تفسیرنور

تفسیرنور0%

تفسیرنور مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن

تفسیرنور

مؤلف: شیخ محسن قرائتی
زمرہ جات:

مشاہدے: 8664
ڈاؤنلوڈ: 988

تبصرے:

تفسیرنور
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 105 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8664 / ڈاؤنلوڈ: 988
سائز سائز سائز
تفسیرنور

تفسیرنور

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

تفسیرنور

مصنف: شیخ محسن قرائتی

سورہ انعام

( بسم الله الرحمن الرحیم )

یہ سورت قرآن مجید کی ۹ ویں سورت ہے کہ جس کی تمام آیات خصوصی اہتمام کے ساتھ مکہ معظمہ میں یکجا نازل ہوئیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں یہ سورت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔

اس سورت کی فضلیت اور اس کی تلاوت کے ذریعہ قضاء حوائج کے بارے میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص (دو سلاموں کے ساتھ) چار رکعت نماز پڑھے پھر اس سورت کی تلاوت کرے اور اس کے بعد دعا مانگے تو اس کی حاجات پوری ہوں گی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اطیب البیان)

( بسم الله الرحمن الرحیم )

آیت ۱

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ۵ط ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ابِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو قرار دیا، پس (ان تمام چیزوں کے باوجود) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر قرار دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

تمام قرآن مجید میں "نور" مفرد (واحد) کے صیغہ کے ساتھ اور "ظلمات" جمع کے صیغہ کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ کیونکہ حق ایک ہے اور باطل کی راہیں کئی ہیں۔ "نور" وحدت اور توحید کی علامت اور "ظلمات" انتشار اور پراگندگی کی نشانی ہے۔

نکات و پیام:

۱ ۔ اس سورت کی پہلی آیت "نظام کائنات" کی طرف دوسری آیت "تخلیق انسان" کی طرف اور تیسری آیت "انسان کے اعمال و کردار" کے نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

۲ ۔ وہی ذات ہی کتم عدم سے منصہ شہود پر لے آتی ہے اور خلق شدہ اشیا ء سے بھی نئی قسم کی کیفیات اور جدید قسم کی صورتیں ایجا د کرتی ہے( خلق، جعل )

۳ ۔ اصل راہ توحید ہی کی ہے جبکہ شرک ایسا راستہ ہے جو بعد میں پیدا ہوتا ہے( ثم--- )

۴ ۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق یہ آیت تین قسم کے گمراہ لوگوں کا جواب ہے۔

الف: "مادہ پرستوں" کا جو کائنات کی تخلیق اور حدوث کے منکر ہیں( خلق السماوات--- )

ب: "دوگانہ پرستوں" کا جو "نور" اور "ظلمت" دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مبدأ( خالق ) کے قائل ہیں۔( جعل الظلمات ) ( و النور ) ۱

ج: "مشرکین" کا جو خدا کے شریک اور شبیہ کے قائل ہیں۔( ثم الذین کفروا بربهم یعدلون ) ۲

آیت ۲

( هُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلًا ط وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَه ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ وہی (خدا ہی) تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت مقرر کی اور مقررہ مدت (کا علم) اسی کے پاس ہے، پھر (اس کے باوجود) بھی تم شک و شبہ کرتے ہو۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں آفاق اور آسمان و زمین کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اور زیرِ نظر آیت میں انسانی تخلیق اور اندرونی مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں بیس ( ۲۰) سے زیادہ مرتبہ "اجل مسمیّ" کا تذکرہ ہے۔

خداوند عالم نے انسان کے لئے دو قسم کے زمانوں کو مقرر فرمایا ہے۔ ایک حتمی مدت ہوتی ہے کہ اگر ہر طرح اس کی حفاظت کی جائے پھر بھی جس طرح چراغ کا تیل ختم ہو جانے سے چراغ بجھ جاتا ہے اسی طرح انسانی عمر ختم ہوجاتی ہے۔ اور دوسری مدت زمانی جو خود ہمارے اپنے کردار سے متعلق ہوتی ہے جیسے چراغ میں تیل موجود ہوتا ہے لیکن اسے طوفانی ہواؤں کے رُخ پر رکھ دینے سے جلد بجھ جاتا ہے۔

روایات کی رو سے کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ عمر کے طولانی ہونے کا سبب ہوتے ہیں۔ جیسے صلہ رحمی، صدقہ، زکوٰة اور دُعا وغیرہ اور کچھ اعمال ایسے ہیں جن سے عمر کوتاہ ہوجاتی ہے جیسے قطع رحمی اور ظلم وغیرہ۔

حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے دو طرح کی "اجل" مقرر فرمائی ہے ایک تو ولادت سے وفات تک اور دوسری وفات سے قیامت تک۔ اور انسان اپنے ہی اعمال وکردار کے ذریعہ بعض اوقات ایک میں کمی کرکے دوسری میں اضافہ کردیتا ہے۔ لہٰذا اجل کی انتہا کسی بھی شخص کے لئے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد الٰہی ہے "وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الافی کتاب" یعنی جس کسی کو کوئی عمر ملتی ہے یا اس کی عمر کم ہوتی ہے وہ سب کچھ کتابِ خدا (لوح محفوظ) میں درج ہے۔

پیام:

۱۔ جب کائنات اور عالم انسانیت کی تخلیق اور مقررہ اجل خدا ہی کی طرف سے اور خدا ہی کے ہاتھ میں ہے تو پھر مبدا اور معاد میں اس قدر شک کیوں؟( ثم انتم تمترون )

۲۔ تمہاری عمر، تمہاری زندگی کی مقررہ مدت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (مدت عمر، کسی کو معلوم نہیں کیونکہ لفظ "اجلا" نکرہ استعمال ہوا ہے۔)

۳۔ انسان کے لئے دو طرح کی "اجل" ایک مشروط اور تبدیل ہوسکنے والی جسے صرف "اجل" کہا گیا ہے۔ اور دوسری غیر مشروط اور ناقابلِ انتقال و ناقابلِ تغیر جسے "اجل مسمٰی" سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اگر یہی اجل واقع ہو جائے تو اس میں ایک لمحہ کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

واضح رہے کہ جس طرح قانون سازی کے نظام میں یہ ہوتا ہے کہ وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر قانون بھی یا تو تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یا انہیں منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تخلیق کائنات کے نظام میں بھی مصلحت کے تقاضوں کے پیشِ نظر تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ جسے اصطلاح میں "بدا" کہتے ہیں۔ اور موضوع کو مٹا دیا جاتا ہے۔ سورہ رعد / ۳۹ میں ارشاد ہوتا ہے۔

"( یمحوا الله مایشأ ویثبت ) ۔۔۔ " یعنی خدا جس چیز کو چاہے مٹا دے اور جسے چاہے برقرار رکھے۔۔

۴۔ کہاں خاک کا پُتلہ اور کہاں خدا کے بارے میں شک و شبہ؟( من طین - تمترون )

آیت ۳

( وَ هُوَاللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ط یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَهْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَاتَکْسِبُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور آسمانوں اورزمین میں وہی اللہ ہے۔ تمہاری چھپی ہوئی اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے، اور جو کچھ تم کماتے ہو (اسے بھی) جانتا ہے۔

ایک نکتہ:

۱ ۔ چند خداؤں (بارش کا خدا، جنگ کا خدا، صلح کا خدا، زمین اور نباتات کا خدا وغیرہ) جیسے خرافاتی عقیدہ کے جواب میں یہ آیت فرماتی ہے "تمام چیزوں کا اور تمام جگہوں پر صرف ایک ہی خدا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم کی فرمانروائی کا علاقہ تمام کائنات ہے۔

۲ ۔ خداوند عالم انسانوں کا خالق ہونے "( خلقکم من طین ) " کے ساتھ ساتھ ان کے ظاہر و باطن سے بھی آگاہ ہے( یعلم سرکم و جهرکم )

(یعنی خداوند عالم ہر جگہ موجود ہے "مکانی" موجودگی کی بنا پر نہیں بلکہ "علمی"، "قیومی"، "سلطانی" اور کامل "گرفت" کے لحاظ سے)

۳ ۔ خداوند عالم انسان کے مستقبل سے بھی پوری طرح آگاہ ہے( تکسبون )

آیت ۴ ۔ ۵

( وَمَاْ تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّّهِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْهَا مُُعْرِضِیْنَ- فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ هُمْ ط فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْبٓؤُا مَا کَانُوْا بِه یَسْتَهْزِءُ ْونَ ) ۔

ترجمہ۔ ان کے پاس ان کے رب کی آیات اور نشانیوں میں سے کوئی اور آیت اور نشانی نہیں آئی تھی مگر وہ (اس کی تصدیق اور اس پر ایمان کی بجائے) اس سے منہ پھیر لیتے۔ پس جونہی ان کے پاس کوئی حق آ گیا تو انہوں نے اس کی یقیناً تکذیب کی اور اسے جھٹلا دیا تو جن (ناگوار اور تلخ) خبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے آئندہ وہ ان کے پاس آ کر رہیں گی (اور وہ اپنی تکذیب کی سزا کو پا لیں گے)

دو نکتے:

اسی سورت کی آیت ۱ اور ۲ میں توحید کی طرف اشارہ ہے اور زیر نظر آیت میں معاد اور نبوت کی طرف۔

آیت میں مذکور "بڑی خبر" سے مراد یا تو فتح مکہ کی خبر ہو سکتی ہے یا پھر جنگ بدر وغیرہ میں مشرکین کی شکست کی خبر۔

(تفسیر مراغی)

پیام:

۱ ۔ انسان تین مراحل میں پستی کی انتہائی گہرائیوں میں جا گرتا ہے۔ ۱ ۔ حق سے روگردانی ۲ ۔ حق کی تکذیب اور ۳ اس کا مذاق اڑانا۔ ان دونوں آیات میں تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

۲ ۔ ہٹ دھرم شخص کے لئے کسی قسم کی دلیل اور آیت کارگر اور موثر واقع نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ ہر ایک کو مسترد کر دیتا ہے( آیة من آیات ربهم )

۳ ۔ ہٹ دھرم اور کافر لوگ نہ تو کسی بات کو سننے کے روادار ہوتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر، تحقیق کرنے کے۔ جونہی حق بات ان کے سامنے پیش ہوتی ہے فوراً جھٹلا دیتے ہیں( کذبوا بالحق لما جاء هم )

۴ ۔ کفار کا سکون فوراً سلب کر لو( فسوف یاتیهم )

۵ ۔ ادھر مومنین کو تسلی دینی چاہئے کہ جس راستے کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ برحق ہے اور ادھر کفار کو مرعوب کرنا چاہئے کہ تمہیں ناگوار اور کڑوی خبریں سننا پڑیں گی۔

۶ ۔ ٹھٹھا مذاق اور تمسخر اڑانا کفار کا قدیمی شیوہ ہے( کانوا به یستهزوٴن )

آیت ۶

( اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَهْلَکْنَا مِنْ قَبْلِهمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَاص رًاوَّجَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَکْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ آیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کس قدر بڑی تعداد میں امتوں کو ہلاک کیا؟ حالانکہ ہم نے انہیں زمین میں وہ مقام اور طاقت عطا کی تھی جو تمہیں نہیں دی۔ اور ان پر آسمان (کی بارش) کو پے درپے بڑھایا اور ان کے پاؤں کے نیچے پانی کی نہریں جاری کیں۔ پس ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کیا، اور ان کے بعد دوسری نسل کو پیدا کیا۔

ایک نکتہ

"قرن" ایسی امت کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی مرتبہ ہلاک ہو گئی ہو اور ا س سے کوئی بھی شخص باقی نہ رہا ہو۔ (اقرب الموارد ) جو لوگ ایک ہی دور میں رہ رہے ہوں انہیں بھی "قرن" کہا جاتا ہے۔ اور عام طور پر ایک نسل ساٹھ سے سو سال تک چلی جاتی ہے۔ اسی لئے ساٹھ یا اسی یا سو سال کو "قرن" کہتے ہیں (تفسیرالمیزان اور تفسیر فخر رازی)

پیام

۱ ۔ دوسروں کی تاریخ اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ (الم یروا) اور یہ قرآن مجید کا ایک تربیتی ایک طریقہ کار ہے کہ واقعی اور سبق آموز داستانیں بیان کرتا ہے۔

۲ ۔ جو لوگ قدرتی اور خداداد وسائل سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی سزا ہلاکت اور تباہی ہے۔( کم اهلکنا )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے( فاهلکنا هم )

۴ ۔ اعمال کی خرابی کا موجب خود انسان ہی ہوتا ہے( فاهلکنا هم بذنوبهم )

۵ ۔ صاحبان اقتدار و دولت یہ نہ سمجھیں کہ دنیا ہمیشہ انہی کے حق میں رہے گی اور وہ دنیا میں رہیں گے، خداوند عالم انہیں اس دنیا سے اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ لے آتا ہے( اهلکنا هم…وانشأنا من بعدهم قرتًااٰخرین )

۶ ۔ نعمتوں کے زوال اور خوشحال لوگوں کی سرنگونی کی طرف توجہ غفلت دور کرنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔

۷ ۔ اگر اقتدار اور امکانات نیک لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے "( ان مکناهم اقاموالصلوٰة--- ) " لیکن اگر بے ایمان اور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو فساد اور گناہ کرتے ہیں( مکناهم…بذنوبهم )

۸ ۔ "( ارسلنا من السماء ) " (آسمان سے بھیجا) کی بجائے فرمایا "( ارسلنا السّماء ) " (آسمان کو تمہارے لئے بھیجا) جس سے خداوند عالم کے لطف و کرم کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔

۹ ۔ مادی وسائل و امکانات خدائی قہر و غضب سے مانع نہیں ہوتے( مکناهم…اهلکناهم ) ۳

۱۰ ۔ مادی وسائل اور امکانات ہمیشہ اور ہر جگہ کامیابی کی دلیل نہیں ہوتے۔ ۳-

۱۱ ۔ گناہوں کی وجہ سے ہلاکت اور تباہی، ایک قانون قدرت ہے جو کسی خاص گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ارشاد باری ہے "فکلا اخذ نا بذنبہ" یعنی ہم نے سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے اپنی گرفت میں لے لیا۔ (عنکبوت/ ۳۹)

۱۲ ۔ موت دو طرح کی ہوتی ہے ایک طبعی جو "اجل" آ جانے کے ساتھ واقع ہوتی ہے اور دوسری غیرطبعی جو خدائی قہر و غضب اور اچانک حادثات کی وجہ سے واقع ہوتی ہے( بذنوبهم )

آیت ۷

( وَلَوْنَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ ) ۔

ترجمہ۔ اور (ہٹ دھرم اور ضدی کفار تو بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں) حتی کہ اگر کوئی ہم کوئی تحریر کسی کاغذ میں تمہاری طرف نازل کرتے جسے وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ مس کرتے پھر بھی کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ تو جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

چند نکات:

کچھ مشرکین کہتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے جب ایک کاغذ پر کوئی تحریر فرشتے کے ذریعہ ہمارے پاس آئے۔ لیکن یہ سب ان کی جھوٹی باتیں ہیں اور ان کے بہانے ہیں۔

"قرطاس" اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کوئی چیز لکھی جائے خواہ وہ کاغذ ہو یا لکڑی، چمڑا ہو یا پتھر۔ لیکن موجودہ دور میں کاغذ کو "قرطاس" کہتے ہیں۔

آنکھوں کے ساتھ دیکھے جانے والے معجزات کے بارے میں ممکن ہے کہ بہانہ کی تلاش میں لگے رہنے والے یہ لوگ یہ کہیں کہ ہماری آنکھوں اور ہماری نگاہوں کو الٹ پھیر کر دیا گیا ہے (قرآن مجید کے بقول وہ کہیں گے "سکرت ابصارنا لیکن یہ لوگ اگر انہیں اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھو لیں تو بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔

پیام:

۱ ۔ جب مقصد ہی ضد اور ہٹ دھرمی ہو تو پھر کوئی بھی دلیل اور برہان بے فائدہ ہوتی ہے حتی کہ محسوسات (ہاتھوں وغیرہ سے چھوئی جانے والی چیزوں) کا بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔

۲ ۔ "جادو" ایک ایسا موثر حربہ تھا جسے مشرکین، حضرت رسول خدا کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔

آیت ۸

( وَقَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزلَ عَلَیْهِ مَلَکٌ ط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُُضِیَ الْاَمْرُثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (بہانہ جُو کفار نے) کہا (محمد، اللہ کا رسول ہے تو پھر) اس پر کوئی (ایسا) فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوا (جسے ہم دیکھتے) اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو یقیناً بات ختم ہوجاتی۔ اور اس وقت کسی قسم کی مہلت نہ دی جاتی (اگر فرشتے کے آنے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو فوراً سب لوگ سزا کے مستحق قرار پائیں گے)

ایک نکتہ:

جس قسم کے فرشتے کا کفار نے مطالبہ کیا ہے اگر وہ انسانی صورت میں ہو تو پھر اسی پیغمبر کی مانند ہو گا اور اگر اپنی حقیقی صورت میں جلوہ نمائی کرے گا تو یہ لوگ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا اسے دیکھتے ہی ان کی جان نکل جائے گی۔ (تفسیر قرطبی از ابن عباس اور تفسیر فخر رازی اور تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ استکبار کا شیطانی شیوہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنے جیسے بشر کی پیروی کرے (اسی لئے کبھی تو کہتے تھے کہ "انبیاء کس لئے ہماری طرح کھانا کھاتے، بازاروں میں چلتے اور ہمارے جیسے لباس پہنتے ہیں؟ کبھی ایک دوسرے سے کہتے تھے: اگر اپنے جیسے بشر نبی کی اطاعت کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے" جیسا کہ قرآن کہتا ہے "( ولئن اطعتم بشر امثلکم انکم اذاً لخاسرون ) "

۲ ۔ خدائی طریقہ کار یہی چلا آ رہا ہے کہ اگر لوگ معجزہ طلب کریں اور وہ انجام بھی پا جائے اور پھر وہ اس کا انکار کریں تو پھر ان کی ہلاکت اور بربادی یقینی ہو جاتی ہے (ملاحظہ ہو تفسیر مراغی)

۳ ۔ خدائی دعوت کا انداز یہ ہے کہ مکمل آزادی، سوچ و بچار سے کام لینے، انتخاب اور مہلت دینے کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرے طریقے سے معجزہ کا تقاضا (جیسے فرشتے کا نزول یا آسمان سے مائدہ کا بھیجنا یا پہاڑ کے اندر سے اونٹنی کے باہر نکالنے کا مطالبہ) انتخاب کی مہلت اور فرصت کو ختم کر دیتا ہے اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یا تسلیم کرکے مسلمان بن جاؤ یا پھر ہلاکت کا انتظار کرو( لقضی الامر )

آیت ۹

( وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَکًا الَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًاوَّلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّایَلْبِسُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ حتی کہ اگر ہم (تمہارے لئے پیغمبر) کسی فرشتے کو قرار دیتے تو پھر بھی یقین کے ساتھ اسے مرد کی ہی صورت میں بناتے اور جس شبہے کے ساتھ اب وہ حق کو چھپاتے ہیں اسی طرح ہم ان کے لئے چھپا دیتے۔

دو نکتے:

انسان کے لئے اگر فرشتہ نمونہ عمل ہوتا تو پھر ایسے انسانوں کے لئے کیونکر نمونہ عمل قرار پاتا جو غریزوں کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں اور خوراک و خواہشات نفسانی کے سمندر میں غرق ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ آیت کا اسی طرح معنی ہو "اگر پیغمبر، فرشتہ ہوتا تو بھی اسے مرد کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے تھا کہ جسے لوگ دیکھ سکیں۔ اور یہ بات لوگوں کے شک و شبہ میں پڑ جانے کا موجب ہوتی کہ آیا یہ انسان ہے یا فرشتہ؟( للبسنا علیهم )

پیام

۱ ۔ لوگوں کو دعوت دینے اور ان کی تربیت کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو نمونہ کے طور پر پیش کرناچاہئے جو دعوت اور عمل میں پیش قدم ہوتے ہیں۔( لجعلناه رجلا )

۲ ۔ پیغمبر، مرد ہونا چاہئے( لجعلناه رجلا )

۳ ۔ خدائی طریقہ کار حکمت پر مبنی ہوتا ہے ہر کہ و مہ کی خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں ہو سکتا۔

آیت ۱۰

( وَلَقَدِاسْتُهْزِیٴَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْامِنْهُمْ مَّا کَانُوْا بِه یَسْتَهْزِءُ ْونَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) یقیناً تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان پر عذاب نازل ہوا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تسکین اور تسلی ہے کہ ایک تو یہ کہ تمام سابق انبیاء کا مذاق اڑایا گیا "( مایا تیهم من رسول الا کانوا به یستهزوٴن ) " اور دوسرے یہ کہ صرف اخروی عذاب ہی انہیں نہیں ملے گا۔ دنیا میں بھی مذاق اُڑانے والوں پر خدائی قہر و غضب نازل ہوا اور ان کی خطرناک سازشیں خود ان کے لئے وبال جان بن گئیں۔ "( ولا یحیق مکر السییٴ الا باهله ) "

پیام

۱ ۔ دوسروں کی مشکلات اور ان کے صبر کو یاد کرنے سے، انسان کے صبر میں اضافہ ہوتا ہے، اور مبلغ دین کو مخالفین کی مسخرہ بازی اور مذاق اڑانے سے دل تنگ نہیں ہونا چاہئے۔

۲ ۔ استہزأ اور ٹھٹھا مذاق دشمن کی نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے جس سے خدائی رہبروں کے حوصلے پست کرنا مقصود ہوتا ہے۔

۳ ۔ مسخرہ بازی کرنے والے انجام کار خود ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور یہی مذاق بازی خود انہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے( حاق بالذین سخروا )

۴ ۔ استہزا یا مسخرہ بازی کا شمارکبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے کہ جس پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔

۵ ۔ دوسری ایذارسانیوں پر خداوند عالم مہلت دے دیتا ہے کہ شاید توبہ کر لیں لیکن زبان کے ساتھ زخم پہنچانے اور انبیاء کا مذاق اڑانے پر فوری سزا مل جاتی ہے( فحاق ) میں "فا" کی دلیل کے ساتھ۔