فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب33%

فلسفہ نماز شب مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 179

فلسفہ نماز شب
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 90761 / ڈاؤنلوڈ: 3689
سائز سائز سائز
فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

فلسفہ نماز شب

تالیف محمد باقر مقدسی

۳

مقدمہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰه رب العالمین والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین وآله الطاهرین ولعنة الله علیٰ اعدائهم اجمعین

اس دنیا امکان کا بہ نظر عائر مطالعہ کیا جائے تو اس کی ہر چیز چاہئیے عرض ہو یا جو ہر حضرت حق کے فضل وکرم کا محتاج نظر آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سویٰ کسی چیز کے و جود میں استقلال قابل تصور نہیں ہے لہٰذا ذات باری کے علاوہ تمام موجودات فقر ذاتی کا مجموعہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے حالات لحظہ بہ لحظہ غیر کی طرف محتاج اور زمان ومکان کے حوالے سے قابل تغیر ہے کہ جس کو سمجھے نے کے خاطر تدبر وتفکر کا حکم ہوا اور آیات وروایات میں تدبر کی بیحد تاکید کے ساتھ فرمایا فکر الساعتہ عبادہ تاکہ قانون فلسفی اور موجودات کے آپس میں نظر آنے والا تناقص اور تنافی دور، اور خلقت کے حقیقی ہدف کو( جو ترقی وتکامل ہے) درک کرسکے۔

اور تکامل وترقی کے اسباب میں سے اہم ترین ایک سبب مستحبات کی پائبندی بالخصوص نماز شب کی عادت ہے کہ جس کی اہمیت قرآن وسنت کی روشنی میں انشاء اللہ عنقریب ذکر کیا جائیگا۔

لیکن کاش کہ آج کل زمانہ کچھ ایسا ہوچکا ہے کہ ہم نماز شب جیسی عبادت کو انجام دینے سے محروم ہیں جبکہ قدیم زمانے میں علماء بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں مذہب پر اتنے خوف وہراس اور ہر قسم کی سختی اور دیگر وسائل کی کمی کے باوجود تہجد کے ذریعے مذہب اور قرآن کی حفاظت کرتے رہے لیکن آج کل علماء کی اتنی کثرت اور سہولیات کی فراوانی اور گذشتہ دور کی مانند خوف وہراس اور کسی کی طرف سے کوئی پابندی نہ ہونے کے باوجود تبلیغات میں استحکام نظر نہیں آتا۔

۴

لہٰذا علما ء ر وحی طبیب ہونے کی حیثیت سے لوگ روز بہ روز علماء اور مذہب سے نزدیک ہونے کے بجائے دور ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ دور حاظر فہم وشعور اور علم وادراک کے حوالے سے کامل اور سہولیات کے اعتبار سے بنی امیہ اور بنی عباس کے دور سے مقائیسہ کرنا ہی غلط ہے پس اگر دین کا استحکام ،مذہب کی ترویج ،کلام میں جاذبیت ،کاموں میں اثر،علم میں برکت اور خدا کی رضایت کے خواہاں ہو تو مستحبات پر عمل کر کے اپنے آپ کو تہجد گزار بنائے تاکہ انتشار اور آپس میں جدائی ،مذہب کی نابودی ،تبلیغ کی ناکامی ،معاشرے میں بدنامی جیسی مشکلات کا سدباب کرسکےں۔

کیونکہ اس قسم کے تمام اخلاقی مشکلات کا سدباب اور راہ حل نماز شب ہے لہٰذا اگر کوئی شخص پابندی کےساتھ نماز شب انجام دے تو علم میں شہید صدر سیاست میں خمینی کی مانند بن سکتا ہے کہ خمینی نے بوڑھاپے میں ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کی طاقتوں کو خاک میں ملادیا جب کہ دینوی سپرپاور حکومتیں اور سیاست دان ایسا انقلاب اور کامیابی کو ناممکن سمجھتے تھے لیکن یہ حقیقت میں ان کے خام خیالی اور مادی فکر کا نتیجہ تھا کیونکہ خدا نے ہر انسان کو دوطاقتیں عنایت کی ہے مادی اور معنوی اگر کسی کی معنوی طاقت قوی ہو تو کبھی کوئی مادی طاقت اس پر غلبہ اور دیگر ذرائع اسے ناکام نہیں بنا سکتے لہٰذا اگر خمینی ؒجیسے عمر رسیدہ ہستی کے ہاتھوں دنیا کے کسی خطےّ میں اسلام کی حاکمیت اور انقلاب کی آبیاری ہو تو تعجب نہ کیجئے کیونکہ کوئی بھی عالم دین اپنے معنویات کو مستحکم کرنے کی کوشش کریگا تو اتنی معنوی طاقت خداوند عطاکرتا ہے کہ اس کا کوئی بھی مادی طاقت اور دیگر ذرائع مقابلہ نہیں کرسکتے اسی لئے قدیم زمانے میں مدارس دینیہ اور مراکز علمیہ میں علماء اور طلباء پرابتدائی مرحلے میں ہی نمازشب کو انجام دینے کی پابندی عائد کرتے تھے کیونکہ علماء اور طلباء اسلام کے حقیقی محافظ ہیں اور اسلام کی حفاظت معنوی استحکام بغیر ناممکن ہے ۔

۵

لہٰذا اس عظیم عبادت کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر اس مختصر کتاب میں نماز شب سے متعلق آیات کریمہ اور روایات مبارکہ کی جمع آوری کے ساتھ ان کی وضاحت کی گئی ہے اگر چہ سند کے حوالے سے روایات میں خدشہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس مو ضوع سے مربوط بہت سی روایات سند کے حوالے سے ضعیف ہے لیکن اس کا مضمون اور دلالت امام کے کلام ہونے پر قرینہ ہے لہٰذا سند کی تحقیق سے قطع نظر صرف دلالت کی وضاحت کی گئی ہے تاکہ مؤمنین نماز شب کی حقیقت سے آگاہ اور اس کے فوائد سے بہرہ مندہوں نیز نماز شب کی کیفیت کی طرف بھی اشارہ کے ساتھ نماز شب سے مربوط پیغمبر اکرم ؐاور ائمہ علہیم السلام سے منقول دعاؤں کو ترجمہ کے ساتھ بیان کیا ہے تاکہ خوش نصیب اور نماز شب کے عادی لوگوں کو نماز شب کی حقیقت اور بندگی کا ذریعہ ہونے پر مذید یقین اور یہ نورانی کلمات معنوی درجات کی بلندی کا وسیلہ بنے کیونکہ نماز شب شریعت اسلام میں پورے مستحباب کا نچوڑاور خلاصہ ہے لہٰذا گنہگار بندہ اپنے مولا ومالک حقیقی کی بارگاہ میںنماز شب پڑھنے کی تو فیق رات کی تاریکی میں رازونیاز کرنے میں کامیابی اور نماز شب کے فوائد سے دنیاوآخرت میں مالا مال ہونے کا خواہاں ہے ساتھ ہی امام عصر کے ظہور میں تعجیل اور اس نا چیز زحمت پر تائید کا طالب ہوں۔ (آمین)

والسلام۔

باقر مقدسی

١٥ /جمادی الثانی١٤٠٢٢ق ھ

حوزہ علمیہ قم مقدس

۶

پہلی فصل:

نماز شب کی اہمیت

دنیا میں ہرانسان مفکر ہو یا غیر مفکر دانشمند ہو یا غیر دانشمندمحقق ہو یا غیر محقق جب کسی قضیہ اور مسئلہ کی اہمیت اور فضیلت کو ثابت کرنا چاہتا ہیں تو ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کو برہان اور دلیل کے ساتھ بیان کریں تاکہ لوگ اس کی فضیلت اور اہمیت کے قائل ہوجائیں لیکن ہر قضیہ کی اہمیت استدلال اور برہان کے حوالے سے مختلف ہے چونکہ اگر کوئی مسئلہ عقلی ہو یا حکمت اور منطق سے مربوط ہو تو اس کی اہمیت اور فضیلت کو بھی منطقی اور فلسفی دلائل کے ذریع ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

پس عقلی اور منطقی مسئلہ کی اہمیت کو تاریخ کے شواہد اور دلیل نقلی سے ثابت کرنا اس کی اہمیت اور فضیلت شمار نہیں ہوتی لہٰذاہر قضے کو اس کی مخصوص روش اور نہج پر ثابت کرنا فصاحت وبلاغت کی چاہت اور محققین و دانشمنددوں کی سیرت ہے اگرچہ اس قضیے سے مربوط علم کے مبانی اور اصول میں لوگوں کے آراء میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ایسا اختلاف اس قضیہ کے ثبوت اور حقیقت کے اثبات میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے اسی طرح اگر کوئی مسئلہ اخلاقی مسئلہ ہوچاہیے عملی اخلاق سے مربوط ہویا نظری علماء اخلاق نے اس قیضہ کی اہمیت اور فضیلت کو علم اخلاق کے فارمولوں کی روشنی میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لہٰذا علم اخلاق سے مربوط مسائل کی اہمیت اور فضیلت کوعقلی اور فلسفی اصول و ضوابط سے ثابت کرناآیندہ آنے والی نسلوں کے لئے توہم اور اشکالات کا باعث ہوگا۔

تب ہی تو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اعتراضات اورتصورات بھی زیادہ ہوجاتے ہیں اسی طرح اگر کوئی مسئلہ تاریخی ہوتو اس کی اہمیت اور فضیلت کو تاریخ کے شواہد وضوابط کی روشنی میں بھی ثابت کرنا چاہئے نہ عقل اور منطق کے روشنی میں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں واقعہ کربلا جیسی عظیم انسان ساز قربانی پر مادی ذہانت رکھنے والے افراد کی جانب سے ہونے والے بہت سی اعتراضات کا سبب تاریخی مسائل کو عقلی اورفلسفی دلائل سے مقائیسہ کرنے کا نتیجہ ہے نیز اگر کوئی مسئلہ فقہی ہو یعنی احکام الٰہی سے مربوط ہو تو اس کی اہمیت اور فضیلت کو کتاب وسنت کی روشنی میں ثابت کرنا چاہیے لہٰذا ہر مسئلہ کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرنے والے استدلال اور براہین کی نوعیت کا مختلف ہونا طبعی ہے۔

۷

اگر چہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ روز مرہ زندگی سے مربوط تمام مسائل کی اہمیت اور فضیلت کے اثبات کا سر چشمہ کتاب وسنت ہے چاہئے عقلی مسئلہ ہو یا فلسفی تاریخی ہو یا فقہی اخلاقی ہو یا ادبی اس لئے نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو تین چیزوں کی روشنی میں بیان کیا گیاہے :

١۔ کتاب کی روشنی میں ۔

٢۔ سنت کی روشنی میں۔

٣)اہل بیت علیہم السلام اور مجتہدین کی سیرت کی روشنی میں۔

الف ۔کتاب کی روشنی

نماز شب کی اہمیت بیان کر نے والی آیات دوقسم کی ہیں کہ

(١) وہ آیات جو نمازشب کی اہمیت اور فضیلت کو صریحاََبیان کرتی ہیں

(٢) وہ آیات ہیں جو نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو ظاہرابیان کرتی ہیں وہ آیات جو صریحاََ نماز شب کی اہمیت کوبیان کرتی ہیںوہ متعدد آیات ہیں ۔

پہلی آیت:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَکَ عَسَی أَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُودًا ) (١)

اور رات کے کچھ حصے میں تہجد(یعنی نماز شب ) پڑھا کر کہ امید ہے تمہارے پروردگار روز قیامت تجھے مقام محمود تک پونہچادے ۔

تفسیر آیہ :

آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ خطاب

____________________

(١) سورہ بنی اسرائیل آیت ٧٩

۸

پیغمبر اکرم )ص( کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واحب تھی جبکہ باقی انسانوں پر مستحب ہے جیسا کہ اس مطلب کی طرف حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے کہ جس سے شیخ طوسی علیہ رحمہ نے سند معتبر کے ساتھ عمار ساباطی سے نقل کیا ہے :

'' عن عمارساباطی قال کناجلوسا عند ابی عبد الله بمنی فقال له رجل ماتقول فی النوافل فقال فریضة قال ففزعنا وفزع الرجل فقال ابوعبد الله علیه السلام انما اعنی صلوةالیل علی رسول الله صلی الله علیه واله ان الله یقول ومن الیل فتهجد به نافلة لک ''(١)

عمار ساباطی نے کہا کہ ہم منی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدامت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں کسی نے آپ سے نافلہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ نافلہ واجب ہے (جب امام نے یوں بیان فرمایا) تو وہ شخص اور ہم سب پریشان ہوئے اسوقت آپ نے فرمایا میرامقصد یہ ہے کہ نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واجب ہے کیونکہ خدا نے فرمایا : اے رسول تو،رات کے خاص حصے میں نماز شب انجام دے۔

____________________

(١)تہذیب ج٣ ص ٢٤٢

۹

لہٰذا جب آیہ کریمہ کو روایت مبارکہ کے ساتھ رکھا جاتا ہے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے:

١) نماز شب پیغمبر اکرم )ص( پر واجب تھی۔

٢) نماز شب انسان سازی کابہترین ذریعہ ہے۔

٣) نماز شب مقام محمود پر پہچنے کا وسیلہ ہے ۔

لیکن مقام محمود کیا ہے یہ اپنی جگہ خود تفصیلی گفتگو ہے ۔

دوسری آیہ شریفہ:

( وَالْمُسْتَغْفِرِینَ بِالْأَسْحَار ) (١)

اور سحروں کے وقت گناہوں سے مغفرت مانگنے والے حضرات کہ اس آیہ کریمہ کی تفسیر اس طرح ہوئی ہے کہ'' والمستغفرین باالاسحار ''سے وترکے قنوت میں استغفراللہ کا ذکر تکرار کرنے والے حضرات مقصود ہیں ۔

چنانچہ ابوبصیرنے روایت موثقہ کواس طرح ذکر کیا ہے:

عن ابی بصیر قال قلت له المسغفرین باالاسحار فقال استغفررسول الله صلی الله علیه والیه فی وتره سیعین مرة (٢)

یعنی ابی بصیر نے کہا کہ میں نے امام سے پوچھا کہ''والمستغفرین

____________________

(١)آل عمران آیت ١٧

(٢)وسائل الشیعہ ج٤ باب ١٠ /ابواب قنوت

۱۰

باالاسحار' ' سے کون مراد ہیں تو آپ نے فرمایا اس سے مراد حضرت پیغمبر اکرم )ص( ہیں کہ آپ نماز وترکے (قنوت میں ) ستر دفعہ استغفراللہ کا ذکر تکرار کرتے تھے ۔

مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں یوں تفسیر کی ہے:

'' المستغفرین باالاسحار ای المصلین وقت السحر'' (١)

یعنی المستغفرین باالاسحار سے مراد وہ حضرات ہیں جو سحر کے وقت نماز گذار ہیں کہ اس تفسیر کی تائید دوسری کچھ روایات بھی کرتی ہیں لہٰذا یہ ایہ شریفہ نماز شب کی ا ہمیت اور فضیلت پر واضح دلیل ہے ۔

تیسری آیہ شریفہ :

( تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُون ) (٢)

رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے آشنا نہیں ہوئے اور عذاب کے خوف اور رحمت کی امید پر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں اور ہم نے جو کچھ انہیں عطاکیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں

____________________

(١)مجع البیان ج٢ ص٧١٣.

(٢)سورۃالم سجدۃ آیت ١٦

۱۱

آیہ شریفہ کی وضاحت:

اس آیہ شریفہ کی تفسیر کے بارے میں معصوم سے چار روایات نقل ہوئی ہیں کہ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ'' تتجافا'' کا مصداق وہ حضرات ہیں جو خدا کی یادمیں رات کے وقت بستر کی گرمی اورنرمی سے اپنے آپ کو محروم کرکے نماز شب کے لئے کھڑے ہوجاتے اور پروردگار سے رازونیاز کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔

چنانچہ اس مطلب کو سلمان بن خالد نے امام محمد باقرعلیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

''قال الا اخبرک باالا سلام اصله وفرعه وذروةسنامه قلت بلی جعلت فداک قال:امّااصله فالصلاةوفرعه الزکاة وذروة سنا مه الجهاد ثم قال ان شئت أخبرتک باأبواب الخبر ؟قلت نعم جعلت فداک :قال الصوم جنة من النار والصدقة تذهب بالخطئیة وقیام الرجل فی جوف اللیل بذکرالله ثم فرأعلیه السلام تنجافی جنوبهم عن المضاجع'' (١)

سلیمان بن خالد امام سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام نے فرمایا اے ابن خالد کیا میں تجھے اسلام کی حقیقت سے باخبر نہ کروں ؟کہ جس کی جڑتنا

____________________

(١) اصول کافی باب دعائم السلام حدیث ١٠ ج ٢

۱۲

اور شاخیں ہوں تو سلیمان بن خالد نے عرض کیا میں آپ پر فدا ہوجاؤں کیوں نہیں اسوقت آپ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد اور جڑنماز اس کا تنا ،زکات اور اس کی شاخیںجہادہے پھر دوبارہ آپ نے فرمایا اگر تم راضی ہوتو میں تمام نیکوں کے دروازوں کا بھی تعارف کراؤں۔

تو سلیمان بن خالد نے عرض کیا آپ پر فدا ہوجاؤں تو آپ نے فرمایا روزہ انسان کو جہنم کی اگ سے نجات دیتا ہے صدقہ انسان کے گناہ کو مٹادیتا ہے اور اگر کوئی شخص رات کی تاریکی میں خدا سے رازونیاز کی خاطر بیدار ہوتو یہ خیر اور نجات کا وسیلہ ہے اور آپ نے اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

( تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ )

یعنی رات کی تاریکی میں بیدار ہونے والے اس آیہ شریفہ کا مصداق ہے۔

اس روایت میں امام علیہ السلام نے اسلام کو ایک درخت سے تشبہہ دی ہے لہٰذا قرآن کریم میں بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ اسلام شجرطیبہ کانام ہے کہ اس کی جڑ نماز یعنی نماز کے بغیر کوئی بھی عبادت اور نیکی قابل نہیں ہے اوراس کا تنازکوٰۃ اور اس کی شاخیں جہاد ہے اور تمام نیکوں کا دروازہ روزہ اور نماز شب ہے ۔

۱۳

نیز مرحوم صدوق نے اپنی گرانبہا کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں مرسلہ کے طور پر اور دوسری کتاب( علل الشرائع) میں مسند کی شکل میں نقل کیا ہے کہ امام علیہ السلام نے فرمایا :''فقال تتجافی جنوبهم عن المضاجع نزلت فی امیرالمؤمنین علیه السلام واتباعیه من شیعتنا ینامون فی اول اللیل فاذاذهب ثلثا الیل اوماشاالله فزعواالی ربهم راغبین راهبین طامعین فماعنده فذکرهم الله فی کتابه لنبیه (ص)وآخرهم بما اعطاهم وانه اسکنهم فی جواره وادخلهم جنةوامن خوفهم وامن روعتهم'' (١)

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے آیت تتجافی کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ یہ آیت حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ہمارے ان پیروکاروں کے بارے میں نازل ہوئی جو رات کے آغاز میں سوجاتے ہیں لیکن رات کے دوحصے گذرنے کے بعد یا جب خدا چاہئے تو پروردگار کی بارگاہ مین خوف و رجاء اور شوق و رغبت کے ساتھ حاضر ہو جاتے اور اللہ سے اپنی آرزؤں کی تمنا کرتے ہیں اللہ تعالی نے اسی ایت کے ذریعہ پیغمبر کو خبردی اور ان لوگوں کو دئے جانے والے درجات اور ان کو پیغمبر اکرم )ص(کے جوارمیں جگہ عطاء فرمانے اور ان کو جنت میں داخل کرکے قیامت کے خوف وہراس سے نجات دینے کے وعدہ سے مطلع فرمایا ۔

____________________

(١) من لایحضرہ الفقیۃ ج١.

۱۴

چھوتھی آیہ شریفہ :

( أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّیْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا یَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَیَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ) (١)

کیا وہ شخص جورات کے اوقات میں سجدہ کرکے اور کھڑے کھڑا خدا کی عبادت کرتا ہو اور آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہو۔

ناشکر کافرکے برابر ہوسکتا ہے (ہرگز ایسا نہیں ہے )۔

توضیح :

اس آیت کریمہ کی تفسیر کے بارے میں جناب زرارہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

فقلت (له)آنٰا اللیل ساجدا أو قائما سے مراد کیا ہے ؟

قال صلوةاللیل (٢)

یعنی زرارہ نے کہا کہ میں امام سے اس آیت کریمہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:

''آنٰا اللیل ساجدا أو قائما'' سے مراد نماز شب ہے لہٰذا اس تفسیر کی

بناء پر آیت شریفہ نماز شب کی فضیلت اور اہمیت بیان کرنے والی آیات میں سے شمارہوتی ہے ۔

پانچویں آیہ شریفہ:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ) (٣)

____________________

(١)زمرآیت نمر٩

(٢)وسائل الشیعہ ج٣.

(٣)طو ر آیت نمبر٤٩.

۱۵

اور رات کے خاص وقت میں خدا کی تسبح کرکہ جس وقت ستارے غروب ہونے کے قریب ہوجاتے ہیں۔

تفسیر مجمع البیان میں جناب طبرسی اس آیہ شریفہ کی تفسیر میں یوں بیان فرماتے ہیں:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ) ۔

سے مراد نماز شب ہے کیونکہ جناب زرارہ اورحمران اور محمد بن مسلم نے امام باقر اور امام جعفرصادق علیہما السلام سے اس آیہ کریمہ کے بارے میں روایت کی ہے :

قالا (ان) رسول الله کان یقوم من اللیل ثلاث مراة ینظر فی افاق السماء ویقرا الخمس من ال عمران آخرها انک لاتخلف المیعاد ثم یفتح صلوة الللیل (١)

____________________

(١)مجمع البیان ج٩.

۱۶

اما م محمد باقر اور امام جعفرصادق علیہالسلام دونوں نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( رات کو تین دفعہ جاگتے اورآسمان کے افق کی طرف نظر کرتے اور سورہ آل عمران کی ان پانچ آیات کی تلاوت فرماتے تھے کہ جن میں سے آخری آیہ (انک لاتخلف المیعاد) پر ختم ہوتی ہے پھر نمازشب شروع کرتے تھے ۔

نیز آیت مذکورہ کی تفسیر میں دوسری روایت یہ ہے کہ زرارہ امام باقرعلیہ السلام سے یوں نقل کرتے ہیں:

''قال قلت له وادبارالنجوم قال رکعتان قبل الصبح ''

یعنی زرارہ نے کہا کہ میں نے اما م باقر علیہ السلام سے وادبار النجوم کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد صبح سے پہلے پڑھی جانے والی دو رکعت نماز ہے لہٰذا ان دوروایتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی روایت کی بناپر آیہ شریفہ نماز شب کی اہمیت اور فضیلت بیان کرتی ہے جبکہ دوسری روایت اورکچھ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز شب نہیں ہے بلکہ نماز صبح سے پہلے پڑھی جانے والی دورکعت نافلہ مقصود ہے۔

چھٹی آیت:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ ) (١)

(اے رسول )اور تھوڑی دیر رات کو بھی اورنماز کے بعد بھی اس کی تسبیح کیا کرو۔

____________________

(١)سورہ ق آیت ٤٠.

۱۷

تفسیر آیہ:

اس آیہ شریفہ کی تفسیر اور توضیح کے بارے میں دو قسم کی روایات پائی جاتی ہیں :

وہ روایات جو دلالت کرتی ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز شب ہے چنانچہ اس مطلب کو مرحوم صاحب مجمع البیان نے یوں ذکر کیا ہے کہ اس آیہ کریمہ سے مراد نمازوتر جورات کے آخری وقت نماز شب کے بعد صبح سے پہلے پڑھی جاتی ہے اور اسی کی تائید میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے ایک روایت بھی ذکر کیا ہے لیکن کچھ دوسری روایت اس طرح کی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیہ شریفہ سے مراد نماز وتر نہیں ہے بلکہ'' لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ.لہ الملک ولہ الحمد وہوعلی کل شئی قدیر ''مراد ہے لہٰذا پہلی تفسیر اور روایت کی بناپر یہ آیہ کریمہ بھی نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کیلے دلیل بن سکتی ہے لیکن دوسری تفسیر کی بناپر یہ آیت نماز شب سے مربوط نہیں۔

ساتویں آیہ شریفہ:

( وَمِنْ اللَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیلاً ) (١)

یعنی اور کچھ رات گئے اس کا سجدہ کرو اور بڑی رات تک اس کی تسبیح کرتے رہو۔

____________________

(١)سورہ دہرآیت ٢٦.

۱۸

اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں مرحوم طبر سی نے مجمع البیان میں یوں بیان فرمایا ہے کہ آیہ شریفہ کے بارے میں امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے:

''انه سئل احمد بن محمد عن هٰذه الایةقال وماذلک التسبیح؟ قال صلوة اللیل''

یعنی احمد بن محمد نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ میں کلمہ تسبیح سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا اس سے مراد نماز شب ہے ۔

آٹھویں آیہ شریفہ:

( إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّیْلِ هِیَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِیلاً ) (١)

بیشک رات کا اٹھنا نفس کی پائمالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے۔

مشائخ ثلاثہ یعنی مرحوم کلینی صدوق اور شیخ طوسی رحمتہ اللہ علیہم معتبر سند کے ساتھ ہشام بن سالم سے وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے :

فی قول الله عزوجل ان ناشئة الیل هی اشد وطا واقوم قیلا یعنی بقوله واقوم قیلا قیام الرجل عن نراشه یریدبه الله عز

____________________

(۱) سورہ مزمل آیت ٦

۱۹

وجل ولایرید به غیره (١)

جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیہ مذکورہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

''اقوم قیلا''

سے مراد وہ شخص ہے کہ جو رات کے وقت نیند اور بستر کے لطف اندوز لذتوں کو چھوڑکر صرف خدا کی بارگاہ میں کھڑاہوجاتاہے نیز صاحب مجمع البیان نے فرمایا:

''ان ناشة اللیل معناه ان ساعات اللیل لانها تنشاء ساعة بعد ساعة وتقدیره ان ساعات اللیل الناشیئة یعنی نایشة اللیل'' سے مراد رات کے اوقات ہیں کیونکہ رات کے اوقات لحظ بہ لحظ آتے اور گذار جاتے ہیں لہٰذا آیہ شریفہ کی حقیقت یوں ہے کہ'' ساعات اللیل النا شئة'' یعنی رات کے لحظ بہ لحظ آنے اور گذرنے والے اوقات مقصود ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر سے مروی ہے :

''انهما قالا هی القیام فی آخر اللیل الی صلوة اللیل هی اشد وطاای اکثر ثقلا وابلغ شفة لان اللیل وقت الراحة والعمل یشق فیه ۔''(٢)

____________________

(١) وسائل الشیعہ ج ٥.

(٢) مجمع البیان

۲۰

مشورہ دیا کرتا تھا_ اسی عبداللہ بن سلام نے حضرت عثمان کے محاصرے کے وقت اس کی زبانی کلامی حمایت پر اکتفا کیا اور اس کی کوئی عملی مدد نہیں کی(۱) حالانکہ اس نے جناب عثمان کی عملی مدد کا وعدہ بھی کیا تھا_ اور جب جناب عثمان کا گھیراؤ کرنے والے لوگوں نے عبداللہ بن سلام کے متعلق اسے کہا کہ یہ ابھی تک بھی اپنی یہودیت پر ڈٹا ہوا ہے تو وہ اپنی یہودیت کی نفی کرنے لگا(۱) نہ صرف یہ بلکہ ابن سلام ، کعب الاحبار اور یہود و نصاری کے دوسرے زعماء و بزرگان جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا تھا وہ اسلامی حکومت کے بہت سے اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز تھے ، یہ دونوں اشخاص بہت سے اہم امور میں ا س وقت کے حکمرانوں کے مشیر اور معاون ہوتے تھے_

ہم بارگاہ خداوندی میں دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں اہل کتاب کی سیاہ کاریوں اور مسلمانوں کی سیاست ،عقائد، تفسیر، حدیث ، فقہ اور تاریخ میں ان کی ریشہ دوانیوں اور اثر گذاریوں کے متعلق ایک مستقل کتاب لکھنے کی توفیق عطا فرمائے_

____________________

۱)مندرجہ ذیل کتب میں اس کے اقوال ملاحظہ ہوں : المصنف صنعانی ج۱۱ ص ۴۴۴، ص ۴۴۵و ۴۴۶ نیز اسی کے حاشیہ میں از طبقات ابن سعد ج ۳ ص ۸۳ ، حیاة الصحابہ ج ۳ ص ۵۴۰ ، مجمع الزوائد ج ۹ ص ۹۲ و ۹۳ و الاصابہ ج ۲ ص ۳۲۱ _

۲)ملاحظہ ہو: الفتوح ابن اعثم ج ۲ ص ۲۲۳و ۲۲۴_

۲۱

۲۳

دوسری فصل :

غیر جنگی حوادث و واقعات

۲۲

حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے بعض مہاجرین کی واپسی :

جب حبشہ میں موجود مسلمانوں کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت کی خبر پہنچی تو ان میں سے (۳) مرد اور آٹھ عورتیں واپس آئیں_ جن میں سے دو مرد مکہ میں فوت ہوگئے اور سات آدمیوں کو قید کر لیا گیا لیکن باقی مدینہ میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے جن میں سے چوبیس افراد جنگ بدر میں بھی موجود تھے(۱) _

اور(حبشہ سے) مدینہ کی طرف ہجرت کا یہ سلسلہ جاری رہا(۲) یہاں تک کہ حضرت جعفرعليه‌السلام ہجرت کے ساتویں سال فتح خیبر کے موقع پر باقی ماندہ افراد کو لے کر پہنچے _ جسکا ذکر انشاء اللہ بعد میں آئے گا_

مذکورہ بالا تیس اشخاص ان افرادکے علاوہ ہیں جو بعض کے بقول بعثت کے پانچویں برس اور ہجرت مدینہ سے آٹھ سال پہلے مکہ میں واپس آئے تھے_ لیکن ان کا مکہ سے گزرنے کا سبب(حالانکہ وہ اسی شہر سے ہی بھاگ کرگئے تھے) بظاہر یہ ہے کہ چونکہ مدینہ کی طرف جانے والا راستہ مکہ کے قریب سے گزر تا تھا(۳) تو شاید وہ مکہ میں موجود ا پنے اموال کو لینے، اقربااور رشتہ داروں سے ملنے اور بیت اللہ کی زیارت سے مشرف ہونے کے بعد پھر مدینہ جانے کے ارادے سے مخفیانہ یا علانیہ طور پر مکہ میں داخل ہوئے_

لیکن قریش ان کے ساتھ قساوت قلبی اور سنگدلی کے ساتھ پیش آئے، ان کے لئے کسی قسم کے

____________________

۱) طبقات ابن سعد ج/ حصہ۱ص ۱۳۹_

۲) طبقات ابن سعد ج/۱حصہ۱ ص ۱۳۹،زاد المعاد ج/ ۱ ص ۲۵ و ج/ ۲ ص ۲۴ ، ۴۵ ، البدء والتاریخ ج/ ۴ ص ۱۵۲ و فتح الباری ج/۷ ص ۱۴۵_

۳) اور اس پر المصنف ج/۵ ص ۳۶۷ کی یہ عبارت دلالت کرتی ہے کہ ''جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کفار قریش سے برسرپیکارہوئے تو وہ مہاجرین حبشہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے پاس پہنچنے سے مانع ہوئے_یہاں تک کہ وہ لوگ جنگ خندق کے موقع پر مدینہ میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آملے''_ البتہ ان کا '' جنگ خندق کے مو قع پر '' کہنا ، ناقابل تائید ہے اور شاید خندق ، خیبر کی جگہ لکھا گیا ہے_

۲۳

احترام ، غریب الوطنی اور رشتہ داری کا لحاظ بھی نہیں کیا اور یہ بات واضح ہے کہ حبشہ کے مہاجرین کے اس گروہ کا مدینہ میں پہنچنا نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مدینہ پہنچنے کے چند مہینے بعد تھا کیونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کی خبر کاان تک پہنچنا پھر ان کا مکہ کی طرف آنا اور وہاں پر رشتہ داروں سے ملاقات کرنا اور قریش کا وہ سلوک کرنا اور پھر ان کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا یہ سب چیزیں ایک طولانی مدت کے گزرنے کی متقاضی ہیں، یہاں تک کہ عسقلانی کہتا ہے :'' ابن مسعود مکہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے تیس آدمیوں میں سے تھے اور وہ مدینہ میں اس وقت پہنچے جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جنگ بدر کی تیاریوں میں مصروف تھے''(۱) _

حضرت عائشہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌ کے گھر میں :

ہجرت کے پہلے سال (اور کہا گیا ہے کہ دوسرے سال )حضرت عائشہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیت الشرف میں آئیں اور یہ ماہ شوال کی بات ہے، مورخین نے کہا ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے علاوہ کسی دوسری کنواری عورت سے شادی نہیں کی لیکن ہم اس بات کے صحیح ہونے پر اطمینان نہیں رکھتے اور اس کی وجہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حضرت خدیجہعليها‌السلام کے ساتھ ازدواج کی بحث میں گزر چکی ہے کہ حضرت خدیجہع ليها‌السلام کی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے علاوہ کسی دوسرے آدمی سے شادی کا مسئلہ نہایت مشکوک ہے_ ہو سکا تو انشاء اللہ ہم آئندہ بھی اس کی طرف اشارہ کریںگے_

رخصتی کی رسم

اور ہمیں معلوم نہیں ہوسکا کہ کس وجہ سے حضرت عائشہ کی رخصتی کی رسم نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک اہمیت نہیں رکھتی تھی کیونکہ روایت کی گئی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے لئے ولیمہ نہیں کیا حالانکہ اس دور میں لوگوں کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ولیمہ کھانے کی توقع بھی تھی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی طاقت بھی رکھتے تھے_ صر ف یہی کچھ نقل کیا گیا ہے کہ دودھ کاایک پیالہ سعد بن عبادہ کے گھر سے آیا اور اس میں سے کچھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پیا اور باقی حضرت عائشہ(۲)

____________________

۱) فتح الباری ج/۷ ص ۱۴۵ _

۲) تاریخ الخمیس ج/۱ ص ۳۵۸ ، السیرة الحلبیة ج/۲ ص ۱۲۱ _

۲۴

نے_اسی کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس شادی کا ولیمہ قرار دینا بھی صحیح نہیں کیونکہ یہ طبعی بات ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو اپنے پاس بیٹھنے والے کو کھانا پیش کرنے سے غفلت نہیں فرماسکتے تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زوجہ کی تو بات ہی اور ہے_

انوکھا استدلال :

حضرت عائشہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک اپنی منزلت اورشان پر اس طرح استدلال فرماتی تھیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے ساتھ ماہ شوال میں ازدواج کیا تھا _ وہ کہتی تھیںکہ :

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ماہ شوال میں مجھے شرف زوجیت بخشا پس رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج میں سے کون سی زوجہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک مجھ سے زیادہ منزلت رکھتی ہے؟(۱) _

حقیقتاً یہ انوکھا استدلال ہے _ اس لئے کہ کب ماہ شوال کی اتنی عظیم فضیلت تھی جو حضرت عائشہ کی منزلت و فضیلت پر دلالت کرتی ؟_

جبکہ بلاشک و شبہہ حضرت خدیجہ اور حضرت ام سلمہ اوردیگر ازواج ،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ان کی نسبت زیادہ منزلت و عظمت رکھتی تھیں اسی وجہ سے تو یہ ان سے حسد کرتیں، ان کو اذیت دیتیں اور اکثر خودنبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے بھی ان کے ساتھ بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتی تھیں ہمارے اس دعوے کے بعض دلائل ہجرت سے پہلے حضرت عائشہ کے عقد سے بحث کے دوران ذکر ہو چکے ہیں_

اور اس سے بھی عجیب تربات یہ ہے کہ بعض حضرات نے ماہ شوال میں عقد کے استحباب کا حکم صادر کیا ہے(۲) _

لگتا یہی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کریم کی رحلت کے بعد آنے والی حکومت وقت کی دست راست اور حکومت وقت اور ان کے حامیوں کی آنکھوں کے کانٹے حضرت علیعليه‌السلام کی اچھائی کے ساتھ نام تک نہ لے سکنے والی(۳)

____________________

۱) تاریخ طبری مطبوعہ الاستقامة ج ۲ ص ۱۱۸ ، السیرة الحلبیہ ج ۲ ص ۱۲۰، تاریخ الخمیس ج ۱ ص ۳۵۸_

۲) نزھة المجالس صفوری الشافعی ج/۲ ص ۱۳۷_

۳)فتح الباری ج ۲ ص ۱۳۱، مسند احمد ج ۶ ص ۲۲۸ ،و الغدیر ج ۹ ص ۳۲۴_

۲۵

حضرت عائشہ سے کچھ لوگوں کی محبت و عقیدت ، اور ان کی خواہشات کو اہمیت دینا ہی ان لوگوں کی اس طرح کی شریعت سازی کا موجب بنا_حالانکہ خود ہی روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جویریہ اورحضرت حفصہ کے ساتھ ماہ شعبان میں اور زینب بنت خزیمہ کے ساتھ ماہ مبارک رمضان میں اور زینب بنت جحش کے ساتھ ذی القعدہ میں رشتہ ازدواج استوار فرمایا_ پس اس صورت میں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مستحب کو ترک کیا ہے اور اس پر صرف اور صرف اکیلی حضرت عائشہ کے لئے عمل کیا ہے_ یہ بات حقیقتاًتعجب آور ہے اور نہایت ہی عجیب ہے

ایک نئے دور کی ابتداء

بہر حال نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بیت الشرف میں حضرت عائشہ کے آنے سے امن و آشتی اور عظمت و وقار کے نمونہ اس گھر میں خاص قسم کی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوگئیں اوریہ گھر بہت سے ایسے اختلافات اور جھگڑوں کی جولانگاہ بن گیا جو اکثر اوقات نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے غم و غصّہ کے موجب بنتے تھے اوراکثر جھگڑوں میں حضرت عائشہ کا کردار بنیادی ہوتا تھا_

ہمارے اس مدعا پر تاریخ اور متواتر احادیث گواہ ہیں بلکہ بعض منابع کے مطابق خود حضرت عائشہ نے تصریح کی ہے کہ : ''نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیت الشرف میں رونما ہونے والے تما م اختلافات کا سبب میں ہی تھی''_

مومنین کے درمیان صلح والی آیت:

بعض مورخین نے غزوہ بدر سے پہلے کے حالات میں لکھا ہے(۱) کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک مرتبہ خزرج کے قبیلہ بنی حرث میں سعدبن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے _ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی بن سلول کے اسلام لانے سے پہلے کاہے_

____________________

۱)سیرہ حلبیہ ج۲ ص ۶۴_

۲۶

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی سواری پرسوارعبداللہ بن ابی کی ایک محفل کے قریب سے گذرے جس میں مسلمان، مشرکین، اور یہودی ملے جلے بیٹھے تھے _ ان میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھا_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سواری کی ٹاپوں سے گرد و غبار اڑا تو ابن ابی نے اپنی چادر سے ناک ڈھاپنتے ہوئے کہا:'' ہم پر گرد و غبار نہ اڑاؤ''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سواری سے نیچے اترے اور اسے مسلمان ہونے کی دعوت دی تو ابن ابی کہنے لگا : '' بھلے مانس اگر تیری باتیں سچ ہیں تو یہ سب سے بہترین باتیں ہیں لیکن تیرے کہنے کا انداز بالکل بھی صحیح نہیں ہمیں محفل میں آکر پریشان مت کرو ،جاؤ اپنی سوار ی کا رخ کرواور جو تمہارے پاس آئے تم اسے یہ باتیں سنانا''_ ابن رواحہ نے کہا:'' جی ہاں یا رسول اللہ آپ ہمارے پاس آکر ہمیں اطمینان سے یہ باتیں سنائیں کیونکہ ہمیں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ فرمائشےات پسند ہیں '' _ پھر تو مسلمانوں اور مشرکوںکے درمیان ایسی گالی گلوچ شروع ہوگئی کہ مارکٹائی تک نوبت پہنچنے والی تھی _ لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا انہیں خاموش رہنے کی برابر تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے_

اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سعد بن عبادہ کے پاس تشریف لے گئے اور سارا ماجرا اسے سنایا_ سعد نے عرض کی کہ آپ ابن ابی کو چھوڑ دیں کیونکہ جلد ہی ہم اس پر ہلہ بولیں گے _ لیکن جب وہ ان کے حملے سے پہلے اسلام لے آیا تو سعد بن عبادہ کے قبیلہ والے اس پر چڑھائی سے باز رہے _

دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور کچھ مسلمان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ ابن ابی کی طرف تشریف لے گئے تا کہ ا س کے قبیلے سے روابط برقرار کریں _جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا: ''دور ہو جاؤ مجھ سے بخدا تمہاری سواری کی بد بو سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ہے ''_ اس پرایک انصاری صحابی بولے:'' اللہ کی قسم تیرے وجود کی بوسے رسول اللہ کی سواری کی بو کہیں زیادہ پاکیزہ ہے''_ ابن ابی کے قبیلے کے آدمی کو غصہ آیا اس نے اسے گا لیاں دیں_ اب طرفین غضبناک ہوگئے اور پھر دونوں میں چھڑیوں اورجوتوں سے لڑائی ہوئی _

۲۷

اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:

( و ان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینهما ) (حجرات _۹)

اگر مومنین کے دو گروہوں میں لڑائی ہوجائے تو ان میں صلح کرادو_(۱)

تفسیر مجمع البیان میں مذکورہے کہ جس نے ابن ابی سے مذکورہ بات کی وہ عبداللہ بن رواحہ تھے اور لڑائی ابن رواحہ کے قبیلے اوس اور ابن ابی کے قبیلے خزرج کے درمیان ہوئی_

البتہ دونوں روایات قابل اعتراض ہیں _کیونکہ:

اولاً: آیت صلح پہلی روایت پہ منطبق نہیں ہوتی کیونکہ اس روایت کی روسے جھگڑا مشرکوں اور مسلمانوں کے درمیان تھادو مسلمان گروہوں کے درمیان نہیں _بلکہ دوسری روایت سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ جھگڑا مومنین کے دوگروہوں میں تھا _اگر دونوں روایات کو ایک روایت قرار دیں کیونکہ دونوں کا سیاق و سباق اور مضمون ایک ہی ہے تو پھر بھی یہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا کہ یہ آیہ مجیدہ اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہو_

ثانیاً : آیہ مجیدہ سورہ مبارکہ حجرات میں ہے جو ہجرت کے چند سال بعد نازل ہوئی _کیونکہ اس سورت کا نزول سورہ مجادلہ ، اور جنگ خندق کی مناسبت سے نازل ہونے والی سورت احزاب اور دیگر سورتوں کے نزول کے بعد ہوا_ جبکہ یہ بات گزر چکی ہے کہ مذکورہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کاہے_ ان ساری باتوں کے علاوہ روایات کے مضامین میں بھی اختلاف و تناقض پایا جاتاہے جو واضح ہے_

البتہ ایسا بھی نہیں کہ روایت سرے سے ہی ناقابل قبول اور جعلی ہو_ تا ہم ہو سکتا ہے یہ واقعہ ہجرت کے چند سال بعد سورہ حجرات کے نزو ل اور ابن ابی کے اسلام لانے کے بعد رونما ہوا ہو اور جھگڑا مومنین کے دو گروہوں کے درمیان ہو_ اس اعتبار سے دوسری روایت مضمون کے زیادہ قریب اور مناسب ہے_

____________________

۱)السیرة الحلبیہ ج/۲ ص۶۳و۶۴،درمنثورج/۶ص۹۰از مسلم، بخاری، احمد، بیہقی کی سنن ، ابن مردویہ ، ابن جریر اور ابن منذر ، حیاة الصحابہ ج/۲ ص ۵۷۸ ،۵۷۹ ، ۵۶۰از البخاری ج/۱ص ۳۷۰ ، ج/۳ ص ۸۴۵_

۲۸

سلمان محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاقبول اسلام :

پہلی ہجری میں اوربقولے اسی سال کے ماہ جمادی الاولی(۱) میں سلمان محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم المعروف سلمان فارسی (حشر نا الله معه و فی زمرته )نے اسلام قبول کیا_ یہی وہ شخصیت ہیں جن کے بارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ اہل بیت علیھم السلام نے فرمایا:''سلمان منا اهل البیت'' (۲) _

یہی وہ سلمان ہیں جنہوں نے دین حق کی تلاش میں اپنے علاقے سے ہجرت کی اور اس را ہ میں انہوں نے بہت ساری مصیبتیں اور مشکلات برداشت کیں _ یہاں تک کہ غلام ہوئے اور پھر نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھوں آزاد ہوئے(۳) _

کہتے ہیں کہ مدینہ میں ''قبا'' کے مقام پر حضرت سلمان فارسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے یہ کہہ کہ کھجوریں پیش کیں کہ یہ صدقہ ہے _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خودتو کھانے سے انکار فرمایالیکن اصحاب سے امر فرمایا کہ کھالیں تو انہوں نے یہ کھجوریں کھالیں_ حضرت سلمان نے اسے پہلی نشانی شمار کیا _

اگلی مرتبہ پھر جناب سلمان کی ملاقات آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مدینہ میں ہوئی_ اس نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں کھجوریں یہ کہہ کر پیش کیں کہ یہ تحفہ ہے _آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبول فرمایا اور کھجوریں کھالیں پس حضرت سلمان نے اسے دوسری نشانی شمار کیا _

____________________

۱)تاریخ الخمیس ج/ ۱ ص ۳۵۱_

۲)قاموس الرجال ج/۴ ترجمہ سلمان_

۳) المصنف ج / ۸ ص ۴۱۸ میںان کے اسلام لانے کا واقعہ مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سلمان فارسی کے علاقے میں ایک راہب تھا _ آپ نے بعض خاص قسم کی تعلیمات اس سے سیکھیں اور علاقے کے لوگوں کو بتائیں تو انہوں نے راہب کو اپنے علاقے سے نکال باہر کیا_ آپ اپنے اہل و عیال سے چھپ کر اس کے ساتھ وہاں سے نکلے اور موصل پہنچ گئے _ وہاں انکی ملاقات چالیس۴۰راہبوں سے ہوئی _ چند ماہ بعد ایک راہب کے ہمراہ آپ بیت المقدس گئے وہاں ایک راہب کی سخت عبادت و ریاضت اور انکی بے چینی کو دیکھا لیکن پھر جلد ہی اس کا دل اس سے بھر گیا _ وہاں انصار کے سواروں کے ایک دستے نے ان راہبوںسے حضرت سلمان کے بارے سوال کیا توانہوںنے جواب دیا کہ یہ ایک بھگوڑا غلام ہے _پس انہوں نے اسے مدینے لے جاکر ایک باغ میں کام پر لگادیا_ اس راہب نے جناب سلمان کو بتایا تھا کہ عرب سے ایک نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عنقریب ظہور کرناہے جو صدقہ نہیں کھائے گا، ہدیہ قبول کرے گا اور اسکے شانوں پر نبوت کی مہر ہوگی _ اس راہب نے آپ سے کہا تھا کہ اسکی اتباع کرنا_

۲۹

اسکے بعد حضرت سلمان کی ملاقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بقیع کے ایک نشیب میں ہوئی جہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بعض اصحاب کی تشیع جنازہ میں شریک تھے پس قریب آئے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کیا اور پیچھے پیچھے چل دیئے_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی پشت مبارک سے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ شانوں پر نبوت کی مہر موجود ہے_ پس اب وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف جھکے ،شانوں پر بوسہ دیا اور گریہ کرنا شروع کیا_ اس کے بعد اسلام قبول کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں اپنا سارا واقعہ بیان کیا _ اسکے بعد حضرت سلمان نے اپنے مالک سے اپنی آزادی کا معاہدہ کیا اور اپنی آزادی کی رقم ادا کرنے کے لئے محنت مزدوری کرنے لگا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس کی مالی امداد فرمائی _ اور پھر حضرت سلمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غلامی میں اپنی ساری زندگی گذاردی تا کہ اس آزادی کا حق ادا کرسکیں_

اس نے پہلی مرتبہ جنگ خندق میں حصہ لیا اور پھر اس کے بعد کئی جنگوں میں حصہ لیا_ ابن عبدالبر کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے پہل جنگ بدر میں حصہ لیا اور یہ نظریہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی مالی امداد کے تناظر میں زیادہ مناسب ہے _ اسکے لئے حدیث و تاریخ کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے _(۱) نیز ہماری کتاب''سلمان الفارسی فی مواجهة التحدی'' ( سلمان فارسی چیلنجوںکے مقابلے میں) بھی ملاحظہ فرماسکتے ہیں_

ایک اہم بات :

یہاں قابل ملاحظہ ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ حضرت سلمان نے ذاتی احساسات یا مفادات کی بناء پر اسلام قبول نہیں کیا اور نہ ہی کسی مجبوری یا کسی کے دباؤ یا کسی سے متاثر ہونے کی بنا پر اسلام قبول کیا بلکہ خالصتاً اپنی عقل و فکر اور سوچ و بچار کے ساتھ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے_ دین حق تک پہنچنے کے لئے انہوں نے بہت سعی و کوشش کی اور اس راہ میں بہت سی رکاوٹوں، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا _ اور یہ بات اس دین کے فطری ہونے نیز عقل کے احکامات اور سالم فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہونے کی تائید کرتی

____________________

۱)بطور مثال قاموس الرجال ج/۴ ، الاصابہ ج/ ۲ ص ۶۲ ، الاستیعاب اور دیگر کتابیں_

۳۰

ہے_ اسی طرح کی باتیں ہم حضرت ابوذرکے اسلام قبول کرنے کے واقعات میں بیان کرچکے ہیں، وہاں ملاحظہ فرماسکتے ہیں_

رومہ کا کنواں حضرت عثمان کے صدقات میں :

بعض نے حضرت عثمان کے فضائل میں لکھاہے کہ جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو سوائے رومہ کے کنویں کے کوئی اور ایسا کنواں نہ تھا جس سے صاف اور میٹھا پانی پیا جاتا_ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' کون ہے جو اپنے ذاتی مال سے اس کنویں کو خریدے اور اپنی بالٹی اور دیگر مسلمانوںکی بالٹیاں اس میں قرار دے (یعنی سب مسلمانوں کے لئے وقف کردے ) تو اسے جنت میں اپنی پسند کا اس سے بھی اچھا کنواں ملے گا؟ ''پس حضرت عثمان نے اپنے خالص مال سے اس کنویں کو خریدا اور اس کنویں میں اپنی اور مسلمانوں کی بالٹیاں ڈال دیں_ لیکن جب حضرت عثمان کا محاصرہ ہو اتو لوگوں نے انہیں اس کنویں سے سخت پیاس کی صورت میں بھی پانی نہیں پینے دیا تھا حتی کہ وہ مجبور ہوکر سمندر کا پانی پینے لگے تھے _

لیکن ان روایات میں شدید اختلاف پایا جاتاہے_ہم بعدمیں مدارک و مصادر کی طرف اشارہ کریں گے_ انہی اختلافات کی وجہ سے ہمیں ان کے صحیح ہونے کے بارے شک ہے_یہ اختلافات مندرجہ ذیل ہیں:_

اولاً : روایات میں اتنا تناقض و اختلاف ہے کہ کوئی ایک روایت بھی دوسری سے نہیں ملتی _مثلاً کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان کے خلاف بغاوت ہوئی توانہوں نے باغیوں کو رومہ کے کنویں والے واقعہ کا واسطہ دیا لیکن یہاں روایتوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے _ ایک روایت تو یہ کہتی ہے کہ جب وہ اپنے گھر میں محاصرے میں تھے تو تب انہوں نے لوگوں کے سامنے آکر یہ بات کی تھی جبکہ ایک اور روایت کہتی ہے کہ اس وقت وہ مسجد میں تھے _ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے آدھا کنواں سو اونٹنیوں کے عوض اور باقی آدھا ایک آسان نرخ پہ خریدا_دوسری روایت کہتی ہے کہ چالیس ہزار کا کنواں خریدا ایک اور روایت میں

۳۱

ہے کہ ۳۵ اونٹینوں کے عوض خریدا_ چوتھی روایت ہے کہ آدھا کنواں بارہ ہزار درہم میںاور باقی آدھا آٹھ ہزار میں خریدا_

ایک اور روایت اس بارے میں یہ ہے کہ یہ کنواں ایک یہودی کا تھا_ کوئی بھی قیمت ادا کئے بغیر اس سے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پی سکتا تھا_ایک اور روایت کہتی ہے کہ یہ کنواں قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کا تھا_ تیسری روایت کہتی ہے کہ یہ کنواں بنی غفار کے ایک شخص کی ملکیت تھا_ یہاں ایک روایت یہ کہتی ہے کہ حضرت عثمان نے کنواں خریداجبکہ دوسری یہ کہتی ہے کہ انہوں نے کنواں کھودا _ لوگ دونوں روایتوں کو جمع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے پہلے کنواں خریدا لیکن اسکے بعداسے دوبارہ کھودنے کی ضرورت پڑ گئی_(۱) لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ اس کا ذکر حضرت عثمان نے اس وقت کیا تھا جب اصحاب کو اس کی قسم دی تھی اور یہ واقعہ صرف ایک ہی مرتبہ ہواتھا_

ایک روایت یہ کہتی ہے کہ یہ چشمہ تھا جو زمین پر جاری تھا جبکہ دوسری کہتی ہے کنواں تھا_ ایک روایت کہتی ہے کہ حضرت عثمان نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کے مدینہ پہنچنے پر کنواں خریدا _ لیکن دوسری روایت کی حکایت یہ ہے کہ جب خلیفہ تھے تب یہ کنواں خریدا تھا_

ایک روایت میں ہے کہ خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے کنواں خریدنے کو فرمایا _دوسری روایت یہ کہتی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں میں اعلان کرایا کہ کوئی ہے جو کنواں خریدے_ تیسری روایت کا کہناہے کہ اس غفاری (کنویں کے مالک ) نے جنت میں دو چشموں کے بدلے بھی پاک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھوں اسے بیچنا گوارا نہ کیا _جب یہ بات حضرت عثمان کو معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے ۳۵ ہزار میں خریدا(۲) _

____________________

۱)اس توجیہ کو سمہودی نے وفاء الوفاء ج/ ۳ ص ۹۷۰ میں ذکر کیا ہے_

۲)ان روایات کا مطالعہ فرمائیں اور ان کا آپس میں تقابل کریں_وفاء الوفاء للسمھودی ج / ۳ ص ۹۶۷ _ ۹۷۱ ، سنن نسائی ج/۶ ص ۲۳۴، ۲۳۵ ، ۲۳۶ ، منتخب کنز العمال ج/۵ ص۱۱ ، حیات الصحابہ ج/۲ ص ۸۹ از طبرانی وابن عساکر ، مسند احمد ج /۱ ص۷۰ ، ۷۵ ، السیرة الحلبیہ ج/۲ ص۷۵ ، اسی طرح بغوی، ابن زبالہ، ابن شبة، ابن عبدالبر، الحازمی، ابن حبان، ابن خزیمہ سے بھیروایت کی گئی ہے ، الترمذی ص ۶۲۷ ، حلیة الاولیاء ج/۱ ص ۵۸ ، البخاری حاشیہ فتح الباری ج/۵ ص ۳۰۵ ، فتح الباری ج ۵ ص ۳۰۵ ، ۳۰۶ ، سنن بیہقی ج/ ۶ ص ۱۶۷ ، ۱۶۸نیز التراتیب الاداریہ _

۳۲

اختلافات اور تناقضات کی فہرست طولانی ہے جن کے ذکر کا موقع نہیں _اگر کوئی چاہے تو ان کتابوں کی طرف رجوع کرسکتاہے جن کے ہم نے حوالے دیئے ہیں_

ثانیاً : نسائی، مسند احمد اور ترمذی جیسی کتب میں ایک روایت مذکور ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب مدینہ تشریف لائے تووہاں میٹھا اور پینے کے قابل پانی نہ تھا_ یہ بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے کیوں کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو میٹھے پانی کے کافی سارے کنویں تھے_ جن کنوؤں سے حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زندگی بھر پانی استعمال فرمایا_ ان کنوؤں میں سے اسقیا، بضاعہ، جاسوم اور دار ا نس کے کنویں تھے جن میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا لعاب دین پھینکا تو اسکے بعد مدینے میں ان سے زیادہ میٹھے پانی کا کوئی اور کنواں نہ تھا(۱) اس کے علاوہ بہت سارے کنویں تھے اس سلسلے میں وفاء الوفاء کے باب '' آبار المدینہ'' کا مطالعہ کرسکتے ہیں _

ثالثاً : اگر رومہ کے کنویں والی حدیث صحیح مان لی جائے تو پھر مندرجہ ذیل جواب طلب سؤالات سامنے آتے ہیں_

۱_حضرت عثمان جو حبشہ سے تازہ آئے تھے اور انکے پاس کوئی مال و متاع بھی نہ تھا تو پھر چالیس ، پینتیس یا بیس ہزار درہم اور سو اونٹنیاں کہاں سے آگئیں _ انہوں نے کب اور کس طرح یہ مال کمایا؟_

۲ _ حضرت عثمان نے جنگ بدر کے موقع پر اتنی بڑی رقم کے ہوتے ہوئے مدد کیوں نہ کی ؟ یا ان اونٹیوں میں کوئی چیز کیوں خرچ نہ کی جو روایات کے بقول یہ ان کا خالص ذاتی مال تھا؟ حالانکہ اس وقت مسلمانوں کو چھوٹی سے چھوٹی چیز کی بھی اشد ضرورت تھی _کیونکہ دو یا تین افراد ایک ہی اونٹ پر بیٹھتے تھے اوران کے پاس صرف ایک ہی گھوڑا تھا _ مسلمانوں کے پاس صرف چھ عدد زر ہیں اور آٹھ عدد تلواریں تھیں جبکہ باقیوں نے ڈنڈوں اور کھجور کی چھڑیوں کے ساتھ جنگ کی _ اسکا اور اس کے منابع کا ذکر آئے گا_

حضرت عثمان نے اپنے اموال سے بالکل بھی مدد نہ کی ؟ کیا پھر بھی یہ بات درست اور معقول ہے کہ انہوں نے اپنے پاس موجود سب کچھ لٹا دیا اور خالی ہاتھ ہوگئے؟

____________________

۱) وفاء الوفاء للسمھودی ج/ ۳ ص ۹۵۱ ، ۹۵۶ ، ۹۵۸ ، ۹۵۹ ، ۹۷۲_

۳۳

حضرت عثمان نے کیونکر غریب مسلمانوں کو کھانا نہ کھلایا ، انکی ضروریات کو پورا نہ کیا اور انصار کی مدد نہ کی ؟ خود پیامبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدد کیوں نہ کی _ جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شدید اقتصادی بحران کا شکار تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مسلمانوں کی معاشی حالت ہجرت کے چند سال بعدجاکے کہیں ٹھیک ہوئی؟

۳_ بعض روایات کہتی ہیں کہ حضرت عثمان کو اس کنویں کا پانی پینے سے منع کردیا گیا جس سے وہ سمندر کا پانی پینے پر مجبور ہوگئے_ یہ بات واقعاً بہت عجیب ہے پس اگر حضرت عثمان پانی حاصل کرسکتے تھے تو انہوں نے مدینہ میں دسیوں کی تعدا میں موجود دیگر کنوؤں کا میٹھا پانی کیوں استعمال نہیں کیا ؟_

کیونکہ جس شخص نے پانی پینے سے منع کیا تھا وہ تو چاہتا تھا کہ ان تک کسی طرح کا کوئی پانی ، کہیںسے بھی نہ پہنچے_ کیونکہ بقول ان کے حضرت عمار یاسر اس تک پانی پہنچانے لگے تو طلحہ نے انہیں منع کردیا _(۱)

پس جب تک حضرت علیعليه‌السلام نے اپنے بچوں کے ہمراہ پانی نہیں پہنچایا تب تک انہیں پانی میسر نہیں آیا اور واضح ہے کہ آپعليه‌السلام نے اس کام سے اپنے خاندان کو خطرات میں جھونک دیا_ کیا یہ درست ہے کہ انہوں نے واقعا سمندر کا پانی پیا تھا؟_ جبکہ سمندر کا فاصلہ مدینہ سے بہت زیادہ دور ہے _ یا یہ نمکین اور کھارا پانی استعمال کرنے سے کنایہ ہے ؟ ؟

۴_ اگر حضرت عثمان نے یہ سارا مال صدقہ کیاتھا تو کیوں ان کی مدح میں ایک آیت بھی نازل نہیں ہوئی جو اس عمل کی تعریف کرتی جبکہ حضرت علیعليه‌السلام نے مختلف اوقات میں '' جو کی تین روٹیاں'' ، '' انگوٹھی'' ، '' چاردرہم'' اسی طرح '' نجوی'' کے واقعہ میں صدقے دیئے تو مختلف آیات کے نزول سے تعریف کے مستحق بنے لیکن حضرت عثمان کئی ہزار درہم اورایک سو اونٹنیاں صدقہ دینے پر بھی کسی تعریف کے مستحق نہیں ٹھہرے بلکہ خدا نے ان کے متعلق ایک کلمہ یا ایک حرف تک بھی ارشاد نہیں فرمایا ؟ اس کے برعکس وہ روایت جو اس عظیم فضیلت کو بیان کرتی ہے اس میں بہت زیادہ تناقض پایا جاتاہے اور وہ علمی اور آزاد تنقید کے سامنے بالکل نہیں ٹھہرتی _ اس کے علاوہ انہوںنے بھی دوسرے صحابہ کی طرح ایک درہم کا صدقہ دے کر ''آیت

____________________

۱)وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۴۵_

۳۴

نجوی'' پر عمل کیوں نہیں کیا ؟ یہاں تک کہ اصحاب کی مذمت میں آیت نازل ہوئی_ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گفتگو سے قبل صدقہ دینے سے کترانے پر ان کی بھی دوسرے صحابہ سمیت مذمت کی ہے _

'' اریس'' کا کنواں

بالا خر ہم یہ نہیں جان سکے کہ صرف '' رومہ'' کے کنویں کو اتنی عزت و عظمت کیسے ملی اور اریس کے کنویں کے ساتھ ایسا کیوں نہ ہوا ؟ _ جبکہ دعوی یہ ہے کہ یہ کنواں بھی حضرت عثمان نے ہی ایک یہودی سے خریدا تھا_ پھر اسے وقف بھی کردیا تھا _(۱) اللہ تعالی حضرت عثمان کو کنوؤں کے معاملے میں برکت دے لیکن یہودیوں کو تو اس غم اور غصہ سے مرجانا چاہئے تھا کیونکہ کنویں تو وہ کھودتے تھے لیکن ان سے حضرت عثمان خرید خرید کر وقف کردیتے تھے اور یہ سب فضیلت ، کرامت اور عظمت حاصل کرتے جاتے تھے _

مسئلے کی حقیقت

ظاہراً صحیح بات وہی ہے جو '' عدی بن ثابت '' کے ذریعہ سے ابن شبہ کی روایت میں آئی ہے کہ مزینہ قبیلے کے ایک شخص کو '' رومہ '' نامی کنواں ملاتو اس نے اس کا ذکر حضرت عثمان (جو اس وقت خلیفہ تھے) سے کیاتو انہوں نے یہ کنواں بیت المال سے ۳۰ ہزار درہم کا خریدکر اسے مسلمانوں کے لئے وقف کردیا(۲) _

لیکن سمہودی نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ روایت متروک ہے اور زبیر بن بکار نے اپنی کتاب ''عتیق'' میں اس روایت کو بیان کیا ہے_لیکن وہ اسے رد کرتے ہوئے کہتاہے:'' یہ درست نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ثابت یہ ہے کہ حضرت عثمان نے یہ کنواں رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں اپنے مال سے خریدکر اسے وقف کردیا تھا''(۳) _

____________________

۱) وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۶۸_

۲)وفاء الوفاء ج/ ۳ ص ۹۶۷ از ابن شبة _اس روایت کو زبیر بن بکار نے بھی روایت کیاہے_

۳)گذشتہ حوالہ_

۳۵

جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ روایات جن کی طرف زبیر بن بکار نے اشارہ کیا ہے کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہیں _خصوصاً جبکہ ان روایات میں بہت اختلاف اور تناقض پایا جاتاہے اور ان روایات پہ ایسے اعتراضات بھی گزر گئے ہیں کہ جن کا کوئی جواب نہیں نیز ان روایات کی اسنا د و مدارک میں بھی بہت سے اعتراضات ہیں _ ایسے حالات میں روایت مذکور کی سند میں متروک شخص کے ہونے میں کوئی حرج نہیں _ اور اسے ماننا ہی پڑے گا کیونکہ یہ روایت اس زمانے کے حالات اور تاریخی واقعات سے مطابقت بھی رکھتی ہے_ اور بقیہ روایات بھی صحیح نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہ ساری کی ساری حضرت عثمان کی فضیلت بنانے کے لئے گھڑی گئی ہیں_

البتہ مذکورہ بالا روایت کا یہ جملہ ہم نہیں سمجھ سکے '' انہوں نے بیت المال مسلمین سے ۳۰ ہزار درہم کا کنواں خریدا اور پھر مسلمانوں کے لئے اسے وقف کردیا ...'' _اگر یہ کنواں مسلمانوں کے اموال سے خریدا گیا تھا تو پھر مسلمانوں ہی کے لئے وقف کرنے کا کیا معنی ہے؟ہاں اس صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ در حقیقت بیت المال کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھتے تھے اس لئے اسے وقف کہتے تھے _ اور ہم نے ان کے اس نظریئے پر کچھ دلائل اور قرائن بھی بیان کئے ہیں اس لئے آپ ملاحظہ فرماسکتے ہیں(۱)

کھجور کی پیوندکاری

کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مدینہ تشریف لائے اور کھجوروں کی پیوند کاری کر نے والے کچھ افراد کے قریب سے گذرے ( یا ان کا شور سنا ) تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے فرمایا اگر تم اس کام کو چھوڑ دو تو بہتر ہوگا _ ان لوگوں نے اس کام کو چھوڑ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کھجوریں نرم گٹھلی والی اور خراب نکل آئیں _ پھر ایک روز ان کے قریب سے گزرے یا ان سے یہ بات ذکر کی گئی، تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے استفسار فرمایا کہ کیا ہوا تمہاری کھجوروں کو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہی تو ایسا کرنے کو کہاتھا (لہذا اس کا نتیجہ واضح ہے)_آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

۱) ملاحظہ ہو ہماری کتاب : دراسات و بحوث فی التاریخ و الاسلام ، بحث ''ابوذر ، سوشلسٹ ، کیمونسٹ یا مسلمان ؟''_

۳۶

نے فرمایا:'' تم لوگ دنیاوی امور کو مجھ سے بہترجانتے ہو'' _ یا یہ فرمایا : ''اگر مفید تھا تو انہیں ویساہی کرنا چاہئے تھا میں نے تو یوں ہی ایک گمان کیا تھا_ لہذا تم لوگ اس گمان کی وجہ سے میرا مؤاخذہ نہیں کرسکتے _ البتہ میں جب اللہ تعالی کی کوئی بات تمہیں بتاؤں تو تم اس پر ضرور عمل کرو کیونکہ میں خدا پر ہرگز جھوٹ نہیں بولتا''_(۱)

ہمیں اس روایت کے صحیح ہونے میں شک ہے _کیونکہ اس روایت کی نصوص میں بھی اختلاف پایا جاتاہے _اس کے علاوہ مندرجہ ذیل چند سوالات کا پوچھنا ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایسے کاموں میں مداخلت کیوں کرتے تھے جن سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کوئی واسطہ ہی نہ تھا اور نہ ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان میں کوئی مہارت حاصل تھی ؟

کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نہیں جانتے تھے کہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں _ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ہرلفظ پر عمل کرتے اور اس سے متاثر ہوتے ہیں ؟ ؟_

لوگ اتنے بڑے نقصان پر کیسے راضی ہوگئے؟ پھرآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشور ے کے نتیجہ میں ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون تھا؟ پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ کہنا کیسا ؟ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تو وہ ہیں جنہوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص کو حکم دیا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو کچھ بھی سن رہاہے سب تحریر کرے کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبان مبارک سے سوائے حق کے کوئی چیز نہیں نکلتی ؟ یہ روایت بہت مشہور و معروف ہے _ یہ روایت اپنے مآخذو مدارک کے ساتھ پہلی جلد میں بیان ہوچکی ہے ، وہاں ملاحظہ فرمائیں_

اسی طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سن مبارک اس وقت (۳۳ تینتیس) سال سے زیادہ تھا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عرب خطے کے مرکزی حصے کے رہنے والے تھے_ کیا ہم اس بات کی تصدیق کرسکیں گے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پیوند کاری اور اس کے فوائد کو نہیں جانتے تھے اور یہ کہ کھجور اسکے بغیر کوئی نتیجہ نہیں دیتی؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زندگی کا

____________________

۱)صحیح مسلم ج/۷ ص ۹۵، سنن ابن ماجہ ج/۲ ص ۸۲۵ کتاب الرھون باب ۱۵، مسنداحمد ج/۶ ص۱۲۳نیز ج ۳ ص ۱۵۲، البر صان والعرجان ص ۲۵۴، مشکل الآثارج/۲ص۲۹۴، کشف الاستار عن مسند البزار ج ۱ ص ۱۱۲ ، مسند ابویعلی ج ۶ ص ۱۹۸و ۲۳۸ و صحیح ابن حبان مطبوعہ مؤسسة الرسالہ ج ۱ ص ۲۰۱_

۳۷

ایک بڑا عرصہ اس کے متعلق کچھ بھی نہ سنا ہو حالانکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انہی عربوں کے درمیان اور ان کے ساتھ رہتے تھے یا کم از کم ان کی ہمسائیگی میں تو تھے؟

بالآخر کیا یہ صحیح ہے کہ دنیاوی امور میں لوگوں پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت واجب نہ تھی؟ اور یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی رائے بیان فرمائی تھی؟ کیا یہ درست ہے کہ اسلام، دین اور دنیا میں فاصلے کا قائل ہو اور اس دین مقدس کا کل ہم و غم دنیاوی امور نہ ہوں بلکہ صرف اخروی امور ہوں ؟ کیا یہ اسلام پر بہتان اور تہمت نہیں ہے ؟ کیا یہ سب کچھ اسلام اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے برخلاف نہیں ؟اور کیا یہ سیکو لرازم کی طرف اشارہ نہیں ؟ اور اسلام کو صرف عبادت گا ہوں میں منحصر کرنے کی ابتداء نہیں ؟

۳۸

۴۱

تیسری فصل :

ابتدائے ہجرت میں بعض اساسی کام

۳۹

تمہید:

مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بہت سے ایسے بنیادی کام انجام دیئے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اسلامی دعوت کے مستقبل سے مربوط تھے، یہ کام مختلف نوعیت کے تھے ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں_

۱: نماز جمعہ کا انعقاد_

۲ : مسجد قبا کی تعمیر،ان دونوں کا موں کے متعلق ہم پہلے بحث کرچکے ہیں_

۳ : مدینہ میں مسجد کی تعمیر _اس بارے میں ایک علیحدہ فصل میں بات کریں گے_

۴ : ہجری تاریخ کا آغاز _اس کے لئے بھی ایک علیحدہ فصل مخصوص کی گئی ہے_

۵ : مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ_

۶ : مسلمانوں کے آپس میں آئندہ تعلقات نیز غیر مسلم اقوام کے ساتھ ان کے روابط

کی نوعیت اور حدود کا تعین_

۷ : علاقے میں بسنے والے یہودیوں سے صلح :

اور ان مؤخر الذکر تین امور کے لئے بھی علیحدہ فصل رکھی گئی ہے_

اس سلسلے میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کچھ اور کام بھی انجام دیئے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ہم ان کی طرف اشارہ کریں گے ، یہاں ہم مؤخر الذکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پانچ کاموں کی وضاحت کرتے ہیں اور ابتدا ہجری تاریخ کے آغاز سے کرتے ہیں_

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179