کرے گا وہی میرا وزیر اور وصی ہوگا_

جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ آپ(ع) نے اس بات کو تین مرتبہ دہرایا اور کسی نے سوائے علی ابن ابی طالب (ع) کے اس دعوت اور پکار کو قبول نہ کیا پیغمبر اسلام(ص) نے پورے یقین کے ساتھ حضرت علی (ع) کو اپنا وزیر اور وصی چن لیا_

ایک دن حضرت ابوطالب (ع) نے پیغمبر (ص) سے کہا کہ:

قریش کے سردار میرے پاس آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تیرا بھتیجا محمد(ص) ہمارے بتوں کی توہین کرتا ہے اور ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو جو بت پرست تھے گمراہ کہتا ہے اب ہم ان باتوں کو برداشت نہیں کرسکتے انہوں نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ تم کو سمجھاؤں تا کہ اس کے بعد تم بتوں اور بت پرستوں پر تنقید نہ کرو''

حضرت رسول خدا(ص) اپنے مقصد پر کامل ایمان رکھتے تھے اور اپنی

۱۳۰

الہی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے ثابت قدم تھے لہذا اپنے چچا سے فرمایا:

چچا جان: میں اس راہ سے ہرگز نہ ہٹوں گا اور لوگوں کو خداپرستی اور توحید کی دعوت دینا نہیں چھوڑوں گا میں اپنی رسالت کے پیغام کو پہنچانے میں کوتاہی نہیں کرسکتا میں اپنی کامیابی تک اس کام کو انجام دیتا رہوں گا_

ایک دفعہ اور قریش کے سردار، جناب ابوطالب کے پاس آئے اور کہا:

اے ابوطالب(ع) تم ہمارے قبیلہ کے بزرگ ہو تمہارا احترام ہمارے اوپر لازم ہے لیکن تمہارے بھتیجے نے ہماری زندگی اجیرن کردی ہے_ اگر اسے اس کام کے بجالانے پر فقر و محتاجی نے مجبور کیا ہے اور وہ مال و دولت چاہتا ہے تو ہم حاضر ہیں کہ بہت زیادہ مال اس کے حوالہ کریں اور اگر اسے جاہ و جلال اور مقام کی تمنّا ہے تو ہم حاضر ہیں کہ اسے اپنا سردار اور حاکم تسلیم کرلیں_

مختصراً یہ کہ ہم حاضر ہیں جو بھی وہ چاہتا ہے اسے دیں تا کہ وہ ان باتوں سے دستبردار ہوجائے_

جناب ابوطالب (ع) نے حضرت رسول خدا(ص) سے جو اس موقع پر موجود تھے کہا کہ اے بھتیجے تم نے سن لیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟

پیغمبر(ص) نے فرمایا:

چچا جان خدا کی قسم اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج

۱۳۱

اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں تب بھی میں ہرگز اپنی دعوت سے دستبردار نہیں ہوں گا_

چچا جان میں ان سے صرف ایک چیز کی خواہش کرتا ہوں کہ یہ لوگ '' لا الہ الّا اللہ'' کہیں اور نجات پاجائیں_

پیغمبر اسلام(ص) اپنی دعوت کے تمام مراحل میں ان تمام مشکلات اور دشمنوں کی یلغا اور سختیوں کے مقابلے میں عزم و استقلال کے ساتھ ڈٹے رہے_ آپ نے اپنے کردار و عمل سے تمام مسلمانوں اور خداپرستوں کو صبر و استقامت کا درس دیا_

آیت قرآن

''( قل انّما انا بشر مثلکم یوحی اليّ انّما الهکم اله واحد فمن کان یرجوا لقاء ربّه فلیعمل عملا صالحا وّ لا یشرک بعباده ربّه احدا ) ''

''سورہ کہف آیت آخر''

کہدو کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں مجھ پر وحی ہوتی ہے تمہارا خدا ایک ہے جو شخص بھی اپنے پروردگار کے دیدار کا امیدوار ہوا سے چاہیئے کہ وہ عمل صالح انجاک دے اور کسی کو بھی پروردگار کی عبادت میں شریک قرار نہ دے _

۱۳۲

سوچئے اور جواب دیجئے

۱)___ وحی کسے کہتے ہیں؟

۲)___ کیا پیغمبر جسم و روح کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کی طرح تھے؟

۳)___ پیغمبر وحی کے حاصل کرنے اور پہنچانے میں معصوم تھے اس جملہ کا مطلب بتایئے

۴)___ اس درس میں پیغمبروں کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں انہیں بیان کیجئے؟

۵)___ پیغمبروں کا اپنے ہدف پر ایمان و استقامت کا کوئی نمونہ بیان کریں؟

۶)___ حضرت موسی (ع) کے زمانہ میں طاغوت ( ظالم حکمران) کون تھا حضرت موسی (ع) کیسے اس کے ساتھ اس کے محل میں داخل ہوئے_

۷)___ حضرت موسی (ع) نے اپنے جاننے والوں کو خدا پر اعتماد اور صبر و استقامت کے بارے میں کیا فرمایا ؟

۸)___ پیغمبر اسلام (ص) نے کفار کو جو آپ کو صلح کی دعوت دیتے تھے کیا جواب دیا؟

۱۳۳

باب چہارم

پیغمبر اسلام (ص) اور آپ(ص) کے اصحاب کے بارے میں

۱۳۴

ایمان و استقامت

عمّار کا خاندان (گھرانہ) قرآنی آیات اور پیغمبر (ص) کی دل نشیں گفتار سن کر اور آپ کے کردار کو دیکھتے ہی پیغمبر اسلام(ص) کی نبوت اور دعوت بر حق پر ایمان لے آیا تھا اور دعوت اسلام کے ابتدائی مراحل میں مسلمان ہوچکا تھا

ابوجہل، جو کہ مكّہ کے بار سوخ اور مستکبرین میں شمار ہوتا تھا جب اسے عمّار کے خاندان کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو وہ بہت غضبناک ہوا اور جب عمار کو دیکھا تو انہیں بہت ملامت اور سرزنش کی اور ان سے کہا کہ

میں نے سنا ہے کہ تم بت پرستی کو ترک کر کے مسلمان ہوگئے ہو؟''

عمّار نے جواب دیا ''

ہاں میں نے، میرے ماں باپ اور بھائیوں نے

۱۳۵

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو سنی_ ان آیات میں جو وہ خدا کی طرف سے لائے ہیں، غور کیا ان کی دعوت کو حق جانا اور اسے قبول کرلیا ہے_

ابوجہل نے چلّاکر کہا: تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ مكّہ کے بزرگوں اور سرداروں کی اجازت کے بغیر محمد(ص) کے دین کو قبول کر لو تم عقل اور فکر سے عاری ہو تمہیں چاہیئے کہ بزرگوں اور سرداروں کے تابع بنو وہ تم سے بہتر سمجھتے اور جانتے ہیں

ہم مزدور اور محنتی لوگ بھی عقل و شعور رکھتے ہیں اور تم سے بہتر سمجھتے ہیں مال اور مقام نے تمہیں اندھا کردیا ہے کہ اتنے واضح حق کو نہیں دیکھ رہے ہو لیکن ہم نے اچھی طرح جان لیا ہے کہ محمد(ص) خدا کے پیغمبر(ص) ہیں اور وہ اللہ تعالی کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور ہماری ہدایت اور نجات کے لئے آئے ہیں خدا اور اس کا پیغمبر ہماری بھلائی کو تم سے بہتر طور پر سمجھتا ہیں، ہمارا ہمدرد تو پیغمبر(ص) ہے تم مالدار اور ظالم لوگ نہیں_

تم پہلے کی طرح ہم سے بے گارلینا چاہتے ہو اور ہمارے ہاتھ کی محنت ہڑپ کرنا چاہتے ہو لیکن اب وہ زمانہ گیا خداوند عالم نے ہمارے لئے دل سوز اور مہربان رہبر بھیجا ہے تا کہ تم جیسے ظالموں اور غارتگروں سے نجات دلائے

۱۳۶

اور دنیا و آخرت کی عزت اور سعادت تک پہنچائے ہم نے اس کی رہبری کو قبول کرلیا ہے اور تمام وجود سے اس کے مطیع ہیں اور ہم ہی کامیاب رہیں گے_

ابوجہل کو اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی اس لئے سخت غصّے میں آیا اور جناب عمّار کو مارنا شروع کردیا_ ابوجہل کے غلاموں نے بھی اس کی مدد شروع کردی اور ڈنڈوں اور کوڈوں سے مار مار کر عمّار کے جسم کو نیلا کردیا_ جناب عمّار اس حالت میں بھی خدا کو یاد کرتے اور اللہ اکبر کہتے رہے_

جناب عمّار کا گھرانہ ایک غریب اور مستضعف گھرانا تھا بلکہ میں آپ کے کوئی عزیز و اقارب بھی نہیں تھے کہ جن کی مدد و حمایت حاصل کرتے اسی وجہ سے قریش کے سرداروں اور مكّہ کے متکبرو نے پكّا ارادہ کرلیا تھا کہ اس گھرانے کے بے یار و مددگار افراد کو اتنی ایذا پہنچائیں کہ وہ اسلام سے دستبردار ہوجائیں یا جان سے جائیں_

قریش کے سرداروں نے انہیں ڈرانا، دھمکانہ، مارنا، پیٹنا، اور برا بھلا کہناشروع کردیا_ عمار کے والد یاسر اور والدہ ''سمیہ'' کو وقتاً فوقتاً مارا پیٹا کرتے تھے اور ان سے چاہتے تھے کہ وہ دین اسلام سے دستبردار ہوجائیں اور پیغمبر اسلام(ص) کو برا بھلا کہیں اور گالیاں دیں (نعوذ باللہ)

مگر کیا عمار جیسے لوگ پیغمبر خدا کو گالیاں دے سکتے تھے؟ اور کیا ایمان سے دستبردار ہوسکتے تھے؟

آیئےپ کو بتائیں کہ اس وقت جب ان پر کوڑے برسائے

۱۳۷

جاتے تھے تو وہ کیا کہتے تھے وہ کہتے تھے،

کس طرح ممکن ہے کہ ہم اللہ کے راستے کو چھوڑ دیں جب کہ اسی نے ہمیں حق کا راستہ دکھایا ہے ہم تمہارے ظلم و ایذا و سختی پر صبر کریں گے خدا ہمارے صبر و استقامت کو دیکھ رہا ہے اور وہ صبر کرنے والوں کو بہترین جزا دے گا_''

''سورہ ابراہیم ۱۴ آیت سورہ نحل ۱۶ آیت''

ابوجہل ان کے قریب آیا اور عمار اور ان کے والد یاسر، ماں سمیہ اور بھائی عبداللہ سے کہا کہ:

اسلام سے دستبرد ار ہوجاؤ اور محمد(ص) کو برا بھلا کہو اور گالیاں دو ورنہ تم اسی جگہ ختم کردیئے جاؤگے_

ابوجہل کے حکم پر وحشی اور بھیڑ یا صفت انسانوں نے اس ایماندار اور بے یار و مددگار گھرانہ پر حملہ کردیا اور تا زیانوں، مکوں اور لاتوں سے انہیں مارنا شروع کردیا اتنا مارا کہ ان کا بدن لہو لہان ہوگیا اور وہ نڈھال و بے ہوش ہوکر زمین پر گرپڑے لیکن اس کے باوجود جب انہیں ہوش آیا تو ''اللہ اکبر'' کا کلمہ ان کی زبان پر جاری تھا اور زخمی و خون آلود چہرے سے کہہ رہے تھے_

اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد رسول الله

پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں کو باندھ دیا گیا اور ان کے بدن

۱۳۸

تپتے ہوے پتھروں اور گرم ریت پر ڈال کر ان کے سنیوں پر بڑے اور بھاری پتھر رکھ دئے گئے ان پیاروں کے بدن گرم ریت اور حجاز کی جلتی دھوپ میں جل رہے تھے، پگھلے جا رہے تھے لیکن ان کی تکبیر اور شہادت کی آواز اسی طرح سنی جارہی تھی:

تم سے جتنا ہوسکتا ہے ہمیں آزار و تکلیف پہنچاؤ ہم نے اللہ تعالی کا راستہ دلائل سے پالیا ہے اور اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں اور کبھی بھی اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تم ہمارے ایمان تک پہنچ نہیں سکتے صرف ہمارے بدن کو ایذا پہنچا سکتے ہو ہم خدا پر ایمان لے آئے ہیں تا کہ وہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں آخرت کے بلند درجات میں جگہ عنایت فرمائے اور آخرت کا اجر و ثواب ہمیشہ رہنے والا ہے_

عمّار کے وال اسی ظلم و تشدد کے سبب شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوگئے اور مسلمانوں کو اپنے صبر و استقامت سے دینداری اور صبر کا درس دے گئے_

سميّہ سے جو اپنے شوہر کی شہادت کو دیکھ رہی تھیں کہا گیا کہ محمد(ص) کو برا بھلا کہو اور گالیاں دو سميّہ نے جواب دیا:

ہم نے اپنا راستہ پالیا ہے اور حضرت محمد(ص) پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کی رہبری کو قبول کرلیا ہے

۱۳۹

ہم ہرگز اپنے مقصد سے دستبردار نہیں ہوں گے

ابوجہل نے جو اس بزرگ خاتوں کے منہ توڑ جواب سے ناچار ہوگیا تھا اور غصّہ کی شدّت میں پیچ و تاب کھا رہا تھا اپنے نیزے کو اس طرح اسلام کی اس بزرگ خاتون پر مارا کہ وہ زمین پر گر گئیں اور اسی حالت میں ''اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ کہتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملیں اور شہادت کے بلند مرتبہ پر فائز ہوگئیں، سميّہ اسلام کی پہلی خاتون ہیں جو اسلام کے راستے میں شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں_

عمّار کے ماں باپ شہد ہوگئے لیکن پھر بھی گا ہے بگا ہے آپ کو ایذا پہنچائی جاتی تھی برسوں تکلیفیں و ایذائیں سہنے کے بعد وہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے وہاں رہ کر مجاہدین اسلام کی صفوں میں شامل ہوکر دشمنوں سے جنگ کرتے تھے_ پیغمبر خدا(ص) کی وفات کے بعد جناب عمّار امیرالمومنین (ع) کے باوفا دوستوں میں شمار ہوتے تھے آپ کے ساتھ جنگ میں شریک ہوتے تھے یہاں تک کہ صفنین کی جنگ میں بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہاد ت پر فائز ہوگئے_

بے شمار درود و سلام ہو آپ پر اور آپ کے ماں باپ پر اور اسلام کے تمام شہداء پر کہ جو خدائے واحد پر ایمان کے راستے میں پائیدار اور ثابت قدم رہے اور ذلت و خوادری کو قبلو نہ کیا اور جاہلیت کے طور طریقوں کی طرف نہ پلٹے اور ظلم و ستم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور ظالموں کی حکومت اور ولایت پر خدا کی حکومت اور ولایت کو ترجیح دی_

۱۴۰