با ل جبر یل

با ل جبر یل0%

با ل جبر یل زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 53

با ل جبر یل

زمرہ جات:

صفحے: 53
مشاہدے: 4774
ڈاؤنلوڈ: 255

تبصرے:

با ل جبر یل
  • حصہ اول 5

  • غزلیں 5

  • حصہ دوم 22

  • ما از پے سنائی و عطار آمدیم 22

  • غزلیں 25

  • قطعات 76

  • منظوما ت 90

  • دعا 90

  • مسجد قرطبہ 91

  • قید خانے میں معتمد کی فریاد 97

  • عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس میں 98

  • ہسپانیہ 99

  • طارق کی دعا 100

  • لینن 101

  • فرشتوں کا گیت 103

  • فرمان خدا 103

  • ذوق و شوق 105

  • پروانہ اور جگنو 108

  • جاوید کے نام 108

  • گدائی 109

  • ملا اور بہشت 110

  • دین وسیاست 110

  • الارض للہ 111

  • ایک نوجوان کے نام 111

  • نصیحت 112

  • لالۂ صحرا 112

  • ساقی نامہ 113

  • زمانہ 121

  • فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں 122

  • روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے 123

  • پیرو مرید 124

  • جبریل وابلیس 133

  • اذان 135

  • محبت 136

  • ستارے کا پیغام 136

  • جاوید کے نام 137

  • فلسفہ و مذہب 137

  • یورپ سے ایک خط 138

  • نپولین کے مزار پر 139

  • مسولینی 140

  • سوال 141

  • پنجاب کے دہقان سے 141

  • نادر شاہ افغان 142

  • خوشحال خاں کی وصیت 143

  • تاتاری کا خواب 144

  • حال و مقام 145

  • ابوالعلامعری 146

  • سنیما 147

  • پنجاب کے پیرزادوں سے 148

  • سیاست 149

  • فقر 149

  • خودی 150

  • جدائی 150

  • خانقاہ 151

  • ابلیس کی عرضداشت 151

  • لہو 152

  • پرواز 152

  • شیخ مکتب سے 153

  • فلسفی 153

  • شاہیں 154

  • باغی مرید 155

  • ہارون کی آخری نصیحت 155

  • ماہر نفسیات سے 156

  • یورپ 156

  • آزادی افکار 157

  • شیر اور خچر 157

  • چیونٹی اور عقاب 158

  • فطرت مری مانند نسیم سحری ہے 158

  • قطعہ: کل اپنے مریدوں سے کہا پیر مغاں نے 159

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 53 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 4774 / ڈاؤنلوڈ: 255
سائز سائز سائز
با ل جبر یل

با ل جبر یل

اردو
غزلیں حصہ اول
غزلیں علاّمہ اقبال میری نوائے شوق سے شور حریم ذات iiمیں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات iiمیں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات iiمیں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات iiمیں

گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقش iiبند
میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات iiمیں

گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل iiوجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات iiمیں

تو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر iiدیا
میں ہی تو اک راز تھا سینۂ کائنات iiمیں!


***


اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا iiمیرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے یا iiمیرا؟

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں iiخالی
خطا کس کی ہے یا رب! لامکاں تیرا ہے یا iiمیرا؟

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیوں iiکر
مجھے معلوم کیا ، وہ راز داں تیرا ہے یا iiمیرا؟

محمد بھی ترا ، جبریل بھی ، قرآن بھی iiتیرا
مگر یہ حرف شیریں ترجماں تیرا ہے یا iiمیرا؟

اسی کوکب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن
زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا iiمیرا؟


***


ترے شیشے میں مے باقی نہیں iiہے
بتا ، کیا تو مرا ساقی نہیں iiہے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں iiہے


***


گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار iiکر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار iiکر

عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب iiمیں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار iiکر

تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی iiآبجو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر

میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی iiآبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار iiکر

نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ iiہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار iiکر

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا iiکیوں
کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار iiکر

روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر iiعمل
آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار iiکر


***


اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے مری iiفریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ iiآزاد

یہ مشت خاک ، یہ صرصر ، یہ وسعت iiافلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت iiایجاد!

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ iiگل
یہی ہے فصل بہاری ، یہی ہے باد iiمراد؟

قصور وار ، غریب الدیار ہوں iiلیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے iiآباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ ، وہ تیرا جہان بے iiبنیاد

خطر پسند طبیعت کو ساز گار iiنہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو iiصیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا iiنہیں
انھی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں iiزیاد


***


کیا عشق ایک زندگی مستعار iiکا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا

وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی iiپھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار iiکا

میری بساط کیا ہے ، تب و تاب یک iiنفس
شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار iiکا

کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں iiعطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرار iiکا

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب ، وہ درد جس کی کسک لازوال iiہو!


***


دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حریم کبریا سے آشنا iiکر

جسے نان جویں بخشی ہے تو iiنے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا iiکر


***


پریشاں ہوکے میری خاک آخر دل نہ بن iiجائے
جو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں iiحوریں
مرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے ، جو سینے میں ، غم منزل نہ بن جائے

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ iiکو
یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن iiجائے

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب iiمیری
وہی افسانہ دنبالۂ محمل نہ بن iiجائے

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن iiجائے


***


دگرگوں ہے جہاں ، تاروں کی گردش تیز ہے iiساقی
دل ہر ذرہ میں غوغائے رستا خیز ہے iiساقی

متاع دین و دانش لٹ گئی اللہ والوں iiکی
یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے iiساقی

وہی دیرینہ بیماری ، وہی نا محکمی دل iiکی
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں iiہوتا
کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے iiساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے iiساقی

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں iiسے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار iiسلطانی
بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے iiساقی


***


لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے iiساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے iiساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے iiبند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے iiساقی

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی
شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے iiساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق iiتہی
رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے iiساقی

عشق کی تیغ جگردار اڑا لی کس iiنے
علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین iiحیات
ہو نہ روشن ، تو سخن مرگ دوام اے iiساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ iiرکھ
ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے iiساقی!


***


مٹا دیا مرے ساقی نے عالم من و iiتو
پلا کے مجھ کو مے لا الہ الا iiہو

نہ مے ،نہ شعر ، نہ ساقی ، نہ شور چنگ و iiرباب
سکوت کوہ و لب جوۓ و لالہ خود iiرو!

گدائے مے کدہ کی شان بے نیازی iiدیکھ
پہنچ کے چشمہ حیواں پہ توڑتا ہے iiسبو!

مرا سبوچہ غنیمت ہے اس زمانے میں
کہ خانقاہ میں خالی ہیں صوفیوں کے کدو

میں نو نیاز ہوں ، مجھ سے حجاب ہی iiاولی
کہ دل سے بڑھ کے ہے میری نگاہ بے iiقابو

اگرچہ بحر کی موجوں میں ہے مقام اس iiکا
صفائے پاکی طینت سے ہے گہر کا iiوضو

جمیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس iiکے
نگاہ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو


***


متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو iiمندی
مقام بندگی دے کر نہ لوں شان iiخداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ iiدنیا
یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی iiپابندی

حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت iiکو
میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں iiمیں
کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں iiبندی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت iiتھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب iiفرزندی

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز iiالوندی

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی iiکو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا iiبندی


***


تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ iiزمانہ
وہ ادب گہ محبت ، وہ نگہ کا تازیانہ

یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں
نہ ادائے کافرانہ ، نہ تراش iiآزرانہ

نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ iiفراغت
یہ جہاں عجب جہاں ہے ، نہ قفس نہ iiآشیانہ

رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم iiکی
کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے iiمغانہ

مرے ہم صفیر اسے بھی اثر بہار iiسمجھے
انھیں کیا خبر کہ کیا ہے یہ نوائے iiعاشقانہ

مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے iiپیدا
صلہ شہید کیا ہے ، تب و تاب iiجاودانہ

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے iiہیں
نہ گلہ ہے دوستوں کا ، نہ شکایت iiزمانہ


***


ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا iiلبریز
اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی iiپرہیز

بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط iiاپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث iiپرویز

پرانے ہیں یہ ستارے ، فلک بھی iiفرسودہ
جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی iiنوخیز

کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے iiکیا
تری نگاہ کی گردش ہے میری iiرستاخیز

نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ iiسے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات iiآمیز

دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم iiگل
صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط iiانگیز

حدیث بے خبراں ہے ، تو با زمانہ iiبساز
زمانہ با تو نسازد ، تو با زمانہ iiستیز


***


وہی میری کم نصیبی ، وہی تیری بے نیازی
میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے iiنوازی

میں کہاں ہوں تو کہاں ہے ، یہ مکاں کہ لامکاں ہے؟
یہ جہاں مرا جہاں ہے کہ تری کرشمہ iiسازی

اسی کشمکش میں گزریں مری زندگی کی iiراتیں
کبھی سوزو ساز رومی ، کبھی پیچ و تاب iiرازی

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں iiمیں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم iiشاہبازی

نہ زباں کوئی غزل کی ، نہ زباں سے باخبر iiمیں
کوئی دلکشا صدا ہو ، عجمی ہو یا کہ iiتازی

نہیں فقر و سلطنت میں کوئی امتیاز iiایسا
یہ سپہ کی تیغ بازی ، وہ نگہ کی تیغ iiبازی

کوئی کارواں سے ٹوٹا ، کوئی بدگماں حرم iiسے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل iiنوازی


***


اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا iiطلسم
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا iiمیں

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ iiگیا
مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ iiتمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا iiمیں

کہہ گئیں راز محبت پردہ داریہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا iiمیں

تھی کسی درماندہ رہرو کی صداۓ درد ناک
جس کو آواز رحیل کارواں سمجھا تھا میں


***


اک دانش نورانی ، اک دانش iiبرہانی
ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی

اس پیکر خاکی میں اک شے ہے ، سو وہ iiتیری
میرے لیے مشکل ہے اس شے کی iiنگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں iiتک
تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل iiخوانی

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ iiارزانی؟

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ iiمسلمانی!

تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس iiمیں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی

تیرے بھی صنم خانے ، میرے بھی صنم iiخانے
دونوں کے صنم خاکی ، دونوں کے صنم iiفانی


***


یا رب! یہ جہان گزراں خوب ہے iiلیکن
کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و iiہنرمند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ
دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو iiخداوند

تو برگ گیا ہے ندہی اہل خرد iiرا
او کشت گل و لالہ بنجشد بہ خرے iiچند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مے iiگلگوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و iiپند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے iiمفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند

فردوس جو تیرا ہے ، کسی نے نہیں iiدیکھا
افرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی iiمانند

مدت سے ہے آوارہ افلاک مرا iiفکر
کر دے اسے اب چاند کی غاروں میں نظر iiبند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر iiملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں iiپیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے نہ iiغربی
گھر میرا نہ دلی ، نہ صفاہاں ، نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے iiحق
نے ابلہ مسجد ہوں ، نہ تہذیب کا iiفرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی iiناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق iiاندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی iiخاموش
میں بندہ مومن ہوں ، نہیں دانہ iiاسپند

پر سوز و نظرباز و نکوبین و کم iiآزار
آزاد و گرفتار و تہی کیسہ و iiخورسند

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے iiخرم
کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر iiخند!

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی iiاقبال
کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ iiبند!
۱
"ما از پے سنائی و عطار آمدیم" با ل جبر یل حصہ دوم ا علیٰ حضرت شہید امیرالمومنین نادر شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے لطف و کرم سے نومبر١٩٣٣ء میں مصنف کو حکیم سنائی غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقدس کی زیارت نصیب ہوئی
- یہ چند افکار پریشاں جن میں حکیم ہی کے ایک مشہور قصیدے کی پیروی کی گئی ہے ، اس روز سعید کی یادگار میں سپرد قلم کیے گئے-: ما از پے سنائی و عطار آمدیم" علاّمہ اقبال سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازہ iiصحرا

خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے iiہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہے
کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں iiدریا

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب iiاپنا

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں ، غلامی iiمیں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو iiاستغنا

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی iiکی
تن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف iiاولی!

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا ، وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی ، نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و iiکسری

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا iiہے
گلیم بوذر و دلق اویس و چادر iiزہرا!

حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت iiکی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے iiبرپا

ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم iiہے
"گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا١ ii"!

لبالب شیشہ تہذیب حاضر ہے مے "ل" iiسے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ "ال"

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی iiنے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا iiواویلا

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں iiبھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و iiبالا

غلامی کیا ہے ؟ ذوق حسن و زیبائی سے iiمحرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ، ہے وہی iiزیبا

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت iiپر
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت iiسے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر iiفردا

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہو گئے iiپانی
مری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختی iiخارا

رہے ہیں ، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب iiتک
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید iiبیضا

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب iiجائے
جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے iiپیدا

محبت خویشتن بینی ، محبت خویشتن iiداری
محبت آستان قیصر و کسری سے بے iiپروا

عجب کیا رمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں
"کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سر خود iiر"٢

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی iiسینا

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی iiآخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی iiطہ

سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی iiورنہ
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے iiلالا
١ یہ مصرع حکیم سنائی کا ہے
٢ یہ مصرع مرزا صائب کا ہے جس میں ایک لفظی تغیر کیا گیا
۲
غزلیں با ل جبر یل غزلیں علاّمہ اقبال مردں ، حق گوئی و بے iiباکی
کون غزل خواں ہے پرسوز و نشاط انگیز

اللہ کے شیروں کو آتی iiنیہ
اندیشہ دانا کو کرتا ہے جنوں iiآمیز

گو فقر بھی رکھتا ہے انداز iiملوکانہ
نا پختہ ہے پرویزی بے سلطنت iiپرویز

اب حجرہ صوفی میں وہ فقر نہیں iiباقی
خون دل شیراں ہو جس فقر کی iiدستاویز

اے حلقہ درویشاں! وہ مرد خدا iiکیسا
ہو جس کے گریباں میں ہنگامہ رستا خیز

جو ذکر کی گرمی سے شعلے کی طرح iiروشن
جو فکر کی سرعت میں بجلی سے زیادہ iiتیز!

کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں iiپیدا
اللہ کے نشتر ہیں تیمور ہو یا iiچنگیز

یوں داد سخن مجھ کو دیتے ہیں عراق و iiپارس
یہ کافر ہندی ہے بے تیغ و سناں خوں iiریز


***

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے iiجنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو iiکہوں

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے iiگا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و iiزبوں

حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی iiمجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں

عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے iiکر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ iiرہوں

ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر iiافلاطوں

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے iiگردوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے iiشاید
کہ آ رہی ہے دما دم صدائے "کن iiفیکوں"

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے iiترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا iiفسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے iiروشن
اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے iiجیحوں


***

عالم آب و خاک و باد! سر عیاں ہے تو کہ iiمیں
وہ جو نظر سے ہے نہاں ، اس کا جہاں ہے تو کہ iiمیں

وہ شب درد و سوز و غم ، کہتے ہیں زندگی iiجسے
اس کی سحر ہے تو کہ میں ، اس کی اذاں ہے تو کہ میں

کس کی نمود کے لیے شام و سحر ہیں گرم iiسیر
شانہ روزگار پر بار گراں ہے تو کہ میں

تو کف خاک و بے بصر ، میں کف خاک و خود iiنگر
کشت وجود کے لیے آب رواں ہے تو کہ iiمیں


***

لندن.میں.لکھےگئے
تو ابھی رہ گزر میں ہے ، قید مقام سے iiگزر
مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے iiگزر

جس کا عمل ہے بے غرض ، اس کی جزا کچھ اور iiہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے iiگزر

گرچہ ہے دلکشا بہت حسن فرنگ کی iiبہار
طائرک بلند بال ، دانہ و دام سے iiگزر

کوہ شگاف تیری ضرب ، تجھ سے کشاد شرق و iiغرب
تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے iiگزر

تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے iiسرور
ایسی نماز سے گزر ، ایسے امام سے iiگزر!


***

امین راز ہے مردان حر کی iiدرویشی
کہ جبرئیل سے ہے اس کو نسبت iiخویشی

کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی iiکتنے
فقیہ و صوفی و شاعر کی نا خوش اندیشی

نگاہ گرم کہ شیروں کے جس سے ہوش اڑ iiجائیں
نہ آہ سرد کہ ہے گوسفندی و iiمیشی

طبیب عشق نے دیکھا مجھے تو iiفرمایا
ترا مرض ہے فقط آرزو کی بے iiنیشی

وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جان پاک iiجسے
یہ رنگ و نم ، یہ لہو ، آب و ناں کی ہے iiبیشی


***

پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و iiدمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ iiچمن

پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر iiقطار
اودے اودے ، نیلے نیلے ، پیلے پیلے پیرہن

برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد iiصبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی iiکرن

حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے iiلیے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ iiبن

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ iiزندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو iiبن

من کی دنیا ! من کی دنیا سوز و مستی ، جذب و iiشوق
تن کی دنیا! تن کی دنیا سود و سودا ، مکر و iiفن

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے ، آتا ہے دھن جاتا ہے iiدھن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ iiبات
تو جھکا جب غیر کے آگے ، نہ من تیرا نہ iiتن


***

کابل.میں.لکھےگئے
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی iiکا
مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی iiکا

شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندان مکتب iiسے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی iiکا

بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا
کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی iiکا

قلندر جز دو حرف لا الہ کچھ بھی نہیں iiرکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا

حدیث بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ iiکو
نہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی iiکا

کہاں سے تو نے اے اقبال سیکھی ہے یہ iiدرویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا


***

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و iiبم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دم بہ دم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے iiعشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا iiنم

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و iiجم

دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامان iiموت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے ، دل یا شکم!

اے مسلماں! اپنے دل سے پوچھ ، ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی iiحرم


***

دل سوز سے خالی ہے ، نگہ پاک نہیں iiہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں iiہے

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں iiپنہاں
غافل! تو نرا صاحب ادراک نہیں iiہے

وہ آنکھ کہ ہے سرم ہ افرنگ سے iiروشن
پرکار و سخن ساز ہے ، نم ناک نہیں iiہے

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں iiہے

کب تک رہے محکومی انجم میں مری iiخاک
یا میں نہیں ، یا گردش افلاک نہیں iiہے

بجلی ہوں ، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے iiمری
میرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں iiہے

عالم ہے فقط مومن جاں باز کی iiمیراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں iiہے!


***

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی iiرفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا iiطریق

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے iiمیں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد iiخلیق

علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں iiسکتا
غریب اگرچہ ہیں رازی کے نکتہ ہائے iiدقیق

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ iiتوفیق

اسی طلسم کہن میں اسیر ہے iiآدم
بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد iiعتیق

مرے لیے تو ہے اقرار باللساں بھی بہت
ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب iiتصدیق

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی iiمسلمانی
نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و iiزندیق


***

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی iiگواہی
تو صاحب منزل ہے کہ بھٹکا ہوا iiراہی

کافر ہے مسلماں تو نہ شاہی نہ iiفقیری
مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی iiشاہی

کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے iiبھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے iiسپاہی

کافر ہے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر iiالہی

میں نے تو کیا پردۂ اسرار کو بھی iiچاک
دیرینہ ہے تیرا مرض کور iiنگاہی


***

قرطبہ.میں.لکھےگئے
یہ حوریان فرنگی ، دل و نظر کا iiحجاب
بہشت مغربیاں ، جلوہ ہائے پا بہ iiرکاب

دل و نظر کا سفینہ سنبھال کر لے iiجا
مہ و ستارہ ہیں بحر وجود میں گرداب

جہان صوت و صدا میں سما نہیں iiسکتی
لطیفہ ازلی ہے فغان چنگ و iiرباب

سکھا دیے ہیں اسے شیوہ ہائے iiخانقہی
فقیہ شہر کو صوفی نے کر دیا ہے iiخراب

وہ سجدہ ، روح زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں منبر و iiمحراب

سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں iiنے
دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشہ iiسیماب

ہوائے قرطبہ! شاید یہ ہے اثر تیرا
مری نوا میں ہے سوز و سرور عہد شباب


***

دل بیدار فاروقی ، دل بیدار iiکراری
مس آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی iiبیداری

دل بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب iiتک
نہ تیری ضرب ہے کاری ، نہ میری ضرب ہے iiکاری

مشام تیز سے ملتا ہے صحرا میں نشاں اس iiکا
ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے iiتاتاری

اس اندیشے سے ضبط آہ میں کرتا رہوں کب iiتک
کہ مغ زادے نہ لے جائیں تری قسمت کی iiچنگاری

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر iiجائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے ، سلطانی بھی iiعیاری

مجھے تہذیب حاضر نے عطا کی ہے وہ iiآزادی
کہ ظاہر میں تو آزادی ہے ، باطن میں iiگرفتاری

تو اے مولائے یثرب! آپ میری چارہ سازی iiکر
مری دانش ہے افرنگی ، مرا ایماں ہے زناری


***

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز iiنہیں
جو ناز ہو بھی تو بے لذت نیاز نہیں

نگاہ عشق دل زندہ کی تلاش میں ہے
شکار مردہ سزاوار شاہباز iiنہیں

مری نوا میں نہیں ہے ادائے محبوبی
کہ بانگ صور سرافیل دل نواز iiنہیں

سوال مے نہ کروں ساقی فرنگ سے iiمیں
کہ یہ طریقہ رندان پاک باز iiنہیں

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز iiنہیں

اک اضطراب مسلسل ، غیاب ہو کہ iiحضور
میں خود کہوں تو مری داستاں دراز iiنہیں

اگر ہو ذوق تو خلوت میں پڑھ زبور iiعجم
فغان نیم شبی بے نوائے راز نہیں


***

میر سپاہ ناسزا ، لشکریاں شکستہ صف
آہ! وہ تیر نیم کش جس کا نہ ہو کوئی iiہدف

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی iiنہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج ، دیکھ چکا صدف iiصدف

عشق بتاں سے ہاتھ اٹھا ، اپنی خودی میں ڈوب iiجا
نقش و نگار دیر میں خون جگر نہ کر تلف

کھول کے کیا بیاں کروں سر مقام مرگ و iiعشق
عشق ہے مرگ با شرف ، مرگ حیات بے iiشرف

صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز iiفاش
لاکھ حکیم سر بجیب ، ایک کلیم سر iiبکف

مثل کلیم ہو اگر معرکہ آزما iiکوئی
اب بھی درخت طور سے آتی ہے بانگ" لا iiتخف

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش iiفرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و iiنجف


***

یورپ.میں.لکھےگئے
زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی iiتیزی
نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحر iiخیزی

کہیں سرمایہ محفل تھی میری گرم iiگفتاری
کہیں سب کو پریشاں کر گئی میری کم iiآمیزی

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر iiکیا!
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں iiپرویزی

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے iiچنگیزی

سواد رومة الکبریٰ میں دلی یاد آتی iiہے
وہی عبرت ، وہی عظمت ، وہی شان دل iiآویزی


***

یہ دیر کہن کیا ہے ، انبار خس و iiخاشاک
مشکل ہے گزر اس میں بے نالہ آتش ناک

نخچیر محبت کا قصہ نہیں iiطولانی
لطف خلش پیکاں ، آسودگی iiفتراک

کھویا گیا جو مطلب ہفتاد و دو ملت iiمیں
سمجھے گا نہ تو جب تک بے رنگ نہ ہو iiادراک

اک شرع مسلمانی ، اک جذب iiمسلمانی
ہے جذب مسلمانی سر فلک iiالافلاک

اے رہرو فرزانہ ، بے جذب مسلمانی
نے راہ عمل پیدا نے شاخ یقیں نم iiناک

رمزیں ہیں محبت کی گستاخی و بے iiباکی
ہر شوق نہیں گستاخ ، ہر جذب نہیں بے iiباک

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں iiمیرا
یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں iiچاک!


***

کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری
کمال ترک ہے تسخیر خاکی و iiنوری

میں ایسے فقر سے اے اہل حلقہ باز iiآیا
تمھارا فقر ہے بے دولتی و iiرنجوری

نہ فقر کے لیے موزوں ، نہ سلطنت کے iiلیے
وہ قوم جس نے گنوایا متاع تیموری

سنے نہ ساقی مہ وش تو اور بھی iiاچھا
عیار گرمی صحبت ہے حرف iiمعذوری

حکیم و عارف و صوفی ، تمام مست ظہور
کسے خبر کہ تجلی ہے عین iiمستوری

وہ ملتفت ہوں تو کنج قفس بھی iiآزادی
نہ ہوں تو صحن چمن بھی مقام iiمجبوری

برا نہ مان ، ذرا آزما کے دیکھ iiاسے
فرنگ دل کی خرابی ، خرد کی iiمعموری


***

عقل گو آستاں سے دور iiنہیں
اس کی تقدیر میں حضور iiنہیں

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور iiنہیں

علم میں بھی سرور ہے iiلیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور iiنہیں

کیا غضب ہے کہ اس زمانے iiمیں
ایک بھی صاحب سرور iiنہیں

اک جنوں ہے کہ با شعور بھی iiہے
اک جنوں ہے کہ با شعور iiنہیں

ناصبوری ہے زندگی دل iiکی
آہ وہ دل کہ ناصبور iiنہیں

بے حضوری ہے تیری موت کا راز
زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں

ہر گہر نے صدف کو توڑ iiدیا
تو ہی آمادہ ظہور iiنہیں

ارنی میں بھی کہہ رہا ہوں ، iiمگر
یہ حدیث کلیم و طور iiنہیں


***

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ iiنہیں
تو آبجو اسے سمجھا اگر تو چارہ iiنہیں

طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے iiہیں
زجاج کی یہ عمارت ہے ، سنگ خارہ iiنہیں

خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے iiہیں
مگر یہ حوصلہ مرد ہیچ کارہ iiنہیں

ترے مقام کو انجم شناس کیا iiجانے
کہ خاک زندہ ہے تو ، تابع ستارہ iiنہیں

یہیں بہشت بھی ہے ، حور و جبرئیل بھی iiہے
تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ iiنہیں

مرے جنوں نے زمانے کو خوب iiپہچانا
وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ iiنہیں

غضب ہے ، عین کرم میں بخیل ہے iiفطرت
کہ لعل ناب میں آتش تو ہے ، شرارہ iiنہیں


***

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام iiپادشاہی

تری زندگی اسی سے ، تری آبرو اسی iiسے
جو رہی خودی تو شاہی ، نہ رہی تو iiروسیاہی

نہ دیا نشان منزل مجھے اے حکیم تو iiنے
مجھے کیا گلہ ہو تجھ سے ، تو نہ رہ نشیں نہ iiراہی

مرے حلقہ سخن میں ابھی زیر تربیت iiہیں
وہ گدا کہ جانتے ہیں رہ و رسم iiکجکلاہی

یہ معاملے ہیں نازک ، جو تری رضا ہو تو iiکر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریق iiخانقاہی

تو ہما کا ہے شکاری ، ابھی ابتدا ہے تیری
نہیں مصلحت سے خالی یہ جہان مرغ و iiماہی

تو عرب ہو یا عجم ہو ، ترا لا الہ iiالا
لغت غریب ، جب تک ترا دل نہ دے گواہی


***

تری نگاہ فرومایہ ، ہاتھ ہے iiکوتاہ
ترا گنہ کہ نخیل بلند کا ہے گناہ

گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا "لا الہ الا iiاللہ"

خودی میں گم ہے خدائی ، تلاش کر iiغافل!
یہی ہے تیرے لیے اب صلاح کار کی iiراہ

حدیث دل کسی درویش بے گلیم سے iiپوچھ
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے iiآگاہ

برہنہ سر ہے تو عزم بلند پیدا iiکر
یہاں فقط سر شاہیں کے واسطے ہے iiکلاہ

نہ ہے ستارے کی گردش ، نہ بازی iiافلاک
خودی کی موت ہے تیرا زوال نعمت و iiجاہ

اٹھا میں مدرسہ و خانقاہ سے غم iiناک
نہ زندگی ، نہ محبت ، نہ معرفت ، نہ iiنگاہ!


***

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور iiنہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور iiنہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے iiتیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور iiنہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے iiورنہ
گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور iiنہیں

رگوں میں گردش خوں ہے اگر تو کیا iiحاصل
حیات سوز جگر کے سوا کچھ اور iiنہیں

عروس لالہ! مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیم سحر کے سوا کچھ اور iiنہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران iiفرنگ
وہ شے متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا iiلیکن
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور iiنہیں


***

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا iiہے
خراج کی جو گدا ہو ، وہ قیصری کیا ہے!

بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے iiنومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل iiکا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا iiہے

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ iiپر
کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا iiہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری ، iiلیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا iiہے!

خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری iiمیری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے ، شاعری کیا iiہے!


***

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے iiلیے
جہاں ہے تیرے لیے ، تو نہیں جہاں کے iiلیے

یہ عقل و دل ہیں شرر شعلہ محبت iiکے
وہ خار و خس کے لیے ہے ، یہ نیستاں کے iiلیے

مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ iiچمن
نہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے iiلیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب iiتک
ترا سفینہ کہ ہے بحر بے کراں کے iiلیے!

نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں iiکو
ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے iiلیے

نگہ بلند ، سخن دل نواز ، جاں iiپرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

ذرا سی بات تھی ، اندیشہ عجم نے iiاسے
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے iiلیے

مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرئیل iiآشوب
سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کے iiلیے


***

تو اے اسیر مکاں! لامکاں سے دور iiنہیں
وہ جلوہ گاہ ترے خاک داں سے دور نہیں

وہ مرغزار کہ بیم خزاں نہیں جس میں
غمیں نہ ہو کہ ترے آشیاں سے دور iiنہیں

یہ ہے خلاصہ علم قلندری کہ iiحیات
خدنگ جستہ ہے لیکن کماں سے دور iiنہیں

فضا تری مہ و پرویں سے ہے ذرا iiآگے
قدم اٹھا ، یہ مقام آسماں سے دور iiنہیں

کہے نہ راہ نما سے کہ چھوڑ دے مجھ iiکو
یہ بات راہرو نکتہ داں سے دور iiنہیں


***

یورپ.میں.لکھےگئے
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر iiحکیمانہ
سکھائی عشق نے مجھ کو حدیث رندانہ

نہ بادہ ہے ، نہ صراحی ، نہ دور iiپیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزم iiجانانہ

مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ iiسمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون iiمیخانہ

کلی کو دیکھ کہ ہے تشنہ نسیم iiسحر
اسی میں ہے مرے دل کا تمام iiافسانہ

کوئی بتائے مجھے یہ غیاب ہے کہ iiحضور
سب آشنا ہیں یہاں ، ایک میں ہوں iiبیگانہ

فرنگ میں کوئی دن اور بھی ٹھہر iiجاؤں
مرے جنوں کو سنبھالے اگر یہ iiویرانہ

مقام عقل سے آساں گزر گیا iiاقبال
مقام شوق میں کھویا گیا وہ iiفرزانہ


***

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب iiآخر
کرتے ہیں خطاب آخر ، اٹھتے ہیں حجاب iiآخر

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں iiایسا
سوز و تب و تاب اول ، سوزو تب و تاب iiآخر

میں تجھ کو بتاتا ہوں ، تقدیر امم کیا iiہے
شمشیر و سناں اول ، طاؤس و رباب آخر

میخانہ یورپ کے دستور نرالے iiہیں
لاتے ہیں سرور اول ، دیتے ہیں شراب iiآخر

کیا دبدبہ نادر ، کیا شوکت iiتیموری
ہو جاتے ہیں سب دفتر غرق م ے ناب آخر

خلوت کی گھڑی گزری ، جلوت کی گھڑی iiآئی
چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوش سحاب iiآخر

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل معانی iiکا
کہہ ڈالے قلندر نے اسرار کتاب iiآخر


***

ہر شے مسافر ، ہر چیز iiراہی
کیا چاند تارے ، کیا مرغ و iiماہی

تو مرد میداں ، تو میر iiلشکر
نوری حضوری تیرے سپاہی

کچھ قدر اپنی تو نے نہ iiجانی
یہ بے سوادی ، یہ کم iiنگاہی!

دنیائے دوں کی کب تک iiغلامی
یا راہبی کر یا پادشاہی

پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے
کردار بے سوز ، گفتار iiواہی


***

ہر چیز ہے محو خود iiنمائی
ہر ذرہ شہید iiکبریائی

بے ذوق نمود زندگی ، iiموت
تعمیر خودی میں ہے iiخدائی

رائی زور خودی سے iiپربت
پربت ضعف خودی سے iiرائی

تارے آوارہ و کم iiآمیز
تقدیر وجود ہے جدائی

یہ پچھلے پہر کا زرد رو iiچاند
بے راز و نیاز iiآشنائی

تیری قندیل ہے ترا iiدل
تو آپ ہے اپنی روشنائی

اک تو ہے کہ حق ہے اس جہاں iiمیں
باقی ہے نمود سیمیائی

ہیں عقدہ کشا یہ خار iiصحرا
کم کر گلہ برہنہ پائی


***

اعجاز ہے کسی کا یا گردش iiزمانہ!
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحر iiفرنگیانہ

تعمیر آشیاں سے میں نے یہ راز iiپایا
اہل نوا کے حق میں بجلی ہے iiآشیانہ

یہ بندگی خدائی ، وہ بندگی گدائی
یا بندہ خدا بن یا بندہ زمانہ!

غافل نہ ہو خودی سے ، کر اپنی iiپاسبانی
شاید کسی حرم کا تو بھی ہے iiآستانہ

اے لا الہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ iiمیں
گفتار دلبرانہ ، کردار iiقاہرانہ

تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے iiتھے
کھویا گیا ہے تیرا جذب iiقلندرانہ

راز حرم سے شاید اقبال باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز iiمحرمانہ


***

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا iiہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیا iiہے

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے ، بتا تیری رضا کیا iiہے

مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا iiگرہوں
یہی سوز نفس ہے ، اور میری کیمیا کیا iiہے!

نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشم سرمہ سا کیا ہے

اگر ہوتا وہ مجذوب* فرنگی اس زمانے iiمیں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقام کبریا کیا iiہے

نواۓ صبح گاہی نے جگر خوں کر دیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے ، وہ خطا کیا iiہے!



* جرمنی کا مشہور مجذوب iiفلسفی
نطشہ جو اپنے قلبی iiواردات
کا صحیح اندازہ نہ کر iiسکا
اوراس لیے اس کے iiفلسفیانہ
افکار نے اسے غلط راستے پر ڈال دیا



****


جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار iiشہنشاہی

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو ، غزالی iiہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر iiگاہی

نومید نہ ہو ان سے اے رہبر iiفرزانہ!
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں iiراہی

اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں iiکوتاہی

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر iiاولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد iiاللہی

آئین جوانہیں iiروباہی

****

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام iiآیا
تھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام iiآیا

ذرا تقدیر کی گہرائیوں میں ڈوب جا تو iiبھی
کہ اس جنگاہ سے میں بن کے تیغ بے نیام iiآیا

یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام iiآیا

چل ، اے میری غریبی کا تماشا دیکھنے والے
وہ محفل اٹھ گئی جس دم تو مجھ تک دور جام آیا

دیا اقبال نے ہندی مسلمانوں کو سوز iiاپنا
یہ اک مرد تن آساں تھا ، تن آسانوں کے کام iiآیا

اسی اقبال کی میں جستجو کرتا رہا iiبرسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام iiآیا


***


نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی
کہ میری زندگی کیا ہے ، یہی طغیان مشتاقی

مجھے فطرت نوا پر پے بہ پے مجبور کرتی iiہے
ابھی محفل میں ہے شاید کوئی درد آشنا iiباقی

وہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھونک سکتی iiہے
طلب صادق نہ ہو تیری تو پھر کیا شکوۂ iiساقی!

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی iiسے
کہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی iiبراقی

دلوں میں ولولے آفاق گیری کے نہیں iiاٹھتے
نگاہوں میں اگر پیدا نہ ہو انداز iiآفاقی

خزاں میں بھی کب آ سکتا تھا میں صیاد کی زد iiمیں
مری غماز تھی شاخ نشیمن کی کم iiاوراقی

الٹ جائیں گی تدبیریں ، بدل جائیں گی تقدیریں
حقیقت ہے ، نہیں میرے تخیل کی یہ iiخلاقی


***


فطرت کو خرد کے روبرو iiکر
تسخیر مقام رنگ و بو iiکر

تو اپنی خودی کو کھو چکا iiہے
کھوئی ہوئی شے کی جستجو iiکر

تاروں کی فضا ہے iiبیکرانہ
تو بھی یہ مقام آرزو iiکر

عریاں ہیں ترے چمن کی iiحوریں
چاک گل و لالہ کو رفو کر

بے ذوق نہیں اگرچہ iiفطرت
جو اس سے نہ ہو سکا ، وہ تو iiکر!


***


یہ پیران کلیسا و حرم ، اے وائے iiمجبوری!
صلہ ان کی کد و کاوش کا ہے سینوں کی بے iiنوری

یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی iiہے
وہ درویشی ، کہ جس کے سامنے جھکتی ہے iiفغفوری

کبھی حیرت ، کبھی مستی ، کبھی آہ سحرگاہی
بدلتا ہے ہزاروں رنگ میرا درد iiمہجوری

حد ادراک سے باہر ہیں باتیں عشق و مستی iiکی
سمجھ میں اس قدر آیا کہ دل کی موت ہے ، iiدوری

وہ اپنے حسن کی مستی سے ہیں مجبور پیدائی
مری آنکھوں کی بینائی میں ہیں اسباب iiمستوری

کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں iiورنہ
نہ تھے ترکان عثمانی سے کم ترکان iiتیموری

فقیران حرم کے ہاتھ اقبال آگیا کیونکر
میسر میرو سلطاں کو نہیں شاہین iiکافوری


***


تازہ پھر دانش حاضر نے کیا سحر iiقدیم
گزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوب کلیم

عقل عیار ہے ، سو بھیس بنا لیتی iiہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ iiحکیم!

عیش منزل ہے غریبان محبت پہ iiحرام
سب مسافر ہیں ، بظاہر نظر آتے ہیں iiمقیم

ہے گراں سیر غم راحلہ و زاد سے iiتو
کوہ و دریا سے گزر سکتے ہیں مانند iiنسیم

مرد درویش کا سرمایہ ہے آزادی و مرگ
ہے کسی اور کی خاطر یہ نصاب زر و iiسیم


***

فرانس.میں.لکھےگئے
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا iiدوام
وائے تمنائے خام ، وائے تمنائے خام!

پیر حرم نے کہا سن کے مری iiروئداد
پختہ ہے تیری فغاں ، اب نہ اسے دل میں iiتھام

تھا ارنی گو کلیم ، میں ارنی گو iiنہیں
اس کو تقاضا روا ، مجھ پہ تقاضا iiحرام

گرچہ ہے افشائے راز ، اہل نظر کی iiفغاں
ہو نہیں سکتا کبھی شیوہ رندانہ iiعام

حلقہ صوفی میں ذکر ، بے نم و بے سوز و ساز
میں بھی رہا تشنہ کام ، تو بھی رہا تشنہ iiکام

عشق تری انتہا ، عشق مری iiانتہا
تو بھی ابھی ناتمام ، میں بھی ابھی ناتمام

آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا iiراز
ورنہ ہے مال فقیر سلطنت روم و iiشام


***

خودی ہو علم سے محکم تو غیرت iiجبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صور iiاسرافیل

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں iiمیں
کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثل iiخلیل

فریب خوردہ منزل ہے کارواں ورنہ
زیادہ راحت منزل سے ہے نشاط iiرحیل

نظر نہیں تو مرے حلقہ سخن میں نہ iiبیٹھ
کہ نکتہ ہائے خودی ہیں مثال تیغ iiاصیل

مجھے وہ درس فرنگ آج یاد آتے iiہیں
کہاں حضور کی لذت ، کہاں حجاب iiدلیل!

اندھیری شب ہے ، جدا اپنے قافلے سے ہے iiتو
ترے لیے ہے مرا شعلہ نوا ، iiقندیل

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان iiحرم
نہایت اس کی حسین ، ابتدا ہے iiاسمعیل


***

مکتبوں میں کہیں رعنائی افکار بھی iiہے؟
خانقاہوں میں کہیں لذت اسرار بھی iiہے؟

منزل راہرواں دور بھی ، دشوار بھی iiہے
کوئی اس قافلے میں قافلہ سالار بھی iiہے؟

بڑھ کے خیبر سے ہے یہ معرکۂ دین و iiوطن
اس زمانے میں کوئی حیدر کرار بھی iiہے؟

علم کی حد سے پرے ، بندۂ مومن کے لیے
لذت شوق بھی ہے ، نعمت دیدار بھی ہے

پیر میخانہ یہ کہتا ہے کہ ایوان فرنگ
سست بنیاد بھی ہے ، آئنہ دیوار بھی iiہے!


***

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں iiہے
عکس اس کا مرے آئینۂ ادراک میں iiہے

نہ ستارے میں ہے ، نے گردش افلاک میں ہے
تیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے

یا مری آہ میں کوئی شرر زندہ نہیں
یا ذرا نم ابھی تیرے خس و خاشاک میں iiہے

کیا عجب میری نوا ہائے سحر گاہی iiسے
زندہ ہو جائے وہ آتش کہ تری خاک میں iiہے

توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و iiروز
گرچہ الجھی ہوئی تقدیر کے پیچاک میں iiہے


***


رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوز iiمشتاقی
فسانہ ہائے کرامات رہ گئے iiباقی

خراب کوشک سلطان و خانقاہ iiفقیر
فغاں کہ تخت و مصلیٰ کمال iiزراقی

کرے گی داور محشر کو شرمسار اک iiروز
کتاب صوفی و ملا کی سادہ iiاوراقی

نہ چینی و عربی وہ ، نہ رومی و iiشامی
سما سکا نہ دو عالم میں مرد آفاقی

مۓ شبانہ کی مستی تو ہو چکی ، iiلیکن
کھٹک رہا ہے دلوں میں کرشمۂ iiساقی

چمن میں تلخ نوائی مری گوارا iiکر
کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کار iiتریاقی

عزیز تر ہے متاع امیر و سلطاں iiسے
وہ شعر جس میں ہو بجلی کا سوز و iiبراقی


***

ہوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں iiچاک
اگرچہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا iiچالاک

م ے یقیں سے ضمیر حیات ہے iiپرسوز
نصیب مدرسہ یا رب یہ آب آتش iiناک

عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں iiتمام
یہ کہکشاں ، یہ ستارے ، یہ نیلگوں iiافلاک

یہی زمانۂ حاضر کی کائنات ہے iiکیا
دماغ روشن و دل تیرہ و نگہ بے iiباک

تو بے بصر ہو تو یہ مانع نگاہ بھی ہے
وگرنہ آگ ہے مومن ، جہاں خس و iiخاشاک

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعل iiراہ
کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحب ادراک

جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
میرے کلام پہ حجت ہے نکتۂ iiلولاک


***


یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک iiدانہ
یک رنگی و آزادی اے ہمت iiمردانہ!

یا سنجر و طغرل کا آئین جہاں iiگیری
یا مرد قلندر کے انداز ملوکانہ!

یا حیرت فارابی یا تاب و تب iiرومی
یا فکر حکیمانہ یا جذب iiکلیمانہ!

یا عقل کی روباہی یا عشق ید iiاللہی
یا حیلۂ افرنگی یا حملۂ iiترکانہ!

یا شرع مسلمانی یا دیر کی دربانی
یا نعرۂ مستانہ ، کعبہ ہو کہ بت خانہ!

میری میں فقیری میں ، شاہی میں غلامی iiمیں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرأت iiرندانہ


***


نہ تخت و تاج میں ، نے لشکر و سپاہ میں iiہے
جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں iiہے

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں iiہے

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے iiپیدا
یہ سنگ و خشت نہیں ، جو تری نگاہ میں iiہے

مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس iiکا
وہ مشت خاک ابھی آوارگان راہ میں iiہے

خبر ملی ہے خدایان بحر و بر سے iiمجھے
فرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں iiہے

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب iiاپنا
جہان تازہ مری آہ صبح گاہ میں iiہے

مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ iiناب
نہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے


***

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ iiچالاک
رکھتی ہے مگر طاقت پرواز مری iiخاک

وہ خاک کہ ہے جس کا جنوں صیقل iiادراک
وہ خاک کہ جبریل کی ہے جس سے قبا iiچاک

وہ خاک کہ پروائے نشیمن نہیں iiرکھتی
چنتی نہیں پہنائے چمن سے خس و iiخاشاک

اس خاک کو اللہ نے بخشے ہیں وہ iiآنسو
کرتی ہے چمک جن کی ستاروں کو عرق iiناک


***


کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و iiبغداد

یہ مدرسہ ، یہ جواں ، یہ سرور و iiرعنائی
انھی کے دم سے ہے میخانۂ فرنگ iiآباد

نہ فلسفی سے ، نہ ملا سے ہے غرض مجھ iiکو
یہ دل کی موت ، وہ اندیشۂ نظر کا iiفساد

فقیہ شہر کی تحقیر! کیا مجال iiمری
مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی iiکشاد

خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت iiپرویز
خدا کی دین ہے سرمایۂ غم iiفرہاد

کیے ہیں فاش رموز قلندری میں نے
کہ فکر مدرسہ و خانقاہ ہو iiآزاد

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا iiطلسم
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے iiبنیاد


***

کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی iiغمازی
گستاخ ہے ، کرتا ہے فطرت کی حنا iiبندی

خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں iiافلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے ، کاشی نہ سمرقندی

سکھلائ فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس iiنے
آدم کو سکھاتا ہے آداب iiخداوندی!


***

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا iiقافلہ
وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر iiراحلہ!

تیری طبیعت ہے اور ، تیرا زمانہ ہے iiاور
تیرے موافق نہیں خانقہی iiسلسلہ

دل ہو غلام خرد یا کہ امام iiخرد
سالک رہ ، ہوشیار! سخت ہے یہ iiمرحلہ

اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر
گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر iiگلہ

تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز iiتر
مرغ چمن! ہے یہی تیری نوا کا iiصلہ


***

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و iiعامی
دیا ہے میں نے انھیں ذوق آتش iiآشامی

حرم کے پاس کوئی اعجمی ہے زمزمہ iiسنج
کہ تار تار ہوئے جامہ ہائے iiاحرامی

حقیقت ابدی ہے مقام iiشبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

مجھے یہ ڈر ہے مقامر ہیں پختہ کار iiبہت
نہ رنگ لائے کہیں تیرے ہاتھ کی iiخامی

عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطا کر iiدیں
شکوہ سنجر و فقر جنید و iiبسطامی

قبائے علم و ہنر لطف خاص ہے ، iiورنہ
تری نگاہ میں تھی میری ناخوش iiاندامی!


***


ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ iiنو
کمال کس کو میسر ہuوا ہے بے تگ و دو

نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو iiکیا
جسے نصیب نہیں آفتاب کا iiپرتو

نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل iiبھی
کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا iiپیرو

پنپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل iiسوز
کہ ساز گار نہیں یہ جہان گندم و iiجو

رہے نہ ایبک و غوری کے معرکے iiباقی
ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ iiخسرو


***

کھو نہ جا اس سحروشام میں اے صاحب iiہوش!
اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ iiدوش

کس کو معلوم ہے ہنگامۂ فردا کا iiمقام
مسجد و مکتب و میخانہ ہیں مدت سے iiخموش

میں نے پایا ہے اسے اشک سحر گاہی iiمیں
جس در ناب سے خالی ہے صدف کی iiآغوش

نئی تہذیب تکلف کے سوا کچھ بھی نہیں
چہرہ روشن ہو تو کیا حاجت گلگونہ iiفروش!

صاحب ساز کو لازم ہے کہ غافل نہ iiرہے
گاہے گاہے غلط آہنگ بھی ہوتا ہے iiسروش


***

تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی
آج ان خانقہوں میں ہے فقط iiروباہی

نظر آئی نہ مجھے قافلہ سالاروں iiمیں
وہ شبانی کہ ہے تمہید کلیم iiاللہی

لذت نغمہ کہاں مرغ خوش الحاں کے iiلیے
آہ ، اس باغ میں کرتا ہے نفس iiکوتاہی

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی

صفت برق چمکتا ہے مرا فکر iiبلند
کہ بھٹکتے نہ پھریں ظلمت شب میں iiراہی


***

ہے یاد مجھے نکتۂ سلمان خوش iiآہنگ
دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ

چیتے کا جگر چاہیے ، شاہیں کا iiتجسس
جی سکتے ہیں بے روشنی دانش و iiفرہنگ

کر بلبل و طاؤس کی تقلید سے iiتوبہ
بلبل فقط آواز ہے ، طاؤس فقط iiرنگ!



سلمان: مسعود سور سلیمان ii-
غزنوی دور کا نامور ایرانی شاعر جو iiغالبا
ً لاہور میں پیدا ہوا ii

***


فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و iiسپاہ
فقر ہے میروں کا میر ، فقر ہے شاہوں کا iiشاہ

علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفت قلب و iiنگاہ

علم فقیہ و حکیم ، فقر مسیح و کلیم
علم ہے جویائے راہ ، فقر ہے دانائے iiراہ

فقر مقام نظر ، علم مقام خبر
فقر میں مستی ثواب ، علم میں مستی iiگناہ

علم کا "موجود" اور ، فقر کا "موجود" اور
اشھد ان لا الہ" اشھد ان لا iiالہ!

چڑھتی ہے جب فقر کی سان پہ تیغ iiخودی
ایک سپاہی کی ضرب کرتی ہے کار iiسپاہ

دل اگر اس خاک میں زندہ و بیدار iiہو
تیری نگہ توڑ دے آئنۂ مہر و ماہ


***

کمال جوش جنوں میں رہا میں گرم iiطواف
خدا کا شکر ، سلامت رہا حرم کا غلاف

یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے iiلیے
کہ یک زباں ہیں فقیہان شہر میرے iiخلاف

تڑپ رہا ہے فلاطوں میان غیب و iiحضور
ازل سے اہل خرد کا مقام ہے iiاعراف

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول iiکتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب iiکشاف

سرور و سوز میں ناپائدار ہے ، iiورنہ
مۓ فرنگ کا تہ جرعہ بھی نہیں iiناصاف


***

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے iiعجیب
مقام شوق میں ہیں سب دل و نظر کے iiرقیب

میں جانتا ہوں جماعت کا حشر کیا ہو گا
مسائل نظری میں الجھ گیا ہے iiخطیب

اگرچہ میرے نشیمن کا کر رہا ہے طواف
مری نوا میں نہیں طائر چمن کا iiنصیب

سنا ہے میں نے سخن رس ہے ترک iiعثمانی
سنائے کون اسے اقبال کا یہ شعر غریب

سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار iiاپنا
ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ iiقریب!


***

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں iiہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری iiبات

یا وسعت افلاک میں تکبیر iiمسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و iiمناجات

وہ مذہب مردان خود آگاہ و خدا iiمست
یہ مذہب ملا و جمادات و iiنباتات
۳
قطعات با ل جبر یل قطعات علاّمہ اقبال رہ و رسم حرم نا محرمانہ
کلیسا کی ادا iiسوداگرانہ

تبرک ہے مرا پیراہن iiچاک
نہیں اہل جنوں کا یہ iiزمانہ


***


ظلام بحر میں کھو کر سنبھل iiجا
تڑپ جا ، پیچ کھا کھا کر بدل جا

نہیں ساحل تری قسمت میں اے iiموج
ابھر کر جس طرف چاہے نکل iiجا!


***


مکانی ہوں کہ آزاد مکاں iiہوں
جہاں بیں ہوں کہ خود سارا جہاں iiہوں

وہ اپنی لامکانی میں رہیں iiمست
مجھے اتنا بتا دیں میں کہاں ہوں!


***


خودی کی خلوتوں میں گم رہا iiمیں
خدا کے سامنے گویا نہ تھا iiمیں

نہ دیکھا آنکھ اٹھا کر جلوۂ iiدوست
قیامت میں تماشا بن گیا iiمیں!


***


پریشاں کاروبار iiآشنائی
پریشاں تر مری رنگیں iiنوائی!

کبھی میں ڈھونڈتا ہوں لذت iiوصل
خوش آتا ہے کبھی سوز iiجدائی!


***


یقیں ، مثل خلیل آتش iiنشینی
یقیں ، اللہ مستی ، خود iiگزینی

سن ، اے تہذیب حاضر کے iiگرفتار
غلامی سے بتر ہے بے iiیقینی


***


عرب کے سوز میں ساز عجم iiہے
حرم کا راز توحید امم iiہے

تہی وحدت سے ہے اندیشۂ غرب
کہ تہذیب فرنگی بے حرم ہے


***


کوئی دیکھے تو میری نے iiنوازی
نفس ہندی ، مقام نغمہ iiتازی

نگہ آلودۂ انداز iiافرنگ
طبیعت غزنوی ، قسمت iiایازی!


***


ہر اک ذرے میں ہے شاید مکیں iiدل
اسی جلوت میں ہے خلوت نشیں دل

اسیر دوش و فردا ہے و iiلیکن
غلام گردش دوراں نہیں iiدل


***


ترا اندیشہ افلاکی نہیں iiہے
تری پرواز لولاکی نہیں iiہے

یہ مانا اصل شاہینی ہے iiتیری
تری آنکھوں میں بے باکی نہیں ہے


***


نہ مومن ہے نہ مومن کی iiامیری
رہا صوفی ، گئی روشن iiضمیری

خدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ
نہیں ممکن امیری بے iiفقیری


***


خودی کی جلوتوں میں مصطفائی
خودی کی خلوتوں میں iiکبریائی

زمین و آسمان و کرسی و iiعرش
خودی کی زد میں ہے ساری iiخدائی!


***


نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو iiمیں
خرد کھوئی گئی ہے چار سو iiمیں

نہ چھوڑ اے دل فغان صبح گاہی
اماں شاید ملے ، اللہ ھو iiمیں!


***


جمال عشق و مستی نے iiنوازی
جلال عشق و مستی بے iiنیازی

کمال عشق و مستی ظرف حیدر
زوال عشق و مستی حرف iiرازی


***


وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
مری بجلی ، مرا حاصل کہاں iiہے

مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں iiمیں
خدا جانے مقام دل کہاں ہے!


***


سوار ناقہ و محمل نہیں iiمیں
نشان جادہ ہوں ، منزل نہیں iiمیں

مری تقدیر ہے خاشاک سوزی
فقط بجلی ہوں میں ، حاصل نہیں میں


***


ترے سینے میں دم ہے ، دل نہیں iiہے
ترا دم گرمی محفل نہیں iiہے

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ iiنور
چراغ راہ ہے ، منزل نہیں iiہے


***


ترا جوہر ہے نوری ، پاک ہے iiتو
فروغ دیدۂ افلاک ہے iiتو

ترے صید زبوں افرشتہ و iiحور
کہ شاہین شہ لولاک ہے iiتو!


***


محبت کا جنوں باقی نہیں iiہے
مسلمانوں میں خوں باقی نہیں iiہے

صفیں کج ، دل پریشاں ، سجدہ بے ذوق
کہ جذب اندروں باقی نہیں iiہے


***


خودی کے زور سے دنیا پہ چھا iiجا
مقام رنگ و بو کا راز پا iiجا

برنگ بحر ساحل آشنا iiرہ
کف ساحل سے دامن کھینچتا جا


***


چمن میں رخت گل شبنم سے تر iiہے
من ہے ، سبزہ ہے ، باد سحر iiہے

مگر ہنگامہ ہو سکتا نہیں iiگرم
یہاں کا لالہ بے سوز جگر iiہے


***


خرد سے راہرو روشن بصر iiہے
خرد کیا ہے ، چراغ رہ گزر iiہے

درون خانہ ہنگامے ہیں کیا iiکیا
چراغ رہ گزر کو کیا خبر iiہے!


***


جوانوں کو مری آہ سحر iiدے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر iiدے

خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نور بصیرت عام کر iiدے


***


تری دنیا جہان مرغ و iiماہی
مری دنیا فغان صبح iiگاہی

تری دنیا میں میں محکوم و iiمجبور
مری دنیا میں تیری iiپادشاہی!


***


کرم تیرا کہ بے جوہر نہیں iiمیں
غلام طغرل و سنجر نہیں iiمیں

جہاں بینی مری فطرت ہے iiلیکن
کسی جمشید کا ساغر نہیں iiمیں


***


وہی اصل مکان و لامکاں iiہے
مکاں کیا شے ہے ، انداز بیاں ہے

خضر کیونکر بتائے ، کیا iiبتائے
اگر ماہی کہے دریا کہاں iiہے


***


کبھی آوارہ و بے خانماں iiعشق
کبھی شاہِ شہاں نوشیرواں iiعشق

کبھی میداں میں آتا ہے زرہ iiپوش
کبھی عریان و بے تیغ و سناں iiعشق!


***


کبھی تنہائی کوہ و دمن iiعشق
کبھی سوز و سرور و انجمن iiعشق

کبھی سرمایۂ محراب و منبر
کبھی مولا علی خیبر شکن iiعشق!


***


عطا اسلاف کا جذب دروں کر
شریک زمرۂ لا یحزنوں ، iiکر

خرد کی گتھیاں سلجھا چکا iiمیں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں iiکر!


***


یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن iiسے
کہ جاں مرتی نہیں مرگ بدن iiسے

چمک سورج میں کیا باقی رہے iiگی
اگر بیزار ہو اپنی کرن iiسے!


***


خرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے

خدا جانے مجھے کیا ہو گیا iiہے
خرد بیزار دل سے ، دل خرد iiسے!


***


خدائی اہتمام خشک و تر iiہے
خداوندا! خدائی درد سر ہے

و لیکن بندگی ، iiاستغفراللہ!
یہ درد سر نہیں ، درد جگر iiہے


***


یہی آدم ہے سلطاں بحر و بر iiکا
کہوں کیا ماجرا اس بے بصر iiکا

نہ خود بیں ، نے خدا بیں نے جہاں iiبیں
یہی شہکار ہے تیرے ہنر iiکا!


***


دم عارف نسیم صبح دم iiہے
اسی سے ریشۂ معنی میں نم iiہے

اگر کوئی شعیب آئے iiمیسر
شبانی سے کلیمی دو قدم ہے


***


رگوں میں وہ لہو باقی نہیں iiہے
وہ دل ، وہ آرزو باقی نہیں iiہے

نماز و روزہ و قربانی و iiحج
یہ سب باقی ہیں ، تو باقی نہیں iiہے


***


کھلے جاتے ہیں اسرار iiنہانی
گیا دور حدیث "لن ترانی"

ہوئی جس کی خودی پہلے iiنمودار
وہی مہدی ، وہی آخر زمانی!


***


زمانے کی یہ گردش iiجاودانہ
حقیقت ایک تو ، باقی iiفسانہ

کسی نے دوش دیکھا ہے نہ iiفردا
فقط امروز ہے تیرا iiزمانہ


***


حکیمی ، نامسلمانی خودی کی
کلیمی ، رمز پنہانی خودی کی

تجھے گر فقر و شاہی کا بتا iiدوں
غریبی میں نگہبانی خودی iiکی!


***


ترا تن روح سے ناآشنا iiہے
عجب کیا ! آہ تیری نارسا iiہے

تن بے روح سے بیزار ہے iiحق
خدائے زندہ ، زندوں کا خدا ہے


***


اقبال نے کل اہل خیاباں کو سنایا
یہ شعر نشاط آور و پر سوز طرب iiناک

میں صورت گل دست صبا کا نہیں محتاج
کرتا ہے مرا جوش جنوں میری قبا iiچاک
۴
دعا با ل جبر یل منظوما ت دعا علاّمہ اقبال (مسجدقرطبہ.میں.لکھی.گئی)

ہے یہی میری نماز ، ہے یہی میرا iiوضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو

صحبت اہل صفا ، نور و حضور و iiسرور
سر خوش و پرسوز ہے لالہ لب iiآبجو

راہ محبت میں ہے کون کسی کا iiرفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو

میرا نشیمن نہیں درگہ میر و iiوزیر
میرا نشیمن بھی تو ، شاخ نشیمن بھی iiتو

تجھ سے گریباں مرا مطلع صبح iiنشور
تجھ سے مرے سینے میں آتش "اللہ iiھو"

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ
تو ہی مری آرزو ، تو ہی مری iiجستجو

پاس اگر تو نہیں ، شہر ہے ویراں iiتمام
تو ہے تو آباد ہیں اجڑے ہوئے کاخ و iiکو

پھر وہ شراب کہن مجھ کو عطا کہ میں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو

چشم کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سبو ، خلوتیوں کے کدو

تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں ، میرے لیے چار iiسو!

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرف تمنا ، جسے کہہ نہ سکیں رو iiبرو
۵
مسجد قرطبہ با ل جبر یل مسجد قرطبہ علاّمہ اقبال (ہسپانیہ.کی.سرزمین.بالخصوص.قرطبہ.میں.لکھی.گئی)

سلسلۂ روز و شب ، نقش گر iiحادثات
سلسلۂ روز و شب ، اصل حیات و iiممات

سلسلۂ روز و شب ، تار حریر دو iiرنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

سلسلۂ روز و شب ، ساز ازل کی iiفغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم iiممکنات

تجھ کو پرکھتا ہے یہ ، مجھ کو پرکھتا ہے iiیہ
سلسلۂ روز و شب ، صیرفی iiکائنات

تو ہو اگر کم عیار ، میں ہوں اگر کم iiعیار
موت ہے تیری برات ، موت ہے میری iiبرات

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے iiکیا
ایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ iiرات

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے iiہنر
کار جہاں بے ثبات ، کار جہاں بے ثبات!

اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر iiفنا
نقش کہن ہو کہ نو ، منزل آخر فنا

ہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوام
جس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے iiتمام

مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب iiفروغ
عشق ہے اصل حیات ، موت ہے اس پر iiحرام

تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی iiرو
عشق خود اک سیل ہے ، سیل کو لیتا ہے iiتھام

عشق کی تقویم میں عصر رواں کے iiسوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی iiنام

عشق دم جبرئیل ، عشق دل iiمصطفی
عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا iiکلام

عشق کی مستی سے ہے پیکر گل iiتابناک
عشق ہے صہبائے خام ، عشق ہے کاس الکرام

عشق فقیہ حرم ، عشق امیر iiجنود
عشق ہے ابن السبیل ، اس کے ہزاروں مقام

عشق کے مضراب سے نغمۂ تار iiحیات
عشق سے نور حیات ، عشق سے نار iiحیات

اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام ، جس میں نہیں رفت و iiبود

رنگ ہو یا خشت و سنگ ، چنگ ہو یا حرف و iiصوت
معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے iiنمود

قطرۂ خون جگر ، سل کو بناتا ہے iiدل
خون جگر سے صدا سوز و سرور و iiسرود

تیری فضا دل فروز ، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دلوں کا حضور ، مجھ سے دلوں کی iiکشود

عرش معلّیٰ سے کم سینۂ آدم iiنہیں
گرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر iiکبود

پیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو iiکیا
اس کو میسر نہیں سوز و گداز iiسجود

کافر ہندی ہوں میں ، دیکھ مرا ذوق و iiشوق
دل میں صلوۃ و درود ، لب پہ صلوۃ و iiدرود

شوق مری لے میں ہے ، شوق مری نے میں ہے
نغمۂ "اللہ ھو" میرے رگ و پے میں iiہے

تیرا جلال و جمال ، مرد خدا کی iiدلیل
وہ بھی جلیل و جمیل ، تو بھی جلیل و iiجمیل

تیری بنا پائدار ، تیرے ستوں بے iiشمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم iiنخیل

تیرے در و بام پر وادی ایمن کا iiنور
تیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیل

مٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ iiہے
اس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیل

اس کی زمیں بے حدود ، اس کا افق بے iiثغور
اس کے سمندر کی موج ، دجلہ و دنیوب و iiنیل

اس کے زمانے عجیب ، اس کے فسانے iiغریب
عہد کہن کو دیا اس نے پیام iiرحیل

ساقئ ارباب ذوق ، فارس میدان iiشوق
بادہ ہے اس کا رحیق ، تیغ ہے اس کی iiاصیل

مرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ "لا iiالہ"
سایۂ شمشیر میں اس کا پنہ "لا iiالہ"

تجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا iiراز
اس کے دنوں کی تپش ، اس کی شبوں کا iiگداز

اس کا مقام بلند ، اس کا خیال iiعظیم
اس کا سرور اس کا شوق ، اس کا نیاز اس کا iiناز

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں ، کار کشا ، iiکارساز

خاکی و نوری نہاد ، بندۂ مولا iiصفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے iiنیاز

اس کی امیدیں قلیل ، اس کے مقاصد iiجلیل
اس کی ادا دل فریب ، اس کی نگہ دل iiنواز

نرم دم گفتگو ، گرم دم iiجستجو
رزم ہو یا بزم ہو ، پاک دل و پاک iiباز

نقطۂ پرکار حق ، مرد خدا کا iiیقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و iiمجاز

عقل کی منزل ہے وہ ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقۂ آفاق میں گرمی محفل ہے iiوہ

کعبۂ ارباب فن! سطوت دین iiمبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں

ہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری iiنظیر
قلب مسلماں میں ہے ، اور نہیں ہے کہیں

آہ وہ مردان حق! وہ عربی iiشہسوار
حامل " خلق عظیم" ، صاحب صدق و iiیقیں

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز iiغریب
سلطنت اہل دل فقر ہے ، شاہی iiنہیں

جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و iiغرب
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں

جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں iiاندلسی
خوش دل و گرم اختلاط ، سادہ و روشن iiجبیں

آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم iiغزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں

بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے

دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں ، iiآسماں
آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں

کون سی وادی میں ہے ، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت iiجاں!

دیکھ چکا المنی ، شورش اصلاح iiدیں
جس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے iiنشاں

حرف غلط بن گئی عصمت پیر iiکنشت
اور ہوئی فکر کی کشتی نازک iiرواں

چشم فرانسیس بھی دیکھ چکی iiانقلاب
جس سے دگرگوں ہوا مغربیوں کا iiجہاں

ملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
لذت تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر iiجواں

روح مسلماں میں ہے آج وہی iiاضطراب
راز خدائی ہے یہ ، کہہ نہیں سکتی iiزباں

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے iiکیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے iiکیا!

وادی کہسار میں غرق شفق ہے iiسحاب
لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا iiآفتاب

سادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا iiگیت
کشتی دل کے لیے سیل ہے عہد iiشباب

آب روان کبیر! تیرے کنارے iiکوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا iiخواب

عالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر iiمیں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے iiحجاب

پردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار iiسے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی iiتاب

جس میں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگی
روح امم کی حیات کشمکش iiانقلاب

صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ iiقوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا iiحساب

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے iiبغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے iiبغیر
-------
وادا لکبیر، قرطبہ کا مشہور دریا جس کے قریب ہی مسجد قرطبہ واقع ہے -
۶
مسجد قرطبہقید خانے میں معتمد کی فریاد با ل جبر یل معتمد اشبیلیہ کا بادشاہ اور عربی شاعر تھا
-ہسپانیہ کے ایک حکمران نے اس کو شکست دے کر قید میں ڈال دیا تھا
- معتمد کی نظمیں انگریزی میں ترجمہ ہو کر "" وزڈم آف دی ایسٹ سیریز"" میں شائع ہو چکی ہیں
قید خانے میں معتمد کی فریاد علاّمہ اقبال اک فغان بے شرر سینے میں باقی رہ iiگئی
سوز بھی رخصت ہوا ، جاتی رہی تاثیر iiبھی

مرد حر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر iiآج
میں پشیماں ہوں ، پشیماں ہے مری تدبیر بھی

خود بخود زنجیر کی جانب کھنچا جاتا ہے دل
تھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھی

جو مری تیغ دو دم تھی ، اب مری زنجیر ہے
شوخ و بے پروا ہے کتنا خالق تقدیر iiبھی!
۷
عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس میں با ل جبر یل یہ اشعار جو عبد الرحمن اول کی تصنیف سے ہیں
، "تاریخ المقری" میں درج ہیں مندرجہ ذیل اردو نظم ان کا آزاد ترجمہ ہے ( درخت مذکور مدینۃ الزہرا میں بویا گیا تھا)
عبد الرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمین اندلس میں علاّمہ اقبال میری آنکھوں کا نور ہے iiتو
میرے دل کا سرور ہے iiتو
اپنی وادی سے دور ہوں iiمیں
میرے لیے نخل طور ہے iiتو
مغرب کی ہوا نے تجھ کو iiپالا
صحرائے عرب کی حور ہے تو
پردیس میں ناصبور ہوں میں
پردیس میں ناصبور ہے iiتو
غربت کی ہوا میں بارور iiہو
ساقی تیرا نم سحر iiہو
عالم کا عجیب ہے iiنظارہ
دامان نگہ ہے پارہ iiپارہ
ہمت کو شناوری مبارک!
پیدا نہیں بحر کا iiکنارہ
ہے سوز دروں سے iiزندگانی
اٹھتا نہیں خاک سے iiشرارہ
صبح غربت میں اور iiچمکا
ٹوٹا ہوا شام کا iiستارہ
مومن کے جہاں کی حد نہیں iiہے
مومن کا مقام ہر کہیں iiہے
۸
ہسپانیہ با ل جبر یل ہسپانیہ علاّمہ اقبال (ہسپانیہ.کی.سرزمین.لکھےگئے)
(واپس.آتےہوئے)


ہسپانیہ تو خون مسلماں کا امیں iiہے
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر iiمیں

پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں iiہیں
خاموش اذانیں ہیں تری باد سحر iiمیں

روشن تھیں ستاروں کی طرح ان کی iiسنانیں
خیمے تھے کبھی جن کے ترے کوہ و کمر میں

پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حنا کی؟
باقی ہے ابھی رنگ مرے خون جگر iiمیں!

کیونکر خس و خاشاک سے دب جائے iiمسلماں
مانا ، وہ تب و تاب نہیں اس کے شرر iiمیں

غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے و iiلیکن
تسکین مسافر نہ سفر میں نہ حضر iiمیں

دیکھا بھی دکھایا بھی ، سنایا بھی سنا iiبھی
ہے دل کی تسلی نہ نظر میں ، نہ خبر میں!
۹
طارق کی دعا با ل جبر یل طارق کی دعا (اندلس.کےمیدان.جنگ.میں)

یہ غازی ، یہ تیرے پر اسرار iiبندے
جنھیں تو نے بخشا ہے ذوق iiخدائی

دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے iiرائی

دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل iiکو
عجب چیز ہے لذت iiآشنائی

شہادت ہے مطلوب و مقصود iiمومن
نہ مال غنیمت نہ کشور iiکشائی

خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خون عرب سے

کیا تو نے صحرا نشینوں کو iiیکتا
خبر میں ، نظر میں ، اذان سحر iiمیں

طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر iiمیں

کشاد در دل سمجھتے ہیں اس iiکو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر iiمیں

دل مرد مومن میں پھر زندہ کر iiدے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ لا تذر ، میں

عزائم کو سینوں میں بیدار کر iiدے
نگاہ مسلماں کو تلوار کر iiدے
۱۰
لینن با ل جبر یل لینن (خداکےحضورمیں)

اے انفس و آفاق میں پیدا ترے iiآیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تری iiذات

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں iiہے
ہر دم متغیر تھے خرد کے نظریات

محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی iiسے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے iiنباتات

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہوا iiثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے iiخرافات

ہم بند شب و روز میں جکڑے ہوئے iiبندے
تو خالق اعصار و نگارندۂ iiآنات!

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

جب تک میں جیا خیمۂ افلاک کے iiنیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ iiبات

گفتار کے اسلوب پہ قابو نہیں iiرہتا
جب روح کے اندر متلاطم ہوں iiخیالات

وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے iiمعبود
وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر iiسماوات؟

مشرق کے خداوند سفیدان iiفرنگی
مغرب کے خداوند درخشندۂ iiفلزات

یورپ میں بہت روشنی علم و ہنر iiہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ iiظلمات

رعنائی تعمیر میں ، رونق میں ، صفا iiمیں
گرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے ، حقیقت میں جوا iiہے
سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ iiمفاجات

یہ علم ، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
پیتے ہیں لہو ، دیتے ہیں تعلیم iiمساوات

بے کاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے iiفتوحات

وہ قوم کہ فیضان سماوی سے ہو iiمحروم
حد اس کے کمالات کی ہے برق و iiبخارات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی iiحکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں iiآلات

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ iiآخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا iiمات

میخانے کی بنیاد میں آیا ہے تزلزل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پیران iiخرابات

چہروں پہ جو سرخی نظر آتی ہے سر iiشام
یا غازہ ہے یا ساغر و مینا کی کرامات

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں iiمیں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا iiسفینہ؟
دنیا ہے تری منتظر روز iiمکافات
۱۱
فرشتوں کا گیت با ل جبر یل فرشتوں کا گیت عقل ہے بے زمام ابھی ، عشق ہے بے مقام ابھی
نقش گر ، ازل! ترا نقش ہے نا تمام ابھی

خلق خدا کی گھات میں رند و فقیہ و میر و iiپیر
تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی

تیرے امیر مال مست ، تیرے فقیر حال iiمست
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی ، خواجہ بلند بام ابھی

دانش و دین و علم و فن بندگی ہوس iiتمام
عشق گرہ کشاۓ کا فیض نہیں ہے عام iiابھی

جوہر زندگی ہے عشق ، جوہر عشق ہے iiخودی
آہ کہ ہے یہ تیغ تیز پردگی نیام ابھی!
۱۲
فرمان خدا با ل جبر یل فرمان خدا (فرشتوںسے)
اٹھو ! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا iiدو=

گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں iiسے
کنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

سلطانی جمہور کا آتا ہے iiزمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے ، مٹا iiدو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں iiروزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا iiدو

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں iiپردے
پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا iiدو

حق را بسجودے ، صنماں را iiبطوافے
بہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا iiدو

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا iiدو

تہذیب نوی کار گہ شیشہ گراں iiہے
آداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا iiدو
۱۳
ذوق و شوق با ل جبر یل ذوق و شوق (ان.اشعارمیںسےاکثرفلسطین.میںلکھےگئے)

دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاں
تہی دست رفتن سوئے iiدوستاں


قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا iiسماں
چشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں iiرواں

حسن ازل کی ہے نمود ، چاک ہے پردۂ iiوجود
دل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا iiزیاں

سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب iiشب
کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں

گرد سے پاک ہے ہوا ، برگ نخیل دھل iiگئے
ریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاں

آگ بجھی ہوئی ادھر ، ٹوٹی ہوئی طناب iiادھر
کیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواں

آئی صدائے جبرئیل ، تیرا مقام ہے iiیہی
اہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہی

کس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مۓ حیات
کہنہ ہے بزم کائنات ، تازہ ہیں میرے iiواردات

کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے iiسومنات

ذکر عرب کے سوز میں ، فکر عجم کے ساز iiمیں
نے عربی مشاہدات ، نے عجمی iiتخیلات

قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و iiفرات

عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشق
عشق نہ ہو تو شرع و دیں بت کدۂ iiتصورات

صدق خلیل بھی ہے عشق ، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے iiعشق

آیۂ کائنات کا معنی دیر یاب iiتو
نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ iiذوق
خلوتیان مے کدہ کم طلب و تہی iiکدو

میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا iiسراغ
میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی iiجستجو

باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و iiخس
میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے iiآرزو

خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورش
ہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو

فرصت کشمکش مدہ ایں دل بے قرار iiرا
یک دو شکن زیادہ کن گیسوے تابدار iiرا

لوح بھی تو ، قلم بھی تو ، تیرا وجود iiالکتاب
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں iiحباب

عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع iiآفتاب

شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی iiنمود
فقر جنید و با یزید تیرا جمال بے iiنقاب

شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا iiامام
میرا قیام بھی حجاب ، میرا سجود بھی iiحجاب

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا iiگئے
عقل غیاب و جستجو ، عشق حضور و iiاضطراب

تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب iiسے
طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے

تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و iiشب
مجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم نخیل بے رطب

تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن iiہوا
عشق تمام مصطفی ، عقل تمام iiبولہب

گاہ بحیلہ می برد ، گاہ بزور می iiکشد
عشق کی ابتدا عجب ، عشق کی انتہا iiعجب

عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے iiفراق
وصل میں مرگ آرزو ، ہجر میں لذت iiطلب

عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ iiتھا
گرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے iiادب

گرمی آرزو فراق ، شورش ہاۓ و ہو فراق
موج کی جستجو فراق ، قطرے کی آبرو فراق!
۱۴
پروانہ اور جگنو با ل جبر یل پروانہ اور جگنو پروانہ
پروانے کی منزل سے بہت دور ہے جگنو
کیوں آتش بے سوز پہ مغرور ہے iiجگنو


جگنو
اللہ کا سو شکر کہ پروانہ نہیں iiمیں
دریوزہ گر آتش بیگانہ نہیں iiمیں
۱۵
جاوید کے نام با ل جبر یل جاوید کے نام خودی کے ساز میں ہے عمر جاوداں کا iiسراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں امتوں کے چراغ

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحب iiمقصود
ہزار گونہ فروغ و ہزار گونہ iiفراغ!

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند iiپروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت iiزاغ

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے iiداغ

ٹھہر سکا نہ کسی خانقاہ میں iiاقبال
کہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگفتہ iiدماغ
۱۶
گدائی با ل جبر یل گدائی مے کدے میں ایک دن اک رند زیرک نے iiکہا
ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے iiحیا

تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے iiاسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زریں iiقبا

اس کے آب لالہ گوں کی خون دہقاں سے iiکشید
تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی iiکیمیا

اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے ، مرد غریب و بے iiنوا

مانگنے والا گدا ہے ، صدقہ مانگے یا iiخراج
کوئی مانے یا نہ مانے ، میرو سلطاں سب iiگدا!

(ماخوذازانوری)
۱۷
ملا اور بہشت با ل جبر یل ملا اور بہشت میں بھی حاضر تھا وہاں ، ضبط سخن کر نہ iiسکا
حق سے جب حضرت ملا کو ملا حکم iiبہشت

عرض کی میں نے ، الہی! مری تقصیر iiمعاف
خوش نہ آئیں گے اسے حور و شراب و لب کشت

نہیں فردوس مقام جدل و قال و اقول
بحث و تکرار اس اللہ کے بندے کی iiسرشت

ہے بد آموزی اقوام و ملل کام اس کا
اور جنت میں نہ مسجد ، نہ کلیسا ، نہ کنشت!
۱۸
دین وسیاست با ل جبر یل دین وسیاست کلیسا کی بنیاد رہبانیت iiتھی
سماتی کہاں اس فقیری میں iiمیری

خصومت تھی سلطانی و راہبی iiمیں
کہ وہ سربلندی ہے یہ iiسربزیری

سیاست نے مذہب سے پیچھا iiچھٹرایا
چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی iiپیری

ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری ، ہوس کی iiوزیری

دوئی ملک و دیں کے لیے نامرادی
دوئی چشم تہذیب کی نابصیری

یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دار iiنذیری!

اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جنیدی و iiاردشیری
۱۹
الارض للہ با ل جبر یل الارض للہ پالتا ہے بیج کو مٹی کو تاریکی میں کون
کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے iiسحاب؟

کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد iiسازگار
خاک یہ کس کی ہے ، کس کا ہے یہ نور iiآفتاب؟

کس نے بھر دی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب؟

دہ خدایا! یہ زمیں تیری نہیں ، تیری iiنہیں
تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری iiنہیں
۲۰