ائمہ علیھم السلام اور سیاست

ائمہ علیھم السلام اور سیاست0%

ائمہ علیھم السلام اور سیاست مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

ائمہ علیھم السلام اور سیاست

مؤلف: سید افتخار عابد نقوی
زمرہ جات:

مشاہدے: 1643
ڈاؤنلوڈ: 460

تبصرے:

ائمہ علیھم السلام اور سیاست
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 19 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1643 / ڈاؤنلوڈ: 460
سائز سائز سائز
ائمہ علیھم السلام اور سیاست

ائمہ علیھم السلام اور سیاست

مؤلف:
اردو

امام رضا عليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام رضاعليه‌السلام کا طرز زندگی بھی اپنے اجداد کی طرح تھا۔ آپعليه‌السلام نے بھی اپنی تمام زندگی ظالموں کے خلاف جہاد میں گزاری ، اور ان میں بنی عباس کے خلفاء سرفہرست تھے کہ جن کی خلافت کو آپعليه‌السلام نے کبھی بھی قانونی حیثیت نہیں دی۔

آپعليه‌السلام کے ایک صحابی سلیمان جعفری نے کہا کہ میں امامعليه‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ مامون کی حکومت سے تعلقات کے بارے میں آپعليه‌السلام کا نظریہ کیا ہے؟

حضرت امام رضاعليه‌السلام نے جواب میں فرمایا:

"ان کی طرف عمداً اور جان بوجھ کر توجہ دینا گناہ کبیرہ میں سے ہے اور اس کی سزا آتش دوزخ ہی"

وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۸ بحار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۳۷۴

کیونکہ امام رضاعليه‌السلام نے ولی عہدی کو قبول کر لیا تھا اس لئے بعض افراد کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو تاتھا لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام نے کیوں ولی عہدی کو قبول کیا؟

اسلامی سلطنت میں بڑھتی ہوئی اسلامی تحریکوں کو دیکھ کر مامون کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اب حکومت کو خطرہ لاحق ہے ، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام مدینہ میں تھے اور آپعليه‌السلام کا رابطہ عام لوگوں سے مضبوط تھا مامون نے اس رابطے کو توڑنے کے لئے اور آپعليه‌السلام کو زیر نگرانی رکھنے کے لئے ایک چال چلی ۔

خراسان سے مدینہ خط بھیجا کہ میں حکومت کے تمام امور آپعليه‌السلام کو سونپنا چاہتا ہوں اس لئے آپعليه‌السلام خراسان تشریف لے آئیے ۔

مدینہ کے گورنر نے حالات کو کچھ اس طرح سے بنایا کہ امامعليه‌السلام کو اپنی مرضی کے بغیر مدینہ چھوڑنا پڑا(البتہ تمام ائمہ اطہارعليه‌السلام کے لئے مدینہ چھوڑنا بہت مشکل ہو تا تھا کیونکہ وہاں پر رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور حضرت زہرا(علیہ السلام) کی مطہر اور منور قبریں ہیں )۔

جب حضرت امام رضاعليه‌السلام مامون کے پاس پہنچے تو مامون نے آپعليه‌السلام کو خلافت کی پیشکش کی۔ آپعليه‌السلام نے بڑی سختی سے اس کو رد کر دیا تقریباًدو ہفتہ تک اس گفتگو کا سلسلہ جاری رہا ایک دن مامون نے کہا کہ میں خلافت سے استعفاء دینا چاہتا ہوں اور خلافت کے امور آپعليه‌السلام کے ہاتھ میں سونپنا چاہتا ہوں ۔

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

"اگر یہ خلافت تمہاری ہے اور خدا نے اس کو تمہارے لئے قرار دیا ہے تو تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو لباس خدا نے تمہارے لئے سیا ہے تم اسے دوسرے کو پہنا دو اور اگر خلافت تمہاری چیز نہیں ہے توجائز نہیں ہے کہ جو چیز تمہاری نہیں ہے اس کو مجھے دے دو۔عیون اخبار الرضا جلد ۲ صفحہ ۱۳۹ ، ۱۴۰

مامون کا زور بڑھتا گیا اور آپعليه‌السلام کا انکار اپنی جگہ پر رہا مامون آپ کا انکار دیکھ کر کچھ نرم ہوا اور آپعليه‌السلام کو جانشینی کی پیشکش کی۔ آپعليه‌السلام نے اس کو بھی قبول کر نے سے انکار کر دیا مامون نے بہت زور دیا آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ اس گستاخ نے کہا کہ اگر آپعليه‌السلام نے جانشینی قبول نہیں کی تو میں آپعليه‌السلام کو قتل کر دوں گا۔

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ:

خدا نے مجھ کو منع کیا ہے کہ میں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالوں اور اب جب کہ تم زبردستی کر رہے ہو تو میں اپنی شرائط کے ساتھ جانشینی کو قبول کروں گا:

۱ ۔ کسی کو کسی کے مقام سے ہٹاؤں گا نہیں اور کسی کو کسی کے مقام پر فائز نہیں کروں گا۔

۲ ۔ فتویٰ نہیں دوں گا۔

۳ ۔ قضاوت نہیں کروں گا۔

۴ ۔ وہ چیز جو کہ قائم ہے اس کو تبدیل نہیں کروں گا۔

(مناقب آل ابیطالبعليه‌السلام جلد ۴ صفحہ ۳۶۳)

یہ شرائط اس بات کی مکمل نشاندہی کر رہی ہیں کہ امامعليه‌السلام نے مامون کی سیاست کو سمجھتے ہوئے اس کا جواب دیا مامون یہ چاہتا تھا کہ حضرت امام رضاعليه‌السلام کو حکومت میں لاکر یہ ثابت کر دے عام مسلمان کے لئے کہ میری حکومت قانونی ہے اور شرعی ہے لیکن امامعليه‌السلام نے اس کے مقابلے میں اپنی خاص روش اختیار کی اور یہ بات سمجھا دی کہ میرا مامون کی ظالم حکومت سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور جانشینی فقط ایک عنوان کی حیثیت رکھتی ہے۔

امامعليه‌السلام نے اپنی روش کے ذریعے سے دو چیزوں کی وضاحت کی۔

ٍ ۱ ۔ امامعليه‌السلام مامون کی حکومت سے راضی نہیں تھے۔

۲ ۔ جانشینی کو قبول کر نا ظاہری تھا کیونکہ امامعليه‌السلام کی نظر میں آپ کا زندہ رہنا معاشرے کے لئے ضروری تھا اور اس زمانے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں امامعليه‌السلام نے یہ بات صریحاً بیان کر دی تھی کہ میں تم سے پہلے دنیا سے چلا جاؤں گا (یعنی مجھے جانشین بنا نا بے معنی ہی)امامعليه‌السلام نے جانشینی کو قبول کر نے کے بعد محروم اور نادار فقراء اور مساکین کی تاحد امکان مدد کی اور ان کے حقوق ان کو دلوائے۔

اپنی مفصل نشستوں میں شیعہ مذہب کی حقانیت کو ثابت کیا اور تشیع کے اصولوں کو جو کہ دراصل خالص اسلام کے اصول ہیں روشن اور واضح کیا اور ان کو پھیلایا جس کی وجہ سے شیعت کو عروج ملا اور بہت سے علاقوں میں شیعت پھیل گئی یہی مسائل تھے کہ جو آگے چل کر اس بات کا سبب بنے کے آپعليه‌السلام کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔

ان تمام شرائط کے با وجود امامعليه‌السلام نے مامون کی سیاست کو سمجھا اور اس کو موقعہ پر ختم کر دیا اور اس کے مقابل اپنے آپعليه‌السلام کوجھکا یا نہیں ، لیکن اگر امامعليه‌السلام ان تمام چالاکیوں کے سامنے سادگی سے بیٹھے رہتے اور سیاسی مسائل کو سمجھتے تو شاید وہ واقعات پیش نہ آتے جو کہ تاریخ میں ثبت ہوئے۔

ان تفصیلات کے ذیل میں ایک واقعہ بیان کر تا چلوں کہ کس طرح سے امام رضاعليه‌السلام نے مامون کی مخالفت کی ہے امامعليه‌السلام کو مدینہ اور حجاز سے یہ خبر دی گئی کہ وہاں پر مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے اور وہاں کے حکمرانوں نے بھی عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں۔

ایک دن مامون ہاتھ میں لمبا چوڑا سا خط لئے امامعليه‌السلام کے پاس آیا اور اس خط کو پڑھا اس میں کابل کے اطراف کے کچھ علاقوں کی فتح کی خبر دی گئی تھی جب خط ختم ہو گیا تو امامعليه‌السلام نے مامون سے پوچھا کہ:

"کیا تم مشرک اور کافر قوموں کی کچھ زمین کو فتح کرنے کی وجہ سے خوش ہو؟"

مامون نے تعجب سے پوچھا آیا ان شہروں کی فتح خوشی کی بات نہیں ہے؟

امامعليه‌السلام نے اس کے جواب میں فرمایا:

"امت محمد کے سلسلے میں خدا کے فرمان کی مخالفت سے پرہیز کرواور اسی طرح سے قیادت کے سلسلے میں بھی جو کہ تمہارے ہاتھ میں ہے کیونکہ تم نے مسلمانوں کے امور کو تباہ و برباد کر دیا ہے اور عوام پر ایسے حکمرانوں کو مسلط کر دیا ہے جو کہ خدا کے فرمان کے خلاف کام کر تے ہیں اور تم یہاں پر بیٹھے ہوئے ہو اور مرکز وحی کو چھوڑ دیا ہے اور وہاں کے مظلوم عوام کی فکر میں نہیں ہو"

(عیون اخبار الرضا ج ۲ صفحہ ۱۵۹،۱۶۰)

یہاں پر امامعليه‌السلام نے مامون کو مبارک باد دینے کے بجائے اس کے نمائندوں کی بے عدالتی پر اس کو ڈانٹا اور مصلح کہنے کی بجائے ا س کوفاسد کہا۔

ائمہ اطہار (علیہم السلام) نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا کسی بھی زمانہ میں کسی بھی صورت حال میں ۔ ائمہ (علیہم السلام) کے ان ہی اصولوں میں مظلوم عوام کی حمایت تھی اور ان کی مدد کر نا تھی کبھی راتوں کو روٹیوں کی بوری کمر پر رکھ کر کبھی اندھے اور بوڑھے شخص کو کھانا کھلا کر ، کبھی جنگ کر کے اور کبھی درس و بحث کی محفلوں میں بیٹھ کر ، اس اصول کی حفاظت تمام ائمہ اطہار (علیہم السلام) نے اپنے حالات کے مطابق کی ۔ امام رضاعليه‌السلام نے بھی گو کہ سیاسی صورتحال سے اس قدر مضبوط نہ تھے مگر اس کے با وجود بھی کس قاطعیت اور یقین کے ساتھ آپعليه‌السلام نے ظالم حکمرانوں کے سامنے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی۔

ایک دفعہ ایک زاہد اور متقی شخص نے چوری کی اور وہ پکڑا گیا جب اس کو مامون کے دربار میں لایا گیا تو اس نے مامون سے بحث مباحثہ شروع کر دیا بحث نے طول پکڑایہاں تک کہ آخر میں مامون نے امامعليه‌السلام سے رائے معلوم کی امامعليه‌السلام نے کمال صراحت کے ساتھ مامون کے جواب میں فرمایا کہ:

"خدا نے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)سے کہا کہ "فللّٰہ الحجة البالغہ" "خدا کے لئے دلیل قاطع ہے(سورہء انعام : ۱۴۹) اور یہ حجت وہی ہے کہ جاہل اپنے جہل کے باوجود اس کو سمجھ لیتا ہے اور عالم اپنے علم کے ذریعے سے اس تک پہنچتا ہے اور دنیا اور آخرت حجت اور دلیل کی بناء پر ہے اور یہ مرد اس کے پاس بھی دلیل ہے"

یہ سننا تھا کہ مامون غصہ میں آگیا لیکن کیونکہ دربار میں تھا اس لئے اس زاہد کو رہا کر دیا اور لوگوں سے کنارہ گیری اختیار کر لی اور امام رضاعليه‌السلام سے بھی ملاقاتیں بند کر دیں یہی سبب تھا کہ اس نے امام رضاعليه‌السلام کو شہید کر وا دیا اس کے علاوہ امامعليه‌السلام کے بہت سے اصحاب کو بھی شہید کر دیا۔ (عیون اخبار الرضا جلد ۲ صفحہ ۲۳۷ ، ۲۳۸)

ائمہ اطہار (علیہم السلام)کی عملی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا کم از کم دیکھ ہی لیں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہ رہے کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے معیار بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم کو اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر اپنی عملی زندگی میں عمل کریں ۔ اور سیرت ائمہ (علیہم السلام) کو یہ کہہ کر نہ چھوڑ دیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط ائمہ (علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے اگر ہم یہ سوچ کر ائمہ (علیہم السلام) کی زندگی کو چھوڑ دیں تو میرے خیال میں یہ سب سے بڑا ظلم ہو گا جو کہ ہم ان کے حق میں کریں گے۔

امام محمد تقی عليه‌السلام اور سیاست

امام محمد تقیعليه‌السلام ۱۹۵ ھ میں پیدا ہوئے اور ۳۰۳ ئھ میں امام رضاعليه‌السلام کے بعد ۸ سال کی عمر میں امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔ ائمہ اہل بیت (علیہم السلام)کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ تھا کہ کسی امام کی امامت ۸ سال کی عمر میں شروع ہوئی ہو یا یوں کہہ لیجئے کہ بلوغ کی حدود تک پہنچنے سے پہلے امامت کے منصب پر فائز ہوئے ہوں (البتہ یہ آغاز تھا اس بات کا کہ باقی ائمہ (علیہم السلام) کوبھی کم سنی میں امامت ملے جسیے امام علی نقیعليه‌السلام اور خود امام زمانہ(عج)کہ ان حضرات(علیہم السلام) کو بالترتیب ۸ اور ۵ سال کی عمر میں امامت ملی )یہی وجہ تھی کہ امام رضاعليه‌السلام کی تاکید کے با وجود شیعوں میں بھی امام محمد تقیعليه‌السلام کی کم سنی اختلاف کا باعث بنی تو چہ جائے کہ شیعوں کے مخالف افراد، اسی وجہ سے حکومت کے کارندوں نے لوگوں میں یہ بات پھیلانا شروع کر دی محمد بن علی رضاعليه‌السلام میں امام بننے کی صلاحیت نہیں ہے اس طرح کی افواہوں سے حکومت کا مقصد یہ تھا کہ عوام کو امام سے دور کر دیا جائے، لیکن امام محمد تقیعليه‌السلام نے اپنی کم سنی کے با وجود کیونکہ علم لدنی کے حامل تھے، خلیفہ کے اس جال کو بھی توڑنا شروع کر دیا آپعليه‌السلام نے اپنی علمی سر گرمیوں کو تیز کر دیا اور علمی محفلوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ۔

جب امامعليه‌السلام خلیفہ کے اصرار پر مدینہ سے بغداد تشریف لائے تو خلیفہ نے فیصلہ کیا کہ اپنی بیٹی کی شادی آپعليه‌السلام سے کر دی جائے تاکہ امامعليه‌السلام کی سر گرمیاں بھی زیر نظر رہیں اور شیعوں کے آنے جانے پر بھی نظر رکھی جا سکے لیکن خلیفہ نے اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے دربار والے اس سے شکایت کر نے لگے کہ یہ تو ابھی کم سن ہیں اور اس کی معلومات دین کے متعلق کم ہیں خلیفہ نے کہا کہ اگر چاہتے ہو تو محمد بن علیعليه‌السلام کا امتحان لے لو (کیونکہ خود خلیفہ کی بھی یہی خواہش تھی کہ اگر ہو سکے تو کسی طرح سے امام کو شکست دے کر عوام کے سامنے رسواء کر دیا جائے)دربار کے علماء نے یحییٰ بن اکثم جو کہ مشہور اور نامی گرامی فقیہ اور قاضی تھا کو آمادہ کر لیا کہ وہ امامعليه‌السلام سے بھرے دربار میں ایسا سوال کر ے کہ امامعليه‌السلام اس کا جواب نہ دے سکیں ۔ جب امامعليه‌السلام دربار میں تشریف لائے تو یحییٰ بن اکثم نے خلیفہ سے اجاز ت لے کر امامعليه‌السلام سے سوال پوچھا کہ اگر محرم (جس نے احرام حج باندھا ہوا ہے) حرم خدا کی حدود میں کسی جانور کو قتل کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟

امامعليه‌السلام نے ا سکے جواب میں اکثم سے سوال کیا کہ:

"محرم نے اس کو حرم میں شکار کیا ہے یا کسی اور جگہ؟ مارنے والا حکم کو جانتا تھا یا نہیں ؟ عمداً مارا ہے یا سہواً؟ آیا ابتداء اس کو مارا ہے یا دفاع کر تے ہوئے آیا شکار پرندوں میں سے تھا یا اس کے

علاوہ؟شکار چھوٹا تھا یا بڑا؟ شکاری اپنے عمل پر قائم ہے یا شرمندہ ہے؟ آیا شکار رات میں ہوا ہے یا دن میں ؟ آیا محرم حج عمرہ میں تھا یا حج واجب میں ؟"

یہ سوالات سن کر یحییٰ بن اکثم کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور تاریخ لکھنے والوں کے بقول گھبراہٹ کے آثار یحییٰ کے چہرے پر اس قدر واضح تھے کہ دربار میں موجود ہر شخص نے اس کو محسوس کیا جب یحییٰ امامعليه‌السلام کے سوال کا جواب نہ دے سکا تو خلیفہ نے امامعليه‌السلام سے درخواست کی کہ آپعليه‌السلام ہی اس کا جواب دے دیجئے تو امام نے اپنے سوال کا تفصیل سے جواب دیا ۔

معتصم عباسی خلیفہ کے زمانے میں کسی چور نے اپنی چوری کا خود سے اقرار کیا اور خلیفہ سے کہا کہ مجھ پر حد جاری کی جائے۔

خلیفہ نے علماء سے پوچھا کہ حد کا اجراء کہاں تک ہے قاضی احمد ابن داؤد نے کہا کہ میری رائے تو یہ ہے کہ کلائی تک حد کا اجراء ہو۔

خلیفہ نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے اس نے کہا کہ تیمم کے بارے میں خدا وندکا ارشاد ہے کہ "وامسحوا بوجوھکم وایدیکم" اوربہت سے علماء اس سے متفق ہیں اسی دوران میں خلیفہ نے محمد تقیعليه‌السلام کو بلا بھیجا۔ کچھ دوسرے علماء نے اپنی رائے کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ہاتھ کا کہنی تک کاٹنا ضروری ہے کیونکہ خدا کا ارشاد ہے کہ "ایدیکم الی المرافق" ان اختلاف آراء کے بعد معتصم نے امامعليه‌السلام سے دریافت کیا کہ اے ابو جعفرعليه‌السلام اس سلسلے میں آپعليه‌السلام کی کیا رائے ہے امام نے فرمایا کہ جو جماعت کہتی ہے معتصم نے کہا کہ آپعليه‌السلام اس کو چھوڑئیے میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ اپنی رائے بتائیے امامعليه‌السلام نے فرمایا اب جب کہ تم نے مجھ کو خدا کی قسم دی ہے اس لئے یہ کہہ رہا ہوں کہ علماء نے جو رائے دی ہے اس سلسلے میں انہوں نے غلطی کی ہے ہاتھ کاٹنے میں واجب یہ ہے کہ ہتھیلی کو چھوڑ کر انگلیوں کو جڑ سے کاٹ دیا جائے معتصم نے پوچھا اس کی دلیل کیا ہے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ رسول خدا کا ارشاد ہے کہ سجدہ سات اعضاء پر ہوتا ہے پیشانی ، دونوں ، ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے، دونوں پاؤں ،دونوں انگو ٹھے اگر چور کا ہاتھ کلائی یا کہنی سے کاٹ دیا جائے تو سجدہ کر نے کے لئے اس کا ہاتھ باقی نہیں رہے گا اور خدا کا ارشاد ہے کہ "ان المساجد للّٰہ۔۔۔"کہ جس سے مراد یہی سات اعضاء ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوا س کو کاٹا نہیں جا سکتا معتصم امامعليه‌السلام کا جواب سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے یہی حکم جاری کیا ۔

اس طرح سے اس دور میں کہ جب منصب امامت کو کم سنی کا الزام لگا کر لوگوں سے دور کیا جارہا تھا امام محمد تقیعليه‌السلام نے عام درباروں اور محفلوں میں ان مسائل کا حل پیش کرکے لوگوں کے منہ بند کردیئے۔

امام علی نقی عليه‌السلام اور سیاست

اسلام کے ابتدائی دور میں اسلامی معاشرہ محدود تھا اسلامی تعلیمات عام تھیں اور لوگ اسلام کے گرد جمع تھے یہ اسلامی تعلیمات ہی کا نتیجہ تھا کہ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے وہ عظیم ایثار اور فدا کاری انجام دی ۔ لیکن جیسے جیسے خود خواہ افراد حکومت کے منصب کو سنبھالنے لگے اور اسلامی تعلیمات سے دور ہونے لگے تو لوگوں کا اعتماد بھی حکومت پر سے اٹھ گیا بلکہ آہستہ آہستہ لوگوں نے حکومت کے خلاف اپنی تحریکیں شروع کر دیں ۔

حکومت کو ہر دور میں سب سے زیادہ خطرہ ائمہ (علیہم السلام)سے تھا یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ نے ائمہ (علیہم السلام) کواپنے زیر نظر رکھا اور ان کی چھوٹی سے چھوٹی حرکات و سکنات کی تحقیقات کیں۔ امام علی نقیعليه‌السلام کے زمانے میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہ تھی امامعليه‌السلام کو زبردستی مدینہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور اس زمانہ کے دارالحکومت یعنی سامرہ میں بلالیا گیا تاکہ حکومت مکمل طور سے امامعليه‌السلام کی سر گرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ اسی انثاء میں حکومت اور خلفاء کی یہ بھی کوشش رہی کہ امامعليه‌السلام کی حیثیت کو لوگوں کے سامنے کم کریں اور اس ہدف کو حاصل کر نے کے لئے انہوں نے مختلف طریقے اپنائے لیکن امامعليه‌السلام نے کبھی اپنے علم سے کبھی زور امامت سے اور کبھی علم غیب کی مدد سے ان کے ان مقاصد کو خاک میں ملا دیا۔

متوکل نے ایک دن ہندی جادوگر سے کہا کہ اگر وہ امامعليه‌السلام کو کھلے دربار میں بے عزت کر دے تو وہ اس کو منہ مانگا انعام دے گا۔ جادو گر نے کہا کہ امامعليه‌السلام کو کھانے پر بلاؤ اور ہلکی روٹیاں پکا کر امامعليه‌السلام کے سامنے رکھ دو اور مجھ کو امامعليه‌السلام کے برابر میں بٹھا دو باقی کام میرا ہے۔ متوکل نے تمام علماء اور دانشوروں کو کھانے پر مدعو کیا من جملہ امامعليه‌السلام کو بھی بلایا امامعليه‌السلام آنے سے منع کیا لیکن پھر مجبوراً آنا پڑا جب دسترخوان بچھایا گیا تو جادو گر کو امامعليه‌السلام کے برابر میں بٹھا دیا گیا امامعليه‌السلام نے جیسے ہی روٹی اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو روٹی پھدک کر آگے چلی گئی امامعليه‌السلام نے دوسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر ویسے ہی ہوا امامعليه‌السلام نے تیسری دفعہ ہاتھ بڑھایا تو پھر روٹی پھدک کر آگے چلی گئی اس عرصہ میں تمام دربار یوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔

امامعليه‌السلام نے جب یہ منظر دیکھا تو دربار میں موجود ایک شیر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس جادو گر کو کھا جاؤ ۔ شیر تصویر سے باہر آیا اور جادو گر کو کھا کر واپس تصویر بن گیا یہ ماجرا دیکھ کر متوکل تو بیہوش ہو گیا اور باقی تمام افراد حواس باختہ ادھر ادھر فرار کر گئے جب خلیفہ کو ہوش آیا تو اس نے امامعليه‌السلام سے درخواست کی کہ اس جادو گر کو واپس کر دیجئے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا یہ کہنے کے بعد امامعليه‌السلام واپس تشریف لے گئے۔

معتصم عباسی نے اپنے زمانے میں اسلامی فوج میں عرب اور فارس کی تعداد کم کر کے ترکوں کو بھرتی کر نا شروع کیا اور کچھ عرصہ میں ترک افراد فوج میں اکثریت میں ہو گئے۔ اور ان کا اثرو رسوخ حکومت پر زیادہ ہو گیا اور جب انہوں نے دیکھا کہ حکومت اپنی بقا کے لئے ان کی محتاج ہے تو انہوں نے حکومت پر اپنی خواہشات کو مسلط کر نا شروع کر دیا اپنے ارادہ اور خواہشات کی بناء پر ایک خلیفہ کو ہٹا کر دوسرے کو اس کا جانشین کر دیتے تھے صرف امام ہادیعليه‌السلام کے ۳۳ سالہ دور امامت میں ان ترکوں نے چھ عباسی خلفاء کو حکومت سے بر کنار کیا اور دوسرے کو اس کا جانشین مقرر کیا جب معتز خلیفہ خلافت کے منصب پر فائز ہوا تو اس نے دربار کے نجومیوں سے کہا کہ حساب کر کے بتائیں کہ حکومت کتنے عرصہ بر قرار رہے گی۔ دربار کے مسخرہ نے کہا کہ یہ تو میں بھی بتا سکتا ہوں تو دربار والوں نے اس سے پوچھا کہ کب تک خلیفہ کی حکومت قائم رہے گی تو اس نے جواب دیا کہ جب تک ترک چاہیں گے۔(الفحزی صفحہ ۲۲۰ تاریخ تمدن اسلامی جلد ۴ صفحہ ۱۸۰)

ترک اس قدر حکومت پر مسلط تھے اور امام محمد تقی ہادیعليه‌السلام بھی اس چیز کو اچھی طرح سے جانتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ واثق کی حکومت کے دور میں عرب مخالفین کی سرکوبی کے لئے ترک کمانڈر کی زیر نگرانی فوج مدینہ بھیجی گئی ایک دن امامعليه‌السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ چلو ذرا چل کر نزدیک سے اس ترک کمانڈر کے لشکر کو تو دیکھیں آپعليه‌السلام اپنے اصحاب کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے ہوگئے اور لشکر کے گزرنے کا انتظار کر نے لگے فوج کا کمانڈر جو کہ ترک تھا جب وہاں سے گزرنے لگا تو امام نے اس سے ترکی زبان میں کچھ کہا وہ کمانڈر اپنے گھوڑے سے اتر اور امامعليه‌السلام کے پاؤں چومنے لگا جب وہ واپس جانے لگا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ اے شخص علی بن محمدعليه‌السلام نے تم سے ایسی کون سی بات کہہ دی کہ جو تم اس قدر شدت سے ان کے فریفتہ ہو گئے اس کمانڈر نے کہا کہ یہ آقا کون ہیں ؟

انھوں نے پو چھا کیوں۔

کمانڈر نے کہا کہ اس شخص نے مجھ کو اس نام سے پکارا ہے جس سے میرے گاؤں کے لوگ مجھ کو بچپن میں پکارا کر تے تھے اور کوئی بھی شخص اس نام سے آگاہ نہیں ہے۔ (انور البھیہ صفحہ ۳۰۰)

حضرت امام حسن عسکری عليه‌السلام اور سیاست

حضرت امام علی نقیعليه‌السلام اور امام حسن عسکریعليه‌السلام کو حکومت نے سامرہ بلوایا اس کی وہی سیاست تھی جو مامون نے امام رضاعليه‌السلام کے ساتھ چلی تھی وہ یہ کہ امام کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے۔ حکومت کی کوشش تھی کہ اس مضبوط زنجیر کو توڑ دیں جو کہ امام اور ان کے حامیوں کے درمیان بن چکی تھی حکومت نے امام سے کہا تھا کہ آپ حکومت سے اپنارابطہ برقرار رکھیں گے جس کے لئے امام کو ہر پیر اور جمعرات کو دربار میں جانا ضروری تھا۔ حکومت نے بظاہر کچھ عرصہ کی قید کے علاوہ امامعليه‌السلام کو کوئی اذیت نہیں پہنچائی لیکن زمانے کی حالت کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل واقعہ سے لگا سکتے ہیں۔

علی بن جعفر حلبی کہتے ہیں کہ ہم چھاؤنی میں جمع تھے اور منتظر تھے امام کے، کیوں کہ ان کو دربار میں جانا تھا کہ اتنے میں مجھے ایک رقعہ ملا جس پر لکھا تھا کہ:

"کوئی مجھ کو سلام نہ کرے کوئی تم میں سے مجھ کو اشارہ نہ کرے تم خطرے میں ہو"

یہ واقعہ بخوبی ہم کو حکومت کی سختی کے بارے میں بتاتا ہے کہ حکومت نے امامعليه‌السلام اور شیعوں کے روابط کو کس قدر کنٹرول میں رکھا تھا۔

امامعليه‌السلام نے حکومت کے ان ہی حربوں کو دیکھتے ہوئے اپنے بعد آنے والے امام کے لئے میدان فراہم کیا اور اصحاب کا ایک ایسا گروہ تیار کرلیا جو فقط خط و کتابت کے ذریعے سے آپعليه‌السلام سے رابطہ برقرار رکھتا تھا۔

آپعليه‌السلام نے تمام علاقوں میں اپنے وکیل مقرر کئے تھے جو علاقہ کے مسائل اور وہاں جمع ہونے والی رقم آپعليه‌السلام کے ان نمائندوں تک پہنچاتے تھے جن کا آپ سے رابطہ تھا اس سلسلے کی سب سے اہم شخصیت عثمان بن سعید عمری کی ہے جو امام زمانہ عج کے پہلے نائب خاص بھی تھے۔

خط بھیجنے کے لئے بھی امامعليه‌السلام کے مخصوص افراد تھے جن میں ایک ابو الدیان تھے وہ کہتے ہیں کہ:

میں امام حسن عسکریعليه‌السلام کا خدمت گزار تھا اور حضرت کے خطوط کو مختلف شہروں میں لے کر جاتا تھا آخری خط دیتے ہوئے امامعليه‌السلام نے فرمایا کہ یہ خط مدائن لے کر جاؤ اور تم پندرہ دن میں واپس آؤگے جب پلٹو گے تو مجھ کو غسل دینے کی حالت میں پاؤگے ابو الدیان کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی پایا۔

امامعليه‌السلام نے اپنی وکالت کے جال کو منظم کیا اور اس کے دو مقاصد تھے۔

۱ ۔ شیعوں کی ہدایت راہنمائی کرنا، ان کی واجب رقم کی ادائیگی کے سلسلے میں تاکہ دین کی حفاظت ہوسکے۔

۲ ۔ ایسے افراد کی پہچان کروانا جن پر آپعليه‌السلام مکمل اعتماد کرتے تھے تاکہ معاشرے میں ان کی شخصیت بنے۔

بہرحال یہ افراد آگے چل کر امام زمانہ (عج) کی غیبت صغری اور پھر غیبت کبریٰ میں لوگوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنے۔

اس طرح امامعليه‌السلام نے ایک ایسے زمانے میں کہ جب آپعليه‌السلام پر حکومت کی کڑی نظر تھی ایک ایسا نظام قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے جو امامت کی درپردہ شخصیت کے پیغام کو لوگوں تک پہنچاسکے۔

نتیجہ

ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی زندگی کو اگر ہم دقت کی نظر سے دیکھیں یا اس کا مطالعہ کریں تو پھر ہمارے لئے یہ سوال باقی نہیں رہے گا کہ ہم کس شخصیت کو اپنے لئے مثال (آئیڈیل) بنائیں کس روش کو اپنائیں کس تنظیم میں شمولیت اختیار کریں ہمارے لئے راستہ روشن ہے صرف اس بات کی دیر ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔ ائمہ (علیہم السلام)کی زندگی کے ان پہلوں کو نظر میں رکھ کر ہم کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری شخصیت بحثیت شیعہ کے کیا ہے؟

کہیں ایسا تونہیں کہ ائمہ (علیہم السلام)کی محبت ہماری زبانوں تک ہی محدود ہو یایو ں کہہ لیجئے کہ ہم سال کے کچھ ہی دنوں میں ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور سال کے باقی حصہ میں ہماری زبان ان کے ساتھ مگر ہماری تلواریں (اعمال) یزید اور معاویہ کے ساتھ۔ سال کے باقی دنوں میں ائمہ (علیہم السلام)کی تعلیمات کا ہمارے آس پاس سے گزر بھی نہیں ہوتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے اعمال بھی ائمہ (علیہم السلام)کے ساتھ ہوں تواس کا فقط اور فقط ایک ہی پیمانہ ہے اور ایک ہی میزان ہے اور وہ ہے عمل۔ہر شخص اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ کس کا ماننے والا ہے۔

ہم سیرت ائمہ اطہار(علیہم السلام)کویہ کہہ کر نہ چھوڑدیں کہ ہم تو اس قابل نہیں اور یہ عمل تو فقط ائمہ (علیہم السلام)ہی انجام دے سکتے تھے۔اگر ہم یہ سوچ کر ائمہ اطہار(علیہم السلام)کی عملی زندگی کو چھوڑدیں گے یہ سب سے بڑاظلم ہوگا جو کہ ہم خود ان کے چاہنے والے ائمہ اطہار(علیہم السلام)پر کریں گے

والسلام علینا وعلی عباداللّٰه الصالحین

( ۱۲ صفر المظفر ۱۴۱۵ ھ)