110 سوال اور جواب

110 سوال اور جواب5%

110 سوال اور جواب مؤلف:
: اقبال حیدرحیدری
زمرہ جات: مناظرے

۱۱۰ سوال اور جواب
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 126 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 142364 / ڈاؤنلوڈ: 6704
سائز سائز سائز
110 سوال اور جواب

۱۱۰ سوال اور جواب

مؤلف:
اردو

نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ"امامین الحسنین(ع)نیٹ ورک" نےاس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔
نیز ادارہ کی گِروہ علمی کی زیرنگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اورممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF ڈاؤنلوڈ لنک
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۱۷۱&view=download&format=pdf

word
https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۱۷۱&view=download&format=doc

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اورہرقسم کےسوالات کوادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پرسینڈ کرسکتے ہیں


1

2

3

4

5

6

۹۶ ۔ جبر اور اختیار کے سلسلہ میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟

علمائے اسلام کے درمیان یہ مسئلہ زمانہ قدیم سے مورد نزاع رہا ہے ، ایک جماعت انسان کی آزادی اور اختیار کی قائل ہے جبکہ دوسرا گروہ جبر کے نظریہ کا طرفدار ہے، اور ہر جماعت اپنے مقصد کے اثبات کے لئے دلائل پیش کرتی ہے۔

لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ”جبر کے قائل“ بھی اور ”اختیار کے طرفدار“ بھی مقام عمل میں اختیار اور آزادی کو ہی صحیح مانتے ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ یہ تمام بحث و گفتگو صرف علمی میدان تک ہے، مقام عمل میں نہیں، جس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ تمام انسانوں میں آزادی، ارادہ اور اختیار اصل ہے، اور اگر اس سلسلہ میں مختلف وسوسے نہ پائے جائیں تو سبھی انسان آزادی اور اختیار کے طرفدار ہوں گے۔

عام فکر وخیال اور فطرتِ انسان ”نظریہ اختیار“ کی واضح دلیل ہے، جو انسانی زندگی کے مختلف مواقع پر جلوہ گر ہے،کیونکہ اگر انسان اپنے اعمال میں خود کو مجبور سمجھے اور اپنے لئے اختیار کا قائل نہ ہو ، تو پھر کیوں:

۱ ۔ انسان اپنے کئے ہوئے بعض کاموں پر یا بعض کاموں کے نہ کرنے پر پشیمان اور شرمندہ ہوتا ہے، اور یہ طے کرلیتا ہے کہ اپنے گزشتہ تجربات سے فائدہ اٹھائے، ”جبر کا عقیدہ رکھنے والوں “کو (بھی) یہ شرمندگی بہت سے موارد میں پیش آتی ہے، اگر نظریہ اختیار صحیح نہیں ہے تو پھر یہ شرمندگی کیسی؟!

۲ ۔ بُرے لوگوں کی سب مذمت کرتے ہیں، اگر جبر کا نظریہ صحیح ہے تو ملامت کیسی؟!

۳ ۔ نیک اور اچھے لوگوں کی سب تعریفیں کرتے ہیں، اگر جبر کا نظریہ صحیح ہے تو تعریف کیوں؟!

۴ ۔ سبھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ خوش بخت ہوجائیں، اگر سبھی مجبور ہیں تو پھر تعلیم و تربیت کیا معنی رکھتی ہے؟!

۵ ۔ معاشرہ میں اخلاقی سطح کو بلند کرنے کے لئے سبھی علمااور دانشور کوشش کرتے ہیں۔

۶ ۔ انسان اپنی خطاؤں سے توبہ کرتا ہے، لیکن اگر جبر کے نظریہ کو قبول کیا جائے تو پھر توبہ کی کیا حیثیت ہے؟!

۷ ۔ انسان اپنی کوتاہی اور خامیوں پر حسرت اور افسوس کرتا ہے، کیوں؟

۸ ۔ پوری دنیا میں مجرم اور بُرے لوگوں کو سزا ملتی ہے اور سختی کے سا تھ سوال و جواب ہو تے ہیں،لیکن جو کام ان کے اختیار میں نہیں ہے تو پھر یہ سزا اور بازپرس کیسی؟!

۹ ۔ پوری دنیا اور تمام مذہب و ملت میں چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم سبھی کے یہاں مجرموں کے لئے سزا معین ہے، لیکن انسان جس کام پر مجبور ہو تو پھر سزا کیسی؟!

۱۰ ۔ یہاں تک کہ جبری مکتب کے قائل لوگوں کا اگر کوئی نقصان کر دیتا ہے یا کو ئی ان پر ظلم و ستم کرتا ہے تو ان کی فریاد بلند ہوجاتی ہے، اس کو خطاکار شمار کرتے ہیں اور اس کو عدلیہ تک لے جاتے ہیں!

خلاصہ یہ کہ اگر حقیقت میں انسان مختار نہیں ہے تو پشیمانی کیوں؟!

مذمت اور ملامت کس لئے؟ اگر کسی کا ہاتھ بے اختیار لرزتا ہو تو کیا اس کو ملامت کی جائے گی؟ کیوں نیک افراد کی مدح و ثنا کی جاتی ہے، کیا انھوں نے اپنے اختیار سے کچھ کیا ہے جو نیک کام کی طرف ترغیب دلانے سے نیک کام کرتے رہتے ہیں؟!

اصولی طور پر تعلیم و تربیت کی تاثیر کو قبول کرتے ہوئے جبری نظریہ کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہتا۔

اس کے علاوہ آزادی اور اختیار کو قبول کئے بغیر اخلاقی مسائل کا ہرگز کوئی مفہوم نہیں نکلتا۔

اگر ہم اپنے کاموں میں مجبور ہوں تو پھر توبہ کیوں؟ کیوں حسرت کی جائے؟ اس لحاظ سے مجبور شخص کو سزا دینا سب سے بڑا ظلم ہے۔

یہ سب چیزیں واضح کرتی ہیں کہ تمام انسانوں میں آزادی اور اختیار اصل ہے اور نوعِ بشر کا دل بھی اسی چیز کی گواہی دیتا ہے، نہ صرف عوام الناس بلکہ تمام علمااور فلاسفہ مقام عمل میں اسی طرح ہیں ، یہاں تک کہ جبری نظریہ رکھنے والے بھی مقام عمل میں اختیار کے نظریہ کو مانتے ہیں: ”الجَبریُّونَ إخْتِیَاریُّونَ مِنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُونَ “!

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اسی مسئلہ پر بارہا تاکید کی ہے، ارشاد خداوندی ہے:( فَمَنْ شَاءَ إتَّخِذَ اِلٰی رَبَّهِ مَآبَا ) (۱) ”(یہی بر حق دین ہے )تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنا لے“۔

قرآن مجید کی دیگر آیات میں انسان کے ارادہ و اختیار پر بہت زیادہ اعتماد کیا گیا ہے ، ان سب کو یہاں بیان کرنے کا موقع نہیں ہے صرف دو آیتوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

( إِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُورًا ) (۲) ”یقینا ہم نے انسان کو راستہ کی ہدایت دے دی ہے چاہے وہ شکر گزار ہوجائے یا کفران نعمت کرنے والا ہوجائے“۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:( فَمَنْ شَاءَ فَلْیُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْیَکْفُرْ ) (۳) ”اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کافر ہوجائے“۔ (لیکن معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے کافروں کے لئے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے)

”جبر و تفویض“ کے سلسلہ میں گفتگو بہت طویل ہے، اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں اور مقالات لکھے گئے ہیں، لیکن اس مسئلہ میں صرف قرآن و وجدان کی روشنی میں لکھا گیا ہے، ہم اس گفتگو کو ایک ”اہم نکتہ“ کی یاد دہانی کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں:

مسئلہ جبر سے ایک گروہ کی طرفداری فلسفی یا استدلالی مشکلات کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ اس عقیدہ کی پیدائش میں اجتماعی اور نفسیاتی عوامل کا دخل تھا۔

”جبر“ یا ”جبری زندگی“ اور جبر کے معنی میں ”قضا و قدر“ کا عقیدہ رکھنے والے متعدد افراد بعض ذمہ داریوں سے فرار کرنے کے لئے اس عقیدہ کا سہارا لیتے ہیں، جو اس عقیدہ کی آڑ میں ہر غلط کام اور شکست کی توجیہ کرنا چاہتے ہیں جو خود ان کی سستی اور کاہلی کی بنا پر ہوتا تھا۔

یا اپنی ہوس اور بے راہ روی پر اس عقیدہ کا پردہ ڈال کر ہر کام کو جائز کرنا چاہتے تھے۔

اور کبھی استعمار،عوام الناس کی تحریک کو کچلنے اور قوم و ملت کے قہر و غضب کی آگ کو خاموش کرنے کے لئے اپنے عقیدہ کو لوگوں پر حمل کرتا ہے کہ شروع سے تمہاری قسمت میں یہی تھا لہٰذا اس پر راضی اور تسلیم ہونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں !

اس (غلط) نظریہ کے تحت اپنے تمام ظلم و ستم اور غلط اعمال کی توجیہ کرلیتے ہیں، اور سبھی گناہگاروں کے گناہوں کی منطقی اور عقلی توجیہ ہوجاتی ہے، اس صورت میں اطاعت گزار اور مجرم کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہ جاتا۔(۴)

انسان کی آزادی اور اختیار کے لئے سورہ فصلت کی یہ آیہ کریمہ واضح دلیل ہے :( وَمَا رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) (۵) یہ آیہ شریفہ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ خداوندعالم کسی کو بلا وجہ عذاب نہیں دیتا اور نہ ہی کسی کے عذاب میں دلیل کے بغیر اضافہ کرتا، اس کے کام صرف عدالت پر مبنی ہوتے ہیں، کیونکہ ظلم و ستم کا سر چشمہ؛ کمی اور خامی، جہل و نادانی یا ہوائے نفس ہوتے ہیں، جبکہ خداوندعالم کی ذات اقدس ان تمام چیزوں سے پاک و منزہ ہے۔

قرآن مجید اپنی واضح آیات (بینات) میں ”جبری نظریہ“ ( جس کے پیش نظر معاشرہ میں ظلم و فساد پھیلتا ہے ، برائیوں کی تائید ہوتی ہے اور انسان ہر طرح کی ذمہ داری سے بچ جاتا ہے) کو باطل قرار دیتی ہیں، اور سبھی انسانوں کو اپنے اعمال کا ذمہ دار شمار کرتی ہیں، اور ہر انسان کے اعمال کے نتائج (جزا یا سزا) اسی کی طرف پلٹتے ہیں۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہواہے، کہ آپ کے ایک صحابی نے سوال کیا:”هَلْ یجبَرُ الله عِبَاده عَلَی المُعَاصِی؟ فَقَالَ:لا ، بَل یُخَیُّرهُم وَ یُمَهِّلُهُم حَتّٰی یَتُوبُوا

”کیا خداوندعالم اپنے بندوں کو گناہوں پر مجبور کرتا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:نہیں، بلکہ ان کو آزاد چھوڑ دیتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں“

اس صحابی نے دوبارہ سوال کیا: ”هل کلف عباده ما لایطیقون ؟“ کیا خداوندعالم اپنے بندوں کو ”تکلیف ما لایطاق“ دیتا ہے ؟ (یعنی ایسی چیز کے انجام دینے کے لئے کہتا ہے جس کی انسان میں طاقت نہ ہو۔)

اس وقت امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ”کَیفَ یَفْعَلُ ذَلکَ؟ وَ هُوَیَقُولُ :( وَمَا رَبُّکَ بِظَلاَّمٍ لِلْعَبِیدِ ) (۶) ” وہ کس طرح ایسا کرسکتا ہے جبکہ خود اس نے فرمایا ہے: ’اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے“۔

اس کے بعد امام علیہ السلام نے مزید فرمایا: ہمارے پدر بزرگوار موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے اپنے پدر بزرگوار جعفر بن محمد علیہ السلام سے اس طرح نقل فرمایا ہے: ”جو شخص یہ گمان کرے کہ خداوندعالم اپنے بندوں کو گناہوں پر مجبور کرتا ہے یا تکلیف ما لا یطاق دیتا ہے، تو ایسے شخص کے ہاتھوں کا ذبیحہ نہ کھاؤ ، اس کی گواہی قبول نہ کرو، اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور اس کو زکوٰة نہ دو، (خلاصہ یہ کہ اس پر اسلام کے احکام جاری نہ کرو)(۷)

(قارئین کرام!) مذکورہ حدیث سے ضمنی طور پر یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ ایک ظریف نکتہ ہے کہ ”مکتب جبری“ تکلیف مالا یطاق کا دوسرا چہرہ ہے، کیونکہ اگر انسان ایک طرف گناہ کرنے پر مجبور ہو اور دوسری طرف اس کو نہی کی جائے تو یہ تکلیف ما لا یطاق کا واضح مصداق ہوگا۔(۸)

اسی طرح قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّ هَذِهِ تَذْکِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَی رَبِّهِ سَبِیلًا ) () ” بے شک یہ ایک نصیحت کا سامان ہے اب جس کا جی چاہے اپنے پروردگار کے راستہ کو اختیار کرلے“،(یہ خود ایک یاد دہانی ہے جس کے ذریعہ انسان خداوندعالم کے بتائے ہوئے راستہ کا انتخاب کرسکتاہے)

اور چونکہ ممکن تھا کہ کم ظرف لوگ اس مذکورہ تعبیر سے مطلق طور پر ”تفویض“ کا تصور کرلیں، اسی وجہ سے بعد والی آیت میں ”تفویض“ کی نفی کے لئے ارشاد ہوا ہے:( وَمَا تَشَاءُ وْنَ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ ) ” اور تم لوگ صرف وہی چاہتے ہو جو پروردگار چاہتا ہے“۔ ”بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا اور صاحب حکمت ہے“۔( إِنَّ اللهَ کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا ) (۱۰)

در اصل یہ مشہور و معروف قاعدہ”الامر بین الامرین“( ۲) کا اثبات ہے، ایک طرف تو خداوندعالم فرماتا ہے: ”خدا نے راستہ دکھا دیا ہے ، راستہ کا انتخاب تمہارا کام ہے“ ، دوسری طرف فرماتا ہے: ”تمہارا انتخاب مشیت الٰہی پر موقوف ہے“، یعنی تم مکمل طور پر استقلال نہیں رکھتے بلکہ تمہاری قدرت، آزادی اور ارادہ خدا کی مرضی اور اس کی طرف سے ہے، وہ جس وقت بھی ارادہ کرے تمہاری قدرت اور آزادی کو سلب کرسکتا ہے۔

اس لحاظ سے نہ مکمل ”تفویض“ ہے اور نہ ”اجبار اور سلبِ اختیار“ بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک دقیق و لطیف حقیقت ہے، بالفاظِ دیگر: ایک قسم کی آزادی ہے لیکن مشیت الٰہی سے وابستہ ،یعنی جب بھی خدا چاہے اس آزادی کو واپس لے سکتا ہے، تاکہ بندگان خدا تکالیف اور ذمہ داریوں کا احساس کریں دوسری طرف سے خدا سے بے نیازی کا تصور بھی پیدانہ ہو۔

مختصر: یہ تعبیرات اس وجہ سے ہیں کہ بندے ہدایت، حمایت، توفیق اور تائید ذات مقدس سے بے نیازی کا تصور نہ کریں، اپنے کاموں کے عزم و ارادہ کو خداوندعالم کے سپرد کریں اور اس کی حمایت کے زیر سایہ قدم اٹھائیں۔

یہاں سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ بعض جبری مسلک رکھنے والے مفسرین اس آیت کا سہارا لیتے ہیں البتہ وہ اس مسئلہ میں پہلے سے فیصلہ کرچکے ہیں (یعنی جبری نظریہ کو پہلے سے قبول کرچکے ہیں) جیسا کہ فخر رازی کا کہنا ہے: ”وَ اعلم اٴنَّ هَذِه الآیةِ مِن جُمْلَةِ الآیَاتِ التی تَلاطمتْ فِیْهَا اٴمْوَاجُ الجَبْرِ وَ القَدْرِ!“ (۱۱) ”جاننا چاہئے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جن میں ”جبر“ کی موجیں متلاطم ہیں“،جی ہاں! اگر اس آیت کو پہلی آیات سے الگ کرلیں تو اس طرح کا وہم و گمان کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ ایک آیت میں ”اختیار“ کی تاثیر کو بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں ”مشیتِ پروردگار“ کی تاثیر کو بیان کیا گیا ہے، جس سے ”الامر بین الامرین“ کا مسئلہ ثابت ہوجاتا ہے۔عجیب بات تو یہ ہے کہ ”تفویض“ کے طرفدار افراد بھی اسی آیت کو دلیل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آیت ”مطلقِ اختیار “ کو بیان کرتی ہے، جبکہ ”جبر“ کے طرفدار بھی اس آیت، کہ جس سے صرف جبر کی بو آتی ہے، تمسک کرتے ہیں اور دونوں پہلے سے اپنے کئے ہوئے فیصلہ کی توجیہ کرتے ہیں، جبکہ کلام الٰہی (بلکہ کسی بھی کلام) کو صحیح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے نظریہ کو دور رکھیں اور تعصب سے کام نہ لیتے ہوئے فیصلہ کریں۔آیت کے ذیل میں فرمایا گیا ہے:( ان الله کان علیماً حکیما ) جو اسی بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کیونکہ خداوندعالم کی حکمت اور اس کا علم اس بات کا مو جب ہے کہ انسان کمال اور ترقی کی منزلوں کو طے کرنے میں آزاد ہے ورنہ اجباری تکامل و ترقی کوئی کمال نہیں ہے۔

اس کے علاوہ خداوندعالم کا علم اور اس کی حکمت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کچھ لوگوں کو نیک کام پر مجبور کرے اور کچھ لوگوں کو برُے کاموں پر مجبور کرے ، پہلے گروہ کو جزا یا انعام دے اور دوسرے گروہ کو سزا اور عذاب میں مبتلا کرے۔(۱۲)

____________________

(۱) سورہ نباء ، آیت ۳۹

(۲) سورہ دہر ، آیت ۳

(۳) سورہ کہف ، آیت ۲۹

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد۲۶، صفحہ ۶۴

(۵) سورہ فصلت ، آیت ۴۶: ”اور آپ کا پروردگار بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے“

(۶) سورہ فصلت ، آیت ۴۶

(۷) عیون اخبار الرضا ، نور الثقلین ، جلد ۴، صفحہ ۵۵۵ کے نقل کے مطابق

(۸) تفسیر نمونہ ، جلد۲۰، صفحہ ۳۰۸ (۴) سورہ انسان (دہر)، آیت ۲۹

(۱۰)سورہ انسان (دہر) ، آیت ۳۰ (۲) یعنی نہ جبر ہے اور نہ تفویض، بلکہ ان دونوں کا درمیانی راستہ صحیح ہے

(۱۱) تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۰ ، صفحہ ۲۶۲ (۱۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۵، صفحہ ۳۸۵

۹۷۔ کیا نظر ِبد کی کوئی حقیقت ہے؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:( وَإِنْ یَکَادُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَیُزْلِقُونَکَ بِاٴَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ ) (۱) ”اور یہ کفار قرآن کو سنتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ عنقریب آپ کو نظروں سے پھسلا دیں گے “۔

اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نظر بد کی کو ئی حقیقت ہے؟

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ بعض لوگوں کی آنکھوں میں ایک مخصوص اثر ہوتا ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ممکن ہے وہ خراب ہوجائے یا نیست و نابود ہوجائے، یا اگر کسی انسان کو اس نگاہ سے دیکھ لے تو یاوہ بیمار یا پاگل ہوجائے۔

عقلی لحاظ سے یہ مسئلہ محال نہیں ہے کیونکہ آج کل کے متعدد دانشورں کا ماننا ہے کہ بعض لوگوں کی آنکھوں میں ایک مقناطیسی طاقت ہوتی ہے جس سے بہت کام لیا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ اس کی تمرین اور ممارست سے اس میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے، ”مقناطیسی نیند‘ ‘ (ہیپناٹزم Hypnotism ) بھی آنکھ کی اسی مقناطیسی طاقت کے ذریعہ ہوتی ہے۔

آج جبکہ ”لیزری شعاعیں“ دکھائی نہ دینے والی لہریں ایسا کام کرتی ہیں جو کسی خطرناک اور تباہ کن ہتھیار سے نہیں ہوسکتا، تو بعض لوگوں کی آنکھوں میں اس طاقت کا پایا جانا جو مخصوص لہروں کے ذریعہ مد مقابل پر اثر انداز ہوتی ہے، جائے تعجب نہیں رہ جاتا۔

متعدد لوگوں نے یہ بیان کیا ہے کہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے بعض لو گوں کی آنکھوں میں ایسی طاقت کا مشاہدہ کیا ہے جنھوں نے اپنی نظر سے انسان یا حیوان یا دوسری چیزوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔

لہٰذا نہ صرف اس چیز کے انکار پر اصرار کیا جائے بلکہ عقلی اور علمی لحاظ سے اس کو قبول کیا جاناچاہئے۔

بعض اسلامی روایات میں بھی ایسے الفاظ ملتے ہیں جن سے اجمالی طور پر اس چیز کی تائید ہوتی ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”اسماء بنت عمیس“ نے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں عرض کی: جعفر کے بچوں کو نظر لگ جاتی ہے کیا میں ان کے لئے ”رقیہ“ لے لوں (”رقیہ“ اس دعا کو کہتے ہیں جو نظر لگنے سے روکنے کے لئے لکھی جاتی ہے اور اس کا تعویذ بنایا جاتا ہے)

تو پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: ”نَعَمْ، فَلَو کَانَ شَیءٍ یسبقُ القَدْرِ لَسَبَقَهُ العَیْنِ(۲) ”ہاں، کوئی حرج نہیں ہے، اگر کوئی چیز قضا و قدر پر سبقت لینے والی ہو تی تو وہ نظر بد ہو تی ہے“۔

ایک دوسری حدیث میں بیان ہوا ہے کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: پیغمبر اکرم (ص) نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے لئے تعویذ بنایا اور اس دعا کو پڑھا: ”اٴعِیذُ کَمَا بِکَلِمَاتِ التَّامةِ وَ اٴسْمَاءِ اللّٰهِ الحُسْنٰی کُلِّهَا عَامة، مِنْ شرِّ السَّامَةِ وَ الهَّامَةِ، وَ مِنْ شرِّکُلُّ عَینٍ لَامَّةِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إذَا حَسَد “ (تمہیں تمام کلمات اور اللہ کے اسماء حسنی کی پناہ میں دیتا ہوں ،بری موت، موذی حیوانات، بری نظر اور حسد کرنے والے کے شر سے) ، اور اس کے بعد ہماری طرف دیکھ کر فرمایا: ”جناب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل اور اسحاق کے لئے یہی تعویذ بنایا تھا۔(۳)

اسی طرح نہج البلاغہ میں بیان ہوا ہے: ”العَیْنُ حَقٌّ وَ الرقيٌّ حَقٌّ(۴) چشم بد اور دعا کے ذریعہ اس کو دفع کرنا حقیقت رکھتے ہیں“۔(۵)

____________________

(۱) سورہ قلم ، آیت ۵۱(۲) مجمع البیان ، جلد ۱۰ ، صفحہ ۳۴۱

(۳) نور الثقلین ، جلد ۵، صفحہ ۴۰۰

(۴)نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۴۰۰، (یہ حدیث صحیح بخاری، جلد ۷، صفحہ ۱۷۱، باب ”العین حق“ میں بھی اسی صورت سے نقل ہوئی ہے: العین حق) ، نیز ”معجم لالفاظ الحدیث النبوی“ میں بھی مختلف منابع سے اس حدیث کو نقل کیا گیا ہے، (جلد ۴، صفحہ ۴۵۱)

(۵) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۴، صفحہ ۴۲۶

۹۸ ۔ کیا فال نیک اور بد شگونی حقیقت رکھتے ہیں ؟

شاید ہمیشہ سے مختلف قوم و ملت کے درمیان فال نیک اور بد شگونی کا رواج پایا جاتا ہے بعض چیزوں کو ”فال نیک“قرار دیتے ہیں جس کو کامیابی کی نشانی اور بعض چیزوں کو ”بد شگونی“ ناکامی اور شکست کی نشانی سمجھتے تھے، جبکہ ان چیزوں کا کامیابی اور شکست سے کوئی منطقی تعلق نہیں پایا جاتا،خصوصاً بد شگونی کے سلسلہ میں بہت سی نامعقول اور خرافات قسم کی چیزیں رائج ہیں۔

اگرچہ ان دونوں کا طبیعی اثر نہیں ہے لیکن نفسیاتی اثر ہوسکتا ہے، فالِ نیک انسان کے لئے امید اور تحریک کا باعث ہے اور بدشگونی ناامید اور سستی کا سبب بن سکتی ہے۔

شاید اسی وجہ سے اسلامی روایات میں فالِ نیک سے ممانعت نہیں کی گئی ہے لیکن فالِ بد اور بد شگونی کے لئے شدت سے ممانعت کی گئی ہے، چنانچہ ایک مشہور و معروف حدیث میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: ”تَفَاٴلُوا بِالخَیْرِ تَجِدُوْهُ “ (اپنے کاموں میں فال نیک کرو (اور امیدوارر ہو) تاکہ اس کے انجام تک پہنچ جاؤ) اس حد یث میں اس موضوع کا اثباتی پہلو منعکس ہے، اور خود آنحضرت (ص) ،ائمہ دین علیہم السلام کے حالات میں بھی یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ یہ حضرات بعض مسائل کو فال نیک سمجھے تھے ،مثال کے طور پر جب سر زمین ”حدیبیہ“ میں مسلمان کفار کے مقابل قرارپائے اور ”سہیل بن عمرو“ کفارِ مکہ کا نمائندہ بن کر پیغمبر اکرم (ص) کے پاس آیا،جب آنحضرت (ص) اس کے نام سے با خبر ہوئے تو فرمایا: ”قدْ سهلَ علیکم اٴمرَکمْ “ (یعنی میں ”سہیل“ کے نام سے تفال کرتا ہوں کہ تمہارا کام سہل اور آسان ہوگا“۔(۱)

چھٹی صدی ہجری کے ”دمیری“ نامی مشہور و معروف دانشور مولف نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اس وجہ سے فالِ نیک کیا کرتے تھے کیونکہ جب انسان فضل پروردگار کا امیدوار ہوتا ہے تو راہ خیر میں قدم بڑھاتا ہے لیکن جب رحمت پروردگار کی امید ٹوٹ جاتی ہے تو پھر برے راستہ پر لگ جاتاہے، اور فال بد یا بد شگونی کرنے سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے اور انسان بلا اور بدبختی سے خوف زدہ رہتا ہے۔(۲) فال بد یا بد شگونی کے بارے میں اسلامی روایات نے بہت شدت کے ساتھ مذمت کی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے(۳) ، نیز پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث میں بیان ہوا ہے: ”الطَّیْرةُ شِرْکٌ(۴) (بد شگونی کرنا (اور انسان کی زندگی میں اس کو موثر ماننا) ایک طرح سے خدا کے ساتھ شرک ہے)

اسی طرح ایک دوسری جگہ بیان ہوا ہے کہ اگر بد شگونی کا کوئی اثر ہے تو وہی نفسیاتی اثر ہے، حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ”بد شگونی کا اثر اسی مقدار میں ہے جتنا تم اس کو قبول کرتے ہو، اگر اس کو کم اہمیت مانو گے تو اس کا اثر کم ہوگا اور اگر اس سلسلہ میں تم بہت معتقد ہوگئے تو اس کا اثر بھی اتنا ہی ہوگا، اور اگر اس کی بالکل پروا نہ کرو تو اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا“۔(۵)

اسلامی روایات میں پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوا ہے کہ بد شگونی سے مقابلہ کرنے کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ اس پر توجہ نہ کی جائے، چنانچہ پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے: ”تین

چیزوں سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، (جنّات کا وسوسہ اکثر لوگوں کے دلوں پر اثر کر جاتا ہے) فال بد یا بد شگونی، حسد اور سوء ظن، اصحاب نے سوال کیا کہ ان سے بچنے کے لئے ہم کیا کریں؟ تو آنحضرت نے فرمایا: جب کوئی تمہارے لئے بد شگونی کرے تو اس پر توجہ نہ کرو، جس وقت تمہارے دل میں حسد پیدا ہو تو اس کے مطابق عمل نہ کرو اور جب تمہارے دل میں کسی کی طرف سے سوء ظن (اوربد گمانی) پیدا ہو تو اس کو نظر انداز کردو“۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ فال نیک اور بد شگونی کا موضوع ترقی یافتہ ممالک اور روشن فکر یہاں تک کہ مشہور و معروف نابغہ افراد کے یہاں بھی پایا جاتا ہے، مثال کے طور پر مغربی ممالک میںزینہ کے نیچے سے گزرنا، یا نمکدانی کا گرنا یا تحفہ میں چاقو دینا وغیرہ کو بد شگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے!

البتہ فالِ نیک کا مسئلہ کوئی اہم نہیں بلکہ اکثر اوقات اس کا اثر مثبت ہوتا ہے، لیکن بد شگونی سے مقابلہ کرنا چاہئے اور اپنے ذہن سے دور کرنا چاہئے، جس کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان خداوندعالم پر توکل اور بھر پور بھروسہ رکھے، جیساکہ اسلامی روایات میں اس چیز کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔(۶)

____________________

(۱) المیزان ، جلد ۱۹، صفحہ ۸۶

(۲)سفینة البحار ، جلد دوم، صفحہ ۱۰۲

(۳) مثلاً: سورہ یس ، آیت ۱۹، سورہ نمل ، آیت ۴۷، سورہ اعراف آیت۱۳۱

(۵،۴)المیزان ، محل بحث آیت کے ذیل میں

۳۰ ۔ معراج؛ جسمانی تھی یا روحانی اور معراج کا مقصد کیا تھا؟

شیعہ ،سنی تمام علمائے اسلام کے درمیان مشہور ہے کہ رسول اسلام کو یہ عالم بیداری میں معراج ہوئی، چنا نچہ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آیات کا ظاہری مفہوم بھی اس بات پر گواہ ہے کہ یہ بیداری کی حالت میں معراج ہوئی۔

اسلامی تواریخ بھی اس بات پر گواہ ہیں چنا نچہ بیان ہوا ہے : جس وقت رسول اللہ نے واقعہ معراج کو بیان کیا تو مشرکین نے شدت کے ساتھ اس کا انکار کردیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بہانہ بنالیا۔

یہ بات خود اس چیز پرگواہ ہے کہ رسول اللہ (ص)ہرگز خواب یا روحانی معراج کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اتناشور وغل نہ کرتے ۔

لیکن جیساکہ حسن بصری سے روایت ہے : ”کان فی المنام رویا رآها “ (یہ واقعہ خواب میں پیش آیا )

اور اسی طرح حضرت عائشہ سے روایت ہے : ”والله ما فقد جسد رسول الله (ص) ولکن عرج بروحه

”خداکی قسم بدن ِرسول اللہ (ص)ہم سے جدا نہیں ہوا صرف آپ کی روح آسمان پر گئی“۔

ظاہراً ایسی روایات سیاسی پہلو رکھتی ہیں۔(۱)

معراج کا مقصد

یہ بات ہمارے لئے واضح ہے کہ معراج کا مقصد یہ نہیں کہ رسول اکرم دیدار خدا کے لئے آسمانوں پر جائیں، جیسا کہ سادہ لوح افرادخیال کرتے ہیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی دانشور بھی ناآگاہی کی بنا پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چہرہ بگاڑکر پیش کرنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں جس میں سے ایک مسڑ” گیور گیو“ بھی ہیں وہ بھی کتاب ”محمد وہ پیغمبر ہیں جنہیں پھرسے پہچاننا چاہئے“(۲) میں کہتے ہیں:”محمد اپنے سفرِ معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انہیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی، انہوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوں کے حساب کتاب میں مشغول ہے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سنتے تھے مگر انہیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہوں“

یہ عبارت نشاندھی کرتی ہے کہ وہ قلم لکڑی کا تھا، اور وہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتاتھا اور اس سے آواز پیدا ہوتی تھی ،اوراسی طرح کی اور بہت سے خرافات اس میں موجود ہیں “۔

جب کہ مقصدِ معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات بالخصوص عالم بالا میں موجودہ عظمت الٰہی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت ورہبری کے لئے ایک نیا احساس اور ایک نئی بصیرت حاصل کریں ۔ معراج کاہدف واضح طورپر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آیت ۱۸ میں بیان ہوا ہے۔

اس سلسلہ میں ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے بیان ہوئی ہے جس میں آپ سے مقصد معراج پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :

”إنَّ الله لا یُوصف بمکانٍ ،ولایُجری علیه زمان ،ولکنَّه عزَّوجلَّ اٴرادَ اٴنْ یشرف به ملائکته وسکان سماواته، و یکرَّمهم بمشاهدته ،ویُریه من عجائب عظمته مایخبر به بعد هبوطه(۳)

”خدا ہرگز کوئی مکان نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتاہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باشندوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انہیں آپ کی زیارت کا شرف عطاکرے نیزآپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکران کولوگوں کے سا منے بیان کریں“۔(۴)

____________________

(۱)تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۵

(۲)مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمہ کا نام ہے “ محمد پیغمبری کہ از نوباید شناخت “ صفحہ ۱۲۵

(۳) تفسیر برہان ، جلد ۲، صفحہ ۴۰۰

(۴) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۶

۳۱ ۔ کیا معراج ،آج کے علوم سے ہم آہنگ ہے؟

گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں واقعہ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یہی نظریہ تھا ان کے خیال میں اس طرح تویہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پھر آپس میں مل گئے؟

لیکن” بطلیموسی “نظریہ ختم ہو گیا تو آسمانوں کے شگافتہ ہونے کا مسئلہ ختم ہوگیا البتہ علم ہیئت میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابھر ے ہیں مثلاً:

۱ ۔ایسے فضائی سفر میں پہلی رکاوٹ کششِ ثقل ہے جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مداراور مرکزِ ثقل سے نکلنے کےلئے کم از کم چالیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے ۔

۲ ۔دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا

(۱) بعض قدیم فلاسفہ کا یہ نظریہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ، اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں --”خرق “(پھٹنا)اور ”التیام“(ملنا)ممکن نہیں

۳ ۔ایسے سفر میں تیسری رکاوٹ اس حصہ میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے جبکہ جس حصہ پر سورج کی بلا واسطہ روشنی پڑرہی ہے اور اسی طرح اس حصہ میں جان لیوا سردی ہے جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی ہے۔

۴ ۔ اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ہیں کہ جو فضا ئے زمین کے اوپر موجود ہیں مثلا کا سمک ریز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ریز ultra violet ravs اور ایکس ریز x ravs یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے ارگانزم organism کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں (زمین پر رہنے والوں کے لئے زمین کے اوپر موجودہ فضاکی وجہ سے ان کی تپش ختم ہوجاتی ہے )

۵ ۔اس سلسلہ میں ایک اور مشکل یہ ہے کہ خلامیں انسان کا وزن ختم ہوجاتا ہے اگرچہ تدریجاًبے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باشندہ بغیر کسی تیاری اور تمہید کے خلا میں جا پہنچیں تو اس کیفیت سے نمٹنا بہت ہی مشکل ہے ۔

۶ ۔اس سلسلہ میں آخری مشکل زمانہ کی مشکل ہے اور یہ نہایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دورحاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہو گاکہ اس کی رفتار اس سے زیادہ ہو ۔

ان سوالات کے پیش نظر چندچیزوں پر توجہ ضروری ہے:

۱ ۔ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔

۲ ۔اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا تھابلکہ یہ اللہ کی لامتناہی قدرت و طاقت کے ذریعہ صورت پذیر ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے۔

زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ معجزہ عقلاً محال نہیں ہونا چاہئے اور جب معجزہ بھی عقلاً ممکن ہے ، توباقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل ہوجاتے ہیں ۔جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں ، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں، اور ایسے لباس پہنے کہ جو اسے انتہائی گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ سکیں اور مشق کے ذریعہ بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ،یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعہ یہ کام کرسکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعہ یہ کام نہیں کرسکتا ؟

ہمیں یقین ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لئے انتہائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفرمیں در پیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے انہیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا ،ہاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا، براق ؟ رفرف ؟ یا کوئی اور ؟یہ مسئلہ قدرت کاراز ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر تیز ترین رفتار کے بارے میں مذکورہ نظریہ آج کے سائنسدانوں کے درمیان متزلزل ہوچکا ہے اگر چہ آئن سٹائن اپنے مشہور نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہے۔

آج کے سائنسداں کہتے ہیں کہ امواج جاذبہ Rdvs of at f fion " " زمانے کی احتیاج کے بغیر آن واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہوجاتی ہیں اور اپنا اثر چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ احتمال بھی ہے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے نظام موجودہیں کہ جوروشنی کی رفتارسے زیادہ تیزی سے مرکزِ جہان سے دور ہوجاتے ہیں (ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے اور ستارے اورشمسی نظام تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں) (غور کیجئے )

مختصر یہ کہ اس سفر کے لئے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نہیں ہے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں کہ واقعہ معراج کو عقلی طورپر محال سمجھا جائے ،اس راستہ میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جو وسائل درکار ہیں وہ موجود ہوں تو ایسا ہوسکتا ہے ۔بہرحال واقعہ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالہ سے ناممکن ہے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے ، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ ہونے کو سب قبول کرتے ہیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرلینا چاہئے۔(۱) (۲)

____________________

(۱)معراج ، شق القمر اور دونوں قطبوں میں عبادت کے سلسلہ میں ہماری کتاب ”ہمہ می خو اہند بدا نند“ میں رجو ع فر مائیں

(۲) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۲، صفحہ ۱۷

۳۲ ۔کیا عصمت انبیاء جبری طور پر ہے؟

بہت سے لوگ جب عصمت انبیاء کی بحث کا مطالعہ کرتے ہیں تو فوراً ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مقام عصمت ایک الٰہی عطیہ ہے جو انبیاء اور ائمہ (علیہم السلام) کو لازمی طور پر دیا جاتا ہے، اور جس کو یہ خدا داد نعمت مل جاتی ہے تو وہ گناہ اور خطاؤں سے محفوظ ہوجاتا ہے، لہٰذا ان کا معصوم ہونا کوئی فضیلت اور قابل افتخار نہیں ہوگا، جو شخص بھی اس الٰہی نعمت سے بہرہ مند ہوجائے تو وہ (خود بخود) تمام گناہوں اور خطاؤں سے پرہیز کرے گا ، اور یہ اللہ کی طرف سے جبری طورپر ہے۔

لہٰذا مقامِ عصمت کے ہوتے ہوئے گناہ اور خطا کا مرتکب ہونا محال ہے، جبکہ یہ بات بھی واضح ہے کہ ”محال کو چھوڑ دینا“ کوئی فضیلت نہیںہوتی، مثال کے طور پر اگر ہم سو سال بعد پیدا ہونے والے یا سو سال پہلے گزرنے والوں پر ظلم و ستم نہیں کرسکتے،تو یہ ہمارے لئے کوئی باعث افتخار نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنا ہمارے امکان سے باہر ہے!!

مذ کورہ اعتراض اگرچہ ”عصمت انبیاء“ پر نہیں ہے بلکہ عصمت کی فضیلت گھٹانے کے لئے ہے، لیکن پھر بھی درج ذیل چند نکات پر توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجائے گا۔

۱ ۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں، ان کی توجہ ”عصمت انبیاء“ پر نہیں ہوتی، بلکہ ان لوگوں کا گمان ہے کہ مقام عصمت ، بیماریوں کے مقابلہ میں بچاؤ کی طرح ہے، جیسا کہ بعض بیماریوں سے بچنے کے لئے ٹیکے لگائے جاتے ہیں، جن کی بنا پر وہ بیماریاں نہیں آتیں۔

لیکن معصومین میں گناہ کے مقابل یہ تحفظ ان کی معرفت ،علم اور تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح ہم بعض چیزوں کا علم رکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ کام بُرا ہے، مثلاً ہم کبھی بھی بالکل برہنہ ہوکر گلی کوچوں میں نہیں گھومتے، اسی طرح جو شخص نشہ آور چیزوں کے استعمال کے نقصان کے بارے میں کافی معلومات رکھتا ہے کہ اس سے انسان آہستہ آہستہ موت کی آغوش میں چلاجاتاہے؛ وہ اس کے قریب تک نہیں جاتا، یقینا اس طرح نشہ آور چیزوں کو ترک کرنا انسان کے لئے فضیلت اور کمال ہے، لیکن اس میں کسی طرح کا کوئی جبری پہلو نہیں ہے، کیونکہ انسان نشہ آورچیزوں کے استعمال میں آزاد ہے۔

اسی وجہ سے ہم کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں میں تعلیم و تربیت کے ذریعہ علم ومعرفت اور تقویٰ کی سطح کو بلند کریں تاکہ ان کو بڑے بڑے گناہوں اوربرے اعمال کے ارتکاب سے بچالیں۔

جو لوگ اس تعلیم و تربیت کے نتیجہ میں بعض بُرے اعمال کو ترک کرتے ہوئے نظر آئیں تو کیا ان کے لئے یہ فضیلت اور افتخارکا مقام نہیں ہے؟!

دوسرے الفاظ میں یوں کہیں تو بہتر ہوگا کہ انبیاء کے لئے یہ ”محالِ عادّی“ ہے ”محالِ عقلی“ نہیں ، کیونکہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ”محال عادّی“ انسان کے اختیار میں ہوتا ہے، ”محال عادّی“ کی مثال اس طرح تصور کریں کہ ایک عالم اور مومن مسجد میں شراب لے جاسکتا ہے اور نماز جماعت کے دوران شراب پی سکتا ہے،( لیکن عادتاً مومن افراد اس طرح نہیں کرتے) یہ محال عقلی نہیں بلکہ ”محال عادّی“ ہے۔

مختصر یہ کہ انبیاء علیہم السلام چونکہ معرفت و ایمان کے بلند درجہ پر فائز ہوتے ہیں جو خود ایک عظیم فضیلت اور افتخار ہے، جو دوسری فضیلت اور افتخار کا سبب ہوتے ہیں اسی فضیلت کو عصمت کہتے ہیں۔(غور فرمائیے گا)

اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایمان اور معرفت کہاں سے آئی، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عظیم ایمان اور معرفت خداوندعالم کی امداد سے حاصل ہوئی ہے، لیکن اس وضاحت کے ساتھ کہ خداوندعالم کی امداد بے حساب و کتاب نہیں ہے، بلکہ ان میں ایسی لیاقت اور صلاحیت موجود تھی ، جیسا کہ قرآن مجید حضرت ابراہیم خلیل خدا کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ جب تک انھوں نے الٰہی امتحان نہ دے لیا تو ان کو لوگوں کا امام قرار نہیں دیا گیا، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ) (۱)

یعنی جناب ابراہیم علیہ السلام اپنے ارادہ و اختیار سے ان مراحل کو طے کرنے کے بعد عظیم الٰہی نعمت سے سرفراز ہوئے۔

اسی طرح جناب یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: ” جس وقت وہ بلوغ اور طاقت نیز جسم و جان کے تکامل و ترقی تک پہنچے (اور وحی قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے) تو ہم نے ان کو علم و حکمت عنایت فرمایا اور اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں“

( وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّهُ آتَیْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) (۲)

آیت کا یہ حصہ( َکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) ہماری بات پربہترین دلیل ہے کیونکہ اس میں ارشاد ہوتا ہے کہ (جناب) یوسف کے نیک اور شائستہ اعمال کی وجہ سے ان کو خدا کی عظیم نعمت حاصل ہوئی۔

اسی طرح جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسے الفاظ ملتے ہیں جو اسی حقیقت کو واضح کرتے ہیں، ارشاد خداوندی ہوتا ہے: ” ہم نے بارہا تمہارا امتحان لیا ہے، اور تم نے برسوں اہل ”مدین“ کے یہاں قیام کیا ہے (اور ضروری تیار ی کے بعد امتحانات کی بھٹی سے سرفراز اور کامیاب نکل آئے) تو آپ کو بلند مقام اور درجات حاصل ہوئے:

( وَفَتَنَّاکَ فُتُونًا فَلَبِثْتَ سِنِینَ فِی اٴَهْلِ مَدْیَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَی قَدَرٍ یَامُوسَی ) (۳)(۴) ”اور تمہارا باقاعدہ امتحان لیا پھر تم اہل مدین میں کئی برس تک رہے اس کے بعد تم ایک منزل پر آگئے اے موسیٰ“۔

یہ بات معلوم ہے کہ ان عظیم الشان انبیا ء میں استعداد اور صلاحیت پائی جاتی تھی لیکن ان کو بروئے کار لانے کے لئے کوئی جبری پہلو نہیں تھا، بلکہ اپنے ارادے و اختیار سے اس راستہ کو طے کیا ہے، بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں بہت سی صلاحیت اور لیاقت پائی جاتی ہیں لیکن ان سے استفادہ نہیں کرتے، یہ ایک طرف ۔

دوسری طرف اگر انبیاء علیہم السلام کو اس طرح کی عنایات حاصل ہوئی ہیں تو ان کے مقابل ان کی ذمہ داریاں بھی سخت تر ہیں، یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ خداوندعالم جس مقدار میں انسان کو ذمہ داری دیتا ہے اسی لحاظ سے اسے طاقت بھی دیتا ہے، اور پھر اس ذمہ داری کے نبھانے پر امتحان لیتا ہے۔

۲ ۔ اس سوال کا ایک دوسرا جواب بھی دیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ فرض کیجئے کہ انبیاء علیہم السلام خدا کی جبری امداد کی بنا پرہر طرح کے گناہ اور خطا سے محفوظ رہتے ہیں تاکہ عوام الناس کے اطمینان میں مزید اضافہ ہوجائے، اور یہ چیز ان کے لئے چراغ ہدایت بن جائے، لیکن ”ترک اولیٰ“ کا احتمال باقی رہتا ہے، یعنی ایسا کام جو گناہ نہیں ہے لیکن انبیاء علیہم السلام کی شان کے مطابق نہیں ہے۔

رسالت حاصل کرنے کے لئے جو زمانہ معین کیا گیا تھا اس کے معنی کئے گئے ہیں

انبیاء کا افتخار یہ ہے کہ ان سے ترک اولیٰ تک نہیں ہوتا، اور یہ ان کے لئے ایک اختیاری چیزہے، اور اگر بعض انبیاء علیہم السلام سے بہت ہی کم ترک اولیٰ ہوا ہے تو اسی لحاظ سے مصائب و بلا میں گرفتار ہوئے ہیں، تو اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ وہ اطاعت الٰہی میں کوئی ترک اولیٰ بھی نہیں کرتے۔

اس بنا پر انبیاء علیہم السلام کے لئے با عث افتخارہے کہ خدا کی عطا کردہ نعمتوں کے مقابل ذمہ داری بھی زیاہ ہوتی ہے اور ترک اولیٰ کے قریب تک نہیں جاتے، اور اگر بعض موارد میں ترک اولیٰ ہوتا ہے تو فوراً اس کی تلافی کردیتے ہیں۔(۵)

____________________

(۱) سورہ بقرہ ، آیت۱۲۴ (۲) سورہ یوسف ، آیت۲۲

(۳)سورہ طہ ، آیت۴۰

۴) جملہ < ثُمَّ جِئْتَ عَلَی قَدَرٍ یَامُوسَی ٰ> سے کبھی وحی کے قبول کرنے کی لیاقت اور صلاحیت کے معنی لئے گئے ہیں اور کبھی

(۵) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۱۹۳

۳۳ ۔ جادوگروں اور ریاضت کرنے والوں کے عجیب وغریب کاموں اور معجزہ میں کیا فرق ہے؟

۱ ۔ معجزات ، خداداد طاقت کے بل بوتہ پر ہوتے ہیں۔

جبکہ جادوگری اور ان کے غیر معمولی کارنامے انسانی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں، لہٰذا معجزات بہت ہی عظیم اور نامحدود ہوتے ہیں، جبکہ جادوگروں کے کارنامے محدود ہوتے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں : جادوگر فقط وہی کام انجام دے سکتے ہیں جن کی انھوں نے تمرین کی ہے، اور اس کام کے انجام دینے کے لئے کافی آمادگی رکھتے ہوں، اگر ان سے کو ئی دوسرا کام انجام دینے کے لئے کہا جائے تو وہ کبھی نہیں کرسکتے، اب تک آپ نے کسی ایسے جادوگر اور ریاضت کرنے والے کو نہیں دیکھا ہوگا کہ جو یہ کہتا ہوا نظر آئے کہ جو کچھ بھی تم چاہو میں اس کوکر دکھاؤں گا، کیونکہ جادوگروں کو کسی خاص کام میں مہارت اور آگاہی ہوتی ہے۔

یہ صحیح ہے کہ انبیاء علیہم السلام لوگوں کی درخواست کے بغیر خود اپنے طور پر بھی معجزہ پیش کرتے تھے (جیسے پیغمبر اکرم (ص) نے قرآن کریم پیش کیا، جناب موسیٰ علیہ السلام نے عصا کو اژدہا بنادیا، اور آپ کا معجزہ ”ید بیضا“ اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کا زندہ کرنا) لیکن جس وقت ان کی امت ایک نئے معجزہ کی فرمائش کرتی تھی جیسے ”شق القمر“ یا فرعونیوں سے بلاؤں کا دور ہونا، یا حواریوں کے لئے آسمان سے غذائیں نازل ہونا وغیرہ، تو انبیاء علیہم السلام ہرگز اس سے ممانعت نہیں کرتے تھے (البتہ اس شرط کے ساتھ کہ ان کی فرمائش حقیقت کی تلاش کے لئے ہو ،نہ صرف بہانہ بازی کے لئے)

لہٰذا جناب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ملتا ہے کہ فرعونیوں نے ایک طولانی مدت کی مہلت مانگی تاکہ تمام جادوگروں کو جمع کرسکیں، اور پروگرام کے تمام مقدمات فراہم کرلیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( فَاٴَجْمِعُوا کَیْدَکُمْ ثُمَّ ائْتُوا صَفًّا ) (۱) ”لہٰذا تم لوگ اپنی تدبیروں کو جمع کرو اور صف باندھ کر اس کے مقابلہ میں آجاؤ“۔

اپنی تمام طاقت و توانائی کو جمع کرلیں اور اس سے استفادہ کریں، جبکہ جناب موسیٰ علیہ السلام کو ان مقدمات کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اور ان تمام جادوگروں سے مقابلہ کرنے کے لئے کسی طرح کی کوئی مہلت نہ مانگی، چونکہ وہ قدرت خدا پر بھروسہ کئے ہوئے تھے، اور جادوگر انسانی محدود طاقت کے بل پر یہ کام انجام دینا چاہتے تھے۔

اسی وجہ سے انسان کے غیر معمولی کام کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے یعنی اس کی طرح کوئی دوسرا شخص بھی اس کام کو انجام دے سکتا ہے، اسی وجہ سے کوئی بھی جادوگر یہ چیلنج نہیں کرسکتا کہ کوئی دوسرا مجھ جیسا کام انجام نہیں دے سکتا، جبکہ (معصوم کے علاوہ) کوئی دوسرا شخص (انسانی طاقت سے)معجزہ نہیں دکھاسکتا، لہٰذا اس میں ہمیشہ چیلنج ہوتا ہے ، جیسا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: اگر تمام جن و انس مل کر قرآن کے مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے!

یہی وجہ ہے کہ جب انسان کے غیر معمولی کارنامے، معجزہ کے مقابل آتے ہیں تو بہت ہی جلد مغلوب ہوجاتے ہیں اور جادو کبھی بھی معجزہ کے مقابل نہیں آسکتا، جس طرح کوئی بھی انسان خداوندعالم سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔

چنا نچہ نمونہ کے طور پر قرآن مجید میں جناب موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ فرعون نے مصر کے تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کیا اور مدتوں اس کے مقدمات فراہم کرتا رہا تاکہ اپنے پروگرام کو صحیح طور پر چلا سکے لیکن جناب موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کے سامنے چشم زدن میں مغلوب ہو گیا۔

۲ ۔ معجزات چونکہ خداوندعالم کی طرف سے ہوتے ہیں لہٰذا خاص تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ جادوگرمدتوں سیکھتے ہیں اوربہت زیادہ تمرین کرتے ہیں،اس طرح سے کہ اگر شاگرد نے استاد کی تعلیمات کو خوب اچھے طریقہ سے حاصل نہ کیاہوتو ممکن ہے کہ لوگوں کے سامنے صحیح طور پر کارنامہ نہ دکھاسکے، جس کے نتیجہ میں وہ ذلیل ہوجائے، لیکن معجزہ کسی بھی وقت بغیر کسی مقدمہ کے دکھا یا جا سکتا ہے جبکہ غیر معمولی کارنامے آہستہ آہستہ مختلف مہارتوں کے ذریعہ انجام دئے جاتے ہیں یعنی کبھی بھی اچانک انجام نہیں پاتے۔

جناب موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہوا کہ فرعون نے جادوگروں پر الزام لگایا کہ موسیٰ تمہارا سردار ہے جس نے تمہیں سحر اور جادو سکھایا ہے:

( إِنَّهُ لَکَبِیرُکُمْ الَّذِی عَلَّمَکُمْ السِّحْر ) (۲) اسی وجہ سے جادوگر اپنے شاگردوں کو مہینوں یا برسوں سکھاتے ہیں اور ان کے ساتھ تمرین کرتے ہیں۔

۳ ۔ معجزنما کے اوصاف خود ان کی صداقت کی دلیل ہوتی ہے۔

سحر و جادو اور معجزہ کی پہچان کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحب معجزہ اور جادوگروں کے صفات کو دیکھا جاتا ہے، کیونکہ معجزہ دکھانے والا خدا کی طرف سے لوگوں کی ہدایت پر مامور ہوتا ہے لہٰذا اسی لحاظ سے اس میں صفات پائے جاتے ہیں، جبکہ ساحراور جادوگراور ریاضت کرنے والے نہ تو لوگوں کی ہدایت پر مامور ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کا یہ مقصد ہو تا ہے ، درج ذیل چیزیں ان کا مقصد ہوا کر تی ہیں:

۱ ۔ سادہ لوح لوگوں کو غافل کرنا۔

۲ ۔ عوام الناس کے درمیان شہرت حاصل کرنا۔

۳ ۔ لوگوں کو تماشا دکھا کر کسب معاش کرنا۔

جب انبیاء علیہم السلام اور جادوگر میدان عمل میں آتے ہیں تو طولانی مدت تک اپنے مقاصد کو مخفی نہیں رکھ سکتے، جیسا کہ فرعون نے جن جادوگروں کو جمع کیا تھا انھوں نے اپنا کارنامہ دکھانے سے پہلے فرعون سے انعام حا صل کرنے کی درخواست کی اور فرعون نے بھی ان سے اہم انعام کا وعدہ دیا:

( قَالُوا إِنَّ لَنَا لَاٴَجْرًا إِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِینَ # قَالَ نَعَمْ وَإِنَّکُمْ لَمِنْ الْمُقَرَّبِینَ ) (۳)

(جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوگئے اور) انھوں نے کہا کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں اس کی اجرت ملے گی؟ فرعون نے کہا بے شک تم میرے دربار میں مقرب ہوجاؤ گے“۔

جبکہ انبیاء علیہم السلام نے اس بات کا بارہا اعلان کیا ہے:

( وَمَا اٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ مِنْ اٴَجْرٍ ) (۴)

”ہم تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے“۔

((قارئین کرام!) ذکورہ آیت قرآن مجید میں متعدد انبیاء کے حوالہ سے بیان کی گئی ہے۔)

اصولی طور پر اگر جادوگروں کو فرعون جیسے ظالم و جابر کی خدمت میں دیکھا جا ئے تو ”جادو“ اور ”معجزہ“ کی پہچان کے لئے کافی ہے۔

یہ بات کہے بغیر ہی واضح ہے کہ انسان اپنے افکار کو مخفی رکھنے میں خواہ کتنا ہی ماہر ہو پھر بھی اس کے اعمال و کردار سے اس کا حقیقی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان جیسے لوگوں کی سوانح عمری اور ان کے غیر معمولی کارناموں کو انجام دینے کے طریقہ کار ، اسی طرح مختلف اجتماعی امور میں ان کی یکسوئی اور ان کی رفتار و گفتار اور ان کا اخلاق ”سحر و جادو“ اور ”معجزہ“ میں تمیز کرنے کے لئے بہترین رہنما ہے، اور گزشتہ بحث میں بیان کئے ہوئے فرق کے علاوہ یہ راستہ بہت آسان ہے جس سے انسان سحرو جادو اور معجزہ کے درمیان فرق کرسکتا ہے۔

قرآن مجید نے بہت دقیق و عمیق الفاظ کے ساتھ اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے، ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ مُوسَیٰ مَا جِئْتُمْ بِهِ السِّحْرُ إِنَّ اللهَ سَیُبْطِلُهُ إِنَّ اللهَ لایُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِینَ ) (۵)

”پھر جب ان لوگوں نے رسیوں کو ڈال دیا تو موسیٰ نے کہا کہ جو کچھ تم لے آئے ہو یہ جادو ہے اور اللہ اس کو بے کار کردے گا کہ وہ مفسدین کے عمل کو درست نہیں ہونے دیتا“۔

جی ہاں جادو گر،مفسد ہوتے ہیں اور ان کے اعمال باطل ہوتے ہیں، اور ان کے اس کام کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔

ایک دوسرے مقام پر خداوند عالم نے جناب موسیٰ علیہ السلام سے خطاب فرمایا:( لاَتَخَفْ إِنَّکَ اٴَنْتَ الْاٴَعْلیٰ ) (۶) ”(ہم نے کہا کہ) موسیٰ ڈرو نہیں تم بہر حال غالب رہنے والے ہو“۔

اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے:

( وَاٴَلْقِ مَا فِی یَمِینِکَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا إِنَّمَا صَنَعُوا کَیْدُ سَاحِرٍ وَلاَیُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اٴَتَیٰ ) (۷)

” اور جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اُسے ڈال دو یہ ان کے سارے کئے دھرے کو چن لے گا، ان لوگوں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف جادوگر کی چال ہے اور بس،اور جادوگر جہاں بھی جائے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا “۔

جی ہاں جادوگر چا ل بازی اور دھوکہ دھڑی سے کام لیتے ہیں اور طبیعی طور پر یہی مزاج رکھتے ہیں، یہ لوگ دھوکہ دھڑی کرتے رہتے ہیں ان کے صفات اور کارناموں کو دیکھ کر بہت ہی جلد ان کو پہچانا جاسکتا ہے، جبکہ انبیاء علیہم السلام کا اخلاص، صداقت او رپاکیزگی ان کے لئے ایک سند ہے جو معجزہ کے ساتھ مزید ہدایت گر ثابت ہوتی ہے۔(۸)

____________________

(۱) سورہ طہ ، آیت۶۴

(۲) سورہ طہ ، آیت۷۱

(۳) سورہ اعراف ، آیت۱۱۳۔ ۱۱۴ (۴)سورہ شعراء ، آیت۱۰۹

(۵) سورہ یونس ، آیت۸۱

(۶) سورہ طہ ، آیت۶۸

(۶)سورہ طہ ، آیت۶۹

(۸) تفسیر پیام قرآن ، جلد ۷، صفحہ ۲۸۸


9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36