‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) جلد ۳

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) 0%

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 302

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم)

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 302
مشاہدے: 21986
ڈاؤنلوڈ: 1121


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 302 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 21986 / ڈاؤنلوڈ: 1121
سائز سائز سائز
‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم)

‏تعلیم دین ساده زبان میں(جلدسوم) جلد 3

مؤلف:
اردو

بنی اسرائیل کی طرف واپس لوٹ آئیں_

حضرت موسی (ع) نے یہ قصہ بنی اسرائیل سے بیان کیا اور اپنے بھائی جناب ہارون کو اپنا جانشین مقرر کیا جناب موسی (ع) بنی اسرائیل کی حکومت اور انتظام کو ان کے سپرد کر کے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے_ آپ تیس دن تک وہاں راز و نیاز اور عبادت میں مشغول رہے اور اللہ تعالی کے حکم سے مزید دس دن رہے_

آپ نے اللہ تعالی کی طرف سے دین یہود کے احکام و قوانین کو لوح کی صورت میں حاصل کیا اور چالیس دن ختم ہونے کے بعد بنی اسرائیل کے پاس واپس لوٹ آئے_ ان الواح کو کتابی صورت میں جمع کیا کہ جسے توریت کا نام دیا گیا (اگر چہ اب یہ اصلی توریت باقی نہیں رہی اور اب ایک تحریف شدہ توریت موجود ہے) جب بنی اسرائیل صاحب کتاب ہوگئے تو ان کواستقلال حاصل ہوگیا اور انھیں اجتماعی و مذہبی تشخیص حاصل ہو اب ان کے پاس قانون موجود تھا فداکار و آگاہ رہبر حضرت موسی (ع) جیسا موجود تھا کہ جسے اللہ تعالی کی طرف سے رہبری اور ولایت دی گئی تھی_

خداوند عالم نے ان کے لئے د نیا و آخرت کی ترقی کے اسباب مہیا کردیئےھے لیکن افسوس کہ انھوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور بہانے و خود خواہی او رناشکری کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ ایک د ن گوسالہ پرستی شروع کردی اور کبھی حضرت موسی علیہ السلام سے کہتے کہ ہمیں اللہ تعالی کامشاہدہ کراؤ تا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں حالانکہ خداوند عالم جسم و جسمانیت نہیں رکھتا کہ جسے آنکھوں سے دیکھا جاسکے_

ایک دن حضرت موسی (ع) سے کہتے کہ ہمارے لئے بھونے ہوئے مرغے آسمان سے لاکر دو_ ایک دن کہتے کہ ہم مرغ اور کباب نہیں چاہتے بلکہ ہم دال اور پیاز چاہتے ہیں_

الحاصل بنی اسرائیل اعتراض کرتے اور اپنے پیغمبر و رہبر کے احکام و دستور سے سرپیچی اور بے اعتنائی کرتے اس ناشکری اور بلاوجہ اعتراض کی وجہ سے چالیس سال تک انھیں بیابانوں میں سرگرداں کیا_

۱۴۱

سوالات

سوچیئے اور جواب دیجئے

۱) ___ ابتداء میں حضرت موسی (ع) کی ذمہ داری کیا تھی، آپ نے اس ذمہ داری کو کس طرح ادا کیا اور فرعون سے کس طرح کا سلوک کیا؟

۲)___ حضرت موسی (ع) کا معجزہ کیا تھا، فرعون کے نزدیک کیوں یہ معجزہ ظاہر کیا؟

۳)___ بنی اسرائیل کی قوم کو نجات دینے کے لئے جناب موسی (ع) نے کیا سوچا اور کس طرح آنحضرت نے بنی اسرائیل کی قوم کو فرعون سے نجات دلوائی؟

۴)___ بنی اسرائیل دریا سے کیسے گذرے، دریا نے فرعون اور اس کے لشکر کو کس طرح ڈوبایا؟

۵)___ حضرت موسی (ع) کی کتاب کا کیا نام ہے، ان الواح کو حضرت موسی (ع) نے کہاں سے اور کتنی مدت کی عبادت اور راز و نیاز کے بعد اللہ تعالی سے حاصل کیا تھا؟

۶)___ بنی اسرائیل کس وجہ سے چالیس سال تک بیابانوں میں سرگرداں رہے؟

۷)___ ہم مسلمانوں کا حضرت موسی (ع) اور دوسرے انبیاء کے متعلق کیا عقیدہ ہے؟

۱۴۲

دین عیسی علیہ السلام

عیسوی اور نصرانی دین کو حضرت عیسی علیہ السلام خداوند عالم کی طرف سے لائے حضرت عیسی (ع) اولوالعزم پیغمبروں میں سے ایک تھے پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت سے ۵۷۰ سال پہلے بیت اللّحم جو فلسطین کے شہروں میں سے ایک شہر ہے متولد ہوئے آپ کی والدہ حضرت مریم (ع) اللہ تعالی کے نیک بندوں میں سے ایک اور دنیا کی عورتوں میں سے ایک ممتاز خاتون تھیں_ آپ بیت المقدس میں دن رات اللہ تعالی کی نماز اور عبادت میں مشغول رہتیں_

آپ ایک لائق، پاکدامن اور پرہیزگار خاتون تھیں آپ کے بیٹے حضرت عیسی علیہ السلام نے گہوارہ میں لوگوں سے بات کی، اپنی نبوت و پیغمبری کی خبر دری اور کہا:

''میں اللہ کا بندہ ہوں خداوند عالم نے مجھے پیغمبر قرار دیا ہے اور مجھے نماز قائم کرنے اور زکوة دینے کے لئے کہا ہے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک اور مہربان بنوں، اللہ نہیں چاہتا کہ میں ظالم، شقی اور بدبخت بنوں''

آپ نے بچپن کا زمانہ پاکیزگی سے کاٹا اور جب سن بلوغ تک پہونچے تو آپ کو رسمی طور سے حکم دیا گیا کہ لوگوں کی ہدایت اور تبلیغ کریں حضرت عیسی علیہ السلام یہودیوں کے درمیان مبعوث ہوئے اور یہودیوں کے احکام و قوانین اور توریت کی ترویج کرتے تھے اور ان لغویات و فضولیات اور خرافات سے جویہودیوں کے دین میں جاہلوں و مفسدوں کی طرف سے داخل کردی گئی تھیں مقابلہ کیا کرتے تھے، اصلی توریت لوگوں کے سامنے پڑھا کرتے تھے اور

۱۴۳

اس کی تفسیر و معنی بیان کیا کرتے تھے اور اس کے علاوہ اپنی کتاب سے جو آپ پر نازل ہوئی تھی جس کا نام انجیل تھا وہ بھی لوگوں کے سامنے پڑھا کرتے تھے_

حضرت موسی (ع) کی آسمانی کتاب توریت، زمانے کی طوالت اور گوناگون واقعات کے پیش آنے کی وجہ سے تحریف کردی گئی اور ناروا قسم کے افکار و عادات دین کے نام پر یہودی قوم کے درمیان رائج ہوگئے حضرت عیسی علیہ السلام کی کوشش ہوتی تھی کہ وہی اصلی حضرت موسی کے صحیح احکام و قوانین کی ترویج و تبلیغ کریں اور ان خرافات و اوہام باطلہ کا مقابلہ کریں جو موسی (ع) کے دین میں د اخل ہوگئے تھے_

حضرت عیسی علیہ السلام اپنے کو پیغمبر خدا ثابت کرنے کے لئے اذن الہی سے لوگوں کو معجزے دکھلاتے تھے، مردہ کو زندہ کرتے تھے، مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے تھے، لولے اور مفلوج کو شفا دیتے تھے، مٹی سے پرندہ کا مجسمہ بناتے اس میں پھونک مارتے وہ مجسمہ زندہ ہوجاتا اور پر مار کر ہوا میں پرواز کر جاتا تھا اور لوگ جو کچھ کھاتے اور گھر میں ذخیرہ کرتے اس کی خبر دیتے تھے_

حضرت عیسی (ع) بہت ہی سعی و کوشش سے اپنی رسالت کے ادا کرنے میں مشغول تھے پند و نصیحت اور موعظہ بیان کرتے تھے دیہاتوں اور شہروں میں جاتے اور لوگوں کو نہایت صبر و حوصلہ سے ہدایت کرتھے تھے اس کے نتیجہ میں ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کو دعوت کو قبول کیا اور آہستہ آہستہ ان میں اضافہ ہوتا گیا_ آپ پر ایمان لانے والوں میں سے ایک گروہ بہت سخت آپ کا معتقد تھا ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا تھا اور نہایت خلوص و فداکاری سے آپ کی حمایت اور اطاعت کرتا تھا_

یہ بارہ آدمی تھے کہ جن کو حواریيّن کا لقب دیا گیا یہی بارہ آدمی حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد اطراف عالم میں گئے اور جناب عیسی علیہ السلام کے دین کو پھیلا یا حضرت عیسی علیہ السلام بہت

۱۴۴

سادہ زندگی بسر کرتے تھے، سادہ لباس پہنتے اور بہت تھوڑی و سادہ غذا کھاتے تھے، آپ مظلوموں کی مدد کرتے اور محروم طبقہ پر بہت مہربان تھے لیکن ظالموں اور مستکبروں کے ساتھ سخت ناروا سلوک کرتے اور ان سے مقابلہ کیا کرتے تھے، کمزوروں کے ساتھ بیٹھتے اور ان سے دلسوزی و خلوص سے پیش آتے تھے اور لوگوں کو بھی مہربان و احسان کرنے کی دعوت دیتے تھے_

آپ متواضع و خوش اخلاق تھے اور اپنے حوايّین سے بھی کہتے تھے کہ لوگوں سے مہربان اور متواضع بنین آپ نے ایک دن اپنے حوایيّن سے فرمایا کہ:

''تم سے میری ایک خواہش ہے_ انھوں نے جواب دیا کہ آپ بیان کیجیئےپ جو کچھ چاہیں گے ہم اسے پورا کریں گے_ کیا تم بالکل نافرمانی نہیں کروگے؟ ہرگز نافرمانی اور سرکشی نہیں کریں گے_ آپ نے فرمایا پس یہاں آؤ اور بیٹھ جاؤ_ جب تمام لوگ بیٹھ چکے تو آپ نے پانی کا برتن لیا اور فرمایا کہ تم مجھے اجازت دو کہ میں تمھارے پاؤں دھوؤں_

آپ نے نہایت تواضع سے تمام حواريّین کے پاؤں دھوئے حواریيّن نے کہا کہ اس کام کو بجالانا ہمیں لائق اور سزاوار تھا حق تو یہ تھا کہ ہم آپ کے پاؤں دھوتے_ آپ نے فرمایا نہیں ہیں اس کام کے بجالانے کا حق دار اور سزاوار ہوں علماء اور دانشمندوں کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کے سامنے تواضع بجالائیں ان کی خدمت کریں اور ان کی پلیدی و کثافت کو دور کریں_ میں نے تمھارے پاؤں دھوئے ہیں تا کہ تم اور دوسرے علماء اسی طرح لوگوں کے سامنے تواضع کریں اور سمجھ لیں کہ دین و دانش تواضع و فروتنی سے ترویج پاتا ہے نہ کہ تکبّر

۱۴۵

اور خود خواہی سے جس طرح گھاس اور نباتات نرم زمین میں سے اگتے ہیں دین اور دانش بھی پاک اور متواضع سے پرورش پاتا ہے''

اللہ تعالی کے نزدیک اس قسم کی پسندیدہ رفتار کی وجہ سے آپ کے مریدوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا اور آپ کی قدرت و نفوذ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا_ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہودیوں کے بعض علماء جو خود خواہ اور متکبر تھے حضرت عیسی علیہ السلام کی قدرت و نفوذ سے وحشت زدہ ہوچکے تھے اور اپنے منافع، جاہ و جلال اور مقام کو خطرے میں دیکھ رہے تھے لہذا انھوں نے بیت المقدس میں ایک جلسہ کیا اور جناب عیسی علیہ السلام کو جو اللہ تعالی کے پاک و بزرگ پیغمبر تھے جادوگر و فتنہ پرداز انسان قرار دیا اور شہر کے حاکم کو آپ کے خلاف ابھارا_

حضرت عیسی علیہ السلام کی جان خطرے میں پڑگئی آپ نے مجبور ہو کر تبلیغ کو مخفی طور پر انجام دینا شروع کیا_ بہت سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو بعض یہودیوں کے واسطے سے سولی پر چڑھایا گیا ہے اسی لئے سولی کی صورت و شکل ان کے نزدیک ایک مقدس شکل شمار ہوتی ہے لیکن عیسائی کا دوسرا گروہ حضرت عیسی (ع) کے سولی پر چڑھائے جانے کو قبول نہیں کرتا وہ کہتے ہیں کہ:

'' وہ حضرت عیسی (ع) کو سولی پر چڑھانا تو چاہتے تھے لیکن ایک اور آدمی کو جو حضرت عیسی (ع) کے ہمشکل و ہم صورت تھا پکڑا اور اسے سولی پر غلطی سے چڑھا دیا لہذا حضرت عیسی قتل ہونے سے بچ گئے''

قرآن مجید بھی اسی عقیدہ و نظریہ کی تائید کرتا ہے کہ حضرت عیسی (ع) کو سولی پر نہیں چڑھایا گیا_ عیسائیوں کا ایک گروہ حضرت عیسی (ع) کو اللہ تعالی کا فرزند مانتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت عیسی (ع) خدا کے بیٹے تھے سولی پر چڑھنے کو اس لئے اختیار کیا تا کہ گناہگاروں کو نجات دلواسکیں لیکن

۱۴۶

قرآن مجید اس وہم و نظریہ کی رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ:

''حضرت عیسی علیہ السلام خدا کے بندہ تھے وہ خدا کے بیٹانہ تھے کیونکہ تو خدا کا کوئی بیٹا ہے اور نہ وہ کسی کا بیٹا ہے وہ ایک ہے کوئی اس کامثل اور شریک نہیں ہے''

قرآن کہتا ہے:

'' ہر انسان کی سعادت و نجات اس کے اعمال پر مبنی ہوا کرتی ہے اور کوئی بھی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھاتا''

قرآن کہتا ہے کہ:

''حضرت عیسی علیہ السلام لوگوں کو نجات دلانے والے میں لیکن نہ موہوم نظریہ کے مطابق بلکہ اس بناپر کہ وہ اللہ کے پیغمبر، لوگوں کے ہمدرد و راہنما اور رہبر ہیں جو شخص بھی آپ کے نجات دینے والے دستوروں پر عمل کرے گا وہ نجات پائے گا اور اللہ تعالی کی بخشش و مغفرت اور رحمت کا مستحق ہوگا''_

حضرت عیسی علیہ السلام کا دین اور آپ کی فرمائشےات بھی لوگوں کی ناجائز مداخلت کی وجہ سے تبدیل کردی گئیں_ کئی ایک مذہب اور فرقے اس دین میں پیدا ہوگئے، اصلی اور واقعی انجیل اس وقت نہیں ہے البتہ انجیل کے نام پر کئی متضاد کتابیں پائی جاتی ہیں_

عیسائیوں کے اہم فرقے کہ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے کا تو لیک، ارتدوکس اور پروتستان ہیں_

قرآن مجید کی آیت:

قال انّی عبدالله اتانی الکتاب و جعلنی نبیا و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصّلوة و الزّکوة مادمت حيّا و بّراً بوالدتی و لم یجعلنی جبّاراً شقيّاً

حضرت عیسی علیہ السلام نے کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے اور جہاں بھی رہوں بابرکت قرار دیا ہے اور جب تک زندہ رہوں مجھے نماز و زکوة کی وصیت کی ہے اور اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور ظالم و بد نصیب نہیں بنایا ہے''(۱)

____________________

۱) سورہ مریم آیت ۳۰ تا ۳۲

۱۴۷

سوالات

سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ حضرت عیسی (ع) کون ہیں، کس سال اور کہاں پیدا ہوئے؟

۲)___ حضرت عیسی (ع) کی ماں کون ہیں اور وہ کس طرح کی عورت تھیں؟

۳)___ حضرت عیسی (ع) نے لوگوں سے گہوارہ میں کیا کہا؟

۴)___ حضرت عیسی (ع) کس کتاب اور کس دین کی ترویج کرتے تھے؟

۵)___ حضرت عیسی (ع) کس کتاب اور کس دین کی ترویج کرتے تھے؟

۶)___ حضرت عیسی (ع) کے ان پیروکاروں کو جو بہت مخلص اور مومن تھے کس نام سے یاد کیا جاتا ہے؟

۷)___ حضرت عیسی (ع) نے اپنے حواريّین کی تواضع کا درس کس طرح دیا اور اس کے بعد حواریيّن سے کیا فرمایا؟

۸)___ یہودیوں کے بعض علماء نے حضرت عیسی (ع) کی کیوں مخالفت کی اور اس کا انجام کیا ہوا؟

۹)___ حضرت عیسی (ع) کے سولی پر چڑھائے جانے یا نہ چڑھائے جانے کے متعلق قرآن کا کیا نظریہ ہے؟

۱۰)___ قرآن مجید حضرت عیسی (ع) کی کون سی صفات اور خصوصیات کو بیان کرتا ہے؟

۱۴۸

قرآن اللہ تعالی کی ہمیشہ رہنے والی کتاب ہے

ہم مسلمانوں کی دینی کتاب قرآن مجید ہے جو اللہ تعالی کی طرف پیغمبر اسلام(ص) پر انسانوں کی تربیت اور راہنمائی کے لئے نازل ہوئی ہے قرآن مجید کے ایک سو چودہ سورے ہیں_ جانتے ہو کہ کتنی آیات کی مقدار کا نام سورہ ہے؟

جو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہو اور پھر آگے اس کے بسم اللہ الرحمن الرحیم آجائے اس کو سورہ کہتے ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ سوائے سورہ توبہ کے کہ جس کا آغاز اس معاہدہ کے ختم کردینے کے اعلان سے ہوا کہ جو مشرکین سے کر رکھا تھا باقی تمام سورورں کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتی ہے_

سب سے چھوٹا سورہ کہ جس کی صرف چار آئتیں ہیں سورہ کوثر ہے اور سب سے بڑا سورہ، سورہ بقرہ ہے کہ جس کی ۲۸۶ آئتیں ہیں، سب سے پہلا سورہ جو پیغمبر اسلام(ص) پر نازل ہوا وہ سورہ علق ہے اور آخری سورہ جو آنحضرت (ص) پر نازل ہو اور وہ سورہ نصر ہے_

قرآن مجید کی آئتیں پیغمبر اسلام(ص) پر ایکدم نازل نہیں ہوئیں بلکہ آپ کی پیغمبری کے تیس سال کے عرصے میں مختلف مناسبتوں اور حوادث کے لحاظ سے تدریجاً نازل ہوئی ہیں مثلاً کبھی صرف ایک آیت، کبھی کئی آئتیں اور کبھی ایک کامل سورہ نازل ہوا ہے_ جانتے ہو کہ ہمارے پیغمبر اسلام(ص) تیرہ سال تک مکہ معظمہ میں لوگوں کی ہدایت کرتے رہے ہیں پس جو سورے اس زمانہ میں آپ پر نازل ہوئے انھیں مکی سورے کہا جاتا ہے اور وہ سورے

۱۴۹

جو پیغمبر اسلام(ص) کے مدینہ کے دس سال کے عرصے میں نازل ہوئے ہیں انھیں مدنی سورے کہاجاتا ہے_

قرآن مجید جبرئیل کے ذریعہ نازل ہوتا تھا جناب جبرئیل عین ان الفاظ اور کلمات کو جو قرآن مجید کے ہیں پیغمبر اسلام(ص) کے پاس لے کر آتے تھے جب کوئی آیت نازل ہوتی تو پیغمبر اسلام(ص) اسے لوگوں کے سامنے پڑھ دیتے اور ایک جماعت جو لکھنا جانتی تھی بعینہ ا س آیت کو لکھ لیتی اور اسے اکٹھا کرتی رہتی تھی_

ان میں سے ایک حضرت علی علیہ السلام تھے کہ قرآن کی تمام آیات کو بڑی دقّت سے اور اسی ترتیب سے کہ جس طرح نازل ہوئی تھیں لکھ لیتے تھے اور اگر کبھی آپ کسی آیت کے نازل ہونے کے وقت موجودنہ ہوتے تھے تو جب آپ حاضر ہوتے پیغمبر اسلام(ص) آپ کے لئے پڑھ دیتے تھے_ بہت سے مسلمانوں نے اس وقت تک جو آیات نازل ہوچکی تھیں حفظ کرلیا تھا اور انھیں حافظ قرآن کہا جاتا تھا البتہ مسلمانوں ک ایک گروہ قرآن کے بعض حصہ کا حافظ تھا_

پیغمبر اسلام (ص) قرآن کے حفظ کرنے کی تشویق و ترغیب دیا کرتے تھے یہاں تک کہ قرآن کا حفظ کرنا مسلمانوں میں ایک قابل فخر اور صاحب امتیاز شمار ہونے لگا تھا_ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد جس طرح قرآں لکھا تھا سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور اس کو اسی نزول ترتیب سے جمع کر کے منظم اور محفوظ کرلیا تھا_ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے چند مہینے کے بعد کہا جانے لگا کہ اگر قرآں کے حافظ تدریجاً مرگئے یا جنگوں میں شہید ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

لہذا یہ طے پایا کہ لکھے ہوئے قرآن کی حفاظت کی جائے اس غرض کے لئے جناب ابوبکر کے حکم کے مطابق کئی ایک افراد کو قرآن کے مختلف نسخوں کو اکٹھا کرنے کا حکم دیا گیا

۱۵۰

تا کہ ان نسخوں کو ایک دوسروے سے ملا کر اور قرآن کے حافظوں سے تطبیق کر کے ایک نسخہ قرآن مجید کا ترتیب دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور ایسے کئی ایک نسخے مرتب کئے گئے جو مورد اعتماد تھے اور پھر انھیں سے دوسرے قرآن مجید لکھ کر تمام ممالک اسلامی میں بھیج دیئے گئے_

یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اس زمانہ میں عربی رسم الخط میں نقطے اور اعراب کا لگانا مرسوم نہ تھا یہ تمام قرآن مجید بغیر نقطے اور اعراب کے لکھے گئے تھے_ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں اسلام کافی پھیل چکا تھا قرآن کا بغیر نقطے اور اعراب کا ہونا اور لوگوں میں لہجہ و غیرہ کے اختلاف کی وجہ سے بعض قرآن کے کلمات میں اختلاف پیدا ہوگیا تھا لہذا تیسرے خلیفہ نے پیغمبر(ص) کے بعض اصحاب کے مشورے سے حکم دیا کہ لکھنے والی جماعت میں سے ایک جماعت آیات اور قرآن مجید کے سوروں کو پیغمبر(ص) کے لہجہ میں جو حجازی لہجہ تھا تمام موجودہ نسخوں سے لکھیں اور قرآن مجید کے حفاظ سے مل کر صرف ایک کامل نسخہ مرتب کریں تا کہ اس نسخہ کو رسمی قرار دیتے ہوئے قابل اعتماد قرار دیا جائے اور پھر اسی نسخہ سے متعدد قرآن مجید لکھ کر سرزمین اسلام کے اہم مراکز کی طرف روانہ کردیئے گئے لیکن یہ نسخہ بھی بغیر اعراب اورنقطوں کے مرتب کیا گیا تھا کہ جس کا پڑھا جانا مشکل تھا ۵۳_ ۵۰ ھ میں قراں پر اعراب ڈال گئے اس کے بعد عبدالملک کے زمانہ میں قرآن مجید پر نقطے ڈالے گئے_

مسلمان تمام زمانوں میں قرآن مجید کی بہت اہمیت اور فداکاری سے سابقہ زمانے کی طرح حفاظت کرتے رہے اور یہ موجودہ قرآن مجید اسی اصلی نسخہ سے لیا گیا ہے اور بغیر کسی کمی و زیارتی کے ہم تک پہونچا ہے_ اس عظیم کتاب میں ارادہ الہی، مسلمانوں کی ہمّت و فداکاری سے نہ تو معمولی تغیر ہو اور نہ ہی تحریف ہوئی_

قرآن مجید ایک کامل و جامع کتاب ہے جو کچھ انسان کی تربیت اورہدایت کے لئے

۱۵۱

ضروری ہے وہ اس میں بطور کلّی موجود ہے، جو انسان قرآن کے دستور و احکام پر عمل کرے گا قرآن اس کے لئے دنیاوری اور اخروی سعادت کا ضامن ہے_ جو کچھ قرآن مجید میں موجود ہے اسے بطور فہرست یوں بیان کیا جاسکتا ہے:

۱)____ خلقت و پیدائشے کے اسرار و رموز میں تفكّر اور تدبّر کی دعوت_

۲)___ خداشناسی، صفات خدا، شرک سے مقابلہ، معاد، جنّت و جہنّم کی تعریف، نبوت، امامت، شفاعت، ملائکہ اور پیغمبروں کے معجزا ت کا بیان_

۳)___ پیغمبروں کی دعوت کا طریقہ، لوگوں کی ہدایت اور ارشاد کرنے کے طریقوں میں پیغمبروں کی جد و جہد و فداکاری کا ذکر، پیغمبروں کا ظالموں و طاغتوں سے طویل مقابلہ، مستکبرین کے حالات اور ان کی تاریخ_

۴)___ اسلام کی طرف دعوت اور شرک و نفاق سے مقابلہ_

۵)___ عبادات اور احکام کا بیان جیسے نماز، روزہ، وضو، غسل، تیمّم، حج و ز کوة اور جہاد_

۶)___اجتماعی احکام اور قوانین_ _

۷)___ اچّھے و برے اخلاق اور نیک اخلاق اپنا نے کی دعوت_

اب جب کہ اللہ تعالی کی خاص عنایت،مسلمانوں کی کوشش و فداکاری اور اس کی حفاظت سے یہ عظیم کتاب ہم تک بغیر کسی تغیر و تبدیلی کے پہونچی ہے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم اللہ کے اس مہم پیغام کی قدر کریں اور اس کی حفاظت کریں، اس کے مطالب کے سمجھنے اور اس کے دستورات، احکام و رہنمائی پر عمل کرنے میں کوشش کریں اور کوشش کریں کہ اسے درست و صحیح پڑھیں اور اس کے علوم سے بہرہ مند و مستفید ہوں_

۱۵۲

قرآن کے حیات بخش و نورانی آئین کو اپنے معاشرے میں بہتر طور سے اوردقّت سے جاری کریں اور اس پر عمل کریں تا کہ اس دنیا میں سربلندی و عزت سے زندگی بسر کرسکیں اور آخرت میں ایک انسان کے بلندترین مقام تک پہونچ سکیں اور اللہ تعالی کی رضایت اور اجر عظیم سے نوازے جائیں_

قرآن مجید کی آیت:

( انّ هذا القرآن یهدی للّتی هی اقوم و یبشر المومنین الّذین یعملون الصّالحات انّ لهم اجر کبیرا ) (۱)

''بیشک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان صاحبان ایمان کو بشارت دیتا ہے جو نیک اعمال بجالاتے ہیں کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے''

____________________

۱) سورہ اسراء آیت ۹

۱۵۳

سوالات سوچیئے اور جواب دیجیئے

۱)___ قرآن کی نظر میں انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

۲)___ کتنی آئتوں کو سورہ کہا جاتا ہے اور قرآن کے کتنے سورے ہیں؟

۳)___ قرآن کا کون سا سورہ بسم اللہ سے شروع نہیں ہوتا اس سورہ کی ابتداء کی بات سے ہوتی ہے؟

۴)___ سب سے چھوٹا، سب سے بڑا اور سب سے آخری سورہ جو پیغمبر اسلام (ص) پر نازل ہوا کون سا ہے؟

۵)___ مكّی اور مدنی کن سوروں کو کہا جاتا ہے؟

۶)___ جب قرآن مجید کی آئتیں نازل ہوتی تھیں تو مسلمان اسے کس طرح محفوظ کرتے تھے؟

۷)___ پیغمبر اسلام(ص) کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے اس قرآن کو کہ جسے بڑی محنت و دقّت سے لکھا تھا کیسے اور کس ترتیب سے جمع کیا تھا؟

۸)___ تیسرے خلیفہ کے زمانہ میں اصلی قرآن کے لہجے کو باقی رکھنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تھے؟

۹)___ قرآن کے مطالب کو کتنی اقسام میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے؟ ان قسموں کو بیان کیجئے؟

۱۰)___ ہم مسلمانوں کا قرآن کے متعلق کیا فریضہ ہے اور اس کے سمجھنے اور حفاظت میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟

۱۱)___ قرآن لوگوں کو کس طرح بلاتا ہے اور کن کن لوگوں کو خوشخبری دیتا ہے؟

۱۵۴

اگر نعمت کی قدرت نہ کریں

کیا تم نے یمن کا نام سنا ہے؟ جانتے ہو کہ یہ کہاں واقع ہے؟ سابقہ زمانے میں ''سبا'' نامی قوم اس شہر اور سرزمین میں آباد تھی یہ بہت خوبصورت اور آباد شہر تھا اس کے اطراف میں باغ ہی باغ تھے کہ جس میں مختلف اقسام کے درخت پائے جاتے تھے جیسے سیب، گلابی، زرد آلود، البالو، انجیر، انگور و انار اور مالٹے و غیرہ کے درخت تھے ان کے علاوہ دوسرے سرسبز اور خوبصورت درخت بھی موجود تھے_

صاف و شفاف پانی کی نہریں ان باغات اور درختوں سے گذرتی تھیں_ مختلف قسم کے میوے، سرخ سیب، زرد گلابی، سرخ البالو، بڑے اور صاف انگور کے گچھّے، بڑے انار اور سبز و ترش ٹماٹر تھے جو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا جیسے چھوٹے بڑے بجلی کے قمقمے درختوں کی شاخوں پر لٹک رہے ہوں_

جب نسیم چلتی تو درختوں کی شاخوں او رٹہنیوں سے ٹکراتی ہوئی شہر کی فضا کو اس طرح معطر کردیتی کہ گویا بہشت کی زیبائی اور خوشبو یاد آنے لگتی ہو یہ تمام خوبصورتی اور یہ پھول و پھل یہ درخت اور ان کے نہاں تمام کی تمام پروردگار کی قدرت نمائی تھی_

قوم سبا ان تمام خوشنما مناظر کے دیکھنے کے بعد کیا کہتی تھی؟ اہل قوم خدا کی ان تمام نعمتوں اور الطاف کا کس طرح شکریہ ادا کرتے تھے اور کیا کہتے تھے؟ بہترین مکانات میں زندگی بسر کرتے تھے اور انواع و اقسام کی نعمتوں سے استفادہ کرتے تھے_

۱۵۵

اطراف کے دیہات بھی آباد اور سرسبز تھے گویا پہاڑ کے دامن میں پھولوں، عطر اور سبزے کا بیابان موجود ہے یہ نعمتیں اور آبادی تمام کی تمام زیادہ پانی اور زخیز زمین کی برکت اور لوگوں کی محنت و کوشش سے تھیں_ سبا کی قوم کا شتکاری میں ماہر تھی پہاڑوں میں بہت بڑے بند باندھ رکھے تھے کہ جس میں بارش و غیرہ کے پانی کو ذخیرہ کرلیتے تھے جو دریا کی صورت میں موجزن نظر آتا تھا_

زراعت کے موسم میں دریاؤں کے پانی کو استعمال کرتے تھے اور اپنے کھیتوں اور باغوں کو اس سے سیراب کرتے تھے، سبا کی قوم محنتی، دیانت دار اور مہربان قسم کے لوگ تھے، عدالت، فداکاری اور چشم پوشی سے کام لیتے تھے، خدائے مہربان کی پرستش کرتے تھے اور نعمت سے اٹی ہوئی اور سرسبز زمین پر خوشی ونشاظ سے زندگی بسر کرتے تھے اور خداوند عالم کا اس نعمت پر شکریہ ادا کرتے تھے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس قوم کا ایک گروہ گناہ و معصیت اور ہوس پرستی میں مشغول تھا وہ آہستہ آہستہ خدا کو فراموش کرچکا تھا اور اس کی نعمتوں کا کفران کرتا تھا گویا وہ یوں سمجھتے تھے کہ یہ نعمتیں ہمیشہ رہتے والی ہیں اور قیامت و آ خرت آنے والی نہیں ہے_

دوسرے لوگ اپنے کاموں میں مشغول تھے ان سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے اور انھیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے ان کے درمیان جو پیغمبر تھے وہ دن رات لوگوں کی ہدایت میں کوشاں تھے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور فرماتے تھے:

'' لوگو ان تمام نعمتوں کی قدر کرو، خدا کے احکام کی پیروری کرو تقوی اختیار کرو، میری رہبری و رہنمائی کی اطاعت و پیروی کرو، عادل و صحیح انسان بنو_ لوگو اگر تم نے عدالت و خداپرستی سے روگردانی کی اور اپنے کو ہوس پرستی، شکم پر دری اور گناہ سے

۱۵۶

پر کردیا تو اللہ تعالی کا تم پر غضب ہوگا اور تمھیں ان نعمتوں سے محروم کردے گا_

لوگو تم صرف کھانے اور پینے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ہو بلکہ تمھاری خلقت میں ایک نہایت اعلی غرض مقصود ہے اپنی خلقت کی غرض کو نہ بھولو، عیش و آرام و شکم پروری اور گناہ سے پرہیز کرو تا کہ دنیا و آخرت میں کامیاب رہو، انسانی اخلاق کو اپناؤ، بے کاری و سستی اور تجاوزگری سے اپنے کو رو کو تا کہ خداوند عالم پر نعمتوں کو زیادہ کرے اور آخرت میں ان نعمتوں سے بھی بہتر تھیں عنایت فرمائے_

لوگو گناہ گاروں کو گناہ و معصیت سے کیوں نہیں روکتے؟ اور اللہ تعالی کے دین کی حفاظت کیوں نہیں کرتے؟ اور گناہگاروں کے سامنے غضبناک کیوں نہیں ہوتے؟

لیکن بہت افسوس کہ وہ لوگ گناہوں سے دستبردار نہ ہوئے اور نہ دوسرے لوگ ان گناہگاروں کے خلاف کوئی کار روائی کرتے تھے، ان کے دل سخت و تاریک ہوچکے تھے پیغمبری کی حق بات ان میں اثر نہیں کرتی تھی، ان کے اصلاح کی امید ختم ہوگئی تھی یہاں تک کہ ان پر خدا کا غضب نازل ہوا اور خدا و رسول کے ا حکام کی نافرمانی کا مزہ چکھا اور آنے والوں کے لئے عبرت بنے_

اللہ تعالی کے حکم سے دریا کا کنارہ ٹوٹ گیا ایک خطرناک و عظیم سیلاب آیا اور ادھر پہاڑ پھٹا اس نے تمام باغات او رگھروں کو ویران کردیا اور جو کچھ اس کے سامنے آیا اسے بہا کے لے گیا اس خوبصرت و پر نعمت شہر اور ان عظیم الشان عمارتوں سے سوائے ویرانے کے جو خاک اور پتھروں کے اندر دب چکی تھیں کچھ باقی نہ رہا صرف ان کا قصہ و نام باقی رہ گیا تا کہ آئندہ نسلوں کے لئے اللہ تعالی کے غضب اور قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور دوسروں کے

۱۵۷

لئے بیدار ہونے کا درس عبرت باقی رہ جائے_ سبا کی قوم نے اپنی ناشکری و کفران نعمت کی سزا دنیا میں دیکھ لی اور ہر ناشکرے کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے_

اب ذرا ہمیں بھی سوچنا چاہیئے کہ ہم اللہ تعالی کی نعمتوں کا کس طرح شکریہ ادا کر رہے ہیں، آیا ہم خداوند عالم کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں؟ اللہ کی نعمتوں کو کس طرح خرچ کرتے ہیں کیا اسراف اور فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہیں؟ کیا ہم خدا کی خوشنودی کے لئے اللہ کی مخلوق او راپنے وطن کی خدمت کرتے ہیں؟ کس طرح ہمیں دنیا کے محروم اور مستضعف طبقہ کی خدمت کرنی چاہیئے اور کس طرح دو بڑے واجبات یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرنا چاہیئے ؟

آیت قرآن:

( لقد کان لسبا فی مسکنهم آیة جنّتان عن یمین و شمال کلوا من رزق ربّکم و اشکرو له بلده طيّبه و ربّ غفور ) (۱)

''قوم سبا کے لئے تو یقینا خود انھیں کے گھروں میں قدرت خدا کی ایک بڑی نشانی تھی کہ ان کے شہر کے دونوں طرف داہنے بائیں ہرے بھرے باغات تھے اور ان کو حکم تھا کہ اپنے پروردگار کی دی ہوئی روزی کھاؤ (پیو) او راس کا شکر ادا کرو دنیا میں ایسا پاکیزہ شہر اور آخرت میں پروردگار سا بخشنے والا''

____________________

۱) سورہ سبا آیت ۱۵

۱۵۸

سوالات

یہ سوالات سوچنے اور جواب دینے کے لئے ہیں

۱)___ قوم سبا کا شہر اور وطن کیسا تھا؟ اس کی خوبیوں کو بیان کیجئے _

۲)___ کیا اللہ نے اپنی نعمتوں کو بغیر ان کی سعی و کوشش کے دیا تھا؟

۳)___ قوم سبا کے افراد کیسے تھے؟

۴)___ خدا کا قوم سبا سے اپنی نعمتوں کو چھین لینے کی علت کیا تھی، کیا تم کے تمام ہوا و ہوس کے شکار تھے؟

۵)___ قوم سبا میں موجود پیغمبران سے کیا کہا کرتے تھے، انھیں کن چیزوں کی طرف متوجہ کرتے تھے اور کن کاموں کے بجالانے کی دعت دیتے تھے؟

۶)___ قوم سبا پر کیوں اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا، کیا سبھی گناہگار تھے؟

۷)___ قوم سبا کے واقعہ کو پڑھنے اور سننے سے دوسرے انسانوں کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟

۸)___ ہم اللہ کی نعمتوں کا کس طرح شکریہ ادا کریں اور اپنے ملک کی تعمیر کے لئے کیا کریں؟

۹)___ اللہ کے دو اہم واجبات پر کس طرح عمل کریں اور وہ کون سے دو فریضے ہیں؟

۱۵۹

چوتھا حصّہ

پیغمبر اسلام (ص) اور آپ کے اصحاب کے بارے میں

۱۶۰