با ل جبر یل

با ل جبر یل0%

با ل جبر یل مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 199

با ل جبر یل

مؤلف: علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال لاہوری
زمرہ جات:

صفحے: 199
مشاہدے: 37215
ڈاؤنلوڈ: 833

تبصرے:

با ل جبر یل
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 199 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 37215 / ڈاؤنلوڈ: 833
سائز سائز سائز
با ل جبر یل

با ل جبر یل

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

بال جبریل

،علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال لاہوری

۳

حصہ اول

غزلیں

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں

*

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں

میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں

*

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش بند

میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

*

گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود

گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں

*

تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا

میں ہی تو اک راز تھا سینۂ کائنات میں!

***

۴

اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا

اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے یا میرا؟

*

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی

خطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا میرا؟

*

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں کر

مجھے معلوم کیا ، وہ راز داں تیرا ہے یا میرا؟

*

محمد بھی ترا ، جبریل بھی ، قرآن بھی تیرا

مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا میرا؟

*

اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن

زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا؟

***

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے

بتا ، کیا تو مرا ساقی نہیں ہے

*

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

***

۵

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر

ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر

*

عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں

یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر

*

تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی آبجو

یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

*

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو

میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر

*

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو

اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر

*

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں

کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر

*

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل

آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر

***

۶

اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری فریاد

نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

*

یہ مشت خاک ، یہ صرصر ، یہ وسعت افلاک

کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد!

*

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل

یہی ہے فصل بہاری ، یہی ہے باد مراد؟

*

قصور وار ، غریب الدیار ہوں لیکن

ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

*

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے

وہ دشت سادہ ، وہ تیرا جہان بے بنیاد

*

خطر پسند طبیعت کو ساز گار نہیں

وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

*

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں

انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

***

۷

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق ایک زندگی مستعار کا

کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

*

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک

اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا

*

میری بساط کیا ہے ، تب و تاب یک نفس

شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا

*

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا

پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار کا

*

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو

یا رب ، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!

***

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر

دلوں کو مرکز مہر و وفا کر

حریم کبریا سے آشنا کر

*

جسے نان جویں بخشی ہے تو نے

اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر

***

۸

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

*

نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریں

مرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

*

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو

کھٹک سی ہے ، جو سینے میں ، غم منزل نہ بن جائے

*

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو

یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

*

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میری

وہی افسانہ دنبالۂ محمل نہ بن جائے

*

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

***

۹

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے ساقی

*

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی

*

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل کی

علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

*

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا

کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

*

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

*

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

*

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی

بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

***

۱۰

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

*

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

*

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

*

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

*

عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

*

سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات

ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے ساقی

*

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

***

۱۱

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو

مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و تو

پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا ہو

*

نہ مے ،نہ شعر ، نہ ساقی ، نہ شور چنگ و رباب

سکوت کوہ و لب جوۓ و لالہ خود رو!

*

گدائے مے کدہ کی شان بے نیازی دیکھ

پہنچ کے چشمہ حیواں پہ توڑتا ہے سبو!

*

مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں

کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدو

*

میں نو نیاز ہوں ، مجھ سے حجاب ہی اولی

کہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے قابو

*

اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس کا

صفائے پاکی طینت سے ہے گہر کا وضو

*

جمیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس کے

نگاہ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو

***

۱۲

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

*

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی

*

حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت کو

میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

*

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

*

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

*

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری

کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

*

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

***

۱۳

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

وہ ادب گہ محبت ، وہ نگہ کا تازیانہ

*

یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں

نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش آزرانہ

*

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت

یہ جہاں عجب جہاں ہے ، نہ قفس نہ آشیانہ

*

رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی

کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے مغانہ

*

مرے ہم صفیر اسے بھی اثر بہار سمجھے

انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے عاشقانہ

*

مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا

صلہ شہید کیا ہے ، تب و تاب جاودانہ

*

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں

نہ گلہ ہے دوستوں کا ، نہ شکایت زمانہ

***

۱۴

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز

اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز

*

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی

کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز

*

پرانے ہیں یہ ستارے ، فلک بھی فرسودہ

جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

*

کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کیا

تری نگاہ کی گردش ہے میری رستاخیز

*

نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ سے

نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

*

دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم گل

صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگیز

*

حدیث بے خبراں ہے ، تو با زمانہ بساز

زمانہ با تو نسازد ، تو با زمانہ ستیز

***

۱۵

وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی

وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی

میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی

*

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے ، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟

یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ سازی

*

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی راتیں

کبھی سوزو ساز رومی ، کبھی پیچ و تاب رازی

*

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں

اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

*

نہ زباں کوئی غزل کی ، نہ زباں سے باخبر میں

کوئی دلکشا صدا ہو ، عجمی ہو یا کہ تازی

*

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ سپہ کی تیغ بازی ، وہ نگہ کی تیغ بازی

*

کوئی کارواں سے ٹوٹا ، کوئی بدگماں حرم سے

کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

***

۱۶

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

*

بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم

اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں

*

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا

مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

*

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

*

کہہ گئیں راز محبت پردہ داریہائے شوق

تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں

*

تھی کسی درماندہ رہرو کی صداۓ درد ناک

جس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں

***

۱۷

اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی

اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی

ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی

*

اس پیکر خاکی میں اک شے ہے ، سو وہ تیری

میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

*

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک

تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

*

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل

کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

*

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی

اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی!

*

تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں

ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی

*

تیرے بھی صنم خانے ، میرے بھی صنم خانے

دونوں کے صنم خاکی ، دونوں کے صنم فانی

***

۱۸

یا رب! یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

یا رب! یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنرمند

*

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ

دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

*

تو برگ گیا ہے ندہی اہل خرد را

او کشت گل و لالہ بنجشد بہ خرے چند

*

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مے گلگوں

مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

*

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر

تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

*

فردوس جو تیرا ہے ، کسی نے نہیں دیکھا

افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

*

مدت سے ہے آوارہ افلاک مرا فکر

کر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظر بند

*

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتی

خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

***

۱۹

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی

گھر میرا نہ دلی ، نہ صفاہاں ، نہ سمرقند

*

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق

نے ابلہ مسجد ہوں ، نہ تہذیب کا فرزند

*

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

*

مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیش

خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

*

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموش

میں بندہ مومن ہوں ، نہیں دانہ اسپند

*

پر سوز و نظرباز و نکوبین و کم آزار

آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند

*

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرم

کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خند!

*

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال

کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند!

***

۲۰