عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 4889
ڈاؤنلوڈ: 706


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4889 / ڈاؤنلوڈ: 706
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

بغاوت کی اور جنگ نہروان کو وجود ميں لانے کا سبب بنا عبدالله اس جنگ ميں مارا گيا بعد کے ادوار ميں ابن عبدالله بن وهب سبائی ایک مرموز اور افسانوی یہودی عبدالله بن سبائی ميں تبدیل ہواا ور “ سبئيہ نامی ” ایک جدید مذہبی فرقہ کے بانی کے طور پر پہچانا گيا ۔

یہ عبدالله سباء دوم تحریف شدہ افسانوی بھی پہلے سيف کے وسط سے وصایت علی عليہ السلام کے معتقد فرقہ “ سبئيہ ” کا بانی معرفی کيا گيا اس کے بعد زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی زبانوں پر افواہوں کے ذریعہ تغيرات اور تبدیلياں پيدا کرتے ہوئے ‘ سبيئہ ”نام ایک فرقہ غالی ---جو علی عليہ السلام کی الوہيت کا قائل تھا-- کے بانی کے طور پرنمایاں ہوا س کے بارے ميں روایتوں اور داستانوں ميں بھی دن بہ د ن وسعت پيدا ہوتی گئی اور ا س طرح فرقہ سبئيہ کا افسانہ وجود ميں آگيا۔

کئی ایسے لوگ بھی پيدا ہوئے جنہوں نے ان افسانوں کےلئے اسناد و مآخذ جعل کئے جيساکہ ہم نے گزشتہ فصلوں ميں مشاہدہ کيا کہ افسانہ نسناس کيلئے کس طرح محکم اور مضبوط اسناد جعل کئے گئے تھے۔

اگر سوال کيا جائے کہ : یہ سب تحریف اور جعل و افسانے کيسے انجام پائے ہيں اور گزشتہ کئی صدیوں کے دوران اکثر علماء و مؤرخين سے پوشيدہ رہے ہيں ! اس کا جواب یہ ہے کہ تاریخ اسلام ميں مسئلہ تحریف لفظ عبدالله یا “سبئيہ ” سے مخصوص نہيں ہے کہ جدید اور ناقابل یقين ہو اور بعيد نظر آئے، بلکہ تاریخ اسلام ميں اس قسم کی تحریفات اورتغيرات کثرت سے ملتے ہيں ،یہاں تک کہ بعض علماء نے اس سلسلہ ميں مستقل کتابيں لکھی ہيں کہ ہم یہاں پر اپنی بات کے شاہد کے طور پر اس فہرست کے چند نمونے درج کرتے ہيں :

١۔ ابو احمد عسکری ( وفات ٣٨٢ هء) نے شرح ما یقع فيہ التصحيف و التحریف(۱) نام کی ایک کتاب لکھی ہے ۔

ابو احمد عسکری اس کتاب کے مقدمہ ميں کہتا ہے : ميں اس کتاب ميں ایسے الفاط اور کلمات کا ذکر کرتا ہوں جن ميں مشابہت لفظی کی وجہ سے ان کے معنی ميں تحریف و تغيرات ہوئے ہيں ۔

مزید کہتا ہے : ميں نے اس سے پہلے تحریف شدہ الفاظ کے بارے ميں جن کا تشخيص دینا مشکل تھا ایک بڑی اور جامع کتاب تاليف کی تا کہ اسسلسلہ ميں علمائے حدیث کی مشکلات حل ہوجائيں ۔ اس کتاب ميں راویوں ، اصحاب ، تابعين ، اور دیگر افراد کے نام جن ميں اشتباہ اور تحریف واقع ہوئی ہے ذکر کئے ہيں ليکن اس کے بعد علما ء نے مجھ سے مطالبہ کيا کہ جن تحریفات کے بارے ميں حدیث کے علماء کو احتياج ہے انکو ان تحریفات سے جدا کردوں جن کی ادب اور تاریخ کے علماء کو احتياج ہے ميں نے ا ن کی درخواست قبول کرتے ہوئے ان دو حصوں کو جدا کياا ور ہر حصہ کو ایک

____________________

١۔یعنی جس ميں تحریف و تغير واقع ہو ا ہے اس کی تشریح۔ اس کتاب کا ایک نسخہ تحقيق عبدا لعزیز احمد ،طبع مصطفی ، ٣٨٣ هء مؤلف کے پاس موجود ہے ۔

مستقل کتاب کی صورت ميں تاليف کرکے دو الگ کتابيں آمادہ کيں ۔ ان ميں سے ایک ميں حدیث کے راویوں کے ناموں ميں تحریف درج ہے اور دوسرے ميں ادیبوں اور مؤرخين کی ضرورت کے مطابق تحریف شدہ نام ہيں ۔

ابو احمد عسکری نے اس کتاب ميں بزرگ علماء جيسے: خليل ، جاحظ، اور سجستانی ، کی غلطيوں کے بارے ميں ایک مستقل باب لکھا ہے اس طرح انساب ميں ہوئی غلطيوں کو ایک الگ باب ميں ذکر کيا ہے۔

ابو احمد عسکری کے علاو دوسرے دانشوروں نے بھی اس موضوع پر کتابيں تاليف کی ہيں : جيسے:

١۔ ابن حبيب ( وفات ٢ ۴۵ هء) نے قبائل و انساب کے بارے ميں مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔

٢۔ ابن ترکمان ( وفات ٧ ۴ ٩ هء ) نے بھی قبائل و انساب کے ناموں کے بارے ميں ایک کتاب تاليف کی ہے ۔

٣۔ آمدی ( وفات ٣٧٠ هء) نے شعراء کے مشابہ ناموں پر ایک کتاب لکھی ہے ۔

۴ ۔ دار قطنی ( وفات ٣٨ ۵ هء) حدیث کے راویوں کے مشابہ ناموں کے بارے ميں کتاب لکھی ہے ۔

۵ ۔ ابن الفرضی ( وفات ۴ ٠٣ هء )

۶ ۔ عبدا لغنی ( وفات ۴ ٠٩ هء)

٧۔ابن طحان الخضرمی ( وفات ۴ ١ ۴ هء )

مذکورہ تين دانشوروں نے مشابہ نام ، القاب ،اور کنيت کے بارے ميں یہ کتابيں لکھی ہيں ۔

٧۔ ابن ماکولا ( وفات ۴ ٧٨ ئه )نے “ اکمال ” نامی کتاب مشابہ نام ، القاب اور کنيت کے بارے ميں لکھی ہے یہ معروف اور جامع تریں کتاب ہے(۱)

اسی طرح ایک دوسرے سے مشابہ نسبتوں کے بارے ميں بعض علماء اور مؤلفين نے چندکتابيں تاليف کی ہيں کہ ا نميں سے چند اشخاص کے نام حسب ذیل ہيں :

مالينی ( وفات ۴ ١٢ هء)

زمخشری ( وفات ۵۴ ٨ هء)

____________________

١۔ اس کتاب کی چه جلدیں طبع حيدر آباد سال ١٣٨١ ئمؤلف کے کتابخانہ ميں موجود ہيں کہ حرف “ع” تک پہنچتا ہے ضرور چند جلدیں اور بھی ہوں گی ۔

حازمی ( وفات ۵ ٨ ۴ هء(

ا بن باطيش ( وفات ۶۴ ٠ هء(

فرضی ( وفات ٧٠٠ ئه(

ذہبی ( وفات ٧٣٨ هء (

ابن حجر ( وفات ٨ ۵ ٢ ه(

ان علماء کے بعد ، دوسرے مؤلفين نے جو کچھ گزشتہ علماء سے چھوٹ گيا تھا اور ان کی کتابوں ميں نہيں آیا تھایا ان کتابوں ميں کوئی غلطی رہ گئی تھی۔ ان کے بارے ميں مستقل کتابيں تتمہ اور ضميمہ کے طورپرلکھی ہيں چنانچہ مندرجہ ذیل اشخاص نے عبد الغنی کی کتاب پر تتمہ لکھا هے ۔

مستغفری ( وفات ۴ ٣ ۶ ئه) “ الزیادات “

خطيب ( وفات ۴۶ ٣ هء) “الموتنف“

ا بن نقطہ -( وفات ۶ ٢٩ هء نے بھی “ مستدرک ” نامی ایک کتاب کو ابن ماکولا کی “

اکمال ” پر تتمہ کے طور پر لکھا ہے ۔

ابن نقطہ کی کتاب پر بھی درج ذیل مؤلفين نے ضميمے لکھے ہيں ۔

حافظ منصور ( وفت ۶ ٧٧ هء(

ابن صابونی (وفات ۶ ٨٠ ئه(

مغلطای ( وفات ٧ ۶ ٢ هء(

ابن ناصر الدین ( وفات ٨ ۴ ٢ ئه) نے بھی ایک کتاب بنام ‘ الاعلام بما فی مشتبہ الذهبی من الاوهام ” ذہبی کی کتاب پر ضميمہ لکھا ہے ۔

ليکن مذکورہ دانشوروں ، مؤلفين اور علماء کے علاوہ ہر دوسرے مؤلفين(۱) اور علماء جو مشابہ نام ،

____________________

١۔ مانند خطيب کہ اس نے اس سلسلے ميں “ موضح اوهام الجمع وا لتفریق’ نامی ایک کتاب تاليف کی ہے اس کا تين جلدوں پر مشتمل ایک نسخہ مؤلف کے پاس موجود ہے اور مانند ناصر الدین کہ اس نے “ مشتبہ ذهبی ” نام کی ایک کتاب تاليف کی ہے دوسرے علماء نے بھی اس موضوع پر کتابيں لکھی ہيں اس قسم کی کتابوں کی بيشتر اطلاع حاصل کرنے کيلئے “ مصحح اکمال ” طبع حيدر آباد کے مقدمہ کی طرف رجوع کيا جائے ۔

الفاظ ، اور تحریفات کے بارے ميں کوشش و تلاش اور تحقيق انجام دی ہے اس کے باوجو داسلامی لغات ميں فراوان تحریف شدہ الفاظ و نامو ں کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ ان تمام دانشوروں سے چھوٹ گئے ہيں اگر ان کی جمع آوری کی جائے تو ایک بڑی اور ضخيم کتاب تشکيل پائے گی اس سلسلہ ميں کيا خوب کہا گيا ہے : کم ترک الاول للآخر ، گزشتگان نے نہ جانے کتنے کام انجام نہيں دئے ہيں انہيں مستقبل ميں آنے والوں کيلئے چھوڑا ہے تاکہ وہ انجام دیں ۔

گزشتہ مباحث کا خلاصہ

تاریخ ميں لفظ “ سبيہ ” کا ایک سرسری جایزہ جو کچھ ہم نے گزشتہ صفحات اورفصلوں ميں ابن سباا ور سبئيہ کے افسانہ کے بارے ميں بيان کيا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے : زمان جاہليت سے دوران حکومت بنی اميہ تک لفظ“ سبئيہ ” سبا بن یشجب و قبيلہ قحطان سے منسوب افراد پر دلالت کرتا تھا ان افراد ميں سے ایک “ عبدالله بن وهب سبائی ” تھا جو فرقہ خوارج کا سردار تھا ۔

ليکن قبائل عدناں اور قحطان کے درميان مدینہ وکوفہ ميں اختلاف و عداوت پيدا ہونے کے بعد ، قبائل عدنان نے اس لفظ کے معنی کو تبدیل کرکے اسے قحطانيوں کی سرزنش کے طور پر استعمال کيا اور اسے قبيلہ کی نسبت کے معنی سے قبائل قحطان اور ان کے طرفداروں کی بد گوئی اور سرزنش کے معنی ميں تبدیل کيا یہ استعمال اور معنی ميں تغير بنی اميہ کی حکومت کے دوران کوفہ ميں انجام پایا ۔

ليکن جب اسکے بعد سيف کا زمانہ آیا ، اور اس نے شدید خاندانی تعصب ، کفر اور زندقہ کے محرکات کے پيش نظر افسانہ سبئيہ کو جعل کيااور اس افسانہ ميں لفظ سبيہ کو قبيلہ کی نسبت کے معنی یا سرزنش کے معنی سے تبدیل کرکے ایک جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں تحریف کيا اور اس مذہب کے بانی کو بھی عبدالله سبایمانی نام کے ایک شخص سے پہچنوایا ۔

فرقہ سبئيہ کے بانی کے نام “ عبدالله سبا ” کو بھی سيف نے ایک خوارج کے گروہ کے سرپرست “ عبدالله بن وهب ” کے نام سے لے کر اس ميں اس طرح تحریف کی ہے جيسا کہ بلاذری ، اشعری ، اورمقریزی کے بيانات سے اس کا اشارہ ملتا ہے ۔

ی ا یہ کہ اس نے ایک افسانہ جعل کياہے اور اپنے افسانہ کيلئے ایک ہيرو خلق کيا ہے اور اس ہيرو کيلئے بلا واسطہ “ عبدالله بن سبا’ ’ نام رکھا ہے بغير ا سکے کہ اس نام کو کسی اور نام سے ليا یا اقتباس کياہو۔

ب ہر صورت “ عبدالله ” کے سلسلہ ميں علی عليہ والسلام و عثمان کے زمانے ميں زندگی کرنے والے عبدالله بن وهب سبائی کے علاوہ کوئی اور حقيقت نہيں ہے ۔

سيف کے افسانہ سبئيہ نے دوسری صدی ہجری اور تيسری صدی ہجری کے اوائل ميں عراق کے شہروں ، جيسے : کوفہ ١ بصرہ، بغداد اور اس کے اطراف ميں شہرت پائی ۔ ان شہروں ميں اسی افسانہ کے شہرت پانے کے بعد لفظ “ سبيئہ ” کا اصلی معنی ---وہی قبيلہ قحطان وسبئی کا انتساب تھا ---فراموش کيا گيا اور خاص طور پر خود سيف کے اپنے خيالات ميں جعل کئے گئے اسی جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں استعمال ہوا۔ ليکن اسی زمانہ جب لفظ “سبئيہ ” کوفہ اور بصرے ميں اس کے جدید معنی ميں منتشر ہوا تھا، یمن، مصر اور اندلس ميں اپنے اصلی اورپہلے معنی -- قبيلہ قحطان کے انتساب ---ميں استعمال ہوتا تھا --- اس لحاظ سے دوسری صدی ہجری اور تيسری صدی ہجری کے اوائل ميں لفط “ سبئيہ” دو مختلف اور الگ الگ معنی پر دلالت کرتا تھا اسلام کے مشرقی ممالک اور شہروں ميں جدید مذہبی فرقہ کے معنی ميں اور دوسرے شہروں اور ممالک ميں قبيلہ کی نسبت ميں ا ستعمال ہوتاتھا ۔

اس کے بعد افسانہ “ سبئيہ ” زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زبانوں اور افواہوں کی شکل اختيار کر گيا اور گلی کوچوں کے لوگوں کے خرافات اوربيہودگيوں سے مخلوط و ممزوج ہوگيا اس طرح اس ميں وسيع پيمانے پر تغيرات اور تبدیلياں رونما ہوئيں اور اس کے نتيجہ ميں وہی معنی مذہبی فرقہ بھی ایک خرافات پر مشتمل معنی ميں تبدیل ہوگيا اور ان لوگوں کے بارے ميں ا ستعمال ہونے لگا جو علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرکے ان کی الوہيت کے قائل تھے ۔

اس طرح افسانہ سبئی لفظ “ سبئيہ ” کے اپنے اصلی اور ابتدائی معنی یعنی قبيلہ کينسبت ميں اسلامی معاشرے کے تمام ممالک اور شہروں ميں منتشر ہونے کے بعد مکمل طورپر فراموشی کی نذرہو گيا اور اسی جدید مذہبی فرقہ کے معنی سے مخصوص ہو کر صرف ان افرادکے بارے ميں استعمال ہونے لگا جوعلی عليہ السلام کی وصایت یاا لوہيت کے قائل ہيں ۔

تاریخ ميں لفظ “ عبدالله سبا” کے نشيب و فراز

” عبد الله سبا ” چنانچہ گزشتہ صفحات ميں اشارہ کيا گيا ہے کہ ابتداء ميں اس لفظسے علی عليہ السلام کے زمانے ميں ز ندگی کرنے والے اور خوارج کا سردار مقصود تھا سيف کے افسانہ سازی اور افسانہ “ سبئيہ” کی اشاعت کے بعد “ عبدلله بن وهب ” سبائی فراموش ہوگيا اور لفظ “ عبد الله سبا” یمن سے آئے ہوئے ایک گمنام ، افسانوی اور یہودی شخص کے بارے ميں استعمال ہونے لگا اسی کی روایتوں کے مطابق یہ شخص علی عليہ السلام کی وصایت کا قائل تھا،ليکن زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ افسانہ سبئيہ گوناگوں نشيب و فراز

سے دوچار ہواا ور اس افسانہ کے سورما عبدالله بن سبا نے بھی قدرتی طورپر توہماتی اوراحساساتی روپ اختيار کر گيا اور علی عليہ السلام کی الوہيت کے معتقد فرقہ “ سبئيہ ” کو جعل کرنے والے ایک خطرناک غالی اور انتہا پسند شخص کيلئے استعمال ہونے لگا ۔

____________________

١۔ ابی مخنف عالم کوفی ( وفات ١۵٧ هء) کے یہاں ہم نے افسانہ سبئيہ کے بارے ميں سيف کی روایتوں ميں سے ایک روایت پائی کہ اس کی مزید وضاحت کيلئے “ کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب ” کی جلد اول کے مقدمہ کی طرف کی رجوع کيا جائے

یہ تغير اور تبدیلياں کبھی بعض روایات کے معنی کو سمجھنے ميں اشتباہ کا سبب بنتی ہيں مثلاً: عبدالله اوراس کے بارے ميں روایتيں اور تاریخی روداد اور معصومين علی عليہ السلام کی احادیث بعض اوقات لفظی غلطيوں کی وجہ سے سيف کے جعل کردہ “ عبدالله سبا ” دوم کے بارے ميں تاویل و تطبيق ہوا ہے اورا س طرح تاریخی وقائع و مطالب اور معصومين عليہم السلام کی بعض احادیث ميں ممزوج ہوکر تاریخ و حدیث ميں قہری تحریف رونما ہوئی ہے مؤرخين کی عدم دقت و تحقيق نہ کرنے کی وجہ سے یہ اشتباہ و تحریف جبری کا سلسلہ،

صدیوں تک رہاہے اور نتيجہ کے طور پر اس تحریف نے رفتہ رفتہ تاریخ ميں جڑ پکڑ کر حقيقت کا روپ اختيار کرليا ہے یہ اشتباہ اور تحریف فقط ‘ عبدالله سبا ” اور “ سبئيہ ”سے مخصوس نہيں ہے بلکہ اسلامی لغات ميں ا یسے ہزاروں دوسرے الفاظ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے ہيں اور علماء نے بھی ان کے بارے ميں کتابيں لکھ کر ان پرتحقيق کی ہے ليکن اسکے باوجو دایسے دوسرے تحریف شدہ الفاظ کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے جن کے بارے ميں غفلت ہوئی ہے اور وہ ان علماء کے قلم سے چھوٹ کر ان کی کتابوں ميں درج نہيں ہوئے ہيں نہ ہی ان پر تحقيق کی گئی ہے ۔

دونوں تحریف ہيں ، ليکن یہ کہاں اور وہ کہاں ؟

سيف کی تحریفات بھی صرف ان ہی دو لفظوں ‘ ‘ عبدالله بن سبا” اور “ سبئيہ’ تک محدود نہيں ہيں بلکہ اس نے تاریخ اسلام ميں بہت سے الفاظ ميں تحریف و تبدیلی کی ہے چنانچہ ہم نے اسکے بہت حصوں کو اپنی تاليفات ميں ذکر کيا ہے سيف کے علاوہ بھی بعض دوسرے افراد نے اسلامی لغت ميں کچھ تحریفات ایجاد کی ہيں ١ ليکن سيف کی تحریفات اور جعليات دوسروں کی تحریفات و جعليات سے کافی فرق رکھتی ہيں اس طرح کہ شاید دوسرے ایک لفظ با مطلب کو غلطی سے یا نادانستہ طور پر تحریف اس کے بعدابن جوزی اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے : ان زندیقوں کا کام یہ تھا کہ وہ روایات کو گڑهتے تھے اور انہيں علمائے حدیث کی کتابوں ميں درج کرتے تھے علماء بھی اس خيال سے کہ یہ احادیث ان کی اپنی ہيں ان سب کو اپنی روایتوں کے ضمن ميں نقل کرتے تھے ۔

یا ایک حقيقت کو نہ سمجھتے ہوئےتبدیل کردیں ، ليکن سيف ہميشہ عمداً اور خاص محرک و مقصد کے پيش نظر تحریف اور جعل کا کام انجام دیتا ہے اس خطرناک عمل سے اس کا مقصد ا س صحيح تاریخ کو آلودہ کرکے اس کی بنيادوں کوکهوکهلاو متزلزل کرنا ہے ۔ اس ميں اس کا محر ک زندیق ہونا اور شدید خاندانی تعصب ہے دوسرا تفاوت یہ ہے کہ: وہ خلفاء ، قدرتمندوں کے نفع ميں اورعام لوگوں کی پسند کے مطابق تاریخ اسلام ميں تحریف اور جعل انجام دیتاہے ۔

اس طرح وہ تمام ادوار ميں اپنے افسانوں اور جھوٹ کو رونق بخشنے ميں کامياب ہوا ہے ۔ اسی رویہ کو اختيار کرنے کی وجہ سے:

____________________

٣٧ ۔ ٣٨ ميں کہتا ہے : ابن ابی العوجا ملحد ، حماد بن سلمہ کا منہ بولا / ١۔ ابن جوزی اپنی کتاب “ موضوعات ” ( ١بيٹا اور تربيت یافتہ تھا ۔ وہ جھوٹی احادیث گڑه ليتا تھا ۔ انہيں چالاکی سے اور چوری چهپے حماد کی کتاب ميں وارد کرتا تھا جب کوفہ کے گورنر محمد بن سليمان نے اسے گرفتار کيا اور حکم دیاکہ اس کا سر قلم کيا جائے اورجب اسے اپنی موت کے بارے ميں یقين پيدا ہوا تو صراحت سے کہا: خداکی قسم ميں نے چار ہزار حدیث خود جعل کی ہيں اور انہيں آپ کے صحيح احادیث ميں ملا دیا ہے ۔

ا ولاً: سيف کی روایتوں نے صاحبان اقتدار اور وقت کی حکومتوں ميں رونق بازار اور سرگرم طرفدارپيدا کئے اور لوگوں ميں یہ روایتيں مورد استقبال قرار پاکر رواج اور اشاعت پاگئی ہيں ۔

ثانياً : سبئيہ کے بارے ميں سيف کے جعليات علماء اور دانشوروں سے پوشيدہ اور ناشناختہ رہے ہيں اس طرح اس کے دوسرے جعليات اور خيالی افسانے ،سيکڑوں اصحاب اور حدیث کے راوی شعراء بھی ان علماء کی نظر ميں حقيقت اور صحيح صورت ميں رونما ہوئے ہيں ۔

ابن سبا اور سبئيہ کے بارے ميں شيعوں کی روایتيں

عبدالله بن سبا اور سبئيہ کے نام پر جو روایتيں و مطالب اہل سنت کی کتابوں ميں ائی ہيں ، ان کے بارے ميں جس طرح گزشتہ صفحات ميں بيان ہو ا ، پہلے سيف نے انہيں جعل کيا ہے پھر افواہ کی صورت ميں لوگوں ميں پهيل گئی ہيں ان علماء اور مؤرخين نے بھی انہيں سيف اور لوگوں کی افواہوں سے لے کر اپنی کتابوں ميں درج کيا ہے ۔

ليکن جو روایتيں اس بارے ميں شيعوں کے ائمہ اہل بيت“ عليہم السلام ” سے ہم تک پہنچی ہيں اس سلسلے ميں ہم پہلے یہ کہنا چاہتے ہيں کہ ہم پر دقيق علمی بحث و تحقيق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ تاریخ اسلام ميں قطعی طور پر کوئی شخص بنام عبدالله بن سبا اور گروہ و فرقہ بنام “ سبئيہ ” حقيقت ميں وجودنہيں رکھتا تھا ایک یا دو روایتوں ميں کسی غير موجود کے بارے ميں نام آنے سے اسے موجودکانام نہيں دیا جا سکتا ہے اور ایکغير موجود کو وجود نہيں بخش سکتا ہے اس بنا پر جو بھی روایت ائمہ اہل بيت عليہم السلام کے نام پر عبدالله سبا کے بارے ميں شيعی کتابوں ميں ائی ہے ، اگر اس روایت ميں ذکر ہوئے مطالب عبدالله بن وهب سبائی ---تاریخ اسلام ميں جس کا وجود تھا اور امام علی عليہ السلام کے زمانہ ميں زندگی بسر کرتا تھا--- سے تطبيق کرتے ہيں تو ایسے مطالب کے صحيح اور حقيقی ہونا کا احتمال ہے ، جيسے : ابن سبا کا امير المومنين کا آسمان کی طرف دعا کيلئے ہاتھ اٹھانے پر اعتراض کی روایت یا عبدالله بن سباکو مسيب کے ذریعہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے حضور لانے کی روائداد یا اس روایت کے مانند کہ جس کہ بارے ميں کہا جاتا ہے کہ علی ابن ابيطالب عبدالله بن سبا کی طرف سے مشکل ميں تھے ۔

اس قسم کی روایتيں جو عبدالله بن وهب سبائی کی زندگی اور روش سے تطبيق کرتی ہيں سب صحيح اور حقيقی ہوسکتی ہيں ۔

ليکن ہر وہ روایت جو عبدالله بن وهب کی زندگی اور روش سے تطبيق کرتی ہے وہ صحيح اور حقيقی نہيں ہوسکتی اور وہ جھوٹ کے علاوہ کچھ نہيں ہے کہ اسے گمنام ہاتھوں نے جعل کرکے ائمہ اہل بيت سے جھوٹی نسبت دیدی ہے ، شيعہ کتابوں ميں انہيں درج کيا گيا ہے تا کہ انہيں بيشتر اشاعت مل سکے اور عوامی سطح پر قابل قبول قرار پائيں ليکن “

عبدلله بن سبا ’ نامی شخص یا قعقاع اورا سی کے خلق کئے گئے دوسرے افراد کبھی صحيح نہيں ہوسکتے ہيں ۔

یہی وجہ ہے کہ ‘ سبئيہ” کے بارے ميں روایتوں کی شناخت کيلئے جو کلی قواعدا ور معيار ہمارے ہاتھ آیا ہے وہ یہ ہے کہ ان روایتوں ميں سے جو بھی راوی قبيلہ قحطان ---جنہيں سبئيہ بھی کہتے ہے---سے تطبيق کرے اس ميں صحيح اور واقعی ہونے کا امکان موجود ہے ورنہ صحيح نہيں ہوسکتی ہے کيوں کہ قحطان کے علاوہ اسلام ميں سبئيہ نام کا کوئی فرقہ وجود نہيں رکھتا تھا تاکہ اس سے مربوط مطالب اور روایتيں صحيح ہوسکيں ۔

ان تمام تحقيقات اور جانچ پڑتال کے بعد کہ ہم نے حقائق کو جھوٹ اور کذب سے جداکرنے ميں جو تلاش اور کوشش کی ہے اگر پھر بھی کوئی شخص ابن سبا ، سبئيہ اور سيف کی دوسری جعليات و تحریفات کے بارے ميں جنہيں ہم نے اپنی اس کتاب ميں ذکر کيا ہے ، اسے قبول کرنا پسند نہ کرے اور اس کے تمام منحرف انگيز اور خرافات پر مشتمل افسانوں پر ایمان لانا چاہے تو اس کی مثال ان بوڑهی عورتوں کی جيسی ہے جو خرافات پر مشتمل افسانوں پر اعتقاد رکھتی ہيں ۔

یہاں پر ہم سيف کے اپنے ذہن ميں جعل کئے گئے عبدالله بن سبا و سبئيہ اور دوسرے افسانوی سورماؤں اور افسانوں کے بارے ميں اپنی بات کاخاتمہ کرتے ہيں اور بار گاہ الٰہی سے دست بہ دعا ہيں کہ علماء کو یہ توفيق عنایت فرمائے تا کہ وہ اسلامی حقائق کو افسانوی اور خرافات سے جلد از جلد جدا کریں ۔

والله ولی التوفيق وهو حسبناو نعم الوکيل