اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی12%

اصول دين سے آشنائی مؤلف:
زمرہ جات: عقائد لائبریری

اصول دين سے آشنائی
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22909 / ڈاؤنلوڈ: 4497
سائز سائز سائز
اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

کتاب نامہ: اصول دین سے آشنائی

حضرت آیة الله العظمیٰ حاج شیخ حسین وحید خراسانی مدظلہ العالی کی توضیح المسائل کا مقدمہ

ناشر: مدرسة الامام الباقر العلوم علیہ السلام

دوسرا ایڈیشن: ۱ ۴ ۲۸ ھ، مطابق ۲۰۰۷ ء

پریس: نگارش

ملنے کا پتہ:

قم، صفائیہ روڈ، گلی نمبر ۳۷ ، مکان نمبر ۲۱ ، ٹیلیفون: ۷۷ ۴ ۳۲ ۵۶ ۔ ۰۲ ۵ ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ الطَّاهِرِيْنَ، لاَ سِيِّمَا بَقِيَّةِ اللّٰهِ فِی اْلا رََٔضِيْن

پیش گفتار

یہ کتا ب فروع دین سے متعلق ہے،لیکن یہ مقدمہ اصول دین سے آگاہی کی غرض سے لکها گیاہے۔جس طرح نور کے مراتب ہیں اور سورج وشمع کا نور بھی حقیقی نور کے مراتب میں سے ہیں، اسیطرح اصول دین کی معرفت کے بھی مراتب ہیں۔یہ مقدمہ کوئی عمیق تحقیق نہیں، بلکہ اس راہ میں قدم رکھنے والوں کے لئے اصول دین سے آشنائی کی حد تک ایک شمع کی مانند ہے۔

اس مقدمے میں عقلی اعتبار سے نهایت آسان تمهیدات پر مبنی دلائل سے استدلال کیا گیا ہے اورروائی اعتبار سے ان منقولات پر مشتمل ہے جو سنی اور شیعہ کی کتبِ احادیث اور مشہور تواریخ میں مذکور ہیں اور اس بارے میں خبر دینے کے لئے،اگر چہ راوی ثقہ ہے یا جو بات نقل کی گئی ہے موردوثوق ہے،ہمارا مستند وہی کتب ہیں جهاں سے ہم نے انہیں نقل کیا ہے۔

مبانیِ دین میں انوار آیات وروایات سے پر تو افشانی اس لئے کی گئی ہے کہ قرآن وسنت، فطرت کو بیدار کرنے والے اور حکمت کے دقیق ترین قواعد پر مشتمل ہیں۔

روایات کے ترجمے میں مضمون حدیث کے تقریباًمطابق، مختصر مضمون کو پیش کیا گیا ہے،عمومی جہت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دقیق علمی نکات سے صرف نظر کی گئی ہے اور اختصار کے پیش نظر مطالب سے مربوط تمام جهات کو پیش نہیں کیا گیا ہے۔

اصول دین کی مقدماتی بحثیں

اصول دین کے بیان سے پهلے چند امور کی جانب توجہ ضروری ہے:

۱۔تحصیل معرفت کا ضروری ہونا :

مبدا ومعاد کے وجود کا احتمال، معرفت دین اور اس سلسلے میں تلاش و جستجو کو ضروری قرار دیتا ہے، کیونکہ اگر خالقِ جهاں، علیم وحکیم ہو،زندگی کا اختتام موت نہ ہو،خالق انسان نے اسے کسی مقصد و ہدف کے تحت خلق کیا ہو اور اس کے لئے ایک ایسا نظام معین کیا ہو جس کی مخالفت ابدی بد بختی کاسبب ہو تو انسانی جبلت وفطرت اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ چاہے یہ احتمال کم ہی کیوں نہ ہو، لیکن جس چیز کا احتمال دیا جارہا ہے اس کی عظمت واہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، تاکہ تحقیق کے ذریعے منفی یا مثبت نتیجے تک پهنچا جا سکے۔جیسا کہ اگر بجلی کے تار میں شارٹ سرکٹ کا احتمال ہو اور طے ہو کہ اس صورت میں زندگی آگ کا لقمہ بن سکتی ہے تو انسان اس وقت تک آرام وچین سے نہیں بیٹھتا جب تک اسے خطرہ ٹلنے کا یقین نہ ہوجائے۔

۲۔انسان کو دینِ حق کی ضرورت :

انسان کا وجودجسم وروح اور عقل وہوس کا مرکب ہے اور اسی کا اثر ہے کہ اس کی فطرت مادی ومعنوی سعادت اور کمال مقصد تخلیق کو پانے کی جستجو میں ہے۔

ادہر انسان کی زندگی کے دو پهلو ہیں، فردی او ر اجتماعی،بالکل ایسے ہی جیسے انسانی بدن کا ہر عضو اپنی ذاتی زندگی سے قطع نظر دوسرے اعضاء کے ساته بھی متقا بلاًتاثیر و تا ثر رکھتا ہے۔

لہٰذا ، انسان کو ایسے قانون وآئین کی ضرورت ہے جو اسے مادی ومعنوی سعادت اور پاک وپاکیزہ انفرادی اوراجتماعی زندگی کی ضمانت دے اور ایسا آئین، دین حق ہے کہ جس کی انسان کو فطری طور پر ضرورت ہے( فَا قَِٔمْ وَجْهَکَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ) (۱)

____________________

۱ سورہ روم، آیت ۳۰ ۔ ”پس (اے نبی!) تم خالص دل سے دین کی طرف اپنا رخ کئے رہو خدا کی بنائی ہوئی سرشت جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے “۔

هر موجود کے لئے ایک کمال ہے جس تک رسائی،اس کے مربوطہ تکامل وتربیت کے لئے معین کردہ قاعدے و قانون کی اتباع کے بغیر ناممکن ہے اور انسان بھی اس عمومی قاعدے و قانون سے مستشنیٰ نہیں( قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ ا عَْٔطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَه ثُمَّ هَدیٰ ) (۱)

۳۔انفرادی زندگی میں دین کا کردار

انسان کی زندگی متن وحاشیہ اور اصل وفرع پر مشتمل ہے۔متن واصل، خود اس کا اپنا وجود ہے اور حواشی وفروع وہ چیزیںہیں جو اس انسان سے تعلق رکھتی ہیں جیسے مال،مقام،شریک حیات،اولاد اور رشتہ دار۔

اپنی ذات اور اس سے متعلق اشیاء کی محبت نے انسانی زندگی کو دو آفتوں،غم واندوہ اور خوف وپریشانی کا آمیزہ بنا رکھا ہے۔جوکچھ اس کے پاس نہیں ہے اسے حاصل کرنے کا غم واندوہ اورجوکچھ اس کے پاس ہے،حوادث زمانہ کے تحت اسے کهو دینے کا خوف و اضطراب۔

خداوندِ متعال پر ایمان ان دونوں آفتوں کو جڑ سے اکهاڑ پهینکتا ہے،کیونکہ عالم وقادر اور حکیم ورحیم پروردگار پر ایمان، اسے اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے عهدہ بر آہونے پر ابهارتا ہے اور فرائض بندگی پر عمل پیرا ہو کر وہ جان لیتا ہے کہ خداوندِمتعال اپنی حکمت ورحمت کے وسیلے سے، خیر وسعادت کا باعث بننے والی چیزیں اسے عنایت فرمائے گا اور اسبابِ شر و شقاوت کو اس سے دور فرمائے گا۔

بلکہ، اس حقیقت مطلق کو پا لینے کے بعد، کہ جس کے مقابلے میں ہر حقیقت مجاز ہے اور جس کے علاوہ باقی سب بظاہر پانی دکهائی دینے والے سراب ہیں،اس نےکچھ کهویا ہی نہیں اور اس امر پر یقین و ایمان رکھتے ہوئے کہ( مَا عِنْدَکُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَاللّٰهِ بَاقٍ ) (۲)

کسی بھی فانی وناپائدار چیز میں اس کے لئے جاذبیت ہی نہیں کہ اس کے نہ ہونے سے غمگین اور چهن جانے سے مضطرب ہو( ا لَٔاَ إِنَّ ا ؤَْلِيَاءَ اللّٰهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُوْنَة الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ کَانُوْا يَتَّقُوْنَةلَهُمُ الْبُشْریٰ فِی الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِی اْلآخِرَةِ لاَ تَبْدِيْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) (۳)

اس زندگی میں انسانی اعصاب کو کهوکهلا کر دینے والی چیز، مادی خواہشات کو پانے کی خوشی اور انہیں نہ پانے کے دکه سے حاصل ہونے والی اضطرابی وہیجانی کیفیت ہے اور لنگر ایمان ہی ان طوفانی امواج میں مومن کو آرام واطمینان عطا کیا کرتاہے( لِکَيَلاَ تَا سَْٔوْا عَلیٰ مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَا ا تََٔاکُمْ ) (۴)

( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۵)

۴ ۔اجتماعی زندگی میں دین کا کردار

زیادہ سے زیادہ پانے کی ہوس کے غریزئہ افزون طلبی کی بدولت انسان میں موجود شہوت وغضب کسی حد تک محدود نہیں۔اگر مال کی شہوت اس پر غلبہ کر لے تو زمین کے خزانے بھی اسےقانع نہیں کر سکتے اور اگر مقام کی شہوت اس پر سوار ہو جائے تو روئے زمین کی حکومت و بادشاہی

____________________

۱ سورہ طہٰ، آیت ۵۰ ۔”موسیٰ نے کها ہمارارب وہ ہے جس نے ہر شئے کو اس کی خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے“۔

۲ سورہ نحل، آیت ۹۶ ۔”جوکچھ تمهارے پاس ہے وہ سب تمام ہو جائے گا اور جوکچھ الله کے پاس ہے وہی باقیرہنے والا ہے“۔

۶۴ ۔۶۳ ، ۳ سور ہ یونس ، آیت ۶۲” آگاہ ہو جاو کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور ،زنجیدہ ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور خدا سے ڈرتے رہے ۔ان کے لئے زندگانی دنیا اور آخرت دونوں مقاماتپر بشارت اور خوشخبری ہے اور کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے اور یهی در حقیقت عظیم کامیابی ہے“۔

۴ سورہ حدید ، آیت ۲۳ ۔ ”جو چیز تم سے جاتی رہی تو تم اس کا رنج نہ کیا کرو اور جب کوئی چیز (نعمت) تم کو خدادے تو اس پر نہ اِتریا کرو“۔

۵ سورہ رعد ، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہو تاہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہو تا ہے“۔

اس کے لئے ناکافی ثابت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرے سیاروں پر اپنی قدرت و حاکمیت کا پرچم لهرائے( وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَاهَامَانُ ابْنِ لِیْ صَرْحاً لَعَلِّیْ ا بَْٔلُغُ اْلا سَْٔبَابَة ا سَْٔبَابَ السَّمَاوَاتِ ) (۱)

انسان کا سر کش نفس، شکم ودامن، مال و مقام کی شہوت اور کبھی ختم نہ ہونے والی اندہی ہوس کے لئے قوتِ غضب کو کام میں لانے کے بعد کسی حدو حدود کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی بھی حق کو پامال کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ ایسی نفسانی شہوت کا نتیجہ بربادی اور ایسے غضب کا انجام خونریزی اور خاندانوں کے اجڑنے کے علاوہکچھ اور نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان اپنی قوتِ فکر کے ذریعے اسرار طبیعت کے طلسم کو توڑنے اور اس کی قوتو ں کو اپنا غلام بنا کر اپنی نامحدود نفسانی خواہشات کو پا نے کے لئے حیات، بلکہ کرہ ارض کو جو انسانی حیات کا گہوارہ ہے،نابودی کی طرف لے جا رہا ہے( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ ا ئَْدِی النَّاسِ ) (۲)

مبدا ومعاد اور ثواب وعقاب پر ایمان کی طاقت ہی اس سر کش نفس کو مهار،انسانی شہوت وغضب کو تعادل اور فردی واجتماعی حقوق کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے،کہ ایسے خدا پر اعتقاد جو( وَهُوَ مَعَکُمْ ا ئَْنَ مَا کُنْتُمْ ) (۳)

اور اعمال کی ایسی جزا وسزا جو( فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهة وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه ) (۴) پر ایمان کی وجہ سے، انسان ہر خیر کی جانب گامزن اور ہر شر سے دور ہو گا اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس کی بنیاد بقاء کے لئے ٹکراو کے بجائے بقاء کے لئے مصالحت کے فلسفے پر ہوگی۔

۵ ۔اصول دین سے آگاہی کی فضیلت و عظمت

فطری طور پر انسان علم کا پیاسا ہے، اس لئے کہ جو چیز انسان کو انسان بناتی ہے،عقل ہے اور عقل کا پهل علم ہے۔ یهی وجہ ہے کہ جب کسی جاہل کو جاہل کها جائے تو یہ جاننے کے باوجود بھی کہ جاہل ہے غمگین ہو جاتا ہے اور اگر اسے علم سے نسبت دیں تو خوش ہوجاتا ہے۔

اسلام نے، جو دین فطرت ہے،علم کے مقابلے میں جهالت کو وہی مقام دیا ہے جو نور کے مقابلے میں ظلمت اور زندگی کے مقابلے میں موت کو حاصل ہے ((إنما هو نور یقع فی قلب من یرید اللّٰه تبارک وتعالی ا نٔ یهدیه ))(۵) ((العالم بین الجهال کا لحی بین الا مٔوات ))(۶)

لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ علم ذاتی طور پربا فضیلت ہونے کے باوجود مختلف مراتب کا حامل ہے،مثال کے طور پر علم کی فضیلت میں اس کے موضوع،نتیجے اور اس علم سے متعلق استدلال کی روش کے لحاظ سے تفاوت پایا جاتا ہے، جیسا کہ نباتات شناسی کی نسبت انسان شناسی اسی قدر افضل ہے جس قدر نباتات پر انسان کو فوقیت و فضیلت حاصل ہے۔انسانی زندگی کو سلامتی عطا کرنے والا علم اس کے مال کی حفاظت کرنے والے علم سے اتنا ہی اشرف و با فضیلت ہے جتنا انسانی زندگی کو اس کے مال پر برتری وفضیلت حاصل ہے اور وہ علم جس کی بنیاد دلیل و برہان پر قائم ہے فرضی نظریات کی بنیاد پر قائم شدہ علم سے اتنا ہی زیادہ باشرف ہے جتنا گمان کے مقابلے میں یقین کو برتری وشرافت حاصل ہے۔

لہٰذا، تمام علوم میں وہ علم اشرف وافضل ہے جس کا موضوع خالقِ کائنات کی ذات ہے، لیکن یہ بات مدّنظر رہے کہ غیرِ خدا کو خدا کے مقابلے میں وہ نسبت بھی حاصل نہیں ہے جو قطرے کو اقیانوس اور ذرے کو سورج کے مقابلے میں حاصل ہے۔ ان کے درمیان لا متناہی او رمتناہی کی نسبت ہے،بلکہ

____________________

۱ سورہ غافر، آیت ۳۶ ۔۳۷”اور فرعون نے کها کہ (هامان) میرے لئے ایک قلعہ تیار کر کہ میں اس کے اسباب تک ، پهنچ جاو ںٔ۔ اور جو آسمان کے راستے ہیں“۔

۲ سورہ روم ، آیت ۴۱ ۔”خود لوگوں ہی کے اپنے هاتهوں کی کارستانیوں کی بدولت خشک و تر میں فساد پهیل گیا“۔

۳ سورہ حدید ، آیت ۴ ۔”اور وہ تمهارے ساته ہے تم جهاں بھی رہو“۔

۴ سورہ زلزلة ، آیت ۷،۸ ۔”پھر جس شخص نے ذرہ بهر برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا۔اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا“۔

۵ بحار الانوار،جلد ۱، صفحہ ۲۲۵ ۔”بے شک صرف وہ ”علم “نور ہے کہ خدای متعال جس کی ہدایت چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے“۔

۶ بحارالانوار جلد ۱، صفحہ ۱۷۲ ۔”جاہلوں کے درمیان ایک عالم ایسا ہے جیسے مردوں میں زندہ“۔

دقیق نظر سے دیکھیں تولا شئی اور فقیر بالذات کا غنی بالذات سے کوئی مقابلہ ہی نہیں( وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَيُّوْمِ ) (۱)

اور اس علم کا ثمر ونتیجہ ایمان وعملِ صالح ہیں جن کی بدولت انسان کو دنیوی اور اخروی سعادت کے علاوہ انفردی و اجتماعی حقوق حاصل ہوتے ہیں( مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِنْ ذَکَرٍ ا ؤًْ اُنْثٰی وَهُوَ مُو مِْٔنٌ فَلَنُحْيِيَنَّه حَيَاةً طَيِّبَةً ) (۲) اور اس علم کی بنیاد،یقین و برہان پرہے،ظن وگمان کی پیروی پر نہیں۔( اُدْعُ إِلیٰ سَبِيْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ ) (۳) ( وَلاَ تَقْفُ مَالَيْسَ لَکَ بِه عِلْمٌ ) (۴) ( إِنَّ الظَّنَّ لاَ يُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا ) (۵)

اب تک کی گفتگوسے اس حدیث کے معنی واضح ہو جاتے ہیں کہ ((إن ا فٔضل الفرائض وا ؤجبها علی الإنسان معرفة الرّب والإقرار له بالعبودیة ))(۶)

۶ ۔ایمان ومعرفتِ پر وردگار تک رسائی کی شرط

انسان، ہر اثر کے مؤثر کی تلاش وجستجو میں ہے اور فطرتِ انسانی، سر چشمہ وجود کو پانے کی پیاسی ہے۔

لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ گوہرِ ایمان اور معرفت پر وردگارِعالم، جو گنجینہ علم ومعرفت کے انمول جواہر ہیں، عدل وحکمت کے قاعدے وقانون کے مطابق کسی ایسے شخص کو نصیب نہیں ہو سکتے جو ایمان و معرفتِ پروردگار عالم کے حق میںظلم سے آلودہ ہو، کیونکہ نا اہل کو حکمت عطاکرنا حکمت کے ساته ظلم ہے اور اہل سے دریغ کرنا اہل حکمت کے ساته ظلم وزیادتی ہے۔

اور یہ جاننا نهایت ضروری ہے کہ خدا اور قیامت کا انکار اس وقت تک ممکن نہیں جب تک انسان تمام هستی کا احاطہ کر نے اورعلل ومعلولات کے تمام سلسلوں تک پهنچنے کے بعد بھی مبدا ومعادکو نہ پا سکے اور جب تک مذکورہ امور پر محیط فهم وادراک پیدا نہ ہوگا، مبدا ومعا د کے نہ ہونے کا یقین محال ہے، بلکہ جو ممکن ہے وہ مبدا ومعاد کو نہ جاننا ہے۔

لہٰذا، عدل وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس کسی کو بھی الله کے وجود کے بارے میں شک ہے اسے چاہئے کہ قولی اور عملی طور پر مقتضائے شک پر عمل کرے۔مثال کے طورپر اگر کوئی شخص ایسے خدا کے وجود کا احتمال دے کہ جس پر ایمان کی بدولت ابدی سعادت اور ایمان نہ ہونے کی صورت میں ابدی شقاوت اسے نصیب ہو سکتی ہے،عقلی نکتہ نظر سے اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دل وزبان سے اس کے وجود کا انکار نہ کرے اور عملی میدان میں جس قدر ممکن ہو اس حقیقت کی تلاش و جستجو میں کوشاں رہے اور منزلِ عمل میں احتیاط کا دامن نہ چهوڑے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس پروردگا رکی ذات موجود ہو جس کے احکامات سے سر تابی ابدی شقاوت کا باعث ہو، بالکل اسی طرح جیسے لذیذ ترین کهانے میں زهر کا احتمال دینے پربحکم عقل اس کهانے سے پرہیز ضروری ہے۔

خدا کے وجود میں شک کرنے والا ہر شخص، اگرعقل کے اس منصفانہ حکم کے مطابق عمل کرے تو بغیر کسی شک وتردید کے، معرفت وایمانِ خدا کو پالے گا( وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) (۷)

ورنہ اس حقیقت کی ظلم سے آلودگی کے ساته اس قدوس و متعال ذات کی معرفت حاصل نہ ہوگی( يُو تِْٔی الْحِکْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يُّو تَْٔ الْحِکْمَةَ فَقَدْ ا ؤُْتِیَ خَيْرًا کًثِيْراً ) (۸)

____________________

۱ سورہ طہ ، آیت ۱۱۱ ۔”اس دن سار ے چهرے خدائے حی وقیوم کے سامنے جهکے ہوں گے“۔

۲ سورہ نحل ، آیت ۹۷ ۔” جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہوہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے“۔

۳ سورہ نحل، آیت ۱۲۵ ۔”آپ دعوت دیں اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت سے“۔

۴ سورہ اسراء، آیت ۳۶ ۔”اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی پیروی مت کرنا“۔

۵ سورہ یونس، آیت ۳۶ ۔”بے شک گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں پهنچا سکتا“۔

۶ بحارالانوار، جلد ۴،صفحہ ۵۵ٔ ۔”سب بڑا واجب انسان پر یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے اور اس کی عبودیت (بندگی) کا اقرار کرے“۔

۷ سورہ عنکبوت، آیت ۶۹ ۔”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جهاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے“ ۔

۸ سورہ بقرة، آیت ۲۶۹ ۔”وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کردیتا ہے اور جسے حکمت عطا کردی جائے اسے گویاخیر کثیر عطا کردیا گیا “۔

( وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظَّالِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ ) (۱)

مذکورہ بالا نکات کی وضاحت کے بعد اب ہم اصول دین کی بحث شروع کرتے ہیں:

خدا پر ایمان لانے کا راستہ :

خدا پر ایمان لانے کی راہیں متعدد ہیں :

اہل الله کے لئے اس کی دلیل ومعرفت کا ذریعہ خود اس کی ذات ہے( ا ؤََ لَمْ يَکْفِ بِرَبِّکَ ا نََّٔه عَلیٰ کُلِّ شَیْء شَهِيْد ) (۲) ((یا من دل علی ذاته بذاته ))(۳) ،((بک عرفتک وا نٔت دللتنی علیک ))(۴)

اوراہل الله کے علاوہ بقیہ افراد کے لئے چند راہوں کی طرف مختصر طور پر اشارہ کرتے ہیں :

الف):انسان جب بھی خود اپنے یا اپنے حیطہ ادراک میں موجود، موجودات کے کسی بھی جزء کے متعلق غور کرے تو اس نتیجے پر پهنچے گا کہ اس جزء کا نہ ہونا محال نہیں ہے اور اس کا ہونا یا نہ ہونا ممکن ہے۔اس کی ذات عدم کی متقاضی ہے اور نہ ہی وجود کی۔اور مذکورہ صفت کی حامل ہر ذات کوموجود ہونے کے لئے ایک سبب کی ضرورت ہے، اسی طرح جس طرح ترازو کے دو مساوی پلڑوں میں سے کسی ایک پلڑے کی دوسرے پر ترجیح بغیرکسی بیرونی عامل وسبب کے ناممکن ہے، اس فرق کے ساته کہ ممکن الوجود اپنے سبب کے ذریعے موجود ہے اور سبب نہ ہونے کی صورت میں عدم کا شکار ہے اور چونکہ اجزاء عالم میں سے ہر جزء کا وجود اپنے سبب کا محتاج ہے، لہٰذااس نے یا توخود اپنے آپ کو وجود عطا کیا ہے یا موجودات میں سے اسی جیسے موجود نے اسے وجود بخشا ہے۔

لیکن جب اس کا اپنا وجود ہی نہ تھا تو خود کو کیسے وجود عطا کرسکتا ہے او راس جیساممکن الوجودجس چیز پر خود قادر نہیں غیر کو کیا دے گا۔اور یہ حکم وقاعدہ جوکائنات کے ہر جزء میں جاری ہے، کل کائنات پر بھی جاری وساری ہے۔

جیسا کہ ایک روشن فضاکا وجود،جس کی اپنی ذاتی روشنی کوئی نہیں اس بات کی دلیل ہے کہ اس روشنی کامبدا ضرور ہے جو اپنے ہی نور سے روشن ومنور ہے ورنہ ایسے مبدا کی غیر موجودگی میں فضا کا روشن ومنور ہونا ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ ذاتی طور پر تاریک موجو د کا غیر ، تو درکنار خود کو روشن کرنا بھی محال ہے۔

اسی لئے وجود کائنات اور اس کے کمالات ،مثال کے طورپر حیات، علم اور قدرت، ایک ایسی حقیقت کے وجود کی دلیل ہیں جس کا وجود، حیات، علم اورقدرت کسی غیر کے مرہون منت نہیں( ا مَْٔخُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَیْءٍ ا مَْٔ هُمُ الْخَالِقُوْنَ ) (۵) ((عن ابی الحسن بن موسی الرضا (ع) ا نٔه دخل علیه رجل فقال له: یا ابن رسول اللّٰه! ما الدلیل علی حدوث العالم؟ فقال (ع): ا نٔت لم تکن ثم کنت وقد علمت ا نٔک لم تکوّن نفسک ولا کوّنک من هو مثلک ))(۶)

ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام (ع) سے پوچها: اس بات کی کیا دلیل ہے کہ آپ (ع) کو کوئی خلق کرنے والا ہے؟ امام نے فرمایا: ((وجدت نفسی لا تخلو من إحدی الجهتین، إما ا نٔ ا کٔون صنعتها ا نٔا ا ؤ صنعها غیری، فإن کنت صنعتها ا نٔا فلا ا خٔلو من ا حٔد المعنیین،إما ا نٔ ا کٔون صنعتها وکانت موجودة، ا ؤ صنعتها وکانت معدومة فإن کنت صنعتها وکانت موجودة فقد استغنیت بوجودها عن صنعتها، و إن کانت معدومة فإنک تعلم ا نٔ المعدوم لا یحدث شیئًا، فقد ثبت المعنی الثالث ا نٔ لی صانعاً وهو اللّٰه رب العالمین ))(۷)

____________________

۱ سورہ ابراہیم، آیت ۲۷ ۔”اور ظالمین کو گمراہی میں چهوڑ دیتا ہے اور وہ جو بھی چاہتا ہے انجام دیتا ہے‘ ‘۔

۲ سورہ فصلت، آیت ۵۳ ۔”اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شئے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ہے“۔

۳ بحار الانوار،جلد ۸۴ ، صفحہ ۳۳۹ ، بیان مولی الموحدین علیہ السلام۔”اے وہ کہ جس کی ذات دلالت کرتی ہے اس کی ذات پر (اپنی شناخت میں کسی کا محتاج نہیں)

۴ بحارالانوار، جلد ۹۵ ، صفحہ ۸۲ ، بیان حضرت امام زین العابدین علیہ السلام۔”تجه کو تیرے ہی ذریعہ پہچانا ہے اور تو خوداپنی ذات پر دلالت کرتا ہے“۔

۵ سورہ طور، آیت ۳۵ ۔”کیایہ بغیر کسی چیز کے از خود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خودہی پیدا کرنے والے ہیں“۔

۶ بحارالانوار جلد ۳، صفحہ ۳۶ ۔حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس آکر پوچهتا ہے : ”یابن رسول الله عالَم کے حادث ہونے پر کیا دلیل ہے؟حضرت فرماتے ہیں:تم پهلے نہیں تھے پھر تم ہوگئے باتحقیق تم جانتے ہو کہ تم نے اپنے آپ کو نہیں پیدا کیا(اور یہ بھی جانتے ہو کہ)جس نے تم کو وجود بخشا ہے وہ تمهارے جیسا نہیں ہے“۔

. ۷ سورہ توحید، صحفه ۲۹۰

جو چیز نہ تھی اور موجود ہوئی یا تو خود اس نے خود کو وجود عطاکیا یا کسی غیر نے۔ اگرخود اس نے خود کو موجود کیا، یا تو وہ خودپهلے سے موجود تھی اور اس نے خود کو موجود کیا یا پهلے سے موجود نہ تھی،پهلی صورت میں موجود کو وجود عطا کرنا ہے جو محال ہے اور دوسری صورت میں معدوم کو وجود کی علت وسبب قرار دینا ہے اور یہ بھی محال ہے۔ اگر کسی دوسرے نے اسے وجود عطا کیا ہے اور وہ بھی پهلے نہ تھا اور بعد میں موجود ہوا ہے تو وہ اسی کی مانند ہے۔

لہٰذا، بحکم عقل جو بھی چیز پهلے نہ تھی اور بعد میں موجود ہوئی اس کے لئے ایسے خالق کا ہونا ضروری ہے جس کی ذات میں عدم ونابودی کا سرے سے کوئی عمل دخل نہ ہو۔

اسی لئے، کائنات میں رونما ہونے والی تمام تبدیلیاں اور موجودات اس خالق کے وجود پر دلیل ہیں جسے کسی دوسرے نے خلق نہیں کیا ہے اور وہ مصنوعات ومخلوقات کا ایسا خالق ہے جو خود مصنوع و مخلوق نہیں ہے۔

ب):اگر کسی بیابان میںکوئی ایسا ورق پڑا ملے جس پر الف سے یاء تک تمام حروف تهجی ترتیب سے لکہے ہوں،هر انسان کا ضمیر یہ گواہی دے گا کہ ان حروف کی لکهائی اور ترتیب، فهم وادراک کا نتیجہ ہیں اور اگر انهی حروف سے کلمہ اور کلمات سے لکها ہوا کلام دیکھے تو اس کلام کی بناوٹ و ترکیب میں موجود دقّت نظر کے ذریعے مو لٔف کے علم وحکمت پر استدلال کرے گانیز اگر کسی کی گفتار میں انهی خصوصیات کا مشاہدہ کرے گا تو مقرر کے علم وحکمت کا معترف ہو جائے گا۔کیا ایک پودے میں موجود عناصر اولیہ کی ترکیب،کتاب کی ایک سطر کی جملہ بندی سے کم تر ہے، جولکھنے والے کے علم پر نا قابل انکار دلیل ہے؟!

وہ کونسا علم اور کیسی حکمت ہے جس نے پانی اور مٹی میں بیج کے چهلکے کے لئے موت اور بوسیدگی کا مادہ فراہم کیا ہے اور اس بیج کے مغز کو پودے کی شکل میں زندگی عطا کی ہے ؟!

جڑ کو وہ قدرت وطاقت عطا کی ہے کہ زمین کے دل کو چیرکر مٹی کی تاریک تہوں سے پودے کے لئے خوراک جذب کرتی ہے اور مٹی کے حصوں سے مختلف درختوں کے لئے خوراک فراہم کی ہے، تاکہ ہر پودا اور ہر درخت اپنی مخصوص خوراک حاصل کر سکے اور درختوں کی جڑوں کو ایسا بنا یا ہے کہ وہ اپنی مخصوص خوراک کے علاوہ جو ا س درخت کے مخصوص پهل کو جاملتی ہے،

کوئی اور خوراک جذب نہ کریں اور زمین کی کشش ثقل کا مقابلہ کرتے ہوئے پانی اور خوراک درخت کے تنے اور شاخوں تک پهنچائیں۔جس وقت جڑیں زمین سے پانی اور خوراک لے کر درخت کے تنے اور شاخوں تک پهنچانے میں مصروف عمل ہوتی ہیں، اسی دوران تنا بھی فضا سے ہوا اور روشنی لینے کے عمل کو انجام دے رہا ہوتا ہے ((کلّ میسّر لما خلق له ))(۱) ،جس قدر بھی کوشش کی جائے کہ جڑ، جسے مٹی کے اعماق تک جانے اور تنا جسے فضا میں سر بلند کرنے کے لئے بنا یا گیا ہے،کو اس حکیمانہ سنت سے روکیں اور اس کے برعکس جڑ کو فضا اور تنے کو مٹی میں قرار دیں تو یہ دونوں قانون کی اس خلاف ورزی کا مقابلہ کرتے ہوئے طبیعی طریقہ کار کے مطابق اپنی نشونما جاری رکہیں گے( وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلاً ) (۲)

فقط ایک درخت اور ان رگوں کی جو اس کی جڑوں سے ہزار ها پتوں تک حیرت انگیز نظام کے ساته پهنچائی گئی ہیں، بناوٹ اور پتوں کے ہر خلیے کو دی جانے والی قدرت وتوانائی میں غور وفکر، جس کے ذریعے وہ جڑو ں سے اپنی خوراک اورپانی کوجذب کرتے ہیں، اس بات کے لئے کافی ہے کہ انسان لا متناہی علم وحکمت پر ایمان لے آئے( ا مََّٔنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ وَ ا نَْٔزَلَ لَکُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَا نَْٔبَتْنَا بِه حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا کَانَ لَکُمْ ا نَْٔ تُنْبِتُوْا شَجَرَهَا ا إِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَّعْدِلُوْنَ ) (۳) ( ا ا نَْٔتُمْ ا نَْٔشُا تُْٔمْ شَجَرَتَهَا ا مَْٔ نَحْنُ الْمُنْشِو نَُٔ ) (۴) ( وَ ا نَْٔبَتْنَا فِيْهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ ) (۵)

____________________

۱ بحارالانور،جلد ۴، صفحہ ۲۸۲ ۔”جو چیز جس امر کے لئے پیدا کی گئی ہے اس کے لئے سهل وآسان ہے“۔

۲ سورہ احزاب ، آیت ۶۲ ۔”اور خدائی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے“۔

۳ سورہ نمل ، آیت ۶۰ ۔”بهلا وہ کون ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اور تمهارے لئے آسمان سے پانی برسایا ہے پھر ہم نے اس سے خوشنما باغ اگائے ہیں کہ تم ان کے درختوں کو نہیں اگا سکتے تھے کیا خدا کے ساته کوئی اور خدا ہے نہیں بلکہ یہ قوم وہ ہے جس نے حق سے عدول کیا ہے۔

۴ سورہ واقعہ، آیت ۷۲ ۔”اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں“۔

۵ سورہ حجر، آیت ۱۹ ۔”اور ہر چیز کو معینہ مقدار کے مطابق پیدا کیا ہے “۔

نیز جس پودے اوردرخت کو دیکھیں، جڑ سے لے کر پهل تک حق تعالی کے علم،قدرت اور حکمت کی آیت ونشانی ہے اور ان کی نشونما کے لئے جو آئین مقرر کیا گیا ہے اس کے سامنے سر جهکائے ہوئے ہے( وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدْانِ ) (۱)

جیسا کہ کسی بھی جاندار کی زندگی میں غوروفکر، انسان کے لئے خدا کی طرف رہنماہے۔

ابو شاکر دیصانی نے چھٹے امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر کها :اے جعفر بن محمد (علیہما السلام)! مجھے میرے معبود کی جانب رہنمائی فرمائیں۔ ایک چهوٹا بچہ مرغی کے انڈے کے ساتھ کھیل رہا تھا۔

امام (ع) نے اس بچے سے انڈا لے کر فرمایا :”اے دیصانی!اس انڈے کے گرد محکم حصار ہے، اس کا چهلکا سخت ہے اور اس چهلکے کے نیچے باریک جهلی ہے۔ اس باریک جهلی کے نیچے پگهلا ہوا سونا اور سیال چاندی موجود ہے جو آپس میں نہیں ملتے۔نہ تو اندر سے کوئی مصلح باہر آیا ہے جو اس کے بارے میں اصلاح کی خبر دے اور نہ ہی کوئی مفسد باہر سے اندر گیا ہے جو فساد کی اطلاع دے اور نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ انڈا نر کے لئے بنا یا گیا ہے یا مادہ کے لئے۔“(۲)

آیا تصفیہ شدہ چونے کے ذریعے محکم حصار کو، جس میں بے انتها اسرار پوشیدہ ہیں، کس صاحب تدبیر نے مرغی کے کهائے ہوئے دانوں سے جدا کر کے اس کے تخم دان میں چوزے کی پرورش کے لئے ایسا مقام امن بنایا اور اس کے اندر نطفے کو، صدف میں گوہر کی مانند جگہ دی۔ چونکہ چوزہ اس دوران ماں سے دور ہے اور رحم مادر میں نہیں ہے جهاں سے اپنی خوراک حاصل کر سکے، لہٰذا اس کے لئے اسی محکم حصار کے اندر اس کے قریب ہی خوراک کا انتظام کیا۔چونے کی سخت دیوار اور چوزے اور اس کی خوراک کے درمیان نرم ونازک جهلی بنا ئی تاکہ چوزہ اور اس کی خوراک حصار کی سختی سے محفوظ رہیں۔ اس اندہیری اور تاریک فضا میں اس کے اعضاء وجوارح کو ہڈیوں، پٹهوں،رگوں، اعصاب اور حواس، جن میں سے فقط اس کی آنکه کا دقیق مطالعہ محيّرا لعقول ہے، کے ذریعے پایہ تکمیل تک پهنچا کر ہر ایک کو مناسب جگہ قرار دیا۔

اورچونکہ اس چوزے کو اپنی خوراک کے لئے مٹی اور پتهروں کے درمیان سے دانے چننے ہیں، لہٰذا اس کی چونچ ہڈی کی ایک خاص قسم سے بنائی تاکہ زمین پر موجود پتهر وں کے ساته ٹکرانے سے اسے کوئی نقصان نہ پهنچے۔ اورکہیں اپنی خوراک سے محروم نہ ہوجائے، لہٰذااسے سنگدانہ عطا کیا تاکہ جو بھی دانہ ملے اسے کهاکر اس میں محفوظ کر لے اور پھر اسے بتدریج نظامِ ہضم کے حوالے کرے۔اس کی نازک کهال کو پروں کے ذریعے ڈهانپ کر سردی،گرمی، چوٹ اور جانوروں کے آزار سے محفوظ کیا۔ ضروریات وواجباتِ زندگی عطا کرنے کے علاوہ ظاہری خوبصورتی جیسے مستحبات سے غفلت نہیں برتی اور اس کے پروں کو دل موہ لینے والے رنگوں سے رنگ دیا، جیسا کہ امام (ع) نے فرمایا :((تنفلق عن مثل ا لٔوان الطواویس ))(۳)

اور چونکہ چوزے کے تکامل کے لئے مرغی کے سینے کی مناسب حرارت کی ضرورت ہے،

وہ مرغی جسے فقط رات کی تاریکی ہی سعی و کوشش اورحرکت سے روک سکتی ہے اچانک اس کی کیفیت یہ ہوجاتی ہے کہ تلاش وجستجو کو چهوڑ کر جب تک حرارت کی ضرورت ہو، اس انڈے پر بیٹھی رہتی ہے۔

وہ کونسی حکمت ہے جس نے مرغی پر خمار جیسی کیفیت طاری کر دی ہے تاکہ وہ چوزے میں زندگی کی حرکت کو وجود میں لاسکے؟! اور وہ کونسا استاد ہے جس نے اسے دن رات انڈوں کے رخ تبدیل کرنا سکهایا ہے تاکہ چوزے کے اعضاء میں تعادل برقرار رہے،جو چوزے کی راہنمائی کرتا ہے کہ خلقت مکمل ہونے کے بعد انڈے کے اس محکم حصار کو چونچ سے توڑدے اور اس میدانِ زندگی میں قدم رکہے جس کے لئے اسے یہ اعضاء وجوارح عطا کئے گئے ہیں۔اور وہ مرغی جو اپنی حیوانی جبلّت کے تحت، فقط اپنی زندگی سے نقصان دہ چیزوں کو دور اورفائدہ مند چیزوں کو انتخاب کرنے کے

____________________

۱ سورہ الرحمن، آیت ۶۔”اور ستارے اور درخت سب اسی کا سجدہ کررہے ہیں“۔

۲ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۱ ۔

۳ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۲ ۔ ”اور موروں کے رنگ کی طرح مختلف رنگ پهوٹیں گے“۔

علاوہ کوئی دوسرا عمل انجام ہی نہ دیتی تھی، اچانک اس میں ایسا انقلاب برپا ہوجاتا ہے کہ اس ناتوان اور کمزور چوزے کی حفاظت کی خاطر سینہ سپر ہو جاتی ہے اور جب تک چوزے کے لئے محافظ کی ضرورت ہے، اس میں یہ محبت باقی رہتی ہے ؟!

کیا مرغی کے ایک انڈے کے متعلق غوروفکر، اس خالق کائنات کی رہنمائی کے لئے کافی نہیں ہے کہ( خَلَقَ فَسَوّٰیة وَ الَّذِیْ قَدَّرَ فَهَدیٰ ) (۱)

اسی لئے امام (ع) نے فرمایا :((ا تٔرا لها مدبر اً؟ قال: فا طٔرق ملیاً، ثم قال: ا شٔهد ا نٔ لا إله إلا اللّٰه وحده لا شریک له وا شٔهد ا نٔ محمداً عبده ورسوله، وا نٔک إمام وحجة من اللّٰه علی خلقه وا نٔا تائب ممّا کنت فیه ))(۲)

هاں، وہی علم و قدرت اور حکمت جو مٹی کے گهپ اندہیرے میں بیج اور انڈے کے چهلکے کی تاریکی میں چوزے کو کسی ہدف اور مقصد کے لئے پروان چڑهاتا ہے، ماں کے پیٹ اور اس کے رحم کی تاریکیوں میں انسانی نطفے کو، جو ابتداء میں خوردبین سے نظر آنے والے جاندار سے بڑه کر نہیں ہوتا اور اس میں انسانی اعضاء و جوارح کے آثار تک نہیں ہوتے، رحمِ مادر سے باہرزندگی بسر کرنے کے لئے تمام ضروریات زندگی سے لیس کرتا ہے۔

مثال کے طور پر جنین میں، ہڈیوں کو اپنی ذمہ داری نبهانے کے لئے مختلف شکل اور حجم میں بنایا، مختلف حرکات کے لئے عضلات کو قرار دیا،دماغ کی حیرت انگیز بناوٹ کے ذریعے مشعلِ ادراک کو روشن کیا اور دل کی فعالیت کے ذریعے جو هرسال کروڑوں بار دہڑکتا ہے، حرارتِ حیات کو زندگی کے اس مرکز میں محفوظ فرمایا۔

انسانی جسم کی اس سادہ ترین ترکیب میں غوروفکر، عزیز و علیم خدا کی تقدیر پر ایمان لانے کے لئے کافی ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے منہ میں تین قسم کے دانت بنائے، پهلے ثنایا اس کے بعد انیاب، پھر اس کے بعد چهوٹے طواحن اور آخر میں بڑے طواحن کو قرار دیا ۳۔اگر ثنایا، انیاب اور چهوٹے طواحن کو بڑے طواحن کی جگہ قرار دیا جاتا تو دانتوں کی ترتیب میں یہ بگاڑ، غذا توڑنے اور چبانے سے لے کر اس چهرے کی بد صورتی اور خوبصورتی میں کیا کردار ادا کرتا ؟!

اگر بهنویں جو آنکهوں کے اوپر ہیں، نیچے اور ناک کے سوراخ، نیچے کے بجائے اوپر کی سمت ہوتے تو کیا ہوتا؟!

زمین کی آبادی اور اس پر آبا د کاری، چاہے کاشتکاری ہو یا مضبوط ترین عمارت یانازک و دقیق ترین صنعت ، سب کے سب، انگلی کی پوروں اور اس پر ناخنوں کے اگنے سے وابستہ ہیں۔

وہ کونسی حکمت ہے جس نے ناخن بنانے والا مادّہ، انسان کی غذا میں فراہم کیا، اسے حیرت انگیز طریقے سے ہضم کے مرحلے سے گزارا اورپھر رگوں میں داخل کر کے انگلیوں کی پوروں تک پهنچایا اور اس تخلیق کی غرض کو مکمل کرنے کے لئے گوشت اور ناخن میں پیوند کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایسا رابطہ بر قرار کیا کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا نهایت طاقت فرسا کام ہے،

لیکن غرض ومقصد حاصل ہونے کے بعد ان کو اس طرح ایک دوسرے سے جدا کر دیا کہ ناخن آسانی کے ساته کاٹے جاسکیں؟!

تعجب آور تو یہ ہے کہ جس غذا سے ناخن کا مادّہ اس سختی کے ساته تیار ہوا ہے، اسی غذا سے کمالِ لطافت کے ساته ایک صاف اورشفاف مادّہ، بینائی کے لئے بھی تیا رہوا ہے جو ہضم وجذب کے مراحل کو طے کرنے کے بعد آنکه تک جا پهنچتا ہے۔

اگر ان دونوں کے طے شدہ تقسیمِ رزق میں کام الٹ جاتا اورناخن آنکه سے نکل آتا، جب کہ وہ صاف شفاف مادّہ آنکهوں کی بجائے انگلیوں کی پوروں تک جا پهنچتا، تو انسانی نظامِ زندگی میں کتنا بڑا خلل واقع ہوجاتا ؟!

____________________

۱ سورہ اعلی، آیت ۲و ۳۔”پیدا کیا اور درست بنا یاہے۔جس نے تقدیر معین کی ہے اور پھر ہدایت دی ہے“۔

۲ بحارالانوار، جلد ۳، صفحہ ۳۲ ۔”حضرت فرماتے ہیں:کیا اس کے لئے کسی مدبر کو دیکھتے ہو:تهوڑی دیر سکوت کے بعد خدا کی وحدانیت ومحمد کی رسالت وآنحضرت کی امامت پر ایمان لے آیا اور اپنے گذشتہ عمل کی توبہ کی“۔

۳ ثنایا: اوپر کے دو دانت جو سامنے کی طرف ہوتے ہیں، انیاب: اوپر کے دو نوک دار دانت، طواحن: ڈاڑہیں۔

یہ علم وحکمت کے آثار کا سادہ ترین نمونہ ہے جو کسی دقّت نظر کا محتاج نہیں( وَفِیْ ا نَْٔفُسِکُمْ ا فََٔلاَ تُبْصِرُوْنَ ) (۱) تو انسانی خلقت کے ان عمیق ترین اسرار کے بارے میں کیا کہئے گا کہ جن کی تہہ تک رسائی کے لئے انسان کو اپنے علم کو جدید ترین آلات کی مدد سے کام میں لاتے ہوئے،سرجری اور اعضائے انسانی کی خصوصیات و کردار جیسے شعبوں میں اعلیٰ مهارت بھی حاصل کرنی پڑے۔( ا ؤََلَم يَتَفَکَّرُوْا فِیْ ا نَْٔفُسِهِمْ ) (۲)

جی هاں، اتنی زیادہ علمی کاوشوں کے بعد اب تک جس موجود کی جلد کی حکمت ہی واضح نہ ہوسکی ہو، اس کے باطن اور مغز میں کیسے عظیم اسرار پنهاں ہیں، جیسے ملائمات کو جذب کرنے والی شہوت اور ان کی حفاظت ونا ملائمات کو دفع کرنے والے غضب سے لے کر، ان دو کے عملی تعادل کے لئے عقل اور نظری تعادل کے لئے حواس کی ہدایت سے سرفراز کیا گیا ہے( وَ إِنْ تَعُدُّّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لاَ تُحْصُوْهَا ) (۳)

حکمت کی ایسی کتاب کو علم وقدرت کے کون سے قلم سے پانی کے ایک قطرے پر لکهاگیاہے؟!( فَلْيَنْظُرِ اْلإِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَةخُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ ) (۴) ( يَخْلُقُکُمْ فِی بُطُوْنِ ا مَُّٔهَاتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ بَعْدِ خَلْقٍ فِی ظُلُمَاتٍ ثَلاَثٍ ) (۵)

یہ کیسا علم اور کیسی قدرت وحکمت ہے کہ جس نے غلیظ وپست پانی میں تیرنے والے خوردبینی حیوان سے ایسا انسان خلق کیا ہے جس کی مشعلِ ادراک، اعماقِ آفاق وانفس کی جستجو کرے اِقْرَا وَرَبُّکَ اْلاَکْرَمَةالَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِةعَلَّمَ اْلإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ(۶) اور زمین وآسمان کو اپنی قدرت وجولان فکر کا میدان قرار دے؟( ا لَمْ تَرَوا ا نََّٔ اللّٰهَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی اْلا رَْٔضِ وَ ا سَْٔبَغَ عَلَيْکُمْ نِعَمَه ظَاهِرَةً وَّبَاطِنَةً وَّمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّلاَ هُدًی وَّلاَ کِتَابٍ مُّنِيْرٍ ) (۷)

اس علم وقدرت اور رحمت وحکمت کے سامنے انسان، خود پروردگار عالم کے اس فرمان کے علاوہ کیا کہہ سکتا ہے کہ( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ ا حَْٔسَنُ الْخَالِقِيْنَ ) (۸) اور اس کے سوا کیا کر سکتا ہے کہ خاک پر گر کر اس کے آستانہ جلال پر ماتها رگڑ کر کہے:((سبحن ربی الا عٔلی وبحمده ))

اس آیت کریمہ( سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِی اْلآفَاقِ وَفِی ا نَْٔفُسِهِمْ حَتّٰی يَتَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ) (۹) کے مطابق، آفاق جهاں میں بھی دقّت نظر ضروری ہے کہ لاکهوں سورج،چاند وستارے جن میں سے بعض کا نور ہزاروں نوری سالوںکے بعد زمین تک پهنچتا ہے، جب کہ نور ہر سیکنڈ میں تقریبا تین لاکه کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے، اور جن میں سے بعض کا حجم،زمین کے حجم سے کروڑوں گنا زیادہ ہے، ان سب کے درمیان اتنا گهرا انتظام اتنے دقیق حساب کے ساته بر قرار کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک کو اس طرح اپنے معین مدار میںرکھا گیا ہے اور قوتِ جاذبہ ودافعہ کے درمیان ایسا عمومی تعادل برقرار ہے کہ ان

____________________

۱ سورہ ذاریات، آیت ۲۱ ۔”اور خود تمهارے اندر بھی ۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو“۔

۲ سورہ روم، آیت ۸۔”کیا ان لوگوں نے اپنے اندر فکر نہیں کی ہے“۔

۳ سورہ نحل، آیت ۱۸ ۔”اور تم الله کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے ہو“۔

سورہ نحل، آیت ۱۸ ۔”اور تم الله کی نعمتوں کو شمار نہیں کر سکتے ہو“۔

۴ سورہ طارق ، آیت ۵،۶ ۔”پھر انسان دیکھے کہ اسے کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔وہ ایک اچهلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے“۔

۵ سورہ زمر، آیت ۶۔ ”وہ تم کو تمهاری ماو ںٔ کے شکم میں خلق کرتا ہے ایک کے بعد ایک خلقت جو تین تاریکیوں کے درمیان ہے“۔

۶ سورہ علق، آیت ۳،۴،۵ ۔ ”پڑهو! اور تمهارا پروردگار بزگوار ہے، جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے۔ اور انسان کو وہ سبکچھ بتا دیا ہے جو اسے نہیں معلوم تھا“۔

۷ سورہ لقمان، آیت ۲۰ ۔”کیا تم لوگوں نے نہیں دیکھا کہ الله نے زمین وآسمان کی تمام چیزوں کو تمهارے لئے مسخر کردیا ہے اور تمهارے لئے تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو مکمل کر دیا ہے اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو علم وہدایت اور روشن کتاب کے بغیر بھی خدا کے بارے میں بحث کرتے ہیں“۔

۸ سورہ م ؤمنون، آیت ۱۴ ۔”وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے“۔

۹ سورہ فصلت، آیت ۵۳ ۔”هم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکهلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہو جائے کہ وہ حق ہے“۔

تمام سیاروں کے درمیان کسی قسم کے ٹکراؤ یاتصادم کا واقع ہونا، ناممکن ہے( لاَ الشَّمْسُ يَنْبَغِی لَهَا ا نَْٔ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ يَّسْبَحُوْنَ ) (۱)

زمین کو،جو انسانی زندگی کا مرکز ہے، اس پر محیط ایک کروی فضاء کے ذریعے محفوظ کیا جس سے دن رات ہزاروں شهاب ٹکرا کر ختم ہو جاتے ہیں۔

سورج اورزمین کے درمیان اتنا مناسب فاصلہ برقرار کیا کہ معادن، نباتات، حیوانات اور انسانی زندگی کی نشو نما کے اعتبار سے، روشنی وحرارت تما م شرائط کے مطابق موجود رہے۔

زمین کی اپنے مدار اور محور دونوں پر حرکت کو اس طرح منظّم کیا کہ زمین کے زیادہ تر حصے میں طلوع وغروب اور دن ورات ہر آن موجود رہیں، آفتاب طلوع ہوتے ہی سورج کی روشنی وحرارت سے نظامِ زندگی کو روشنی اور گرمی ملے اور حصولِ رزق ومعاش کا بازار گرم ہوجائے اور غروب آفتاب کے ساته ہی آرام وسکون کے لئے رات کا اندہیرا، جو بقاءِ زندگی اور تجدید نشاط کے لئے ضروری ہے، اپنے ڈیرے ڈال دے تاکہ سورج کی مستقل حرارت یا اس کے مکمل انقطاع سے نظامِ حیات میں کوئی خلل واقع نہ ہو( وَ هُوَ الَّذِی جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ ا رََٔادَ ا نَْٔ يَّذَّکَّرَ ) (۲) ( وَ مِنْ رَّحْمَتِه جَعَلَ لَکُم الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْکُنُوْا فِيْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِه ) (۳) ( قُلْ ا رََٔا ئًْتُمْ إِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْکُمُ اللَّيْلَ سَرْمَداً إِلَی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ إِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَا تِْٔيْکُمْ بِضِيَاءٍ ا فًَٔلاَ تَسْمَعُوْنَ ) (۴)

نوروظلمت اور روز و شب دونوں، آپس کے انتها درجے کے تضادّ و اختلاف کے باوجود، مل کر ایک ہی ہدف ومقصد پورا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور دوسری جانب جوکچھ زمین میں ہے اسے دن اور جوکچھ آسمانوں میں ہے اسے رات کے وقت انسان کی نظروں کے سامنے رکھا گیا ہے تاکہ دن رات آسمانوں اور زمین کے ملک وملکوت انسان کی بصارت اور بصیرت کے سامنے موجود رہیں۔

انسان کے لئے کتابِ وجود کی دن رات ورق گردانی کی تاکہ وہ زمین وآسمان کے صفحے سے آیاتِ خدا کا مطالعہ کر سکے( ا ؤََلَمْ يَنْظُرُوْا فِی مَلَکُوْتِ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِن شَیْءٍ ) (۵) ( وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاهِيْمَ مَلَکُوْتَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضِ وَ لِيَکُوْنَ مِنَ الْمُوقِنِيْنَ ) (۶)

وہ انسان جو ذهنِ بشر میں قوانین واسرارِ کا ئنات کے انعکاس کو علم وحکمت کا معیار و ملاک سمجهتا ہو،کس طرح ممکن ہے کہ وہ مغز،ذهن اوردانشوروں کے تفکر کو بنانے والے، کائنات پر حکم فرما قوانین کو نافذ کرنے والے اور اسرارِ نظام هستی کو وجود عطا کرنے والی هستی کو فاقدِ علم وحکمت سمجھے، حالانکہ تمام مفکرین کے اذهان میں منعکس ہوجانے والے قوانین کا ئنات کی نسبت ان قوانین کے مقابلے میں جو اب تک مجهول ہیں، ایسی ہے جیسے قطرے کے مقابلے میں ایک سمندر( وَمَا ا ؤُْتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيْلاً ) (۷)

اس بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ کتاب هستی سے چند سطروں کی نقول تیار کرلینے والا تو علیم وحکیم ہو لیکن خود کتابِ وجود کا مصنف، اس نقل تیار کرنے والے کا خالق اور نقل کے وسیلے کو فراہم کرنے والا ہی بے شعور و بے ادراک ہو؟!یهی وجہ ہے کہ منکر کی فطرت بھی دانا وتوانا خالق کے وجود کی گواہی و شهادت دیتی ہے( وَلَئِنْ سَا لَْٔتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَاْلا رَْٔضَ وَسَخَّر

____________________

۱ سورہ یس، آیت ۴۰ ۔”نہ آفتاب کے بس میں ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑه جائے ۔ اور یہ سب کے سب اپنے اپنے فلک اور مدار میں تیرتے رہتے ہیں“۔

۲ سورہ فرقان، آیت ۶۲ ۔”اور وہی ہے جس نے رات اور دن میں ایک کو دوسرے کا جانشین بنایا ہے اس کے لئے جو عبرت حاصل کرنا چاہتا ہے“۔

۳ سورہ قصص، آیت ۷۳ ۔”یہ اس کی رحمت کا ایک حصہ ہے کہ اس نے تمهارے لئے رات لے آئے گا رات اور دن دونوں بنائے ہیں تاکہ آرام بھی کر سکو اور رزق بھی تلاش کر سکو“۔

۴ سورہ قصص، آیت ۷۱ ۔”آپ کہئے کہ تمهارا کیا خیال ہے اگرخدا تمهارے لئے رات کو قیامت تک کے لئے ابدی بنادے تو کیا اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہے جو تمهارے لئے روشنی کو لے آسکے تو کیا تم بات سنتے نہیں ہو“۔

۵ سورہ اعراف، آیت ۱۸۵ ۔”اور کیا ان لوگوں نے زمین وآسمان کی حکومت اور خدا کی تمام مخلوقات میں غور نہیں کیا“۔

۶ سورہ انعام، آیت ۷۵ ۔”اور اسی طرح ہم ابراہیم کو ملکوت آسمان و زمین دکهلائیں گے، اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہو جائیں“۔

۷ سورہ اسراء، آیت ۸۵ ۔”اورتمہیں بہت تهوڑا سا علم دیا گیا ہے“۔

الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَا نَٔیّٰ يُو فَْٔکُوْنَ ) (۱) ( وَلَئِنْ سَا لَْٔتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰواتِ وَاْلا رًْٔضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُالْعَلِيْمُ ) (۲)

منکرین خدا میں سے ایک شخص آٹهویں امام(ع) کے پاس آیا تو امام (ع) نے اس سے فرمایا:اگر تمهارا عقیدہ صحیح ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے، تب بھی ہمیں نماز،روزہ،زکات اور اقرار سے کوئی نقصان نہیں پهنچا۔ (کیونکہ دینی فرائض جو ایمان لانا،عمل صالح کرنا اور منکرات کو ترک کرنا ہے،روح کے اطمینا ن اور معاشرے کی اصلاح کا سبب ہیں اور اگر بالفرض عبث اور بے کار ہوں تب بھی،مبدا ومعاد کے احتمالی وجود کے مقابلے میں ان اعمال کے مطابق عمل کی تکلیف اور نقصان نهایت کم ہے،کیونکہ دفع شر اور بے انتها خیر کثیر کو جلب کرنا،جو محتمل ہو، عقلاًضروری ہے)۔

اس شخص نے کها : جس خدا کے تم لوگ قائل ہو وہ کیسا ہے اور کهاں ہے؟

امام (ع) نے فرمایا :اس نے اَین کو اَینیت اور کیف کو کیفیت عطا کی ہے۔ (وہی اَین و مکان اور کیف و کیفیت کا خلق کرنے والا ہے، جب کہ مخلوق کبھی بھی خالق کے اوصاف و احوال کا حصہ نہیں بن سکتی، کیوں کہ خالق میں مخلوق کے اوصاف موجود ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ خالق مخلوق کا محتاج ہوجائے، اسی لئے خداوند متعال کو نہ کسی کیفیت یا مکانیت سے محدود کیا جاسکتا ہے، نہ کسی حس کے ذریعے محسوس کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی چیز کے ساته پرکھا جا سکتاہے)۔

اس شخص نے کها:بنا برایں اگراسے کسی حس کے ذریعے محسوس نہیں کیا جاسکتا، تو اس کا وجود نہیں ہے۔

امام (ع) نے فرمایا : جب تیری حس اس کے ادراک سے عاجز ہوئی تو تو ا س کا منکر ہوا اور جب ہم نے حواس کو اس کے ادراک سے عاجز پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ وہ ہمارا پروردگا ر ہے۔(موجودات کو محسوسات تک منحصر سمجهنے والا اس بات سے غافل ہے کہ حس موجود ہے لیکن محسوس نہیں، بینائی اور شنوائی موجود ہے لیکن دیکھی اور سنی نہیں جاسکتی ہے، انسان ادراک کرتا ہے کہ غیر متناہی محدود نہیں ہے جب کہ ہر محسوس ہونے والی چیز محدود ومتناہی ہے -؛کتنے ہی ذهنی وخارجی موجودات ایسے ہیں جو حس ومحسوسات سے ماوراء ہیں، جب کہ وہ شخص موجود کو محسوس تک محدود خیال کرنے کی وجہ سے خالق حس ومحسوس کا منکر ہو ا اور امام (ع) نے اس شخص کی اسی حقیقت کی جانب ہدایت کی کہ حس ومحسوس،وہم وموہوم اور عقل ومعقول کا خالق حس، وہم اورعقل میں نہیں سما سکتا،کیونکہ حواس خمسہ جس چیزکا ادراک کرتے ہیں اس پر محیط ہوتے ہیں جب کہ یہ حواس خد اکی مخلوق ہیں اور خالق اپنی مخلوق پر مکمل احاطہ رکھتاہے،

لہٰذا خالقِ حس ووہم وعقل کا خودان کے دائرہ ادراک میں آجانا،جبکہ وہ ان پر محیط ہے اور محیط کا محاط میں تبدیل ہونا ممکن ہی نہیں ہے اور اگر خداوندِ متعال محسوس یا موہوم یا معقول ہو تو حواس سے درک ہونے والی اشیاء کے ساته شبیہ وشریک قرار پائے گااور اشتراک کا لازمہ اختصاص ہے، جب کہ ترکیب مخلوق کی خصوصیت ہے، لہٰذا اگر خداوندِمتعال حس ووہم وعقل میں سما جائے تو مخلوق ہوا نہ کہ خالق)۔

اس نے پوچها :خدا کب سے ہے ؟

امام (ع) نے فرمایا : تم یہ بتاو کہ کب نہ تھا؟ (خداوندِ متعال جو زمان وزمانیات اور مجردات ومادیات کے لئے قیوم ہے، اس کی ذات اقدس عدم، نابودی اور زمان ومکان سے مبراہے)

پھر اس نے امام (ع) سے پوچها : پس اس کے وجودکی دلیل کیا ہے ؟

امام (ع) نے آفاق و انفس میں موجود آیاتِ خد ا کی ہدایت کی اور جسم کی بناوٹ میں تفکروتدبر کے ذریعے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اپنے وجود کی اس بناوٹ میں جن باریک نکات اور لطا ئف حکمت کا خیال رکھا گیا ہے، ان کے ذریعے اس خالق کے علم وحکمت کا اندازہ لگائے۔ اسے بادلوں،هوا، سورج،چاند اور ستاروں کی حرکت میں غوروفکر کرنے کو کها تاکہ اجرام فلکی میں موجود عجائب

____________________

۱ سورہ عنکبوت، آیت ۶۱ ۔”اور اگر آپ ان سے پوچہیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب وماہتاب کو کس نے مسخر کیا ہے تو فوراً کہیں گے کہ الله، تو یہ کدہر بہکے چلے جارہے ہیں“۔

۲ سورہ زخرف، آیت ۹۔”اور آپ ان سے سوال کریں گے کہ زمین وآسمان کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا یهی کہیں گے کہ ایک زبردست طاقت والی اور ذی علم هستی نے خلق کیا ہے“۔

قِدرت وغرائب حکمت میں تفکر وتدبر کے ذریعے عزیز و علیم کی قدرت تک پهنچ سکے اور متحرکات آسمانی کی حرکت کے ذریعے تغیر وحرکت سے منزہ محرّک پر ایمان لے آئے۔(۱)

ج): مادّے و طبیعت میں موجود تغیر وتحول، اس مادّے وطبیعت سے برتر قدرت کی دلیل ہیں،کیونکہ مادّہ یا اس سے منسوب کسی بھی مادّی شے میں تاثیر،وضع ومحاذات کی محتاج ہے۔مثال کے طور پر آگ جو حرارت جسم میں تاثیر رکھتی ہے یا چراغ جس کی شعاع فضا کوروشن ومنور کرتی ہے،

جب تک آگ یا چراغ کی اس جسم یا فضا کے ساته خاص نسبت پیدا نہ ہو، ممکن ہی نہیں ہے کہ جسم ا س آگ کی حرارت سے گرم یا فضا اس چراغ کے نور سے روشن و منور ہوجائے، اورچونکہ معدوم کے ساته وضع اورنسبت کا برقرار ہونا محال ہے، لہٰذ ا ایسے موجودات جو پهلے مادہ و طبیعت میں نہ تھے اور بعد میں وجودپایا یا پائےں گے، ان موجودات میں مادہ وطبیعت کی تاثیر ممکن نہیں ہے۔آسمان و زمین میں موجود ہونے والا ہر معدوم ایسی قدرت کے وجود کی دلیل ہے جس کو تاثیر کے لئے وضع ومحاذات کی ضرورت نہیں ہے اوروہ ماورائے جسم وجسمانیات ہے( إِنَّمَا ا مَْٔرُه إِذَا ا رََٔادَ شَيْا ا نَْٔ يَّقُوْ لَ لَه کُن فَيَکُوْنُ ) (۲)

د):خدا پر ایمان انسان کی سرشت میں موجود ہے، کیونکہ فطری اعتبار سے انسان اپنے آپ کو ایک مرکز سے وابستہ اور محتاج پاتا ہے، لیکن اسبابِ معیشت کی مصروفیت اور خواہشات نفسانی سے لگاؤ اس وابستگی کے مرکز کو پانے میں رکاوٹ ہیں۔

جب بے چارگی اور ناامیدی اسے چاروں طرف سے گهیر لیتی ہے اور فکر کے تمام چراغوں کو بجها ہو ا اور تمام صاحبان قدرت کو عاجز پاتا ہے، اس کا سویا ہوا ضمیر جاگ اٹهتا ہے اور جس غنی بالذات پر فطرتاً بهروسا کئے ہوئے ہے، اس سے بے اختیار مدد طلب کرتا ہے( قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْکُمْ مِنْ ظُلُمَات الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُوْنَه تَضَرُّعاً وَّ خُفْيَةً لَّئِنْ ا نَْٔجَاْنَا مِنْ هٰذِه لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشَّاکِرِيْنَ ) (۳) ( وَ إِذَا مَسَّ اْلإِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّه مُنِيْبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَه نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا کَانَ يَدْعُوْا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ وَ جَعَلَ لِلّٰهِ ا نَْٔدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِه ) (۴) ( هُوَ الَّذِی يُسَيِّرُکُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتّٰی إِذَا کُنْتُمْ فِی الْفُلْکِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَائَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ وَ جَائَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوا ا نََّٔهُمْ ا حُِٔيْطَ بِهِمْ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ لَئِنْ ا نَْٔجَيْتَنَا مِنْ هٰذِه لَنَکُوْنَنَّ مِن الشّٰکِرِيْنَ ) (۵)

ایک شخص نے امام صادق (ع) سے عرض کی : ((یا ابن رسول اللّٰه! دلّنی علی اللّٰه ما هو، فقد ا کٔثر علیّ المجادلون و حیرونی فقال له: یا عبد اللّٰه ، هل رکبت سفینة قط؟ قال: نعم قال: فهل کسر بک حیث لا سفینة تنجیک و لا سباحة تغنیک؟ قال: نعم، قال: فهل تعلق قلبک هنالک ا نٔ شیئاً من الا شٔیاء قادر علی ا نٔ یخلصک من ورطتک؟ قال: نعم، قال الصَّادق (ع): فذلک الشی هو اللّٰه القادر علی الإنجاء حیث لا منجی وعلی الإغاثة حیث لا مغیث ))(۶)

جیسا کہ بے چارگی کے عالم میں دوسروں سے انقطاع مطلق کے دوران خداوندِ متعال کی یہ معرفت اور فطری ارتباط حاصل ہو جاتا ہے، اختیاری حالت میں بھی اسے علم وعمل جیسے دو پروں کے ذریعے پرواز کر کے حاصل کیا جاسکتا ہے:

____________________

۱ توحید، صفحہ ۲۵۰ ۔

۲ سورہ یس،آیت ۸۲ ۔”اس کا صرف امر یہ ہے کہ کسی شئے کے بارے میں یہ کهنے کا ارادہ کر لے کہ ہو جااور وہ شئے ہو جاتی ہے“۔

۳ سورہ انعام، آیت ۶۳ ۔”ان سے کہہ دیجئے کہ خشکی اور تری کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جب تم گڑا گڑا کر اور خفیہ طریقہ سے آواز دیتے ہو کہ اگر اس مصیبت سے نجات دے دے گا تو ہم شکر گذار بن جائیں گے“۔

۴ سورہ زمر، آیت ۸۔”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پهنچتی ہے تو پوری توجہ کے ساته پروردگار کو آواز دیتا ہے پھر جب وہ اسے کوئی نعمت دیدیتا ہے تو جس بات کے لئے اس کو پکاررہا تھا اسے یکسر نظر انداز کردیتا ہے اور خدا کے لئے مثل قرار دیتا ہے تاکہ اس کے راستے سے بہکا سکے“۔

۵ سورہ یونس، آیت ۲۲ ۔”وہ خدا وہ ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں سیرکراتا ہے یهاں تک کہ جب تم کشتی میں تھے اور پاکیزہ ہوائیں چلیں اور سارے مسافر خوش ہوگئے تو اچانک ایک تیز ہواچل گئی اور موجوں نے ہر طرف سے گهیرے میں لے لیا اور یہ خیال پیدا ہو گیا کہ چاروں طرف سے گهر گئے ہیں تو دین خالص کے ساته الله سے دعا طلب کرنے لگے کہ اگر اس مصیبت سے نجات مل گئی تو ہم یقینا شکر گذار وں میں ہو جائیں گے“۔

۶ بحارالانوارجلد ۳،صفحہ ۴۱ ، ترجمہ: ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: یابن رسول الله ! مجه کو خداکے بارے میں بتایں کہ وہ کیا ہے؟میں نے بہت زیادہ مجادلہ کرنے والوں کو دیکھا لیکن ان سب کی بحثوں نے مجه کو پریشان کردیا ہے۔

حضرت فرماتے ہیں:کیا کبھی کشتی پر سوار ہوئے ہو؟کہتا ہے :هاں حضرت فرماتے ہیں :کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کشتی ٹوٹ گئی ہو اور وہاں پر کوئی اور کشتی نہ جس پر سوار ہو جاو اور نجات مل جائے اور نہ تیرنا آتا ہو جس سے تم نجات پاجاو جوا ب دیتا ہے :هاں حضرت نے فرمایا:

ایسے حال میں تمهارے دل میں کسی قادر توانا کا خیال آیا جو تم کو ابھی بھی نجات دلا سکتا ہے؟کہتا ہے :هاں حضرت نے فرمایا:بس وہی خدا ہے جو ایسے حالات میں بھی تم کو نجات دے سکتا ہے جب کوئی تمهاری مدد نہ کرسکے۔

اول)یہ کہ نور عقل کے ذریعے انسان، جهالت وغفلت کے پردوں کو پاراکرے اور دیکھے کہ موجودات کا وجود اور ان کے کمالات ذاتی نہیں، بلکہ سب کے سب ذات قدوس کی جانب منتهی ہوتے ہیں( هُوَ اْلا ؤََّلُ وَاْلآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِيْمٌ ) (۱) ( هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِی الْمُصَوِّرُ لَه اْلا سَْٔمَاءُالْحُسْنٰی ) (۲)

دوم)یہ کہ طهارت وتقویٰ کے ذریعے آلودگی او ر رذایل نفسانی کی کدورت کو گوہرِوجود سے دور کرے، کیونکہ خدا اور اس کے بندے کے درمیان جهالت وغفلت اور کدورت گناہ کے علاوہ کوئی دوسرا پر دہ نہیں ہے کہ جسے علمی وعملی جهاد کے ذریعے پارا کرنا ضروری ہے( وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ) (۳)

چھٹے امام (ع) نے ابن ابی العوجا ء سے فرمایا :

((ویلک وکیف احتجب عنک من ا رٔاک قدرته فی نفسک؟ نشؤک ولم تکن و کبرک بعد صغرک و قوتک بعد ضعفک و ضعفک بعد قوتک و سقمک بعد صحتک و صحتک بعد سقمک و رضاک بعد غضبک و غضبک بعد رضاک و حزنک بعد فرحک، و فرحک بعد حزنک و حبک بعد بغضک و بغضک بعد حبک و عزمک بعد إبائک و إباو کٔ بعد عزمک و شهوتک بعد کراهتک وکراهتک بعد شهوتک و رغبتک بعد رهبتک و رهبتک بعد رغبتک ورجائک بعد یا سٔک و یا سٔک بعد رجائک و خاطرک بما لم یکن فی وهمک و عزوب ما ا نٔت معتقده عن ذهنک و مازال یعد علی قدرته التی فی نفسی التی لا ا دٔفعها حتی ظننت ا نٔه سیظهر فیما بینی وبینه ))(۴)

____________________

۱ سورہ حدید، آیت ۳۔”وہی اول ہے وہی آخر وہی ظاہر ہے وہی باطن ہے اور وہی ہر شئے کا جاننے والا ہے“۔

۲ سورہ حشر، آیت ۲۴ ۔”وہ ایسا خدا ہے جوپیدا کرنے والا، ایجاد کرنے والا اور صورتیں بنانے ولا ہے اس کے لئے بہترین نام ہیں“۔

۳ سورہ عنکبوت، آیت ۶۹ ۔”اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جهاد کیا ہے ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کریںگے “۔

۴ بحارالانوارجلد ۳، صفحہ ۴۳ٔ ۔ترجمہ: حضرت ابن ابی العوجاء سے فرماتے ہیں:وای تجه پر وہ ذات کیسے تجه سے چهپ سکتی جس نے خود تیرے نفس میں اپنے وجود کا اظهار کیا ہے تو نہیں تھا تجه کو پید اکیا خود تیرا چهوٹے سے بڑا ہونا ، تیری قدرت و توانائی تیری عاجزی کے بعد، تیری ناتوانی قدرت کے با وجود، تیرا مریض ہو نا تیری صحت مندی کے بعد،

بیماری کے بعد پھر تیراصحتیاب ہونا ، تیرا غصہ خوشی کے یا پھر تیری خوشی غصہ کے بعد غم شادی کے بعد و سرور غم و حزن کے بعد تیری دوستی دشمنی کے بعد یا پھر دشمنی دوستی کے بعد، تیرا عزم وارادہ انکار کے بعدیا پھر تیرا انکار کرنا عزم و ارادہ کے بعد تیرا اشتیاق تیری ناراحتی کے بعد یا پھر تیری کراہت شوق کے بعد۔

تیرا شوق و علاقہ خوف وحراس کے بعد یا تیرا ڈرنا رغبت کے بعد تیری امیدی نا امیدی کے بعد یا ناامیدی امیدی کے بعد، جس کو تونے سوچا بھی نہ وہ تمهارے خیال میں آجائے اور جو تمهارے ذهن پر سوار تھا ایک دم غائب ہو جائے ۔

ابن ابی العوجا ء کہتا ہے:اس طرح کی قدرت کے آثار کو میرے وجود میں گنوارہے تھے کہ جس کا انکار و چشم پوشی ممکن نہیں تھا یهاں تک مجه کو احساس ہوا کہ عنقریب خدائے وحدہ لاشریک میرے و امام کے درمیان ظاہر ہو جائے گا

توحید

توحید سے مراد ایسے خداوند عالم پر اعتقاد ہے جو یکتا ہے اور اجزاء وصفات کی ترکیب سے مبرا ہے، اس لئے کہ ہر مرکب، وجود کو اجزاء اور ان اجزاء کو ترکیب دینے والے کا محتاج ہے اور محال ہے کہ جو محتاج ہو وہ اپنے آپ یا کسی غیر کو وجود عطا کرسکے۔ خداوندمتعال کی ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔(۱)

۱ توحید کے چند مرتبہ ہیں:

توحید ذات:

هر موجود مرکّب ہے سوائے خداوندعالم کی ذات کے، وہ ایسا واحد ہے جس کی یکتائی عین ذات ہے۔

اس کے علاوہ ہر موجود جز جز ہونے کے قابل ہے جس طرح جسم مادہ اور صورت دو جز پر تقسیم ہوتا ہے، قوہ وہم میں زمان کو لحظات پر تقسیم کیا جاتا ہے، عقل انسان کو انسانیت و وجود اور ہر متناہی موجود کو محدود اور حد پر منقسم کرتی ہے۔

جنگ جمل کے موقع پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے سوال ہوا: یا امیر المومنین! (علیہ السلام) کیا آپ فرماتے ہیں: کہ بے شک خدا ایک ہے؟ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا، تیرے سوال کا اس حالت میں موقع نہیں ہے۔

حضرت نے جواب دیا: اس کو چهوڑ دو، یہ جو سوال مجه سے پوچه رہا ہے، میں وہی اس قوم سے خواہاں ہوں، میری مراد توحید ہے، اس کے بعد حضرت نے فرمایا: یہ جملہ کہ خدا ایک ہے، چار قسموں پر تقسیم ہوتا ہے۔

اس میں سے دو قسمیں خدا کے سلسلے میں جائز نہیں لیکن دوسری دو قسمیں اس کی ذات کے لئے ثابت ہیں، اور وہ دو قسمیں جو جائز نہیں ہیں یہ ہیں:

۳) اس کی واحدانیت، عددی وحدانیت نہیں ہے،کیونکہ اپنا ثانی ،۲ ، ۱) وہ ایک جو دعدد میں آتا ہے (جیسے(۱) رکھنے والے واحد، اور اپنا ثانی نہ رکھنے والے واحد پر بطور یکساں واحد کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا،( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا اِن اللهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ ) (سورہ مائدہ آیت ۷۳ ، ”بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جنهوں کها :الله ان تین میں سے تیسرا ہے“۔

۲) ایسا واحد جو کسی جنس کی ایک قسم پر اطلاق ہوتا ہو، مثلاً کها جائے: ”وہ لوگوں میں سے ایک ہے“، ایسا واحد جو کسی نوع و صنف کی ایک فرد پر اطلاق ہوتا ہے، خداوندعالم پر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ اس اطلاق و ا ستعمال میں

تشبیہ پائی جاتی ہے، حالانکہ خدا کوئی شبیہ نہیں رکھتا۔

لیکن وہ قسمیں جو خدا کی ذات پر اطلاق کرنا جائز ہے:

____________________

۱)وہ ایسا واحد ہے جس کی کوئی شبیہ نہیں ہے۔

۲) خداوندعالم ایسا واحد جس کی تقسیم عقل و وہم میں بھی ممکن نہیں ہے، (بحار الانوار، ج ۳، ص ۲۰۶ ۔)


3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16