عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 4894
ڈاؤنلوڈ: 706


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4894 / ڈاؤنلوڈ: 706
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

اس سے نقل کيا ہے صحيح اور درست ہے اور نہ توملل و نحل کی کتابيں لکھنے والوں نے اس کے بارے ميں جو کچھ لکھا ہے کوئی بنياد اور حقيقت رکھتا ہے جی ہاں اس درميان ميں جو بعض روایتيں اور اس عبدالله کے بارے ميں شيعہ کتابوں ميں ذکر ہوئی ہيں صحيح ہوسکتی ہيں ،

جيسے یہ روایت کہ: ابن سبا نے دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے پر امير المؤمنين عليہ السلام سے ا عتراض کيا اور اس موضوع کو روح توحيد اور یکتاپرستی کے مخالف جانا“

ایک اور دوسری روایت کہ جس ميں کہتا ہے : ابن سبا کو ---اس سے سنے گئے بيان کے سلسلے ميں ---امام کے پاس لایا گيا حضر ت نے اس کی بات کی تائيد و تصدیق کی اور پھر اسے آزادکردیا“

یہ تھا اس کا خلاصہ جو عبدالله بن سبااور اسکے بارے ميں نقل کی گئی داستانوں کی تحقيق اور حوادث و وقائع کے موازنہ سے حاصل ہوا ہے اب دیکھنا چاہئے کہ “ ابن السوداء ” کون ہے اور کيا معنی رکھتا ہے ؟

ابن سودا کون ہے اور کيا معنی رکھتا ہے ؟

و لاتنابزوا بالالقاب

برے القاب سے ایک دوسرے کی سرزنش نہ کرو قرآن کریم ہم نے کہاکہ اس حصہ ميں تين الفاظ :“ سبيئہ” ،“ عبدالله بن سبا ”اور “ ابن السوداء ”

پربحث کریں گے ۔ گزشتہ دو فصلوں ميں ہم نے“‘ عبدالله بن سبا ” اور “سبئہ” پر تحقيق کی ،اب ہم اس فصل ميں “ ابن اسودا” کے بارے ميں بحث کریں گے -۔

لفظ “ابن سوداء” علم اور کسی خاص شخص کا نام نہيں ہے بلکہ یہ لفط سرزنش ،کے عنوان سے لقب اورعيب جوئی کی تعبير ميں ہے جس کسی کی ماں سياہ فام کنيزہوتی تھی اسے سرزنش کے موقع پر “ ابن السوداء ”یعنی سياہ فام عورت کا بيٹا ، کہتے تھے ا ور اس لفظ کے استعمال سے ملامت اور عيب جوئی ہوتی تھی ، چنانچہ :

ابن حبيب ( وفات ٢ ۴۵ هء) نے اپنی کتاب “ المحبر ” ميں (حبشی عورتوں کے بيٹے ) کے باب ميں ۵ ٩ (انسٹه ) ایسے افراکا نام ذکرکيا ہے ، جن کی مائيں حبشی تھيں ، من جملہ خليفہ

دوم کے والد “ خطاب” کو بھی انهيں ميں شمار کيا ہے اورا س کے بارے ميں کہتا ہے: خطاب بن نفيل کی والدہ “‘حية ” جابر بن حبيب فہمی کی کنيز تھی اور کہا گيا ہے کہ ایک دن ثابت بن قيس شماس انصاری نے مذاق اور عيب جوئی کے طور پر عمر بن خطاب سے کہا: “ یا ابن السوداء”یعنی اے سياہ فام عورت کے بيٹے! یہاں پر خداوند عالم نے اس آیت کو نازل فرمایا:

>ولا تلمزوا انفسکم و لا تنابزوابالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان <

آپس ميں ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ہی برے القاب سے یاد کرو اس لئے کہ ایمان کے بعد فسقبرا نام ہے ۔

قدیم عربی لغت کی تاریخ ميں لفظ “ ابن السوداء” کا مفہوم و مدلول یہی معنی تھا کہ جو بيان ہوا ۔ خود سيف نے بھی اپنے افسانہ کے سورما یعنی عبدالله بن سبا کو “ ابن السودا ”

نام دیا ہے ، اس کامقصود بھی سرزنش اور برے القاب کے علاوہ کچھ نہيں تھا، مثلاً لوگوں کا عثمان کو قتل کرنے کيلئے جانے کی روداد بيان کرتے ہوئے کہتا ہے:

عبدالله بن سبا یہودی مذہب اہل صنعا کا ایک شخص تھااس کی ماں ایک سياہ فام کنيزتھی اس نے عثمان کے زمانہ ميں اسلام قبول کي بعض روایتوں ميں اسے “ عبدالله بن السوداء ” اور بعض دوسری روایتوں ميں “ ابن السوداء” سے توصيف اور تعارف کراتا ہے ليکن زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس افسانہ ميں تغيرات پيدا ہوئے ہيں یہاں تک کہ پانچویں صدی ہجری کے اوائل کا زمانہ آپہنچا اس زمانہ تک عبدالقاہر بغدادی ابن سبا اور ابن سوداء کو دو شخص تصور کرتا تھا اور ان ميں سے ہر ایک کيلئے خاص سرگرميوں اور تحریکوں کا ذکر کيا ہے پھر اس نے کہا ہے : “ یہ دو شخص بعض اوقات ایک دوسرے کا تعاون بھی کرتے تھے ” جی ہاں ابن سبا کی داستان اور افسانہ نے زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس د رجہ نشو ونما پایا کہ اسکی شخصيت بھی دوگناہوگئی اس کی مزید وضاحت اور گزشتہ بحثوں کی تکميل کے لئے ان بحثوں کے خلاصہ کو ہم ضروری اضافات کے ساتھ اگلی فصل ميں بيان کریں گے ۔

تيسرے حصہ کے منابع و مآخذ

ا یک: سبئی کی سبا بن یشعب سے نسبت:

٢٨٢ لفظ سبی کے ضمن ميں ۔ / ١۔ انساب سمعانی : صفحہ : ٢

۵ ٣٢ ۔ / ٢۔ الاکمال ، تاليف ابن ماکولا: ۴

٣۔ تبصير المتنبہ ، ابن حجر : ٧١ ۵

٣٢٩- ۴ ۔ جمہرة انساب العرب ،ابن حزم : ص ٣٣٠

١٠ و ١ ۵ ۔ /٢ ، ٨٧١ ، ٧٠ ، ١٨ / ۵ ۔ تاریخ ابن خلدون : ١

دو: سبئی راویوں کے حالات کی تشریح ١۔ انساب سمعانی : لفظ “ سبئی ” کے ضمن ميں ۔

٢۔ الاکما ،ابن ماکولا : لفظ “ سبئی ” کے ضمن ميں ۔

١٩ ۴ و / ٣۔ ابوهبيرہ کی زندگی کے حالات کی تشریح : کتاب جرح و تعدیل : ٢

۴۵ ٨ و تفسير المتنبہ : ٧١ ۵ / تقریب التہذیب : ١

٢١ ، اسد الغابہ : / ۵ ٠ و استيعاب ، حاشيہ الاصابہ ٣ / ۴ ۔ شرح عمارہ ، تقریب : ٢

۵ ٠٨ / ۵ ١ ، الاصابہ : ٢ / ۴

٢٠ ۵ / ۵ ۔ شرح حال حنش ، التقریب : ١

١١١ / ۶ ۔شرح حال سعد سبئی : الاصابہ : ١

تين:۔ : حجر اور گواہوں کی داستان کے بارے ميں زیاد کا خط ١٣١ ۔ ١٣ ۶ / ١۔ تاریخ طبری : ٢

۴ ٠٣ ۔ ۴ ٠ ۴ ۔ / ٢۔ تاریخ ابن اثير : ٣

چار:۔حجر بن عدی کے حالات کی تشریح ان کتابوں ميں ہے:

١ ۵ ١ ۔ ١ ۵۶ پيغمبر کے اصحابميں علی ابن ابيطالب (ع) / ١۔ طبقات ، ابن سعد ؛ ۶

کے راویوں کے بارے ميں ۴۶ ٨ / ٢۔ مستدرک حاکم : ٣

١٣ ۴ ۔ ١٣ ۵ شرح حال نمبر : ۵۴ ٨ / ٣۔ استيعاب ، طبع حيدر آباد : ١

٣٨ ۵ ۔ ٣٨ ۶ / ۴ ۔ اسد الغابہ : ١

٣٠ ۵ ۔ ٣٠٨ ،شرح حال نمبر : ٣١ ۴ ۔ / ۵ ۔ سير النبلاء ،ذہبی : ٣

٢٧ ۶/ ۶ ۔ تاریخ الاسلام ، ذہبی : ٢

۵ ٠ / ٧۔ تاریخ ابن اثير: ٨

٣١ ۵ / ٨۔ اصابہ : ١

پ انچ:۔ حجر کی بغاوت کی داستان ١١١ ۔ ١ ۴ ٩ / ١۔ تاریخ طبری: ٢

۴ ٠٣ ۔ ۴ ٠ ۴ / ٢۔ تاریخ ابن اثير : ٣

چه: عمرو بن حمق کے حالات ۴۴ ٠ ۔شرح حال نمبر : ١٩٢٣ / ١۔استيعاب : ٢

١٠٠ ۔ ١٠١ / ٢۔ اسد الغابہ : ۴

۵ ٢ ۶ ۔ شرح حال نمبر : ۵ ٨٣٠ / ٣۔ اصابہ : ٢

١ ۵ ۔ / ۴ ۔ طبقات ، ابن سعد: ۶

سات : دوران مختار ميں سبئيہ ، طبری ميں شبث اور سعر کی گفتگو اٹھ: سبئہ : دوران خلفائے عباسی اور سفاح کی تقریر ٢٩ ۔ ٣٠ / ١۔ طبری : ٣

٣١٢ ۔ ٣١ ۶ / ٢۔ ابن اثير: ۵

نو: سيف کا افسانہ ا سی کتاب کی جلد اوں کے حصہپر عبدالله بن سبا کے افسانہ کاسرچشمہ دس : عبدالله سبا وہی عبدالله بن وهب سبئی ہے ۔

١۔ مقالات اشعری : ص ٢٠

٢۔ اکمال ابن ماکولا، لفظ سبئی کے ضمن ميں ٣۔ انصاب سمعانی ،لفظ سبئی کے ضمن ميں ۴ ۔ المشتبہ ، ذہبی : ص ٣ ۴۶

١٨٣ / ۵ ۔ العبر ، ذہبی : ٢

۶ ۔ تفسير المتنبہ ، ابن حجر : ٧١ ۵ ۔

١٨٢ ۔ / ٧۔ خطط ، مقریری ۴

٨۔ انساب ابن حزم ميں عبدالله بن سبا کا نسب ، ص ٣٨ ۶

٩۔ عبدالله بن سبا کا “ ذی الثفنات ” لقب پانا:

٣٨ ۵ / ٣٣٨٢ ،جمہرہ ابن حزم : ٣ / طبری : ١

٩١ شرح ہال نمبر : / ١٠ ۔ عبدالله بن وهب کے سجدوں کی کثرت، اصابہ : ٣

۶ ٣ ۶ ١

٢٨٩ / ١١ ۔ عبدالله بن وهب کا خوارج سے تعاون کی داستان : تاریخ ابن کثير ٧

١٢ ۔ عبدالله بن وهب کی علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے عداوت:

٢٨ ۶ / ٣٣٨٢ ، ابن اثير : ٣ / طبری : ١

١٣ ۔ خوارجکے در ميان عبدالله بن وهب کی خلافت کی روداد:

جمہرة الانساب ، ابن حزم / ٣٨ ۶ بنی ميدعان کے انساب کے بيان ميں ؟

١٩١ / ١ ۴ ۔ عبد الله بن وهب کے قاتل: تاریخ ابن اثير، ٣

١ ۵ ۔ نہروان ميں خوارج کے مقتوليں کی تعداد:

٢٩١ ، اور دیگر تاریخ کی کتابوں ميں ۔ / تاریخ یعقوبی : ٢

گيارہ: عبدالله ابن سوداء کے بارے ميں مطالب ١۔ عبدالله بن سودا ایک حبشی سياہ فام عورت کا بيٹا تھا:

کتاب المحبر، ابن حبيب : ص ٣٠ ۶

٢۔ ابن سوداء کے بارے ميں سيف کی روایات ٢٩ ۴ ٢ / تاریخ طبری : ١

٣۔ سيف کی روایتوں ميں عبدالله ابن سودا کا نام:

٢٩ ۴۴ / تاریخ طبری : ١

۴ ۔ سيف کی روایتوں ميں ابن سودا کانام :

،٢٩ ۵۴ ، ٣٨ ۵ ٨ ۔ و ١٨ ۵ ٩ ۔ ٢٩٢٢ ، و ٢٩٢٨ / تاریخ طبری : ١

،٣١ ۶۵ ، ٣١ ۶ ٣ ،٣٠٢٧

چوتھی فصل

چندافسانوں کی حقيقت علی“ عليہ السلام” بادلوں ميں ہيں کا افسانہ۔

علی“ عليہ السلام’ بادلوں ميں ہيں نيزدوسرے افسانوں کی تحقيق۔

علی“ عليہ السلام’ بادلوں ميں ہيں کی حقيقت ۔

اس حصہ کے مآخذ۔

افسانہ علی عليہ السلام بادلوں ميں ہيں !

قالت السبئية انَّ علياً لم یمت و انه فی السحاب

سبئيہ کہتے ہيں : علی نہيں مرے ہيں بلکہ وہ بادلوں ميں ہيں ۔

علماء ادیان و عقائد اس کتاب کی گزشتہ بحثوں ميں ہم نے اس بے حساب نا قابل تعداد جھوٹ کی نشاندہی کی جسے گزشتہ کئی صدیوں کے دوران علماء اور مؤرخين نے مسلمانوں ميں پھيلانے کے سلسلے ميں کوشش کی ہے ۔ ہم نے خداکی مدد سے ان جھوٹ کے ضعيف اور بے بنيادہونے کو واضح کيا اور اس کی حقيقت سے پردہ اٹھایا ہے جيسے : ارتداد کی جنگوں ميں قتل عام ، فتوحات اسلامی ميں نقل ہوئے تعجب آور جھوٹ ، مسخرہ آميز خرافات ، شعر ،

معجزے ، شہروں کے نام، راوی اور دیگر مطالب اور بے بنيا د روایتوں کو اسی کتاب کی پہلی اور دوسری جلد ميں ذکرکرکے ان پر ایک ایک کرکے بحث کی اور اس سلسلہ ميں اپنی تحقيق اور نظریات کو محققين کی خدمت ميں پيش کيا ۔

اب ہم کتا ب کے اس حصہ ميں بھی چندایسے جھوٹ پر بحث وتحقيق کریں گے جو عقائد ، نظریات (ملل و نحل)اور دیگر کتابوں ميں “ جاء علی فی السحاب ” یعنی علی “عليہ السلام” بادل ميں آئے کے عنوا ن سے تحقيق درج ہوئی ہے ۔ انشاء الله جو کچھ اس سلسلہ ميں لکھا گيا ہے ہم اسے ضعيف اور بے بنياد ثابت کرکے اس کی حقيقت کو واضح اور روشن کریں گے اور اسی موضوع کے ساتھ اس کتاب کے مباحث کو خاتمہ بخشيں گے اور اگلی فصل ميں اس قسم کے اکاذب پر مشتمل روایتوں کو بيان کریں گے اور ان پربحث و تحقيق کو اگلی فصلوں ميں بيان کریں گے ۔

” جاء علی فی السحاب کے بارے ميں اخبار راور روایتيں “

مسلم نيشاپوری ( وفات ٢ ۶ ١ هء ) اپنی کتاب صحيح ميں ایک روایت کے ضمن ميں نقل کرتے ہيں : رافضی عقيدہ رکھتے ہيں کہ علی “عليہ السلام” بادلوں ميں ہيں اور کہتے ہيں کہ ہم دنيا کی اصلاح کرنے کيلئے ظہور کرنے والے آپ کے فرزند سے اس وقت تک نہيں مليں گے جب تک کہ خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام آسمان اور بادلوں سے آواز نہيں دیں گے اور ہميں ان کی نصرت کيلئے بلائيں اور ان کی رکاب ميں انقلاب بر پا کرنے کا حکم نہيں دیدیں گے“

اشعری -( وفات ٣٠١ ) اپنی کتاب المقالات ميں لکھتا ہے “ ایک گروہ کے لو گ اس پر اعتقاد رکھتے ہيں کہ علی بادلوں کے بيچ ہیں “

ابو الحسن اشعری ( وفات ٣٣٠ هء) بھی اپنی کتاب “مقالات الاسلاميين” ميں سبئيہ کا عقيدہ بيان کرتے ہوئے کہتا ہے اور یہ یعنی “ سبئيہ ” رعد کی آواز سنتے وقت کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين ابو الحسن ملطی ( وفات ٣٣٧ هء) کہتا ہے : سبئيوں کا دوسرا گروہ یہ عقيدہ رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام نہيں مرے ہيں ا وروہ بادلوں کے بيچ ميں ہيں جب بادلوں کا ایک سفيد ،شفاف اور نورانی ٹکڑا آسمان پر نمودار ہوتا ہے اور رعد و برق ایجاد کرتا ہے تو اس گروہ کے لوگ کھڑے ہوتے ہيں اور دعا و مناجات کرتے ہيں اور کہتے ہيں کہ : وہ علی عليہ السلام تھے جنهوں نے ہمارے سروں کے اوپر سے عبور کياہے“

بغدادی ( وفات ۴ ١٩ هء )اپنی کتاب “ الفرق بين الفرق ” ميں کہتا ہے : بعض “ سبئيہ ”

خيال کرتے ہيں کہ علی عليہ السلام بادلوں کے بيچ ميں ہيں اور رعد اس کی آواز اور تازیانہ ہے اگر اس گروہ کا کوئی ایک فرد رعد کی آواز سنتا ہے تو وہ کہتا ہے السلام عليک یا امير المؤمنين اور ایک شاعر سے نقل کيا ہے کہ اس گروہ سے دوری اختيار کرنے کے بارے ميں یہ شعر کہا ہے:

و من قوم اذا ذکروا علياً

یردون السَّلام علی السحاب

یعنی :ميں ا س فرقہ سے بيزاری اور دوری چاہتا ہو جو علی عليہ السلام کو یاد کرکے بادلوں کو سلام کرتے ہيں “

ابن حزم ( وفات ۴۵۶ هء ) کتاب ‘ ‘ الفصل ” ميں کہتا ہے : سبئيہ جو عبدالله بن سبا حميری یہودی کے پيرو ہيں ، علی عليہ السلام کے بارے ميں معتقد ہيں کہ وہ بادلوں کے بيچ ميں ہے“

البدا و التاریخ کا مؤلف کہتا ہے: “سبئيہ” جنہيں طيارہ بھی کہتے ہيں وہ عقيدہ رکھتے ہيں کہ وہ نہيں مریں گے ان کا مرنا اس طرح سے ہے کہ ان کی روح کا رات کی تاریکی ميں پرواز کرنا ، اور یہ گروہ یہ بھی عقيدہ رکھتا ہے کہ علی نہيں مرے ہيں اور وہ بادلوں کے بيچ

ميں ہيں اس لئےجب یہ لوگ رعد کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں علی غضبناک ہو گئے ہيں “

اسفرائينی ( وفات ۴ ٧١ هء) “ سبئيہ ” کے بارے ميں کہتا ہے اور اس گروہ کے بعض لوگ کہتے ہيں کہ علی عليہ السلام بادلوں ميں رہیں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے جب یہ لوگ رعد کو سنتے ہيں تو کہتے ہيں “ السلام عليک یا امير لمؤمنين ” اس کے بعد اسفرائينی نے وہی شعرذکرکيا ہے جو پہلے بيان ہوا۔

عثمان بن عبدالله عراقی حنفی ( وفات تقریباً ۵ ٠٠ هء) کتاب“الفرق المتفرقہ” ميں کہتا ہے : “سحابيہ ” ایک گروہ ہے جو یہ عقيدہ رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام ہر بادل کے ساتھ ہوتے ہيں ان کی گواہی سے عقدے بند ہوتے ہيں یہاں تک کہتا ہے : وہ اعتقاد رکھتے ہيں کہ علی نہيں مرے ہيں ، وہ جلدی ہی واپس لوٹنے والے ہيں اور اپنے دشمنوں سے انتقام ليں گے“

سبائيہ کی تعریف ميں کہتا ہے : سبائيہ ایک گروہ ہے جو عبدالله بن سباسے منسوب ہے وہ اعتقاد رکھتا ہے کہ علی عليہ السلام زندہ ہيں اور نہيں مرے ہيں وہ ہر بادل کے ساتھ چکر لگاتے رہتے ہيں ، رعد ان کی آواز ہے ، جلدی ہی واپس لوٹ کر اپنے دشمنوں سے انتقام ليں گے“

اسی طرح عثمان حنفی نے مذکورہ کتاب ميں مذہبی فرقوں ميں فرقہ سحابيہ کا بھی اضافہ کيا ہے ۔

شہرستانی ( وفات ۵۴ ٨ هء) سبئيہ اور غلو کرنے والے گروہ کے بارے ميں کہتا ہے وہ عبدالله بن سبا کے پيرو ہيں اور خيال کرتے ہيں کہ علی زندہ ہيں اور خدا کا ایک جزء ان ميں حلول کرگيا ہے لہذا انهيں موت نہيں آ سکتی ہے اور وہ بادلوں ميں آتے ہیں رعد ان کی آواز

ہے اور برق ان کی مسکراہٹ ہے وہ مستقبل ميں زمين پر اتریں گے اور زمين کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جبکہ ظلم و ستم سے لبریز ہوگی ۔

سمعانی ( وفات ۵۶ ٢ هء) اپنی کتاب “ الانساب ” ميں سبائی کے بارے ميں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے : یہ عبدالله بن سبا وہی ہے جس نے علی عليہ السلام سے کہا تم خدا ہو یہاں تک کہ علی نے اسے مدائن جلا وطن کردیا عبدالله بن سبا کے پيرو خيال کرتے ہيں کہ علی ( عليہ السلام) بادلوں کے بيچ ميں رہیں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے اس لئے شاعر کہتا ہے :

ومن قوم اذا ذکروا عليا یصلون الصلاة علی السحاب

یعنی : ميں اس گروہ سے بيزاری اور دوری چاہتا ہوں جو علی عليہ السلام کو یاد کرتے وقت بادلوں پر صلوات بھيجتا ہے“

ابن ابی الحدید ( وفات ۶۵۵ هء )نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ٢٧ کی تشریح ميں تفصيل سے گفتگو کرنے کے بعد کہتا ہے: وہ کہتے ہی کہ علی عليہ السلام نہيں مرے ہيں اور آسمان ميں رہتے ہيں رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے جب وہ رعد کی آواز سنتے ہيں تو کہتے ہيں :السلام عليک یا امير المؤمنين ۔

مقریزی ( وفات ٨ ۴۵ هء) “ خطط” ميں روافض کے بيان ميں کہتا ہے :“ روافض کاپانچواں گروہ یہی سبائی ہے کہ عبد الله بن سباکا پيرو ہے ابن سبا وہی شخص ہے کہ جس نے علی بن ابيطالب عليہ السلام کے سامنے کہا؛ تم خدا ہو اس کا اعتقاد یہ تھا کہ علی عليہ السلام قتل نہيں ہوئے ہيں بلکہ زندہ ہیں اور بادلوں کے بيچ ميں رہتے ہيں ،رعد ان کی آواز اور برق ان کاتازیانہ ہے یہ وہی ہے جو مستقبل ميں زمين پر اتریں گے ابن سبا کو خدا رسواکرے!

مقریزی نے ا ن ہی مطالب کو “ ذکر الحال فی عقائد اهل الاسلام ’ ميں بھی تکرار کيا ہے ۔

بعد والے مؤلفين اور مصنفين نے ان کے لکھے گئے مطالب اور نوشتوں کو اپنی کتابوں ميں نقل کيا ہے جيسے : فرید وجدی ( وفات ١٣٧٣ هء) نے دائرة المعارف ميں لفط عبدالله بن سبا کے ضمن ميں بغدادی کے الفاظ و بيان کو کتاب “ الفرق بين الفرق ” ميں من و عن درج کيا ہے ۔

اس طرح بستانی ( وفات ١٣٠٠ هء) اپنی دائرة المعارف ميں بعض گزشتہ مؤلفين ---جن کا گزشتہ صفحات ميں ذکر ہو ا ہے ---کے مطالب کو نقل کرتا ہے ۔

یہ تھا بعض علماء و مؤرخين کا افسانہ “ علی ابرکے بيچ ميں ہے ” کے بارے ميں یبان انشاء الله اگلی فصل ميں آئے گااور ہم اس کی تحقيق کریں گے ۔

”علی بادلوں ميں رہیں ” کے افسانہ کی تحقيق

کانت للنبی عمامة تسمی بالسحاب عممها عليا

پيغمبر اکرم کا ایک سحاب نامی عمامہ تھا اسے علی عليہ السلام کے سر پر رکھا۔ علمائے حدیث.

گزشتہ فصل ميں ہم نے داستان“ علی بادل ميں ہیں ” کے بارے ميں بعض روایتوں کو نقل کيا ، اب ہم اس فصل ميں ان روایتوں پر بحث و تحقيق کرتے ہيں :

پہلے ہميں ان بزرگ اور نامور علماء اور مؤلفين سے پوچهنا چاہئے کہ اپنی کتابوں ميں درج کی گئی ان ضد و نقيض روایتوں کو نقل کرتے وقت کيا انهوں نے اپنی فکر و عقل کا استعمال نہيں کيا؟!

کيا وہ اس نکتہ کی طرف متوجہ نہيں ہيں کہ سبئيہ کے عقيدہ کے مطابق امام کائنات کا خدا ہے جيسا کہ سعد اشعری نے نقل کياہے جرجانی و مقریزی کے نقل کے مطابق بقول ابن سبا علی در حققيت خدا ہے ابن ابی الحدیدکے بيان کے مطابق ابن سبا خود امام سے کہتا تھا: تم خدا ہوا ور ابن سبا کے پيرو اس عقيدہ پر اصرار کرتے تھے یہاں تک خود امير المؤمنين عليہ السلام نے ان تمام افرادکویا ان ميں سے بعض کو متعدد روایتوں کی نقل کے مطابق جلا دیا ہے ۔

اگر امام علی عليہ السلام کے بارے ميں ابن سبا کے پيرؤں کا عقيدہ یہی تھا تو وہ کسی طرح اسے بادلوں ميں ڈهونڈتے ہوئے “ السلام عليک یا امير المؤمنين ” کہہ کر درود بھيجتے اور امير المؤمنين کہہ کر خطاب کرتے تھے ؟!

کيا ان کے عقيدہ کے مطابق علی عليہ السلام کائنات کاخدا ہے یا امير المومنين ؟! ميں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان دانشوروں اور محققين نے کيوں اپنے بيان ميں موجود اس واضح وروشن تناقض کی طرف توجہ نہيں کی ہے اور ان کذب بيانيوں کی تصدیق و تائيد کی ہے ؟! یہاں تک کہ بعض محققين نے ان عقائد کی تردید بھی کی ہے اور اس مطلب کے نص ميں استدلال پيش کياہے کہ یہ عقيدہ بنيادی طور پر جھوٹ ہے ۔ جيسے بغدادی اپنی ‘ الفرق بين الفرق ” ميں کہتا ہے: ہم اس عقيدہ کے طرفداروں سے کہتے ہيں کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ رعد علی کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے کيسے درست اور صحيح ہوسکتا ہے؟! جبکہ اسلام اور علی عليہ السلام کی پيدائش سے قبل اسی رعد کی آواز کو لوگ سنتے تھے اور وہی بجلی آسمان پر دکھائی دیتی تھی اس کے علاوہ اسلام سے پہلے والے فلاسفروں نے اپنی کتابوں ميں رعد و برق کے بارے ميں بحث کی ہے اور ان کے علل و عوامل پر اختلا ف نظر کيا ہ ے ابن حزم اس گروہ کی تردید ميں اپنی کتاب ‘ الفصل ” ميں کہتا ہے: کاش ميں جانتا کہ وہ ان بادلوں ميں سے کس بادل ميں ہے جبکہ بادل کے ٹکڑے زمين و آسمان کے درميان کثير تعداد ميں موجود ہيں !! ان بزرگ علماء نے اس جھوٹ اور خرافات کو اپنی کتابوں ميں لکھ کر ان کی تائيد کی ہے۔

یہ جھوٹ اور توہمات پر مشمل افسانے کبھی صرف جعل کئے گئے ہيں اور کبھی ایک تاریخی حقيقت ميں مسخ ،تحریف یا ناجائز تفسير کرکے وجود ميں لائے گئے ہيں ۔

افسانہ “ علی بادلوں ميں ایا ” کی حقيقت

اتاکم علیّ فی السحاب

اب علی عليہ السلام عمامہ سحاب سر پر رکھ کر آپ کی طرف آئيں گے۔ رسول خدا گزشتہ فصلوں ميں ہم نے افسانہ “علی بادلوں ميں ” کو بيان کيااور اس پر بحث و تحقيق کی اور خلاصہ کے طور پر کہا: کہ اگرچہ یہ افسانہ جس صورت ميں ادیان و عقائد کی کتابوں ميں آیا ہے واقعی نہيں ہے ليکن افسانہ ایک تاریخی حقيقت سے سرچشمہ لے کر تحریف ہوا ہے اور وہ یہ کہ:

پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے زمانہ ميں غالباً وسائل زندگی کے نام رکھے جاتے تھے ، اور یہ روش پيغمبر کی زندگی ميں زیادہ مشاہدہ ہوتی تھی کنزل العمال ميں آیا ہے کہ: پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی عادت یہ تھی : آپ جنگ ميں اپنااسلحہ ،سواری ،اشياء اور دوسری چيزوں کی نام گزاری فرماتے تھے ۔(۱)

____________________

۱- ٧٢ ۔ ٧٣ / ١۔ کنزل العمال طبع دوم ۔ حيدر آباد ( ج ٧

پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی سيرت کی کتابوں ميں آیا ہے کہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا دلدل نام کا ایک خچر تھا اور عفير یا یعفور نام کا ایک گدها تھا ،قصوا، جدعا و عضباء نام کے چند اونٹ تھے ،بتار ،مخدوم و رسوب و ذوالفقار نامی چند تلواریں تھی عقاب نامی ایک سياہ علم تھا اور سحاب نامی ایک عمامہ تھا کہ جس کو مخصوص مواقع پر سر پر رکھتے تھے ۔ پيغمبر اسلام صلی الله عليہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن سياہ عمامہ سر پر رکھ کر مکہ ميں داخل ہوئے(۱)

ا س سحاب نامی عمامہ کو کبھی علی عليہ السلام کے سر پر رکھتے تھے غدیر کے دن اس عمامہ کو تاج گزاری کے طور پر علی عليہ السلام کے سر پر رکھا گياتھا علی عليہ السلام اسی عمامہ کے ساتھ آتے تھے اور پيغمبر فرماتے تھے : “ جاءَ کم علی فی السحاب ”

یعنی علی عليہ السلام سحاب عمامہ ميں دے ۔ چونکہ سحاب کے معنی بادل رہیں اس لئے اس خرافات پر مشتمل افسانہ کا سر چشمہ یہيں سے ليا گيا ہے اب ہم اس پر بحث و تحقيق کرتے ہيں ۔

اہل سنت کی روایتوں ميں سحاب

ابن اثير کی “ نہایة ” ميں لفط سحاب کی تشریح ميں ایا ہے : پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کے نام سحاب تھا ۔

” لسان العرب ” اور “ تاج العروس ” ميں ذکر ہواکہ : حدیث ميں وارد ہوا ہے کہ پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے عمامہ کو سحاب کہتے تھے ، چونکہ سفيدی ميں وہ ایک سفيد بادل سے شباہت رکھتا تھا(۲)

ذہبی کی “ تاریخ الاسلام ” ، قسطلانی کی “المواهب لدنيہ ” اور نبہانی کی “انوارمحمدیہ ” ميں آیا ہے کہ : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا اسے“ لاطی ” یعنی سر سے چپکی ہوئی ایک ٹوپی کے اورپر باندهتے تھے ۔

تاریخ یعقوبی ميں آیا ہے کہ : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک سياہ عمامہ تھا۔

سنن ابن ماجہ کے باب “ العمامة السوداء ” سنن نسائی کے باب “ لبس العمائم السوداء ” سنن ابی داؤد کے باب “ العمائم ” ابن سعدکی طبقات ، مسند احمد حنبل ، بلاذری کی “انساب الاشراف ” ذہبی کی “ تاریخ الاسلام ” اور تاریخ ابن کثير ميں جابر سے نقل ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن سياہ عمامہ سر پر رکھے ہوئے مکہ ميں داخل ہوئے ۔

____________________

۴۵ ۔ ۴٩٢ اور سيرت کی دوسری کتابيں ۔ / ١۔ طبقات ابن سعد، طبع بيروت ج ١

۲۔ ان دو دانشمندوں نے پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی عمامہ کی نام گزاری کے سبب کے بارے ميں غلطی کی ہے کيونکہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا عمامہ سياہ بادل سے شباہت رکھتا تھا نہ سفيد بادل سے۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے “سحاب ”نامی عمامہ کو علی بن ابيطالب عليہ السلام کے سر پر رکھا ، چنانچہ ابن قيم جوزی اپنی کتاب “ زاد المعاد ” ميں اس سے متعلق کہتا ہے : “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا اس عمامہ کو علی ابن ابيطالب کے سر پر رکھا وہ اس عمامہ کو ایک ٹوپی کے اوپر سے سر پر باندهتے تھے ۔

کنز العمال ميں ابن عباس سے نقل کرتا ہے “ جب رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے سحاب نامی عمامہ کو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے سر پر رکھا تو فرمایا: اے علی ! عمامہ عربوں کے نزدیک تاج کے مانند ہے ،یعنی : یہ تاج ہے جسے ميں نے تيرے سرپر رکھا ہے ” اور اس سلسلہ ميں جو روایت نقل کی گئی ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے علی عليہ السلام کے سر پر اپنے عمامہ باندهنے کی روداد غدیر کے دن واقع ہوئی ہے اسی دن رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کو بلا کر ان کے سر پر ایک عمامہ رکھا اور اس کا ایک سرا ان کی پشت پر لٹکا دیا۔

حموی ( وفات ٧٢٢ هء) نے ‘ فرائد السمطين ” ميں نقل کياہے کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اپنے سحاب نامی عمامہ کو علی ابن ابيطالب عليہ اسلام کے سر پر رکھا اور اس کے دو نوں سرے کو آگے اور پيچھے کی طرف لٹکادیا اس کے بعد فرمایا: اے علی !

ميری طرف آجاؤ ۔ علی عليہ السلام پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی طرف بڑهے پھر آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پيچھے کی طرف پلٹ جاؤعلی عليہ السلام پلٹ گئے جب رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کو آگے اور پيچھے سے دقت کے ساتھ مشاہدہ کرلياتو فرمایا ملائکہ اسی شکل و صورت ميں ميرے پاس آتے ہيں “

ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ ئه) اپنی کتاب “ الاصابہ” ميں علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے دن ميرے سر پر ایک سياہ عمامہ باندها، اسکا ایک گوشہ ميرے شانہ پر لٹکا ہوا تھا ، کنزل العمال ميں علی ابن ابيطالب عليہ السلام سے نقل کيا گيا ہے کہ : “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے غدیر کے دن ميرے سر پر ایک عمامہ باندها اور ا س کے ایک گوشہ کو ميری پشت پر آویزاں کردیا ”۔

ا یک اور روایت ميں آیا ہے کہ حضرت نے فرمایا: “ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اس عمامہ کے دو کناروں کو ميرے دو شانوں پر آویزاں کيا اس کے بعد فرمایا: خداوند عالم نے جنگ بدر و حنين ميں جب فرشتوں کو ميری مدد کيلئے بھيجا تو وہ اسی طرح سر پر عمامہ رکھے ہوئے تھے۔

کنز ل العمال ميں نقل ہوئی ایک دوسری روایت ميں یوں آیا ہے : رسول خدا صلی الله

عليہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عمامہ کو علی عليہ اسلام کے سر پر رکھا اور عمامہ کے دو گوشوں کو سر کے پيچھے اور آگے لٹکا دیا اس کے بعد فرمایا: پيچھے مڑو تو علی عليہ السلام پيچھے مڑگئے ۔ اس کے بعد رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے اصحاب کی طرف رخ کرکے کہا: فرشتوں کے تاج بھی ایسے ہی ہوتے ہيں ۔ علی عليہ السلام ،رسول خدا صلی الله

عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی عمامہ کو سر پر رکھ کر لوگوں ميں آتے تھے اور لوگ کہتے تھے : “ جاء علی فی السحاب ” علی پيغمبر اکرم صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے سحاب نامی مخصوص عمامہ کے ساتھ آگئے ہيں ۔

غزالی ( وفا ۵ ٢٠ هء ) کہتا ہے: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھااسے آپ نے علی عليہ السلام کو بخش دیا ، بعض اوقات ؛علی اسی عمامہ ميں تشریف لاتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے

:“ اتاکم علی فی السحاب “

صفدی ( وفات ٧ ۶۴ ئه) کہتا ہے: رسول خدا کی ایک کالی عبا اور سحاب نامی ایک عمامہ تھا آپ نے اسے علی کو بخش دیا جب کبھی آپ علی کو وہ عمامہ سر پر رکھے ہوئے دیکھتے تھے تو فرماتے تھے : “اتاکم علی فی السحاب ” علی عمامہ سحاب سر پر رکھ کرآئے ہيں “

علی ابن برہان الدین شافعی حلبی ( وفات ١٠ ۴ ٢ ئه ) “سيرہ حلبيہ ” ميں کہتا ہے :

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا آپ نے اسے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے سر پرر کها ، جب کبھی علی اس عمامہ کو سر پر رکھے ہوئے آنحضرت صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے: “ اتاکم علی فی السحاب” یعنی علی ميرے مخصوص عمامہ سحاب کو سر پر رکھے ہوئے آرہے ہيں ۔

نبہانی اپنی کتاب “ وسائل الوصول الی شمائل الرسول ” ميں کہتا ہے: رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا ، اسے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کو بخش دیا ،تھا جب کبھی علی اس عمامہ کے ساتھ باہر آتے تھے تورسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : “اتاکم علی فی السحاب

یہ ان روایتوں کا ایک نمونہ تھا جو پيغمبر خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی طر ف سے علی عليہ السلام کو اپنا عمامہ بخشنے اور علی فی السحاب کے صحيح معنی کے بارے ميں اہل سنت کی حدیث ، سيرت اور لغت کی کتابوں ميں ائی ہيں ۔ اسی قسم کی احادیث شيعوں کی کتابوں ميں بھی نقل ہوئی ہيں ان کے چند نمونے بھی یہاں پر پيش کرتے ہيں :

شيعہ روایتوں ميں سحاب

اسماعيل ١ ابن امام موسی بن جعفر عليہ السلام ، کتاب “ جعفریات ” ميں اپنے آبا و اجداد امير المؤمنين سے نقل کرتے ہیں کہ: حضرت فرماتے تھے : رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا سحاب نامی ایک عمامہ تھا ان ہی روایتوں کو مرحوم نوری ( وفات ١٣٢٠ هء) نے اپنی کتاب المستدرک کی کتاب صلاة باب “استحباب التعمم و کيفيته ” ميں نقل کيا ہے ۔

کلينی( وفات ٣٢٩ ئه) نے اپنی کتاب کافی “ کتاب الزی و التجميل باب القلانس ” ميں امام صادق عليہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم یمنی سفيد ، اور مضری ٹوپياں استعمال فرماتے تھے اور سحاب نامی ایک عمامہ بھی رکھتے تھے ۔

ان روایتوں کو مرحوم فيض ( وفات ١٠٩١ هء) نے اپنی کتاب “وافی ، باب “ القلانس” ميں اور مرحوم محمد حسن حر عاملی ( وفات ١١٠ ۴ ئه) نے کتاب وسائل کی “ کتاب الصلاة ، باب ما یحتسب من القلانس ” ميں درج کيا ہے ۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے جنگ خندق ميں اپناسحاب نامی عمامہ کو علی کے سر پر باندها مرحوم فضل بن حسن طبری ( وفات ۵۴ ٨ هء) مجمع البيان ميں تفسير سورہ احزاب ميں جنگ احزاب کی بحث کے دوران کہتے ہیں : جنگ خندق ميں جب امير المؤمنين عليہ السلام عمرو ابن عبدود سے جنگ کرنے کے لئے روانہ ہونا چاہتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے “ ذات الفصول ” نامی اپنی ذرہ انہيں پہنادی “ ذو الفقار ” نامی اپنی تلوار انکے ہاتھ ميں دیدی اور “سحاب” نامی اپنا عمامہ ان کے سے سر پر باندها اور اسی روایت کو مرحوم مجلسی( وفات ١١١١ هء) نے بحار الانوار کی چهٹی جلد ميں ، نوری نے مستدرک الوسائل “ استحباب التعمم اور ابواب احکام الملابس فی غير الصلاة ” ميں اور مرحوم قمی (وفات ١٣ ۵ ٩ هء) نے سفينة البحار ميں مادہ عم کے ذیل ميں طبرسی سے نقل کيا ہے حسن بن فضل طبرسی نے بھی اپنی کتاب ‘ مکارم الاخلاق ” کے باب “مکارم اخلاق النبی صلی الله عليہ و آلہ وسلم ” ميں نقل کيا ہے ۔

رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کا ایک مخصوص عمامہ تھا اسے “ سحاب ” کہتے تھے کبھی آپ اسے اپنے سر پر باندهتے تھے اورکبھی اسی عمامہ کو علی عليہ السلام کے سر پر رکھتے اور جب بھی علی اس عمامہ کے ساتھ باہر آتے تھے تو رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم فرماتے تھے : “ اتاکم علی فی السحاب ” اس وقت علی ‘ سحاب ” ميں تمہاری طرف آرہے ہيں آپ کا مقصود اس تاریخی جملہ ميں “ سحاب ”سے وہی مخصوص عمامہ تھا جسے آپ نے خود علی کو بخش دیا تھا ۔

ا س روایت کو مجلسی نے بحار کی چهٹی جلد ميں اور قمی نے سفينة البحار ميں مادہ “سحاب” کے ذیل ميں ذکر کيا ہے۔

مرحوم کلينی نے اپنی کتاب “ کافی” کے “ باب عمائم ” ميں امام صادق عليہ السلام سے یوں نقل کيا ہے کہ ایک دن رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے علی عليہ السلام کے سر پر ایک عمامہ رکھا عمامہ کے ایک طرف کو سامنے اوردوسرے طرف کو چار انگليوں کی لمبائی ميں سے کم تر پيچھے کی جانب لٹکا دیا، اس کے بعد فرمایا: اے علی عليہ السلام :

____________________

١۔اسماعيل امام سوسی بن جعفر عليہ السلام کی فرزند ہيں نجاشی اپنی رجال ميں اور شيخ طوسی اپنی فہرست ميں ٣۴ ۔ ٣٣ پر کہتے ہيں : اسماعيل مصر ميں سکونتپذیر تھے اور بہت سی کتاب کے مؤلف ہیں ان کی روایتوں کو کلی طور پر اپنے آباو اجداد طاہرین سے نقل کی ہے ان ميں سے متن ميں ذکر ہوئی دو روایتيں بھی ہيں نجاشی اور طوسی کا مقصود اسماعيل کی وہی کتابيں ہيں جسے علمائے حدیث ان کو “ جعفریات ”

اورکبھی“اشعشيات ” کا نام دیا ہے ان روایتوں کے راوی کے طور پر ابو علی محمد بن اشعث کو نسبت دیتے ہيں ٢٩١ ) اور صاحب الذریعہ نے / اسماعيل کے حالات پر مرحوم نوری نے اپنی مستدرک کے خاتمہ پر فائدہ دوم ( ٣

١٠٩ ۔ ١١١ ميں درج کيا ہے ۔ / اپنی کتاب ٢