مناسك حج

مناسك حج0%

مناسك حج مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 217

مناسك حج

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات:

صفحے: 217
مشاہدے: 5739
ڈاؤنلوڈ: 350

تبصرے:

مناسك حج
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 217 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5739 / ڈاؤنلوڈ: 350
سائز سائز سائز
مناسك حج

مناسك حج

مؤلف:
اردو

دے اور اگر دومرتبہ سے زيادہ كرے توكفارہ ميں ايك گائے دينا واجب ہے_

۱۶_ حشرات بدن كو مارنا:

مسئلہ ۲۱۳_ احوط كى بناپر احرام كى حالت ميں جوؤں كو مارنا جائز نہيں ہے _ اوراسى طرح كے ديگر حشرات جيسے پسُّو

۱۷_ حرم كے پودوں اور درختوں كو كاٹنا:

مسئلہ ۲۱۴_ حرم ميں اگنے والے درختوں اور گھاس كو قطع كرنا ، كاٹنا اور توڑنا حرام ہے اور اس ميں محرم اور غير محرم كے درميان كوئي فرق نہيں ہے _

مسئلہ ۲۱۵_ مذكورہ حكم سے وہ مستثنى ہے كہ جو چلنے كى وجہ سے ٹوٹ جائے يا جانوروں كو چارہ ڈالٹے كيلئے كاٹا جائے _

مسئلہ ۲۱۶_ حرم سے گھاس كاٹنے پر كفارہ نہيں ہے بلكہ صرف استغفار واجب ہے ليكن اگر اس درخت كو كاٹے كہ جس كاكاٹنا حرام ہے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ ايك گائے كفارے ميں دے _

۱۰۱

۱۸_ اسلحہ اٹھانا:

مسئلہ ۲۱۷_ محرم كيلئے اسلحہ اٹھانا جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۲۱۸_ اگر اپنى جان و مال يا كسى دوسرے كى جان كى حفاظت كيلئے اسلحہ اٹھانے كى ضرورت ہو تو يہ جائز ہے_

۱۹_ خشكى كا شكار كرنا:

مسئلہ ۲۱۹_ احرام كى حالت ميں خشكى كا شكار كرنا حرام ہے مگر جب اسكى طرف سے تكليف پہنچانے كاخوف ہو اسى طرح پرندوں اور ٹڈى كا شكار كرنا بھى حرام ہے _

مسئلہ ۲۲۰_ محرم كيلئے شكار كا گوشت كھانا حرام ہے چاہے اس نے خود اسے شكار كيا ہو يا كسى اور نے اور چاہے شكار كرنے والا محرم ہو يا مُحل _

مسئلہ ۲۲۱_ دريائي جانوروں كے شكار كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے جيسے مچھلى كا شكار كرنے اور انكے كھانے ميں بھى كوئي اشكال نہيں ہے_

۱۰۲

مسئلہ ۲۲۲_ پالتو جانوروں كے ذبح كرنے اور كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے جيسے بكري، مرغى و غيرہ _

مسئلہ ۲۲۳_ حرم كے دائرے كے اندر جانور كا شكار كرنا جائز نہيں ہے چاہے محرم ہو يا مُحل_

احرام كى حالت ميں شكار كرنے اور اسكے كفارات كے احكام بہت زيادہ ہيں اور چونكہ موجودہ دور ميں يہ پيش نہيں آتے اسلئے ہم ان سے صرف نظر كرتے ہيں _

۲۰_ جماع

مسئلہ ۲۲۴_ احرام كى حالت ميں جماع اور بيوى سے ہر قسم كى لذت حاصل كرنا حرام ہے جيسے اسكے بدن كو چھونا ، اسكى طرف شہوت كے ساتھ ديكھنا اور اسے بوسہ دينا_

مسئلہ ۲۲۵_ مياں بيوى ميں سے ہر ايك كا دوسرے كى طرف ديكھنا اور

۱۰۳

اسكے ہاتھ كو چھونا جائز ہے اگر شہوت اور لذت سے نہ ہو_

مسئلہ ۲۲۶_ انسان كے محارم جسے باپ، ماں ، بھائي ، بہن اور چچا، پھوپھى و غيرہ احرام كى حالت ميں بھى مَحْرَمْ ہى رہتے ہيں_

مسئلہ ۲۲۷_ بيوى كے ساتھ جماع كرنے كا كفارہ ايك اونٹ ہے اور بعض موارد ميں اس سے حج باطل ہوجاتا ہے اور اسكى تفصيل فقہ كى مفصل كتابوں ميں مذكور ہے_

مسئلہ ۲۲۸_ ديگر لذات ميںسے ہر ايك كيلئے ايك كفارہ ہے كہ جنكى تفصيل فقہى كتابوں ميں مذكور ہے_

۲۱_ عقد نكاح:

مسئلہ ۲۲۹_ احرام كى حالت ميں اپنے لئے يا كسى اور كيلئے عقد كرنا حرام ہے حتى اگر وہ غير ،مُحل ہو اور ايسا عقد باطل ہے_

مسئلہ ۲۳۰_ عقد كى حرمت اور اسكے باطل ہونے ميں عقد دائم

۱۰۴

اورموقت كے درميان كوئي فرق نہيں ہے _

۲۲_ استمنائ

مسئلہ ۲۳۱_ احرام كى حالت ميں استمناء كرنا حرام ہے اور اس كا حكم جماع والا حكم ہے_

اور اس سے مراد يہ ہے كہ انسان اپنے ساتھ ايسا كام كرے كہ جس سے اسكى شہوت برانگيختہ ہوجائے يہاں تك كہ منى نكل آئے _

محرمات احرام كے كفارات كے احكام

مسئلہ ۲۳۲_ اگر غفلت كى وجہ سے يا بھول كر احرام كے محرمات ميں سے كسى كا ارتكاب كرے تو كفارہ واجب نہيں ہے مگر شكار كيونكہ اس ميں ہر حال ميں كفارہ واجب ہے _

مسئلہ ۲۳۳_ عمرہ ميں شكار كے كفارے كے ذبح كرنے كا مقام مكہ

۱۰۵

مكرمہ ہے اور حج ميں منى ہے اور احوط يہ ہے كہ ديگر كفارات ميں بھى اسى ترتيب كے مطابق عمل كيا جائے ليكن اگر مكہ يا منى ميں كفارہ كو ذبح نہ كرے تو كسى دوسرى جگہ ذبح كردينا كافى ہے حتى كہ حج سے لوٹنے كے بعد اپنے شہر ميں _

مسئلہ ۲۳۴_ جس پر كفارہ واجب ہو اس كيلئے اسكے گوشت سے كچھ كھانا جائز نہيں ہے ليكن حج كى واجب يا مستحب يا نذر كى قربانى سے كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۲۳۵_ محرمات احرام كا كفارہ فقير كو دينا واجب ہے_

مكہ مكرمہ كى طرف جانا

مسئلہ ۲۳۶_ ميقات سے احرام باندھ كر حجاج عمرہ كے باقى اعمال كى انجام دہى كيلئے مكہ مكرمہ كى طرف جاتے ہيں اور مكہ پہنچنے سے پہلے حرم كا

۱۰۶

علاقہ شروع ہوجاتا ہے اور حرم كے علاقے ميں داخل ہونے كيلئے اسى طرح مكہ مكرمہ اور مسجدالحرام ميں داخل ہونے كيلئے بہت سارى دعائيں اور آداب وارد ہوئے ہيں ہم ان ميں سے بعض كو ذكر كرتے ہيں جو شخص ان سب آداب اور مستحبات پر عمل كرناچاہتا ہے وہ مفصل كتابوں كى طرف رجوع كرے_

حرم ميں داخل ہونے كى دعا

مسئلہ ۲۳۷_حرم ميں داخل ہوتے وقت يہ دعا مستحب ہے_

اللّہُمَّ انَّكَ قُلْتَ فى كتَابكَ الْمُنْزَل وقَوْلُكَ الْحَقُّ (وَ ا َذّنْ فى النَّاس بالْحَجّ يَا تُوكَ رجالاً وَ عَلى كُلّ ضامر: يَا تينَ منْ كُلّ فَجّ: عَميق:) اللّہُمَّ وَ انّى ا َرْجُو ا َنْ ا َكُونَ ممَّنْ ا َجَابَ دَعْوَتَكَ وَ قَدْ جئْتُ منْ شُقَّة: بَعيدَة: وَ منْ فَجّ: عَميق: سَامعاً لندَائكَ وَ مُسْتَجيباً

۱۰۷

لَكَ مُطيعاً ل-اَمْركَ وَ كُلُّ ذَلكَ بفَضْلكَ عَلَيَّ وَ احْسَانكَ الَيَّ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلى مَا وَفَّقْتَنى لَہُ ا َبْتَغى بذلكَ الزُّلْفَة عنْدَكَ وَالقُرْبَةَ الَيْكَ وَالمَنْزلَةَ لَدَيْكَ وَالمَغْفرَةَ لذُنُوبى وَالتَّوْبَةَ عَلَيَّ منْہَا بمَنّكَ اللّہُمَّ صَلّ عَلى مُحَمَّد: وَ آل مُحَمَّد: وَحَرّمْ بَدَنى عَلى النَّار وَآمنّى منْ عَذَابكَ وَ عقَابكَ برَحْمَتكَ يَا ا رْحَمَ الرَّاحمينَ_

مسجد الحرام ميں داخل ہونے كے مستحبات

مسئلہ ۲۳۸_ مسجدالحرام ميں داخل ہوتے وقت مندرجہ ذيل اعمال مستحب ہيں _

۱_ مكلف كيلئے مستحب ہے كہ مسجدالحرام ميں داخل ہونے كيلئے غسل كرے_

۱۰۸

۲_ مستحب ہے كہ مسجدالحرام ميں داخل ہوتے وقت وہ دعائيں پڑھے جو احاديث ميں وارد ہوئي ہيں_

۱۰۹

تيسرى فصل :

طواف اور نماز طواف كے بارے ميں

طواف:

يہ عمرہ كا دوسرا واجب عمل ہے پس عمرہ كا احرام باندھ كر عمرہ كے باقى اعمال بجالانے كيلئے مكہ معظمہ كى طر ف جائے اور پہلا عمل جو انجام دے گا وہ خانہ كعبہ كے اردگرد سات چكر لگاكر اس كا طواف ہے _

طواف كے بارے ميں بحث ايك تو اسكى شرائط كے بارے ميں ہے اور دوسرى اسكے واجبات كے بارے ميں _

۱۱۰

طواف كى شرائط

طواف ميں چند چيزيں شرط ہيں_

اول : نيت

دوم: حدث سے پاك ہونا

سوم : خبث سے پاك ہونا

چہارم : مردوں كيلئے ختنہ

پنجم: شرمگاہ كو چھپانا

ششم: موالات

پہلى شرط نيت

يعنى عمرہ يا حج كے طواف كو قربةً الى اللہ بجالانے كا قصد كرے پس اس قصد كے بغير _اگر چہ بعض چكروں ميں _طواف كافى نہيں ہے_

۱۱۱

مسئلہ ۲۳۹_ نيت ميں قربت اور اللہ تعالى كيلئے اخلاص شرط ہے پس عمل كو بجالائے گا اللہ تعالى كے حكم كى اطاعت كرنے كيلئے لذا اگر رياء كيلئے انجام دے تو نافرمانى كا مرتكب ہوگا اور اس كا عمل باطل ہے_

مسئلہ ۲۴۰_ نيت ميں اس بات كى تعيين كرنا شرط ہے كہ يہ عمرہ مفردہ كا طواف ہے يا عمرہ تمتع كا ياحج كا ،پھر آيا حجة الاسلام كا طواف ہے يا حج استحبابى كا يا نذر والے حج كا ، اور اگر حج ميں نائب ہو تو اس كا بھى قصد كرے_

مسئلہ ۲۴۱_ نيت كو بولنا يا اسے دل سے گزارنا واجب نہيں ہے بلكہ عمرہ كے طواف كو اللہ تعالى اور اسكے حكم كى اطاعت كرنے كيلئے بجالانا كافى ہے اور طواف كى حالت ميں ذكر ، خشوع، حضور قلب اور اس سلسلے ميں وارد ہونے والى دعاؤں كو پڑھنے كى تسلسل كے ساتھ پابندى كرنى چاہيے_

۱۱۲

دوسرى شرط : حدث اكبر اور اصغر سے پاك ہونا

مسئلہ ۲۴۲_ واجب طواف كى حالت ميں جنابت، حيض اور نفاس سے پاك ہونا واجب ہے اور طواف كيلئے وضو بھى واجب ہے_

وضاحت : واجب طواف وہ طواف ہے جو عمرہ اور حج كے اعمال كا جز ہوتا ہے اسى لئے مستحب حج و عمرہ ميں بھى طواف كو واجب شمار كيا جاتا ہے _

مسئلہ ۲۴۳_ اگر حدث اكبر يا اصغر والا شخص طواف كرے تو اس كا طواف صحيح نہيں ہے اگر چہ وہ جاہل ہو يا اس نے بھول كر ايسا كيا ہو بلكہ اس پر طواف اور اسكى نماز كا تدارك كرنا واجب ہے حتى كہ اگر طہارت كے نہ ہونے كى طرف التفات عمرہ يا حج كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد ہو _

مسئلہ ۲۴۴_ مستحب طواف ميں وضو شرط نہيں ہے ليكن احوط كى بناپر جنابت، حيض يا نفاس كى حالت ميں طواف حكم وضعى كے اعتبار سے صحيح نہيں ہے اور اسكے ساتھ ساتھ حكم تكليفى كے اعتبار سے جنب، حيض يا نفاس كى حالت ميں مسجدالحرام ميں داخل ہونا حرام ہے _

۱۱۳

وضاحت: طواف مستحب وہ طواف ہوتا ہے كہ جو عمرہ اور حج كے اعمال سے مستقل اور عليحدہ ہوتا ہے چاہے اپنى طرف سے طواف كرے يا كسى كى نيابت ميں _ اور يہ كام ان كاموںميں سے ايك ہے جو مكہ ميں مستحب ہيں پس انسان كيلئے جس قدر طواف كرنا ممكن ہو اچھا ہے اور اجر و ثواب كا موجب ہے _

مسئلہ ۲۴۵_ اگر محرم اپنے طواف كے دوران ميں حدث اصغر ميں مبتلا ہوجائے تو اسكى چند صورتيں ہيں

۱_ يہ كہ حدث چوتھے چكر كے نصف تك پہنچنے سے پہلے عارض ہو (يعنى خانہ كعبہ كے تيسرے ركن كے بالمقابل پہنچنے سے پہلے) تو اس طواف كو منقطع كردے اور طہارت كے بعد طواف كااعادہ كرے

۲_ يہ كہ حدث چوتھے چكر كے نصف كے بعد ليكن اسے مكمل كرنے سے پہلے عارض ہو تو طواف كو منقطع كرے اور طہارت كے بعد طواف كو وہيں سے جارى ركھے البتہ اگر اس سے موالات عرفى ميں خلل وارد نہ ہوتا

۱۱۴

ہو ورنہ تمام و اتمام كے قصد كے ساتھ اس كااعادہ كرے (يعنى اس نيت كے ساتھ سات چكر لگائے كہ اگر پچھلے چكر صحيح ہيں تو اس كے باقى چكر كى كمى ان ميں سے پورى ہوجائے گى اور اگر وہ باطل ہيں تو يہ سات چكر ايك نيا طواف ہے ) اور اس كيلئے يہ بھى جائز ہے كہ اسے بالكل كالعدم كر كے نئے سرے سے طواف كرے_

۳_ يہ كہ حدث چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد عارض ہو تو طواف كو منقطع كر كے طہارت كرے اور پھر وہيں سے طواف كو جارى ركھے ليكن اگر اس سے موالات عرفيہ كو نقصان نہ پہنچا ہو ورنہ احوط يہ ہے كہ اسے مكمل كرے اور پھر اس كا اعادہ بھى كرے اور اس كيلئے جائز ہے كہ اس طواف كو بالكل ختم كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے جيسے كہ اس كيلئے جائز ہے كہ تمام و اتمام كے قصد كے ساتھ سات چكر بجالائے_

مسئلہ ۲۴۶_ اگر طواف كے دوران ميں حدث اكبر عارض ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ فوراً مسجد الحرام سے نكل جائے پھر اگر يہ چوتھے چكر كے نصف تك پہنچنے سے پہلے ہو تو طواف باطل ہے اور غسل كے بعد اس كا

۱۱۵

اعادہ كرنا واجب ہے اور اگر نصف تك پہنچنے كے بعد اور چوتھا چكر مكمل كرنے سے پہلے ہو تو اگر موالات عرفيہ ميں خلل وارد نہ ہوا ہو تو وہيں سے طواف كو جارى ركھے ورنہ احوط يہ ہے كہ اسے مكمل كرے اور پھر اعادہ بھى كرے اور اس كيلئے جائز ہے كہ تمام واتمام كے قصدكے ساتھ پورا طواف بجالائے جيسا كہ اسكے لئے يہ بھى جائز ہے كہ سابقہ چكروں كو بالكل كالعدم كركے غسل كے بعد نيا طواف بجالائے اور اگر چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد عا رض ہو تو اس كا حكم وہى ہے جو طواف كے دوران ميں چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد حدث اصغر كے عارض ہونے كا ہے جو كہ ابھى ابھى گزرا ہے _

مسئلہ ۲۴۷_ جو شخص وضو يا غسل كے ترك كرنے ميں معذور ہو اس پر ان دونوں كے بدلے ميں تيمم كرنا واجب ہے_

مسئلہ ۲۴۸_ اگر كسى عذر كى وجہ سے وضو يا غسل نہ كرسكتا ہو تو اگر اسے آخرى وقت تك اس عذر كے دور ہونے كا علم ہے جيسے كہ وہ مريض جو جانتا ہے كہ آخرى وقت تك شفا ياب ہوجائيگا تو اس پر واجب ہے كہ اپنا عذر دور ہونے تك صبر كرے پس وضو يا غسل كے ساتھ طواف بجالائے بلكہ اگر

۱۱۶

اسے اپنے عذر كے مرتفع ہونے كى اميد ہو تو بھى احوط وجوبى ہے كہ صبر كرے يہاں تك كہ وقت تنگ ہوجائے يا اپنے عذركے مرتفع ہونے سے مايوس ہوجائے اور اسكے بعد تيمم كركے طواف بجالائے _

مسئلہ ۲۴۹_ جس شخص كا فريضہ تيمم يا جبيرہ والا وضو ہے اگر حكم سے لاعلمى كى وجہ سے مذكورہ طہارت كے بغير طواف يا اسكى نماز كو بجالائے تو اس پر واجب ہے كہ اگر ممكن ہو خود ان كا اعادہ كرے ورنہ نائب بنائے _

مسئلہ ۲۵۰_ اگر عمرہ مفردہ كے احرام كے بعد عورت كو حيض آجائے اور پاك ہونے كا انتظار نہ كر سكتى ہو تا كہ غسل كر كے اسكے اعمال كو انجام دے تو اس پر واجب ہے كہ طواف اور نماز طواف كيلئے نائب بنائے ليكن سعى اور تقصير كو خود بجالائے اور ان سب كے ساتھ احرام سے خارج ہو جائے اور يہى حكم ہے كہ ا گر حيض كى حالت ميں احرام باندھے ليكن اگر حيض كى حالت ميں عمرہ تمتع كا احرام باندھے يا عمرہ تمتع كا احرام باندھنے كے بعد اسے حيض آجائے اور پاك ہونے كا انتظار نہ كرسكتى ہو تا كہ غسل كر كے عمرہ كا

۱۱۷

طواف اور اسكى نماز بجالائے تو اس كا حكم اور ہے كہ جس كا ذكر گزرچكا ہے_

مسئلہ ۲۵۱_ عمرہ كے اعمال ميں سے صرف طواف اور نماز طواف ميں حدث سے پاك ہونا واجب ہے ليكن عمرہ كے باقى اعمال ميں حدث سے طہارت شرط نہيں ہے اگر چہ افضل يہ ہے كہ انسان ہر حال ميں با طہارت ہو _

مسئلہ ۲۵۲_ اگر طہارت ميں شك ہو تو اسكى ذمہ دارى درج ذيل ہے_

۱_ اگر طواف كو شروع كرنے سے پہلے وضو ميں شك ہو تو وضو كرے_

۲_ اگر اس پر غسل واجب ہو اور طواف كو شروع كرنے سے پہلے اسكے بجالانے ميں شك كرے تو اس پر واجب ہے كہ غسل كو بجالائے_

۳_ اگر با وضو ہو اور شك كرے كہ اس كا وضو باطل ہوا ہے يا نہيں تو وضو واجب نہيں ہے _

۴_ اگر با طہارت ہو اور شك كرے كہ جنب ہوا ہے يا نہيں يا عورت شك كرے كہ اسے حيض آيا ہے يا نہيں تو ان پر غسل واجب نہيں ہے _

۱۱۸

۵_ اگر طواف سے فارغ ہونے كے بعد طہارت ميں شك كرے تو اس كا طواف صحيح ہے ليكن اس پر واجب ہے كہ نماز طواف كيلئے طہارت حاصل كرے_

۶_ اگر طہارت كى حالت ميں طواف كو شروع كرے اور اثناء ميں حدث كے طارى ہونے اور نہ ہونے ميں شك كرے جيسے كہ شك كرے كہ اس كا وضو باطل ہوا ہے يا نہيں تو اپنے شك كى پروا نہ كرے اور طہارت پر بنا ركھے_

۷_ اگر طواف كے اثناء ميں شك كرے كہ اس نے وضو كى حالت ميں طواف كو شروع كيا تھا يا نہيں تو يہاں پر اسكى سابقہ حالت اگر وضو ہو تو اس پر بناركھے اور اپنے شك كى پر وا نہ كرے اور اس كا طواف صحيح ہے ليكن اگر اسكى سابقہ حالت وضو نہ ہو يا اس ميں بھى شك كرے كہ سابق ميں وضو ركھتا تھا يانہيں تو اس پرواجب ہے كہ وضو كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے_

۸_ اگر اس پر غسل واجب ہو اور طواف كے اثنا ميں شك كرے كہ غسل

۱۱۹

كو بجالايا تھا يا نہيں تو اس پر واجب ہے كہ فوراً مسجد سے نكل جائے اور غسل كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے_

تيسرى شرط: بدن اور لباس كا خبث سے پاك ہونا

مسئلہ ۲۵۳_واجب ہے كہ طوا ف كى حالت ميں بدن اور لباس خون سے پاك ہوں اور احوط وجوبى يہ ہے كہ يہ دونوں باقى نجاسات سے بھى پاك ہوں ہاں جوراب، رومال اور انگوٹھى كا پاك ہونا شرط نہيں ہے_

مسئلہ ۲۵۴:درہم سے كم خون اور اسى طرح پھوڑے پھنسى كا خون جس طرح نماز كے بطلان كا سبب نہيں بنتا اسى طرح طواف كو بھى باطل نہيں كرتا_

مسئلہ ۲۵۵_ اگر بدن نجس ہو اور طواف كو مؤخر كرنا ممكن ہو يہاں تك كہ اسے نجاست سے پاك كرلے تو طواف كو مؤخر كرنا واجب ہے جبتك اس كا وقت تنگ نہ ہوجائے _

۱۲۰