بانگِ درا (حصہ دوم ) 1905 سے 1908 تک جلد ۲

بانگِ درا (حصہ دوم )  1905 سے 1908 تک0%

بانگِ درا (حصہ دوم )  1905 سے 1908 تک مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 51

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 51 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2028 / ڈاؤنلوڈ: 271
سائز سائز سائز
بانگِ درا (حصہ دوم )  1905 سے 1908 تک

بانگِ درا (حصہ دوم ) 1905 سے 1908 تک جلد 2

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

بانگ درا

(حصہ دوم)

ـ ۱۹۰۵ سے ۱۹۰۸ تک

علاّمہ محمّد اقبال

۳

عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے

عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی نا آشنا خم سے

ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے

*

قمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھا

نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سے

*

ابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیا

مذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے

*

کمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا

ہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سے

*

سنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھا

صفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سے

*

لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہ

چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے

*

نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کی

وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے

*

بڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانب

تمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سے

*

۴

پھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میں

چھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سے

*

چمک تارے سے مانگی ، چاند سے داغ جگر مانگا

اڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سے

*

تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائی

حرارت لی نفسہائے مسیح ابن مریم سے

*

ذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لی

ملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر شبنم سے

*

پھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میں

مرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سے

*

مہوس نے یہ پانی ہستی نوخیز پر چھڑکا

گرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سے

*

ہوئی جنبش عیاں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا

گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے

*

خرام ناز پایا آفتابوں نے ، ستاروں نے

چٹک غنچوں نے پائی ، داغ پائے لالہ زاروں نے

***

۵

حقیقت حسن

خدا سے حسن نے اک روز یہ سوال کیا

جہاں میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا

*

ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا

شب دراز عدم کا فسانہ ہے دنیا

*

ہوئی ہے رنگ تغیر سے جب نمود اس کی

وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی

*

کہیں قریب تھا ، یہ گفتگو قمر نے سنی

فلک پہ عام ہوئی ، اختر سحر نے سنی

*

سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو

فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو

*

بھر آئے پھول کے آنسو پیام شبنم سے

کلی کا ننھا سا دل خون ہو گیا غم سے

*

چمن سے روتا ہوا موسم بہار گیا

شباب سیر کو آیا تھا ، سوگوار گیا

***

۶

سوامی رام تیر تھ

ہم بغل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو

پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر نایاب تو

*

آہ کھولا کس ادا سے تو نے راز رنگ و بو

میں ابھی تک ہوں اسیر امتیاز رنگ و بو

*

مٹ کے غوغا زندگی کا شورش محشر بنا

یہ شرارہ بجھ کے آتش خانۂ آزر بنا

*

نفئ ہستی اک کرشمہ ہے دل آگاہ کا

"ل" کے دریا میں نہاں موتی ہے "الااللہ" کا

*

چشم نابینا سے مخفی معنی انجام ہے

تھم گئی جس دم تڑپ ، سیماب سیم خام ہے

*

توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہیم عشق

ہوش کا دارو ہے گویا مستی تسنیم عشق

***

۷

طلبۂ علی گڑھ کالج کے نام

اوروں کا ہے پیام اور ، میرا پیام اور ہے

عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے

*

طائر زیر دام کے نالے تو سن چکے ہو تم

یہ بھی سنو کہ نالۂ طائر بام اور ہے

*

آتی تھی کوہ سے صدا راز حیات ہے سکوں

کہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہے

*

جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا

اس کا مقام اور ہے ، اس کا نظام اور ہے

*

موت ہے عیش جاوداں ، ذوق طلب اگر نہ ہو

گردش آدمی ہے اور ، گردش جام اور ہے

*

شمع سحر یہ کہہ گئی سوز ہے زندگی کا ساز

غم کدۂ نمود میں شرط دوام اور ہے

*

بادہ ہے نیم رس ابھی ، شوق ہے نارسا ابھی

رہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کلیسیا ابھی

***

۸

اختر صبح

ستارہ صبح کا روتا تھا اور یہ کہتا تھا

ملی نگاہ مگر فرصت نظر نہ ملی

*

ہوئی ہے زندہ دم آفتاب سے ہر شے

اماں مجھی کو تہ دامن سحر نہ ملی

*

بساط کیا ہے بھلا صبح کے ستارے کی

نفس حباب کا ، تابندگی شرارے کی

*

کہا یہ میں نے کہ اے زیور جبین سحر!

غم فنا ہے تجھے! گنبد فلک سے اتر

*

ٹپک بلندی گردوں سے ہم رہِ شبنم

مرے ریاض سخن کی فضا ہے جاں پرور

*

میں باغباں ہوں ، محبت بہار ہے اس کی

بنا مثال ابد پائدار ہے اس کی

***

۹

حسن و عشق

جس طرح ڈوبتی ہے کشتی سیمین قمر

نور خورشید کے طوفان میں ہنگام سحر

*

جسے ہو جاتا ہے گم نور کا لے کر آنچل

چاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنول

*

جلوۂ طور میں جیسے ید بیضائے کلیم

موجۂ نکہت گلزار میں غنچے کی شمیم

*

تو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں میں

حسن کی برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں میں

*

تو سحر ہے تو مرے اشک ہیں شبنم تیری

شام غربت ہوں اگر میں تو شفق تو میری

*

مرے دل میں تری زلفوں کی پریشانی ہے

تری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے

*

حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل میرا

ہے ترے سیل محبت میں یونہی دل میرا

*

۱۰

ہے مرے باغ سخن کے لیے تو باد بہار

میرے بے تاب تخیل کو دیا تو نے قرار

*

جب سے آباد ترا عشق ہوا سینے میں

نئے جوہر ہوئے پیدا مرے آئینے میں

*

حسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریک کمال

تجھ سے سر سبز ہوئے میری امیدوں کے نہال

*

قافلہ ہو گیا آسودۂ منزل میرا

***

۱۱

کی گود میں بلی دیکھ کر

تجھ کو دزدیدہ نگاہی یہ سکھا دی کس نے

رمز آغاز محبت کی بتا دی کس نے

*

ہر ادا سے تیری پیدا ہے محبت کیسی

نیلی آنکھوں سے ٹپکتی ہے ذکاوت کیسی

*

دیکھتی ہے کبھی ان کو، کبھی شرماتی ہے

کبھی اٹھتی ہے ، کبھی لیٹ کے سو جاتی ہے

*

آنکھ تیری صفت آئنہ حیران ہے کیا

نور آگاہی سے روشن تری پہچان ہے کیا

*

مارتی ہے انھیں پونہچوں سے، عجب ناز ہے یہ

چھیڑ ہے ، غصہ ہے یا پیار کا انداز ہے یہ؟

*

شوخ تو ہوگی تو گودی سے اتاریں گے تجھے

گر گیا پھول جو سینے کا تو ماریں گے تجھے

*

کیا تجسس ہے تجھے ، کس کی تمنائی ہے

آہ! کیا تو بھی اسی چیز کی سودائی ہے

*

۱۲

خاص انسان سے کچھ حسن کا احساس نہیں

صورت دل ہے یہ ہر چیز کے باطن میں مکیں

*

شیشۂ دہر میں مانند مۓ ناب ہے عشق

روح خورشید ہے، خون رگ مہتاب ہے عشق

*

دل ہر ذرہ میں پوشیدہ کسک ہے اس کی

نور یہ وہ ہے کہ ہر شے میں جھلک ہے اس کی

*

کہیں سامان مسرت، کہیں ساز غم ہے

کہیں گوہر ہے ، کہیں اشک ، کہیں شبنم ہے

***

۱۳

کلی

جب دکھاتی ہے سحر عارض رنگیں اپنا

کھول دیتی ہے کلی سینۂ زریں اپنا

*

جلوہ آشام ہے یہ صبح کے مے خانے میں

زندگی اس کی ہے خورشید کے پیمانے میں

*

سامنے مہر کے دل چیر کے رکھ دیتی ہے

کس قدر سینہ شگافی کے مزے لیتی ہے

*

مرے خورشید! کبھی تو بھی اٹھا اپنی نقاب

بہر نظارہ تڑپتی ہے نگاہ بے تاب

*

تیرے جلوے کا نشیمن ہو مرے سینے میں

عکس آباد ہو تیرا مرے آئینے میں

*

زندگی ہو ترا نظارہ مرے دل کے لیے

روشنی ہو تری گہوارہ مرے دل کے لیے

*

ذرہ ذرہ ہو مرا پھر طرب اندوز حیات

ہو عیاں جوہر اندیشہ میں پھر سوز حیات

*

۱۴

اپنے خورشید کا نظارہ کروں دور سے میں

صفت غنچہ ہم آغوش رہوں نور سے میں

*

جان مضطر کی حقیقت کو نمایاں کر دوں

دل کے پوشیدہ خیالوں کو بھی عریاں کر دوں

***

۱۵

چاند اور تارے

ڈرتے ڈرتے دم سحر سے

تارے کہنے لگے قمر سے

*

نظارے رہے وہی فلک پر

ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر

*

کام اپنا ہے صبح و شام چلنا

چلنا چلنا ، مدام چلنا

*

بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے

کہتے ہیں جسے سکوں، نہیں ہے

*

رہتے ہیں ستم کش سفر سب

تارے، انساں، شجر، حجر سب

*

ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا

منزل کبھی آئے گی نظر کیا

*

کہنے لگا چاند ، ہم نشینو

اے مزرع شب کے خوشہ چینو!

*

۱۶

جنبش سے ہے زندگی جہاں کی

یہ رسم قدیم ہے یہاں کی

*

ہے دوڑتا اشہب زمانہ

کھا کھا کے طلب کا تازیانہ

*

اس رہ میں مقام بے محل ہے

پوشیدہ قرار میں اجل ہے

*

چلنے والے نکل گئے ہیں

جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہیں

*

انجام ہے اس خرام کا حسن

آغاز ہے عشق، انتہا حسن

***

۱۷

وصال

جستجو جس گل کی تڑپاتی تھی اے بلبل مجھے

خوبئ قسمت سے آخر مل گیا وہ گل مجھے

*

خود تڑپتا تھا ، چمن والوں کو تڑپاتا تھا میں

تجھ کو جب رنگیں نوا پاتا تھا ، شرماتا تھا میں

*

میرے پہلو میں دل مضطر نہ تھا ، سیماب تھا

ارتکاب جرم الفت کے لیے بے تاب تھا

*

نامرادی محفل گل میں مری مشہور تھی

صبح میری آئنہ دار شب دیجور تھی

*

از نفس در سینۂ خوں گشتہ نشتر داشتم

زیر خاموشی نہاں غوغائے محشر داشتم

*

اب تاثر کے جہاں میں وہ پریشانی نہیں

اہل گلشن پر گراں میری غزل خوانی نہیں

*

عشق کی گرمی سے شعلے بن گئے چھالے مرے

کھلیتے ہیں بجلیوں کے ساتھ اب نالے مرے

*

غازۂ الفت سے یہ خاک سیہ آئینہ ہے

اور آئینے میں عکس ہمدم دیرینہ ہے

*

۱۸

قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی

دل کے لٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی

*

ضو سے اس خورشید کی اختر مرا تابندہ ہے

چاندنی جس کے غبار راہ سے شرمندہ ہے

*

یک نظر کر دی و آداب فنا آموختی

اے خنک روزے کہ خاشاک مرا واسوختی

***

۱۹

سلیمی

جس کی نمود دیکھی چشم ستارہ بیں نے

خورشید میں ، قمر میں ، تاروں کی انجمن میں

*

صوفی نے جس کو دل کے ظلمت کدے میں پایا

شاعر نے جس کو دیکھا قدرت کے بانکپن میں

*

جس کی چمک ہے پیدا ، جس کی مہک ہویدا

شبنم کے موتیوں میں ، پھولوں کے پیرہن میں

*

صحرا کو ہے بسایا جس نے سکوت بن کر

ہنگامہ جس کے دم سے کاشانۂ چمن میں

*

ہر شے میں ہے نمایاں یوں تو جمال اس کا

آنکھوں میں ہے سلیمی تیری کمال اس کا

***

۲۰