فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب22%

فلسفہ نماز شب مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 179

فلسفہ نماز شب
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 90808 / ڈاؤنلوڈ: 3689
سائز سائز سائز
فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

ہونے کے باوجود باقی مباحث کلامی کی بہ نسبت مشکل اور پیچیدہ ہے لہٰذا قیامت کی مباحث میں بہت سے ایسے مسائل بھی ہیں کہ جن کی توضیح اور درک کرنا ہر عام و خاص کی بساط سے باہر ہے کہ انھیں میں سے ایک نامہئ اعمال ہے اگر چہ نامہئ اعمال کا مسئلہ اہم ترین مسئلہ بھی ہے کیونکہ بہت سی روایتیں اور آیات کی روشنی میں معلوم ہوتاہے کہ انسان کے تمام اعمال قیامت کے دن مجسم ہوکر حاضر ہوں گے نیز جن اعضاء و جوارح وہ اعمال انجام دئے گئے وہی اعضاء اسی پر گواہی دیتا ہے لہٰذا اس طرح کی باتیں نامہئ اعمال کے متعلق روایات اور آیات میں زیادہ ہیں اور اعمال کی حقیقت اور کیفیت کو درک کرنا انسان کی قدرت سے باہر ہے اگرچہ محقق ہی کیوں نہ ہو لہٰذا بوعلی سینا کا یہ قول ہے کہ میری تحقیقات معاد جسمانی کو ثابت کرنے سے قاصر رہی۔

لیکن میرا مولا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے لہٰذا میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔اور نامہئ اعمال کی اتنی اہمیت ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ ہی نامہئ اعمال کا نتیجہ ہے گویا مباحث معاد میں نامہئ اعمال کو ہی مرکزیت حاصل ہے لیکن اس کی حقیقت اور ماہیت روشن کرنا اس کتاب کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا مختصر یہ ہے کہ قیامت کے دن نامہئ اعمال یا دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ نامہئ اعمال جس ہاتھ میں دیا جائے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب محققین دے چکے ہیں لیکن پھر بھی ایک اشارہ لازم ہے کہ نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنّتی ہے اور اس کے سارے اعمال قبول ہونے کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی زندگی آباد ہونے پر بھی دلیل ہے اسی طرح نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دینے کا مطلب بھی واضح ہے کہ خدا کی نظر میں اعمال قابل قبول نہ ہونے کی علامت ہے اسی لئے آئمہ معصومین علہیم السلام سے منقول بہت سی دعاؤں میں اس طرح کے جملات مذکور ہیں۔ کہ پالنے والے! روز قیامت میرا نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں لینے کی توفیق دے لہٰذا قیامت کے دن جن لوگوں کا نامہئ اعمال جب دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ خوش اور ان کے چہرے نور سے منور ہونگے لیکن جن لوگوں کے نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائیگا وہ خدا سے التجاء کریں گے:

۱۲۱

اے خدا وند کاش میرے نامہئ اعمال پیش نہ کیا جاتا اے کاش آج میرے تمام گناہوں اور برائیوں کو اس طرح میدان میں آشکار نہ کیا جاتا لہٰذا ایسی بڑی مشکل میں مبتلاء ہونے کا سبب ہمارے برے اعمال ہیں چنانچہ اگر انسان روز قیامت ایسے شرمناک اور ہولناک حالات سے نجات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب انجام دے لہٰذا روایات میں وارد ہوا ہے اگر آپ نے نماز شب انجام دی تو خدا اس کے عوض میں ان کے نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گانیز حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی شخص رات کے آخری وقت میں خدا کی عبادت اور نماز شب پڑھنے میں مشغول رہے تو خدا اس کے بدلے میں روز قیامت اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ اسی طرح دوسری روایات بھی آنحضرتؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر کوئی شخص رات کے چوتھائی حصے عبادات اور نماز شب انجام دینے میں گزارے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ اسے قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جوار میں جگہ عطا فرمانے کے علاوہ اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں دیگا۔(١)

لہٰذا خلاصہ یہ ہوا کہ نامہئ اعمال کے دائیں ہاتھ میں دئےے جانے، اعمال کے قبول ہونے خدا کی رضایت کے شامل حال ہونے اور جنت میں داخل کیا جانے جاودانی زندگی پانے اور تنگدست لوگوں کے امیر بننے کا سبب نماز شب ہے لہٰذا خدا سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں نماز شب انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

٤۔پل صراط سے بامیدی عبور کا سبب

روز قیامت سے مربوط نماز شب کے فوائد میں سے ایک اور فائدہ یہ ہے اگر کوئی شخص نماز شب جیسی بابرکت عبادت کو انجام دے تو قیامت کے دن پل صراط سے بآسانی گذرسکتا ہے لیکن پل صراط خود کیا ہے اور اس کی سختی کے بارے میں شاید قارئین کرام جانتے ہوں روایات سے صراط کی کیفیت اس طرح روشن ہوتی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو قیامت کے دن رونما ہونے والی مشکلات

____________________

(١)ثواب الاعمال و عقابہاص١٠٠.

۱۲۲

میں سے ایک مشکل صراط کی صورت میں پیش آئے گی کیونکہ روایت میں صراط کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ بال سے زیادہ باریک ، تلوار سے زیادہ تیز، اور آگ سے زیادہ گرم ہوگا کہ جو خدا نے جہنم کے اوپر خلق کیا ہے تاکہ جنّت میں جانے سے پہلے اس سے عبور کرے کہ ایسے اوصاف کے حامل راستے کو عبور کرنا عام عادی انسانوں کے لئے یقینا بہت سخت اور مشکل امر ہے لیکن ایسے دشوار راہ سے اگر بہ آسانی گذرنا چاہے تو رات کے وقت خدا کی عبادت اور نماز شب انجام دے۔ کیونکہ نماز شب میں خدا نے ایسے فوائد مؤمنین کے لئے مخفی رکھا ہے کہ ہر مشکل امر کا راہ حل نماز شب ہے چنانچہ اس مسئلہ کو حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے اگر کوئی شخص رات کے تین حصے گذر جانے کے بعد نیند کی لذت چھوڑ کر اٹھے اور نماز شب انجام دے تو خداوند قیامت کے دن اس شخص کو مؤمنین کی پہلی صف میں قرار دے گا اور صراط سے عبور کے وقت آسانی، حساب و کتاب میں تخفیف اور کسی مشکل کے بغیر جنّت میں داخل کیا جائے گا۔(١)

پس نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ کرنا شاید ہماری قدرت سے خارج ہو اسی لئے بہت سی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نماز شب دنیا و قبر اور آخرت کے تمام مشکلات کے لئے راہ نجات ہے کہ اس طرح کی اہمیت اور ثواب اسلام میں شاید کسی اور عبادت اور کار خیر کو ذکر نہیں کیا ہے۔ تب ہی تو پورے انبیاء

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠

۱۲۳

اور آئمہ ٪ اور دیگر مؤمنین کی سیرت طیبہ ہمیشہ یہی رہی ہیں کہ رات کے آخری وقت خدا سے راز و نیاز کیا کرتے تھے۔

٥۔جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں

روایات اور آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جنت کے متعدد دروازے ہیں کہ ہر ایک دروازے کا مقام و منزلت دوسروں سے مختلف ہے۔ لہٰذا جنت ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا آپس میں ٹکراؤ یا الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ہر جنّتی کے مراتب اور درجات مختلف ہیں لہٰذا اسی بناء پر ہر ایک طبقے کا جنّت میں داخل ہونے کا الگ دروازہ مخصوص کیا گیا ہے لیکن اس قانون سے ایک گروہ مستثنیٰ ہے کہ وہ طبقہ ایسا خوش نصیب طبقہ ہے جو دنیا میں نماز شب کو انجام دیتا رہا ہے ایسے افراد جنّت کے آٹھ دروازے سے چاہے گذر سکتا ہے کہ اس مطلب کو حضرت علی علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو رات کے اوقات میں سے کوئی ایک وقت نماز میںگذاریں گے تو خداوند کریم اپنے محبوب ترین فرشتوں سے کہا کرتے ہیں میرے اس تہجد گذار بندے سے عام انسان کی طرح تم ملاقات نہ کرو بلکہ اس سے ایک خاص اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ پیش آئیں اور خدا کے ہاں ان کا مقام ومنزلت دیکھ کر فرشتے تعجب کریں گے اور فرشتے انہی افراد سے عر ض کریں گے کہ آپ جنت کے جس دروازے سے چاہیں گذر سکتے ہیں.

۱۲۴

٦۔آتش جہنم سے نجات کا باعث

قیامت کے مسائل میں سے سنگین ترین مسئلہ آتش جہنم ہے اور اسی حوالے سے قرآن و سنت اور انبیاء و آئمہ٪ کی تعلیمات سے یہ ملتا ہے کہ تم لوگ کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کرو کہ جس کا نتیجہ آتش جہنم ہو لیکن جہنم کی آگ کی حقیقت دنیوی آگ کی مانند نہیں ہے اور جس طرح دنیوی آگ کی گرمائش اور جلن قابل تحمل نہیں تو جہنم کی آگ کیسے قابل تحمل ہوسکتی ہے جبکہ جہنم کی آگ کی تپش و جلن دنیوی آگ کی بہ نسبت نوگنا زیادہ ہوگی۔ لہٰذاآتش جہنم کی سختی کا اندازہ اور ان سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس کا سبب یہی ہے پس اگر کوئی شخص ایسی آگ سے نجات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب سے مدد مانگے چنانچہ اس مطلب کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو عبادت الٰہی میں شب بیداری کریں گے تو خداوند اس کو جہنم کی سختیوں سے نجات دیتا ہے اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا۔(١)

اسی طرح قرآن کریم میں جہنم کی آگ کے متعلق متعدد آیات نازل ہوئی ہیں۔ جیسے:

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠.

۱۲۵

( فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِی وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ ) (١)

پس تم اس آگ سے بچو کہ جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہوں گی جو کافروں کے لئے خلق کیا ہے۔

نیز فرمایا:

( إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیرًا ) (٢)

بے شک منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا اور تم ان کی حمایت میں کوئی مددگار نہ پاؤگے۔

پس اگر کوئی انسان ایسی آگ سے نجات کا خواہاں ہے تو آج نماز شب انجام دینے کا عزم کریں۔

٧۔آخرت کی زادو راہ نماز شب

یہ امر طبیعی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ملک یا شہر سے دوسرے شہر یا ملک کی طرف سفر کرنا چاہتا ہے تو سفر کے تمام ضروریات کو سفر سے پہلے مہیا کرتا ہے

____________________

(١)سورہئ بقرۃ آیت ٢٤.

(٢)سورہئ نساء آیت ١٤٥

۱۲۶

تاکہ سفر کے دوران کسی مشکل سے دوچار نہ ہو لیکن یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ انسان اس دنیا میں معمولی سفر شروع کرنے سے پہلے کچھ زادوراہ آمادہ کرتاہے لیکن جب اخروی سفر اور ابدی عالم کی طرف جانے لگتا ہے تو سفر کے ضروریات اور لوازمات سے بالکل غافل ہے جبکہ وہ یہ جانتا بھی ہے کہ یہ سفر کس قدر طولانی ہے اور زادوراہ کس قدر زیادہ ہونا چاہیے پس اگر کوئی شخص عالم آخرت کے سفر کا تصور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ سفر دنیوی سفر سے بہت زیادہ اور طولانی اورمشکل ہے لہٰذا اس سفر کے زادو راہ میں سے ایک نماز شب ہے۔

چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا وہ شخص خوش قسمت ہے جو سردی کے موسم میں رات کے اوقات میں سے کسی خاص وقت میں عالم آخرت کے زادو راہ مہیا کرنے میں گزارے اسی طرح دوسری روایت میں پیغمبر اکر م ؐنے فرمایا:''فان صلاة اللیل تدفع عن اهلها حرا النار لیوم القیامة'' (١)

بے شک روز قیامت نماز شب نمازی کو جہنم کے حرارت سے نجات دیتی ہے پس ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب آخرت کے لئے ایک ایسا زخیرہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اتنی فضیلت اور اہمیت کے باوجود انجام نہ دینا ہماری غفلت وکوتا ہی کا نتیجہ ہے ۔

____________________

(١)کننرالعمال ج ٧.

۱۲۷

٨۔نماز شب آخرت کی خوشی کا باعث اگر انسان دنیا میںخوف خدا میں آنسوبہا ئے تو روزقیامت اس کو کسی چیز کے خوف سے رونا نہیں پڑے گا اسی لئے سکونی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے

''قال قال رسول الله (ص)کل عین باکیة یوم القیامه الا ثلاثة اعین عین بکت من خشة الله وعین غضت عن محارم الله وعین باتت ساهرة فی سبیل الله '' (١)

روز قیامت تین آنکھوںکے علاوہ باقی تمام آنکھیں اشک بارہونگی (١)وہ آنکھوں جو خوف خدا کی وجہ سے روتی رہی ہو(٢) وہ آنکھ جو حرام نگاہوں سے اجتناب کرتی رہی ہے (٣) وہ آنکھ جو راہ خدا میں شب بیداری کرتی رہی ہو اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

روز قیامت تمام آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے مگر تین آنکھیں، (١) جو محرمات الٰہی سے پرہیز کرتی رہی دوسری وہ آنکھیں جو رات کی تاریکی میں خوف خدا کے نتیجے میں گریہ وزاری میں رہی ہے تیسری وہ آنکھیں جو اطاعت الہٰی کے خاطر اپنے آپ کو نیند سے محروم کرکے شب بیداری کرتی رہی ہو لہٰذا

____________________

(١) خصال صدوق ص ٩٨

۱۲۸

قرآن کریم میں بھی یوں فرمایا ہے :

( فلیضحکو اقلیلا والیبکواکثیرا )

یعنی زیادہ رویا کرو اور خوشحالی کم کرو۔

اسی طرح تمام انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ وہ آخرت کے خوف سے دنیا میں رویا کرتے تھے اور بہتیرین رونے کا وقت رات کی تاریکی ہے کہ جس وقت نماز شب انجام دیجاتی ہے پس دنیا میں جہنم کی آگ اور عذاب کے خوف میں رونا اور آنسو بہانا اخروی شرمندگی سے نجات کا باعث ہوگا۔

٩۔آخرت کی زینت نماز شب

ہر عالم میں کچھ چیزیں باعث زینت ہوا کرتی ہے لیکن ان کا آپس میں بہت بڑا فرق بھی ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جفرصادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان الله عزوجل قال المال والبنون زینة الحیاة الدنیا وان ثمان رکعات التی یصلیها العبد اخراللیل زینة الاخرة ۔''(١)

خدا نے فرمایا کہ اولاد اور دولت دنیوی زندگی کی زینت ہے لیکن آٹھ

____________________

(١) بحار الانوار ج ٨٣

۱۲۹

رکعات نماز جو رات کے آخری وقت میںانجام دی جاتی ہے وہ آخرت کی زینت ہے پس اس روایت سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ عالم دنیا میں لوگوں کی نظر میں زینت کا ذریعہ اولاد اور دولت سمجھا جا تا ہے جب کہ عالم آخرت میں باعث زینت نماز شب اور دوسرے اعمال صالحہ ہوں گے چنانچہ خدا نے اسی مذکورہ آیہ شریفہ کے ذیل میں یوں اشارہ فرمایا والباقیات الصالحات لہٰذا نماز شب انجام دینے والے روز قیامت دوسروں سے مزین اور منور نظر آتا ہے

١٠۔جنت میں خصوصی مقام ملنے کا سبب

روایات کی روشنی میں یہ بات مسلم ہے کہ جنت میں ہر جنتی کا مقام ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہے کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک کی جگہ اور منزل یکسان نہیں ہے اسی طرح جنت میں بھی سکونت کی جگہ اور دیگر سہولیات کے حوالے سے مختلف ہے لہٰذا اگر کوئی شخص دنیا میں نماز شب کا عادی اور نیک اعمال کے پابند ہوتو روز قیامت جنت میں اس کو ایسے خصوصی قصر دیا جائے گا کہ جو مختلف کمروں پر مشتمل ہونے کے علاوہ اس کی زینت فیروزہ یاقوت اور زبرجد جیسے قیمتی پھتروں سے کی گئی ہے چنانچہ اس مسئلہ کو پیغمبر اکرم)ص(نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان فی الجنة غرفا یری ظاهرها من باطنها وباطنها من ظاهر ها یسکنها من امتی من اطاب الکلام واطعم الطعام وافش السلام وادام الصیام وصلی بااللیل والناس ینام ۔''

بے شک جنت میں کچھ اسے قصر بھی تیار کیا گیا ہے کہ جن کے باہر کی زینت اندرسے اور اندر کی زینت باہر سے نظر آئے گی کہ ایسے کمروں میں میری امت میں سے ان لوگوں کی سکونت ہوگی کہ جن کا سلوک دنیاء میں لوگوں کے ساتھ اچھا رہا اور لوگوں کو کھنا کھلایا اور سرعام یعنی کھلم کھلا لوگوں کو سلام کرنے کے عادی رہے ہو اور ہمیشہ روزہ رکھنے کے علاوہ رات کے وقت نماز شب انجام دیتے رہیں جب کہ باقی افراد خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔

۱۳۰

تحلیل وتفسیر:

اگر کوئی شخص دنیا میں نیک گفتاری کا مالک اور سلام کرنے کا عادی اور روزہ رکھنے پر پابند ہو تو خدا اس کے نیکی کا بدلہ روز قیامت ایسا گھر عطا فرمائے گا کہ جن کی خوبصورتی اور زینت کھلم کھلا نظر آئے گی اسی طرح نماز شب کی برکت سے جنت میں نماز شب انجام دینے والے ایسا گھر اور قصر کا مالک ہوگا نیز اگر دنیا میں نماز شب انجام دینے کی توفیق ہوئی ہو تو محشر کے میدان میں حساب وکتاب کے وقت نماز شب ایک بادل کی طرح اس شخص کی پیشانی پرسایہ کئے ہوئے نظر آئے گی چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( نے ارشاد فرمایا :

'' صلاةاللیل ظلا فوقه ''

یعنی نماز شب اس کے سرپر سایہ کی طرح نمودار ہوگی وتاجاًعلی راسہ یعنی نماز شب قیامت کے دن ایک تاج کی مانند ظاہر ہوگی نیز فرمایا ولباسا علی بدنہ نماز شب اس کے بدن پر لباس کی مانند ایک پردہ ہے ونورا سعی بین یدیہ اور نماز شب نور بن کر اس کے سامنے روشن ہوجائے گی وسترا بینہ وبین النار اور نماز شب نمازی اور جہنم کے درمیان ایک پردہ ہے وحجۃ بین یدی اللہ تعالی۔

خدا اور نمازی کے درمیان دلیل اور برہان ہوگی، وثقلا فی المیزان اور نامہ اعمال کے سنگین ہونے کا سبب ہے پس خلاصہ نماز شب حساب وکتاب میزان عمل حشرو نشر کے مو قع پر کام آنے والا واحد ذریعہ ہے لہٰذا فراموش نہ کیجئے ۔

۱۳۱

تیسری فصل :

نماز شب سے محروم ہونے کی علت

نماز شب کے اس قدر فضائل وفوائد کے باوجود اسے انجام نہ دینے کی وجہ کیا ہے ؟ کہ اس علت سے بھی آگاہ ہونا مؤمنین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ جب کسی کام کا عملی جامہ پہنانا چاہتے تو اس کے دو پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئیے تا کہ اس کام سے فائدہ اأٹھایا جاسکے وہ پہلو یہ ہے کہ جن شرائط پروہ کام موقوف ہے ان کو انجام دینا اور ان کے موانع اور رکاوٹوں کو برطرف کرنا کہ یہ دونوں مقدمے تمام افعال میں مسلم ہے اور عقل بھی اس کے انجام دینے کا حکم دیتی ہے اگر چہ ہر فعل کی شرائط اور موانع کی تعریف کے بارے میں علماء اور محققین کے درمیان اختلا ف آراء پائی جاتی ہے لیکن اس طرح کے اختلاف سے شرائط کی ضرورت اور موانع کی برطرفی کے لازم ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہٰذا نماز شب کی شرائط اور موانع کو مدنظر رکھنا لازم ہے تاکہ نماز شب سے محروم نہ رہ سکے لیکن جو موانع روایات میں ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے کہ جن کا تذکرہ کرنا اس کتابچہ کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا راقم الحروف صرف اشارہ پر اکتفاء کرتا ہے۔

۱۳۲

الف۔ گناہ :

کسی بھی نیک اور اہم کام سے محروم ہونے کے اسباب میں سے ایک گناہ ہے کہ جن کے مرتکب ہونے سے انسان نماز شب جیسے بابرکت کام کو انجام دینے سے محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ اس مطلب کو متعدد روایات میں واضح اور روشن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے حضرت امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کسی نے آپ سے دریافت کیا ۔

''لرجل قال له انی حرمت الصلاة بااللیل انت رجل قد قیدتک ذنوبک'' (١)

(یاعلی) میں نماز شب سے محروم ہوجاتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے گناہوں نے تجھے جھکڑرکھا ہے اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

''ان الرجل یکذب الکذب یحرم بها صلاة اللیل''

بے شک اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہو تو وہ اس جھوٹ کی وجہ سے نماز شب سے محروم رہے گا نیز اور ایک روایت میں فرمایا :

''ان الرجل یذنب الذنب فیحرم صلاة اللیل وان العمل

____________________

(١) اصول کافی ج ٣

۱۳۳

السیئی اسرع فی صاحبه من السکین فی اللحم ''

بے شک گناہ کرنے سے انسان نماز شب انجام دینے کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے اور برے کام میں مرتکب ہونے والے افراد میںاس طرح تیزی سے برائی کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح چاقو گوشت کو ٹکرے ٹکرے کردیتاہے

تحلیل وتفسیر:

مذکورہ روایتوں سے دومطلب ثابت ہوجاتے ہیں:

١۔گناہ ہر نیک اور اچھے عمل سے محروم ہونے کا سبب ہے۔

٢۔ برے اعمال کا اثر ظاہر ہونے کا طریقہ۔

لہٰذا اگر نماز شب انجام دینے کی خواہش ہو تو گناہ سے اجتناب لازم ہے تاکہ اس کو انجام دینے کی توفیق سے محروم نہ رہے

ب۔نماز شب سے محروم ہونے کا دوسرا سبب

انسان اپنی روز مرہ زندگی میں خداوند کی عطا کردہ نیند جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند ہورہا ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر مرد ہویا عورت، نوجوان ہو یا بچے، غریب ہو یا دولت مند جاہل ہو یا عالم ہر انسان اس نعمت سے بہرہ مندہے لیکن اب تک اکیسویں صدی کا انسان نیند کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے اور محققین نیند کی حقیقت کے بارے میں پریشان ہے لہٰذا مختلف تعبیرات کا اظہار کیا جاتاہے اسی طرح نیند کی اہمیت بھی اس طرح بیان کئے ہیں کہ انسان ایک ہفتہ تک بغیر کھانے پینے کے زندہ رہ سکتا ہے لیکن ایک ہفتہ تک نہ سوئے تو زندہ رہنا ناممکن ہے اس روسے نیند کی حقیقت مبہم اور مجمل نظر آتی ہے لہٰذا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند کی دوقسمیں ہیں:١۔ کسی اصول وضوابط کے ساتھ سونا کہ جس کو انسانی خواب سے تعبیر کیا گیاہے۔٢۔ کسی اصول وضوابط کے بغیر سونا کہ جس کو حیوانی نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

۱۳۴

لہٰذا آیات اور روایات کی روسے مسلم ہے کہ نیند ایک نعمت ا لٰہی ہے اگر اس نعمت کو اصول وضوابط کے ساتھ استفادہ کرے تو صحت پر برے اثرات نہ پڑنے کے باوجود شریعت میں ایسی نیند کی مدح بھی کی گئی ہے لیکن اگر اس کے آداب کی رعایت نہ کرے تو صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور شریعت میں اس کی مذمت ہے اسی حوالے سے آج کل کے محققین انسان کو ٹائم ٹیبل کے مطابق سونے اور اٹھنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ کثرت سے سونے والوں کو ان کے منفی اثرات سے بچایا جاسکے پس نماز شب سے محروم ہونے والے اسباب میں سے ایک کثرت سے سونا ہے چنانچہ پیغمبر اکرم )ص( کا ارشاد گرامی ہے :

''قالت ام سلمان ابن داود یابنی ایاک وکثرة النوم بااللیل فان کثرة النوم بااللیل تدفع الرجل فقرا یوم القیامه'' (١)

حضرت سلیمان ابن داود کی ماں نے کہا اے بیٹا رات کو زیادہ سونے سے

____________________

(١)بحار ج ٨٧

۱۳۵

اجتناب کرو کیونکہ رات کو زیادہ سونا قیامت کے دن فقرو فاقہ کاباعث بنتا ہے۔

پس اس روایت سے بخوبی روشن ہوتا ہے کہ زیادہ سونا نیک کاموں کے انجام دہی کےلئے رکاوٹ اور محرومیت اخروی کا سبب ہے

ج۔نماز شب سے محروم ہونے کاتیسرا سبب

جب انسان کسی نیک عمل کا موقع ضائع کردیتا ہے تو سب سے پہلے اس کی اپنی فطرت اس کی ملامت کرتی ہے لیکن انسان اتنا غافل ہے کہ اس ملامت فطری سے بچنے کی خاطر تو جیہات سے کام لیتا ہے تاکہ وہ اپنی ایسی عادت کو قائم رکھ سکیں لہٰذا اگر ہم کسی طالب علم سے نماز شب کے بارے میں سوال کرے کہ آپ کیوں اس عظیم نعمت سے استفادہ نہیں کرتے تو فورا جواب دیتا ہے کہ مجھے نیند آتی جس سے نماز شب نہیں پڑھ سکتا اور ایسی نیند صحت کے لئے ضروری بھی ہے لہٰذا ایسے بہانوں میں انسان غرق ہوجاتا ہے پس نماز شب سے محروم ہونے کی ایک علت بہانے اور توجیہات ہے جبکہ نماز شب ادا کرنے کے لئے بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ سے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں پڑتی اگر نماز شب کے انجام دینے کے وقت میں نہ سونے سے صحت پر برا اثر پڑتا تو خدا وند بھی اپنے بندوں کو رات کے اس مخصوص وقت میں نماز شب مستحب نہ فرماتے کیونکہ وہی انسان کے حقیقی مصالح اور مفاسد کا علم رکھتا ہے کہ نیند انسان کو صحت مند بنانے کے ضامن نہیں ہے بلکہ نماز شب ہے جو انسانی ترقی اور جسمانی صحت کا ضامن قرار پاتی ہے لہٰذا تحصیل علم اور دنیوی ترقی کے بہترین ذریعہ نماز شب ہے کہ جس کی برکت سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اور مؤمنین کو قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔

۱۳۶

د۔ پر خوری

شاید اب تک کسی محقق نے اپنی تحقیقات میں شکم پوری اور زیادہ کھانے کے عمل کو اچھے کام سے تعبیر نہ ہو۔

لہٰذا اسلامی تعلیمات میں بھی جب اسی حوالہ سے مطالعہ کیا جائے تو پر خوری مذموم اور نامرغوب نظر آتا ہیں کیونکہ زیادہ کھانے سے انسانی معدہ مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتاہے اور اسی طرح پرخوری مادی اور معنوی امور کے لئے مانع بھی بن جاتا ہے لہٰذا پر خوری کا نتیجہ ہے انسان نماز شب جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے چنانچہ اس مطلب کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے زیادہ غذا کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ کھانا کھانے سے نماز شب سے محروم اور جسم میں مختلف قسم کے امراض اور قلب میں قساوت جیسی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔(١)

ھ۔عجب اور تکبر

عجب اور تکبر دوایسی بیماری ہے جن کی وجہ سے انسان تمام معنویات الہٰی

____________________

(١) غررالحکم ص٨٠.

۱۳۷

سے محروم ہوجاتا ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ چھ ہزار سال عبادت میں مشغول ہونے کے باوجود شیطان تکبر کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ نہ کرنے کے سبب ہمیشہ کے لئے لعنت خدا کا مستحق قرار پایا لہٰذا عجب اور تکبر نماز شب سے محروم ہونے کا ایک ذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''قال رسول الله قال الله عزوجل ان من عبادی المؤمنین لمن یجتهد فی عبادتی فیقوم.... ''(١)

(ترجمہ) پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا کہ خدا نے فرمایا ہے بے شک میرے مؤمن بندوں میں سے کچھ اس طرح میری عبادت کرنے میں مشغول ہیں نیند سے اٹھ کر اپنے آپ کو بستر کی نرمی اور گرمی کی لذتوں سے محروم کرکے میری عبادت کرنے کے خاطر زحمت میں ڈالتے ہیں لیکن میں اس کی آرام کی خاطر اپنی لطف اورمحبت کے ذریعے ان پر نیند کا غلبہ کرتا ہوں تاکہ ایک یادو راتیں نماز شب اور عباد ت سے محروم رہے کہ جس پر وہ پریشان اور اپنی مذمت کرنے لگتا ہے لیکن میں اگر اس طرح نہ کروں بلکہ اس کو اپنی حالت پر چھوڑدیتا تو وہ میری عبادت کرتے کرتے عجب کے مرض کا شکار ہوجاتا کہ عجب ایک ایسا مرض ہے کہ جس سے مؤمن کے اعمال کی ارزش ختم ہونے کے علاوہ اس کی نابودی کا باعث بھی بن جاتا

____________________

(١) اصول کافی

۱۳۸

ہے لہٰذا کئے ہوئے اعمال پر ناز کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ میں تمام عبادت گزار حضرات سے بالاتر اور افضل ہوں جبکہ اس نے میری عبادت کرنے میں افراط وتفریط سے کام لیا ہے پس وہ مجھ سے دور ہے لیکن وہ گمان کرتا ہے کہ ہم خدا کے مقرب بندوں میں سے ہیں ۔

اس روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے کئی مطالب کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

١) خدا کی عبادت کر نے میں افراط وتفریط مضرہے۔

٢) اپنی عبادت پر ناز کرنا بربادی ونابودی کا سبب ہے۔

٣) اصول وضوابط کے بغیر عبادت فائدہ مند نہیں ہے۔

لہٰذا تمام عبادات میں اخلاص شرط ہے پس اگر ہم نماز شب اخلاص کے بغیر انجام دے تووہ صحیح تہجد گزار نہیں بن سکتا

۱۳۹

چوتھی فصل:

جاگنے کے عزم پر سونے کا ثواب

گذشتہ بحث میں نیند کے اقسام اور ان کے فوائد کا مختصر ذکر کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ سونے کی دوقسمیں ہیں :

١) انسانی طریقہ پر سونا۔

٢) حیوانی طریقہ پر سونا اور انسانی طریقہ کی نیند خودتین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

١)اصول وضوابط اور نماز شب کو انجام دینے کے عزم کے بغیر سونا کہ ایسی نیند کو محققین نے صحت بدن کے لئے بھی مضر قراردیا ہے اور اسلام کی نظر میں ایسی نیند پر کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرم )ص(کی روایت ہے کہ انما الاعمال باالنیۃ تما م کاموں کے دارومدار نیت پر ہے اور مؤمن کی نیت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔

٢) دوسری قسم نیند وہ ہے جس میں اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ نماز شب کے انجام دینے کی نیت بھی ہوئی ہے جبکہ اس پر نیند کا غلبہ ہونے کی وجہ سے وہ نماز شب ادا نہیں کر سکتا ایسی نیند پر صحت بدن کے لئے مفید ہونے کے علاوہ ثواب بھی دیا جاتاہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

۱۴۰

''مامن عبد یحدث نفسه بقیام ساعة من اللیل فینام منها الا کان نومه صدقة تصدق الله بها علیه وکتب له اجر ما نوی ''(١)

اگر خدا کے بندوں میں سے کوئی بندہ رات کو کچھ وقت نماز شب کے لئے جاگنے کی نیت پر سوجائے لیکن نیند کی وجہ سے نہ جاگ سکے تو وہ شخص باقی انسانوں کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی نیند کو خدا اس کی طرف سے صداقہ قرار دیتا ہے اور جو نیت کی ہے اس کا ثواب اس کے نامہ عمل میں لکھا جاتاہے تیسری قسم نیند وہ ہے کہ انسان اصول ضوابط اور جاگنے کے عزم کے ساتھ سوجائے اور علمی طور پر نماز شب بھی انجام دینے ایسے بندے کوخدا دوثواب دیتا ہے اور خدا اپنے فرشتوں پر ایسے افراد کے ذریعے ناز کرتا ہے کہ جس مطلب کو متعدد روایات میں سابقہ مباحث میں ذکرکیا گیا ہے جن میں سے ایک یہ روایت ہے جو مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں نقل کیا ہے:

''ان ربک یباهی الملائکة ثلاثة نفر رجل قام من اللیل فیصلی وحده فسجد ونام وهو ساجد فیقول انظر واالی عبدی روحه عندی وجسده ساجدی'' (٢)

____________________

(١)کنز العمال

(٢)بحار الانوار ج ٨٤

۱۴۱

بے شک خداوند فرشتوں پر تین قسم کے انسانوں سے فخر کرتا ہے جن میں سے ایک وہ افراد ہے جو رات کو تنہائی میں نماز شب انجام دیتے ہیں سجدے کی حالت میں اس پر نیند غالب آتا ہے اس وقت خدا فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے اس بندوں کی طرف دیکھو کہ جس کی روح میری طرف پرواز اور جسم سجدے میں مصروف ہے ۔

١۔نماز شب چھوڑنے کی ممانعت

نماز شب سے محروم ہونے کی صورت میں نماز شب کے دنیوی فوائد برزخی اور اخروی فائدے سے محروم ہونے کے علاوہ بہت سارے منفی نتائج بھی مترتب ہوجاتے ہیں کہ جن کی طرف بھی اختصار کے ساتھ اشارہ کرنا بہتر ہے ان میں سے ایک یہ ہے اگر نماز شب کو چھوڑدے تو دنیا میں دولت اور رزق سے محروم ہوتا ہے چنانچہ اس مسئلہ کو امام موسی ابن جعفر علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا :

''فاذ احرم صلاةاللیل حرم بها الرزق ''(١)

اگر کوئی شخص نماز شب انجام دینے سے محروم رہے تو وہ شخص دولت اور روزی سے محروم ہوجاتا ہے ۔

اعتراض وجواب

بے شک معصوم علیہ السلام کا کلام حکمت اور حقیقت سے خالی نہیںہے

____________________

(١) بحار ج ٨٧

۱۴۲

لیکن دور حاضر میں دنیا کی آبادی چھ ارب سے زیادہ بتائی جاتی ہے لیکن اس آبادی میں سے صرف ایک ارب مسلمان ہیں جن میں سے بہت کم انسان ہے جو پابندی کے ساتھ نماز شب انجام دینے والے ہوں لیکن دولت اور سرمایہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب پڑھنے والوں سے نہ پڑھنے والے حضرات کی جیبیں زیادہ گرم ہیں لہٰذا امام علیہ السلام کا یہ فرمان دور حاضر کی حالات کے ساتھ سازگار نظر نہیں آتا ۔

جواب :

نظام اسلام ایک ایسا نظام ہے کہ جس میں تمام شبہات اور اعتراضات کا جواب ملتا ہے لہٰذا اگر ایسا اعتراض دشمنی اور عناد کی بنیاد پر نہ ہو تو قابل توجیہ ہے یعنی دولت اور رزق کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم کی دولت اس طرح کی ہے جو انسان تلاش اور کوشش کرنے کے نتیجہ میں مل جاتی ہے کہ جس میں مسلم غیر مسلم نماز شب پڑھنے والے نہ پڑھنے والے کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ حقیقت میں یہ دولت اور روزی نہیں ہے بلکہ کمائی اور ہمت و زحمت کا نتیجہ ہے دوسری قسم کی دولت اس طرح کی ہے جو انسان کی تلاش میں خود آتی ہے ایسی دولت اور رزق کو خدا نے اپنے مخصوص بندوں کے لئے مقرر کیاہے۔

لہٰذا ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیاء اور اوصیاء علہم السلام جووہ چاہتے تھے مل جاتا تھا پس اگر کوئی شخص نماز شب سے محروم ہو تو وہ ایسی دولت سے محروم رہتا ہے لہٰذا معصوم ؑکا کلام اور دور حاضر کے حالات میں کوئی ٹکراو نہیں ہے ۔

۱۴۳

دوسرا منفی نتیجہ:

اگر ہم ایک انسان کامل اور باشعور ہستی ہونے کی حیثیت سے ائمہ معصومین ؑکی سیرت کا بغور مطالعہ کرلے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ جو مؤمن نماز شب جیسی بابرکت عبادت کو انجام دینے سے محروم رہے ہیں تو ان سے پیغمبر اکرم )ص( اور ائمہ معصومین علیہم السلام ناراضگی کا اظہار فرمایاہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

''لیس من شیعتنا من لم یصلی صلاة اللیل ''(١)

یعنی وہ شخص ہمارے پیروکار نہیں ہے جو نماز شب انجام نہیں دیتا اسی طرح دوسری روایت میں آپ نے فرمایا

''لیس منا لم یصلی صلاة اللیل ''(٢)

وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو نماز شب انجام نہیں دیتا۔

تیسری روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا :

''یاعلی علیک بصلاة اللیل ومن استخف بصلاة اللیل فلیس منا ۔''

''اے علی میں تمہیں نماز شب انجام دینے کی نصیحت کرتا ہوں اور وہ شخص جو نماز شب کو اہمیت نہیں دیتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔''

پس ان روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز شب کا ترک کرنا رسول اکرم )ص(اور ائمہ اطہار کی ناراضگی کا باعث ہے ۔

____________________

(١)بحار ج ٨٧

(٢) وسائل ج ٥.

۱۴۴

پانچویں فصل:

نماز شب پڑھنے کا طریقہ

نماز شب مشہور کے نظریہ کے بناء پر گیارہ رکعات ہیں کہ اس مطلب کو متعدد صیح السند روایات میں بیان کیا گیا ہے نماز شب انجام دینے کے طریقے ہیں:

١) آسان اور مختصر طریقہ۔

(٢) مفصل اور مشکل طریقہ۔

آسان اور مختصر طریقہ یہ ہے کہ جس میں نماز شب کے مستحبات کے بغیر اختصار کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے کہ یہ طریقہ ہر خوش نصیب مؤمن کے لئے مفید اور آسان ہے یعنی اس طریقہ کے ذریعے ہر مؤمن چاہے وہ علمی ودینی مسائل سے بخوبی آگاہ نہ بھی ہوپھر بھی اس طریقہ کے ساتھ نماز شب انجام دے سکتا ہے وہ طریقہ یہ ہے کہ ہر مؤمن و مؤمنہ آدھی رات سے لے کر آذان فجر تک کے درمیانی وقت میں ان گیارہ رکعات میں سے آٹھ رکعات نمازشب کی نیت کے ساتھ سورہ حمد کے بعد جوبھی سورہ پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے اور ہر دوسری رکعت کی قرائت سے فارع ہونے کے بعد قنوت بجالائے جس میں جو دعا پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے۔

۱۴۵

١۔نماز شفع نماز شفع اور پھر نماز شب کی آٹھ رکعات سے فارغ ہونے کے بعد دورکعت نماز شفع کی نیت سے بجالائے ان دورکعتوں میںبھی ''الحمد ''کے بعد جو بھی سورہ چاہے پڑھ سکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ حمد کے بعد سورۃ فلق اور دوسری رکعت میں حمدکے بعد سورۃ والناس پڑھی جائے اور دوسری رکعت کی حمدو سورۃ سے فارغ ہونے کے بعد رکوع سے پہلے قنوت میں یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

''اللهم اغفرلنا ورحمنا وعافنا وعف وعنا فی الدنیا والاخرة انک علی کل شی قدیر''

(ترجمہ ) اے خداوندا ہمارے گناہوں کو معاف فرمااور ہم پر رحم اور ہمیں سلامتی کی نعمتیں اور ہم سے دنیا وآخرت دونوں میں درگزر فرما کیونکہ تو ہی ہر چیز پر قادر ہے لیکن اگر یہ دعا اور سورۃالناس وسورہ فلق یادنہ ہو تو کسی کاغذ پر لکھ کر بھی پڑھ سکتا ہے نیز اگر کوئی شخص پڑھا لکھانہ ہو تو وہ حمد کے بعد جوبھی سورۃاور قنوت میںجو بھی دعا پڑھنا چا ہے پڑھ سکتا ہے ۔

٢۔نماز وترپڑھنے کا طریقہ

پھر جب نماز شفع سے فارغ ہوئے تو ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے کھڑے ہو کر بجالائے اس میں حمد کے بعد تین دفعہ سورۃ توحید اور ایک ایک دفعہ سورۃ والناس اور سورۃ فلق پڑھے پھر قنوت میں یہ دعا پڑھے:

''لااله الاالله الحلم الکریم الاله الا الله العظیم سبحان الله رب السموات السبع ورب الارضین البسع وما بینهن وهو رب العرش العظیم ولسلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین ''

(ترجمہ)یعنی سوائے ذات باری تعالی کے کوئی معبود نہیں ہے جو بہت بڑی عظمت کا مالک ہے کہ وہ خدا منزہ ہے جوسات آسمانوں اور زمینوں اور جوان کے مابین پائی جانے والی مخلوقات ہیں سب کا مالک ہے اور عرش عظیم کا مالک ہے اور تمام انبیاء پر سلام ہو اور سارے حمدوثناء کا سزاوار خدا ہی ہے کیونکہ وہی پوری کائنات کا مالک ہے

۱۴۶

اس دعا کے بعد مزید اگر خدا سے رازو نیاز کرناچاہے تو مناسب ہے ستر دفعہ'' استغفراللہ ربی واتوب الہ'' کا ذکر تکرار فرمائے کیونکہ پیغمبر اکرم سے منقول ہے آپ اس ذکر کو تکرار فرماتے تھے پھر سات دفعہ یہ دعا پڑھے :

هذامقام العائذبک من النار

یعنی اے خداوند یہ وہ مقام ہے جہان تجھ سے قیامت کے دن جہنم آگ سے پناہ مانگتا ہوں پھر اس ذکر کے بعد مزید دعا کرنا چاہے تو تین سومرتبہ العفو العفو کا ذکر تکرار کریں اور چالس مومنین کے نام لینا دشوار ہو تو اجمالی طور پر ''اللھم اغفراللمومنین والمومنات'' پڑھے یہی کا فی ہے ان اذکار سے فارغ ہونے کے بعد اپنی حوائج شرعیہ کی روائی اور دفع مشکلات کے لئے دعا کرے انشاء اللہ خداوند مستجاب فرمائیں گے کیونکہ تمام مستحباب عبادات کا خلاصہ نمازشب ہے نماز شب کا خلاصہ نماز وتر ہے کہ جس میں خدا نے دعا مستجاب ہونے کی ضمانت دی ہے لیکن اگر کسی کو نماز وتر کے قنوت میں ذکر شدہ دعائیں پڑھنے کی فرصت نہ ہویا کوئی مشکل پیش ہو تو جتنی مقدار ہوسکے انجام دیجئے کافی ہے ۔

نماز شب پڑھنے کا دوسرا طریقہ

یہ طریقہ پہلے طریقہ کی بہ نسبت مفصل اور مشکل ہے اسی وجہ سے اس طریقہ کو خواص کا طریقہ کہا جاسکتا ہے اور اس طریقہ کی خصوصیت یہ ہیں کہ ائمہ معصومین سے کچھ خاص دعائیں منقول ہیں ان کو پڑھنا مستحب ہے لہٰذا جب نمازی نماز شب کےلئے نیند سے جاگے تو سب سے پہلے خدا کو سجدہ کرے اس سجدہ کی کیفیت کو پیغمبر اکرم سے یوں نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم جب بھی نماز شب کی خاطر نیند سے بیدار ہوتے تھے تو سب سے پہلے خدا کو سجدہ بجالاتے تھے اور سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے ۔

''الحمد لله الذی احیانی بعد اماتنی والیه النشور والحمد لله الذی رد علی روحی لاحمد ه واعبده ۔''

یعنی تمام حمد وثناء کی مستحق وہ ذات ہے کہ جس نے مجھے مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور حشرو نشر بھی اسی کی طرف سے ہے اور تمام حمدوثناء کا مستحق وہ خدا ہے جس نے مجھے میری روح دوبارہ واپس کی تاکہ میں اس کی حمد اور عبادت کرسکوں

۱۴۷

پھر جب سجدہ سے سراٹھائے تو کھڑے ہو کریہ دعا پڑھے :

''اللهم اعنی علی هول المطلع ووسع علی المضجع وارزقنی خیر ما بعد الموت ''

(ترجمہ) پروردگارا قیامت کے ہولناک عذاب پر میری مدد کراور میری قبر میرے لئے تنگ نہ کر اور مجھے مرنے کے بعد نیکی اور خیر سے مالا مال فرما پھر اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد قرآن کریم کے سورۃ آل عمران کی آیت١٨٩ سے لے کر ١٩٤تک کی آیات کی تلاوت کرے یعنی:'' ان فی خلق السموت سے لاتخلیف المیعاد'' تک کی تلاوت کرے پھر ان تمام مقدماتی امور سے فارع ہونے کے بعد وضو کرکے نماز شب کےلئے تیار ہوتو اس وقت یہ دعا پڑھے جو حضرت امام سجاد سے منسوب ہے کہ آپ نصف شب کے وقت قرأت کرتے تھے۔

''الهٰی غارت نجوم سمائک ونامت عیون انامک وهدأت اصوات عبادک وانامک وغلقت الملوک علیها ابوابها وطاف علیها حراسها واجتمعوا عمن سالهم حاجة اوینتجع فهم قائدة وانت الهٰی حتی قیوم لاتاخذک سنة ولانوم ولاشفعک شییئ عن شییئ ابواب سمائک لمن وعاک مفتحات وخزآئنک غیر معلقات وابواب رحمتک غیر محجوبات وفوائدک لمن سلئک غیر محظورات بل هی مبذولات الهٰی انت الکریم الذی لاترد سائلامن المومنین سئلک ولاتحتجب عن احد منهم ارادک ولعزتک وجلالک ولاتحتزل حوائجهم دونک ولایقبضها احد غیرک اللهم وقد ترانی ووقوفی قلبی وما یصح به امراخرتی ودنیائی اللهم ان ذکر الموت واهوال المطلع والوقوف بین یدیک ''.....(١)

(ترجمہ ) اے میرے مولا اس وقت تیرے آسمان کے ستارے ڈوبنے کی طرف مائل ہیں اور تیرے مخلوق کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی ہیں اور تیرے بندوں اور حیوانوںکی آوازیں خاموش ہے اور بادشاہوں نے اپنے محلوں کے دروازے آرام وسکون کی خاطر بند کئے ہیں اور ان کے محافظین حفاظت کے کاموں میں مصروف ہیں اور (اس وقت ) وہ لوگ جنہیں کسی اور سے کوئی حاجت طلب ہویا کوئی نفع ملنے کی امید ہو وہ بھی سکون سے مالا مال ہیں اے میرے مولا صرف توہی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے کہ جس پر کبھی نیند کا غلبہ نہیں ہو سکتا اور تیرے اسمان کے

____________________

(١)فضائل نماز شب.

۱۴۸

راستے دعا کرنے والوں کےلئے کھلے ہوے ہیں اور تیرے خزانے اور تیری رحمت کے در وازے کسی سے مخفی نہیں ہے۔

اور جو بھی تمہارے احسان اور نیکی کا خواہان ہو اس سے دئیے بغیر نہیں رہتے اے میرے مولا تیری ذات وہ کریم ذات ہے جس سے اگر کوئی مؤمن درخواست کرے تو اس سے ناامید نہیں کرتا اور مؤمنین میں سے کوئی دعا کرے تو مستجاب کرنے سے دریغ نہیں فرماتا تیری ذات اور تیری عزت کی قسم توہی مؤمنین کے حوائج کو پورا کرتا ہے اور انہیں پورا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں فرماتا اور تیرے علاوہ کوئی میری حوائج کو رواکرے تو پھر بھی نیاز مند ہوں اے میرے اللہ تو ہی میری بے بسی اور ذلت وخواری کو دیکھ رہا ہے اور میرے وطن سے تو ہی آگاہ ہے ۔

اور میرے دل کے مطالب اور ان چیزوں سے جو میری دنیوی اور اخروی زندگی کے لئے مفید ہیں تو ہی آگاہ ہے پروردگارا موت اور قیامت کی سختیوں اور تیری بارگاہ میں حساب وکتاب کی یادنے مجھے کھانے پینے کی لذتوں سے محروم کردیا ہے اور میری زبان خشک ہوچکی ہے اور میں اپنے بستر پر چین سے سونہیں سکتا لہٰذا میں نے اپنے آپ کو نیند سے محروم کررکھا ہے کیونکہ وہ شخص کیسے سو سکتا ہے کہ جس کے پاس ملک الموت شب وروز موت کا پیغام لے کر آرہا ہو ایک ہوشمند انسان چین سے نہیں سوسکتا کیونکہ اسے علم ہے قبض روح کرنے والا فرشتہ کبھی نہیں سوتا اور وہ ہر لحظ اس کی روح کوبدن سے الگ کرنے کی تلاش میں کوشاں ہے ۔

۱۴۹

پھر اس دعا کی قرآئت کے بعد مستحب ہے رخساروں کو خاک پر رکھ کریہ دعا پڑھے:

''اسئلک الروح والراحه عندالموت والعفو عنی حین القاک ۔''

(ترجمہ)یعنی میں تجھ سے موت کے وقت رحمت اور راحت کا خواہشمند ہوں اور قیامت کے روز حساب وکتاب کے موقع پر درگزر کا خواہاں ہوں .یہ دعا اس حالت میں پڑھنا امام سجاد علیہ السلام کی سیرت میں سے ذکر کیا گیا ہے اور نماز شب پڑھنے سے پہلے دو رکعت نمازبھی مستحب ہے پہلی رکعت میںحمد کے بعد سورۃ توحید اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورۃقل یاایها الکٰفرون پڑھی جاتی ہے کہ یہ نماز بھی امام سجاد علیہ السلام کی تعلیمات میں سے ہے کہ امام نماز شب پڑھنے سے پہلے ان دورکعتوںکو بجالاتے تھے جب مذکورہ دعا اور نماز سے فارغ ہوجائے تو یہ دعا پڑھے کہ اس دعا کو جناب شیخ صدوق نے اپنی گراںبہا کتاب ''امالی '' میںابی درد اسے روایت کی ہے کہ امام المتقین حضرت علی علیہ السلام نماز شب سے پہلے یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

''اللهم کم من موبقه .....''.(١)

اس کا ترجمہ یہ ہے اے میرے مولا کتنے گناہ مجھ سے سرزد ہوچکے ہیں جو

____________________

(١) کتاب فضائل نماز شب

۱۵۰

میری تباہی اور بربادی کا سبب ہے لیکن تونے ہی ان پر عذاب کرنے سے درکذار کیا اور کتنے جرم مجھ سے سرزد ہوئے ہیں کہ انہیں تیرے کرم کے ذریعے مخفی کررکھا ہے اے میرے مولا تیری نافرمانی میں طویل عمر گزاری ہے اور تیرے حساب کے دفتر میں میرے بہت بڑے جرائم لکھے جاچکے ہیں لیکن صرف تیری بخشش اور درگزر سے ناامید نہیں ہوں اور صرف تیری رضاوخشنودی کی امید رکھتا ہوں اے میرے مولا جب تیرے عفو کا تصور کرتا ہوں تو مجھے اپنے گناہ اور جرم خفیف نظر آتا ہے لیکن جب تیری طرف سے ہونے والی عقاب یاد آتا ہے تو میں بہت بڑی مشکل میں گرفتار ہوجاتاہوں اور جب مجھے اپنے نامہ اعمال میں گناہوں کے جمع ہونے کا خیال آتا ہے تو پریشانی سے دوچار ہو جاتا ہوں لہٰذا یہ تمہارا ہی حکم ہے کہ گنہگار کو سزادی جائے ''آہ ''کتنا سخت مشکل ہے کہ اس سے کوئی نجات دینے کی قدرت نہیں رکھتا اور کوئی رشتہ دار اس سے بچانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا ''آہ '' اس آگ کی سختی کو کیسے تحمل کروں گا جب کہ اس آگ کی وجہ سے میرا جگرکباب بن چکا ہوگا ''آہ''اس آگ سے نجات کا طلب گار ہوگا۔

۱۵۱

جس کے شعلوںکی وجہ سے پورا بدن جل کر نابود ہو چکا ہوگا ان تمام امور سے فارغ ہونے کے بعد نماز شب انجام دینے کےلئے آمادہ ہوگا اور نمازشب شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھے :

''اللهم انی اتوجه الیک بنبیک نبی الرحمه واله واقد مهم بین یدی حوائجی فجعلنی بهم وجیها فی الدنیا والاخرة ومن المقر بین اللهم ارحمنی بهم ولاتعذبنی بهم واهدنی بهم ولا تفلنی بهم وارزقنی بهم ولاتحرمنی بهم واقض لی حوائج الدنیا والا خراة انک علی کل شئی قدیر وبکل شئی علیم ۔..''(١)

(ترجمہ)اے میرے مولا تیری درگاہ کی طرف تیرے بنی جو رحمت بن کر لئے ہیں اس کے واسطے متوجہ ہو اہوں اور اپنی حوائج کی روائی کے لئے ان حضرات کو پیش کرتا ہوں پس ان کی برکت سے دنیا وآخرت دونوں میں مجھے آبرومند اور مقرب بندوں میں سے قرار دے اے میرے مولا محمد وال محمد کے صدقہ میں مجھ پر رحمت نازل فرما اور مجھے عذاب سے نجات دے اور ان ہستیوں کے ذریعے میری ہدایت کراور گمراہی سے نجات دیں اور میرا رزق مجھے نصیب فرما اور میری دنیوی واخروی حاجتوں کو پورا فرما کیونکہ تو ہی ہر چیز پر قادر اور ہر چیزوں سے باخبرہے ، پھر ان دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد نماز شب کی نیت سے آٹھ رکعات نماز شروع کریں پہلی دورکعت کو شروع کرنے کے موقع پر تکبیرۃ الاحرام کے ساتھ مزید چھ تکبیر مستحب ہے پھر پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورۃ توحید کو تین دفعہ اور دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ قل یاایھاالکٰفرون ایک دفعہ پڑھکر قنوت

____________________

(١)فضائل نماز شب.

۱۵۲

اور رکوع وسجود پھر سلام انجام دینے کے باقی چھ رکعتوں میں حمد کے بعد قرآن کے کوئی بھی سورۃ پڑھے کافی ہے لیکن طویل سورے کا پڑھنا زیادہ مستحب ہے ۔

٤۔قنوت

قنوت کو نمازوں میں بہت اہمیت حاصل ہے اگر چہ تمام علماء ومجتھدین کا اتفاق ہے کہ قنوت ہر نماز میں مستحب ہے چاہے واجی نماز ہو یا مستجی دوسری رکعت کے حمد وسورۃ کے بعد رکوع سے پہلے قنوت مستحب ہے سوائے نماز وتر کے کہ انشاء اللہ اس کا ذکر عنقریب کیا جائے گا اور قنوت میں جوبھی دعا چاہے پڑھ سکتا ہے اگر چہ بہتریہ ہے کہ وہ دعائیں جو ائمہ معصومین اور انبیاء علیہم السلام سے منقول ہےں وہ پڑھی جائےں، چنانچہ مرحو م کلینی نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے سند معتبر کے ساتھ نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہم السلام نے فرمایا کہ نمازوں کے فنوت میں یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

''اللهم اغفرلنا وارحمنا وعافنا وعف عنا فی الدینا والاخرة انک علی کل شئی قدیر''

۱۵۳

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ اگر قنوت میں صرف تین دفعہ سبحان اللہ کہیں توبھی کافی ہے اگر چہ مفصل اور لمبی دعا کا پڑھنا زیادہ افضل ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم سے یوں نقل کیا گیا ہے

''اطوالم قنوتا فی دار الدنیا اطولکم راحة فی یوم القیامة'' (١)

ترجمہ :قیامت کو سب سے زیادہ ارام اور سکون اس شخص کو ملے گا جو سب سے لمبی دعائیں قنوت میں پڑھتا رہا ہو لیکن اما م جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ نوافل اور نمازشب کے قنوت میں یہ دعا پڑھنا زیادہ سزاوار ہے:

''اللهم کیف ادعوک وقد عصیتک وکیف لا ادعوک وقد عرفت حبک فی قلبی ...''(٢)

نیز نماز شب کے قنوت میں امام رضا علیہ السلام سے یہ دعا بھی منقول ہے اللھم ان الرجی بسعۃ رحمتک(٣)

پھر نماز شب کی آٹھ رکعت نماز کے بعد دورکعت نماز شفع شروع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھنا مستحب ہے :

''اللهم انی اسائلک ولم یسل مثلک ....''(٤)

جب اس دعا سے فارغ ہو تو اپنی حوائج شرعیہ کا ذکر کریں اور تسبیح حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )پڑھیں پھر دو سجدہ شکر انجام دیں جس میں یہ دعا پڑھنا مستحب امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے۔

'' الهٰی وعزتک وجلاللک وعظمتک ....''(٥)

____________________

(١) من لایحضر الفقیہ

(٢)فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب

(٤)فضائل نماز شب. (٥)فضائل نماز شب.

۱۵۴

نماز شفع پڑھنے کا دوسرا طریقہ

نماز شفع دورکعتوں پر مشتمل ہے جو نماز شب کی آٹھ رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے پہلی رکعت میں حمد کے بعدسورہ فلق دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورۃوالناس پڑھنے کے بعد رکوع سے پہلے قنوت میں یہ دعا پڑھیں۔

''اللهم اغفرلنا وارحمنا وعافنا وعف عنی فی الدنیا والاخرة انک علی کل شئی قدیر ۔''

پھر نماز شفع سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے ۔

الٰی ترض لک فی هذا اللیل ۔.....(١)

نماز وتر پڑھنے کا دوسراطریقہ ۔

جب نماز شب اور نماز شفع سے فارغ ہوا تو نماز وتر کی نیت سے ایک رکعت انجام دینا جس کا تفصیلی طریقہ یہ ہے نیت کے دوران قیام کے موقع پر سات تکبیروں سے آغاز کریں پھر حمد کے بعد تین دفعہ سورہ توحید ایک دفعہ سورہ فلق ایک دفعہ سورۃ والناس پڑھنے کے بعد قنوت میں یہ دعا پڑھے:

''لااله الا الله الحلیم الکریم الاله الاالله العلی العظیم

____________________

(١)فضائل نماز شب

۱۵۵

سبحان الله رب السموت السبع ورب الارضین السبع وما فیهن ومابینهن ورب العرش العظم والسلام علی المرسلین والحمد لله رب العالمین''

یعنی ذات باری تعالی کے سوا کوئی معبود جو حلم وکرم کا مالک ہے نہیں ہے نیز کوئی معبود نہیں ہے سوائے اللہ تبارک وتعالی جو بہت بڑی عظمت کا مالک ہے کہ وہ خدا منزہ ہے جو سات آسمانوں اور زمینوں کے علاوہ ان کے مابین موجود مخلوقات کا مالک ہے اور عرش عظیم کا مالک بھی ہے تمام انبیاء پر سلام ہو اور تمام حمدو ثناء کا سزاوار خدا ہی ہے کیونکہ وہی پوری کائنات کا مالک ہے ۔

اس دعا کے بعد ''استغفراللہ ربی واتوب الہ ۔'' ٧٠ستر دفعہ پڑھیں اس کے بعد سات دفعہ ''ہذا مقام العائیذبک من النار '' پرھا جاتا ہے یعنی (اے خداوند یہ جہنم کی آگ سے پناہ مانگنے کا مقام ہے پھر اگر وقت کے دامن میں گنجائش ہو تو تین سو مرتبہ ''العفو العفو '' پڑھیں اور چالیس مومنین کے نام لے کران کی مغفرت کے لئے دعا مانگیں لیکن اگر چالیس مومنین کا الگ الگ نام لینا دشوار ہو تو اجمالی طور پر یہ کہیں تو کافی ہے۔

''اللهم اغفرالمؤمینین والمومنات ''

پھر ان دعاؤں سے فارغ ہونے کے بعد اپنی حوائج شرعیہ کی روائی اور دفع مشکلات کے لئے دعا مانگیں انشاء اللہ خدا مستجات فرمائے گا کیونکہ تمام مستحب عبادات کا خلاصہ نماز شب ہے نماز شب کا خلاصہ نماز وترہے کہ جس میں خدانے نمازی کی دعا قبول فرمانے کی ضمانت دی ہے

۱۵۶

لیکن اگر نماز وتر کے قنوت میں ذکر شدہ دعائیں پڑھنے کی فرصت نہ ہو تو جتنی مقدار ہوسکے دعا پڑھے کا فی ہے اور اگر وقت ہوا تو قنوت میں یہ دعا بھی مستحب ہے:

''اللهم انت الله نور السموت والارض وانت الله زین السموت والارض وانت الله جمال السموت والارض .....''(١)

پھر سات دفعہ یہ دعا پڑھیں:

''استغفر الله الذی لااله الا هو الحی القیوم بحمیع الظلمی وجرمی واسرا فی علی نفسی واتوب الیه ...''(٢)

(ترجمہ) یعنی میں اس ذات سے کہ جس کے سواء کوئی معبود نہیں ہے جو ہمیشہ زندہ رہنے ولا ہے ان تمام ظلم وستم اور جرائم جو میں نے اپنے نفس پر کیا ہے ان سے مغفرت مانگتا ہوں اور اسی ذات ہی کی طرف لوٹ کر آتا ہے ۔

ان اذکار سے فارغ ہونے کے بعد قنوت میں یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں۔

'' رب اساء ت وظلمت نفسی وبئس ماصنعت وهذه یدائی یا رب جزاء بما کسبت وهذه رقبتی خاضعة لما اتیت وهاانا

____________________

(ا)فضائل نماز شب

(٢)فضائل نماز شب.

۱۵۷

ذابین یدیک فخذنفسک من نفسی الرضا حتی تراضی لک العتبا لااعود ....''(١)

(ترجمہ ) اے میرے مالک میں برائی کامر تکب رہا ہوں اور اپنے اوپر ظلم کرتا رہا ہوں اور جو کچھ کیا برا کیا اے میرے مالک یہ جو گناہ میں نے ہاتھوں سے کئے ہیں ان کی سزا کے لئے میرے ہاتھ حاضرہے گردن ہے یہ مرا جو تمہاری بارگاہ میں کی ہوئی برائیوں کی سزا جھیلنے کے لئے جھکی ہوئی ہے پالنے والے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اے مولا مجھ سے راضی ہوجا میں دوبارہ گناہ کا مرتکب نہیںہوگا پھر اس کے بعد یہ دعا پڑھے :

''رب اغفرلی وارحمنی وتب علی انک انت التواب الرحیم ۔...''(٢)

اوریہ دعا بھی امام سجاد علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو نماز وتر کے قنوت میں آپ پڑھا کرتے تھے :

''سیدی سیدی هذا یدی قدمدد تهما الیک بالذنوب مملوة وعینای بالرجاء ممدوة ''(٣)

لیکن اگر وقت کم ہوتو جس قدر ممکن ہو سکے وترکے قنوت میں دعا کرے

____________________

(١)فضائل نماز شب

(٢)فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب

۱۵۸

جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا اگر یہ دعائیں یاد نہ ہوں تو لکھ کر یا کسی کتاب کو دیکھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہے لیکن اگر وتر کے قنوت میں صرف یہ دعا پڑھیں تب بھی کافی ہے ۔

''اللهم ان الذنوب تکف ایدینا عن ابنسا طها الیک باالسوال والمداومة علی المعاصی تمنعنا عن التضرع والا بتهال والرجاء یُحِثْنٰا علی سوالک یا ذالجلال فان لم تعطف السید علی عبده فممن یبتغ النوال فلا ترد اکفنا المتصرع الیک الا ببلوغ الا مال وصل الله علی اشرف الا نبیاء والمرسلین محمد وآله الطاهرین ''(ا)

اے اللہ گناہوں کی کشرت کی وجہ سے ہم ہاتھوں کو تیری درگاہ میں مشکلات کی برطرفی کے لئے بلند نہیں کرسکتے اور گناہوں پر اصرار کے سبب سے دعا کے وقت گریہ وزاری سے محروم ہے اے ذوالجلال تیری امید نے مجھے درخواست کرنے پر آمادہ کیا ہے لہٰذا اگر مولاء غلام پر احسان نہ کرے تو پھر کون ہے کہ جس سے معافی کی درخواست کی جائے بس اے مولا ہم اپنے ہاتھوں کو جوانکساری کے ساتھ تیری درگاہ میں بلند کئیے ہوئے ہیں آرزؤں کے پورا ہونے سے پہلے خالی واپس نہیں کرے گا اور خدا کا درود رسولوں اور نبیوں میں سے افضل حضرت محمد (ص) اور ان کی پاکیزہ آل پر پھر اس کے بعد رکوع بجالائیں اور سجدے

____________________

(ا)فضائل نماز شب.

۱۵۹

میں یہ دعا پڑھیں:

''هذا مقام من حسناته نعمته منک وسیاته بعمله وذنبه عظم وشکره قلیل ....''(١)

پھر تشہد اور سلام کے بعد تسبیح حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) پڑھنے کے بعد وتر کی تعقیبات میں یہ دعا جو دعائے حزین کے نام سے معروف ہے پڑھی جائے: ''اناجیک یاموجود فی کل مکان لعلک تسمع ندائی فقد عظم جرمی ....''(٢)

اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ شکر میں یہ دعا پڑھے:

''اللهم وارحم ذلتی بین یدیک ....''(٣)

اس دعا سے فارغ ہونے کے بعد صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ٣٢ کا پڑھنا بھی مستحب ہے اور امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے نماز شب سے فارغ ہونے کے بعد اس دعا کا تین دفعہ پڑھنا مستحب ہے:

''سبحان ربی الملک القدوس العزیز'' پهر ''یاحی یاقیوم یابر یارحیم یاغنی یا کریم ارزقنی من التجارة اعظمها فضلا واوسعهار زقا وخیرها لی عافیة فانه لاخیر فیها لاعافیة له ۔''

____________________

(١)فضائل نماز شب

(٢) کتاب فضائل نماز شب

(٣) کتاب فضائل نماز شب

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179