شرح دعائے کمیل

شرح دعائے کمیل0%

شرح دعائے کمیل مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

شرح دعائے کمیل

مؤلف: استاد حسین انصاریان
زمرہ جات:

مشاہدے: 7007
ڈاؤنلوڈ: 707

تبصرے:

شرح دعائے کمیل
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 23 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7007 / ڈاؤنلوڈ: 707
سائز سائز سائز
شرح دعائے کمیل

شرح دعائے کمیل

مؤلف:
اردو

بِقُوَّتِکَ الَّتي قَهَرْتَ بِهٰا کُلَّ شَيْ ءٍ“

” اور اس قوت کے واسطہ سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے،“

خداوندعالم کی قدرت اور توانائی اس کی عین ذات ہے اور بے نھایت اور بے انتھا ہے، دنیا کی تمام قدرتیں اس کی قدرت کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔کسی بھی قدرت مند کی قدرت اس کی قدرت کے مقابلہ میں مستقل نہیں ہے، تمام قدرتیں اس کی قدرت کی شعاعوں کی ایک جھلک ہے: ”لا حول ولا قوة الا بالله “ ۔

گزشتہ صفحات میں ”کل شیءٍ“ کے بارے میں مختصر طور پر وضاحت کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا : ”کل شیءٍ“ یعنی: تمام مخلوقات اور تمام وہ چیزیں جو اس کے ارادہ سے پیدا ہوئی ہیں، ان کی تعداد اور ان میں سے بہت سی چیزوں کی کیفیت اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے، اور روز قیامت تک نہیں جان سکتا ہے۔

اربوں آسمانی موجودات، کہکشان اور نباتات، حیوانات،چرند پرند،اور خشکی ودریا کے خزندہ ، بے شمار کیڑے مکوڑے، ” وائیرس " Virus "، اورمیکروب “ " Microbe "اور غیبی موجودات نیز وہ فرشتے جن سے زمین وآسمان بھرا ہوا ہے، ان سب سے کون آگاہ ہوسکتا ہے اور ان کی تعداد کا حساب کون لگاسکتا ہے؟ خدائے مھربان اپنی بے نھایت قدرت سے ( کل شیءٍ) ہر چیز پر غلبہ رکھتا ہے اور کوئی بھی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باھر نہیں ہے اور کوئی چیزباھر ہوبھی نہیں سکتی ہے۔ اجرام آسمانی (فلکی ستارے) کہکشاں اور اس کے ستارے، منظومہ اور اس کے مابین موجودات جن میں سے بعض بعض کا وزن اربوں اور کھربوں ٹن بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے؛ بغیر ستون کے لٹکے ہوئے ہیں، اور اپنی معین شدہ رفتار کے ساتھ اپنے وقت پر گردش کرتے ہیں اور اربوں سال سے گردش کی حالت میں ہیں؛ یہ سب کے سب خدا کی قدرت کاملہ سے محفوظ ہیں ۔

”وَخَضَعَ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ

” اور اس کے لئے ہر شے خاضع اور متواضع ہے‘۔

تمام غیبی اور شھودی موجودات ؛ بڑی سے بڑی معنوی اور مادی موجود سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق تک، عظیم ترین کہکشاں اور ثابت ستاروں سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے اٹم " Atome "تک جس کو بڑی سے بڑی میکرواسکوپ " Maicroscope "بھی نہیں دکھاسکتی، تمام کی تمام چیزیں خداوندعالم کی مسخر کردہ اور اسی کی فرمانبردار ہیں، اس کے حکم کے سامنے سبھی سرِ تسلیم خم کئے ہوئے نظر آتی ہیں، اور سب کے سب اس کا حکم ماننے کے لئے حاضر ہیں، نیز ان کے اندر مخالفت او رمعصیت کا ذرا بھی تصور نہیں پایا جاتا۔

وہ موجودات جو بغیر کسی استثناء کے؛ خدا کی بے انتھا قدرت کے سامنے مقھور اور مغلوب ہیں ان تمام چیزوں کا وجود خضوع اور خشوع نیز عین ذلت ومسکنت ہے۔

حضرات معصومین علیھم السلام کی ایک فرد کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے دعا کے چند جملوں کی طرف توجہ کریں:

”یقیناً توھی وہ خدا کہ جس کی قدرت اور توانائی کے سامنے تمام چیزیں ذلیل ہیں، اور تمام ہی چیزوں کا سر تیری قدرت کے سامنے خم ہے، جو تو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے، اور جس چیز کا ارادہ کرلے وہ کر گزرتا ہے، تیری ہی مقدس ذات نے تمام چیزوں کو خلق فرمایا ہے، اور تیرے ہی دست قدرت میں تمام چیزوں کے امور ہیں، تو تمام چیزوں کا مولا وآقا ہے، اور تمام چیزیں تیری ہی مغلوب اور مسخر ہیں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں تو عزیز وکریم ہے۔۔“۔

بے شک تیری رحمت سبھی چیزوں پر چھائی ہوئی ہے اور تیری بے نھایت قدرت تمام چیزوں پر غالب ہے، تیرا ہی وجود بابرکت ہے جس کی قدرت کے سامنے تمام چیزیں ذلیل وخوار ہیں، لہٰذا اس کے لئے یہ کام بہت آسان ہے کہ اس بندہ کی دعا قبول کرلے جو خلوص وانکساری کے ساتھ حالت خضوع وخشوع میں روتے اور گڑگڑاتے ہوئے شب جمعہ جیسی مبارک رات میں دعا کررھا ہو ، اور اس کے لئے بہت ہی زیادہ آسان ہے کہ وہ اس بندہ کی حاجت روائی کے لئے زمین و آسمان میں موجود اپنے لشکر اس کی امداد کے لئے بھیجے تاکہ وہ اس کو دنیاوی او راُخروی مقاصد تک پھنچادیں۔

جو شخص تواضع او رانکساری کے ساتھ اس کی رحمت وقدرت کا واسطہ دے کر پکار رھا ہو اور اس کی رحمت وقدرت کے علاوہ کوئی رحمت وقدرت اس کے پیش نظر نہ ہو ، کیا اس کی دعا کاباب اجابت سے نہ ٹکرانا ممکن ہے ؟ ہر گز نھیں۔

کوئی ضعیف وناتوان موجود اس کی حاجت روائی نہیں کرسکتا اور دعا کرنے والے کی دعا کو مستجاب نہیں کرسکتا۔ مگر صرف وہ جو غنی ہے اور رحمت واسعہ اور قدرت کاملہ کا مالک ہے جس کے قبضہ قدرت میں تمام چیزیں ہیں اپنے بندوں کی مصلحت اور اپنی حکمت کی بنا پر اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور مانگنے والوں کی جھولی بھر دیتا ہے۔

صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ۱۳ میں وارد ہوا ہے:

” تونے مخلوقات کو فقر کی طرف نسبت دی ہے کہ وہ واقعا تیرے محتاج ہیں لہٰذا جو شخص بھی اپنی حاجت کو تیری بارگاہ سے پورا کرانا چاہتا ہے اور اپنے نفس سے فقرکو تیرے ذریعہ دور کرنا چاہتا ہے اس نے حاجت کو اس کی منزل سے طلب کیا ہے اور مقصد تک صحیح رخ سے آیا ہے اور جس نے بھی اپنی حاجت کا رخ تیرے علاوہ کسی اور کی طرف موڑدیا ،یا کامیابی کا راز تیرے علاوہ کسی اور کو قرار دیا ہے اس نے محرومی کا سامان مھیا کرلیا ہے اور تیری بارگاہ سے احسانات کے فوت ہوجانے کا استحقاق پیدا کرلیا ہے۔ خدایا ! میری تیری بارگاہ میں ایک ایسی حاجت ہے جس سے میری کوشش قاصر ہے اور میری تدبیریں منقطع ہوگئی ہیں اور مجھے نفس نے ورغلایا ہے کہ میں اسے ایسوں کے پاس لے جاؤںجو خود ہی اپنی حاجتیںتیرے پاس لے کر آتے ہیں اور اپنے ضروریات میں تجھ سے بے نیاز نہیں ہوسکتے ہیں اور یہ خطاکاروں کی لغزشوں میں سے ایک لغزش ہے اور گناھوں کی ٹھوکروں میں سے ایک ٹھوکر ہے اس کے بعد تیری یاددھانی کے ذریعہ میں خواب غفلت سے چونک پڑا اور تیری توفیق کے سھارے اپنی لغزش سے اٹھ کھڑاھوا اور تیری رھنمائی سے اپنی ٹھوکر سے پلٹ پڑا اور میں نے فورا اعلان کردیا کہ میرا رب پاک وپاکیزہ ہے کوئی محتاج کسی محتاج سے کیسے سوال کرسکتا ہے اورفقیر کسی فقیر کی طرف کس طرح رغبت کرسکتا ہے ۔

یہ سوچ کر میں نے تیری طرف ر غبت کی اور اپنی امیدوں کو لے کر تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا کہ مجھے تجھ پر بھروسہ تھا اور مجھے معلوم تھا کہ میں جس کثیرکا سوال کررھا ہوں وہ تیری عطا کے مقابلہ میں قلیل ہے اور جس عظیم کا تقا ضا کررھاھوں وہ تیری وسیع بارگاہ میںحقیر ہے تیرا کرم کسی کے سوال سے تنگ نہیں ہوتا ہے اور تیرے ہاتھ عطاکرنے میں ہر ہاتھ سے بالا تر رہتے ہیں ۔تمام ممکنات ایک روز عدم محض تھے، موجود ہی نہیں تھے کہ قابل ذکر ہوتے، تیرے ارادہ اور قدرت کے زیر سایہ پیدا ہوئے اور ان کی زندگی بھی تیرے ہی لطف وکرم کی بدولت ہے، کسی بھی طرح کا کوئی استقلال نہیں رکھتے ان کے پیشانی پر فقر ذاتی اور ذلت وخواری کی مھر لگی ہوئی ہے اور تیری قدرت ازلی کے سامنے خاکساری اور ذلت کی حالت میں سجدہ ریز ہیں۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں پھونچتا کہ وہ تیری بے نھایت قدرت کے سامنے اپنی قدرت کی بساط پھیلائے، انانیت کا ڈنکا بجائے، اور تکبر کا نعرہ لگائے، اپنی اس کم بضاعتی جس خلقت ایک مشت خاک سے ہوئی ہو محض ذلیل وخوار ہے اور اس کا وجود صرف ایک پھونک کا کام ہے اس کے علاوہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اپنی اس کم عقلی کی بنا پر جو ایک ذرہ کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر وناتوان ہے اپنے مولا و آقا ، مدبر اور پروردگار کی قدرت کے سامنے ؛ جس کی قدرت نے تمام چیزوں کو تحت الشعاع قرار دے رکھا ہے، اس کے سامنے اپنی قدرت کے نعرہ لگائے !! اور اگر ایسا کرے بھی تو اس کی قدرت کا بوریا بستر لپیٹ دیا جائے اوروہ ذلیل و خوار ہوجائے، نیز رحمت خدا سے محروم کردیا جائے اور عذاب الٰھی میں گرفتار ہوجائے۔

” وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ“

” اور اس جبروت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر غالب ہے“۔

”جبروت“ لغوی اعتبار سے” صیغہ مبالغہ“ ہے، یعنی تمام موجودات او رممکنات کے نقائص کا بہت سی نعمتوں اور بہت سے ساز وسامان کے ذریعہ ان کا جبران اور تدارک کرتا ہے، اور وہ بھی بلندترین درجہ اور کثیر تعداد میں۔

ابتدائے خلقت میںکوئی بھی موجودقابل ذکر نہ تھا، اس کی پھلی تصویر ایک ذرہ " Atome "کی شکل میں تھی یا ایک دانہ یا بے اھمیت نطفہ کی طرح تھی۔ ہر موجود ناقص تھا، خداوندعالم کی صفت جبروتیت نے تمام خامیوں اور نواقص کو پورا کےا تاکہ ان کو مکمل شکل وصورت مل جائے ،اور ایک بااھمیت شکل میں جلوہ نما ہو اور اپنی اصل صورت میں پیدا ہو۔

خدائے مھربان کے ذریعہ نقص کا پورا ہونا

خداوندعالم کی طرف سے کمیوں اور نواقص کا پورا ہونا ایک اھم اور قابل توجہ مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں چند چیزوں کو ایک اھم کتاب سے نقل کرتے ہیں جس کی بنا پر ہمارے ایمان میں اضافہ ہو اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ خداوندعالم ہمارے یا دوسری مخلوقات کے نقص کوکیسے پورا کرتا ہے:

سورج کی خرچ شدہ طاقت کا جبران

جس سورج کی وجہ سے اکثر طاقت ملتی ہے یہ”کل شیءٍ“ کا ایک چھوٹا سا مصداق ہے۔

سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بہت زیادہ بھڑکتی ہوئی آگ بھی اس کے سامنے ٹھنڈی ہے، سورج کی گرمی تقریباً"۶۰۹۳ cg "ھے اور اس کے اندر کی گرمی تو اس سے بھی کھیں زیادہ ہے۔

سورج ہر سیکنڈ میں ۱۲۴۰۰,۰۰۰.ٹن انرجی" E`nergiee " (طاقت) فضا میں پھیلاتا ہے، کہ اگرسورج کی ایک منٹ کی گرمی کو کوئلہ کے ذریعہ حاصل کرنا چاھیں تو تقریباً ۶۷۹,۰۰۰,۰۰۰,۰۰.ٹن کوئلے کو جلانا ہوگا۔

اس ایک سیکنڈ میں حاصل شدہ سورج کی طاقت کا وزن تقریباً ۴۰۰۰,۰۰۰.ٹن ہوتا ہے اور یہ مقدار ایک سال میں تقریباً ۱۲۶,۱۴۴,۰۰۰,۰۰۰,۰۰۰.ھوجاتی ہے ، اور یہ طے ہے کہ اگرجلتی ہوئی آگ کا ایندھن ختم ہوجائے تو آگ خاموش ہوجاتی ہے،لہٰذا جب سورج کوئی ایندھن نہیں لےتا اور ہر سال اتنی طاقت خرچ کرتا ہے تو پھر اس کو ختم ہوجانا چاہئے تھا؟ !! جبکہ اگر سورج خالص کوئلہ سے بنا ہوتا تو ۶۰۰ سال کے بعد ختم ہوجاتا۔

قارئین کرام! اس سوال کا جواب صرف صفت ”جبروت“ کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے، اس نے سورج کوگیس کے ایک عظیم پھاڑ کی طرح بنایا ہے جس کا گیس سکڑنے اور پھیلنے کی بنا پر کھوئی طاقت دوبارہ لوٹا دیتا ہے۔

یہ بات مشرق ومغرب کے بڑے بڑے دانشوروں کی تحقیق کا نتیجہ ہے جس کے بارے میں کتاب کے ہزاروں صفحات لکھے جاچکے ہیں جو ایک سادہ جملہ میں ہم تک پھنچا ہے۔

جی ہاں! وھی ہے جو اشیاء کی کھوئی ہوئی طاقت کو لوٹاتا کرتا ہے ، اور سورج کی کھوئی ہوئی طاقت کو واپس پلٹانا اس کی صفت ”جبروتی“ کی ایک نشانی ہے۔

دریائے خزر کے جزر و مد[۱] کا جبران

دریا ئے خزرکی سطح آزاد دریا سے ۲۷۶ میٹر نیچے ہے، اور اس سے نیچے ہوتی جائے گی، دریائے خزر آزاد دریاؤں سے متصل نہیں ہے ، لہٰذا عمومی اقیانوس کے جزر ومد کے تابع بھی نہیں ہے۔ دریائے خز ر چونکہ چھوٹا ہے لہٰذا چاند کی قوت جاذبہ سے بھرہ مند نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس میں جزر ومد نہیں ہونا چاہئے اور اس کے پانی کو گندا ہوجانا چاہئے اس دریائے خزر کو پیدا کرنے والے کا وجود مبارک جانتا ہے کہ اس نقص کو کس طرح پورا کیا جائے ، اس نے ”سرنوک“ ، ”خزری“ اور ”میانوا“ نامی ہوائیں چلائیں تاکہ اپنی پوری طاقت کے ذریعہ پانی کو متحرک کرےں یھاں تک کہ جو دریا اس میں گرتے ہیں ان کے پانی کو اوپر نیچے کرے۔

یہ ہوائیں اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ دریائے خزر کے پانی کو اس قدر اوپر لے جاتی ہیں کہ اکثرکشتیوں کے ناخدااس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں،یہ ہوائیں ایک دوسرا کام بھی کرتی ہیںوہ یہ کہ دریائے خزر کے شمال میں موجود بادلوں کو جنوب کی طرف بھگادیتی ہیں جس کی بنا پر ایران کے شمالی علاقہ میں بارش ہوتی ہے تاکہ وھاں پر کھیتی ہری بھری ہوجائے۔

یہ ہوائیں اس دریاکے پانی کو”مرداب انزلی“ میں ڈھکیل دیتی ہیں تاکہ مرداب(بہت گھراتالاب اور گڑھا) کاپانی صاف ہوجائے، شھر گیلان کا دریا مسلسل بارشوں کی بنا پر اکثر اوقات مٹیالا ہوتا ہے جس میں جنگلی گھاس وغیرہ کے بیج وغیرہ ہوتا ہے اور جب اس مرداب میں مٹی بھرجاتی ہے ، اس سے پانی پر کف (جھاگ) پیدا ہوتا ہے ، گھاس کے بیج وغیرہ وھاں رشد ونموکرنے لگتے ہیں ، انھیں دو اسباب کی بنا پر اس مرداب کا پانی خشک ہوجانا چاہئے اور اسے دلدل کی شکل اختیار کرلینا چاہئے، لیکن ہزاروں سال سے یہ مرداب اسی طرح باقی ہیں، کیوں؟

اس لئے کہ خداوندعالم جبران کرنے والا ہے لہٰذا س مشکل سے روک تھام کے لئے اس دریا کا پانی سیلاب سے ملادیتا ہے اور جس وقت ”سرنوک“، ”خزری“ اور ”میانوا“ نامی ہوائیں بادلوں کو برسنے کے لئے جنوب کی طرف روانہ کرتی ہیں تو دریا کا پاک وصاف پانی ،گدلے پانی سے مل جاتا ہے جس کی بنا پر اس گدلے پانی کی غلظت ہلکی ہوجاتی ہے، بیج اور بیل وغیرہ دریاکے نمکین پانی میں نابود ہوجاتے ہیں۔

جس وقت یہ (مذکورہ) ہوائیں بند ہوجاتی ہیں ، اس وقت ”کرامو“، ”کناروا“ اور ”آفتاب بوشو“ نامی ہوائیں چلتی ہیں تو ان مرداب کے پانی کو دریائے خزر میں پھونچادیتی ہیں جس کی بنا پر وھاں گدلا پانی صاف ہوجاتا ہے۔

اسی طرح ”گیلوا“ اور ”درشتوا“ نامی ہوائیں مرادب کے پانی کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جاتی ہیں اور اس پانی کو ملانے میں کافی مدد کرتی ہیں۔!![۲]

پھلوں کے نقص کو دور کرنا

جب تک پھلوں کے بیج بوئے نہ جائیں اور خداوندعالم کی صفت جبروتی مختلف طریقوں سے اس کے نقائص کو پورا نہ کرے تو ان سے استفادہ نہیں کیا جاسکتا۔

خوشمزہ اورلذیذسیب کے سلسلہ میں غور و فکر کریں کہ ایک روز یھی دانہ اور ایک ذرہ کی شکل میں دکاندار کے یھاں تھا۔

اور جس وقت وہ ایک دانہ تھا صرف اس کو بونے کے علاوہ دوسرے کام کے لئے کارگر نہ تھا اور جب کسان اس کوزمین میں ڈال دیتا ہے، تو ہوا ، نور ، پانی اور نمک اس کے پاس آتے ہیں، اور خدا وندعالم کے ارادے سے اس کی کمی پوری کی جاتی ہے ، جس کے نتیجہ میں ایک خوش رنگ اور لذیذ غذا بن جاتا ہے اور دسترخوان کی زینت بن جاتا ہے۔

قارئین کرام! خداوندعالم کی صفت جبروتی سے مزید آگاھی کے لئے درج ذیل مطالب کو غور وفکر کے ساتھ پڑھیں:

سیب کے اندر بطور خلاصہ درج ذیل چیزیں پائی جاتی ہیں:

نیٹروجن ترکیبات (پروٹین، امینوایسڈ، : لیزین، ارژنین، ہسٹاڈین اور ٹیروزن)

مواد معدنی: ( آیوڈین،پوٹاشیم، برم، فاسفورس، کیلشیم، آئرن، تانبا، سوڈیم، سفلر، میگنیز، قلعی،منیزایم)

اجزائے نشاستہ : (ڈکسٹروز، سیلولوز،پینٹازن،اسٹارچ(نشاستہ))

شکر: ( گلوکوز، فریکتٹوز،سیکروز)

مواد پکٹک: ( پکٹک ایسڈ،پیکٹن، پیکسٹک ایسڈ ،پروٹوپکٹین)

چربی اور ایسڈ: (مَیلک ایسڈ، سڑک ایسڈ، ایگزیلک ایسڈ،اسکوریک ایسڈ، لیکٹک ایسڈ)

ترکیبات رنگی: اینٹوسینیز، فلاوونز ، کلوروفل)

ویٹامن: ( A.B.C.G )

اینزایم: (کیٹلوز، ایکسیڈوز)

پانی: ۸۴ فی صد۔

قارئین کرام! غور فرمائیں کہ خدائے جبار کس طرح ایک پھل کی کمی اوراس کے نقص کو پورا کرتا ہے۔ اور اگر دوسری چیزوں کے مادی عناصر نیز معنوی چیزوں کے نواقص کے جبران کا ذکر کیا جائے تو تمام موجودات کے برابر صفحات بھر جائیں گے!!

” وَبِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَهٰا شَيْءٌ“

” اور اس عزت کے واسطہ سے ہے جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نہیں ہے“۔

وہ پاک وپاکیزہ ذات جس نے اپنی قدرت کے ذریعہ تمام چیزوں کو خلق فرمایا، اور سب پر اپنی رحمت نازل کی، اور وہ تمام چیزیں جو اپنے پورے وجود کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہیں کہ جو اس کی قدرت کے سامنے ذلیل وخوار ہیں اور وہ اپنے صفت جبروتی کے ذریعہ تمام چیزوں کے نواقص کو برطرف فرماتا ہے،اس کے مقابلہ میں کوئی بھی چیز قدرت نمائی نہیں کرسکتی؟

ایک چیز کا وجود اپنے تمام تر خواص وترکیبات کے ساتھ آسمان و زمین سے لے کر اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چاھے وہ غیبی موجودات ہوں یا ظھاری اللہ ان کی عزت اور قدرت کا ایک معمولی عکس ہے ، اور اپنے مولا وآقا کے مقابلہ میں ایک معمولی سایہ کی طرح ہے؛ لہٰذا اس کی ازلی اور ابدی عزت اور لامتناھی قدرت کا مقابلہ کیونکر کیا جاسکتا ہے۔؟”عزت“ کے معنی قدرت وتوانائی ہیں، اور تمام ہی موجودات میں اس کی عزت کا ایک معمولی سا جلوہ پایا جاتا ہے۔ ایک معمولی اور بے مقدار شعاع کھاں اور بے نھایت اور ازلی وابدی نور کھاں!!

( فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعاً ) ۔“[۳] ”عزت سب پروردگار کے لئے ہے“۔

جی ہاں، قرآن مجید کے فرمان کے مطابق تمام ”عزت“ خداوندعالم ہی کے لئے ہے، اور جس کو چاھے اس کی صلاحیت کے لحاظ سے عطا کردیتا ہے، اور جس کو نہ چاھے اس کو یہ عزت نہیں دیتا، اور اگر چاھے تو عزت دینے کے بعد چھین سکتا ہے، لہٰذاکوئی بھی اس کے مقابلہ میں مستقل طور پر صاحب عزت نہیں ہے، اور کوئی بھی اس کی قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ شکست ناپذیر قدرت کا مالک اور غالب غیر مغلوب ہے۔

وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاتْ کُلَّ شَيْءٍ

”اور اس عظمت کے واسطہ سے ہے جس نے ہر چیز کو پر کردیا ہے“

فعل سے اس کے فاعل کی پہچان

قارئین کرام! آپ حضرات جانتے ہیں کہ کسی بھی فاعل (کام کرنے والا) کی عظمت اور بزرگی اس کے کام کے ذریعہ کافی حد تک پہچانی جاسکتی ہے۔ وہ انجینئر جو ایک سو دس ( ۱۱۰) منزلہ بلڈنگ یا اس سے کم وزیادہ منازل کی بلڈنگ بنالے تو اس فلک شگاف عمارت کو دیکھ کر انجینئر کی قوت فکر اور علمی صلاحیت کا اندازہ لگاجاسکتا ہے۔

ایک عظیم الشان مولف، جیسے صدر المتالھین جنھوںنے ”اسفار“ ، ”عرشیہ“، ”حکمت متعالیہ“ اور ”اسرارالآیات“ جیسی عظیم الشان کتابیں لکھ دے تو اس کی علمی صلاحیت اندازہ اس کی کتابوں سے لگایا جاسکتا ہے۔

برقی رو" E'lectricity "کا کارخانہ ایجاد کرنے والے کو دیکھ کر؛ جس کی وجہ سے رات کی تاریکی دن میں بدل جاتی ہے، اس کی عظمت اور قوت فکر کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

خداوندعالم کی عظمت اور بزرگی ”ازلی، ابدی اور بے نھایت“ ہونے کی وجہ سے ہے، اور ہم چونکہ وجود کے اعتبار سے محدود ہیں اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں، لیکن اس کی عظمت اور بزرگی کے جلووں کو دنیا میں غور وفکر کرکے اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جس کی عظمت کے جلوے تمام ہی چیزوں میں روز روشن کی طرح چمک رھے ہیں۔

ھم اس سلسلہ میں صرف دو روایت اور اس کے بعد ایک علمی مطلب کی طرف اشارہ کریں گے، اور اس اشارہ کی بنا پر ہم کافی حد تک اپنی مطلوب حقیقت تک پھنچ جائیں گے۔

چند عالم کی خلقت

کم نظیر کتاب ”اسلام و ہیئت“ تالیف علامہ کبیر دانشمند مصلح جناب ہبة اللہ شھرستانی صاحب کتاب” خصال“صدوق، ”بحار الانوار“علامہ مجلسی، اور ”انوار نعمانیہ“، و”شرح صحیفہ“ اور ”تفسیر نور الثقلین“ سے معتبر اور قوی سند کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

اِنَّ لِلّهِ عَزَّ وَجَلَّ اِثْنَیْ عَشَرَالْفَ عَالَمٍ کُلّ عَالَمٍ مِنْهُم اکبَرُ مِنْ سَبعِ سَماواتٍ وَسبعِ ارَضِینَ مَا یُریٰ عَالَمٌ مِنْهُمْ انَّ لِلّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَالَماً غَیْرَهُم “[۴]

”خداوندعالم کے بارہ ہزار جھان ہیں، جن میں سے ہر ایک ساتوں آسمان اور زمین سے بڑا ہے، اور ان میں سے ہر ایک کے رھنے والے دوسرے جھان کی خبر نہیں رکھتے“۔

آج کل کے ستارہ شناس ماھرین کہتے ہیں: جھان ہستی ہزاروں جھان سے مرکب ہے اور ہر جھان میں ہماری زمین وآسمان سے بڑے زمین وآسمان ہیں۔[۵]

اکثر اوقات عدد (مثلا بارہ ہزار) قرآن مجید اور روایات میں حدود او رتعداد کو بیان کرنے کے لئے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مراد کثرت اور زیادتی ہوتی ہے؛ لہٰذا یہ تصور نہ پیدا ہوجائے کہ ہستی بارہ ہزار جھان میں محدود ہے، جھان کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہے جن کی تعداد قرآن مجید، روایات اور علم نجوم میں بیان ہوئی ہے۔

آسمان پر لٹکی ہوئی قندیلیں اور منظومہ شمسی

سید نعمت اللہ جزائری ”شرح صحیفہ“ میں حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے روایت ہے :

خداوندعالم نے ایک لاکھ قندیلیں خلق فرمائی ہیں، اور ان کو عرش پر لٹکایا ہے ، اور تمام آسمان وزمین اور جو کچھ ان کے درمیان موجود ہے یھاں تک کہ بھشت ودوزخ ایک قندیل میں ہے ، اور خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ دوسری قندیلوں میں کیا کیا ہے!!

علامہ شھرستانی اس معجز نما روایت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:

قندیل؛ منظومہ شمسی سے چند شباہت رکھتی ہیں:

پھلی شباہت: قندیل انڈے کی طرح ہے ، اور ہمارے نظام شمسی بھی آج کل کے ماھرین فلکیات کی بنا پر انڈے کی شکل کے ہیں۔

دوسری شباہت: قندیل ایک لطیف جسم والی ہے جو اس کے درمیان میں ہے اور وہ اپنے چاروں طرف نور ونار پھیلاتا ہے، اسی طرح ہمارا شمسی نظام ایک لطیف کرہ سورج پر مشتمل ہے جو وسط میں ہے اور اپنے اطراف موجود ستاروں کونور ونار عطا کرتا ہے۔[۶]

تیسری شباہت: قندیل ہوا میں لٹکی ہوئی ہے ، دیوار یا کسی دوسری چیز پر نصب نہیں ہے، اسی طرح ہمارا نظام شمسی فضا میں لٹکا ہوا ہے۔

چوتھی شباہت: قندیل کا نور بخش حصہ بالکل وسط میں نہیں ہے بلکہ وسط کے کافی حد تک قریب ہے، اسی طرح سورج بھی منظومہ شمسی کے بالکل وسط میں نہیں ہے۔

قارئین کرام ! مذکورہ شباہتوں کے پیش نظر یہ معجز نما روایت آج کل کے فلکیاتی ماھرین کے عقیدہ کے موافق ہے اور قدیم فلسفہ کے مخالف ہے ، جو اس بات کی طرف واضح طور پر اشارہ کررھی ہے کہ ہزاروں جھان ، منظومہ شمسی موجود ہیں، جو ایک دوسرے سے جدا اور مستقل ہیں اور ان میں بھی سورج، چاند، ستارے، شھر وبستی، اور بھشت ودوزخ وغیرہ ہیں؛ اور ان میں سے ہر ایک قندیل کے جھان میں نظام شمسی اور زمین وآسمان ہیں!![۷]

بے شمار سورج

بیسوی صدی کے آغازمیں جب عوام الناس نے یہ سنا کہ ہمارے اس کہکشاں میں جو رات کو واضح طور پر دیکھا جاتا ہے، تیس ملین سورج موجود ہیں، تو سب انگشت بدنداں ہوگئے، اور بھاگنے لگے۔ لیکن آج سائنس نے تحقیق کی کہ ہمارے کہکشاں میں دس ہزار ملین (۱۰.۰۰۰.۰۰۰.۰۰۰.) ستارے یعنی سورج موجود ہیں۔

ھم جب رات کے وقت بغیر دوربین کے اس کہکشاں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے، یھاں کہ برسات میں بادلوں کے ایک جھرمٹ کے برابر بھی دکھائی نہیں دیتا، لیکن اگر ایک فلکی بڑی دوربین جیسے رصد گاہ(جھاں سے ستاروں کاحال معلوم کیا جاتا ہے) کی دوربین ”ویلسون“ یا دوربین ”پالومر“ جس کا لینس پانچ میٹر کا ہوتا ہے؛ وغیرہ سے کہکشاں کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا بڑا اور عظیم ہے۔

کہکشاں میں سورج یکے بعد دیگرے اس طرح ہیں کہ ان کا صحیح طریقہ سے شمار بھی نہیں کیا جاسکتا، اور ابھی تک کسی بھی نجومی نے صحیح طور پریہ معین نہیں کیا ہے کہ ہمارے اس کہکشاں میں کتنے سورج ہیں بلکہ تخمینی طور پر کہتے ہیں: ہمارے اس کہکشاں میں دس ہزار ملین سورج ہیں۔!!

اس بنا پر کہکشاں کے ایک حصہ کو محدود کردہ سورج کو شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ہمارے اس کہکشاں میں دس ہزار ملین سورج ہیں۔

لیکن سورج کی تعداد اس سے کھیں زیادہ ہونے کا امکان، کیونکہ اس کہکشاں میں ستاروں کی تعداد اس زیادہ ہے کہ ان میں سے بعض بعض کے مقابل آجاتے ہیں جس کے وجہ سے ان کے پیچھے کے ستاروں کو دیکھا نہیں جاسکتا، لیکن کہکشاں کے عجیب وغریب عمق (گھرائی) سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان دکھائی دینے والے سورجوں کے علاوہ دوسرے سورج بھی موجودھیں۔ اس کہکشاں کے سورجوں کے درمیان ایسے سورج بھی ہیں جوایک کروڑھمارے سورج سے بڑے ہیں!!

ھمارے اس جھان میں ملیونوں کہکشاں موجود ہیں اور کبھی ان کہکشاں میں دوسرے کہکشانوں سے بیس لاکھ نوری [۸]سال کی دوری سے بھی زیادہ کا فاصلہ ہے۔

آج کل کی سب سے بڑی اور طاقتور دوربین ”پالومر“امریکہ میں ہے ، اس دوربین کے ذریعہ ایک ارب نوری سال کے فاصلہ پر کہکشانوں کے مختلف رنگوںکو دیکھا جاسکتا ہے، لیکن کبھی کبھی اس دوری کے پیچھے بھی نور دکھائی دیتا ہے جس سے نجومی حضرات اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ اس کے بعد بھی کہکشاں موجود ہیں۔

سورج کا وزن ارب در ارب(۱۰۰۰۰۰۰۰۰۰.۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰) ہے، اور ہمارا یہ کہکشاں جو جھان عظیم کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے تقریباً سورج کے ۱۶۵ ہزار ملین گنا وزن ہے۔

ان تمام مادہ او رعناصر کے باوجود ؛ جس کی عظمت اور بزرگی پورے جھان میں پھیلی ہوئی ہے؛ جھان کا زیادہ تر حصہ خالی یا تقریباً خالی ہے!!

ھم سے قریب ترین ستارے کا فاصلہ ۴۰ ملین ملین کلو میٹر ہے!![۹]

اس جھان عظیم کا ایک حصہ جس کو ایک محدود دور بین کے ذریعہ دیکھا گیا ہے ، ہم اسی کو دیکھ کر اور اس کے طول وعرض اور وزن کو ملاحظہ کرنے کے بعد کیا خدا ئے بزرگ کی عظمت اور بزرگی کا اندازہ لگاسکتے ہیں جس کی عظمت بے نھایت ہے اور پوری دنیامیں پھیلی ہوئی ہے؟!!

یہ جھان عظیم، خدائے عظیم کا کارخانہ اور اس کی کتاب ہے، فعل خدا کی تکوینی کتاب اور اس کی عظیم کتاب کو تھوڑا بہت پڑھ کر خداوندعالم کی عظمت کا اندازہ لگاسکتے ہیں ، اور پھر اپنے دل سے خلوص کے ساتھ یہ جملہ کھیں:

اللهُ اکْبَرُ مِنْ انْ ُیوصَفَ “[۱۰]

خدا اس کھیں زیادہ بزرگ ہے کہ اس کی توصیف کی جائے۔

کیونکہ بڑے سے بڑا عالم خدا کی توصیف کرنے والا اس کی توصیف سے عاجز ہے اور بلیغ ترین زبان اس کی تعریف کرنے سے گنگ ہے اور قوت فکر کی سب سے بڑی طاقت اس کی عظمت کے ایک حصہ تک بھی نہیں پھنچ سکتی ہے!

جی ہاں، اس کے بارے میں تو وھی جملہ کھا جس کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے تعلیم فرمایا ہے:

مَاعَرَفْنَاکَ حَقَّ مَعْرِفَتِکَ “[۱۱]

”جوحق تیری معرفت کا ہے وہ معرفت ہم حاصل نہیں کرسکتے“۔

وَبِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ

” اور اس سلطنت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے سے بلند تر ہے“۔

قارئین کرام ! آپ حضرات نے گزشتہ صفحات میں جھان ہستی کی عظمت کے ناچیز گوشوںکے بارے میں پڑھا، اور خداوندعالم کی بے چون وچرا سلطنت کو ملاحظہ کیا، اسی کی ذات! جھان اور اس کی مخلوقات کے ظاھر وباطن سے مافوق ہے۔ اس کی قدرت تمام چیزوں پر مسلط ہے، اور تمام چیزیں اپنے تمام امور میں اسی مالک الملک کی فرمانروائی کے زیر سایہ ہیں۔ اس دنیا میں ہر شخص اپنی صلاحیت کے لحاظ سے فرمانروائی رکھتا ہے، اور اس کی فرمانروائی خدا وندعالم کی عطا کردہ بخشش ہے، اور اگر وہ چاھے تو اس سے لے کر دوسرے کو عطا کرسکتا ہے۔

حکام اپنی فرمانروائی کو خداوندعالم کی سلطنت، حاکمیت اور فرمانروائی کی ایک کرن تصور کریں اور عدل وانصاف سے کام لیں اور اگر عدل وانصاف کے علاوہ حکمرانی کریں تو ان کا شمار ظالمین میں ہوگا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور تاریخ نے بھی یہ بات ثابت کی ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی، اور وہ انتقام لے لیتا ہے ، اور کچھ ہی مدت میں ظالم کو ذلیل وخوار کردیتا ہے، اور دردناک عذاب میں ڈھکیل دیتا ہے۔

اس کی فرمانروائی ،زمانہ نوح(ع) کے کفار ومشرکین کو موسلا دھار بارش اور زمین سے پانی کا چشمہ ابال کر طوفان کی شکل میں نیست ونابود کردیتی ہے۔

اس کی فرمانروائی، قوم عاد کو تیز آندھی اور طوفان کے ذریعہ سوکھی ہوئی گھاس کی طرح اڑا دیتی ہے، اور ایک منٹ میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس کی فرمانروائی ، کے ذریعہ دریائے نیل میں ظالم وجابر اور ستمگرجیسا فرعون غرق ہوجاتا ہے۔

وَبِوَجْهِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ

” اور اس ذات کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ہے“۔

اس کی ذات مقدس ؛ عین حیات ہے، اس کی ہستی ازلی، ابدی اور سرمدی ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رھے گا، کوئی چیز اس کے پھلو میں نہیں تھی اور نہ ہے، اس نے اپنے ارادہ کے ذریعہ تمام چیزوں کو خلق فرمایا حالانکہ وہ تمام چیزوں سے بے نیاز ہے، تمام چیزیں فنا ہونے والی ہیں، جب کہ اس کی ذات ہمیشہ کے لئے باقی رھے گی۔

اس جھان ہستی میں کوئی بھی چیز اپنی طرف سے مستقل حیات نہیں رکھتی، اس کی حیات خداوندعالم کی ایک روح پھونکنے کا ایک معمولی اشارہ ہے، لہٰذا تمام چیزوں میں فنا ہونے کی قابلیت حتمی ہے، فنا صفات نقص اور بقا صفات کمال میں سے ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کمال مطلق باقی رھے گا، اور فنا ایک ایسی مُھر ہے جو تمام ہی موجودادت کی پیشانی اور تمام چیزوں کی دفتر حیات پر لگی ہوئی ہے۔

وَبِاسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ

” اور اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ہے جن سے ہر شے کے ارکان معمور ہیں“۔

دعا کے اس فقرہ میں”اسماء“ سے مراد لفظی اسماء نہیں ہیں جو حروف سے مرکب ہوتے ہیں، بلکہ وہ حقائق اور مصادیق مراد ہیں جن پر الفاظ دلالت کرتے ہیں۔

رحمت واقعی، لطف حقیقی، علم ذاتی، عدل عینی اور قدرت فعلی نے تمام چیزوں کی ضرورتوں کو پورا کردیا ہے، یا یوں کہئے کہ تمام چیزیں خدا کی حقیقی خالقیت، بارئیت، مصوریت، علم، بصیرت، عدل، حکمت، رحمت اور رافت کی مظھر ہےں۔

تمام موجودات انھیں حقائق کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں، اور انھیں کے ذریعہ باقی و قائم ہیں، نیز انھیں کی برکت سے ان کی زندگی باقی ہے اور انھیں کے سبب سے ان کو روزی ملتی ہے۔

انھیں تمام چیزوں میں غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حروف سے مرکب شدہ لفظی اسماء ”اسماء حقیقی“ ہیں۔ اور ”کلُّ شیءٍ“یعنی تمام موجودات کے مختلف حالات اور ان کی حقیقت و حیثیت موثر ہیں اسماء حقیقی موثرھیںاسماء لفظی نہیں ۔

بھر حال یھی اسماء حقیقی جھان ہستی کی مختلف حقائق کے تحقق کے لئے واسطہ ہیں۔ جیسا کہ معصومین علھیم السلام سے وراد شدہ ”دعاء سمات“ میں ہم پڑھتے ہیں:

”بار الہٰا! تیری بارگاہ میں تیرے بڑے نام سے، تیرے عظیم نام سے، تیرے عزیز نام سے، تیرے برجستہ نام سے، اور تیرے گرانبھا نام سے سوال کرتا ہوں ۔

قارئین کرام ! اس دعا میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ لفظ قدرت کے” ق د ر ت“سے نہیں ہے بلکہ حقیقت قدرت اور عین قدرت کی وجہ سے ہیں۔

جن اسماء کے ذریعہ ”کلّ شیءٍ“ ( یعنی تمام چیزوں) کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، در حقیقت وہ موجودہ حقائق ہیں جن کو قرآن مجید اور احادیث معصومین علیھم السلام میں ”اسماء“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

انھیں اسماء کے حقائق میں سے ”ائمہ طاھرین علیھم السلام“ ہیں جو تمام ہی مخلوقات میں خاص عظمت و اھمیت کے حامل ہیں، جو بندوں اور خدا کے درمیان روز قیامت کے لئے ”واسطہ فیض“ ہیں۔ خداوندعالم کی رحمت، ہدایت، لطف، رافت، کرم و بخشش انھیں حضرات کے صدقہ میں بندوں تک پھنچتی ہیں،اور انھیں حضرات کی معرفت اور ولایت کے زیر سایہ بندوں کے اعمال بارگاہ الٰھی میں قبول ہوتے ہیں۔

حکیم بزرگوار فیض کاشانی اپنی عظیم الشان تفسیر ”صافی“ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

نَحْنُ وَاللهِ الاسْمَاءُ الْحُسْنیٰ اَلَّذِیْ لَا یَقْبَلُ اللّٰهُ مِنَ الْعِبَادِ عَمَلاً اِلّٰا بِمَعْرِفَتِنَا

”خدا کی قسم ہم خدا کے اسماء حسنیٰ ہیں، کہ خدا اپنے بندوں کے اعمال ہماری معرفت اور ہماری ولایت سے تمسک کے ذریعہ ہی قبول کرتا ہے“۔

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ انسان اگرفقط الفاظ پر توجہ کرے تو کسی مقام پر نہیں پھنچ سکتا ، لہٰذا الفاظ کو چھوڑتے ہوئے حقیقت کی تلاش کریں، کیونکہ عالم ہستی میں جتنے بھی آثار پائے جاتے ہیں وہ اسماء حقیقی یا عین واقعیات ہیں۔

وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الْعَرشَ وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الْکُرْسِیَّ، وَ بِالاسْمِ الَّذِیْ خَلَقْتَ بِهِ الرُّوْحَ “۔

”اس اسم کی قسم جس کے وسیلہ سے عرش پیدا ہوا، اور اس اسم کی قسم جس کے ذریعہ کرسی کا وجود پیدا ہوا اور اس اسم کی قسم جس کی برکت سے روح کو خلق کیا“۔

وَبِعِلْمِکَ الَّذي احٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ “۔

” اوراس علم کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے “

خدا وندعالم کے علم کے سلسلہ میں جو علم فعلی اور علم حضوری ہے اور جو تمام موجودات کے ظاھر و باطن کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں ہے (اگرچہ کروڑوں ذرات میں سے کوئی بھی ذرہ کیوں نہ ہو) تمام مخلوقات کی تعداد، ان کے ذرات ، اور مختلف قسم کے دانے یھاں تک کہ بارش کے قطروں کا علم اس کے پاس موجود ہے۔ھم یھاں پر اس سلسلہ میں قرآن مجید میں بیان شدہ آیات پر اکتفاء کرتے ہیں:

ارشاد الٰھی ہوتا ہے:

َیَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْارْضِ ۔۔۔“[۱۲]

”وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے“۔

وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُهَا ۔۔۔“[۱۳]

”اور وہ خشک وتر سب کا جاننے والا ہے کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو اسے اس کا علم ہے“۔

وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ “[۱۴]

”اور اللہ ہی تمھارے باطن و ظاھر دونوںسے باخبر ہے“۔

یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْارْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا یَنزِلُ مِنْ السَّمَاءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیهَا وَهُوَ الرَّحِیمُ الْغَفُورُ “[۱۵]

”وہ جانتا ہے کہ زمین میں کیا چیز داخل ہوتی ہے اور کیا چیز اس سے نکلتی ہے اورکیا چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے اورکیا اس میںبلند ہوتی ہے اور وہ مھربان اور بخشنے والا ہے“۔

ان آیات کی حقیقت کو بہتر سمجھنے کے لئے پھاڑ کے ایک حصہ کو دیکھ لینا کافی ہے جوہزاروں کی تعداد دنیا بھر میں موجود ہےں۔

ماھرین نےآج تک کی رپورٹ کے مطابق کیڑے مکوڑوں کی سات لاکھ قسموں کا پتہ لگالیا ہے، جبکہ ان کی تعداد اس قدر ہے کہ الفاظ میں ان کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔

گرمی کے دنوں میں جب آسمان صاف ہو تو اس وقت سوسک ، مکھی اور کنکھجوروں کی تعداد پھاڑ کی ایک دراڑھ میں اس قدر زیادہ ہے کہ ایک برّاعظم کے لوگوں سے بھی زیادہ ہے۔ اور اگر اس زمین سے ناگھاں نوع بشریت کا خاتمہ ہوجائے تو زمین پر دوسری موجودات اس قدر زیادہ ہیں کہ مشکل سے نوع بشریت کے خاتمہ کا احساس کرپائیں گے۔[۱۶]

وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذي اضٰاءَ لَهُ کُلُّ شَيْءٍ “۔

” اوراور اس نور ذات کے واسطہ سے ہے جس سے ہر شے روشن ہے“۔

آیات و روایات میں نور کے معنی

قرآن مجید اور روایات میں کمالات اور اقدار کو ”نور“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

”نور“ سے مراد ہدایت ہے[۱۷]، ”نور“ کے معنی ایمان کی طرف قدم بڑھانے کے ہیں۔[۱۸] ”نور“ یعنی اسلام۔ ”نور“ یعنی معرفت۔ ”نور“ یعنی علم۔ ”نور“ یعنی دلی روشنی۔[۱۹]

قرآن کریم میں ”نور“ کے معنی اس طرح بیان کئے گئے ہیں:

قَدْ جَاءَ کُمْ مِنْ اللهِ نُورٌ وَکِتَابٌ مُبِینٌ “[۲۰]

”اے اہل کتاب !تمھارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو ان میںسے بہت سی باتوں کی وضاحت کررھا ہے جن کو تم کتاب خدا میںسے چھپا رھے تھے“۔

”نور“کے معنی احکام الٰھی ، مسائل اخلاقی اور اعتقادی حقائق ہیں:

” إِنَّا انزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیهَا هُدًی وَنُورٌ “[۲۱]

”بیشک ہم نے توریت کو نازل کیا جس میںھدایت اورنور ہے“۔

قارئین کرام ! مذکورہ معانی کے پیش نظر یہ بات کھی جائے کہ ”نور“ سے مراد خداوندعالم کے صفات، کمالات اور اسماء حسنیٰ ہیں جن سے ہر مخلوق اپنی استعداد اور قابلیت کے لحاظ سے فیضیاب ہوتی ہے۔ اور اس کامرانی میں اپنی ظلمت و تاریکی سے نجات پیدا کرتی ہے۔

صاحب استعداد انسان؛ اس بہت اھم اور سنھرے موقع سے ظلمت عدم سے نورھستی کی طرف، ظلمت نقص سے نور کمال کی طرف، ظلمت جھل سے نور معرفت کی طرف، ظلمت ظلم سے نور عدالت کی طرف، ظلمت کفر سے نور ایمان کی طرف، ظلمت ضلالت سے نور ہدایت کی طرف اور ظلمت مادیت سے نور معنویت کی طرف آتا ہے ا ور اس سے آراستہ و مزین ہوتا ہے، در حقیقت خدا کے اسماء و صفات کا طلوع مطلع الفجرھوتا ہے جو نور محض اور نور خالص ہے۔

قرآن کریم کی آیات اور معصومین علیھم السلام کی تعلیمات کے پیش نظر یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ ”نوروجہ“ سے مراد وھی حقائق اور کمالات ہیں جس کے ایک ہزار نمونے ”دعاء جوشن کبیر“ میں بیان کئے گئے ہیں۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لفظ ”نور“ مفرد کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خداوندعالم کے تمام اسماء حسنیٰ اور اس کے بلند و بالا صفات، اس کی عین ذات ہیںاور اس کی ذات مقدس میں کسی طرح کی کوئی”ترکیب“ نہیں ہے یعنی صفت اور موصوف کا تصور نہیں پایا جاتا۔ خدا وندعالم کا علم، اس کی حکمت، اس کا عدل، رحمت، لطف اور اس کی رحمانیت وغیرہ تمام کی تمام اسی خدا ئے واحد ویگانہ کی ذات بابرکت ہے۔

اور چونکہ لفظ ”نور“ کا استعمال ہدایت پر ہونا معارف الٰھی میں بہت زیادہ بیان ہوا ہے جس کے پیش نظر شاید اس نورا نی جملے کے معنی یہ ہوں:

”خدایا! میں تجھ سے تیری اس ہدایت اور رھنمائی کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جس کے ذریعہ تمام موجودات ہدایت یافتہ ہیں“۔

بھر حال لفظ ”نور“ میں تمام آسمانی اور ملکوتی معنی اور مفاھیم سمائے ہوئے ہےں،یہ تو ذوق سلیم اور قلب نورانی اپنے لحاظ سے مختلف معنی میں استعمال کرتا ہے؟

” یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ، یٰا اوَّلَ الْاوَّلینَ،وَیٰا آخِرَ الْآخِرینَ “۔

”اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر“۔

اے تمام کمالات، اے سب کے پیدا کرنے والے ، اے ظھور محض،اے ظاھر، اے آشکار اور اے واضح کہ روز عرفہ صحرائے عرفات میں تیرا عاشق بے قرار اور عارف دلدادہ نیز تیرا خالص بندہ اور تیرے نور کا مطلع الفجر یعنی حضرت امام حسین علیہ السلام تیری بارگاہ میں عرض کرتا ہے:

ایَکُونُ ِلغَیرِکَ مِنَ الظُّهورِما لَیسَ لَکَ حَتَّی یَکونَ هُوَ المُظهِرَ لَکَ؟ مَتَی غِبْتَ حَتَّی تَحْتاجَ ِالَی دَلیلٍ یَدُلُّ عَلَیکَ وَمَتی بَعُدْتَ حَتَّی تَکونَ الآثارُ هِیَ الَّتِی تُوصِلُ اِلَیکَ؟ “[۲۲]

”کیا تیرے علاوہ کسی غیر کے لئے کوئی ظھور ہے جو تیرے لئے نہیں ہے، جو کوئی دوسرا تیرے ظھورکے لئے وسیلہ بنے؟ بارالٰھا تو کب مخفی تھا جس کو ظاھر کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہوتی، تو کب دور تھا جو تجھ تک پھنچانے والے آثار کی ضرورت ہو؟“

” اے پرودگار عالم! جس وقت میں اپنی نفسانی حالت سے دور رہتے ہوئے اپنی حقیقت کو سمجھنے کے بعد غور سے دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اس جھان ہستی میں تیرے جلال و جمال کی روشنی ہر چیز سے روشن تر ہے، تیرے وجود کے لئے کوئی خِفا اور پوشیدگی نہیں ہے، کہ کوئی چراغ جلا کر تیری ربوبیت کی جستجو کروں، کیونکہ جب بھی کسی حقیقت کے ذریعہ اپنے راستہ کی دلیل فرض کروں تو غور و فکر کے بعد یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس دلیل کا پیدا کرنے والااور اس چراغ کو روشن کرنے والا بھی تو ہی ہے“۔

تو کس وقت غائب اور چھپا ہوا تھا کہ کسی دلیل کا محتاج ہوتا جو تیرے وجود پر دلالت کرتی، اور تو کب اور کس موقع پر دور تھاتاکہ تیرے ہی پیدا کردہ آثار کے ذریعہ ؛تجھ تک پھنچاجاتا؟

اے تمام عیوب سے پاک و پاکیزہ! اے تمام نواقص اور خامیوں سے پاک و منزہ! اے جو تمام توصیف بیان کرنے والوں کی توصیف سے بلند و بالا ہے! اے کل الکمال! اے حقیقت محض! یا نور یا قدوس! اے تمام چیزوں کی ابتداء بغیر اس کے تری ذات مقدس کے لئے کوئی ابتداء ہو، اے تمام چیزوں کی آخر کے آخر بغیر اس کے تیری ذات کے لئے کوئی آخر ہو، تو ہر چیز کی ابتداء کرنے والا ہے حالانکہ تیرے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے، اور اے ذات ازلی! جو تمام چیزوں کے فنا ہونے کے بعد بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رھے گا۔

ابتداء اور آخر صفت ”کل شیءٍ“ کی ایک اصطلاح ہے۔ تمام چیزیں اول اور آخر نیز ابتداء اور انتھا رکھتی ہیں اور اس ابتداء و انتھا میں دو حقیقتیں ہیں جن کو تو نے ہر مخلوقات کے لئے قرار دے رکھا ہے۔ ابتداء کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ موجودات ایک دن نہیں تھیں، تو نے ان کو لباس خلقت سے آراستہ کیا، اور آخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک دن فنا کی چادر اوڑھ لےںگی اور تیری ہی ذات ان کو فنا دے گی۔ لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ تو ”کل شیءٍ“ سے پھلے تھا اور ”کل شیءٍ“ کے بعد بھی باقی رھے گا، اور تیرے بعد کوئی چیز نہیں رھے گی۔

یٰا اوَّلَ الْاوَّلینَ،وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ ۔

اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِکُ الْعِصَمَ “۔

” خدایا میرے ان تمام گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں“۔

گناہ

وہ اعمال و افعال، حالات ورفتار اور وہ اخلاق و کردار جو خداوندعالم اور انبیاء و ائمہ معصومین علیھم السلام کے احکام کے خلالف ہوں ؛ ان کو گناہ شمار کیا جاتا ہے۔

بعض گناھوں کی شدت اور جرم اس قدر زیادہ ہے جن کو انجام دینا خدا و رسول سے جنگ کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے[۲۳]

جو انسان اس دنیا میں گناہ کرتا ہے وھی روز قیامت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آتش جھنم بن کر گناھگارکے ساتھ ساتھ رھےں گے:

( إِنَّ الَّذِینَ یَاکُلُونَ امْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَاکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ نَارًا ) ۔۔۔“[۲۴]

”جو لوگ ظالمانہ انداز سے یتیموںکا مال کھاجاتے ہیںوہ درحقیقت اپنے پیٹ میں آگ بھر رھے ہیں“۔

گناہ کرنا، خدائے رحمن و کریم کے دسترخوان پر نمک کھا کر نمک دان توڑ دینے کی طرح ہے۔

زندگی بھر نمک کھاکر نمک دان کو توڑنا بہت بے انصافی ہے۔

نمک کھاکر نمک دان توڑدینے والی حکایت

یعقوب لیث، سیستان کی مشھور و معروف شخصیت، جس نے خونخوار اور ظالم عباسی حکومت کے خلاف انقلاب کی بنیاد ڈالی، شروع میں” مسگر“ (تانبے کے برتن بنانے والے) کے علاوہ کچھ نہیں تھے۔

کافی دنوں تک اپنے کام میں مشغول رھے اور اپنے حاصل کردہ پیسہ کو فراخ دلی سے اپنے نوجوان دوستوں کو کھلاتے رھے۔

اس کی سخاوت اور شجاعت کی وجہ سے کچھ جوان بھادر اور محنت کش بھی اس کے پاس آگئے۔

اپنے اس ساتھی کی وجہ سے اس نے اپنا کام چھوڑ دیا ، اور ایک دوسرا کام شروع کردیا، لیکن کچھ مدت کے بعد ہی اس کام کو بھی چھوڑ دیا اور سیستان کے حاکم یا امیر کے مال پر نگاہ جمالی اور اس کے مال میں خیانت کرنے کا پروگرام بنالیا۔ لیکن چونکہ امیرکی طرف مال کی حفاظت کے لئے سخت محافظ قرار دئے گئے تھے، لہٰذا ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، پروگرام یہ بنایا کہ بیرون شھر سے ایک سرنگ اس کے خزانہ تک کھودی جائے جس کے ذریعہ اس کا سارا مال حاصل کرلیا جائے۔

سرنگ کھودنے میں چھ مھینے لگ گئے، آخر کار وہ اس کے خزانہ تک پھنچ گیا اور ایک سوراخ کے ذریعہ خزانہ میں وارد ہوگیا تمام سونا، چاندی اور قیمتی جواھرات ، درھم و دینار آھستہ آھستہ مختلف بوریوں میں بھر لیا اور کسی محافظ و نگھبان کو خبر تک نہ ہوئی ، سرنگ کے ذریعہ ان کو باھر لا ہی رھا تھا کہ اس آدھی رات میں یعقوب کی نگاہ ایک چمکتی ہوئی گوھر جیسی چیز کی طرف رکی۔لیکن چونکہ کافی اندھیرا تھا اس کو نہ پہچان سکا، زبان سے چھک کر دیکھا تو بہترین چمکتا ہوا نمک تھا، اس موقع پر اس نے اپنے تمام ساتھیوں کو حکم دیا کہ تمام مال کو یھیں چھوڑدو اور خالی ہاتھ یھاں سے نکل چلو۔

اس کے تابع اور مطیع جوانوں نے تمام مال کو وھیں چھوڑ ا او رخالی ہاتھ شھر سے باھر آگئے، اور جب یعقوب سے اس کام کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اگرچہ میں نے خزانہ تک پھنچنے کے لئے چھ مھینہ تک بہت زیادہ زحمت اٹھائی ہے اور چاہتا تو اس کا سارا مال لے جاتا، لیکن چونکہ میں نے امیر سیستان کا نمک کھالیا ہے لہٰذایہ میری غیرت اور انصاف سے دور ہے کہ اس کا نمک کھاکر اس کے مال کو غارت کرڈالوں!!

ادھر جب محافظوں نے خزانہ کا دروازہ کھوالا تو وھاں کی حالت دیکھ کر خصوصاً وھاں پر موجود سونا چاندی او ردرھم و دینار کو دیکھ کر مبھوت رہ گئے اور اس کی رپورٹ امیر سیستان کو دی۔ امیرنے یہ واقعہ سن کر شھر میں اعلان کرادیا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہو وہ اپنے کو امیر کے سامنے حاضر کردے تاکہ امیر اس کو بہترین انعامات سے نوازے۔

ادھر جب یعقوب نے امیر کا یہ اعلان سنا تو فوراً امیر کے پاس پھنچے، اور کھا کہ میں نے تمھارا نمک کھالیاتھا، لہٰذا نمک کھاکر نمک دان توڑنا میری غیرت کے خلاف تھا۔

جب امیر سیستان نے ایسے شجاع، بھادر، محنتی ، انصاف پسند جوان کو دیکھا تو بہت خوش ہوا اور اس کو سیستان کے لشکر کا امیر بنادیا، اسی وقت سے یعقوب نے وھیں سے ترقی کرنا شروع کردی یھاں تک کہ عباسیوں کی ظالم حکومت سے مظلومین کو نجات دلانے کی کوششیں شروع کردیں اور ایک انقلاب کی بنیاد ڈالدی۔

گناہ ،ایک معنوی نجاست ہے جس کی وجہ سے انسان کی روح و جان اور خیال و فکر اور دل گندا ہوجاتا ہے ، جس کی بنا پر انسان رحمت الٰھی، لطف خداوندی اور فیض الہٰی سے محروم ہوجاتا ہے۔

گناہ کی وجہ سے انسان سے حفاظت کرنے والاعذاب و ذلت کا پردہ پھٹ جاتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں اس کے اسرار اور راز فاش ہوجاتے ہیں، اور وہ بندگی کی منزل سے خارج ہونے لگتا ہے، نیز خداوندعالم کی بخشش و مغفرت اور اس کی پردہ پوشی سے دور ہوتا چلا جاتا ہے!

علماء اسلام نے قرآن مجید اور معصومین علیھم السلام کی احادیث کے پیش نظر گناھوں کی دو قسمیں بیان کی ہیں:

۱ ۔ گناہ کبیرہ۔

۲ ۔ گناہ صغیرہ۔

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہیں جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا ان گناھوںکے بدلے دوزخ کو واجب کردیتا ہے۔[۲۵]

اگر انسان گناہ کبیرہ سے دور رھے اور اس خطرناک وادی میں قدم نہ رکھے اور دامن انسانیت کو آلودہ نہ کرے تو خداوندعالم اس کے دوسرے گناھوں سے در گزر کرجاتا ہے اور اس پر اپنی رحمت و مغفرت نازل فرماتا ہے:

( إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلًا کَرِیمًا ) “[۲۶]

”اگر تم بڑے بڑے گناھوںسے جن سے تمھیں روکا گیا ہے پرھیز کرلو گے تو ہم دوسرے گناھوںکی پردہ پوشی کردیں گے اور تمھیں باعزت منزل تک پھنچا دیں گے“۔

کتاب گرانقدر ”عیون اخبار الرضا(ع)“ میں حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام علیہ السلام نے گناھان کبیرہ کی فھرست اس طرح بیان فرمائی:

۱ ۔ نفس محترم کا قتل کرنا۔

۲ ۔ زنا۔

۳ ۔ چوری۔

۴ ۔ نشہ آور چیزیں کھانا۔

۵ ۔ عاق والدین ہونا۔

۶ ۔جنگ سے بھاگنا۔

۷ ۔ناجائز طریقہ سے مال یتیم کھانا۔

۸ ۔مردار ، خنزیر اور جس جانور پر ذبخ کرتے وقت غیر خدا کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھانا۔

۹ ۔سود۔

۱۰ ۔مال حرام کھانا۔

۱۱ ۔قمار بازی (جُوا)۔

۱۲ ۔کم تولنا۔

۱۳ ۔کسی پاک دامن پر تھمت لگانا۔

۱۴ ۔لواط۔

۱۵ ۔رحمت خدا سے مایوس ہونا۔

۱۶ ۔اپنے کو عذاب خدا سے محفوظ گرداننا۔

۱۷ ۔ظالموں کی مدد کرنا۔

۱۸ ۔ستمگروں سے دلی لگاؤ رکھنا۔

۱۹ ۔جھوٹی قسم کھانا۔

۲۰ ۔بغیر تنگدستی کے حقوق الناس کو ادا نہ کرنا۔

۲۱ ۔جھوٹ۔

۲۲ ۔تکبر۔

۲۳ ۔اسراف۔

۲۴ ۔ تبذیر (فضول خرچی کرنا)۔

۲۵ ۔خیانت کرنا۔

۲۶ ۔حج کو سبک اور کم اھمیت قرار دینا۔

۲۷ ۔اولیاء اللہ سے جنگ کرنا۔

۲۸ ۔بے فائدہ اور بے ہودہ کھیلوں میں مشغول رھنا۔

۲۹ ۔گناھوں پر اصرار کرنا۔[۲۷]

گناھوں کے برے آثار

قرآنی آیات اور روایات معصومین علیھم السلام کے پیش نظر گناھوں کے برے آثار کو درج ذیل عناوین کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

گناہ کے ذریعہ انسان کے نیک اعمال نابود ہوجاتے ہیں۔ گناہ کی وجہ سے انسان دنیاوی بلاؤں اور اُخروی درد ناک عذاب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ گناہ کی وجہ سے انسان شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے محروم ہوجاتا ہے۔ گناہ دل کو سخت و تاریک بنادیتے ہیں۔ گناہ کی وجہ سے ایمان ختم ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ موعظہ و نصیحت بے اثر ہوجاتے ہیں۔ گناہ انسان کو ذلیل و رسوا کردیتے ہیں۔ گناہ کی وجہ انسان رزق الٰھی سے محروم ہوجاتا ہے۔ گناہ انسان کو منزل عبادت اور بندگی سے دور کردیتی ہے۔ گناھوں کی وجہ سے انسان پر شیطان کے مسلط ہوجانے کا راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے گھر، خاندان اور اجتماعی زندگی میں پریشانیاں پیدا ہوجاتی ہے۔ گناہ کی وجہ ایک دوسرے پر اعتماد اور اطمینان کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ گناہ دل پر قبضہ کرلیتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے انسان کو جان کنی کی حالت، فشار قبر اور برزخ میں سختی اور پریشانی ہوتی ہے۔[۲۸]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :

امَا اِنَّهُ لَیسَ مِن عِرقٍ یَضْربُ وَلا نَکْبَةٍ وَلاصُداعٍ وَلا مَرَضٍ الّا بِذَنبٍ وَذَلِکَ قَولُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِی کِتابِهِ: ” وَمَا اصَابَکُمْ مِنْ مُصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ ایْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیرٍ [۲۹]

”کوئی بھی رگ نہیں کٹتی اور کبھی ٹھوکر نہیں لگتی اور کسی کے سر میں درد نہیں ہوتااسی طرح کوئی بیماری یا مرض انسان کو نہیں ہوتا مگر یہ کہ انسان کے گناھوں کی وجہ سے۔ اسی وجہ سے خداوندعالم نے قرآن [۳۰]مجید میں ارشاد فرمادیا ہے:”اور تم تک جو مصیبت بھی پھنچتی ہے وہ تمھاری ہی وجہ سے ہے اور وہ بہت سی باتوںکو معاف بھی کردیتا ہے “۔

اسی طرح امام علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

انّ الرَّجُلَ یُذنِبُ الذَّنبَ فَیُحْرَمُ صَلَاةَ اللَّیلِ وَاِنَّ العَمَلَ السَّیِّیٴَ اسْرَعُ فِی صاحِبِهِ مِن السِّکِینِ فِی اللَّحْم “[۳۱]

”بے شک جب انسان گناھوں کا مرتکب ہوتا ہے تو خداوندعالم اس کو نماز شب پڑھنے کی توفیق سے محروم کردیتا ہے، گناہ کا اثر گوشت پر چاقو کی دھار سے تیز ہوتا ہے“۔

حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

اوحَی اللهُ عَزَّوَجَلَّ الَی نَبیٍّ مِنَ الَانبِیاءِ:اِذا اطِعْتُ رَضِیتُ ،وَاِذا رَضِیتُ بَاَرکْتُ،وَلَیْسَ ِلبَرَکَتِی نِهایَةٌ وَاِذا عُصِیتُ غَضِبْتُ،وَاِذاغَضِبتُ لَعَنتُ،وَلَعْنَتی تَبْلُغُ السَّابِعَ مِن الوَرَی “[۳۲]

”خداوندعالم نے اپنے پیغمبر پر وحی نازل فرمائی کہ جب کوئی شخص میری اطاعت کرتا ہے تو میں خوشنود ہوتا ہوں اور جب خوشنود ہوتا ہوں تو اس شخص کے لئے برکت قرار دیتا ہوں جبکہ میری برکت بے نھایت ہے۔ اور اگر کوئی شخص میری نافرمانی و معصیت کرتا ہے تو ناراض ہوتا ہوں اور جب ناراض ہوتا ہوں تو اس پر لعنت کرتا ہوں اورمیری لعنت سات پشتوں تک شامل رہتی ہے“۔

یہ بات تجربہ سے ثابت ہوئی ہے کہ جب نیک افراد پر غربت و ناداری، بیماری و ناتوانی یا رزق کی قلت جیسی بلائیں نازل ہوتی ہیں تو یہ بھی ان کے لئے خدا کا ایک لطف و کرم ہوتا ہے تاکہ دوسروں کی طرح گناہ اور طغیان میں مبتلا نہ ہوں۔

گناہ پر اصرار (یعنی ایک گناہ کو بار بار انجام دینے) کے بارے میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے روایت ہے:

”خداوندعالم ہر بندہ کی حرمت کے لئےچالیس پردہ قرار دیتا ہے، مگر یہ کہ جب انسان چالیس گناھوں کا مرتکب ہوجاتا ہے، (تو اس کے وہ پردہ ختم ہوجاتے ہیں) اس وقت خداوندعالم اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے پروں سے میرے بندے کو چھپالو۔ چنانچہ فرشتے اپنے بالوں سے اس کو چھپائے رکھتے ہیں، مگر وہ شخص گناھوں پر گناہ بجالاتا رہتا ہے یھاں تک کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنے گناھوں پر فخر کرتا ہے، اس وقت فرشتے کہتے ہیں: پالنے والے! یہ تیرا بندہ ہر گناہ کا مرتکب ہوتاجاتا ہے اور ہمیں شرم آتی ہے۔ خداوندعالم ان پر وحی نازل کرتا ہے کہ اپنے پروں کو ہٹالو۔ اور جب نوبت یھاں تک پھنچ جاتی ہے تو اس وقت وہ شخص اہل بیت (علیھم السلام) سے دشمنی کرنا شروع کردیتا ہے، اس وقت زمین وآسمان میں اس کی حرمت و عظمت کا پردہ چاک چاک ہوجاتا ہے۔ اس وقت فرشتے کہتے ہیں : پروردگارا! تیرے بندہ کا پردہ پارہ پارہ ہوچکا ہے، اس وقت وحی الٰھی نازل ہوتی ہے کہ اگر خدا اس پر توجہ رکھتا تو تمھیں پروں کے ہٹا لینے کا حکم ہی نہیں دیتا![۳۳]

وہ باتقویٰ اور پاکدامن انسان جو ہمیشہ یاد خدا اور قیامت پر توجہ رکھتا ہے اور گناھوں کے برے آثار سے ظاھر اور مخفی طریقہ سے دوری اختیار کرتا ہے وہ زندہ ہے، لیکن خداوند عالم قیامت اور انجام گناہ سے نہ ڈرنے والا گناھگار شخص مردہ ہے۔[۳۴]

جن گناھوںکے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے:

محدث بزرگوار شیخ صدوق علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”معانی الاخبار“ میں گناھوں کے برے آثار کے سلسلے میں ایک بہت اھم حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جس کے ایک حصہ کو دعاء کمیل کے ”اللھم اغفر الی الذنوب“ سے شروع ہونے والے جملوں کی وضاحت میں فرمایا:

جن گناھوں کے ذریعہ پردہ اٹھ جاتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱ ۔ نشہ آورچیزیں پینا۔

۲ ۔ جُوا کھیلنا۔

۳ ۔بے ہودہ کاموں اورلوگوں کو ہنسانے کے لئے بے جا مذاق میں مشغول رھنا۔

۴ ۔ دوسروں کے عیوب بیان کرنا۔

۵ ۔ گناہ و بدکاری سے متھم افراد کی ہم نشینی۔

شراب خوری:

حضرت امام موسیٰ کاظم ، و امام رضااور امام محمد تقی علیھم السلام نے شراب پینے کو گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے۔

عصر حاضر کے مغربی و مشرقی دانشوروں اس بات کے قائل ہیں کہ نشہ آور اشیاء چاھے کم ہو یا زیادہ انسان کے دل و دماغ اور معدہ اور پھیپڑوں نیز سانس کی نالی اور خون کی روانی میں خطرناک اثرات پیدا کرتی ہیںجو اس کی اولاد میں بھی پھنچتے ہیں، اور بعض اوقات تو ان کا علاج کرنا ناممکن ہے، جس کے نتیجہ میں شراب پینے والے کی ہلاکت یقینی ہوجاتی ہے۔

”شیطانی بوٹل“ یعنی شراب ایک بہت خطرناک شیطان اور جانی دشمن ہے اور شرعی لحاظ سے نجس ہے۔

قرآن مجید نے سیال نشہ آور اشیاء کو ناپاک، رجس اور شیطانی کاموں میں شمار کیا ہے۔[۳۵] اور اس کے فائدہ کو اس نقصان کے مقابلہ میں بہت کم اور ناچیز شمار کیا ہے۔[۳۶]لہٰذا شراب انھیںنا قابل تلافی خطرات کی بنا پر تمام لوگوں پر حرام کی گئی ہے اور شراب پینے والے کو اگر توبہ نہ کرسکے تو اس کو دنیا وی اور اُخروی عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا۔

پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے شراب کے سلسلہ میں دس لوگوں پر لعنت کی ہے:

۱ ۔ جو کوئی شخص شراب بننے والی چیزوں کے درخت کو شراب کے لئے لگائے۔

۲ ۔ جو شخص اس درخت کی دیکھ بھال کرے۔

۳ ۔ جو شخص شراب بنانے کے لئے انگور یا کسی دوسری چیز کا رس نکالے۔

۴ ۔ شراب پینے والا۔

۵ ۔ شراب پلانے والا۔

۶ ۔ جو شخص شراب کو اپنے کاندھے پر یا سواری پر رکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جائے۔

۷ ۔ جو شخص اس لانے لے جانے والے سے لے کر رکھے۔

۸ ۔ شراب بیچنے والا۔

۹ ۔شراب خریدنے والا۔

۱۰ ۔ شراب سے حاصل شدہ منافع کو کھانے والا۔

روز قیامت شراب خوراس حال میں محشور کیا جائے گا کہ اس کا چھرہ سیاہ، منھ ٹیڑھا اور اس کی زبان پیاس کی شدت سے باھر نکلی ہوئی ہوگی، اس وقت اس کو زنا زادوں کی میل و گندگی گرنے والے کنویں سے پانی پلایا جائے گا۔[۳۷]

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

”شراب خوری بت پرستی کے برابر ہے“۔[۳۸] شراب خوار روز قیامت کافر محشور کیا جائے گا“۔[۳۹] ”شراب خواری تمام گناھوں کی بنیاد ہے“۔[۴۰]

حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کی نظر میں شراب خوری؛ چوری اور زنا سے بدتر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں؛ کیونکہ زنا کرنے والا شاید کوئی دوسرا گناہ نہ کرے، لیکن شراب پینے والا جب شراب پی لیتا ہے تو وہ زنا بھی کرسکتا ہے، کسی کو قتل بھی کرسکتا ہے اور نماز کو بھی ترک کردیتا ہے۔[۴۱]

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

”جو شخص شراب پئے در حالیکہ مجھ سے اس کی حرمت کے بارے میں سن چکا ہو ، تو اگر ایسا شخص کسی لڑکی سے رشتہ لے کر آئے تو اس کو مثبت جواب دینا سزاوار نہیں ہے، شراب پینے والے کی سفارش قابل قبول نہیں ہے، اس کی بات کی تصدیق نہ کی جائے۔ اس کو کسی چیز پر امانت دار بھی نہ بنایا جائے، لہٰذا اگر ایسے شخص کو کوئی امانت دی جائے تو خدا کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں ہے“۔[۴۲]

قمار بازی (جوا کھیلنا)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک روایت کے ضمن میں قمار بازی کو گناہ کبیرہ شمار کیا ہے۔[۴۳]

قرآن مجید نے نے صرف قمار بازی اور شراب کو گناہ کبیرہ سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( یَسْالُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیهِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ ) ۔۔۔“( ۴)

”یہ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میںسوال کرتے ہیں تو کھے دیجئے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ “۔

قمار بازی کے تمام وسائل و سامان بنانا، اور ان کے بنانے پر اجرت لینا نیز ان کی خرید و فروخت حرام ہے۔

بہت سے شیعہ فقھاء کرام کے نزدیک قمار بازی بغیر کسی شرط کے بھی شرعی حیثیت نہیں رکھتی ہے۔

ان وسائل کا رکھنا حرام اور ان کو نابود کرنا ضروری ہے۔

قمار بازی کو دیکھنا ،وھاں بیٹھنا حرام اور اس جگہ کو ترک کردینا واجب شرعی ہے۔

لوگوں کے ہنسانے کے لئے بے ہودہ کام انجام دینا

بے ہودہ کام سے مراد ایسے اعمال وافعال ہیں جن کے کرنے سے دنیاوی یا اُخروی کوئی فائدہ نہ ہو، صرف انسان کا وقت برباد ہوتا ہے۔ انسان کی عمر کاایک لمحہ لاکھوں اور کر وڑوں اسباب کی باھم کارکردگی کی بنا پر حاصل ہوتا ہے۔

بے شک اپنی عمر برباد کرنا کفران نعمت ہے۔ کیونکہ انسان کی عمر خداوندعالم کی عطا کردہ ایک عظیم اور مفید نعمت ہے اور اس عظیم الشان نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس زندگی کا ایک ایک لمحہ خداوندعالم کی عبادت و بندگی ، اور حصول علم و دانش نیز بندگان خدا کی خدمت میں گزارا جائے۔

محدث قمی اپنی کتاب ”منازل الآخرة“ میں ایک حکایت نقل کرتے ہیں:

ابن صمد نامی شخص شب و روز اپنے وجود کا حساب کرتا تھا، اپنے زندگی کے گزرے ہوئے دنوں کو شمار کرتا تھا ، اور جب اس کے لحاظ سے اس کی عمر ساٹھ سال ہوگئی اس کے دنوں کو شمار کیا تو ۲۱۹۰۰ ہوگئے تو اس نے ایک فریاد بلند کی کہ اگر میں نے ہر روز بھی ایک گناہ کیا ہو تو ۲۱۹۰۰ گناہ ہوگئے ہیں اور میں اس قدر گناھوں کے ساتھ خدا سے ملاقات کروں گا، یہ کہتے ہی بے ہوش ہوکر زمین پرگر پڑا اور اسی حالت میں اس دنیا سے چل بسا۔

دوسروں کے عیوب بیان کرنا

مسلمین اور مومنین کی عزت و آبرو کی حفاظت ایک بہت اھم فریضہ ہے جس پر اسلام نے بہت زیادہ توجہ دی ہے یھاں تک کہ اسلامی تعلیمات کے پیش نظر مومن کی عزت و آبرو اس کے خون کے برابر قرار دی گئی ہے:

”عرض المومن کدمہ“

”مومن کی عزت اس کے خون کی طرح ہے“۔

لوگوںکی آبرو کے ختم ہونے سے اطمینان و اعتماد کی عمارت ویران ہوجاتی ہے، گھریلو زندگی اورمعاشرہ کا نظام درھم و برھم ہوجاتا ہے جس سے مسلمانوں کے امور میںخلل پیدا ہوجاتا ہے۔

فقط انبیاء اور ائمہ علیھم السلام نیز اولیاء اللہ بے عیب اور کامل انسان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام انسانوں میں عیوب ہوتے ہیں جن کوسبھی چھپاتے ہیں۔

البتہ بعض ایسے بے شرم افراد ہوتے ہیںجو دوسروں کے سامنے اپنے عیب بیان کرتے ہوئے فخر کرتے ہےںاور ان کے بیان کرنے پر ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی، لیکن اکثر لوگ اپنی عزت و آبرو کے قائل ہیں اور اپنی عزت و آبرو کو پامال کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔

پس جو شخص دوسروں کے عیب بیان کرتا ہے، چاھے وہ جسمانی عیب ہوں یا عملی و اخلاقی یا مالی ہوں یا دینی و دنیاوی ہوں، وہ شخص دوسروں کو بے آبرو کرتا ہے اور ان کی ذلت وخواری کا باعث بنتا ہے، اوراپنے کو ایک بہت بڑے گناہ میں ملوث کرتا ہے اور قیامت کے درد ناک عذاب و رسوائی کا مستحق ہوتا ہے۔

حضرت امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیھما السلام سے روایت ہے :

اقْرَبُ ما یَکونُ العَبدُ اِلَی الکُفْرِ ان یُواخِیَ الرَّجُلَ عَلَی الدِّینِ فَیُحْصِی عَلَیْهِ عَثَراتِهِ وَزَ لَّاتِهِ لِیُعَنِّفَه بِهَا یَوماً مَا “[۴۴]

”انسان کو سب سے زیادہ کفر سے نزدیک کرنے والی چیز یہ ہے کہ دینی بنیاد پر اپنے کسی برادر کی خطا و گناھوں کو شمار کرتا رھے تاکہ موقع آنے پر ان کے لحاظ سے اس کی ملامت و مذمت کرے“۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

یَا مَعْشَرَ مَن اسْلَمَ ِبلِسَانِهِ وَلَمْ یُخْلِصِ الإیمَانَ إِلَی قَلْبِهِ لَاتَذُمُّو الْمُسلِمِینَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِم ، فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَورَاتِهِم تَتَبَّعَ اللهُ عَوْرَتَهُ ،وَمَنْ تَتَبَّعَ الله تَعَالَی عَوْرَتَهُ یَفْضَحهُ وَلَوْ فِی بَیْتِهِ “[۴۵]

”اے وہ گروہ! جنھوں نے فقط زبان سے اسلام قبول کیا ہے جبکہ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں، مسلمانوں کی سرزنش نہ کرو اور ان کے عیوب کو تلاش نہ کرو، کیونکہ جو کوئی بھی ان کے عیوب کو تلاش کرے گا تو اس کے عیوب کو خدا تلاش کرے گا، اور جس کے عیوب کی تلاش خداوندعالم کرے اگرچہ وہ گھر ہی میں کیوں نہ ہو تو اس کو رسوا کردے گا“۔

گناہ سے متھم افراد کے ساتھ ہمنشینی

انسان پر صحبت کا اثر دوسری چیزوں کی نسبت زیادہ ہوتاھے۔ انسان کے وجود میں ہمنشینی اور صحبت کا اثر سب چیزوں سے زیادہ ہے؛ اسی وجہ سے قرآن مجید او رآئمہ معصومین علیھم السلام کی روایات میں دوست اور ہم صحبت کے انتخاب کے لئے انسان خصوصاً اہل ایمان کے لئے تاکید کی گئی ہے۔

ان تمام چیزوں کی واقعیت بیان کرنے نیز آیات و روایات کی توضیح و وضاحت کے لئے ایک الگ کتاب کی ضرورت ہے، کہ الحمد لله علماء اسلام نے اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔

قرآن کریم و روایات معصومین علیھم السلام نے؛ لوگوں کوکفار، مشرک، فاسق و فاجر نیز یھود و نصاری بلکہ گناہ و معصیت سے متھم افراد کی دوستی سے منع فرمایا ہے، تاکہ ہم صحبت کے اخلاق اور شیطانی عقائد اس انسان میں موثر نہ ہونے پائیںاور اس کو رحمت الٰھی سے دور نہ کردیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

لَا یَنْبَغِی لِلْمُومِنِ انْ یَجْلِسَ مَجْلِساً یُعْصَی اللهُ فِیهِ وَلَایَقْدِرُ عَلَی تَغْیِیِرِهِ “[۴۶]

”کسی بھی مومن کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ ایسی جگہ جائے جھاں پر خدا کی نافرمانی ہوتی ہو اور اس کی اصلاح نہ کرسکتا ہو“۔

ابو ہاشم جعفری کہتے ہیں : حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: تم کیوں عبد الرحمن بن یعقوب کے پاس اٹھتے بیٹھتے ہو؟ میں نے کھا کہ وہ میرے ماموں ہیں۔ تب امام علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ خدا کے بارے میں ناسزا اور غیر قابل قبول باتیں کہتا ہے، ”ایسی باتیں جو قرآنی آیات اور اہل بیت (علیھم السلام) کی تعلیمات سے ہم آھنگ نہیں ہیں“۔ خدا کو دوسری چیزوں کی طرح توصیف کرتا ہے۔ لہٰذا یا اس کے ساتھ ہم نشینی کرو یا پھر ہمیں چھوڑدو یا ، یا ہمارے ساتھ ہم نشینی کرو اور اس کو ترک کردو۔

میں نے عرض کیا: وہ کچھ بھی کھے ہمیں تو کوئی نقصان نہیں پھنچتا، جب میں اس کی بات کی تائید نہیں کرتا ہوں تو مجھ پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

تب امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمھیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ اس پر عذاب الٰھی نازل ہوجائے اور ساتھ میں تمھیں بھی لپیٹ لے!! کیا تم نے یہ واقعہ نہیں سنا کہ ایک شخص جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے دوستوں میں سے تھا اور اس کا باپ فرعون کے دوستوں میں سے تھا، جس وقت فرعون کا لشکر دریاکے کنارے حضرت موسیٰ(ع) اور ان کے اصحاب کے پاس پھنچا وہ بیٹا جناب موسیٰ سے جدا ہوا تاکہ اپنے باپ کو نصیحت کرے، اور پھر پلٹ کر جناب موسیٰ(ع) کے ساتھ ہوجائے، لیکن اس کا باپ فرعون کے باطل راستہ پر چلتا رھا اور یہ بیٹا اسے دین کی باتیں بتا رھا تھا یھاں تک کہ دونوں دریا کے کنارے پھنچ گئے، اور دونوں غرق ہوگئے، چنانچہ جب جناب موسیٰ کو خبر ہوئی اس وقت انھوں نے فرمایا: اس پر خدا کی رحمت نازل ہورھی ہے ، لیکن جب عذاب آتا ہے جو شخص گناھگار کے پاس ہوتا ہے اس کا دفاع نہیں ہوسکتا۔[۴۷]

مَن کَانَ یُومِنُ بِاللهِ وَالْیُومِ الآخِرِ فَلَا یَقُومُ مَکَانَ رِیبَةٍ “[۴۸]

”جو شخص خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ مقام تھمت و شک سے دور رھے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

مَن قَعَدَ عِنْدَ سَبَّابٍ لِاوْلِیَاءِ اللهِ فَقَدْ عَصَی اللهَ تَعَالَی “[۴۹]

” جو شخص اولیاء اللہ کو گالی دینے والوں کے پاس بیٹھے بے شک وہ خدا کا نافرمان ہے“۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اپنی دوستی کو اہل گناہ و معصیت سے کینہ و دشمنی کے ذریعہ ظاھر کرو، اور اس سے دور ہوکر خدا سے نزدیک ہوجاؤ اور خدا کی خوشنودی کو اس طرح کے لوگوں کی ناراضگی کے بدلے حاصل کرو۔ چنانچہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کس کے ساتھ ہم نشینی کریں؟تو فرمایا: اس شخص کے ساتھ جس کو دیکھنے کے بعد خدا کی یاد آجائے، اور اس کی گفتگو تمھارے علم میں اضافہ کرے، اور تمھیں آخرت کی طرف رغبت دلائے۔[۵۰]

جی ہاں ! تقویٰ اور پاکدامنی، ورع و زھد، صداقت و درستی، عبادت و خدمت جیسے پردے ؛ انسان اور عذاب خدا کے درمیان مانع ہوتے ہیں، اور یہ پردے اس وقت مستحکم ہوجاتے ہیں جب انسان شراب پینے، قمار بازی، دوسروں کے عیوب بیان کرنے اور متھم افراد سے ہم نشینی وغیرہ سے پرھیز کرے؛ لیکن اگر خدا نخواستہ شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر گناہ سرزد ہوجائے تو اس نے گویا ان پردوں اور حجابات کو پارہ پارہ کردیا ہے، اور بلا و مصیبت کے نازل ہونے کا راستہ ہموار کرلیا ہے۔

اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ “۔

” ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں“۔

جن گناھوں کے ذریعہ بلائیں نازل ہوتی ہیں:

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے ایک اھم روایت میںنو گناھوں کو بلا نازل ہونے کا سبب قرار دیا ہے:

۱ ۔ بغی۔(حق کے مقابلہ میں سرپیچی کرنا)

۲ ۔ حقوق الناس کو پامال کرنا۔

۳ ۔ بندگان خدا کا مذاق اڑانا۔

۴ ۔ عھد و پیمان توڑدینا۔

۵ ۔ کھلم کھلا گناہ کرنا۔

۶ ۔ جھوٹی چیز مشھور کرنا۔

۷ ۔ حکم خدا کے بر خلاف قضاوت اور فیصلے کرنا۔

۸ ۔ زکوٰة ادا نہ کرنا۔

۹ ۔ ناپ و تول میں کمی کرنا۔[۵۱]

بغی:

لفظ ”بغی“ لغت میں حق سے سر پیچی اور حدود الٰھی سے تجاوز، لوگوں پر ظلم وستم، معصیت و گناہ، فساد اور زنا کے معنی میں ہے، چنانچہ قرآن مجید اور ائمہ معصومین علیھم السلام سے مروی روایات میں موجود ہے:

( انَّ قَارونَ کانَ مِن قَوْمِ موسَیٰ فَبَغَیٰ عَلَیْهِمْ ) ۔۔۔“[۵۲]

”بیشک قارون ، موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر اس نے قوم پر ظلم کیا۔۔“۔

( وَلَوْبَسَطَ اللّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِی الارْضِ ) ۔۔۔۔“[۵۳]

”اگر خدا تمام بندوں کے لئے رزق کو وسیع کردیتا تو یہ لوگ زمین میں بغاوت کردیتے۔۔“۔

( یا اخْتَ هارُونَ ما کاَنَ ابُوکِ امْرَا سَوْءٍ وَمَا کانَتْ امُّکِ بَغِیّاً ) “[۵۴]

”اے ہارون کی بھن نہ تمھارا باپ بُرا تھا اور نہ تمھاری ماں بد کار تھی “۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:

انَّ اسْرَعَ الْخَیرِ ثَوَاباً البِرُّ وَانَّ اسْرَعَ الشَرِّ عِقَاباً البَغیُ “[۵۵]

”بے شک کہ سب سے جلدی ثواب ملنے والی نیکی ، دوسروں کے ساتھ نیکی و بخشش اور اچھائی کرنے والی نیکی ہے اور جلد بلا نازل ہونے والی برائی بھی دوسروں پر ظلم و ستم اور تجاوز ہے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

سِتَّةٌ لاَتَکونُ فِی المُومِنِ:العُسْرُ وَ النَّکَدُ وَاللَّجَاجَةُ وَالکِذْبُ وَالحَسَدُ وَالبَغْیُ “( ۳)

”مومن میں چھ برے صفات نہیں ہوتے، عجز ودر ماندگی، خساست و کم خیر ہونا، لجاجت اور سرسختی، جھوٹ، حسد اور دوسروں پر ظلم و تجاوز کرنا“۔

حقوق الناس کا پامال کرنا

خداوندرحمن و مھربان نے عوام الناس میں ایک دوسرے کے حقوق قرار دئے ہیں جن کو ادا کرنا لازم و ضروری ہے، اور ان سے تجاوز کرنا خدا کی معصیت اور سبب نزول بلا ہے۔

ماں باپ کا حق اولاد پر، اولاد کا حق ماں باپ پر، رشتہ داروں پر ایک دوسرے کے حقوق، پڑوسی کا حق، حکومت پر عوام الناس کا حق، عوام الناس کا حق حکومت پر، شوھر کا حق زوجہ پر، زوجہ کا حق شوھرپر، ماتحت افراد کا حق صاحب نعمت پر، فقیر کا حق مالدار پر، اور ان کے علاوہ قرآن مجید اور احادیث میں بیان شدہ دوسرے حقوق۔

حقوق کے سلسلہ میں سب سے کامل اور بہترین کتاب؛ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا ”رسالہ حقوق“ ہے؛ چنانچہ اگر انسان اس رسالہ کا مطالعہ کرے تو حقوق کے سلسلہ میں بہترین معلومات حاصل ہوجائیں گی، جس کے بعد انسان ان حقوق کے ادا کرنے کی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔

ان حقوق سے تجاوز کرنا ایک مسلم گناہ اور یقینی معصیت ہے، اور اگر انسان ان کو ادا نہ کرے تو پھر عذاب و بلا ضروری اور یقینی ہیں۔

بندگان خدا کا مذاق اڑانا

بندگان خدا کا مذاق اڑانا ؛چاھے اس کی شکل و صورت کا مذاق بنائے یا اس کے فقر و غربت کا ، خواہ دینداری اور ایمان کے لحاظ سے ہو یا اس کے کام اور کاروبار کی وجہ سے یا کسی بھی دوسرے موقع و محل کی بنا پر؛ حقیقت میں ایک بہت بڑا گناہ اور عظیم معصیت ہے جس کی بنا پر دنیاوی اور اُخروی عذاب نازل ہوتا ہے۔

کسی کا مذاق اڑانا درحقیقت اس کی شخصیت کی توھین اور اس کو ذلیل و خوار کرنا ہے۔

قرآن مجید نے مذاق اڑانے والوں کو منافق، ستمگر اور مفسد کے نام سے یاد کیا ہے اور ان کو دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے:

( وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَی شَیَاطِینِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ) “[۵۶]

”جب یہ صاحبان ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایمان لے آئے اور جب اپنے شیاطین کی خلوتوں میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھاری ہی پارٹی میں ہیں ہم تو صرف صاحبان ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ “

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا کہ خداوندعالم فرماتا ہے:

مَن اهَانَ لِی وَلِیّاً فَقَد ارْصَدَ لِمُحَارَبَتِی “[۵۷]

”جو شخص میرے دوستوں کی توھین کرے تو اس نے میرے ساتھ جنگ کی تیاری کی ہے!!“

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جس وقت قیامت برپا ہوگی، ایک آواز آئے گی: میرے دوستوں سے منھ پھیرنے والے کھاں ہیں؟ اس آواز کو سن کر کچھ لوگوں کا گروہ ظاھر ہوگا جن کے چھروں پر گوشت نہیں ہوگا۔ اس وقت کھا جائے گا : یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اہل ایمان کو تکلیف پھنچائی ہے ،ان سے دشمنی کی ہے، ان سے بغض و عناد کیا ہے اور ان کے سامنے سختی اور شدت کے ساتھ ان کے دین میں سرزنش و ملامت کی ہے۔ اور اس کے بعدان کو دوزخ میں لے جانے کا حکم دیا جائے گا۔

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا کہ خداوندعالم کا فرمان ہے:

قَد نَابَذَنِی مَن اذَلَّ عَبدِی المُومِنَ “ [۵۸]

جو شخص میرے مومن بندہ کو ذلیل کرے وہ کھلم کھلا مجھ سے جنگ کے لئے میدان میں نکل آیا ہے!!“

جی ہاں، لوگوں کا مذاق اڑانا، ان کا مسخرہ کرنا ؛ در حقیقت ان کی توھین کرنا اور ان کو روحی تکلیف دینا اور ذلیل کرنا ہے۔

قرآن مجید نے عورتوں اور مردوں کو ایک دوسرے کا مسخرہ کرنے سے منع کیا ہے، اور اگر مسخرہ کرنے والے اپنے اس برے کام سے توبہ نہ کریں تو ان کو ستمگر شمار کیا ہے[۵۹]

عھد و پیمان توڑنا

عھد و پیمان اور ان کو وفاکرنا ، واقعاً دو اخلاقی اور انسانی صفات ہیں، قرآن مجید اور روایات معصومین علیھم السلام میں جن پر توجہ دی ہے، اور عھد وپیمان کو توڑنا گناہ و معصیت شمار کیا گیا ہے۔

عھد و پیمان اور ان کو وفا کرنے کے سلسلہ میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عھد و پیمان خدا یا پیغمبر یا امام(ع) کے ساتھ ہو یا عوام الناس کے ساتھ، اور وہ عھد و پیمان جو راہ عبادت، خدمت عوام، یا کاروبار و تجارت یا دوسرے کاموں میں کیا گیا ہو، تو اس پر وفا کرنا واجب شرعی اور اخلاقی ہے، اور ان کا توڑنا حرام اور عذاب خدا کا باعث ہے۔

ارشاد خداوندعالم ہوتا ہے:

وَاوْفُو ا بِعَهْدِ اللّٰهِ اذَا عَاهَدتُمْ ۔۔۔“[۶۰]

”اور جب کوئی عھد کرو تو اللہ کے عھد کو پورا کرو“۔

الَّذِینَ یَنقُضُونَ عَهْدَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مِیثَاقِهِ وَیَقْطَعُونَ مَا امَرَ اللهُ بِهِ انْ یُوصَلَ وَیُفْسِدُونَ فِی الْارْضِ اوْلَئِکَ هُمْ الْخَاسِرُونَ “[۶۱]

”جو خدا کے ساتھ مضبوط عھد کرنے کے بعد بھی اسے توڑ دیتے ہیں اور جسے خدا نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹ دیتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یھی وہ لوگ ہیں جو حقیقتاً خسارہ والے ہیں “۔

وَاوْفُوا بِالْعَهْدِ انَّ الْعَهْدَ کاَنَ مَسْئُولاً “[۶۲]

”اور اپنے عھدوں کو پورا کرنا کہ عھد کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔

یَاا یُّهَا الَّذِیْنَ ء امَنُوا اوْفُوا بِالْعُقُودِ ۔۔۔“[۶۳]

”ایمان لانے والو!اپنے عھدو پیمان اور معاملات کی پابندی کرو“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

ثَلٰثٌ مَن کُنَّ فِیْهِ کَانَ مُنَافِقاً وَانْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ انَّهُ مُسْلِمٌ :مَنْ إِذَا ائْتُمِنَ خَانَ،وَإِذَا حَدَّثَ کَذِبَ ، وَإِذَاوَعَدَ اخْلَفَ ۔“[۶۴]

جس شخص میں تین صفات پائے جائیں وہ منافق ہے،(اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو اور خود کو مسلمان جانتا ہو): اگر اس کو کوئی امانت دی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے، اور جب کوئی گفتگو کرے تو اس میں جھوٹ بولے، اور جب کوئی وعدہ کرے تو وفا نہ کرے“۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

مَن عَامَلَ النَّاسَ وَلَمْ یَظْلِمْهُم ،وَحَدَّثَهُم فَلَمْ یَکْذِبْهُمْ وََوَعَدَهُمْ فَلَمْ یُخْلِفْهُمْ ،فَهُوَ مِمَّن کَمُلَتْ مُرُوءَ تُهُ وَحُرِّمَتْ غِیْبَتُهُ وَظَهَرَ عَدْلُهُ وَوَجَبَتْ اخُوَّتُهُ “[۶۵]

”جو کوئی شخص اپنی رفتار میں لوگوں پر ستم نہ کرے اور گفتگو کے وقت جھوٹ نہ بولے، اور اپنے کئے ہوئے وعدوں کی خلاف ورزی نہ کرے، (تو وہ) ان لوگوں میں سے ہے جس کی مروّت کامل ہے اور جس کی غیبت حرام اور جس کی عدالت واضح ہے اور ایسے شخص کو اپنا دینی برادر سمجھنا چاہئے“۔

کھلم کھلا گناہ کرنا

قرآن مجید نے لوگوں کو برے کاموں اور آشکار و مخفی طریقہ سے گناہ کرنے سے منع کیا ہے۔[۶۶]

کھلم کھلا سب کے سامنے معصیت و گناہ کرنا ، گناھگار کی انتھائی بے شرمی و بے حیائی کی دلیل ہے نیز قوانین اور اسلامی معاشرہ کی بے احترامی و بے ادبی ہے۔

اسلام معاشرہ کے ماحول کا آلودہ ہونا پسند نہیں کرتا، اور جو لوگ اسلامی معاشرہ کو گناہ و فساد سے آلودہ کرتے ہیں ، اسلام نے ان کے لئے سزا اور تعزیرات معین کی ہیں۔

دلسوز و آگاہ مومنین خصوصاً اسلامی حکومت کے کار گزاروں پر واجب ہے کہ ہر بدکار کی بدکاری، ہر خطا کار کی خطا اور بے شرمی کی ممکن صورت میں روک تھام کریں، تاکہ گناہ کے خطرناک جراثیم عوام الناس خصوصاً جوانوںمیں نہ پھیلنے پائیں۔امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا وجوب اسی وجہ سے ہے کہ معاشرہ سے گناہ کی خطرناک برائیاں ختم ہوجائیں۔

اگر مدارس اور گھر دونوں مل کر جوان طبقہ کی اسلامی طریقہ سے پرورش کریں ، تاکہ وہ ان کے لئے ایک ثابت اور قائم صفت بن جائے، تاکہ خلوت اور جلوت (ظاھر و مخفی جگہ میں)انسان برائیوں سے پاک رھے۔

حیا ، خدا پر توجہ اور گناہ کے سر انجام پر غور و فکر کرنا، گناہ و معصیت سے بہترین روکنے والی چیزیں ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے :

اَلْحَیَاءُ مِنَ الإِیمَانِ وَالإِیمَانُ فِی الجَنَّةِ “[۶۷]

”حیا ایمان سے ہے اورایمان جنت میں ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا فرمان ہے کہ خدا سے حیا کرو اور حق حیا کی رعایت کرو۔ سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کس طرح؟ تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص شب نہ بسر کرے ، مگر یہ کہ اپنی موت کو اپنی دو آنکھوں کے سامنے دیکھے؛ اپنی آنکھ، کان اور زبان کو حرام سے محفوظ رکھے، اور اپنے پیٹ کو مال حرام سے محفوظ رکھے؛ قبر اور اس میں اپنے بدن کے خاک میں ملنے کو یاد رکھے۔ اور جو شخص آخرت کو چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ فریب کار دنیاوی زرو زینت سے پرھیز کرے۔[۶۸]

ایک شخص نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے، تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

” إِسْتَحْیِ مِنَ اللَّهِ کَمَا تَسْتَحْیِی مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مِن قَوْمِکَ “[۶۹]

”خدا سے حیا (و شرم) کرو جیسا کہ اپنی قوم کے شائستہ اور صالح انسان سے حیا کرتے ہو“۔

ایک با ایمان عورت کی حیا اور خوف

حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ دریا کا سفر کررھا تھا۔ اتفاق سے کشتی ڈوبنے لگی اور اس شخص کی زوجہ کے علاوہ تمام لوگ دریا میں ڈوب گئے۔ اور وہ بھی ایسے کہ وہ عورت ایک تختہ پر بیٹھ گئی اور اس دریا کے ایک جزیرہ پر پھنچ گئی۔

اس جزیرہ میں ایک چور رہتا تھاجس نے حرمت خدا کے تمام پردوں کو چاک کررکھا تھا، ناگاہ اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس کے پاس کھڑی ہے، اس نے سوال کیا کہ توانسان ہے یا جن؟ اس نے کھا انسان ہوں۔ چنانچہ وہ چور بغیر کچھ بولے ہی اس عورت کی بغل میںاس طرح بیٹھا کہ جس طرح مرد اپنی زوجہ کے پاس بیٹھتا ہے، اور جب اس نے اس عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالنا چاھا تو وہ عورت لرز گئی۔ اس چور نے کھا تو ڈر کیوں گئی پریشان کیوں ہوگئی؟ وہ عورت بولی کہ اس سے ڈرتی ہوں، اور آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ اس چور نے کھا کہ کبھی اس طرح کا کام انجام دیا ہے تو اس عورت نے کھا: نھیں، بخدا ہرگز نھیں۔اس شخص نے کھا: تو خدا سے اس قدر خوف زدہ ہے حالانکہ تو نے ایسا کام نہیں کیا ہے اور میں جب کہ تم کو اس کام پر مجبور کررھا ہوں، خدا کی قسم، مجھے تو تجھ سے کھیں زیادہ خدا سے ڈرنا چاہئے۔ اس کے بعد وھاں سے اٹھا اور اپنے گھر چلا گیا، اور ہمیشہ توبہ و استغفار کی فکر میں رھنے لگا۔

ایک روز راستہ میں ایک راھب سے ملاقات ہوئی ، دو پھر کا وقت تھا ، چنانچہ اس راھب نے اس شخص سے کھا: دعا کرو کہ خدا ہمارے اوپر بادلوں کے ذریعہ سایہ کردے کیونکہ شدت کی گرمی پڑرھی ہے، تو اس جوان نے کھا کہ میں نے کوئی نیکی نہیں کی ہے اور خدا کی بارگاہ میں میری کوئی عزت و آبرو نہیں کہ میں اس سے اس طرح کا سوال کروں۔ اس وقت راھب نے کھا: تو پھر میں دعا کرتا ہوں اور تم آمین کھنا۔ اس جوان نے کھا: یہ ٹھیک ہے۔ چنانچہ راھب نے دعا کی اور اس جوان نے آمین کھی، اور دیکھتے ہی دیکھتے بادلوں نے ان دونوں پر سایہ کردیا، دونوں راستہ چلتے رھے یھاں تک کہ ان کا راستہ الگ الگ ہونے لگا،دونوں نے اپنے اپنے راستہ کو اختیار کیا، تو بادل اس جوان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا!

چنانچہ یہ دیکھ کر اس راھب نے کھا: تو تو مجھ سے بہتر ہے، تیری ہی وجہ سے دعا قبول ہوئی ہے، نہ کہ میری وجہ سے، اور کھا کہ تم اپنے حالات بتاؤ۔ چنانچہ اس نے اس عورت کا واقعہ بیان کیا۔ تب راھب نے کھا: چونکہ خوف خدا تیرے دل میں پیدا ہوگیا تو خدا نے تیرے گناہ بخش دئے، لہٰذا آئندہ گناھوں سے پرھیز کرنا۔[۷۰]

جھوٹ:

حضرت رسول خدا ، امام صادق و امام رضا علیھم السلام نے جھوٹ کو گناھان کبیرہ بلکہ بزرگترین گناھان کبیرہ میں شمار کیا ہے[۷۱]

سب سے بڑا جھوٹ انسان کا؛ خدا و رسول اور ائمہ علیھم السلام اور آسمانی کتابوں پر جھوٹ باندھنا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔

ھمیشہ دنیائے کفر و شرک کے حکمراںاپنے سفید جھوٹ اور تھمتوں کو علم اور فلسفہ کے عنوان سے بیان کرکے بہت سے لوگوں کو دین، ایمان اور انبیاء و روز قیامت سے گمراہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ خناس اور بھانہ باز شیاطین، ایک نیا دین بنانے والے نیز وسوسہ ایجاد کرنے والے مکار یا حق و حقیقت سے دور امور کو ایک دوسرے سے ملاکر بہت سے لوگوں کی ہدایت ایمان اور صراط مستقیم میں مانع ہوتے تھے۔

یہ لوگ اپنے جھوٹ اور تھمتوں کے ذریعہ عوام الناس کے سامنے ہر باطل کو حق اور ہر حق و حقیقت کو باطل کی صورت میں پیش کیا کرتے تھے۔

انھوں نے ہمیشہ آسمانی کتابوں کی تکذیب کی ہے اور آسمانی کتابوں کو خدا کی طرف سے ہونے کو انکار کیا ہے، اور الٰھی نشانیوں کا ہر ممکن صورت میں مقابلہ کیا ہے اور لوگوں میں اس بات کا پروپیگنڈا کیا ہے کہ کوئی بھی چیز خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئی ہے۔!![۷۲]

ان لوگوں نے انسانوں کو فیض ہدایت سے دور کرنے اور آخرت کی سعادت و خوشبختی سے دور کرنے کے لئے تمام انبیاء علیھم السلام پر تھمتیں لگائیں اور ان سچے لوگوں پر جھوٹ و افترا باندھا ہے، وہ ان صاحبان عقل و بصیرت کو جادوگر شمار کیا کرتے تھے، اور ان انبیاء کرام (جو ہر لحاظ سے صحیح و سالم ہوتے تھے)؛ کو دیوانہ اور مجنون کہہ دیتے تھے!!

یہ لوگ کسی بھی طرح کے جھوٹ بولنے سے پرھیز نہیں کرتے تھے اور اپنی کارستانیوں کے ذریعہ حق و حقیقت کے معنی میں تحریف کیا کرتے تھے،یھاں تک کہ توریت و انجیل اور زبور میں بھی تحریف کر ڈالی، اور ان ہدایت کی کتابوں کو کفر و شرک اور گمراھی میں تبدیل کرڈالا، اور اگر ان میں اس قدر طاقت ہوتی اور خداوندعالم محافظ و نگھبان نہ ہوتا تو یہ لوگ دوسری آسمانی کتابوں کی طرح قرآن کریم میں بھی تحریف کرڈالتے۔

ان لوگوں نے عوام الناس کو گمراہ کرنے کے لئے آیات کی تحریف میں ذرا بھی شرم و حیا سے کام نہ لیا، اور نہ ہی اس کے خطرناک انجام سے خوف زدہ ہوئے، اور نہ ہی روز قیامت کے درد ناک عذاب سے ہراساں ہوئے۔

ان لوگوں نے سقیفہ کی حکومت کی بنیاد مستحکم کرنے ، عوام الناس پر بنی امیہ و بنی عباس کی حکمرانی قائم کرنے ، ان کو حق کے راستہ کو منحرف کرنے اور اہل بیت علیھم السلام کو خانہ نشین کرکے لوگوں کو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے حقیقی خلفاء کی راھنمائی و ہدایت سے دور کرنے کے لئے حدیث گھڑنے کا ایک بہت بڑا کارخانہ بنایا اور تقریباً دس لاکھ جھوٹی حدیثیں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی طرف منسوب کردیں، اور بنی امیہ و بنی عباس کے مال و زر اور طاقت کی بنا پر ان تمام جھوٹی حدیثوں کو اسلامی ثقافت کے عنوان سے امت اسلامی کے سامنے پیش کیا ہے، کہ اگر ائمہ علیھم السلام خصوصاً حضرت امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیھما السلام نے اپنے علم کا مظاھرہ نہ کیا ہوتا نیز ائمہ علیھم السلام کے تربیت یافتہ شاگرد اور علماء کرام فقھاء عظام نہ ہوتے تو واقعاً آج شیعہ بھی بنی امیہ و بنی عباس کے کارخانہ کی جعلی احادیث کو قبول کرنے پر مجبور ہوجاتے۔

لیکن حق و باطل کی تمیز کرنے کے لئے ائمہ معصومین علیھم السلام نے اصحاب و فقھاء کرام کو تعلیم کردہ مسائل کے ذریعہ رسول اکرم کی طرف منسوب جھوٹی احادیث سے محفوظ رکھا،جس کے نتیجہ میں حقیقی اسلام ؛ائمہ معصومین علیھم السلام کے ذریعہ اور شیعہ علماء کی زحمت و مشقت کے ذریعہ خیانت کاروں کی خیانت سے محفوظ رھا تاکہ تا قیام قیامت لوگوں پر خدا کی حجت تمام ہوجائے اورکل روز قیامت یہ نہ کہہ سکےں کہ ہمیں تو حقیقی اسلام کا پتہ ہی نہیں چل سکا۔

ان جھوٹے اور خیانت کار لوگوںچاھے جس روپ میں بھی ہوں تقریباً ان دو صدیوں میں ایشیاء، یورپ اور امریکہ میں مختلف علوم، سیاست اور دوسرے مادی و معنوی مسائل میں ہزار وں دلفریب جھوٹ مختلف معاشروں میں رائج کردئے۔ اور اپنے اس کام سے لاکھوں انسانوں کو مختلف مسائل میں دھوکے میں ڈال دیا، اور جھوٹے و دلفریب اور جوانوں کی من پسند نعروں کے ذریعہ لوگوں کو گمراہ کر ڈالااور لاکھوں لوگوں کو کیمونسٹ " communiste " اور بے دین بنادیا ہے، نیز دوسرے سبھی لوگوں کو حیران و پریشان کرڈالا ہے، ان لوگوں کے نعرے کچھ اس طرح ہیں: دین ملتوں کا افیون ہے، متمدن انسان کی حکومت کامیاب اور غالب ہے، سائنس تمام مشکلات کا حل کرنے والا ہے، جمھوریت، آزادی، نیک او رصالحین کی حکومت کے بجائے جمھوری حکومت، مدنی اور لیبرل معاشرہ وجود میں آیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو حق و حقیقت کے راستہ سے بھٹکادیا ہے، اور ہر ملک میں رھنے والے مومنین پر ظلم وستم کرایا جارھا ہے، جس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں فسادات اور ظلم وستم کا دور دورہ ہے۔

قارئین کرام! یہ قرآن مجید جو حق و حقیقت، نور و ہدایت اور شفا وروشنی کی بہترین کتاب ہے ذرا درج ذیل آیات پر توجہ کیجئے:

ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

( فَنَجْعَل لَعْنَةَ اللّهِ عَلَی الْکاَذِبِیْنَ ) “[۷۳]

”اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں“۔

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( انَّ اللّهَ لا یَهْدِی مَنْ هُوَ کاَذِبٌ کُفَّارٌ ) “[۷۴]

”بیشک اللہ کسی جھوٹے اور ناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا “۔

قارئین کرام! پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) و اہل بیت علیھم السلام کی اعلیٰ تعلیمات میں جھوٹ سے پرھیز پر کس قدر زور دیا گیا ہے جھوٹ چاھے چھوٹا ہو یا بڑا، مادی مسائل میں ہو یا معنوی مسائل میں۔ چنانچہ درج ذیل کو ملاحظہ فرمائیں۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتے ہیں:

الاَانَبِّئُکُمْ بِاکْبَرِالکَبَائِرِ؟ قُلْنَا :بَلَی یَارَسُوْلَ اللهِ قَال :الإشْرَاکُ بِاللهِ،وَعُقُوقُ الوَالِدَیْنِ وَکَانَ مُتَّکِئاً فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ:الاَوَقَوْلُ الزّور “[۷۵]

”کیا تم لوگوں کو گناھان کبیرہ میں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کھا: جی ہاں یا رسول اللہ، تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: خدا کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کے ساتھ بُرا سلوک کرنا ( یہ اس وقت فرمایا جب )آنحضرت اس وقت تکیہ لگائے تھے اس کے بعد بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے لوگو! جھوٹ سے پرھیز کرو۔۔۔“۔

نیز آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ارشاد فرمایا:

” شَرُّ الرِّوَایَةِ روایَةُ الکِذبِ “[۷۶]

” جھوٹ پر مبنی بدترین گفتگو ہے“۔

اقَلُّ النَّاسِ مُرُوَّةً مَن کاَنَ کاَذِباً “[۷۷]

”جھوٹے انسان کی مروت تمام لوگوں سے کم ہے“۔

حضرت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے سوال کیا گیا کہ کیا ڈرنے والا مومن ہوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: جی، کھا کیا بخیل مومن ہوسکتا ہے؟ ک