110 سوال اور جواب

110 سوال اور جواب0%

110 سوال اور جواب مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے

110 سوال اور جواب

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 11962
ڈاؤنلوڈ: 907

تبصرے:

110 سوال اور جواب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 126 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 11962 / ڈاؤنلوڈ: 907
سائز سائز سائز
110 سوال اور جواب

110 سوال اور جواب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۱۱۰/ سوال وجواب

تالیف آیت اللہ مکارم شیرازی

ترجمہ : اقبال حیدر حیدری

تقریظ

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی دام ظلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد لله رب العالمین و به نستعین و صلی الله علٰی محمد و آله الطیبین الطاهرین

سوال ہمیشہ سے انسانی علم و دانش کے خزانہ کی کنجی رہا ہے۔

لہٰذا وہ افراد اور قوم و ملت جو کم سوال کرتے ہیں انھوں نے اس عظیم خزانہ سے کم فائدہ حاصل کیا ہے، اور بنیادی طور پر سوال کرنا اور اس کا جواب سننا ہر انسان کا حق ہے اور اسے کوئی بھی اس عقلی و منطقی حق سے محروم نہیں کرسکتا،چنانچہ قرآن مجید نے بارہا اس بات کی تاکید کی ہے کہ جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے ، اسے صاحبان علم و دانش سے دریافت کرو:( فَاسْاٴَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) (۱) نحل، ۴۳

اس قرآنی حکم کی وسعت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ؛ سوال کے لئے کوئی حد معین کرنے کو قبول نہیں کرتا اور مسلمان بلکہ غیر مسلم (کیونکہ آیت غیر مسلم لوگوں سے مخاطب ہے اگرچہ اس کا مفہوم عام ہے) کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مختلف مسائل میں چاہے وہ اعتقادی مسائل ہوں یا اجتماعی، اخلاقی ،سیاسی یا کسی بھی چیز کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ لوگوں کے عقائد و افکار کو خراب کرنے یا عام لوگوں کے افکار میں تشویش اور تزلزل ایجاد کرنے یا ہٹ دھرمی اور جنگ و جدال کے لئے انحرافی سوال اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ در حقیقت یہ سوال نہیں ہے بلکہ سوال کے روپ میں فساد پھیلانا ہے۔

بہر حال چونکہ قرآن مجید خدا شناسی اور انسانی مسائل کا ایک عظیم الشان دائرة المعارف (انسائیکلو پیڈیا) ہے ،اس لئے جگہ جگہ پر مختلف آیات کے ذیل میں بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں لیکن چونکہ عام طور پر سابقہ نہیں پڑتا تھا لہٰذا بعض مفسرین نے ان کا جواب پیش نہیں کیا۔

جس وقت ہم نے (چند دیگر فاضل علماکی مدد سے) تفسیر نمونہ لکھنا شروع کی تو ہماری کوشش تھی ان تمام سوالات (خصوصاً عصر حا ضر کی ترقی یافتہ دنیا میں پیدا ہونے والے سوالات) کو بیان کریں اور دقیق طریقہ سے جواب دیا جائے ۔

اور چونکہ ان سوالات کا جاننا سب کے لئے ضروری ہے خصوصاً آج کل کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے نہایت ہی مفید ہے، لہٰذا نظر حجة الاسلام جناب آقای حسینی صاحب نے چند افاضلِ قم کی مدد سے جن کے نام مقدمہ میں بیا ن ہوئے ہیں اس طرح کے سوالات اور ان کے جوابات کو تفسیر نمونہ کی ۲۷/ جلدوں اور تفسیر پیام قرآن کی ۱۰/ جلدوں سے جمع کرکے ترتیب دیا جس کے نتیجہ میں ۱۱۰ / اہم سوال آپ حضرات کی خدمت میں حاضر ہیں، واقعاً سوالات کو مختلف ابواب کی صورت میں تر تیب دینا ان کے ذوق اور سلیقہ کی دلیل ہے، (خدا ان کو جزائے خیر دے) ، امید ہے کہ سوالات کا یہ مجموعہ سب کے لئے بالخصوص ہمارے جوانوں میں اسلامی اور قرآنی مسائل کو سمجھنے کے لئے مفید واقع ہو اور آخرت کے لئے بہترین ذخیرہ قرار پائے۔

ناصر مکارم شیرازی

حوزہ علمیہ، قم المقدسہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

پیش گفتار

اگرچہ شیعہ علمائے کرام ابھی تک قرآن مجید کی متعدد تفاسیر لکھ چکے ہیں، جن سے عوام الناس، طلاب حوزات علمیہ اور علمائے کرام فیضیاب ہوتے رہے ہیں، لیکن ان میں ”تفسیر نمونہ“ خاص امتیاز کی حامل ہے وہ بھی فارسی زبان میں جس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، خصوصاً دور حاضر میں جبکہ قرآن فہمی کا جذبہ ہر طبقہ میں پیدا ہورہا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے چند علماکے ساتھ مل کر اس ضرورت کو پورا کیا اور اس تفسیر کے ذریعہ قرآن مجید کی شایان شان خدمت انجام دی۔

اس تفسیر کے خاص امتیازات حسب ذیل ہیں جن کی وجہ سے یہ مقبول عام ہوئی ہے :

۱ ۔ یہ تفسیر اگرچہ فارسی زبان میں ہے لیکن اس کے علمی اور تحقیقاتی نکات میں کافی رعایت کی گئی ہے، تاکہ طلاب کرام ، علمائے عظام اور قرآن فہمی کا شوق رکھنے والے عوام الناس بھی اس سے فیضیاب ہوسکیں ۔

۲ ۔ تفسیر آیات میں بعض غیر ضروری مسائل میں الجھنے کے بجائے ان مسائل سے خصوصی بحث کی گئی ہے جو انسان کے لئے واقعاً زندگی ساز ہیں جن کے ذریعہ انسان کی فردی اور معاشرتی زندگی کافی متاثر ہے۔

۳ ۔آیات میں بیان شدہ عناوین کے تحت ایک مختصر و مفید عنوان سے الگ بحث کی گئی ہے جس کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام کو دوسری کتابوں کے مطالعہ کی ضرور ت نہ ہوگی۔

۴ ۔ تفسیر میں مشکل اور پیچیدہ اصطلاحات سے پرہیز کیا گیا ہے لیکن ضرورت کے وقت حاشیہ میں ضروری وضاحت بھی کی گئی ہے، تاکہ علماء اور صاحبان نظر حضرات کے علاوہ عام قارئین کرام کے لئے بھی مفید واقع ہوسکے۔

۵ ۔ اس تفسیر کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں اسلامی معارف اور اصول و فروع کے سلسلہ میں دور حاضر میں ہو نے والے مختلف سوالات اور اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے۔

انھیں امتیازات کی بنا پر استاد معظم سے اجازت طلب کی تاکہ تفسیر کے مختلف سوالات اور جوابات کو جمع کرکے الگ ایک کتاب کی شکل دے دی جائے جو عام قارئین کرام کے لئے مفید واقع ہو سکے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ استادبزرگوار نے اجازت مرحمت فرمائی، اور ہم نے حجج اسلام احمد جعفری، سید علی رضا جعفری، سید مرتضیٰ موسوی، سید اصغر حسینی اور محمد حسین محمدی کے ہمراہ تفسیر نمونہ اور تفسیر پیام قرآن کا شروع سے آخر تک دقیق مطالعہ کیا اور اس سے سوالات کو جمع کیا، جو ۱۱۰/ سوال و جواب کی صورت میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہے ۔

چند ضروری نکات:

۱ ۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی سوال، تفسیر کی مختلف جلدوں میں بیان ہوا ہے ہم نے ان کو ایک جگہ جمع کیا اور خاص ترتیب سے ذکر کیا ہے۔

۲ ۔ اس مجموعہ میں تفسیر آیات سے متعلق سوالات کو ذکر نہیں کیا گیا ہے کیونکہ ہمارا مقصد ان سوالات کا جمع کرنا تھا جو آج کل ہمارے دینی معاشرہ میں بیان ہوتے ہیں، نہ کہ تفسیری نکات ؛ ان کے لئے تفسیر کا مکمل طور پر مطالعہ کیا جائے۔

۳ ۔ اگرچہ ظاہراً اس کتاب کے مطالب جمع کرنا آسان کام ہے لیکن اس کے مختلف مراحل طے کرنے پڑے ہیں، منجملہ تفسیری دورہ، سوالات و جوابات کی جمع آوری اور ان کو منظم و مرتب کرنا واقعاً ایک فرصت طلب کام تھا۔

۴ ۔ اس کتاب کے اکثر سوال و جواب تفسیر نمونہ سے لئے گئے ہیں اگرچہ کچھ سوالات پیام قرآن اور پیام امام سے بھی ماخوذ ہیں، (سب کا حوالہ حاشیہ پر ذکر کر دیا گیا ہے )

امید ہے کہ یہ ناچیز کوشش حضرت بقیة اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہ میں شرف قبولیت حاصل کرے۔

سید حسین حسینی

قم المقدسہ

۱ ۔ خدا کی معرفت کیوں ضروری ہے؟

جب یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کوئی بھی فعل بغیر علت کے نہیں ہوتا تو پھر اس دنیا کے خالق کی معرفت اور اس کو پہچاننے کے لئے بھی کوئی نہ کوئی علت اور سبب ہونا چاہئے، چنانچہ فلاسفہ اور دانشوروں نے خدا شناسی کے لئے تین بنیادی وجہیں اور علتیں بیان کی ہیں،جن پر قرآن کریم نے واضح طور پر روشنی ڈالی ہے:

۱ ۔ عقلی علت ۔

۲ ۔ فطری علت ۔

۳ ۔ عاطفی علت ۔

۱. عقلی علت :

انسان کمال کا عاشق ہوتا ہے، اور یہ عشق تمام انسانوں میں ہمیشہ پایا جاتا ہے، انسان جس چیز میں اپنا کمال دیکھتا ہے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،البتہ یہ بات علیحدہ ہے کہ بعض لوگ خیالی اور بےہودہ چیزوں ہی کو کمال اور حقیقت تصور کربیٹھتے ہیں۔

کبھی اس چیز کو ”منافع حاصل کرنے اور نقصان سے روکنے والی طاقت“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے کیونکہ انسان اسی طاقت کی بنا پر اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ جس چیز میں اس کا فائدہ یا نقصان ہو اس پر خاص توجہ دے۔

انسان کی اس طاقت کو ”غریزہ“ کا نام دینا بہت مشکل ہے کیونکہ معمولاً غریزہ اس اندرونی رجحان کو کہا جاتا ہے جو انسان اور دیگر جانداروں کی زندگی میں بغیر غور و فکر کے اثر انداز ہوتا ہے اسی وجہ سے حیوانات کے یہاں بھی غریزہ پایا جاتا ہے۔

لہٰذا بہتر ہے کہ اس طاقت کو ”عالی رجحانات“کے نام سے یاد کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا تذکرہ بھی کیاہے۔

بہر حال انسان کمال دوست ہوتا ہے اور ہر مادی و معنوی نفع کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور ہر طرح کے ضررو نقصان سے پرہیز کرتا ہے چنانچہ اگر انسان کو نفع یا نقصان کا احتمال بھی ہو تو اس چیز پر توجہ دیتا ہے اور جس قدر یہ احتمال قوی تر ہوجاتا ہے اسی اعتبار سے اس کی توجہ بھی بڑھتی جاتی ہے، لہٰذایہ ناممکن ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کسی چیز کو اہم و موثر مانے لیکن اس سلسلہ میں تحقیق و کوشش نہ کرے۔

خدا پر ایمان اور مذہب کا مسئلہ بھی انھیں مسائل میں سے ہے کیونکہ مذہب کا تعلق انسان کی زندگی سے ہوتا ہے اور اسی سے انسان کی سعادت اور خوشبختی یا شقاوت اور بدبختی کا تعلق ہوتا ہے، اور اسی کے ذریعہ انسان سعادت مند ہوتا ہے یا بدبخت ہوجاتا ہے،اور ان دونوں میں ایک گہرا ربط پایا جاتا ہے۔

اس بات کو واضح کرنے کے لئے بعض علمامثال بیان کرتے ہیں: فرض کیجئے ہم کسی کو ایک ایسی جگہ دیکھیں جہاں سے دوراستے نکلتے ہوں ، اور وہ کہے کہ یہاں پر رکنا بہت خطرناک ہے اور (ایک راستہ کی طرف اشارہ کرکے )کہے کہ یہ راستہ بھی یقینی طور پر خطرناک ہے لیکن دوسرا راستہ ”راہ نجات“ ہے اور پھر اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے کچھ شواہد و قرائن بیان کرے، تو ایسے موقع پر گزرنے والا مسافر اپنی یہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس سلسلہ میں تحقیق و جستجو کرے ،ایسے موقع پر بے توجہی کرنا عقل کے برخلاف ہے۔(۱)

جیسا کہ ”دفعِ ضررِمحتمل “(احتمالی نقصان سے بچنا) ایک مشہور و معروف قاعدہ ہے جس کی بنیاد عقل ہے، قرآن کریم نے پیغمبر اکرم (ص) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کَانَ مِنْ عِنْدِ اللهِ ثُمَّ کَفَرْتُمْ بِهِ مَنْ اٴَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ ) (۲)

”آپ کہہ دیجئے کہ کیا تمہیں یہ خیال ہے اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا تو اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا“۔

البتہ یہ بات ان لوگوں کے سلسلہ میں ہے جن کے یہاں کوئی دلیل و منطق قبول نہیں کی جاتی ، در حقیقت وہ آخری بات جو متعصب، مغرور اور ہٹ دھرم لوگوں کے جواب میں کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے : اگر تم لوگ قرآن، توحید اور وجود خدا کی حقانیت کو سوفی صد نہیں مانتے تو یہ بات بھی مسلم ہے کہ اس کے بر خلاف بھی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لہٰذا یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآنی دعوت اور قیامت واقعیت رکھتے ہوں تو اس موقع پر تم لوگ سوچ سکتے ہو کہ دین خدا سے گمراہی اور شدید مخالفت کی وجہ سے تمہاری زندگی کس قدر تاریکی اور اندھیرے میں ہوگی۔

اس بات کو ائمہ علیہم السلام نے ہٹ دھرم لوگوں کے سامنے آخری بات کے عنوان سے کی ہے،جیسا کہ اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانہ کے ملحد و منکر خدا ”ابن ابی العوجاء“ سے متعدد مرتبہ بحث و گفتگو فرمائی ہے،اور اس گفتگو کاآخری سلسلہ حج کے موسم میں ہوئی ملاقات پر تمام ہواجب امام علیہ السلام کے بعض اصحاب نے آپ سے کہا: کیا ”ابن ابی العوجاء“ مسلمان ہوگیا ہے؟!تو امام علیہ السلام نے فرمایا: اس کا دل کہیں زیادہ اندھا ہے یہ ہرگز مسلمان نہیں ہوگا، لیکن جس وقت اس کی نظر امام علیہ السلام پر پڑی تو اس نے کہا: اے میرے مولا و آقا!

امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ماجاءَ بِکَ إلیٰ هذَا المَوضِع “ (تو یہاں کیا کررہا ہے؟)

تو اس نے عرض کی: ”عادة الجسد، و سنة البلد، و لننظر ما الناس فیه من الجنون و الحلق و رمی الحجارة! “ (کیونکہ بدن کو عادت ہوگئی ہے اور ماحول اس طرح کا بن گیا ہے ، اس کے علاوہ لوگوں کا دیوانہ پن، ان کا سرمنڈانا اور رمی ِجمرہ دیکھنے کے لئے آگیا ہوں!!)

امام علیہ السلام نے فرمایا:اٴَنْتَ بعدُ علیٰ عتوک و ضلالک یا عبدَ الکریم ! (اے عبد الکریم!تو ابھی بھی اپنے ضلالت و گمراہی پر باقی ہے )(۳)

اس نے امام علیہ السلام سے گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے کہا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لا جدال فی الحج “(حج، جنگ و جدال کی جگہ نہیں ہے) اورامام علیہ السلام نے اس کے ہاتھ سے اپنی عبا کو کھینچتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا: ”ان یکن الامر کما تقول ولیس کما تقول نجونا ونجوت وان یکن الامر کما نقول وهو کمانقولنجونا وهلکت “!:

”اگر حقیقت ایسے ہی ہے جیسے تو کہتا ہے کہ (خدا اورقیامت کا کوئی وجود نہیں ہے) جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے، تو ہم بھی اہل نجات ہیں اور تو بھی، لیکن اگر ہمارا عقیدہ ہے ،جب کہ حق بھی یہی ہے تو ہم اہل نجات ہیں اور تو ہلاک ہوجائے گا“۔

”ابن ابی العوجاء“ نے اپنے ساتھی کی طرف رخ کیا اور کہا: ”وجدت فی قلبی حزازة فردونی،فردوہ فمات“ (میں اپنے دل میں درد کا احساس کررہا ہوں، مجھے واپس لے چلو، چنانچہ جیسے ہی اس کو لے کر چلے تو تھوڑی ہی دیر بعدوہ اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔(۴) (۵)

۲ ۔جذبہ محبت:

اشارہ:

ایک مشہور و معروف ضرب المثل ہے کہ ”انسان احسان کا غلام ہوتا ہے“ (الانسان عبید الاحسان )

یہی مطلب تھوڑے سے فرق کے ساتھ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حدیث میں بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

الإنسان عبد الإحسان(۶)

”انسان، احسان کا غلام ہے“۔

نیزامام علیہ السلام نے ایک دوسری حدیث میں فرمایا:

بالإحسان تملک القلوب(۷)

”احسان کے ذریعہ انسان کے قلوب کو مسخر کیا جاتا ہے “۔

نیز ایک دوسری حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے:

وافضِلْ علیٰ من شئت تکن اٴمیره(۸)

”ہر شخص کے ساتھ احسان کرو تاکہ اس کے حاکم بن جاو“

ان تمام مطالب کا سرچشمہ حدیث ِپیغمبر اکرم (ص) ہے کہ آپ نے فرمایا:

إنَّ اللهَ جَعَلَ قُلُوب عبادِهِ علیٰ حُبَّ مَنْ اٴحسَنَ إلیها ،و بغض من اٴساء إلیها(۹)

”خداوندعالم نے اپنے بندوں کے دلوں کو اس شخص کی محبت کےلئے جھکادیا ہے جو ان پر احسان کرتا ہے اور ان کے دلوں میں اس شخص کی طرف سے عداوت ڈال دی ہے جو ان سے بدسلوکی کرتا ہے“۔

مختصر یہ کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ احسان کرے یا اس کی کوئی خدمت کرے یا اس کو کوئی تحفہ دے تو وہ شخص بھی اس سے محبت کرتا ہے، اور نعمت عطا کرنے والے اور احسان کرنے والے سے مانوس ہوجاتا ہے، اور چاہتا ہے کہ اس کو مکمل طریقہ سے پہچانے، اور اس کا شکریہ ادا کرے، اور یہ بات بھی طے ہے کہ نعمت اور احسان جتنے اہم ہوتے ہیں ”منعم“ (یعنی نعمت دینے والے) کی نسبت اس کی محبت اور اس کی پہچان بھی زیادہ ہوتی ہے۔

اسی وجہ سے علمائے علم کلام (عقائد) قدیم الایام سے مذہب کی تحقیق کے سلسلہ میں ”شکرِ منعم“ (نعمت عطا کرنے والے کا شکریہ ادا کرنے کو ) معرفت خدا کی علتوں میں سے ایک علت شمار کرتے ہیں۔

لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ”شکر منعم“کا مسئلہ عقلی حکم سے پہلے ایک عاطفی مسئلہ ہے، اس مختصر سے اشارہ کو عرب کے مشہور و معروف شاعر ”ابو الفتح بستی“ کے شعر پر ختم کرتے ہیں:

احسن إلی النَّاس تَستعبد قلوبَهُم

فطالما استعبد الإنسان إحسان

”لوگوں کے ساتھ نیکی کرو تاکہ ان کے دل پر حکومت کرسکو ، بے شک انسان احسان کا غلام ہوتا ہے“۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ” ایک روز رسول اکرم عائشہ کے حجرے میں تھے تو عائشہ نے سوال کیا کہ آپ اس قدر کیوں خود کو (عبادت کے لئے) زحمت میں ڈالتے ہیں؟ جبکہ خداوندعالم نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ کے الزاموں کو معاف کردیا ہے“(۱۰)

آنحضرت (ص) نے فرمایا: ”إلاّٰ اکون عبداً شکوراً“(۱۱) (کیا مجھے اس کا شکر گزار بندہ نہیں ہونا چاہئے؟)

۳ ۔ فطری لگاؤ:

اشارہ:

جس وقت فطرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو اس سے مراد اندرونی ادراک و احساس ہوتا ہے جس کے اوپر کسی عقلی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

جس وقت ہم ایک دلکش منظر ، یا خوبصورت باغ اور چمن دیکھتے ہیں اور ہمارے دل میں اس خوبصورت منظر کے پیش نظر کشش محسوس ہوتی ہے تو اندر سے ہمارا احساس آواز دیتا ہے کہ اس کشش اور لگاؤ کا نام عشق یا خوبصورتی رکھ دیا جائے، جبکہ یہاں کسی بھی طرح کے استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔

جی ہاں! خوبصورتی کا احساس کرنے والی یہ طاقت ،انسان کی بلند پرواز روح کے خواہشات اور رجحانات میں سے ہے، مذہب کے سلسلہ میں یہ کشش خصوصاً معرفت خدا کا مسئلہ بھی ایک اندورنی اور ذاتی احساس ہے، بلکہ انسان کے اندر سب سے بڑی طاقت کا نام ہے۔

اسی وجہ سے ہم کسی قوم و ملت کو نہیں دیکھتے (نہ آج اور نہ ماضی میں ) کہ ان کے یہاں مذہبی عقائد نہ پائے جاتے ہوں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمیق احساس ہر انسان کے یہاں پایا جاتا ہے۔

قرآن مجید نے عظیم الشان انبیاء کے قیام کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے اس نکتہ پر توجہ دی ہے کہ رسالت کی ذمہ داری شرک و بت پرستی کا خاتمہ تھا (نہ کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا، کیونکہ یہ موضوع تو ہر انسان کی فطرت میں پوشیدہ ہے)

یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انبیاء علیہم السلام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ”خدا پرستی کا درخت“ لوگوں کے دلوں میں لگائیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ ان کے دلوں میں موجود اس درخت کی آبیاری کریں اور اس کے پاس سے بے کار گھاس اور کانٹوں کو ہٹادیں جن کی وجہ سے کبھی یہ درخت بالکل خشک ہوسکتا ہے یہاں تک کہ جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔

الاَّ تعبد وا إلاَّ الله “ یا ”الَّا تعبدوا إلاَّ إیاهُ “ (خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرو) اس جملہ میں بتوں کی پوجا سے روکا جارہا ہے نہ یہ کہ وجود خدا کو ثابت کیا جارہا ہے، اور یہ جملہ بہت سے انبیاء کی گفتگو میں بیان ہوا ، منجملہ حضرت پیغمبر اکرم (ص) کی تبلیغ میں(۱۲) جناب نوح علیہ السلام کی تبلیغ میں(۱۳) جناب یوسف علیہ السلام کی تبلیغ میں(۱۴) اور جناب ہود علیہ السلام کی تبلیغ میں بیان ہوا ہے۔(۱۵)

اس کے علاوہ ہمارے دل و جان میں دوسرے فطری احساسات بھی پائے جاتے ہیں جیسے علم و دانش ؛ جن کے بارے میں بہت زیادہ شوق و رغبت ہوتی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا کے عجیب و غریب نظام کو تو دیکھیں لیکن اس نظام کے پیدا کرنے والے کی معرفت و شناخت کے سلسلہ میں کوئی شوق ورغبت نہ ہو؟

کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دانشور چیونٹیوں کی شناخت کے بارے میں بیس سال تک ریسرچ کرے اور دوسرا دسیوں سال پرندوں یا درختوں، یا دریائی مچھلیوں کے بارے میں تحقیق کرے ، لیکن اس کے دل میں علم کا شوق نہ پایا جاتا ہو؟ کیا یہ لوگ اس وسیع و عریض دنیا کے سرچشمہ کی تلاش نہیں کریں گے؟!

جی ہاں! یہ تمام چیزیں ہمیں ”معرفت خدا“کی دعوت دیتی ہیں، ہماری عقل کو اس بات کی طرف بلاتی ہیں، ہماری عاطفی طاقت کو اس طرف جذب کرتی ہیں اور ہماری فطرت کو اس راستہ کی طرف لگاتی ہیں۔(۱۶)

____________________

(۱) تفسیر پیام قرآن ،جلد ۲، ص۲۴.

(۲) سورہ فصلت آیت۵۲.

(۳) ”عبد الکریم “ کا اصلی نام ”ابن ابی العوجاء“ تھا،کیونکہ وہ منکر خدا تھا لہٰذا امام نے خاص طور سے اس کواس نام سے پکارا تاکہ وہ شرمندہ ہوجائے

(۴) کافی، جلد اول، صفحہ ۶۱، (کتاب التوحید باب حدوث العالم)

(۵) تفسیر نمونہ ج۲۰، صفحہ ۳۲۵

(۷،۶) غررالحکم

(۸) بحار الانوار ، جلد ۷۷، صفحہ ۴۲۱ ( آخوندی)

(۹) تحف العقول ص۳۷ (بخش کلمات پیامبر (ص))

(۱۰) سورہ فتح کی پہلی آیت کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفسیر کی وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد ۲۲، کے صفحہ ۱۸ پر موجود ہے

(۱۱) اصول کافی ،جلد ۲،باب الشکر حدیث۶

(۱۲) سورہ ہود، آیت۲

(۱۳) سورہ ہود، آیت۲۶

(۱۴) سورہ یوسف، آیت۴۰

(۱۵) سورہ احقاف ، آیت۲۱

(۱۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۲، صفحہ ۳۴

۲ ۔ خداوندعالم کو کیوں درک نہیں کیا جاسکتا؟

خداوندعالم کی ذات پاک کا نامحدود ہونا اور ہماری عقل ، علم اور دانش کا محدود ہونا ہی اس مسئلہ کا اصلی نکتہ ہے۔

خداوندعالم کا وجود ہر لحاظ سے لامتناہی ہے، اس کی ذات ،اس کے علم و قدرت اور دوسرے صفات کی طرح نامحدود اورختم نہ ہونے والا ہے، دوسری طرف ہم اور جو چیزیں ہم سے متعلق ہیں چاہے علم ہو یا قدرت، زندگی ہو یا ہمارے اختیار میں موجود دوسرے امور سب کے سب محدود ہیں۔

لہٰذا ہم اپنی تمام تر محدودیت کے ساتھ کس طرح خدا وندعالم کے لامحدود وجود اور نا محدود صفات کو درک کرسکتے ہیں؟ ہمارا محدود علم اس لامحدود وجود کی خبر کس طرح دے سکتا ہے؟۔

جی ہاں! اگر ہم دور سے کسی چیز کو دیکھیں اگرچہ وہ ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو لیکن پھر بھی اس کی طرف ایک مختصر سا اشارہ کیا جاسکتا ہے، لیکن خداوندعالم کی ذات اور صفات کی حقیقت تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے یعنی تفصیلی طور پر اس کی ذات کا علم نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ ایک لامحدود وجود کسی بھی لحاظ سے اپنا مثل و مانند نہیں رکھتا، وہ محض اکیلا ہے کوئی دوسرا اس کی طرح نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی دوسرا اس کی مانند ہوتا تودونوں محدود ہوجاتے۔

اب ہم کس طرح اس وجود کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کریں جس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سبھی ممکنات کے دائرے میں شامل ہے، اور اس کے صفات خداوندعالم سے مکمل طورپرفرق رکھتے ہیں(۱)

ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اصل وجود سے آگاہ نہیں ہیں، اس کے علم، قدرت، ارادہ اور اس کی حیات سے بے خبر ہیں، بلکہ ہم ان تمام امور کے سلسلہ میں ایک اجمالی معرفت رکھتے ہیں، جن کی گہرائی اور باطن سے بے خبر ہیں، بڑے بڑے علمااور دانشوروں کے عقلی گھوڑے (بغیر کسی استثنا کے)اس مقام پر لنگڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں، یا شاعر کے بقول:

بہ عقل نازی حکیم تاکی؟ بہ فکرت این رہ نمی شود طی!

بہ کنہ ذاتش خرد برد پی اگر رسد خس و بہ قعر دریا!(۲)

”اے حکیم و دانا و فلسفی تو اپنی عقل پر کب تک ناز کرے گا، تو عقل کے ذریعہ اس راہ کو طے نہیں کرسکتا۔

اس کی کنہِ ذات تک عقل نہیں پہنچ سکتی ہیں جس طرح خس و خاشاک سمندر کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے حدیث نقل ہوئی ہے:

إذا انتهیٰ الکلام إلیٰ الله فامسکوا(۳)

” جس وقت بات خدا تک پہنچ جائے تو اس وقت خاموش ہوجاؤ“

یعنی حقیقت خدا کے بارے میں گفتگو نہ کرو، کیونکہ اس کے سلسلہ میں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں اور کسی مقام پر نہیں پہنچ سکتیں، اس کی لامحدود ذات کے بارے میں محدود عقلوں کے ذریعہ سوچنا ناممکن ہے، کیونکہ جو چیز بھی عقل و فکر کے دائرہ میں آجائے وہ محدود ہوتی ہے اور خداوندعالم کا محدود ہونا محال ہے۔(۴)

یاواضح الفاظ میں یوں کہا جائے کہ جس وقت ہم اس دنیا کی عجیب و غریب چیزوں اور ان کی ظرافت و عظمت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں یا خود اپنے اوپر ایک نگاہ ڈالتے ہیں تو اجمالی طور پر یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ ان تمام چیزوں کا کوئی پیدا کرنے والاہے، جبکہ یہ وہی علمِ اجمالی ہے جس پر انسان خدا کی معرفت اور اس کی شناخت کے آخری مرحلہ میں پہنچتا ہے، (لیکن انسان جس قدر اسرار کائنات سے آگاہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے تو اس کی وہ اجمالی معرفت قوی تر ہوتی جاتی ہے) لیکن جب ہم خود اپنے سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون ہے؟ اور کس طرح ہے؟ اور اس کی ذاتِ پاک کی طرف ہاتھ پھیلاتے ہیں تو حیرت و پریشانی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا، یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی شناخت کا راستہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے حالانکہ مکمل طور پر بند بھی ہے۔

اس مسئلہ کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قوتِ جاذبہ کا وجود ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر کسی چیز کو چھوڑتے ہیں تو وہ گرجاتی ہے اور زمین کی طرف آتی ہے ، اور اگر یہ قوتِ جاذبہ نہ ہوتی تو روئے زمین پر بسنے والے کسی موجود کو چین و سکون نہ ملتا،لیکن اس قوہ جاذبہ کے بارے میں علم ہونا کوئی ایسی بات نہیں جو دانشوروں سے مخصوص ہو ، بلکہ چھوٹے بچے بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں البتہ قوتِ جاذبہ کی حقیقت کیا ہے؟ کیا دکھائی نہ دینے والی لہریںہیں ، یا نامعلوم ذرات یا دوسری کوئی طاقت؟ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ۔

اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ قوتِ جاذبہ ،مادی دنیا میں معلوم شدہ چیز کے برخلاف، ظاہراً کسی چیز کو دوسری جگہ پہنچانے میں کسی زمانہ اور وقت کی محتاج نہیں ہے، نور کے برخلاف جو کہ مادی دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے ، لیکن کبھی اس نور کوایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کے لئے لاکھوں سال درکار ہوتے ہیں، جبکہ قوتِ جاذبہ اسے دنیا کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ میں لمحہ بھر میں منتقل کردیتی ہے، یا کم سے کم ہم نے جو سرعت و رفتار سنی ہے اس سے کہیں زیادہ اس کی رفتار ہوتی ہے۔

یہ کونسی طاقت ہے جس کے آثار ایسے(عجیب و غریب) ہیں؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ کوئی شخص بھی اس کا واضح جواب نہیں دیتا، جب اس ”قوتِ جاذبہ “ (جو ایک مخلوق ہے) کے بارے میں ہمارا علم صرف اجمالی پہلو رکھتا ہے اور اس کے بارے میں تفصیلی علم نہیں ہے، تو پھر کس طرح اس ذات اقدس کی کُنہ (حقیقت) سے باخبر ہوسکتے ہیں جو اس دنیا اور ماورائے طبیعت کا خالق ہے جس کا وجود لامتناہی ہے، لیکن بہر حال ہم اس کو ہر جگہ پر حاضر و ناظر مانتے ہیں اور کسی بھی ایسی جگہ کا تصور نہیں کرتے جہاں اس کا وجود نہ ہو۔

با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را(۵)

” تولاکھوں جلووں کے ساتھ جلوہ افروز ہے تاکہ میں لاکھوں انکھوں کے ذریعہ تیرا دیدار کروں“۔

____________________

(۱) اگر آپ حضرات تعجب نہ کریں تو ہم ”لامتناہی“ (لامحدود) مفہوم کا تصور ہی نہیں کرسکتے ،لہٰذا کس طرح لفظ ”لامتناہی“ کو استعمال کیا جاتا ہے؟ اور اس کے سلسلہ میں خبر دی جاتی ہے اور اس کے احکام کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے ، تو کیا بغیر تصور کے تصدیق ممکن ہے؟

جواب : لفظ ”لامتناہی“ دو لفظوں سے مل کر بنا ہے ”لا“ جو کہ عدم اور نہ کے معنی میں ہے اور ”متناہی“ جو کہ محدود کے معنی میں ہے، یعنی ان دونوں کو الگ الگ تصور کیا جاسکتا ہے، (نہ ، محدود) اس کے بعد دونوں کو مرکب کردیا گیا، اور اس کے ذریعہ ایسے وجودکی طرف اشارہ کیا گیاہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا، اور اس پر (صرف) علم اجمالی حاصل ہوتا ہے (غور کیجئے)

(۲) پیام قرآن ، جلد ۴، ص۳۳.

(۳) تفسیر ”علی بن ابراہیم “ نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۱۷۰ کی نقل کے مطابق.

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۲، صفحہ ۵۵۸.

(۵) پیام امام (شرح نہج البلاغہ)، جلد اول، صفحہ ۹۱