تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ) جلد ۳

 تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ) 0%

 تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ) مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 348

 تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ)

مؤلف: مركز تحقيقات علوم اسلامي
زمرہ جات:

صفحے: 348
مشاہدے: 15462
ڈاؤنلوڈ: 570


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 348 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15462 / ڈاؤنلوڈ: 570
سائز سائز سائز
 تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ)

تاريخ اسلام (امير المؤمنين (ع) كى حيات طيبہ) جلد 3

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

تاريخاسلام (۳)

امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ

مؤلف : مركز تحقيقات اسلامي

مترجم : معارف اسلام پبلشرز

۳

نام كتاب: تاريخ اسلام ۳ (امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ)

مؤلف: مركز تحقيقات اسلامي

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: نور مطاف

جلد: سوم

اشاعت: سوم

تاريخ اشاعت: ربيع الثاني۱۴۲۸ھ _ق

تعداد: ۲۰۰۰

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _

۴

عرض ناشر:

ادارہ معارف اسلام پبلشرز اپنى اصلى ذمہ دارى كو انجام ديتے ہوئے مختلف اسلامى علوم و معارف جيسے تفسير، فقہ، عقائد، اخلاق اور سيرت معصومين(عليہم السلام) كے بارے ميں جانے پہچانے محققين كى قيمتى اور اہم تاليفات كے ترجمے اور طباعت كے كام كو انجام دے رہاہے_

يہ كتاب تاريخ اسلام ۳ (امير المؤمنينعليه‌السلام كى حيات طيبہ) جو قارئين كے سامنے ہے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اہل بيت اطہار كى سيرت اور تاريخ پر لكھى جانے والى كتابوں كے سلسلے كى ايك كڑى ہے جسے گذشتہ سالوں ميں ترجمہ كرواكر طبع كيا گيا تھا_ اس ترجمہ كے دستياب نہ ہونے اور معزز قارئين كے مسلسل اصرار كے باوجود اس پر نظر ثانى اور اسے دوبارہ چھپوانے كا موقع نہ مل سكا_

خداوند عالم كے لطف و كرم سے اس سال كہ جسے رہبر معظم (دام ظلہ) كى جانب سے رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا سال قرار ديا گيا ہے، اس نفيس سلسلے كى تيسرى جلد كو ، نظر ثانى اور تصحيح كے بعد دوبارہ زيور طبع سے آراستہ كيا جارہاہے_ ہم اميد كرتے ہيں كہ خداوند متعال كے فضل و كرم، امام زمان (عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف) كى خاص عنايت اور ادارے كے ساتھ تعاون كرنے والے محترم فضلاء كے مزيد اہتمام و توجہ سے اس سلسلے كى بعد والى جلدكہ جو حضرت زہرا اور ائمہ معصومين كى حيات طيبہ كے بارے ميں ہے كوبھى جلد از جلدچھپوا كر مطالعہ كے شائقين كى خدمت ميں پيش كرسكيں گے_

ان شاء اللہ تعالى

معارف اسلام پبلشرز

۵

حضرت على _ كى زندگي مختلف ادوار

حضرت علىعليه‌السلام كى تريسٹھ سالہ زندگى كو پانچ ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے :

۱_ ولادت سے حضرت محمد مصطفىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مبعوث ہونے تك _

۲_ بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

۳_ ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

۴_ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت سے خلافت ظاہرى تك

۵_ خلافت ظاہرى سے شہادت تك

۶

پہلا سبق

ولادت سے حضرت محمد مصطفيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے مبعوث بہ رسالت ہونے تك

ولادت

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير دامن آپ كى پرورش

بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

حضر ت علىعليه‌السلام وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا

بے نظير قربانى

ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

علىعليه‌السلام رسول خدا كے امين

علىعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھائي

علىعليه‌السلام اور راہ خدا ميں جنگ

علىعليه‌السلام جنگ بدر كے بے نظير جانباز

حضرت علىعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تنہا محافظ

جنگ خندق ميں علىعليه‌السلام كا كردار

۷

علىعليه‌السلام فاتح خيبر

امير المومنينعليه‌السلام كى سياسى زندگى ميں جنگجوئي كے اثرات

حضرت علىعليه‌السلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشينى

حديث يوم الدار

حديث منزلت

قرآن مجيد ميں حضرت ہارونعليه‌السلام كے مقامات و مناصب

حديث غدير

سوالات

حوالہ جات

۸

ولادت

حضرت علىعليه‌السلام نے ۱۳ رجب بروز جمعہ ' عام الفيل(۱) كے تيسويں سال ميں (بعثت سے دس سال قبل) خانہ كعبہ ميں ولادت پائي اس نومولود بچے كے والد كا نام عمران(۲) تھا وہ قبيلہ بنى ہاشم كے سردار تھے اور مكہ كے بااثر لوگوں ميں شمار كئے جاتے تھے آپكى والدہ فاطمہ بن اسد ابن ہاشم ابن عبد مناف تھيں _ آپعليه‌السلام كو خانہ كعبہ كے طواف كے درميان درد زہ محسوس ہوا چنانچہ آپ معجزے كے زير اثر خانہ كعبہ كى عمارت ميں داخل ہو گئيں جہاں حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت ہوئي_

خانہ كعبہ ميں امير المومنين حضرت علىعليه‌السلام كى ولادت كو عام شيعہ مورخين و محدثين اور علم انساب كے دانشوروں نے اپنى كتابوں ميں تحرير كيا ہے اور اب تك كسى دوسرے شخص كو يہ فضيلت حاصل نہيں ہوئي ہے(۳)

پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير دامن آپ كى پرورش

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جب پہلى مرتبہ وحى نازل ہوئي تو اس وقت حضرت عليعليه‌السلام كى عمر دس سال

۹

سے زيادہ نہ تھي_ حضرت علىعليه‌السلام كى زندگى كا وہ حساس ترين دور تھا جس ميں حضرت محمد بن عبداللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے زير سايہ عاطفت آپ كى شخصيت كى تشكيل ہوئي آيندہ جو واقعات رونما ہونے والے تھے ان كا چونكہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مكمل علم تھا اور بخوبى يہ جانتے تھے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ہى امت مسلمہ كے امور كى زمام سنبھاليں گے اس لئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منظم دستورالعمل كے تحت اپنے زير دامن تربيت كى غرض سے اس وقت جب كہ حضرت علىعليه‌السلام كى عمر چھ ہى سال تھى ان كے والد كے مكان سے اپنے گھر منتقل كر ليا تاكہ براہ راست اپنى زير نگرانى تربيت و پرورش كرسكيں _(۴)

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حضرت علىعليه‌السلام سے اس قدر محبت تھى كہ آپ كو معمولى دير كى جدائي بھى گوارانہ تھى چنانچہ جب كبھى عبادت كى غرض سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مكہ سے باہر تشريف لے جاتے(۵) تو حضرت علىعليه‌السلام كو بھى ہمراہ لے جاتے_

حضرت علىعليه‌السلام نے اس دور كى كيفيت اس طرح بيان فرمائي ہے : يہ تو آپ سب ہى جانتے ہيں كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مجھ سے كس قدر انسيت تھى اور مجھے جو خاص قربت حاصل تھى اس كا بھى آپ كو علم ہے ميں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پر شفقت آغوش ميں پرورش پائي ہے جب ميں بچہ تھا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے گود ميں لے ليا كرتے تھے مجھے آپ گلے سے لگاتے تھے اور اپنے ساتھ سلاتے تھے ميں اُن كے بدن كو اپنے بدن سے چمٹا ليتا تھا اور آپ كے بدن كى خوشبو سونگھتا تھا ، آپ نوالے چباتے اور ميرے منھ ميں ديتے تھے '' _

جس طرح ايك بچہ اپنى ماں كے پيچھے چلتا ہے اسى طرح ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پيچھے پيچھے چلتا تھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر روز اپنے اخلاقى فضائل كا پرچم ميرے سامنے لہراتے اور فرماتے كہ ميں بھى آپ كى پيروى كروں _(۶)

اس دوران حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے اخلاق گرامى اور فضائل انسانى سے بہت زيادہ كسب فيض كيا اور آپ كى زير ہدايت و نگرانى روحانيت كے درجہ كمال پر پہنچ گئے_

۱۰

بعثت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت تك

حضرت علىعليه‌السلام وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دين اسلام قبول كيا _

حضرت علىعليه‌السلام كا اولين افتخار يہ ہے كہ آپ نے سب سے پہلے دين اسلام قبول كيا بلكہ صحيح معنوں ميں يوں كہيئے كہ آپ نے اپنے قديم دين كو آشكار كيا _

دين اسلام قبول كرنے ميں پيشقدمى وہ اہم موضوع ہے جس كو قرآن نے بھى بيان كيا ہے(۷) يہى نہيں بلكہ جن لوگوں نے فتح مكہ سے قبل دين اسلام قبول كيا اور راہ خدا ميں اپنے جان و مال كو نثار كيا انھيں ان لوگوں پر فوقيت دى ہے جو فتح مكہ كے بعد ايمان لائے اور جہاد كيا(۸) اس پس منظر ميں اس شخص كى عظمت كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے جو سب سے پہلے دين اسلام سے مشرف ہوا اور اس وقت ايمان لايا جب كہ ہر طرف دشمنان اسلام كى طاقت كا ہى دور دورہ تھا يہ ايك عظيم افتخار تھے كہ ديگر تمام فضائل اس كى برابرى نہيں كر سكتے _

بہت سے مورخين كا اس بات پر اتفاق ہے كہ حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر پہلى مرتبہ وحى پير كے دن نازل ہوئي اور اس كے اگلے دن حضرت علىعليه‌السلام ايمان لائے _(۹)

حضرتعليه‌السلام نے دين اسلام قبول كرنے ميں جو دوسروں پر سبقت حاصل كى سب سے پہلے خود پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس كى صراحت كرتے ہوئے صحابہ كے مجمع عام ميں فرمايا تھا '' روز قيامت مجھ سے حوض كوثر پر وہ شخص سب سے پہلے ملاقات كرے گا جس نے دين اسلام قبول كرنے مےں تم سب پر سبقت كى اور وہ ہے على بن ابى طالبعليه‌السلام (۱۰)

خود حضرت علىعليه‌السلام نے بھى مختلف مواقع پر اس حقيقت كى صراحت فرمائي ہے _ايك جگہ آپ فرماتے ہيں '' اس روز جب كہ اسلام كسى كے گھر تك نہيں پہنچا تھا اور صرف پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و حضرت خديجہعليه‌السلام اس دين سے مشرف ہوئي تھيں ميں تيسرا مسلمان تھا _ ميں نور وحى و رسالت كو ديكھتا تھا اور نبوت كى خوشبو سونگھتا تھا _(۱۱)

۱۱

دوسرى جگہ آپ فرماتے ہے : '' خدا وندا ميں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تيرى طرف رجوع كيا ، تيرے پيغام كو سنا امور تيرے پيغمبر صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دعوت پر لبيك كہا ''(۱۲)

بے نظيرقربانى

آپ كے ديگر افتخار ميں سے ايك افتخار يہ بھى ہے جب آپعليه‌السلام شب ہجرت (جوكے ليلة المبيت كے نام سے مشہور ہے)پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بستر پر سو گئے اور اس دوران آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مكہ سے مدينے ہجرت فرمائي اور تمام مورخين نے اس واقعہ كو بيان كيا ہے اہل قريش ميں سے چاليس بہادروں نے يہ فيصلہ كر ليا تھا كہ اس رات رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو قتل كر ديں اس غرض سے انہوں نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے گھر كو نرغے مےں لے ليا _ اس رات حضرت علىعليه‌السلام نے اپنى جان كى بازى لگا كر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى حفاظت فرمائي اور جو خطرات رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو پيش آنے والے تھے ان كو اپنے مول لے ليا _

يہ قربانى اس قدر اہم اور قابل قدر تھى جيسا كہ متعدد روايات(۱۳) سے معلوم ہوتا ہے كہ اللہ تعالى نے اس موقع پر يہ آيت نازل فرمائي (ومن الناس من يشرى نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ رء وف بالعباد)(۱۴) يعنى انسانوں ميں سے كوئي ايسا بھى ہے جو رضائے الہى كى طلب ميں اپنى جان كھپا ديتا ہے اور ايسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے _

ہجرت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت تك

عليعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے امين

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو جب يہ حكم ملاكہ مكہ سے مدينہ تشريف لے جائيں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اپنے قبيلے كے افراد ميں كوئي بھى ايسا شخص نظر نہ آيا جو حضرت علىعليه‌السلام سے زيادہ امين و صادق ہو چناچہ اس بناء پر رسول خدا

۱۲

نے على عليه‌السلام كو اپنا جانشين مقرر كيا اور فرمايا كہ لوگوں كو ان كى امانتيں جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس تھيں واپس كر ديں اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جو قرض واجب ہيں انھيں بھى ادا كر ديں اس كے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى دختر فاطمہعليه‌السلام اور بعض ديگر خواتين كو ساتھ لے كر مدينہ آجائيں _

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہجرت كے بعد حضرت علىعليه‌السلام ان امور كو انجام دينے كے لئے جن كے بارے ميں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا تھا تين دن تك مكہ ميں تشريف فرما رہے اس كے بعد آپ اپنى والدہ فاطمہ ' دختر رسول خدا حضرت فاطمہعليه‌السلام فاطمہ بن زبير اور ديگر بعض عورتوں كے ہمراہ پيدل مدينہ كى جانب روانہ ہوئے اور قبا ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جاملے(۱۵)

جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر حضرت علىعليه‌السلام پر پڑى تو ديكھا كہ حضرت علىعليه‌السلام كے پيروں ميں پيدل چلنے سے چھاليں پڑ گئي ہيں اور ان سے خوں ٹپكنے لگا ہے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى انكھوں ميں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرط محبت سے گلے لگا ليا اور آپ كے حق مےں دعا كى اس كے بعد آپ نے لعاب دہن حضرت عليعليه‌السلام كے پيروں پر لگايا جس كى وجہ سے زخم بھر گئے _(۱۶)

عليعليه‌السلام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے بھائي

ہجرت كر كے مدينہ تشريف لے جانے كے بعد پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو اہم و سودمند اقدامات كئے ان ميں ايك يہ تھا كہ مہاجرين و انصار كے درميان رشتہ اخوت و برادرى بر قرار كيا چنانچہ اس وقت مسجد ميں جتنے بھى لوگ موجود تھے ان كے درميان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علىعليه‌السلام كے علاوہ رشتہ برادرى قائم كر ديا _ حضرت علىعليه‌السلام تنہا رہ گئے تھے آپ نے پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں عرض كيا : يا رسول اللہ آپ نے ميرے علاوہ ہر ايك كو رشتہ برادرى ميں منسلك كر ديا ؟ اس موقع پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے وہ تاريخى جملہ اپنى زبان مبارك سے ادا كيا جس سے يہ اندازہ ہوتا ہے كہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى نظر ميں حضرت عليعليه‌السلام كا كيا مقام تھا اور آپ كى نظروں ميں انكى كتنى وقعت و اہميت تھى _

آپ نے فرمايا '' قسم ہے اس خدا كى جس نے مجھے حق كے ساتھ مبعوث كيا ميں نے تمہارے

۱۳

رشتہ برادرى ميں تاخير نہيں كى بلكہ تمہيں اپنے رشتہ اخوت و برادرى كے ليے منتخب كيا ہے تم ہى دين و دنيا ميں ميرے بھائي ہو ''( ۱۷ ) _

علىعليه‌السلام اور راہ خدا ميں جنگ

حضرت على كى شخصيت اپنى قربانيوں اور راہ حق ميں جانبازيوں كے باعث صحابہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے درميان لاثانى و بے مثال ہے(۱۸) غزوہ تبوك كے علاوہ آپ نے تمام غزوات ميں شركت كى اور غزوہ تبوك ميں پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ہدايت كے مطابق آپ مدينہ ميں مقيم رہے يہ آپ كى قربانى اور جانبازى كا ہى نتيجہ تھا كہ سپاہ اسلام نے سپاہ شرك پر غلبہ حاصل كيا اگر اسلام كے اس جيالے كى جانبازياں نہ ہوتيں تو ممكن تھا كہ وہ مشرك و كافر جو مختلف جنگوں ميں اسلام كے خلاف بر سرپيكار رہے چراغ رسالت كو آسانى سے خاموش اور پرچم حق كو سرنگوں كر ديتے _

يہاں ہم حضرت علىعليه‌السلام كى ان قربانيوں كا سر سرى جائزہ ليں گے جو آپ نے جنگ كے ميدانوں (بدر ' احد ' خندق اور خيبر)ميں پيش كيں _

عليعليه‌السلام جنگ بدر كے بے نظير جانباز

جنگ بدر ميں حضرت علىعليه‌السلام كى شخصيت دو وجہ سے نماياں رہى _

۱ _ جنگ فرد بفرد : جس وقت مشركين كے لشكر سے عتبہ ' شيبہ اور وليد جيسے تين نامور دليروں نے ميدان جنگ ميں اتر كر سپاہ اسلام كو للكارا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم پر حضرت عبيدہ بن حارث ' حمزہ بن عبدالمطلب اور على بن ابى طالبعليه‌السلام ان سے جنگ كرنے كے لئے ميدان جنگ مےں اتر آئے _ چنانچہ حضرت عبيدہ عتبہ سے ' حضرت حمزہ ، شيبہ سے اور حضرت علىعليه‌السلام وليد سے برسر پيكار ہو گئے _

۱۴

مورخين كا بيان ہے : حضرت على عليه‌السلام نے پہلے ہى وار ميں دشمن كو قتل كر ڈالا ' اس كے بعد آپعليه‌السلام حضرت حمزہ كى مدد كے لئے پہنچے اور ان كے حريف كے بھى دم شمشير سے دو ٹكڑے كرديئے اس كے بعد يہ دونوں بزرگ حضرت عبيدہ كى جانب مدد كى غرض سے بڑھے اور ان كے حريف كو بھى ہلاك كر ڈالا(۱۹) _

اس طرح آپعليه‌السلام لشكر مشركين كے تينوں نامور پہلوانوں كے قتل ميں شريك رہے _ چنانچہ آپ نے معاويہ كو جو خط لكھا تھا اس ميں تحرير فرمايا كہ وہ تلوار جس سے ميں نے ايك ہى دن ميں تيرے دادا (عتبہ)' تيرے ماموں (وليد)' تيرے بھائي (حنظلہ)اور تيرے چچا (شيبہ)كو قتل كيا تھا اب بھى ميرے پاس ہے(۲۰) _

۲ _ اجتماعى و عمومى جنگ_ مورخين نے لكھا ہے كہ جنگ بدر ميں لشكر مشركين كے ستر(۷۰)

سپاہى مارے گئے جن ميں ابوجہل ' اميہ بن خلف ' نصر بن حارث و اور ديگر سر برآوردہ سرداران كفار شامل تھے ' ان ميں سے ستائيس سے پينتيس كے درميان حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير كے ذريعہ لقمہ اجل ہوئے ، اس كے علاوہ بھى دوسروں كے قتل ميں بھى آپ كى شمشير نے جو ہر دكھائے _ چنانچہ اس وجہ سے قريش آپ كو '' سرخ موت ''كہنے لگے كيونكہ اس جنگ ميں انھيں ذلت و خوارى اميرالمومنين حضرت علىعليه‌السلام كے ہاتھوں نصيب ہوئي تھى(۲۱) _

حضرت علىعليه‌السلام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے تنہا محافظ

جنگ احد ميں بھى حضرت علىعليه‌السلام كے كردار كا جائزہ دو مراحل ' يعنى مسلمانوں كى فتح و شكست ' كے پس منظر ميں ليا جاسكتا ہے _

مرحلہ فتح و كاميابى :

اس مرحلے ميں لشكر اسلام كو كاميابى اور مشركين كو پسپائي آپ ہى كے دست مبارك سے ہوئي_ لشكر قريش كا اولين پر چمدار طلحہ بن ابى طلحہ جب حضرت علىعليه‌السلام كے حملوں كى تاب نہ لاتے

۱۵

ہوئے زمين پر گر گيا تو اس كے بعد دوسرے نو افراد نے يكے بعد ديگر پرچم لشكر اپنے ہاتھوں ميں ليا ليكن جب وہ بھى حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير سے مارے گئے تو لشكر قريش كے لئے راہ فرار كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا(۲۲) _

مرحلہ شكست :

جب آبناے '' عينين'' كے بيشتر كمانداروں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے سرتابى كى اور اپنى جگہ سے ہٹ گئے تو اس وقت خالد بن وليد اپنے گھڑ سوار لشكر كے ساتھ اس پہاڑ كا چكر كاٹ كر اس آبنائے كى راہ سے مسلمانوں پر ايك دم حملہ آور ہوا چونكہ يہ حملہ اچانك اور انتہائي كمر شكن تھا اسى لئے جنگ كے اس مرحلے ميں ستر مسلمانوں كو شہادت نصيب ہوئي اور باقى جو چند بچ گئے تھے انھوں نے راہ فرار اختيار كى _

اس مرحلے ميں حضرت علىعليه‌السلام كا اہم ترين كردار يہ تھا كہ آپ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے وجود مقدس كى پاسبانى و حفاظت كے فرائض انجام دے رہے تھے _

ان حالات مےں جبكہ چند مسلمانوں كے علاوہ سب اپنى جان بچانے كى خاطر ميدان جنگ سے فرار كر گئے اور لشكر قريش نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ہر طرف سے اپنے حملوں كا نشانہ بناليا تو اس وقت حضرت علىعليه‌السلام ہى تھے جنہوں نے اپنے حملوں سے دشمن كو آگے بڑھنے سے روكا چنانچہ دشمنان اسلام كا وہ گروہ جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے نزديك آكر حملہ كرنا چاہتا تھا آپ ہى كى تيغ سے ہلاكت كو پہنچا_

اميرالمومنين علىعليه‌السلام كى يہ قربانى اتنى اہم و قابل قدر تھى كہ حضرت جبرئيلعليه‌السلام نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو اس كى مبارك بادى دى چنانچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھى يہ فرمايا كہ :''على منى و انا من على '' (يعنى على مجھ سے ہيں اور ميں على سے ہوں ) اس قربانى كو قدر ومنزلت كى نگاہ سے ديكھا اور جب غيب سے يہ ندا آئي :''لا سيف الا ذوالفقار و لا فتى الا علي'' تو دوسروں كو بھى حضرت علىعليه‌السلام كى اس قربانى كا انداز ہ ہوا(۲۳)

خود حضرت علىعليه‌السلام نے اپنے اصحاب كے ساتھ اپنى گفتگو كے درميان اس قربانى كا ذكر كرتے

۱۶

ہوئے فرمايا : جس وقت لشكر قريش نے ہم پر حملہ كيا تو انصار ومہاجرين نے اپنے گھروں كى راہ اختيار كى مگر ميں ستر سے زيادہ زخم كھانے كے باوجود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى مدافعت و پاسبانى كرتا رہا_(۲۴ )

حضرت علىعليه‌السلام نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى پاسبانى و مدافعت كى خاطر دشمن كا جم كر مقابلہ كيا كہ آپ كى تلوار ٹوٹ گئي اس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنى وہ شمشير جس كا نام ''ذوالفقار'' تھا آپ كو عطا فرمائي چنانچہ آپ نے اسى سے راہ خدا ميں اپنے جہاد كو جارى ركھا _(۲۵)

جنگ خندق ميں علىعليه‌السلام كا كردار

مختلف لشكروں (احزاب) كے دس ہزار سپاہيوں نے تقريباً ايك ماہ تك مدينہ كا محاصرہ جارى ركھا _ اتنى مدت گذرجانے كے بعد بالآخر دشمن كو اس كے علاوہ كوئي چارہ نظر نہ آيا كہ وہ اپنے مضبوط وطاقتور لشكر كو جس طرح بھى ممكن ہو سكے خندق پار كرائے_ اس فيصلے كے بعد عربوں كے ''نامور پہلوان عمر بن عبدود'' نے اپنے ساتھ پانچ سپاہى ليے اور اس جگہ سے جہاں خندق كم چوڑى تھى پار كرآيا اور جنگ كے لئے للكارا _ حضرت علىعليه‌السلام نے اس كى اس دعوت جنگ كو قبول كيا اور اس كے نعروں كا جواب دينے كيلئے آگے بڑھے چنانچہ سخت مقابلے كے بعد عربوں كاوہ دلاور ترين جنگجو پہلوان جسے ايك ہزار جنگى سپاہيوں كے برابر سمجھا جاتا تھا ، حضرت علىعليه‌السلام كى شمشير سے زمين پر گر پڑا عمرو كے ساتھيوں نے جب اس كى يہ حالت ديكھى تو وہ فرار كرگئے اور ان ميں سے جو شخص فرار نہ كرسكا وہ ''نوفل' تھا _ چنانچہ وہ بھى حضرت علىعليه‌السلام كے ايك ہى وار سے عمرو سے جاملا_ عمروبن عبدود كى موت (نيز بعض ديگر عوامل) اس امر كا باعث ہوئے كہ جنگ كا غلغلہ دب گيا او رمختلف لشكروں ميں سے ہر ايك كو اپنے گھر واپس جانے كى فكر دامنگير ہوئي_

اس جنگ ميں حضرت علىعليه‌السلام نے ميدان جنگ كى جانب رخ كيا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: خدايا جنگ بدر كے دن عبيدہ اور احد ميں حمزہ كو تو نے مجھ سے جدا كرديا اب علىعليه‌السلام كو تو ہرگزند سے محفوظ فرما_ اس

۱۷

كے بعد آپ نے يہ آيت پڑھى( رب لا تذرنى فردا و انت خيرالوارثين ) _(۲۶)

جب عمرو كے ساتھ ميدان جنگ ميں مقابلہ ہوا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا :

''برزالايمان كله الى الشرك كله'' (*) يعنى ايمان وشرك كے دو مظہر كامل ايك دوسرے كے مقابل ہيں )

ا ور جب آپ ميدان جنگ سے فاتح و كامران واپس آئے تو پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا : ''لو وزن اليوم عملك بعمل امة محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لرجح عملك بعلمہم''_(يعنى اگر آج تمہارے عمل كا امت محمد كے تمام اعمال (پسنديدہ) سے مقابلہ كياجائے تو (بے شك) اس عمل كو ان پر برترى ہوگي_(۲۷)

علىعليه‌السلام فاتح خيبر

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہوديوں كے مركز ''خيبر'' كا محاصرہ كيا تو اس غزوہ كے ابتدائي دنوں ميں حضرت علىعليه‌السلام آشوب چشم كے باعث اس ميں شريك نہيں ہوسكتے تھے چنانچہ پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پرچم اسلام دو مسلمانوں كو ديا ليكن وہ دونوں ہى يكے بعد ديگرے كامياب ہوئے بغير واپس آگئے_

يہ ديكھ كر پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا يہ پرچم ان كا حق نہ تھا علىعليه‌السلام كو بلاؤ عرض كيا گيا كہ ان كى آنكھ ميں درد ہے _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ : علىعليه‌السلام كو بلاؤ وہى ايسا مرد ہے جو خدا اور اس كے رسول كو عزيز ہے وہ بھى خدا اور اس كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو عزيز ركھتا ہے _(۲۸)

جس وقت حضرت علىعليه‌السلام پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حضور تشريف لائے تو آپ نے دعا فرماتے ہوئے اپنے دہان مبارك سے لعاب ان كى آنكھوں پر لگايا جس كے باعث درد چشم زائل ہوگيا اس كے بعد حضرت علىعليه‌السلام نے پرچم اٹھايا اور ميدان جنگ كى جانب روانہ ہوگئے_

يہودى دلاور اپنے قلعے سے نكل كر باہر آئے _ مرحب كابھائي حارث نعرا لگاتا ہوا حضرت علىعليه‌السلام كى جانب بڑھا مگر چند ہى لمحے بعد اس كا مجروح بدن خاك پر تڑپنے لگا _ مرحب اپنے بھائي كى

۱۸

موت سے سخت رنجيدہ خاطر ہوا چنانچہ اس كا انتقام لينے كى غرض سے وہ ہتھياروں سے ليس حضرت علىعليه‌السلام سے لڑنے كے لئے ميدان جنگ ميں اتر آيا _ پہلے تو دونوں كے درميان كچھ دير گفت و شنيد ہوئي مگر پلك جھپكتے ہى جانباز اسلام كى شمشير بران مرحب كے سر پر پڑى اوآن كى آن ميں اسے خاك پر ڈھير كرديا_ دوسرے يہودى دلاوروں نے جب يہ ماجرا ديكھا تو وہ بھاگ گئے اور اپنے قلعے ميں چھپ گئے اور دروازہ بند كرليا _ حضرت علىعليه‌السلام نے ان بھاگنے والوں كا تعاقب كيااور جب دروازہ بند پايا تو قدرت حق سے اسى دروازے كو جسے بيس آدمى مل كر بند كيا كرتے تھے تن تنہا ديوار قلعہ سے اكھاڑ ليا اور يہوديوں كى قلعہ خندق پر گرايا تاكہ سرباز اسلام اس كے اوپر سے گذر كر فساد اور خطرہ كے آخرى سرچشمہ كو كچل ديں _(۲۹)

عزوہ خيبر ميں چونكہ مسلمانوں كو حضرت علىعليه‌السلام كى قربانى و دلاورى سے فتح و كامرانى حاصل ہوئي تھى اسى وجہ سے آپ كو ''فاتح خيبر '' كے لقب سے ياد كيا جاتا ہے_

اميرالمومنينعليه‌السلام كى سياسى زندگى ميں جنگجوئي كے اثرات

حضرت علىعليه‌السلام كى شجاعت و دلاورى اور جرائتيں جوكہ مختلف غزوات، بالخصوص غزوہ بدر ميں ابھر كر سامنے آئيں ہم نے انكو مختصر طور پر يہاں بيان كيا ہے '' جس كى وجہ يہ ہے كہ ا سى جنگى پہلو كا اسلام كى آيندہ تاريخ اور آپعليه‌السلام كى سياسى زندگى كے حالات قلمبند كرنے ميں اہم ونماياں كردار تھے_ چنانچہ اس كے اثرات و نتائج كى تلاش و جستجو ہميں تاريخ اسلام ميں پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رحلت كے بعد سے كرنى چاہيئے

راہ خدا ميں علىعليه‌السلام كى جانبازيوں او رآپ كے ہاتھوں مشركين كى ہلاكت (تمام غزوات، بالخصوص غزوہ بدر ميں )كى وجہ سے آپ كے خلاف كفار قريش كے دلوں ميں وہ دشمنى و عداوت پيدا ہوگئي جس كے اثرات بعد ميں منظر عام پر آئے_

عثمان اور حضرت علىعليه‌السلام كے درميان خليفہ وقت مقرر كئے جانے سے متعلق چھ ركنى كميٹى ميں جو

۱۹

گفتگو ہوئي اس سے اندازہ ہوتا ہے كہ كفار و قريش كے دلوں ميں آپ كے خلاف كس قدر دشمنى وعداوت تھى اس گفتگو كے اقتباس ہم يہاں پيش كرتے ہيں :

''مسئلہ خلافت كے سلسلہ ميں عثمان نے حضرت علىعليه‌السلام سے خطاب كرتے ہوئے كہا تھا ميں كيا كروں ، قريش آپ كو پسند نہيں كرتے كيونكہ آپ نے ان كے ايسے ستر(۷۰) آدميوں كو (جنگ بدر و احد اور ديگر غزوات ميں )تہ تيغ كيا ہے جن كا شمار قبيلے كے سرداروں اور سربرآوردہ اشخاص ميں ہوتا تھا (چنانچہ ان كے دلوں ميں بھى كينہ و عداوت ہے ''_(۳۰)

اس كى دوسرى مثال يزيد كے وہ اشعار ہےں جو اس نے حضرت سيد الشہداءعليه‌السلام اور آپ كے بہتّر عزيز و اقرباء اور ياران باوفا كى شہادت پر كہے تھے_ وہ لعين جب كہ نشہ فتح وكامرانى ميں مست و سرشار تھا اور حسين بن علىعليه‌السلام كا سر مبارك اس كے پاس لايا گيا تو اس ملعون نے اس موقعے پر جو اشعار كہے ان كا مفہوم يہ ہے: احمد (پيشوائے اسلام) نے جو كام انجام ديئے ہيں ان كے مقابل اگر ميں ان كى آل سے انتقام نہ لوں تو خندف كى نسل سے نہيں _

ہاشم نے دين كے نام پر حكومت حاصل كى تھى ورنہ اس پر نہ غيب سے خبر آئي تھى نہ وحى نازل ہوئي تھي_ ہم نے علىعليه‌السلام سے اپنا بدلہ ليا اور سوار شجاع اور سورما (حسين بن على (ع))كو قتل كرديا _(۳۱)

حضرت علىعليه‌السلام اور پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى جانشيني

بلا شك و ترديد اسلام كے جو عظےم و اہم ترين مسائل ہيں ان ميں امت كى ولايت وقيادت نيز امور مسلمين كى راہبرى و سرپرستى بھى شامل ہے _ چنانچہ اس اہميت كو مد نظر ركھتے ہوئے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى يہ كوشش تھى كہ آئندہ جس اسلامى معاشرے كى تشكيل ہوگئي اس كے مسئلہ رہبرى كو اپنے زمانہ حيات ميں ہى طے كرديں _ چنانچہ ''دعوت حق كے اولين روز سے ہى آپ نے توحيد كے ساتھ مسئلہ خلافت كو واضح كرنا شروع كردياتھا_ چونكہ حضرت علىعليه‌السلام ہى كى وہ شخصيت تھى جو تمام فضائل وكمالات كى مالك تھى اسلئے خداوند متعال كى طرف سے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو حكم ملا كہ مسلمانوں كے دينى و

۲۰