عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد ۳

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے0%

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

مشاہدے: 4083
ڈاؤنلوڈ: 613


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 103 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4083 / ڈاؤنلوڈ: 613
سائز سائز سائز
عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے

عبد اللہ بن سبا اور دوسرے تاریخی افسانے جلد 3

مؤلف:
اردو

مرتدین کے جلانے کے بارے ميں روایتوں کی مزید تحقيق

کيف خفيت تلک الحوادث الخطيرة علی المؤرّخين

اتنی اہميت کے باوجود یہ حوادث مورخين سے کيسے پوشيدہ رہے ہيں

مؤلف

ضروری ہے کہ ان روایتوں کے بارے ميں کہ جوکہتی ہيں امير المؤمنين عليہ السلام نے اپنے دین کے مطابق ارتداد کے جرم ميں چند افراد کو نذر آتش کيا تو ہميں اس سلسلے ميں کچھ توقف کے ساتھ ان کے مضمون ميں غور و فکرنيز ان کے مطالب کے جانچ پڑتال کریں اور سوال کریں :

پانچویں روایت ميں جوکہتا ہے : ‘ ‘ حسين بن علی عليہ السلام بھی مختار کے جال ميں پهنس گئے تھے ، اور مختار انهيں عملی طور پر جھٹلاتے تھے! “

حسين ابن علی عليہ السلام کس وقت مختار کے جال ميں گرفتار ہوئے تھے ؟ جبکہ حضرت( عليہ السلام) مختار کے انقلاب سے پہلے شہيد ہوچکے تھے اس کے علاوہ کيا مختار کا امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کو قتل کرنا اور ان کا انتقام لينا حضرت کيلئے ابتلاء و مصيبت محسوب ہوسکتا ہے ؟ یا مختار کا امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کو کيفر کردار تک پہچانا حضرت کو جھٹلانے کے مترادف ہوسکتا ہے ؟!

کيا اس حدیث کو جعل کرنے والوں کا مقصد امام حسين عليہ السلام کے قاتلوں کی حمایت و مدد کرنا نہيں تھا ؟!

اس کے علاوہ اسی روایت ميں آیا ہے کہ عبد الله بن سبا نے امير المؤمنين عليہ السلام کو جھٹلانے کيلئے عملی طور پر کوشش کی ہے او وہ حضرت کو لوگوں کی نظروں سے گرانا چاہتا ہے۔ عبد الله بن سبا کا کونسا عمل یا عقيدہ علی عليہ السلام کو جھٹلانے کے مترادف ہوسکتاہے ؟ کيا کسی نے عبد الله بن سبا سے یہ روایت کی ہے کہ اس نے کہاہوگا: “

خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے مجھے حکم دیا ہے ميں اس کی پوچا کروں ” تا کہ عبد الله بن سبا کا عقيدہ اور طریقہ کار اميرالمؤمنين عليہ السلام کی نسبت افترا ہو اور انهيں سوء ظن اور دوسروں کے جھٹلانے کا سبب قرار دے ۔

آ ٹھویں روایت ميں آیا ہے کہ امير المومنين عليہ السلام اپنی بيوی ام عمرو عنزویہ کے پاس بيٹھے تھے ۔ امام عليہ السلام کی یہ بيوی جس کا نام “ ام عمرو عنزیہ ” ہے کون ہے ؟ اور کيوں اس راوی کے بغير کسی اور نے علی ابن ابيطالب عليہ السلام کيلئے اس بيوی کا کہيں ذکر تک نہيں کيا ہے ؟

اسکے علاوہ کيا امير المومنين عليہ السلام نے ان افراد کو دهویں کے ذریعہ قتل کيا ہے؟

چنانچہ ان روایتوں ميں سے بعض ميں آیا ہے کہ حضرت نے کئی کنویں کهدوائے اور سوراخوں کے ذریعہ ان کو آپس ميں متصل کرایا اور ان تمام افراد کو ان کنوؤں ميں ڈال دیا اور اوپر سے ان کو مضبوطی سے بند کرا دیا صرف ایک کنویں کو کھلارکھا جس ميں کوئی نہيں تھا پھر اس ميں آگ جلادی ، اس کنویں کا دهواں دوسرے کنوؤں ميں پہنچا اور وہ سب افراد اس دهویں کی وجہ سے دم گھٹ کر نابو دہوئے ۔

یا یہ کہ دهویں سے انهيں قتل نہيں کيا ہے بلکہ پہلے ان کے سر قلم کئے ہيں اس کے بعد ان کے اجساد کو نذر آتش کياہے ؟

یا زمين ميں گڑهے کهدوائے ہيں اور ان گڑهوں ميں لکڑی جمع کرکے اس ميں آگ لگادی ہے اور جب لکڑی انگاروں ميں بدل گئی تو قنبر کو حکم دیا کہ ان افراد کو ایک ایک کرکے اٹھا کر اس آگ ميں ڈال دے اور اس طرح سب کو جلا دیا ہے ؟

کيا تنہا ابن سبا تھا جس نے اميرالمؤمنين عليہ السلام کے بارے ميں غلو کيا تھا اور ان کی الوہيت کا معتقد ہوا تھا اور حضرت عليہ السلام نے اسے جلادیا ہے ؟

یا یہ کہ یہ افراد دس تھے اور ان سب دس افراد کو جلادیا ہے ؟

ی ا یہ کہ وہ ستر افراد تھے اور حضرت نے ان سب سترافراد کو نذر آتش کيا؟

یا یہ کہ علی عليہ السلام نے اس عمل کو مکررانجام دیا ہے کہ ایک بار صرف ایک شخص کہ وہی عبد الله بن سبا تھا ، کو جلا دیا اوردوسری دفعہ دس افراد کو اسکے بعد ستر افراد کو اور آخر کارچوتھی بار دو افرادکو جلادیا ہے؟!

کيا حضرت عليہ السلام نے صرف ان افراد کو نذر آتش کيا ہے جو اس کی الوہيت اور خدائی کے معتقد تھے یا بت پرست ہوئے دوا فراد کو بھی جلا دیا ہے ؟ جن افرادکو اميرالمؤمنين عليہ السلام نے جلایا تھا کيا یہ واقعہ بصرہ ميں جنگ جمل کے بعد رونما ہوا یا جس طرح نویں روایت ميں آیا ہے کہ اس کام کو کسرہ ميں اس وقت انجام دیا جب حضرت کو اپنی بيوی “ ام عمرو عنزیہ ” کے گھر ميں اطلاع دی گئی جيسا کہ آٹھویں روایت ميں بھی آیا ہے ؟!

کيا یہ مطلب صحيح ہے کہ جب مرتدوں کو جلانے کی خبر ابن عباس کو پہنچی تو انهوں نے کہا: اگر ان کا اختيار ميرے ہاتھ ميں ہوتا تو ميں انهيں نذر آتش نہيں کرتا بلکہ انهيں قتل کر ڈالتا ، کيونکہ پيغمبر صلی الله عليہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کسی کو عذاب خدا کے ذریعہ سزا نہ دینا اور اگر کوئی مسلمان اسلام سے منحرف ہو جائے تو اسے قتل کرنا”اور جب امام عليہ السلام نے ابن عباس کے بيان کو سنا تو فرمایا؛ افسوس ہو ام الفضل کے بيٹے پر کہنکتہ چينی کرنے ميں ماہر ہے“

کيا امام اس عمل کے نامناسب ہونے سے بے خبر تھے اور ابن عباس نے انهيں متوجہ کيا ؟!

یا کہ ان روایتوں کو جعل(۱) کيا گيا ہے تا کہ امير المومنين علی عليہ لسلام کی روش کو خليفہ اول کی روش کے برابر دکھائيں اور اس طرح جن چيزوں کے بارے ميں خليفہ اول پر اعتراض ہوا ہے ان ميں اسے تنہا نہ رہنے دیں اور لوگوں کو نذر آتش کرنے کے جرم ميں علی عليہ السلام جيسے کو بھی ان کا شریک کا ر بنا دیں اور اس طرح خليفہ اول کے عمل کو ایک جائز اور معمولی عمل دکھلائيں ، کيونکہ “ فجائيہ سلمی ”(۲) اور ایک دوسرا گروہ خليفہ اول کے حکم سے جلائے گئے تھے اور وہ اس منفی عمل اور سياست کی وجہ سے مورد تنقيد قرار پاتے تھے!

انہوں نے ان روایتوں کو جعل کرکے روش امير المؤمنين عليہ السلام کو خالد بن وليد کی جيسی روش معرفی کرکے یہ کہنا چاہا ہے کہ : اگر چہ خالد بن وليد نے چند مسلمانوں کو زکوٰة ادا کرنے سے انکار کرنے کے جرم ميں جلادیا ہے(۳) ليکن یہ عمل صرف اس سے مخصوص نہيں ہے تا کہ اس پر اعتراض

____________________

۱. زندیقيوں ميں ایسے افراد بھی تھے جو اپنے اساتذہ کو دهوکہ دے کر ان کی کتابوں ميں بعض مطالب کو حدیث کی صورت ميں اضافہ کرتے تھے اور یہ استاد اس کی طرف توجہ کئے بغير اس خيال سے اس حدیث کو نقل کرتا تھا کہ وہ اس کی اپنی ہے ۔ ہم نے اس مطلب کی وضاحت ميں اپنی کتاب “ خمسون و ماة صحابی مختلق ” کے مقدمہ کے فصل زنادقہ ميں ص ٣٧ طبع بغداد ميں توضيح دی ہے، آئندہ اس کی مزید وضاحت کی جائے گی ۔

۲۔ “ فجائيہ سلمی ” وہی ایاس بن عبدا لله ابن عبد یا اليل سلمی ہے کہ اس نے ابوبکر سے چند جنگجو افراد اور اسلحہ بطور مدد حاصل کيا تھا تا کہ مرتدوں سے جنگ کرے ليکن مرتد وں سے جنگ کے بجائے بے گنا ہ لوگوں کا قتل و غارت کيا اپنی راہ ميں ایک بے گناہ عورت کو بھی قتل کيا اسے ابوبکر کے حکم سے پکڑا گيا اس کے بعد ابوبکر نے حکم دیا کہ آگ جلائی جائے اور اس کے بعد فجائيہ کو زندہ آگ ميں ڈالا گيا ۔ یہی علت تھی کہ ابوبکر اپنی زندگی کے آخری لمحات ميں کہتا تھا : ميں اپنی زندگی ميں تين کام کے علاوہ کسی چيز کے بارے ميں فکرمند نہيں ہوں کاش ان کاموں کو ميں نے انجام نہ دیا ہوتا یہاں تک کہتاتھا ميں فجائيہ سلمی کو نذر آتش کرنا نہيں چاہتا تھا بلکہ اسے قتل کرنا چاہتا تھا یا جلاوطن کرنا چاہتا تھا اس سلسلہ ميں اس کتاب کی جلد اول فصل تحصن در خانہ ملاحظہ ہو ۔

۳۔ محب الدین طبری نے الریاض النضرة: ١١

ميں درج کيا ہے کہ قبيلہ بنی سليم کے کچھ لوگ اسلام سے منحرف ہوئے ابوبکر نے خالد بن وليد کو ان کی طرف روانہ کيا خالد نے ان ميں سے بعض مردوں کو گوسفند خانے ميں جمع کرکے انهيں آگ لگادی عمر ابن خطاب نے اس سلسلہ ميں ا بوبکر سے اعتراض کيااور کہا: تم نے ایک ایسے شخص کو ان لوگوں کی طرف روانہ کيا ہے کہ لوگوں کو خدا سے مخصوص عذاب سے سزا دیتا ہے اہل سنت علماء نے ابوبکر کے جلانے کے موضوع اور اس کے دفاع ميں بہت سے مطالب بيان کئے ہيں ۔ مثلاً فاضل قوشجی شرح تجرید ميں کہتا ہے ابو بکر کا فجائيہ کو نذر آتش کرنا ان کی اجتہادی غلطی تھی اور مجتہدوں کيلئے اجتہاد ميں غلطياں کثرت سے پيش آتی ہيں فاضل قوشجی ابوبکر کے دفاع ميں اپنی بات کو یوں جاری رکھتا ہے یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہماری بحث سے مربوط احادیث کے مطابق ہو یہ کہتے ہيں کہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے بہت سے افراد کو نذر آتش کيا ہے ایک جہت سے اس سے اہم تر ہيں جو ابوبکر کے بارے ميں نقل ہوئی ہيں ا ور دوسری جہت سے ابوبکر کے دفاع اور عذر کی بہترین راہ ہے کيونکہ ان روایتوں کے مضمون کے مطابق اميرالمؤمنين عليہ السلام نے بھی ان افراد کو نذر آتش کرنے ميں ا جتہاد کيا ہے اور اس اجتہاد ميں غلطی ہو گئی ہے اور اس روش کی بھی عبدالله ابن عبا س اور دوسرے تمام افرا د کی / طرف سے انکار ہوا ہے ، ليکن خود علی اور خالد بن وليد کی نظر ميں صحيح تھا فتح الباری ۶۴ ٩١ ) کتاب الجہاد ( باب لایعذب بعذاب الله ) کی طرف رجوع کيا جائے ۔کيونکہ علی ابن ابيطالب عليہ السلام نے بھی دوسری وجوہ کی بنا پر چند افراد کو جلا کر نابود کيا ہے۔

کيا با وجود اس کے کہ امام صراحتاً فرماتے ہيں کہ مرتد کی سزا قتل ہے ، عملاً اس حد کو نافذ نہيں کرتے اور مرتدوں کے ایک گروہ کو واقعاًجلا دیتے ہيں ؟!

ليکن جس شعر کو امام سے نسبت دی گئی ہے:

لما رایت الامر امراً منکراً

اوقدت ناری و دعوت قنبراً

کيا امير المؤمنين عليہ السلام نے اس شعر کو ان حوادث کی مناسبت سے جس صورت ميں نقل ہوا ہے ، کہا ہے ، یا کہ ان اشعار کو جنگ صفين ميں ایک قصيدہ کے ضمن ميں یوں کہا ہے:

یا عجباً لقد سمعت منکراً

کذباً علی الله یشيب الشعراً

یہاں تک فرماتے ہيں :

انی اذا الموت دنا و حضرا

شمّرت ثوبی و دعوت قنبراً

لما رایت الموت موتاً احمراً

عبات همدان و عبوا حميراً

جب موت کا وقت نزدیک پہنچا تو اپنے لباس کو جمع کيا اور خود کو موت کيلئے آمادہ کر ليا اور قنبر کو بلایا ۔ جی ہاں ، اب سرخ موت کو اپنے سا منے دیکھتا ہوں ۔ قبيلہ ہمدان کی صف آرائی کرتا ہوں اور معاویہ بھی قبيلہ حمير کی“

ان تمام اشکالا ت اور اعتراضات ، جو احراق مرتدوں کی روایتوں ميں موجود ہيں کے باوجود پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ پر باقی ہے کہ کيا عبدا لله بن سبا علی عليہ السلام کے بارے ميں غلو کرتا تھا اور ان کی الوہيت کا قائل تھا ، جيسا کہ گزشتہ روایتوں ميں آیا ہے ؟ ! یا یہ کہ وہ خدا کے منزہ ہونے اور تقدس کے بارے ميں غلو کرتا تھا ۔

( اگر اس سلسلہ ميں یہ تعبير صحيح ہو ) جيسا کہ چهٹی حدیث ميں آیا ہے کہ عبد الله بن سبا دعا کے وقت آسمان کی طرف ہاتھ اٹھانے کی مخالفت کرتا تھا اور اس عمل کو پروردگار سے دعا کرتے وقت ایک نامناسب عمل جانتا تھا ، حتی امام بھی جب اس سلسلہ ميں ا س کی راہنمائی کرتے ہوئے وضاحت فرماتے ہيں ، تو پھر بھی وہ امام کی وضاحت کو قبول نہيں کرتا ہے اور اظہار کرتا ہے کہ چونکہ خداوند عالم ہر جگہ موجود ہے اور کوئی خاص مکان نہيں رکھتا ہے لہذا معنی نہيں رکھتا کہ ہم دعا کے وقت آسمان کی طرف اپنے ہاتھ بلند کریں کيونکہ یہ عمل خدا کو ایک خاص جگہ اور طرف ميں جاننے اور اس کيلئے خاص مکان کے قائل ہونے کے برابر ہے اور یہ عقيدہ توحيد سے مطابقت نہيں رکھتا ہے ۔

کيا اس عبدا لله بن سبا نے مسئلہ توحيد ميں غلو اور افراط کا راستہ اپنایا ہے یا علی عليہ السلام کی الوہيت کا قائل ہوکر تفریط کی راہ پر چلا ہے ؟!

کيا امام نے عبد الله بن سبا کو عقيدہ ميں انحراف کی وجہ سے نذر آتش کيا ہے ؟ یا یہ کہ اس نے عقيدہ ميں ا نحراف نہيں کيا تھا بلکہ غيب کی خبر دیتا تھا اور اسی سبب سے اسے امام کے پاس لے آئے تھے اور امام نے اس کی پيشين گوئی اور کہانت کی تائيد کرکے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا ہے ؟!

ا ن تمام سوالات اور جوابات کے باوجود بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کيا عبدا لله بن سبا بنيادی طور پر ( زط) اور ہندی تھا یا عرب نسل تھا ؟

ا گر وہ ہندی نسل سے تھا تو اس کا اور اس کے باپ کا نام کيسے چار عربی لفظ سے تشکيل پایا ہے : (عبد) ، (الله) اور ابن ، (سبا) اگر وہ عرب نسل سے تھا، تو کيا قدیم زمانے اور جاہليت کے زمانہ سے امام عليہ السلام کے زمانہ تک کہيں یہ سننے ميں آیا ہے کہ کسی عرب نے اپنے ہم عصر کسی انسان کو اپنا خدا جان کر اس کی الوہيت کا قائل ہوا ہو؟!!

دوسری مشکل یہ ہے کہ انسان کی پرستش کی عادت و روش اور ایک شخص معاصر کے الوہيت کا اعتقاد ، قدیم تہذیب و تمدن والی قوموں ،جيسے : روم ،ایران اور اسی طرح جاپان اور چين ميں پایا جاسکتا ہے ، ليکن اسی زمانہ کے جزیرہ نما عرب کا غير متمدن ایک صحرا نشين عرب ، جو دوسرے انسان کے سامنے تواضع اور انکساری دکھانے کيلئے آمادہ نہ تھا ،

اس کا کسی انسان کی پرستش کيلئے آمادہ ہونا دور کی بات تھی ، جی ہاں صحرا نشين بتوں کی پرستش کرتے ہيں اور جن و ملائکہ کی الوہيت کے معتقد ہوتے ہيں ليکن کبھی آمادہ نہيں ہوتے کہ اپنے ہم جنس بشر کے سامنے احترام بجا لائيں اور سجدہ کریں اور اپنے جيسے کسی شخص کے سامنے سر تسليم خم کریں ۔

ان تمام اعتراضات سے قطع نظر پھر بھی یہ مشکل باقی ہے کہ : جو انسان کسی دوسرے انسان کی بندگی اور عبودیت کو قبول کرتا ہے ، اور کسی شخص کے سامنے اپنے آپ کو حقير بناتا ہے اس عبودیت و بندگی اور اس خصو ع و خشوع ميں ا س کا مقصد یا مادی و دنيوی ہے کہ اس صورت ميں ا پنے اس عقيدہ و بيان ميں اس قدر ہٹ دهرمی اور اصرار نہيں کرسکتا ہے کہ اپنی جان سے بھیہاتھ دهوبيٹھے کيونکہ مرنے کے بعد مادی اور دنيوی مقاصد کو پانا معنی نہيں رکھتا ہے ان حالات کے پيش نظر کيسے تصور کيا جاسکتا ہے کہ اس قسم کا شخص کسی بھی قيمت پر اپنی بات سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہيں ہوتا یہاں تک کہ اسے زندہ آگ ميں جلادیا جائے اور وہ تمام مادی جہتوں کو ہاتھ سے گنوا دے ؟

یا یہ کہ حقيقت ميں وہ واقعی طور پر اس عبودیت و بندگی کا قائل ہے اس صورت ميں یہ کيسے یقين کيا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے معبود سے کہے کہ تو ميرا پرور دگار ہے ،تونے مجھے خلق کيا ہے، اور تومجھے رزق دیتا ہے اور اس کے مقابلہ ميں ا س کا معبود اس کی تمام باتوں کو جھٹلادے اور ا س کے عقيدہ کے بارے ميں اظہار بيزاری و تنفر کرے ليکن پھر بھی یہ شخص اس کے بارے ميں اپنے ایمان و عقيدہ سے دست بردار نہ ہو؟ !!

کيا ایک عقلمند انسان ایسے مطالب کی تصدیق کرسکتا ہے ؟ کيا اس قسم کے مطالب کی صدائے بازگشت یہ نہيں ہوسکتی کہ ایساشخص اپنے معبود سے کہتا ہے: اے ميرے پروردگار ! اے ميرے معبود ! تم اپنی الوہيت کا انکار کرکے غلطی کے مرتکب ہورہے ہو ، اپنی خدائی کا انکار کرکے اشتباہ کررہے ہو صحيح راستہ سے منحرف ہورہے ہو !! تم خدا ہو ، ليکن تم خود نہيں جانتے ہو! اور آخرکار تم خدا ہو اگر چہ خود اس مقام کو قبول بھی نہ کرو گے!!

کون عاقل اس قسم کے مطلب کی تصدیق کرسکتا ہے ؟ اور کيا تاریخ بشریت ميں اس قسم کی مثال پائی جاتی ہے ؟!

جی ہاں ، ممکن ہے کچھ لوگ کسی شخص کی الوہيت کے معتقد ہوجائيں ا ور وہ شخص اس نسبت سے راضی نہ ہواا ور وہ خود اس مقام کا منکر ہو ليکن ایک شخص کے بارے ميں ا س قسم کا عقيدہ کہ اس زندگی کے خاتمہ او رمرنے کے بعد ممکن ہے نہ اس کی زندگی ميں جيسے کہ عيسی بن مریم اور خود علی ابن ابيطالب عليہ السلام کے بارے ميں ا ن کی حيات کے بعد ایسا واقعہ پيش آیا ہے ۔

ليکن کسی شخص کی الوہيت کے بارے ميں اس کی زندگی ميں عقيدہ رکھنا جبکہ وہ شخص اس عقيدہ اور بات سے راضی نہ ہو اور اسے جھٹلاتا ہو ، اپنے ماننے والوں کی ملامت و مذمت کرتا ہو ، اس قسم کی روداد نہ آج تک واقع ہوئی ہے اور نہ آئندہ واقع ہوگی ۔

آخری اعتراض

اس سلسلہ ميں آخری اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ اہم حوادث، حقيقت اور بنيادی طور پر صحيح ہوتے تو معروف مورخين سے کيوں مخفی رہتے ؟ مشہور ترین اور مثالی مورخين ميں سے چند ایک کے نام ہم ذیل ميں درج کرتے ہيں انہوں نے اپنی کتابوں ميں ان حوادث کے بارے ميں کسی قسم کا اشارہ نہيں کيا ہے اور ان افراد کے جلائے جانے کے بارے ميں معمولی سا ذکر تک نہيں کيا ہے ، جيسے :

١۔ ابن خياط وفات ٢ ۴ ٠ هء

٢۔ یعقوبی وفات ٢٨ ۴ هء

٣۔ طبری ، وفات ٣١٠ هء

۴ ۔ ،مسعودی ، وفات ٣٣ ۶ هء

۵ ۔ ابن اثير ، وفات ۶ ٣٠ هء

۶ ۔ ابن کثير ، وفات ٧ ۴۴ هء

٧۔ ابن خلدون ، وفات ٨٠٨ هء

حقيقت ميں ا س مقدمہ اور جواب طلبی کے سلسلے ميں مرتدین کو جلانے سے مربوط روایتوں کو نقل کرنے والوں اور ان کے حاميوں سے وضاحت طلب کی جاتی ہے کہ : اتنی اہميت کے باوجود یہ حوادث کيوں ان مؤرخين سے مخفی رہے ہيں اور انہوں نے اپنی تاریخ کی کتابوں ميں انکے بارے ميں اس کی قسم کا اشارہ کيوں نہيں کيا ؟! جب کہ ان تمام مؤرخين نے “ فجائيہ سلمی ” کو نذر آتش کرنے کی روداد کو کسی قسم کے اختلاف کے بغير اپنی کتابوں ميں تشریح اور تفصيل کے ساتھ درج کيا ہے ۔

گزشتہ فصل ميں جو کچھ بيان ہوا اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ : عبد الله بن سبا سے مربوط روایتيں اور احراق مرتدین کے بارے ميں روایتيں جو مختلف عناوین سے نقل ہوئی ہيں اور ہم نے بھی ان کے ایک حصہ کو گزشتہ فصل ميں درج کيا مضبوط اور صحيح بنياد کی حامل نہيں ہيں اور یہ سب روایتيں خودغرضوں کے افکار کی جعل کی ہوئی ہيں ليکن یہاں پر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ یہ جعلی روایتيں کيسے شيعہ کتابوں ميں آ گئيں ؟ ہم اگلی فصل ميں اس کا جواب دینے کی کوشش کریں گے ۔

شيعوں کی کتابوں ميں احراقِ مرتدین کی روایتوں کی پيدائش و کان لاصحاب الائمة آلاف من الکتب فی مختلف العلوم و غيرا نها قد فقدت

ہمارے ائمہ کے شاگردوں نے مختلف علوم ميں ہزاروں کتابيں لکھی تھيں ، افسوس کہ ہماری دسترس ميں نہيں ہيں ۔

مؤلف گزشتہ فصل ميں بحث یہاں تک پہنچی کہ عبدا لله بن سبا اور احراق مرتدین کے بارے ميں روایتيں علم و تحقيق کے لحاظ سے جعلی ہيں اور مضبوط اور صحيح بنياد کی حامل نہيں ہيں ۔ اس بحث کے سلسلہ ميں ہم مجبور ہيں کہ اس حقيقت کی تحقيق کریں کہ یہ جعلی روایتيں کس طرح شيعوں کی کتابوں ميں داخل ہوکر معتبر روایتوں کی فہرست ميں قرار پائی ہيں ۔

نابود شدہ کتابيں اور اصول:

مکتب اہل بيت عليہم السلام کے شاگردوں نے مختلف علوم ميں متعدد اور متنوع کتابيں تدوین و تاليف کی تھيں ان تاليفات کے ایک حصہ کو “ اصول ” کہا جاتا تھا ، کہتے ہيں ان “ اصلوں ” کی تعداد چار سو تک پہنچی تھی ۔

یہ اصول دست بہ دست چوتھی ہجری ميں شيعہ علماء او ردانشوروں تک پہنچی تھيں اور مرحوم کلينی نے اپنی عظيم روائی کتاب یعنی “ کافی ” ميں ان اصلوں سے بہت زیادہ احادیث نقل کی ہيں ۔

اس کے علاوہ مرحوم ‘ ‘ صدوق ” نے اپنی کتاب “ من لا یحضرہ الفيقہ ” کو ان ہی اصلوں کی فقہی احادیث سے تدوین اور تاليف کی ہے ۔

اسی طرح مرحوم شيخ طوسی نے اپنی دو اہم و معروف کتابوں “ استبصار ”اور “التہذیب ” کو ان ہی “ اصلوں ” سے تاليف کيا ہے اس کے علاوہ اس زمانے کے دیگر علماء نے بھی اپنی کتابوں کو مذکورہ “اصلوں ” کی بنياد پر تدوین کيا ہے اور احادیث کا چہار گانہ مجموعہ ، یعنی : کافی ، من لا یحضرہ الفقيہ ، استبصار ، اور تہذیب اس زمانے سے آج تک فقہائے شيعہ کےلئے فقہی احکام کے لحاظ سے مرجع و مآخذ قرار پایا ہے ۔

رجال ميں بھی چار کتابيں اسی زمانے کے علماء کی آج تک باقی بچی ہيں کہ بعد کے علماء کی تاليفات کيلئے مرجع و ماخذ قرار پاتی ہيں یہ چار کتابيں عبارت ہيں : “ اختيار رجال کشی ” ، “ رجال ’ اور “فہرست ” کہ یہ تين کتابيں مرحوم شيخ طوسی کی تاليف ہيں اور چوتھی کتاب ‘ ‘ فہرست نجاشی ” ہے ۔

اصحاب ائمہ نے مذکورہ اصول چہارگانہ کے علاوہ مختلف علوم ميں ہزاروں جلد متنوع کتابيں تاليف کی تھی ، جيسے “ اخبار اوائل ” کی تاليفات ، اخبار فرزندان آدم و اصحاب کہف و قوم عاد و اس کے علاوہ “ اخبار جاہليت ” کے بارے ميں چند تاليفات مانند کتاب “ الخيل ” “السيوف ” ، “ الاصنام ” ، ایام العرب ، انساب العرب، نواقل القبائل ”(۱) اور “ منافرات القبائل ”(۲) تھيں ۔

اس کے علاوہ اصحاب ائمہ، شہروں ، زمينوں ، پہاڑوں ، اور دریاؤں کے اخبار کے بارے ميں کئی کتابيں تاليف کرچکے تھے علاوہ بر این طلوع اسلام کے نزدیک صدیوں کے عربوں ميں رونما ہوئے حوادث کے بارے ميں اخبار پر مشتمل کتابيں تاليف کی گئی ہيں جيسے: عہد ناموں کی خبریں ، ایام جاہليت ميں عربوں ميں واقع ہوئی گوناگوں ازدواج کی رودادیں یہاں تک عصر اسلام ميں رونما ہوئے حوادث و اخبار جيسے : روداد سقيفہ ، مرتدین ، جنگ جمل ، صفيں ،

حادثہ کربلا ،خروج مختار ، توابين اور ان سے پہلے اور ان کے بعد رونما ہونے والے واقعات ۔

____________________

١۔ نواقل ان افراد اور گروہوں کو کہتے تھے کہ جو اپنا نسب ایک قبيلہ سے دوسرے قبيلہ ميں منتقل و ملتمس کرتے تھے اور اس تاریخ کے بعد دوسرے قبيلہ سے منسوب ہوتے تھے علمائے انساب نے اس سلسلے ميں کئی کتابيں لکھی ہيں ا ور ان قبائل کی تعداد کو ان کتابوں ميں درج کيا ہے ان کتابوں کو “ نواقل ” کہتے ہيں ۔

٢۔ منافرات ، ایک دوسرے سے دوری اختيار کرنے کے معنی ميں ہے کہ بعض قبائل ایک دوسرے سے دورری اختيار کرتے تھے اور ایک دوسرے کی تنقيد ميں بيانات یا اشعار کہتے تھے یا ایک خاص قسم کی کاروائياں کرتے تھے ان بيانات و کاروائيوں کو “ منافرات ’ کہتے ہيں ۔

اصحاب ائمہ نے ان وقائع و حوادث اور ان کے مانند واقعات او ر مختلف و متنوع علوم کے بارے ميں ہزاروں جلد کتابيں تاليف و تدوین کی ہيں ليکن افسوس کہ زمانہ کے گزرنے اور مختلف علل،

عوامل اور محرکات کی وجہ سے یہ کتابيں نابود ہو گئی ہيں اور آج ان کتابوں اور ان کے مؤلفين کے نام کے علاوہ جنہيں بعض فہرستوں جيسے نجاشی ، شيخ طوسی اور الذریعہ ميں درج کيا گيا ہے ان کے بارے ميں کچھ باقی نہيں بچا ہے ۔

شيعوں کے ابتدائی متون اور اصلوں کے نابود ہونے کے اسباب مکتب اہل بيت عليہم السلام کے ماننے والوں کی مختلف علوم ميں تاليف کی گئی کتابوں کے نابود ہونے کے دو اسباب اور محرکات تھے:

١۔ پہلا سبب :

وہ خوف و ڈر تھا جو مکتب اہل بيت عليہم السلام کے پيرو اور شيعہ علما پوری تاریخ ميں وقت کے حاکمو ں سے رکھتے تھے ۔ ان حکام کی طرف سے اہل بيت عليہم السلام کے پيرو اور شيعہ علماء ہر وقت خوف و ہراس ميں ہوا کرتے تھے ، حتی انهيں قتل کيا جاتا تھا ،اور ان کے کتب خانوں کو ہزاروں کتابوں سميت نذر آتش کيا جاتا تھا ۔ چنانچہ بغداد کے اہم اور عظيم کتاب خانہ “ بين السورین ” کے بارے ميں یہ نفرت انگيز عمل انجام دیا گيا ۔

اس کتاب خانہ کے بارے ميں حموی کہتا ہے : کتابخانہ “ بين السورین ” کی کتابيں تمام دنيا کے کتب خانوں کی کتابوں ميں بہترین کتابيں تھيں ، کيونکہ یہ کتابيں مورد اعتماد مؤلفين ،مذہب کے پيشواؤں اور بزرگوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تھيں اس کتاب خانہ کا اہم حصہ “

اصلوں ” اور ان کی تحریرات پر مشتمل تھا ۴۴ ٧ هء ميں خاندان سلجوقی کے طغرل بيگ پادشاہ کے بغداد ميں داخل ہونے پر “ محلہ کرخ ” کو آگ لگا دی گئی اور یہ تمام کتابيں بھی اس آتش سوزی ميں لقمہ حریق ہوئيں ۔

جی ہاں ، اس قسم کے حوادث اور فتنوں کے تنيجہ ميں شيعوں کے اس قدر آثار و کتابيں نابود ہوئی ہيں کہ ان کی تعداد کے بارے ميں خدا کے علاوہ کوئی علم نہيں رکھتا ۔

٢۔ دوسرا سبب

ان بنيادی آثار اور کتابوں کے نابود ہونے کا دوسرا سبب یہ ہے کہ شيعہ علما ء اور دانشوروں نے اپنی پوری توجہ کو صرف ان علوم کی تعليم و تربيت کے مختلف ابعاد پر متمرکز

کيا تھا جو فقہ اسلامی کے احکام شرعی کو حاصل کرنے کے بارے ميں استنباط کے مقدمہ کی حيثيت رکھتے ہيں اور اس طرح انہوں نے دیگر روایات اور متون کا اہتمام نہيں کيا تھا، چنانچہ ہم دیکھتے ہيں کہ شيعہ علماء نے گزشتہ زمانے سے آج تک آیاتِ احکام اور فقہی روایتوں کی بحث و تحقيق ميں خاص توجہ مبذول کی ہے اور اس قسم کی آیات اور احادیث کے مختلف ابعاد پر ایسی دقيق بحث و تحقيق کی ہے کہ تهوڑی سی توجہ کرنے سے ہر محقق اطمينان اور یقين پيدا کرسکتا ہے ۔ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران شيعہ علماء کی طرف سے فقہی روایتوں کو دی گئی ان ہی غير معمولی اہميت اور گہری بحث و تحقيق کے نتيجہ ميں تمام احکام اسلام سالم اور صحيح صورت ميں آج ہم تک پہنچے ہيں ۔

ليکن افسوس کہ جب ہم گزشتہ صدیوں کے دوران احکام کی روایتوں اور ان کے منابع کے بارے ميں دی گئی خاص توجہ اور اہميت کا سيرت ، تاریخ ، تفسير ، آداب اسلامی اور تمام علوم اسلامی کے بارے ميں انجام دئے گئے ان علماء کے عمل کے ساتھ موازنہ کرتے ہيں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ ميں ا یک خطرناک کوتاہی بھی برتی گئی ہے ۔

معارف اسلام کی کتابوں ميں جھوٹ کی اشاعت کا سبب شيعہ علماء کی طرف سے احکام کے علاوہ روایتوں کو کم اہميت دینے کے نتيجہ ميں دو نقصانات ہوئے ہيں :

اولاً: معارف اسلامی کے بارے ميں مختلف موضوعات پر تاليف کئے گئے پيروان اہل بيت عليہم السلام کے اصلی متون ، ترک کئے جانے کے نتيجہ ميں مفقود ہوچکے ہيں ۔

ثانياً : احکام کے علاوہ دوسرے مآخذ کی طرف رجوع کرنے ميں کوتاہی برتنے کی وجہ سے ان کتابوں ميں حيرت انگيز جعليات اور افسانے درج کئے گئے ہيں ۔

نيتجہ کے طور پر جب بعض مواقع پر شيعہ علماء تاریخ ،سيرت ، تفسير ، شہروں کی آشنائی اور دوسرے فنون کے سلسلہ ميں روایتوں کی طرف رجوع کرتے تھے ، تو اسی کوتاہی کی وجہ سے نہ صرف ایسے مسائل ميں بحث و تحقيق نہيں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تاریخ طبری(۱) کعب الاحبا راور وہب بن منبہ(۲) جيسے افرادکی روایتيں نقل کرنے ميں اعتماد کرکے ملل و نحل کے مؤلفوں کے بيانات کی پيروی کی ہے جنہوں نے اپنی کتابوں کو عام اور بازاری منقولات اور بيانات کی بنياد پر تاليف کيا ہے ۔ اس طرح زندیقيوں ، جھوٹے اور بے دین افرادکی روایتوں کے ایک حصہ جو تاریخ طبری جيسی کتابوں ميں اشاعت پاچکی ہيں نے شيعوں کی تاليفات اور تاریخ کی کتابوں ميں بھی راہ پيدا کی ہے(۳)

اسرائيليات کا ایک حصہ بھی جو کعب الاحبار جيسوں سے نقل ہوا ہے بعض سنی تفاسير سے شيعوں کی تفاسير ميں داخل ہوگيا ہے اور نتيجہ کے طو پر شيعوں کی غير فقہی موضوعات پر تاليف کی گئی کتابوں ميں خرافات پر مشتمل افسانے اور بے بنياد داستانيں بھی درج کی گئی ہيں ۔

غير فقہی روایتوں ميں جو یہ غفلت اور بے توجہی برتی گئی ہے اسکا نتيجہ یہ نکلا ہے کہ تشریحات کی بعض کتابوں جيسے رجال کشی اور “مقالات اشعری ” ميں بعض غلط اور بے بنياد روایتيں منتشر ہوکر بعد کی صدیوں کے دانشوروں کی روایتوں ميں آ گئی ہيں ۔

____________________

١۔ ہم نے اس کتاب کے گزشتہ حصوں ميں طبری کے منقولات کی قدر و منزلت کو واضح کردیا ہے ۔

٢۔ اس بحث کی تفصيل و تشریح مؤلف کی دوسری تاليف “ عن تاریخ الحدیث‘” ميں آئی ہے اميد ہے کہ کتاب جلد ہی طبع ہوکر منظر عام پر آئے گی ۔

۳۔ مثلا شيخ مفيد اپنی کتاب “ الجمل ” ميں کتاب ابو مخنف سے نقل کرتے ہيں کہ سيف بن عمر کہتا ہے :

عثمان کے قتل ہونے کے بعد مدینہ پانچ دن تک امير وسلطان سے محروم رہا اور مدینہ کے لوگ کسی کے پيچھے دوڑتے تھے کہ ان کا مثبت جواب دے اور امور کی با گ ڈور اپنے ہاتھ ميں لے لے ۔ طبری نے اسی روایت کو اس ١) لایا ہے ۔( / متن اور سند کے ساتھ اپنی تاریخ ميں ( ج ٣٠٧٣