مناسك حج

مناسك حج0%

مناسك حج مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 217

مناسك حج

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات:

صفحے: 217
مشاہدے: 6997
ڈاؤنلوڈ: 379

تبصرے:

مناسك حج
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 217 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6997 / ڈاؤنلوڈ: 379
سائز سائز سائز
مناسك حج

مناسك حج

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

مناسك حج

ولى امر مسلمين و مرجع تقليد

حضرت آيت اللہ العظمى سيد على خامنہ اى (دام ظلہ الوارف)

مترجم:

معارف اسلام پبلشرز

۳

نام كتاب :مناسك حج

مترجم : معارف اسلام پبلشرز

ناشر :نور مطاف

اشاعت :پہلى

سنہ اشاعت : رمضان المبارك ۱۴۲۷ ھ_ق

تعداد :دوہزار

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _

۴

و اذن فى الناس بالحج يا توك رجالا و على كل ضامر يا تين من كل حج عميق

(سورہ حج آيت ۲۷)

حج بيت اللہ كے باعظمت اعمال مختلف پہلوؤں سے قابل توجہ ہيں_ خاص طور پر ان كا عبادى پہلو خصوصى ظرافت كا حامل ہے چنانچہ حجاج كرام اعمال حج كو شروع سے آخر تك مراجع عظام كے فتاوى كے مطابق انجام دينے كو بڑى اہميت ديتے ہيں_يہ كتاب جو قارئين محترم كے ہاتھوں ميں ہے يہ مناسك حج كے سلسلے ميں رہبر انقلا ب حضرت آيت اللہ العظمى خامنہ اى (دام ظلہ) كے جديد ترين فتاوى كا ترجمہ ہے_

ہمارى دعا ہے كہ اسكے ترجمے اور تصحيح و غيرہ كے سلسلے ميں جن لوگوں

۵

نے زحمات اٹھائي ہيں خدا تعالى انہيں اجر جزيل عطا فرمائے اور ہم راہبر معظم كے دفتر كے بھى شكر گزار ہيں جنہوں نے اس سلسلے ميں ہمارى مدد كى _

آخر ميں خدا تعالى كے تہ دل سے شكرگزار ہيں كہ اس نے ہميں اس گرانبہا كام كوانجام دينے كيلئے توفيق عظيم عنايت فرمائي_

اللهم عجل لوليك الفرج واجعلنا من اعوانه و انصاره

معارف اسلام پبلشرز

رمضان المبارك ۱۴۲۷

۶

مقدمہ:

شرعاً حج سے مراد خاص اعمال كا مجموعہ ہے اور يہ ان اركان ميں سے ايك ركن ہے كہ جن پر اسلام كى بنياد ركھى گئي ہے جيسا كہ امام محمدباقر (ع) سے روايت ہے :

''بنى الاسلام على خمس على الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولاية''

اسلام كى بنياد پانچ چيزوں پر ركھى گئي ہے نماز ، زكات ، روزہ ، حج اور ولايت پر _

حج چاہے واجب ہو چاہے مستحب بہت بڑى فضيلت اور كثير اجر ركھتا ہے اور اسكى فضيلت كے بارے ميں پيغمبر اكرم (ص) اور اہل بيت (عليہم السلام) سے كثير روايات وارد ہوئي ہيں چنانچہ امام صادق (ع) سے روايت ہے:

''الحاج والمعتمر وفد الله ان سا لوه اعطاهم وان

۷

دعوه اجابهم و ان شفعوا شفعهم و ان سكتوا ابتدا هم و يعوضون بالدرهم الف الف درهم ''

حج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا گروہ ہيں اگر اللہ سے سوال كريں تو انہيں عطا كرتاہے اور اسے پكاريں تو انہيں جواب ديتاہے، اگر شفاعت كريں تو انكى شفاعت كو قبول كرتاہے اگرچھپ رہيں تو از خود اقدام كرتاہے اور انہيںايك درہم كے بدلے دس لاكھ درہم ديئے جاتے ہيں_

وجوب حج كے منكر اور تارك حج كا حكم

حج كا وجوب كتاب و سنت كے ساتھ ثابت ہے اور يہ ضروريات دين ميںسے ہے اور جس بندے ميںاسكى آئندہ بيان ہونے والى شرائط كامل ہوں اور اسے اسكے وجوب كا بھى علم ہو اس كا اسے انجام نہ دينا كبيرہ گناہ ہے_

۸

اللہ تعالى اپنى محكم كتاب ميں فرماتا ہے:

''وللہ على الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا و من كفر فان اللہ غنى عن العالمين''

اور لوگوں پر واجب ہے كہ محض خدا كيلئے خانہ كعبہ كا حج كريں جنہيں وہاں تك پہنچنے كى استطاعت (قدرت) ہو اور جس نے با وجود قدرت حج سے انكار كيا تو ( ياد ركھئے كہ ) خدا سارے جہان سے بے پروا ہے_

اور امام صادق سے روايت ہے :

جو شخص دنيا سے اس حال ميں چل بسے كہ اس نے حجةا لاسلام انجام نہ ديا ہو جبكہ كوئي حاجت اس كيلئے مانع نہ ہو يا ايسى بيمارى ميں بھى مبتلا نہ ہو جسكے ساتھ حج كى طاقت نہ ركھتا ہو اور كوئي حاكم ركاوٹ نہ بنے تو وہ يہودى يا نصرانى ہوكر مرے_

حج كى اقسام:

جو حج مكلف انجام ديتا ہے يا تو اسے اپنى طرف سے انجا م ديتا ہے يا

۹

كسى اور كى طرف سے _اس دوسرے كو ''نيابتى حج '' كہتے ہيں اور پہلا يا واجب ہے يا مستحب اور واجب حج يا بذات خود شريعت ميں واجب ہوتا ہے تو اسے ''حجة الاسلام'' كہتے ہيں اور يا كسى اور سبب كى وجہ سے واجب ہوتا ہے جيسے نذر كرنے كى وجہ سے يا حج كو فاسد كردينے كى وجہ سے _

اور حجة الاسلام اورنيابتى حج ميں سے ہر ايك كى اپنى اپنى شرائط اور احكام ہيں كہ جنہيں ہم پہلے باب ميں دو فصلوں كے ضمن ميں ذكر كريںگے_

نيز حج كى تين قسميں ہيں تمتع ، افراد ، قران

حج تمتع ان لوگوں كا فريضہ ہے كہ جن كا وطن مكہ مكرمہ سے اڑتاليس ميل تقريباً نوے كيلوميٹر دور ہے اور حج افراد اور قران ان لوگوں كا فريضہ ہے كہ جن كا وطن يا تو خود مكہ ہے يا مذكورہ مسافت سے كم فاصلے پر اور حج تمتع ، حج قران و افراد سے بعض اعمال و مناسك كے اعتبار سے مختلف ہے اور اسے ہم دوسرے باب ميں چند فصول كے ضمن ميں بيان كريں گے_

۱۰

باب اول:

حَجة الاسلام اورنيابتى حج كے بارے ميں

۱۱

فصل اول : حجة الاسلام

مسا لہ ۱_ جو شخص حج كى استطاعت ركھتا ہو اس پر اصل شريعت كے اعتبار سے پورى عمر ميں صرف ايك مرتبہ حج واجب ہوتا ہے اوراسے ''حجة الاسلام'' كہا جاتا ہے_

مسا لہ ۲_ حجة الاسلام كا وجوب فورى ہے يعنى جس سال استطاعت حاصل ہوجائے اسى سال حج پر جانا واجب ہے اور كسى عذر كے بغير مؤخر كرنا جائز نہيں ہے اور اگر اسے مؤخر كرے تو گناہ گار ہے اور حج اسكے ذمے ثابت ہوجائيگا اور اسے آئندہ سال انجام دينا واجب ہے و على ہذا القياس_

۱۲

مسا لہ۳_ اگر استطاعت والے سال حج كوانجام دينا بعض مقدمات پر موقوف ہو _جيسے سفر كرنا اور حج كے وسائل و اسباب كو مہيا كرنا_ تو اس پر واجب ہے كہ ان مقدمات كو حاصل كرنے كيلئے اس طرح مبادرت سے كام لے كہ اسے اسى سال حج كو پالينے كا اطمينان ہو_

اور اگر اس ميں كوتاہى كرے اور حج كو بجا نہ لائے تو گناہ گار ہے اور حج اسكے ذمے ميں ثابت اور مستقر ہو جائيگا اور اس پر اسے بجا لانا واجب ہے اگر چہ استطاعت باقى نہ رہے_

حجة الاسلام كے وجوب كے شرائط

حجة الاسلام مندرجہ ذيل شرائط كے ساتھ واجب ہوتا ہے:

پہلى شرط :

عقل پس مجنون پر حج واجب نہيں ہوتا_

۱۳

دوسرى شرط:

بلوغ پس نابالغ پر حج واجب نہيں ہوتا اگر چہ وہ بلوغ كے قريب ہو اور اگر نابالغ بچہ حج بجا لائے تو اگر چہ اس كا حج صحيح ہے ليكن يہ حجة الاسلام سے كافى نہيں ہے_

مسا لہ ۴:اگر بچہ احرام باندھ كر مشعر ميں وقوف كو بالغ ہونے كى حالت ميں پالے اور حج كى استطاعت بھى ركھتاہو تو اس كا يہ حج حجة الاسلام سے كافى ہے_

مسا لہ۵: وہ بچہ جواحرام باندھے ہوئے ہے اگر محرمات ( جو كام احرام كى حالت ميں حرام ہيں ) ميں سے كسى كام كاارتكاب كرے تو اگر وہ كام شكار ہو تو اس كا كفارہ اسكے ولى پر ہوگا اور اسكے علاوہ ديگر كفارات تو ظاہر يہ ہے كہ وہ نہ تو ولى پر واجب ہيں اور نہ ہى بچے كے مال ميں :

مسا لہ ۶: بچے كے حج ميں قربانى كى قيمت اسكے ولى پر ہے_

مسا لہ ۷: واجب حج ميں شوہر كى اجازت شرط نہيں ہے پس بيوى پر حج

۱۴

واجب ہے اگر چہ شوہر سفر حج پر راضى نہ ہو _

مسا لہ ۸_ مستطيع شخص سے حجة الاسلام كے صحيح ہونے ميں والدين كى اجازت شرط نہيں ہے _

تيسرى شرط :

استطاعت اور يہ مندرجہ ذيل امور پر مشتمل ہے_

الف : مالى استطاعت

ب : جسمانى استطاعت

ج : سربى استطاعت (راستے كا با امن اور كھلا ہونا)

د : زمانى استطاعت

ہر ايك كى تفصيل

الف : مالى استطاعت :

يہ متعدد امور پر مشتمل ہے_

۱۵

۱_ زاد و راحلہ

۲_ سفر كى مدت ميں اپنے اہل و عيال كے اخراجات

۳_ ضروريات زندگي

۴_ رجوع الى الكفاية

مندرجہ ذيل مسائل كے ضمن ميں انكى تفصيل بيان كرتے ہيں:

۱_ زاد و راحلہ

زاد سے مراد ہر وہ شے ہے كہ جسكى سفر ميں ضرورت ہوتى ہے جيسے كھانے پينے كى چيزيں اور اس سفر كى ديگر ضروريات اور راحلہ سے مراد ايسى سوارى ہے كہ جسكے ذريعے سفر طے كيا جا سكے _

مسا لہ ۹_ جس شخص كے پاس نہ زاد و راحلہ ہے اور نہ انہيں حاصل كرنے كيلئے رقم اس پر حج واجب نہيں ہے اگر چہ وہ كما كر يا كسى اور ذريعے سے انہيں حاصل كرسكتا ہو _

۱۶

مسا لہ ۱۰_ اگر پلٹنے كا ارادہ ركھتا ہو تو شرط ہے كہ اسكے پاس اپنے وطن يا كسى دوسرى منزل مقصود تك واپس پلٹنے كے اخراجات ہوں_

مسا لہ ۱۱_ اگر اسكے پاس حج كے اخراجات نہ ہوں ليكن اس نے حج كے اخراجات يا انكى تكميل كى مقداركے برابر كسى شخص سے قرض واپس لينا ہواورقرض حال ہو يا اسكى ادائيگى كا وقت آچكا ہو اور مقروض مالدارہو اور قرض خواہ كيلئے قرض كا مطالبہ كرنے ميں كوئي حرج بھى نہ ہو تو قرض كا مطالبہ كرنا واجب ہے _

مسا لہ ۱۲_ اگر عورت كا مہر اسكے شوہر كے ذمے ميں ہو اور وہ اسكے حج كے اخراجات كيلئے كافى ہو تو اگر شوہر تنگدست ہو تو يہ اس سے مہر كا مطالبہ نہيں كر سكتى اور مستطيع بھى نہيں ہوگى ليكن اگر شوہر مالدار ہے اور مہر كا مطالبہ كرنے ميں عورت كا كوئي نقصان بھى نہ ہو تو اس پر مہر كا مطالبہ كرنا واجب ہے تا كہ اسكے ساتھ حج كر سكے ليكن اگر مہر كا مطالبہ كرنے ميں عورت كا كوئي نقصان ہو مثلاً يہ لڑائي جھگڑے اور طلاق تك منتج ہو تو عورت پر مطالبہ كرنا واجب نہيں ہے اور عورت مستطيع بھى نہيں ہو گى _

۱۷

مسا لہ ۱۳_ جس شخص كے پاس حج كے اخراجات نہيں ہيں ليكن وہ قرض ليكر اسے آسانى سے ادا كر سكتا ہو تو اس پر واجب نہيں ہے كہ وہ قرض ليكر اپنے آپ كو مستطيع بنائے ليكن اگر قرض لے لے تو اس پر حج واجب ہو جائيگا_

مسا لہ ۱۴_ جو شخص مقروض ہے اور اسكے پاس حج كے اخراجات سے اتنا اضافى مال نہ ہو كہ جس سے وہ اپنا قرض ادا كر سكے تو اگر قرض كى ادائيگى كا وقت مخصوص ہو اور اسے اطمينان ہے كہ وہ ا س وقت اپنے قرض كو ادا كرنے پر قادر ہوگا تو اس پر واجب ہے كہ انہيں اخراجات كے ساتھ حج بجا لائے _

اور يہى حكم ہے اگر قرض كى ادائيگى كا وقت آچكا ہو ليكن قرض خواہ اسے مؤخر كرنے پر راضى ہو اور مقروض كو اطمينان ہو كہ جب قرض خواہ مطالبہ كريگا اس وقت يہ قرض كى ادائيگى پر قادر ہوگااور مذكورہ دو صورتوں كے علاوہ اس پر حج واجب نہيں ہے_

مسئلہ ۱۵_ جس شخص كو شادى كرنے كى ضرورت ہے اس طرح كہ اگر

۱۸

شادى نہ كرے تو اسے مشقت ياحرج كا سامنا ہوگا اور اس كيلئے شادى كرنا ممكن بھى ہو تو اس پر حج واجب نہيں ہوگا مگر يہ كہ اس كے پاس حج كے اخراجات كے علاوہ شادى كرنے كا انتظام بھى ہو _

مسئلہ ۱۶_ اگر استطاعت والے سال ميں اسے سفر حج كيلئے سوارى نہ ملتى ہو مگر اسكى رائج اجرت سے زيادہ كے ساتھ تو اگر يہ شخص زائد مال دينے پر قادر ہو اور يہ اس كے حق ميں زيادتى بھى نہ ہو تو اس پر اس زائدمال كا دينا واجب ہے تا كہ حج بجالا سكے پس صرف مہنگائي اور كرائے كا بڑھ جانا استطاعت كيلئے مضر نہيں ہے _ ليكن اگر يہ زائد مال كے دينے پر قادر نہيں ہے يا يہ اسكے حق ميں زيادتى ہو تو واجب نہيں ہے اور يہ مستطيع بھى نہيں ہوگا اور يہى حكم ہے سفر حج كى ديگر ضروريات كے خريدنے يا انكے كرائے پر لينے كا نيز يہى حكم ہے اگر يہ حج كے اخراجات كيلئے كوئي چيز بيچنا چاہتا ہے ليكن اسے خريدار صرف وہ ملتا ہے جو اسے اسكى رائج قيمت سے كم پر خريد تا ہے _

مسئلہ ۱۷_ اگر كوئي شخص يہ سمجھتا ہو كہ اگر وہ اپنى موجودہ مالى حيثيت كے

۱۹

ساتھ حج پر جانا چاہے تو وہ اس طرح حج كيلئے استطاعت نہيں ركھتا جيسے ديگر لوگ حج بجالاتے ہيں ليكن اسے احتمال ہے كہ تلاش و جستجو كرنے سے اسے ايسا راستہ مل جائيگا كہ يہ اپنى موجودہ مالى حيثيت كے ساتھ حج كيلئے مستطيع ہو جائيگا تو اس پر تلاش و جستجو كرنا واجب نہيں ہے كيونكہ استطاعت كا معيار يہ ہے كہ يہ حج كيلئے اسى طرح استطاعت ركھتا ہوجو ديگر لوگوں كيلئے متعارف ہے _

ہاں ظاہر يہ ہے كہ اگر اسے اپنے مستطيع ہونے ميں شك ہو اور جاننا چاہتا ہو كہ استطاعت ہے يا نہيں تو اس پر واجب ہے كہ اپنى مالى حيثيت كے بارے ميں جستجو كرے

۲_ سفر كى مدت ميں اپنے اہل و عيال كے اخراجات

مسئلہ۱۸_ مالى استطاعت ميں يہ شرط ہے كہ يہ حج سے واپس آنے تك اپنے اہل و عيال كے اخراجات ركھتا ہو

۲۰