وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں0%

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں مؤلف:
زمرہ جات: ادیان اور مذاھب
صفحے: 274

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

مؤلف: ڈاکٹر سید محمد حسینی قزوینی
زمرہ جات:

صفحے: 274
مشاہدے: 8377
ڈاؤنلوڈ: 746

تبصرے:

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 274 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8377 / ڈاؤنلوڈ: 746
سائز سائز سائز
وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

وہابیت عقل و شریعت کی نگاہ میں

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

وہابیت عقل وشریعت کی نگاہ میں

مولف : ڈاکٹر سید محمد حسینی قزوینی

مترجم : ناظم حسین اکبر

۳

سخن مترجم

دنیاکے مسلمان آٹھویں صدی ہجری تک انبیاء واولیاء اورصالحین امت کے بارے میں وحدت کلمہ رکھتے وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کو مستحب اوران سے توسل کو حکم قرآن واسلام سمجھتے تھے۔

پہلی بارآٹھویں صدی ہجری میں ابن تیمیہ نامی شخص نے زیارت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوحرام قراردے کر مسلمانوں کے درمیان پرچم مخالفت بلند کیا لیکن اہل سنت اورشیعہ علماء کی شدید مخالفت کی وجہ سے اس کے منحرف عقائد سپرد خاک ہوگئے ۔

بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوھاب نے ابن تیمیہ کے باطل عقائد کی ترویج کی اور مسلمانوں کو انبیاء واولیائے الھی سے توسل کے جرم میں مشرک قراردے کران کے کفر کا فتوی صادرکیا ، ان کا خون مباح، قتل جائزاوران کے مال کو غنیمت قراردیا ، اس کے اس فتوی کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا ناحق خون بہایاگیا۔

تاریخ وہابیت سے آشنائی رکھنے والے حضرات اس حقیقت سے بخو بی آگاہ ہیں کہ طول تاریخ میں وہابیوں کے مسلمانوںپر مظالم کامطالعہ کرتے ہوئے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اورقلم ان مظالم کو زیر تحریرلانے سے عاجز ہے ج نہیں اسلام کے نام پر مسلمانوں پر روا رکھاگیا ۔

آج تو اس وحشی قوم کے مظالم اپنی انتھاء کو پہنچ چکے ہیں پارہ چنار کے نہتے

۴

مومنین کا مسلسل دس ماہ سے محاصرہ اورمظلوم کلمہ گوئوںکے ہاتھ پائوںکاٹ کرسڑکوں پرپھینک دینا وہابیوں کے تازہ ترین مطالم کا ایک نمونہ ہے ،لیکن افسوس کہ اکثر مسلمان اس فرقہ کے ناپاک عقائدوعزائم سے بے خبری کی بناپر اس وسیع ترنقصانات پربے توجہی برت رہے ہیں ۔

زیر نظر کتاب''وہابیت عقل وشریعت کی نگاہ میں ''معروف مناظراسلام عزت مآب جناب ڈاکٹر سید محمد حسنی قزوینی دام ظلہ العالی کی تالیف ہے جسے بندئہ حقیر نے اردو میں ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

اس کتاب میں مولف محترم نے وہابیوں کے عقائد کے قرآن وسنت اورعقل کی روشنی میں دندان شکن علمی جوابات دیئے ہیں جن کے مطالعہ سے باایمان افراد خاص طور پر نوجوان نسل اس فکری بیماری سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے ۔

آخر میں ہم اپنے تمام معاونین کا صمیم قلب سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام پر آنے میں کسی بھی عنوان سے ہماری مدد فرمائی ہے ۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ناظم حسین اکبر(ریسرچ اسکالر )

ابوطالب اسلامک انسٹیٹیوٹ لاہور

۵

مقدمۂ مؤلف

الحمد للّٰه ربّ العٰلمین و الصلاة والسلام علی سیدنا محمد و آله الطاهرین ۔

علمائے اہل سنت عرصہ دراز سے شیعہ عقائد و ثقافت پر پے در پے سوالات و اعتراضات کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن جزیرة العرب میں وہابیت کے ظہور سے اس فکر میں خاصی تبدیلی آئی ہے ، خاص طور پر انقلاب اسلامی ایران کی فتح کے بعد جدید ترین طرز اور ڈش و انٹرنیٹ کے استعمال سے اس فکر نے وسیع پیمانے پر وسعت پائی ہے۔

آخری سالوں میں تواس فکر نے اس قدر نمایاں وسعت پائی کہ عام افراد سے بڑھ کر کالج و یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اور اساتیذبلکہ کاروان حج کے معلمین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اگرچہ ان میں سے اکثر شبہات تہمت، جھوٹ، جہل یا نادانی کا نتیجہ ہیں لیکن یہ امر اساتیذ و محققین کے جواب دینے کی ذمہ داری میں کمی کا باعث نہیں بنتا۔

چونکہ مکتب اہل بیت علیہم السلام کے دشمن ہرگز یہ تصوربھی نہیں کر سکتے تھے کہ ملت ایران شیعہ ثقافت کے بل بوتے پر اس قدر ابھر کر سامنے آجائے گی اور پھر خالی ہاتھ مگر دل میں اسلام و تشیع سے عشق و ایمان کا جذبہ لئے ہوئے ایک ایسی حکومت جو اسلحہ سے لیس اور جسے شرق و غرب کی حمایت حاصل ہو اس کا تختہ الٹ کر شیعہ فقہ کی بنیاد پر اسلامی حکومت قائم کرلے گی۔

۶

وہابیوں کا شیعوں کی طرف جھوٹی نسبت دینا:

چونکہ دشمن مذہب اہل بیت علیہم السلام اور خواہان زر و زور شیعہ ثقافت کے پھیلنے کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتے ہیں بنا برایں شیعوں کے خلاف جھوٹ اور تہمت پر مبنی کتب تالیف کر کے مذہب شیعہ کے نورانی چہرے کو دنیا میں مخدوش کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف عمل ہیں ۔

وہابیت کے بیان کردہ بے بنیاد اقوال میں سے چند ایک پر بطور نمونہ توجہ فرمائیں:

۱۔ وہابی افکار کا بانی ابن تیمیہ لکھتا ہے:

''الرافضة لم یدخلوا فی الاسلام رغبة ولارغبة ولکن مقتاً لاهل الاسلام''

شیعوں کے اسلام لانے کا مقصد مسلمانوں کو نابود کرنا تھا۔( ۱ )

____________________

(۱) منہاج السنة ۱:۲۳۔

۷

''والیهود لا یرون علی النساء عدة و کذلک الرافضة'' .

شیعہ خواتین، یہودی عورتوں کی مانند عدت نہیں کاٹتی ہیں ۔( ۱ )

''و الیهود یستحلون أموال الناس کلهم و کذلک الرافضة''

یہودیوں کی طرح شیعہ بھی دوسرے لوگوں کے مال کو اپنے لئے حلال سمجھتے ہیں ۔( ۲ )

۲۔ مصری مؤلف ابراہیم سلیمان جبھان لکھتا ہے:

''ان نکاح الامّ عندم هومن البر بالوالدین، انه عندهم من اعظم القربات''

شیعہ اپنی ماں سے نکاح کو والدین سے نیکی اور اسے خداوند متعال سے قریب ہونے کا بہترین وسیلہ قرار دیتے ہیں ۔( ۳ )

ان الثورة الخمینیة مجوسیة ولیست اسلامیة،أعجمیة

و لیست عربیة، کسرویة و لیست محمدیة ۔

خمینی کی تحریک، مجوسی ،عجمی اور کسروی تحریک ہے نہ کہ اسلامی، عربی و محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( ۴ )

____________________

(۱) منہاج السنة ۱:۲۵۔ (۲) منہاج السنة ۱:۲۶۔

(۳) تبدید الظلام:۲۲۲۔

(۴) و جاء دور المجوس: ۳۵۷۔

۸

نعلم ان حکّام الطهران اشد خطراً علی الاسلام من الیهود،ولا ننتظرخیراً منهم، و ندرک جیّداً انهم سیتعا و نون مع الیهود فی حرب المسلمین .( ۱ )

ہمیں معلوم ہے کہ اسلام کو یہودیوں کے خطرے سے بڑھ کر تہران کے حکمرانوں سے خطرہ ہے ان سے نیکی کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی اور ہمیں یہ بھی اچھی طرح علم ہے کہ وہ عنقریب مسلمانوں سے جنگ میں یہودیوں کی مدد کریں گے!

۴۔ ڈاکٹر ناصرقفاری اپنے پی ایچ ڈی کے رسالہ میں جسے اب مدینہ یونیورسٹی میں درسی کتاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔

لکھتا ہے:

أدخل الخمینی اسمه فی اذان الصلوات،قدم اسمه علی اسم النبی الکریم،فاذان الصلوات فی ایران بعد استلام الخمینی للحکم وفی کل جوامعها کما یعلی یلی :اللّٰه اکبر، اللّٰه اکبر، خمینی رهبر،ای الخمینی هو القائد،ثم اشهد ان محمد الرسول اللّٰه ،( ۲ )

خمینی نے نماز کی اذان میں اپنا نام داخل کر لیا ہے یہاں تک کہ اس نے نام

____________________

(۱) و جاء دور المجوس: ۳۷۴۔

(۲) اصول مذہب الشیعہ الامامیة ۳:۱۳۹۲۔

۹

پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر بھی اپنے نام کومقدم رکھا ہے. ایران میں نماز کی اذان خمینی کے ایران اور تمام اسلامی معاشروں کے قائد و رہبر ہونے کے اعلان کے بعد یوں کہی جاتی ہے: ''اللہ اکبر خمینی رہبر'' اور اس کے بعد پھر کہتے ہیں اشہد ان محمدا رسول اللہ ۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جس قدر شیعوں کے خلاف کتب تالیف کی جاتی ہیں اس سے کئی گنا کم فلسطین پریہودیوں کے ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں لکھی جاتی ہیں ۔

۵۔ ۲۰۰۲ء میں حج پر جانے والے زائرین خانۂ خدا کے درمیان شیعوں کے خلاف دنیا کی بیس زندہ زبانوں میں دس ملین چھ ہزار پچاسی کتاب سعودی حکومت کی طرف سے تقسیم کی گئیں۔( ۱ )

مذہب شیعہ کا مستقبل:

وہابیوں کے مذہب اہل بیت علیہم السلام پر اس قدر وسیع حملات کی ایک وجہ ان کا اس مذہب کی ثقافت کے پڑھے لکھے نوجوانوں اور دانشوروں کے درمیان منتشر ہونے کا خوف ہے وہ ثقافت جو حقیقی سنت محمدی سے لی گئی اور قرآن کے عین مطابق ہے اس بات کے ثبوت کے لئے ہم مذہب شیعہ کی طرف جہکاؤ کے چند ایک نمونوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

____________________

(۱) روزنامۂ عکاظ ۱۳۸۱۹۱۱ نقل از مجلہ میقات شمارہ ۴۳ صفحہ ۱۹۸۔

۱۰

۱۔ ڈاکٹر عصام العماد ریاض کی '' الامام محمد بن سعود'' یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ، مفتی اعظم سعودی عرب عبد العزیز بن باز کے شاگرد صنعاء کی عظیم مسجد کے امام جمعہ و جماعت، یمن میں وہابیت کے مبلغ کہ جنھوں نے شیعوں کے کفر و شرک کے اثبات کیلئے ایک کتاب بنام ''الصلة بین الاثنی عشریة و فرق الغلاة'' لکھی اور تحقیق کے دوران شیعہ نورانی ثقافت سے جب آگاہ ہوئے تو وہابی فرقہ سے کنارہ کش ہو کر مذہب شیعہ سے مشرف ہوگئے، وہ لکھتے ہیں :

و کلما نقرئاکتابات اخواننا الوهابیین نزدادیقینابان المستقبل للمذهب الا ثنی عشری،لا نهم یتابعون حرکة الانتشار السریعة لهذاالمذهب فی وسط الوهابیین وغیرهم من المسلمین .( ۱ )

جب ہم اپنے وہابی بھائیوں کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں توہمارے یقین میں اضافہ ہوتا جاتا ہے کہ مستقبل مذہب شیعہ ہی کا ہے اس لئے کہ وہ وہابیوں اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان بہت تیزی سے اس مذہب کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

اور پھر ''الجامعة الاسلامیة'' مدینہ منورہ کے استاد شیخ عبد اللہ الغنیمان کا قول نقل کرتے ہیں :

____________________

(۱) المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین: ۱۷۸۔

۱۱

ان الوهابیین علی یقین بان المذهب (الاثنی عشر)هوالذی سوف یجذب الیه کل اهل السنة وکل الوهابیین فی المستقبل القریب، ( ۱ )

وہابیوں کو اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ مستقبل قریب میں وہابیوں اور اہل سنت کو اپنی طرف جذب کرنے والا مذہب ،تنہا شیعہ امامیہ ہی ہوگا۔

مشہورسعودی مولف شیخ ربیع بن محمد لکھتا ہے :

و مما زاد عجبی من هٰذا الأمران اخوانالناومنهم ابناء احد العلماء الکبار المشهورین فی مصر، ومنهم طلاب علم طا لما جلسوا معنافی حلقات العلم،ومنهم بعض الاخوان الذین کنا نحسن الظن بهم،سلکواهذاالدرب، وهذا الاتجاه الجد ید هو (التشیع)، وبطییعةالحال ادرکت منذاللحظة الاولی ان هٰولاء الاخوةکغیرهم فی العالم الاسلامی بهرتهم اضواء الثورة الایرانیة ( ۲ )

اور اس بارے میں جو چیز میرے تعجب میں اضافے کا باعث بنی وہ یہ کہ ہمارے بعض بھائی جن میں کچھ تو مصر کے مشہور علماء کے فرزند ہیں ، کچھ ایسے طالب

____________________

(۱) المنہج الجدید و الصحیح فی الحوار مع الوہابیین: ۱۷۸۔

(۲) الشیعة الامامیة فی میزان الاسلام: ۵۔

۱۲

علم ہیں جو کتنی مدت تک ہماری علمی محافل میں شرکت کر تے رہے اور کچھ ایسے ہمارے بھائی بھی ہیں جن کے بارے میں ہم اچھا گمان رکھتے تھے وہ سب مکتب تشیع میں داخل ہو چکے ہیں ۔

اور میں نے پہلے ہی لمحہ میں جان لیا کہ یہ تمام افراد انقلاب اسلامی ایران کے نورکی روشنائی سے متا ثر ہوئے ہیں ۔

۳۔ معروف وہابی مؤلف شیخ محمد مغزاوی کہتا ہے:

بعد الانتشار المذهب الاثنی عشری فی مشرق العالم الاسلامی ، فخفت علی الشباب فی بلاد المغرب .( ۱ )

سرزمین مشرق میں مذہب شیعہ اثنا عشریہ کے پھیلنے کے بعد مجھے اس مذہب کے مغرب کے نوجوانوں کے درمیان بھی پھیلنے کا خوف ہے۔

۴۔ مدینہ یونیورسٹی کا استاد ڈاکٹر ناصر قفاری لکھتا ہے:

و قد تشیع بسبب الجهودالتی یبذلها شیوع الاثنی عشریة من شباب المسلمین،ومن یطالع کتاب عنوان المجد فی تاریخ البصرة ونجد یهوله الامر حیث یجد قبائل باکملها قد تشیّعت .

مسلمان نوجوانوں پر شیعہ علماء کی کوششوں کے باعث بہت زیادہ لوگ شیعہ ہوئے ہیں اور جو شخص کتاب '' المجد فی تاریخ البصرة و نجد'' کا مطالعہ

____________________

(۱)من سبّ الصحابة و معاویة فامه هاویة

۱۳

کرے تو وحشت زدہ ہو کر رہ جائے کہ کس طرح پورے کے پورے قبائل شیعہ ہو گئے ۔( ۱ )

۵۔ برجستہ وہابی مؤلف شیخ مجدی محمد علی محمد نے بہت دلچسپ بات کہی ہے:

جاء نی شابّ من اهل السنةحیران ، وسبب حیرته انه قد امتدت الیه ایدی الشیعة...حتی ظن المسکین انهم ملائکة الرحمة وفرسان الحق .( ۲ )

ایک سنی نوجوان حیرت کے عالم میں میرے پاس آیا، جب اس سے حیرت کا سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ کوئی شیعہ اس تک پہنچ گیا ہے... یہاں تک کہ وہ بیچارہ یہ تصور کر بیٹھا کہ شیعہ ملائکہ رحمت اور حق کے شہسوار ہیں ۔

____________________

(۱) اصول مذہب ا لشیعة الامامیة الاثنی عشریة ۱:۹۔

(۲) انتصار الحق:۱۱ و۱۴۔

۱۴

کتاب کے مطالب پر ایک اجمالی نظر

توفیقات الٰہی اور عنایت امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء سے ہم نے اس کتاب میں وہابی فرقہ کے فکری و اعتقادی مبنی کو معتبر تاریخی منابع سے تلاش کرکے طول تاریخ میں اس انحرافی تفکر سے پیدا ہونے والے امور کو سات فصلوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

فصل اول: وہابیت، امتوں کے درمیان تفرقہ کا باعث

فصل دوم: وہابیت کی تاریخی جڑیں

فصل سوم: وہابیت کا عملی کارنامہ

فصل چہارم: وہابیت اور خدا کی معرفت

فصل پنجم: وہابیت اور مسلمانوں کو کافر قرار دینا

فصل ششم: وہابیت اور مسلمانوں پر بدعت کی تہمت

فصل ہفتم: انبیاء و اولیاء سے توسل کو حرام قرار دینا

۱۵

اور اس کتاب کی دوسری جلد میں وہابیوں کے بنیادی شبہات کا جواب دیاجائے گاجیسے:

اولیائے الٰہی سے توسل کے بارے میں وہابیوں کے شبہات

اہل بیت علیہم السلام کی قبور کی زیارت

قبروں پر عمارت اور آئمہ علیہم السلام کے روضے بنانا

شفیعانِ الٰہی سے شفاعت کی درخواست کرنا

اولیائے الٰہی کے معنوی مقامات

اولیائے خدا کی ولادت منانا

امام حسین علیہ السلام اور دیگر اولیاء اللہ کی عزاداری

۱۶

فصل اول

وہابیت، امتوں کے درمیان تفرقہ کا باعث

امت اسلام مذہبی تمائلات کی بنیاد پر تمام تر فکری اختلافات کے باوجود اسلام کے حیات بخش اصولوں سے راہنمائی لیتے ہوئے اپنے درمیان اخوت اور بھائی چارے کو باقی رکھے ہوئے کلمۂ توحید کے سائے میں دشمنان اسلام کے مقابلے میں محکم و استوار کھڑی تھی لیکن افسوس کہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں وہابی فکرکی بنیاد رکھے جانے سے یہ وحدت اور ہمدلی پارہ پارہ ہو گئی، مسلمانوں پر بدعت و شرک کی ناروا تہمتیں لگا کر صفوف مسلمین پر ایسی کاری ضرب لگائی گئی جس کا جبران ممکن نہیں اورپھر بزرگان دین کے آثار کی نابودی، شعائر الہی سے ممانعت اور ابنیاء و اولیائے الٰہی سے لوگوں کی توجہ کو ہٹا کر اسلام کے دیرینہ دشمنوں کے ہدف کو عملی جامہ پہنا دیا۔

۱۷

ابن تیمیہ اور امت اسلامی کے درمیان شگاف:

یورپ میں اسلام کی ترقی اور اندلس کی شکست مغربی عیسائیوں کے لئے سخت تلخ اور ناگوار تھی یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ انتقام کی فکر میں رہے یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے آخر میں روم کے عیسائیوں کے رہبر یعنی پاپ نے مسلمانوں سے انتقام لینے کی خاطر لاکھوں فوجیوں کو یورپ سے فلسطین روانہ کیا تا کہ مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو قتلگاہ بنائیںیہیں سے ان صلیبی جنگوں کا آغاز ہوا جو تقریباً دو سو سال (۴۸۹۔۶۹۰ھجری) تک جاری رہیں جس کے نتیجہ میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔

اُس زمانہ میں جبکہ مصر اور شام صلیبیوں سے جنگ میں مصروف تھے اُمت مسلمہ کو ایک اور طوفان کا سامنا کرنا پڑااور وہ چنگیز خان کی قیادت میں مغلوں کا حملہ تھا جس نے اسلامی آثار کو غارت ونابود کردیا۔

اس کے پچاس سال بعد (۶۵۶ھ ق) چنگیز خان کے نواسے ہلاکو خان کے دستور پر بغداد کے لوگوںکاقتل عام کیا گیا جس سے عباسی خلافت کا شیرازہ بکھر گیا اور پھر حلب و موصل پر وہی مصیبت آئی جوبغداد پر آچکی تھی۔

مشہور مورخ ابن اثیر لکھتا ہے: '' مغلوں کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مصائب اس قدر سنگین تھے کہ مجھ میں ان کے لکھنے کی طاقت نہیں اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا. اے کاش! میں اس حادثے سے پہلے ہی مرگیا ہوتا اور اس دردناک مصیبت کو نہ دیکھتا''۔( ۱ )

____________________

(۱)ابن اثیر لکھتا ہے:''ذکرخروج التترالی بلاد الاسلام:لقد بقیت عدة سنین معرضا عن.

۱۸

...ذکر هذ ه الحادثة، استعظامالهاکارهالذکرها فانااقدم الیه (رجلا)واوخراخری، فمن الذی یسهل علیه ان یکتب نعی الاسلام والمسلمین ومن الذی یهون علیه ذکر ذلک ، فیالیت امی لم تلد نی ویالیتنی مت قبل هذا وکنت نسیامنسیا ، الکامل فی التاریخ۲: ۳۵۸۔

کہا جاتا ہے کہ مغلوں کے دور حکومت میں حکمرانوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی کہ امت اسلام کے درمیان تفرقہ پیدا کر کے سلاطین کے نزدیک مقام حاصل کر سکیں. اس کے علاوہ ہلاکو خان کی ماں اور بیوی عیسائی تھیں اور شامات کا بڑا سردار کیتوبوقا بھی مسیحی تھا۔

اسی طرح اباقاخان (۶۶۳۔۶۸۰ھج) ہلاکو خان کے بیٹے نے مشرقی روم کی بیٹی سے شادی کر لی ، پاپ اور فرانس و برطانیہ کے حکمرانوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف اتحاد کر کے مصر اور شام پر لشکر کشی کر دی۔

اور اس سے بھی بدتر یہ کہ ہلاکو خان کے نواسے ارغون (۶۸۳۔۶۹۰ھج) نے اپنے یہودی وزیر سعد الدولہ ابہری کے مشورے پر مکہ کی تسخیر اور خانہ کعبہ کو بت خانہ میں تبدیل کرنے کا پکا ارادہ کر لیا تھااور اس سازش کے مقدمات بھی فراہم کر لئے تھے لیکن خوش قسمتی سے ارغون کے بیمار اور سعد الدولہ کے قتل ہوجانے کی وجہ سے یہ عظیم فتنہ ٹل گیا۔( ۱ )

ایسے حساس زمانہ میں کہ جب اسلامی ممالک تباہی و ویرانی کی آگ میں جل رہے تھے اور شرق و غرب کے حملوں کی آماجگاہ بنے ہوئے تھے مؤسس افکار وہابیت ابن تیمیہ نے اپنے افکار کو منتشر کر کے امت اسلام کے درمیان ایک نیا شگاف ڈال دیا۔

____________________

(۱) وہابیت، مبانی فکری و کارنامۂ عملی،( تألیف حضرت آیت اللہ العظمیٰ سبحانی: ۲۱ و۲۴) اور اسلام کے مقابلے میں مغلوں کے صلیبیوں سے روابط اور ان کے مظالم کے بارے میں آگاہی کیلئے تاریخ مغول: ۱۹۱،۱۹۷،۳۲۶ تألیف،عباس اقبال آشتیانی کا مطالعہ فرمائیں۔

۱۹

محمد بن عبد الوہاب اور اسلامی اتحاد پر ضرب:

بارہویں صدی ہجری میں بانی و مروج افکار وہابیت محمدبن عبد الوہاب نے مسلمانوں کو انبیاء و اولیائے خدا سے توسل کے جرم میں مشرک قرار دے کر ان کے کفر کا فتویٰ دیا، ان کا خون مباح، قتل جائز اور ان کے مال کو غنیمت قراردے دیا. اس کے اس فتویٰ کے نتیجہ میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔

ابن تیمیہ کے افکار کی تجدید محمد بن عبد الوہاب کے ہاتھوں تاریخی و سیاسی اعتبار سے سخت نامناسب حالات میں کی گئی. اس لئے کہ اس دور میں امت مسلمہ چاروں طرف سے صلیبی استعمار کے حملوں کا شکار بن چکی تھی اور اسلامی معاشرے کو سب سے زیادہ وحدت کلمہ کی ضرورت تھی۔

انگریز ہندوستان کا بہت زیادہ علاقہ مسلمانوں سے چھین کر تیموری مسلمانوں کی سلطنت کی شان و شوکت کو مٹا کر پنجاب، کابل اور خلیج فارس کے سواحل کا خواب دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ ایران کے جنوب و مغربی علاقے کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔

فرانسیسی نیپلن کی قیادت میں مصر، شام اور فلسطین پر زبردستی قبضہ کر کے دولت عثمانی کو آنکھیں دکھاتے ہوئے ہندوستان میں اپنا اثر جمانے کی سوچ رہے تھے۔

تزاری روس جوکہ مشرقی روم کے مسیحی سزاروں کی جانشینی کا دعویٰ کر رہے تھے ایران اور دولت عثمانی پرپے در پے حملے کر کے اپنی حکومت کا دائرہ ایک طرف سے قسطنطنیہ و فلسطین اور دوسری طرف سے خلیج فارس تک وسیع کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے. اس مقصد کے حصول کیلئے انھوں نے اپنی فوجی کاروائیوں میں سب سے پہلے ایران، دولت عثمانی اور قفقاز کو نشانہ بنا رکھا تھا۔

یہاں تک کہ امریکائی بھی شمالی افریقہ کے اسلامی ممالک پر چشم طمع رکھے ہوئے لیبیا اور الجزائر کے شہروں پر گولہ باری کے ذریعے عالم اسلام میں نفوذ کی کوششیں کر رہے تھے۔

صربستان کے مسئلہ پر عثمانیوں اور اتریش کی جنگ اور ہالینڈ کے جنگی بحری بیڑوں کا برطانیہ کی مدد کر کے الجزائر کے دارالخلافہ کا فوجی محاصرہ کرنا بھی اسی بحرانی دور میں پیش آیا۔( ۱ )

____________________

(۱)وہابیت،مبانی فکری وکارنامہ عملی:۲۱

۲۰