اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ0%

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ مؤلف:
قسم: متن احادیث

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: علامہ شریف رضی علیہ رحمہ
قسم: مشاہدے: 4311
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 872

تبصرے:

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 41 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 4311 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 872
سائز سائز سائز
اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

اقوالِ امام علی (علیہ السلام )از نہج البلاغہ

تالیف: علامہ شریف رضی علیہ رحمہ

اردو ترجمہ و شرح: حجت الاسلام مولانا مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ

ناشر: امامیہ کتب خانہ، مغل حویلی،

موچی دروازہ،

لاہور۸ ، پاکستان

۱

فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے

لبون دودھ دینے والی اونٹنی کو اورابن اللبون اس کے دو سالہ بچے کو کہتے ہیں اور وہ اس عمر میں نہ سوار ی کے قابل ہوتا ہے ,اور نہ اس کے تھن ہی ہوتے ہیں کہ ان سے دودھ دوہا جاسکے .اسے ابن اللبون اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس دو سال کے عرصہ میں اس کی ماں عموماً دوسرا بچہ دے کر دودھ دینے لگتی ہے

مقصد یہ ہے کہ انسان کو فتنہ و فساد کے موقع پر اس طرح رہنا چاہیے کہ لوگ اسے ناکارہ سمجھ کر نظر انداز کردیں اور کسی جماعت میں اس کی شرکت کی ضرورت محسوس نہ ہو .کیونکہ فتنوں اور ہنگاموں میں الگ تھلگ رہنا ہی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے .البتہ جہاں حق و باطل کا ٹکراؤ ہو وہاں پر غیر جانبداری جائز نہیں اور نہ اسے فتنہ و فساد سے تعبیر کیاہے .بلکہ ایسے موقع پر حق کی حمایت اور باطل کی سرکوبی کے لیے کھڑا ہونا واجب ہے .جیسے جمل و صفین کی جنگوں میں حق کا ساتھ دینا ضروری اور باطل سے نبرد آزما ہو نا لازم تھا

۲

جس نے طمع کو اپنا شعار بنایا ,اس نے اپنے کو سبک کیا اور جس نے اپنی پریشان حالی کا اظہار کیا وہ ذلت پر آمادہ ہوگیا ,اور جس نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا ,اس نے خود اپنی بے وقعتی کا سامان کر لیا

۳

بخل ننگ و عار ہے اور بزدلی نقص و عیب ہے اورغربت مرد زیرک و دانا کی زبان کو دلائل کی قوت دکھانے سے عاجز بنا دیتی ہے اور مفلس اپنے شہرمیں رہ کر بھی غریب الوطن ہوتا ہے اور عجز ودرماندگی مصیبت ہے اور صبر شکیبائی شجاعت ہے اور دنیا سے بے تعلقی بڑی دولت ہے اور پرہیز گاری ایک بڑی سپر ہے

۴

تسلیم و رضا بہترین مصاحب اور علم شریف ترین میراث ہے اور علمی و عملی اوصاف خلعت ہیں اور فکر صاف شفاف آئینہ ہے ۵ عقلمند کا سینہ اس کے بھیدوں کا مخزن ہوتا ہے اور کشادہ روئی محبت و دوستی کا پھندا ہے اور تحمل و برد باری عیبوں کا مدفن ہے (یا اس فقرہ کے بجائے حضرت نے یہ فرمایا کہ )صلح صفائی عیبوں کو ڈھانپنے کا ذریعہ ہے

۶

جو شخص اپنے کو بہت پسند کرتا ہے وہ دوسروں کو ناپسند ہوجاتا ہے اور صدقہ کامیاب دوا ہے ,اور دنیا میں بندوں کے جو اعمال ہیں وہ آخرت میں ان کی آنکھوں کے سامنے ہوں گے

یہ ارشاد تین جملوں پر مشتمل ہے ;پہلے جملہ میں خود پسندی سے پیدا ہونے والے نتائج و اثرات کا ذکر کیا ہے کہ اس سے دوسروں کے دلوں میں نفرت و حقارت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے .چنانچہ جو شخص اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لے بات بات میں اپنی بر تر ی کا مظاہر ہ کرتا ہے وہ کبھی عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتااور لو گ اس کی تفو ق پسندانہ ذہنیت کو دیکھتے ہوئے اس سے نفر ت کرنے لگتے ہیں اور اسے اتنا بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے جتنا کچھ وہ ہے چہ جائیکہ جو کچھ وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے وہی کچھ اسے سمجھ لیں

دوسرا جملہ صدقہ کے متعلق ہے اور اسے ایک “کامیاب دوا” سے تعبیر کیا ہے کیونکہ جب انسان صدقہ وخیرات سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرتا ہے تو وہ د ل کی گہرایوں سے ا س کے لیے دعائے صحت و عافیت کرتے ہیں جو قبولیت حاصل کرکے اس کی شفایابی کا باعث ہوتی ہے .چنانچہ پیغمبر اکر م کا ارشاد ہے کہ راو و امرضا کم بالصدقہ .اپنے بیماروں کا علا ج صدقہ سے کرو

تیسرا جملہ حشر میں اعمال کے بے نقا ب ہو نے کے متعلق ہے کہ انسان ا س دنیا میں جو اچھے اور برے کام کرتا ہے وہ حجاب عنصری کے حائل ہونے کی وجہ سے ظاہر ی حواس سے ادراک نہیں ہوسکتے .مگر آخرت میں جب مادیت کے پردے اٹھادیئے جائیں گے تو وہ اس طرح آنکھوں کے سامنے عیاں ہوجائیں گے کہ کسی کے لیے گنجائش انکار نہ رہے گی .چنانچہ ارشاد الہی ہے

ا س دن لوگ گروہ گروہ (قبروں سے )اٹھ کھڑے ہو ں گے تاکہ وہ اپنے اعمال کو دیکھیں توجس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا او ر جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا

۷

یہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ وہ چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے اور ہڈی سے سنتا ہے اور ایک سوراخ سے سانس لیتا ہے.

۸

جب دنیا (اپنی نعمتوں کو لے کر)کسی کی طرف بڑھتی ہے تو دوسروں کی خوبیاں بھی اسے عاریت دے دیتی ہے .اور جب اس سے رخ موڑ لیتی ,تو خود اس کی خوبیاں بھی اس سے چھین لیتی ہے

مقصد یہ ہے کہ جس کابخت یاور اور دنیا اس سے ساز گار ہوتی ہے اور اہل دنیا اس کی کارگزاریوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور دوسروں کے کارناموں کا سہرا بھی اس کے سر باندھ دیتے ہیں اور جس کے ہاتھ سے دنیا جاتی رہتی ہے اور نحوست کی گھٹا اس پر چھا جاتی ہے اس کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور بھولے سے بھی اس کا نام زبان پر لانا گوار انہیں کرتے

دوستند آنکہ راز مانہ نواحت دشمنند آنکہ رازمانہ فگند

۹

لوگوں سے اس طریقہ سے ملو کہ اگر مرجاؤ تو تم پر روئیں اور زند ہ رہو تو تمہارے مشتاق ہوں

جو شخص لوگوں کے ساتھ نرمی اور اخلاق کا برتاؤ کرتا ہے .لوگ اس کی طرف دست تعاون بڑھاتے ا س کی عزت و توقیر کرتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد میں آنسو بہاتے ہیں۔ لہٰذ ا انسان کو چاہیے کہ وہ اس طرح مرنجاں مرنج زندگی گزارے کہ کسی کو اس سے شکایت نہ پیدا ہو اور نہ اس سے کسی کو گزند پہنچے تاکہ اسے زندگی میں دوسروں کی ہمدردی حاصل ہو ,اور مرنے کے بعد بھی اسے اچھے لفظو ں میں یاد کیا جائے

چناں بانیک و بد سرکن کہ بعد از مرونت عرفی مسلمانت بز مزم شویدو کافر بسو زاند

۱۰

دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو

عفو و درگزر کا محل وہی ہوتا ہے جہاں انتقام پر قدرت ہو ,اور جہاں قدرت ہی نہ ہو وہاں انتقام سے ہاتھ اٹھا لینا ہی مجبوری کا نتیجہ ہوتا جس پر کوئی فضیلت مرتب نہیں ہوتی .البتہ قدرت و اقتدارکے ہوتے ہوئے عفو درگذر سے کام لینا فضیلت انسانی کا جوہر اور اللہ کی اس بخشی ہوئی نعمت کے مقابلہ میں اظہار شکر ہے .کیونکہ شکر کا جذبہ اس کا مقتضی ہو تا ہے کہ انسان اللہ کے سامنے تذلل و انکسارسے جھکے جس سے اس کے دل میں رحم و رافت کے لطیف جذبات پیدا ہوں گے اور غیظ وغضب کے بھڑکتے ہوئے شعلے ٹھنڈے پڑجائیں گے جس کے بعد انتقام کا کوئی داعی ہی نہ رہے گا کہ وہ اس قوت و قدرت کو ٹھیک ٹھیک کام میں لانے کی بجائے اپنے غضب کے فرو کر نے کا ذریعہ قرار دے

۱۱

لوگوں میں بہت درماندہ وہ ہے جو اپنی عمر میں کچھ بھلائی اپنے لیے نہ حاصل کرسکے ,اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جو پاکر اسے کھو دے

خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے دوسر وں کو اپنی طرف جذب کرنا اور شیریں کلامی سے غیروں کو اپنانا کوئی دشوار چیز نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے نہ جسمانی مشقت کی ضرورت اور نہ دماغی کد و کاوش کی حاجت ہوتی ہے اور دوست بنانے کے بعد دوستی اور تعلقات کی خوشگواری کو باقی رکھنا تو اس سے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ دوستی پیدا کرنے کے لیے پھر بھی کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے مگر اسے باقی رکھنے کے لیے تو کوئی مہم سرکرنا نہیں پڑتی .لہٰذا جو شخص ایسی چیز کی بھی نگہداشت نہ کر سکے جسے صر ف پیشانی کی سلو ٹیں دور کر کے باقی رکھا جاسکتا ہے اس سے زیادہ عاجز و درماندہ کون ہوسکتا ہے

مقصد یہ ہے کہ انسان کو ہر ایک سے خو ش خلقی و خندہ روئی سے پیش آنا چاہیے تاکہ لوگوں اس سے وابستگی چاہیں اور اس کی دوستی کی طرف ہاتھ بڑھائیں

۱۲

جب تمہیں تھوڑی بہت نعمتیں حاصل ہوں تو ناشکری سے انہیں اپنے تک پہنچنے سے پہلے بھگا نہ دو

۱۳

جسے قریبی چھوڑ دیں اسے بیگانے مل جائیں گے

۱۴

ہر فتنہ میں پڑ جانے والا قابل عتاب نہیں ہوتا

جب سعد ابن ابی وقا ص ,محمد ابن مسلمہ اور عبداللہ ابن عمر نے اصحاب جمل کے مقابلہ میں آپ کا ساتھ دینے سے انکا ر کیا تو اس موقع پر یہ جملہ فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مجھ سے ایسے منحرف ہوچکے ہیں کہ ان پر نہ میری بات کا کچھ اثر ہوتا ہے اور نہ ان پرمیری عتاب و سرزنش کار گر ثابت ہوتی ہے

۱۵

سب معا ملے تقدیر کے آگے سر نگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت ہوجاتی ہے

۱۶

پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے متعلق کہ بڑھاپے کو (خضاب کے ذریعہ)بدل دو .اور یہود سے مشابہت اختیار نہ کرو .آپ علیہ السّلام سے سوال کیاگیا ,تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ اس موقع کے لیے فرمایا تھا .جب کہ دین (والے) کم تھے اور اب جب کہ اس کا دامن پھیل چکا ہے اور سینہ ٹیک کر جم چکا ہے تو ہر شخص کو اختیار ہے

مقصد یہ ہے کہ چونکہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لیے ضرورت تھی کہ مسلمانوں کی جماعتی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں یہودیوں سے ممتاز رکھا جائے .اس لیے آنحضرت سے خضاب کا حکم دیا کہ جو یہودیوں کے ہاں مرسوم نہیں ہے .اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ضعیف و سن رسیدہ دکھائی نہ دیں

۱۷

ان لوگوں کے بارے میں کہ جو آپ کے ہمراہ ہوکر لڑنے سے کنارہ کش رہے .فرمایا ان لوگوں نے حق کو چھوڑدیا اور باطل کی بھی نصرت نہیں کی

یہ ارشاد ان لوگوں کے متعلق ہے جو اپنے کو غیر جانبدار ظاہر کرتے تھے .جیسے عبداللہ ابن عمر ,سعد ابن ابی وقاص ,ابو موسیٰ اشعری ,احنف ابن قیس اور انس ابن مالک وغیرہ.بیشک ان لوگوں نے کھل کر باطل کی حمایت نہیں کی .مگر حق کی نصر ت سے ہاتھ اٹھا لینا بھی ایک طرح سے باطل کو تقویت پہنچانا ہے.اس لیے ان کا شمار مخالفین حق کے گروہ ہی میں ہو گا

۱۸

جو شخص امید کی راہ میں میں بگ ٹُٹ دوڑتا ہے وہ موت سے ٹھوکر کھاتا ہے

۱۹

بامروت لوگو ں کی لغزشوں سے درگزر کرو .(کیونکہ )ان میں سے جو بھی لغزش کھا کر گرتا ہے تو اللہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اسے اوپر اٹھالیتا ہے

۲۰

خوف کا نتیجہ ناکامی اور شرم کانتیجہ محرومی ہے اور فرصت کی گھڑیاں (تیزرو) ابر کی طرح گزر جاتی ہیں .لہٰذا بھلائی کے ملے ہوئے موقعوں کو غنیمت جانو.

عوام میں ایک چیز خواہ کتنی ہی معیوب خیال کی جائے اور تحقیر آمیز نظر وں سے دیکھی جائے اگر اس میں کوئی واقعی عیب نہیں ہے تو اس سے شرمانا سراسر نادانی ہے کیونکہ اس کیوجہ سے اکثر ان چیز وں سے محروم ہونا پڑتا ہے جو دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا باعث ہوتی ہیں .جیسے کوئی شخص اس خیال سے کہ لو گ اسے جاہل تصور کریں گے کسی اہم اور ضرور ی بات کے دریافت کرنے میں عار محسوس کرے تو یہ بے موقع و بے محل خودداری اس کے لیے علم ودانش سے محرومی کا سبب بن جائے گی ,اس لیے کوئی ہوشمند انسان سیکھنے اور دریافت کرنے میں عار نہیں محسوس کرے گا .چنانچہ ایک سن رسیدہ شخص سے کہ جو بڑھاپے کے باوجود تحصیل علم کرتا تھا کہا گیا کہما تستحیٌ ان تتعلم علی الکبر ”تمہیں بڑھاپے میں پڑھتے ہوئے شرم نہیں آتی .اس نے جواب میں کہا کہ”انالا استحی من الجهل علی الکبر فکیف استحی من التعلم علی الکبر “جب مجھے بڑھاپے میں جہالت سے شرم نہیں آئی تو اس بڑھاپے میں پڑھنے سے شرم کیسے آسکتی ہے .البتہ جن چیزوں میں واقعی برائی مفسد ہو ان کے ارتکاب سے شرم محسوس کرنا انسانیت اور شرافت کا جوہر ہے جیسے وہ اعمال ناشائستہ کہ جو شروع وعقل اور مذہب و اخلاق کی رو سے مذموم ہیں .بہر حال حیاء کی پہلی قسم قبیح اور دوسر ی قسم حسن ہے .چنانچہ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے

حیا کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو بتقاضائے عقل ہوتی ہے .یہ حیا علم و دانائی ہے .اور ایک وہ جو حماقت کے نتیجہ میں ہوتی ہے یہ سراسر جہل و نادانی ہے

۲۱

ہمارا ایک حق ہے اگر وہ ہمیں دیا گیا تو ہم لے لیں گے .ورنہ ہم اونٹ کے پیچھے والے پٹھوں پر سوار ہوں گے .اگرچہ شب روی طویل ہو

سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ بہت عمدہ اور فصیح کلام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں ہمارا حق نہ دیاگیا ,تو ہم ذلیل و خوار سمجھے جائیں گے اورمطلب اس طرح نکلتا ہے کہ اونٹ کے پیچھے کے حصہ پر ردیف بن کر غلام اور قیدی یا ا س قسم کے لوگ ہی سوار ہوا کرتے تھے

سید رضی علیہ الرحمتہ کے تحریر کرو معنی کا ماحصل یہ ہے کہ حضر ت فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر ہمارے حق کا کہ جوامام مفترض الطاعتہ ہونے کی حیثیت سے دوسروں پر واجب ہے اقرار کرلیا گیا اور ہمیں ظاہری خلافت کا موقع دیاگیا تو بہتر ورنہ ہمیں ہر طرح کی مشقتوں اور خواریوں کو برداشت کرنا پڑے گا ,اور ہم اس تحقیر و تذلیل کی حالت میں زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارنے پر مجبور ہوں گے.

بعض شارخین نے اس معنی کے علاوہ اور معنی بھی تحریر کئے ہیں .اور وہ یہ کہ اگر ہمیں ہمارے مرتبہ سے گرا کر اونٹ کے پٹھے پر سوار ہوتا ہے وہ آگے ہوتا ہے اوربعض نے یہ معنی کہے ہیں کہ اگر ہمار ا حق دے دیا گیا تو ہم اسے لے لیں گے ,اور اگرنہ دیا گیا,تو اس سوار کی مانند نہ ہوں گے جو اپنی سواری کی باگ دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے .کہ وہ جدھر اسے لے جانا چاہے لے جائے .بلکہ اپنے مطالبہ حق پر برقرار رہیں گے خواہ مدت دراز کیوں نہ گزر جائے اور کبھی اپنے حق سے دستبردار ہوکر غضب کرنے والوں کے سامنے سر تسلیم خم نہ کریں گے

۲۲

جسے اس کے اعمال پیچھے ہٹا دیں اسے حسب و نسب آگے نہیں بڑھا سکتا

۲۳

کسی مضطرب کی داد فریاد سننا ,اور مصیبت زدہ کو مصیبت سے چھٹکارا دلا نا بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ ہے

۲۴

اے آدم علیہ السّلام کے بیٹے جب تو دیکھے کہ اللہ تجھے پے درپے نعمتیں دے رہا ہے اور تو اس کی نافرمانی کررہا ہے تو اس سے ڈرتے رہنا

جب کسی کو گناہوں کے باوجود پے درپے نعمتیں حاصل ہورہی ہوں ,تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اللہ اس سے خوش ہے اور یہ اس کی خوشنودی و نظر کرم کا نتیجہ ہے .حالانکہ نعمتوں میں زیادتی شکر گزاری کی صورت میں ہوتی ہے .اور ناشکری کے نتیجہ میں نعمتوں کا سلسلہ قطع ہوجاتا ہے .جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے

اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں دوں گا او ر اگر ناشکر ی کی تو پھر یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے

لہٰذا عصیان و ناسپاسی کی صورت میں برابر نعمتو ں کاملنا اللہ کی خوشنود ی و رضا مند ی کا ثمرہ نہیں ہوسکتا اورنہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ نے اس صورت میں اسے نعمتیں دے کر شبہہ میں ڈال دیا ہے کہ وہ نعمتوں کی فراوانی کو اس کی خوشنودی کا ثمرہ سمجھے .کیونکہ جب وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خطا کار عاصی ہے اور گناہ کو گناہ اور برائی کو برائی سمجھ کر اس کا مرتکب ہو رہا ہے ,تو اشتباہ کی کیا وجہ کہ وہ اللہ کی خوشنودی و رضامندی کا تصور کرے بلکہ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک طرح کی آزمائش اور مہلت ہے تاکہ جب اس کی طغیانی و سر کشی انتہا کو پہنچ جائے تو اسے دفعتاً گرفت میں لے لیا جائے .لہٰذا ایسی صورت میں اسے منتظر رہنا چاہیے کہ کب اس پر غضب الہی کا ورود ہو اور یہ نعمتیں اس سے چھین لی جائیں .اور محرومی و نامرادی کی عقوبتوں میں اسے جکڑ لیا جائے

۲۵

جس کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے

انسان جن باتوں کو دوسروں سے چھپانا چاہتا ہے ,وہ کسی نہ کسی وقت زبان سے نکل ہی جاتی ہےں اور چھپانے کی کو شش ناکام ہو کر رہ جاتی ہے .وجہ یہ ہے کہ عقل مصلحت اندیش اگرچہ انہیں پوشیدہ رکھنا چاہتی ہے .مگر کبھی کسی اور اہم معاملہ میں الجھ کر ادھر سے غافل ہو جاتی ہے اور وہ بے اختیار لفظوں کی صورت میں زبان سے نکل جاتی ہیں اور جب عقل ملتفت ہوتی ہے تو تیر از کمان جستہ واپس پلٹایا نہیں جاسکتا اور اگر یہ صورت نہ بھی پیش آئے اور عقل پورے طور سے متنبہ و ہوشیار رہے,تب بھی وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتیں .کیونکہ چہرے کے خط وخال ذہنی تصورات کے غماز اور قلبی کیفیات کے آئینہ دار ہوتے ہیں .چنانچہ چہرے کی سرخی سے شرمندگی کا اور زردی سے خوف کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے

۲۶

مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے چلتے پھرتے رہو

مقصد یہ ہے کہ جب تک مرض شدت اختیار نہ کر ے اسے اہمیت نہ دینا چاہیے کیونکہ اہمیت دینے سے طبیعت احساس مرض سے متاثر ہوکر اس کے اضافہ کا باعث ہوجایاکر تی ہے .اس لیے چلتے پھرتے رہنا اور اپنے کو صحت مند تصور کرنا تحلیل مرض کے علاوہ طبیعت کی قوت مدافعت کو مضحمل ہونے نہیں دیتا اور اس کی قوت کو معنوی کو برقرار رکھتا ہے اور قوت معنوی چھوٹے موٹے مرض کو خود ہی دبایا کرتی ہے بشرطیکہ مرض کے وہم میں مبتلا ہوکر اسے سپر انداختہ ہونے پر مجبور نہ کردیا جائے

۲۷

بہترین زہد، زہد کا مخفی رکھنا ہے

۲۸

جب تم (دنیا کو ) پیٹھ دکھا رہے ہو .اور موت تمہاری طرف رخ کئے ہوئے بڑھ رہی ہے تو پھر ملاقات میں دیر کیسی ؟

۲۹

ڈرو !ڈرو !اس لیے کہ بخدا اس نے اس حد تک تمہاری پردہ پوشی کی ہے ,کہ گویا تمہیں بخش دیا ہے

۳۰

حضرت علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا .ایمان چار ستونوں پر قائم ہے .صبر ,یقین ,عدل اور جہاد پھرصبر کی چار شاخیں ہیں .اشتیاق ,خوف ,دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار .اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا ,وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا ,وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا اور جسے موت کا انتظار ہو گا ,وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا .اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں .روشن نگاہی ,حقیقت رسی ,عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ .چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی .اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گا ,وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں ,تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری .چنانچہ جس نے غور و فکر کیا ,وہ علم کی گہرائیوں میں اترا ,وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی .اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی اورجہاد کی بھی چار شاخیں ہیں .امر بالمعروف ,نہی عن المنکر ,تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت .چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا ,اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی ,اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا ,اس نے اپنا فرض اداکردیا اور جس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا.

۳۱

کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے .حد سے بڑھی ہوئی کاوش ,جھگڑا لُو پن ,کج روی اور اختلاف .تو جو بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے , وہ حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے , وہ حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے .وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے , اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور بچ نکلنے کی راہ اس کے لیے تنگ ہو جاتی ہے ,شک کی بھی چار شاخیں ہیں ,کٹھ حجتی خوف سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی .چنانچہ جس نے لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا ,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو سامنے کی چیزوں نے ہول میں ڈال دیا ,وہ الٹے پیر پلٹ جاتا ہے اور جو شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے .اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و آخرت کی تباہی کے آگے سر تسلیم خم کردیا.وہ دوجہاں میں تباہ و برباد ہوا

سید رضی فرماتے ہیں کہ ہم نے طوالت کے خوف اور اس خیال سے کہ اصل مقصد جو اس بات کا ہے فوت نہ ہو ,بقیہ کلام کو چھوڑ دیا ہے

۳۲

نیک کام کر نے والا خود اس کام سے بہتر اور برائی کا مرتکب ہونے والا خود اس برائی سے بدتر ہے

۳۳

سخاوت کرو ,لیکن فضول خرچی نہ کرو اور جز رسی کرو ,مگر بخل نہیں

۳۴

بہتر ین دولت مند ی یہ ہے کہ تمناؤں کو ترک کرے.

۳۵

جو شخص لوگوں کے بار ے میں جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتا ہے جو انہیں ناگوار گزریں ,تو پھر وہ اس کے لیے ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے نہیں

۳۶

جس نے طول طویل امیدیں باندھیں ,اس نے اپنے اعمال بگاڑ لیے

۳۷

امیرالمومنین علیہ السّلام سے شام کی جانب روانہ ہو تے وقت مقام انبار کے زمینداروں کا سامنا ہوا ,تو وہ آپ کو دیکھ کر پیادہ ہو گئے اور آپ کے سامنے دوڑنے لگے .آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ؟انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا عام طریقہ ہے .جس سے ہم اپنے حکمرانوں کی تعظیم بجالا تے ہیں .آپ نے فرمایا .خدا کی قسم اس سے تمہارے حکمرانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا البتہ تم اس دنیا میں اپنے کو زحمت و مشقت میں ڈالتے ہو ,اور آخرت میں اس کی وجہ سے بدبختی مول لیتے ہو ,وہ مشقت کتنی گھاٹے والی ہے جس کا نتیجہ سزائے اخروی ہو , اور وہ راحت کتنی فائدہ مند ہے جس کا نتیجہ دوزخ سے امان ہو

۳۸

اپنے فرزند حضرت حسن علیہ السلام سے فرمایا مجھ سے چار, اور پھر چار باتیں یاد رکھو .ان کے ہوتے ہوئے جو کچھ کرو گے ,وہ تمہیں ضرر نہ پہنچائے گا سب سے بڑی ثروت عقل و دانش ہے اور سب سے بڑی ناداری حماقت و بے عقلی ہے اور سب سے بڑی وحشت غرور خود بینی ہے اور سب سے بڑا جوہر ذاتی حسن اخلاق ہے

اے فرزند !بیوقوف سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے گا ,تو نقصان پہنچائے گا .اور بخیل سے دوستی نہ کرنا کیونکہ جب تمہیں اس کی مدد کی انتہائی احتیاج ہوگی ,وہ تم سے دور بھاگے گا .اور بدکردار سے دوستی نہ کرنا ,وہ تمہیں کوڑیوں کے مول بیچ ڈالے گا اور جھوٹے سے دوستی نہ کرنا کیونکہ وہ سراب کے مانند تمہارے لیے دور کی چیزوں کو قریب اور قریب کی چیزوں کو دور کر کے دکھائے گا

۳۹

مستحبات سے قرب الہی نہیں حاصل ہوسکتا ,جب کہ وہ واجبات میں سدراہ ہوں

۴۰

عقل مند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بے قوف کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے

سید رضی کہتے ہیں کہ یہ جملہ عجیب و پاکیزہ معنی کا حال ہے.مقصد یہ ہے کہ عقلمند اس وقت زبان کھولتا ہے جب دل میں سوچ بچار اور غور و فکر سے نتیجہ اخذ کر لیتا ہے .لیکن بے وقو ف بے سوچے سمجھے جو منہ میں آتا ہے کہہ گذرتا ہے .اس طرح گویا عقلمند کی زبان اس کے تابع ہے اور بے وقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے

۴۱

یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ “بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے “.بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے

۴۲

اپنے ایک ساتھی سے اس کی بیماری کی حالت میں فرمایا .اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے .کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے .مگر وہ گناہوں کو مٹاتا ,اور انہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں. ہاں ! ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے ,اورخدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے

سیدرضی فرماتے ہیں کہ حضرت نے سچ فرمایا کہ مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ مرض تو اس قسم کی چیزوں میں سے ہے جن میں عوض کا استحقاق ہوتا ہے .اس لیے کہ عوض اللہ کی طرف سے بندے کے ساتھ جو امر عمل میں آئے .جیسے دکھ ,درد ,بیماری وغیر ہ اس کے مقابلہ میں اسے ملتا ہے .اور اجر و ثواب وہ ہے کہ کسی عمل پر اسے کچھ حاصل ہو .لہٰذا عوض اور ہے ,اور اجر اور ہے اس فرق کو امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے علم روشن اور رائے صائب کے مطابق بیان فرما دیا ہے

۴۳

جناب ابن ارت کے بارے میں فرمایا .خدا خباب ابن ارت پر رحمت اپنی شامل حال فرمائے وہ اپنی رضا مند ی سے اسلام لائے اور بخوشی ہجرت کی اور ضرور ت بھر قناعت کی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مجاہد انہ شان سے زندگی بسر کی

حضرت خباب ابن ارت پیغمبر کے جلیل القدر صحابی اور مہاجرین اولین میں سے تھے .انہوں نے قریش کے ہاتھوں طرح طرح کی مصیبتیں اٹھائیں .چلچلاتی دھوپ میں کھڑے کئے گئے آگ پر لٹائے گئے .مگر کسی طرح پیغمبر اکرم کا دامن چھوڑنا گوارا نہ کیا .بدر اور دوسرے معرکوں میں رسالت مآب کے ہمرکاب رہے .صفین و نہروان میں امیرالمومنین علیہ السّلام کا ساتھ دیا.مدینہ چھوڑ کر کو فہ میں سکو نت اختیار کر لی تھی .چنانچہ یہیں پر ۷۳ برس کی عمر میں ۳۹ ہجری میں انتقال فرمایا .نماز جنازہ امیرالمومنین علیہ السّلام نے پڑھائی اور بیرون کوفہ دفن ہوئے اور حضرت نے یہ کلمات ترحم ان کی قبر پر کھڑے ہو کر فرمائے

۴۴

خوشا نصیب اس کے جس نے آخرت کو یاد رکھا ,حساب و کتاب کے لیے عمل کیا .ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ سے راضی و خوشنود رہا

۴۵

اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ,تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا .اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا اس لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

اے علی علیہ السّلام ! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا.

۴۶

وہ گناہ جس کا تمہیں رنج ہو اللہ کے نزدیک اس نیکی سے کہیں اچھا ہے جو تمہیں خود پسند بنا دے.

جو شخص ارتکاب گناہ کے بعد ندامت و پشیمانی محسوس کرے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر ے وہ گناہ کی عقوبت سے محفوظ اور توبہ کے ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور جو نیک عمل بجا لانے کے بعد دوسروں کے مقابلہ میں برتری محسوس کرتا ہے اور اپنی نیکی پر گھمنڈ کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ اب اس کے لیے کوئی کھٹکا نہیں رہا وہ اپنی نیکی کو برباد کردیتا ہے اور حسن عمل کے ثواب سے محروم رہتا ہے .ظاہر ہے کہ جو توبہ سے معصیت کے داغ کو صاف کر چکا ہو وہ اس سے بہتر ہوگا جو اپنے غرور کی وجہ سے اپنے کئے کرائے کو ضائع کرچکا ہو اور توبہ کے ثواب سے بھی اس کا دامن خالی ہو

۴۷

انسان کی جتنی ہمت ہو اتنی ہی اس کی قدر و قیمت ہے اور جتنی مروت اور جوانمردی ہوگی اتنی ہی راست گوئی ہو گی ,اور جتنی حمیت و خودداری ہو گی اتنی ہی شجاعت ہو گی اور جتنی غیرت ہوگی اتنی ہی پاک دامنی ہو گی

۴۸

کامیابی دور اندیشی سے وابستہ ہے اور دور اندیشی فکر و تدبر کو کام میں لانے سے اور تدبر بھیدوں کو چھپاکر رکھنے سے

۴۹

بھوکے شریف اور پیٹ بھرے کمینے کے حملہ سے ڈرتے رہو

مطلب یہ ہے کہ باعزت و باوقار آدمی کبھی ذلت و توہین گوارا نہیں کرتا .اگر اس کی عزت و وقار پر حملہ ہوگا تو وہ بھو کے شیر کی طرح جھپٹے گا اور ذلت کی زنجیروں کو توڑ کر رکھ دے گا اور اگر ذلیل و کم ظرف کو اس کی حیثیت سے بڑھا دیا جائے گا تو اس کا ظرف چھلک اٹھے گا اور وہ اپنے کو بلند مرتبہ خیال کرتے ہوئے دوسروں کے وقار پر حملہ آور ہو گا

۵۰

لوگوں کے دل صحرائی جانور ہیں ,جو کہ ان کو سدھائے گا ,اس کی طرف جھکیں گے

اس قول سے اس نظریہ کی تائید ہوتی ہے کہ انسانی قلوب اصل فطرت کے لحاظ سے وحشت پسند واقع ہوئے ہیں اور ان میں انس و محبت کا جذبہ ایک اکتسابی جذبہ ہے .چنانچہ جب انس و محبت کے دواعی اسباب پیدا ہوتے ہیں تو وہ مانوس ہو جاتے ہیں اور جب اس کے دواعی ختم ہوجاتے ہیں یا اس کے خلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو وحشت کی طرف عود کر جاتے ہیں اور پھر بڑ ی مشکل سے محبت کی راہ پر گامز ن ہوتے ہیں

مرنجا ں و لے راکہ ایں مرغ وحشی زبامے کہ برخوست مشکل نشنید

۵۱

جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں.

۵۲

معاف کر نا سب سے زیادہ اسے زیب دیتا ہے جو سزادینے پر قادر ہو.

۵۳

سخاوت وہ ہے جو بن مانگے ہو ,اور مانگے سے دینا یا شرم ہے یا بدگوئی سے بچنا

۵۴

عقل سے بڑھ کر کوئی ثروت نہیں اور جہالت سے بڑھ کر کوئی بے مائیگی نہیں .ادب سے بڑھ کر کوئی میراث نہیں اور مشورہ سے زیادہ کوئی چیز معین و مددگار نہیں

۵۵

صبر دو طرح کا ہوتاہے ایک ناگوار باتوں پر صبر اور دوسرے پسندیدہ چیزوں سے صبر.

۵۶

دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس

۵۷

قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا.

“علامہ رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی مروی ہے “.

قناعت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کو جو میسر ہو اس پر خوش و خرم رہے اور کم ملنے پر کبیدہ خاطر و شاکی نہ ہو اور اگر تھوڑے پر مطمئن نہیں ہو گا تو رشوت ,خیانت اور مکر و فریب ایسے محرمات اخلاقی کے ذریعہ اپنے دامن حرص کو بھر نے کی کوشش کرے گا .کیونکہ حرص کا تقاضا ہی یہ ہے جس طرح بن پڑے خواہشات کو پورا کیا جائے اور ان خواہشات کا سلسلہ کہیں پر رکنے نہیں پاتا ,کیونکہ ایک خواہش کا پورا ہونا دوسری خواہش کی تمہید بن جایا کرتا ہے اور جوں جوں انسان کی خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اس کی احتیاج بڑھتی ہی جاتی ہے .اس لیے کبھی محتاجی و بے اطمینانی سے نجات حاصل نہیں کر سکتا اگر اس بڑھتی ہوئی خواہش کو روکا جاسکتا ہے تو وہ صرف قناعت سے کہ جو ناگزیر ضرورتوں کے علاوہ ہر ضرورت سے مستغنی بنا دیتی ہے اور لازوال سرمایہ ہے جو ہمیشہ کے لیے فارغ البال کردیتا ہے

۵۸

مال نفسانی خواہشوں کا سر چشمہ ہے

۵۹

جو (برائیوں سے )خوف دلائے وہ تمہارے لیے مژدہ سنانے والے کے مانند ہے

۶۰

زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے