‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) جلد ۳

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 302

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 302
مشاہدے: 15662
ڈاؤنلوڈ: 953


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 302 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15662 / ڈاؤنلوڈ: 953
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) جلد 3

مؤلف:
اردو

بتلائیں_

اللہ تعالی کے واضح پیغام کے علم کے بغیر لوگ کس طرح صحیح زندگی کو درک کرسکتے ہیں___؟ کس طرح ایمان اور یقین کے بغیر دنیاوی و اخروی سعادت کو حاصل کرسکتے ہیں؟ واقعا کون سی ذات سوائے خداوند عالم کے لوگوں کی زندگی اور آزادی کے لئے رہنما ہوسکتی ہے؟

پیغمبروں کا سب سے اہم کام لوگوں کو ایمان کی دعوت دینا ہوتا ہے، ایک انسان کے لئے سب سے قیمتی اور عظیم ترین چیز خدائے وحدہ اور اس کے درست دعؤوں پر ایمان لانا، اس کی عبادت و پرستش کرنا اور اس ذات سے انس و محبت کرنا ہوتا ہے کیونکہ خدا کی معرفت، اس سے محبت کرنا، اس پر ایمان لے آنا اور اس کی اطاعت ہی وہ تنہا ہدف و غایت ہے کہ جس کیلئے تمام جہاں کو خلق کیا گیا اور یہی انسان کے حقیقی ارتقاء کا تنہا راستہ ہے_

پیغمبر دلائل، براہین، اسرار و رموز کے بیان کرنے اور دنیا کے عجائب کے اظہار کرنے سے انسان کی فطرت کو کہ جس میں جستجوئے خدا اور حق موجود ہوتا ہے بیدار کرتے ہیں اور زیباترین و عظیم ترین ارزش تک پہونچنے کے لئے حرکت کی راہ اور وہاں تک پہونچنے کے راستے بتلاتے ہیں_ دنیا میں نظم، ہم آہنگی و زیبائی اور شگفتی جو عالم کی خلقت میں موجود ہے، کی وضاحت کرتے ہیں تا کہ لوگ اللہ تعالی کی قدرت عظمت، حکمت و دانائی اور توانائی تک رسائی حاصل کرسکیں_

اللہ تعالی کی نعمتوں کو لوگوں سے بیان کرتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے راہنمائی کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ لوگوں کی خوابیدہ عقل کو بیدار و ہوشیار کرتے ہیں_

۱۲۱

پیغمبر اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ لوگوں کی بدبختی کا سب سے بڑا عامل اور سبب خدائے مہربان کو فراموش کردینا اور اللہ تعالی سے کفر، انکار، بے ایمانی اور مادی گری ہوا کرتا ہے_ لوگوں کا سعادت مند ہونے کا تنہا سبب اللہ تعالی پر ایمان لے آنا اور خدا کی طرف توجہ کرنا ہوتا ہے_

واقعاً جو انسان خداپر ایمان نہیں رکھتا وہ کس امید پر زندگی بسر کرتا ہے___؟ جو شخص خداوند عالم کے پیغام پر ایمان نہیں رکھتا وہ کس کے پیغام پر ایمان لاتا ہے___؟ کون سے پیغام کے سننے سے اپنے آپ کو حیرت اور سرگردانی سے نجات دیتا ہے؟ کون سے مدہ کے سننے سے اپنے اندرونی اضطراب اور مخفی پریشانی کو سکون دے سکتا ہے؟

صرف خدا پر ایمان ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کا اندرونی نوری چشمہ پھوٹ سکتا ہے اور باطنی کثافت و روحی تاریکیوں کو برطرف کرسکتا ہے اور یہی مومن کے دل کو اطمینان اور صفا بخشا ہے_ واقعا مومن اللہ کی سب سے بہترین مخلوق ہے وہ خدا اور ارتقاء کی راہ کوپالیتا ہے اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے_ مومن اپنی زندگی کا آئین پیغمبروں سے حاصل کرتا ہے اور اللہ تعالی کے دستور کے سامنے سر نیاز خم کردیتا ہے وہ اللہ سے محبت کرتا ہے، ہمیشہ اسی کی یاد میں رہتا ہے، خدا پر اعتماد کرنے میں خوش اور دل گرم رہتا ہے اور اس کی رضا کے حاصل کرنے میں دن رات کو شاں رہتا ہے_

خلاصہ خدا کے علاوہ دوسروں سے امیدوں کو قطع کر کے صرف خدا ہی سے اپنی امیدیں وابستہ رکھتا ہے، دل کی گہرائی سے خدا سے راز و نیاز کرتا رہتا ہے ، مشکلات اور احتیاجات کے دور رکرنے میں اسی سے پناہ لیتا اور اسی سے مدد مانگتا ہے_

خداوند عالم بھی ایسے مومن کو دوست رکھتا ہے، اپنی غیبی قوت اور امداد سے اس کی مدد کرتا ہے لہذا مومن کہ جس کا محبوب خدا اور خدا کا محبوب وہ خود ہے، کسی سے نہیں

۱۲۲

ڈرتا کیونکہ اس کا حامی خدا ہے لہذا تمام طوفان اورحوادث کے مقابل پہاڑوں کی طرح ثابت قدمی سے مقاومت کرتا رہتا ہے، مومن ایک آزاد انسان ہوتا ہے جو اللہ کی بندگی کو قبول کر کے طاغوتوں اور ظالمں کی بندگی، زر و جواہر اور جادہ و مقام کی پرستش سے آزاد ہوجاتا ہے، کائنات اور اس میں موجود مخلوق کو خدا کی نشانی جانتا ہے، تمام جہاں کا مدبر اور مدیر خدا کو مانتا ہے_

اس کے ارادہ کو تمام جگہوں پر نافذ مانتا ہے صرف اور صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے اور کسی دوسرے کے سامنے سر ذلت نہیں جھکاتا اور ایک جوان کی طرح ظالموں پر حملہ آور ہوتا ہے، شہادت کی آرزو کرتا ہے اور درجہ شہادت پر فائز ہوجاتا ہے_ پیغمبر، خدائی نظام اور آئین سے ایسے بزرگوار اور آزاد انسان کی جو طالب شہادت ہوتے ہیں تربیت کرتے ہیں_

قرآن کی آیت:

( الا بذکر الله تطمئن القلوب ) ____(۱)

''آگاہ ہوجاؤ کہ اطمینان، یاد خدا سے ہی حاصل ہوتا ہے''

____________________

۱) سورہ رعد آیت نمبر ۲۸

۱۲۳

سوالات

سوچیئےور جواب دیجیئے

۱) ___اس جوان کا جس نے پیغمبر اسلام (ص) کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا اس درس میں کیسے ذکر کیا گیا ہے؟

۲)___ جب پیغمبر (ص) نے اس جوان سے پوچھا کہ تونے صبح کیسے کی تو اس نے کیا جواب دیا تھا؟

۳)___ اس جوان نے اپنے ایمان اور یقین کی علامتیں کون سی بیان کی تھیں؟

۴)___ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنے اصحاب سے اس جوان کے با رے میں کیا فرمایا تھا؟

۵)___ پیغمبر اسلام(ص) نے اس جوان کو کس چیز کی وصیت اور سفارش کی تھی؟

۶)___ اس جوان کی کون سی آرزو تھی کہ جس کے لئے پیغمبر اسلام(ص) سے دعا کرنے کی خواہش کی تھی؟

۷)___ پیغمبروں کا سب سے اہم کام کون سا ہوا کرتا تھا؟

۸)___ ایک انسان کی عظیم ترین اور بہترین ارزش کون سی ہوتی ہے؟

۹)____ پیغمبر، انسان کی خداجوئی والی فطرت کو کس طرح بیدار کرتا ہے؟

۱۰)___ انسان اور جہان کی خلقت کی غرض و غایت کیا ہوتی ہے؟

۱۱)___ پیغمبروں کی نگاہ میں لوگوں کی بدبختی کا اہم عامل اور سبب کیا ہوتا ہے، اور سعادت کا تنہا سبب کون سا ہوتا ہے؟

۱۲)___ مومن انسان کی خصوصیات جو اللہ تعالی کے پیغمبروں کے دستور کے مطابق ترتیب یافتہ ہوتے ہیں کون سی ہوتی ہیں؟

۱۲۴

اللہ تعالی کے لئے کام کرنا پیغمبروں کے برنامے میں سے ایک ہے

انسانوں کوطاغتوں سے آزاد کرنا اور ظالم کے زور کو توڑنا استقامت اور قیام کئے بغیر ممکن نہیں، لیٹروں اور طاغتوں کا ہاتھ محروم و مستضعفین کے جان و مال سے اس وقت تک روکا نہیں جاسکتا جب تک لوگ آزادی اور رہائی کے خواستگار نہ ہوں اور اس کے لئے قیام نہ کریں، اپنی تمام قوت و کوشش کو کام میں نہ لائیں اور اس ہدف و غرض کے لئے جہاد و پائیداری سے کام نہ لیں_

فقر، محرومیت، ظلم، بے عدالتی، جہل، نادانی، تجاوز، سلب امنیت، قانون شکنی اور فساد سے مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے بلکہ یہ بہت مشکل اور اہم کام ہے کہ جسے سارے افراد کی کوششوں اور عمومی جہاد کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے شناخت، تمایل، حرکت اور کوشش ضروری ہے اس لئے تمام پیغمبروں کا اصل کام اور سب سے پہلا اقدام ظالموں، مستکبروں اور مفسدوں کے خلاف جہاد کرنا ہوا کرتا تھا_

خداوند عالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

'' ہم نے پیغمبروں کو واضح دلیلیں دے کر بھیجا ہے، ان پر کتاب اور میزان نازل کی ہے تا کہ لوگ عدالت و انصاف کے لئے قیام کریں''_ (حدید آیہ ۲۵)

۱۲۵

'' اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو تم خدا کے لئے قیام کرو اور انصاف کی گواہی دو''_ (سورہ مائدہ آیت نمبر ۸)

''اے پیغمبر(ص) لوگوں سے کہہ دو کہ میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم دو دو آدمی اور ایک ایک اللہ تعالی کے لئے قیام کرو'' (سبا ۲۶)

تمام پیغمبروں نے مادی گری، شرک و فساد کے خلاف، مستضعف لوگوں کو نجات دینے، عدل و انصاف قائم کرنے اور خداپرستی کو عام کرنے کے لئے جہاد و قیام کیا ہے لوگوں کے خوابیدہ افکار کو بیدار کیا ہے اور انھیں قیام و حرکت کرنے کی دعوت دی ہے:

_ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی اور ستمگر سے مقابلہ کرنے کے لئے قیام کیا اور نمرود و نمرودیوں سے جنگ کی_

حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی قوم کو فرعون سے نجات دینے کے لئے فرعون سے مقابلہ کیا اور لوگوں کی متفرق طاقت کو آزادی کے لئے یکجا کیا اور ایک ہدف و غرض کے لئے اکٹھا کیا_

_ حضرت عیسی علیہ السلام نے جابر لوگوں کے خلاف اور تحریف شدہ قوانین کو زندہ کرنے کے لئے قیام کیا_

_ پیغمبر اسلام (ص) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بت پرستی، ظلم اور بے عدالتی سے مقابلہ کرنے کے لئے قیام فرمایا اور اپنے ماننے والوں سے چاہا کہ ہمیشہ ظلم اور ظالم کے دشمن بن کر رہیں اور مظلوم و ستم رسیدہ انسانوں کے یار و مددگار ہوں_

اسلام کے حیات بخش قوانین کے اجراء اور جہان کے محرومین کو نجات دینے کے لئے جہاد، قیام اور کوشش کرتے رہیں_

۱۲۶

تحقیق اور تکمیل:

قرآن مجید کی آیات سے اور ان آیات سے کہ جن کا ترجمہ یہاں کیا گیا ہے یوں نتیجہ نکلتا ہے:

۱)___ قیام اور جہاد، اللہ تعالی کے قوانین کے اجراء اور ظالموں کے ہاتھ کو لوگوں کے جان مال سے روکنا، ہر قسم کے ظلم و فساد، شرک و بے عدالتی کو ختم کرنا فرائض دینی اور دستور مذہبی کا اہم و اصلی جزء ہے اور اسے دین کے سر فہرست ہونے کا درجہ حاصل ہے_

۲)___ مفسد و متجاوز کا مقابلہ کرنا تمام انسانوں کا عمومی فریضہ ہے اور تمام کے تمام لوگ اس کے ذمہ دار ہیں اور انھیں ایک دوسرے کی مدد و تعاون کر کے اس کے لئے قیام اور تحریک کو آگے بڑھانا چاہیئے_

۳)___ اگر کچھ لوگ اس کی انجام دہی میں کوتاہی و سستی کریں تو دوسرے لوگوں سے یہ فریضہ ساقط نہیں ہوگا بلکہ ہر آدمی کا فریضہ ہے کہ وہ یک و تنہا قیام کرے اور اپنی طاقت کے مطابق اس فریضہ کو انجام دے اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنی مدد کرنے کی دعوت دے_

۴)___ اس قیام و جہاد میں غرض و ہدف خدا کی ذات اور اس کی رضا ہونی چاہیئے اور اس سے غرض خودخواہی اور حکومت طلبی نہ ہو_ قرآن مجید خاص طور سے حکم دیتا ہے کہ قیام اور جہاد کی غرض اللہ تعالی کی خوشنودی، قوانین و احکام الہی کا جاری کرنا اور مخلوق خدا کی سعادت، نجات اور عدل الہی کے پھیلاؤ کے علاوہ اور کچھ نہ ہو_

۵)___ قیام اور جہاد میں عدالت کی رعایت کی جانی چاہیئےور جہاد کرنے

۱۲۷

والوں کو حدود عدالت سے خارج نہیں ہونا چاہیئے اور خود انھیں ظلم کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیئے_

یہ ہمارا فریضہ ہے کہ انقلاب اسلامی کے پھیلاؤ اور باقی رکھنے کے لئے اپنی پوری طاقت و قوت سے ظالموں اور مستکبروں پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے قیام و جہاد کریں اور جب تک تمام اسلامی احکام اور نجات دینے والا یہ پیغام '' لا الہ الا اللہ'' دنیا کے کونے کونے تک نہ پھیل جائے اپنی کوشش اور سعی کو ختم نہ کریں_

قرآن کی آیت:

( قل انّما اعظکم بواحدة ان تقوموا لله مثنی و فرادی ) ____(۱)

''کہہ دو کہ میں ایک چیز کی تمھیں نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ دو دو اور ایک ایک اللہ کے لئے قیام کرو''

____________________

۱) سورہ سبا آیت ۴۶

۱۲۸

سوالات

سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ خداوند عالم نے قرآن مجید میں لوگوں کو راہ خدا میں جہاد کرنے، عدالت اور انصاف کو پھیلانے کی دعوت دی ہے_ اس درس میں سے تین آیات کا اس بارے میں ترجمہ پیش کیجیئے _

۲)___ جہاد کی غرض کیا ہونی چاہیئے؟ وہ شرائط جو جہاد اور قیام الہی کے لئے ضروری ہیں انھیں بیان کیجیئے

۳)___ ظالم اور مفسد کا مقابلہ کرنا کس کا فریضہ ہے، اگر ایک گروہ اس فریضہ کی ادائیگی میں سستی کرے تو دوسروں کا کیا فریضہ ہوتا ہے؟

۴)___ اسلامی انقلاب کو وسعت دینے کے لئے ہمارا کیا فریضہ ہے، کب تک ہم اس کی کوشش کرتے رہیں؟

۱۲۹

مرکز توحید (۱)

حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا پرستوں اور توحید کے پیغمبر تھے، آپ اللہ تعالی کی طرف سے پیغمبری کے لئے چنے گئے تھے، آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ پورے عالم میں خداپرستی کا پیغام پہونچائیں اور اسے عام کریں، آپ نے توحید کی دعوت ایک متمدن شہر بابل سے شروع کی اور اپنے زمانہ کے طاغوت نمرود سے مقابلہ کیا ایک زمانہ تک آپ بت پرستی اور شرک سے مقابلہ کرتے رہے لوگوں کو خدا کی عبادت اور اللہ تعالی کے حیات بخش فرامین کی اطاعت کرنے کی طرف دعوت دیتے رہے_

پاکباز لوگوں کا ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا آپ توحید کی دعوت کو عام کرنے کے لئے مصر، شام اور فلسطین کی طرف ہجرت کرتے رہے تا کہ توحید پرستی کا پیغام دوسرے انسانوں تک بھی پہونچاسکیں اور انقلاب توحید کو تمام ممالک میں صادر کرسکیں، آپ نے اس کے لئے بہت کوشش کی اور بہت زیادہ تکالیف اٹھائیں_ تمام جگہوں میں اس زمانہ کے ظالموں اور طاغتوں کی شدید مخالفت کا آپ کو سامنا کرنا پڑا_

ایک گروہ کی جہالت و نادانی اور غفلت نے آپ کے اس کام کو دشوارتر کردیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو زیادہ کامیابی نہ مل سکی لیکن یہ عظیم پیغمبر اللہ تعالی کے اس حکم کی بجاآوری میں پكّے ارادے سے ثابت قدم رہے اور کبھی دلسرد اور نہ تھکے_ آپ کے ارادہ کا اہم فیصلہ ایک جگہ کو توحید کا مرکز بنانا تھا آپ نے اللہ تعالی کے حکم کے ماتحت

۱۳۰

پكّا ارادہ کرلیا تھا کہ توحید اور خداپرستی کا ایک مضبوط مرکز بنائیں گے تا کہ خداپرست معتقد حضرات وہاں اکٹھے ہوں ایک دوسرے سے آشنائی و شناسائی پیدا کریں اور توحید و خداپرستی کا حیات بخش پیغام وہاں سے لے کر تمام عالم کے کانوں تک پہونچائیں اور غافل انسان کو بیدار کریں اور انھیں ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور خداپرستی کی طرف بلائیں اس کا مرکز کہاں بنائیں؟ اس غرض کے لئے بہترین نقطہ کون کون سا ہوسکتا ہے اور وہ کون سی خصوصیات کا حامل ہو؟

اللہ تعالی نے اس غرض کے لئے خانہ کعبہ کو منتخب کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کی نشاندہی کی کیونکہ خانہ کعبہ قدیم زمانہ سے توحیدپرستوں کا معبد تھا، خانہ کعبہ کو سابقہ پیغمبروں نے بنایا تھا اسی لئے خداپرستوں کے لئے مورد توجہ تھا اور کبھی نہ کبھی لوگ وہاں جایا کرتے تھے_

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم سے اپنی بیوی اور بیٹے جناب اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ روانہ ہوئے جب مکہ پہونچے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جبرئیل کی راہنمائی میں مخصوص اعمال ''مناسک حج'' بجالائے جب اعمال بجالا چکے تو اپنی بیوی اور بیٹے سے کہا کہ ''اللہ تعالی کی طرف سے مجھے حکم ملا ہے کہ تمھیں کعبہ کے قریب رکھوں اور میں خود حکم الہی کی تعمیل کے لئے فلسطین چلا جاؤں ، تم یہیں رہ جاؤ خانہ کعبہ کے زائرین کی مہمان نوازی کرو، اس کے آباد کرنے اورپاکیزہ بنانے میں کوشش کرو، خدا چاہتا ہے کہ یہ توحید، خداپرستی کا معبد و مرکز قرار پائے اور تم بھی توحید کے محافظ اور پاسدار رہنا، بردبار و فداکار ہونا، مسافرت، تنہائی و مشکلات سے نہ کھبرانا کیونکہ یہ تمام اللہ کے راستے اور خلق خدا کی خدمت کے مقابلہ آسان ہیں خدا تمھارا مددگار اور محافظ ہے''_

حضرت ابراہیم (ع) نے بیوی اور اپنے فرزند جناب اسماعیل (ع) کو الوداع کہا اور فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے، آہستہ آہستہ چل رہے تھے اور ان سے دور ہوتے جا رہے تھے

۱۳۱

اور دور سے انھیں دیکھتے جا رہے تھے ایک چھوٹے سے بچّے کو اس کی ماں کے ساتھ ایک دّرے میں اور شاید ایک درخت کے نیچے تنہا چھوڑ کر جا رہے تھے_ آخری وقت جب کہ پھر انھیں دیکھ نہ سکتے تھے کھڑے ہوگئے، ان کی طرف نگاہ کی، اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا:

''پروردگار تیری امید اور سہارے پر اپنے خانوادے کو اس خشک پہاڑ کے دامن میں تیرے گھر کے قریب چھوڑ کر جا رہا ہوں تا کہ یہ تیری عبادت و پرستش اور نماز کو برپا کریں_

خدایا لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف متوجہ کر اور زمین کے دانوں اور میووں کو ان کا نصیب قرار دے_ پروردگار اس جگہ کو امن کا حرم قرار دے مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ_

خدایا بت پرستی اور شرک نے بہت سے لوگوں کو گمراہی اور بدبختی میں ڈال رکھا ہے_ پروردگار مجھے، میری اولاد اور خاندان کو نماز برپا کرنے والوں میں سے قرار دے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما''

اس کے بعد آپ نے آخری نگاہ بیوی اور چھوٹے فرزند پر ڈالی اور یک و تنہا فلسطین کی طرف روانہ ہوگئے_

قرآن کی آیت

ربّنا انی اسکنت من ذريّتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ربّنا لیقیموا الصّلاةفاجعل افئدة من الناس تهوی الیهم و ارزقهم من الثّمرات لعلّهم یشکرون

''پرودگار میں نے اپنے خانوادہ کو ایک بے آباد وادی تیرے گھر کے ہمسایہ میں سکونت دی ہے، ہمارے پروردگار اس لئے کہ نماز کو برپا کریں ، لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف متوجہ کرو اور زمین کے میوہ جات ان کی روزی قرار دے تا کہ تیرا شکر ادا کریں''(۱)

____________________

۱) سورہ ابراہیم آیت ۳۷

۱۳۲

مرکز توحید (۲)

تنہا بوڑھا انسان ایک عصا اور تھوڑا سا سامان پشت پر ڈالے راستے کے پیچ و خم کو طے کرتے ہوئے فلسطین کی طرف جا رہا ہے تا کہ وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالی کی عبادت و اطاعت کی طرف بلائے اور ظالموں کی اطاعت و فرمانبرداری سے روکے_

فداکار خاتون ہاجرہ اپنے چھوٹے فرزند کے ساتھ ایک پتھر کے کنارے بیٹھی سورج کے غروب ہونے کا انتظار کر رہی تھی_ کیا اس خشک و خالی درّے میں زندگی کی جاسکتی ہے؟ کیا اس بلند و بالا پہاڑ کے دامن میں رات کو صبح تک کاٹا جاسکتا ہے؟ کیا کوئی یہاں ہمسایہ ڈھونڈا جاسکتا ہے؟

اس قسم کے افکار سے اضطراب و پریشانی میں پڑ گئیں وہ اٹھیں اور جلدی سے پہاڑ کے اوپر گئیں اور ادھر ادھر نگاہ کی کسی کو نہ دیکھا سوائے چھوٹے بڑے خاموش اور خوف اور پہاڑ کے جو اپنی جگہ کھڑے تھے، انھوں نے مدد کے لئے آواز دی لیکن کسی سے جواب نہ سنا دوڑتے و دوڑتے نیچے اتریں اور ایک نگاہ اپنے چھوٹے فرزند پر ڈالی_

سورج جلدی میں ڈوب رہا تھا، درّہ تاریک اور خوفناک ہو رہا تھا، سامنے والے پہاڑ پر مشکل سے اوپر گئیں اور اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹی پر پہونچایا، اطراف میں نگاہ دوڑائی کسی کو نہ دیکھا سوائے پہاڑ کے گھبرا کر مدد کے لئے پکارا کسی نے لبّیک نہ کہا چنانچہ نیچے اتریں اس وقت سورج نظر نہیں آرہا تھا پھر سامنے والے پہاڑ پر چڑھیں سورج کو دیکھا

۱۳۳

اور خوشحال ہوگئیں اور مدد کے لئے آواز دی لیکن کسی نے جواب نہ دیا_

ان دو پہاڑوں کے درمیان سات دفعہ فاصلہ طے کیا یہاں تک کہ رات ہوگئی اور جناب ہاجرہ تھک گئیں وہ اپنے چھوٹے فرزند کے پاس گئیں اور نیم تاریک و خاموش فضا میں بچے کو گود میں لیا اپنے کو اور اپنے فرزند کو اللہ کے سپرد کر کے درخت کے کنارے پتھر پر لیٹ گئیں_

روزانہ جناب ہاجرہ اور حضرت اسماعیل (ع) خانہ کعبہ کی خدمت کرتے اور اسے پاکیزہ رکھنے میں مشغول رہتے تھے، خانہ کعبہ کی دیوار گرگئی تھی مٹی اور کوڑا و غیرہ صاف کیا اور اس چھوٹے گھر میں عبادت و نماز میں مشغول رہنے لگے_ تھوڑے دنوں کے بعد کئی ایک لوگ خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے مكّہ آئے ایک عورت اور چھوٹے بچے کو دیکھ کر تعجب کیا اور ان سے ان کے حالات پوچے جناب ہاجرہ نے جواب دیا کہ:

''ہم اولالعزم پیغمبر حضرت ابراہیم (ع) کے گھرانے سے ہیں انھوں نے حکم خدا سے ہمیں یہاں رہنے کو کہا ہے تا کہ خانہ کعبہ کی خدمت کرتے رہیں اور اسے زیارت کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا اور آباد کئے رکھیں''_

اس قدیم خانہ کعبہ سے علاقہ رکھنے والے زائرین نے مختلف ہدیئے انھیں دیئےور آہستہ آہستہ کعبہ کے زائرین زیادہ ہونے لگے، خداپرست اور موحّد لوگ گروہ در گروہ کعبہ کی زیارت کو آتے اور جناب ہاجرہ حضرت اسماعیل (ع) کی خدمتوں کے صلہ میں ہدیہ پیش کرتے تھے_

حضرت اسماعیل (ع) اور آپ کی والدہ ماجدہ زائرین کعبہ کی خدمت کرتی تھیں آپ کی زندگی کا سہارا چند گوسفند تھے جناب اسماعیل (ع) گوسفندوں کو چراتے اور ان کے گوشت

۱۳۴

و پوست سے غذا و لباس مہیا کرتے تھے _ انھیں ایام میں عربوں کے کئی گروہ جو مكّہ سے کچھ فاصلہ پر رہتے تھے جناب اسماعیل (ع) اور حضرت ہاجرہ سے اجازت لے کر وہاں آباد ہوگئے_

جناب ابراہیم علیہ السلام بھی خانہ کعبہ کی زیارت کرنے اور اپنے اہل و عیال کے دیدار کے لئے مكّہ معظمہ آیا کرتے تھے اور خانہ کعبہ کی رونق، آبادی اور روز بروز زائرین کی زیادتی سے خوشحال ہوا کرتے تھے_ ایک سفر میں جب آپ مكّہ آئے ہوئے تھے تو اللہ تعالی کے حکم سے ارادہ کیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں_ اس بارے میں آپ نے جناب اسماعیل علیہ السلام سے گفتگو کی اس وقت جناب اسماعیل (ع) جوان ہوچکے تھے آپ نے اپنے والد کی پیش کش کو سراہا اور وعدہ کیا کہ باپ کی اس میں مدد کریں گے_

کام شروع ہوگیا جناب اسماعیل (ع) پتھر اور گارا لاتے اور جناب ابراہیم (ع) کعبہ کی دیوار کو بلند کرتے_ دوسرے لوگ بھی اس میں آپ کی مدد کرتے اور تعمیر کا سامان لے آتے، ایک سیاہ پتھر جو آثار قدیمہ کے طور پر باقی رہ گیا تھا اور سابقہ انبیاء (ع) کی نشانی و یادگار تھا اسے آپ نے دیوار کی ایک خاص جگہ پر نصب کردیا_ جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا:

''پروردگارا توحید اور خداپرستی کے گھر کی تعمیر کردی تا کہ یہ دنیا کے لوگوں کی عبادت و آزادی کا مرکز ہو، پروردگارا ہمارا یہ عمل قبول فرما اور ہمیں اپنے حکم کی اطاعت کرنے کی توفیق عنایت فرما_ میری اولاد سے مسلمانوں کی ایسی جماعت پیدا کر جو تیرے دستور کے ماننے والے اور فرمانبردار ہوں اور میری اولاد میں سے ایک پیغمبر مبعوث فرماتا کہ تیری کتاب کی آیتوں کو لوگوں کے لئے پڑھے

۱۳۵

اور انھیں حکمت و کتاب کا درس دے، ان کے نفوس کا تذکیہ و تکمیل اور پرورش کرے_

پروردگار اس مقدس مکان کو امن کا حرم قرار دے، مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پرستش سے دور رکھ اور اپنی برکت و نعمت کو اس مقدس مکان کے رہنے والوں کے لئے زیادہ فرما''

اس کے بعد آپ ایک بلند پہاڑ پر جو یہاں سے نزدیک تھا اور اسے کوہ ابوقیس کہا جاتا ہے_ گئے اور اپنے ہاتھوں کو کانوں پر رکھ کر بلند آواز سے یوں پکارا:

'' اے حجاز کے لوگو اے ساری دنیا کے لوگو توحید اور خداپرستی کے مرکز کی طرف آؤ شرک و ذلت اور بت پرستی سے ہاتھ اٹھالو''

اسی زمانہ سے خانہ خداپرستوں کی عبادت و اجتماع کا مرکز بن گیا ہے اور جو چاہے جناب ابراہیم علیہ السلام کی آواز پر لبيّک کہے، خانہ کعبہ کی طرف جائے، خدا کی عبادت کرے وہاں موحّد مومنین کو دیکھے، مشکلات کے حل کے لئے ان سے گفتگو کرے، تمام لوگوں کی ظلم و ستم اور ذلت و شرک سے رہائی کے لئے مدد کرے، ایک دوسرے سے ہمکاری و اتحاد کا عہد و پیمان باندھے اور سب مل کر کوشش کریں کہ اس مقدس خانہ کعبہ کو ہمیشہ کے لئے آباد اور آزاد رکھیں_

قرآن کی آیت :

( و اذا یرفع ابراهیم القواعد من البیت و اسماعیل ربّنا تقبّل منّا انّک انت السمیع العلیم ) ____(۱)

''جب حضرت ابراہیم (ع) خانہ کعبہ کی دیواریں حضرت اسماعیل (ع) کے ساتھ مل کر بلند کر رہے تھے تو کہا اے پروردگار ہمارے اس عمل کو قبول فرما تو سننے والا اور دانا ہے''

____________________

۱) سورہ بقرہ آیت ۱۲۷

۱۳۶

سوالات

۱)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد توحید کا مرکز بنانے سے کیا تھا؟

۲)___ سب سے قدیم عبادت گاہ کہاں ہے، ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کن حضرات نے اسے بنایا تھا؟

۳)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام کن کے ساتھ مکہ معظمہ آئے تھے، حج کے اعمال کس کی راہنمائی میں بجالائے تھے؟

۴)___ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخری وقت کہ جس کے بعد وہ بیوی اور بچّہ کو نہ دیکھ سکتے تھے کیا دعا کی تھی، آپ کی دعاؤں میں کن مطالب کا ذکر تھا؟

۵)___ حضرت ہاجرہ (ع) دو پہاڑوں کا فاصلہ کس حالت میں طے کر رہی تھیں اور یہ کتنی دفعہ طے کیا تھا؟

۶)___ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ خانہ کعبہ کو تعمیر کریں تو یہ کس کے سامنے گفتگو کی اور اس نے اس کا کیا جواب دیا؟

۷)___ جب خانہ کعبہ کی تعمیر میں کس نے آپ کی مدد کی اور وہ کیا کام انجام دیتے تھے؟

۸)___جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تھی تو حضرت ابراہیم (ع) نے دعا کی تھی اس دعا میں آپ نے کیا کہا تھا اور آپ نے خداوند عالم سے کیا طلب کیا تھا؟

۹)___ آپ خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد کون سے پہاڑ پر گئے تھے اور لوگوں کو کس چیز کی دعوت دی تھی؟

۱۰)___ جو لوگ جناب ابراہیم (ع) کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خانہ کعبہ جاتے ہیں ان کے وہاں کیا فریضے ہوتے ہیں، ہر سال حج میں مسلمانوں کا کیا فریضہ ہوتا ہے؟

۱۳۷

دین یہود

حضرت موسی (ع) یہودی نامی دین لائے، حضرت موسی (ع) جناب عیسی (ع) سے ۱۵۰۰ سال پہلے مصر کی سرزمین میں پیدا ہوئے آپ کے والد کا نام حضرات عمران تھا_ حضرت موسی (ع) اولوالعزم پیغمبر تھے قرآن مجید میں آپ کا متعدد جگہ ذکر ہوا ہے آپ کی بنی اسرائیل قوم جو مستضعف اور مظلوم تھی کی مدد اور حمایت کرنے کا قصہ اور بالخصوص آپ کا فرعون جیسے ظالم و مغرور سے مقابلہ کرنے کا قصہ قرآن مجید میں متعدد جگہ ذکر ہوا ہے_

حضرت موسی (ع) چالیس سال کے تھے کہ آپ کو خداوند عالم نے پیغمبری کے لئے مبعوث کیا اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے زمانہ کے طاغوت سے مقابلہ کریں اور بنی اسرائیل کی مظلوم قوم کو فرعون کی غلامی اور قید و بند سے آزاد کرائیں،خداوند عالم کی عبادت اور بندگی کی طرف لوگوں کو بلائیں حضرت موسی (ع) نے اپنے اس آسمانی فریضہ کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی_

ابتداء میں آپ نے فرعون سے وعظ و نصیحت اور نرمی سے کام لیا اس کے بعد آپ نے اس سے گفتگو کی اور پروردگار عالم کی خدائی کی اور اس کی ربوبیت اور اپنی رسالت کے لئے دلیل و شاہد سے کام لیا اپنی رسالت کے لئے فرعون اور اس کے اطرافیوں کے لئے معجزہ و کھلایا اور اپنے عصا کو خدا کے اذن سے ایک بہت بڑے غضبناک ادہا کی صورت میں پیش کیا جادوگروں کے سامنے ایک واضح معجزہ بیان کیا، آپ کا عصا ایک بڑے سانپ کی صورت میں ظاہر ہو اور جن چیزوں کو جادوگروں نے زمین پر ڈالا تھا انھیں نگل لیا لیکن نہ نصیحت، نہ موعظہ، نہ گفتگو، نہ مباحثہ، نہ دلیل، نہ برہان اور نہ واضح و روشن معجزہ نے فرعون

۱۳۸

کے سخت اور تاریک دل پر اثر کیا اور وہ اپنے ظلم و ستم پر باقی رہا_

حضرت موسی (ع) نے ایک بہت طویل مدت تک بنی اسرائیل کے لئے خداپرستی کی ترویج اور تبلیغ کی لیکن ظالم فرعون اپنے ظلم و ستم ڈھانے پر باقی رہا_ بنی اسرائیل کی ذلیل و مظلوم قوم کی تمام امیدیں جناب موسی (ع) سے وابستہ تھیں اور آپ بنی اسرائیل کے متعلق راہ حل سوچ رہے تھے تا کہ اس محروم اور مظلوم قوم کو ہمیشہ کے لئے اس زمانہ کے طاغوت و ظالم سے نجات دیں_

اس زمانہ کے سخت حالات میںاس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھی کہ بنی اسرائیل کی قوم کو مصر سے نکال لیا جائے اور انھیں طاغوت زمانہ کے قید و بند سے آزاد کرایا جائے چنانچہ حضرت موسی (ع) نے خدا کے حکم سے ہجرت کرنے کا ارادہ کیا اور آپ نے بنی اسرائیل کے سرداروں سے بھی ہجرت کرنے کے بارے میں مشورہ کیا انھوں نے آپ کے اس ارادہ سے اتفاق کیا اور مخفی طور سے انھوں نے اپنی زندگی کے اسباب و اثاثے کو اکٹھا کیا اور ہجرت کرنے کے لئے تیار ہوگئے_

بنی اسرائیل ایک تاریک رات میں بغیر اطلاع دیئےضرت موسی (ع) کی رہبری میں مصر سے نکل پڑے اور جلدی سے صحرائے سینا کی طرف بڑعنے لگے ہزاروں مرد اور عورتیں، چھوٹے بڑے، سوار اور پیادہ تیزی سے تمام رات اور دوسرے دن راستہ طے کرتے رہے جب صبح کے وقت فرعونی جاگے اور اپنے کار و بار پر گئے تو کافی انتظار کے بعد بھی بنی اسرائیل مزدور کام پر حاضر نہ ہوئے یہ خبر شہر میں پھیل گئی لوگ ان کی جستجو میں نکلے بعد میں معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل رات کے وقت شہر سے نکل کر بھاگ گئے ہیں_

یہ خبر فرعون تک پہونچی اس نے ایک لشکر کے ہمراہ بنی اسرائیل کو پکڑنے کے لئے ان کام پیچھا کیا_ حضرت موسی (ع) کے حکم سے بنی اسرائیل دریا کی طرف جلدی میں بڑھ رہے تھے اور فرعون

۱۳۹

اور اس کا لشکر ان کا پیچھا کر رہا تھا جب بنی اسرائیل دریا کے نزدیک پہونچے تو راستہ کو بند پایا اور فرعون کا لشکر ان کے پیچھے آرہا تھا_

فرعون کے لشکر کے نزدیک پہونچنے سے بنی اسرائیل وحشت زدہ اور مضطرب ہوگئے خدا نے بند راستے کو ان کے لئے کھول دیا اور جناب موسی (ع) کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو دریا پر ماریں حضرت موسی (ع) نے اپنا عصا دریا پر مارا دریا شگافتہ ہوگیا اور بارہ وسیع راستے دریا کے وسط میں بن گئے بنی اسرائیل دریا میں داخل ہوگئے جب بنی اسرائیل کا آخری فرد دریا سے باہر نکل آیا اور فرعون کے لشکر کا آ خری فرد دریا میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالی کے حکم سے یکدم پانی آپس میں مل گیا فرعون اور اس کے تمام لشکر کو دریا نے اپن لیپٹ میں لے لیا فرعون اور اس کے تمام لشکر کو غرق کردیا اور رہتی دنیا کے لئے فرعون کی ذلت و شکست عبرت کے طور پر تاریخ میں باقی رہ گئی وہ اس کے علاوہ آخرت میں اپنے مظالم کی سزا پائے گا_

بنی اسرائیل اس کا دور سے تماشا دیکھ رہے تھے اور فرعونیوں کی ہلاکت سے خوشحال تھے اور اپنے آپ کو فرعونیوں کے قید و بند سے آزاد پا رہے تھے اب وہ اللہ تعالی کے دستور اور اس کے قوانین کے مطابق ایک جدید معاشرہ تشکیل دینے کے پابند تھے لیکن اس وقت تک ان کے لئے نہ کوئی قانون اور نہ ہی عبادات کی رسومات موجود تھیں اس لئے کہ ابھی تک نہ توان کے لئے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوئی تھی اور نہ ہی کوئی احکام و قوانین نازل ہوئے تھے_

۱۴۰