بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد جلد ۳

بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد0%

بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 208

بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد

مؤلف: علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال لاہوری
زمرہ جات:

صفحے: 208
مشاہدے: 5274
ڈاؤنلوڈ: 272


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 208 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5274 / ڈاؤنلوڈ: 272
سائز سائز سائز
بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد

بانگِ درا (حصہ سوم) 1908کے بعد جلد 3

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

بانگ درا

(حصہ سوم)

۱۹۰۸کے بعد

علاّمہ محمّد اقبال

۳

بلاد اسلامیہ

سرزمیں دلی کی مسجود دل غم دیدہ ہے

ذرے ذرے میں لہو اسلاف کا خوابیدہ ہے

*

پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کیونکر زمیں

خانقاہ عظمت اسلام ہے یہ سرزمیں

*

سوتے ہیں اس خاک میں خیر الامم کے تاجدار

نظم عالم کا رہا جن کی حکومت پر مدار

*

دل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمی محفل کی یاد

جل چکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی یاد

*

ہے زیارت گاہ مسلم گو جہان آباد بھی

اس کرامت کا مگر حق دار ہے بغداد بھی

*

یہ چمن وہ ہے کہ تھا جس کے لیے سامان ناز

لالۂ صحرا جسے کہتے ہیں تہذیب حجاز

*

خاک اس بستی کی ہو کیونکر نہ ہمدوش ارم

جس نے دیکھے جانشینان پیمبر کے قدم

*

جس کے غنچے تھے چمن ساماں ، وہ گلشن ہے یہی

کاپنتا تھا جن سے روما ، ان کا مدفن ہے یہی

*

۴

ہے زمین قرطبہ بھی دیدۂ مسلم کا نور

ظلمت مغرب میں جو روشن تھی مثل شمع طور

*

بجھ کے بزم ملت بیضا پریشاں کر گئی

اور دیا تہذیب حاضر کا فروزاں کر گئی

*

قبر اس تہذیب کی یہ سر زمین پاک ہے

جس سے تاک گلشن یورپ کی رگ نم ناک ہے

*

خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار

مہدی امت کی سطوت کا نشان پائدار

*

صورت خاک حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے

آستان مسند آرائے شہ لولاک ہے

*

نکہت گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا

تربت ایوب انصاری سے آتی ہے صدا

*

اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر

سینکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر

*

وہ زمیں ہے تو مگر اے خواب گاہ مصطفی

دید ہے کعبے کو تیری حج اکبر سے سوا

*

۵

خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانند نگیں

اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیں

*

تجھ میں راحت اس شہنشاہ معظم کو ملی

جس کے دامن میں اماں اقوام عالم کو ملی

*

نام لیوا جس کے شاہنشاہ عالم کے ہوئے

جانشیں قیصر کے ، وارث مسند جم کے ہوئے

*

ہے اگر قومیت اسلام پابند مقام

ہند ہی بنیاد ہے اس کی ، نہ فارس ہے ، نہ شام

*

آہ یثرب! دیس ہے مسلم کا تو ، ماوا ہے تو

نقطۂ جاذب تاثر کی شعاعوں کا ہے تو

*

جب تلک باقی ہے تو دنیا میں ، باقی ہم بھی ہیں

صبح ہے تو اس چمن میں گوہر شبنم بھی ہیں

***

۶

ستارہ

قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحر تجھ کو

مآل حسن کی کیا مل گئی خبر تجھ کو؟

*

متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ کو

ہے کیا ہراس فنا صورت شرر تجھ کو؟

*

زمیں سے دور دیا آسماں نے گھر تجھ کو

مثال ماہ اڑھائی قبائے زر تجھ کو

*

غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے!

تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے

*

چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی ہے

جو اوج ایک کا ہے ، دوسرے کی پستی ہے

*

اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادت مہر

فنا کی نیند مے زندگی کی مستی ہے

*

وداع غنچہ میں ہے راز آفرینش گل

عدم ، عدم ہے کہ آئینہ دار ہستی ہے!

*

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

***

۷

دوستارے

آئے جو قراں میں دو ستارے

کہنے لگا ایک ، دوسرے سے

*

یہ وصل مدام ہو تو کیا خوب

انجام خرام ہو تو کیا خوب

*

تھوڑا سا جو مہرباں فلک ہو

ہم دونوں کی ایک ہی چمک ہو

*

لیکن یہ وصال کی تمنا

پیغام فراق تھی سراپا

*

گردش تاروں کا ہے مقدر

ہر ایک کی راہ ہے مقرر

*

ہے خواب ثبات آشنائی

آئین جہاں کا ہے جدائی

***

۸

گورستان شاہی

آسماں ، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہے

کچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہے

*

چاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش میں

صبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش میں

*

کس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے خامشی

بربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے خامشی

*

باطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد ہے

اور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد ہے

*

آہ! جولاں گاہ عالم گیر یعنی وہ حصار

دوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا بار

*

زندگی سے تھا کبھی معمور ، اب سنسان ہے

یہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستاں ہے

*

اپنے سکان کہن کی خاک کا دلدادہ ہے

کوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہے

*

ابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماں

ناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماں

*

۹

خاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر اسے

داستاں ناکامی انساں کی ہے ازبر اسے

*

ہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا رہا

آسماں سے انقلابوں کا تماشا دیکھتا

*

گو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیے

فاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے لیے

*

رنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے زمیں

سینکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے زمیں

*

خواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت فزا

دیدۂ عبرت! خراج اشک گلگوں کر ادا

*

ہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ ہے

آہ! اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ ہے

*

مقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس قدر

جنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو حذر

*

کیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر میں

جو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر میں

*

۱۰

سوتے ہیں خاموش ، آبادی کے ہنگاموں سے دور

مضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے ناصبور

*

قبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمک

جن کے دروازوں پہ رہتا تھا جبیں گستر فلک

*

کیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا مآل

جن کی تدبیر جہاں بانی سے ڈرتا تھا زوال

*

رعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان قیصری

ٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھی

*

بادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے گور

جادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور

*

شورش بزم طرب کیا ، عود کی تقریر کیا

درد مندان جہاں کا نالۂ شب گیر کیا

*

عرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر کیا

خون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیا

*

اب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی نہیں

سینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی نہیں

*

۱۱

روح ، مشت خاک میں زحمت کش بیداد ہے

کوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس ، فریاد ہے

*

زندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نوا

شاخ پر بیٹھا ، کوئی دم چہچہایا ، اڑ گیا

*

آہ! کیا آئے ریاض دہر میں ہم ، کیا گئے!

زندگی کی شاخ سے پھوٹے ، کھلے ، مرجھا گئے

*

موت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر ہے

اس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر ہے

*

سلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا کنار

اور اس دریائے بے پایاں کے موجیں ہیں مزار

*

اے ہوس! خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار

یہ شرارے کا تبسم ، یہ خس آتش سوار

*

چاند ، جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز ہے

پہنے سیمابی قبا محو خرام ناز ہے

*

چرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں مگر

بے کسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت سحر

*

۱۲

اک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے ، جو مہتاب تھا

آخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی فنا

*

زندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتبار

رنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی بہار

*

اس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں وقار

رہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگار

*

اس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر جہاں

دیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر جہاں

*

ایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرار

ذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج روزگار

*

ہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نو

مادر گیتی رہی آبستن اقوام نو

*

ہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ گزر

چشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے تاجور

*

مصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیں

دفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی نہیں

*

۱۳

آ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام نے

عظمت یونان و روما لوٹ لی ایام نے

*

آہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت ہوا

آسماں سے ابر آذاری اٹھا ، برسا ، گیا

*

ہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی لڑی

کوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی ہوئی

*

سینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ ہے

کس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہے

*

محو زینت ہے صنوبر ، جوئبار آئینہ ہے

غنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ ہے

*

نعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میں

چشم انساں سے نہاں ، پتوں کے عزلت خانے میں

*

اور بلبل ، مطرب رنگیں نوائے گلستاں

جس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے گلستاں

*

عشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر ہے

خامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر ہے

*

۱۴

باغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے ہیں

وادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے ہیں

*

زندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور ہے

موت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور ہے

*

پتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس طرح

دست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس طرح

*

اس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ ہے

ایک غم ، یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ ہے

*

دل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی نہیں

اپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی نہیں

*

اشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و در

گریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم تر

*

دہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے ہم

آخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہم

*

ہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش میں

برق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میں

*

۱۵

وادی گل ، خاک صحرا کو بنا سکتا ہے یہ

خواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہ

*

ہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا ظہور

ہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور

***

۱۶

نمود صبح

ہو رہی ہے زیر دامان افق سے آشکار

صبح یعنی دختر دوشیزۂ لیل و نہار

*

پا چکا فرصت درود فصل انجم سے سپہر

کشت خاور میں ہوا ہے آفتاب آئینہ کار

*

آسماں نے آمد خورشید کی پا کر خبر

محمل پرواز شب باندھا سر دوش غبار

*

شعلۂ خورشید گویا حاصل اس کھیتی کا ہے

بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار

*

ہے رواں نجم سحر ، جیسے عبادت خانے سے

سب سے پیچھے جائے کوئی عابد شب زندہ دار

*

کیا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ کوئی

کھینچتا ہو میان کی ظلمت سے تیغ آب دار

*

مطلع خورشید میں مضمر ہے یوں مضمون صبح

جیسے خلوت گاہ مینا میں شراب خوش گوار

*

۱۷

ہے تہ دامان باد اختلاط انگیز صبح

شورش ناقوس ، آواز اذاں سے ہمکنار

*

جاگے کوئل کی اذاں سے طائران نغمہ سنج

ہے ترنم ریز قانون سحر کا تار تار

***

۱۸

تضمین بر شعر انیسی شاملو

ہمیشہ صورت باد سحر آوارہ رہتا ہوں

محبت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی

*

دل بے تاب جا پہنچا دیار پیر سنجر میں

میسر ہے جہاں درمان درد نا شکیبائی

*

ابھی نا آشنائے لب تھا حرف آرزو میرا

زباں ہونے کو تھی منت پذیر تاب گویائی

*

یہ مرقد سے صدا آئی ، حرم کے رہنے والوں کو

شکایت تجھ سے ہے اے تارک آئین آبائی!

*

ترا اے قیس کیونکر ہو گیا سوز دروں ٹھنڈا

کہ لیلی میں تو ہیں اب تک وہی انداز لیلائی

*

نہ تخم "لا الہ" تیری زمین شور سے پھوٹا

زمانے بھر میں رسوا ہے تری فطرت کی نازائی

*

تجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا ہے

کنشتی ساز، معمور نوا ہائے کلیسائی

*

۱۹

ہوئی ہے تربیت آغوش بیت اللہ میں تیری

دل شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا سودائی

*

""وفا آموختی از ما، بکار دیگراں کر دی

ربودی گوہرے از ما نثار دیگراں کر دی""

***

۲۰