عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 4072
ڈاؤنلوڈ: 610


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4072 / ڈاؤنلوڈ: 610
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

”سبئيہ ” ، سيف بن عمر کے دوران

حرّف سيف کلمة السبئية

جب سيف کا زمانہ آیا تولفظ “ سبئيہ ” کو تحریف کرکے اس کے اصلی معنی سے ایک دوسرے معنی ميں تبدیل کردیا ۔مؤلف

بنی ا ميہ کے دورکے آخری ایام ميں عدنانيوں اور قحطانيوں کے اختلافات عروج پر پہنچ چکے تھے۔ دونوں طرف کے ادیب اور شعراء اپنے قبائل کی مدح ميں ا ور دشمنی کی مذمت وسرزنش ميں شعر و قصيدہ لکھتے تھے اسی زمانے ميں کوفہ ميں سيف بن عمر تميمی پيدا ہوا ۔ اس نے تاریخ اسلام ميں دو بڑی کتابيں “ الرد و الفتوح ” اور “ الجمل و مسير علی و عائشہ ” لکھيں ۔ اس نے ان دونوں کتابوں کو گوناگوں تحریفات ، جعليات ، توہمات پرمشتمل روایتوں سے بھر دیا ۔ اس نے دسيوں بلکہ سيکڑوں شعراء احادیث، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے راوی ، پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے اصحاب ، تابعين اسلامی جنگوں ،کے سورما اور فاتح اور بہت سے دیگر افراد کو اپنے ذہن سے جعل کيا جن کا دنيا ميں در حقيقت کہيں وجود ہی نہيں تھا ۔ اس کے بعد ان ميں سے ہر ایک کی نام گزاری کرکے خاص عنوان دیا ، ان کے نام پر داستانيں ، تاریخی وقائع ، کثير روایتيں ، اشعاراورا حادیث جعل کيں ۔ ا ن تمام چيزوں کو اسنے جعل کئے ہوئے نام و نشان اور خصوصيات کے ساتھ اپنی مذکورہ دو کتابو ں ميں درج کيا ۔

دوسرا خطرناک کام جو سيف نے ان دو کتابوں ميں انجام دیا وہ یہ تھا کہ اس نے تمام خوبيوں فضائل ، مجاہدتوں اور نيکيوں کو قبائل عدنان کے نام پر درج کيا اور تمام عيوب ، نواقص ،برائياں ، اور مفاسد کو قبائل قحطان و سبئی سے نسبت دیدی انکے بارے ميں جتنا ممکن ہوسکا دوسروں کی عيوب و نواقص کو بھی جعل کيا اہم ترین مطلب جو اس نے ان کی مذمت او رسرزنش ميں جعل کياوہی ‘ ‘افسانہ سبئيہ ” تھا کہ اس افسانہ ميں “ سبئيہ ” کو ایک یہودی اور سياہ فام کنيز کے بيٹے عبدالله بن سباکے پيرو کے طور پر پہچنوایا ہے اسی طرح اس نے لفط “سبئيہ ” کو اپنے اصلی مفہوم ---کہ قبيلہ کی نسبت کے طو پر قبائل سبائی اور ان کے ہم پيمانوں کی سرزنش کے عنوان سے استعمال ہوتا تھا ---سے تحریف کرکے ایک مذہبی مفہوم ميں تبدیل کيا اور کہا: سبئيہ ایک منحرف مذہبی گروہ ہے جوگمنام اور منحرف یمانی الاصل یہودی عبدالله بن سبا کے پيرو و معتقد ہيں ، اس کے بعد عصر عثمان اور امير المؤمنين کے دور کے تمام جرم و جنایات کو ان کے سر پر تهونپ کر کہتا ہے کہ:اسی فرقہ سبئيہ کے افراد تھے ۔جو ہميشہ حکومتوں سے عداوت اور مخالفت کرتے تھے ۔

ان کے بارے ميں طعنہ زنی اور عيب جوئی کرتے تھے لوگوں کوان کے خلاف اکساتے تھے ، یہاں تک ان پر یہ تہمت بھی لگائی ہے کہ انہوں نے متحد ہوکر مسلمانوں کے خليفہ عثمان کو مدینہ ميں قتل کيا اور عبد لله بن سبا سے منسوب اسی سبيئہ گروہ کو جنگ جمل کے شعلے بهڑکانے کا بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

سيف نے اپنے اس بيان سے قبائل عدنان کے بزرگوں اور سرداروں جن ميں سے خود بھی ایک تھاکو ہر جرم ، خطا اور لغزش سے پاک و منزہ قرار دیا ہے اور سبئيہ کو جنگ جمل اور اس ميں ہوئی برادر کشی کا ذمہ دار قرار دیا ہے سيف نے اپنی باتوں سے ان تمام فتنوں کو ایجاد کرنے والے ، جسے: مروان ، سعيد ، وليد، معاویہ ، عبدالله بن سعد بن ابی سرح ،طلحہ ، زبير ، عائشہ اور قبائل عدنان کے دسيوں دیگر افرادکو بے گناہ ثابت کيا ہے ، جنہوں نے علی عليہ السلام کی عدل و انصاف پر مبنی اور تفریق سے عاری حکومت کے خلاف جنگ جمل بهڑکائی ۔ اس طرح تمام جرائم و گناہ و ظلم و بربریت کو گروہ سبئيہ کے سر تهونپا ہے ۔ سيف نے اپنے کام ميں اپنے وقت کے تمام ادیبوں اور مؤلفين خواہ وہ عدنانی ہوں یا قحطانی ، پر سبقت حاصل کی ہے کيونکہ ان ميں ہر ایک ادیب یا شاعر تھا جس نے اپنے قبيلہ کی مدح ميں یا اپنے مد مقابل قبيلہ کی مذمت ميں کچھ لکھا یاکہا ہوگا ليکن سيف نے دسيوں شاعراور ادیب جعل کئے ہيں کہ ان ميں سے ہر ایک نے اپنے قبيلہ کی مدح اور اپنے مد مقابل کی مذمت ميں سخن آفرینی کی ہے۔

ا ن سب چيزوں سے اہم تر یہ کہ سيف اپنے افسانوں کو حقيقی رنگ و روپ دینے ميں کامياب ہوا،اس نے اپنے جعل کئے ہوئے شاعروں کے نام پر کہے اشعار اوراپنے جعل کئے ہوئے جعلی اصحاب کے نام فتح و معجزہ اور حدیث گڑه کر ان کو تاریخی حوادث اور اشخاص کی صورت ميں پيش کيا ہے ، اور اس طرح اپنے تمام افسانوں کو دوسری صدی ہجری سے آج تک مسلمانوں ميں تاریخ لکھنے کے نام پر بے مثال رواج دیا اس نے اپنے تمام چھوٹے بڑے افسانوں کيلئے روایتوں کے مانند سند مآخذ جعل کرکے اپنے جعلی راویوں سے روایت نقل کی ہے ۔

سيف کی سبقت حاصل کرنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ لفظ سبيئہ کو قبيلہ کی نسبت اور قبائل یمانی اور ان کے ہم پيمانوں کی سرزنش کے معنی و مفہوم سے ایک نئے مذہبی معنی ميں تحریف کرنا اور خوارج کے سردار عبدالله بن وہب سبائی و عبدالله بن سبا یہودی ميں تبدیل کرکے اسے سبائيوں کے نئے مذہبی فرقہ “ سبئيہ ” کا بانی بتانےميں کامياب ہوا ہے!!

حقيقت ميں سيف نے افسانہ “ سبئيہ ’ کو تاریخ کے عنوان سے جعل کيا ہے ، ایک موذی شخص کو اس افسانہ کا ہيرو بنایا ہے اور اس کا نام عبدالله بن سبا رکھا ہے اس کے بعد اس کو چالاکی او رخاص مہارت سے تاریخ کے بازار ميں پيش کيا ہے پھر یہ افسانہ تاریخ لکھنے والوں کے مزاج کے مطابق قابل قبول قرار پایا ہے اس وجہ سے “ افسانہ سبئيہ ” نے خلاف توقع اشاعت اورشہرت پائی اس افسانہ کے خيالی ہيرو عبدالله سبا نے بھی کافی شہرت حاصل کی جس کے نتيجہ ميں عبدالله بن وهب فراموشی کا شکار ہوگياجبکہ علی عليہ السلام کے دوران لفط سبئی اسی عبدالله بن وهب سبائی سے منسوب تھا کہ جو فرقہ خوارج کا رئيس تھا سيف کے افسانہ کو اشاعت ملنے کے بعد یہ لفظ اپنے اصلی معنی سے تحریف ہوکر ایک تازہ پيدا شدہ مذہبی فرقہ ميں ا ستعمال ہوا ہے جس کا بانی بقول سيف عبدا لله سبا نامی ایک یہودی تھا ،اس جدید معنی ميں اس لفظ نے شہرت پائی، اورعبد الله بن وهب سبائی بھی عبدالله سبائی یہودی ميں تبدیل ہوگیا اس تاریخ کے بعد رفتہ رفتہ لفط “سبئيہ ” کا قبيلہ سے نسبت کے طورپر استعمال ہونا متروک ہوگیا،خاص طورپر عراق کے شہروں اور عراق کے گرد و نواح شہروں اور افسانہ عبدالله بن سبا اور فرقہ سبائيہ کی پيدائش کی جگہميں اس کا اصلی معنی ميں استعمال مکمل طور پر فراموشی کی نظرہوگيا یہاں تک کہ ہم نے اپنے مطالعات ميں اس کے بعد کسی کو نہيں دیکھا جو ان شہروں ميں سبا بن یشجب سبئی سے منسوب ہواہو ليکن یمن، مصر اور اندلس ميں دوسری اور تيسری صدی ہجری ميں کبھی یہ لفط اسی اصلی معنی ميں استعمال ہوتا تھا ،بعض افراد جو فرقہ “ سبئيہ ”’ کے بانی عبدالله بن سبا سے اصلا کوئی ربط نہيں رکھتے تھے سبا بن یشجب اور قبيلہ قحطان سے منسوب ہونے کے سبب سبئيہ کہے جاتے تھے صحاح کی کتابوں کے مولفين نے بھی حدیث ميں ان سبئی افراد کوبعنوان حدیث کے قابل اعتماد راویوں کے طورپر ذکر کيا ہے ليکن بعد ميں ان شہروں ميں بھی زمانہ کے گزرنے کے ساتھ سبئيہ کا استعمال بعنوان قبيلہ بالکل نابود ہوگيا اور اس طرح اس لفظ نے تمام شہروں اور اقطاع عالم ميں ایک مذہبی فرقہکے نام سے شہر ت پائی ہم اگلی فصل ميں اسی کی وضاحت کریں گے ۔

تاریخ ، ادیان اور عقائد کی کتابوں ميں عبدالله بن سبا

هم الذین یقولون ان عليّاً فی السحاب وان الرعد صوته و البرق سوطه

گروہ سبائيہ معتقد ہيں کہ علی“ عليہ السلام ”بادلوں ميں ہيں اور رعد ان کی آواز اور برق ان کا تازیانہ ہے علمائے ادیان و عقائد

تاریخ ميں عبدالله سباکی متضاد تصویریں

سيف نے افسانہ عبدالله سبا وسبئيہ کو جعل کرکے اپنی کتابوں ميں تاریخی حوادث کے طور پر ثبت کيا ہے ، اس کے بعد طبری اور دوسرے مورخين نے اس کی دو کتابوں سے اس افسانہ اور سيف کے دوسرے افسانوں کو نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے خاص کر افسانہ سبئيہ کو مسلمانوں ميں پہلے سے زیادہ منتشر کيا اس افسانہ کے منتشر ہونے کے بعد لفظ “ سبئيہ ” تمام نقاط ميں اور تمام لوگوں کی زبانوں پر عبدالله بن سبا کے ماننے والوں کيلئے استعمال ہوا اور اس معنی ميں خصوصيت پيدا کر گيا اس کے بعدا س کااپنے اصلی معنی ميں ---کہ قبيلہ قحطان اور سبا بن یشجب سے منسوب ہونا --- استعمال متروک ہوگيا ہے۔

ليکن بعد ميں سبئی کا مفہوم اس معنی سے بھی تغير پيدا کرگيا اور اس ميں ا یک تبدیلی آگئی اور یہ لفظ مختلف صورتيں اختيار کرگيا اس کا جعل کرنے والا بھی متعدد قيافوں اور عنوانوں سے ظاہر ہوا ، مثلاً : دوسری صدی ہجر ی کے اوائل ميں سيف کی نظر ميں “ سبئی ”

اس کو کہا جاتا تھا جو علی عليہ السلام کی وصایت کا معتقد ہو ليکن تيسری صدی کے اواخر ميں ‘ سبئی ” اس کو کہتے تھے جو علی عليہ السلام کی الوہيت کا معتقد ہو اسی طرح عبدالله بن سبا سيف کی نظر اور اسکے زمانے ميں وہی ابن سودا تھاليکن پانچویں صدی ہجری کے اوائل ميں عبدالله بن سبا ، ابن سودا کے علاوہ کسی اور شخصيت کی حيثيت سےپہچاناگيا بلکہ یہ الگ الگ دو افراد پہچانے گئے کہ ہر ایک اپنی خاص شخصيت کا مالک تھا اور وہ افکار و عقائد بھی ایک دوسرے سے جدا رکھتے تھے کلی طور پر جو مطالب پانچویں صدی ہجری کے اوائل ميں عبدالله سبا کے بارے ميں ذکر ہوئے ہيں ان سے یوں استفادہ کيا جاسکتا ہے عبدالله سبا چنداشخاص تھے، اور ہر ایک کےلئے اپنی مخصوص داستان تھی:

اول: عبدالله بن وهب سبائی جو علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے زمانے ميں زندگی کرتا تھا وہ خوارج گروہ کا سردار تھا ليکن علماء کی ایک مخصوص تعداد کے علاوہ اسے کوئی نہيں جانتا ۔

دوم: وہ عبدالله بن سبا جو ابن سودا کے نام سے مشہور تھا سيف کے کہنے کے مطابق یہ عبد الله سبا فرقہ “ سبائيہ ” کا بانی کہ جو علی عليہ السلام کی رجعت اور وصایت کا معتقد تھا اس نے اکثر اسلامی ممالک اور شہروں ميں فتنے اور بغاوتيں برپا کی ہيں ، لوگوں کو گورنروں اور حکمرانوں کے خلاف اکساتا تھا نتيجہ کے طورپر سبائی مختلف شہروں سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر جمع ہونے کے بعد مسلمانوں کے خليفہ عثمان کو قتل کر ڈالا یہ وہی تھے جنہوں نے جنگ جمل کی آگ بهڑکا ئی اور مسلمانوں ميں ایک زبردست قتل عام کرایا ۔

سوم : عبدالله سبائی ، غالی ، انتہا پسند تيسرا عبدالله سبا ہے وہ فرقہ سبئيہ کا بانی تھا جو علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرکے انکی الوہيت کا قائل ہوا تھا ۔

پہلا عبدالله سبائی حقيقت ميں وجود رکھتا تھا اور علی ابن ابيطالب کے زمانہ ميں زندگی بسر کرتا تھا اپنے حقيقی روپ ميں کم و بيش تاریخ کی کتابوں ميں درج ہو اہے دوسرا عبدلله بن سبا وہ ہے جسے بنی اميہ کی حکومت کے اواخر ميں سيف کے طاقتور ہاتھوں سے جعل کيا گيا ہے اس کی زندگی کے بارے ميں روایتيں اسی صورت ميں تاریخ کی کتابوں ميں ہيں جيسے سيف نے اسے جعل کياہے ۔

ليکن تيسرا عبدالله بن سبا ، جو تيسری صدی ہجری ميں پيدا ہوا ہے اس کے بارے ميں روایتيں دن بہ دن وسيع سے وسيع تر ہوتی گئی ہيں اور اسکے بارے ميں مختلف داستانيں و مطالب مفصل طورپر نقل کئے گئے ہيں کہ تاریخ ، رجال او رمخصوصاً ادیان و عقائد کی کتابيں ان سے بھری پڑی ہيں ۔

ایک مختصر بحث و تحقيق کے پيش نظر شاید اس روداد کی علت اور راز یہ ہو کہ عبدالله بن وهب سبائی یا پہلا عبدالله چونکہ حقيقت ميں وجود رکھتا تھا اس کے بارے ميں سر گزشت اور روایتيں جس طرح موجود تھيں اسی طرح تاریخ ميں آگئی ہيں اور اسی مقدار کے ساتھ اختتام کو پہنچی ہيں ليکن دوسرا عبدالله بن سبا ، چونکہ اس کو خلق کرنے والا سيف بن عمر ہے اس لئے اس نے اس افسانہ کو حسب پسند اپنے خيال ميں تجسم کرکے جعل کيا ہے اس کے بعد اسے اپنی کتاب ميں درج کيا ہے اور بعد والے مؤرخين نے بھی اسی جعل کردہ افسانہ کو اس سے نقل کرکے اپنی کتابوں ميں درج کياہے اس لحاظ سے ان دو عبد الله بن سبا کے بارے ميں اخبار رو روایتوں ميں زمانہ اور صدیاں گزرنے کے باوجو دکوئی خاص فرق نہيں آیا ہے ۔

ليکن ، تيسرا عبدالله سبا چونکہ مؤرخين اور ادیان و عقائد کے علماء نے اس کے بارے ميں روایتوں اور داستانوں کو عام لوگوں اور گلی کوچوں سے ليا ہے اور عام لوگوں کی جعليات ميں بھی ہر زمانے ميں تبدیلياں رونما ہوتی ہيں ۔ اس لئے تيسرے عبدالله بن سبا کے افسانہ ميں زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ وسعت پيدا ہوکر تغيرات آگئے ہيں تيسری صدی ہجری کے آواخر سے نویں صدی ہجری تک کتابوں ميں عبدالله بن سبا کی شناخت یوں کرائی گئی ہے؛

ا لف ) عبدالله سبا وہی ہے جو علی عليہ السلام کی خلافت کيلئے بيعت کے اختتام پر حضرت کی تقریر کے بعد اٹھا اور بولا: “ یاعلی ! تم کائنات کے خالق ہو اور رزق پانے والوں کو رزق دینے والے ہو !” امام عليہ السلام اس کے اس بيان سے بے چين ہوئے اور اسے مدینہ سے مدائن جلا وطن کيا اس کے بعد ان کے حکم کے مطابق ان کے ‘ سبئيہ ” نامی گيارہ ماننے والوں کو گرفتار کرکے آگ ميں جلادیا ، ان گيارہ افراد کی قبریں اسی سرزمين صحرا ميں معروف ہيں ۔

ب) عبدالله بن سبا ، وہی ہے جس نے امام علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کيا ہے اور انہيں پناہ خدا تصور کيا، لوگوں کو اپنے اس باطل عقيدہ کی طرف دعوت دی ،ایک گروہ نے اس کی اس دعوت کو قبول کيا ،علی عليہ السلام نے بھی اس گروہ ميں سے بعض افراد کو آگ کے دو گڑهوں ميں ڈال کرجلا دیا یہاں پر بعض شعراء نے کہاہے:

لترم بی الحوادث حيث شاءَ ت

اذا لم ترم فی الحضرتين

یعنی : حوادث روزگار ہميں جس خطرناک عذاب ميں ڈال دیں ،ہميں اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے مگر ہميں علی عليہ السلام آگ کے ان دو گڑهوں ميں نہ ڈالےں ۔

علی عليہ السلام نے جب ابن سبا کے اس غلو و انحراف کا مشاہدہ کيا تو اسے مدائن ميں جلاوطن کردیا وہ علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر سننے تک مدائن ميں تھا ،اس خبر کو سننے کے بعد اس نے کہا: علی عليہ السلام نہيں مرے ہیں ، جو مرگيا ہے وہ علی عليہ السلام نہيں تھے بلکہ شيطان تھا ، جو علی عليہ السلام کے روپ ميں ظاہر ہوا تھا کيوں کہ علی عليہ السلام نہيں مرےں گے بلکہ انهوں نے عيسیٰ کے مانند آسمانوں کی طرف پرواز کی ہے اور ایک دن زمين پر اترکر دشمنوں سے انتقام ليں گے!

ج) عبدالله سبا وہی ہے جس نے کہا: علی خدا ہیں اور ميں ان کا پيغمبر ہوں علی عليہ السلام نے اسے گرفتار کرکے جيل ميں ڈال دیا ۔ عبدالله بن سبا تين دن رات تک اسی زندان ميں رہا ،اس مدت کے دوران اس سے درخواست کرتے تھے کہ توبہ کرے اور اپنے باطل عقيدہ کو چھوڑدے ،ليکن اس نے توبہ نہيں کی ،علی عليہ السلام نے اسے جلادیا اس روداد کے بارے ميں علی نے یہ شعرپڑها :

لما رایت الامر منکرا اوقدت ناری و دعوت قنبراً

” جب ميں نے ناشائستہ عمل دیکھا، اپنی آگ کو شعلہ ور کرکے قنبر کو بلایا“

د) عبدالله بن سبا وہی تھا جب امام علی بن ابيطالب عليہ السلام نے اسکے سامنے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے تو اس نے امام پر اعتراض کيا اورکہا؛ کيا خدائے تعالیٰ ہر جگہ پر نہيں ہے؟!! کيوں دعا کے وقت اپنے ہاتھ کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہو ؟

ه ) عبدالله بن سبا وہی ہے جو اپنے ماننے والوں کے ہمراہ امام کی خدمت ميں آ کر کہنے لگا: اے علی عليہ السلام تم خدا ہو ! علی عليہ السلام نے بھی ان کی کفر آميز باتوں کے جرم ميں ان سب کو آگ ميں جلادیا ،ان کو ایک ایک کرکے آگ ميں ڈالتے وقت وہ کہتے تھے :اب ہميں یقين ہوگيا کہ علی عليہ السلام ہی خدا ہیں ، کيونکہ خدا کے علاوہ کوئی اور کسی کو آگ سے معذّب نہيں کرتا ہے!

ز) عبدالله بن سبا پہلا شخص تھا جس نے ابوبکر، عمر، عثمان، اورپيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کی مذمت و سرزنش کی اور ان سے بيزاری کی ، مسيب بن نجيہ نے اسے گرفتار کيا اور گھسيٹتے ہوئے امام کے پاس لے آیا ،حضرت نے پہلے ابو بکر و عمر کی ثنا خوانی کی اور ان کااحترام کيا، اس کے بعد فرمایا: جو بھی مجھے ان سے برتروافضل جانے گا ميں اس پر افتراء کی حد جاری کروں گا ، اس کے بعد اسے مدائن جلا وطن کردیا۔

ح) عبدالله بن سبا ، وہی تھا کہ علی کو مرنے کے بعد بھی زندہ جانتا تھا جب وہ مدائن ميں جلاوطنی کے دن گزاررہاتھااور اس سے علی عليہ السلام کی رحلت کی خبر دی گئی ،تو اس نے اس خبر کو قبول نہيں کيا جس نے یہ خبر دی تھی اسے کہا: اے دشمن خدا ! خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہاہے ،اگر علی عليہ السلام کے سر کی کهوپڑی بھی ميرے سامنے لاؤ گے اور ستر عادل مومن گواہی دیں گے کہ علی عليہ السلام وفات کرگئے ہيں پھر بھی ميں تيری بات کی تصدیق نہيں کروں گا کيونکہ ميں جانتاہوں کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نہيں مریں گے اور نہ قتل کئے جائيں گے یہاں تک کہ پوری دنيا پر حکمرانی کریں گے،اس کے بعد عبدالله بن سبا اسی دن اپنے ساتھيوں کے ہمرا ہمدائن سے کوفہ کی طرف روانہ ہوگيا وہ علی کے گھر کے دروازے پر پہنچے دوروازہ پر کھڑے ہو کر جس طرح کسی زندہ انسان سے گھر ميں داخل ہونے کی اجازت چاہتے ہيں علی عليہ السلام سے اجازت طلب کی ،امام کے خاندان والوں نے ان کی رحلت کی خبر دی ، انہوں نے علی کی وفات کو قبول نہيں کيا اورا مام کی رحلت کے بارے ميں امام کے اہل بيت عليہم السلام کی بات کو ماننے سے انکار کيا اور اسے جھوٹ کہا:

یہ تھا ان مطالب کا ایک خلاصہ جو تيسرے عبدالله سبا کے بارے ميں کہے گئے ہيں اور اسکی زندگی کے حالات اورعقيدہ کے طور پر کتابوں ميں ثبت ہوکر رائج ہوئے ہيں اسی کے بارے ميں مزید کہا گيا ہے: عبدالله بن سبا وہی ابن سودا ہے یعنی ایک سياہ فام کنيز کا بيٹا ، اس کے باوجود معروف یہ ہے ابن سبااور ابن السوداء دوا فراد اور الگ الگ دوشخصيتيں ہيں ۔

اور کہا گيا ہے کہ : دوسرا عبدالله بن سباحير ہ کے یہودیوں ميں سے تھا ، اس نے علی عليہ السلام اور اس کی اولاد کے بارے ميں تاویلات کرکے مسلمانوں کے دین کو فاسد و منحرف کرنا چاہا تا کہ مسلمان علی عليہ السلام اور ان کے فرزندوں کے بارے ميں وہی اعتقاد پيدا کریں جو عيسائی حضرات عيسیٰ کے بارے ميں رکھتے ہيں اس کے علاوہ وہ کوفہ کے لوگوں پرریاست اور سرپرستی کرنا چاہتا تھا ۔ اس لئے اس نے کوفہ کے لوگوں ميں افواہ پھيلائی کہ توریت ميں آیا ہے “ ہر پيغمبر کا ایک وصی ہے اور علی عليہ السلام بھی محمد خاتم النبيين صلی اللهعليہ و آلہ وسلم کے وصی ہيں ” لوگوں نے یہ بات اس سے سن کر علی عليہ السلام کو پہنچا دی کہ ابن سوداء آپ کے دوستدا روں اور چاہنے والوں ميں سے ہے ، علی( عليہ السلام )نے اس کا کافی احترام کرتے اور اسے اپنے منبر کے نيچے بٹھاتے تھے ليکن جس دن علی عليہ السلام کے بارے ميں عبدالله کا غلو ظاہر ہواا ور حضرت تک پہنچا تو حضرت نے اس کو قتل کرنے کا فيصلہ کيا، ليکن چونکہ حضرت اس کے ماننے والوں کے فساد و بغاوت سے ڈر گئے اس لئے اس کے قتل سے منصرف ہوئے اور عبدالله بن سبا کو مدائن جلاوطن کيا جب اس نے مدائن ميں گروہ رافضہ سبيئہ کو کفر و بے دینی ميں شدیدترین اور منحرف ترین افراد پایا تووہ ان کے ساتھ جاملا ۔

گروہ سبئيہ جن کا بانی یہی تيسرا عبدالله سبا تھا،کہتے تھے :

علی عليہ السلام بادلوں ميں ہے ، رعد اس کی آواز اور برق اس کا تازیانہ ہے اور جب بھی رعد کی آواز ان کے کانوں تک پہنچتی ہے اس کے مقابلے ميں کھڑے ہوکر تعظيم و احترام کے ساتھ کہتے ہيں :

السلام عليک یا امير المؤمنين

یہ گروہ سبئيہ وہی ہيں جو کہتے ہيں : امام علی ابن ابيطالب وہی مہدی موعود ہيں کہ دنيا اس کے انتظار ميں ہے وہ تناسخ کا اعتقاد رکھتے ہيں اور کہتے ہيں : ائمہ اہل بيت عليہم السلام خداکا جزء ہيں ۔

وہ کہتے ہيں : ‘ خدا کے ایک جز ء نے علی عليہ السلام ميں حلول کيا ہے“

وہ کہتے ہيں : “ ہمارے ہاتھ ميں جو قرآن ہے وہ حقيقی قرآن کے نو حصوں ميں سے ایک حصہ ہے کہ اس کا پورا علم علی عليہ السلام کے پاس ہے۔

وہ “ ناووسيہ ” سے متحد ہيں اور کہتے ہيں : جعفر بن محمد عليہما السلام تمام تعاليم اور احکام دین کے عالم ہيں ۔

انہوں نے ہی مختار کو نبوت کا دعویٰ کرنے پر مجبور کيا ۔

یہ وہی فرقہ “ طيارہ ” ہے جو کہ کہتے ہيں : ان کی موت ان کی روح کا عالم بالا کی طرف پرواز کے علاوہ کچھ نہيں ہے ،مزید کہتے ہيں : روح القدس عيسیٰ سے محمد ميں منتقل ہوا ہے اور محمد سے علی ميں اور ان سے حسن و حسين عليہما السلام ميں اور ان سے دیگر ائمہ ميں جو ان کی اولاد ہيں ۔

وہ اسی عمر ابن حرث کندی کے اصحاب ہيں جس نے اپنے ماننے والوں کو دن رات کے اندر سترہ ( ١٧ ) نمازیں واجب کيں کہ ہر نمازپندرہ رکعت کی تھی یہ گروہ اعتقاد رکھتاتهاکہ علی نہيں مرے ہيں بلکہ اپنی مخلوق سے ناراض ہو کرکے ان سے غائب ہوگئے ہيں اور ایک دن ظہور کریں گے وہ ، وہی خشبيہ فرقہ ہے جو مختار کا ماننے والا ہے ۔ وہ ، وہی گروہ ممطورہ ہيں ۔

ا سی طرح وہ دوسرے دسيوں گروہ ہيں !جو تيسرے عبدالله بن سبا کے پيرو گروہ “

سبئيہ” کے بارے ميں نقل ہوئے ہيں ۔

ہم نے جعل کئے گئے فرقہ سبائی کے بارے ميں ان بيہودگيوں ، بہتانوں ، ملاوٹوں اور تحریفات کو دیکھا ۔ اگلی فصلوں ميں ان کے بانی عبدلله سبائی پر بحث و تحقيق کریں گے ۔

جعل و تحریف کے محرکات

انها کانت تدمغ ائمة اهل البيت فی جميع العصور

یہ جعليات اور افسانے تمام زمانوں ميں شيعوں کو نقصان پہنچانے اور انهيں کچلنے کيلئے تھے۔مؤلف

اگر ہم تمدن اسلامی کے بعض مواقع کے بارے ميں ایجاد کی گئی تحریفات اور تغيرات پر دقيق بحث و تحقيق کریں گے تو ہميں معلوم ہوگا کہ ان تحریفا ت ميں سے بعض مؤلفين کی غلطيوں کی وجہ سے وجود ميں آئی ہيں ان غلطيوں سے دوچار ہونے والے افراد ، انکی اشاعت کرنے ميں شاید سياسی محرک یا خاندانی تعصب یا مذہبی تعصب کار فرما نہيں تھا ۔

ليکن افسانہ عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے جعل و نشر ميں عام طور پر ملوث افراد اور خصوصی طورپر وقت کی حکومتيں مختلف عزائم اور محرکات رکھتی تھےں ، کيونکہ:

١ (افسانہ عبد الله بن سبا ، اصحاب پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم پر ہونے والے اعتراضات اور تنقيدوں پر پردہ پوشی کرتاہے اور انہيں ان اعتراضات سے پاک ، منزہ اور مبرا کرتا ہے یہ ایک بہت نازک اور سياسی مطلب ہے جو تمام ادوار ميں لوگوں کے مختلف طبقات اور صاحب قدرت اور حکومتوں کا پسندیدہ تھا ۔

٢۔ یہ افسانہ اسلام کی ابتدائی صدیوں کے تمام تاریخی مظالم ، عيوب ، خطاؤں اور گناہوں کو قبائل قحطان کی گردن پر ڈالتا ہے اور اس کے مقابلہ ميں تمام فضائل و تاریخی کارناموں کو قبائل عدنان سے نسبت دیتا ہے چونکہ خاندان عباسی کے اواخر تک حکومتيں قبيلہ قریش اور عدنانيوں ميں رہی ہيں ،یہ لوگ قحطانيوں اور سبائيوں سے عداوت اور شدید مخالفت رکھتے تھے اس لئے انہوں نے اس افسانہ کی اشاعت اور ترویج ميں جو ان حکومتوں کے حق ميں اور ان کے دشمنوں کے نقصانات ميں تھا ۔ تمام قدرت اور پوری طاقت کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی ۔

٣۔ ان سب سے اہم یہ کہ یہ افسانہ خلفاء کی حکومت کے مخالفوں ---جو خاندان عصمت کے شيعہ تھے ----پر کفر و الحاد د کا الزام لگا کر انہيں دین و مذہب سے خارج کرتا ہے کيونکہ یہ لوگ خلفای عثمانی کے دور تک تمام ادوار ميں حتی آج تک وقت کی حکومتوں کے مخالف تھے ۔ خود یہی افسانہ ہے جس نے گزشتہ زمانہ ميں وقت کی حکومتوں کيلئے شيعوں پر حملہ کرنے کا راستہ ہموار کيا ہے اور شيعوں پر ہم قسم کے دباؤ ، مشکلات ، اور دشواریاں ایجاد کرنے کيلئے حکومتوں کيلئے قوی سہار ااور مضبوط دستا ویز کا کام کياہوا ہے بالکل واضح ہے کہ وقت کی حکومت اس قسم کی فرصت سے فائدہ اٹھانے کی پوری پوری کوشش کرتی اور اس قسم کے وسيلہ کی تائيد و تثبيت کرنے کيلے پوری طاقت اور قدرت کو بروئے کار لائی ہے۔

خود یہی محرک اور اس کے علاوہ دوسرے محرکات تھے جس نے اس افسانہ کو وجودبخشانيز اس کو اشاعت اورشہرت دی اور اس سلسلے ميں علماء و محققين پر بحث و تحقيق کے دروازے مسدودکردئيے یہاں تک خداوند عالم نے اس پر بحث و تحقيق کرنے کی توفيق ہميں عنایت فرمائی ولله الحمد و المنة

سيف کی دوسری تحریفات اور جعليات

سيف کی جعليات و تحریفات صرف افسانہ عبدالله بن سبا تک ہی محدود نہيں تھيں بلکہ اس سے پہلے اشارہ کئے گئے محرکات کے علاوہ اپنے الحاد اور زندقہ کے محرکات کے پيش نظر بھی فراوان افسانے جعل کئے ہيں اور ان افسانو ں کيلئے سورما بھی خلق کئے ہيں جن کی تحقيق کيلئے ہم نے کئی کتابيں جيسے : “خمسون و ماة صحابی مختلق ”یعنی “ایک سو پچاس جعلی اصحاب” “ رواة مختلقون ” یعنی “جعلی راوی ” اور “ عبدالله بن سبا’ ’تاليف کی ان کتابوں ميں ضمنی طو رپر ان سوالات کا جواب بھی آیا ہے کہ:یہ تاریخ اسلام ميں یہ تحریفات ، تبدیلياں اور جعليات کيوں اور کيسے وجود ميں آئے ہيں ؟!تاریخ اور حدیث کے علماء نے اس کے مقابلہ ميں کيوں بالکل خاموشی اختيار کی ہے اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اس سلسلہ ميں کسی قسم کی تحقيق اورجانچ پڑتال نہيں کی گئی ہے ؟!اس کے علاوہ ہم نے کتاب “ عبد الله بن سبا”(۱) کی فصل “ تحریف و تبدیل ”ميں اس بات کی طرف اشارہ کيا ہے کہ سيف بن عمر نے امير المؤمنين حضرت علی عليہ السلام کے قاتل عبدالرحمان ابن ملجم کے نام کو کيسے خالد بن ملجم ميں تحریف کرکے اسے علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرنے والے فرقہ “ سبئيہ ” کی ایک بزرگ شخصيت دکھا یا ہے اس کے علاوہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم کے مشہور صحابی “ خزیمة بن ثابت انصاری ” کو کيسے دو اشخاص : ایک “ ذو الشہادتين ” کے نام سے اور دوسرے کو “غير ذو الشہادتين ”کے نام سے پيش کيا ہے اسی طرح “ سماک بن خرشہ انصاری ” کو دو اشخاص دکھائے ہيں ایک معروف بہ ابو دجانہ اور دوسرا غير ابودجانہ ، اور عبدالله بن سباکو بھی دو اشخاص دکھانے ميں کامياب ہوا ہے ایک ابن وهب سبائی جو علی عليہ السلام کی خلافت کے دوران گروہ خوارج کا سردار تھا اور دوسرا ابن سبا جس کا حقيقت ميں کوئی وجود ہی نہيں تھا اوراس نے کسی ماں سے جنم ہی نہيں ليا تھا بلکہ یہ سيف کے ذہن کی پيدا وار تھا اس لحاظ سے تاریخ اسلام ميں جعل ، تحریف او رتخليق سيف کی باضابطہ ہنر مندی اور معمول کے مطابق پيشہ تھا اور اس ميں کسی قسم کے چون و چرا اور تعجب و حيرت کی بالکل گنجائش نہيں ہے پھر بھی ان تحریفات و جعليات کے مقابلہ ميں علماء کی خاموشی تازہ نہيں تھی اور افسانہ عبدالله بن سبا سے ہی مخصوص نہيں تھی کہ جو ایک فرد محقق کيلئے بُعد اور ناقابل قبول اور ناقابل حل دکھائی دے ۔

____________________

١۔ اس کتاب کی جلد دوم فارسی ترجمہ ١٩٢ و ٢٠۴ ملاحظہ ہو۔

پانچ جعلی اصحاب یاددہانی کے طور پر سيف کے سورماؤں کو تخليق کرنے کے کارنامے اور ان کارناموں کے نمونے پيش کرنے کے لئے یہا ں پر مناسب ہے درج ذیل پانچ افسانوی اصحاب کی طرف اشارہ کریں ۔

١۔ قعقاع بن عمر و بن مالک تميمی اسيدی:

سيف نے اسے ایک زبردست اور الہام شدہ شاعر، پيغمبر کا صحابی اور لشکر اسلام کے کمانڈر کی حيثيت سے پہچنوایا ہے سنی اور شيعہ علماء نے بھی اس کی زندگی کے حالات پر تفصيل سے روشنی ڈالی ہے ہم نے بھی اپنی کتاب“ ١ ۵ ٠ جعلی اصحاب ” ميں ١ ۴ ٠ صفحات پر اس کے افسانہ پر بحث و تحقيق کی ہے ۔

٢۔ عاصم بن عمر و، قعقاع کا بھائی

٣۔ نافع بن سود بن قطبة بن مالک تميمی اسيدی ،قعقاع کا چچيرا بھائی ۔

۴ ۔زیاد بن حنظلہ تميمی ۵ ۔ طاہر بن ابیہالہ خدیجہ رسول خدا صلی الله عليہ و آلہ وسلم کی بيوی کا بيٹا ۔

اس قسم کے افسانوی افراد بہت زیاد ہيں جنہيں سيف نے اپنے تصوراور خيال ميں خلق کياہے ا ور انہيں بعنوان : راوی ،شاعر ،صحابی یا جنگی سورما وغيرہ کی صورت ميں پيش کياہے ۔ اسلامی تمدن کی حسب ذیل شيعہ و سنی کتابوں ميں ان کا ذکر آیا ہے:

اہل سنت علماء کی کتابيں

١۔ سيف بن عمر تميمی ( وفات تقریباً ١٧٠ هء) نے اپنی دو کتابوں :“الجمل ’‘ اور “الفتوح ” ميں ۔

٢۔ طبری ( وفات ٣١٠ هء) نے اپنی “تاریخ” ميں ۔

٣۔ بغوی ( وفات ٣١٧ هء) نے اپنی“ معجم الصحابہ” ميں ۴ ۔ رازی ( وفات ٣٢٧ هء) نے اپنی “الجرح و التعدیل ”ميں ۵ ۔ ابن سکن ( وفات ٣ ۵ ٣ هف) نے اپنی “حروف الصحابہ” ميں ۔

۶ ۔ اصفہانی ( وفات ٣ ۵۶ هء) نے اپنی “اغانی ”ميں ٧۔ مرزبانی (وفات ٣٧ ۴ هء) نے اپنی “ معجم الشعراء ” ميں ٨۔ دار قطنی ( وفات ٣٨ ۵ هء) نے اپنی کتاب “ المؤتلف و المختلف ” ميں ٩۔ ابو نعيم ( وفات ۴ ٣٠ هء) نے اپنی “تاریخ اصفہان” ميں ١٠ ۔ ابن عبد البر (وفات ۴ ٣٠ هء) نے اپنی“ استيعاب” ميں ۔

١١ ۔ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧ ۵ هء) نے “الاکمال ”ميں ۔

١٢ ۔ ابن بدرون ( وفات ۵۶ ٠ هء) نے“ شرح قصيدہ ابن عبدون” ميں ١٣ ۔ ابن عساکر ( وفات ۵ ٧١ هء) نے اپنی “تاریخ دمشق ”ميں ١ ۴ ۔ حموی وفات ( ۶ ٢ ۶ ئه) نے “ معجم البلدان ”ميں ۔

١ ۶ ۔ ابن اثير (وفات ۶ ٣٠ ئه ) نے “الکامل التاریخ” ميں ١٧ ۔ابن اثير (وفات ۶ ٣٠ ئه ) نے “اسد الغابہ” ميں ۔

١٨ ۔ ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ ئة نے “النبلاء” ميں ۔

١٩ ۔ ذہبی ( وفات ٧ ۴ ٨ ئة نے “تجرید الاسماء الصحابہ” ميں ٢٠ ۔ ابن کثير ( وفات ٧٧٠ هء) اپنی“ تاریخ ”ميں ٢٠ ۔ ابن خلدون (وفات ٨٠٨ ئه) نے اپنی“ تاریخ” ميں ٢١ ۔ حميری ( وفات ٨٢ ۶ هء) نے اپنی“ روض المعطار” ميں ۔ اس کتاب کی تاریخ تاليف ٨٢ ۶ ئه ہے۔

٢٢ ۔ ابن حجر ( ٨ ۵ ٢ ئه) نے اپنی “اصابہ” ميں ۔

٢٣ ۔ ابن بدان ( وفات ١٣ ۴۶ ئه) نے اپنی“ تہذیب تاریخ ابن عساکر” ميں ۔

شيعہ علماء کی کتابيں

بعض شيعہ علماء(۱) اور مؤرخين نے اہل سنت کی کتابو ں پر اعتماد کی وجہ سے ان ہی افسانوی افراد کے نام اور ان کی رواتيوں اور داستانوں کو اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے ،

جيسے:

١۔ نصر بن مزاحم ( وفات ٢١٢ هء) اس کے اپنی کتابوں ميں درج کئے بعض مطالب ميں سے بعض کو اپنی کتاب “ وقعة الصفين ” ميں نقل کيا ہے ۔

٢۔ شيخ طوسی ( وفات ۴۶ ٠ ) نے اپنی “ رجال ميں ۔

٣۔ قہبائی نے “ مجمع الرجال ” ميں ١٠١ ۶ ئه ميں ا س کی تاليف سے فارغ ہو اہے ۔

۴ ۔ اردبيلی ( وفات ١١٠١ هء) نے “ جامع الرواة ميں ۔

____________________

١۔ علمائے شيعہ نے فقہ کے علاوہ تمام موضوعات جيسے : تفسير ، سيرت پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم ،رجال اور تاریخ ميں علمائے سنی سے کثرت سے نقل کيا ہے ۔

۵ ۔ مامقانی ( وفات ١٣ ۵ ٢ ئه) نے “ تنقيح المقال ”ميں ۔

۶ ۔ سيد عبدالحسين شر ف ا لدین ( ١٣٧٧ هء) نے “الفصول المہمة”ميں ٧۔ تستری “معاصر قاموس الرجال” ميں

نتيجہ اس بحث و گفتگو سے جو نتيجہ حاصل کيا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ : تاریخ اسلام ميں پيدا ہوئے یہ تمام جعليات ، تحریفات اور اختلافات علماء ، اور مؤلفيں کيلئے پوشيدہ اور ناشناختہ رہے ہيں اسلئے انہوں نے تحقيق و تجسس کے بغير ان جعلی افراد اور ان کی جھوٹی افسانوی داستانوں اور روایتوں کواپنی کتابوں ميں درج کيا ہے اوریہی امر اس بات کی علامت ہے کہ عبدالله بن سبا کا افسانہ بھی مؤرخين اور مؤلفين اور علم رجال و ادیان کے علماء سے پوشيدہ اور غير معروف رہ گيا ہے ۔

عبد الله سبائی کی عبدالله بن سبا سے تحریف

ليس غریبا من سيف هذا الدس و التحریف و الاختلاق

سيف جيسے شخص سے اس قسم کی ملاوٹ ، تحریف اور جعل بعيد اور تعجب آور نہيں ہے ۔

مؤلف

ہم نے گزشتہ فصل ميں کہا کہ اسلامی لغات ميں عبدالله بن سبا تين مختلف چہروں ،

قيافوں اور شخصيات ميں پایا جاتاہے اور ہر قيافہ وشخصيت کيلئے مخصوص روایتيں اور داستانيں نقل کی گئی ہيں خاص کر تيسرے عبدالله سبا کيلئے بڑی مفصل روایتيں اور داستانيں درج کی گئی ہيں ۔

مذکورہ تين عبدالله بن سبا ميں سے صرف پہلا عبدالله بن وهب سبائی وجود رکھتا تھا باقی افسانہ کے علاوہ کچھ نہيں تھے ۔

عبدالله بن وهب سبائی جو حقيقت ميں وجود رکھتا تھا کی داستان کا خلاصہ یوں ہے:

وہ علی عليہ السلام کے زمانے ميں زندگی بسرکرتا تھا اور پہلے حضرت کے طرفداروں ميں سے تھا ليکن اس نے جنگ صفين ميں حَکَميت کے بارے ميں علی عليہ السلام پر اعتراض کيا اور اس کے بعد اس کی علی سے عداوت اور مخالفت شروع ہوگئی ا س کے ہم فکر علی کے بعض مخالفين اس سے جا ملے اور اجتماعی طور پر حضرت علی عليہ السلام کے خلاف

____________________

١۔ مصنف کی کتاب “ ایک سو پچاس جعلی اصحاب ” اس افسانوی صحابی کے حالات ملاحظہ ہوں ۔