مناسك حج

مناسك حج0%

مناسك حج مؤلف:
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 217

مناسك حج

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات:

صفحے: 217
مشاہدے: 7002
ڈاؤنلوڈ: 379

تبصرے:

مناسك حج
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 217 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7002 / ڈاؤنلوڈ: 379
سائز سائز سائز
مناسك حج

مناسك حج

مؤلف:
اردو

عذر كى خاطر يا بغير عذر كے مؤخر كرے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر ممكن ہو اسے ايام تشريق ميں ذبح كرے ورنہ ذى الحج كے ديگر دنوں ميں ذبح كرے اور اس ميں رات اور دن كے درميان فرق نہيں ہے ظاہر كى بناپر _

مسئلہ ۳۴۹_ ذبح كرنے كى جگہ منى ہے پس اگر منى ميں ذبح كرنا ممنوع ہو تو اس وقت ذبح كرنے كيلئے جو جگہ تيار كى گئي ہے اس ميں ذبح كرنا كافى ہے _

مسئلہ ۳۵۰_ احوط وجوبى يہ ہے كہ ذبح كرنے والا مؤمن ہو ہاں اگر واجب كى نيت خود كرے اور نائب كو صرف رگيں كاٹنے كيلئے وكيل بنائے تو ايمان كى شرط كا نہ ہونا بعيد نہيں ہے _

مسئلہ ۳۵۱_ شرط ہے كہ خود ذبح كرے يا اسكى طرف سے وكيل ذبح كرے ليكن اگر كوئي اور شخص اسكى طرف سے ذبح كرے بغير اسكے كہ اس نے پہلے سے اسے وكيل بنايا ہو تو يہ محل اشكال ہے پس احوط يہ ہے كہ يہ كافى نہيں ہے _

۱۶۱

مسئلہ ۳۵۲_ ذبح كرنے كے آلے ميں شرط ہے كہ وہ لوہے كا ہو اور سٹيل ( يہ فولاد ہوتا ہے كہ جسے ايك ايسے مادہ كے ساتھ ملايا جاتا ہے جسے زنگ نہيں لگتا ) لوہے كے حكم ميں ہے _

ليكن اگر شك ہو كہ يہ آلہ لوہے كا ہے يا نہيں تو جب تك معلوم نہ ہو كہ يہ لوہے كا ہے اسكے ساتھ ذبح كرنا كافى نہيں ہے _

۱۶۲

چھٹى فصل :تقصير يا حلق

يہ حج كے واجبات ميں سے چھٹا اور منى كے اعمال ميں سے تيسرا ہے _

مسئلہ ۳۵۳_ ذبح كے بعد سر منڈانا يا بالوں يا ناخنوں كى تقصير كرنا واجب ہے _عورت كيلئے تقصير ہى ضرورى ہے پس اس كيلئے حلق كافى نہيں ہے اور احوط يہ ہے كہ تقصير ميں بال بھى كاٹے اورناخن بھى _ ليكن مرد كو حلق اور تقصير كے درميان اختيار ہے اور اس كيلئے حلق ضرورى نہيں ہے ہاں جس نے پہلے حج نہ كيا ہو اس كيلئے احوط حلق ہے _

مسئلہ ۳۵۴_ حلق اور تقصير ميں سے ہر ايك عبادت ہے پس ان دونوں ميں رياء سے خالص نيت اور اللہ تعالى كى اطاعت كا قصد واجب ہے پس اگر مذكورہ نيت كے بغير حلق يا تقصير كرے تو اس كيلئے وہ چيزيں حلال نہيں

۱۶۳

ہوں گى جو ان كے ساتھ حلال ہوتى ہيں _

مسئلہ ۳۵۵_ اگر تقصير يا حلق كيلئے كسى دوسرے سے مدد لے تو اس پر واجب ہے كہ نيت خود كرے _

مسئلہ ۳۵۶_ احوط وجوبى يہ ہے كہ حلق عيد كے دن ہو اور اگر اسے روز عيد انجام نہ دے تو اسے گيا رہويں كى رات يا اسكے بعد انجام دے اور يہ كافى ہے _

مسئلہ ۳۵۷_ جو شخص كسى وجہ سے قربانى كو روز عيد سے مؤخر كردے اس پر حلق يا تقصير كومؤخر كرنا واجب نہيں ہے بلكہ بعيد نہيں ہے كہ انہيںعيدوالے دن ہى انجام دينا واجب ہو پس اس ميںاحتياط كو ترك نہ كيا جائے ليكن اس صورت ميں طواف حج و غيرہ مكہ كے پانچ اعمال كو قربانى سے پہلے انجام دينا محل اشكال ہے _

مسئلہ ۳۵۸_ واجب ہے كہ حلق يا تقصير منى ميں ہو پس اختيارى صورت ميںغير منى ميںجائز نہيں ہے _

۱۶۴

مسئلہ ۳۵۹_ اگر جان بوجھ كر يا بھول كر يا لاعلمى كى وجہ سے منى سے باہر حلق يا تقصير كرے اور باقى اعمال كو انجام دے دے تو اس پر واجب ہے كہ حلق ياتقصير كيلئے منى كى طرف پلٹے اور پھر ان كے بعد والے اعمال كا اعادہ كرے اور يہى حكم ہے اگر تقصير يا حلق كو ترك كر كے منى سے نكل جائے _

مسئلہ ۳۶۰_ اگر عيد والے دن قربانى كرسكتا ہو تو واجب ہے كہ عيد والے دن پہلے جمرہ عقبہ كو رمى كرے پھر قربانى كرے اور اسكے بعد حلق يا تقصير كرے اور اگر جان بوجھ كر اس ترتيب پر عمل نہ كرے تو گناہ گار ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ اس پر بالترتيب اعمال كا اعادہ كرنا واجب نہيں ہے اگرچہ تو ان ركھنے كى صورت ميں اعادہ كرنا احتياط كے موافق ہے اور لاعلمى اور بھولنے كى صورت ميں بھى يہى حكم ہے اور اگر عيد والے دن منى ميں قربانى نہ كرسكتا ہوتو اگر اسى دن اس ذبح خانہ ميں قربانى كرسكتا ہو جو اس وقت منى سے باہر قربانى كيلئے مقرر كياگيا ہے تو بھى احوط كى بناپر واجب ہے كہ قربانى كو حلق يا تقصير پر مقدم كرے پھر ان ميں سے ايك كو بجالائے

۱۶۵

اور اگر يہ بھى نہ كرسكتا ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ عيد والے دن حلق يا تقصير كرنے كى طرف مبادرت كرے اور اسكے ذريعے احرام سے مُحل ہوجائے ليكن مكہ كے پانچ اعمال كو قربانى كے بعد تك مؤخر كردے _

مسئلہ ۳۶۱_ حلق يا تقصير كے بعد مُحرم كيلئے وہ سب حلال ہوجاتا ہے جو احرام حج كى وجہ سے حرام ہوا تھا سوائے عورتوں اور خوشبوكے_

۱۶۶

ساتويں فصل : مكہ مكرمہ كے اعمال

مكہ معظمہ ميں پانچ اعمال واجب ہيں طواف حج ( اسے طواف زيارت كہا جاتا ہے ) نماز طواف ،صفا و مروہ كے درميان سعى ، طواف النساء اور نماز طواف

مسئلہ ۳۶۲_ عيد والے دن كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد جائز بلكہ مستحب ہے كہ حج كے باقى اعمال ، دو طواف انكى نمازيں اور سعى كو انجام دينے كيلئے اسى دن مكہ معظمہ كى طرف لوٹ جائے اور اسے ايام تشريق كے آخر تك بلكہ ماہ ذى الحج كے آخر تك مؤخر كرنا بھى جائز ہے _

مسئلہ ۳۶۳_ طواف ، نماز طواف اور سعى كى كيفيت وہى ہے جو عمرہ كے طواف اسكى نماز اور سعى كى ہے بغير كسى فرق كے مگر نيت ميں پس يہاں پر ان

۱۶۷

كے ذريعے حج كو انجام دينے كى نيت كريگا _

مسئلہ ۳۶۴_ اختيارى صورت ميںمذكورہ اعمال كو وقوف بالعرفات، وقوف بالمشعر اور منى كے اعمال پر مقدم كرنا جائز نہيں ہے ہاں بعض گروہوں كيلئے انكا مقدم كرنا جائز ہے _

اول: خواتيں جب انہيں مكہ معظمہ كى طرف لوٹنے كے بعد حيض يا نفاس آنے كاخوف ہو اور پاك ہونے تك ٹھہرنے پر بھى قادر نہ ہوں _

دوم : وہ مرد اورعورتيں جو مكہ پلٹنے كے بعد بھيڑ كى كثرت كى وجہ سے طواف كرنے سے عاجز ہوں يا وہ جو مكہ لوٹنے سے ہى عاجز ہيں_

سوم: وہ بيمار لوگ كہ جو مكہ معظمہ لوٹنے كے بعد بھيڑ كى شدت يا بھيڑ كے خوف سے طواف كرنے سے عاجز ہوں _

مسئلہ ۳۶۵_ اگر مذكورہ تين گروہوں ميں سے كوئي شخص دو طواف ،انكى نماز اور سعى كو مقدم كردے پھر عذر بر طرف ہوجائے تو اس پر واجب نہيں ہے كہ ان كا اعادہ كرے اگر چہ اعادہ كرنا احوط ہے _

۱۶۸

مسئلہ ۳۶۶_ جو شخص كسى عذر كى وجہ سے مكہ كے اعمال كومقدم كرے جيسے مذكورہ تين گروہ تو اس كيلئے خوشبو اور عورتيں حلال نہيں ہوں گى بلكہ اس كيلئے سب محرمات تقصير يا حلق كے بعد حلال ہوں گے _

مسئلہ ۳۶۷_ طواف النساء اور اسكى نماز دونوں واجب ہيں ليكن ركن نہيں ہيں پس اگر انہيں جان بوجھ كر ترك كردے تو حج باطل نہيں ہوگا ليكن اس كيلئے عورتيں حلال نہيں ہوں گى _

مسئلہ ۳۶۸_ طواف النساء مردوں كے ساتھ مختص نہيں ہے بلكہ خواتين اور غير خواتين پر بھى واجب ہے پس اگر اسے مرد ترك كردے تو اسكے لئے عورتيں حلال نہيں ہوں گى اور اگر عورت ترك كردے تواس كيلئے مر د حلال نہيں ہوں گے _

مسئلہ ۳۶۹_ اختيارى صورت ميں سعى كو طواف حج اور اسكى نماز پر مقدم كرنا جائز نہيں ہے اور نہ طواف النساء كوان دونوں پر اور نہ سعى پر پس اگر ترتيب كى مخالفت كرے تو اعادہ كرے _

۱۶۹

مسئلہ ۳۷۰_ اگر بھول كر طواف النساء كو ترك كردے اور اپنے شہر ميں پلٹ آئے تواگر بغير مشقت كے لوٹ سكتا ہو تو يہ واجب ہے ورنہ نائب بنائے اوراس كيلئے عورتيں حلال نہيں ہوںگى مگر خود اس كے يا اس كے نائب كے طواف بجالانے كے ساتھ اوراگر اسے جان بوجھ كر ترك كرے توبھى يہى حكم ہے _

مسئلہ ۳۷۱_ احرام حج كے ساتھ وہ سب چيزيں حرام ہو جاتى ہيں جو عمرہ كے احرام كے محرمات ميں گزرچكى ہيں اور پھر بالتدريج اور تين مرحلوں ميں حلال ہوں گى _

اول: حلق يا تقصير كے بعد ہر چيز حلال ہو جاتى ہے سوائے عورتوں اور خوشبو كے حتى كہ شكار بھى حلال ہوجاتا ہے اگر چہ يہ حرم ميں ہونے كى وجہ سے حرام ہوتا ہے

دوم: سعى كے بعد خوشبو حلال ہوجاتى ہے _

سوم: طواف النساء اور اسكى نماز كے بعد عورتيں حلال ہوجاتى ہيں _

۱۷۰

آٹھويں فصل: منى ميں رات گزارنا

يہ حج كے واجبات ميں سے بارہواں اور منى كے اعمال ميں سے چوتھا ہے _

مسئلہ ۳۷۲_ واجب ہے كہ گيارہويں اور بارہويں كى رات منى ميں گزارے پس اگر دو طواف ، انكى نماز اور سعى كو بجالانے كيلئے عيد كے دن مكہ معظمہ چلا گيا ہو تو اس پر منى ميں رات گزارنے كيلئے لوٹنا واجب ہے _

مسئلہ ۳۷۳_ مندرجہ ذيل گروہ مذكورہ راتوں كومنى ميں بسر كرنے كے وجوب سے مستثنے ہيں _

الف: بيمار اور انكى تيمار دارى كرنے والے بلكہ ہر صاحب عذر شخص كہ جس كيلئے اس عذر كے ہوتے ہوئے منى ميں رات گزار نا شاق ہو _

۱۷۱

ب: جس شخص كو مكہ ميں اپنے قابل اعتنا مال كے ضائع ياچورى ہوجانے كا خوف ہو _

ج: جو شخص مكہ ميں فجر تك عبادت ميں مشغول رہے اور صرف ضرورت كى خاطر غير عبادت ميں مشغول ہوا ہو جيسے ضرورت كے مطابق كھنا پينايا دوبارہ وضو كرنا_

مسئلہ ۳۷۴_ منى ميں رات بسر كرنا عبادت ہے كہ جس ميں گذشتہ تمام شرائط كے ساتھ نيت واجب ہے _

مسئلہ ۳۷۵_ رات كوغروب سے آدھى رات تك رہنا كافى ہے اور جس شخص نے بغير عذر كے رات كاپہلا آدھا حصہ منى ميں نہ گزارا ہو اس كيلئے احوط وجوبى يہ ہے كہ رات كا دوسرا نصف وہاں گزارے اگر چہ بعيد نہيں ہے كہ اختيارى صورت ميں بھى رات كے دوسرے نصف كا وہاں گزارنا كافى ہو _

مسئلہ ۳۷۶_ جو شخص مكہ مكرمہ ميںعبادت ميں مشغول نہ رہا ہو اورمنى

۱۷۲

ميں رات گزارنے والے واجب كام كو بھى ترك كردے تو اس پر ہر رات كے بدلے ايك بكرى كفارہ ميں دينا واجب ہے اور احوط كى بناپر اس ميں فرق نہيں ہے كہ عذر ركھتا ہو يا نہ ، جاہل ہو يا نسيان كا شكار يا ان كا غير _

مسئلہ ۲۷۷_ جس شخص كيلئے بارہويں كے دن كوچ كرنا جائز ہو اور منى ميں ہو تو اس پر واجب ہے كہ زوال كے بعد كوچ كرے اور زوال سے پہلے كوچ كرنا جائز نہيں ہے _

۱۷۳

نويں فصل :تين جمرات كو كنكرياں مارنا

يہ حج كے واجبات ميں سے تيرہواں اور منى كے اعمال ميں سے پانچواں ہے اور تين جمرات كو كنكرياں مارنا كيفيت اور شرائط كے اعتبار سے عيد والے دن جمرہ عقبہ كو كنكرياں مارنے سے مختلف نہيں ہے_

مسئلہ ۳۷۸_ جو راتيں منى ميں گزارنا واجب ہے ان كے دنوں ميں تين جمرات اولى ، وسطى اور عقبہ كو كنكرياں مارنا واجب ہے_

مسئلہ ۳۷۹_ كنكرياں مارنے كا وقت طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تك ہے پس اختيارى صورت ميں رات كے وقت كنكرياں مارناجائز نہيں ہے اور اس سے وہ شخص مستثنى ہے جو عذر ركھتا ہے كہ اسے اپنے مال، عزت اور جان پر خوف ہے اور چرواہا اور اسى طرح كمزور لوگ

۱۷۴

جيسے عورتيں ، بوڑھے اور بچے كہ جنہيں اپنے آپ پر بھيڑ كى شدت كا خوف ہے تو ان سب كيلئے رات كے وقت كنكرياں مارنا جائز ہے _

مسئلہ ۳۸۰_ جو شخص صرف دن كے وقت كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے نہ رات كے وقت تو اس كےلئے نائب بنانا جائز نہيں ہے بلكہ اس پر واجب ہے كہ رات كے وقت خود كنكرياں مارے، گذشتہ رات ميں يا آئندہ رات ميں ليكن جو شخص كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے حتى رات كے وقت بھى جيسے بيمار شخص تو اس كيلئے نائب بنانا جائز ہے ليكن احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر آئندہ رات عذر برطرف ہوجائے تو خود كنكرياں مارے _

مسئلہ ۳۸۱_ جو شخص خود كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے اگر اس كيلئے كسى كونائب بنائے اور وہ نائب اس كام كو انجام دے دے ليكن اسكے بعد كنكرياں مارنے كا وقت گزرنے سے پہلے اس كا عذر مرتفع ہوجائے تو اگر نائب بناتے وقت اپنے عذر كے مرتفع ہونے سے مايوس تھا يہاں تك كہ نائب اس كا عمل انجام دے دے تو نائب كا عمل كافى ہے اور اس پر خود اس كا

۱۷۵

اعادہ كرنا واجب نہيں ہے ليكن وہ شخص كہ جو عذر كے مرتفع ہونے سے مايوس نہيں ہے اس كيلئے اگر چہ عذر كے طارى ہونے كے وقت نائب بنانا جائز ہے ليكن اگر بعد ميں اس كا عذر مرتفع ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ خود اس كا اعادہ كرے _

مسئلہ ۳۸۲_ تين جمرات كو كنكرياں مارنا واجب ہے ليكن يہ ركن نہيں ہے _

مسئلہ ۳۸۳_ كنكرياں مارنے ميں ترتيب واجب ہے اس طرح كہ پہلے جمرہ سے شروع كرے پھر در ميان والے كو كنكرياں مارے اور پھر آخرى كو پس ہر جمرہ كو سات كنكرياں مارے اسى طريقے كے ساتھ جو گزر چكا ہے _

مسئلہ ۳۸۴_ اگر تين جمرات كو كنكرياں مارنا بھول جائے اور منى سے كوچ كرجائے تو اگر ايام تشريق ميں ياد آجائے تو اس پر واجب ہے كہ منى ميں واپس آئے اور خود كنكرياں مارے البتہ اگر اس كيلئے يہ ممكن ہو ورنہ كسى

۱۷۶

دوسرے كو نائب بنائے ليكن اگر ايام تشريق كے بعد ياد آئے يا جان بوجھ كر كنكرياں مارنے والے عمل كو ايام تشريق كے بعد تك مؤخر كردے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ واپس پلٹے اور خود كنكرياں مارے يا اس كا نائب كنكرياں مارے پھر آئندہ سال اسكى قضا كرے اگر چہ كسى كو نائب بناكر _اور اگر تين جمرات كو كنكرياںمارنا بھول جائے يہاں تك كہ مكہ معظمہ سے خارج ہوجائے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ آئندہ سال اسكى قضا كرے اگر چہ كسى كو نائب بنا كر _

مسئلہ ۳۸۵_ جمرات كو چاروں اطراف سے كنكرياں مارنا جائز ہے اور شرط نہيں ہے كہ پہلے اور درميان والے ميں قبلہ رخ ہو اور آخرى ميں قبلہ كى طرف پشت كرے _

۱۷۷

متفرق مسائل :

س۱: مسجدالحرام كا فرش قليل پانى كے ساتھ پاك كيا جاتا ہے اس طرح كہ نجاست پر قليل پانى ڈالا جاتا ہے كہ جس سے عام طور پر نجاست كے باقى رہنے كا علم ہوتا ہے تو كيا مسجد كے فرش پر سجدہ كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

ج: اس سے عام طور پر مسجد كى ہر جگہ كے نجس ہونے كا علم نہيں ہوتا اور جستجو كرنا واجب نہيں ہے پس فرش پر سجدہ كرنا صحيح ہے _

س ۲: كيا خانہ كعبہ كے اردگرد دائرے كى صورت ميں نماز جماعت كافى ہے؟

ج: جو شخص امام كے پيچھے يا دائيں بائيں كھڑا ہو اسكى نماز صحيح ہے اور احوط استحبابى يہ ہے كہ جو شخص امام كے دائيں بائيں كھڑا ہو وہ اس فاصلے كى رعايت كرے جو امام اور

۱۷۸

كعبہ كے درميان ہے پس امام كى نسبت كعبہ كے قريب تر كھڑا نہ ہو ليكن جو شخص خانہ كعبہ كى دوسرى طرف امام كے بالمقابل كھڑا ہوتا ہے اسكى نماز صحيح نہيںہے _

س۳: كيا مكہ معظمہ اور مدينہ منورہ ميں اہل سنت كے امام كے پيچھے جماعت كے ساتھ نماز پڑھنا كافى ہے ؟

ج : ان شاء اللہ كافى ہے _

س۴: جس شخص نے مكہ معظمہ ميں دس دن ٹھہرنے كى نيت كى ہے تو عرفات ، مشعر اور منى ميںاور ان كے درميان مسافت طے كرتے ہوئے اسكى نماز كا حكم كيا ہے ؟

ج: جس شخص كى نيت يہ ہے كہ عرفات كى طرف جانے سے پہلے دس دن مكہ معظمہ ميں رہيگا اور اسكے ساتھ ايك چار ركعتى صحيح نماز بھى پڑھ لے تو جبتك نيا سفر نہ كرے نماز

۱۷۹

پورى پڑھے گا اور ٹھہرنے كاحكم ثابت ہونے كے بعد عرفات ، مشعرالحرام اور منى كى طرف جانا سفر نہيں ہے _

س۵: كيا قصر و اتمام كے درميان اختيار والا حكم مكہ اور مدينہ ميں بھى جارى ہوگا يا يہ فقط مسجد الحرام اور مسجد نبوى كے ساتھ مختص ہے اور كيا انكى پرانى اور نئي جگہوں كے درميان كوئي فرق ہے يا نہيں ؟

ج: قصر اور اتمام كے درميان اختيار والا حكم ان دو شہروں كى ہر جگہ ميں جارى ہوگا اور ظاہر يہ ہے كہ پرانى اور نئي جگہوں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں ان دوشہروں كى پرانى جگہوں پر اكتفا كرے بلكہ صرف مسجدوں پر _پس نماز قصر پڑھے مگر يہ كہ دس دن ٹھہرنے كى نيت كرے_

س ۶: جو شخص مشركين سے برائت كے پروگرامميں شركت نہ كرے اسكے

۱۸۰