ائمہ علیھم السلام اور سیاست

ائمہ علیھم السلام اور سیاست40%

ائمہ علیھم السلام اور سیاست مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

ائمہ علیھم السلام اور سیاست
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 19 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6223 / ڈاؤنلوڈ: 3757
سائز سائز سائز
ائمہ علیھم السلام اور سیاست

ائمہ علیھم السلام اور سیاست

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

ائمہ (علیہم السلام) اور سیاست

مصنف: سید افتخار عابد نقوی

ائمہ (علیہم السلام) اور سیاست

ائمہ (علیہم السلام) کی روشن زندگی میں ایک قطعی اور مشترک اصول جو کہ تمام زاویوں سے نظر آتاہے وہ سیاست میں شرکت کرنا ہے اور ائمہ (علیہم السلام)کا سیاست میں شامل ہونا اس طرح ہے کہ اس کو ان کی زندگی سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اس رکن کی طرف زیادہ اہمیت دیں ، کیونکہ دنیادار لوگوں نے مسلمانوں کی دنیا اور دین کو ختم کرنے کیلئے ہمیشہ یہ نعرہ لگایاہے کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اس صدی میں اسلام کو زندہ کرنے والی شخصیت حضرت امام خمینی (رحمۃاللہ) فرماتے ہیں:

"خدا کی قسم اسلام پورے کا پورا سیاست ہے، اسلام کو غلط طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے"۔

حضرت امام خمینی اپنی کتاب تحریر الوسیلہ میں فرماتے ہیں کہ:

اسلام کے فلسفے سے بے خبر کچھ لوگ ائمہ (علیہم السلام) کے کچھ اقوال کو نہ سمجھتے ہوئے اس نظرئیے کی تائید کرتے ہیں کہ اسلام اور سیاست الگ الگ ہیں اور دلیل کے طور پر ائمہ (علیہم السلام) کے اقوال کو پیش کرتے ہیں جیسے کہ امام علیعليه‌السلام نے فرمایا :

تمہاری دنیا میرے نزدیک بکری کے بلغم سے زیادہ بے وقعت ہے۔

یا ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

اے دنیا! تو میرے علاوہ کسی اور کو جاکر دھوکہ دے ۔ میں تو تجھے تین طلاقیں دے چکاہوں جن کے بعد پلٹنے کی گنجائش نہیں ہے۔

مندرجہ بالا جملات میں حضرت امیر المومنینعليه‌السلام نے دنیا سے دوری کا اظہار کیا ہے اور یہ دوری اس بات پر دلیل ہے کہ ائمہ (علیہم السلام) دنیا کو پسند نہیں کرتے تھے اور اس بنا ء پر ائمہ (علیہم السلام)کس طرح سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں جب کہ سیاست کا دوسرا نام دنیا ہے۔

فلسفہ دنیاداری

دنیا کی دو قسمیں ہیں: ۱ ۔مذموم ۲ ۔مدوح

جب بھی دنیا حلال طریقے سے حاصل کی جائے اور معنوی اہداف کو پورا کرنے کا ذریعہ بنے تو یہ خدا کی نظر میں پسندیدہ ہے۔

اور جب بھی دنیا غلط راستے سے حاصل کی جائے اور خود دنیا ہدف ہو تو وہ خداکی نظر میں ناپسند ہے۔

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سرزنش یا دوری اس دنیا سے مربوط ہے جو کہ خدا کی نظر میں ناپسند ہے جوکہ دین بیچنے کیلئے استعمال کی جائے۔

پہلا قول: ان منافقین سے تعلق رکھتا ہے کہ جنہوں نے اس دنیا کی خاطر یا یوں کہہ لیجئے کہ اس دنیا نے ان کو رسول اکرم کی وفات کے بعد رہبری اور قیادت کے مقام کو غصب کرنے پر اکسایا۔ مولا نے یہ جملہ "خطبہ شقشقیہ "میں فرمایا جو کہ اسی سلسلہ میں ہے۔

دوسرا قول :اس دنیاسے متعلق ہے کہ جس میں دنیا کیلئے بیت المال سے غلط فائدہ اٹھایا جائے یہ قول مولا نے بیت المال کی تقسیم کے دوران فرمایا۔

خود قرآن کے اندر ہمیں سرمایہ دار افراد کی دونوں قسمیں نظر آتی ہیں۔

سرمایہ دار قرآن میں

۱ ۔ قارون ۔گناہ کا سبب اور برایہ کا نمونہ

ہم نے قارون اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسادیا۔

(سورئہ قصص :آیت ۸۱)

۲ ۔سلیمانعليه‌السلام ۔انسان کی نجات کا سبب اور سعادت کا نمونہ

یہ محض میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ میرا امتحان لے کہ میں اس کا شکر کرتاہوں یا ناشکری کرتاہوں۔

(سورئہ نمل:آیت ۴۰)

نتیجہ :

اگر دنیا کے امکانات اور دولت سلیمانعليه‌السلام جیسے افراد کے ہاتھوں میں آجائے تو نعمت ہے اور اگر قارون جیسے افراد کے ہاتھوں میں چلی جائے تو عذاب ہے۔ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی دنیا سے مراد قارون والی دنیا ہے نہ کہ حضرت سلیمانعليه‌السلام کی دنیا۔

ائمہ اطہار(علیہم السلام) اور سیاسی حکمت عملی

سیاست ایک بہت ہی وسیع موضوع ہے یو ں کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاست کا لفظ قابل بحث ہے ہر کوئی اپنی نظر کے مطابق اسکی تعریف کرنے کی کوشش کرتاہے لیکن یہاں پر ہم سیاست کے لفظ یا موضوع کو ائمہ (علیہم السلام) ک نظر سے دیکھیں گے(کیونکہ ہر امام سیاست دان تھے )اور پھر ان کی زندگی میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات کو بیان کریں گے۔

حضرت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام نے اپنے اقوال زریں میں سیاست کی تعریف کچھ یوں کی ہے۔

"سِیَاسَةُ الْعَدْلِ ثَلاَثٌ لِیْنٌ فِیْ حَزْمٍ وَ اِسْتِقْصَاءٌ فِیْ عَدْلٍ وَ اِفْضَالٌ فِیْ قَصْدٍ "(غرر الحکم جلد ۱ ، صفحہ ۴۳۴)

عادلانہ سیاست تین چیزوں میں ہے

۱ ۔ اپنے کاموں میں میانہ روی اختیا ر کرنا ۔

۲ ۔عدالت کے اجراء میں تحقیق کرنا۔

۳ ۔مدد کے وقت میانہ روی اختیار کرنا۔

سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبیٰعليه‌السلام سے کسی نے پوچھا کہ سیاست کیا ہے امام نے جواب میں فرمایا:

سیاست خدا کے حقوق ،زندہ لوگوں کے حقوق اور مردہ لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ خدا کے حقوق یہ ہیں کہ جس بات کا حکم دے اس کو انجام دیا جائے اور جس سے منع کرے اس سے پرہیز کیا جائے، زند ہ لوگوں کے حقوق یہ ہیں کہ لوگوں سے متعلق جو فرائض ہیں ان کو انجام دیا جائے ان کی خدمات کی جائے قائد اسلامی سے مخلص رہا جائے جب تک کہ وہ خدا سے مخلص ہے اور جب وہ منحرف ہوجائے تو اسکے خلاف آواز بلند کرنا اور مردہ لوگوں کے حقوق یہ ہیں کہ ان کی خوبیوں کا ذکر کرنا اور ان کی برائیوں کو یاد نہ کرنا کیونکہ خدا انکے اعمال کی باز پرس کیلئے موجود ہے۔(حیاة الحسن باقر شریف قرشی جلد ۱ صفحہ ۴۲)

مولائے کائنات ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

"بِئْسَ السِّیَاسَةِ الْجَوْرِ "

ظلم کرنا بری سیاست ہے۔(غرر الحکم جلد ۱ صفحہ ۴۳۴)

اگر ہم مندرجہ بالا ارشادات سے نتیجہ نکالنا چاہیں تو یہ چند باتیں ہمارے سامنے آئیں گی کہ:

سیاست دو طرح کی ہے۔

۱ ۔مثبت سیاست ۲ ۔منفی سیاست

۱ ۔مثبت سیاست وہی ہے جو کہ احادیث میں بیان ہوئی اور اگرہم لغت کی طرف رجوع کریں تو بھی سیاست کے معنی یہی نظر آتے ہیں:

"سیاست یعنی کسی چیز کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنا"۔

۲ ۔منفی سیاست یعنی ظلم کرنا ،ہرکام کو اسکے صحیح طریقے سے انجام نہ دینا یا آج کل کی دنیا میں سیاست کے رائج الوقت معنی دھوکہ بازی کے ہیں جسے "میکیاولی" کی سیاست کہا جاتاہے۔

گذشتہ باتوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ائمہ (علیہم السلام)سیاست دان تھے کیونکہ انہوں نے ہمارے سامنے سیاست کے معنی بیان کئے۔

ایک اور دلیل کے ذریعے بھی ہم اس بات کو ثابت کرسکتے ہیں کہ ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی میں سیاست کا عمل دخل تھا اور تمام ائمہ (علیہم السلام) سیاست دان تھے اور وہ یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ائمہ (علیہم السلام) انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کا مشن اور مقصد فقط معاشرے کی اصلاح اور لوگوں کو کمال کی منزل تک پہنچانا تھا اور یہی سیاست کے معنی بھی ہیں۔

قرآن انبیاء کے اس مقصد کی کچھ اس طرح نشاندہی کرتاہے۔

۱ ۔"( لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْمِیزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ) "

ہم نے یقینا اپنے پیغمبروں کو واضح و روشن معجزے دے کر بھیجا اوران کے ساتھ کتاب اور ترازو نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔(سورئہ حدید :آیت ۲۵)

۲ ۔"( الٓراٰوقف کِتٰبٌ اَنْزَلْنهُاٰا اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ ) "(سورئہ ابراھیم : آیت ۱)

(اے رسول یہ قرآن وہ)کتاب ہے جس کو ہم نے تمہارے پاس اس لئے نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو انکے پروردگار کے حکم سے کفر کی تاریکی سے (ایمان کی) روشنی میں نکال لاؤ غرض اس کی راہ پر لاؤ جو سب پر غالب اور سز ا وار حمد ہے۔

۳ ۔ "( اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَه مَکْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰةِ وَ الْاِنجِیْلِز یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثاَا وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْ ) "(سورئہ اعراف :آیت ۱۵۷)

یعنی :"جو لوگ ہمارے نبی امی پیغمبر کے قدم بقدم چلتے ہیں جس (کی بشارت) کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھاہواپا تے

ہیں ( وہ نبی )جو اچھے کام کا حکم دیتاہے اور برے کام سے روکتا ہے اور جو پاک و پاکیزہ چیزیں تو ان پر حلال اور ناپاک گندی چیزیں ان پر حرام کردیتاہے اور وہ (سخت احکام کا )بوجھ جو ان کی گردن پر تھا اور وہ پھندے جو ان پر ( پڑے ہوئے) تھے ان سے ہٹادیتاہے۔"

ان آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انبیاء کی نبوت کا مقصد عدالت کا اجراء لوگوں کو اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف ہدایت کرنا ، ظالم حکمرانو ں سے نجات دلانا اور ان کو ایمان کے پرچم تلے جمع کرنا تھا ، اور یہ بات واضح ہے کہ ان مقاصد کو حکومت (اقتدار) کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہ تھا ۔

نتیجہ کے طورپر ہمارے سامنے تین چیزیں آتی ہیں:

۱ ۔ اسلام ایک کامل نظام حیات ہے اورسیاست اس کا ایک اہم حصہ ہے۔

۲ ۔ انبیاء اور ائمہ (علیہم السلام) اس سیاست کو (جو کہ ایک کامل نظام حیات کا اہم حصہ ہے)رائج کرنے کیلئے بھیجے گئے ہیں۔

۳ ۔ اسلام نے غیبت کے زمانے میں ہم پر بھی اس سلسلے میں ذمہ داری ڈالی ہے

حضرت امیر المومنین اور سیاست

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی زندگی میں سیاسی روش کی بے شمار مثالیں ہیں۔مندرجہ ذیل سطروں میں ہم تین نکات پر روشنی ڈالیں گے ۔

الف۔حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سیاست یہ تھی کہ معاشرے کو اسلامی عدالت کے ساتھ چلایا جائے۔

امام کی سیاست یہ تھی کہ حاکمیت اور حکومت ہدف اور مقصد نہیں ہے بلکہ وسیلہ ہے اسلام کو بچانے کا اور اس کی سیاسی حکمت عملی کو انجام دینے کا ۔ اس سلسلے میں خود حضرت امیر امومنینعليه‌السلام فرماتے ہیں کہ:

یہاں تک کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کچھ لوگ اسلام سے پلٹ گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو نابود کردیں(یہاں پر ) میں ڈرگیا کہ اگر اسلا م اور اہل اسلام کی مدد نہ کروں توشاید ان کی نابودی اور اسلا م میں شگاف کا منظر دیکھوں اور یہ مصیبت میرے لئے حکومت اور خلافت چھوڑنے سے زیادہ سخت ہے۔ (خطبہ ۲۶ نہج البلاغہ)

یہاں سے ہم امامعليه‌السلام اور معاویہ کی سیاست میں فرق کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔معاویہ اصلاح امور کے نام پر ہر چیز کرنے کو تیار تھا چاہے وہ اسلا م کے خلاف ہی کیوں نہ ہو جبکہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام ہر کام کو انجام دیتے تھے مگر اسلام کے دائرے میں رہ کر۔

جب حضرت امیر المومنینعليه‌السلام نے زمام حکومت کو ہاتھ میں لیا تو فرمایا کہ:

اگر خداکا عہد و پیمان نہ ہوتا علماء اور دانشوروں سے کہ وہ ظالموں کے بھرے پیٹ اور مظلوموں کی بھوک کے سامنے خاموش نہ رہیں ، میں خلافت کی رسی کو چھوڑدیتا اور اپنی آنکھیں بند کرلیتا۔(خطبہ ۳ نہج البلاغہ )

معاویہ اپنی سیاست میں اگر مکرو فریب سے کام نہ لیتا تو کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتا تھا ۔حضرت امیر المومنینعليه‌السلام مشروع اور جائز سیاست میں کامیاب رہے لیکن نامشروع اور ناجائز سیاست میں کبھی آگے نہ بڑھے ۔ خود حضرت امیر المومنینعليه‌السلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ :

خدا کی قسم معاویہ مجھ سے زیادہ سیاست دان نہیں ہے لیکن دھوکہ بازی اور گناہ کرتاہے اگر دھوکہ بازی ایک بری صفت نہ ہوتی تومیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سیاست دان شخص ہوتا۔(خطبہ ۲۰۰ ،نہج البلاغہ)

یا ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :

اگر دھوکہ دہی آتش جہنم کا سبب نہ ہوتی تومیں سب سے زیادہ فریب دینے والا انسان ہوتا۔(منھاج البراعة جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۶)

کچھ لوگوں نے معاویہ کی حکومت کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا کہ معاویہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام سے زیادہ عقلمند ہے البتہ ایسے لوگ عقل کی صحیح تعریف نہیں جانتے تھے۔

کسی نے حضرت امام صادقعليه‌السلام سے پوچھا کہ عقل کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا:

عقل و ہ ہے جس کے ذریعے سے خدا کی عبادت کی جائے اور بہشت کو خریدا جائے۔

پوچھنے والے نے پوچھا ، تو پھر معاویہ کی عقل کیا تھی ۔حضرت نے فرمایا:

"تلک النکراء تلک الشیطنة ، وهی شبیهة بالعقل ولیست بالعقل "

وہ دھوکہ بازی تھی و ہ شیطنت تھی وہ ظاہری شباہت عقل سے رکھتی تھی لیکن عقل نہیں تھی ۔

(اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۱۱ باب العقل والجہل جلد ۳)

ب۔ امام کی سیاست گمراہ افراد سے دوری

حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی سیاست لوگوں کے ساتھ دو طرح کی تھی وہ افراد جو لائق اور قابل تھے ان کو اپنی طرف جذب کرلیتے تھے جیسے مالک اشتر، عمار(رحمۃاللہ)‘ یاسر(رحمۃاللہ)،کمیل بن زیاد وغیرہ اور جو افراد اس قابل نہیں تھے ان کو اپنے سے دور کردیتے تھے کیونکہ حضرت امیر المومنینعليه‌السلام کی تربیت ایسے ماحو ل میں ہوئی جیسا کہ خداوند ارشاد فرماتاہے کہ :

" میں کبھی بھی گمراہوں کو اپنا بازو قرارنہیں دیتا "(کہف ۵۱)

سقیفہ کے برقرار ہونے کے بعد ابوسفیا ن جو کہ مختلف وجوہ کی بناء پر ابوبکر کی حکومت سے خوش نہیں تھا کچھ افراد کے ساتھ امام کے حضور آیا تاکہ حضرتعليه‌السلام کی بیعت کرے اسی ضمن میں اس نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تومیں عظیم لشکر کے ساتھ آپ کی حمایت کروں۔

امامعليه‌السلام جو ابو سفیان کو اچھی طرح سے جانتے تھے اسکی ان باتوں میں نہیں آئے اور اسکے جواب میں فرمایا:

اے لوگو! فتنہ کی پہاڑ جیسی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے توڑدو۔ اختلافات اور بکھرنے سے باز آؤ بلند پروازی اور برتری کے تاج کو اپنے سر سے اتار پھینکو۔(خطبہ ۵ نہج البلاغہ)

امامعليه‌السلام اپنی سیاسی بالا نظری کی وجہ سے جانتے تھے کہ یہ وقت حکومت ہاتھ میں لینے کا وقت نہیں اسی لئے جملہ کے بعد حضرت نے فرمایا:

کچے پھل کو توڑنا ایسا ہے جیسے نمکین زمین میں بیج بونا۔

ج۔ امامعليه‌السلام کی سیاست ،آزاد منش افراد کی حمایت

امام نے ہمیشہ آزاد منش افراد کی حمایت کی اس سلسلے میں جو اہم واقعہ ہم کو امامعليه‌السلام کی زندگی میں نظر آتا ہے وہ ابو ذر غفاری کی جلا وطنی کاہے ویسے تو کئی واقعات ہیں لیکن کیونکہ یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے کہ جب امامعليه‌السلام کے ہاتھ میں زمام حکومت نہیں اور حکومت وقت صحابی رسول کو جلاوطن کررہی ہے۔ مدینہ کے اندر کرفیو نافذ ہے خلیفہ وقت کی طرف سے حکم تھا کہ کوئی بھی ابوذر سے خدا حافظی نہ کرے اور اس نے مروان کو حکم دیاکہ جو کوئی بھی خداحافظی کے لئے آئے اسکو پکڑلو۔

لیکن اما معليه‌السلام نے حکومت کے ان احکامات کی پرواہ نہ کی اور اپنے فرزندان گرامی حسنعليه‌السلام و حسینعليه‌السلام ، اپنے بھائی عقیل اور عمار یاسر کے ساتھ ابوذر کو رخصت کرنے کیلئے گئے ۔اسی اثناء میں کہ جب امام حسنعليه‌السلام ابوذر سے باتیں کررہے تھے مروان نے پکارا کہ اے حسنعليه‌السلام خاموش ہوجاؤ کیا خلیفہ کا حکم نہیں سنا کہ ابوذر سے باتیں کرنا منع ہے۔امام علیعليه‌السلام نے آگے بڑھ کے مروان کے سامنے آئے اور فرمایا دور ہوجاؤ خدا تمہیں آتش جہنم میں ڈالے۔

امامعليه‌السلام اور ان کے چاہنے والوں کا یہ کام صد در صد سیاسی تھا اور حکومت وقت کے خلاف تھا کیونکہ ابو ذر کا عمل حکومت کے خلاف صحیح ہے اور حکومت کا رویہ غلط ہے

حضرت امام حسن و امام حسین اور سیاست

حضرت امام حسنعليه‌السلام اور سیاست:

حضرت امام حسنعليه‌السلام کی سیاسی زندگی کا سب سے اہم واقعہ جو کہ ہر تاریخ نگار کی توجہ اپنی جانب مبذول کرتاہے وہ صلح امام حسنعليه‌السلام ہے۔

جب دشمن ایک دوسرے کے روبرو قرا ر پاتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہو تاہے کہ اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے کو باطل ثابت کرنے کی کوشش کریں اور اصل ہدف بھی یہی ہوتاہے لیکن جب تک انسان کاباطن لوگوں کے سامنے نہ آجائے یا یوں کہہ لیجئے کہ جب تک لوگ ہارنے والے یا جیتنے والے کے باطن سے آگاہ نہ ہوجائیں اس وقت تک اسکے بار ے میں صحیح رائے قائم نہیں کرپاتے اگر امام حسنعليه‌السلام معاویہ سے جنگ کرکے جیت بھی جاتے تب بھی لوگ یہی خیال کرتے کہ شاید معاویہ حق پر تھا یا یہ کہ یہ جنگ ناحق لڑی گئی ۔لیکن امام حسنعليه‌السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرکے لوگوں کے سامنے اس کے باطن کی پہچان کروا دی۔

جب امام حسنعليه‌السلام نے معاویہ کے بھیجے ہوئے سادے کاغذپر اپنی شرائط لکھ کردے دیں تو معاویہ کوفہ میں داخل ہوا اور اس نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یوں کہا:

"میں نے اس لئے تم سے جنگ نہیں لڑی کہ تم نماز اور حج بجالاؤ اور زکوٰة دو کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ یہ کام انجام دیتے ہو۔ میں نے اس لئے تمہارے ساتھ جنگ کی تاکہ تم کو اپنا مطیع اور فرمانبردار بناؤں اور تم لوگوں پرحکومت کروں"۔

اور اسکے بعد کہا:

یاد رکھو !اللہ نے ہمارے لئے ہماری بات کو درست کردیا ۔ہماری دعوت کو عزت دی ، تو اب جن شرطوں کو میں نے ماناتھا ان سب سے میں انکار کرتاہوں ،اور ہر وہ وعدہ جومیں نے تم میں سے کسی ایک سے بھی کیاتھا وہ میرے پیروں تلے روندا جاچکاہے۔

یہاں سے لوگ سمجھ گئے کہ کون اسلام کی خاطر جنگ کررہا تھا اور کس کو صرف حکومت چاہئے تھی۔

حضرت امام حسینعليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام حسینعليه‌السلام نے صرف یزیدہی کے خلاف آواز بلند نہیں کی بلکہ معاویہ کے زمانے میں بھی آپ نے لوگوں کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کروائی کے معاویہ خلافت اور حکومت کے لائق نہیں ہے۔

۵۸ ئھ میں حج کے موقع پر آپ نے سر زمین منٰی میں بنی ہاشم اور انصار کے برجستہ افراد کی ایک کانفرنس بلائی جس میں ایک ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی اس کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا:

اس طاغوت (معاویہ)نے جو کچھ ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ کیا ہے وہ سب آپ لوگ جانتے ہیں۔میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اگر سچ کہوں تو میری تصدیق کیجئے گا۔ اور اسکے بعد اپنے ملک یا شہر واپس جانے کے بعدمیری باتوں کولوگوں تک پہنچائے اور ان کو معاویہ کی بد اعمالیوں سے آگاہ کیجئے اور ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیجئے مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اس حالت کے باقی رہنے کی وجہ سے حق نابود نہ

ہوجائے لیکن خدا اپنے نور کی تکمیل کرے گا چاہے کا فر یا فاسق اس کو پسند نہ کریں۔(احتجاج طبرسی جلد ۲ صفحہ ۱۸،۱۹)

کربلا کے واقعہ سے ۳ سال پہلے معاویہ کی زندگی میں امام حسینعليه‌السلام نے حج کے موقع پر حکومت کے خلاف لوگوں کو قیام کی دعوت دی۔

کربلا:

امام حسینعليه‌السلام کی کر بلا کی تحریک ایک مکمل سیاسی تحریک تھی اگر دین سیاست سے جدا ہو تا تو پھر امام حسینعليه‌السلام کے لئے ضروری تھا کہ وہ مدینہ میں کونے میں بیٹھ جاتے اور عراق کی طرف حرکت نہ کر تے اس صورت میں کوئی بھی آپ سے کچھ نہ کہتا۔

اگر ہم کر بلا کے واقعے کی تحلیل کریں اور اس واقعے کا مطالعہ کر یں تو ہم کو مندرجہ ذل نکات کی صورت میں نتیجہ ملے گا۔

۱ ۔یزید نے امام حسینعليه‌السلام سے بیعت لینا چاہی امامعليه‌السلام نے انکار کر دیا۔

۲ ۔امام حسینعليه‌السلام نے فوج جمع کر نے اور یزید کی حکومت کو ختم کر نے کے لئے عراق کی طرف کوچ کیا۔

۳ ۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نے امام حسینعليه‌السلام کو اس بات کی طرف مائل کیا کہ وہ ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑنے اور عدل کو بر قرار کر نے لئے شہادت کی سرحد تک جہاد کریں۔

مندر جہ بالا تینوں چیزیں سیاسی حیثیت رکھتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عین دین بھی ہیں۔

امام حسینعليه‌السلام ہر چند کہ ظاہری طور شکست سے دوچار ہوئے لیکن تا قیقام قیامت آگاہی اور روشنی کا ایک ایسا راستہ چھوڑ گئے۔ حق کے متلاشی انسان کے لئے صراط مستقیم کا سامان فراہم کرے۔

کیا خوب تجزیہ کیا ہے عربی زبان کے ادیب نے

"کربلا میں روز عاشور کامیابی ، ناکام ہونے والوں کے نقصان سے کہیں زیادہ ہے"

(کتاب ابو الشہدا عباس عقاد صفحہ ۱۸۱)

حضرت امام زین العابدین عليه‌السلام اور سیاست

جب بھی ہم امام زین العابدینعليه‌السلام کا ذکر کر تے ہیں تو ان کو بیمار امامعليه‌السلام کی حیثیت سے پہچانتے ہیں ، اور اگر اس کے ساتھ سیاست کا ذکر بھی ہو جائے تو شاید ہم یہ ماننے کے لئے تیار نہ ہوں کے حضرت سجادعليه‌السلام نے کر بلا کے اس عظیم سانحہ کے بعد بھی سیاست میں حصہ لیا ہو گا۔

بنیادی طور پر ذلت اور غلامی سے آزادی ، عزت اور آزادی واپس لانے اور ایک بڑے انقلاب کے لئے زمین ہموار کر نے کے لئے لوگوں کو صحیح حقائق سے روشناس کر انے اور ان کے ضمیروں کو جگانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو آگاہ کیاجائے اور پہچان کرائی جائے تاکہ وہ ذمہ داری کا احساس کریں اس طرح انقلاب خود بخود وجود میں آنے لگیں گے۔

اس کے پہلے قدم کو خود امام حسینعليه‌السلام اور ان کے اصحاب نے کر بلا میں انجام دیا اور دوسرے مرحلہ کی ذمہ داری حضرت زینب(علیہا السلام) اور حضرت سجادعليه‌السلام کے کندھوں پر پڑی۔ اور فقط یہی ایک راستہ تھا کہ جس کے ذریعے سے نبی امیہ کی حکومت کی جڑوں کو کاٹا جا سکے۔ اس کی بہترین مثال امام سجادعليه‌السلام کا شام کے دربار میں وہ خطبہ تھا کہ جس سے پریشان ہو کر یزید نے موذن کو اذان دینے کا حکم دیا یہی خطبہ تھا جس کے سبب اس کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ بغاوت نہ کر دیں آخر وہ کیا سبب تھا جس کی وجہ سے یہ تمام لوگ اس خدشہ کا اظہار کر رہے تھے یہ وہی آگاہی اور شناخت تھی اور احساس تھا کہ جس کی ذمہ داری امام سجادعليه‌السلام نے قبول کی تھا آپعليه‌السلام فرماتے ہیں :

جو مجھے جانتا ہے وہ جانتا ہے اور جو نہیں جانتا میں اس کو خود اپنی شناخت کروا دوں میں مکہ اور منیٰ کا بیٹا ہوں میں زمزم اور صفا کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے حجراسود کو عبا کے چار گوشوں سے اٹھایا میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے احرام باندھنے کے بعد بہترین طواف اور سعی کی میں اس کا بیٹا ہوں جو انسانوں میں سب سے بہترین ہے میں اس کا بیٹا ہوں جو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے جایا گیا، میں اس کا بیٹا ہوں جو سدرة المنتہیٰ تک پہنچا، میں اس کا بیٹا ہوں جو آسمانوں کی سیر کے وقت حق سے اس قدر نزدیک ہوا کہ آواز آئی "قاب قوسین اوادنی" میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس پر خدائے بزرگ نے وحی نازل کی میں محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا بیٹا ہوں علی مرتضیٰعليه‌السلام کا بیٹا ہوں میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے مشرکوں سے اس قدر جنگ کی کہ زبان سے "لاالہ الا اللّٰہ"کہنے لگے میں اس کا بیٹا ہوں کہ جس نے رکاب پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں دو تلواروں اور دو نیزوں کے ساتھ لڑائی کی اور ایک لمحہ کے لئے بھی خدا کی طرف کفر نہیں کیا میں اس کا بیٹا ہوں کہ جو مومنین میں صالح ترین، وارث پیغمبران ، کافروں کو نابود کر نے والا، مسلمانوں کا پیشوا اور رہبر، مجاہدوں کا نور ، عابدوں کا زیور و زینت ، گریہ کر نے والوں کا فخر ، صابروں میں صابر، بہترین جہاد کرنے ولاہے۔

میرے جد وہ ہیں کہ جن کے ساتھ جبرئیل ہے جن کا مددگار میکائیل ہے اور جو خود مسلمانوں کی ناموس کا حامی اور نگہبان تھا ، جس نے مارقین، ناکثین اور قاسطین کے ساتھ جنگ کی اور دشمنان خدا کے ساتھ جنگ کی۔ میں قریش کے بر ترین فرد کا بیتا ہوں کہ جس نے سب سے پہلے پیغمبر کی حمایت کی جو مسلمانوں میں سب سے آگے تھا، مشرکوں کو نابود کر نے والا، ولی امر خدا، حکمت الہیٰ کا باغ اور علم کا مرکز وہ تھا۔

میں فاطمہ الزہراء(علیہ السلام)کا بیٹا ہوں خواتین کی سردار کا بیٹا۔

یہاں پر امامعليه‌السلام نے اس قدر گفتگو کی کہ لوگ رونے لگے وہ شام کے لوگ جو علیعليه‌السلام کے دشمن تھے۔

ان تمام مراحل کو طے کرنے کے بعد امام کا دوسرا ہدف کر بلا کی تحریک کو زندہ رکھنا تھا لوگوں کو مظلومیت حسینعليه‌السلام کا احساس دلانا تھا اس کام کو آپعليه‌السلام نے ایسے انجام دیا کہ ہر جگہ کر بلا کا ذکر کرتے ۔ آپعليه‌السلام نے اپنی انگوٹھی پر بھی اس ہدف کے تحت عبارت کندہ کروائی جو یہ تھی کہ

"خَزِیَ وَ شَقِیَ قَاتِلُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِی "

رسوا اور بد بخت ہو جائے قاتل حسین بن علیعليه‌السلام ۔

حضرت امام صادقعليه‌السلام سے نقل کر تے ہیں کہ آپعليه‌السلام نے فرمایا کہ امام سجادعليه‌السلام نے ۳۵ سال تک اپنے والد کے مصائب پر گریہ کیا اس مدت میں دن کو روزے رکھتے تھے اور جب افطار کے وقت کھانا لایا جاتا تو آپعليه‌السلام گریہ فرماتے اور کہتے:

" فرزند رسول اللہ کو بھوکا قتل کیا گیا! فرزند رسول اللہ کو پیاسا قتل کیا گیا

ایک دفعہ حضرت امام سجادعليه‌السلام بازار سے گزررہے تھے کہ ایک شخص کی آواز سنائی دی"انار جل غریب فارحمونی"میں غریب مرد ہوں مجھ پر رحم کیجئے۔ حضرت کی توجہ اس کی جانب مبذول ہوئی آپعليه‌السلام اس کے قریب گئے اور پوچھا کہ اگر تقدیر میں یہ لکھا ہو کہ تم یہاں پر مر جاؤ تو کیا تمہارا جنازہ زمین ہی پر پڑا رہے گا اس نے جواب دیا اللہ اکبر کس طرح ممکن ہے کہ میرے جنازہ کو دفن نہ کریں جبکہ میں مسلمان ہوں ۔ امامعليه‌السلام منقلب ہو گئے اور فرمایا:

کس قدر افسوس کی بات ہے اے پدر بزر گوار حسینعليه‌السلام کہ آپ کا جنازہ تین دن تک بغیر دفن کے خاک پر پڑا رہا جب کہ آپ نواسہ رسول تھے۔ (مأساة الحسین تالیف شیخ عبدالوھاب ۱۵۲)

حضرت امام محمد باقر عليه‌السلام اور سیاست

امامعليه‌السلام کے زمانہ امامت میں بنی امیہ کے دو ایسے خلیفہ گزرے کہ جنہوں نے حکومت اسلامی میں علم کی ترویج کی۔ ولید بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز ۔ولید بن عبدالملک چونکہ خود زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا اس لئے شاید اپنی کمزوریوں پر پر دہ ڈالنے کے لئے علوم و فنون کی ترویج کی۔ لیکن عمر بن عبدالعزیز نے دانستہ طور پر حکومت اسلامی میں علمی شخصیات کو رائج کیا۔

ان خلفاء کی وجہ سے امام محمد باقرعليه‌السلام نے حالات کو بہتر جانا کہ ایسے ماحول میں تعلیمات اسلام کو جو کہ ۱۰۰ سالہ دور میں مسخ ہو کر رہ گئی تھیں دوبارہ زندہ کیا جائے۔

ٍ اس تھوڑے سے عرصے میں ان خدمات کا ذکر نہیں کر سکتا کہ جو حضرت امام محمد باقرعليه‌السلام نے انجام دیں لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم اسلامی مدرسہ جس میں شاگردوں کی تعدادچار ہزار تک پہنچی اور امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اپنے زمانہ میں چلا یا وہ حضرت امام باقرعليه‌السلام کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔

اس زمانہ کے خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے حضرت سے واپسی پر مدینہ کے گورنر کو حکم دیا کہ امام باقرعليه‌السلام اور ان کے فرزند جعفر بن محمدعليه‌السلام کو شام کی طرف روانہ کر دو۔

حضرت مجبوراً اپنے فرزند ارجمند کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے اور دمشق پہنچے ہشام نے اپنا جاہ و جلال دکھانے کے لئے تین دن تک امامعليه‌السلام کو ملاقات کی اجازت نہ دی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تین دن تک امام کی عظمت کو کم کر نے کے حربے سوچتا رہا اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچا کہ جب امامعليه‌السلام دربار میں داخل ہوں تو ان کے سامنے تیز اندازی کا ایک مقابلہ کرایا جائے اور امامعليه‌السلام کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی جائے اور اس طرح جب امامعليه‌السلام شکست کھا جائیں گے تو اہل دربار اس بات کا چرچا پورے شام میں کر دینگے ۔ جب امامعليه‌السلام دربار میں داخل ہوئے تو خلیفہ کے کچھ افراد تیر اندازی میں مشغول ہو گئے امامعليه‌السلام دربار میں تشریف فرما ہوئے کچھ دیر بعد خلیفہ نے امامعليه‌السلام کی طرف رخ کر کے کہا کہ کیا تیر اندزی کے مقابلے میں شرکت کر نا پسند کریں گے۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور میرا تیر اندازی کا وقت گذر چکا ہے امام کا جواب سن کر تو خلیفہ کا اصرار اور بڑھ گیا اور خلیفہ نے امامعليه‌السلام کی طرف تیر کمان بڑھانے کا اشارہ کیا امام نے بھی بلاجھجھک تیر کمان لے لیا، پہلا تیر چلایا جو سیدھا نشانہ پر لگا دوسرا چلایا جو پہلے تیر کو چیرتا ہوا ہدف پر لگا تیسرا تیر چوتھا تیر یہاں تک کہ امامعليه‌السلام نے یکے بعد دیگرے نو تیر چلائے جو سب کے سب ہدف پر لگے یہ منظر دیکھنے کے بعد تمام درباری اور خلیفہ انگشت بدندان رہ گئے تھوڑی دیر کے بعد جب ہوش و ہواس بر قرار ہوئے تو خلیفہ نے امامعليه‌السلام کو مخصوص جگہ پر بیٹھنے کی دعوت دی اور ادھر ادھر کی باتوں کے بعد پوچھا کہ جعفر (حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام ) بھی آپ کی طرح تیر اندازی جانتے ہیں؟

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا:

"ہمارا خاندان اکمال دین اور اتمام نعمت کو جو الیوم اکملت کی آیت میں آیا ہے ایک دوسرے سے ارث میں لیتے ہیں اور زمین ہر گز ایسے افراد سے خالی نہیں رہے گی"۔(حمد بن جدید بن رستم الطبری۔ دلائل امامہ نجف منشورات المطبوعة الحیدریہ ۱۳۸۳ ھ (منشورات الرضی قم) صفحہ ۱۰۵)

دوسرا واقعہ عیسائیوں کے پادری کے ساتھ مناظرہ ہے کہ جب آپعليه‌السلام دربار سے نکل کر واپس جانے لگے تو دیکھا بہت سے افراد مجمع لگائے کسی کا انتظار کر رہے ہیں پوچھا تو معلوم ہوا کہ عیسائی ہیں جو کہ مختلف مقامات سے آئے ہیں اور اپنے مسائل کا حل لینے کے لئے پادری کے انتظار میں ہیں حضرت بھی ان افراد کے مجمع میں بیٹھ گئے جب پادری آیا تو اس کی توجہ حضرت کے نورانی چہرہ کی طرف مبذول ہوئی پوچھا مسلمانوں ہو یا عیسائی جواب ملا کہ مسلمان نادانوں میں سے نہیں ہوں پادری نے پوچھا پہلے میں سوال کروں یا تم امامعليه‌السلام نے فرمایا اگر چاہتے ہو تو سوال کرو پادری نے پوچھا کس وجہ سے مسلمان کہتے ہیں کہ اہل بہشت کھانا کھائیں گے لیکن ان سے کوئی اضافی چیز جسم سے خارج نہیں ہو گی کیا دنیا میں اس کی کوئی مثال ہے۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا: اس کی روشن مثال ماں کے رحم میں بچہ کی ہے جو غذا کھاتا ہے لیکن کوئی اضافی چیز جسم سے خارج نہیں ہوتی ۔

پادری نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا تم نے کہا تھا کہ دانشمندوں میں نہیں ہوں۔

امامعليه‌السلام نے فرمایا: کہ میں نے یہ نہیں کہا بلکہ کہا تھا کہ نادانوں میں سے نہیں ہوں۔

پادری نے کہا ایک اور سوال ہے امامعليه‌السلام نے فرمایاپوچھو اس نے کہا کس دلیل کی بنا پر کہتے ہو کی جنت کی نعمتوں میں جتنا خرچ کیا جائے کم نہیں ہو گا دنیا میں اس کی کوئی مثل ہے امامعليه‌السلام نے فر مایا ہاں ہے اس زمانہ میں اس کی روشن مثال آگ کی ہے اگر ایک چراغ کی لو سے ایک ہزار چراغ بھی جلا لو تو اس کی روشنی کم نہیں ہو گی۔

پادری نے جتنے سوال تھے کر ڈالے اور سب کے جواب حاصل کر لئے اور جب اپنے آپ کو عاجز دیکھا تو غصہ کر کے چلا گیا۔

اس واقعہ کے بعد اہل شام میں خوشی کا احساس پھیل گیا اور امام کا معنوی اثر بڑھ گیا ہشام نے امامعليه‌السلام کو تحفے تحائف بھیجے اور چونکہ امامعليه‌السلام کے معنوی اثر سے پریشان تھا اس لئے خط لکھا کہ آپ آج ہی مدینہ کے لئے روانہ ہو جائیں۔

امام جعفر صادق عليه‌السلام اور سیاست

امام جعفر صادقعليه‌السلام کے زمانے میں بنی امیہ اور بنی عباس اقتدار کی جنگ میں مصروف تھے اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپعليه‌السلام اور آپعليه‌السلام کے والد بزرگوار حضرت امام باقرعليه‌السلام نے اسلام کی تعلیمات کو پھیلانا شروع کیا اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ دونوں نے اس زمانے میں پہلی اسلامی یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ، تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

اس یونیورسٹی کا مقصد خالص اسلام کی ترویج تھا اس کے ساتھ ساتھ امام صادقعليه‌السلام نے اپنے زمانے کے خلیفہ کو یہ بات بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ حکومت اور معاشرے کی رہبری ہمارا حق ہے۔

امام جعفر صادقعليه‌السلام نے منصور دوانیقی کے زمانے میں جب کہ بنی عباس اپنی حکومت قائم کر چکے تھے لیکن حکومت کو مضبوط کر نے کے لئے ہر مخالف کو تہہ تیغ کر رہے تھے۔ حضرتعليه‌السلام نے اس وقت بھی اپنے اقوال کے ذریعے سے خلیفہ تک یہ بات پہنچائی کہ حکومت اور معاشرے کی قیادت ہمارا حق ہے اس کے ساتھ ساتھ امام جعفر صادقعليه‌السلام نے ان شیعان حید ر کرار کو جو ظلم و ستم کی وجہ سے یا پھر نادانی کی وجہ سے یہ سمجھنے لگے تھے کہ حکومت کوئی الگ چیز ہے اور دین ایک دوسری چیز، ان کے لئے بھی یہ بات واضح کر دی کہ حکومت حق ولایت ہے اور ولایت فقط ہمارے لئے ہے مثال کے طور پر امامعليه‌السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ:

اسلام پانچ چیزوں پر قائم ہے نماز، زکوة ، حج، روزہ، اور ولایت۔

زرارہ نے امامعليه‌السلام سے سوال کیا ان میں سے بر تر کون سی چیز ہے؟

امامعليه‌السلام نے بلا جھجھک فرمایا:

"ولایت بر تر ہے کیونکہ ولایت تمام چیزوں کی چابی ہے اور حاکم، لوگوں کو ان کی طرف راہنمائی کر تا ہے"

(وسائل الشیعہ جلد ۱ صفحہ ۸۰۷)

کس وضاحت کے ساتھ امامعليه‌السلام نے ان افراد کو جو کہ یہ سوچتے ہیں کہ دین اور سیاست دو الگ چیزیں ہیں یہ ثابت کر دیا کہ دین کا اجراء اور اس کا کمال حکومت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، حکومت ہی ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دین کا اجراء کماحقہ کر ے حکومت ہے جو کہ حاکم اسلامی کو یہ قدرت عطا کرتی ہے کہ وہ دین کے خلاف ہو نے والی ہر سازش کو ختم کر دے اس لئے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ ہر ظالم و فاسق شخص خلافت کے عہدہ پر فائز نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا متقی اور پر ہیز گار ہو نا ضروری ہے۔

اسی زمانے میں جب کچھ علماء نے بنی عباس کی حکومت کو اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے صحیح ثابت کر نے کی کوشش کی اور لوگوں کو سمجھانا چاہا کہ یہ حکومت صحیح ہے تو امام جعفر صادقعليه‌السلام نے اس کے خلاف بھی اپنا جہاد شروع کیا اور اپنے اقوال کے ذریعے سے ایسے علماء کی مذمت کی جو ظالم اور جابر حکمرانوں کے دربار میں زندہ لاشوں کے عنوان سے جاتے تھے امام جعفر صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

فقہاء انبیاء کے نمائندہ ہیں اور جب بھی یہ فقہاء سلاطین کے دربار کے چکر لگا نا شروع کر دیں تو ان کو متہم کر و (یعنی اس کے صحیح عالم ہونے کے بارے میں شک کرو۔)(کشف الغمہ جلد ۲ صفحہ ۱۸۲)

کبھی امامعليه‌السلام نے اپنے درسوں میں یا اپنی تقریروں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے یہ حدیث نقل کر نی شروع کر دی کہ:

"فقہاء اس وقت تک انبیاء کے نمائندہ ہیں جب تک دنیا ان پر حاوی نہ ہو جائے۔ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ دنیا کب حاوی ہو گی تو فرمایا ظالم سلطان کی اطاعت کے وقت اور جب بھی تم ایسا دیکھو تو اپنے دین کو ان سے جداکر لو" (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۲)

ایک دفعہ امام صادقعليه‌السلام بازار سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ عذافر دوکان پر کھڑے کچھ خرید رہے ہیں امامعليه‌السلام نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور پوچھا عذافر سنا ہے کہ ابو ایوب اور ربیع (خلیفہ کے دو وزیر) کے لئے کام کر رہے ہو یاد رکھو قیامت کے دن تمہارا حال ان دو جیسا ہو گا سوچو اس وقت تمہاری کیا حالت ہو گی جب تم کو ظالم کی مدد کر نے والے کے نام سے آواز دے کر بلایا جائے گا یہ سنتے ہی عذافر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

امامعليه‌السلام نے پھر فرمایا کہ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا فقط اسی چیز سے ڈرا رہا ہوں جس سے خدا وند نے مجھ کو ڈرایا ہے۔

یہ کہنے کے بعد امامعليه‌السلام آگے چل دئیے عذا فراس قدر متاثر ہوئے کہ کہتے ہیں کہ آخر عمر تک غمگین و افسردہ رہے۔ (وسائل الشعیہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۸)

امام نے سربازار اپنے ماننے والے کی مذمت کر نے کے لئے اور ان کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے یہ بات کہی یقینا امامعليه‌السلام یہ بھی چاہتے ہوں گے کہ جو افراد اطراف میں کھڑے ہوئے ہیں وہ بھی یہ بات سن لیں کہ ظالم کی مدد کر نا ایسا ہی ہے جیسا کہ خود ظلم کر نا۔

ایک اور موقعہ پر امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

"جو کوئی یہ چاہے کہ ظالمین باقی رہیں وہ ایسے ہے کہ جیسے وہ چاہتا ہو کہ خدا کی معصیت اور نافرمانی ہو تی رہے۔

(وسائل شعیہ جلد ۲ صفحہ ۱۳۰)

ان اقوال کے ذریعے سے امامعليه‌السلام لوگوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے شیعہ یا ہمارے ماننے والے ہمارا ساتھ نہیں دے سکتے کہ ہم ان ظالموں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو ایسا نہیں ہے کہ ہم خاموش بیٹھ جائیں نہیں بلکہ ہمارا جہاد ظالموں سے جاری ہے اور وہ زبان کے ذریعے سے ہے جس کو ختم کر نے کا فقط ایک ہی طریقہ ہے کہ ہماری زبانوں کو کاٹ دیا جائے۔

امام صادقعليه‌السلام ہی کے زمانے میں بنی عباس کی حکومت کے قیام کے بعد لوگوں میں یہ باتیں کی گئیں کہ اگر یہ حکومتیں صحیح نہیں ہیں تو کم از کم ان کے ساتھ مل کر لوگوں کی فلاح و بہبود کا کام تو کیا جا سکتا ہے ۔ بہت سے سادہ لوح افراد اس دھوکہ میں آگئے اور حکومت کا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔ امامعليه‌السلام نے حکومت کی اس حکمت عملی کو بھی فقط اپنے اقوال کے ذریعے سے شکست دی امامعليه‌السلام نے ایک موقعہ پر ایک چھوٹا سا جملہ ارشاد فرمایا کہ

"حتیٰ مسجد کی تعمیر میں بھی ظالموں کی مدد نہ کرو"۔

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۴)

حضرت امام جعفر صادقعليه‌السلام نے معاشرے میں پھیلے ہوئے ان افراد کی بھی مذمت کی جو دولت کے لالچ میں جانتے ہوئے بھی کہ یہ حکمران غاصب اور ظالم ہیں ان کی مدح و سرا میں مشغول تھے۔

امام گرامی قدر فرماتے ہیں کہ:

"اگر کوئی ظالم حکمرانوں کی مدح کر ے اور اس کی دولت کے لالچ میں عزت کر ے تو وہ شخص اسی ظالم کا پڑوسی ہوگا آخرت میں"۔

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۳)

لمحہ فکر یہ ہے ہم لوگوں کے لئے کہ آج ہم اگر کسی ایسے شخص کی مدح کریں کہ جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ ظالم ہے لیکن کیونکہ وہ ہمارے ذاتی حقوق ہم کو دلادے گا یا پھر ہم کو کسی اچھی جگہ نوکری دلوا سکتا ہے اور ہم اس ظالم شخص کی مدح شروع کر دیں تو یاد رکھئے کہ ہماری جگہ بھی دوزخ میں ہو گی۔

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ ائمہ (علیہم السلام) بار بار لوگوں تک یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ حکومت اور ولایت ہمارا حق ہے اور ہم ہی اس منصب کے اہل ہیں۔ اسی ضمن میں امامعليه‌السلام کی بھی سیاسی حکمت عملی کا تقاضہ یہی تھا کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں کہ اول اسلام سے لے کر انتہا تک جتنے بھی خلیفہ آئیں گے اگر وہ ہمارے علاوہ کوئی ہو تو غاصب ہے۔ ان نظریات کا اظہار ایسا تھا جیسے شیر کے منہ سے شکار چھین لینا امامعليه‌السلام نے حالات پر نظر رکھتے ہوئے اپنے بیانات اس طرح سے دیئے کہ افراد تک یہ بات پہنچ گئی اور وہ اس طرح سے ہوا کہ اس زمانے میں لوگ بنی امیہ یا بنی عباس کے خلفاء کو امیرا لمومنین کہہ کر پکارتے تھے ایک شیعہ نے آپ سے سوال کیا کہ کیا امام قائم (عج) کے ظہور کے بعد ان کو امیر المومنین کہہ کر سلام کر سکیں گے؟

امامعليه‌السلام نے اس سوال کے جواب میں ایک پورا نظریہ دیااور فرمایا:

"یہ نام مخصوص ہے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبعليه‌السلام سے ان سے پہلے نہ کسی کو اس نام سے پکارا گیا اور نہ ان کے بعد کسی کو اس نام سے پکارا جائے گا مگر کافر"۔

(اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۴۱۳)

امامعليه‌السلام نے کمال صراحت سے یہ بات لوگوں تک پہنچاد ی کہ جو بھی اپنے آپ کو امیرالمومنین کہلوائے وہ کافر ہے۔

اپنے آخر ی دور میں بھی امامعليه‌السلام نے سیاسی نزاکتوں کو سمجھااور اس کے توڑکے مطابق عمل کیا۔ منصور دوانیقی نے آپعليه‌السلام کو بے انتہا پریشانیوں میں مبتلا کیا اور کئی مرتبہ آپعليه‌السلام کو قتل کر نے کی دھمکی دی آپعليه‌السلام نے منصور دواینقی کی ان ہی باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے وصی کی جان بچانے کے لئے ایک اور سیاسی حربہ استعمال کیا ۔

امام صادقعليه‌السلام نے اپنی وصیت میں اپنے پانچ وصی مقرر کئے۔

۱ ۔ ابو جعفر منصور دوانیقی خلیفہ وقت

۲ ۔ محمد بن سلیمان (مدینہ کا گورنر )

۳ ۔ عبداللہ افطح (آپعليه‌السلام کے فرزند)

۴ ۔ موسیٰ بن جعفر(آپعليه‌السلام کے فرزند)

۵ ۔ حمیدہ (آپعليه‌السلام کی زوجہ محترمہ)

البتہ یہ وصیت جیسا کہ پہلے عرض کیا سیاسی تھی کیونکہ امام صادقعليه‌السلام کے وصی اور جانشین امام موسیٰ کا ظمعليه‌السلام تھے۔

جب امامعليه‌السلام کے انتقال کی خبر منصور کو ملی تو اس نے اپنے ایک وزیر کو بلایا اور کہا کہ والی مدینہ کے نام خط لکھو۔

"یہ خط والی مدینہ محمد بن سلیمان کے لئے خلیفہ وقت منصور کی طرف سے ہے اگر جعفر بن محمد نے کسی خاص شخص کو اپنا وصی بنایا ہو تو اس کو اپنے پاس بلاؤ اور اس کا سر تن سے جدوا کر دو"۔

یہ خط والی مدینہ کے پاس پہنچا تو اس کا جواب کچھ یوں آیا کہ جعفر بن محمد نے پانچ افراد کو اپنا وصی بنایا ہے۔

۔ منصور دوانیقی۱

۲ ۔ محمد بن سلیمان

۳ ۔ عبداللہ افطح

۴ ۔ موسیٰ بن جعفر

۵ ۔ حمیدہ۔ (اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۳۱۰)

جب منصور کو یہ خط ملا تو اس نے کہا کہ

"میرے پاس ان افراد کو قتل کر نے کا کوئی راستہ نہیں "۔

(اعلام الوری صفحہ ۱۹۰)

ٍ اس کے علاوہ امامعليه‌السلام نے ایک اور وصیت بھی کی کہ میری وفات کے سات سال بعد تک حج کے ایام میں عزاداری امام حسینعليه‌السلام کی جائے اور اس عزاداری کے لئے آپعليه‌السلام نے اپنے مال کا کچھ حصہ مقرر فرمایا۔

یہ وصیت بھی سیاسی تھی کیونکہ ان مجالس کے ذریعے سے دوسرے افراد امامعليه‌السلام کی مظلومیت سے با خبر ہوتے اور ان کو پتہ چلتا کہ کس طرح امامعليه‌السلام پر ظلم ہوئے ہیں اور جب اس کے ذریعے ان کے دل اماموں کی طرف مائل ہوتے اور وہ ائمہعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں جستجو کر تے جس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ لوگ باطل حکومت سے دوری اختیار کرتے اور صالح افراد لوگوں کے امور کو سنبھالتے۔

امام موسیٰ کاظم عليه‌السلام اور سیاست

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کا زمانہ امامت ۳۵ سال پر محیط تھا اور اس دوران چار عباسی خلیفہ گزرے جن میں سے ہارون رشید نے سب سے زیادہ خلافت کی اور اسی خلیفہ نے امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی اور سب سے زیادہ پریشان کیا لیکن اسکے باوجود امامعليه‌السلام کو جب بھی فرصت ملتی آپ حکومت کے خلاف سر گرم عمل ہوجاتے۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں بحث کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آگ کی توجہ اس نکتہ کی طرف مبذول کراوں کہ ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی میں آپ کو اکثر واقعات بار بار پڑھنے کو ملتے ہیں اسکی وجہ یہ کہ ائمہ (علیہم السلام)کی سیاسی زندگی تقریباً ایک جیسی تھی کیونکہ ہر خلیفہ وقت کا ہدف ایک تھا اور وہ یہ کہ ان شخصیات کو کسی نہ کسی طرح لوگوں سے جدا کردیا جائے۔یہ شخصیات عوام سے اپنا رابطہ مضبوط نہ کرسکیں کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر ان کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

اس کے مقابلے میں ائمہ (علیہم السلام)کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو صحیح راستے کی نشاندہی کردی جائے ان کو کمال کا راستہ بتادیا جائے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ائمہ (علیہم السلام)نے کبھی بھی حکومت کو اپنے اور عوام کے درمیان روکاوٹ نہ بننے دیا ائمہ (علیہم السلام)نے چھوٹی ملاقاتوں میں جزئی مسائل کے جواب میں بھی لوگوں کی ہدایت فرمائی جیسا کہ پہلے امام صادق کا امیرالمومنین کے نام والا قصہ بیان کیا گیا کہ جس میں امام صادق نے ایک جزئی مسئلہ پر ایک کلی موضوع کوبیان کیا۔ان تمام اہداف اور مقاصد میں ائمہ (علیہم السلام)کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ یہ حکومت غیر قانونی ہے۔یہ خلیفہ غاصب ہیں اور اس منصب کے حق دار نہیں ہیں۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی میں بھی ہمیں ایسے واقعات کثرت سے ملتے ہیں جو کہ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے سلسلے میں تھے۔مثال کے طور پر امام موسیٰ کاظم کا ایک ماننے والا جن کا نام صفوان تھا ان کے پاس اس زمانے میں اونٹ ہوا کرتے تھے جس کو وہ قافلے والوں کو کرائے پر دیتے تھے ایک دفعہ حج کے زمانے میں ہارون رشید نے ان اونٹوں کوکرائے پر لیا امام کوجب اسکی خبرملی تو امام نے صفوان کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تم نے اپنے اونٹ ہارون رشید کو کرائے پر دئیے ہیں صفوان نے کہا جی مولا۔

امام نے فرمایا کہ پھر تو ضرور تمہاری یہ دعا ہوگی کہ جب تک اونٹوں کا کرایہ نہ مل جائے ہارون رشید اور اس کے دربار والے زندہ رہیں؟ صفوان نے جواب دیا جی مولا۔

امامعليه‌السلام نے فرمایا:

"جو بھی ان کی بقاء کی دعا کرے گا وہ ان میں سے ہے اور جو ان میں سے ہے اسکا ٹھکانہ جہنم ہے"

صفوان نے جب یہ سنا تو چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا توبہ کی اور اپنے اونٹ کسی کو بیچ دئیے

ہارون رشید کوجب اس کی خبرملی تو ہارون نے کہا کہ اگر صفوان سے پرانی دوستی نہ ہوتی تو اس کو پھانسی پر لٹکا دیتا۔(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۱ ۔ ۱۳۲)

اسی کے ذیل میں امام صادق اور امام کاظمعليه‌السلام کا ایک واقعہ ذکر کروں گا اور پھر جو چیز مقدمہ کے طور پر عرض کی گئی اس سے متعلق کچھ نتیجہ اخذ کریں گے۔

ایران کے شہر کا گورنر نجاشی تھا جو کہ شیعان اہل بیت میں سے تھا ایک دفعہ خلیفہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر اور پریشان ہوکر امام صادقعليه‌السلام کو خط لکھا اور اس میں حکومت کے ظلم وستم اورخلیفہ کی زیادتیوں کے بارے میں لکھا اور آخر میں امام سے درخواست کی کہ:

"میں یہ گورنری چھوڑنا چاہتا ہو ں کیونکہ ڈرتاہوں کہ میری آخرت کا کیا ہوگا آپ مجھ کو اجازت دیجئے کہ میں اس مقام کو چھوڑدوں"

امامعليه‌السلام نے جواب میں تحریر فرمایا کہ:

تمہارا خط ملنے سے مجھے خوشی بھی ہوئی اور میں پریشان بھی ہوا خوشی اس وجہ سے ہوئی کہ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ:

"خدا سے امیدوار ہوں کہ خدا تمہارے ذریعے سے آل محمدکے بے آسرالوگوں کوپناہ دے آل محمد کے بے بس لوگوں کو تمہارے ذریعے سے عزت دے آل محمد کے غریب لوگوں کو تمہارے ذریعے سے غنی کرے، ضعیف لوگوں کو قوی کرے اور دشمن کی آگ کو ان کی نسبت تمہارے ذریعے سے کم کرے"

میری پریشانی کا سبب یہ کہ:

"سب سے چھوٹی چیز جس کی وجہ سے میں پریشان ہو ں وہ یہ ہے کہ خدا نہ کرے کہ تم ہمارے دوستوں میں سے کسی سے بھی برا سلوک کرو اور اسکے نتیجہ میں خطیرہ القدس کی خوشبو سے بھی محروم ہوجاو"(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۵۲)

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کے ماننے والوں میں علی بن یقطین نامی ایک شخص تھا جو کہ خلیفہ کے دربار میں وزیرتھا ایک دفعہ خلیفہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کو ایک خط لکھا کہ:

"خلیفہ کے ظلم وستم کی انتہا ہوچکی ہے میری برداشت سے باہرہے یہاں پر مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے میں روز قیامت کے حساب وکتاب کے بارے میں سوچ کر اور پریشان ہوجاتا ہوں اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں یہاں سے فرار ہوجاوں اور کہیں چھپ جاوں۔"

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے اسکے جواب میں تحریر فرمایا کہ:

"تم کو اجازت نہیں دوں گا کہ تم اس کام کو چھوڑدو جوکہ تم انکے دربار میں انجام دے رہے ہو بس خدا کو مت بھولنا"

(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۴۳)

اگر ہم پچھلے صفحوں پر ایک نظر ڈالیں تو ہم کو ایسے واقعات نظر آئیں گے کہ جس میں ائمہ (علیہم السلام)نے اپنے ماننے والوں کو خلفاء سے رابطہ برقرار کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن ان دو واقعات کی طرف نگاہ ڈالیں تو امام صادقعليه‌السلام اور امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام گورنر اور وزیر کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ حکومت چھوڑدیں وہ شخص جس نے اپنے اونٹ فقط کرائے پردے رکھے ہیں اس کواتنی مہلت بھی نہیں دیتے کہ وہ اپنے اونٹوں کا کرایہ لینے تک انتظار کرلے یا اگر کوئی کسی ذریعے سے وزیروں کے لئے کام کررہا ہے تو فرماتے ہیں کہ اسکی جگہ دوذج میں ہے آخر اسکا کیا سبب ہے؟آیا یہ دومخالف سوچیں ہیں؟ آیا یہ ایک دوسرے کے مخالف عمل ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اسکا جواب کیا ہے؟

ان سوالوں کے جواب میں چند نکات بیان کروں گا جس کی بناء پر ائمہ اطہار(علیہم السلام) کے عمل میں یہ اختلافی چیزیں نظرآتی ہیں ان کی وجہ سے ائمہ (علیہم السلام)کے عمل میں کسی قسم کا کوئی تضادنہیں۔

وہ شخص جو کہ دربار میں یا حکومت کے ساتھ کام کررہاہے اسمیں مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہئیں۔

۱ ۔ متقی اور پرہیز گارہونا۔

۲ ۔ ولایت ائمہ (علیہم السلام)پر ایمان ہونا۔

۳ ۔ غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرنا۔

ٍ ۴ ۔ صاحبان ایمان کادفاع اور ان کی حفاظت کرنا۔

ٍ ۵ ۔ راز دار رہنا۔

اسی ضمن میں ایک اوراہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتا چلوں اور ایک اورواقعہ حضرت امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام کی زندگی کے بارے میں بیان کروں ۔

خلفاء بنی عباس کی تاریخ کے اندر ہمیں کچھ ایسے خلفاء بھی ملتے ہیں جو بڑے نرم دل تھے، اور انہوں نے جو مال ان سے پہلے والے خلفاء نے غصب کیا تھا وہ واپس کردیا تھا، من جملہ ان میں فدک بھی تھا جو کہ انہوں نے واپس کرنے کی حامی بھری اس سلسلے میں واقعہ بعد میں بیان کروں گا۔ جس نکتہ کی طرف آپکی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ نہیں ہے بلکہ وہ یہ کہ ان خلفاء کی نرمی اس وجہ سے نہیں تھی کہ وہ ائمہ اطہار(علیہم السلام) سے محبت کرتے تھے بلکہ پے درپے ظالم حکمرانوں کی وجہ سے عوام کے اندر غصہ بھرچکا تھا اور مختلف جگہوں سے حکومت کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئی تھیں ان تحریکوں اور ان مخالفتوں کود بانے کے لئے خود حکومت کے مشیر ایسے خلیفہ کو چنتے تھے جو کہ کم ظلم کرے اور لوگوں کے غصب شدہ حقوق ان کو واپس دے دے،’اور یہی افراد جب دیکھتے تھے کہ عوام کا غصہ کم ہوگیا تو خود ہی اس خلیفہ کو زہر دے کرماردیتے تھے۔

مہدی عباسی(بنی عباس کا تیسرا خلیفہ)نے اپنے آباء واجداد کے گناہ پرپردہ ڈالنے کیلئے اور آزادی کی تحریکوں کو ختم کرنے کے لئے تخت پر بیٹھنے کے بعدعام اعلان کیا کہ اگر کسی کا حق میری گردن پر ہے وہ آکر اسکا مطالبہ کرے تو اسکا حق اس کو واپس لوٹادیا جائیگا۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے جب یہ اعلان سنا تو مہدی عباسی کے پاس گئے اس وقت مہدی عباسی لوگوں کے حقوق ان کو واپس کرنے میں مشغول تھا۔

امامعليه‌السلام نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:

"کیا ہمارے چھنے ہوئے حقوق ہم کو واپس نہیں دیئے جائیں گے؟

مہدی عباسی نے کہا: آپ کے حقوق کون سے ہیں ۔

امامعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا کہ "فدک"

مہدی نے کہا کہ فدک کی حدود معین کر دیں تو میں فدک آپ کو واپس پلٹا دوں گا۔

امام موسیٰ کاظمعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا :

" فدک کی پہلی حدا حد کا پہاڑ ہے اس کی دوسری حد عریش مصر ہے اس کی تیسری حد خزر کے ساحل تک ہے اور اس کی چوتھی حد عراق اور شام ہے۔ (یعنی تمام حکومت اسلامی) "

مہدی عباسی نے تعجب سے پوچھا کہ یہ فدک کی حدود ہیں!

امام کاظمعليه‌السلام نے فرمایا :ہاں

یہ سن کر مہدی عباسی اس قدر غصہ میں آیا کہ غصہ کے آثار اس کے چہرے سے عیاں تھے کیونکہ امام موسیٰ کا ظمعليه‌السلام اس جواب کے ذریعے سے اس کو سمجھانا چاہتے تھے کہ حکومت اسلامی کی باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہو نی چاہیے مہدی عباسی وہاں سے اٹھ کر جانے لگا اور زیر لب کہہ رہا تھا کہ یہ حدیں بہت زیادہ ہیں اس کے بارے میں کچھ سوچنا پڑے گا۔ (بحار الانوار جلد ۴۸ صفحہ ۱۵۶)


3

4

5