بانگِ درا(حصہ سوم ـ 1908 سے--)

بانگِ درا(حصہ سوم ـ   1908 سے--)0%

بانگِ درا(حصہ سوم ـ   1908 سے--) زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 51

بانگِ درا(حصہ سوم ـ   1908 سے--)

زمرہ جات:

صفحے: 51
مشاہدے: 4583
ڈاؤنلوڈ: 263

تبصرے:

بانگِ درا(حصہ سوم ـ 1908 سے--)
  • حصہ سوم 1908—سے — 178

  • بلاد اسلامیہ 178

  • ستارہ 181

  • دوستارے 182

  • گورستان شاہی 183

  • نمود صبح 190

  • تضمین بر شعر انیسی شاملو 191

  • پھول کا تحفہ عطا ہونے پر 192

  • ترانۂ ملی 193

  • وطنیت 195

  • ایک حاجی مدینے کے راستے میں 197

  • قطعہ 198

  • شکوہ 199

  • چاند 209

  • رات اور شاعر 210

  • بزم انجم 212

  • سیر فلک 214

  • نصیحت 216

  • رام 218

  • موٹر 219

  • انسان 220

  • خطاب بہ جوانان اسلام 221

  • غرۂ شوال 223

  • شمع اور شاعر 226

  • مسلم 237

  • حضور رسالت مآب میں 240

  • شفاخانۂ حجاز 242

  • جواب شکوہ 244

  • ساقی 262

  • تعلیم اور اس کے نتائج 263

  • قرب سلطان 264

  • شاعر 265

  • نو ید صبح 266

  • دعا 267

  • عید پر شعر لکھنے کی فرمائش کے جواب میں 269

  • فاطمہ بنت عبداللہ 270

  • شبنم اور ستارے 272

  • محاصرۂ درنہ 274

  • غلام قادر رہیلہ 275

  • ایک مکالمہ 277

  • میں اورتو 278

  • تضمین بر شعر ابوطالب کلیم 279

  • شبلی و حالی 280

  • ارتقا 282

  • صدیق 283

  • تہذیب حاضر 285

  • والدہ مرحومہ کی یاد میں 286

  • شعاع آفتاب 296

  • عرفی 297

  • ایک خط کے جواب میں 298

  • نانک 299

  • کفر واسلام 300

  • بلال 301

  • مسلمان اور تعلیم جدید 302

  • پھولوں کی شہزادی 303

  • تضمین بر شعر صائب 304

  • فردوس میں ایک مکالمہ 305

  • مذہب 307

  • جنگ یر موک کا ایک واقعہ 308

  • مذہب 309

  • پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ! 310

  • شب معراج 311

  • پھول 312

  • شیکسپیر 313

  • میں اورتو 314

  • اسیری 315

  • دریوزۂ خلافت 316

  • ہمایوں 317

  • خضرِ راہ 318

  • طلوع اسلام 329

  • غزلیات 338

  • ظر یفانہ 346

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 51 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 4583 / ڈاؤنلوڈ: 263
سائز سائز سائز
بانگِ درا(حصہ سوم ـ   1908 سے--)

بانگِ درا(حصہ سوم ـ 1908 سے--)

اردو
بلاد اسلامیہ حصہ سوم -1908سے-- بلاد اسلامیہ علاّمہ محمّد اقبال سرزمیں دلی کی مسجود دل غم دیدہ iiہے
ذرے ذرے میں لہو اسلاف کا خوابیدہ iiہے

پاک اس اجڑے گلستاں کی نہ ہو کیونکر زمیں
خانقاہ عظمت اسلام ہے یہ iiسرزمیں

سوتے ہیں اس خاک میں خیر الامم کے تاجدار
نظم عالم کا رہا جن کی حکومت پر iiمدار

دل کو تڑپاتی ہے اب تک گرمی محفل کی یاد
جل چکا حاصل مگر محفوظ ہے حاصل کی iiیاد

ہے زیارت گاہ مسلم گو جہان آباد iiبھی
اس کرامت کا مگر حق دار ہے بغداد iiبھی

یہ چمن وہ ہے کہ تھا جس کے لیے سامان iiناز
لالۂ صحرا جسے کہتے ہیں تہذیب iiحجاز

خاک اس بستی کی ہو کیونکر نہ ہمدوش iiارم
جس نے دیکھے جانشینان پیمبر کے iiقدم

جس کے غنچے تھے چمن ساماں ، وہ گلشن ہے iiیہی
کاپنتا تھا جن سے روما ، ان کا مدفن ہے یہی

ہے زمین قرطبہ بھی دیدۂ مسلم کا iiنور
ظلمت مغرب میں جو روشن تھی مثل شمع iiطور

بجھ کے بزم ملت بیضا پریشاں کر iiگئی
اور دیا تہذیب حاضر کا فروزاں کر iiگئی

قبر اس تہذیب کی یہ سر زمین پاک iiہے
جس سے تاک گلشن یورپ کی رگ نم ناک iiہے

خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار
مہدی امت کی سطوت کا نشان پائدار

صورت خاک حرم یہ سر زمیں بھی پاک ہے
آستان مسند آرائے شہ لولاک iiہے

نکہت گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی iiہوا
تربت ایوب انصاری سے آتی ہے صدا

اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ iiشہر
سینکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر

وہ زمیں ہے تو مگر اے خواب گاہ iiمصطفی
دید ہے کعبے کو تیری حج اکبر سے iiسوا

خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانند iiنگیں
اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری iiزمیں

تجھ میں راحت اس شہنشاہ معظم کو iiملی
جس کے دامن میں اماں اقوام عالم کو ملی

نام لیوا جس کے شاہنشاہ عالم کے iiہوئے
جانشیں قیصر کے ، وارث مسند جم کے iiہوئے

ہے اگر قومیت اسلام پابند iiمقام
ہند ہی بنیاد ہے اس کی ، نہ فارس ہے ، نہ شام

آہ یثرب! دیس ہے مسلم کا تو ، ماوا ہے iiتو
نقطۂ جاذب تاثر کی شعاعوں کا ہے iiتو

جب تلک باقی ہے تو دنیا میں ، باقی ہم بھی iiہیں
صبح ہے تو اس چمن میں گوہر شبنم بھی iiہیں
۱
ستارہ بانگِ درا ستارہ علاّمہ محمّد اقبال قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحر تجھ iiکو
مآل حسن کی کیا مل گئی خبر تجھ iiکو؟

متاع نور کے لٹ جانے کا ہے ڈر تجھ iiکو
ہے کیا ہراس فنا صورت شرر تجھ iiکو؟

زمیں سے دور دیا آسماں نے گھر تجھ iiکو
مثال ماہ اڑھائی قبائے زر تجھ iiکو

غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے!
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے

چمکنے والے مسافر! عجب یہ بستی iiہے
جو اوج ایک کا ہے ، دوسرے کی پستی ہے

اجل ہے لاکھوں ستاروں کی اک ولادت iiمہر
فنا کی نیند مے زندگی کی مستی iiہے

وداع غنچہ میں ہے راز آفرینش iiگل
عدم ، عدم ہے کہ آئینہ دار ہستی iiہے!

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے iiمیں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے iiمیں
۲
دوستارے بانگِ درا دوستارے علاّمہ محمّد اقبال آئے جو قراں میں دو iiستارےکہنے لگا ایک ، دوسرے سےیہ وصل مدام ہو تو کیا iiخوبانجام خرام ہو تو کیا خوبتھوڑا سا جو مہرباں فلک iiہوہم دونوں کی ایک ہی چمک ہولیکن یہ وصال کی iiتمناپیغام فراق تھی iiسراپاگردش تاروں کا ہے مقدرہر ایک کی راہ ہے مقررہے خواب ثبات iiآشنائیآئین جہاں کا ہے iiجدائی
۳
گورستان شاہی بانگِ درا گورستان شاہی علاّمہ محمّد اقبال آسماں ، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ iiہےکچھ مکدر سا جبین ماہ کا آئینہ ہےچاندنی پھیکی ہے اس نظارۂ خاموش iiمیںصبح صادق سو رہی ہے رات کی آغوش iiمیںکس قدر اشجار کی حیرت فزا ہے iiخامشیبربط قدرت کی دھیمی سی نوا ہے iiخامشیباطن ہر ذرۂ عالم سراپا درد iiہےاور خاموشی لب ہستی پہ آہ سرد iiہےآہ! جولاں گاہ عالم گیر یعنی وہ iiحصاردوش پر اپنے اٹھائے سیکڑوں صدیوں کا iiبارزندگی سے تھا کبھی معمور ، اب سنسان iiہےیہ خموشی اس کے ہنگاموں کا گورستاں ہےاپنے سکان کہن کی خاک کا دلدادہ iiہےکوہ کے سر پر مثال پاسباں استادہ ہےابر کے روزن سے وہ بالائے بام آسماںناظر عالم ہے نجم سبز فام آسماںخاک بازی وسعت دنیا کا ہے منظر iiاسےداستاں ناکامی انساں کی ہے ازبر iiاسےہے ازل سے یہ مسافر سوئے منزل جا iiرہاآسماں سے انقلابوں کا تماشا iiدیکھتاگو سکوں ممکن نہیں عالم میں اختر کے لیےفاتحہ خوانی کو یہ ٹھہرا ہے دم بھر کے iiلیےرنگ و آب زندگی سے گل بدامن ہے iiزمیںسینکڑوں خوں گشتہ تہذیبوں کا مدفن ہے iiزمیںخواب گہ شاہوں کی ہے یہ منزل حسرت iiفزادیدۂ عبرت! خراج اشک گلگوں کر iiاداہے تو گورستاں مگر یہ خاک گردوں پایہ iiہےآہ! اک برگشتہ قسمت قوم کا سرمایہ iiہےمقبروں کی شان حیرت آفریں ہے اس iiقدرجنبش مژگاں سے ہے چشم تماشا کو iiحذرکیفیت ایسی ہے ناکامی کی اس تصویر iiمیںجو اتر سکتی نہیں آئینۂ تحریر iiمیںسوتے ہیں خاموش ، آبادی کے ہنگاموں سے iiدورمضطرب رکھتی تھی جن کو آرزوئے iiناصبورقبر کی ظلمت میں ہے ان آفتابوں کی چمکجن کے دروازوں پہ رہتا تھا جبیں گستر iiفلککیا یہی ہے ان شہنشاہوں کی عظمت کا iiمآلجن کی تدبیر جہاں بانی سے ڈرتا تھا iiزوالرعب فغفوری ہو دنیا میں کہ شان iiقیصریٹل نہیں سکتی غنیم موت کی یورش کبھیبادشاہوں کی بھی کشت عمر کا حاصل ہے iiگورجادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے iiگورشورش بزم طرب کیا ، عود کی تقریر iiکیادرد مندان جہاں کا نالۂ شب گیر iiکیاعرصۂ پیکار میں ہنگامۂ شمشیر iiکیاخون کو گرمانے والا نعرۂ تکبیر کیااب کوئی آواز سوتوں کو جگا سکتی iiنہیںسینۂ ویراں میں جان رفتہ آ سکتی iiنہیںروح ، مشت خاک میں زحمت کش بیداد iiہےکوچہ گرد نے ہوا جس دم نفس ، فریاد iiہےزندگی انساں کی ہے مانند مرغ خوش نواشاخ پر بیٹھا ، کوئی دم چہچہایا ، اڑ iiگیاآہ! کیا آئے ریاض دہر میں ہم ، کیا iiگئے!زندگی کی شاخ سے پھوٹے ، کھلے ، مرجھا iiگئےموت ہر شاہ و گدا کے خواب کی تعبیر iiہےاس ستم گر کا ستم انصاف کی تصویر iiہےسلسلہ ہستی کا ہے اک بحر نا پیدا iiکناراور اس دریائے بے پایاں کے موجیں ہیں iiمزاراے ہوس! خوں رو کہ ہے یہ زندگی بے iiاعتباریہ شرارے کا تبسم ، یہ خس آتش iiسوارچاند ، جو صورت گر ہستی کا اک اعجاز iiہےپہنے سیمابی قبا محو خرام ناز iiہےچرخ بے انجم کی دہشت ناک وسعت میں iiمگربے کسی اس کی کوئی دیکھے ذرا وقت iiسحراک ذرا سا ابر کا ٹکڑا ہے ، جو مہتاب iiتھاآخری آنسو ٹپک جانے میں ہو جس کی iiفنازندگی اقوام کی بھی ہے یونہی بے اعتباررنگ ہائے رفتہ کی تصویر ہے ان کی iiبہاراس زیاں خانے میں کوئی ملت گردوں iiوقاررہ نہیں سکتی ابد تک بار دوش روزگاراس قدر قوموں کی بربادی سے ہے خوگر iiجہاںدیکھتا بے اعتنائی سے ہے یہ منظر iiجہاںایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو iiقرارذوق جدت سے ہے ترکیب مزاج iiروزگارہے نگین دہر کی زینت ہمیشہ نام نومادر گیتی رہی آبستن اقوام نوہے ہزاروں قافلوں سے آشنا یہ رہ iiگزرچشم کوہ نور نے دیکھے ہیں کتنے iiتاجورمصر و بابل مٹ گئے باقی نشاں تک بھی نہیںدفتر ہستی میں ان کی داستاں تک بھی iiنہیںآ دبایا مہر ایراں کو اجل کی شام iiنےعظمت یونان و روما لوٹ لی ایام iiنےآہ! مسلم بھی زمانے سے یونہی رخصت iiہواآسماں سے ابر آذاری اٹھا ، برسا ، iiگیاہے رگ گل صبح کے اشکوں سے موتی کی iiلڑیکوئی سورج کی کرن شبنم میں ہے الجھی iiہوئیسینۂ دریا شعاعوں کے لیے گہوارہ iiہےکس قدر پیارا لب جو مہر کا نظارہ ہےمحو زینت ہے صنوبر ، جوئبار آئینہ iiہےغنچۂ گل کے لیے باد بہار آئینہ iiہےنعرہ زن رہتی ہے کوئل باغ کے کاشانے میںچشم انساں سے نہاں ، پتوں کے عزلت خانے میںاور بلبل ، مطرب رنگیں نوائے گلستاںجس کے دم سے زندہ ہے گویا ہوائے iiگلستاںعشق کے ہنگاموں کی اڑتی ہوئی تصویر iiہےخامۂ قدرت کی کیسی شوخ یہ تحریر iiہےباغ میں خاموش جلسے گلستاں زادوں کے iiہیںوادی کہسار میں نعرے شباں زادوں کے iiہیںزندگی سے یہ پرانا خاک داں معمور iiہےموت میں بھی زندگانی کی تڑپ مستور iiہےپتیاں پھولوں کی گرتی ہیں خزاں میں اس iiطرحدست طفل خفتہ سے رنگیں کھلونے جس iiطرحاس نشاط آباد میں گو عیش بے اندازہ iiہےایک غم ، یعنی غم ملت ہمیشہ تازہ iiہےدل ہمارے یاد عہد رفتہ سے خالی iiنہیںاپنے شاہوں کو یہ امت بھولنے والی iiنہیںاشک باری کے بہانے ہیں یہ اجڑے بام و iiدرگریۂ پیہم سے بینا ہے ہماری چشم iiتردہر کو دیتے ہیں موتی دیدۂ گریاں کے iiہمآخری بادل ہیں اک گزرے ہوئے طوفاں کے ہمہیں ابھی صد ہا گہر اس ابر کی آغوش iiمیںبرق ابھی باقی ہے اس کے سینۂ خاموش میںوادی گل ، خاک صحرا کو بنا سکتا ہے iiیہخواب سے امید دہقاں کو جگا سکتا ہے یہہو چکا گو قوم کی شان جلالی کا iiظہورہے مگر باقی ابھی شان جمالی کا ظہور
۴
نمود صبح بانگِ درا نمود صبح علاّمہ محمّد اقبال ہو رہی ہے زیر دامان افق سے iiآشکار
صبح یعنی دختر دوشیزۂ لیل و نہار

پا چکا فرصت درود فصل انجم سے iiسپہر
کشت خاور میں ہوا ہے آفتاب آئینہ iiکار

آسماں نے آمد خورشید کی پا کر iiخبر
محمل پرواز شب باندھا سر دوش غبار

شعلۂ خورشید گویا حاصل اس کھیتی کا iiہے
بوئے تھے دہقان گردوں نے جو تاروں کے شرار

ہے رواں نجم سحر ، جیسے عبادت خانے iiسے
سب سے پیچھے جائے کوئی عابد شب زندہ iiدار

کیا سماں ہے جس طرح آہستہ آہستہ iiکوئی
کھینچتا ہو میان کی ظلمت سے تیغ آب iiدار

مطلع خورشید میں مضمر ہے یوں مضمون iiصبح
جیسے خلوت گاہ مینا میں شراب خوش iiگوار

ہے تہ دامان باد اختلاط انگیز صبح
شورش ناقوس ، آواز اذاں سے iiہمکنار

جاگے کوئل کی اذاں سے طائران نغمہ iiسنج
ہے ترنم ریز قانون سحر کا تار iiتار
۵
تضمین بر شعر انیسی شاملو بانگِ درا تضمین بر شعر انیسی شاملو علاّمہ محمّد اقبال ہمیشہ صورت باد سحر آوارہ رہتا ہوں
محبت میں ہے منزل سے بھی خوشتر جادہ پیمائی

دل بے تاب جا پہنچا دیار پیر سنجر iiمیں
میسر ہے جہاں درمان درد نا iiشکیبائی

ابھی نا آشنائے لب تھا حرف آرزو iiمیرا
زباں ہونے کو تھی منت پذیر تاب iiگویائی

یہ مرقد سے صدا آئی ، حرم کے رہنے والوں کو
شکایت تجھ سے ہے اے تارک آئین آبائی!

ترا اے قیس کیونکر ہو گیا سوز دروں iiٹھنڈا
کہ لیلی میں تو ہیں اب تک وہی انداز iiلیلائی

نہ تخم "لا الہ" تیری زمین شور سے iiپھوٹا
زمانے بھر میں رسوا ہے تری فطرت کی iiنازائی

تجھے معلوم ہے غافل کہ تیری زندگی کیا iiہے
کنشتی ساز، معمور نوا ہائے iiکلیسائی

ہوئی ہے تربیت آغوش بیت اللہ میں iiتیری
دل شوریدہ ہے لیکن صنم خانے کا iiسودائی

""وفا آموختی از ما، بکار دیگراں کر دی
ربودی گوہرے از ما نثار دیگراں کر iiدی""
۶
پھول کا تحفہ عطا ہونے پر بانگِ درا پھول کا تحفہ عطا ہونے پر علاّمہ محمّد اقبال وہ مست ناز جو گلشن میں جا نکلتی iiہے
کلی کلی کی زباں سے دعا نکلتی iiہے

""الہی! پھولوں میں وہ انتخاب مجھ کو iiکرے
کلی سے رشک گل آفتاب مجھ کو کرے""

تجھے وہ شاخ سے توڑیں! زہے نصیب ترے
تڑپتے رہ گئے گلزار میں رقیب iiترے

اٹھا کے صدمۂ فرقت وصال تک iiپہنچا
تری حیات کا جوہر کمال تک iiپہنچا

مرا کنول کہ تصدق ہیں جس پہ اہل iiنظر
مرے شباب کے گلشن کو ناز ہے جس iiپر

کبھی یہ پھول ہم آغوش مدعا نہ iiہوا
کسی کے دامن رنگیں سے آشنا نہ iiہوا

شگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے
فسردہ رکھتا ہے گلچیں کا انتظار اسے
۷
ترانۂ ملی بانگِ درا ترانۂ ملی علاّمہ محمّد اقبال چین و عرب ہمارا ، ہندوستاں iiہمارامسلم ہیں ہم ، وطن ہے سارا جہاں iiہماراتوحید کی امانت سینوں میں ہے iiہمارےآساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارادنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا iiکاہم اس کے پاسباں ہیں، وہ پاسباں iiہماراتیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیںخنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارامغرب کی وادیوں میں گونجی اذاں ہماریتھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں iiہماراباطل سے دنبے والے اے آسماں نہیں iiہمسو بار کر چکا ہے تو امتحاں iiہمارااے گلستان اندلس! وہ دن ہیں یاد تجھ iiکوتھا تیری ڈالیوں پر جب آشیاں iiہمارااے موج دجلہ! تو بھی پہچانتی ہے ہم iiکواب تک ہے تیرا دریا افسانہ خواں iiہمارااے ارض پاک! تیری حرمت پہ کٹ مرے iiہمہے خوں تری رگوں میں اب تک رواں iiہماراسالار کارواں ہے میر حجاز iiاپنااس نام سے ہے باقی آرام جاں iiہمارااقبال کا ترانہ بانگ درا ہے iiگویاہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
۸
وطنیت بانگِ درا (یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے) وطنیت علاّمہ محمّد اقبال اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اورساقی نے بنا کی روش لطف و ستم iiاورمسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم iiاورتہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم iiاوران تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن iiہےجو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہےیہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی iiہےغارت گر کاشانۂ دین نبوی iiہےبازو ترا توحید کی قوت سے قوی iiہےاسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی iiہےنظارۂ دیرینہ زمانے کو دکھا iiدےاے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے ii!ہو قید مقامی تو نتیجہ ہے iiتباہیرہ بحر میں آزاد وطن صورت iiماہیہے ترک وطن سنت محبوب iiالہیدے تو بھی نبوت کی صداقت پہ iiگواہیگفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ iiہےارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہےاقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی iiسےتسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی iiسےخالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی iiسےکمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی iiسےاقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس iiسےقومیت اسلام کے جڑ کٹتی ہے اس iiسے
۹
ایک حاجی مدینے کے راستے میں بانگِ درا ایک حاجی مدینے کے راستے میں علاّمہ محمّد اقبال قافلہ لوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے iiدور
اس بیاباں یعنی بحر خشک کا ساحل ہے iiدور

ہم سفر میرے شکار دشنۂ رہزن iiہوئے
بچ گئے جو ، ہو کے بے دل سوئے بیت اللہ iiپھرے

اس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی ii!
موت کے زہراب میں پائی ہے اس نے زندگی

خنجر رہزن اسے گویا ہلال عید iiتھا
"ہائے یثرب" دل میں ، لب پر نعرۂ توحید تھا

خوف کہتا ہے کہ یثرب کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تو مسلم ہے ، بے باکانہ iiچل

بے زیارت سوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا iiکیا
عاشقوں کو روز محشر منہ نہ دکھلاؤں گا iiکیا

خوف جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے iiحجاز
ہجرت مدفون یثرب میں یہی مخفی ہے iiراز

گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی میں iiہے
عشق کی لذت مگر خطروں کے جاں کاہی میں ہے

آہ! یہ عقل زیاں اندیش کیا چالاک iiہے
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک iiہے
۱۰
قطعہ بانگِ درا قطعہ علاّمہ محمّد اقبال کل ایک شوریدہ خواب گاہ نبی پہ رو رو کے کہہ رہا iiتھا
کہ مصر و ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے iiہیں

یہ زائران حریم مغرب ہزار رہبر بنیں iiہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے نا آشنا رہے ہیں

غضب ہیں یہ "مرشدان خود بیں خدا تری قوم کو بچائے!
بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے iiہیں

سنے گا اقبال کون ان کو ، یہ انجمن ہی بدل گئی iiہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پرانی باتیں سنا رہے ہیں ii!
۱۱
شکوہ بانگِ درا شکوہ علاّمہ محمّد اقبال کیوں زیاں کار بنوں ، سود فراموش iiرہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش iiرہوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ iiکو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں iiہم

ساز خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں iiہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں iiہم

اے خدا! شکوۂ ارباب وفا بھی سن iiلے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن iiلے

تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات iiقدیم
پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی iiشمیم

شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف iiعمیم
بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ iiنسیم

ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی iiتھی
ورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی iiتھی؟

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا iiمنظر
کہیں مسجود تھے پتھر ، کہیں معبود iiشجر

خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی iiنظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو iiکیونکر

تجھ کو معلوم ہے ، لیتا تھا کوئی نام ترا؟
قوت بازوئے مسلم نے کیا کام iiترا

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی، تورانی بھی
اہل چیں چین میں ، ایران میں ساسانی iiبھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی iiبھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے ، نصرانی iiبھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس iiنے
بات جو بگڑی ہوئی تھی ، وہ بنائی کس iiنے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں iiمیں
خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں iiمیں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں iiمیں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں iiمیں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں iiکی
کلمہ جب پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں iiکی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کے مصیبت کے iiلیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے iiلیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے iiلیے
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے؟

قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں iiکرتی!

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے iiتھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے iiتھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ، ہم توپ سے لڑ جاتے iiتھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم iiنے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم iiنے

تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس iiنے
شہر قیصر کا جو تھا ، اس کو کیا سر کس iiنے

توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس iiنے
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس iiنے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو؟
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں iiکو؟

کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار iiہوئی

کس کی شمشیر جہاں گیر ، جہاں دار iiہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار iiہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے iiتھے
منہ کے بل گر کے "ھو اللہ احد" کہتے تھے

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت iiنماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم iiحجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و iiایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ iiنواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک iiہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک iiہوئے

محفل کون و مکاں میں سحر و شام iiپھرے
مے توحید کو لے کر صفت جام iiپھرے

کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام iiپھرے
اور معلوم ہے تجھ کو ، کبھی ناکام iiپھرے!

دشت تو دشت ہیں ، دریا بھی نہ چھوڑے ہم iiنے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم iiنے

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم iiنے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم iiنے

پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار iiنہیں
ہم وفادار نہیں ، تو بھی تو دلدار iiنہیں!

امتیں اور بھی ہیں ، ان میں گنہ گار بھی iiہیں
عجز والے بھی ہیں ، مست مۓ پندار بھی iiہیں

ان میں کاہل بھی ہیں، غافل بھی ہیں، ہشیار بھی ہیں
سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں iiپر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں iiپر

بت صنم خانوں میں کہتے ہیں ، مسلمان iiگئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن iiگئے

خندہ زن کفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ iiنہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ iiنہیں

یہ شکایت نہیں ، ہیں ان کے خزانے iiمعمور
نہیں محفل میں جنھیں بات بھی کرنے کا iiشعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و iiقصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ iiحور

اب وہ الطاف نہیں ، ہم پہ عنایات iiنہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات iiنہیں

کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا iiنایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ iiحساب

تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے iiحباب
رہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج iiسراب

طعن اغیار ہے ، رسوائی ہے ، ناداری iiہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری iiہے؟

بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی iiدنیا

ہم تو رخصت ہوئے ، اوروں نے سنبھالی iiدنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی iiدنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام iiرہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے ، جام iiرہے!

تیری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے
شب کے آہیں بھی گئیں ، صبح کے نالے بھی iiگئے

دل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلا لے بھی iiگئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی iiگئے

آئے عشاق ، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے iiکر

درد لیلی بھی وہی ، قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی iiوہی

عشق کا دل بھی وہی ، حسن کا جادو بھی iiوہی
امت احمد مرسل بھی وہی ، تو بھی iiوہی

پھر یہ آزردگی غیر سبب کیا iiمعنی
اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا iiمعنی

تجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو iiچھوڑا؟
بت گری پیشہ کیا ، بت شکنی کو iiچھوڑا؟

عشق کو ، عشق کی آشفتہ سری کو iiچھوڑا؟
رسم سلمان و اویس قرنی کو iiچھوڑا؟

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے iiہیں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں

عشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ iiسہی
جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ iiسہی

مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ iiسہی
اور پابندی آئین وفا بھی نہ iiسہی

کبھی ہم سے ، کبھی غیروں سے شناسائی iiہے
بات کہنے کی نہیں ، تو بھی تو ہرجائی ہے !

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو iiنے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو iiنے

آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو iiنے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو iiنے

آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد iiنہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں ، تجھے یاد iiنہیں؟

وادی نجد میں وہ شور سلاسل نہ iiرہا
قیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ iiرہا

حوصلے وہ نہ رہے ، ہم نہ رہے ، دل نہ iiرہا
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ iiرہا

اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوئے محفل ما باز iiآئی

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو iiبیٹھے
سنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو iiبیٹھے

دور ہنگامۂ گلزار سے یک سو iiبیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر "ھو" iiبیٹھے

اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی iiدے
برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی iiدے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے iiحجاز
لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق iiپرواز

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے، تشنۂ مضراب ہے iiساز

نغمے بے تاب ہیں تاروں سے نکلنے کے iiلیے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے iiلیے

مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر iiدے
مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر iiدے

جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر iiدے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ iiما
می تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ iiما

بوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمن ii!

عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمن
اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرواز iiچمن

ایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب iiتک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب iiتک

قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی iiہوئیں
پتّیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں

وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی iiہوئیں
ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں

قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس iiکی!

لطف مرنے میں ہے باقی ، نہ مزا جینے iiمیں
کچھ مزا ہے تو یہی خون جگر پینے iiمیں

کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے iiمیں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے iiمیں

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی iiنہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں ، وہ لالے ہی iiنہیں

چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل iiہوں
جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل iiہوں

یعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل iiہوں
پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل iiہوں

عجمی خم ہے تو کیا ، مے تو حجازی ہے iiمری
نغمہ ہندی ہے تو کیا ، لے تو حجازی ہے مری!
۱۲
چاند بانگِ درا چاند علاّمہ محمّد اقبال اے چاند! حسن تیرا فطرت کی آبرو iiہے
طوف حریم خاکی تیری قدیم خو iiہے

یہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے iiنمایاں
عاشق ہے تو کسی کا، یہ داغ آرزو iiہے؟

میں مضطرب زمیں پر، بے تاب تو فلک iiپر
تجھ کو بھی جستجو ہے ، مجھ کو بھی جستجو ہے

انساں ہے شمع جس کی ، محفل وہی ہے iiتیری؟
میں جس طرف رواں ہوں ، منزل وہی ہے iiتیری؟

تو ڈھونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی iiمیں
پوشیدہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی میں

استادہ سرو میں ہے ، سبزے میں سو رہا iiہے
بلبل میں نغمہ زن ہے ، خاموش ہے کلی iiمیں

آ ! میں تجھے دکھاؤں رخسار روشن اس iiکا
نہروں کے آئنے میں شبنم کی آرسی iiمیں

صحرا و دشت و در میں ، کہسار میں وہی iiہے
انساں کے دل میں ، تیرے رخسار میں وہی iiہے
۱۳
رات اور شاعر بانگِ درا رات اور شاعر علاّمہ محمّد اقبال (١)رات

کیوں میری چاندنی میں پھرتا ہے تو iiپریشاں
خاموش صورت گل ، مانند بو پریشاں

تاروں کے موتیوں کا شاید ہے جوہری iiتو
مچھلی ہے کوئی میرے دریائے نور کی تو

یا تو مری جبیں کا تارا گرا ہوا iiہے
رفعت کو چھوڑ کر جو بستی میں جا بسا iiہے

خاموش ہو گیا ہے تار رباب iiہستی
ہے میرے آئنے میں تصویر خواب iiہستی

دریا کی تہ میں چشم گرداب سو گئی ہے
ساحل سے لگ کے موج بے تاب سو گئی ہے

بستی زمیں کی کیسی ہنگامہ آفریں iiہے
یوں سو گئی ہے جیسے آباد ہی نہیں iiہے

شاعر کا دل ہے لیکن ناآشنا سکوں iiسے
آزاد رہ گیا تو کیونکر مرے فسوں iiسے؟


(٢)شاعر

میں ترے چاند کی کھیتی میں گہر بوتا ہوں
چھپ کے انسانوں سے مانند سحر روتا iiہوں

دن کی شورش میں نکلتے ہوئے گھبراتے ہیں
عزلت شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں

مجھ میں فریاد جو پنہاں ہے ، سناؤں کس iiکو
تپش شوق کا نظارہ دکھاؤں کس iiکو

برق ایمن مرے سینے پہ پڑی روتی ہے
دیکھنے والی ہے جو آنکھ ، کہاں سوتی iiہے!

صفت شمع لحد مردہ ہے محفل میری
آہ، اے رات! بڑی دور ہے منزل iiمیری

عہد حاضر کی ہوا راس نہیں ہے اس iiکو
اپنے نقصان کا احساس نہیں ہے اس iiکا

ضبط پیغام محبت سے جو گھبراتا iiہوں
تیرے تابندہ ستاروں کو سنا جاتا iiہوں
۱۴
بزم انجم بانگِ درا بزم انجم علاّمہ محمّد اقبال سورج نے جاتے جاتے شام سیہ قبا iiکو
طشت افق سے لے کر لالے کے پھول مارے

پہنا دیا شفق نے سونے کا سارا iiزیور
قدرت نے اپنے گہنے چاندی کے سب اتارے

محمل میں خامشی کے لیلائے ظلمت آئی
چمکے عروس شب کے موتی وہ پیارے پیارے

وہ دور رہنے والے ہنگامۂ جہاں iiسے
کہتا ہے جن کو انساں اپنی زباں میں "تارے"

محو فلک فروزی تھی انجمن فلک iiکی
عرش بریں سے آئی آواز اک ملک iiکی

اے شب کے پاسانو، اے آسماں کے iiتارو!
تابندہ قوم ساری گردوں نشیں iiتمھاری

چھیڑو سرود ایسا ، جاگ اٹھیں سونے iiوالے
رہبر ہے قافلوں کی تاب جبیں iiتمھاری

آئینے قسمتوں کے تم کو یہ جانتے iiہیں
شاید سنیں صدائیں اہل زمیں iiتمھاری

رخصت ہوئی خموشی تاروں بھری فضا iiسے
وسعت تھی آسماں کی معمور اس نوا iiسے

""حسن ازل ہے پیدا تاروں کی دلبری iiمیں
جس طرح عکس گل ہو شبنم کے آرسی iiمیں

آئین نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ iiاڑنا
منزل یہی گھٹن ہے قوموں کی زندگی iiمیں

یہ کاروان ہستی ہے تیز گام iiایسا
قومیں کچل گئی ہیں جس کی روا روی میں

آنکھوں سے ہیں ہماری غائب ہزاروں iiانجم
داخل ہیں وہ بھی لیکن اپنی برادری iiمیں

اک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین iiوالے
جو بات پا گئے ہم تھوڑی سی زندگی iiمیں

ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی iiمیں
۱۵
سیر فلک بانگِ درا سیر فلک علاّمہ محمّد اقبال تھا تخیل جو ہم سفر iiمیرا
آسماں پر ہوا گزر iiمیرا

اڑتا جاتا تھا اور نہ تھا iiکوئی
جاننے والا چرخ پر میرا

تارے حیرت سے دیکھتے تھے مجھے
راز سر بستہ تھا سفر iiمیرا

حلقۂ صبح و شام سے iiنکلا
اس پرانے نظام سے نکلا

کیا سناؤں تمھیں ارم کیا iiہے
خاتم آرزوئے دیدہ و iiگوش

شاخ طوبی! پہ نغمہ ریز طیور
بے حجابانہ حور جلوہ iiفروش

ساقیان جمیل جام بدست
پینے والوں میں شور iiنوشانوش

دور جنت سے آنکھ نے دیکھا
ایک تاریک خانہ سرد و iiخموش

طالع قیس و گیسوئے iiلیلی
اس کی تاریکیوں سے دوش iiبدوش

خنک ایسا کہ جس سے شرما iiکر
کرۂ زمہریر ہو روپوش

میں نے پوچھی جو کیفیت اس کی
حیرت انگیز تھا جواب iiسروش

یہ مقام خنک جہنم iiہے
نار سے ، نور سے تہی iiآغوش

شعلے ہوتے ہیں مستعار اس iiکے
جن سے لرزاں ہیں مرد عبرت iiکوش

اہل دنیا یہاں جو آتے iiہیں
اپنے انگار ساتھ لاتے iiہیں
۱۶
نصیحت بانگِ درا نصیحت علاّمہ محمّد اقبال میں نے اقبال سے از راہ نصیحت یہ iiکہا
عامل روزہ ہے تو اور نہ پابند iiنماز

تو بھی ہے شیوۂ ارباب ریا میں iiکامل
دل میں لندن کی ہوس ، لب پہ ترے ذکر iiحجاز

جھوٹ بھی مصلحت آمیز ترا ہوتا iiہے
تیرا انداز تملق بھی سراپا iiاعجاز

ختم تقریر تری مدحت سرکار پہ iiہے
فکر روشن ہے ترا موجد آئین iiنیاز

در حکام بھی ہے تجھ کو مقام iiمحمود
پالسی بھی تری پیچیدہ تر از زلف iiایاز

اور لوگوں کی طرح تو بھی چھپا سکتا iiہے
پردۂ خدمت دیں میں ہوس جاہ کا iiراز

نظر آ جاتا ہے مسجد میں بھی تو عید کے iiدن
اثر وعظ سے ہوتی ہے طبیعت بھی iiگداز

دست پرورد ترے ملک کے اخبار بھی iiہیں
چھیڑنا فرض ہے جن پر تری تشہیر کا ساز

اس پہ طرہ ہے کہ تو شعر بھی کہہ سکتا iiہے
تیری مینائے سخن میں ہے شراب iiشیراز

جتنے اوصاف ہیں لیڈر کے ، وہ ہیں تجھ میں سبھی
تجھ کو لازم ہے کہ ہو اٹھ کے شریک تگ و iiتاز

غم صیاد نہیں ، اور پر و بال بھی ہیں
پھر سبب کیا ہے ، نہیں تجھ کو دماغ iiپرواز

""عاقبت منزل ما وادی خاموشان است
حالیا غلغلہ در گنبد افلاک iiانداز""
۱۷
رام بانگِ درا رام علاّمہ محمّد اقبال لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہندسب فلسفی ہیں خطۂ مغرب کے رام iiہندیہ ہندیوں کے فکر فلک رس کا ہے iiاثررفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بام iiہنداس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشتمشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نام iiہندہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو iiنازاہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام iiہنداعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے iiیہیروشن تر از سحر ہے زمانے میں شام iiہندتلوار کا دھنی تھا ، شجاعت میں فرد iiتھاپاکیزگی میں ، جوش محبت میں فرد تھا
۱۸
موٹر بانگِ درا موٹر علاّمہ محمّد اقبال کیسی پتے کی بات جگندر نے کل iiکہی
موٹر ہے ذوالفقار علی خان کا کیا خموش

ہنگامہ آفریں نہیں اس کا خرام iiناز
مانند برق تیز ، مثال ہوا خموش

میں نے کہا ، نہیں ہے یہ موٹر پہ منحصر
ہے جادۂ حیات میں ہر تیز پا iiخموش

ہے پا شکستہ شیوۂ فریاد سے iiجرس
نکہت کا کارواں ہے مثال صبا iiخموش

مینا مدام شورش قلقل سے پا بہ iiگل
لیکن مزاج جام خرام آشنا iiخموش

شاعر کے فکر کو پر پرواز iiخامشی
سرمایہ دار گرمی آواز iiخامشی!
۱۹
انسان بانگِ درا انسان علاّمہ محمّد اقبال منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محروم عمل نرگس مجبور تماشا iiہے

رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس iiکو
فطرت ہی صنوبر کی محروم تمنا ہے

تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا iiمیں
انسان کی ہر قوت سرگرم تقاضا ہے

اس ذرے کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہر دم
یہ ذرہ نہیں ، شاید سمٹا ہوا صحرا iiہے

چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں iiکی
یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے ، توانا iiہے
۲۰