فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب33%

فلسفہ نماز شب مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 179

فلسفہ نماز شب
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 179 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 90775 / ڈاؤنلوڈ: 3689
سائز سائز سائز
فلسفہ نماز شب

فلسفہ نماز شب

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

اسلام انسان کو انسانی زندگی گزارنے کی ترغیب اور حیوانوں کی طرح زندگی کرنے سے منع کرتا ہے کہ جس کے نتیجے میں حیوانوں کے زمرے میں زندگی گذارنے والے افراد نظام اسلام کو سلب آزادی اور خواہشات کے منافی سمجھتے ہیں لہٰذا اس روایت میں ایسی خام خیالی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، اگر کسی وقت مادی لذت اور معنوی اور روحی لذتوں کا آپس میں ٹکراؤہو یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ عشق انسانی عشق خدا کے ساتھ ٹکراجائے تو عشق الٰہی کو عشق انسانی پر مقدم کیا جائے کہ جس کے نتیجہ میں خدا وند ابدی زندگی میں خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئے گا لہٰذا نمازی اور اسلام کے اصولوں کی پابندرہنے والے کسی مادی لذت سے محروم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اگر کوئی شخص آدھا گھنٹہ کے ارام کو چھوڑدے اور نماز شب انجام دے تو خدا قیامت کے دن اس کے بدلے میں دائمی لذت عطا فرمائے گا لہٰذا اس مختصر وقت کی مادی لذت کا قیامت کی دائمی لذت کے حصول کی خاطر ترک کرنا لذت مادی سے محروم نہیں ہے ۔

٧۔نماز شب پڑھنے کا ثواب

انسان روز مرہ زندگی میں جو کام انجام دیتا ہے وہ دوطرح کا ہے۔

١۔ نیک ۔

٢۔ بد ۔

نیک عمل کو قرآن وسنت میں عمل صالح سے یادکیا گیا ہے جب کہ بداوربرُے اعمال کو غیر صالح اور گناہ سے یاد کیا گیا ہے مندرجہ زیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر عمل صالح کا نتیجہ ثواب ہے اورہر بُرے اعمال کا نتیجہ عقاب ہے لیکن ثواب اور عقاب کا استحقاق اور کمیت وکیفیت کے بارے میں محققین اور مجتہدین کے مابین اختلاف نظر ہے علم اصول اور علم کلام میں تفصیلی بحث کی گئی ہیں اس کا خلاصہ ذکر کیا جاتا ہے ۔

ثواب وعقاب کے بارے میں تین نظرئیے ہیں:

١) ثواب وعقاب اور جزاء وعذاب جعل شرعی ہے۔

٢)عقاب وثواب جعل عقلائی ہے ۔

٣) دونوں عقلی ہے یہ بحث مفصل اور مشکل ترین مباحث میںسے ایک ہے۔

۶۱

جس کا اس مختصر کتاب میں نقدوبررسی کی گنجائش نہیں ہے فقط اشارہ کے طور پر ثواب وعقاب کے بارے میں استاد محترم حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی کا نظریہ قابل توجہ ہے کہ آپ نے درس اصول کے خارج میں فرمایا کہ ثواب وعقاب کا استحقاق عقلی ہے لیکن ثواب وعقاب کا اہدٰی اور اعطا امر شرعی ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی نیک کام کو انجام دے تو عقلا عمل کرنے والا مستحق ثواب ہے اسی طرح اگر کوئی شخص کسی برے کام کا مرتکب ہو تو عقاب وسزا کا عقلا مستحق ہے لیکن ان کا اہدی کرنا اور دنیا امر شرعی ہے یعنی اگر مولٰی دنیا چاہے تو دے سکتا ہے نہ دنیا چاہے تو مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ عبد کسی چیز کا مالک نہیں ہے لہٰذا ثواب وعقاب کا مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں رکھتا ہے پس ثواب وعقاب ہر نیک اور بد عمل کا نتیجہ ہے کہ جس کی طرف حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے :

''مامن عمل حسن یعمله العبد الا وله ثواب فی القرآن الاصلوة اللیل فان الله لم یبین ثوابها لعظیم خطرها عنده فقال تتجا فاجنوبهم عن المضاجع فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین جزاء بما کا نو یکسبون ''(٣)

یعنی ہر نیک کام جیسے بندہ انجام دیتا ہے تو اس کا ثواب بھی قرآن میں مقرر کیا گیا ہے مگر نماز شب کا ثواب اتنازیادہ ہے کہ جس کی وجہ سے قرآن میں اس کا ثواب مقرر نہیں ہوا ہے (لہٰذا )خدا نے (نماز شب کے بارے میں ) فرمایا کہ( تتجافا جنوبهم عن المضاجع ) یعنی نماز شب پرھنے والے اپنے پہلوں کو رات کے وقت بستروں سے دور کیا کرتے ہیں اور اس طرح فرمایا :( فلا تعلم نفس ما اخفی من قرة عین بما کا نو ایکسبون ) یعنی اگر کوئی شخص نماز شب انجام دے تو اس کا مقام اور ثواب مخفی ہے اسے وہ نہیں جانتے ۔

____________________

(٣)بحارج ٨ ص٣٨٢

۶۲

توضیح وتفسیر

توضیح اس حدیث شریف میں فرمایا کہ ہر نیک کام کرنے کے نتیجہ میں ثواب ہے اور ان کا تذکرہ بھی قرآن میں کیا گیا ہے صرف نماز شب کے ثواب کو قرآن میں مقرر نہیں کیا گیا ہے اس کی علت یہ ہے کہ اس کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ جیسے خالق نے پردہ راز میں رکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب تمام مشکلات کو دور کرنے کا ذریعہ کامیابی کا بہترین وسیلہ اور سعادت دنیا وآخرت کے لیے مفید ہے لہٰذا خدا سے ہماری دعا ہے کہ ہم سب اس نعمت سے مالامال ہوں پس مذکورہ آیات وروایات سے نماز شب کی اہمیت اور عظمت قرآن وسنت کی روشنی میں واضح ہوگئی ۔

ج۔نماز شب اور چہاردہ معصومین )ع( کی سیرت

الف: پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت

مذہب تشیع کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ انبیاء وائمہ علیہم السلام کے علاوہ حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) جیسی ہستی کو بھی معصوم مانتے ہیں کہ جو ہماری کتابوں میں چہاردہ معصومین کی عنوان سے مشہورہیں جن میں سے پہلی ہستی حضرت پیغمبر اکرم )ص(ہے اور پیغمبر اکرم )ص( اور باقی انسانوں کے مابین کچھ احکام الہیہ میں فرق ہے یعنی خدا کی طرف سے کچھ احکام پیغمبر اکرم )ص( پر واجب ہے جبکہ یہی احکام دوسرے انسانوں کے لئے مستحب کی شکل میں بیان ہوئے ہیں جیسے نماز شب پس اسی مختصر تشریح سے بخوبی یہ علم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم )ص(کی سیرت میں نماز شب کا کیا نقش واثر تھا لہٰذا پیغمبر اکرم کی سیرت طیبہ پر چلنے کی خواہش رکھنے والوں کو نماز شب ہمیشہ انجام دینا ہوگا کیونکہ آنحضرت بطور واجب ہمیشہ انجام دیتے تھے

ب۔حضرت علی کی سیرت

چہاردہ معصومین میں سے دوسری ہستی حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں اگر ہم نماز شب کے بارےے میں علی کی سیرت جاننا چاہے تو علی کے ذرین جملات سے آگاہ ہونا صروری ہے آپ نے فرمایا جب پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا نماز شب نورہے تو میں نے اس جملہ کے سننے کے بعد کبھی بھی نماز شب کو ترک نہیں کیا اس وقت ابن کویٰ نے آپ سے پوچھا یاعلی کیا آپ نے لیلۃ الھریر کو بھی نہیں چھوڑی ؟ جی ہاں.

۶۳

توضیح :

لیلۃ الہریر سے مراد جنگ صفین کی راتوں میں سے ایک رات ہے کہ جس رات امرالمومنین کے لشکر نے دشمنوں سے مقابلہ کیا اور خود حضرت علی نے دشمنوں کے پانچ سو تئیس (٥٢٣) افراد کو واصل جہنم کیا اس فضا اورماحول میں بھی حضرت علی نے نماز شب کو ترک نہیں فرمایا(١)

یہی نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کی بہترین دلیل ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے تمام تر سختیوں اور مشکلات کے باوجود قرآن وسنت کی حفاظت کی خاطر بہتر (٧٥) جنگہوں میں شرکت کی اور ہر وقت اصحاب سے تاکید کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ ہماری کامیابی صرف واجبات کی ادائیگی میں نہیں ہے بلکہ نماز شب جیسے نافلہ میں پوشیدہ ہے اسی لئے آپ سے منقول ہے کہ ایک دن ایک گروہ حضرت علی کے پیچھے پیچھے جارہے تھے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ماننے والے ہیں آپ نے فرمایا تو پھر کیوں ہمارے ماننے والوں کی علامات تم میں دیکھائی نہیں دیتی۔

تو انہوں نے پوچھا آپ کے ماننے والوںکی علامت کیا ہے ؟آپ نے فرمایا کہ ان کے چہرے کثرت عبادت سے زرد اور بدن کثرت عبادت کی وجہ سے کمزور ،زبان ہمیشہ ذکر الہی کے نتیجہ میں خشک اور ان پر ہمیشہ خوف الہی غالب آنا ہمارے پیروکاروں کی علامتیں ہیں کہ جو تم میں نہیں پائی جاتی ،(۲)

پس خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی کی سیرت نماز شب کے بارے میں وہی ہے جو حضور اکرم اور باقی انبیاء علیہم السلام کی تھی

____________________

(١)کتاب صفات الشیعہ

(۲)بحارالانوار ج ٢١

۶۴

ج۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت

چہاردہ معصومین )ع( میںسے تیسری ہستی حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا ) ہے کہ جو عبادات اور تہجد میں ایسی سیرت کے مالک ہے کہ جس کے پیغمبر اکرم )ص( اورعلی علیہ السلام تھے لہٰذا جب آپ محراب عبادت میں مشغول عبادت ہوتی تھی تو فرشتے دولت سراء میں حاضر ہوجاتے تھے اور آپ کے گھریلوکاموں کو انجام دیتے تھے کہ اس مطلب کو حضور اکرم کے مخلص صحابی جناب ابوذر غفاری نے یوں بیان کیا ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرم نے مجھے حضرت علی کو بلانے کے لئے بھیجا تو میں نے دیکھا کہ علی اور زہرا (سلام اللہ علیہا ) مصلی پر عبادت الہٰی میں مشغول ہیں اور چکی بغیر کسی پسینے والے کے حرکت کر ر ہی تھی میں نے اس منظرکو پیغمبر ؐکی خدمت میں عرض کیا تو پیغمبر اکر م ؐنے فرمایا اے ابوذر تعجب نہ کیجئے کیونکہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا ) کی اتنی عظمت اور شرافت خدا کی نظر میں ہے کہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کے گھریلو ذمہ داریوں میں سے ایک چکی چلانا بھی ہے لیکن جب زہرا (سلام اللہ علیہا ) خدا کی عبادت میںمصروف ہوجاتی ہے تو خدا ان کی مدد کےلئے فرشتے مأمور فرما تے ہیں لہٰذا چکی کو چلانے والے فرشتے ہیں نیز امام حسن مجتبٰی علیہ السلام نے فرمایا جب ہماری والدہئ گرامی شب جمعہ کو شب بیداری کرتی تھی تو نماز شب انجام دینے کے بعد جب صبح نزدیک ہوجاتی تو مؤمنین کے حق میں دعائیں کرتی تھی لیکن ہمارے حق میں نہیں کرتی تھی میں نے پوچھا ہمارے حق میں دعا کیوں نہیں فرماتیں تو آپ نے فرمایا پہلے ہمسائے کے حق میں دعا کرنا چاہیئے پھر خاندان پس حضرات زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت پر چلنے کی خواہش رکھنے والی خواتین کو چاہے کہ نماز شب نہ بھولے کیونکہ نماز شب ہی میں تمام سعادتیں پوشیدہ ہے ۔

۶۵

د۔حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی سیرت

جس طرح جناب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا )کی معرفت وعظمت سے ابھی تک اہل اسلام بخوبی آگاہ نہیں ہوسکے اسی طرح جناب زینب کبری (سلام اللہ علیہا ) کی انقلاب ساز شخصیت سے آشنا ئی نہیں رکھتے لہٰذا بی بی زینب (سلام اللہ علیہا ) زندگی کے ہر میدان میں انسانیت کے لئے ایک کامل نمونہ عمل ہے یہی وجہ ہے کہ آپ (سلام اللہ علیہا ) ہمیشہ اپنی والدہ گرامی کی طرح رات کی تاریکی میں محراب عبادت میںخدا سے راز ونیاز میں مشغول رہتی تھی۔

اس امر کا انکشاف تاریخ کر تی ہے کہ کربلا ء کوفہ اور شام میں درپیش عظیم مصائب کے باوجود بی بی تلاوت قرآن اور نماز شب انجام دیتی تھی اور ساتھ اپنے اہل بیت اور رشتہ داروں کو بھی اس کی تلقین فرماتی تھی اسی طرح نماز شب کا انجام دینا نہ صرف بی بی زہرا (سلام اللہ علیہا اور زینب (سلام اللہ علیہا ) کی سیرت ہے بلکہ زہرا (سلام اللہ علیہا کی خادمہ فضہ کی بھی سیرت تھی۔

پس خواتین اگر جناب زہرا (سلام اللہ علیہا ) جناب زینب (سلام اللہ علیہا ) اور فضہ خادمہ کی سیرت پر چلنا چاہتی ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ نماز شب فراموش نہ کریں ۔

ز۔نماز شب اور باقی ائمہ )ع(کی سیرت

آئمہ علیہم السلام میں سے دوسرا اور چہاردہ معصومین میںسے چوتھی ہستی حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ہے اگر آپ کی سیرت کا مطالعہ نماز شب کے حوالے سے کیا جائے تو وہی سیرت ہے جو پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت طبیہ تھی لہٰذا آپ ہمیشہ رات کے آخری وقت میں نماز شب انجام دیتے تھے اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اس پر آشوب فضاء اور ماحول میں اسلام اور قرآن اور خاندان رسالت کے نام زندہ رہنا نا ممکن تھا لیکن آپ کی عبادت اور شب بیداری کے نتیجہ میں قرآن واسلام کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنی حقانیت کو بھی ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے نیز حضرت امام حسین علیہ السلام کی پوری زندگی عبادت الہی اور قرآن وسنت کی حفاظت میں گزری۔

۶۶

لہٰذا کہا جاتاہے کہ آپ کی سیرت طیبہ میں اہم ترین سیرت نماز شب ہے آپ رات کو خدا سے راز ونیاز کرنے کے اتنے عاشق تھے کہ جب کربلاء میں پہنچے تو آپ اپنے بھائی جناب عباس سے تاسوعا( نویں) محرم کے دن کہنے لگے کہ آپ دشمنوں سے ایک رات کی مہلت لیجئے تاکہ آخری شب قرآن کی تلاوت اور عبادت الہی میں گزار سکوں کیونکہ خدا جانتا ہے کہ مجھے نماز شب اور تلاوت قرآن سے کتنی محبت ہے نیز امام سجاد علیہ السلام کی سیرت بھی عبادت الہی کے میدان میں کسی سے مخفی نہیں ہے کیونکہ آپ کو دوست ودشمن دونوں سیدالساجدین اور زین العاہدین کے لقب سے یاد کرتے تھے لہٰذا آپ کی پوری زندگی یزید (لعنۃ اللہ علیہ) کی سختیوں کے باوجود سجدے اور شب بیداری میں گذاری چنانچہ اس کا اندازہ ہم ان سے منقول ادعیہ جو صحیفہ سجادیہ کے نام سے معروف ہے کرسکتے ہیں یہ آپ کی شب بیداری کا نتیجہ تھا کہ جس سے دشمنوں کو ناکام ہونا پڑا اسی لئے آپ کی شب بیداری اور عبادت کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے :

''وکان علی ابن الحسین یقول العفو تلاثماة مرة فی الوترفی السحر ۔''

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا یہ معمول تھا کہ آپ ہمیشہ وتر کے قنوت میں سحر کے وقت تین سو مرتبہ العفو کا ذکر کہا کرتے تھے۔

لہٰذا ہر سختی ومشکل کے موقع پر کام آنے والا واحد ذریعہ نماز شب ہے جو تمام انبیاء اور ائمہ کی تعلیمات سے بھی واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اس عظیم وسیلہ سے مددلی ہے اور دوسروں کو اس کی دعوت دی ہے اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت کا اندازہ ان سے منقول روایات سے بخوبی کرسکتے ہیں نیز امام موسی کاظم باب الحوائج علیہ السلام امام رضاعلیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام امام حسن العسکری علیہ السلام اور امام زمان علیہ السلام ان تمام حضرات کی سیرت میں بھی نماز شب واضح طور پر نظر آتی ہے کہ جو ہر سختی کے لئے کامیابی کا ذریعہ ہے ۔

۶۷

د۔علماء کی سیرت اور نماز شب

علم ومعنویت کے میدان میں ہماری ناکامی کی دووجہ ہوسکتی ہیں:

١) قرآنی تعلیمات اور چہاردہ معصومین کی سیرت کو اپنی روز مرہ زندگی کے لئے نمونہ عمل قرار نہ دینا۔

٢) بزرگ علمائے دین حضرات کی سیرتوں پر نہ چلنا جس سے انسان اخلاقی اور اصول وفروع کے مسائل سے بے خبر رہ جاتا ہے لہٰذا اگر انسان ان کی سیرت پر نہ چلے تو دنیوی زندگی میں ناکام اور شقاوت سے ہمکنار اوراخروی زندگی میں بد بختی اور نابودی کے علاوہ کچھ نہیں پا سکتا لہٰذا نماز شب کے بارے میں علماء اور مجتہدین کی سیرت کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ تہجد گزار حضرات کے لئے اطمنان قلب اور تشویق کا باعث بنے کیونکہ مجتہدین، عصر غیبت میں ائمہ علیہم السلام کے نائب اور حجت خدا ہیں تب ہی تو قرآن میں فرمایا:

''انما یخشی الله من عباده العلمائ ۔''

اور ائمہ علیہم السلام نے فرمایا:

''العلماء امنا العلماء ورثة الانبیاء ۔''

الف )نماز شب اورامام خمنی کی سیرت :

دور حاضر کے مجتہدین میں سے ایک آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی ہے جنہوں نے اسلام کے پرچم کو بیسویں صدی کے اواخر میں بلند کرکے مذہب تشیع کے اس نظرئیے کی ایک بار پھر تجدید کردی کہ علمائے ربانی ہی ائمہ علیہم السلام کے حقیقی وارث اور نائب ہیں اور انہیں کی پیروی، چاہے دنیوی امور میں ہو یا دینی تمام میں لازم ہے ان کی زندگی آنحضرت ؐاور ائمہ اطہار کی سیرت کے مطابق تھی یہی وجہ ہے کہ وہ تمام انسانوں میں ایک بڑے مقا م پر فائز ہوئے اور دنیا ان کے عظیم کارناموں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور دنیاء کے اہل علم حضرات کو چاہئے کہ وہ ان کہ اسلامی اورانقلابی افکار کو ہمیشہ اپنے لئے مشعل راہ بنائیں وہ عالم باالزمان تھے اسی لیئے انہوں نے معاشرے کو اسلامی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اور شرق وغرب کے طاغوت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کرکے رکھ دیا یہ تمام طاقت اور مدد اسلام کے انسان ساز عبادی پہلوںسے کما حقہ فیض اٹھانے کی وجہ سے حاصل ہوئی چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فرعون ایران کے سپاہی آپ کوگرفتار کرکے تہران لے جارہے تھے

۶۸

تو انہوں نے مامورین سے نماز شب انجام دینے کی اجازت مانگی اسی طرح جب وہ ایک روز بیمار ہوئے تو ہسپتال میں مرض کی حالت میں بھی نماز شب کو قضا نہ ہونے دیا.تیسرا موقع وہ ہے کہ جب امام خمینیؒ نجف اشرف سے کویت جانے پر مجبورہوئے توسفر کے باوجود انھوں نے نمازشب انجام دی اسی طرح اوربھی متعد دموارد ا ن کی حالات زندگی میں ملتے ہیں اسی لئے آج اکیسویں صدی کی دنیا حیران ہے کہ ایک عمررسیدہ ناتواں انسان نے اڈھائی ہزار سالہ شہنشا ہیت کے بت کو اس طرح سر نگون کر کے رکھ دیا اس کی وجہ کیا تھی؟جبکہ وہ کسی خاص سیاسی ترتیب گاہ کے ترتیب یا فتہ نہ تھے اورنہ ہی کسی سیاسی گھرانے میں پرورشںپائی تھی۔اس کا راز نماز شب جیسی انسان ساز عبادت اور اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہوناہے اسی لیے انہوں نے اس دنیا میںاپنے جانے سے پہلے اس فکرکو چھوڑا کہ اسلام کانظام ہی فقط دنیاء کے قوانین پرحاکم ہے اورکسی شرق وغرب کے قوانین کو یہ حق حاصل نہیںہے کہ وہ عوام پرحکومت کرلے.

(ب) شہیدمطہری کی سیرت

چنانچہ آپ جانتے ہیںکہ شریعت اسلام میںجام شہادت نوش کرنے کی فضیلت اوراہمیت کیاہے جام شہادت نوش کرنے کی توفیق ہرانسان کونہیںملتی تب ہی تو خداوندنے فرمایا(بل احیاء عند ربھم یرزقون) لہٰذا جام شہادت نوش کرنے کیلےئ کچھ خاص اسباب در کار ہیں شہید مطہری کو بار گاہ ایزدی میں سجدہ زیر ہونے کی توفیق حاصل ہوئی تھی اس لیے شہادت نصیب ہوئی شہید ہونے کا سبب ان کی نماز شب اور خدا سے راز ونیاز اوردیگرمستحبات کو انجام دنیا تھا کہ جس کوپابندی کے ساتھ انجام دینے کا سلسلہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے شروع کررکھا تھاچنانچہ اس مطلب کو ان کے ساتھیوں میں سے کچھ نے یوں نقل کیا ہے کہ شہید مطہری مدرسہ میں نماز شب کے سختی سے پابند تھے اور ہمیں بھی تہّجد انجام دینے کی نصیحت کرتے تھے لیکن ہم شیطان کے فریب اور دھوکے کی وجہ سے بہانے کیا کرتے تھے جیساکہ کہاایک دن کسی دوست کو نماز شب انجام دینے کی نصیحت فرمائی لیکن انہوں نے کہا مدرسہ کاپانی میرے لیے مضرہے لہٰذا میںوضوء نہیں کرسکتا کیونکہ مدرسہ کاپانی نمکین ہے جومیری آنکھ کے لیے نقصان دہ ہے.شہیدمطہری نے دوست کے اس عذر کے پیش نظر آدھی رات کے وقت مدرسہ سے دورایک نالہ بہتا تھااس سے پانی لے آئے تاکہ ان کادوست نمازشب جیسی نعمت سے محروم نہ رہے۔

۶۹

اسی طرح شہیدکے بارے میںرہبر نے نقل کیا کہ شہیدمطہری نماز شب کے بے حدپابند تھے یہی وجہ ہے کہ آج کل محققین پریشان نظرآتے ہیںکہ مطہری کے افکار کیوںاس قدرمعاشرے میںزیادہ مئوثر ہیں؟جبکہ ان کے نظریہ دوسرے محققین کے نظریات سے ذیادہ مستدل نہیں ہیں.اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نماز شب اورشب بیداری کے ساتھ نظریات کو جمع کیئے ہوئے تھے اس کے نتیجہ میں معاشرے پران کے افکارذیادہ مؤثر ہیں.

(ج) نماز شب اورعلاّمہ طباطبائی کی سیرت:

دنیاکاہردانشمند جانتاہے کہ علاّمہ طبا طبایئ دینی اورفلسفی مسائل میں اکیسویں صدی کے تمام محققین سے آگے تھے چنانچہ شہیدمطہری نے علاّمہ طباطبائی کے بارے میں یوں فرمایا علاّمہ طباطبائی کی شخصیت اوران کے عمیق نظریات کولوگ مزیدایک صدی کے بعد سمجھ سکیںگے کہ جس کی تائیدالمیزان جیسی تفسیرقرآن کے مطالعہ سے ہوتی ہے کہ اتنی توفیق ہمّت اورفہم وادراک کسی عام انسان کوحاصل ہونا محال عادی ہے۔

اسی لیئے سوال کیا جاتا ہے کیوں اتنی مالی مجبوری ہونے کے باوجودکوئی اورپشت پناہ نہ ہونے کے علاوہ علم کے سمندراوربے بہاگوہرآج حوزہ علمیہ قم اوردیگر جہاںکے گوشے میں علاّمہ طباطبائی کے نام سے منّورہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ علوم دینی کے حصول کی خاطر نجف اشرف تشریف لے گےئ تو کھبی کہبار مرحوم عارف زمان قاضی کی زیارت کو جاتے تھے انہوں نے ان کے حوالے دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن قاضی نے مجھ سے فرمایا:

.اے طباطبائی دنیاچاہتے ہویاآخرت؟اگر آخرت کے خواہاںہو تو نماز شب انجام دو کیونکہ آخرت کی زندگی نمازشب میں مخفی ہے اس بات نے مجھ پراتنا اثر کیاکہ نجف سے ایران آنے تک شب وروز قاضی کی مجلس میں جاتاتھا تاکہ ایسے مؤثرنصائح سے زیادہ متفید ہوسکوں اس وقعہ میں علاّمہ نے صریحاً نہیں کہا کہ میں ایران واپس آنے تک ہمیشہ ان کی نصیحت کی وجہ سے پابندی کے ساتھ نماز شب انجام دیتا رہا ہوںلیکن اشارتاً مطلب روشن ہے لہذا آپ کی تہجدّاور تقویٰ کانتیجہ ہے کہ آج ان کی عملی تالئیفات پر حوزے کے تمام دانشمدناز کرتے ہو ئے نظرآتے اور ان کے تربیت یافتہ شاگرد علم تقویٰ میں دوسروں سے آگے نظر آتے ہیںپس توفیق اور ہمّت کا عظیم سر چشمہ نماز شب ہے کہ جس سے ہمیں کھبی فراموش نہیں کرناچاہےئ.

۷۰

(د) نمازشب اور شہید قدّوسی کی سیرت

شہیدقدّوسی مستحبّات کی انجام دہی اورمکروہات کو ترکرنے میں خاصہ پابندتھے.وہ نمازشب کی اہمیت کے اس قدر قائل تھے کہ مدارس دینیہ طلاّب اور علمائے کرام کے لیئے نمازشب کوپابندی کے ساتھ انجام دینا لازم سمجھتے تھے یعنی اگر کویئ طالب علم نماز شب انجام دینے میںکوتاہی کرے توان کی نظر میںطالب علم شمار نہیں ہوتا تھا اسی طرح بہت سی علماء اور مجتہدین کی سیرت نماز شب اوررات کو خداسے رازونیاز کرناہی رہی لہٰذااگر خلاصہ کہا جائے تویہ نتیجہ نکلتا ہے جتنے بھی مجتہدین گزرے ہیں یا اس وقت زندہ ہیں ان تمام حضرات کی زندگی نمازشب میںخلاصہ ہو جاتا ہے اور محترم اساتذہئ کرام مرحوم آیۃ اﷲ العظمیٰ بروجردی کے حوالہ سے نقل کرتے تھے کہ آقای بروجردی نے کہا مرحوم آیۃاﷲ محمدباقرآیۃاﷲمیرزا آیۃاﷲقوچانی وغیرہ نماز شب کے قنوت میں قیام کی حالت میں دُعائے ابوحمزہ ثمالی پڑھاکرتے تھے۔

(ر)نماز شب اور مرحو م شیخ حسن مہدی آبادی کی سیرت:

ہمارے استاد محترم مؤ سس مدارس دینیہ و مراکز علمیہ محسن ملت مرحوم شیخ مہدی آبادی کی سیرت ہم سب کے لئے نمونہ عمل ہے کیونکہ آپ ہمیشہ طلباء اور علماء سے تہجد کی سفارش کے ساتھ ہمیشہ پابند رہتے تھے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بلتستان جیسے پسماندہ علاقہ میں علوم آل محمد کے شمع جلائے اور بیسیوں مدارس سیکڑوں دینیات سینٹر ز مساجد امام بارگاہیں اور دینی مراکز قائم کر کے مذہب اہل البیت ؑ کی ترویج کا ایسا وسیلہ فراہم کیا جو رہتی دنیا تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ ان کو تہجد گذاروں کے ساتھ محشور فرمائیں۔

۷۱

دوسری فصل

نمازشب کے فوائد

جب کسی فعل کے نتائج اور فوائدکے بارے میںگفتگوہوتی ہے تو ہر انسان کے ذہن میںفوراًیہ تصور پیداہوتا ہے کہ کیا چیز ہے کہ جس کے خاطرانسان ہرقسم کی زحمات کوبرداشت کرتاہے تاکہ اس فائدہ اورنتیجہ سے محروم نہ رہے لہٰذاضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے فائدہ کی حقیقت اورنتیجے کاخاکہ ذہن میںڈالیں تاکہ ہمیں اپنے کاموں میں زیادہ مطمئن ہوفائدہ اور نتیجہ کی دواصطلاح ہیں:

١)اصطلاح فقہی۔

٢)اصلاح عوامی وعرفی ۔

اصطلاح فقہی میںفائدہ اس چیزکو کہا جاتا ہے جوفعل کے مقدار سے ذیادہ ہو جیسے ایک شخص کسی کے ہاں مزدوری کرتاہے تواس کی اجرت کام کے گھنٹوں کی مقدارسے زیادہ ہو تواس وقت فائدہ کہا جاتا ہے لہذا اگر کوئی شخص کسی کے ہاں کام کرتاہو لیکن اجرت کی مقدارگھنٹوںکی مقدار سے کم ہوتواس کونقصان اورخسارہ کہاجاتا ہے.اسی طرح اگرکسی چیزکی اُجرت وقت کے مقدارکے برابرہو تواس وقت فائدہ اورنقصان دونوںتعبیراستعمال نہں ہوتے.

لیکن عرف اورعوامی اصطلاح میں فعل کے نتیجے کو فائدہ کہا جاتاہے چاہے وہ نتیجہ فعل کے مقدار سے کم ہویازیادہ ہویابرابرہواسی لیے عوامی اصطلاح میں فائدہ کا مفہوم فقہی اصطلاح سے زیادہ وسیع ہے اور ہماراموردبحث نمازشب کے فوائدکواصطلاح عرف میں بیان کرنامقصدہے کہ جس کوبیان کرنے سے عاشقین الٰہی کواطمینان حاصل ہواورفائدے کی حقیقت سے بھی آگاہ ہو ، لہٰذااس مختصرکتاب میں نماز شب کے فوائدکے اقسام کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے.

نماز شب کے اہم فائدے تین طرح کے ہیں:

۷۲

١)دنیامیںنمازشب کے آثاراورفوائد۔

٢)نمازشب کے فوائدبرزخ میں۔

٣)نمازشب کے فوائداورنتائج آخرت میں۔

البتہ ان تین قسموں کوبعض علماء اورمحققین نے دوقسموں میں تقسیم کیئے ہیں:

نمازشب کے مادی فوائدیعنی دینوی فوائد کومادی کہا جاتا ہے اور اخروی فوائد۔

لہٰذااس تقسیم کے بنا پرعالم برزخ اورعالم آخرت سے مربوط فوائد کو معنوی کہاجاتا ہے۔لیکن وہ فوائدجودینوی اورمادی ہیںان کی خود متعددقسمیں ہیں۔

(١)نمازشب باعث صحت

اگرآپ نمازشب پڑھیں گے تو نماز شب آپ کی تندرستی اورصحت بدن کا باعث بنتا ہے کہ دنیا میںتندرستی اورصحت اتنااہم اوردوررس موضوع ہے جس کو ہرانسان شخصی اوراجتماعی طورپر سرمایہ اورنعمت سمجھتا ہے۔نیزدنیا کے ہرنظام خواہ اسلامی ہویاغیر اسلامی اسے ضروری اورمحبوب قرار دیتاہے لہٰذا اگرہم کڑی نظر سے دیکھیںاوردقت کریںتومعلوم ہوتا ہے کہ دنیاکے کسی گوشے میںایسی کوئی حکومت اورملک نہیں ہے کہ جس میںاس معاشرے کے صحت اور تندرستی کہ خاطر کوئی پروگرام اورشعبہ مقررنہ کیا گیا ہولہٰذاہرحکومت اورنظام کی کوشش یہی رہی ہے کہ معاشرہ ہر قسم کے امراض اور بیماریوںسے پاک ہواورا مراض سے روک تھام کی خاطر ایک ماہر شخص کو وزیر صحت کے نام سے مقررکیا جاتا ہے اور وزیر تعلیم کی کوشش اور جدو جہد بھی یہی رہی ہے کہ سائنس اور علم الطب میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنائے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ معاشرہ کے امراض اور بیماریوں کو صحیح طریقے سے ٹھیک کرسکیں لہٰذا ہر گورنمنٹ اور حکومت اپنی درآمدات کے حساب سے سب سے زیادہ رقم تندرستی کے لوازمات کو فراہم اور مہلک امراض سے تحفظ کرنے کی خاطر مقرر کرتی ہے تاکہ تندرستی اور صحت یابی سے معاشرہ محروم نہ رہے ۔

اس طرح ہر حکومت اور نظام انسان کی صحت اور تندرستی کو بحال رکھنے کی خاطر کھیلوں اور دیگر مفید تفریحی پروگرام کی سہولیات بھی فراہم کرتی ہے تاکہ معاشرہ صحت اور تندرستی جیسی نعمت سے مالامال ہو ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا میں تمام موضوعات سے اہم موضوع صحت اور تندرستی کا موضوع ہے لہٰذا اس موضوع میں کامیاب ہونے کی خاطرہر انسان ہزاروں زحمات اور تکالیف برداشت کرتا ہے اور کروڑوں روپیہ امراض سے بچنے اور تندرست رہنے کے لئے خرچ کرتا ہے چونکہ صحت اور تندرستی جیسی نعمت دنیا میں کمیاب ہے لیکن نظام اسلام اور باقی نظاموں میں صحت کے حوالے سے ایک فرق ہے وہ فرق یہ ہے

۷۳

کہ غیر اسلامی نظاموں میں صرف مادی صحت اور تندرستی مورد نظر ہے لیکن اسلامی نظام کی نگاہ انسان کے دونوں پہلؤں کی طرف ہے یعنی روح اور بدن دونوں کی تندرستی اور صحت یابی مورد نظر ہے صحت کے اصولوں کی نشاندہی بھی کی ہے کہ جس کی رعایت کرنے سے انسان روحی اور جسمی تندرستی سے مالامال ہوسکتا ہے لہٰذا فقہ میں مستقل ایک بحث ہے کہ اگر کوئی شخص مریض ہو تو کیا علاج کروانا واجب ہے یا نہیں کہ اس مسئلہ میں مذاہب خمسہ کے آپس میں نظریات مختلف ہیں۔

١۔امام احمد نے اس مسئلہ کے بارے میں کہا ہے کہ علاج رخصۃٌ و ترکہ درجۃٌ اعلیٰ۔ یعنی علاج کرنا جائز ہے لیکن نہ کرنا بہتر ہے ۔

٢۔ شافعی نے کہاہے کہ التداوی افضل من ترکہ یعنی علاج کرنا نہ کرنے سے بہتر ہے۔

٣۔ ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ التداوی مؤاکد یعنی علاج کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

٤۔مالک نے کہا ہے کہ التداوی یستوی فعلہ و ترکہ یعنی علاج کرنا اور نہ کرنا مساوی ہے۔

٥۔ امامیہ کانظر یہ ہے کہ علاج کرنا واجب ہے۔(١)

لہٰذاعلاج کے بارے میں جتنی روایات امام رضاعلیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے جن کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحّت اورتندرستی کے موضوع کوکتنااہم اورضروری قراردیاگیاہے لہٰذاصحت اورتندرستی کوہمیشہ برقراررکھنے کے طریقوں میں سے ایک شب بیداری اورنمازشب کاانجام دیناہے کہ جس کے بارے میںپیغمبر اکرم)ص(نے فرمایا:

____________________

(١)المسائل الطیبہ استاد:محسنی دامت عزہ.

۷۴

''علیکم وصلوٰة اللّیل فانّهاسنّةنبیکم ودأب الصالحین فعلیکم و مطرة الداء عن اجسادکم ۔''(١)

آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نمازشب پڑھوکیونکہ نمازشب تمھارے نبی کی سیرت اورسنت ہے اورتم سے پہلے والے صالحین کی بھی سیرت ہے اورنمازشب پڑھنے سے تمھارے بدن کی بیماریاںدوراورٹھیک ہوجاتی ہے۔

تفسیروتحلیل روایت:

دنیامیںانسان کی عادت ہے کہ جب کوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا ہے توفوراًکسی ڈاکٹرسے مراجعہ کرتاہے تاکہ علاج کرسکے لیکن بسااوقات کچھ امراض ایسے ہیںکہ جن کاعلاج ڈاکٹروںکی قدرت اورتجربے سے خارج ہے لہٰذاان امراض کولاعلاج امراض سے تعبیرکرتے ہیںچنانچہ یہ مطلب تجربے اور مشاہدات میںآچکاہے یعنی بہت سارے بیمارافرادکوڈاکٹروںنے لاعلاج قراردیاہے لیکن قوانین اسلام اورنظام اسلامی نے تمام امراض کے لےئ علاج اور دوائیوںکی نشاندہی کی ہے جسے نمازشب،دعاء وصدقات اوردیگرکارخیرکوانجام دینا۔

لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوتاہے اگرانسان کے بدن پرکوئی مرض ہوجوڈاکٹروںکے نزدیک قابل علاج ہویاقابل علاج نہ ہو،نمازشب ہرایک

____________________

(١)علل الشرائع.

۷۵

بیماریوںکے علاج کاذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف یوںاشارہ فرمایا:نمازشب مطرۃ الداء عن اجسادکم یعنی نمازشب بدن سے امراض کے ٹھیک ہونے کاوسیلہ ہے لہٰذاآپ اگرصحّت بدن اورتندرستی جسمی کے جوا ہاں ہیں اور لاعلاج امراض کے علاج کوبغیرکسی خرچ اورزحمت کے کرناچاہتے ہیںتونمازشب پڑھیںکہ جس کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے بدن کوتندرست اورنفسیاتی امراض کوٹھیک کرتی ہے اسی طرح دوسری روایت۔

مولیٰ امیرؑکایہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا:شب بیداری صحت یابی بدن اورتندرستی جسمی کاذریعہ ہے :

''قیام اللیل مصححة للبدن'' ( ١)

اگرچہ اس روایت میںنمازشب کوصریحاً باعث صحت اورتندرستی قرار نہیں دیابلکہ مطلق شب بیداری کے فوائدمیںسے ایک صحّت بدن قراردیاہے لیکن دوقرینوںسے معلوم ہوتاہے کہ قیام اللیل سے مراد نماز شب ہے. ایک قرینہ یہ ہے کہ اگر ہر قیام اللیل بدن کے تندرست اور صحت کا ذریعہ ہو تو نماز شب کے لئے قیام اللیل کرنا بطریق اولیٰ صحت اور تندرستی بدن کا ذریعہ ہے ۔

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ دوسری روایت میں قیام اللیل کی وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد نماز شب ہے لہٰذا ان دونوں قرینوں کے ذریعہ معلوم ہوتا ہے کہ

____________________

(١)۔کتاب الدعوات للراوندی ص٧٦.

۷۶

اس روایت میں قیالم اللیل سے مراد نماز شب ہے کہ جس کے فوائد دنیوی میں سے ایک فائدہ صحت بدن اور تندرستی ہے ۔

تیسری روایت:

امام المسلمین والمتقین حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا:

'' قیام اللیل مصححة للبدن و مرضاة للرب عزوجلّ وتعرض للرحمة وتمسک باخلاق اللنبیین'' (١)

آپ نے فرمایا کہ شب بیداری صحت بدن اور تندرستی انسان کا ذریعہ اور خداوند تبارک وتعالیٰ کی رضایت حاصل ہونے ، رحمت پرورگار سے مالامال ہونے اور سارے انبیاء کے رفتار و کردار سے منسلک ہونے کا سبب ہے ۔

توضیح وتفسیر:

اس روایت میں مولائے کائنات امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے نماز شب کے چار فوائد کا ذکر فرمایا.

١۔ نماز شب پڑھنے سے صحت ٹھیک اور تندرستی بحال ہوتی ہے کہ اس مطلب کی طرف تین روایات میں اشارہ فرمایا

٢۔دوسرا مطلب کہ نماز شب رضایت الٰہی حاصل ہونے کا ذریعہ ہے

____________________

(١)۔ بحار الانوار ج ٨٧.

۷۷

اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایک آسان کام ہے کیونکہ پورے کائنات کے مخلوقات کی خلقت کا ہدف ہی رضایت الٰہی کو حاصل کرنا اور خدا کی بندگی کا شرف حاصل کرنا ہے لہٰذا رضایت خداوند حاصل کرنا بہت مشکل اور دشوار کام ہے لیکن اگر کوئی شخص اس مشکل کام کو باآسانی حاصل کرنا چاہتا ہے تو نماز شب انجام دے کیونکہ نماز شب رضایت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے لہٰذا نماز شب کو نہ چھوڑیں تاکہ اس کے فوائد سے محروم نہ ہو.

٣۔تیسرا فائدہ :

جو اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے کہ نماز شب انجام دینے سے اچھے اور صالحین کی سیرت پر گامزن ہوتا ہے کیونکہ نماز شب سارے صالحین کی سیرت ہے لہٰذا دنیا میں ہر انسان اچھے اور نیک حضرات کی سیرت کو اپنانے کی کوشش میں ہوتا ہے اور ان کی سیرت پر چلنے کی خاطر ہر قسم کے حربے مادی ہو یا معنوی اور دیگر وسائل سے کمک لیتے ہیں تاکہ ان کی سیرت پر گامزن ہو لہٰذا ہر معاشرہ میں اگر کوئی شخص اس معاشرہ کے اصول و ضوابط کے پابند ہو امانتدار ہو اور دیگر ہر قسم کے عیب و نقص سے ظاہراً مبرّیٰ ہو تو دوسرے لوگ نہ صرف اس کو قابل احترام سمجھتے بلکہ اس کی سیرت کو اپنے لئے نمونہئ عمل قرار دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں

۷۸

لہٰذا نماز شب صالحین کی سیرت ہے کہ صالحین کے مصداق اتم انبیاء اور اوصیاء ہے پس نماز شب کا تیسرا فائدہ صالحین کی سیرت پر گامزن رہنا یعنی خود کو دوسروں اور آئندہ آنے والوں کے لئے نمونہئ عمل بنانا کہ جس سے بڑھ کر کوئی نعمت اور مقام انسان کے لئے قابل تصور نہیں چنانچہ اس مطلب کی طرف پیغمبر اکرم)ص( نے اشارہ فرمایا:

'' علیکم قیام اللیل فإنّه دأب الصالحین فیکم وإنّ قیام اللیل قربة الیٰ اﷲ ومنهاة عن الاثم'' (٣)

یعنی تم لوگ نماز شب انجام دو کیونکہ نماز شب نیکی کرنے والوں کی سیرت اور خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ اور گناہوں سے بچنے کا وسیلہ ہے نیز اسی مضمون کی روایت حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوںنقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''علیکم بصلاة اللیل فإنّها سة نبیکم و دأب الصالحین و مطرة الدّاء عن اجسادکم ۔ ''

جس کا ترجمہ اور تفصیل پہلے گذر چکی ہے لہٰذا پہلی روایت کی تحلیل اور حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اکرم)ص(نے اس روایت میں نماز شب کے فوائد میں سے تین فائدوں کی طرف اشارہ فرمایا :

١۔نماز شب صالحین کی سیرت پر گامزن ہونے کا وسیلہ ہے

٢۔ نماز شب خدا سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے کہ خدا سے قریب ہونےکی

____________________

(٣) کنز العمال.

۷۹

چاہت ہر انسان کی فطرت میں مخفی ہے لیکن عوامل خارجی کی وجہ سے کبھی بظاہر یہ چاہت مردہ نظر آتی ہے لہٰذا صرف مسلمانوں کی چاہت سمجھا جاتا ہے لیکن خدا سے قریب ہونے سے مراد قرب مکانی اور زمانی نہیں ہے بلکہ معنوی مراد ہے کیونکہ خدا مکان و زمان کا خالق ہے لہٰذا خدا زمان و مکان سے بالاتر ہے یعنی خدا من جمیع الجہات مجرد محض ہے اور نماز شب پڑھنے والے حضرات کا رتبہ بلند ہوتاہے اور خدا کے نزدیک وہ عزیز ہے

٢۔نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ

دوسرا فائدہ جو اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے کہ نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے یعنی اگر نمازشب انجام دینگے تو خدا آپ کو نافرمانی سے نجات دیتا ہے چنانچہ اس مطلب کی طرف خدا نے قرآن میں اشارہ فرمایا ہے :

( انّ الصلاة تنهیٰ عن الفحشاء والمنکر )

بیشک نماز ہی برائی اور نافرمانی سے نجات دیتی ہے کہ گناہ اور نافرمانی خدا اور انسان کے درمیان حجاب ہے کہ جس کی وجہ سے خالق حقیقی مخلوق سے دور اور مخلوق کو خالق حقیقی نظر نہیں آتا لہٰذا عبد اور مولا کے آپس کارابطہ ٹوٹ جانے کا سبب گناہ اور نافرمانی ہے لیکن اگر نماز شب انجام دی جائے تو یہ رابطہ دوبارہ بحال ہوجاتا ہے کیونکہ گناہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کی زندگی کو تباہ کرتی ہے اور اس کی عمر میں کمی کا سبب بھی بنتی ہے جبکہ گناہ سے پرہیز کرنے سے زندگی آباد اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے اور اسی طرح نفسیاتی امراض کو ٹھیک کرنے کا بھی ذریعہ ہے تب بھی تو معصوم نے ایک روحی طبیب کی حیثیت سے فرمایا :(ومطرۃ ا لد اء عن اجسادکم) یعنی نماز شب بیماریوں کو ٹھیک کرتی ہے ۔

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

چھٹی فصل :

١۔نماز شب کی قضاء انجام دینے کی اہمیت

اسلام میں ثواب مرتب ہونے والی عبادات کی دوقسمیں ہیں واجب اور مستحب اگر مباح یا مکروہ کام کو انجام دے تونہ صرف ثواب نہیں ملتا بلکہ کراہت والے عمل انجام نہ دینے پر ثواب ہے چنانچہ تاریخ تشیع میں ایسے علماء اور مجتہدین بھی گزرے ہیں جو مستجبات کو کبھی ترک اور مکر وہات کو انجام نہیں دیتے تھے لہٰذا واجب اور مستحب عبادات کی خود دوقسمیں ہیں اداء اور قضاء اداء یعنی مستحب اور واجب عبادت کوان کے مقررہ وقت میں انجام دیا جائے ان کے مقررہ وقت کے گزرنے کے بعد کسی اور وقت میں انجام دیا جائے تو قضا کہا جاتا ہے لہٰذا اگر کسی عذر شرعی یا موانع کی وجہ سے نماز شب کوان کے مقررہ وقت پر جونصف شب سے فجر تک ہے ،انجام نہ دے سکے تو کسی اور وقت میں قضاء انجام دے سکتے ہیں جس کی اہمیت اور ثواب کو امام جعفرصادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے۔

جناب علی ابن ابراہیم نے اپنی مشہور ومعروف تفسیر میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح روایت کی ہے کہ ایک دن ایک شخص امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہو کرعرض کیا اے مولا آپ پر میں فدا ہوجاؤںبسا اوقات میں ایک ماہ تک نماز شب کو اس کے مقررہ وقت میں انجام نہیں دے سکتا کیا میں کسی اور وقت میں اس کی قضاء بجالاسکتا ہوں؟ امام نے فرمایا خدا کی قسم تیرا یہ کام تمہارے لئے باعث بصیرت ہے اور اسی جملہ کو اما م نے تین دفعہ تکرار فرمایا۔

۱۶۱

دوسری روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا:

''ان الله یباهی باالعبد یقضی صلوة اللیل باالنهار یقول ملائکتی عبدی یقضی مالم افترضه علیه اشهدو اانی غفرت له (ا)

یعنی بتحقیق اللہ تبارک وتعالٰی ایسے بندے پر ناز کرتا ہے جو نماز شب کو مقررہ وقت میں انجام نہ دینے کی وجہ سے دن میں قضاء کے طور پر بجالاتا ہے خدا فرشتوں سے فرماتا ہے اے ملائکہ تم میرے اس بندے پر شا ہد رہو جو مستحب عمل کی قضاء کو بجالارہا ہے اس کے تمام گناہوں کو میں نے معاف کردیا۔

اس طرح زرارہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے:

''قال لا تقضی وترلیلتک یعنی فی العدین ان کان فانک حتی تصلی الزوال فی ذالک الیوم'' (٢)

امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا اگر تم نماز وتر کو عیدالفطر اور عید الضحی

____________________

(ا)بحار ج٨٧

(٢)وسائل ج ٥

۱۶۲

کی رات مقررۃ وقت پر انجام نہ دے سکے تو اس کی قضاء اسی دن کے ظہر کے وقت تک میں انجام دے ۔

٢۔نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کاثواب

اسی سے پہلے بیان کیا گیا کہ نماز شب کی قضاء انجام دینے سے ثواب ملتا ہے اسی طرح اگر کوئی نماز شب عام حالت میں نہ پڑھ سکے تو جس حالت میںانجام دینا چاہئے انجام دے سکتا ہے یعنی سواری کی حالت میں یا راستہ چلتے ہوئے بھی انجام دے سکتے ہیں چنانچہ اس مطلب کو فیض ابن مطر نے یوں نقل کیا ہے ۔

''دخلت علی ابی جعفر وانا اریدان اسئله عن صلاة اللیل فی المحمل قال فابتد ئنی فقال کان رسول الله یصلی علی راحته حیث توجهت به ۔''

فیض ابن مطر نے کہا میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کے بارے میںپوچھنا چاہا لیکن اما م نے میرے سوا ل کرنے سے پہلے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( اپنے محمل اور سواری پر نماز شب انجام دیتے تھے اگر چہ محمل اور سواری روبقبلہ نہ بھی ہو۔

۱۶۳

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب سواری پر اور روبقبلہ نہ بھی ہوں پھر بھی پڑھنا صحیح ہے لیکن یہ حقیقت میں واجب اور مستحب کافرق ہے لہٰذا اگر واجبی نماز روبقبلہ ہوئے بغیر پڑھے تو باطل ہے لیکن نماز مستحبی میں روبقبلہ نہ بھی ہوپھر بھی درست ہے نیز محمد ابن مسلم نے یوں روایت کی ہے ،

''قال لی ابوجعفر علیه السلام صل صلاة اللیل والوتر والرکعتین'' (١)

محمد ابن مسلم نے کہا کہ مجھے امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا (اے محمد ابن مسلم )تو نماز شب ، نماز وتر اور دوکعت نماز کو( سواری کی حالت میں )بھی پڑھا کرو نیز سیف التمار نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے یوں روایت کی ہے :

''انما فرض الله علی المسافر رکعتین لاقبلهما ولا بعد هما شیئ الا صلوة اللیل علی یعسرک حیث توجه بک ''(٢)

سیف التمار نے کہا کہ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا کہ مسافروں پر اللہ نے صرف دورکعت نماز واجب کی ہے ان دورکعتوں سے پہلے اور ان کے بعد کوئی اور نماز نہ مستحب ہے نہ واجب ہے مگر نماز شب کہ اس کا پڑھنا سفر کی حالت میں سواری پر بھی مستحب ہے اگر چہ رو بقبلہ نہ بھی ہو ۔

٣۔نمازشب کو ہمیشہ جاری رکھنے کی فضیلت

چنانچہ اس مختصر جستجو اور کوشش کے نتیجہ میں نماز شب کے حوالہ سے آیات اور روایات کی روشنی میں جو مطالب بیان کیا گیا ہے وہ مؤمنین کے لئے اطمینان کا

____________________

(١)وسائل ج ٣.

(٢)وسائل ج٣

۱۶۴

باعث اور نماز شب کی اہمیت وفضیلت کو بخوبی درک کرنے کا سبب ہوگا لہٰذا نماز شب کے مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رکھنے میں بہت ہی فضیلت اور ثواب بتایا گیا ہے چنانچہ یہ مطلب زرارہ کی روایت میں یوں بیان ہوا ہے۔

''عن ابی جعفر علیه السلام قال احب الاعمال الی الله عزوجل مادام العبد علیه وان قل ۔''(ا)

زرارہ نے کہا امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کی نظر میں بہترین عمل وہ ہے کہ جسے بندہ ہمیشہ انجام دیتا رہے اگرچہ وہ عمل قلیل ہی کیوں نہ ہو ۔

اگرچہ روایت صریحا نماز شب کے عنوان کو بیان نہیںکرتی بلکہ تمام اعمال خیر کے بارے میں وارد ہوئی ہے لیکن ایک بافضیلت ترین عمل ہونے کے ناطے نماز شب بھی اس روایت میں شامل ہے جس کے پابندی کے ساتھ ہمیشہ انجام دینے میں زیادہ ثواب ہے نیز دوسری روایت معاویہ ابن عمار کی ہے انہوں نے کہا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :

''کان علی ابن الحسین علیهم السلام یقول انی لاحب ان ادوم علی العمل وان قل قال قلنا تقضی صلاة اللیل باالنهار فی السفر ؟قال نعم ''(٢)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ امام سجاد( علیہ السلام)فرمایا

____________________

(ا) وسائل ج ١

(٢) وسائل ج٣

۱۶۵

کرتے تھے کہ سب سے زیادہ وہ کام مجھے پسند ہے جیسے میں پابندی سے ہمیشہ انجام دیتا رہاہوں اگر چہ قلیل ہی کیوں نہ ہو معاویہ نے کہا کہ ہم نے امام سے سوال کیا کیا آپ نماز شب کو سفر میں دن کے وقت قضا کرکے پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا جی ہاں نیز زرارۃ نے ابی عبد اللہ علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے ۔

''قال کان رسول الله (ص)یصلی فی اللیل ثلاث عشرة رکعة منها الوتر ورکعتا الفجر فی السفر والحضر'' (ا)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ پیغمبر اکرم )ص( ہمیشہ چاہے گھر میں ہوں یا سفر میں رات کے آخری وقت میں تیرہ رکعت نماز نافلہ انجا دیتے تھے جن میں سے ایک رکعت نماز وتر اور دورکعت صبح کی نماز کی نافلہ تھی نیز ابن مغیرہ نے کہا :

''قال لی ابوعبدالله علیه السلام وکان ابی لایدع ثلاثة عشر رکعة باالیل فی سفر '' (٢)

ابن مغیرہ نے کہا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد بزرگوار ہمیشہ رات کو تیرہ رکعت نماز انجام دیتے تھے کہ جس کو کبھی بھی آپ سفر اور وطن میں ترک نہیں کرتے تھے اسی طرح صفوان ابن جمیل کی روایت بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

____________________

(ا) وسائل ج٣

(٢) وسائل ج٣

۱۶۶

''قال کان ابوعبد الله یصلی صلاة اللیل باالنهارعلی راحلة ایّ ماتو جهت به'' (ا )

صفوان نے کہا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نماز شب کو دن کے وقت سواری پربھی انجام دیتے تھے اگرچہ آپ روبقبلہ نہ بھی ہو۔

چنانچہ ا ن تمام مذکو رہ روایات سے نماز شب کو ہمیشہ انجام دینے کی دلالت بخوبی روشن ہو جاتی لہٰذا نماز شب کبھی ترک نہ کیجئے کیونکہ نمازشب ہی میں دنیا اور آخرت کی سعادت مخفی ہے۔

٤۔ نیند سے بیدار ہونے کا راہ حل

ان مؤمنین کی خدمت میں کہ جو اپنے پروردگار کی رضاوخوشنودی کی خاطر نیند سے بیدار ہونا چاہتے ہیں ان کےلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں چند زرین اصول پیش کی جاتی ہے تاکہ نماز شب انجام دینے کی توفیق شامل حال ہو:

١) دن میں کبیرہ و صغیرہ گناہوں اور دیگر اعمال رذیلہ سے اجتناب کیجئے تاکہ رات نماز شب پڑھنے کی توفیق حاصل ہو۔

٢) سوتے وقت نماز شب پڑھنے کے ارادے سے سوئے۔

٣)سونے سے پہلے وضو کرلیجئے۔

٤)سوتے وقت قرآن پاک کی تلاوت اور مخصوص دعا کے ساتھ تسبیح

____________________

(ا)وسائل

۱۶۷

حضرت زہرا علیہا السلام پڑھ کر سوئے ۔

٥) جب بھی نیند سے بیدار ہو تو خدا کا شکر ادا ،کیجئے تاکہ توفیقات میں اضافہ ہوں۔

٦) جب نماز شب کے لئے جاگیں تو بیت الخلاء جانے کے بعد مسواک کیجئے چنانچہ اس مطلب کو امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں اشارہ فرمایا ہے جب تم لوگ نماز شب کے لئے اٹھیں تو مسواک کرکے اپنے دہان کو معطر کرو کیونکہ فرشتے اپنے دھانوں کو تہجد گزار کے دھان پر رکھتے ہیں اور جو بھی جملہ زبان پر جاری ہوتا ہے اس کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔

٧) ہر وقت نماز تہجد انجام دینے کی فکر میں رہیں۔

٨) سوتے وقت سورہ کہف کی آخری آیہ شریفہ کی تلاوت کیجئے ۔

( قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اِنَّمَا اِلٰهُکُمْ اِلٰه وَاحِد فَمَنْ کَانَ یَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلاَیُشْرِکْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا )

(ترجمہ)یعنی اے پیغمبر (لوگوں )سے کہدیجئے کہ میں تمہاری مانندایک بشر ہوں (لیکن ہمارے درمیان فرق یہ ہے ) کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی (اور )تمہارا معبود اور خدا ایک ہے پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ عمل صالح انجام دے اور اپنے پروردگار کا کوئی شریک نہ ٹھرائے۔

نیز جناب شیخ بہائی نے اپنی معروف کتاب مفتاح الفلاح میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ ورایت کی ہے امام نے فرمایا اگر خدا کے بندوں میں سے کوئی بندہ سورۃ کہف کی آخری آیہ شریفہ کی تلاوت کرکے سوئے تو خداوند عالم اس کو معین وقت پر جگاتا ہے (٩)اس طرح پیغمبر اکرم سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص نماز شب کے لئے جاگنا چاہے تو سوتے وقت یہ دعا پڑھے :

''اللهم الاتوامنی مکرک ولا تنسنی ذکر ک ولاتجعلنی من الغافلین... ''(ا)

____________________

(ا)فضائل نماز شب

۱۶۸

٤۔ خاتمہ

ہماری تمام کوشش یہی رہی ہے کہ نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کو آسان اورعام فہم طریقہ کے ساتھ بیان کریں تاکہ ہر عام وخاص کے لئے مفید ثابت ہو اورنماز شب سے مربوط آیات اور روایات کی مختصر تشریح کے ساتھ جملہ مطالب کی نتیجہ گیری کی گئی ہے نیز کچھ موارد میں شخصی اور ذاتی سفارش کی گئی ہے اس کا ہدف بھی۔

''( فذکران الذکر تنفع المؤمنین اور حاضرین غائبین ) ''

کو پہنچانے کی دستور کی بناء پر کیا گیا ہے کیونکہ نماز شب شریعت اسلام میں اتنا اہم مسئلہ ہے کہ پورے مستحبات میں اس کو مرکزیت حاصل ہے لہٰذا توصیہ شخصی اور تحلیل ذاتی کی ضرورت پڑی لیکن اتنے اہم ہونے کے باوجود دور حاضر میں اس مسئلہ کو عملی جامہ پہنانے سے معاشرہ محروم ہے حتی کہ دینی مدارس اور مراکز دینیئہ اور علماء و روحانی بھی نماز شب انجام دینے سے محروم ہیں جب کہ روحانیت اور معنویت کابقاء اور ان کو زندہ رکھنا نماز شب جیسی بابرکت عملی پر موقوف ہے لہٰذا اگر مردہ دلوں کو زندہ،اسلام کو آباد ،معنویت میں ترقی کلام میں جاذبیت ، مشکلات کی برطرفی ،نفسیاتی امراض سے نجات ،مذہب تشیع کا تحفظ ،اور قرآن وسنت کی آبیاری کے خواہاں ہے تو نماز شب نہ بھولیں پالنے والے امام زمان کے صدقہ میں آپ ہی میرے اس ناچیز زحمت پر آگا ہ ہے آپ ہی اس پر راضی ہونے کی درخواست اور ہمیں ہمیشہ خدمت کی توفیق ،بیان میں نرمی ،فہم ودرک میں اضافہ ہمیت اور زحمت میں برکت ،آپس میں یک جہتی عطا فرمائے اور دین اسلام کی ترویج وتبلیغ کےلئے جو موانع درپیش ہیں ان کے سدبا ب فرمائیں اور تمام مؤمنین کو نماز شب کی فضیلت سے آگاہ ہونے کی توفیق اور ہمیشہ انجام دینے کی ہمت عطا فرما ۔ والحمد للہ رب العالمین

الا حقر محمدباقر مقدسی

١٥/ جمادی الثانی ١٤٢٢ق ھ

حوزہ علمیہ۔ قم، ایران ۔

۱۶۹

فہرست منابع

قرآن کریم

اصول کافی ج١، ٢ --- محمد بن یعقوب کلینی

الوافی ج١ --- فیض کاشانی

الدعوات --- راوندی

الدرالمنثور --- سیوطی

الاختصاص --- شیخ مفید

امالی صدوق --- شیخ صدوق

ب:

بحار الانوار ج٨،٢١، ٢٩، ٨٧. --- علامہ مجلسی

ت:

تفسیر نور الثقلین --- شیخ عبد علی بن جمعہ

تفسیرالمیزان ج ١٥و٣٠ --- علامہ طباطبائی

تفسیر مجمع البیان ج٢، ١٠ --- طبرسی

تفسیر عیاشی ج٢

تہذیب الاحکام --- شیخ طوسی

ث :

ثواب الاعمال --- شیخ صدوق

ج:

جامع الآیات والاحادیث ج٢

۱۷۰

د:

داستان دوستان ج٢ --- محمدی اشتہاردی

ع:

عیون الاخبار --- شیخ صدوق

غرر الحکم --- مرحوم آمدی

علل الشرائع --- شیخ صدوق

ف:

فضائل نماز شب --- عباس عزیزی

ق:

قصار الجمل جلد اول

ک:

کتاب صفات الشیعہ

کنز العمال ج ٢،٧ --- متقی ہندی

م:

میزان الحکمۃ ج٣،٥ --- ری شہری

محاسن برقی --- برقی

مکارم الاخلاق --- فیضل بن طبرسی

من لا یحضرہ الفقیہ جلد اول --- شیخ صدوق

و:

وسائل الشیعہ ج٤،٥، ١٥ --- شیخ حرّ آملی

۱۷۱

فہرست

مقدمہ ۴

پہلی فصل: ۷

نماز شب کی اہمیت ۷

الف ۔کتاب کی روشنی ۸

پہلی آیت: ۸

تفسیر آیہ : ۸

دوسری آیہ شریفہ: ۱۰

تیسری آیہ شریفہ : ۱۱

آیہ شریفہ کی وضاحت: ۱۲

چھوتھی آیہ شریفہ : ۱۵

توضیح : ۱۵

پانچویں آیہ شریفہ: ۱۵

چھٹی آیت: ۱۷

تفسیر آیہ: ۱۸

ساتویں آیہ شریفہ: ۱۸

آٹھویں آیہ شریفہ: ۱۹

نویں آیہ شریفہ : ۲۱

تفسیر آیہ کریمہ : ۲۲

دسویں آیہ کریمہ : ۲۳

۱۷۲

تفسیر آیت : ۲۳

گیارہویں آیت : ۲۴

ب. سنت کی روشنی میں ۲۶

پہلی روایت: ۲۷

روایت کی شرح: ۲۷

دوسری حدیث : ۲۹

روایت کی تشریح: ۳۰

تیسری حدیث : ۳۲

حدیث کی وضاحت : ۳۲

١۔نماز شب باعث شرافت ۳۴

حدیث کی توضیح: ۳۵

٢۔نماز شب محبت خدا کا سبب: ۳۶

تشریح : ۳۶

٣۔نماز شب زنیت کا باعث ۳۸

حدیث کی تحلیل : ۳۸

تحلیل حدیث ۴۱

تحلیل حدیث : ۴۲

حدیث کی تحلیل : ۴۵

تحلیل حدیث : ۴۷

تحلیل حدیث : ۵۲

۱۷۳

٤۔نماز شب پر خدا کا فرشتوں سے ناز ۵۳

تحلیل وتفسیر: ۵۴

٥۔نماز شب پڑھنے والا فرشتوں کاامام ۵۵

تحلیل وتفسیر حدیث : ۵۶

٦۔نماز شب باعث خوشنودی خداوند ۵۸

تحلیل وتفسیر : ۵۹

توضح وتفسیر روایت : ۶۰

٧۔نماز شب پڑھنے کا ثواب ۶۱

توضیح وتفسیر ۶۳

ج۔نماز شب اور چہاردہ معصومین )ع( کی سیرت ۶۳

الف: پیغمبر اکرم )ص( کی سیرت ۶۳

ب۔حضرت علی کی سیرت ۶۳

توضیح : ۶۴

ج۔حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ۶۵

د۔حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی سیرت ۶۶

ز۔نماز شب اور باقی ائمہ )ع(کی سیرت ۶۶

د۔علماء کی سیرت اور نماز شب ۶۸

الف )نماز شب اورامام خمنی کی سیرت : ۶۸

(ب) شہیدمطہری کی سیرت ۶۹

(ج) نماز شب اورعلاّمہ طباطبائی کی سیرت: ۷۰

۱۷۴

(د) نمازشب اور شہید قدّوسی کی سیرت ۷۱

(ر)نماز شب اور مرحو م شیخ حسن مہدی آبادی کی سیرت: ۷۱

دوسری فصل ۷۲

نمازشب کے فوائد ۷۲

نمازشب کے مادی فوائدیعنی دینوی فوائد کومادی کہا جاتا ہے اور اخروی فوائد۔ ۷۳

(١)نمازشب باعث صحت ۷۳

تفسیروتحلیل روایت: ۷۵

تیسری روایت: ۷۷

توضیح وتفسیر: ۷۷

٣۔تیسرا فائدہ : ۷۸

٢۔نماز شب گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ۸۰

٣۔رحمت الٰہی کا ذریعہ ۸۱

٤۔رضایت الٰہی کا سبب ۸۱

٥۔نمازشب نورانیت کا سبب ۸۲

توضیح و تحلیل روایت: ۸۳

٦۔نماز شب گناہوں کے مٹ جانے کا سبب ۸۴

تحلیل و تفسیر: ۸۵

توضیح: ۸۷

٧۔نماز شب خوبصورتی کا سبب ۸۷

تحلیل و تفسیر: ۸۸

۱۷۵

تحلیل و تفسیر: ۸۹

٨۔نماز شب باعث دولت ۹۱

تفسیر و تحلیل: ۹۲

٩۔مشکلات برطرف ہونے میں مؤثر ۹۳

تیسری رویات : ۹۴

تحلیل و تفسیر: ۹۵

١٠۔خدا کی ناراضگی کے خاتمہ کا سبب ۹۵

١١۔نماز شب استجابت دعا کا سبب ۹۶

تحلیل حدیث: ۹۶

١٢۔نماز شب نورانیت قلب کا ذریعہ ۹۶

تفسیر روایت: ۹۷

تفسیر روایت: ۹۸

١٣۔نماز شب باعث خوشبو ۹۹

روایت کی توضیح : ۱۰۰

١٤۔نمازشب بصیرت میں اضافہ کاسبب ۱۰۱

١٥۔ قرضہ کی ادائیگی کا سبب نماز شب ۱۰۱

١٦۔نماز شب دشمن پر غلبہ پانے کا ذریعہ ۱۰۲

١٧۔نمازشب باعث خیروسعادت ۱۰۴

١٨۔انسان کے اطمئنان کا ذریعہ ۱۰۵

١٩۔نماز شب طولانی عمر کا ذریعہ ۱۰۶

۱۷۶

ب۔ عالم برزخ میں نماز شب کے فوائد ۱۰۷

مقدمہ : ۱۰۷

١۔نماز شب قبر میں روشنی کا ذریعہ ۱۰۷

٢۔ وحشت قبر سے نجات ملنے کا ذریعہ ۱۰۹

٣۔قبر کا ساتھی نماز شب ۱۱۱

٤۔نماز شب مانع فشار قبر ۱۱۳

٥۔نماز شب قبر میں آپ کی شفیع ۱۱۵

ج۔عالم آخرت میں نماز شب کے فوائد ۱۱۶

١۔جنت کادروازہ نمازشب ۱۱۶

تفسیر وتحلیل: ۱۱۹

٢۔جنت میں سکون کا ذریعہ ۱۱۹

٣۔دائیں ہاتھ میں نامہئ اعمال دیا جانے کا سبب ۱۲۰

٤۔پل صراط سے بامیدی عبور کا سبب ۱۲۲

٥۔جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں ۱۲۴

٦۔آتش جہنم سے نجات کا باعث ۱۲۵

٧۔آخرت کی زادو راہ نماز شب ۱۲۶

٩۔آخرت کی زینت نماز شب ۱۲۹

١٠۔جنت میں خصوصی مقام ملنے کا سبب ۱۳۰

تحلیل وتفسیر: ۱۳۱

تیسری فصل : ۱۳۲

۱۷۷

نماز شب سے محروم ہونے کی علت ۱۳۲

الف۔ گناہ : ۱۳۳

تحلیل وتفسیر: ۱۳۴

ب۔نماز شب سے محروم ہونے کا دوسرا سبب ۱۳۴

ج۔نماز شب سے محروم ہونے کاتیسرا سبب ۱۳۶

د۔ پر خوری ۱۳۷

ھ۔عجب اور تکبر ۱۳۷

چوتھی فصل: ۱۴۰

جاگنے کے عزم پر سونے کا ثواب ۱۴۰

١۔نماز شب چھوڑنے کی ممانعت ۱۴۲

اعتراض وجواب ۱۴۲

جواب : ۱۴۳

دوسرا منفی نتیجہ: ۱۴۴

پانچویں فصل: ۱۴۵

نماز شب پڑھنے کا طریقہ ۱۴۵

٢۔نماز وترپڑھنے کا طریقہ ۱۴۶

نماز شب پڑھنے کا دوسرا طریقہ ۱۴۷

٤۔قنوت ۱۵۳

نماز شفع پڑھنے کا دوسرا طریقہ ۱۵۵

نماز وتر پڑھنے کا دوسراطریقہ ۔ ۱۵۵

۱۷۸

چھٹی فصل : ۱۶۱

١۔نماز شب کی قضاء انجام دینے کی اہمیت ۱۶۱

٢۔نماز شب کے سواری کی حالت میں پڑھنے کاثواب ۱۶۳

٣۔نمازشب کو ہمیشہ جاری رکھنے کی فضیلت ۱۶۴

٤۔ نیند سے بیدار ہونے کا راہ حل ۱۶۷

٤۔ خاتمہ ۱۶۹

فہرست منابع ۱۷۰

۱۷۹