علقمہ کےساحل پر

علقمہ کےساحل پر0%

علقمہ کےساحل پر مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 21

علقمہ کےساحل پر

مؤلف: مختلف شعراء
زمرہ جات:

صفحے: 21
مشاہدے: 1874
ڈاؤنلوڈ: 273

تبصرے:

علقمہ کےساحل پر
  • شاہد اکبر پوری

  • شاہد صدیقی

  • شاہد نقدی

  • شبنم رومانی

  • میر شجاعت علی خاں معظم جاہ شجیع شہزادۂ سلطنتِ آصفیہ

  • سید احمد حسین شفیق لکھنوی عرف ننھو

  • محمد سعید شفیق بریلوی

  • شکیل بدایونی

  • شمیم امروہوی

  • منظور حسین شور

  • شورش کاشمیری

  • مرزا محمد اشفاق شوق لکھنوی

  • شوکت تھانوی

  • مرزا شوکت حسین شوکت لکھنوی

  • شہاب کاظمی

  • منوّر عباس شہاب

  • امتہ المحدی بیگم شہرت حیدرآبادی

  • محرّم علی شہرت نو گانوی

  • میر مہدی علی شہید لکھنوی شہید یار جنگ

  • مرزا صادق حسین شہید لکھنوی

  • سید قمر حسین عرف چھٹن صاحب شیفتہ لکھنوی

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 21 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 1874 / ڈاؤنلوڈ: 273
سائز سائز سائز
علقمہ کےساحل پر

علقمہ کےساحل پر

مؤلف:
اردو
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شاہد اکبر پوری آیۂ تطہیر نے ہر زخم دل پر لے لیاجب حرم سے ظلم نے اعزازِ چادر لے iiلیااپنے ہی سینے میں شاید قلبِ مادر لے لیاکیسے اذنِ مرگ تو نے ماں سے اکبر(ع) لے iiلیاکہہ رہا ہے سجدۂ آخر یہ شہ(ع) کا آج iiتکدستِ بیعت تو نہ پایا ظلم نے سر لے iiلیاعکس بھی ان پر نہ آئے گا ترا موجِ iiفراتجن لبوں کی تشنگی نے رنگِ کوثر لے iiلیانہر تو اس طرح لے لوں گا کہا عباس(ع) نےجیسے اک حملے میں کل بابا نے خیبر لے لیاایک انگڑائی جو آئی آخرت کی یاد iiمیںحر(ع) نے پائے شاہ(ع) سے اپنا مقدّر لے iiلیاجنت و کوثر ہیں اُس شبیر(ع) کی اب iiسلطنتجس نے تاجِ آخرت سجدے سے اٹھ کر لے لیا
مسکرا اٹھے شہادت پر وہب(ع) اس وقت جب’’کہہ کے بسم اللہ ماں نے گود میں سر لے iiلیا‘‘موت کے شیریں لبوں نے زیست کے بوسے iiلئےشہ(ع) سے جب اذنِ وغا قاسم(ع) نے بڑھ کر لے iiلیاخشک ہونٹوں پر زباں اصغر(ع) جو تو نے پھیر iiدیاک تبسم نے تیرے ہاتھوں میں لشکر لے iiلیاخوں سکینہ(ع) کی لوئوں سے دیر تک بہتا iiرہاکان زخمی کرکے یوں ظالم نے گوہر لے iiلیافکرِ قرآں ، سیرتِ شبیر(ع)، کردارِ رسول(س)جیسے اک کوزے میں شاہد نے سمندر لے iiلیا



مقصدِ شبیر(ع) جو دیتا ہے وہ پیغام لوبن کے حر(ع) دستِ عمل سے شہ(ع) کا دامن تھام iiلودیتے ہیں پیغام یہ ابتک بہتّر تشنہ iiلبموت کے ہاتھوں سے بڑھ کر زندگی کا جام iiلوہر غمِ دوراں کو دو شبیر(ع) کے غم سے iiجوابآنسوئوں سے انتقامِ گردش ایام لومعنی و تفسیرِ کعبہ ہے کتابِ iiکربلابعدِ احمد(س) کربلا کی خاک سے اسلام iiلوفیصلہ ہوگا قیامت میں کہ مجرم کون iiہےدشمنِ آلِ(ع) پیمبر(س) جو بھی دے الزام iiلوتم کو فکرِ زندگی ہے ہم کو فکرِ iiآخرتہم وہاں آرام لیں گے تم یہاں آرام لومنزلِ عشقِ علی(ع) ہی منزلِ ایمان iiہےجانچ لو اپنے عمل کو پھر علی(ع) کا نام iiلوشرک و بدعت اور ذکرِ معنیٔ ذبحِ عظیمآیتِ قرآں نہ جھٹلائو خدا کا نام iiلوچھین کر دریا کہا عباس(ع) نے یوں فوج iiسےلے سکو تو مجھ سے دریا بڑھ کے اب دو گام iiلوجارہے ہیں پیش کرنے حجتِ آخر iiحسین(ع)اے علی اصغر(ع) نہ اب جھولے میں تم آرام iiلوآخرت کی زندگی شاہد رہے پیشِ نظرمدحِ مولا(ع) میں نہ دنیا سے کوئی انعام iiلو



کربلا ہیں تجھ میں ایسے رہ نما ٹھہرے iiہوئےگردشوں پر بھی ہیں جن کے نقشِ پا ٹھہرے iiہوئےآج تک آنکھوں میں ہیں اشکِ عزا ٹھہرے iiہوئےاک جہاں میں ہم ہیں بس غم آشنا ٹھہرے iiہوئےدیتے ہیں راہِ عمل سے یہ صدا اب تک iiحسین(ع)ہم شفاعت کو ہیں تا روزِ جزا ٹھہرے iiہوئےاڑ رہا ہے جس بلندی پر َعلم عباس(ع) iiکااب اسی مرکز پہ ہیں اہلِ وفا ٹھہرے ہوئےدو جہاں سے لے چکی بیعت وفا عباس(ع) iiکیدو کٹے ہاتھوں پہ ہیں ارض و سما ٹھہرے iiہوئےبڑھتے ہیں اپنی جگہ سے شہ(ع) بہ الطاف و iiکرمحر(ع) پشیماں ہورہے ہیں اپنی جا ٹھہرے iiہوئےان پہ کیا گزرے گی تیری اٹھتی موجیں دیکھ iiکرسامنے پیاسے جو ہیں اے علقمہ ٹھہرے iiہوئےجنگِ قاسم(ع) دیکھ کر حیرت سے کہتے تھے iiعدوکم سنی میں بھی ہیں ان کے وار کیا ٹھہرے iiہوئےآرہے ہیں لاش پر بابا یہ اکبر(ع) نے کہا iiقلبِ مضطر اور کچھ رہنا ، ذرا ٹھہرے iiہوئےدل کی ہر دھڑکن میں اب تک سو رہی ہے اس کی یادجس کا جھولا اک زمانہ ہوگیا ٹھہرے iiہوئےٹھوکریں کھاتے زمانے بھر کی شاہد کس iiلیےجب درِ شبیر(ع) پر سب مل گیا ٹھہرے iiہوئے


اشکِ غم میں شہ(ع) کے ایسی ضوفشانی iiچاہیےکچھ عمل میں سیرتِ شبیر(ع) آنی iiچاہیےوہ سمجھ لیں کربلا میں آکے مفہومِ iiحیاتجن کو دارِ آخرت کی زندگانی iiچاہیےجاگ اٹھا کہہ کر شبِ عاشور یہ حر(ع) کا iiضمیرصبح پائے شہ(ع) پہ قسمت آزمانی iiچاہیےمشورے اصحابِ شہ(ع) میں تھے شبِ عاشور iiیہکل ہر اک آفت ہمیں پر پہلے آنی چاہیےفوج کہتی تھی کوئی ساحل پہ آسکتا iiنہیںغیض کہتا تھا جری(ع) کا ہم کو پانی iiچاہیےشرم آئے گی سکینہ(ع) سے کہا عباس(ع) iiنےلاش خیمے میں مری آقا نہ جانی iiچاہیے
کرکے صبر و شکر رن کو بھیجے دیتے ہیں iiحسین(ع)’’موت جب کہتی ہے اکبر(ع)کی جوانی iiچاہیے‘‘
حرملہ کے تیر سے اصغر(ع) نے ہنس کر یہ iiکہایہ تو تھی اتمامِ حجت کس کو پانی iiچاہیےقبضۂ شبیر(ع) ہے ہر دل پہ شاہد آج iiتکبادشاہِ دیں (س) کو ایسی حکمرانی iiچاہیے


ذکرِ غم حسین(ع) کی عظمت نہ iiپوچھئےاہلِ عزا کی خوبیٔ قسمت نہ iiپوچھئےمَس ہوگئی ہے جن کی عقیدت حسین(ع) iiسےان کے دل و نظر کی طہارت نہ iiپوچھئےنکلے درِ حسین(ع) سے جنت کے قافلےہٹ کر یہاں سے راہِ ہدایت نہ iiپوچھئےرکھئے ولائے آلِ محمد(س) کی iiروشنیورنہ اندھیری قبر کی وحشت نہ iiپوچھئےکشتیٔ اہلبیت(ع) میں جب مل چکی پناہدنیا سے اب نجات کی صورت نہ پوچھئےدامن میں فاطمہ(س) کے ہے تقدیرِ iiکائنات’’اشکِ غم حسین(ع) کی قیمت iiنہپوچھئے’’تڑپی تھی ایک برق سی انکارِ شاہ(ع) iiکیپھر کیا ہوا نتیجۂ بیعت نہ iiپوچھئےٹھوکر میں اپنی چھوڑ کے منصب جو حر(ع) iiچلاقدموں میں شہ(ع) کے اس کی ندامت نہ پوچھئےجھولے سے جس نے خود کو مچل کر iiگرادیااس بے زباں (ع) کا جذبۂ نصرت نہ پوچھئےاصغر(ع) کی لاش خاک میں رکھ کر حسین(ع) iiنےکیسے بنائی ننھی سی تربت نہ iiپوچھئےسکتہ میں شام آگیا کوفہ لرز اٹھابنتِ(س) علی(ع) کا زورِ خطابت نہ iiپوچھئےمیزانِ غم حسین(ع) ہے اعمال iiجانچئے’’اشکِ غمِ حسین(ع) کی قیمت نہ iiپوچھئے’’شاہد بقائے مقصدِ شبیر(ع) کے لئےہے کس قدر عمل کی ضرورت نہ iiپوچھئے
۱
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شاہد صدیقی جفا کی ظلمت طرازیوں میں وفا کی شمعیں جلا رہے iiہیں
حسین(ع) نورِ حیات بن کر تمام عالم پہ چھا رہے ہیں

یہ کس مسافر نے جان دے کر بتا دیا ہے سراغِ منزل
یہ کون گذرا ہے کربلا سے کہ راستے جگمگا رہے iiہیں

حسین(ع) کے ساتھیوں کی راہوں میں حشر تک روشنی رہے گی
یہ اہلِ ہمت ہوا کے رخ پر چراغ اپنا جلا رہے iiہیں

خود آگہی منزلِ حضوری مقامِ غفلت مقامِ iiدوری
شعور بیدار ہورہا ہے حسین(ع) نزدیک آ رہے iiہیں

یہ ظلمت و نور کا تصادم ازل سے جاری ہے اس جہاں
یزید شمعیں بجھا رہا ہے حسین(ع) شمعیں جلا رہے iiہیں

علی(ع) کو آواز دے کے اٹھئے اگر نہیں ہے کوئی سہارا
حسین(ع) کا نام لیکے بڑھئے اگر قدم لڑکھڑا رہے ہیں

امامِ(ع) برحق کا ہر زمانہ میں ربط ہے کاروبارِ حق iiسے
پیمبری(ص) ختم ہو چکی ہے مگر پیامات آ رہے iiہیں

مری نگاہوں میں بزمِ ماتم بھی منزلِ امتحاں ہے iiشاہد
جنہیں مشیت نے آزمایا وہ اب ہمیں آزما رہے iiہیں
۲
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شاہد نقدی مسافر گر چرالیں اپنی نظریں علم کے در iiسےتو سارے رابطے کٹ جائیں امت کے پیمبر(ص) سےعلی(ع) کے روئے اقدس میں ہے جلوہ ہر پیمبر(ص) iiکانظر ڈالی علی(ع) پر مل لیے ایک اک پیمبر(ص) iiسےذرا نامِ مقابل پوچھ لے قبلِ وغا iiمرحبتری ماں نے کہا تھا بچ کے رہنا تیغ حیدر(ع) iiسےدلائل میں نصیری کے یقینا وزن ہے iiلیکنجو وہ کہتا ہے میں کہتا نہیں اللہ کے ڈر iiسےسرِ منبر نبی(ص) کے بعد دنیا آئی تو لیکننہ ہو پانی ہے جس بادل میں وہ برسے تو کیا برسےخدا وندا مسلماں کو وہ چشمِ دور رس دے iiدےکہ دشتِ خم نظر آنے لگے ہجرت کے بستر iiسےعلی(ع) کا مثل کوئی ڈھونڈ کر لائے تو ہم iiجانیںخدا سازی تو آساں ہے بنا لیتے ہیں پتھر iiسےنظر آئے نہ آئے کوئی ہادی اب بھی ہے iiشاہدنہ ہوگر حجتِ قائم(ع) زمیں ہٹ جائے محور سے
۳
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شبنم رومانی جب دکھائے اسد اللہ نے تلوار کے iiہاتھخشک پتے نظر آنے لگے اغیار کے iiہاتھدیکھتا ہوں جو کسی رحل پہ قرآنِ iiکریمچوم لیتا ہوں تصور میں علمدار(ع) کے ہاتھدیکھتے رہ گئے اربابِ جفا حیرت iiسےبک گئے اہلِ وفا سیدِ ابرار(ع) کے iiہاتھایک اک ہاتھ تھا تلوار کا صد خشتِ iiحرمیوں بھی تعمیر کیا کرتے ہیں معمار کے ہاتھہائے وہ جذبِ وفا اُف وہ جنونِ iiایثارخود َعلم ہوگئے میداں میں علمدار(ع) کے iiہاتھظلم کی حد ہے کہ ظالم بھی بلک کر iiرویاکبھی ماتھے پہ تو زانو پہ کبھی مار کے iiہاتھہر برے کام کا انجام برا ہوتا iiہےکس نے دیکھے ہیں بھلا کیفرِ کردار کے ہاتھگھونٹ دیتی ہے گلا وحشتِ احساسِ گناہنکل آتے ہیں اچانک درو دیوار کے ہاتھیوں تو ہوں شاعرِ رومان مگر اے iiشبنمبک گیا ہوں میں کسی یارِ طرحدار کے iiہاتھ
۴
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر میر شجاعت علی خاں معظم جاہ شجیع شہزادۂ سلطنتِ آصفیہ مقابلِ رخِ شہ(ع) آفتاب کیا iiہوگاجوابِ سبط(ع) رسالت(ص) مآب کیا iiہوگانبی(ص) کا حسن ہے شانِ علی(ع) ہے اکبر(ع) iiمیںبس اب سمجھ لو کہ ان کا شباب کیا iiہوگاجو بے حساب کرم ہے ترا تو محشر iiمیںگناہ گاروں کا یارب حساب کیا iiہوگاعلی(ع) وصیٔ نبی(ص) ہیں علی(ع) ولیٔ خدایہ لاجواب ہیں ان کا جواب کیا ہوگالحد نے کی تو ہیں تیاریاں فشار کی آججو آئیں بہرِ مدد بوتراب(ع) کیا iiہوگاتڑپ کے مر گئے بچے حسین(ع) کے پیاسےجہاں میں لاکھ یہ برسے سحاب کیا iiہوگاحرم(ع) رسول(ص) کے دربارِ عام میں ہوں iiکھڑےاب اس سے بڑھ کے بھلا انقلاب کیا iiہوگاملی ہے مجھ کو شجاعت علی(ع) کے صدقے iiمیںشجیع اور جہاں میں خطاب کیا iiہوگا
***
جہانِ ظلم سے اصغر(ع) بھی مسکراکے iiچلےبجھانے آئے تھے پیاس اور تیر کھا کے iiچلےحسینیوں (ع) کے بھی کیسے بڑھے ہوئے دل تھےقریب آئی جو منزل قدم بڑھا کے iiچلےعلم بدوش تھے لشکر کی جان تھے عباس(ع)بہ زورِ تیغ زمیں آسماں ہلا کے iiچلےعلی(ع) کے شیر(ع) تھے ہاتھ اپنے کردیئے iiصدقےخدا کی راہ میں دنیا سے ہاتھ اٹھا کے iiچلےحسین(ع) کو جو سکینہ(ع) وغا میں یاد آئیپلٹ کے خیمہ میں آئے گلے لگا کے iiچلےچلے جو تشنہ لبِ کربلا سوئے iiکوثرلبِ فرات چراغِ وفا جلا کے iiچلےاسی لئے علی اکبر(ع) جہاں میں آئے iiتھےعلی(ع) کی شان شبابِ نبی(ص) دکھا کے iiچلےدلوں پہ داغ عزیزوں کے بازوئوں میں iiرسنعجیب شان سے مہمان کربلا کے iiچلےقبولیت کی سند بھی چلے شجیع کے ساتھسلام روضۂ اقدس پہ جب سنا کے چلے
۵
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شفیق لکھنوی اُمّی ہیں ۔ پیارے صاحب رشید کے چہیتے شاگردوں میں شمار ہے صاحبِ دیوان ہیں ۔ لکھنو کے اُمّی شعراء علقمہ کےساحل پر سید احمد حسین شفیق لکھنوی عرف ننھو کربلا کے دشت میں یوں شاہ(ع) کا ماتم رہاخاک اڑائی دن نے شب کو گریۂ شبنم رہاذوالفقارِ شاہ(ع) کہتی تھی بڑی عابد ہوں iiمیںدشمنوں سے جنگ کرنے میں مرا سر خم iiرہاتم بھی انصارِ شہ(ع) دیں زندۂ جاوید iiہوبعد مر جانے کے تم میں تا قیامت دم iiرہاسربلندوں کے جدا کرتی ہے سر شمشیرِ iiشاہ(ع)دیکھتی جاتی ہے مڑ مڑ کے کہ کس میں دم iiرہاخونِ ناحق کی شہادت دے گا وہ روزِ iiجزاخونِ اصغر(ع) حرملہ کے تیر میں جو جم iiرہااندمالِ زخمِ شاہ(ع) دیں ہے منظورِ iiنظراس لئے آنکھوں میں میری اشک کا مرہم iiرہاکہتا تھا دریا کہ ان کے تر تو ہوں زخمِ iiجگرعکس سے عباس(ع) کے آب رواں یوں تھم iiرہااور خاصانِ خدا گذرے ہیں عالم میں شفیقتا قیامت اک حسین(ع) ابنِ علی(ع) کا غم iiرہا
***
دیواں ہوا مرتب دیکھے گا اک iiزمانہان پڑھ ہوں میں الٰہی عزت مری iiبچانااک لفظِ کن سے تیرا ہر چیز کا iiبناناجیسا کہ تو ہے خالق ویسا ہے iiکارخانہیکتا ہے تو بھی خالق تیرا نبی(ص) iiیگانادنیا میں جس سے پایا اسلام نے iiٹھکاناسب منکروں کے ہاتھوں وہ ظلم کا iiاٹھانایہ اس کا قاعدہ تھا اخلاق کا بتاناتیرا پیام لے کر ہر سمت اس کو iiجاناتو دوست تھا الٰہی دشمن تھا اک iiزمانہایسے نبی(ص) کا یارب ایسا وصی(ع) بناناجس کو امامِ(ع) اوّل کہنے لگا iiزمانہبچوں میں یہ علی(ع) کے تھا فعلِ iiعاشقانہدے دے کے اپنی جانیں اسلام کو iiبچاناان سب نے منکروں کا ستھرائو کردیا iiہےکفار کو تھا مشکل جانوں کا بھی iiبچاناان کو ہی تو نے دی تھی ایسی صفت الٰہیہر دم جہاد کرکے کفارّ کو دباناایمان کے چمن میں یہ معجزہ ہے iiظاہرنامِ کریم ُسن کر کلیوں کا پھول iiجاناایماں کے جوہیں بلبل وہ کررہے ہیں iiکوششاپنا بنا رہے جنت میں آشیاناان کی زباں کی قوت زائد ہو یا iiالٰہیاسلام کا ہے ڈنکا بلبل کا iiچہچاناانساں ہو یا کہ طائر آباد رکھنا ان iiکوپڑھتے ہیں ہر چمن میں جو تیرا ہے iiفساناان پڑھ شفیق یارب آیا ہے تیرے در iiپریہ ہو اثر سخن میں اچھا کہے iiزمانا
***
رہ گئے تنہا تو طعنہ زن ستمگر ہوگئےشاہ(ع) کو زخمِ زباں سب شکلِ نشتر iiہوگئےبحرِ غم میں غرق یہ ایسے بہتّر iiہوگئےکشتیٔ اسلام کے مضبوط لنگر iiہوگئےرونے والے شاہ(ع) کے کہنے لگے روزِ iiجزاآنسوئوں نے یہ ترقی کی کہ گوہر iiہوگئےان کے باعث سے بڑی اسلام میں رونق iiہوئیجو بہتّر فدیۂ دینِ پیمبر(ص) iiہوگئےکہتی تھی زینب(ع) ابھی عون(ع) و محمد(ع) طفل ہیںجنگ میں پہلے پہل کیسے دلاور iiہوگئےننگے سر دیکھا جو آلِ(ع) مصطفی(ص) کو راہ iiمیںخاک سے اٹھ کر بگولے شکلِ چادر iiہوگئےحضرتِ اصغر(ع) کے مرنے میں عجب اعجاز iiتھاجان دے کر یہ بزرگوں کے برابر iiہوگئےکہتی تھی بانو(ص) علی اکبر(ع) سے شادی ہو iiکہیںاب جواں نامِ خدا تم جانِ مادر iiہوگئےشہ(ع) کے صدقے میں گنہ گاروں کو بخشے گا iiخداجس قدر بگڑے تھے وہ سیدھے مقدر iiہوگئےیاد تو ہوں گی تجھے دستِ خدا کی iiقوتیںکس قدر ٹکڑتے ترے اے بابِ خیبر iiہوگئےیہ عقیدہ ہے مرا میں صاف کہتا ہوں iiشفیقباوفا عالم میں عباس(ع) دلاور iiہوگئے
۶
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر محمد سعید شفیق بریلوی یہ کون شخص ہے کیسا دکھائی دیتا ہےکہ جو بھی دیکھے ہی، اپنا دکھائی دیتا iiہےہے کتنی صدیوں کا گرد و غبار چہرہ iiپریہ مہر پھر بھی چمکتا دکھائی دیتا ہےجو کام آنہ سکا چند تشنہ کاموں iiکےہمیں وہ نام کا دریا دکھائی دیتا iiہےکسی کو خوں کی ضرورت کسی کو پانی iiکیجسے بھی دیکھو وہ پیاسا دکھائی دیتا iiہےنہ جانے خیمہ میں یہ کیسے لوگ بیٹھے iiہیںکہ شمع گل ہے ، اُجالا دکھائی دیتا iiہےہیں اس گھرانے کے سب لوگ ایک قامت کےکہ جو بھی آتا ہے اونچا دکھائی دیتا ہےکوئی علیؑ کے ہے خوابوں کی ہو بہو تعبیرکوئی نبی(ص) کا سراپا دکھائی دیتا iiہےنہ کچھ تھکن کے ہیں آثار اور نہ موت کا iiڈرہر ایک چہرہ شگفتہ دکھائی دیتا iiہےعجیب شان ہے ان چند مرنے والوں iiکیکہ زرد موت کا چہرہ دکھائی دیتا iiہےلرز رہے ہیں عدو، دیکھو ذوالفقار نہ iiہوہمیں تو ہاتھوں پہ ّبچہ دکھائی دیتا iiہےنہ جانے کیوں اسے بیمار لوگ کہتے iiہیںہمیں یہ شخص مسیحا دکھائی دیتا iiہےشفیق کس کا کرم ہے کہ تیری قسمت کابلندیوں پہ ستارا دکھائی دیتا iiہے
۷
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شکیل بدایونی نظر وابستۂ ماہِ محرّم ہوتی جاتی ہےسلامی بزمِ ہستی بزمِ ماتم ہوتی جاتی ہےطبیعت خود بہ خود دلداۂ غم ہوتی جاتی iiہےصدائے دل صدائے سوزِ ماتم ہوتی جاتی ہےہوائے دہر کی خوں نابہ افشانی ارے توبہخزاں بر کف بہارِ بزمِ عالم ہوتی جاتی ہےاُدھر صرفِ ستم گیسو بریدہ فوجِ شامی iiہےاِدھر تیغِ برہنہ اور برہم ہوتی جاتی iiہےہر اک روحِ جفا ہے خود جفاکار و iiجفاپیشہبلا شک داخلِ قعرِ جہنم ہوتی جاتی ہےشہادت جس کو مدت سے سرافرازی کا ارماں تھاوہ اب پابوسِ محبوبِ دو عالم ہوتی جاتی iiہےحسینِ(ع) پاک کی گردن پہ خنجر چلتا جاتا ہےمکمل داستانِ جورِ پیہم ہوتی جاتی ہےخمِ تیغِ قضا محرابِ کعبہ ہے نگاہوں iiمیںجبینِ شوق سجدوں کے لئے خم ہوتی جاتی iiہےخدا شاہد کہ اس ایثار و قربانی کے صدقے iiمیںخدائی واقفِ رازِ دو عالم ہوتی جاتی iiہےزمینِ کربلا کے اُف وہ ہیبت ناک iiنظارےدلوں سے قدرِ محشر واقعی کم ہوتی جاتی ہےحریفانِ علی(ع) وعدہ خلافی کرتے جاتے iiہیںعداوت، جزو خوئے ابنِ آدم ہوتی جاتی iiہےمئے کوثر پلاتے ہیں جنابِ مصطفی(ص) iiشایدعلی اصغر(ع) کے رونے کی صدا کم ہوتی جاتی ہےستم کوشانِ بزدل شیربن بن کر بپھرتے ہیںدلیروں کی جماعت جس قدر کم ہوتی جاتی iiہےترانے عشق کے اتنے ہی دلکش ہوتے جاتے iiہیںصدائے سازِ ہستی جتنی مدھم ہوتی جاتی iiہےجہاں پر جتنے اسرارِ شہادت ُکھلتے جاتے iiہیںشریعت اور محکم اور محکم ہوتی جاتی iiہےشکیل اسلام کے دشمن مٹے اور مٹتے جاتے iiہیںیہ قربانی مسلم تھی مسلم ہوتی جاتی iiہے
۸
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شمیم امروہوی سلامی جاں گزا ہے رنج وغم خاصانِ داور iiکاقلق سبطین(ع) کا ، زہرا(ص) کا، حیدر(ع) کا، پیمبر(ص) iiکاسدا ُشہرہ رہے گا جود و خلق و زورِ حیدر(ع) iiکاقطار و شیر و انگشتر کا، در کا، روح کے َپر iiکاعلی(ع) کی تیغ کے دم سے ہوا ہر معرکہ iiفیصلاحد کا، بدرکا، صفین کا، خندق کا، خیبر iiکایہ پانچوں سورے اے دل، پنجتن(ع) کی شان میں iiآئےقمرکا ، شمس کا ، رحمان کا ، مریم(ع) کا ، کوثر کافدائے شاہ(ع) ہوکر حر(ع) نی، کس کس کا شرف iiپایااویس(ع) و زید(ع) کا ، عمار(ع) کا ، سلماں (ع) کا بوذر(ع) iiکانشاں مٹ کر وفاداری میں کیسا نام نکلا iiہےزہیر(ع) و مسلم(ع) و وہب(ع) و حبیب(ع) و حر(ع) صفدر(ع) کاغلامِ پنجتن(ع) کو ڈر نہیں ان پانچوں چیزوں iiکااجل کا، جاں کنی کا، قبر کا، برزخ کا، محشر کاِملا ہے رونے والوں کو ثواب اک کا آہ کیا iiکیاصلٰوۃ و صوم کا خمس و زکوٰۃ و حجِّ اکبر iiکاسوائے تشنگی شبیر(ع) کو ایک ایک صدمہ iiتھابھتیجوں بھانجوں کا ، بھائی کا ، اکبر(ع) کا ، اصغر(ع) کابرابر زخم پر ہے زخم ، شہ(ع) کے جسمِ اطہر iiپرتبر کا ، تیر کا ، تلوار کا ، نیزے کا ، خنجر iiکاغضب ہے اتنے صدمے ایک جانِ خواہرِ شہ(ع) iiپرردا کا، قید کا، بچوں کا، اکبر(ع) کا، برادر(ع) iiکاسکینہ(ع) لے گئی یہ پانچ داغ اس باغِ عالم iiسےطمانچوں کا، رسن کا، باپ کا، عمّو کا، گوہر iiکاتڑپ کے کہتی تھی بانو(ع)، کروں کس کا کا میں iiماتمجواں کا، طفل کا، داماد کا، دختر کا، شوہر iiکاقیامت ہے نئی بیاہی سہے بچپن میں کیا کیا iiغمپدر کا بھائی کا گھر کا رنڈاپے کا کھلے سر iiکاتہِ خنجر امامِ پاک کو کس کس کا دھیان iiآیابہن کا، بیٹی کا بیمار کا، امت کا ، محضر iiکاتپِ ہجراں میں جلنے کو چراغ اک رہ گیا iiباقینبی(ص) و فاطمہ(ص) کا حیدر(ع) و شبیر(ع) و شبر(ع) کاشمیم اس کلمۂ وحدت کا ہر دم دھیان رکھتا ہےمیں بندہ ایک کا دو تین کا نو کا اکہتر iiکا
***
حیاتِ دو جہاں رسول(ص)نصیبِ این و آں iiحسین(ع)جہاں جہاں جہاں iiرسول(ص)وہاں وہاں وہاں iiحسین(ع)*لب و نظر کی زیب و زینحدیثِ شاہ(ص) iiمشرقینحسین(ع) کی زباں iiرسول(ص)رسول(ص) کی زباں iiحسین(ع)*انہیں کا فیض جا iiبجابساطِ خشک و تر ہے iiکیافروغِ ہر زماں iiرسول(ص)مکینِ ہر مکاں iiحسین(ع)*روش روش ہے لالہ زارہر ایک گل سدا iiبہاربنائے گلستاں iiرسول(ص)بہارِ بے خزاں iiحسین(ع)*حرم زمینِ iiابتلابلا زمینِ کربلایہاں کے آسماں رسول(ص)وہاں کے آسماں حسین(ع)*ہر اک نظر ہر اک iiنگاہشہودِ حق کی جلوہ iiگاہخدا کے رازداں iiرسول(ص)نبی(ص) کے رازداں iiحسین(ع)*سوالِ بولہب iiشدیدسوالِ سخت تر iiیزیدجواب میں وہاں iiرسول(ص)جواب میں یہاں iiحسین(ع)*شمیم غم گسار iiپریہ فیض کردگار iiکرکرم ہی مہرباں iiرسول(ص)کرم ہی جانِ جاں iiحسین(ع)
***
چراغِ خانۂ زہرا(ص) دکھائی دیتا iiہےوہ ظلمتوں میں اُجالا دکھائی دیتا iiہےجو اہلِ بیت(ع) کے در پر لگا رہا iiبرسوںاسی غلاف میں کعبہ دکھائی دیتا ہےنشانِ دینِ پیمبر(ص) ہے آپ کا دامن iiفضا میں سبز پھریرا دکھائی دیتا iiہےاگر شرائط صلحِ حسن(ع) پہ غور iiکروحدیبیہ کا سا نقشہ دکھائی دیتا iiہےبقائے دین کی کوشش رسول(ص) کا iiکرداراس ایک صلح میں کیا کیا دکھائی دیتا iiہےپلا رہا ہے جو محشر میں جام کوثر iiکےوہ تین روز کا پیاسا دکھائی دیتا iiہےمدد کو آئو کہ وقتِ مدد ہے اے iiمولاشمیم آپ کا تنہا دکھائی دیتا iiہے
۹
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر منظور حسین شور یہ سلسلہ ہے اٹل دینِ مصطفی کے iiلئےعلی نبی کے لئے ہیں نبی خدا کے لئےمیانِ باطل و حق زحمتِ تمیز بھی iiکریہ رہگذار ترستی ہے نقشِ پا کے iiلئےوہ جس کا وقت کی تاریخ میں ہے نام iiحسینوہ استعارۂ وحدت ہے کبریا کے iiلئےعلی کا ذکر عبادت ہے بے رکوع و iiسجودکہ سمت و جہت ضروری نہیں ہوا کے iiلئےسقیفہ بند ہو ایماں کہ شام کا iiبازارجواز کوئی تو ہو خونِ کربلا کے لئےتھیں برقعہ پوش سبھی دخترانِ کوفہ و iiشامنہ تھی ردا تو فقط بنتِ فاطمہ کے iiلئے
۱۰
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شورش کاشمیری سوچتا ہوں کہ اسی قوم کے وارث ہم iiہیںجس نے اولادِ پیمبر کا تماشا iiدیکھاجس نے سادات کے خیموں کی طنابیں iiتوڑیںجس نے لختِ دل حیدر کو تڑپتا iiدیکھابرسرِ عام سکینہ کی نقابیں iiالٹیںلشکرِ حیدر کرار کو لٹتا iiدیکھااُمِّ کلثوم کے چہرے پہ طمانچے iiمارےشام میں زنیب و صغریٰ کا تماشا iiدیکھاشہ کونین کی بیٹی کا جگر چاک iiکیاسبطِ پیغمبرِ اسلام کا لاشا iiدیکھادیدۂ قاسم و عباس کے آنسو iiلوٹےقلب پر عابد بیمار کے چرکا iiدیکھاتوڑ کر اکبر و اصغر کی رگوں پر iiخنجرجورِ دوراں کا بہیمانہ تماشا iiدیکھابھائی کی نعش سے ہمشیر لپٹ کر iiروئیفوج کے سامنے شبیر کو تنہا iiدیکھاپھاڑ کے گنبدِ خضریٰ کے مکیں کا iiپرچمعرش سے فرش تلک حشر کا نقشا iiدیکھاقلبِ اسلام میں صدمات کے خنجر بھونکےکربلا میں کفِ قاتل کا تماشا iiدیکھاابوسفیان کے پوتے کی غلامی کرلیخود فرشتوں کو دِنایت سے پنپتا iiدیکھااے میری قوم ترے حسنِ کمالات کی خیرتو نے جو کچھ بھی دکھایا وہی نقشا iiدیکھایہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے اب سوچنے دےکوئی تیرا بھی خدا ہے مجھے اب سوچنے iiدے
***
قرنِ اوّل کی روایت کا نگہدار iiحسینبسکہ تھا لختِ دلِ حیدر کرار iiحسینعرصۂ شام میں سی پارۂ قرآنِ iiحکیموادیٔ نجد میں اسلام کی للکار iiحسینکوئی انساں کسی انساں کا پرستار نہ iiہواس جہاں تاب حقیقت کا علمدار iiحسینابوسفیان کے پوتے کی جہانبانی iiمیںعزتِ خواجۂ گیہاں کا نگہدار iiحسینکرۂ ارض پہ اسلام کی رحمت کا iiظہورعشق کی راہ میں تاریخ کا معمار iiحسینجان اسلام پہ دینے کی بنا ڈال iiگیاحق کی آواز صداقت کا طرفدار حسینوائے یہ جور جگر گوشۂ زہرا کے iiلئےہائے نیزے کی انی پر ہے جگر دار iiحسینہر زمانے کے مصائب کو ضرورت اس iiکیہر زمانے کے لئے دعوتِ ایثار iiحسینکربلا اب بھی لہو رنگ چلی آتی iiہےدورِ حاضر کے یزیدوں سے ہے دو چار حسین
۱۱
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر مرزا محمد اشفاق شوق لکھنوی جس سے ماتم سرِ بازار نہیں ہو iiسکتاوہ کبھی شہ کا عزادار نہیں ہو iiسکتاغمِ سرور میں جو زنجیر پہن لیتا ہےوہ مصائب میں گرفتار نہیں ہو iiسکتادستِ شبیر سے جیسا سرِ بیعت پہ iiہواایسا کونین میں اب وار نہیں ہو iiسکتازیب دیتا نہیں میثم کا حوالہ اس iiکوذکرِ حق جس سے سرِ دار نہیں ہو iiسکتادشمنِ شہ کے بنیں دوست برائے iiدنیاحق پسندوں کا یہ کردار نہیں ہو iiسکتاچشم و ابرو ہی سے اظہارِ برأت کردےتو اگر برسرِ پیکار نہیں ہو iiسکتا’’غیر کی مدح کروں شہ کا ثنا خواں iiہوکر’’آپ سے کہہ دیا سو بار نہیں ہو iiسکتاسلسلہ مدح کا محشر کی سحر سے مل جائےذکرِ عباس جری بار نہیں ہو سکتاچشمِ عرفاں سے ذرا دیکھ تو سوئے iiدرگاہاس سے بہتر کوئی دربار نہیں ہو iiسکتاجس کو تقدیسِ علم کا نہیں احساس وہ iiشخصمدحِ عباس کا حق دار نہیں ہو iiسکتاشیر آتا ہے سوئے نہر کہو اعدا iiسےاب کوئی راہ کی دیوار نہیں ہو iiسکتارعبِ حیدر کی قسم خسروِ اقلیم جلالکوئی بھی مثلِ علمدار نہیں ہو سکتاجس کو باطل کے اندھیروں میں سکوں ملتا ہےوہ کبھی حق کا طرفدار نہیں ہو iiسکتاروزِ محشر کوئی اے شوق بجز بنتِ iiرسولمیرے اشکوں کا خریدار نہیں ہو iiسکتا
***
رو رہے تھے خوف سے جس رات تم غاروں کے iiبیچچین سے اس رات ہم سوئے ہیں تلواروں کے iiبیچمدحِ حیدر میں قصیدے دوستانِ اہلِ بیتدار کے منبر سے پڑھتے ہیں ستم گاروں کے iiبیچاب تو ان لوگوں کا کچھ نام و نشاں ملتا iiنہیںجو چنا کرتے تھے ہم لوگوں کو دیواروں کے iiبیچمل کے پیشانی پہ اپنی خاکِ پائے بو ترابسرخ رو رہتے ہیں ہم دنیا میں زرداروں کے iiبیچمحفلِ اعمال میں ہے یوں ولائے اہلِ iiبیتماہِ کامل ضوفشاں ہو جس طرح تاروں کے iiبیچہو مبارک آئے دنیا میں حسین ابنِ iiعلیمغفرت کا ذکر ہوتا ہے گنہ گاروں کے iiبیچکیا عزاداری کو روکیں گی ستم کی آندھیاںہم علم لے کر چلے جاتے ہیں انگاروں کے iiبیچآبروئے دیں بچانے کو علی ابن iiالحسینہتھکڑی پہنے ہوئے آئے ہیں بازاروں کے iiبیچشوق یہ ہے مختصر سی اپنی رودادِ iiحیاتزندگی ماتم میں گزری ہے عزاداروں کے iiبیچ
***
فکرِ رساٝ زبانِ قلم ہو ُبسانِ iiتیغلکھنا ہے مجھ کو مدحِ علی داستانِ iiتیغخود اپنے ہاتھوں لٹ گئے سودا گرانِ تیغجب لیلتہ اُلہریر میں چمکی دکانِ iiتیغہیں زندگی سے سیر جو تشنہ لبانِ تیغپانی انہیں پلاتی ہے جوئے روانِ iiتیغلاسیف برزبانِ ملک مدحِ iiذوالفقاریہ سورۂ حدید نہیں ہے بیانِ iiتیغدوشِ نبیٔ پہ نقشِ کفِ پائے iiمرتضیٰجبریل کے پروں پہ ملے گا نشانِ iiتیغکیا دستِ مرتضیٰ کی صفائی کا ہو iiبیاںہوتے ہیں دنگ دیکھ کے کاریگرانِ تیغتقسیمِ جسم میں بھی عدالت ہے iiبرقرارمرحب کو آکے دیکھ لیں خود منصفانِ iiتیغدیکھیں کلیم قوتِ بازوئے iiحیدریہیں سجدہ ریز پیشِ خدا ساحرانِ iiتیغاصلاب دیکھ دیکھ کے چلتی ہے جنگ iiمیںہوتا ہے یوں بہ دستِ خدا امتحانِ iiتیغقبضے پہ ذوالفقار کے حیدر کا ہاتھ iiہےدستِ خدا جہاں میں ہے شایانِ شانِ iiتیغخود دشمنانِ تیغ گلے اپنے کاٹ لیںگر مدحِ ذوالفقار کریں دوستانِ iiتیغدشمن کوزیر کرتے ہیں میدانِ جنگ میںآنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیدہ ورانِ iiتیغخنجر کی دھار پر بھی ثنائے علی iiرہیمیثم کی طرح کون ہوا خوش بیانِ iiتیغعباس اور شبیہ پیمبر ہوئے شہیدابنِ حسن کے تن پہ ِکھلا گلستانِ iiتیغاپنے گلوں کو رکھ دیا خنجر کی دھار iiپراسلام کو ِجلا گئے یہ عاشقانِ iiتیغ
***
ان کو نہ ہوگی زلزلۂ حشر کی iiخبردشتِ بلا میں سوگئے جو کشتگانِ iiتیغمحشر سے پہلے حشر بپا ہوگا دہر iiمیںجب ہوگی دستِ مہدی دیں میں عنانِ iiتیغاک روز الٹ کے پردۂ غیبت کو آئے iiگاکب تک سنے گا جانِ محمد فغانِ تیغشوق انتقامِ خونِ شہیداں کے iiواسطےباقی ابھی زمین پہ ہے آسمانِ تیغ
***
بزمِ رسول پاک میں بوذر سے منھ کی iiکھائیمیدان میں گئے تو غضنفر سے منھ کی iiکھائیایماں کے مرتبوں کا اگر ذکر آگیاسلماں سے منھ کی کھائی ابوذر سے منھ کی کھائیحیران مشرکین تھے کعبے میں تھے iiعلیجب قفل کھولنے کو چلے در سے منھ کی iiکھائیحیدر ہیں محوِ خواب کسی کو خبر نہ iiتھیکفار نے رسول کے بستر سے منھ کی کھائیمرحب کو اپنے نام پہ بے حد گھمنڈ iiتھاجب آیا رزم گاہ میں حیدر سے منھ کی iiکھائیجب آئے بحث کرنے کو روزِ iiمبابلہنصرانیوں نے آلِ پیمبر سے منھ کی iiکھائیاترا درِ علی پہ ستارہ دمِ iiسحروہ دیکھئے نجوم نے اختر سے منھ کی کھائیپلٹا علی کے ایک اشارے پہ iiآفتابیا دشمنوں نے مہرِ منور سے منھ کی iiکھائیحیدر کے در کو چھوڑ کے جو راستہ iiچلادنیا و آخرت میں ہر اک در سے منھ کی iiکھائیدنیا میں اہلبیت کے دشمن رہے iiذلیلمحشر کے روز شافعِ محشر سے منھ کی کھائیمیزاں پہ روزِ حشر عجب معرکہ iiہواعصیاں نے میرے مدح کے دفتر سے منھ کی iiکھائیدیوان روزِ حشر نہ جنت دلا iiسکےسب شاعروں نے شہ کے سخنور سے منھ کی iiکھائیہر معرکہ حسین کے صدقے میں سر iiہواہر مرحلے نے الفتِ حیدر سے منھ کی iiکھائیدن حشر کا گزر گیا طوبیٰ کے سائے iiمیںاور تشنگی نے چشمۂ کوثر سے منھ کی iiکھائیدنیا سے جو بھی دشمنیٔ آل لے گیااے شوق اُس نے شافعِ محشر سے منھ کی iiکھائی
***
وہ جن رستوں سے گزرے وہ جوابِ کہکشاں iiٹھہرےوہیں جنت سمٹ آئی مرے مولا جہاں iiٹھہرےبتا منکر محمد جب نہیں کیوں یہ جہاں ٹھہرےیہ کن قدموں کی برکت سے زمین و آسماں ٹھہرےزمیں سے پوچھ لو فیضان ان آنکھوں کے چشموں کاوہیں گلشن بنا ڈالا جہاں اُبلے جہاں iiٹھہرےمیں جب سمجھوں محبت ربطِ باہم جب بڑھے اتناوہ لیں گر امتحاں میرا خود ان کا امتحاں ٹھہرےمحبت کر تو لی ان سے مگر ہر دم یہ دھڑکا iiہےکہیں ایسا نہ ہو سعیٔ تمنا رائگاں ٹھہرےنہ کہہ پائی زباں جو راز وہ اشکوں نے کہہ iiڈالامرے آنسو ترے آگے نرالے ترجماں iiٹھہرےنہ ان کا ذکر ہو جس میں نہ خونِ دل سے ّ لکھی iiہوبھلا کس طرح ممکن ہے وہ میری داستاں iiٹھہرےچلی ہے عزمِ کامل کے سہارے ڈھونڈنے ان iiکونگاہِ جستجو اللہ جانے اب کہاں ٹھہرےمنور عرش تک ہو پرتوِ رخسار سے جس iiکےنہ پھر کیوں نقشِ پا اس کا چراغِ آسماں ٹھہرےکبھی فطرت پہ قدرت باپ دکھلائے کبھی iiبیٹاکہیں برسیں گھٹائیں اور کہیں آبِ رواں iiٹھہرےسن اے بے معرفت زاہد امامت کی نگاہوں iiمیںمرے آنسو تری ساری عبادت سے گراں iiٹھہرےزمیں ان کی زماں ان کا غرض سارا جہاں اُن iiکانہیں حق ان کے دشمن کو کہ وہ آکر یہاں iiٹھہرےوہی ہیں مالکِ جنت وہی ہیں مالکِ iiکوثرجگہ دشمن کی ہے دوزخ وہ بس جاکر وہاں iiٹھہرےجبینِ شوق میں اے کاش یہ تاثیر پیدا iiہوجہاں بھی سر جھکا دوں بس وہیں پرآستاں iiٹھہرے
۱۲
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شوکت تھانوی دردِ حسرت اور ہے صحرائے غربت اور iiہےرنج سب کے اور ہیں شہ کی مصیبت اور ہےخاک و خوں میں لوٹتا ہے ایک شاہ تشنہ iiکامکربلا کیا اب بھی دل میں کچھ کدورت اور iiہےاک مسافر سے زمانہ برسرِ پیکار iiہےکیا ستم کی اس سے بڑھ کر بھی کدورت اور iiہےہاتھ کرتے ہو قلم تھوڑے سے پانی کے iiلئےظالموں اس سے بھی بڑھ کر کیا شقاوت اور ہےآگئے عون و محمد رن میں ماں کو چھوڑ کرکیا کسی کمسن کے دل میں اتنی جرأت اور iiہےظاہرا مظلوم سے معلوم ہوتے ہیں حسینغور سے دیکھے جو کوئی تو حقیقت اور iiہےملکِ دنیا سے کہیں پائندۂ ہے ملکِ iiبقاباغِ شدّاد اور ہے گلزارِ جنت اور ہےشمر ُیوں غربت زدہ سے کوئی لڑتا ہے iiکبھیاے ستم ایجاد ہمت کر کہ ہمت اور iiہےحر تمہیں رن کی طرف کچھ اور بڑھنا iiچاہیےسامنے ہے خلد تھوڑی سی مسافت اور ہےخارزارِ کربلا ہے آج تک دنیائے دوںہو بہو عالم وہی ہے صرف صورت اور iiہےجانشیں شمرِلعیں کے ہیں بہت سے آج iiبھیجانشینِ شاہ کی ہم کو ضرورت اور ہے
۱۳
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شوکت لکھنوی اُمّی شعرائ میں سے ہیں پہلے ضمیر کاظمی لکھنوی اور اس کے بعد سروش الہ آبادی کو کلام برائے اصلاح دکھایالکھنو کے اُمّی شعراء علقمہ کےساحل پر مرزا شوکت حسین شوکت لکھنوی دل کو گر آلِ نبی کی مہربانی iiچاہیےمیثم تمار کی سی زندگانی iiچاہیےدین کہتا ہے نجف سے مجھ کو قوت تو iiملیکربلا سے اب حیاتِ جادوانی iiچاہیےغیظ میں عباس یہ کہتے چلے سوئے فراتمیں ہوں سقاّئے سکینہ مجھ کو پانی iiچاہیےدشمنوں کے بیچ میں اسلام کی تبلیغ کوزینب و کلثوم کی سی حق بیانی iiچاہیےظالموں کی شورشوں کا زور ڈھانے کے iiلئےاصغر معصوم ایسی بے زبانی iiچاہیےڈوب جائے جس میں باطل اور جل جائے iiستمایسی گرم و تیز اشکوں کی روانی iiچاہیےاُمِّ لیلیٰ چاہتی ہیں بخش دیں اپنی iiحیاتموت جب کہتی ہے اکبر کی جوانی چاہیےتونے کیا سمجھی نہیں تھی بے زباں بچے کی باتحرملہ پیکاں نہیں اصغر کو پانی چاہیےشاعری سے عاقبت شوکت بنانے کے لئےاہلِ بیتِ مصطفیٰ کی مدح خوانی چاہیے
۱۴
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر شہاب کاظمی ایک ہے انسان ایسا سارے انسانوں کے iiبیچجس طرح ر ّکھی ہوئی ہو شمع پروانوں کے iiبیچہم سے پوچھو ہم بتائیں گے وفا کیا چیز ہےزندگی ہم نے گزاری ہے عزائ خانوں کے iiبیچوہ مدینہ ہو کہ مشہد کربلا ہو کہ نجفایک ہی جلوہ ہے سارے آئینہ خانوں کے بیچاس کو کیا کہئے جسے ہو عصمتِ مرسل پہ iiشکبات یہ رکھتا ہوں میں سارے مسلمانوں کے iiبیچمنزل انفس پہ یہ آئیں نبی کے ساتھ اگرصورتِ مطلق نکل آتی ہے امکانوں کے iiبیچخونِ ناحق ہے جبینوں سے عیاں ہو جائے گاانگلیاں ہر چند رکھیں لوگ دستانوں کے iiبیچاک امامت پر نہیں ہے منحصر جورِ iiیزیدکٹ گئے دَورِ امامت کتنے زندانوں کے بیچکربلا والوں کی پیاس اے محتسب ہم سے نہ iiپوچھآج بھی آتی ہے آوازِ عطش کانوں کے iiبیچروشنی فانوس میں ہوتی ہے جیسے جلوہ iiگریوں غمِ شبیر ہے دل کے نہاں خانوں کے iiبیچمان لوں کیسے عرب مہماں نوازی میں تھے iiفردتین دن کی پیاس ہے کوفے کے مہمانوں کے iiبیچاِس قدر شاید نہ ہوتا دکھ رسول اللہ iiکوقتل ہوجاتے اگر شبیر بیگانوں کے iiبیچیہ بتانے کو کہ دیکھو ایسے ہوتے ہیں رفیقشمع گل کرتے ہیں شاہِ دین پروانوں کے iiبیچظلمتوں میں رہنے والوں کو یہ دعوت عام iiہےروشنی آکر ذرا دیکھیں عزاخانوں کے iiبیچدوسروں پر نکتہ چینی کی یہ پہلی شرط iiہےپہلے دیکھیں جھانک کر اپنے گریبانوں کے iiبیچیہ صلہ ہے مدحتِ شہ کا کہ اپنا بھی ِشہاباحتراماً نام آتا ہے سخن دانوں کے iiبیچ
***
منافقت کے جو پردے اٹھا کے دیکھتے iiہیںعلی کی ذات میں جلوے خدا کے دیکھتے iiہیںہر ایک حال میں ہیں ہم علی کے iiشیدائیوہ اور لوگ ہیں جو رخ ہوا کے دیکھتے iiہیںمزا ہے نیند کا کیا بسترِ پیمبر iiپرعلی یہ جان کی بازی لگا کے دیکھتے iiہیںشجاعتِ بنِ ود کی سنیں جو iiتعریفیںعلی نے ہنس کے کہا ہم بھی جا کے دیکھتے ہیںسنا یہ جبکہ گراں بار ہے درِ iiخیبرکہا علی نے کہ اچھا اٹھا کے دیکھتے iiہیںہوا کسی سے نہ جب فتح قلعۂ خیبرنبی نے سوچا علی کو بلا کے دیکھتے iiہیںبہت سے لوگ ہیں ہم لوگ جن کی صورت iiسے’’منافقون’’ کی سورت ِملا کے دیکھتے iiہیںحضور خامہ و قرطاس کے حوالے iiسےرفیق کیسے ہیں یہ آزما کے دیکھتے ہیںہے کون اپنا پرایا ہے کون محفل iiمیںعلی کے نام کا نعرہ لگا کے دیکھتے iiہیںیہ کیسا دعویٔ الفت ہے جس کو چاہتے iiہیںاسی کی ذات میں پہلو خطا کے دیکھتے iiہیںسوائے عیب انہیں کچھ نظر نہیں iiآتایہ لوگ کون سی عینک لگا کے دیکھتے iiہیںاُحد کی جنگ کا منظر نظر میں ہے iiشایدچراغ اس لئے سرور بجھا کے دیکھتے iiہیںستارے کیسے سجاتے ہیں لوگ پلکوں iiپرملک یہ مجلسِ سرور میں آکے دیکھتے iiہیںحسین کیسے اٹھاتے ہیں لاش اکبر iiکیخلیل عرش سے تشریف لا کے دیکھتے ہیںسخن شناسوں کی محفل ہے جب کسی نے iiکہاکہا ِشہاب نے منبر پہ جا کے دیکھتے ہیں
***
الفتِ حیدر سے ہے دل میں تماشا اور iiکچھزندگانی اور شئے ٹھہری ہے مرنا اور iiکچھِگھر کے طوفاں میں کہا جب یا علی iiمُشکلکشالاکے ساحل پر ہمیں موجوں نے پوچھا اور iiکچھسنتے ہی نامِ علی وہ اٹھ گیا اچھا ہوابیٹھتا کچھ دیر محفل میں تو سنتا اور iiکچھلیکے بخشش کی سند ہم شرم سے چپ رہ iiگئےورنہ رضواں تو برابر پوچھتا تھا اور iiکچھہم سے کہتے ہیں کہ ہم بھی اُس کی سنت پر iiچلیںجس نے فرمانِ نبی رد کرکے مانا اور iiکچھکیوں نہ آجاتی شبِ ہجرت علی کو گہری نیندچھائوں میں تیغوں کی سونے کا مزا تھا اور iiکچھیہ بھی انکارِ غدیرِ خم سے ثابت iiہوگیادل میں تھا اسلام لے آنے کا منشائ اور iiکچھوہ تو یہ کہئے نہ دی اِذنِ وغا عباس کوکَربلا کا ورنہ ہوجانا تھا نقشا اور کچھرکھ دیا ہوتا اگر خشتِ غدیرِ خم پہ iiسریہ مسلماں اور کچھ ہوتے یہ دنیا اور iiکچھلاش اکبر کی اٹھا کر خود سے سرور نے iiکہاکردیا ہے مجھ کو پیری نے توانا اور iiکچھاس لئے تاکید تھی مڑ مڑ کے اکبر iiدیکھنادیکھ لیں شبیر نانا کا سراپا اور iiکچھشکوۂ بے اعتنائی بھائی سے صغرا نہ کرسوچ لے مضمونِ خط اس کے علاوہ اور کچھآرزو اکبر کی شادی دیکھنے کی سب کو تھیتھا مگر منظور قسمت کو دکھانا اور iiکچھمانگ لی اللہ سے مدّاحیٔ حیدر iiِشہابکوئی دیوانہ تھا جو کرتا تمنا اور iiکچھ
***
تمہیں کیا، کربلا میں ہم نے پیشانی کہاں رکھ دیہماری چیز ہے ہم نے جہاں چاہا وہاں رکھ دیجب اس نے اشکِ شہ پر نارِ دوزخ سے اماں رکھ iiدیسجا کر ہم نے پلکوں پر جواہر کی دکاں رکھ iiدیحقیقت دیکھ لیں بینائی اس نے اس لئے iiدیدیپڑھیں مدحت علی کی اس لئے منہ میں زباں رکھ iiدیاڑا جب جذبۂ مداحی حیدر ہمیں لے iiکرہمارے پائوں کے نیچے فلک نے کہکشاں رکھ iiدیپس اذنِ وغا یہ بھی زمانہ پوچھتا iiپھرتابساطِ اَرض اے عباس تہ کرکے کہاں رکھ iiدیبھنور میں آرہا تھا لطف ان کو یاد کرنے iiکاہوائوں نے یہ کشتی لاکے ساحل پر کہاں رکھ دیکہ دل میں جذبۂ شوق شہادت اور بڑھ iiجائےعلی اکبر کے منہ میں اس لئے شہ نے زباں رکھ دیاگر رونا پڑے تو رو سکوں شبیر پر کھل iiکرمری فطرت میں اس نے اس لئے آہ و فغاں رکھ iiدیکیا وہ ظلم اعدا نے محمد کے گھرانے iiپرہلا کے جس نے بنیادِ زمین و آسماں رکھ iiدیاِدھر گردن سے روکا مسکرا کر تیر اصغر iiنےادھر زچ ہوکے ظالم نے ہمیشہ کو کماں رکھ iiدیتمہارے صبر پر صد آفریں اے مادرِ iiاصغرکہ اتنا بھی نہ پوچھا لاش اصغر کی کہاں رکھ iiدیشہاب اعمال کے دفتر میں کیا تھا پیش کرنے iiکوبیاضِ مدح لی ، فردِ عمل کے درمیاں رکھ iiدی
***
سرمۂ حُبِّ علی جب سے مری آنکھوں میں iiہےماہِ دو ہفتہ سے تابِ ہمسری آنکھوں میں iiہےکٹ رہی ہے چین سے حُبِّ علی میں iiزندگینورِ ایماں قلب میں دیدہ وری آنکھوں میں iiہےہے تصور میں زمینِ کاظمین و سامرہجنت الفردوس کی خوش منظری آنکھوں میں ہےجارہا ہے یوں کوئی ، لَولا علی، کہتا iiہوادلِ میں حسرت، سرمۂ بیچارگی آنکھوں میں iiہےخالی ہاتھوں کی طرف اِن کے نہ دیکھو حشر iiمیںکربلا والوں کا رختِ بندگی آنکھوں میں iiہےکیجئے اس پر غمِ شہ کے خزانوں کا قیاسنائو اک لعل و جواہر سے بھری آنکھوں میں iiہےچاند پھر دیکھیں محرم کا تو کچھ باتیں iiکریںنو مہینے بیس دن سے خاموشی آنکھوں میں iiہےگر نصیبوں میں نہیں دیدِ ضریحِ شاہ iiدیںپھر یہ سمجھا دیجئے کیوں روشنی آنکھوں میں iiہےپائوں مجبورِ اطاعت، دل میں شوقِ اِذنِ iiجنگہاتھ قبضے پر ترائی َنہر کی آنکھوں میں iiہےہاں ابھی فرشِ عزا سے اٹھ کے آیا ہے iiِشہابتازگی بس اس لئے بھیگی ہوئی آنکھوں میں iiہے
۱۵
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر منوّر عباس شہاب کبھی فرطِ ادب میں اشک افشانی نہیں iiجاتیہیں لب خاموش لیکن مرثیہ خوانی نہیں iiجاتیحرم کی بے ردائی نے لیا ہے انتقام iiایسایزیدیت کی پردوں میں بھی عریانی نہیں جاتینہ بھرتے رنگ اِس میں گر لہو سے کربلا iiوالےتو آج اسلام کی صورت بھی پہچانی نہیں iiجاتیحکومت اہلِ دنیا کی فقط حاکم کے دم تک iiہےدلوں پر جو حکومت ہو وہ سلطانی نہیں iiجاتیکوئی حق کا مجاہد سر بکف آتا ہے میداں iiمیںُ ُکھلے سر شام کے بلوے میں سیدانی نہیں جاتیہزاروں بندشیں ہوتی ہیں ماتم پہ شہیدوں iiکیشہاب اس پر بھی اپنی مرثیہ خوانی نہیں iiجاتی
۱۶
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر امتہ المحدی بیگم شہرت حیدرآبادی علی سا جب مرا مشکل کشا iiہےکسی کی پھر مجھے پروا ہی کیا iiہےصراطِ مستقیم ان کی ولا iiہےیہی ّجنت کا سیدھا راستہ iiہےمری جاں اس گھرانے پر فدا iiہےیہی دنیا میں میرا آسرا iiہےیہی ہے دین میں میرا iiسہاراکہ جس کا مدح گستر کبریا iiہےاسی سے ہوتی ہیں سب مشکلیں iiحلیہی کونین کا حاجت روا ہےنبی لیتے ہیں جس در پر iiاجازتسلام اللہ جس پر بھیجتا iiہےنہ ہو تکلیف مجھ کو جانکنی iiکیمرے مولا غضب کا سامنا ہےجہاں پھر جائے شہرت غم نہ کرنازمانے میں ترا رکھّا ہے کیا iiہے
۱۷
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر محرّم علی شہرت نو گانوی اصولِ دینِ یزداں کی ضرورت ثانیٔ iiزہراشہیدوں کے تصور کی حقیقت ثانیٔ iiزہراتمہاری سعیٔ پیہم اور پاکیزہ خیالوں iiنےکیا تبدیل ذہنِ آدمیّت ثانیٔ iiزہرابندھے ہاتھوں سے کچھ ایسی نرالی جنگ کی تم نےزمانہ آج تک ہے محوِ حیرت ثانیٔ iiزہرااسیری سے تمہاری اور انکارِ شہ دیں iiسےلگے ہے اجنبی سا لفظِ بیعت ثانیٔ iiزہراچلی جب ظلم کی آندھی ردائوں کی قناتوں iiسےبچالی آپ نے شمعِ نبوت ثانیٔ iiزہرازبانِ حال سے یہ آیۂ تطہیر کہتی تھیتری بے چادری معراجِ عصمت ثانیٔ iiزہرانہ ہو کیوں نام اس کا اسمِ اعظم دونوں عالم iiمیںتخلص مل گیا ہو جس کو شہرت ثانیٔ زہرا
***
بے زبانی بن گئی ہے داستانِ کربلااصغر معصوم ہیں گویا لسانِ iiکربلاحر غازی کی ضیافت میں شہادت کا ہے iiجاممرحبا صد مرحبا اے میزبانِ کربلاہاتھ دے کر لاج رکھ لی آپ نے اسلام iiکیورثہ دارِ جعفر طیّار جانِ iiکربلاساقیٔ کوثر کی خدمت میں چلے ہیں ناز سےخون میں ڈوبے ہوئے تشنہ لبانِ iiکربلایا محمد یا علی یا فاطمہ iiآجائیےبے کفن ہیں کربلا میں کشتگانِ iiکربلابے ردا اپنی لحد سے آگئی ہیں iiفاطمہسانحہ کیسا ہوا ہے درمیانِ iiکربلااے مرے معبود وہ بھی فاطمہ کا لال iiہےکیا ہوا دشوار گر ہے امتحانِ کربلا
***
زباں ہو خشک جسدم روزِ محشر ساقیٔ iiکوثرعطا ہم کو بھی ہو اک جام کوثر ساقیٔ iiکوثرشہنشاہ دو عالم مالکِ منشائے iiیزدانیتری ٹھوکر میں ہے تختِ سکندر ساقیٔ iiکوثرصدائے العطش اسلام کے ہونٹوں پہ آئی iiہےملے پیاسے کو بھی لبریز ساغر ساقیٔ iiکوثرخدا کے دین کو پھر چاہیے خونِ دلِ iiزہراکہاں ہیں آپ کے شبیر و شبر ساقیٔ iiکوثرشب ہجرت گواہی دی رسولِ حق کے بستر iiنےتمہاری ذات ہے نفسِ پیمبر ساقیٔ کوثریہ کیسی ضرب تھی مرحب کے سر سے کس طرف پہنچیپکارے لافتیٰ جبریل کے پر ساقیٔ کوثرتری جائے ولادت بھی تری جائے شہادت iiبھیہر اک ماحول میں اللہ کے گھر ساقیٔ iiکوثرنقیبِ حق خطیبِ دینِ ختم المرسلیں iiشہرتمرے مولا و آقا میرے رہبر ساقیٔ iiکوثر
***
توصیفِ حسین ابنِ علی کیسے بیاں iiہوالفاظ ہوں خالق کے پیمبر کی زباں iiہوآنکھوں نے وضو اشکِ غم شہ سے کیا iiہوپھر کیوں نہ تہجد مری نظروں سے عیاں ہوشبیر کا غم اہلِ عزا ایسے iiمنائوماحول میں پھیلا ہوا آہوں کا دھواں iiہواشکوں میں غمِ شاہ کے دل ڈوب رہا iiہوممکن ہی نہیں درد نہ ہو اور فغاں iiہوشبیر کی آغوش میں اے اصغر بے iiشیرقرآن کی تفسیر ذرا ہنس کے بیاں iiہوبس عون و محمد کے سوا روزِ ازل iiسےلائو جو کوئی زینبِ دلگیر سی ماں iiہواکبر کے جنازے کو اٹھاتے ہوئے iiشبیردیتے رہے آواز کہ عباس کہاں iiہوایسا بھی مقیّد ہے کوئی جس کے سبب iiسےزنجیر کی جھنکار میں پیغامِ اذاں iiہوباطل کی شکستِ ابدی کے لئے iiشہرتاکبر سا جگر ہو علی اصغر سی زباں iiہو
***
اللہ کے وجود کی مظہر ہیں iiفاطمہپروردۂ اصولِ پیمبر ہیں iiفاطمہوجہِ نزولِ رحمتِ داور ہیں فاطمہواللہ روحِ سورۂ کوثر ہیں iiفاطمہہر ہر قدم پہ مقصدِ احمد کا ہے خیالگویا شریکِ کارِ پیمبر ہیں iiفاطمہچادر ہٹے جو سر سے تو نکلے نہ iiآفتابجیسے نظامِ خالقِ اکبر ہیں iiفاطمہپاکیزگی کی خاص سند کس نے پائی iiہےدیکھو بنائے آیۂ اطہر ہیں iiفاطمہجس پر کرے ہے ناز خداوندِ iiکائناتاس کشتۂ عظیم کی مادر ہیں iiفاطمہجلتی زمیں پہ لاشۂ شبیر کے iiقریبکرب و بلا میں کھولے ہوئے سر ہیں فاطمہشہرت کوئی جواب ہے اُن کا نہ ہے iiمثالسب عورتوں میں افضل و برتر ہیں iiفاطمہ
۱۸
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر میر مہدی علی شہید لکھنوی شہید یار جنگ دنیا میں ہے حسین پہ بس انتہائے iiرنجرنج ان کے واسطے تھا تو یہ تھے برائے iiرنجاصغر کا داغ اور دلِ صد پارۂ iiحسینیہ انتہائے صبر ہے وہ انتہائے iiرنجہو خاتمہ بخیر دعا ہے یہ صبح و iiشامتکلیف ہے جہاں میں تو کیا اس میں جائے رنجوہ مرد ہے جو چہرے سے ظاہر نہ ہونے iiدےپہنچے بھی گر کسی سے تو دل میں چھپائے iiرنجتھا خاتمہ حسین پہ دنیا میں رنج iiکاآدم سے اس جہاں میں ہوئی ابتدائے رنجدنیا میں ایک لحظہ بھی پوری خوشی iiکہاںفرحت میں بھی نکلتا ہے گوشہ برائے رنجدل ٹوٹتا ہے جب تو نکلتی ہے آہ iiبھیچھپتی نہیں چھپائے سے ہرگز صدائے رنجآنسو نکل ہی آتے ہیں ہنستے ہیں جب زیادجو انتہائے عیش ہے وہ ابتدائے iiرنجکڑیل جواں کی لاش پہ چلاّئے شاہ دیںدشمن کو بھی خدا نہ کبھی یہ دکھائے iiرنجبھائی کا داغ بچوں کا غم قید کا iiستمزینب نے بھی جہان میں کیا کیا اٹھائے iiرنجتکلیف دوسروں سے نہ پہنچی کبھی iiشہیددنیا میں دوستوں ہی سے ہم نے اٹھائے رنج
***
کعبہ کا سماں اور ہے مقتل کا سماں iiاورحیدر کی اذاں اور تھی اکبر کی اذاں iiاوربچے کا گلا اور ہے کچھ صدرِ جواں iiاورہاں تیر کا زخم اور ہے کچھ زخمِ سناں iiاوراونچا ہوا جس کے قدِ بالا سے نشاں iiاورعباس سا ہوگا نہ زمانے میں جواں اوراعدا میں خوشی لشکرِ شہ محوِ دعا ہےکچھ فکر یہاں اور ہے کچھ ذکر وہاں iiاورکہتے ہوئے اٹھے یہ جوانانِ iiحسینیکچھ جاذبِ دل آج ہے اکبر کی اذاں iiاورشہ کہتے تھے اکبر سے کہ عباس کو iiروکواک خون کا دریا لبِ دریا ہے رواں iiاوردم اہلِ حرم کے جو گھٹے ہوں تو عجب iiکیاخیموں کے دھویں میں تھا کلیجوں کا دھواں iiاورسب زخم تو بھر جاتے ہیں پر یہ نہیں iiبھرتاتلوار کا زخم اور ہے کچھ زخمِ زباں اوربچوں کو فدا کر دیا بھائی کے پسر iiپرزینب سی زمانے میں نہ ہوگی کوئی ماں iiاوراک حملے میں لشکر تہ و بالا ہوا iiاکبراک حملہ اسی طرح کا اے شیر ږیاں iiاورہند آتی تو ہے پوچھنے احوالِ iiاسیراںرکھتی ہے مگر دل میں یہ کچھ اپنے گماں iiاورآتے ہیں ہمک کر جو یہ آغوشِ پدر میںاصغر کے تبسّم میں ہے کچھ رازِ نہاں iiاورسجاد رہِ شام میں گر پڑتے ہیں تھک iiکرچلنے نہیں دیتی انہیں زنجیرِ گراں iiاورہے خطبہ سرا کوفہ میں بنتِ اسد اللہیہ طرزِ سخن اور ہے اندازِ بیاں اوراصغر نے زباں پھیری ہے ہونٹوں پہ عطش iiسےیہ شانِ تکلم ہے جدا طرزِ بیاں اورزینب نے کہا بھائی کا چہلم میں کروں iiگیدیدے مجھے مجلس کے لئے کوئی مکاں iiاورہے میرے سلاموں میں شہید اور ہے کچھ iiرنگکہتے ہیں سخن گو کہ ہے یہ طرزِ بیاں iiاور
***
غمِ حسین کا گر ذکر داستاں میں iiنہیںاثر زباں میں نہیں ہے مزا بیاں میں iiنہیںجمالِ حضرتِ عباس اے تعال iiاللہزمین کیا ہے جواب اس کا آسماں میں iiنہیںخدا کہوں میں علی کو ارے معاذ iiاللہیہ بات میرے تصور مرے گماں میں iiنہیںزُہیر قین وہ اسّی برس کا مردِ iiضعیفیہ جوشِ جنگ یہ قوت کسی جواں میں iiنہیںحرم کے قافلے کی شان ہی نرالی iiہےکہ دو قدم کی سکت پائے سارباں میں iiنہیںزباں دکھا دی لبوں پر پھرا نہیں iiسکتیاب اتنی جان بھی اللہ بے زباں میں iiنہیںخدا ہی جانے رہِ شام کیسے طے iiہوگیکہ سانس لینے کی طاقت بھی ناتواں میں iiنہیںیہ راز طالب و مطلوب کا کھلا سرِ iiعرشبس ایک پردہ ہے کچھ اور درمیاں میں iiنہیںشہید کیوں نہ ہو ہر قوم میں حسین کا iiغمکہ مرثیہ مرے مولا کا کس زباں میں iiنہیں
***
ہو خلوصِ قلب کا مظہر کلام ایسا تو iiہوفاطمہ روئیں جسے ُسن کر سلام ایسا تو iiہوجون تیرے اک لہو کی بوند پر دنیا iiنثارپائوں پر آقا کے دم نکلے غلام ایسا تو iiہوسامنے آنکھوں کے پھر جائے سماں حالات iiکارات رونے میں کٹے کچھ ذکرِ شام ایسا تو iiہوحر تری تقدیر پر شاہوں کو بھی آتا ہے iiرشکپیشوائی خود کرے آقا غلام ایسا تو iiہوہو شہید ایسا کہ مٹی سجدہ گاہِ خلق ہوخاک ہو تسبیح میں داخل امام ایسا تو iiہونشّہ جس کا حشر تک رہ جائے ہو ایسی iiشرابساقیٔ کوثر سے جو ہاتھ آئے جام ایسا تو iiہودل تڑپ جاتا ہے جب کہتا ہے کوئی یا iiحسینآنکھ سے آنسو نہ تھمنے پائیں نام ایسا تو iiہومنبرِ دوشِ رسالت پر ہوا خطبہ iiسراہاں جو مولا ہو تو ایسا ہو امام ایسا تو iiہواکبر و عباس و قاسم بس ہیں شاہ دیں کے ساتھہاں سواری کا بہن کی اہتمام ایسا تو iiہوناصرانِ شاہ دیں کہتے تھے آپس میں iiشہیدنام رہ جائے جہاں میں کوئی کام ایسا تو iiہو
***
غمِ شہ کا ہوگا بیاں رفتہ iiرفتہجگر سے اٹھے گا دھواں رفتہ رفتہہوئے پھول صرفِ خزاں رفتہ iiرفتہنشاں ہوگئے بے نشاں رفتہ رفتہنبوت کی آغوشِ الفت میں پل iiکرعلی ہورہے ہیں جواں رفتہ iiرفتہصعوبات ہوں لاکھ، منزل پہ اک دنپہنچ جائے گا کارواں رفتہ رفتہقریبوں کا غم اور عزیزوں کی iiفرقتہوا شاہ کا امتحاں رفتہ iiرفتہبڑھی اور زین العبا کی iiنقاہتگراں ہوگئیں بیڑیاں رفتہ رفتہسکینہ کے دل میں بڑھا شمر کا iiڈرکہ نالے ہوئے سسکیاں رفتہ iiرفتہرہا زانوئے شہ پہ سر وقتِ iiمردنگیا حر کہاں سے کہاں رفتہ iiرفتہسکینہ کے نالے اثر کررہے ہیںتڑپنے لگے پاسباں رفتہ iiرفتہ
***
دیکھتا ہوں جلوۂ شبیر اٹھتے iiبیٹھتےہے یہی پیشِ نظر تصویر اٹھتے iiبیٹھتےپڑھ رہا ہوں خطبۂ من کنتُ مولا رات iiدنکر رہا ہوں قلب کی تعمیر اٹھتے iiبیٹھتےدو گھڑی بھی چین سے سجاد رہ سکتے iiنہیںسخت ایذا دیتی ہے زنجیر اٹھتے iiبیٹھتےدی صدا زینب نے آئو پیشوائی کو iiحسینقبر پر آئی ہے اب ہمشیر اٹھتے بیٹھتےخیمہ گہ میں لاشِ اکبر کس طرح لیجائیں گےجارہے ہیں لاش پر شبیر اٹھتے بیٹھتےہم شبیہ مصطفیٰ یا رب مرا پھولے پھلےتھی دعائے زینبِ دلگیر اٹھتے iiبیٹھتےصبرِ عابد کا تصرف دیدنی ہے اہلِ iiدلجو صدا دیتی نہیں زنجیر اٹھتے iiبیٹھتےکربلا کا قصد ہے کیا ضعف روکے گا iiشہیدجا ہی پہنچوں گا کسی تدبیر اٹھتے iiبیٹھتے
***
شکوہِ مرحبی و شانِ عنتری کیا iiہےیہ بے حواسیاں کیا ہیں یہ تھرتھری کیا iiہےقدم قدم پہ نشانِ قدم ہیں حیدر iiکےزمیں کے آگے بھلا چرخِ چنبری کیا iiہےکہا یہ فوج سے عباس نے ٹھہر iiجائوبتائوں گا تمہیں میں زورِ حیدری کیا iiہےحبیب آئے ہیں زینب سلام بھیجتی iiہیںبتا رہی ہیں ہمیں بندہ پروری کیا iiہےکہا یہ بیٹوں سے زینب نے ہے َعلم کا خیالسمجھتے بھی ہو یہ میراثِ حیدری کیا iiہےکسی نے قید میں سجاد کو اگر iiدیکھاسمجھ میں آگیا اس کی کہ لاغری کیا ہےبتایا حضرتِ عباس نے لبِ iiدریاوفا کی شان ہے کیا اور دلاوری کیا iiہےلچک کے کہتا ہے پنجہ عَلم کا حیدر iiکےکہ میرے آگے یہ خورشیدِ خاوری کیا ہےشہید طبع کی موزونیت سے کیا iiحاصلجو شعر دل میں نہ اترے سخنوری کیا iiہے
***
مال کا طالب کہاں ہوں کب مجھے زر iiچاہیےاک نگاہِ لطف اے سبطِ پیمبر iiچاہیےآج پھر اسلام کی ہوتی ہے تجدیدِ iiحیاتپیرویٔ اسوۂ سبطِ پیمبر iiچاہیےحر ابھی کیا تھا ابھی کیا ہوگیا شانِ iiخداایسی قسمت چاہیے ایسا مقدر iiچاہیےشہ نے فرمایا کہ شکوہ کیوں کسی کا لب پہ iiآئےشکرِ خلاقِ دو عالم زیرِ خنجر چاہیےکہہ رہے ہیں کہنے والے فتح کچھ آساں iiنہیںبابِ خیبر کے لئے بازوئے حیدر iiچاہیےدوشِ احمد پر علی کعبہ میں دیتے ہیں iiاذاںاس مُکبر کے لئے ایسا ہی منبر iiچاہیےہم گنہگاروں کے دل میں یہ تمنا ہے شہیدسایۂ دامانِ زہرا روزِ محشر چاہیے
***
۱۹
علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر علقمہ کےساحل پر مرزا صادق حسین شہید لکھنوی دینِ فطرت کی آبرو ہے حسینحق یہ ہے حق کی آروز ہے iiحسینزیرِ خنجر ترا گلو ہے حسینپھر بھی خالق سے گفتگو ہے iiحسینمنھ پہ بے شیر کا لہو ہے حسینپیشِ معبود سرخرو ہے iiحسینیوں بھی کوئی نماز پڑھتا ہےخونِ بے شیر سے وضو ہے حسینآج کونین میں ہے ذکر iiترادونوں عالم میں تو ہی تو ہے iiحسینیہ حقیقت ہے ہر جگہ ہے iiخدایہ بھی سچ ہے کہ چار سو ہے iiحسینباغِ ایماں کے غنچے غنچے iiمیںرنگ تیرا ہے تیری بوٖ ہے حسینقلبِ مادر کو اب سنبھالے iiہےماں کو بچّے کی جستجو ہے iiحسینماں یہ خیمے کے در سے دیکھا iiکےلاشِ اکبر ہے اور تو ہے iiحسینتیرا روضہ ہو اور شہیدِ iiحزیںمدّ توں سے یہ آرزو ہے iiحسین
***
۲۰