اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی0%

اصول دين سے آشنائی مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اصول دين سے آشنائی

مؤلف: آية الله العظمیٰ حاج شيخ حسين وحيد خراسانی مدظلہ العالی
زمرہ جات:

مشاہدے: 10639
ڈاؤنلوڈ: 1272

تبصرے:

اصول دين سے آشنائی
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 10639 / ڈاؤنلوڈ: 1272
سائز سائز سائز
اصول دين سے آشنائی

اصول دين سے آشنائی

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

کتاب نامہ: اصول دین سے آشنائی

حضرت آیة الله العظمیٰ حاج شیخ حسین وحید خراسانی مدظلہ العالی کی توضیح المسائل کا مقدمہ

ناشر: مدرسة الامام الباقر العلوم علیہ السلام

دوسرا ایڈیشن: ۱ ۴ ۲۸ ھ، مطابق ۲۰۰۷ ء

پریس: نگارش

ملنے کا پتہ:

قم، صفائیہ روڈ، گلی نمبر ۳۷ ، مکان نمبر ۲۱ ، ٹیلیفون: ۷۷ ۴ ۳۲ ۵۶ ۔ ۰۲ ۵ ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلیٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِهِ الطَّاهِرِيْنَ، لاَ سِيِّمَا بَقِيَّةِ اللّٰهِ فِی اْلا رََٔضِيْن

پیش گفتار

یہ کتا ب فروع دین سے متعلق ہے،لیکن یہ مقدمہ اصول دین سے آگاہی کی غرض سے لکها گیاہے۔جس طرح نور کے مراتب ہیں اور سورج وشمع کا نور بھی حقیقی نور کے مراتب میں سے ہیں، اسیطرح اصول دین کی معرفت کے بھی مراتب ہیں۔یہ مقدمہ کوئی عمیق تحقیق نہیں، بلکہ اس راہ میں قدم رکھنے والوں کے لئے اصول دین سے آشنائی کی حد تک ایک شمع کی مانند ہے۔

اس مقدمے میں عقلی اعتبار سے نهایت آسان تمهیدات پر مبنی دلائل سے استدلال کیا گیا ہے اورروائی اعتبار سے ان منقولات پر مشتمل ہے جو سنی اور شیعہ کی کتبِ احادیث اور مشہور تواریخ میں مذکور ہیں اور اس بارے میں خبر دینے کے لئے،اگر چہ راوی ثقہ ہے یا جو بات نقل کی گئی ہے موردوثوق ہے،ہمارا مستند وہی کتب ہیں جهاں سے ہم نے انہیں نقل کیا ہے۔

مبانیِ دین میں انوار آیات وروایات سے پر تو افشانی اس لئے کی گئی ہے کہ قرآن وسنت، فطرت کو بیدار کرنے والے اور حکمت کے دقیق ترین قواعد پر مشتمل ہیں۔

روایات کے ترجمے میں مضمون حدیث کے تقریباًمطابق، مختصر مضمون کو پیش کیا گیا ہے،عمومی جہت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض دقیق علمی نکات سے صرف نظر کی گئی ہے اور اختصار کے پیش نظر مطالب سے مربوط تمام جهات کو پیش نہیں کیا گیا ہے۔

اصول دین کی مقدماتی بحثیں

اصول دین کے بیان سے پهلے چند امور کی جانب توجہ ضروری ہے:

۱۔تحصیل معرفت کا ضروری ہونا :

مبدا ومعاد کے وجود کا احتمال، معرفت دین اور اس سلسلے میں تلاش و جستجو کو ضروری قرار دیتا ہے، کیونکہ اگر خالقِ جهاں، علیم وحکیم ہو،زندگی کا اختتام موت نہ ہو،خالق انسان نے اسے کسی مقصد و ہدف کے تحت خلق کیا ہو اور اس کے لئے ایک ایسا نظام معین کیا ہو جس کی مخالفت ابدی بد بختی کاسبب ہو تو انسانی جبلت وفطرت اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ چاہے یہ احتمال کم ہی کیوں نہ ہو، لیکن جس چیز کا احتمال دیا جارہا ہے اس کی عظمت واہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، تاکہ تحقیق کے ذریعے منفی یا مثبت نتیجے تک پهنچا جا سکے۔جیسا کہ اگر بجلی کے تار میں شارٹ سرکٹ کا احتمال ہو اور طے ہو کہ اس صورت میں زندگی آگ کا لقمہ بن سکتی ہے تو انسان اس وقت تک آرام وچین سے نہیں بیٹھتا جب تک اسے خطرہ ٹلنے کا یقین نہ ہوجائے۔

۲۔انسان کو دینِ حق کی ضرورت :

انسان کا وجودجسم وروح اور عقل وہوس کا مرکب ہے اور اسی کا اثر ہے کہ اس کی فطرت مادی ومعنوی سعادت اور کمال مقصد تخلیق کو پانے کی جستجو میں ہے۔

ادہر انسان کی زندگی کے دو پهلو ہیں، فردی او ر اجتماعی،بالکل ایسے ہی جیسے انسانی بدن کا ہر عضو اپنی ذاتی زندگی سے قطع نظر دوسرے اعضاء کے ساته بھی متقا بلاًتاثیر و تا ثر رکھتا ہے۔

لہٰذا ، انسان کو ایسے قانون وآئین کی ضرورت ہے جو اسے مادی ومعنوی سعادت اور پاک وپاکیزہ انفرادی اوراجتماعی زندگی کی ضمانت دے اور ایسا آئین، دین حق ہے کہ جس کی انسان کو فطری طور پر ضرورت ہے( فَا قَِٔمْ وَجْهَکَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِی فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ) (۱)

____________________

۱ سورہ روم، آیت ۳۰ ۔ ”پس (اے نبی!) تم خالص دل سے دین کی طرف اپنا رخ کئے رہو خدا کی بنائی ہوئی سرشت جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے “۔

هر موجود کے لئے ایک کمال ہے جس تک رسائی،اس کے مربوطہ تکامل وتربیت کے لئے معین کردہ قاعدے و قانون کی اتباع کے بغیر ناممکن ہے اور انسان بھی اس عمومی قاعدے و قانون سے مستشنیٰ نہیں( قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ ا عَْٔطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَه ثُمَّ هَدیٰ ) (۱)

۳۔انفرادی زندگی میں دین کا کردار

انسان کی زندگی متن وحاشیہ اور اصل وفرع پر مشتمل ہے۔متن واصل، خود اس کا اپنا وجود ہے اور حواشی وفروع وہ چیزیںہیں جو اس انسان سے تعلق رکھتی ہیں جیسے مال،مقام،شریک حیات،اولاد اور رشتہ دار۔

اپنی ذات اور اس سے متعلق اشیاء کی محبت نے انسانی زندگی کو دو آفتوں،غم واندوہ اور خوف وپریشانی کا آمیزہ بنا رکھا ہے۔جوکچھ اس کے پاس نہیں ہے اسے حاصل کرنے کا غم واندوہ اورجوکچھ اس کے پاس ہے،حوادث زمانہ کے تحت اسے کهو دینے کا خوف و اضطراب۔

خداوندِ متعال پر ایمان ان دونوں آفتوں کو جڑ سے اکهاڑ پهینکتا ہے،کیونکہ عالم وقادر اور حکیم ورحیم پروردگار پر ایمان، اسے اپنی مقررہ ذمہ داریوں سے عهدہ بر آہونے پر ابهارتا ہے اور فرائض بندگی پر عمل پیرا ہو کر وہ جان لیتا ہے کہ خداوندِمتعال اپنی حکمت ورحمت کے وسیلے سے، خیر وسعادت کا باعث بننے والی چیزیں اسے عنایت فرمائے گا اور اسبابِ شر و شقاوت کو اس سے دور فرمائے گا۔

بلکہ، اس حقیقت مطلق کو پا لینے کے بعد، کہ جس کے مقابلے میں ہر حقیقت مجاز ہے اور جس کے علاوہ باقی سب بظاہر پانی دکهائی دینے والے سراب ہیں،اس نےکچھ کهویا ہی نہیں اور اس امر پر یقین و ایمان رکھتے ہوئے کہ( مَا عِنْدَکُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَاللّٰهِ بَاقٍ ) (۲)

کسی بھی فانی وناپائدار چیز میں اس کے لئے جاذبیت ہی نہیں کہ اس کے نہ ہونے سے غمگین اور چهن جانے سے مضطرب ہو( ا لَٔاَ إِنَّ ا ؤَْلِيَاءَ اللّٰهِ لاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُوْنَة الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ کَانُوْا يَتَّقُوْنَةلَهُمُ الْبُشْریٰ فِی الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَ فِی اْلآخِرَةِ لاَ تَبْدِيْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ ذٰلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ) (۳)

اس زندگی میں انسانی اعصاب کو کهوکهلا کر دینے والی چیز، مادی خواہشات کو پانے کی خوشی اور انہیں نہ پانے کے دکه سے حاصل ہونے والی اضطرابی وہیجانی کیفیت ہے اور لنگر ایمان ہی ان طوفانی امواج میں مومن کو آرام واطمینان عطا کیا کرتاہے( لِکَيَلاَ تَا سَْٔوْا عَلیٰ مَا فَاتَکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَا ا تََٔاکُمْ ) (۴)

( اَلَّذِيْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِکْرِ اللّٰهِ ا لَٔاَ بِذِکْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ) (۵)

۴ ۔اجتماعی زندگی میں دین کا کردار

زیادہ سے زیادہ پانے کی ہوس کے غریزئہ افزون طلبی کی بدولت انسان میں موجود شہوت وغضب کسی حد تک محدود نہیں۔اگر مال کی شہوت اس پر غلبہ کر لے تو زمین کے خزانے بھی اسےقانع نہیں کر سکتے اور اگر مقام کی شہوت اس پر سوار ہو جائے تو روئے زمین کی حکومت و بادشاہی

____________________

۱ سورہ طہٰ، آیت ۵۰ ۔”موسیٰ نے کها ہمارارب وہ ہے جس نے ہر شئے کو اس کی خلقت عطا کی ہے اور پھر ہدایت بھی دی ہے“۔

۲ سورہ نحل، آیت ۹۶ ۔”جوکچھ تمهارے پاس ہے وہ سب تمام ہو جائے گا اور جوکچھ الله کے پاس ہے وہی باقیرہنے والا ہے“۔

۶۴ ۔۶۳ ، ۳ سور ہ یونس ، آیت ۶۲” آگاہ ہو جاو کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور ،زنجیدہ ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور خدا سے ڈرتے رہے ۔ان کے لئے زندگانی دنیا اور آخرت دونوں مقاماتپر بشارت اور خوشخبری ہے اور کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہے اور یهی در حقیقت عظیم کامیابی ہے“۔

۴ سورہ حدید ، آیت ۲۳ ۔ ”جو چیز تم سے جاتی رہی تو تم اس کا رنج نہ کیا کرو اور جب کوئی چیز (نعمت) تم کو خدادے تو اس پر نہ اِتریا کرو“۔

۵ سورہ رعد ، آیت ۲۸ ۔”یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے دلوں کو یاد خدا سے اطمینان حاصل ہو تاہے اور آگاہ ہو جاو کہ اطمینان یاد خدا سے ہی حاصل ہو تا ہے“۔

اس کے لئے ناکافی ثابت ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرے سیاروں پر اپنی قدرت و حاکمیت کا پرچم لهرائے( وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَاهَامَانُ ابْنِ لِیْ صَرْحاً لَعَلِّیْ ا بَْٔلُغُ اْلا سَْٔبَابَة ا سَْٔبَابَ السَّمَاوَاتِ ) (۱)

انسان کا سر کش نفس، شکم ودامن، مال و مقام کی شہوت اور کبھی ختم نہ ہونے والی اندہی ہوس کے لئے قوتِ غضب کو کام میں لانے کے بعد کسی حدو حدود کو خاطر میں نہیں لاتا اور کسی بھی حق کو پامال کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ ایسی نفسانی شہوت کا نتیجہ بربادی اور ایسے غضب کا انجام خونریزی اور خاندانوں کے اجڑنے کے علاوہکچھ اور نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان اپنی قوتِ فکر کے ذریعے اسرار طبیعت کے طلسم کو توڑنے اور اس کی قوتو ں کو اپنا غلام بنا کر اپنی نامحدود نفسانی خواہشات کو پا نے کے لئے حیات، بلکہ کرہ ارض کو جو انسانی حیات کا گہوارہ ہے،نابودی کی طرف لے جا رہا ہے( ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ ا ئَْدِی النَّاسِ ) (۲)

مبدا ومعاد اور ثواب وعقاب پر ایمان کی طاقت ہی اس سر کش نفس کو مهار،انسانی شہوت وغضب کو تعادل اور فردی واجتماعی حقوق کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے،کہ ایسے خدا پر اعتقاد جو( وَهُوَ مَعَکُمْ ا ئَْنَ مَا کُنْتُمْ ) (۳)

اور اعمال کی ایسی جزا وسزا جو( فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهة وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَه ) (۴) پر ایمان کی وجہ سے، انسان ہر خیر کی جانب گامزن اور ہر شر سے دور ہو گا اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جس کی بنیاد بقاء کے لئے ٹکراو کے بجائے بقاء کے لئے مصالحت کے فلسفے پر ہوگی۔

۵