چوتھی صدی ہجری کے اسلامی متکلم شیخ مفید نے بیان کیا ہے:
”واذا اُضیفَ (الوحی) الی الله تعالیٰ کان فیما یخص به الرسل خاصةً دون من سواهم علی عُرْفِ الاِسْلٰام و شریعة البنی“
جب وحی کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ آئے تو اس سے مراد شریعت نبی اور اسلام کے عرف میں انبیاء کے ساتھ مخصوص وحی ہے دیگر معانی ہرگز مراد نہیں ہیں۔
تفسیر المنار کے مولف نے مذکورہ مطلب کو یوں بیان کیا:
للوحی معنی عام یطلق علی عدة صور من الاعلام الخفی الخاص الموافق لوضع اللغة وله معنی خاص هو احد الاقسام الثلاثة للتکلیم الالهی وغیرهذه الثلاثة من الوحی العام لایعدمن کلام الله تعالیٰ التشریعی
وحی کا عام معنی کا اطلاق مخفی طور پر آگاہ کرنے کی مختلف صورتوں پر ہوتا ہے اوراس کا ایک خاص معنی ہے جس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے تشریعی کلام کے سوا کسی اور معنی پر نہیں ہوتا۔
عصر حاضر کے مفسر علامہ طباطبائی لکھتے ہیں:
وقد قرر الادب الدینی فی الاسلام ان لایطلق الوحی غیر ماعند الانبیاء والرسل من التکلیم الالهی
اسلام میں ادب دینی کا تقاضاہے کہ خدا اور انبیاء کے درمیان گفتگو کے علاوہ کسی اور چیز پر وحی کا اطلاق نہ کیا جائے۔
ڈاکٹر حسن ضیاء الدین عتر، وحی کے اصطلاحی معنی کے بارے میں لکھتے ہیں:
”اقول ومن هنا نلحظ ان معنی الوحی فی الشرع اخص منه فی اللغة من جهة مصدره وهو الله تعالیٰ و من جهة الموحی الیه و هم الرسل“
___________________