بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)

بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)0%

بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک) زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 51

بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)

زمرہ جات:

صفحے: 51
مشاہدے: 3818
ڈاؤنلوڈ: 265

تبصرے:

بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)
  • حصہ اول ـــــــ 1905 تک

  • ہمالہ 11

  • گل رنگیں 15

  • عہد طفلی 17

  • مرزا غالب 18

  • ابر کوہسار 20

  • ایک مکڑا اور مکھی 22

  • ایک پہاڑ اور گلہری 25

  • ایک گائے اور بکری 27

  • بچے کی دعا 31

  • ہمدردی 32

  • ماں کا خواب 34

  • پرندے کی فریاد 36

  • خفتگان خاک سے استفسار 38

  • شمع و پروانہ 42

  • عقل و دل 43

  • صدائے درد 45

  • آفتاب 46

  • شمع 48

  • ایک آرزو 52

  • آفتاب صبح 55

  • درد عشق 58

  • گل پژمردہ 60

  • سیدکی لوح تربت 61

  • ماہ نو 63

  • انسان اور بزم قد رت 64

  • پیا م صبح 67

  • عشق اور موت 68

  • ز ہد اور رندی 71

  • شاعر 74

  • دل 74

  • مو ج دریا 76

  • رخصت اے بزم جہاں 77

  • طفل شیر خوار 80

  • تصویر درد 82

  • نا لۂ فراق 90

  • چاند 91

  • بلال 94

  • سر گزشت آدم 96

  • ترانۂ ہندی 98

  • جگنو 100

  • صبح کا ستارہ 102

  • ہندوستانی بچوں کا قومی گیت 104

  • لاہور و کراچی 106

  • نیا شوالا 106

  • داغ 108

  • ابر 110

  • ایک پرندہ اور جگنو 111

  • بچّہ اور شمع 113

  • کنار راوی 115

  • التجائے مسافر 117

  • غز لیات 120

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 51 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 3818 / ڈاؤنلوڈ: 265
سائز سائز سائز
بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)

بانگِ درا(حصہ اول ... 1905 تک)

اردو
ہمالہ 11 حصہ اول ـــــــ 1905 تک 11 ہمالہ علاّمہ محمّد اقبال اے ہمالہ! اے فصیل کشور iiہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے iiنشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے iiدرمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے iiلیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے iiتوپاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے iiتومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے iiتوسوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے iiتوبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے iiسرخندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب iiپرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد iiکہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم iiسخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا iiوطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال iiہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال iiہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے iiواسطےتازیانہ دے دیا برق سر کہسار iiنےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، iiجسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے iiلیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے iiابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ iiبنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی iiکلییوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی iiخامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ iiمراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ iiمراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی iiہوئیآئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی iiہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی iiہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز iiکولیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی iiصداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو iiفداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا iiہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار iiپرخوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار iiپراے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ iiتھاکچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا iiماجراہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام iiتودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام iiتو
۱
گل رنگیں بانگِ درا گل رنگیں علاّمہ محمّد اقبال تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل iiنہیںاے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل iiنہیںزیب محفل ہے ، شریک شورش محفل iiنہیںیہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیںاس چمن میں مَیں سراپا سوز و ساز iiآرزواور تیری زندگانی بے گداز iiآرزوتوڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیںیہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیںآہ! یہ دست جفا جو اے گل رنگیں iiنہیںکس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیںکام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے iiکیادیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ iiتراسو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور iiہےراز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور iiہےمیری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور iiہےمیں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور iiہےمطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں iiمیںزخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں iiمیںیہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہویہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ iiہوناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ iiہورشک جام جم مرا آیئنۂ حیرت نہ ہویہ تلاش متصل شمع جہاں افروز iiہےتوسن ادراک انساں کو خرام آموز iiہے
۲
عہد طفلی بانگِ درا عہد طفلی علاّمہ محمّد اقبال تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیےوسعت آغوش مادر اک جہاں میرے iiلیےتھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے iiلیےحرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیےدرد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا iiمجھےشورش زنجیر در میں لطف آتا تھا iiمجھےتکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے iiقمروہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا iiسفرپوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی iiخبراور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز iiپرآنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار iiتھادل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار iiتھا
۳
مرزا غالب بانگِ درا مرزا غالب علاّمہ محمّد اقبال فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن iiہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا iiکجاتھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر iiترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی iiرہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور iiہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت iiکوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی iiبہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ iiوارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر iiمیںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر iiمیںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز iiپرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز iiپرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز iiپرآہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ iiہےلطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن iiنہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم iiنشیںہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر iiزمیںآہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ iiبیںگیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ iiہےشمع یہ سودائی دل سوزیِ پروانہ ہےاے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و iiہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و iiدرذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و iiقمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں iiگہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی iiہے؟تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی iiہے؟
۴
ابر کوہسار بانگِ درا ابر کوہسار علاّمہ محمّد اقبال ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میراابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن iiمیراکبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میراشہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن iiمیراکسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ iiکوسبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ iiکومجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں iiہوناناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں iiہوناغم زدائے دل افسردۂ دہقاں iiہونارونق بزم جوانان گلستاں iiہونابن کے گیسو رخ ہستی پہ بکھر جاتا iiہوںشانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا iiہوںدور سے دیدۂ امید کو ترساتا iiہوںکسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا iiہوںسیر کرتا ہوا جس دم لب جو آتا iiہوںبالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا iiہوںسبزۂ مزرع نوخیز کی امید ہوں iiمیںزادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشید ہوں iiمیںچشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم میں iiنےاور پرندوں کو کیا محو ترنم میں iiنےسر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نےغنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم میں iiنےفیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں iiکےجھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں iiکے
۵
ایک مکڑا اور مکھی بانگِ درا ماخوذ - بچوں کے لیے ایک مکڑا اور مکھی علاّمہ محمّد اقبال اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا iiمکڑااس راہ سے ہوتا ہے گزر روز iiتمھارالیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی iiقسمتبھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ iiرکھاغیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں iiہےاپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ iiرہناآؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ iiمیریوہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو iiآنامکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو iiبولیحضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ iiدھوکااس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہےجو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا ، پھر نہیں iiاترامکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھےتم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو iiگامنظور تمھاری مجھے خاطر تھی iiوگرنہکچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھااڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں iiسےٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں iiچیزیںباہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ iiکٹیالٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردےدیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے iiسجایامہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں iiبچھونےہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں iiہوتامکھی نے کہا خیر ، یہ سب ٹھیک ہے iiلیکنمیں آپ کے گھر آؤں ، یہ امید نہ iiرکھناان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو iiبچائےسو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتامکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس iiکیپھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے iiداناسو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں iiمیںدیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندایہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی ii!اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتباہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے iiمحبتہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو iiدیکھاآنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی iiکنیاںسر آپ کا اللہ نے کلغی سے iiسجایایہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ iiصفائیپھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے iiگانامکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو iiپسیجیبولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکاانکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا iiمیںسچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں iiہوتایہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ iiسےپاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے iiپکڑابھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو iiآئیآرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو iiاڑایا
۶
ایک پہاڑ اور گلہری بانگِ درا (ماخوذ از ایمرسن)
(بچوں کے لیے) ایک پہاڑ اور گلہری علاّمہ محمّد اقبال کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری iiسےتجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرےذرا سی چیز ہے ، اس پر غرور ، کیا iiکہنایہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا iiکہنا!خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن iiبیٹھیںجو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیںتری بساط ہے کیا میری شان کے iiآگےزمیں ہے پست مری آن بان کے iiآگےجو بات مجھ میں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاںبھلا پہاڑ کہاں جانور غریب iiکہاں!کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال iiذرایہ کچی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال iiذراجو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا iiپروانہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح iiچھوٹاہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت iiہےکوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت iiہےبڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس iiنےمجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس iiنےقدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ iiمیںنری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کیا تجھ iiمیںجو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ iiکویہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ iiکونہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے iiمیںکوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے iiمیں
۷
ایک گائے اور بکری بانگِ درا (ماخوذ )بچوں کے لیے ایک گائے اور بکری علاّمہ محمّد اقبال اک چراگہ ہری بھری تھی کہیںتھی سراپا بہار جس کی iiزمیںکیا سماں اس بہار کا ہو iiبیاںہر طرف صاف ندیاں تھیں iiرواںتھے اناروں کے بے شمار iiدرختاور پیپل کے سایہ دار iiدرختٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی iiتھیںطائروں کی صدائیں آتی iiتھیںکسی ندی کے پاس اک iiبکریچرتے چرتے کہیں سے آ iiنکلیجب ٹھہر کر ادھر ادھر iiدیکھاپاس اک گائے کو کھڑے پایاپہلے جھک کر اسے سلام iiکیاپھر سلیقے سے یوں کلام iiکیاکیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیںگائے بولی کہ خیر اچھے iiہیںکٹ رہی ہے بری بھلی iiاپنیہے مصیبت میں زندگی iiاپنیجان پر آ بنی ہے ، کیا iiکہیےاپنی قسمت بری ہے ، کیا iiکہیےدیکھتی ہوں خدا کی شان کو میںرو رہی ہوں بروں کی جان کو میںزور چلتا نہیں غریبوں iiکاپیش آیا لکھا نصیبوں iiکاآدمی سے کوئی بھلا نہ iiکرےاس سے پالا پڑے ، خدا نہ iiکرےدودھ کم دوں تو بڑبڑاتا iiہےہوں جو دبلی تو بیچ کھاتا iiہےہتھکنڈوں سے غلام کرتا iiہےکن فریبوں سے رام کرتا iiہےاس کے بچوں کو پالتی ہوں iiمیںدودھ سے جان ڈالتی ہوں iiمیںبدلے نیکی کے یہ برائی iiہےمیرے اللہ! تری دہائی iiہےسن کے بکری یہ ماجرا سارابولی ، ایسا گلہ نہیں اچھابات سچی ہے بے مزا iiلگتیمیں کہوں گی مگر خدا iiلگتییہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی iiہوایہ ہری گھاس اور یہ iiسایاایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاںیہ کہاں ، بے زباں غریب iiکہاں!یہ مزے آدمی کے دم سے iiہیںلطف سارے اسی کے دم سے iiہیںاس کے دم سے ہے اپنی iiآبادیقید ہم کو بھلی ، کہ iiآزادی!سو طرح کا بنوں میں ہے iiکھٹکاواں کی گزران سے بچائے iiخداہم پہ احسان ہے بڑا اس iiکاہم کو زیبا نہیں گلا اس iiکاقدر آرام کی اگر iiسمجھوآدمی کا کبھی گلہ نہ iiکروگائے سن کر یہ بات iiشرمائیآدمی کے گلے سے iiپچھتائیدل میں پرکھا بھلا برا اس نےاور کچھ سوچ کر کہا اس iiنےیوں تو چھوٹی ہے ذات بکری iiکیدل کو لگتی ہے بات بکری iiکی
۸
بچے کی دعا بانگِ درا (ماخوذ )بچوں کے لیے بچے کی دعا علاّمہ محمّد اقبال لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا iiمیریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میریدور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو iiجائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائےہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی iiزینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینتزندگی ہو مری پروانے کی صورت یا iiربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا ربہو مرا کام غریبوں کی حمایت iiکرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنامرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ iiکو
۹
ہمدردی بانگِ درا ( ماخوذ از ولیم کو پر )
بچوں کے لیے ہمدردی علاّمہ محمّد اقبال ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہابلبل تھا کوئی اداس iiبیٹھاکہتا تھا کہ رات سر پہ iiآئیاڑنے چگنے میں دن گزاراپہنچوں کس طرح آشیاں تکہر چیز پہ چھا گیا اندھیراسن کر بلبل کی آہ و زاریجگنو کوئی پاس ہی سے iiبولاحاضر ہوں مدد کو جان و دل سےکیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا iiساکیا غم ہے جو رات ہے iiاندھیریمیں راہ میں روشنی کروں iiگااللہ نے دی ہے مجھ کو iiمشعلچمکا کے مجھے دیا iiبنایاہیں لوگ وہی جہاں میں اچھےآتے ہیں جو کام دوسرں کے
۱۰
ماں کا خواب بانگِ درا (ماخوذ بچوں کے لیے ) ماں کا خواب علاّمہ محمّد اقبال میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواببڑھا اور جس سے مرا iiاضطرابیہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی iiنہیںلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محالجو کچھ حوصلہ پا کے آگے iiبڑھیتو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھیزمرد سی پوشاک پہنے iiہوئےدیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئےوہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے iiرواںخدا جانے جانا تھا ان کو iiکہاںاسی سوچ میں تھی کہ میرا iiپسرمجھے اس جماعت میں آیا iiنظروہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ iiتھادیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ iiتھاکہا میں نے پہچان کر ، میری iiجاں!مجھے چھوڑ کر آ گئے تم iiکہاں!جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرارپروتی ہوں ہر روز اشکوں کے iiہارنہ پروا ہماری ذرا تم نے iiکیگئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کیجو بچے نے دیکھا مرا پیچ و iiتابدیا اس نے منہ پھیر کر یوں جوابرلاتی ہے تجھ کو جدائی iiمرینہیں اس میں کچھ بھی بھلائی iiمرییہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہادیا پھر دکھا کر یہ کہنے iiلگاسمجھتی ہے تو ہو گیا کیا iiاسے؟ترے آنسوؤں نے بجھایا iiاسے
۱۱
پرندے کی فریاد بانگِ درا (ماخوذ بچوں کے لیے ) پرندے کی فریاد علاّمہ محمّد اقبال آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا iiزماناوہ باغ کی بہاریں وہ سب کا iiچہچہاناآزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے iiکیاپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانالگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دمشبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا iiمسکراناوہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی iiمورتآباد جس کے دم سے تھا میرا iiآشیاناآتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میںہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس iiمیں!کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا iiہوںساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا iiہوںآئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی iiہیںمیں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوںاس قید کا الہی! دکھڑا کسے iiسناؤںڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ iiجاؤںجب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا iiہےدل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا iiہےگانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والےدکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا iiہےآزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے iiوالے!میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے
۱۲
خفتگان خاک سے استفسار بانگِ درا خفتگان خاک سے استفسار علاّمہ محمّد اقبال مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے iiشامشانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے iiشامیہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں iiہےمحفل قدرت مگر خورشید کے ماتم میں iiہےکر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار iiپرساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بیدار iiپرغوطہ زن دریاۓ خاموشی میں ہے موج iiہواہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درادل کہ ہے بے تابئ الفت میں دنیا سے iiنفورکھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دورمنظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں iiمیںہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں iiمیںتھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے iiمجھےاور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے iiمجھےاے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو iiتمکچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تموہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟اور پیکار عناصر کا تماشا ہے کوئی؟آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور iiکیا؟اس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور iiکیا؟واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ iiکیا؟اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ iiکیا؟یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دلشعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگل جاتا ہے iiدل؟رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار iiہیںاس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار iiہیں؟اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہےروح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟کیا وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟قافلے والے بھی ہیں ، اندیشۂ رہزن بھی iiہے؟تنکے چنتے ہیں و ہاں بھی آشیاں کے iiواسطے؟خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے iiواسطے؟واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں iiکیا؟امتیاز ملت و آئیں کے دیوانے ہیں iiکیا؟واں بھی کیا فریاد بلبل پر چمن روتا iiنہیں؟اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا iiنہیں؟باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام iiہے؟کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب iiہے؟آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصد تادیب ہے؟کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز iiہے؟موت کہتے ہیں جسے اہل زمیں ، کیا راز ہے ii؟اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود iiہےعلم انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود iiہے؟دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور iiبھی؟"لن ترانی" کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور iiبھی؟جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام iiکیا؟واں بھی انساں ہے قتیل ذوق استفہام iiکیا؟آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور iiہے؟یا محبت کی تجلی سے سراپا نور iiہے؟تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں iiہےموت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے
۱۳
شمع و پروانہ بانگِ درا شمع و پروانہ علاّمہ محمّد اقبال پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوںیہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار iiکیوںسیماب وار رکھتی ہے تیری ادا iiاسےآداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا iiاسے؟کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ iiکاپھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ iiکا؟آزار موت میں اسے آرام جاں ہے iiکیا؟شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے iiکیا؟غم خانۂ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہواس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہوگرنا ترے حضور میں اس کی نماز iiہےننھے سے دل میں لذت سوز و گداز iiہےکچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم iiہےچھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم iiہےپروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنیکیڑا ذرا سا ، اور تمنائے iiروشنی!
۱۴
عقل و دل بانگِ درا عقل و دل علاّمہ محمّد اقبال عقل نے ایک دن یہ دل سے iiکہابھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میںہوں زمیں پر ، گزر فلک پہ iiمرادیکھ تو کس قدر رسا ہوں iiمیںکام دنیا میں رہبری ہے مرامثل خضر خجستہ پا ہوں iiمیںہوں مفسر کتاب ہستی iiکیمظہر شان کبریا ہوں iiمیںبوند اک خون کی ہے تو iiلیکنغیرت لعل بے بہا ہوں میںدل نے سن کر کہا یہ سب سچ iiہےپر مجھے بھی تو دیکھ ، کیا ہوں میںراز ہستی کو تو سمجھتی iiہےاور آنکھوں سے دیکھتا ہوں iiمیںہے تجھے واسطہ مظاہر iiسےاور باطن سے آشنا ہوں میںعلم تجھ سے تو معرفت مجھ iiسےتو خدا جو ، خدا نما ہوں iiمیںعلم کی انتہا ہے بے iiتابیاس مرض کی مگر دوا ہوں میںشمع تو محفل صداقت کیحسن کی بزم کا دیا ہوں میںتو زمان و مکاں سے رشتہ iiبپاطائر سدرہ آشنا ہوں iiمیںکس بلندی پہ ہے مقام مراعرش رب جلیل کا ہوں میں!
۱۵
صدائے درد بانگِ درا صدائے درد علاّمہ محمّد اقبال جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو iiمجھےہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو iiمجھےسرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز iiہےوصل کیسا ، یاں تو اک قرب فراق انگیز iiہےبدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے iiغضبایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے iiغضبجس کے پھولوں میں اخوت کی ہوا آئی iiنہیںاس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی iiنہیںلذت قرب حقیقی پر مٹا جاتا ہوں iiمیںاختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں iiمیںدانۂ نم خرمن نما ہے شاعر معجز iiبیاںہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر iiکہاںحسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ iiہوشمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہوذوق گویائی خموشی سے بدلتا کیوں iiنہیںمیرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیںکب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے!پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پیکار iiنے
۱۶
آفتاب بانگِ درا (ترجمہ گایتری ) آفتاب
علاّمہ محمّد اقبال اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے توشیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے iiتوباعث ہے تو وجود و عدم کی نمود iiکاہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود iiکاقائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے iiہےہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہےہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات iiہےتیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات iiہےوہ آفتاب جس سے زمانے میں نور iiہےدل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہےاے آفتاب ، ہم کو ضیائے شعور iiدےچشم خرد کو اپنی تجلی سے نور iiدےہے محفل وجود کا ساماں طراز iiتویزدان ساکنان نشیب و فراز iiتوتیرا کمال ہستی ہر جاندار iiمیںتیری نمود سلسلۂ کوہسار میںہر چیز کی حیات کا پروردگار iiتوزائیدگان نور کا ہے تاجدار iiتونے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا iiتریآزاد قید اول و آخر ضیا iiتری
۱۷
شمع بانگِ درا شمع علاّمہ محمّد اقبال بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! iiدردمندفریاد در گرہ صفت دانۂ iiسپنددی عشق نے حرارت سوز دروں iiتجھےاور گل فروش اشک شفق گوں کیا iiمجھےہو شمع بزم عیش کہ شمع مزار iiتوہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار iiتویک بیں تری نظر صفت عاشقان iiرازمیری نگاہ مایۂ آشوب iiامتیازکعبے میں ، بت کدے میں ہے یکساں تری ضیامیں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا iiہواہے شان آہ کی ترے دود سیاہ میںپوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ iiمیں؟جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور iiہےبے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نور iiہےتو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر iiنہیںبینا ہے اور سوز دروں پر نظر iiنہیںمیں جوش اضطراب سے سیماب وار iiبھیآگاہ اضطراب دل بے قرار iiبھیتھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز iiکااحساس دے دیا مجھے اپنے گداز iiکایہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے iiقرارخوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے iiہزاریہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے iiہےگل میں مہک ، شراب میں مستی اسی سے iiہےبستان و بلبل و گل و بو ہے یہ iiآگہیاصل کشاکش من و تو ہے یہ iiآگہیصبح ازل جو حسن ہوا دلستان iiعشقآواز "کن" ہوئی تپش آموز جان iiعشقیہ حکم تھا کہ گلشن "کن" کی بہار iiدیکھایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار iiدیکھمجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود iiکیشام فراق صبح تھی میری نمود iiکیوہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ iiتھازیب درخت طور مرا آشیانہ تھاقیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں iiمیںغربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میںیاد وطن فسردگی بے سبب iiبنیشوق نظر کبھی ، کبھی ذوق طلب iiبنیاے شمع! انتہائے فریب خیال iiدیکھمسجود ساکنان فلک کا مآل iiدیکھمضموں فراق کا ہوں ، ثریا نشاں ہوں iiمیںآہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں iiمیںباندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری iiنمودتحریر کر دیا سر دیوان ہست و iiبودگوہر کو مشت خاک میں رہنا پسند iiہےبندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند iiہےچشم غلط نگر کا یہ سارا قصور iiہےعالم ظہور جلوۂ ذوق شعور iiہےیہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند iiہےطوق گلوئے حسن تماشا پسند iiہےمنزل کا اشتیاق ہے ، گم کردہ راہ iiہوںاے شمع ! میں اسیر فریب نگاہ ہوںصیاد آپ ، حلقۂ دام ستم بھی iiآپبام حرم بھی ، طائر بام حرم بھی iiآپ!میں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوںکھلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز iiہوںہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن iiکہیںپھر چھڑ نہ جائے قصۂ دار و رسن iiکہیں
۱۸
ایک آرزو بانگِ درا ایک آرزو علاّمہ محمّد اقبال دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا iiربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا iiہوشورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے iiمیراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا iiہومرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے iiمیریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا iiہوآزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن iiگزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا iiہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں iiمیںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا iiہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی iiکاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما iiہوہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو iiبچھوناشرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا iiہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا iiہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے iiہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کہسار کا iiنظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا iiہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو iiسبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا iiہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن iiکوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا iiہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس iiدمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا iiہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا iiدےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا iiہوپچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی iiمؤذنمیں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا iiاحساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما iiہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا iiہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند iiنالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا iiدےبے ہوش جو پڑے ہیں ، شاید انھیں جگا iiدے
۱۹
آفتاب صبح بانگِ درا آفتاب صبح علاّمہ محمّد اقبال شورش میخانۂ انساں سے بالاتر ہے iiتوزینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے iiتوہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے iiتوجس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے iiتو=صفحۂ ایام سے داغ مداد شب iiمٹاآسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب iiمٹاحسن تیرا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گرآنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا iiاثرنور سے معمور ہو جاتا ہے دامان iiنظرکھولتی ہے چشم ظاہر کو ضیا تیری مگرڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیےچشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا iiچاہیےشوق آزادی کے دنیا میں نہ نکلے iiحوصلےزندگی بھر قید زنجیر تعلق میں iiرہےزیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے iiلیےآرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی iiمجھےآنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہوامتیاز ملت و آئیں سے دل آزاد iiہوبستۂ رنگ خصوصیت نہ ہو میری زباںنوع انساں قوم ہو میری ، وطن میرا iiجہاںدیدۂ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عیاںہو شناسائے فلک شمع تخیل کا iiدھواںعقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھےحسن عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے iiمجھےصدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو iiاگراشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے iiاثردل میں ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شررنور سے جس کے ملے راز حقیقت کی خبرشاہد قدرت کا آئینہ ہو ، دل میرا نہ iiہوسر میں جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ iiہوتو اگر زحمت کش ہنگامۂ عالم نہیںیہ فضیلت کا نشاں اے نیر اعظم iiنہیںاپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہیںہمسر یک ذرۂ خاک در آدم iiنہیںنور مسجود ملک گرم تماشا ہی iiرہااور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہاآرزو نور حقیقت کی ہمارے دل میں iiہےلیلی ذوق طلب کا گھر اسی محمل میں iiہےکس قدر لذت کشود عقدۂ مشکل میں iiہےلطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل میں ہےدرد استفہام سے واقف ترا پہلو iiنہیںجستجوئے راز قدرت کا شناسا تو iiنہیں
۲۰