‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد ۴

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 254

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 254
مشاہدے: 16910
ڈاؤنلوڈ: 1122


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 254 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 16910 / ڈاؤنلوڈ: 1122
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدچہارم) جلد 4

مؤلف:
اردو

سوچئے اور جواب دیجئے

۱) ___ سورج کے کرّہ کا حجم زمین کے حجم سے کتنا زیادہ ہے؟ سورج کی سطح کا درجہ حرارت کتنا ہے؟

۲)___ سورج کی اتنی حرارت او رگرمی کے باوجود کرہ زمین کیوں نہیں جلتا؟ سورج زمین سے کتنے فاصلے پر ہے؟

۳)___ اگر سورج کا زمین سے اتنا فاصلہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ مثلاً اگر آدھا فاصلہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ او راگر دوگنا فاصلہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

وضاحت کیجئے؟

۴) ___ سورج کا زمین سے او رموجودات زمین سے ارتباط کیا بتاتا ہے؟

۵)___ کائنات میں پائے جانے والے گہرے حساب و کتاب اور نظم و ضبط کا مشاہدہ کس طرح خالق عظیم اور دانا و توانا کی طرف راہنمائی کرتا ہے؟

۶)___ ایک انسان کی بہترین اور بلند پایہ حالت کس وقت ہوتی ہے؟

۷)___ زمین کی طبعی حرکت کو بیان کیجئے اور اس حرکت کا نتیجہ انسانوں کیلئے کیا ہوتا ہے بیان کیجئے اور وضاحت کیجئے کہ اگر زمین کی یہ طبعی حرکت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟

۸)___ اس سبق میں بیان کی گئی آیت قرآن کو زبانی ترجمہ کے ساتھ یاد کیجئے؟

۲۱

ہر موجود کی علّت ہوتی ہے

درخت کے پتّے آہستہ آہستہ حرکت کر رہے ہیں_ اگر سوال کیا جائے کہ درخت کے پتّے کیوں حرکت کر رہے ہیں اور پتّوں کے حرکت کرنے کا سبب کیا ہے؟

تو جواب ہوگا:

ہوا پتّوں کو حرکت دیتی ہے_ پتّوں کے حرکت کرنے کا سبب ''ہوا'' ہے اگر ہوا نہ چلے تو پتّوں کی حرکت بھی ک جائے_ بالفاظ دیگر ہوا کا وجود پتّوں کے حرکت کرنے کی ''علّت'' ہے_ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پتّوں کی حرکت ''معمولی'' ہے اور ہوا ''علّت'' ہے_

''معمول'' اسے کہا جاتا ہے جو ''علّت'' کے ذریعہ سے وجود میں آئے _ اسی لئے اسے معلول کہا جاتا ہے_

آپ کے سامنے درخت سے ایک سرخ سیب زمین پرگرتا ہے_ آپ جھک

۲۲

کر اسے زمین سے اٹھا کر سونگھتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ:

یہ سیب درخت سے کیوں گرا؟ اس کے گرنے کی علّت کیا تھی؟

زمین کی کشش ثقل، سیب کو اپنی طرف کھینچی ہے_ سیب کے گرنے کی ''علّت'' کشش ثقل ہے_

یہاں اس سلسلہ میں دو چیزیں ہیں_ ایک ''سیب کا گرنا'' اور دوسرا ''زمین کی کشش ثقل''_ کشش ثقل ''علّت'' ہوگی اور سیب کا گرنا ''معلول'' ہوگا_

اگر دیوار سے ٹیک لگائیں تو آپ اپنی پشت پر گرمی محسوس کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ دیوار کیوں گرم ہوگئی ہے؟ دیوار کے گرم ہونے کی علّت کیا ہے؟

آپ کا دوست کہتا ہے کہ مجھے علم نہیں_ آپ اٹھ کر کمرے سے باہر جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دیوار کے پیچھے ایک بڑی سیاہ دیگ کے نیچے آگ جل رہی ہے_ آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ دیوار کے گرم ہونے کی ''علّت'' یہ آگ تھی_

یہاں بھی دو چیزیں موجود ہیں جو ایک دوسرے سے واسطہ رکھتی ہیں_ ایک دیوار کی گرمی اور دوسرے آگ کا وجود_ دیوار کی گرمی آگ کی وجہ سے ہے_ یعنی اگر آگ نہ ہوتی تو دیوار گرم نہ ہوتی_ اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آگ کا وجود ''علّت'' ہے اور دیوار کی گرمی اس کا ''معلول'' ہے_ علّت اور معلول کے درمیان مکمل رابطہ پایاجاتا ہے جب تک علّت نہ ہوگی معلول وجود میں نہیں آئے گا_ معلول ہمیشہ علّت کے ذریعہ وجود میں آتا ہے_

انسان اپنی زندگی کے آغاز سے ہی اس روشن حقیقت سے واقف ہے او رجانتا ہے کہ کائنات میں پائی جانے والی مختلف چیزوں کا ایک دوسرے سے ایک خاص تعلق ہوتا ہے___؟

۲۳

اور ____ کائنات کی یہ موجودات اپنے وجود و زندگی کے لئے ایک دوسرے کی محتاج ہیں_

چند مثالیں اور تجربات

اپنا ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھایئے

ہاتھ کو بڑھانا آپ کا کام ہے اور آپ اس کام کی علّت ہیں_ اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کام انجام نہیں پاسکتا تھا_

اسی طرح نگاہ اٹھا کر اپنے دوست کی جانب دیکھئے

یہ دیکھنا وہ کام ہے جو آپ انجام دے رہے ہیں_ بالفاظ دیگر آپ دیکھنے کی علّت ہیں_ یہ کام یعنی دیکھنا آپ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کام کے لئے آپ کا ہونا ضروری ہے_ اگرآپ نہ ہوں تو دیکھنے کا یہ عمل انجام نہیں پاسکتا لہذا آپ ''علّت'' ہیں اور آپ کا کیا ہوا کام ''معلول''_ اس طرح یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ ''معلول'' کا وجود ''علت'' کا محتاج ہے اور بغیر علّت کے معلول وجود میں نہیں آسکتا_

آپ اپنے دوست کی بات سنتے ہیں_

یہ سننا آپ کا کام ہے اور آپ کے وجود سے تعلق رکھتا ہے اگر آپ کا وجود نہ ہو تو آپ اپنے دوست کی بات نہیں سن سکتے_

آپ اپنے دوست سے محبت کرتے ہیں_

یہ محبت کرنا بھی آپ کے وجود کا محتاج ہے_ کیونکہ اگر آپ نہ ہوں

۲۴

تو آپ محبت بھی نہیں کرسکتے____ کیا ایسا نہیں ہے___؟

آپ کائنات میں پائی جانے والی بہت سی چیزوں کا علم رکھتے ہیں_

آپ کا یہ علم و دانش آپ کے وجود سے وابستہ ہے_ اگر آپ نہ ہوں تو وہ علم و دانش کہ جو آپ کے وجود کا معلول ہے وہ بھی نہ ہوتا_ آپ اپنے اور اپنے علم و محبت اور اپنے ارادے کے ساتھ ایک خاص وابستگی کو محسوس کرتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس طرح آپ کے علم اور محبت اور ارادے کا وجود آپ کے وجود کے ساتھ مربوط اور آپ کے وجود کا محتاج ہے_

آپ حرکت کرتے ہیں، کوئی چیز لکھتے ہیں، راستہ چلتے ہیں، بات کرتے ہیں، سوچتے ہیں، سمجھتے ہیں، جانتے ہیں ارادہ کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں_ یہ سب آپ کے کام ہیں اور آپ ان کے وجود کی علّت ہیں اور انہیں وجود میں لاتے ہیں_ اور اگر آپ نہ ہوتے تو یہ کام بھی وجود میں نہ آتے_ ان کاموں کا موجود ہونا آپ کے وجود محتاج ہے اور اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ تمام کام ''معلول'' ہیں اور آپ ان کی ''علّت'' ہیں_ وہ خاص ربط جو ان کاموں کا آپ کے وجود کے ساتھ برقرار ہے اسے علّت کہا جاتا ہے_

انسان علّت کے مفہوم کو اچھی طرج جانتا ہے _ وہ ابتداء زندگی سے ہی اس سے آشنا ہے_ اور اس سے واسطہ رکھتا ہے_ مثلاً پیاس بجھانے کے لئے پانی تلاش کرتا ہے اور بھوک مٹانے کے لئے غذا ڈھونڈتا ہے_

کیا آپ، جانتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے___؟

یہ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ پیاس بجھانے کی علّت پانی ہے، وہ بھوک ختم کرنے کی علّت غذا کو سمجھتا ہے_ کیوں سردی کے

۲۵

وقت آگ کے نزدیک پناہ لیتا ہے_ اس لئے کہ آگ کو گرمی کی علّت جانتا ہے اگر کوئی آواز سنتا ہے تو اس کی علّت کی جستجو کرتا ہے____ کیوں؟

اس لئے کہ ہر موجود علّت کا محتاج ہے (انسان)_ بجلی جلانے کے لئے بٹن دباتا ہے، بیماری دور کرنے کے لئے دوا حاصل کرتا ہے_ اپنی بات کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے بولتا ہے_

قانون علّت، ایک عالمگیر او رکلی قانون ہے اور تمام انسان اس کے مفہوم سے آگاہ ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں_ تمام لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور زندگی کو اس پر استوار کرتے ہیں_ تمام لوگ اسے قبول کرتے ہیں اور زندگی کو اس پر استوار کرتے ہیں_ اگر انسان علّت کو نہ سمجھتا اور اس پر یقین نہ رکھتا تو اس کے لئے زندگی گزارنا ممکن نہ ہوتا اور کسی کام کی انجام دہی کے لئے اقدام نہ کرپاتا_

انسان نے قانوں علّت کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے، اسی لئے ہر موجود کے لئے اس کی علّت کی جستجو کرتا ہے_

کیوں کہتا ہے کہ پتّوں کی حرکت کا سبب کیا ہے؟

کیوں سیب درخت سے گرتا ہے؟

اسی قانون علّت کی بنیاد پر انسان مختلف قسم کی پیش گوئیاں، کرتا ہے کیونکہ وہ قانون علّت کو قبول کرتا ہے اسی لئے ہر علّت کے نتیجہ امیں ایک خاص موجود و معلول کی توقع رکھتا ہے_ سورج سے روشنی، آگ سے گرمی، پانی اور غذا سے بھوک اور پیاس کے دور کرنے کی امید رکھتا ہے_

قانون علّت ''جیسے کہ آپ کو علم ہوچکا ہے'' یہ بتاتا ہے کہ ہر موجود کا کسی دوسری چیز سے ربط ہے اور وہ اسکا محتاج ہے کہ جسے علت کا نام دیا جاتا ہے مثلاً دیوار کا گرم ہونا ایک

۲۶

نئی چیز کا وجود تھا کہ جس اپنے گرمی دیوار کے پیچھے سے جلائے ہوئی آگ سے حاصل کی تھی ہمیشہ معلول کا وجود علّت کے وجود ظاہر ہوتا ہے اور علت کا محتاج ہوتا لیکن علت کو معلول کی احتیاج نہیں ہوتی

سوال :

اب ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ اس کائنات اور جو کچھ اس میں موجود ہے اس کی علّت کیا ہے؟ زمین اور آسمان اور سورج اور ستاروں کے وجود کا سرچشمہ کیا ہے___؟ یہ کائنات بھی ایک وجود ہے اور دوسرے چھوٹے بڑے موجودات کی طرح کسی چیز سے وابستہ اوراپنے وجود کے لئے محتاج ہے ___ یہ کس سے وابستہ اور کس کی محتاج ہے؟ اس کے وجود کی علّت کیا ہے؟ وہ کون سا غیر محتاج و بے نیاز وجود ہے کہ جس نے اس محتاج کائنات کووجود بخشا ہے ؟ اس جہان کے وجود کی علّت کیا ہے؟

انسان کی عقل اور وجدان کہ جس نے قانون علّیت کو ایک ضابطہ اور فارمولے کے طور پر قبول کر لیا ہے جو قادر اور توانا ہے _ جس نے اسے اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے اور اسے چلارہا ہے اور اس کی عظمت و قدرت تمام جہان پر سایہ فگن ہے_

یہ کائنات اسی سے وابستہ اور اسی کی محتاج ہے_ اس جہان کا سرچشمہ اور علّت وہی ہے_ وہ اس کائنات کا قادر و توانا اور بے نیاز خالق ہے___ وہ خدا قادر مطلق ہے ہستی دینے والا خدا ہے جو جہان کو

۲۷

ہستی اور وجود کا نور عطا کرتا ہے_ اور ہر لحظہ اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہے وہ عالم اور قادر ہے_ اس نے یہ کائنات خلق کی _ اس میں نظم و ضبط و ہم آہنگی کو وجود بخشا اور اسے چلارہا ہے _ یہ وہ ذات ہے جو ہر لحظہ ہمارے وجود کی ضروریات کو پورا کرتی ہے اور اپنے لطف و کرم کے چشمے سے سیراب کرتی ہے

ہم اس کے بندے اور محتاج ہیں اور اس کی قدرت اور عظمت کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے اس کے فرمانبردار ہیں_

اس کی بے اتنہا اور مسلسل نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اور اس کے فرامین اور راہنمائی کواپنی زندگی کے لئے مشعل راہ قرار دیتے ہیں_

آیت قرآن

( انّ الله یمسک السّموت والارض ان تزولاه و لئن زالتا ان امسکهما من احد من بعده)

سورہ فاطر ۳۵_ آیت ۴۱

'' یقینا خدا ہے کہ جس ن زمین اور اسمان کو بر قرار رکھا ہے تا کہ نابود نہ ہوجائے اور خدائے تعالی کے علاوہ کوئی بھی نہیں جواسے نابودی سے بچا سکے ''

۲۸

سوچیے اور جواب دیجیے

۱_ علّت اور معلول کے درمیان کیا تعلق ہے؟ ان میںسے کون دوسرے سے وابستہ اور اس کا محتاج ہوتا ہے___؟

۲)___ معلول کسکے وجود کا نتیجہ ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی موجود بغیر علّت کے وجود میں آسکے___؟

۳)___ اس سبق میں جن ''معلولوں'' کا ذکر ہوا ہے، ان کے ساتھ ان کی علّت تحریر کریں___؟

۴)___ علت اور معلول کے درمیان ربط کو کیا نام دیا جاتا ہے؟کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان قانون علّیت کے مفہوم کو نہ جانتا ہو، اور اس کا اسے یقین نہ ہو___؟ اس کی وضاحت کیجئے ___؟

۵)___ قانون علّیت ایک کلّی ضابطہ ہے؟ وضاحت سے بیان کیجئے___؟

۶)___ انسان جب ''کیوں، کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس سے کیا سمجھا جاتا ہے___؟

۲۹

بڑے آبشار کا سرچشمہ

درختوں سے گھرے ہوئے فلک بوس پہاڑی درّے سے اس بلند اور خوشنما آبشار کا نظار ہ کیجئے_ آہا کیسا حسین منظر ہے_

کاش کسی چھٹی کے دن دوستوں کے ساتھ مل کر اس بلند اور خوشنما آبشار کو دیکھنے کے لئے وہلاں جاتے اور بید کے درختوں کے سائے میں ''جو اس ندی کے کنارے پر موجود ہیں'' بیٹھ کر اس دل فرب نظارے کو دیکھتے ، صاف ٹھندی اور فرحت بخش ہوا سے لطف اندوز ہوتے_ آبشار کے صاف و شفاف پانی میں نہاکر تھکان دور کرتے اور روح کو تازگی بخشتے_

سچ آبشار کا یہ زور و شور سے جھاگ اڑاتے نیچے گرنا کتنا خوبصورت، روح پر ور اور قابل دید ہے_

جب اسے دور سے دیکھتے ہیں تو ایک بلند وبالا چاندی کے ستون کی طر ح

۳۰

نظر آتا ہے کہ جو مضبوطی کے ساتھ سیدھا کھڑا ہے_ لیکن جب اس کے نزدیک پہنچتے ہیں تو تندوتیزپانی کابہاؤ نظر آتاہے جوتیزی اورجوش سے شور مچاتا،جھاگ اڑاتا اور موجیں مارتا ہوا نیچے گر رہا ہے_ اورہر لمحہ پانی پہاڑ کی بلندی سے تیزی کے ساتھ نیچے ندی کے ہموار بستر پر گر کر انگڑائی لیتا ہوا آگے کی طرف بہنے لگتا ہے_

اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سفید اور بلند ستون جو دور سے سیدھا کھڑا ہوا دکھائی دے رہا تھا وہ ایک لمحہ کے لئے بھی ٹھہرا ہوا نہیں ہے، بلکہ حرکت میں ہے اور ہر لمحہ پانی کا ایک نیار یلا اس آبشار سے گرتا ہے، گویاہر ہرلمحہ ایک نیا آبشار وجود میں آتاہے_

آبشار کی یہ روانی اورہرآن نئے وجود سے آپ کے ذہن میںایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس آبشار کاسرچشمہ کہاں ہے___؟

اس آبشاار کے وجود میںآنے کی علّت کون سا سرچشمہ ہے___؟

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر موجود کے لئے کسی نہ کسی علّت کا ہونا ضروریہ ہے_لہذا یقینا یہ آبشار بھی کہ جومسلسل بہہ رہا ہے اور ہر لمحہ ایک نئے وجود کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے اس کے لئے بھی علّت و سرچشمہ کا وجود ضروری ہے_ لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ سرچشمہ اورعلّت کیا ہے اورکہاںہے_

اس واضح مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اس کائنات اور اس میںپائی جانے والی موجودات پرنظرڈالیں توکیادیکھیںگے___؟

کیا یہ ایک ایسامجموعہ ہے جوایک جگہ ٹھہرااورکھڑاہواہے___؟

یاپھر ایسامجموعہ ہے جو مسلسل گردش میں ہے اور چل رہا ہے___؟

سورج کے نکلنے کو دیکھیئےور اس کے شفق رنگ غروب ہونے پرنظر

۳۱

ڈالئے___ سورج کے نکلنے سے دن روشن ہوجاتا ہے_ اور اس کا ہر لمحہ نیا پیدا ہوتا ہے اور ساعت بہ ساعت گزرتا ہے_ غروب کے وقت دن ختم ہوجاتا ہے اور رات نمودار ہوتی ہے_ رات بھی ایک لحظہ کے لئے نہیں رکتی اور مسلسل گردش میں رہتی ہے_ یہاں تک کہ طلوع آفتاب تک پہنچ جاتی ہے گرمی، سردی، بہار اور خزال کے موسموں کو دیکھئے_ سردی کی نیند میں سوئے ہوئے پیڑ اور پودے بہار کی خوشگوار ہوا سے بیدار ہوتے ہیں_ کو نپلیں پھوٹنے لگتی ہیں پھر شگوفے اپنی بہار دکھاتے ہوئے اوربتدریج سفر طے کرتے ہوئے خوش رنگ پھولوں اورلذیذ پھلوںمیں تبدیل ہوجاتے ہیں_

بہارجاتی ہے اورخزاں آپہنچتی_درخت اپنے سرسبز وشاداب پتوں سے محروم ہوجات ہیں، زرد اورپمردہ پتّے درختوں کی ٹہنیوں سے زمین پرر گرپڑتے ہیں_ آج کی آمد سے گزری ہوئی کل کا نشان تک باقی نہیں رہتا_

موسم سرما کی آمد، گرمی اورجہاد کوبھلادیتی ہے_ پس ساری چیزیں حرکت اورتغیر میں ہیں_ذرا اور نزدیک آیئےورقریب سے دیکھئے کیا یہ عالم رنگ و بو ایک ساکت اورٹھہرا ہوامجموعہ نظر آتاہے___؟ یا ایک بلند آبشار کی طرح مسلسل متغیر اورہرلمحہ حرکت پذیر کارخانہ قدرت___؟

دورترین کہکشاں سے لے کر یہ چھوٹاسا ذرّہ جو آپ کے نزدیک پڑا ہے تمام کے تمام ایک حیران کن تغیر اور گردش میں ہیں اوراپنی مسلسل حرکت کوجاری رکھتے ہوئے عجیب و غریب اورنئی صورتیں پیدا کر رہے ہیں_ سورج، چاند، ستارے، پانی، مٹی، دن،رات،سال، مہینے، بادل، ہوا، بارش

۳۲

سب ایک بلند آبشار کی طرح حرکت کرنے میں مشغول ہیں_ تمام ایک زنجیر کے مختلف حلقوں کی طرح آپس میں مربوط ایک ہدف اور مقصد کے حصول کے لئے کوشاں ہیں_

ہر لمحہ موجودات کا وجود میں آنا اورتغيّر وحرکت میں رہنا ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے اوروہ یہ کہ اس کائنات کے بلندآبشار اوراس میں موجودات کا سرچشمہ کون ہے___؟ اس آبشار کے وجود میںلانے کی علّت کا سرچشمہ کون ہے؟ اس کا کیا جواب دیا جاسکتا ہے___؟

کیا یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس وسیع کائنات کے مختلف موجودات جو آپس میں مربوط اور ایک بلند آبشار کی طرح ہیں بغیر کسی علّت کے وجود میں آئے ہیں

انسانی فطرت کہ جو معمولی سی چیز کے وجود میں آنے کے لئے بھی علّت کی قائل ہے اس جواب کوہرگز پسندنہیں کرے گی بلکہ وہ ضروربالضروراس جہان ہستی کے موجودات کے لئے کوئی نہ کوئی علّت معلوم کرنا چاہے گی اوراس بلند وبالاآبشار کے لئے بھی طاقتور سرچشمہ کی جستجو کرے گی_ ایسی علّت کی کہ جواس کائنات کی تمام چھوٹی بڑی موجودات کا سرچشمہ ہو اور جس نے اپنے بے انتہا علم و قدرت کے ذریعہ اس عجیب و غریب نظام اورایک دوسرے سے مربوط اورایک مقصد کی جانب گامزن موجودات پیدا کیاہوااوران کو چلارہاہو_

انسان کی فطرت میںجوعلّت کی جستجو رکھی گئی ہے وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقرار کرے ی کہ اس جہان کے وجود (جومسلسل اورہر آن ایک نئی چیز وجود میں لارہاہے) کی علّت ایک عظیم، طاقتور اوربے نیازخالق ہے جس نے اپنے بے پناہ علماورقدرت و توانائی سے اسی جہان اوراس میں جانے والے تمام موجودات

۳۳

کوپیدا کیاہے اور ا ن کی ایک معيّن و معلوم ہدف اورغرض کی طرف رہنمائی وہدایت کر رہاہے_ وہ خالق اس ہستی اور وجود کے بلند آبشار کاسرچشمہ ہے اوراپنے علم وتدبیر سے اسے رواںدواںرکھے ہوئے ہے_ اس جہان کا ہر ایک وجود اورہر ایک ذرّہ اپنے وجود میں اس کامحتاج ہے لیکن وہ ان میں سے کسی کامحتاج نہیں ہے اور کوئی بھی چیز اسکی مانند اورمثل نہیں ہے_

سبب وعلّت کی متلاشی عقل اچھی طرح جانتی اورمحسوس کرتی ہے کہ کائنات اوراس کے تمام موجودات ایک بلند اور خوبصورتن آبشار کے مانند ہیں کہ جو خود سے کچھ بھی نہیں بلکہ ہرہرقطرہ اورہرہر ذرّہ کاسرچشمہ قدرت کاایک لامحدود مرکز ہے_

تمام موجودات اسی ذات کے معلول ہیں اوراسی سے اپنے وجود کارنگ لیتے ہیں_ اسی ذات کے نور اورروشنی سے یہ روشن اورظاہر ہوتے ہیں_

یہی علّت کی متلاشی انسانی عقل اسے دعوت دیتی ہے کہ اس لامحدود قدرت کے مرکز کو پہچانے اور اس سے زیادہ سے زیادہ واقف ہو کیونکہ تمام اچھائی اورخوبی اسی سے ہے اور انسان کو اسی کی طرف لوٹنا ہے_

اگر انسان غور کرے اور کائنات کی تمام موجودات کا اچھی طرح مطالعہ کرے تو صاف طورسے مشاہدہ کرے گا کہ تمام کائنات اورجوکچھ اس میںہے صرف ایک وجود اوربے پناہ قدرت وحیات پرتکیہ کئے ہوئے ہے اور اسی کی مہرومحبت کے سرچشمہ سے وجود اورحیات حاصل کر رہا ہے_ اسی فکر و بصیرت کے سایہ میں انسان کاقلب ہرچیز سے بے نیاز ہوکرصاف اورصرف اس ذات سے پیوستہ ہوجاتا ہے اوراسکی عظمت وکبریائی کے علاوہ کسی اور کے سامنے اس کا سرنہیں جھکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دوسروں کے پاس جو کچھ بھی ہے سب اسی ذات کا عطا کیاہواہے،

۳۴

لہذامخلوقات خدا نے لگا ہیں پھیر کر وہ اپنال دل صرف اسی سے لگالیتا ہے جو علم و قدرت، رحمت و خلقت کا سرچشمہ ہے اوراپنے آپ کوعظیم خالق کائنات اورپروردگار عالم کی حکومت و سرپرستی میں دے دیتا ہے_ سوائے اس کی رضا کے کسی دوسرے کی رضال نہیں چاہتا،سوائے اس کی قدرت کے کسی اورکی قدرت کونہیں مانتا_

اولیاء اورانبیاء خدا کی رہنمائی ورہبری میں خدا کے احکامات کوتسلیم کے ان پر عمل کرتا ہے_ اپنے پاکیزہ اخلاق اور نیک اعمال کے ساتھ اس کے تقرب اور محبت کے راستے پر چلتا ہے اور اس طرح انسانیت کے کمال کے آخری درجہ تک پہنچ جاتا ہے_ حقیقی کمال اور دنیا و آخرت کی سعادت کو حاصل کرلیتا ہے کہ جس کی عظمت اور زیبائی ناقابل تعریف ہے_

آیت قرآن

( انی الله شكّ فاطر السّموت والارض)

( سورہ ابراہیم ۱۴_آیت ۱۰)

کیا خدا میں بھی شک کیا جاسکتا ہے؟ وہ ہے کہ جس نے زمین اورآسمانوں کو پیدا کیاہے

سوچیے اورجواب دیجئے

۱) ___آبشار کس طرح وجود میں آتاہے؟ کیایہ ایک ثابت اور غیر

۳۵

متحرک وجود ہے یا ایک متغیر ومتحرک وجود ہے؟

۲) اگر آبشار کے ہرلحظہ نئے وجود کودیکھا جائے توذہن میں کیاسوال ابھرتاہے؟

۳) جب کائنات اوراسکے موجودات کودیکھا جائے تو اس میں کیانظر آتا ہے؟کیا وہ ایک ثابت اور ساکت مجموعہ ہے؟ یاایک متغیر اورحرکت کرنے والامجموعہ؟ وضاحت کیجئے؟

۴) اس کائنات کے ہمیشہ متحرک اورمتغیر ہونے کی کوئی مثال بیان کیجئے؟

۵) جب کائنات میں تغیر اور نیا وجود دیکھیں تو اس سے دذہن میں کیا سوال اٹھتا ہے؟

۶) کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس وسیع کائنات کے موجودات بغیر علّت کے وجود میں آئے ہیں؟ اگر نہیں توکیوں؟

۷) انسان کی علّت کی متلاشی فطرت اس عجیب نظام اورموجودات کے آپس میں ارتباط اورباہدف ہونے سے کیاسوچے گی؟

۸) اس وجوداوربلند ہستی کے آبشار کا سرچشمہ کون ہے؟

۹) اس حقیقت کو پالینے کا نتیجہ کہ ''اس کائنات کا سرچشمہ خدا ہے'' کیا ہے؟

۱۰) کیوں ایک خداشناس اور خداپرست انسان خدا کے آگے سرتسلیم خم کردیتا ہے اوراس کی حکومت و سرپرستی کو قبول کرلیتا ہے؟

۳۶

خداشناسی کی دودلیلیں

دلیل اس عمدہ اور واضح بیان کوکہاجاتا ہے جس سے کسی بات کو ثابت کیا جائے اور اس سے متعلق نا واقفیت اور شک کو دور کیا جائے_ نیز اس قسم کے بیان کواصطلاح میں ''برہان'' کہا جاتا ہے_

ہم اب تک خداشناسی کے لئے دو دلیلوں سے واقف ہیں کہ جن میںسے ایک کو ''دلیل نظم'' اوردوسرے کو ''دلیل علّیت'' کہا جاتا ہے_ لہذا اب ہم ان دونوں دلیلوں پر تحقیق و جستجو اوران کا آپس میںتقابلی تجزیہ کرتے ہیں_

۱)دلیل نظم

خداشناسی کے بحثیں جو اس کتاب کی ابتداء میں اوراس کتاب کے سابقہ حصوں

۳۷

میں آپ نے پڑھی ہیںتمام اسی دلیل نظم کی بنیادپرتحریرکی گئی ہیں_

مثلاً گزشتہ کتاب میں جب ہم اپنے بدن کے نظاموں میںسے ایک کے متعلق مطالعہ کر رہے تھے تو ہم نے پڑھا تھا کہ:

اس نظام میں جس حیرت انگیز نفاست سے کام لیا گیا ہے اس پراچھی طرح غور و فکر کیجئے اورخون کی گردش کے سلسلہ میں گردہ اورمثانہ کے در میان پائے جانے والے گہرے ارتباط اورنظم و ضبط پر فکر انگیز نگاہ ڈالئے_

آپ کیا دیکھتے ہیں___؟

کیا ایک با مقصد اورمنظم مجموعہ___؟

یاایک بے مقصد اورغیر منظم مجموعہ___؟

اس نہایت نفیس اہم عضواور اس حساس مجموعہ کے مشاہدہ سے آپ کے ذہن میں کیا خیال آتاہے___؟

اس کی تخلیق میں پائے جانے والے باریک حساب وکتاب اوراس کی ساخت میں جس تناسب و ارتباط اورہم آہنگی سے کام لیا گیا ہے اس سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

آیا آپ کواس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ یہ گہرا اورمنظم نظام (اور ہمارے بدن کے دوسرے نظام) خودبخود اوربغیر کسی حساب و کتاب کے وجود میں نہیں آئے گا___؟

آیا ممکن ہے کوئی عقل و شعور رکھنے والا انسان یہ بات تسلیم کرے کہ ساکت و بے شعور طبیعت (مادّہ) نے یہ حیرت انگیز نظام پیدا کیا ہے؟ ہرگز نہیں___؟

بلکہ ہر عقل و باشعور انسان یہ اقرار کرے گا کہ ایک دانا اور توانا

۳۸

ہستی اس کی خالق وبنانے والی ہے اور اس کے بنانے میں اسی کا کوئی مقصد وہدف ہے_ اس بنیاد پرعقل وفہم رکھنے والے ہر انسان کا ایمان ان حیرت انگیز چیزوں کے مشاہدہ سے ایک عظیم خال عالم وقادر کے وجود پر مزید مضبوط ہوجاتا ہے اوراس کی شان وشوکت،قدرت اور لامحدود نعمتوں کے آگے اس کا سرتسلیم خم ہوجاتاہے_

خداشناسی کے متعلق جس دلیل کا آپ نے مندرجہ بالا سطورمیں مطالعہ کیا اسے دلیل نظم کہاجاتا ہے_ یعنی کائنات میں پائے جانے والے موجودات کودیکھ کراوران کے ہر ذرّہ میں نظم و ہم آہنگی، گہرے حساب اور درست تناسب کے مشاہدہ سے نتیجہ اخذکیاجاتا ہے_ کہ اس منظم اور مربوط نظام کی خالق اورپیدا کرنے والی اکی ایسی عالم وقادرہستی ہے جس نے اپنے علم اورقدرت سے ایسا عجیب وغریب نظم و ربط پیدا کیا ہے_ کیونکہ اگراس نظام کاخالق، جاہل اورناتواں ہوتا تو اس کے کام کا نتیجہ سوائے بے نظمی اور بے ربطی و بے حسابی اور بے مقصدی کے اور کچھ نہ ہوتا_

دلیل نظم کو مختصراً یوںبیان کیا جاسکتا ہے کہ:

عالم خلقت مکمل نظم وترتیب اور ہم آہنگی و ارتباط مبنی ہے اور ہر نظم وترتیب اورہم آہنگی وتناسب ایک دانا وتوانا کا کام ہوتا ہے_ پس یہ جہان بھی ایک داناو توانا خالق کی مخلوق ہوگا_

اس دلیل یعنی دلیل نظم میں پہلے اجزاء کائنات میں پائے جانے والے نظم وہم آہنگی اور حساب و کتاب وتناسب پرتوجہ کی جاتی ہے اورپھر اس اصول پریقین کے ساتھ کہ ''نظم وتناسب کسی عالم ودانا کا محتاج ہے'' یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیںکہ

۳۹

کائنات میں یہ جو عظیم نظم و ہم آہنگی قائم ہے اس کی خالق ایک دانا وتواناہستی ہے_

۲) دلیل علّیت

اس سے پہلے دو سبق جن کا آپ نے مطالعہ کیا وہ دونوںدلیل علّیت کی بنیادی پرتحریر کئے گئے ہیں_ دلیل علّیت میں کائنات کے اجزا کے درمیان پائے جانے والے نظم و ہم آہنگی کامطالعہ نہیں کیا جاتا بلکہ موجودات کی ذات وہستی پر نگاہ ڈالی جاتی ہے_

اوروہ خاص احتیاج جو ہر موجود علّیت کے سلسلہ میں رکھتا سے اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے_

قانون علّیت کی بنیاد پر کہ جس پرانسان مضبوط یقین رکھتا ہے ہم بحث کو اس طرح پیش کرتے ہیں:

'' ہر موجود جو وجود میں آتا ہے اس کا وجود خود اپنا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی دوسری چیز سے وابستہ اور اس کامحتاج ہوتا ہے کہ جسے ''علّت'' کہا جاتا ہے_

یہ کائنات بھی جو مختلف موجودات کا مجموعہ ہے، لازماً اس کی بھی کوئی علّت ضرور ہے_ اس کائنات کے موجودات کوئی نہ کوئی سرچشمہ رکھتے ہیں، ایک عظیم طاقتور اور بے نیاز خالق رکھتے ہیں، وہی اس بلند آبشار ہستی کا سرچشمہ اور علّت ہے_ اس ہستی کا ہر ایک قطرہ، ہر ایک ذرّہ اور ہر ایک وجود اپنی پیدائشے میں اس کا محتاج ہے لیکن وہ کسی کا محتاج اور کسی کا ہم مثل نہیں_

اگر انسان خوب غورکرے تو وہ واضح طور پرمشاہدہ کرے گا کہ تمام

۴۰