۱۰۱ دلچسپ مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے16%

۱۰۱ دلچسپ مناظرے مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 29 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 36541 / ڈاؤنلوڈ: 7195
سائز سائز سائز
۱۰۱ دلچسپ مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے

تالیف: استاد محمدی اشتہاردی

مترجم: اقبال حیدر حیدری

ناشر: موسسہ امام علی علیہ السلام ۔ قم

مقدمہ

اسلام میں مناظرہ کی اہمیت اور مقاصد کی تکمیل میں اس کا کردار

حقائق کی وضاحت اور واقعیت کی پہچان کے لئے مناظرہ اور آمنے سامنے بحث و گفتگو کرنا خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ فکری اور علمی ترقی اپنے عروج پر ہے ثقافتی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین اور مستحکم ترین راستہ ہے، اور اگر فرض کریں کہ تعصب، ہٹ دھرمی اور سرکشی کی بنا پر مناظرہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تو کم سے کم اتمام حجت تو ہوہی جاتی ہے۔

کیونکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ طاقت کے بل بوتہ پر اپنے عقیدہ اور آئیڈیل کو کسی پر نہیں تھونپاجاسکتا،اور اگر بالفرض کوئی زبردستی قبول بھی کرلے تو چونکہ بے بنیاد ہے جلد ہی ختم ہوجائے گا۔

خداوندعالم نے قرآن مجید میں اس موضوع کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، اور اس کو ایک ”عام قانون“ کے طور پر بیان کیا ہے، چنانچہ خداوندعالم نے چار مقامات پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس طرح فرمایا ہے:

( قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )( ۱ )

”ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل لے آو“۔

جس وقت اسلام دوسروں کو دلیل ، برہان اور منطق کی دعوت دیتا ہے تو خود بھی اس کے لئے دلیل اور برہان ہونا چاہئے۔

چنانچہ خداوندعالم نے قرآن مجید میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

( اُدْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ )( ۲ )

”آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دعوت دیںاور ان سے اس طریقہ سے بحث کریں جو بہترین طریقہ ہے“۔

”حکمت“ سے مراد وہ مستحکم طریقے ہیں جو عقل وعلم کی بنیاد پر استوار ہوں، اور ”موعظہ حسنہ“ سے مراد معنوی و روحانی نصیحتیں ہیں جن میں عطوفت اور محبت کا پہلو پایا جاتا ہو، اور سننے والے کے پاک احساسات کو حق و حقیقت کی طرف اُبھارے، نیز ”مجادلہ“ سے مراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر بحث میں تنقیدی گفتگو کرنا، اور یہ طریقہ کار اگر انصاف اور حق کی رعایت کرتے ہوئے ہو تو ہٹ دھرم مخالف کو خاموش کرنے کے لئے لازم اور ضروری ہے۔

وضاحت: بعض انسانوں میں حقائق سمجھنے کی فکری صلاحیت اور قوی استعداد پائی جاتی ہے ، ایسے لوگوں کو جذب کرنے کے لئے عقلی براہین و دلائل بہترین راستہ ہے، لیکن اگر بعض افراد میں کمتر درجہ صلاحیت پائی جاتی ہے ان میں تعصب، عادت اور احساس بہت زیادہ پایا جاتا ہے، ایسے افراد کو موعظہ اور اچھی نصیحت سے دین کی دعوت دی جاتی ہے۔

اور بعض لوگ ہٹ دھرم، اور غلط فکر رکھتے ہیں ، ہر راستہ سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں

تاکہ اپنے باطل خیالات کوصحیح طریقہ سے پیش کرسکیں، ان کے نزدیک دلیل اور نصیحت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تو ایسے لوگوں سے ”مجادلہ“ کرنا چاہئے، لیکن شائستہ انداز میں مجادلہ کرنا چاہئے یعنی اخلاق حسنہ اور انصاف کے ساتھ ان سے بحث و گفتگو کی جائے۔

اس بنا پر فن مناظرہ میں پہلے مناظرہ کرنے والوں کے حالات اور احساسات کو پرکھنا چاہئے اور انھیں کے پیش نظر مناظرہ کرنا چاہئے۔

جیسا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی مختلف مواقع پر انھیں تینوں طریقوں کو بروئے کار لاتے تھے اور انھیں کے ذریعہ مختلف لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کہ جنھوں نے تقریباً چار ہزار شاگردوں کی تربیت کی ہے ان میں سے ایک گروہ علمی میدان میں مناظرہ کے فن کا ماہر تھا، جس وقت مخالف علمی بحث و گفتگو کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اگر آپ کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا تو اپنے شاگردوں کو حکم دیتے تھے کہ ان لوگوں سے بحث و مناظرہ کریں۔

مادہ پرست اور منکرین خدا جیسے ابن ابی العَوجاء، دیصانی اور ابن مقفّع وغیرہ نے بارہا حضرت امام صادق علیہ السلام اور آپ کے شاگردوں سے بحث و گفتگو کی ہے، امام علیہ السلام ان کی باتوں کو سنتے تھے اور پھر ایک ایک کرکے ان کا جواب دیتے تھے جیسا کہ ابن ابی العَوجاء کہتا ہے:

” حضرت امام صادق( علیہ السلام) ہم سے فرمایا کرتے تھے کہ تمہارے پاس جو بھی دلیل ہے اس کو بیان کرو، ہم آزادانہ طور پر اپنے دلائل پیش کرتے تھے اور امام مکمل طور پر سنتے تھے، اس طرح کہ ہم یہ خیال کربیٹھتے تھے کہ ہم نے امام پر غلبہ کرلیا ہے، لیکن جب امام کی باری آتی تھی تو بہت ہی متین انداز میں ہمارے ایک ایک استدلال کی تحقیق اور چھان بین کرتے تھے اور ان کو ردّ کرتے تھے اس طرح کہ بحث و گفتگو کے لئے کسی طرح کا کوئی بہانہ باقی نہیں بچتا تھا“۔( ۳ )

قرآن مجید میں جناب ابراہیم علیہ السلام کے مناظرے

قرآن مجید میں خدا کے عظیم الشان پیغمبر جناب ابراہیم علیہ السلام کے بہت سے مناظرے بیان ہوئے ہیں، قرآن مجید میں ان کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی راہ پر چلنے والے اعتقادی، اجتماعی اور سیاسی مسائل میں غافل نہیں ہیں، بلکہ مختلف مورچوں پر منجملہ دینی اور ثقافتی مورچہ پر حق اور دین کے دفاع کے لئے استدلال اور منطقی گفتگو کرتے ہیں۔

جناب ابراہیم علیہ السلام کے بت شکنی سے متعلق واقعہ میں قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ انھوں نے سب بتوں کو توڑ ڈالا لیکن بڑے بت کو صحیح و سالم چھوڑ دیا، اور جب نمرود کے سامنے معاملہ رکھا گیا تو آپ سے سوال کیا گیا: ”تم نے ہمارے بتوں کو کیوں توڑا؟“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے ا ن کے جواب میں کہا:

( قَالَ بَلْ فَعَلَهُ کَبِیرُهُمْ هَذَا فَاسْاٴَلُوهُمْ إِنْ کَانُوا یَنطِقُونَ )( ۴ )

”ابراہیم نے کہا کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے تم ان سے دریافت کر کے دیکھو اگر یہ بول سکیں“۔

جناب ابراہیم علیہ السلام نے در حقیقت اس استدلال میں بت پرستوں کے عقیدہ کو استدلال کا وسیلہ قرار دیا، اور ایک ایسا مستحکم حربہ استعمال کیا:

بت پرستوں نے کہا: ”اے ابراہیم! تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بت بولتے نہیں ہیں؟!“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا:

”پس تم ان گونگے بتوں کو کیوں پوجتے ہو، جو نہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ کوئی کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں؟! اُف ہو تم پر اور تمہارے پست و ذلیل معبودوں پر، کیا تم لوگ غور و فکر نہیں کرتے؟( ۵ )

قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: نمرود (جناب ابراہیم علیہ السلام کا ہمعصر طاغوت) نے جناب ابراہیم علیہ السلام سے کہا: ”تمہارا خدا کون ہے؟“

جناب ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ”میرا خداوہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں موت و حیات ہے، میں ایسے ہی خدا کے سامنے سجدہ کرتا ہوں“۔

نمرود نے سفسطہ (یعنی دھوکہ بازی) شروع کی جس کا سادہ لوح انسانوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے، اور چلانا شروع کیا: ”اے بے خبر! یہ کام تو میرے ہاتھ میںبھی ہے، میں زندہ بھی کرتا ہوں اور مارتا بھی ہوں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ سزائے موت ملنے والے کو رہا کردیتا ہوں اور عام قیدی کو سزائے موت دیدیتا ہوں“!!۔

اور پھر اس نے اپنے کارندوں سے کہا: سزائے موت پانے والے مجرم کو آزاد کردو، اور ایک عام قیدی جس کے لئے سزائے موت کا حکم نہیں ہے اس کو سولی پر لٹکادو۔

اس موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کے مغالطہ اور دھوکہ بازی کے مقابلہ میں اپنا استدلال شروع کرتے ہوئے یوں کہا:

”صرف موت وحیات ہی خدا کے قبضہ قدرت میں نہیں ہے بلکہ تمام عالم ہستی اسی کے فرمان کے تحت ہے، اسی بنیاد پر میرا خدا صبح سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور غروب کے وقت مغرب میں غروب کرتا ہے، اگر تو سچ کہتا ہے کہ میں لوگوں کا خدا ہے

تو تو مغرب سے سورج نکال کر مشرق میں غروب کرکے دکھا“۔

قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَبُهِتَ الَّذِی کَفَرَ وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )( ۶ )

”تو کافر حیران رہ گیا اور اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا“۔

یہ تھے جناب ابراہیم علیہ السلام کے قرآن مجید میں بیان ہونے والے بہت سے نمونوں میں سے دو نمونے:

یہ نمونے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مناظرہ کے صحیح طریقوں کو سیکھنا چاہئے، اور دینی و ثقافتی سازشوں کے مقابلہ میں استدلال اور مناظروں سے مسلح ہونا چاہئے تاکہ موقع پڑنے پر حق و حقیقت کا دفاع ہوسکے۔

قرآن مجید کے سورہ نساء آیت ۷۱ میں ارشاد ہوتا ہے:

( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَکُمْ ) ۔۔۔“( ۷ )

” اے ایمان لانے والو! اپنے تحفظ کا سامان سنبھال لو“۔

یہ آیہ شریفہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کو دشمن کے تمام مورچوں پر اور سازشوں کے مقابلہ کے لئے تیار رہنا چاہئے، جن میں سے ایک مورچہ ثقافتی اور فکری مورچہ ہے، جس کا فائدہ دوسرے راستوں سے زیادہ اور عمیق تر ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ان میں سے ایک مسئلہ فکری اور ثقافتی پہلو کی شناخت اور علمی و استدلالی بحث و گفتگو میں مناظرہ اور جدل ہے جس کی شناخت کے بعد مناسب موقعوں پر حق کا دفاع کرنے کے لئے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام مخالفوں سے مناظرہ کی ضرورت کے پیش نظر فرماتے ہیں:

خَاصمُوهُم وَ بَیَّنُوا لَهُمُ الْهُدَی الَّذِی اَنْتُمْ عَلَیْهِ،وَ بَیَّنُوا لَهُمْ ضَلالَتَهُمْ وَ بَاهِلُوهُمْ فِی عَلیٍّ عَلَیْهِ السَّلام “۔( ۸ )

”مخالفین سے بحث و گفتگو کرو، اور راہ ہدایت جس پر تم ہو ان لوگوں پر واضح کرو اور ان کی گمراہی کو روشن کرو، اور حقانیت علی علیہ السلام کے بارے میں ان سے ”مباہلہ“ (ایک دوسرے پر لعنت اور باطل کے طرفداروں کے لئے خدا کی طرف سے بلا نازل ہونے کی درخواست) کرو“۔

اس بنیاد کی بنا پر خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور اسی طرح شیعوں کے عظیم الشان علماء ہمیشہ مناسب موقعوں پر بحث و گفتگو، جدل اور مناظرے کیا کرتے تھے، اور اس طریقہ سے بہت سے ا فراد کو راہ ہدایت کی راہنمائی فرماتے اور گمراہی سے نجات دیتے تھے۔( ۹ )

حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے:

علماء شیعتنا مرابطون فی الثغر الذی یلی ابلیس و عفاریته، یمنعونهم عن الخروج علی ضعفاء شیعتنا، و عن ان یتسلط علیهم ابلیس و شیعته النواصبُ، الا فمن انتصب کان افضل ممن جاهد الروم وا لترک والخزر، الف الف مرة، لانه یدفع عن ا دیان محبینا، و ذلک یدفع عن ابدانهم “۔( ۱۰ )

”ہمارے شیعہ علماء ان سرحدوں کے محافظوں کی فر ع ہیں جو شیطان اور اس کے لشکر والوں کے مقابلہ میں صف آراء ہیں، وہ ہمارے ضعیف شیعوں پر حملہ کرنے سے دشمن کو روکتے ہیں، نیز شیطان اور اس کے ناصبی پیروکاروں کے مسلط ہونے میں مانع ہوتے ہیں، آگاہ ہوجاؤ کہ اس طرح کا دفاع کرنے والے شیعوں کی قدر و قیمت ہزار ہزار درجہ زیادہ ہے ان سپاہیوں سے جو دشمنان اسلام ؛ روم، ترک اور خزر کے کفار سے جنگ میں شریک ہوئے ہیں، کیونکہ یہ (شیعہ علماء) اسلامی عقائد اور اسلامی ثقافت کے محافظ اور دینداروں کا دفاع کرنے والے ہیں،جبکہ مجاہدین صرف جغرافیائی اعتبار سے اسلامی سرحدوں کا دفاع کرنے والے ہیں“۔

الازہر یونیورسٹی کے ایک بزرگ استاد جناب شلتوت کا قول

”الازہر “ (مصر) یونیورسٹی کے استاد کبیر اور مفتی جناب شیخ محمود شلتوت جو اہل سنت کے ممتاز اور جیّد عالم دین تھے، اپنے ایک انٹریو میں اس طرح کہتے ہیں:

والباحث المستوعب المنصف، سیجد کثیراً فی مذهب الشیعة ما یقوی دلیله و یلتئم مع اهداف الشریعة من صلاح الاٴسرة والمجتمع، و یدفعه الی الاخذ و الارشاد الیه “۔

”وہ محقق جو انصاف کی بنیاد پر تمام پہلووں کو مد نظر رکھتے ہوئے جب اسلام کے بارے میں تحقیق کرتا ہے تو بہت سے مقامات پر مذہب تشیع کے بارے میں تحقیق کرتا ہے تو اس کو ایسا لگتا ہے کہ ان کی دلیلیں بہت مستحکم، شریعت اسلام کے اہداف و مقاصد کے ہمراہ، نسل و معاشرہ کی اصلاح سے اس طرح ہم آہنگ ہیں، جس کی بنا پر انسان مذہب شیعہ اور ان کے اصول کی طرف مائل ہوجاتا ہے“۔

اور اس کے بعد نمونہ کے طور پر چند معاشرتی اور گھریلو( ۱۱ ) مسائل کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”جس وقت ان مسائل میں مجھ سے سوال ہوتا ہے تو میں شیعہ فتووں کی بنیاد پر جواب دیتا ہوں“۔( ۱۲ )

ایک عظیم الشان استاد جو قاہرہ الازہر یونیورسٹی کا مقبول استاد ہو اس کی زبان سے یہ اعتراف واقعاً بہت مفید اور امید بخش ہے، کیونکہ موصوف مذہب تشیع کو برہان و استدلال کی بنیاد پر اسلام ناب محمدی کے اہداف سے ہم آہنگ قرار دیتے ہیں، اور ان کا تاریخی فتویٰ اور مذہب تشیع کی پیروی کی صحت اور قاہرہ کے بڑے بڑے دانشوروں کی تائید کے بارے میں مناظرہ نمبر ۵۸ میں بیان ہوگا۔ (انشاء اللہ)

کتاب ھٰذا کے بارے میں:

اس کتاب میں اسلام کے عظیم الشان رہبروں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور گزشتہ اور دور حاضر کے دینی عظیم الشان علمائے کرام کے مختلف مناظرے ذکر کے گئے ہیں، جو اس چیز کو بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرات منکرین خدا اور جاہل لوگوں سے کس طرح کا طریقہ کار اپناتے تھے نیز ان کی منطق اور استدلال کے مقابلہ میں انسانوں پر کس طرح تاثیر ہوتی تھی، جو ہمارے لئے ایک درس ہے کہ کس طرح حق و حقیقت کا دفاع کریں؟ اور فن استدلال اور صحیح مناظرہ کا کردار لوگوں کے جذب کرنے اور ان کو قانع کرنے میں بہت زیادہ موثر ہے، اسی وجہ سے مناسب ہے کہ ہم ان طریقوں کو سیکھیں اور انھیں کے ذریعہ مختلف موقع و محل پر جاہل اور گمراہ لوگوں کی ہدایت کا سامان فراہم کریں۔

یہ کتاب ،دو حصوں پر مشتمل ہے:

پہلا حصہ: جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان حضرات کے شاگردوں کے ذریعہ مختلف افراد سے مختلف موضوعات پر کئے جانے والے مناظروں کے نمونے بیان ہوئے ہیں۔

دوسرا حصہ: ممتاز علماء اور اسلامی محققین کے مختلف گروہوں سے کئے جانے والے مناظرے۔

امید ہے کہ ”ایک سو ایک مناظروں کا یہ مجموعہ “ مناظرہ کی روش اور طریقہ کی پہچان کے لئے بہترین ناصر و مونس قرار پائے، جس کے پیش نظر ”اسلامی اہداف و مقاصد“ کی تکمیل کے لئے ثمر بخش نتائج برآمد ہوں، تاکہ مستحکم علمی مناظروں کے ذریعہ ”حقیقی اسلام “ کے مخالفوں کی ”دینی اور ثقافتی سازشوں“ کا سدّ باب کرسکیں۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ وبرکاتہ

محمد محمدی اشتہاردی

حوزہ علمیہ ،قم المقدسہ

موسم سرما، ۱۳۷۱ ھ ش

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیت ۱۱۱۔

(۲) سورہ نحل آیت ۱۲۵۔

(۳) بحار الانوار، ج۳، ص۵۸۔

(۴) سورہ انبیاء، آیت۶۳۔

(۵) سورہ نساء، آیت ۶۵۔

(۶) سورہ بقرہ، آیت ۲۵۸۔

(۷) سورہ نساء، آیت ۷۱۔

(۸) بحار الانوار، ج۱۰، ص۴۵۲۔

(۹) اس طرح کے مناظروں کے بارے میں مزید آگاہی کے لئے کتاب ”احتجاج طبرسی“ (دو جلدیں) اور بحار الانوار ج۹، اور ۱۰ کی طرف رجوع فرمائیں۔

(۱۰) احتجاج طبرسی، ج۱، ص ۱۵۵۔

(۱۱) مثال کے طور پر ایک ہی نشست میں تین طلاقوں کا مسئلہ، اور طلاق کو کسی چیز پر معلق کرنے کے جائز نہ ہونا، (مثلاً کوئی شوہر اپنی زوجہ سے کہے: میں نے اگر فلاں بلڈنگ کو بیچ دیا تو تو طلاق شدہ ہے) اور مسلسل ۱۵ دفعہ سے کم دودھ پینے پر رضاعی محرمیت کا واقع نہ ہونے کا مسئلہ۔۔۔۔

(۱۲) ”الیقظہ“ اخبار، بغداد ، سال ۳۵، نمبر ۹۶، بتاریخ ۷شعبان ۱۳۷۸ھ، ”فی سبیل الوحدة الاسلامیة“ ص۲۷، تا ۳۰ کی نقل کے مطابق۔

امام محمد تقی- اور سیاست

امام محمد تقی- ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۰۳ ئھ میں امام رضا- کے بعد ۸ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ آئمہ اہل بیت (علیہم السلام)کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی امام کی امامت ۸ سال کی عمر میں شروع ہوئی ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ بلوغ کی حدود تک پہنچنے سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہوئے ہوں (البتہ یہ آغاز تھا اس بات کا کہ باقی آئمہ (علیہم السلام) کوبھی کم سنی میں امامت ملے جسیے امام علی نقی- اور خود امام زمانہ(عج)کہ ان حضرات(علیہم السلام) کو بالترتیب ۸ اور ۵ سال کی عمر میں امامت ملی )یہی وجہ تھی کہ امام رضا- کی تاکید کے با وجود شیعوں میں بھی امام محمد تقی- کی کم سنی اختلاف کا باعث بنی تو چہ جائے کہ شیعوں کے مخالف افراد، اسی وجہ سے حکومت کے کارندوں نے لوگوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی محمد بن علی رضا- میں امام بننے کی صلاحیت نہیں ہے اس طرح کی افواہوں سے حکومت کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو امام سے دور کر دیا جائے، لیکن امام محمد تقی- نے اپنی کم سنی کے با وجود کیونکہ علم لدنی کے حامل تھے، خلیفہ کے اس جال کو بھی توڑنا شروع کر دیا آپ- نے اپنی علمی سر گرمیوں کو تیز کر دیا اور علمی محفلوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ۔

جب امام- خلیفہ کے اصرار پر مدینہ سے بغداد تشریف لائے تو خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کی شادی آپ- سے کر دی جائے تاکہ امام- کی سر گرمیاں بھی زیر نظر رہیں اور شیعوں کے آنے جانے پر بھی نظر رکھی جا سکے لیکن خلیفہ نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے دربار والے اس سے شکایت کر نے لگے کہ یہ تو ابھی کم سن ہیں اور اس کی معلومات دین کے متعلق کم ہیں خلیفہ نے کہا کہ اگر چاہتے ہو تو محمد بن علی- کا امتحان لے لو (کیونکہ خود خلیفہ کی بھی یہی خواہش تھی کہ اگر ہو سکے تو کسی طرح سے امام کو شکست دے کر عوام کے سامنے رسواء کر دیا جائے)دربار کے علماء نے یحییٰ بن اکثم جو کہ مشہور اور نامی گرامی فقیہ اور قاضی تھا کو آمادہ کر لیا کہ وہ امام- سے بھرے دربار میں ایسا سوال کر ے کہ امام- اس کا جواب نہ دے سکیں ۔ جب امام- دربار میں تشریف لائے تو یحییٰ بن اکثم نے خلیفہ سے اجاز ت لے کر امام- سے سوال پوچھا کہ اگر محرم (جس نے احرام حج باندھا ہوا ہے) حرم خدا کی حدود میں کسی جانور کو قتل کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

امام- نے ا سکے جواب میں اکثم سے سوال کیا کہ:

"محرم نے اس کو حرم میں شکار کیا ہے یا کسی اور جگہ؟ مارنے والا حکم کو جانتا تھا یا نہیں ؟ عمداً مارا ہے یا سہواً؟ آیا ابتداء اس کو مارا ہے یا دفاع کر تے ہوئے آیا شکار پرندوں میں سے تھا یا اس کے

علاوہ؟شکار چھوٹا تھا یا بڑا؟ شکاری اپنے عمل پر قائم ہے یا شرمندہ ہے؟ آیا شکار رات میں ہوا ہے یا دن میں ؟ آیا محرم حج عمرہ میں تھا یا حج واجب میں ؟"

یہ سوالات سن کر یحییٰ بن اکثم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور تاریخ لکھنے والوں کے بقول گھبراہٹ کے آثار یحییٰ کے چہرے پر اس قدر واضح تھے کہ دربار میں موجود ہر شخص نے اس کو محسوس کیا جب یحییٰ امام- کے سوال کا جواب نہ دے سکا تو خلیفہ نے امام- سے درخواست کی کہ آپ- ہی اس کا جواب دے دیجئے تو امام نے اپنے سوال کا تفصیل سے جواب دیا ۔

معتصم عباسی خلیفہ کے زمانے میں کسی چور نے اپنی چوری کا خود سے اقرار کیا اور خلیفہ سے کہا کہ مجھ پر حد جاری کی جائے۔

خلیفہ نے علماء سے پوچھا کہ حد کا اجراء کہاں تک ہے قاضی احمد ابن داؤد نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ کلائی تک حد کا اجراء ہو۔

خلیفہ نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے اس نے کہا کہ تیمم کے بارے میں خدا وندکا ارشاد ہے کہ "وامسحوا بوجوھکم وایدیکم" اوربہت سے علماء اس سے متفق ہیں اسی دوران میں خلیفہ نے محمد تقی- کو بلا بھیجا۔ کچھ دوسرے علماء نے اپنی رائے کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا کہنی تک کاٹنا ضروری ہے کیونکہ خدا کا ارشاد ہے کہ "ایدیکم الی المرافق" ان اختلاف آراء کے بعد معتصم نے امام- سے دریافت کیا کہ اے ابو جعفر- اس سلسلے میں آپ- کی کیا رائے ہے امام نے فرمایا کہ جو جماعت کہتی ہے معتصم نے کہا کہ آپ- اس کو چھوڑئیے میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنی رائے بتائیے امام- نے فرمایا اب جب کہ تم نے مجھ کو خدا کی قسم دی ہے اس لئے یہ کہہ رہا ہوں کہ علماء نے جو رائے دی ہے اس سلسلے میں انہوں نے غلطی کی ہے ہاتھ کاٹنے میں واجب یہ ہے کہ ہتھیلی کو چھوڑ کر انگلیوں کو جڑ سے کاٹ دیا جائے معتصم نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے امام- نے فرمایا کہ رسول خدا کا ارشاد ہے کہ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے پیشانی ، دونوں ، ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں ،دونوں انگو ٹھے اگر چور کا ہاتھ کلائی یا کہنی سے کاٹ دیا جائے تو سجدہ کر نے کے لئے اس کا ہاتھ باقی نہیں رہے گا اور خدا کا ارشاد ہے کہ "ان المساجد للّٰہ۔۔۔"کہ جس سے مراد یہی سات اعضاء ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوا س کو کاٹا نہیں جا سکتا معتصم امام- کا جواب سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے یہی حکم جاری کیا ۔

اس طرح سے اس دور میں کہ جب منصب امامت کو کم سنی کا الزام لگا کر لوگوں سے دور کیا جارہا تھا امام محمد تقی- نے عام درباروں اور محفلوں میں ان مسائل کا حل پیش کرکے لوگوں کے منہ بند کردیئے۔

امام علی نقی- اور سیاست

اسلام کے ابتدائی دور میں اسلامی معاشرہ محدود تھا اسلامی تعلیمات عام تھیں اور لوگ اسلام کے گرد جمع تھے یہ اسلامی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے وہ عظیم ایثار اور فدا کاری انجام دی ۔ لیکن جیسے جیسے خود خواہ افراد حکومت کے منصب کو سنبھالنے لگے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہونے لگے تو لوگوں کا اعتماد بھی حکومت پر سے اٹھ گیا بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں نے حکومت کے خلاف اپنی تحریکیں شروع کر دیں ۔

حکومت کو ہر دور میں سب سے زیادہ خطرہ آئمہ (علیہم السلام)سے تھا یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ نے آئمہ (علیہم السلام) کواپنے زیر نظر رکھا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات و سکنات کی تحقیقات کیں۔ امام علی نقی- کے زمانے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی امام- کو زبردستی مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اس زمانہ کے دارالحکومت یعنی سامرہ میں بلالیا گیا تاکہ حکومت مکمل طور سے امام- کی سر گرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ اسی انثاء میں حکومت اور خلفاء کی یہ بھی کوشش رہی کہ امام- کی حیثیت کو لوگوں کے سامنے کم کریں اور اس ہدف کو حاصل کر نے کے لئے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے لیکن امام- نے کبھی اپنے علم سے کبھی زور امامت سے اور کبھی علم غیب کی مدد سے ان کے ان مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

متوکل نے ایک دن ہندی جادوگر سے کہا کہ اگر وہ امام- کو کھلے دربار میں بے عزت کر دے تو وہ اس کو منہ مانگا انعام دے گا۔ جادو گر نے کہا کہ امام- کو کھانے پر بلاؤ اور ہلکی روٹیاں پکا کر امام- کے سامنے رکھ دو اور مجھ کو امام- کے برابر میں بٹھا دو باقی کام میرا ہے۔ متوکل نے تمام علماء اور دانشوروں کو کھانے پر مدعو کیا من جملہ امام- کو بھی بلایا امام- آنے سے منع کیا لیکن پھر مجبوراً آنا پڑا جب دسترخوان بچھایا گیا تو جادو گر کو امام- کے برابر میں بٹھا دیا گیا امام- نے جیسے ہی روٹی اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو روٹی پھدک کر آگے چلی گئی امام- نے دوسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر ویسے ہی ہوا امام- نے تیسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر روٹی پھدک کر آگے چلی گئی اس عرصہ میں تمام دربار یوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔

امام- نے جب یہ منظر دیکھا تو دربار میں موجود ایک شیر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس جادو گر کو کھا جاؤ ۔ شیر تصویر سے باہر آیا اور جادو گر کو کھا کر واپس تصویر بن گیا یہ ماجرا دیکھ کر متوکل تو بیہوش ہو گیا اور باقی تمام افراد حواس باختہ ادھر ادھر فرار کر گئے جب خلیفہ کو ہوش آیا تو اس نے امام- سے درخواست کی کہ اس جادو گر کو واپس کر دیجئے امام- نے فرمایا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ کہنے کے بعد امام- واپس تشریف لے گئے۔

معتصم عباسی نے اپنے زمانے میں اسلامی فوج میں عرب اور فارس کی تعداد کم کر کے ترکوں کو بھرتی کر نا شروع کیا اور کچھ عرصہ میں ترک افراد فوج میں اکثریت میں ہو گئے۔ اور ان کا اثرو رسوخ حکومت پر زیادہ ہو گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ حکومت اپنی بقا کے لئے ان کی محتاج ہے تو انہوں نے حکومت پر اپنی خواہشات کو مسلط کر نا شروع کر دیا اپنے ارادہ اور خواہشات کی بناء پر ایک خلیفہ کو ہٹا کر دوسرے کو اس کا جانشین کر دیتے تھے صرف امام ہادی- کے ۳۳ سالہ دور امامت میں ان ترکوں نے چھ عباسی خلفاء کو حکومت سے بر کنار کیا اور دوسرے کو اس کا جانشین مقرر کیا جب معتز خلیفہ خلافت کے منصب پر فائز ہوا تو اس نے دربار کے نجومیوں سے کہا کہ حساب کر کے بتائیں کہ حکومت کتنے عرصہ بر قرار رہے گی۔ دربار کے مسخرہ نے کہا کہ یہ تو میں بھی بتا سکتا ہوں تو دربار والوں نے اس سے پوچھا کہ کب تک خلیفہ کی حکومت قائم رہے گی تو اس نے جواب دیا کہ جب تک ترک چاہیں گے۔(الفحزی صفحہ ۲۲۰ تاریخ تمدن اسلامی جلد ۴ صفحہ ۱۸۰)

ترک اس قدر حکومت پر مسلط تھے اور امام محمد تقی ہادی- بھی اس چیز کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ واثق کی حکومت کے دور میں عرب مخالفین کی سرکوبی کے لئے ترک کمانڈر کی زیر نگرانی فوج مدینہ بھیجی گئی ایک دن امام- نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ چلو ذرا چل کر نزدیک سے اس ترک کمانڈر کے لشکر کو تو دیکھیں آپ- اپنے اصحاب کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے اور لشکر کے گزرنے کا انتظار کر نے لگے فوج کا کمانڈر جو کہ ترک تھا جب وہاں سے گزرنے لگا تو امام نے اس سے ترکی زبان میں کچھ کہا وہ کمانڈر اپنے گھوڑے سے اتر اور امام- کے پاؤں چومنے لگا جب وہ واپس جانے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ اے شخص علی بن محمد- نے تم سے ایسی کون سی بات کہہ دی کہ جو تم اس قدر شدت سے ان کے فریفتہ ہو گئے اس کمانڈر نے کہا کہ یہ آقا کون ہیں ؟

انھوں نے پو چھا کیوں۔

کمانڈر نے کہا کہ اس شخص نے مجھ کو اس نام سے پکارا ہے جس سے میرے گاؤں کے لوگ مجھ کو بچپن میں پکارا کر تے تھے اور کوئی بھی شخص اس نام سے آگاہ نہیں ہے۔ (انور البھیہ صفحہ ۳۰۰)

حضرت امام حسن عسکری- اور سیاست

حضرت امام علی نقی- اور امام حسن عسکری- کو حکومت نے سامرہ بلوایا اس کی وہی سیاست تھی جو مامون نے امام رضا- کے ساتھ چلی تھی وہ یہ کہ امام کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ اس مضبوط زنجیر کو توڑ دیں جو کہ امام اور ان کے حامیوں کے درمیان بن چکی تھی حکومت نے امام سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنارابطہ برقرار رکھیں گے جس کے لئے امام کو ہر پیر اور جمعرات کو دربار میں جانا ضروری تھا۔ حکومت نے بظاہر کچھ عرصہ کی قید کے علاوہ امام- کو کوئی اذیت نہیں پہنچائی لیکن زمانے کی حالت کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔

علی بن جعفر حلبی کہتے ہیں کہ ہم چھاؤنی میں جمع تھے اور منتظر تھے امام کے، کیوں کہ ان کو دربار میں جانا تھا کہ اتنے میں مجھے ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا کہ:

"کوئی مجھ کو سلام نہ کرے کوئی تم میں سے مجھ کو اشارہ نہ کرے تم خطرے میں ہو"

یہ واقعہ بخوبی ہم کو حکومت کی سختی کے بارے میں بتاتا ہے کہ حکومت نے امام- اور شیعوں کے روابط کو کس قدر کنٹرول میں رکھا تھا۔

امام- نے حکومت کے ان ہی حربوں کو دیکھتے ہوئے اپنے بعد آنے والے امام کے لئے میدان فراہم کیا اور اصحاب کا ایک ایسا گروہ تیار کرلیا جو فقط خط و کتابت کے ذریعے سے آپ- سے رابطہ برقرار رکھتا تھا۔

آپ- نے تمام علاقوں میں اپنے وکیل مقرر کئے تھے جو علاقہ کے مسائل اور وہاں جمع ہونے والی رقم آپ- کے ان نمائندوں تک پہنچاتے تھے جن کا آپ سے رابطہ تھا اس سلسلے کی سب سے اہم شخصیت عثمان بن سعید عمری کی ہے جو امام زمانہ عج کے پہلے نائب خاص بھی تھے۔

خط بھیجنے کے لئے بھی امام- کے مخصوص افراد تھے جن میں ایک ابو الدیان تھے وہ کہتے ہیں کہ:

میں امام حسن عسکری- کا خدمت گزار تھا اور حضرت کے خطوط کو مختلف شہروں میں لے کر جاتا تھا آخری خط دیتے ہوئے امام- نے فرمایا کہ یہ خط مدائن لے کر جاؤ اور تم پندرہ دن میں واپس آؤگے جب پلٹو گے تو مجھ کو غسل دینے کی حالت میں پاؤگے ابو الدیان کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی پایا۔

امام- نے اپنی وکالت کے جال کو منظم کیا اور اس کے دو مقاصد تھے۔

۱ ۔ شیعوں کی ہدایت راہنمائی کرنا، ان کی واجب رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں تاکہ دین کی حفاظت ہوسکے۔

۲ ۔ ایسے افراد کی پہچان کروانا جن پر آپ- مکمل اعتماد کرتے تھے تاکہ معاشرے میں ان کی شخصیت بنے۔

بہرحال یہ افراد آگے چل کر امام زمانہ (عج) کی غیبت صغری اور پھر غیبت کبریٰ میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔

اس طرح امام- نے ایک ایسے زمانے میں کہ جب آپ- پر حکومت کی کڑی نظر تھی ایک ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے جو امامت کی درپردہ شخصیت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاسکے۔

نتیجہ

آئمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا اس کا مطالعہ کریں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہیں رہے گا کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے مثال (آئیڈیل) بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم میں شمولیت اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔ آئمہ(علیہم السلام)کی زندگی کے ان پہلوں کو نظر میں رکھ کر ہم کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری شخصیت بحثیت شیعہ کے کیا ہے؟

کہیں ایسا تونہیں کہ آئمہ(علیہم السلام)کی محبت ہماری زبانوں تک ہی محدود ہو یایو ں کہہ لیجئے کہ ہم سال کے کچھ ہی دنوں میں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سال کے باقی حصہ میں ہماری زبان ان کے ساتھ مگر ہماری تلواریں (اعمال) یزید اور معاویہ کے ساتھ۔ سال کے باقی دنوں میں آئمہ(علیہم السلام)کی تعلیمات کا ہمارے آس پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی آئمہ(علیہم السلام)کے ساتھ ہوں تواس کا فقط اور فقط ایک ہی پیمانہ ہے اور ایک ہی میزان ہے اور وہ ہے عمل۔ہر شخص اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ کس کا ماننے والا ہے۔

ہم سیرت آئمہ اطہار(علیہم السلام)کویہ کہہ کر نہ چھوڑدیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط آئمہ(علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے۔اگر ہم یہ سوچ کر آئمہ اطہار(علیہم السلام)کی عملی زندگی کو چھوڑدیں گے یہ سب سے بڑاظلم ہوگا جو کہ ہم خود ان کے چاہنے والے آئمہ اطہار(علیہم السلام)پر کریں گے

والسلام علینا وعلی عباداللّٰہ الصالحین

( ۱۲ صفر المظفر ۱۴۱۵ ھ)

امام محمد تقی- اور سیاست

امام محمد تقی- ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۰۳ ئھ میں امام رضا- کے بعد ۸ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ آئمہ اہل بیت (علیہم السلام)کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی امام کی امامت ۸ سال کی عمر میں شروع ہوئی ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ بلوغ کی حدود تک پہنچنے سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہوئے ہوں (البتہ یہ آغاز تھا اس بات کا کہ باقی آئمہ (علیہم السلام) کوبھی کم سنی میں امامت ملے جسیے امام علی نقی- اور خود امام زمانہ(عج)کہ ان حضرات(علیہم السلام) کو بالترتیب ۸ اور ۵ سال کی عمر میں امامت ملی )یہی وجہ تھی کہ امام رضا- کی تاکید کے با وجود شیعوں میں بھی امام محمد تقی- کی کم سنی اختلاف کا باعث بنی تو چہ جائے کہ شیعوں کے مخالف افراد، اسی وجہ سے حکومت کے کارندوں نے لوگوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی محمد بن علی رضا- میں امام بننے کی صلاحیت نہیں ہے اس طرح کی افواہوں سے حکومت کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو امام سے دور کر دیا جائے، لیکن امام محمد تقی- نے اپنی کم سنی کے با وجود کیونکہ علم لدنی کے حامل تھے، خلیفہ کے اس جال کو بھی توڑنا شروع کر دیا آپ- نے اپنی علمی سر گرمیوں کو تیز کر دیا اور علمی محفلوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ۔

جب امام- خلیفہ کے اصرار پر مدینہ سے بغداد تشریف لائے تو خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کی شادی آپ- سے کر دی جائے تاکہ امام- کی سر گرمیاں بھی زیر نظر رہیں اور شیعوں کے آنے جانے پر بھی نظر رکھی جا سکے لیکن خلیفہ نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے دربار والے اس سے شکایت کر نے لگے کہ یہ تو ابھی کم سن ہیں اور اس کی معلومات دین کے متعلق کم ہیں خلیفہ نے کہا کہ اگر چاہتے ہو تو محمد بن علی- کا امتحان لے لو (کیونکہ خود خلیفہ کی بھی یہی خواہش تھی کہ اگر ہو سکے تو کسی طرح سے امام کو شکست دے کر عوام کے سامنے رسواء کر دیا جائے)دربار کے علماء نے یحییٰ بن اکثم جو کہ مشہور اور نامی گرامی فقیہ اور قاضی تھا کو آمادہ کر لیا کہ وہ امام- سے بھرے دربار میں ایسا سوال کر ے کہ امام- اس کا جواب نہ دے سکیں ۔ جب امام- دربار میں تشریف لائے تو یحییٰ بن اکثم نے خلیفہ سے اجاز ت لے کر امام- سے سوال پوچھا کہ اگر محرم (جس نے احرام حج باندھا ہوا ہے) حرم خدا کی حدود میں کسی جانور کو قتل کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

امام- نے ا سکے جواب میں اکثم سے سوال کیا کہ:

"محرم نے اس کو حرم میں شکار کیا ہے یا کسی اور جگہ؟ مارنے والا حکم کو جانتا تھا یا نہیں ؟ عمداً مارا ہے یا سہواً؟ آیا ابتداء اس کو مارا ہے یا دفاع کر تے ہوئے آیا شکار پرندوں میں سے تھا یا اس کے

علاوہ؟شکار چھوٹا تھا یا بڑا؟ شکاری اپنے عمل پر قائم ہے یا شرمندہ ہے؟ آیا شکار رات میں ہوا ہے یا دن میں ؟ آیا محرم حج عمرہ میں تھا یا حج واجب میں ؟"

یہ سوالات سن کر یحییٰ بن اکثم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور تاریخ لکھنے والوں کے بقول گھبراہٹ کے آثار یحییٰ کے چہرے پر اس قدر واضح تھے کہ دربار میں موجود ہر شخص نے اس کو محسوس کیا جب یحییٰ امام- کے سوال کا جواب نہ دے سکا تو خلیفہ نے امام- سے درخواست کی کہ آپ- ہی اس کا جواب دے دیجئے تو امام نے اپنے سوال کا تفصیل سے جواب دیا ۔

معتصم عباسی خلیفہ کے زمانے میں کسی چور نے اپنی چوری کا خود سے اقرار کیا اور خلیفہ سے کہا کہ مجھ پر حد جاری کی جائے۔

خلیفہ نے علماء سے پوچھا کہ حد کا اجراء کہاں تک ہے قاضی احمد ابن داؤد نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ کلائی تک حد کا اجراء ہو۔

خلیفہ نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے اس نے کہا کہ تیمم کے بارے میں خدا وندکا ارشاد ہے کہ "وامسحوا بوجوھکم وایدیکم" اوربہت سے علماء اس سے متفق ہیں اسی دوران میں خلیفہ نے محمد تقی- کو بلا بھیجا۔ کچھ دوسرے علماء نے اپنی رائے کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا کہنی تک کاٹنا ضروری ہے کیونکہ خدا کا ارشاد ہے کہ "ایدیکم الی المرافق" ان اختلاف آراء کے بعد معتصم نے امام- سے دریافت کیا کہ اے ابو جعفر- اس سلسلے میں آپ- کی کیا رائے ہے امام نے فرمایا کہ جو جماعت کہتی ہے معتصم نے کہا کہ آپ- اس کو چھوڑئیے میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنی رائے بتائیے امام- نے فرمایا اب جب کہ تم نے مجھ کو خدا کی قسم دی ہے اس لئے یہ کہہ رہا ہوں کہ علماء نے جو رائے دی ہے اس سلسلے میں انہوں نے غلطی کی ہے ہاتھ کاٹنے میں واجب یہ ہے کہ ہتھیلی کو چھوڑ کر انگلیوں کو جڑ سے کاٹ دیا جائے معتصم نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے امام- نے فرمایا کہ رسول خدا کا ارشاد ہے کہ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے پیشانی ، دونوں ، ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں ،دونوں انگو ٹھے اگر چور کا ہاتھ کلائی یا کہنی سے کاٹ دیا جائے تو سجدہ کر نے کے لئے اس کا ہاتھ باقی نہیں رہے گا اور خدا کا ارشاد ہے کہ "ان المساجد للّٰہ۔۔۔"کہ جس سے مراد یہی سات اعضاء ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوا س کو کاٹا نہیں جا سکتا معتصم امام- کا جواب سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے یہی حکم جاری کیا ۔

اس طرح سے اس دور میں کہ جب منصب امامت کو کم سنی کا الزام لگا کر لوگوں سے دور کیا جارہا تھا امام محمد تقی- نے عام درباروں اور محفلوں میں ان مسائل کا حل پیش کرکے لوگوں کے منہ بند کردیئے۔

امام علی نقی- اور سیاست

اسلام کے ابتدائی دور میں اسلامی معاشرہ محدود تھا اسلامی تعلیمات عام تھیں اور لوگ اسلام کے گرد جمع تھے یہ اسلامی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے وہ عظیم ایثار اور فدا کاری انجام دی ۔ لیکن جیسے جیسے خود خواہ افراد حکومت کے منصب کو سنبھالنے لگے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہونے لگے تو لوگوں کا اعتماد بھی حکومت پر سے اٹھ گیا بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں نے حکومت کے خلاف اپنی تحریکیں شروع کر دیں ۔

حکومت کو ہر دور میں سب سے زیادہ خطرہ آئمہ (علیہم السلام)سے تھا یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ نے آئمہ (علیہم السلام) کواپنے زیر نظر رکھا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات و سکنات کی تحقیقات کیں۔ امام علی نقی- کے زمانے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی امام- کو زبردستی مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اس زمانہ کے دارالحکومت یعنی سامرہ میں بلالیا گیا تاکہ حکومت مکمل طور سے امام- کی سر گرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ اسی انثاء میں حکومت اور خلفاء کی یہ بھی کوشش رہی کہ امام- کی حیثیت کو لوگوں کے سامنے کم کریں اور اس ہدف کو حاصل کر نے کے لئے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے لیکن امام- نے کبھی اپنے علم سے کبھی زور امامت سے اور کبھی علم غیب کی مدد سے ان کے ان مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

متوکل نے ایک دن ہندی جادوگر سے کہا کہ اگر وہ امام- کو کھلے دربار میں بے عزت کر دے تو وہ اس کو منہ مانگا انعام دے گا۔ جادو گر نے کہا کہ امام- کو کھانے پر بلاؤ اور ہلکی روٹیاں پکا کر امام- کے سامنے رکھ دو اور مجھ کو امام- کے برابر میں بٹھا دو باقی کام میرا ہے۔ متوکل نے تمام علماء اور دانشوروں کو کھانے پر مدعو کیا من جملہ امام- کو بھی بلایا امام- آنے سے منع کیا لیکن پھر مجبوراً آنا پڑا جب دسترخوان بچھایا گیا تو جادو گر کو امام- کے برابر میں بٹھا دیا گیا امام- نے جیسے ہی روٹی اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو روٹی پھدک کر آگے چلی گئی امام- نے دوسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر ویسے ہی ہوا امام- نے تیسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر روٹی پھدک کر آگے چلی گئی اس عرصہ میں تمام دربار یوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔

امام- نے جب یہ منظر دیکھا تو دربار میں موجود ایک شیر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس جادو گر کو کھا جاؤ ۔ شیر تصویر سے باہر آیا اور جادو گر کو کھا کر واپس تصویر بن گیا یہ ماجرا دیکھ کر متوکل تو بیہوش ہو گیا اور باقی تمام افراد حواس باختہ ادھر ادھر فرار کر گئے جب خلیفہ کو ہوش آیا تو اس نے امام- سے درخواست کی کہ اس جادو گر کو واپس کر دیجئے امام- نے فرمایا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ کہنے کے بعد امام- واپس تشریف لے گئے۔

معتصم عباسی نے اپنے زمانے میں اسلامی فوج میں عرب اور فارس کی تعداد کم کر کے ترکوں کو بھرتی کر نا شروع کیا اور کچھ عرصہ میں ترک افراد فوج میں اکثریت میں ہو گئے۔ اور ان کا اثرو رسوخ حکومت پر زیادہ ہو گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ حکومت اپنی بقا کے لئے ان کی محتاج ہے تو انہوں نے حکومت پر اپنی خواہشات کو مسلط کر نا شروع کر دیا اپنے ارادہ اور خواہشات کی بناء پر ایک خلیفہ کو ہٹا کر دوسرے کو اس کا جانشین کر دیتے تھے صرف امام ہادی- کے ۳۳ سالہ دور امامت میں ان ترکوں نے چھ عباسی خلفاء کو حکومت سے بر کنار کیا اور دوسرے کو اس کا جانشین مقرر کیا جب معتز خلیفہ خلافت کے منصب پر فائز ہوا تو اس نے دربار کے نجومیوں سے کہا کہ حساب کر کے بتائیں کہ حکومت کتنے عرصہ بر قرار رہے گی۔ دربار کے مسخرہ نے کہا کہ یہ تو میں بھی بتا سکتا ہوں تو دربار والوں نے اس سے پوچھا کہ کب تک خلیفہ کی حکومت قائم رہے گی تو اس نے جواب دیا کہ جب تک ترک چاہیں گے۔(الفحزی صفحہ ۲۲۰ تاریخ تمدن اسلامی جلد ۴ صفحہ ۱۸۰)

ترک اس قدر حکومت پر مسلط تھے اور امام محمد تقی ہادی- بھی اس چیز کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ واثق کی حکومت کے دور میں عرب مخالفین کی سرکوبی کے لئے ترک کمانڈر کی زیر نگرانی فوج مدینہ بھیجی گئی ایک دن امام- نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ چلو ذرا چل کر نزدیک سے اس ترک کمانڈر کے لشکر کو تو دیکھیں آپ- اپنے اصحاب کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے اور لشکر کے گزرنے کا انتظار کر نے لگے فوج کا کمانڈر جو کہ ترک تھا جب وہاں سے گزرنے لگا تو امام نے اس سے ترکی زبان میں کچھ کہا وہ کمانڈر اپنے گھوڑے سے اتر اور امام- کے پاؤں چومنے لگا جب وہ واپس جانے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ اے شخص علی بن محمد- نے تم سے ایسی کون سی بات کہہ دی کہ جو تم اس قدر شدت سے ان کے فریفتہ ہو گئے اس کمانڈر نے کہا کہ یہ آقا کون ہیں ؟

انھوں نے پو چھا کیوں۔

کمانڈر نے کہا کہ اس شخص نے مجھ کو اس نام سے پکارا ہے جس سے میرے گاؤں کے لوگ مجھ کو بچپن میں پکارا کر تے تھے اور کوئی بھی شخص اس نام سے آگاہ نہیں ہے۔ (انور البھیہ صفحہ ۳۰۰)

حضرت امام حسن عسکری- اور سیاست

حضرت امام علی نقی- اور امام حسن عسکری- کو حکومت نے سامرہ بلوایا اس کی وہی سیاست تھی جو مامون نے امام رضا- کے ساتھ چلی تھی وہ یہ کہ امام کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ اس مضبوط زنجیر کو توڑ دیں جو کہ امام اور ان کے حامیوں کے درمیان بن چکی تھی حکومت نے امام سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنارابطہ برقرار رکھیں گے جس کے لئے امام کو ہر پیر اور جمعرات کو دربار میں جانا ضروری تھا۔ حکومت نے بظاہر کچھ عرصہ کی قید کے علاوہ امام- کو کوئی اذیت نہیں پہنچائی لیکن زمانے کی حالت کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔

علی بن جعفر حلبی کہتے ہیں کہ ہم چھاؤنی میں جمع تھے اور منتظر تھے امام کے، کیوں کہ ان کو دربار میں جانا تھا کہ اتنے میں مجھے ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا کہ:

"کوئی مجھ کو سلام نہ کرے کوئی تم میں سے مجھ کو اشارہ نہ کرے تم خطرے میں ہو"

یہ واقعہ بخوبی ہم کو حکومت کی سختی کے بارے میں بتاتا ہے کہ حکومت نے امام- اور شیعوں کے روابط کو کس قدر کنٹرول میں رکھا تھا۔

امام- نے حکومت کے ان ہی حربوں کو دیکھتے ہوئے اپنے بعد آنے والے امام کے لئے میدان فراہم کیا اور اصحاب کا ایک ایسا گروہ تیار کرلیا جو فقط خط و کتابت کے ذریعے سے آپ- سے رابطہ برقرار رکھتا تھا۔

آپ- نے تمام علاقوں میں اپنے وکیل مقرر کئے تھے جو علاقہ کے مسائل اور وہاں جمع ہونے والی رقم آپ- کے ان نمائندوں تک پہنچاتے تھے جن کا آپ سے رابطہ تھا اس سلسلے کی سب سے اہم شخصیت عثمان بن سعید عمری کی ہے جو امام زمانہ عج کے پہلے نائب خاص بھی تھے۔

خط بھیجنے کے لئے بھی امام- کے مخصوص افراد تھے جن میں ایک ابو الدیان تھے وہ کہتے ہیں کہ:

میں امام حسن عسکری- کا خدمت گزار تھا اور حضرت کے خطوط کو مختلف شہروں میں لے کر جاتا تھا آخری خط دیتے ہوئے امام- نے فرمایا کہ یہ خط مدائن لے کر جاؤ اور تم پندرہ دن میں واپس آؤگے جب پلٹو گے تو مجھ کو غسل دینے کی حالت میں پاؤگے ابو الدیان کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی پایا۔

امام- نے اپنی وکالت کے جال کو منظم کیا اور اس کے دو مقاصد تھے۔

۱ ۔ شیعوں کی ہدایت راہنمائی کرنا، ان کی واجب رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں تاکہ دین کی حفاظت ہوسکے۔

۲ ۔ ایسے افراد کی پہچان کروانا جن پر آپ- مکمل اعتماد کرتے تھے تاکہ معاشرے میں ان کی شخصیت بنے۔

بہرحال یہ افراد آگے چل کر امام زمانہ (عج) کی غیبت صغری اور پھر غیبت کبریٰ میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔

اس طرح امام- نے ایک ایسے زمانے میں کہ جب آپ- پر حکومت کی کڑی نظر تھی ایک ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے جو امامت کی درپردہ شخصیت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاسکے۔

نتیجہ

آئمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا اس کا مطالعہ کریں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہیں رہے گا کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے مثال (آئیڈیل) بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم میں شمولیت اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔ آئمہ(علیہم السلام)کی زندگی کے ان پہلوں کو نظر میں رکھ کر ہم کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری شخصیت بحثیت شیعہ کے کیا ہے؟

کہیں ایسا تونہیں کہ آئمہ(علیہم السلام)کی محبت ہماری زبانوں تک ہی محدود ہو یایو ں کہہ لیجئے کہ ہم سال کے کچھ ہی دنوں میں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سال کے باقی حصہ میں ہماری زبان ان کے ساتھ مگر ہماری تلواریں (اعمال) یزید اور معاویہ کے ساتھ۔ سال کے باقی دنوں میں آئمہ(علیہم السلام)کی تعلیمات کا ہمارے آس پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی آئمہ(علیہم السلام)کے ساتھ ہوں تواس کا فقط اور فقط ایک ہی پیمانہ ہے اور ایک ہی میزان ہے اور وہ ہے عمل۔ہر شخص اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ کس کا ماننے والا ہے۔

ہم سیرت آئمہ اطہار(علیہم السلام)کویہ کہہ کر نہ چھوڑدیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط آئمہ(علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے۔اگر ہم یہ سوچ کر آئمہ اطہار(علیہم السلام)کی عملی زندگی کو چھوڑدیں گے یہ سب سے بڑاظلم ہوگا جو کہ ہم خود ان کے چاہنے والے آئمہ اطہار(علیہم السلام)پر کریں گے

والسلام علینا وعلی عباداللّٰہ الصالحین

( ۱۲ صفر المظفر ۱۴۱۵ ھ)


4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18