۱۰۱ دلچسپ مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے16%

۱۰۱ دلچسپ مناظرے مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 29 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 36612 / ڈاؤنلوڈ: 7219
سائز سائز سائز
۱۰۱ دلچسپ مناظرے

۱۰۱ دلچسپ مناظرے

مؤلف:
اردو

1

2

3

دوسرا حصہ:

اکابر علمائے اسلام کے مختلف گروہوں کے ساتھ مناظرے

۳۱۔سبط ابن جوزی سے ایک ہوشیار عورت کا مناظرہ

سبط ابن جوزی اہل سنت کے ایک بہت ہی مشہور ومعروف عالم تھے ،اس نے بہت ہی اہم کتابیں بھی لکھی ہیں یہ بغداد کی مسجدوں میں وعظ کیا کرتے تھے اور لوگوں کی تبلیغ کرتے تھے ۱۲ رمضان المبارک ۵۹۸ ھ کو ان کی وفات ہوئی۔( ۲۹ )

حضرت علی علیہ السلام کی مشہور فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر بھرے مجمع میں ” سلونی قبل ان تفقدونی“کہا کرتے تھے۔اس طرح کی باتیں آپ اور دوسرے معصوم ائمہ علیہم السلام سے مخصوص ہیں ان کے علاوہ جس نے بھی اس کا دعویٰ کیا وہ ذلیل ہوا،اب آپ ایک باہمت عورت کا سبط ابن جوزی کے ساتھ مناظرہ ملاحظہ فرمائیں:

سبط ابن جوزی نے بھی ایک دن منبر پر جانے کے بعد دعوائے سلونی کرتے ہوئے اعلان کردیا کہ اے لوگو! تمہیں جو کچھ بھی پوچھنا ہے پوچھ قبل اس کے میں تمہارے درمیان نہ رہوں، منبر کے نیچے بہت سے شیعہ سنی مرد اور عورت بیٹھے ہوئے تھے۔یہ سنتے ہی ان میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور اس نے سبط ابن جوزی سے اس طرح سوال کیا۔

تم مجھے یہ بتاوکہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ جب عثمان کو قتل کر دیا گیا تو ان کا جنازہ تین دن تک پڑا رہا اور کوئی بھی انھیں دفن کرنے نہ آیا؟

سبط: ”ہاں ایسا ہی ہے ۔“

عورت: ”کیا یہ بھی صحیح ہے کہ جب جناب سلمان علیہ الرحمة نے مدائن میں وفات پائی تو حضرت علی علیہ السلام مدینہ (یا کوفہ) سے مدائن گئے اور آپ نے ان کی تجہیز وتکفین میں شرکت کی اور ان کی نماز جناز ہ پڑھائی ؟“

سبط: ”ہاں صحیح ہے“۔

”لیکن علی علیہ السلام عثمان کی وفات کے بعد ان کے جنازے پر کیوں نہیں گئے جب کہ وہ خود مدینہ میں موجود تھے اس طرح دوہی صورت رہ جاتی ہے یا توحضرت علی علیہ السلام نے غلطی کی کہ ایک مومن کی لاش تین دن تک پڑی رہی اور آپ گھر ہی میں بیٹھے رہے یا پھر عثمان غیر مومن تھے جس کی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تجہیز وتکفین میں کسی طرح کا کوئی حصہ نہیں لیا اور اپنے عمل کو اپنے لئے درست سمجھا۔”یہاں تک کہ انھیں تین روز بعد مخفی طور پر قبرستان بقیع کے پیچھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیاگیا جیسا کہ طبری نے اپنی تاریخ میں یہ ذکر کیا ہے (ج ۹ ،ص ۱۴۳ ۔)

ابن جوزی اس عورت کے اس سوال کے آگے بے بس ہو گیا کیونکہ اس نے دیکھا کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک کو بھی خطا کار ٹھہرا ئے گا تو یہ بات خلاف عقیدہ ہوجائے گی کیونکہ اس کے نزدیک دونوں خلیفہ حق پر تھے لہٰذا اس نے اس عورت کو مخاطب کر تے ہوئے کہا:

اے عورت !وائے ہوتجھ پر،اگر تو اپنے شوہر کی اجازت سے گھر کے باہر آئی کہ نامحرموں کے درمیان مناظرہ کررہی ہے، تو خدا تیرے شوہر پر لعنت کرے اور اگر بغیر اجاز ت آئی ہے تو خدا تجھ پر لعنت کرے“۔

اس ہو شمند عورت نے بڑی بے باکی سے جواب دیا:

”آیا عایشہ جنگ جمل میں مولائے کائنا ت علی ابن ابی طالب سے لڑنے اپنے شوہر رسول اکرم کی اجازت سے آئیں تھیں یا بغیر اجازت کے ؟“

یہ سوال سن کر سبط ابن جوزی کے رہے سہے ہوش بھی جاتے رہے اور وہ بوکھلا گیا کیونکہ اگر وہ یہ کہے کہ عائشہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ہی آئی تھیں تو عائشہ خطاکار ہوں گی اور اگر یہ کہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت سے باہر آئیں تھیں تو علی علیہ السلام خطاکار ٹھہرتے تھے، یہ دونوں صورت حال اس کے اس عقیدہ کے خلاف تھیں، لہٰذا وہ نہایت بے بسی کے عالم میں منبر سے اتر ا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔( ۳۰ )

۳۲۔ایک حملہ میں تین سوالوں کے جواب

بہلول بن عمرو کوفی امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم علیہما السلام کے زمانہ کے ایک زبردست عالم تھے انھوں نے ہارون کے سامنے پیش کئے جانے والے عہدہ قضاوت سے جان چھڑانے کے لئے خود کو دیوانہ بنا لیا تھا ، وہ مناظر ہ میں بڑی مہارت رکھتے تھے اور مخالف کے الٹے سیدھے اعتراضوں کا بڑا عمدہ جواب دیاکرتے تھے، انھوں نے سن رکھا تھا کہ ابو حنیفہ نے اپنے ایک درس میں کہا کہ جعفر بن محمد (امام صادق علیہ السلام )نے تین باتیں کہیں ہیں، لیکن میں ان میں سے کسی بھی بات کو قابل قبول نہیں سمجھتا اوروہ تین باتیں یہ ہیں:

۱ ۔ شیطان جہنم کی آگ میں جلایا جائے گا۔ان کی یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ خود آگ ہے لہٰذاآگ اسے کیسے جلا سکتی ہے؟

۲ ۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا دکھائی نہیں دیتا۔جب کہ جو چیز بھی موجود ہے اسے دکھائی دینا چاہئے۔

۳ ۔ بندے جو کام انجام دیتے ہیں وہ اپنے اختیار وارادے سے انجام دیتے ہیں ان کی یہ بات بھی سراسر ان احادیث و روایات کے مخالف ہے جو اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ بندوں کے تمام کام خدا کی طرف منسوب ہیں اور اس کے حکم کے بغیر کوئی کام انجام نہیںپایا۔

ایک دن ابوحنیفہ بہلول کو نظر آگئے انھوں نے زمین سے ایک ڈھیلااٹھایا اور ان کی پیشانی پر مار دیا ابو حنیفہ نے ہارون سے بہلول کی شکایت کی اور ہارون نے بہلول کو بلوالیا اور ان کی سرزنش کرنے لگا تو آپ نے ابو حنیفہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا:

۱ ۔ تمہیں جو درد ہو رہا ہے دکھاو ورنہ اس عقیدہ کو غلط کہو جو تم یہ کہتے ہو کہ ہر موجود چیز کا دکھائی دینا ضروری ہے۔

۲ ۔ اسی طرح تمہارا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی چیز اپنی ہم جنس شئے کو نقصان نہیں پہنچاتی تو پھر تمہیں کیوں درد ہو رہا ہے جب کہ تم خود مٹی سے بنے ہوئے ہو(اور ڈھیلا بھی مٹی کا تھا)؟

۳ ۔ تم تو یہ کہتے ہو کہ بندوں کے سارے کام خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں تو پھر مجھ سے کیوں شکوہ کرتے ہو کیونکہ یہ ڈھیلا تو خدا نے مارا ہے۔

یہ سن کر ابو حنیفہ خاموشی سے اس بزم سے نکل گئے وہ سمجھ گئے کہ بہلول نے یہ ڈھیلا میرے اس عقیدہ کی وجہ سے مارا تھا۔( ۳۱ )

۳۳۔جناب بہلول کاوزیر کو بہترین جواب

ایک دن ہارون رشید کے درباری وزیر نے بہلول سے کہا: ”تم بڑے خوش نصیب ہو تمہیں خلیفہ نے سوروں اوربھیڑیوں کا سر پرست بنا دیا ہے“۔

بہلول نے بڑی بے باکی سے کہا: ”اب جب تو اس بات سے آگاہ ہوگیا ہے توآج سے تیرے اوپر میری اطاعت لازم ہوگئی ہے“۔بہلول کا یہ جواب سن کر وہ شرمندگی سے خاموش ہو گیا، اور وہاں پر موجود لوگ یہ سن کر ہنسنے لگے۔( ۳۲ )

۳۴۔جبر یہ کے ایک استاد سے شیعہ عالم کا مناظرہ

ایک دن اہل سنت کے ایک بزرگ عالم اور مذہب جبر کے استاد ضرار بن ضبی ہارون رشید کے وزیر یحییٰ بن خالد کے پاس آکر کہنے لگا “میں بحث و مناظرہ کرنا چاہتا ہوں تم کوئی ایسا آدمی لے آو جو مجھ سے بحث کر سکے۔“

یحییٰ: ”تم کسی شیعہ عالم سے بحث کروگے؟

ضرار: ”ہاں میں ہر ایک سے مناظرہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔“

یحییٰ نے ہشام بن حکم (امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رشید)کو یہ پیغام بھیجا ،جناب ہشام مناظرہ کے لئے آگئے اور مناظرہ اس طرح شروع ہوا:

ہشام: ”امامت کے سلسلہ میں انسان کی ظاہری صلاحتیں معیار ہیں یا باطنی صلاحیتیں؟“

ضرار: ”ہم تو ظاہری پر ہی حکم لگاتے ہیں کیونکہ کسی کے باطن کو صرف ”وحی“کے ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔“

ہشام: ”تو نے سچ کہا۔اب یہ بتاو کہ ابو بکر اور حضرت علی علیہ السلام میں ظاہری اور باطنی اعتبار سے کون رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے زیادہ ساتھ رہا ،کس نے اسلا م کا زیادہ دفاع کیا اور بڑی بہادری سے اسلام کی راہ میں جہاد کیا،اسلام کے دشمنوں کو نیست ونابود کیا اور ان دونوں میں کون ہے جس کا تمام اسلامی فتوحات میں سب سے زیادہ اہم کرداررہا؟“

ضرار: ”علی علیہ السلام نے بہت جہادکیا اور اسلام کی بڑی خدمت کی لیکن ابو بکر معنوی لحاظ سے ان سے بلند تھے ۔“

ہشام: ”یہ تو باطن کی باتیں کیوں کرنے لگا جبکہ ابھی تونے یہ کہا کہ باطن کی باتیں صرف وحی کے ذریعہ معلوم ہو سکتی ہیں اور ہم نے یہ طے کیا تھا کہ ہم صرف ظاہر کی باتیں کریں گے اور تونے اس اقرار سے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اسلامی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اس بات کا بھی اعتراف کر لیاکہ وہ اور دوسرے لوگوں کے مقابل خلافت کے زیادہ حقدار تھے۔“

ضرار: ”ہاں ظاہر اً تو یہی بات صحیح ہے ۔“

ہشام: ”اگر کسی کا نیک ظاہر ،نیک باطن جیسا ہو تو کیا یہ چیز اس کے افضل اور برتر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی ۔“

ضرار: ”یقیناً یہ چیز انسان کے افضل وبرتر ہونے کی دلیل ہوگی۔“

ہشام: ”کیا تمہیں اس حدیث کے بارے میں معلوم ہے کہ جس کو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ارشاد فرمائی اور جسے تمام اسلامی فرقوں نے قبول کیا ہے:

انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا لا نبی بعدی “۔

”اے علی ! تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“

ضرار: ”میں اس حدیث کو قبول کرتا ہوں ۔“(اس بات کی طرف توجہ رہے کہ ضرار نے کہا تھا کہ کسی کا باطن صرف وحی کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تمام باتیں وحی الٰہی سے ہوا کرتی تھیں)۔

ہشام: ”کیا یہ صحیح ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی اس طرح کی تعریف اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ایسی ہی صلاحیتیوں کے مالک تھے؟ ورنہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی تعریف غلط ہو جائے گی۔“

ضرار: ”ہاں یہ اس بات کی دلیل ہے۔یقینا ً حضرت علی علیہ السلام باطنی طور پر بھی ویسی ہی صلاحیتوں کے مالک رہے ہوں گے تب ہی تو رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے ان کی تعریف کی ۔“

ہشام: ”بس اب اس طرح خود تمہارے قول سے حضرت علی علیہ السلام کی امامت ثابت ہو گئی کیونکہ تم نے خود ہی کہا ہے کہ باطن کی اطلاع وحی کے ذریعہ ممکن ہے اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے آپ کی تعریف کی ہے اور وہ بغیر وحی کے کسی کی تعریف نہیں کرسکتے لہٰذا حضرت علی علیہ السلام دوسرے تمام لوگوں کے مقابل زیادہ خلافت کے حقدار ہوئے۔( ۳۳ )

۳۵۔جناب فضال کا ابو حنیفہ سے دلچسپ مناظرہ

امام جعفر صادق علیہ السلام اور ابو حنیفہ کا زمانہ تھا ایک دن مسجد کو فہ میں ابو حنیفہ درس دے رہاتھااس وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک شاگرد ”فضال بن حسن “اپنے ایک د وست کے ساتھ ٹہلتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔انھوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ابو حنیفہ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ انھیں درس دے رہے ہیں، فضال نے اپنے دوست سے کہا: ”میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاوں گا جب تک ابو حنیفہ کو مذہب تشیع کی طرف راغب نہ کر لوں۔“

فضال اپنے اس دوست کے ساتھ اس جگہ پہنچے جہاں ابو حنیفہ بیٹھے درس دے رہے تھے، یہ بھی ان کے شاگرد وں کے پاس بیٹھ گئے۔تھوڑی دیرکے بعد فضال نے مناظرہ کے طور پر اس سے چند سوالات کئے۔

فضال: ”اے رہبر !میرا ایک بھائی ہے( ۳۴ ) جو مجھ سے بڑا ہے مگر وہ شیعہ ہے۔حضرت ابوبکر کی فضیلت ثابت کرنے کے لئے میں جو بھی دلیل لے آتا ہوں وہ رد کردیتا ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے چند ایسے دلائل بتادیں جن کے ذریعہ میں اس پر حضرت ابوبکر ،عمراور عثمان کی فضیلت ثابت کر کے اسے اس بات کا قائل کر دوں کہ یہ تینوں حضرت علی سے افضل وبر تر تھے ۔“

ابو حنیفہ: ”تم اپنے بھائی سے کہنا کہ وہ آخر کیوں حضرت علی کو حضرت ابو بکر ،عمر اور عثمان پر فضیلت دیتا ہے جب کہ یہ تینوں حضرات ہر جگہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت میں رہتے تھے اور آنحضرت ،حضرت علی علیہ السلام کو جنگ میں بھیج دیتے تھے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ان تینوں کو زیادہ چاہتے تھے اسی لئے ان کی جانوں کی حفاظت کے لئے انھیں جنگ میں نہ بھیج کر حضرت علی علیہ السلام کو بھیج دیا کرتے تھے ۔“

فضال: ”اتفاق سے یہی بات میں نے اپنے بھائی سے کہی تھی تو اس نے جواب دیا کہ قرآن کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام چونکہ جہاد میں شرکت کرتے تھے اس لئے وہ ان تینوں سے افضل ہوئے کیونکہ قرآن مجید میں خدا کاخود فرمان ہے:

( وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ اٴَجْرًا عَظِیمًا )( ۳۵ )

”خدا وند عالم نے مجاہدوں کو بیٹھنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت بخشی ہے“۔

ابو حنیفہ: ”اچھا ٹھیک ہے تم اپنے بھائی سے یہ کہو کہ وہ کیسے حضرت علی کو حضرت ابو بکر و عمر سے افضل وبرتر سمجھتا ہے جب کہ یہ دونوں آنحضرت صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میںدفن ہیںاورحضرت علی علیہ السلام کا مرقد رسول سے بہت دور ہے ۔رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے پہلو میں دفن ہونا ایک بہت بڑا افتخار ہے یہی بات ان کے افضل اور بر تر ہونے کے لئے کافی ہے ۔“

فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی اپنے بھائی سے یہی دلیل بیان کی تھی مگر اس نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا وند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( لاَتَدْخُلُوا بُیُوتَ النَّبِیِّ إِلاَّ اٴَنْ یُؤْذَنَ لَکُمْ )( ۳۶ )

”رسول کے گھر میں بغیر ان کی اجازت کے داخل نہ ہو“۔

یہ بات واضح ہے کہ رسو ل خدا کا گھر خود ان کی ملکیت تھا اس طرح وہ قبر بھی خود رسول خدا کی ملکیت تھی اور رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے انھیںا س طرح کی کوئی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ان کے ورثاء نے اس طرح کی کوئی اجازت دی۔“

ابو حنیفہ: ”اپنی بھائی سے کہو کہ عائشہ اور حفصہ دونوں کا مہر رسول پر باقی تھا، ان دونوں نے اس کی جگہ رسو ل خدا کے گھر کا وہ حصہ اپنے باپ کو بخش دیا۔

فضال: ”اتفاق سے یہ دلیل بھی میں نے اپنے بھائی سے بیان کی تھی تو اس نے جواب میں کہا کہ خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرما تا ہے۔

( یَااٴَیُّهَا النَّبِیُّ إِنَّا اٴَحْلَلْنَا لَکَ اٴَزْوَاجَکَ اللاَّتِی آتَیْتَ اٴُجُورَهُنّ )( ۳۷ )

”اے نبی!ہم نے تمہارے لئے تمہاری ان ازواج کو حلال کیا ہے جن کی اجرتیں (مہر)تم نے ادا کر دی“۔

اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم نے اپنی زندگی میں ہی ان کا مہر ادا کر دیا تھا“۔

ابو حنیفہ: ”اپنے بھائی سے کہو کہ عائشہ حفصہ رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بیویاں تھیں انھوں نے ارث کے طور پر ملنے والی جگہ اپنے باپ کو بخش دی لہٰذا وہ وہاں دفن ہوئے“۔

فضال: ”اتفاق سے میں نے بھی یہ دلیل بیان کی تھی مگر میرے بھائی نے کہا کہ تم اہل سنت تو اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ پیغمبر وفات کے بعد کوئی چیز بطور وراثت نہیں چھوڑتا اور اسی بنا پر رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کو تم لوگوں نے فدک سے بھی محروم کردیا اور اس کے علاوہ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ خداکے نبی وفات کے وقت ارث چھوڑتے ہیں تب یہ تو سبھی کو معلوم ہے کہ جب رسول صلی الله علیه و آله وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت آپ کی نو بیویاں تھیں۔( ۳۸ ) اور وہ بھی ارث کی حقدار تھیں اب وراثت کے قانون کے لحاظ سے گھرکا آٹھواں کاحصہ ان تمام بیویوں کا حق بنتا تھا اب اگر اس حصہ کو نو بیویو ں کے درمیان تقسیم کیا جائے تو ہر بیوی کے حصے میں ایک بالشت زمین سے زیادہ نہیں کچھ نہیں آئے گا ایک آدمی کی قد وقامت کی بات ہی نہیں“۔

ابو حنیفہ یہ بات سن کر حیران ہو گئے اور غصہ میں آکر اپنے شاگردوں سے کہنے لگے:

”اسے باہر نکالو یہ خود رافضی ہے اس کا کوئی بھائی نہیں ہے“۔( ۳۹ )

۳۶۔ایک شجاع عورت کا حجاج سے زبردست مناظرہ

عبد الملک ( اموی سلسلہ کا پانچواں خلیفہ)کی طرف سے تاریخ کا بد ترین مجرم حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر مقررکیا گیا تھا۔اس نے جناب کمیل ،قنبر ،سعید بن جبیرکو قتل کیا تھا کیونکہ وہ حضرت علی علیہ السلام سے بہت بغض رکھتا تھا۔

اتفاق سے ایک دن ایک نہایت شجاع و دلیر عورت جسے حلیمہ سعدیہ کی بیٹی کہا جاتا تھا اور جس کانام حرہ تھا حجاج کے دربار میں آئی یہ حضرت علی علیہ السلام کی چاہنے والی تھی۔

حجاج اور حرہ کے درمیان ایک نہایت پر معنی اور زبردست مناظر ہ ہوا جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:

حجاج: ”حرہ کیا تم حلیمہ سعدیہ کی بیٹی ہو؟

حرہ: ”یہ بے ایمان شخص کی ذہانت ہے (یہ اس بات کی طر ف اشارہ تھا کہ میں حرہ ہوں مگر تونے بے ایما ن ہوتے ہوئے مجھے پہچان کر اپنی ذہانت کا ثبوت دیا ہے )؟

حجاج: ”تجھے خدا نے یہاں لا کر میرے چنگل میں پھنسادیا ہے میں نے سنا ہے کہ تو علی کو ابوبکر و عمر وعثمان سے افضل سمجھتی ہے ؟“

حرہ: ”تجھ سے اس سلسلہ میں جھوٹ کہا گیا ہے کیونکہ ان تینوں کی کیا بات میں حضرت علی علیہ السلام کو جناب آدم،جناب نوح،جناب ابراہیم ،جناب موسیٰ ،جناب عیسیٰ ،جناب داود ،جناب سلیمان علیہم السلام سے افضل سمجھتی ہوں“۔

حجاج: ”تیرا برا ہو، تو علی کو تمام صحابہ سے بر تر جانتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انھیں آٹھ پیغمبروں سے جن میں سے بعض اولوالعزم بھی ہیں افضل وبرتر جانتی ہے اگر تونے اپنے اس دعویٰ کو دلیل سے ثابت نہ کیا تو میں تیری گردن اڑاد وں گا۔“

حرہ: ”یہ میں نہیں کہتی کہ میں علی علیہ السلام کو ان پیغمبروں سے افضل وبر تر جانتی ہوں بلکہ خداوند متعال نے خود انھیں ان تمام پر برتری عطا کی ہے قرآن مجید جناب آدم علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

( وَعَصیٰ آدمُ رَبَّهُ فَغَویٰ“ ) (۴۰ )

”اور آدم اپنے رب کی نافرمانی کا نتیجہ میں اس کی جزا سے محروم ہو گئے“۔

لیکن خدا وند متعال علی علیہ السلام ،ان کی زوجہ اور ان کے بیٹوں کے بارے میں فرماتا ہے۔

( وَکَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُورًا )( ۴۱ )

”اور تمہاری سعی و کوشش مشکور ہے“۔

حجاج: ”شاباش لیکن یہ بتا کہ تونے حضرت علی علیہ السلام کو نوح و لوط علیہما السلام پر کس دلیل کے ذریعہ فضیلت دی “۔

حرہ: ”خداوند متعال انھیں ان لوگوں سے افضل و بر تر جانتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے:

( ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً لِلَّذِینَ کَفَرُوا اِمْرَاٴَةَ نُوحٍ وَاِمْرَاٴَةَ لُوطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنْ اللهِ شَیْئًا وَقِیلَ ادْخُلاَالنَّارَ مَعَ الدَّاخِلِینَ )( ۴۲ )

”خدانے کافر ہونے والے لوگوں کو نوح و لوط کی بیویوں کی مثالیں دی ہیں۔یہ دونوں ہمارے صالح بندوں کے تحت تھیں مگر ان دونوں نے ان کے ساتھ خیانت کی لہٰذا ان کا ان دونوں سے تعلق انھیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکا اور ان سے کہا گیا کہ جہنم میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاو“۔

لیکن علی علیہ السلام کی زوجہ ،پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی بیٹی جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں جن کی خوشنودی خدا کی خوشنودی ہے اور جن کی ناراضگی خدا کی ناراضگی ہے۔

حجاج: شاباش حرہ! لیکن یہ بتا تو کس دلیل کی بنا پر ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حضرت علی علیہ السلام کو فضیلت دیتی ہے؟

حرہ: ”خدا وند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ جناب ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا:

( رَبِّ اٴَرِنِی کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتَی قَالَ اٴَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَی وَلَکِنْ لِیَطْمَئِن قَلْبِي )( ۴۳ )

”ابراہیم نے کہا پالنے والے! تو مجھے یہ دکھا دے کہ تو کیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے تو خدا نے کہا کیا تمہارا اس پر ایمان نہیں ہے تو انھوں نے کہا کیوں نہیں مگر میں اطمینان قلب چاہتا ہوں“۔

لیکن میرے مولا علی علیہ السلام ا س حد تک یقین کے درجہ پر فائز تھے کہ آپ نے فرمایا:

لوکشف الغطا ء ماازددت یقینا “۔

”اگر تمام پردے میرے سامنے سے ہٹا دئے جائیں تو بھی میرے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔“

اور اس طرح نہ پہلے کسی نے کہا تھا اور نہ اب کوئی ایسا کہہ سکتا ہے ۔“

حجاج: ”شاباش لیکن تو کس دلیل سے حضرت علی کو جناب موسیٰ کلیم اللہ پر فضیلت دیتے ہے؟“۔

حرہ: ”خداوند عالم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

( فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا یَتَرَقَّبُ )( ۴۴ )

”وہ وہاں سے ڈرتے ہوئے (کسی بھی حادثہ کی)تو قع میں (مصر)سے باہر نکلے“۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام کسی سے نہیں ڈرے، شب ہجرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے بستر پر آرام سے سوئے اور خدا نے ان کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی:

( وَ مِنْ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللهِ )( ۴۵ )

”اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے نفس کو اللہ کی رضا کے لئے بیچ دیتے ہیں“۔

حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتا کہ داود علیہ السلام پر علی کو کس دلیل سے فضیلت حاصل ہے ؟“

حرہ: ”خداوند متعال جناب دادو علیہ السلام کے سلسلہ میں فرماتا ہے:

( یَادَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیفَةً فِی الْاٴَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلاَتَتَّبِعْ الْهَوَی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ )( ۴۶ )

”اے دادو! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنا یا ہے لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق سے فیصلے کرو اور اپنی خواہشات کو پیروی نہ کرو کہ اس طرح تم راہ خدا سے بھٹک جاو گے“۔

حجاج: ”جناب داود کی قضاوت کس سلسلے میں تھی؟”

حرہ: ”دو آدمیوں کے بارے میں کہ ان میں سے ایک بھیڑ وں کا مالک تھا اور دوسرا کسان، اس بھیڑ کے مالک کی بھیڑوں نے اس کے کھیت میں جاکر اس میں کھیتی چرلی، اور اس کی زراعت کو تباہ و برباد کردیا، یہ دونوں آدمی فیصلہ کے لئے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئے اور اپنی شکایت سنائی، حضرت داؤد نے فرمایا: بھیڑکے مالک کو اپنی تمام بھیڑوں کو بیچ کر اس کا پیسہ کسان کو دے دینا چاہئے تاکہ وہ ان پیسوں سے کھیتی کرے اور اس کا کھیت پہلے کی طرح ہو جائے لیکن جناب سلیمان نے اپنے والد سے کہا۔”آپ کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ بھیڑوں کا مالک کسان کو دودھ اور اون دےدے تاکہ اس کے ذریعہ اس کے نقصان کی تلافی ہوجائے“۔

اس سلسلہ میں خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: ”ففہمنا سلیمان“( ۴۷ )

” ہم نے حکم (حقیقی) سلیمان کو سمجھا دیا“۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

سلونی قبل ان تفقدونی “۔

”مجھ سے سوال کرلو قبل اس کے کہ تم مجھے کھو دو“۔

جنگ خیبر کی فتح کے دن جب حضرت رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی خد مت میں تشریف لے آئے تو آنحضرت نے لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:

اٴفضلکم و اٴعلمکم و اٴقضاکم علي “۔

”تم میں سے افضل اور سب اچھا فیصلہ کرنے والے علی ہیں“۔

حجاج: ”شاباش لیکن اب یہ بتاو کہ کس دلیل سے علی جناب سلیمان علیہ السلام سے افضل ہیں‘۔

( ۱) حرہ: ”قرآن میں جنا ب سلیمان کا یہ قول نقل ہوا ہے:

( رَبِّ اغْفِرْ لِی وَهَبْ لِی مُلْکاً لاَیَنْبَغِی لِاٴَحَدٍ مِنْ بَعْدِی )( ۴۸ )

” پالنے والے! مجھے بخش دے اور مجھے ایسا ملک عطا کردے جو میرے بعد کسی کے لئے شائستہ نہ ہو“۔

لیکن میرے مولا علی علیہ السلام نے دنیا کو تین طلاق دی ہے جس کے بعد آیت نازل ہوئی:

( تِلْکَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لاَیُرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الْاٴَرْضِ وَلاَفَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ )( ۴۹ )

”وہ آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے ہم قرار دیتے ہیں جو زمین پر بلندی اور فساد کو دوست نہیں رکھتے اور عاقبت تو متقین کے لئے ہے“۔

حجاج: ”شاباش اے حرہ اب یہ بتا کہ تو کیوں حضرت علی کو جنا ب عیسیٰ علیہ السلام سے افضل و برتر جانتی ہے؟“

حرہ: ”خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا:

وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَهَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ # مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِهِ( ۵۰ )

”اور جب (روز قیامت) خدا کہے گا: اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا قرار دو، تو وہ کہیں گے تو پاک وپاکیزہ ہے میں کیسے ایسی بات کہہ سکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے کہا ہوتا تو تو ضرور جان لیتا تو جانتا ہے میرے نفس میں کیا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے تو عالم الغیب ہے میں نے ان سے صرف وہی کیا ہے جو تونے مجھے حکم دیا تھا“۔

اسی طرح جناب عیسی ٰ کی عباد ت کرنے والوں کا فیصلہ قیامت کے دن کے لئے ٹال دیا گیا مگر نصیروں نے حضرت علی علیہ السلام کی عبادت شروع کر دی تو آپ نے انھیں فوراً قتل کردیا اور ان کے عذاب و فیصلہ کو قیامت کے لئے نہیں چھوڑا ۔“

حجاج: ”اے حرہ! تو قابل تعریف ہے تو نے اپنے جواب میں نہایت اچھے دلائل پیش کئے اگر تو آج اپنے تمام دعووں میں سچی ثابت نہ ہوتی تو میں تیری گردن اڑادیتا ۔“

اس کے بعد حجاج نے حرہ کو انعام دیکر باعزت رخصت کردیا۔( ۵۱ )

۳۷۔ ابو الہذیل سے ایک گمنام شخص کا عجیب مناظرہ

ابو الہذیل اہل سنت کا ایک بہت ہی مشہور ومعروف عراقی عالم کہتا ہے کہ میں ایک سفر کے دوران جب شہر ”رقہ“(شام کا ایک شہر)میں وارد ہوا تو وہاں میں نے سنا کہ ایک دیوانہ بہت ہی خوش گفتار شخص ”معبدز کی“ میں رہتا ہے۔( ۵۲ )

میں جب اس کے دیدار کے لئے معبد گیا تو میں نے وہاں ایک نہایت خوبصورت اور چھی قدو قامت کا ایک بوڑھا شخص بوریہ پر بیٹھا ہوا دیکھا جو اپنے بالوں اور ڈاڑھی میں کنگھی کر رہا تھا میں نے داخل ہوتے ہی اسے سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اس کے بعد ہمارے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔

گمنام شخص: ”تم کہاں سے تعلق رکھتے ہو؟

ابو الہذیل: ”عراق کا رہنے والا ہوں۔“

گمنام شخص: ”اچھا یعنی تم بہت ماہر ہو اور زندگی کے آداب واطوار سے بخوبی آشنا ہو ااچھا یہ بتاو کہ تم عراق کے کس علاقہ سے تعلق رکھتے ہو؟“۔

ابو الہذیل: ”بصرہ سے“۔

گمنام شخص: ”بس علم وعمل سے آشنا ہو، تمہار نام کیا ہے ؟“

ابو الہذیل: ”مجھے ابو الہذیل علاف کہتے ہیں“۔

گمنام شخص: ”وہی جو بہت ہی مشہور کلامی ہے ؟“

ابو الہذیل: ”ہاں“۔

یہ سن کر اس نے ایک فرش کی طرف اشارہ کیا اور تھوڑی دیر بات چیت کرنے کے بعد اس نے مجھ سے سوال کیا: ”امامت کے بارے میں تیرا کیا نظریہ ہے؟“

ابو الہذیل: ”تیری مراد کون سی امامت ہے؟“

گمنام شخص: ”میری مرا د یہ ہے کہ تونے رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کی رحلت کے بعد ان کے جانشین کے طور پر کسے دوسرے لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے خلیفہ تسلیم کیا ہے ؟“

ابو الہذیل: ”اسی کو جسے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ترجیح دی“۔

گمنام شخص: ”وہ کون ہے ؟“

ابو الہذیل: ”وہ ابو بکر ہیں“۔

گمنام شخص: ”تم نے انھیں کیوں مقدم جانا؟“

ابو الہذیل: ”کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ” لوگوں میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسے اپنا رہبر سمجھو“۔تمام لوگ ابو بکر کو مقدم سمجھنے کے لئے راضی ہوئے ہیں“۔

گمنام شخص: ”اے ابو الہذیل ! یہاں تونے خطا کی ہے۔کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے: ”اپنے میں سب سے اچھے شخص کو مقدم رکھو اور اسی کو اپنا رہبر جانو“، میرا اعتراض یہ ہے کہ خود ابو بکر نے منبر سے کہا: ”ولیتکم و لست بخیرکم،میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“۔اگر لوگ ابو بکر کے جھوٹ کو بہتر سمجھتے ہیں اور انھیں اپنا رہبر بناتے ہیں تو گویا سب کے سب رسول اسلام کے قول کے مخالفت کر رہے ہیں اور اگر خود ابو بکر جھوٹ کہتے ہیں کہ ”میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں“، تو جھوٹ بولنے والے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ منبر رسول پر جائے اور تم نے جو یہ کہا تھا کہ ابو بکر کی رہبری پر سب راضی تھے تو یہ اس وقت درست ہوگا جب انصار ومہاجرین نے ایک دوسرے سے یہ نہ کہا ہوتا کہ “ایک امیر ہمارے قبیلے سے ایک تمہارے قبیلے سے“ لیکن مہاجرین کے درمیان زبیر نے کہا کہ میں علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کے ہا تھ پر بیعت نہیں کروں گا ان کی تلوار کو توڑ دیا گیا اور ابو سفیان نے حضرت علی علیہ السلام کے پا س آکر کہا ”اگر آپ علیہ السلام چاہیں تو مدینے کی گلیوں کو پیادہ اور سوار فوجیوں سے بھر دوں“۔جناب سلمان نے بھی باہر آکر کہا ”انھوں نے کیا اور نہیں بھی کیا انھیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کیا“۔ ابوبکر کی بیعت کے سلسلہ میں خلاف اصول کام ہوا ،اسی طرح جناب مقداد اور ابوذر نے بھی اعتراض کیا ان سب سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ سب لوگ ابو بکر کی خلافت سے راضی نہیں تھے۔

اے ابو الہذیل! میں تجھ سے چند سوالات کرنا چاہتاہوں تو مجھے اس کا جواب دے“۔

۱ ۔مجھے بتا کیا یہ درست نہیں ہے کہ ابو بکر نے بالائے منبر یہ اعلان کیا:

ان لي شیطاناً یعترینی، فاذا رائیتمونی مغبضاً فاحذرونی “۔

”میرے لئے ایک شیطان ہے جو مجھے بہکادیا کرتا ہے لہٰذا میں غصہ میں رہا کروں تو مجھ سے دور ہو جایا کرو“۔

وہ در اصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ” میں پاگل ہوں“۔لہٰذا تم لوگوںنے آخر کیوں ایسے شخص کو اپنا رہبر معین کر لیا؟“

۲ ۔تویہ بتا کہ جو شخص اس بات کا معتقد ہو کہ رسول اکرم صلی الله علیه و آله وسلم نے کسی کواپنا جانشین نہیں بنا یا مگر ابو بکر نے عمر کو اپنا جانشین معین کیا جب کہ اس کے بعد عمر نے اپنا جانشین کسی کو نہیں بنایا کیا اس کے اعتقاد میں ایک طرح کا تناقض نہیں پایا جاتا۔تیرے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

۳ ۔مجھے یہ بتا جب عمر نے اپنی خلافت کے بعد ایک شوریٰ تشکیل دی تو یہ کیوں کہا کہ یہ چھ کے چھ جنتی ہیں اور اگر ان میں سے دوافراد چار کی مخالفت کریں تو انھیں قتل کر دو اور اگر تین تین افراد آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت کریں تو جس طرف عبد الرحمن بن عوف رہے اس گروہ کو قتل کردینا۔ ذرا یہ بتا کہ یہ کس طرح صحیح ہوگا اور کہاں کی دیانت داری ہوگی کہ اہل بہشت کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا جائے ؟

۴ ۔تو یہ بھی بتا دے کہ ابن عباس اور عمر کی ملاقات اور ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کو تو کس کے عقیدہ کے مطابق سمجھتا ہے ؟

جب عمر بن خطاب زخمی ہونے کی وجہ سے بستر پر تھے اور عبد اللہ ابن عباس ان کے گھر گئے تو دیکھا کہ وہ بستر پر تڑپ رہے ہیں ، ابن عباس نے پوچھا:کیوں تڑپ رہے ہو؟تو عمر نے کہا“۔میں اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں تڑپ رہا ہوں بلکہ اس لئے تڑپ رہا ہوں کہ میرے بعد رہبری نہ جانے کس کے ہاتھوں میں ہوگی۔ اس کے بعد ابن عباس اور عمر کے درمیان اس طرح گفتگو ہوئی۔

ابن عباس: ”طلحہ بن عبید اللہ کو لوگوں کا رہبر بنا دو“۔

عمر: ”وہ سخت مزاج ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے بارے میں ایسا ہی فرمایا کرتے تھے ،میں اس طرح کے تند خو شخص کے ہاتھ میں رہبری کی مہار نہیں دینا چاہتا“۔

ابن عباس: زبیر بن عوام کو رہبر بنا دو“۔

عمر: وہ کنجوس آدمی ہے میں نے خود اسے دیکھا ہے وہ اپنی بیوی کی مزدوری جو اس کے اُون بننے کی تھی اس کے بارے میں بڑی سختی سے پیش آتا تھا، میں کنجوس کے ہاتھ میں رہبری نہیں دے سکتا“۔

ابن عباس: ”سعد وقاص کو رہبر بنادو“۔

عمر: ”وہ تیر و تلوار اور گھوڑوں سے کام رکھتا ہے، ایسے افراد رہبری کے لئے مناسب نہیں ہوتے“۔

ابن عباس: ”عبد الرحمن بن عوف کو کیوں نہیں رہبر بنا دیتے ؟“

عمر: ”وہ اپنے گھر کو تو چلا نہیں سکتا“۔

ابن عباس: ”اپنے بیٹے عبد اللہ کو بنا دو“۔

عمر: ”نہیں خدا کی قسم نہیں۔جو شخص اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا اس کے حوالہ میں یہ رہبری نہیں کر سکتا“۔

ابن عباس: ”عثما ن کو رہبر بنا دو“۔

عمر: ”خدا کی قسم (تین بار کہا)اگر میں عثمان کو رہبر بنا دوں گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے ”طائفہ معیط“(بنی امیہ کی ایک شق )کو مسلمانوں کی گردن پر سوار کر دیا جس سے مجھے یہ بھی خطرہ ہے کہ لوگ کہیں عثمان کو قتل کر ڈالیں“۔

ابن عباس کہتے ہیں: ”اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام اور عمر کے درمیان عداوت تھی اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا لیکن عمر نے خود مجھ سے کہا: ”اے ابن عباس ! اپنے دوست کانام لو“۔

میں نے کہا: ”تو علی کو خلیفہ بنادو“۔

عمر: نے کہا: خدا کی قسم! میں صرف اس وجہ سے پریشان ہوں کہ میں نے حق کو حقدار سے چھین لیا ہے۔

و الله لئن ولیته لیحملنهم علی المحجة العظمیٰ، و ان یطیعوا یدخلهم الجنة “۔

خدا کی قسم! اگر میں علی علیہ السلام کو لوگوں کا رہبر بنا دوں تو وہ یقینا لوگوں کو شاہراہ حق وہدایت تک پہنچا دیں گے ، اور اگر لوگ ان کی پیروی کریں گے تو وہ انھیں جنت میں داخل کردیں گے“۔

عمر نے یہ سب کچھ کہا ، مگر پھر بھی اپنے بعد خلافت کے مسئلہ کو چھ نفری شوریٰ کے حوالہ کر دیا۔

ابو الہذیل کہتا ہے: ”جب وہ گمنام شخص یہاں تک پہنچا تو اس کی حالت غیر ہونے لگی اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ نظر آنے لگا، (تقیہ کی وجہ سے خود کو دیوانہ بنالیا)، اس کا پورا واقعہ میں نے ساتویں اموی خلیفہ مامون سے بیان کیا ، اس نے اس شخص کو بلوا کر اس کا علاج کر ایا اور اسے اپنا ندیم خاص قرار دیا ، اور وہ اس کی منطقی بات کی وجہ سے شیعہ ہو گیا۔( ۵۳ )

۳۸۔مامو ن کا علماء سے مناظرہ

اہل سنت کے عظیم علماء کے لئے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مامون (عباسی دور کا ساتواں خلیفہ) صدر کی حیثیت سے بیٹھا ہوا تھا اس بزم میں ایک بہت ہی طویل مناظرہ ہوا جس کا ایک حصہ ہم پیش کرتے ہیں۔

اہل سنت کے ایک عالم نے کہا: ”روایت میں ملتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو بکر اور عمر کی شان میں فرمایا:

ابوبکر و عمر سید ا کهول اهل الجنة “۔

”ابو بکر اور عمر جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔

مامون نے کہا: ”یہ حدیث غلط ہے۔کیونکہ جنت میں بوڑھوں کا وجود ہی نہیں ہے کیونکہ روایت میں ملتا ہے کہ ایک دن ایک بوڑھی عورت رسول اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گے“۔بوڑھی عورت گریہ وزاری کرنے لگی تو آپ نے فرمایا: ”خداوند متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

( إِنَّا اٴَنشَاٴْنَاهُنَّ إِنشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ اٴَبْکَارًا عُرُبًا اٴَتْرَابًا )( ۵۴ )

”بے شک ہم نے انھیں بہترین طریقہ سے خلق کیا اور ان سب کو باکرہ قرا ردیا وہ ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے شوہروں سے محبت کرتی ہوں گی خوش گفتار اور ان کی ہم سن سال ہوں گی“۔

اگر تمہارے مطابق ابوبکر و عمر جوان ہوں گے تو جنت میں جائیں گے۔تو کس طرح تم کہتے ہوکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

ان الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنة من الاولین والاخرین وابوهما خیر منهما “۔( ۵۵ )

”حسن اور حسین علیہما السلام جنت کے اول وآخر کے جوانوں کے سردار ہیں اور ان کے والد علی بن ابی طالب علیہما السلام کا مقام ان سے بالاو بر تر ہے“۔

۳۹۔ حدیث رسول کے سلسلہ میں بیٹے کے اعتراض پر ابو دُلف کا جواب

قاسم بن عیسیٰ عجلی جو”ابو دلف“کے نام سے مشہور تھا یہ نہایت باہمت ،سخی ،کشادہ قلب،عظیم شاعر،اپنے خاندان کا سربراہ اور محب علی ابن ابی طالب علیہما السلام تھا۔اس کی وفات ۲۲۰ ھ ق کوہوئی۔

ابو دلف کا ایک بیٹا تھا جس کانام ”دلف“تھا یہ بیٹا بالکل اپنے باپ کے بر عکس بہت ہی بد بخت اور بد زبان تھا۔

ایک روز اس کے بیٹے دلف نے اپنے دوستوں کے درمیان علی علیہ السلام کی محبت و عداوت کے سلسلہ میں بحث چھیڑ دی یہ بحث یہاں تک پہنچی کہ اس کے ایک دوست نے کہا کہ پیغمبر اسلام سے روایت ہے:

یا علی لا یحبک الا مومن تقی ولا یبغضک الاولدُ زنیَّةٍ اٴوحیضة

”اے علی علیہ السلام ! تم سے صرف متقی مومن محبت کرتا ہے اور تم سے وہی دشمنی و عداوت رکھتا ہے جو زنا زادہ ہو یا جس کا نطفہ حالت حیض میں منعقد ہوا ہو“۔

دلف،جو ان تما چیزوں کا منکر تھا اس نے دوست سے کہا میرے باپ ابو دلف کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے ؟آیا کوئی شخص اس بات کی جرائت کر سکتا ہے کہ ان کی بیوی سے زنا کرے“۔

اس کے دوستوں نے کہا: ”نہیں ہر گز نہیں۔ابو دلف کے بارے میں ایسا سوچنا بھی غلط ہے“۔

دلف نے کہا: ”خدا کی قسم میں علی علیہ السلام سے شدید دشمنی رکھتا ہوں (جب کہ میں نہ ولد الزنا ہوں اور نہ ولد حیض)

اسی وقت ابو دلف گھر سے باہر نکل رہا تھا ان کی نظر اپنے بیٹے پر پڑی اور دیکھا کہ وہ چند لوگوں سے گفتگو میں مصروف ہے جب ابو دلف موضوع بحث سے آگا ہ ہو ا تو اس نے کہا۔”خدا کی قسم !دلف زنا زادہ بھی ہے اور ولد حیض بھی۔کیونکہ میں ایک روز بخار میں مبتلا تھا اور اپنے بھائی کے گھر جا کر سو گیا تھا دیکھا کہ ایک کنیز گھر میں وارد ہوئی نفس امارہ مجھے اس کی طرف کھینچ کر لے گیا تو اس نے کہا:

”میں اس وقت حالت حیض میں ہوں“۔

میں نے جماع کے لئے اس کو مجبور کیا نتیجہ میں وہ حاملہ ہو گئی جس سے دلف پیدا ہوا، اس طرح یہ ولد الزنابھی ہے اور ولد حیض بھی۔( ۵۶ )

تمام دوستوں نے یہ سمجھ لیا کہ علی علیہ السلام کی دشمنی دلف کے نطفہ کے وقت سے شروع ہوئی جو آج جڑ پکڑ گئی، جب بنیا د ہی غلط تھی تو عمارت کیوں نہ غلط ہوتی۔

۴۰۔ ایک غیرت مند جوان کا ابو ہریرہ سے دندان شکن مناظرہ

معاویہ نے پیسہ کے ذریعہ کچھ جھوٹے صحابہ اور تابعین کو خرید رکھا تھا تاکہ وہ علی علیہ السلام کے خلاف حدیث گڑھیں ان اصحاب میں سے ابو ہریرہ ،عمر وعاص،مغیرہ بن شعبہ ، اور تابعین سے عروہ بن زبیر وغیرہ شامل تھے۔

ابو ہریرہ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفہ آیا اور عجیب مکرو فریب سے اس نے علی علیہ السلام کے بارے میں نامناسب باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب کردیں۔

راتوں میں وہ” با ب الکندہ “مسجد کوفہ کے پاس آکر بیٹھ جا تا تھااور لوگوں کو اپنے مکر و فریب سے منحرف کرتا رہتا تھا۔

ایک روز ایک غیور اور دانشور جوان نے اس کے اس حیلہ میں شرکت کی ،تھوڑی دیر تک وہ ابو ہریرہ کی بیہودہ باتیں سنتا رہا اس کے بعد اس نے اس سے مخاطب ہو کر کہا:“تجھے خدا کی قسم، کیا تونے پیغمبر اسلام صلی الله علیه و آله وسلم کوحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ دعا کرتے ہوئے نہیں سنا ہے:

اللهم وال من والاه وعاد من عاداه “۔

خدا یا !”تو اسے دوست رکھ جو علی علیہ السلام کو دوست رکھتا ہو اور اسے دشمن رکھ جو علی علیہ السلام کو دشمن رکھتا ہو“۔

ابو ہریرہ نے جب یہ دیکھا کہ وہ اس واضح حدیث کی تردید نہیں کر سکتا ، تو کہا: ”اللھم نعم“ خدا یا!میں تجھے شاہد وناظر جانتا ہوں ،میں نے یہ سنا ہے۔ غیور نوجوان نے کہا: ”میں خدا کو گواہ بناتا ہوں کہ تو دشمن علی کو دوست رکھتا ہے اور دوست علی کو دشمن رکھتا ہے ،اور رسول خد ا صلی الله علیه و آله وسلم کی لعنت کا مستحق ہے“، اس کے بعد یہ نواجوا ن بڑی متانت سے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔( ۵۷ )

____________________

(۲۹) سفینة البحار ،ج۱ ص۱۹۳۔

(۳۰) الصراط الستقیم، بحار کی نقل کے مطابق ،ج۸، پرانا ایڈیشن ،ص۱۸۳۔

(۳۱) مجالس المومنین ،ج۲ ،ص۴۱۹،بہجة الآمال،ج۲، ص۴۳۶۔

(۳۲) بہجة الآمال،ج۲،ص۴۳۷۔

(۳۳) فصول المختار، سید مرتضیٰ ج۱،ص۹۔قاموس الرجال ،ج۹ص۳۴۲ سے اقتباس، تھوڑی وضاحت کے ساتھ، ۔

(۳۴) اگرچہ فضال شیعہ تھے اور ان کا کوئی بھائی نہیں تھا ، لیکن وہ اس طریقہ سے مناظرہ کرنا چاہتے تھے۔

(۳۵) سورہ نساء، آیت ۹۷۔

(۳۶) سورہ احزاب، آیت ۵۳۔

(۳۷) سورہ احزاب۔آیت ۴۹۔

(۳۸) جن کے نام یہ ہیں عائشہ ،حفصہ،ام سلمہ،ام حبیبہ ،زینب،میمونہ،صفیہ،جویریہ اور سودہ۔

(۳۹) خزائن نراقی،ص۱۰۹۔

(۴۰) سورہ طہ ، آیت ۱۲۱۔

(۴۱) سور انسان ، آیت ۲۲۔

(۴۲) سورہ تحریم آیت ۱۰۔

(۴۳) سورہ بقر آیت ۲۶۰۔

۴۴) سورہ قصص ، آیت ۲۱۔

(۴۵) سورہ بقرہ آیت ۲۰۷۔

(۴۶) سورہ ص۔آیت ۲۶۔

(۴۷) سورہ انبیاء، آیت ۷۹۔

(۴۸) سورہ ص آیت ۳۵ ۔

(۴۹) سورہ قصص ،آیت ۸۳۔

(۵۰) سورہ مائدہ آیت ۱۱۷۔۱۱۶۔

(۵۱) فضائل ابن شاذان ص۱۲۲۔بحارج۴،ص۱۳۴ سے ۱۳۶ تک۔

(۵۲) وہ درحقیقت ایک ہوشمند دانشور تھا لیکن تقیہ کے طور پر دیوانوں کی طرح زندگی بسر کررہا تھا۔

(۵۳) احتجاج طبرسی ،ج۲،ص۱۵۱ سے ۱۵۴ تک۔

(۵۴) سورہ واقعہ آیت۳۵۔۳۷۔

(۵۵) بحار،ج۴۹ ،ص۱۹۳۔

(۵۶) کشف الیقین علامہ حلی ،ص۱۶۶۔بحار ،ج۳۹ ،ص۲۸۷۔

(۵۷) شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ،ج۴ ص۱۶۳ اور ۶۸۔

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین


7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18