110 سوال اور جواب

110 سوال اور جواب5%

110 سوال اور جواب مؤلف:
: اقبال حیدرحیدری
زمرہ جات: مناظرے

۱۱۰ سوال اور جواب
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 126 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 142366 / ڈاؤنلوڈ: 6704
سائز سائز سائز
110 سوال اور جواب

۱۱۰ سوال اور جواب

مؤلف:
اردو

نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ"امامین الحسنین(ع)نیٹ ورک" نےاس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔
نیز ادارہ کی گِروہ علمی کی زیرنگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اورممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF ڈاؤنلوڈ لنک
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۱۷۱&view=download&format=pdf

word
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۱۷۱&view=download&format=doc

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اورہرقسم کےسوالات کوادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پرسینڈ کرسکتے ہیں


1

2

3

4

۷۵ ۔ فلسفہ زکوٰة کیا ہے؟

اسلام صرف ایک اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتب کے عنوان سے نہیں آیا ہے بلکہ ایک ”مکمل آئین“ کے عنوان سے پیش ہوا ہے جس میں تمام مادی اور معنوی ضرورتوں کو مد نظر رکھا گیا ہے، اسلام نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ سے ہی حکومت تشکیل دے کر غریب اور محتاج لوگوں کی حمایت اور طبقاتی نظام کا مقابلہ کیا ہے ، جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بیت المال اور زکوٰة جو بیت المال کی در آمد کا راستہ ہے ؛ اسلام کی اہم منصوبہ بندی میں سے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر معاشرہ میں غریب، محتاج، بیمار، بے سرپرست یتیم اور اپاہج لوگ پائے جاتے ہیں، جن کی حمایت اور مدد ہونی چاہئے۔

اور اسی طرح دشمن کے مقابل اپنی حفاظت کے لئے نگہبان اور مجاہدین کی ضرورت ہوتی ہے جس کا خرچ حکومت کو ادا کرنا ہوتا ہے۔

اسی طرح حکومتی ملازمین، قاضی، دینی ادارے اور تبلیغی وسائل کے لئے بھی کچھ مصارف کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے منظم طور پر مالی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اسلامی نظام بہتر طور پر قائم ہوسکے۔

اسی وجہ سے اسلام نے زکوٰة پر ایک خاص توجہ دی ہے جو در اصل ایک طرح سے ”انکم ٹیکس“ اور ”ذخیرہ شدہ سرمایہ پر ٹیکس“ ہے ، اور زکوٰة کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مہم ترین عبادت میں شمار کیا گیا ہے، بہت سے مقامات پر نماز کے ساتھ ذکر ہوا ہے، یہاں تک کہ قبولیتِ نماز کی شرط شمار کی گئی ہے!

بلکہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ اگر اسلامی حکومت نے کسی شخص یا اشخاص سے زکوٰة کا مطالبہ کیا اور انھوں نے زکوٰة دینے سے انکار کیا اور حکومت سے مقابلہ کیا تو ان کو مرتد شمار کیا جائے گا، اور اگر ان پر وعظ و نصیحت کا کوئی اثر نہ ہو تو اس صورت میں طاقت کا سہارا لینا جا ئز ہے ،جیسا کہ واقعہ ”اصحاب ردّہ“ (جس گروہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد زکوٰة دینے سے انکار کیا اور خلیفہ وقت نے ان سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی یہاں تک حضرت علی علیہ السلام نے اس مقابلہ پر رضا مندی دے دی اور خود ایک پرچم دار کے عنوان سے میدان جنگ میں حاضر ہوئے) تاریخ میں مشہور ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں بیان ہوا ہے: ”مَنْ مَنَعَ قِیْرَاطاً مِنَ الزَّکٰاةِ فَلَیسَ هُوَ بِمَومِنٍ، وَلَا مُسْلِمٍ، وَلا کَرَامَةٍ !“(۱) ”جو شخص زکوٰة کی ایک قیراط(۲) ادا نہ کرے تو وہ نہ مومن ہے اور نہ مسلمان، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے“۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ زکوٰة کے سلسلہ میں بیان شدہ روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام نے زکوٰة کی ”حدود“ اور ”مقدار“ اس قدر دقیق معین کی ہے کہ اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة صحیح اور مکمل طریقہ سے ادا کریں تو اسلامی ممالک میں کوئی غریب اور فقیر نہیں پایا جائے گا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک اور روایت میں بیان ہوا ہے: ”اگر تمام مسلمان اپنے مال کی زکوٰة ادا کریں تو کوئی مسلمان غریب نہیں رہ سکتا، لوگ غریب، محتاج، بھوکے اور ننگے نہیں ہوتے مگر مالداروں کے گناہوں کی بدولت“۔(۳)

اسی طرح روایات سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی سے ملکیت کا تحفظ ہوتا ہے کہ اگر مسلمان اس اسلامی اہم اصل کو بالائے طاق رکھ دیں تو لوگوں کے درمیان (غریب او رامیر میں) اس قدر فاصلہ ہوجائے کہ مالدار لوگوں کا مال خطرہ میں پڑ جائے گا۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ ”حَصِّنُوا اٴمْوَالُکُمْ بِالزَّکَاةِ(۴) ”زکوٰة کے ذریعہ اپنے مال کی حفاظت کرو“۔

یہی مضمون خود پیغمبر اکرم (ص) اور امیر المومنین علی علیہ السلام سے دوسری احادیث میں نقل ہوا ہے۔(۵)

____________________

(۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ ۲۰، باب ۴، حدیث۹

(۲) درہم کے بارہویں حصے کے برابر ایک وزن

(۳) وسائل الشیعہ ، جلد ۶، صفحہ۴ (باب ۱،حدیث ۶ از ابواب زکوٰة )

(۴) وسائل الشیعہ ،جلد ۶، صفحہ ۶،(باب۱، حدیث ۱۱ از ابواب زکوٰة )

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۸، صفحہ ۱۰

۷۶۔ فلسفہ اور اسرار حج کیا ہیں؟

حج کے یہ عظیم الشان مناسک در اصل چار پہلو رکھتے ہیں، ان میں سے ہر ایک دوسرے سے اہم اور مفید تر ہے:

۱ ۔ حج کا اخلاقی پہلو:

حج کا سب سے مہم ترین فلسفہ یہی اخلاقی انقلاب ہے جو حج کرنے والے میںرونما ہوتا ہے، جس وقت انسان ”احرام“ باندھتا ہے تو ظاہری امتیازات، رنگ برنگ کے لباس اور زر و زیور جیسی تمام مادیات سے باہر نکال دیتا ہے، لذائذ کا حرام ہونا اور اصلاح نفس میں مشغول ہونا (جو کہ مُحرِم کا ایک فریضہ ہے) انسان کو مادیات سے دور کردیتا ہے اور نور و پاکیزگی اور روحانیت کے عالم میں پہنچا دیتا ہے اور عام حالات میں خیالی امتیازات اور ظاہری افتخارات کے بوجھ کو اچانک ختم کردیتا ہے جس سے انسان کو راحت اور سکون حا صل ہوتاہے۔

اس کے بعد حج کے دوسرے اعمال یکے بعد دیگرے انجام پاتے ہیں، جن سے انسان ،خدا سے لمحہ بہ لمحہ نزدیک ہوتا جاتا ہے اور خدا سے رابطہ مستحکم تر ہوتا جاتا ہے، یہ اعمال انسان کوگزشتہ گناہوں کی تاریکی سے نکال کر نور وپاکیزگی کی وادی میں پہنچا دیتے ہیں۔

حج کے تمام اعمال میں قدم قدم پر بت شکن ابراہیم، اسماعیل ذبیح اللہ اور ان کی مادر گرامی جناب ہاجرہ کی یاد تازہ ہوتی ہے جس سے ان کا ایثار اور قربانی انسان کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوجاتی ہے ، اور اس بات پر بھی توجہ کہ رہے سرزمین مکہ عام طور پر اور مسجد الحرام و خانہ کعبہ خاص طور پر پیغمبر اسلام (ص) ،ائمہ علیہم السلام اور صدر اسلام کے مسلمانوں کے جہاد کی یاد تازہ کردیتے ہیں،چنانچہ یہ اخلاقی انقلاب عمیق تر ہوجاتا ہے گویا انسان مسجد الحرام اور سر زمین مکہ کے ہر طرف اپنے خیالات میں پیغمبر اکرم (ص) ،حضرت علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کے نورانی چہروں کی زیارت کرتا ہے اور ان کی دل نشین آواز کو سنتا ہے۔

جی ہاں! یہ تمام چیزیں مل کر انسان کے دل میں ایک روحی اور اخلاقی انقلاب پیدا کردیتی ہیں گویا انسانی زندگی کی ناگفتہ بہ حالت کے صفحہ کو بند کردیا جاتا ہے اور اس کی بہترین زندگی کا نیا صفحہ کھل جاتا ہے۔

یہ بات بلا وجہ اسلامی روایات میں بیان نہیں ہوا ہے کہ ”یُخْرِجُ مِنْ ذُنُوبِهِ کَهَیئَته یَوم وُلِدتُّهُ اٴُمُّهُ !“(۱) ”حج کرنے والا اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوجاتا ہے جیسے ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو“۔

جی ہاں! حج مسلمانوں کے لئے ایک نئی پیدائش ہے جس سے انسان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے۔

البتہ یہ تمام آثار و برکات ان لوگوں کے لئے نہیں ہیں جن کا حج صرف ظاہری پہلو رکھتا ہے جو حج کی حقیقت سے دور ہبں، اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حج کو ایک سیر و تفریح سمجھتے ہیں یا ریاکاری اور سامان کی خرید و فرو خت کے لئے جاتے ہیں ، اور جنھیں حج کی حقیقت کا علم نہیں ہے، ایسے لوگوں کا حج میں وہی حصہ ہے جو انھوں نے حاصل کرلیا ہے!

۲ ۔ حج کا سیاسی پہلو:

ایک عظیم الشان فقیہ کے قول کے مطابق : حج در عین حال کہ خالص ترین اور عمیق ترین عبادت ہے، اس کے ساتھ اسلامی اغراض و مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہترین وسیلہ ہے۔

روحِ عبادت ،خدا پر توجہ کرنا،روحِ سیاست یعنی خلق خدا پر توجہ کرنا ہے اور یہ دونوں چیزیں حج کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں!

حج مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کا بہترین سبب ہے۔

حج نسل پرستی اور علاقائی طبقات کے فرق کو ختم کرنے کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔

حج اسلامی ممالک میں فوجی ظلم و ستم کے خاتمہ کا وسیلہ ہے۔

حج اسلامی ممالک کی سیاسی خبروں کو دوسرے مقامات تک پہنچانے کا وسیلہ ہے، خلاصہ یہ کہ حج؛ مسلمانوں پر ظلم و ستم اور استعمار کی زنجیروں کو کاٹنے اور مسلمانوں کو آزادی دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔

اور یہی وجہ ہے کہ حج کے موسم میں بنی امیہ اور بنی عباس جیسی ظالم و جابر حکومتیں اس موقع پر حجاج کی ملاقاتوں پر نظر رکھتی تھیں تاکہ آزادی کی تحریک کو وہیں کچل دیا جائے، کیونکہ حج کا موقع مسلمانوں کی آزادی کے لئے بہترین دریچہ تھا تاکہ مسلمان جمع ہوکر مختلف سیاسی مسائل کو حل کریں۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام جس وقت فرائض اور عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہیں تو حج کے بارے میں فرماتے ہیں: ”الحَجُّ تَقْوِیَةُ لِلدِّینِ(۲) (خداوندعالم نے حج کو آئین اسلام کی تقویت کے لئے واجب قرار دیا ہے)

بلا وجہ نہیں ہے کہ ایک غیر مسلم سیاست داں اپنی پُر معنی گفتگو میں کہتا ہے: ”وائے ہو مسلمانوں کے حال پر اگر حج کے معنی کو نہ سمجھیں اور وائے ہو اسلام کے دشمنوں پر کہ اگر حج کے معنی کوسمجھ لیں“!

یہاں تک اسلامی روایات میں حج کو ضعیف او رکمزور لوگوں کا جہاد قرار دیا گیا ہے اور ایک ایسا جہاد جس میں کمزور ضعیف مرد اور ضعیف عورتیں بھی حاضر ہوکر اسلامی شان و شوکت میں اضافہ کرسکتی ہیں، اور خانہ کعبہ میں نماز گزراوں میں شامل ہوکر تکبیر اور وحدت کے نعروں سے اسلامی دشمنوں کو خوف زدہ کرسکتے ہیں۔

۳ ۔ ثقافتی پہلو:

مسلمانوں کا ایام حج میں دنیا بھر کے مسلمانوں سے ثقافتیرابطہ اور فکر و نظر کے انتقال کے لئے بہترین اور موثر ترین عامل ہوسکتا ہے۔

خصوصاً اس چیز کے پیش نظر کہ حج کا عظیم الشان اجتماع دنیا بھر کے مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی ہے (کیونکہ حج کے لئے جانے والوں کے درمیان کوئی مصنوعی عامل موثر نہیں ہے، اور تمام قبائل، تمام زبانوں کے افراد حج کے لئے جمع ہوتے ہیں)

جیسا کہ اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ حج کے فوائد میں سے ایک فائد ہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث اور اخبار ؛عالم اسلام میں نشر ہوں۔

”ہشام بن حکم“ حضرت امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں کہتے ہیں: میں نے امام علیہ السلام سے فلسفہ حج اور طواف کعبہ کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”خداوندعالم نے ان تمام بندوں کو پیدا کیا ہے اور دین و دنیا کی مصلحت کے پیش نظر ان کے لئے احکام مقرر کئے، ان میں مشرق و مغرب سے (حج کے لئے) آنے والے لوگوں کے لئے حج واجب قرار دیا تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو اچھی طرح پہچان لیں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں، ہر گروہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں تجارتی سامان منتقل کرے اور پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث و آثار کی معرفت حاصل ہو اور حجاج ان کو ذہن نشین کرلیں ان کو کبھی فراموش نہ کریں، (اور دوسروں تک پہونچائیں)(۳)

اسی وجہ سے ظالم و جابر خلفاء اور سلاطین ؛مسلمانوں کو ان چیزوں کے نشر کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مشکلوں کو دور کرتے تھے اور ائمہ معصومین علیہم السلام اور بزرگ علمائے دین سے ملاقات کرکے قوانین اسلامی اور سنت پیغمبر پر پردہ ڈالتے تھے۔

اس کے علا وہ حج ؛عالمی پیمانہ پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا نام ہے جس میں دنیا بھر کے تمام مسلمان مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے افکار اورابتکارات کو دوسرے کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اصولی طور پر ہماری سب سے بڑی بد بختی یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی سرحدوں نے مسلمانوں کی ثقافت میں جدائی ڈال دی ہے، ہر ملک کا مسلمان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، جس سے اسلامی معاشرہ کی وحدت نیست و نابود ہوگئی ہے، لیکن حج کے ایام میں اس اتحاد اور اسلامی ثقافت کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے۔

چنانچہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے (اسی ہشام بن حکم کی روایت کے ذیل میں): جن قوموں نے صرف اپنے ملک ،شہروں اور اپنے یہاں در پیش مسائل کی گفتگو کی تو وہ ساری قومیں نابود ہوجائیں گی اور ان کے ملک تباہ و برباد اور ان کے منافع ختم ہوجائیں گے اور ان کی حقیقی خبریں پشتِ پردہ رہ جائیں گی۔(۴)

۴ ۔ حج کا اقتصادی پہلو:

بعض لوگوں کے نظریہ کے برخلاف ؛ حج کا موسم اسلامی ممالک کی اقتصادی بنیاد کو مستحکم بنانے کے لئے نہ صرف ”حقیقتِ حج“ سے کوئی منافات نہیں رکھتا بلکہ اسلامی روایات کے مطابق؛ حج کا ایک فلسفہ ہے۔

اس میں کیا حرج ہے کہ اس عظیم الشان اجتماع میں اسلامی مشترک بازار کی بنیاد ڈالیں اور تجارتی اسباب و وسائل کے سلسلہ میں ایسا قدم اٹھائیں جس سے دشمن کی جیب میں پیسہ نہ جائے اور نہ ہی مسلمانوں کا اقتصاد دشمن کے ہاتھوں میں رہے، یہ دنیا پرستی نہیں ہے بلکہ عین عبادت اور جہاد ہے۔

ہشام بن حکم کی اسی روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے حج کے فلسفہ کو بیان کرتے ہوئے صاف صاف اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسلمانوں کی تجارت کو فروغ دینا اور اقتصادی تعلقات میں سہولت قائم کرنا ؛حج کے اغراض و مقاصدمیں سے ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے آیہ شریفہ( لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ ) (۵) کے ذیل میں بیان ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت سے مراد کسب روزی ہے، ”فاذااحل الرجل من احرامه و قضی فلیشتر ولیبع فی الموسم “() ”جس وقت انسان احرام سے فارغ ہوجاتا ہے اور مناسکِ حج کو انجام دے لیتا ہے تو اسی موسم حج میں خرید و فروخت کرے (اور یہ چیز نہ صرف حرام نہیں ہے بلکہ اس میں ثواب بھی ہے)(۶)

اور حضرت امام رضا علیہ السلام سے منقول فلسفہ حج کے بارے میں ایک تفصیلی حدیث کے ذیل میںیہی معنی بیان ہوئے ہیں جس کے آخر میں ارشاد ہوا ہے: ”لِیَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُم(۷)

آیہ شریفہ”لیشھدوا منافع لھم“ معنوی منافع کو بھی شامل ہوتی ہے اور مادی منافع کو بھی، لیکن ایک لحاظ سے دونوں معنوی منافع ہیں۔

مختصر یہ کہ اگر اس عظیم الشان عبادت سے صحیح اور کامل طور پر استفادہ کیا جائے ، اور خانہ خدا کے زائرین ان دنوں میں جبکہ وہ اس مقدس سر زمین پر بڑے جوش و جذبہ کے ساتھ حاضر ہیں اور ان کے دل آمادہ ہیں تو اسلامی معاشرہ کی مختلف مشکلات دور کرنے کے لئے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی کانفرنس کے ذریعہ فا ئدہ اٹھائیں، یہ عبادت ہر پہلو سے مشکل کشا ہوسکتی ہے، اور شاید اسی وجہ سے حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”لایزال الدین قائما ما قامت الکعبة(۸) ”جب تک خانہ کعبہ باقی ہے اس وقت تک اسلام بھی باقی رہے گا“۔

اور اسی طرح حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: خانہ خدا کو نہ بھلاؤ کہ اگر تم نے اسے بھلا دیا تو ہلاک ہوجاؤ گے، ”الله الله فِی بَیتِ ربّکُم لاتَخْلُوهُ مَا بَقِیتُمْ فَإنّهُ إنْ َترَکَ لَم تَنَاظَرُوا(۴۲) (خدا کے لئے تمہیں خانہ خدا کے بارے میں تلقین کرتا ہوں اس کو خالی نہ چھوڑ نا، اور اگر تم نے چھوڑ دیا تو مہلت الٰہی تم سے اٹھالی جائے گی۔)

اور اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اسلامی روایات میں ایک فصل اس عنوان سے بیان کی گئی کہ اگر ایک سال ایسا آجائے کہ مسلمان حج کے لئے نہ جا ئیں تو اسلامی حکومت پر واجب ہے کہ مسلمانوں کو مکہ معظمہ جانے پر مجبور کرے۔(۹)(۱۰)

”حج“ ایک اہم انسان ساز عبادت ہے

حج کا سفر در اصل بہت عظیم ہجرت ہے، ایک الٰہی سفر ہے اور اصلاح نیز جہاد اکبر کا وسیع میدان ہے۔

اعمال حج؛ حقیقت میں ایک ایسی عبادت ہے جس میں جناب ابراہیم اور ان کے بیٹے جناب اسماعیل اور ان کی زوجہ حضرت ہاجرہ کی قربانیوں اور مجاہدت کی یاد تازہ ہوتی ہے ، اور اگر ہم اسرار حج کے بارے میں اس نکتہ سے غافل ہوجائیں تو بہت سے اعمال ایک معمہ بن کر رہ جائیں گے ، جی ہاں! اس معمہ کو حل کرنے کی کنجی انھیں عمیق مطالب پر توجہ دینا ہے۔

جس وقت ہم سر زمین منیٰ کی قربانگاہ میں جاتے ہیں تو تعجب کرتے ہیں، یہ اس قدرقربانی کس لئے؟ کیا حیوانات کی قربانی عبادت ہوسکتی ہے؟!

لیکن جس وقت قربانی کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے نور نظر ،پارہ جگر اور اپنے ہر دل عزیز بیٹے کو راہ خدا میں قربان کردیا، جو ایک سنت ابراہیمی بن گیا اور منی میں اس یاد میں قربانی ہونے لگی تو اس کام کا فلسفہ سمجھ میں اجا تا ہے۔

قربانی کرنا خدا کی راہ میں تمام چیزوں سے گزرنے کا راز ہے، قربانی کرنا یعنی اس بات کا ظاہر کرنا ہے کہ اس کا دل غیر خدا سے خالی ہے،حج کے اعمال سے اسی وقت ضروری مقدار میں تربیتی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب ذبح اسماعیل اور قربانی کے وقت اس باپ کے احساسات کو مد نظر رکھا جائے، اور وہی احساسات ان کے اندر جلوہ گر ہوجائیں۔(۱)

جس وقت ہم ”جمرات“ کی طرف جاتے ہیں ( یعنی وہ تین مخصوص پتھر جن پر حجاج کو کنکری مارنا ہوتی ہیں، اور ہر بار سات کنکر مارنا ہوتی ہیں) توہمارے سامنے یہ سوال پیش آتا ہے کہ اس مجسمہ

(۱) افسوس کہ ہمارے زمانہ میں منی میں قربانی کا طریقہ کار رضایت بخش نہیں ہے لہٰذا علمائے اسلام کو اس سلسلہ میں توجہ دینا چاہئے

پر سنگ باری کا کیا مقصد ہے؟ اور اس سے کیا مشکل حل ہوسکتی ہے؟ لیکن جس وقت ہم یاد کرتے ہیں کہ یہ سب بت شکن قہر مان جناب ابراہیم علیہ السلام کی یاد ہے ، آپ کی راہ میں تین بار شیطان آیا تا کہ آپ کو اس عظیم ”جہاد اکبر“سے رو ک دے یا شک و شبہ میں مبتلا کردے لیکن ہر بار توحید کے علمبر دار نے شیطان کو پتھر مار کر دور بھگا دیا،لہٰذا اگر اس واقعہ کو یاد کریں تو پھر ”رمی جمرات“ کا مقصد سمجھ میں آجاتا ہے۔

رمی جمرات کا مقصد یہ ہے کہ ہم سب جہاد اکبر کے موقع پر شیطانی وسوسوں سے روبرو ہوتے ہیں اور جب تک ان کو سنگسار نہ کریں گے اور اپنے سے دور نہ بھگائیں گے تواس پر غالب نہیں ہوسکتے۔

اگر تمہیں اس بات کی امید ہے کہ خداوندعالم نے جس طرح جناب ابراہیم علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا اور ان کی یاد کو ہمیشہ کے لئے باقی رکھا ہے اگر تم بھی یہ چاہتے ہو کہ وہ تم پر نظر رحمت کرے تو پھر راہ ابراہیم پر قدم بڑھاؤ۔

یا جس وقت ”صفا“ اور ”مروہ“ پر جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ حجاج گروہ در گروہ ایک چھوٹی پہاڑی سے دوسری چھوٹی پہاڑی پر جاتے ہیں، اور پھر وہاں سے اسی پہاڑی پر واپس آجاتے ہیں ، اور پھر اسی طرح اس عمل کی تکرار کرتے ہیں، کبھی آہستہ چلتے ہیں تو کبھی دوڑتے ہیں، واقعاً تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیا ہے؟! اور اس کا مقصد کیا ہے؟!

لیکن جب ایک نظر اس با ایمان خاتون حضرت ہاجرہ کے واقعہ پر ڈالتے ہیں جو اپنے شیر خوار فرزند اسماعیل کی جان کے لئے اس بے آب و گیاہ بیابان میں اس پہاڑی سے اس پہاڑی پر جاتی ہیں، اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں کہ خداوندعالم نے حضرت ہاجرہ کی سعی و کوشش کو کس طرح منزل مقصود تک پہنچایا اور اور ان کے نو مولود بچہ کے پیروں کے نیچے چشمہ زمزم جاری کیا، تو اچانک زمانہ پیچھے ہٹتا دکھائی دیتا ہے اور پردے ہٹ جاتے ہیں اور ہم اپنے کو جناب ہاجرہ کے پاس دیکھتے ہیں اور ہم بھی ان کے ساتھ سعی و کوشش میں مشغول ہوجاتے ہیں کہ راہ خدا میں سعی و کوشش کے بغیر منزل نہیں مل سکتی!

(قارئین کرام!) ہماری مذکورہ گفتگوکے ذریعہ آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ ”حج“ کو ان اسرار و رموز کے ذریعہ تعلیم دیا جائے اور جناب ابراہیم، ان کی زوجہ اور ان کے فرزند اسماعیل کی یاد کو قدم قدم پر مجسم بنایا جائے تاکہ اس کے فلسفہ کو سمجھ سکیں، اور حجاج کے دل و جان میں حج کی اخلاقی تاثیر جلوہ گر ہو ، کیونکہ ان آثار کے بغیر حج کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔(۱۱)

____________________

(۱) بحار الانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۲۶

(۲) نہج البلاغہ، کلمات قصار ، نمبر ۲۵۲

(۳) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹ (۴) وسائل الشیعہ ، جلد ۸، صفحہ ۹

(۴) سورہ بقرہ ، آیت ۱۹۸ (ترجمہ آیت: ”تمہارے لئے کوئی حرج نہیں ہے کہ اپنے پروردگار کے فضل وکرم کو تلاش کرو“)

(۵) تفسیر عیاشی، تفسیر المیزان ، جلد ۲ ، صفحہ ۸۶ کی نقل کے مطابق

(۶) بحار الاانوار ، جلد ۹۹، صفحہ ۳۲

(۷) وسائل الشیعہ ، ، جلد ۸، صفحہ ۱۴

(۸) نہج البلاغہ ،وصیت نامہ سے اقتباس۴۷

(۹) وسائل الشیعہ ، جلد۸، صفحہ ۱۵”باب وجوب اجبار الوالی الناس علی الحج“

(۱۰) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۴، صفحہ ۷۶

(۱۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹، صفحہ ۱۲۵

۷۷ ۔ جہاد کا مقصد کیا ہے؟ اور ابتدائی جہاد کس لئے؟

اسلامی جہاد کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

۱ ۔ ابتدائی جہاد (آزادی کے لئے)

خداوندعالم نے انسان کی سعادت و خوشبختی، آزادی اور کمال تک پہنچنے کے لئے احکام بیان کئے ہیں، اور اپنے مرسلین کو ذمہ داری دی ہے تاکہ یہ احکام لوگوں تک پہنچائیں، اب اگر کوئی شخص یا کوئی گروہ اسلامی احکام کو اپنے منافع میں مزاحم سمجھے اور ان کے پہچانے میں مانع اور رکاوٹ بنے تو انبیاء علیہم السلام کو اس بات کا حق ہے کہ پہلے انھیں گفتگو کے ذریعہ سمجھائے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو طاقت کے ذریعہ ان کو راستہ سے ہٹا دیں اور آزاد طریقہ سے تبلیغ کے فر ائض انجام دیں۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ ہر معاشرہ کے لوگوں کا حق ہے کہ وہ راہ حق کے منادی افراد کی ندا کو سنیں اور اس دعوت کے قبول کرنے میں آزاد ہوں، لہٰذا اگر کوئی ان کو اس جائز حق سے محروم کرنا چاہے اور ان کو راہ خدا کے منادی افرادکی آواز سننے سے روکے ، تو ان کو یہ حق ہے کہ اس آزادی کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی طاقت کا سہار ا لیں، یہیں سے اسلام اور دیگر آسمانی ادیان میں ”ابتدائی جہاد “ کی ضرورت واضح و روشن ہوجاتی ہے۔

اور اسی طرح اگر کچھ لوگ مومنین پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنے گزشتہ مذہب کی طرف لوٹ جائیں تو اس موقع پر بھی کسی طاقت کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔

۲ ۔ دفاعی جہاد :

اگر کسی شخص یا گروہ پر دشمن کی طرف سے حملہ کیا جاتا ہے تو اس موقع پر تمام آسمانی اور انسانی قوانین اس بات کا حق دیتے ہیں کہ انسان اپنے دفاع کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور اپنے دفاع کے لئے اپنی پوری طاقت لگادے، اور اپنی حفاظت کے لئے کوئی بھی حربہ اپنانے میں چون و چرانہ کرے، اس قسم کے جہاد کو ”دفاعی جہاد“ کہا جاتا ہے، اسلام کی مختلف جنگیں اسی طرح کی تھیں جیسے جنگ احزاب، جنگ احد، جنگ موتہ، جنگ تبوک، جنگ حنین وغیرہ، یہ تمام جنگیں دفاعی پہلو رکھتی تھیں۔

۳ ۔ کفر اور شرک کی نابودی کے لئے جہاد

اسلام ؛ اگرچہ دنیا بھر کے لوگوں کو اس دین (جو سب سے عظیم اور آخر ی دین ہے)کے انتخاب کے لئے دعوت دیتا ہے لیکن ان کے عقیدہ کی آزادی کا احترام کرتا ہے اسی وجہ سے جو اقوام آسمانی کتاب رکھتی ہیں ان کو اسلام قبول کرنے کے لئے غور و فکر کے لئے کافی فرصت دیتا ہے، او راگر انھوں نے اسلام قبول نہ کیا تو ان کے ساتھ ایک ”ہم پیمان اقلیت“ کے عنوان سے معاملہ کرتا ہے اور خاص شرائط کے تحت (جو نہ مشکل ہیں اور نہ پیچیدہ) ان کے ساتھ آرام و سکون کی زندگی بسر کرنے کا سبق دیتا ہے۔

لیکن کفر و شر ک نہ دین ہے ،نہ کوئی مذہب اور نہ ہی قابل احترام ہے، بلکہ ایک قسم کی خرافات، انحراف اور حماقت ہے، در اصل ایک فکری اور اخلاقی بیماری ہے جس کو کسی نہ کسی طرح ختم ہونا چاہئے۔

دوسروں کی ”آزادی“ اور ”احترام“کی بات ان مقامات پرکیجا تی ہے جہاں فکر و عقیدہ میں کوئی ایک صحیح اصل پائی جاتی ہو لیکن انحرافات، گمراہی اور فکری بیماری قابل احترام نہیں ہے اسی وجہ سے اسلام کا حکم ہے کہ کفر و شرک کا دنیا بھر سے نام و نشان تک مٹا دیا جائے ،چاہے جنگ کرنی پڑے، اگر بت پرستی کے بُرے آثار گفتگو کے ذریعہ ختم نہ ہوں تو جنگ کے ذریعہ ان کا خاتمہ کردیا جائے۔(۱)

ہماری مذکورہ باتوں سے گرجا گھروں کے زہریلے پروپیگنڈے کا جواب بھی واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اس سلسلہ میں( لاَ اِکْرَاهَ فِی الدِّینِ ) (۲) سے واضح آیت قرآن مجید میں موجود نہیں ہے۔

البتہ وہ لوگ اسلامی جہاد اور اسلامی جنگوں میں تحریف کرنے کے لئے مختلف بہانہ بازی کرتے ہیں جبکہ اسلامی جنگوں کی تحقیق سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان میں سے بہت سی جنگیں دفاعی پہلو رکھتی تھیں اور بعض وہ جنگیں جو ”ابتدائی جہاد “ کی صورت میں تھیں وہ بھی دوسرے ملکوں پر غلبہ کرنے اور مسلمانوں کو طاقت کے بل پر اسلام قبول کرانے کے لئے نہیں تھی بلکہ اس ملک میں حکم فرما ظالمانہ نظام کے خاتمہ کے لئے تھیں تاکہ اس ملک کے با شندے مذہب قبول کرنے میں آزاد رہیں۔

اس گفتگو پر تاریخ اسلام گواہ ہے،جن میں یہ بات بارہا بیان کی گئی ہے کہ جب مسلمان کسی ملک کو فتح کرتے تھے تودوسرے مذاہب کے پیرووں کو مسلمانوں کی طرح آزادی دیتے تھے اور اگر ان سے ایک معمولی جزیہ حاصل کرتے تھے جو امنیت اور حافظ امنیت لشکر کے خرچ کے لئے ہوتا تھا کیونکہ ان کی جان و مال اور ناموس اسلام کی حفاظت میں تھی یہاں تک کہ وہ اپنے دینی پروگرام کرنے میں بھی آزاد تھے۔

تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے والے افراد اس حقیقت کو جانتے ہیں یہاں تک کہ اسلام کے بارے میں تحقیق کرنے والے اور کتاب لکھنے والے عیسائی محققین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے مثلاً کتاب ”تمدن اسلام و عرب“ میں تحریر ہے: ”دوسرے مذاہب کے ساتھ مسلمانوں کا طریقہ کار اتنا ملائم تھا کہ مذہبی روساء کو مذہبی پروگرام کرنے کی اجازت تھی“۔

یہاں تک کہ بعض اسلامی تاریخ میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ جو عیسائی اسلامی تحقیق کے لئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میںحاضر ہوتے تھے اپنی مذہبی دعاؤں کا پروگرام آزادطریقے سے مسجد النبی(مدینہ) میں انجام دیا کرتے تھے۔(۳)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۱۵

(۲) سورہ بقرہ ، آیت ۲۵۶، ترجمہ: ”دین (قبول کرنے) میں کوئی جبر نہیں ہے“

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد دوم، صفحہ ۲۰۵

۲۰ ۔ کیا روزی کے لحاظ سے لوگوں میں موجودہ فرق ، عدالت الٰہی سے ہم آہنگ ہے؟

قرآن کریم کے سورہ نحل میں ارشاد ہوتا ہے:( وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ) (۱) ”خداوندعالم نے تم میں سے بعض لوگوں کو روزی کے لحاظ سے بعض دوسرے لوگوں پر برتری دی ہے“۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان رزق و روزی کے لحاظ سے فرق قرار دینا ؛ کیا خداوندعالم کی عدالت اور معاشرہ کے لئے ضروری مساوات سے ہم آہنگ ہے؟

(قارئین کرام!) اس سوال کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

۱ ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مادی اسباب اور مال و دولت کے لحاظ سے انسانوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کی اہم وجہ خودانسانوں کی استعداد اور صلاحیت ہے، انسان میں موجودہ جسمی اور عقلی یہی فرق ہی باعث ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے پاس بہت زیادہ مال و s دولت جمع ہوجائے اور بعض دوسروں کے پاس نسبتاً کم رہے۔

البتہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ بعض لوگ اتفاقات کی بنا پر مالدار بن جاتے ہیں جو کہ خود ہمارے نظریہ کے مطابق صرف ایک اتفاق ہوتا ہے لیکن ایسی چیزوں کومستثنیٰ شمار کیا جاسکتا ہے، ہاں جو چیز اکثر اوقات قاعدہ و قانون کے تحت ہوتی ہے تو وہ استعداد وصلاحیت اور انسان کی کارکردگی کا فرق ہے (البتہ ہماری گفتگو ایسے سالم معاشرہ کے بارے میں ہے جس میں ظلم و ستم نہ ہو اور نہ ہی استثمار، اور نہ ہی ایسا معاشرہ جو قوانین خلقت اور انسانی نظام سے بالکل دور ہو)

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم جن لوگوں کو اپاہج (لولا او رلنگڑا) اور کم اہمیت سمجھتے ہیں وہ بہت زیادہ مال و دولت جمع کرلیتے ہیں اور اگر ان کے جسم و عقل کے بارے میں مزید غور و فکر کریں اور ظاہری طور پر فیصلہ کرنے کے بجائے گہرائی سے سوچیں تو ہمیں یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ ان کے اندر کچھ ایسی طاقتور چیزیںپائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں، (ایک بار پھر اس بات کی تکرار کرتے ہیں کہ ہماری بحث ایک سالم اور ظلم و ستم سے دور معاشرہ کے بارے میں ہے)۔

بہر حال استعداد اور صلاحیت کی وجہ سے آمدنی میں فرق ہوتا ہے، اور استعداد خداوندعالم کی عطا کردہ نعمت ہے، ہوسکتا ہے بعض مقامات میں انسان سعی و کوشش کے ذریعہ کسب کرلے، لیکن دیگر مواقع پر انسان کسب نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ ایک سالم معاشرہ میں بھی اقتصادی لحاظ سے درآمد میں فرق پایا جانا چاہئے، مگر یہ کہ ایک جیسے انسان، ایک جیسی استعداد اور ایک جیسے رنگ کے انسان بن جائیں کہ جن میں ذرہ برابر بھی کوئی فرق نہ ہو، جو خود مشکلات اور پریشانیوں کی ابتدا ہے!

۲ ۔ کسی انسان کے بدن، یا کسی درخت یا کسی پھول کو مد نظر رکھیں ، کیا یہ ممکن ہے کہ ان تمام چیزوں کے جسم کے تمام اعضا ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوجائیں؟

تو کیا درختوں کی جڑوں کی طاقت نازک پتوں کی طرح یا انسان کے پیر کی ایڑی ،آنکھ کے نازک پردہ کی طرح ہوسکتی ہے؟ اگر ہم ان کو ایک جیسا بنادیں تو کیا ہمارے اس کام کو صحیح کہا جاسکے گا؟! (اگر یہ نازک آنکھ، ایڑی کی طرح سخت یا ایڑی ،آنکھ کی طرح نرم ہوجائے تو انسان کتنے دن زندہ رہ سکتا ہے؟!!)

اگر جھوٹے نعرے اور شعور سے خالی نعروں کو دور رکھ کر فرض کریں کہ اگر ہم نے کسی روز تمام انسانوں کو ایک طرح بنادیا جو ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں ، اور دنیا کی آبادی پانچ ارب فرض کریں اور وہ سبھی ذوق، فکر اور صلاحیت بلکہ ہر لحاظ سے ایک جیسے ہوں، بالکل ایک کارخانہ سے بننے والی سگریٹ کی طرح۔

تو کیا اس وقت انسان بہتر طور پر زندگی گزار سکے گا؟ قطعی طور پر جواب منفی ہوگا، یہی نہیں بلکہ دنیا ایک جہنم بن جائے گی، سب لوگ ایک چیز کی طرف دوڑیں گے، ایک ہی عہدہ کے طالب ہوں گے، سب کو ایک ہی کھانا اچھا لگے گا، اور سب ایک ہی کام کرنا چاہیں گے!

یہ بات مکمل طور پرواضح ہے کہ اس طرح زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی، اور اگر یہ گاڑی چلی بھی تو واقعاً بور کرنے والی ، بے مزہ اور ایک طرح کی ہوگی، جس کا موت سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہوگا۔

اجتماعی زندگی کی بقا بلکہ مختلف استعداد کی پرورش کے لئے نہایت ضروری ہے کہ استعداد اور صلاحیت میں فرق ہو، جھوٹے نعرے اس حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔

لیکن اس بات سے کوئی یہ مطلب نہ نکالے کہ ہم طبقاتی نظام یا استعماری نظام کو قبول کرتے ہیں، نہیں ، ہرگز نہیں، ہماری مراد طبیعی فرق ہے نہ کہ مصنوعی، اور وہ فرق مراد ہے جو ایک دوسرے کے تعاون کا باعث ہو، نہ کہ ایک دوسرے کی ترقی میں رکاوٹ بنے، اورجس سے ایک دوسرے پر ظلم و ستم کیا جائے۔

طبقاتی اختلاف (توجہ رہے کہ طبقات سے مراد وہی استثماری نظام اور استثماری نظام کو قبول کرنے والے لوگ ہیں) نظام خلقت کے موافق نہیں ہے ، بلکہ نظام خلقت سے موافق استعداد اور صلاحیت اور سعی و کوشش کا فرق ہے، او ران دونوں کے درمیان زمین تا آسمان فرق ہے۔ (غور کیجئے )

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ استعداد اور لیاقت کے فرق سے اپنی اور معاشرہ کی فلاح و بہبود کے راستہ میں مدد لی جائے، بالکل ایک بدن کے اعضا کے فرق کی طرح، یا ایک پھول کے مختلف حصوں کی طرح، جو اپنے فرق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے مددگار ہیں نہ کہ ایک دوسرے کے لئے باعث زحمت و پریشانی۔

المختصر : استعداد اور صلاحیت کے فرق سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے ، اور نہ ہی اس کو طبقاتی نظام بنانے میں بروئے کار لانا چاہئے۔

اسی وجہ سے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُون ) (۲) ”کیا خداوندعالم کی عطا کردہ نعمتوں کا انکار کرتے ہو؟“۔

اس آیت میں طبیعی طور پر فرق (نہ کہ مصنوعی اور ظالمانہ فرق) خداوندعالم کی ان نعمتوں میں سے ہے جس کو معاشرہ کی بقا کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔(۳)

____________________

(۱) سورہ نحل ، آیت ۷۱

(۲) سورہ نحل ، آیت ۷۱

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۱، صفحہ ۳۱۲

۲۱ ۔ انسان کو پیش آنے والی پریشانیوں اور مصیبتوں کا فلسفہ کیا ہے؟

یسا کہ سورہ شوریٰ آیت نمبر ۳۰ میں ارشاد ہوا:( وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِیکُمْ ) ”جو مصیبت بھی تم پر پڑتی ہے وہ تمہارے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے“۔

مذکورہ آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم پر پڑنے والی مصیبتوں کا سرچشمہ کیا ہے؟

اس آیت سے متعلق چند نکات کے بارے میں غور کرنے سے بات واضح ہوجاتی ہے:

۱ ۔ آیہ کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان پر پڑنے والی مصیبتیں ایک طرح سے خدا کی طرف سے سزا اور ایک چیلنج ہوتی ہیں، (اگرچہ بعض مقامات جدا ہیں جن کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے) اس وجہ سے دردناک حادثات اور زندگی میں آنے والی پریشانیوں کا فلسفہ سمجھ میں آجاتا ہے۔

جیسا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول حدیث میں آیا ہے کہ آپ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:

یہ آیہ شریفہ( وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ ) قرآن کریم کی بہترین آیت ہے، یا علی! انسان کے جسم میں کوئی خراش نہیں آتی، اور نہ ہی کسی قدم میں لڑگھڑاہٹ پیدا ہوتی مگر اس کے انجام دئے گناہوں کی بنا پر آتی ہے، اور جو کچھ خداوندعالم اس دنیا میں معاف کردیتا ہے اس سے کہیں زیادہ قیامت کے دن معاف فرمائے گا، اور جو کچھ اس دنیا میں عقوبت اور سزا دی ہے تو خدا اس سے کہیں زیادہ عادل ہے کہ روز قیامت اس کو دوبارہ سزا دے“۔(۱)

لہٰذا اس طرح کے مصائب اور پریشانیاں نہ صرف یہ کہ انسان کے بوجھ کو کم کردیتی ہیں بلکہ آئندہ کے لئے بھی اس کو کنٹرول کرتی رہتی ہیں۔

۲ ۔ اگرچہ آیت کے ظاہر سے عمومیت کا اندازہ ہوتا ہے یعنی تمام مصیبتوں اور پریشانیوں کو شامل ہے، لیکن مشہور قاعدہ کے مطابق تمام عموم میں ایک مستثنیٰ ہوتا ہے، جیسا کہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کو بہت سے مصائب اور پریشانیاں پیش آئی ہیں، جن کی وجہ سے ان حضرات کا امتحان ہوا ہے جس سے ان کا مقام رفیع و بلند ہواہے ۔

اسی طرح جن مصائب سے غیر معصومین دوچار ہوئے ہیں ان میں بھی امتحان اور آزمائش کا پہلو رہا ہے۔

یا جو مصائب جہالت کی بنا پر یا غور و فکر اورمشورہ نہ کرنے کی وجہ سے یا کاہلی اور سستی کی بناپر پیش آتے ہیں وہ خود انسان کے اعمال کا اثر ہوتا ہے۔

بالفاظ دیگر: قرآن مجید کی مختلف آیات اور معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کے پیش نظر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مذکورہ آیت کی عمومیت سے بعض مقامات مستثنیٰ ہیں، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ بعض مفسرین نے اس سلسلہ میں مستقل باب میں بحث وگفتگو کی ہے۔

خلاصہ یہ کہ بڑے بڑے مصائب اور پریشانیوں کے مختلف فلسفے ہوتے ہیں جن کے بارے میں توحید اور عدل الٰہی کی بحث میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔

مصائب اور مشکلات ؛ استعداد کی ترقی، آئندہ کے لئے چیلنج، امتحان الٰہی، غفلت ،غرور کا خاتمہ او رگناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں۔

لیکن چونکہ یہ مصائب اور مشکلات اکثر افراد کے لئے کفارہ اور سزا کا پہلو رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ آیت نے عام طور پر بیان کیا ہے، اسی طرح حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ جس وقت حضرت امام زین العابدین علیہ السلام یزید کے دربار میں پہنچے تو یزید نے آپ کی طرف دیکھا اور کہا:

یا عليّ! وَمَا اٴَصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِیکُمْ !“

(یعنی کربلا کا واقعہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے)

لیکن امام زین العابدین علیہ السلام نے فوراً اس کے جواب میں فرمایا:

”نہیں ایسا نہیں ہے، یہ آیہ شریفہ ہماری شان میں نازل نہیں ہوئی ہے، ہماری شان میں نازل ہونے والی دوسری آیت ہے ، جس میں ارشاد ہوتا ہے:ہر وہ مصیبت جو زمین یا تمہارے جسم و جان پر آتی ہے ، خلقت سے پہلے کتاب (لوح محفوظ) میں موجود تھی، خداوندعالم ان چیزوں سے باخبر ہے، یہ اس لئے ہے تاکہ تم مصیبتوں میں غمگین نہ ہو اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس پر بہت زیادہ خوش نہ ہو، ( ان مصائب کا مقصد یہ ہے کہ تم جلد فناہونے والی اس دنیوی زندگی سے دل نہ لگاؤ، یہ چیزیں تمہارے لئے ایک امتحان اور آزمائش ہے)

اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم کسی چیز کے نقصان پر کبھی غمگین نہیں ہوتے ، اور جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے اس پر خوش نہیں ہوتے، (ہم سب چیزوں کو جلد ختم ہونے والی مانتے ہیں، اور خداوندعالم کے لطف و کرم کے منتظر رہتے ہیں)(۲) .

۳ ۔بعض اوقات مصائب، اجتماعی پہلو رکھتے ہیں اور تمام لوگوں کے گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوا :

( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اٴَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَهُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ ) (۳)

”لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی بنا پر فساد خشکی اور تری ہر جگہ غالب آگیا ہے تا کہ خدا ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھا دے تو شاید یہ لوگ پلٹ کر راستہ پر آجائیں“۔

یہ بات واضح ہے کہ یہ سب اس انسانی معاشرہ کے لئے ہے جو اپنے کئے ہوئے اعمال کی وجہ سے عذاب اور مشکلات میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

اسی طرح سورہ رعد آیت نمبر ۱۱/ میں ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ اللهَ لاَیُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِهِمْ )

”اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کوتبدیل نہ کرلے“۔

اور اسی طرح کی دیگر آیات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انسان کے اعمال اور اس کی زندگی کے درمیان ایک خاص رابطہ ہے کہ اگر فطرت اور خلقت کے اصول کے تحت قدم اٹھائے تو خداوندعالم کی طرف سے برکت عطا ہوتی ہے،اور جب انسان ان اصول سے گمراہ ہوجاتاہے تو اس کی زندگی بھی تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔(۱۴)

اس سلسلہ میں اسلامی معتبر کتابوں میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرکے اپنی بحث کو مکمل کرتے ہیں:

۱ ۔حضرت علی علیہ السلام اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:

”مَاکَانَ قَطْ فِی غَضِ نِعمَةٍ مِنْ عیشٍ ،فَزَالَ عَنْهُم، إلاَّ بِذنوبِ اجترحُوها، لاٴَنَّ اللهَ لَیْسَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیْدِ، ولَو کَانَ النَّاسُ حِینَ تنزلُ بِهم النقم ،وَ تَزُوْلُ عَنْهُم النِعَمِ ،فَزَعُوا إلیٰ رَبِّهِم بِصِدقٍ مِنْ نِیَاتِهِمْ وَوَلَّهُ مِنْ قُلُوبِهِم، لَردَّ عَلَیهِمْ کُلَّ شاردٍ،وَاٴصْلَحَ لَهُمْ کُلَّ فَاسِدٍ“ (۴)

”خدا کی قسم کوئی بھی قوم جو نعمتوں کی تر و تازہ اور شاداب زندگی میں تھی اور پھر اس کی وہ زندگی زائل ہوگئی تو اس کا کوئی سبب ان گناہوں کے علاوہ نہیں ہے جن کا ارتکاب اس قوم نے کیا ہے، اس لئے کہ پروردگار اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے، پھر بھی جن لوگوں پر عتاب نازل ہوتا ہے اور نعمتیں زائل ہوجاتی ہیں اگر صدق نیت اور تہِ دل سے پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کریں تو وہ گئی ہوئی نعمت واپس کردے گا اور بگڑے کاموں کو بنادے گا“۔

۲ ۔ کتاب ”جامع الاخبار“ میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے ایک دوسری روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

”إنَّ البَلاءَ لِلظَّالِمِ اٴدَبٌ،وَلِلْمُومنِ إمْتِحَانٌ، وَلِلْاٴنْبِیَاءِ دَرجةٌ وَلِلْاٴوْلیاءِ کَرَامَةٌ“ (۵)

”انسان پر پڑنے والی یہ مصیبتیں؛ظالم کے لئے سزا، مومنین کے لئے امتحان، انبیاء اور پیامبروں کے لئے درجات (کی بلندی) اور اولیاء الٰہی کے کرامت و بزرگی ہوتی ہیں“۔

یہ حدیث اس بات پر ایک بہترین گواہ ہے کہ مذکورہ آیت میں کچھ مقامات مستثنیٰ ہیں۔

۳ ۔ ایک دوسری حدیث اصول کافی میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمای

إنَّ الْعَبدَ إذَا کَثُرَتْ ذُنوبُه ،وَلَمْ یَکُن عِنْدَهُ مِنَ الْعَمِلِ مَا یکفّرُهَا، ابتلاهُ بِالحُزْنِ لِیکفّر ها“ (۶)

”جس وقت انسان کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں اور جبران وتلافی کرنے والے اعمال اس کے پاس نہیں ہوتے تو خداوندعالم اس کو غم و اندوہ میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کی تلافی ہوجائے“۔

۴ ۔ اصول کافی میں اس سلسلہ میں ایک خاص باب قرار دیا گیا ہے جس میں ۱۲ حدیثیں بیان ہوئی ہیں۔(۷)

البتہ یہ تمام ان گناہوں کے علاوہ ہے جن کو خداوندعالم مذکورہ آیت کے مطابق معاف کردیتا ہے اور انسان پر رحمت کی بارش برساتا ہے جو خود ایک عظیم نعمت ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

ممکن ہے کہ بعض لوگ اس قرآنی حقیقت سے غلط فائدہ اٹھائیں اور وہ یہ کہ جو مصیبت بھی ان پر پڑے اس کا پُر جوش استقبال کریں اور کہیں کہ ہمیں ان تمام مصائب کے سامنے تسلیم ہونا چاہئے ، اور اس درس آموز اصل اور قرآنی حقیقت کے برعکس نتیجہ اخذ کریں، یعنی اس سے غلط نتیجہ اخذ کریں کہ جو بہت زیادہ خطرناک ہے۔

کبھی بھی قرآن کریم یہ نہیں کہتا کہ مصیبتوں کے سامنے تسلیم ہوجائیں اور ان کو دور کرنے کے لئے کوشش نہ کریں، اور ظلم و ستم اور بیماریوں کے مقابلہ میں خاموش رہیں، بلکہ قرآن کا فرمان

ہے: اگر اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مشکلات دور نہ ہوں تو سمجھ لو کہ کوئی ایسا گناہ کیا ہے جس کی یہ سزا مل رہی ہے،لہٰذا اپنے گزشتہ اعمال کی طرف توجہ کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کریں، اور اپنی اصلاح کریں اپنے کو برائیوں سے دور کریں۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض روایات میں مذکورہ آیت کو انھیں بہترین اور اہم تربیتی آثار کی بناپر ”بہترین آیت“ شمار کیا گیا ہے ،اور دوسری طرف اس سے انسان کا بوجھ بھی کم ہوتا ہے، اس کے دل میں امید کی کرن پیدا ہو تی ہے اور خدا کا عشق بھی پیدا ہو جاتا ہے۔(۸)

____________________

(۱) ”مجمع البیان“ ، جلد ۹، صفحہ ۳۱، اس حدیث کو ”درالمنثور “ اور تفسیر ”روح المعانی “میں مختصر فر ق کے ساتھ بیان کیا ہے اوراس طرح کی حدیثیں بہت زیادہ ہیں

(۲) تفسیر ”علی بن ابراہیم“ مطابق ”نور الثقلین“ ، جلد ۴، صفحہ ۵۸۰

(۳) سورہ روم ، آیت ۴۱ (۴)تفسیر المیزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۶۱

(۵) نہج البلاغہ، خطبہ: ۱۷۸ (۱۶) بحار الانوار ، جلد ا۸، صفحہ ۱۹۸

(۶) ”اصول کافی“، جلد دوم، کتاب الایمان والکفر باب تعجیل عقوبة الذنب حدیث۲

(۷) ”اصول کافی“، جلد دوم، کتاب الایمان والکفر باب، تعجیل عقوبة الذنب حدیث۲

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۴۰

۲۲۔ خداوندعالم نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟

بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر انسان خدا کی عبادت کے ذریعہ سعادت اور کمال تک پہنچنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر کمال اور سعادت کے مخالف شیطان کو کیوں پیدا کیا گیا، اس کی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اور وہ بھی ایک ایسا وجود جو بہت ہوشیار، کینہ اور حسد رکھنے والا، مکار ، فریب کار اور اپنے ارادہ میں مصمم ہے!

(قارئین کرام!) اگر ذرا بھی غور و فکر سے کام لیں تو اس دشمن کا وجود انسانوں کے کمال اورسعادت تک پہنچنے کے لئے مددگار ہے۔

کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے دفاع کرنے والی (ہماری ) فوج ،دشمن کے مقابلہ میں بہت زیادہ شجاع او ردلیر بن جاتی تھی، اور کامیابی کی منزلوں تک پہنچ جاتی تھی۔

طاقتور اور تجربہ کار وہی سپاہی اور سردار ہوتے ہیں جو بڑی بڑی جنگوں میں دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ لڑتے ہیں۔

وہی سیاستمدار تجربہ کار اور طاقتور ہوتے ہیں جو بڑے سے بڑے سیاسی بحران میںسختی کے ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے ہیں۔

نامی پہلوان وہی ہوتے ہیں جو اپنے مد مقابل طاقتور پہلوان سے زور آزمائی کرتے ہیں۔

اس وجہ سے کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ خداوندعالم کے نیک اور صالح بندے شیطان سے ہر روز مقابلہ کرتے کرتے دن بدن طاقتور اور قدرت مند ہوتے چلے جاتے ہیں!

آج کل کے دانشورانسانی جسم میں پائے جانے والے خطرناک جراثیم کے بارے میں کہتے ہیں: اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کے خلیے( Cells ) سست اورناکارہ ہوجاتے اور ایک احتمال کی بنا پر انسان کی رشد و نمو ۸۰ سینٹی میٹر سے زیادہ نہ ہوتی، اور سب کوتاہ قد نظر آتے، لیکن آج کا انسان مزاحم میکروب سے لڑتے لڑتے بہت طاقتور بن گیا ہے۔

بالکل اسی طرح انسان کی روح ہے جو ہوائے نفس اور شیطان سے مقابلہ کرتے کرتے طاقتور ہوجاتی ہے۔

لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ شیطان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو بہکائے، پہلے شیطان کی خلقت دوسری مخلوق کی طرح پاک و پاکیزہ تھی انسان میں انحراف، گمراہی ، بدبختی اور شیطنت اس کے اپنے ارادہ سے ہوتی ہیں، لہٰذا خداوندعالم نے ابلیس کو شیطان نہیں پیدا کیا تھا اس نے خود اپنے آپ کو شیطان بنایا، لیکن شیطنت کے باوجود خدا کے حق طلب بندوں کو نہ صرف یہ کہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ ان کی ترقی اور کامیابی کا زینہ ہے۔ (غور کیجئے )

لیکن یہاں پر یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خداوندعالم نے اسے قیامت تک کی زندگی کیوں دیدی، کیوں فوراً ہی اس کو نیست و نابود کیوں نہ کردیا؟!

اگرچہ گزشتہ گفتگو سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے لیکن ہم ایک اور چیز عرض کرتے ہیں:

دنیا امتحان اور آزمائش کی جگہ ہے، (انسان کی کامیابی اور ترقی کا باعث امتحان او رآزمائش ہے) اور ہم جانتے ہیں کہ یہ امتحان اور آزمائش ،بڑے دشمن اور طوفان سے مقابلہ کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔

البتہ اگر شیطان نہ ہوتا تو بھی انسان کی ہوائے نفس اور نفسانی وسوسہ کے ذریعہ انسان کا امتحان ہوسکتا تھا، لیکن شیطان کے ہونے سے اس تنور کی آگ اور زیادہ بھڑک گئی ہے، کیونکہ شیطان باہر سے بہکانے والا ہے اور ہوائے نفس انسان کو اندر سے بہکاتی ہے۔(۱)

ایک سوال کا جواب:

یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خداوندعالم ایسے بے رحم اور طاقتور دشمن کے مقابلہ میں ہمیں تن تنہا چھوڑ دے؟ اور کیا یہ چیز خداوندعالم کی حکمت اور اس کے عدل و انصاف سے ہم آہنگ ہے؟

اس سوال کا جواب درج ذیل نکتہ سے واضح ہوجائے گا اور جیسا کہ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے کہ خداوندعالم مومنین کے ساتھ فرشتوں کا لشکر بھیجتا ہے اور غیبی اور معنوی طاقت عطا کرتا ہے جس سے جہاد بالنفس اور دشمن سے برسرِ پیکار ہونے میں مدد ملتی ہے:

( إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمْ الْمَلَائِکَةُ اٴَلاَّ تَخَافُوا وَلاَتَحْزَنُوا وَاٴَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُون نَحْنُ اٴَوْلِیَاؤُکُمْ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ ) (۲)

”بیشک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہواور اس جنت سے مسرور ہو جاو جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ،ہم زندگانی دنیامیں بھی تمہارے ساتھی تھے اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں“۔

ایک دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ شیطان کبھی بھی ہمارے دل میں اچانک نہیں آتا، اور ہماری روح کے باڈر سے بغیر پاسپورٹ کے داخل نہیںہو سکتا، اس کا حملہ کبھی بھی اچانک نہیں ہوتا، وہ ہماری اجازت سے ہم پر سوار ہوتا ہے، جی ہاں وہ دروازہ سے آتا ہے نہ کہ کسی مورچہ سے، یہ ہم ہی ہیں جو اس کے لئے دروازہ کھول دیتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

< إ( ِنَّهُ لَیْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ،إِنَّمَا سُلْطَانُهُ عَلَی الَّذِینَ یَتَوَلَّوْنَهُ وَالَّذِینَ هُمْ بِهِ مُشْرِکُونَ ) (۳)

” شیطان ہرگز ان لوگوں پر غلبہ نہیں پاسکتا جو صاحبان ایمان ہیں اور جن کا اللہ پر توکل اور اعتماد ہے، اس کا غلبہ صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اسے سرپرست بناتے ہیں اور اللہ کے بارے میں شرک کرنے والے ہیں“۔

اصولی طور پر یہ انسان کے اعمال ہوتے ہیں جوشیطان کے سوار ہونے کا راستہ ہموار کرتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:<إ( ِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ ) (۴) ”اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں“۔

لیکن بہرحال شیطان اور اس کے مختلف سپاہیوں کے رنگارنگ جال، مختلف شہوتیں، فساد کے ٹھکانے ، استعماری سیاست، انحرافی مکاتب اور منحرف ثقافت سے نجات کے لئے ایمان و تقویٰ، اور لطف الٰہی اور خدا پر بھروسہ کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَلَوْلاَفَضْلُ اللهِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُهُ لاَتَّبَعْتُمْ الشَّیْطَانَ إِلاَّ قَلِیلًا ) (۵)

”اور اگر تم لوگوں پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند افراد کے علاوہ سب شیطان کا اتباع کرلیتے“۔(۶)

انبیاء علیہم السلام

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۹ صفحہ ۳۴۵

(۲) سورہ فصلت ، آیت۳۰۔ ۳۱

(۳) سورہ نحل ، آیت ۹۹، ۱۰۰

(۴) سورہ اسراء ، آیت۲۷

(۵)سورہ نساء ، آیت۸۳

(۶) تفسیر پیام قرآن ، جلد اول صفحہ ۴۲۳

۲۳ ۔ خاتمیت انسانی تدریجی ترقی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ ہے؟

کیا انسانی معاشرہ کسی ایک جگہ پر رُک سکتا ہے؟ کیا انسان کے کمال اور ترقی کے لئے کوئی حد معین ہے؟ کیا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں کہ آج کا انسان گزشتہ لوگوں کی نسبت بہت زیادہ آگے بڑھتا چلا جارہا ہے؟

ان حالات کے پیش نظر یہ کس طرح ممکن ہے کہ دفتر نبوت بالکل ہی بند ہوجائے اور انسان اس ترقی کے زمانہ میں اپنے کسی نئے رہبر اور نبی سے محروم ہوجائے؟

اس سوال کا جواب ایک نکتہ پر توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ ہے کہ: انسان فکر و ثقافت کے مرحلہ میں اس منزل پر پہنچ چکا ہے کہ وہ پیغمبر خاتم (ص) کے بتائے ہوئے اصول اور تعلیمات کے پیش نظر کسی نئی شریعت کے بغیر اپنی ترقی کے مراحل کو طے کرسکتاہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے انسان کو تعلیم کے ہر مرحلہ میں ایک نئے استاد کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ تعلیم کے مختلف مراحل سے گزر کر آگے بڑھ سکے، لیکن جب انسان ڈاکٹر بن جاتا ہے یا کسی دوسرے علم میں صاحب نظر بن جاتا ہے تو پھر انسان کسی نئے استاد سے تعلیم حاصل نہیں کرتا بلکہ اپنے گزشتہ اساتذہ خصوصاً آخری استاد سے حاصل کئے ہوئے مطالب پر بحث و تحقیق کرتا ہے اور تعلیمی میدان میں آگے بڑھتا جاتاہے نئی نئی تحقیق اور نئے نئے نظریات پیش کرتا ہے ، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اپنے گزشتہ اساتذہ کے بتائے ہوئے عام اصول کی بنا پر راستے کی مشکلات کو حل کر تاہے لہٰذا اس بات کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ زمانہ کے ساتھ ساتھ کوئی نیا دین اور نیا مذہب وجود میں آئے۔ (غور فرمائےے گا)

بالفاظِ دیگر: روحانی اور معنوی ترقی کی راہ میں موجود نشیب و فر از کے سلسلہ میں گزشتہ انبیاء نے باری باری انسان کی ہدایت کے لئے نقشہ پیش کیا تاکہ انسان میں اتنی صلاحیت پیدا ہوجائے کہ اس راستہ کا جامع اور کلی نقشہ خداوندعالم کی طرف سے پیغمبر آخرالزمان (ص) پیش فرمادیں۔

یہ بات واضح ہے کہ جامع اور کلی نقشہ حاصل کرنے کے بعد پھر کسی نقشہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ، اور یہ حقیقت خاتمیت کے سلسلہ میں بیان ہوئی احادیث میں موجود ہے، اور پیغمبر اکرم کو رسالت کی آخری اینٹ یا خوبصورت محل کی آخری اینٹ رکھنے والے کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے۔

یہ تمام چیزیں کسی نئے دین و مذہب کی ضرورت نہ ہونے کے لئے کافی ہیں، (یعنی مذکورہ باتوں کے پیش نظر اب کسی نئے دین کی ضرورت نہیں ہے) لیکن رہبری اور امامت کا مسئلہ انھیں کلی اصول و قوانین پر عمل در آمد ہونے پر نظارت اور اس راہ میں پیچھے رہ جانے والوں کو امداد پہنچانے کے عنوان سے ہے،البتہ یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ انسان کبھی بھی ان سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ہمیشہ امام اور رہبر کی ضرورت رہے گی، اس دلیل کی بنا پر سلسلہ نبوت کے ختم ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سلسلہ امامت بھی ختم ہوجائے، کیونکہ ”ان اصول کی وضاحت “، ”ان کا بیان کرنا“ اور ”ان کو عملی جامہ پہنانا“ بغیر کسی معصوم رہبرکے ممکن نہیں ہے۔(۱)

____________________

(۱) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۵

۲۴ ۔ ثابت قوانین،آج کل کی مختلف ضرورتوں سے کس طرح ہم آہنگ ہے؟

ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ زمان و مکان کے لحاظ سے ضرورتیں الگ الگ ہوتی ہیں، دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ انسان کی ضرورت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے، حالانکہ خاتم النبین کی شریعت ثابت اور غیر قابل تبدیل ہے، کیا یہ ثابت شریعت زمانہ کے لحاظ سے مختلف ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہے۔؟

اگر اسلام کے تمام قوانین جزئی اور انفرادی ہوتے اور ہر موضوع کا حکم مکمل طور پر معین، مشخص اور جزئی ہوتا تو اس سوال کی گنجائش ہوتی، لیکن کیونکہ اسلام کے احکام و قوانین بہت وسیع اور کلی اصول پر مبنی ہیں جن پر ہر زمانہ کی مختلف ضرورتوں کو منطبق کیا جاسکتا ہے، اور اس کے لحاظ سے جواب دیا جاسکتا ہے، لہٰذا اس طرح کے سوال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، مثال کے طور پر عصر حاضر میں مختلف معاملات انسانی معاشرہ کی ضرورت بنتے جارہے ہیں جب صدر اسلام میں ایسے معاملات نہیں تھے جیسے ”بیمہ“ یا اس کی مختلف شاخیں، جو اس زمانہ میں نہیں تھیں،اسی طرح آج کل کی(۱) البتہ اسلام میں ”بیمہ“ سے مشابہ موضوعات موجود ہیں لیکن خاص محدودیت کے ساتھ جیسے ”ضمان الجریرہ“ یا “تعلق دیہ خطاء محض بہ عاقلہ“ لیکن یہ مسائل صرف شباہت کی حد تک ہیں ضرورت کے تحت بڑی بڑی کمپنیاں بنائی جاتی ہیں ، ان تمام چیزوں کے لئے اسلام میں ایک کلی اصل موجود ہے، جو سورہ مائدہ کے شروع میں بیان ہوئی ہے جسے ”وفائے عہد “ کہا جاتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:( یَا اٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اٴَوْفُوا بِالْعُقُودِ ) (۲) ”اے وہ لوگو! جو ایمان لائے اپنے معاملات میںوفائے عہد کرو“۔

ہم ان تمام معاملات کو اس کے تحت قرار دے سکتے ہیں، البتہ بعض قیود اور شرائط اس اصل میں بیان ہوئی ہیں، جن پر توجہ رکھنا ضروری ہے، لہٰذا یہ عام قانون اس سلسلہ میں موجود ہے، اگرچہ اس کے مصادیق بدلتے رہتے ہیں اور ہرروزاس کا ایک نیا مصداق پیدا ہوتا رہتا ہے۔

دوسری مثال: ہمیں اسلام میں ایک مسلّم اور ثابت قانون ملتا ہے جو ”قانونِ لاضرر“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے(یعنی کسی کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئے) جس کے ذریعہ اسلامی معاشرہ میں کسی بھی طرح کے نقصان کے سلسلہ میں حکم لگایا جاسکتا ہے، اور اس کے تحت معاشرہ کی بہت سی مشکلوں کو حل کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ”معاشرہ کا تخفظ “، ”مقدمہ واجب کا واجب ہونا“اور”اہم و مہم“ جیسے مسائل کے ذریعہ بھی بہت سی مشکلات کو حل کیا جاسکتا ہے، ان تمام چیزوں کے علاوہ اسلامی حکومت میں ”ولی فقیہ“ بہت سے اختیارات اور امکانات ہوتے ہیں اسلامی کلی اصول کے تحت بہت سی مشکلات کوحل کیا جاسکتا ہے ، البتہ ان تمام امور کے بیان کے لئے بہت زیادہ بحث و گفتگو کی ضرورت ہے خصوصاً جب کہ ”باب اجتہاد“(۳) کھلا ہے ، جس کی تفصیل بیان کرنے کایہ موقع نہیں ہے، لیکن جن چیزوں کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے وہ مذکورہ اعتراض کے جواب کے لئے کا فی ہیں۔

____________________

(۱) سورہ مائدہ ،آیت ۱

(۲) اجتہاد یعنی اسلامی منابع و مآخذ کے ذریعہ الٰہی احکام حاصل کرن

(۳) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۷، صفحہ ۳۴۶


7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36